''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں 50%

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 70

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 70 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 33903 / ڈاؤنلوڈ: 4548
سائز سائز سائز
''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

''اخلاق وسیرتِ'' ختمی مرتبت نازشِ کون ومکاں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

چھٹی فصل

۱۔ رسول اسلام (ص) کا خداوندعالم کے ساتھ اخلاق

اخلاق کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آقا و مولا کی یاد میں غرق رہے ،کبھی بھی اپنے آقا کو فراموشی کی نذر نہ ہونے دے ،چاہے زبان سے یاد کرے یا دل سے ،بہر حال اس کی یاد میں رہے،حضرت ختمی مرتبت (ص) نے ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کیا کہ اپنے آقا و مولا کو کس طرح یاد کیا جائے ،آپ (ص) کی توجہ ہر وقت خدا وند عالم کی طرف رہتی تھی ہر وقت لبوں پر تسبیح و تھلیل کے زمزمے رہتے تھےوکان لایقوم ولا یجلس الا علیٰ ذکرالله (۱)

یعنی حضور (ص) کی کوئی نشست و برخاست ذکر خدا سے خالی نہیں ہو تی تھی اور اس ذکر کا اثر دوسروں پر یہ ہوتا تھا کہ ان کے لب بھی تسبیح خدا میں زمزمہ سنج ہو جاتے تھے۔

اگر ایک انسان کو ذرا اونچا عھدہ مل جاتا ہے تو وہ پھولے نہیں سماتا اور تکبرانہ انداز میں سر اٹھا کر چلتا ہے کہ میرے جیسا کون ہو سکتا ہے، لیکن رسول اسلام (ص) جو دونوں جہاں کے لئے منتخب کئے گئے تھے ان کی سادہ لوحی پر نظر کی جائے۔

۲۔ رسول اکرم (ص) کی عبادت اور نماز شب

نماز شب کی فضیلت کے پیش نظر آپ (ص) کا ارشاد گرامی ہے: ''محروم وہ شخص ہے جو نماز شب سے محروم ہے''(۲)

مطلب یہ ہے کہ جو غریب ہے اسے محروم نہیں کہتے، جس کے ماں باپ دنیا سے گذر گئے ہوں وہ محروم نہیں ہوتا، بلکہ محروم وہ شخص ہے جو نماز شب سے محروم ہو۔

____________________

(۱)بحا رالانوار:ج۱۶، ص۲۲۸

(۲) بحار الانوار: ج ۷ ۸ ،ص ۱۴۶

۲۱

ایک دوسری روایت بتاتی ہے کہ خدا وند عالم نے جناب موسیٰ ـ سے فرمایا: ''وہ انسان جھوٹ بولتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ میں خدا سے محبت کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے رات میں گفتگو کر نے کے بجائے بستر خواب کی جانب چلا جاتا ہے''(۱) یا ایک جگہ کشاف الحقائق مصحف نا طق حضرت امام جعفرصادق علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:''لیس من شیعتنا من لم یصل صلاة اللیل'' (۲)

یعنی آگاہ ہوجائو کہ جو انسان نماز شب بجا نہ لاتا ہو وہ( شیعہ ہوتے ہوئے بھی) ہمارا شیعہ نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو شیعہ نمازشب بجا نہ لاتا ہو وہ برائے نام شیعہ ہے امام ـ کے نزدیک شیعہ وہی ہے جو نماز شب کو پابندی کے ساتھ بجا لاتا ہو۔

واقعاَ یہ روایت تو انتہائی تاکید کے ساتھ بیان ہوئی ہے یہاں تک کہ امام ـ اس انسان کو اپنا شیعہ کہنا پسند نہیں فرمارہے ہیں جو نماز شب بجا نہ لاتا ہو۔ نماز شب کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے خود سرکار رسالت (ص) نے بھی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے آئیئے اب اس پہلو کو حضرت (ص) کی ذات والا صفات میں دیکھتے ہیں۔

جب آپ (ص) محراب عبادت میں آئے تو تواضع وانکساری کے ساتھ اتنی زیادہ عبادت بجا لائے کہ پیروں پر ورم آگیا اور خدا کو کہنا پڑا( یا ایها المزمل قم الیل الا قلیلا ) (۳)

یعنی اے میرے رسول! آپ راتوں کو (میری عبادت میں) کھڑے ہوکر بسر کیجئے لیکن تھوڑا کم، ہم نے عبادت اس لئے واجب قرار نہیں دی کہ آپ خود کو زحمت میں ڈالیں۔ رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد آنحضرت (ص) بستر مبارک سے اٹھتے تھے، مسواک کرتے تھے، وضو فرماتے تھے، قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے اور ایک گوشہ میں بیٹھ کر اتنا زیادہ گریہ فرماتے تھے کہ ریش مبارک اشکوں سے مملو ہوجاتی تھی، آپ (ص) کی بعض ازواج جب آپ (ص) کو اس حالت میں دیکھتی تھیں تو سوال کرتی تھیں کہ یا رسول اللہ (ص)! آپ تو معصوم ہیں ، آپ نے کوئی گناہ انجام دیا ہی نہیں ہے پھر یہ رونے کا سبب کیا ہے؟ تو آپ (ص) جواب میں ارشاد فرماتے تھے ''کیا میں خدا وند عالم کا شاکر بندہ نہ بنوں؟''

____________________

(۱)اعلام الدین: ص۲۶۳

(۲)بحارالانوار:ج ۸۷،ص۱۴۱

(۳)سورۂ مزمل/۱،۲

۲۲

یعنی عصمت سے مزین ہونے کے با وجود حضور (ص) گریہ فرمارہے ہیں اور اس گریہ کو خدا کے شاکر بندوں کی پہچان بتاتے ہیں، جس سے یہ صاف ظاہر ہورہا ہے کہ گریہ نہ کرنا شکر کے منافی ہے اور کفر کے مترادف ہے (کیا کہا جائے ان حضرات کے بارے میں جو گریہ کرنے پر بدعت کے فتوے لگاتے ہیں؟)

جناب ام سلمیٰ فرماتی ہیں :''ایک شب، حضور (ص) میرے گھر تشریف فرماتھے، میں نے آدھی رات کے بعد آپ (ص) کے بستر مبارک کو خالی دیکھا، میں نے تلاش کرنے کے بعد دیکھا کہ آپ (ص) تاریکی میں کھڑے ہو ئے ہیں، دست مبارک عرش کی جانب بلند ہیں، چشم مبارک سے اشکوں کی برسات ہو رہی ہے اور دعا فر مارہے ہیں کہ ''پروردگار! جو نعمتیں تونے مجھے عطا کی ہیں انھیں مجھ سے واپس نہ لینا ، میرے دشمنوں کوخوش نہ ہونے دینا، جن بلائوں سے مجھے نجات دے چکا ہے ان میں دوبارہ گرفتار نہ کرنا، مجھے ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی تنہا نہ چھوڑنا'' میں نے حضور (ص) سے کہا یا رسول اللہ (ص)! آپ تو پہلے ہی سے بخشش شدہ ہیں ، حضور (ص) نے فرمایا : '' نہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہے کہ جو خدا وند عالم کا محتاج نہ ہو اور اس سے بے نیاز ہو ، حضرت یونس ـ کو خدا وند عالم نے صرف ایک لمحہ کے لئے تنہا چھوڑ دیا تھا تو آپ ـ شکم ماہی (مچھلی کے پیٹ ) میں زندانی ہو گئے''(۱)

حضور (ص) کی نماز شب ہم کو یہ درس دیتی ہے کہ امت کے رہبر وپیشواکو آرام طلب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ اس کا پورا وجود محنت وزحمت کے سمندر میں غرق رہنا چاہیئے، آپ (ص)نے مولا علی ـ کو نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے،آپ (ص) نے مکرر تین مرتبہ ارشاد فرمایا:''علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل، علیک بصلاة اللیل''

یعنی ! اے علی تم پر لازم ہے کہ نماز شب بجا لائو، نماز شب ضرور بجا لائو ،نماز شب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے(۲)

____________________

(۱) بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۱۷

(۲ )وسائل الشیعہ:ج۵،ص۲۶۸

۲۳

ساتویں فصل

۱۔ حضرت (ص) کی دلسوزی ومہربانی

جب حضور اکرم (ص) مخلوقات کے سامنے آتے ہیں تو اخلاق کا وہ نمونہ پیش کرتے ہیں کہ دنیائے انسانیت انگشت بدنداں نظر آتی ہے اور خدا وند عالم کہتانظرآتا ہے( انک لعلیٰ خلق عظیم ) (۱)

یعنی اے میرے رسول (ص) آپ اخلاق کے بلند وعظیم درجہ پر فائز ہیں۔

ایک روز آپ (ص) نے مولا علی ـ کو بارہ درہم دیئے اور فرمایا: ''میرے لئے ایک لباس خرید کر لے آئو'' حضرت علی ـ بازار گئے اور بارہ درہم کا لباس خرید کر لے آئے ، حضور (ص) نے لباس کو دیکھا اور علی ـ سے فرمایا: ''اے علی ـ اگر اس لباس سے کم قیمت لباس مل جاتا تو بہتر تھا اگر ابھی دوکاندار موجود ہو تو یہ لباس واپس کردو'' علی ـ دوبارہ بازار گئے اور لباس واپس کردیا اور بارہ درہم واپس لاکر آپ (ص) کے حوالہ کر دیئے۔ حضرت (ص) مولاعلی ـ کو اپنے ہمراہ لے کر بازار کی جانب روانہ ہوئے، راستہ میں ایک کنیز پر نظر پڑی کہ جو گریہ کر رہی تھی، آپ (ص) نے سبب دریافت کیا تو کنیز نے جواب دیا کہ میرے آقا نے مجھے چار درہم دیئے تھے کہ کچھ سامان خرید کر لے جائوں لیکن وہ چار درہم گم ہو گئے، اب گھر واپس جائوں تو کس طرح؟

آپ (ص) نے اپنے بارہ درہموںمیں سے چار درہم اس کنیز کو عطا کئے کہ وہ سامان خرید کر لے جائے اور بازار پہونچکر چار درہم کا لباس خریدا، لباس لے کر بازار سے واپس آرہے تھے تو ایک برہنہ تن انسان پر نظر پڑ گئی، آپ (ص)نے وہ لباس اس برہنہ تن کو بخش دیا اور پھر بازار کی جانب چلے، بازار پہونچکر باقی بچے ہوئے چار درہموں کا لباس خریدا ، لباس لیکر بیت الشرف کا قصد تھا کہ دوبارہ پھر وہی کنیز نظر آگئی جو پہلے ملی تھی، آپ (ص) نے دریافت کیا کہ اب کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ مجھے کافی دیر ہو چکی ہے، میں ڈر رہی ہوں کہ کیسے جائوں،آقا کی سرزنش سے کیسے بچوں؟ حضور (ص) کنیز کے ہمراہ اس کے گھر تک تشریف لے گئے، اس کنیز کے آقا نے جب یہ دیکھا کہ میری کنیز ، سرکار رسالت (ص) کی حفاظت میں آئی ہے تو اس نے کنیز کو معاف کردیا اور اسے آزاد کردیا،

____________________

(۱)سورۂ قلم۴

۲۴

آپ (ص) نے فرمایا: '' کتنی برکت تھی ان بارہ درہموں میں کہ دو برہنہ تن انسانوں کو لباس پہنا دیا اور ایک کنیز کو آزاد کردیا''(۱) دور حاضر میں ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے کہ کوئی عہدہ دار ایسی صفات کاحامل ہو، جن صفات سے نبی اکرم (ص) مزین تھے، دور حاضر تو کیا خود حضور (ص) کے دور میں، اگر چراغ لے کر بھی تلاش کیا جائے تو ان صفات کا پایا جانا دشوار ہے، آپ (ص) کے دور میں تو بعض بدو عرب کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی خود کو بہت کچھ سمجھتے تھے، واقعاَ اگر آج کے امراء ورئوسا بھی اس سیرت کو اپنائیں تو ہماری کشتی حیات(دین کے مطابق) منزل مقصود سے ہمکنار ہوجائے۔

۲۔ آنحضرت کی سیرت میں مہمان نوازی

جناب سلمان فارسی ـ فرماتے ہیں: ''میں ایک روز حضرت (ص) کی خدمت میں پہونچا، جو تکیہ آپ (ص) خود رکھے ہوئے تھے وہ مجھے دیدیا تاکہ میں کمر لگاکر آرام سے بیٹھ سکوں'' ایسا سلوک صرف سلمان فارسی کے ساتھ ہی نہیں کیا بلکہ ہر مہمان کے ساتھ آپ (ص) کا یہی برتائو رہتا تھا، آپ (ص) مہانوں کی خاطر اپنا بستر بچھادیا کرتے تھے اور دسترخوان سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ مہمان ہاتھ نہ روک لیں(۲) ایک روز حضور (ص) کی خدمت میں آپ (ص)کے دو رضاعی بھائی بہن یکے بعد دیگرے آئے، آپ (ص) نے بہن کا حترام زیادہ کیا اور بھائی کا احترام کم کیا، بعض لوگوں نے اعتراض کیا تو آپ (ص) نے جواب میں فرمایا: ''چونکہ، جتنا احترام اپنے ماں باپ کا یہ بہن کرتی ہے اتنا احترام بھائی نہیں کرتا لہٰذا میں بھی بہن کا زیادہ احترام کرتا ہوں''(۳) کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ مہمان حضرات، کھانا کھانے کے بعد وہیں بیٹھ جاتے تھے اور گفتگو میں مشغول ہوجاتے تھے اور آپ (ص) مہمانوں کے احترام میں بیٹھے رہتے تھے جب اس عمل کی تکرا ر ہوئی تو آیت نا زل ہوئی( فأذا طعمتم فانتشروا ولا مستانسین لحدیث ) (۴)

____________________

(۱)بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۱۵۔ سیرۂ پیامبر اکرم (ص) : ص۲۵

(۴)سورۂ احزاب/۵۳

(۲)سنن النبی (ص):ص۵۳،۶۷

(۳) بحار الانوار:ج۱۶،ص۲۸۱

۲۵

یعنی جب تم لوگ کھانے سے فارغ ہو جائو تو فوراَ منتشر ہو جائو ، اپنے اپنے گھر چلے جائو، بے وجہ رسول (ص) کو پریشان مت کرو چونکہ اس سے بہت بڑا نقصان ہے، رسول (ص) کچھ کام انجام نہیں دے سکتے(۱)

۳۔ سرکار (ص) کی بچوں کے ساتھہ مہر بانی

ایک نومولود بچہ کو آپ (ص) کی خدمت میں لایا گیا تا کہ آپ (ص) بچہ کا اچھا سا نام رکھ دیں، جیسے ہی آپ (ص) نے بچہ کو آغوش میں لیا ، بچہ نے فوراَ پیشاب کردیا، بچہ کی ماں اور دیگر رشتہ دار بہت ناراض ہوئے لیکن آپ (ص) نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہ کرو چونکہ میں اپنے لباس کو پاک کرسکتا ہوں لیکن تمھاری ڈانٹ پھٹکار معصوم بچہ کے ڈر کا باعث بنے گی، آپ (ص) بچوں کے نام احترام کے ساتھ لیتے تھے اور لڑکیوں کے بارے میں زیادہ سفارش فرماتے تھے، وہ بھی ایسے دور میں کہ جس دور میں لڑکی کے وجود کو ننگ و عار سمجھا جاتا تھا اور باپ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہتا تھااور شرم وحیا کے پیش نظر ، چہرہ سیاہ ہوجاتا تھا، قرآن کریم نے اس کی حکایت بالکل صاف الفاظ میں کی ہے( واذا بشر احدهم بالانثیٰ ظل وجهه مسوداوهو کظیم ) (۲)

یعنی....اور جب ان (عرب بدئوں )میں سے کسی کو یہ خوشخبری دی جاتی تھی کے تمھارے یہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا تھا اور رنجیدہ ہوجاتا تھا(۳)

ایسے زمانہ میں آپ (ص) فرماتے تھے کہ بہترین بچے، لڑکیاں ہیں اور ایک خاتون کے خوش بخت وخوش قدم.... ہو نے کی علامت یہ ہے کہ اس کا پہلا پیدا ہونے والا بچہ، لڑکی ہو(۴)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۰

(۲)سورۂ نحل/ ۵۸

(۳)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص ۳۷،۳۸

(۴)مستدرک الوسائل:ج۲،ص۶۱۴

۲۶

آپ (ص) کی خدمت میں آپ (ص) کا ایک صحابی بیٹھا ہو اتھا ، کسی نے آکر خبر دی کہ تمھارے یہاں لڑکی کی ولادت ہوئی ہے، جیسے ہی اس نے یہ جملہ سنا فوراَ اس کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوگیا، حضور (ص) نے جب یہ محسوس کیا کہ یہ انسان اس خبر سے رنجیدہ ہوا ہے تو آپ (ص) نے فرمایا: '' زمین اس کا مکان ہے، آسمان اس کا سائبان ہے ،اور اس کارزق خدا کے ہاتھ میں ہے، تو کیوں رنجیدہ ہوتا ہے؟ لڑکی اس پھول کی مانند ہے جس سے تم استفادہ کرتے ہو(۱)

ایک روز آپ (ص) پانی نوش فرمارہے تھے اور کوزہ میں تھوڑا سا پانی باقی بچا تھا اتنے میں ایک بچہ آیا اور پانی طلب کیا، تبھی بعض بڑے بڑے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ (ص)! یہ پانی بطور تبرک ہمیں عطا کیجئے، آپ (ص) نے فرمایا: ''تم سے پہلے اس بچہ نے طلب کیا ہے'' پھر بچہ کی طرف متوجہ ہوئے اور بچہ سے پوچھا کیا تمھاری اجازت ہے کہ میں یہ پانی ان لوگوں کو دیدوں یہ تمھارے بزرگ ہیں؟ لیکن بچہ نے فوراَ انکار کردیا، پھر آپ (ص) نے وہ پانی اسی بچہ کو دیا(۲)

کشاف الحقائق، مصحف ناطق، حضرت امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''ایک روز آپ (ص) نے نماز ظہر کی آخری دو رکعتیں بہت جلدی جلدی ادا کیں، لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ (ص)! آخر ایسا کیوں؟کیا کام درپیش ہے؟ حضور (ص) نے فرمایا: ''کیا تم بچہ کے رونے کی آواز نہیں سن رہے ہو؟''(۳)

اللہ اکبر........نماز جیسی عبادت، جس میں خضوع و خشوع شرط ہے، آپ (ص) نے بغیر مستحبات کے انجام دی اور یہ سمجھا دیا کہ دیکھو.....بچہ کو بہلانا خضوع و خشوع والی نماز سے بھی افضل ہے۔

____________________

(۱)وسائل الشیعہ:ج۱۵،ص۱۰۱

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۳۸، بحوالہ سیرۂ حلبی:ج۳،ص۶۸

(۳)اصول کافی:ج۶،ص۴۸

۲۷

۴۔ آنحضرت کا جوانوں کے ساتھہ اخلاق

ایک جنگ میں ایک جوان بنام ''زید بن حارثہ'' اسیر ہوگیا اور آپ (ص) کی خد مت میں لاکر آپ (ص) کا غلام بنادیا گیا، اس کا باپ بہت ثروت مند تھا لہٰذاجب اس کو یہ خبر ملی کہ اس کا بیٹا غلام بنا لیا گیا ہے تو فوراَ باپ کی محبت نے انگڑائی لی اور آپ (ص) کی خدمت میں پہونچ گیااور کہا کہ جتنا آپ کو فدیہ چاہیئے لے لیجئے لیکن میرا بیٹا مجھے واپس کر دیجئے، میرے بیٹے کو آزاد کر دیجئے آپ (ص) نے فرمایا: ''مجھے کسی فدیہ اور مال ودولت کی ضرورت نہیں ہے، اگر تمھارا بیٹا تمھارے ساتھہ جانے کو تیار ہو جائے تو اسے لے جائو'' بیٹے کے پاس آیا اور کہا بیٹا! میں تمھیں آزاد کرانے آیا ہوں، چلو میرے ساتھ چلو، اپنے گھر چلو، بیٹے نے جواب دیا میں گھر نہیں جائو ںگاچونکہ مجھے اس گھر سے اچھا کوئی گھر نہیں ملے گا ، جب آپ (ص) نے اس کا یہ حال دیکھا کہ اسکی اسلام کی طرف اتنی زیادہ رغبت ہے تو آپ (ص) نے خانۂ کعبہ میں یہ اعلان کردیا کہ لوگو! گواہ رہنا ''زید میرا بیٹا ہے''(۱)

یہ صرف حضور (ص) کا اخلاق ہی تو تھا جو زید کے دل میں جاگزیں ہو کر رہ گیا اور اپنے باپ کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔

جب آپ (ص) کا وقت وفات قریب آیا تو آپ (ص) نے ایک جوان ''بنا م اسامہ'' کو اپنے لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا اور تمام سن رسیدہ حضرات کو یہ حکم دیا کہ اس اٹھارہ سالہ جوان کی اطاعت کریں اور فرمایا: خدا لعنت کرے اس شخص پر جو لشکر اسا مہ سے منھ پھرائے(۲)

حضرت (ص) کا یہ عمل درس دے رہا ہے کہ جوانوں کے ساتھ شفقت ومہربانی کے ساتھ پیش آئیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں چونکہ یہ نوجوان ، قوم کا مستقبل ہیں، لہٰذا اپنے مستقبل کو بہترین مستقبل بنانے کی سعی میں کوشاں رہو(لشکر اسامہ سے کس کس نے منھ پھرایا ؟یہ تاریخ نے اچھی طرح واضح کیا ہے)

____________________

(۱) سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۰

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۰

۲۸

۵۔ پیغمبر اکرم (ص) کی ذاتی اور شخصی سیرت

تما م سیرت کی کتابوں میں آپ (ص) کی سیرت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے انھیں میں سے آپ (ص) کی چند صفات حسنہ کا تذکرہ کرنا بہتر سمجھتا ہوں۔

۱ ۔خدا وند عالم کی عطاکردہ نعمت کو بزرگ اور محترم گردانتے تھے اور کبھی بھی کسی نعمت کی مذمت نہیں کرتے تھے چاہے وہ نعمت کتنی ہی چھوٹی ہو۔

۲۔دنیاوی مسائل میں غصہ نہیں ہوتے تھے(جب کہ عصر حاضر میں تمام ھم وغم دنیاوی کاموں کے لئے ہے'' رات دن'' دنیا کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں اگر رضایت ہو تو دنیا کے لئے غصہ ہوں تو دنیا کے لئے، خوش ہوں تو دنیا کے لئے، رنجیدہ ہوں تو دنیا کے لئے گویا ہر کام دنیا پر موقوف ہے)

۳ ۔آپ (ص) کی ہنسی، صرف تبسم کی حد تک تھی، کوئی روایت نہیں بتاتی کہ آپ (ص) کبھی قہقہہ کے ساتھ ہنسے ہوںاور ہنسی قابو سے باہر( Out of Controll ) ہوئی ہو۔

۴۔ہر قوم کے بزرگ (رہبرو پیشوا) کا احترام کیا کرتے تھے(جو ہمارے لئے نمونہ ہے کہ کافر یا مشرک گردان کر کسی رہبرو پیشوا یا کسی کے بزرگ کی توہین نہ کرو چونکہ وہ اپنی قوم کا رہبر ہے ،اگرآج تم ان کے رہبروں کا حترام نہیں کروگے تو کل وہ بھی تمھارے رہبر کا اکرام نہیں کرسکتے)

۵ ۔اگر کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تھے تو آخری جگہ بیٹھ جاتے تھے، لوگوں کو روندتے ہوئے آگے نہیں جاتے تھے۔

۶۔ہر انسان کا اتنا زیادہ احترام بجا لاتے تھے کہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا تھا کہ آپ (ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب میری ہی ذات ہے۔

۲۹

۷۔اگر کوئی انسان آپ (ص) کے پاس اپنی حاجت لیکر آتا تھا تو اس کی حاجت روائی فرماتے تھے اوراگر ممکن نہیں ہوتا تھا تو خوش اخلاقی کے ساتھ اس طرح واپس پلٹاتے تھے کہ اسے احساس حقارت نہ ہونے پائے۔

۸۔تمام انسانوں کو ایک نظر سے دیکھتے تھے(آپ (ص)کے نزدیک کسی طرح کا کوئی فرق نہیں تھا کہ یہ اپنا ہے اور یہ بیگانہ یا یہ اپنا جاننے والا ہے اور یہ اجنبی، نہیں بلکہ سب خدا کے بندے ہیں لہٰذا سب کے ساتھ مساوات کا لحاظ رکھا جائے)

۹۔بے ہودہ باتوں سے پر ہیز فرماتے تھے، آپ (ص) کی شان والا صفات میںبکواس اور بے ہودہ و فالتو گفتگو کا تصور بھی، گستاخی اور جسارت ہے چونکہ آپ (ص)( ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ ) (۱) ............کے مصداق تھے، آخر بے ہودہ گفتگو ہوتی بھی تو کیسے؟

۱۰۔آپ (ص)کسی کی برائی نہیں کرتے تھے چونکہ قرآنی آیت کو عملی جامہ پہنانا تھا تاکہ آئیڈیل( Ideal ) اور نمونہ بن سکیں اور لوگوں کو اس نفرت آور کام سے باز رکھیں( لایغتب بعضکم بعضا .......) (۲)

یعنی ! دیکھو تم لوگوں میں سے کوئی بھی ایک دوسری کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو اس بات کو گوارہ کرے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے؟

۱۱۔اپنی نعلین مبارک کی مرمت خود اپنے ہی دست مبارک سے فرماتے تھے ، آپ (ص) کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ آپ (ص) اپنے جوتے موچی کے پاس لے کر جائیں اور اس سے مرمت کرائیں۔

____________________

(۱)سورۂ نجم/۳،۴

(۲)سورۂ حجرات/۱۲

۳۰

۱۲۔ہر روز ستّر مرتبہ ''استغفر اللہ ربی و اتوب الیہ'' پڑھتے تھے، آپ (ص) کے بارے میں تصور گناہ بھی گناہ ہے، آپ (ص) کا استغفار صرف ہم گنہگاروں کے لئے تھا کہ دیکھو میں خدا کا مقرب ترین بندہ ہوتے ہوئے بھی استغفار کرتا ہوں تمھیں بھی چاہیئے کہ اپنے کئے ہوئے گناہوںکی معافی مانگو اور خدا وند عالم سے مغفرت طلب کرو۔

۱۳۔آپ (ص) کا لباس غلاموں جیسا ، آپ (ص)کا کھانا غلاموں کی مانند ، مطلب یہ ہے کہ آپ (ص) کی نظروں میں ہمیشہ خدا وند عالم کی ذات تھی جس کے مقابل خود کو غلام گردانتے تھے اور دوسری طرف سے غلاموں اور نیچے طبقے کے انسانوں کو احساس غربت نہ ہونے پائے، ہوسکتا ہے کہ اگر میں اچھے کپڑے پہنوں اور اچھا کھاناکھائوں تو غریب وغربا لوگوں کو اپنی غربت کا احساس ہو اور میری طرف سے یا خدا وند عالم کی طرف سے بد ظن ہو جائیں۔

۱۴۔اپنے قیمتی وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتے تھے، آپ (ص) کا یہ عمل ہم کو درس دیتا ہے کہ وقت کی قدرو قیمت سمجھیں اور وقت کو غنیمت شمار کریں چونکہ ''گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں'' جو وقت گذر گیا وہ اب واپس آنے والا نہیں ہے لہٰذا جتنا ہو سکے وقت سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔

۱۵۔آپ (ص) نہ تو کسی کو غربت کی وجہ سے حقیر گردانتے تھے اور نہ کسی کے صاحب اقتدار اور ثروت مند ہونے کے سبب عزت واحترام بجالاتے تھے( جیسا کہ آج عام طور سے رائج ہے)

۱۶۔خواتین کو بھی سلام کرتے تھے تاکہ انھیں احساس کمتری نہ ہو نے پائے۔

۱۷۔کسی محفل میں اپنے پیروں کو پھیلانے سے گریز فرماتے تھے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو میری وجہ سے اذیت ہو۔

۱۸۔ہر وقت خوشبو(مشک وعنبر) سے معطر رہتے تھے تاکہ جو بھی آپ (ص) کے پاس آئے وہ کراہیت محسوس نہ کرے۔

۱۹۔جب بھی کہیں بیٹھتے تھے تو رو بقبلہ ہوکر بیٹھتے تھے(شاید اس کا سبب یہ ہو نہ جانے کس وقت فرشتۂ موت آجائے اور میری روح قبض کر لے لہٰذا اگر روح قبض کی جائے تو رو بقبلہ رہوں)

۳۱

۲۰۔آپ (ص)کو یہ پسند نہیں تھا کہ جب آپ (ص) سوار ہوں تو کوئی آپ (ص) کے ساتھ پیدل چلے، بلکہ آپ (ص) اسے سوار کر لیتے تھے یا اس کو حکم دیتے تھے کہ اپنی سواری لیکر آجائے۔

۲۱۔سفید اور سبز لباس سے بہت زیادہ خوش ہوتے تھے یعنی دوسرے رنگوں کی نسبت ان دونوں رنگوںکو زیادہ پسندفرماتے تھے۔

۲۲۔اگر دسترخوان پر خرمہ موجود ہوتا تھا تو کھانے کی ابتداخرمہ ہی سے فرماتے تھے۔

۲۳۔ہر دو لقموں کے بعد شکر خدا بجا لاتے تھے تاکہ خدا کے نزدیک شکر گذار قرار پائیں، حالانکہ کھانے کے بعد صرف ایک مرتبہ خدا کا شکر بجا لانا کافی ہے لیکن ہر دو لقموں کے بعد آپ (ص) کا شکر خدا بجا لانا اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ آپ (ص) ہمیشہ یاد خدا کے سمندر میں غوطہ زن رہتے تھے۔

۲۴۔غذا تناول فرمانے کے بعد خلال فرماتے تھے، تاکہ وہ غذا جو دانتوں میں رہ گئی ہے اسے باہر نکال دیں اور دہنِ مبارک، بد بو سے محفوظ رہے۔

۲۵۔پانی نوش فرماتے وقت بھی بسم اللہ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے کہ ''کل امر لم یبدأ بأسم اللہ فھو ابتر'' یعنی جس کام کی ابتدا میں بسم اللہ نہ کی جائے وہ کام بے نتیجہ رہتا ہے۔

۲۶۔کھانا تناول فرمانے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوتے تھے۔

۲۷۔گرم غذا تناول کرنے سے پرہیز فرماتے تھے اور انتظار کرتے تھے یہاں تک کہ غذا سرد ہو جاتی تھی۔

۲۸۔اگر لوگوں سے ملاقات کرنی رہتی تھی تو ملاقات سے پہلے پیاز اور لہسن کا استعمال نہیں فرماتے تھے، تاکہ سامنے والے کو کراہیت نہ ہو۔

۲۹۔کبھی بھی آپ (ص) کو اکیلے اور تنہا کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا بلکہ اگر تنہا ہوتے تھے تو کسی کو دعوت کر کے بلا لیا کرتے تھے تا کہ اس کے ساتھ کھانا کھائیں۔

۳۲

۳۰۔اگر کسی انسان کی تشییع جنازہ میں شرکت فرماتے تھے تو غمگین رہتے تھے اور باتیں کم کرتے تھے۔

۳۱۔واجب نمازوں کے دوگنا مستحب نمازیں بجا لاتے تھے یعنی چونتیس رکعت مستحب نماز پڑھتے تھے۔

۳۲۔ماہ رمضان المبارک میں مستحب نمازوں میں اور بھی اضافہ کرتے تھے یعنی چونتیس رکعت سے بھی زیادہ مستحب نماز بجا لاتے تھے۔

۳۳۔اگر کوئی آپ (ص) کے پاس آکر بیٹھہ جاتا تھا اور آپ (ص) نماز میں مشغول ہوتے تھے تو نماز کو مختصر کرکے جلدی تمام کر دیا کرتے تھے تاکہ اگر وہ آنے والا کوئی حاجت لے کر آیا ہے تو وہ اپنی حاجت بیان کرے ایسا نہ ہو کہ میری عبادت کی وجہ سے اس کی حاجت روائی میں تاخیر ہوجا ئے(۱)

۶۔ سرکار (ص) کا اہل خانہ کے ساتھہ اخلاق

حضور سرور کائنات (ص) کو یہ گوارہ نہیں تھا کہ گھر کے سارے کام آپ (ص)کی زوجہ انجام دے بلکہ آپ (ص) یہ چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ ان کی مدد کریں ،یہاں تک کہ پارہ شدہ لباس بھی خود سی لیتے تھے زوجہ کو زحمت نہیں دیتے تھے(۲)

ہمیشہ اس وقت کھانا نوش فرماتے تھے جب سارے اہل خانہ جمع ہوجاتے تھے ،یہاں تک کہ غلاموں کا بھی انتظار کیا کرتے تھے(۳)

یوں توحضور (ص)کی تقریباََ تمام بیویاں ہی یتیم پرور اور بیووں کا خیال رکھنے والی تھیں لیکن اخلاق کے اعتبار سے سب کے درمیان فرق تھامگر قرآنی حکم کے مطابق حضور اکرم (ص) سب کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے ۔

____________________

(۱)تفسیر المیزان:ج۶،ص۳۲۱سے بعدتک،ان صفات کے علاوہ علامہ مرحوم نے اور بھی بہت سی صفات کا تذکرہ کیا ہے اگر تفصیل درکار ہو تو اسی حوالہ پر رجوع کر سکتے ہیں۔

(۲)بحارالانوار:ج۱۶ ،ص۲۲۷

(۳)ہمگام با رسول :ص۱۷

۳۳

کبھی کبھی بعض بیویاں بد اخلاقیاں بھی کرتی تھیں یہاں تک کہ اس بد اخلاقی کی وجہ سے حضور (ص) کے بعض اصحاب ناراض ہوجاتے تھے اور کہتے تھے کہ یا رسول اللہ (ص)! انھیں چھوڑ دیجے (آزاد کر دیجئے)حضور (ص) فرماتے تھے کہ عورتوں کی بد اخلاقی کو بھی ان کا کمال شمار کرنا چاہیئے اور ذرا سی ناراضگی کی وجہ سے بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیئے(۱)

حضور اکرم (ص)، جناب خدیجہ کی خوش اخلاقی اور وفاداری کی وجہ سے (یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد بھی) ان کی سہیلیوں کا خاص احترام کرتے تھے اور فرماتے تھے ''میں(تمام خاندانوں میں)اپنے خاندان کے ساتھ سب سے زیادہ خوش رفتاری سے پیش آتا ہوں یعنی کسی بھی خاندان میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنے خاندان کے ساتھ مجھ سے بہتر رفتار کرتا ہو(۲)

حضور (ص)اپنی بیویوں کے ساتھ اتنی زیادہ عدالت سے پیش آتے تھے کہ بیماری کے ایام میں بھی آپ (ص)کابستر ایک ایک شب ایک ایک بیوی کے حجرہ میں رہتا تھا۔ جناب عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا فرماتی ہیں :کبھی کبھی حضور (ص) ، خدیجہ کو بہت اچھی طرح یاد فرماتے تھے اور ان کی تعریف کرتے تھے ، میں نے ایک روزحضور (ص) سے کہا : یا رسول اللہ (ص)! خدا نے آپ کو خدیجہ سے بہتر بیوی(دوشیزہ) عطا کی ہے، انھیں بھول جائیئے وہ تو بڑھیا تھیں۔

حضور (ص)نے فرمایا: خدا کی قسم ایسا نہیں ہے ، خدیجہ جیسی کوئی بیوی نہیں ہو سکتی (چاہے وہ دوشیزہ ہو یا کھلونوں سے کھیلنے والی اور ناچ گانے کی شوقین) جس وقت پورا معاشرہ کافر تھا ، اس عالم میں یہ تنہا خاتون تھی جو مجھ پر ایمان لائی تھی اور میری مدد گار ثابت ہوئی تھی ، میری نسل تو خدیجہ سے ہی چلی ہے (ایسی دوشیزہ کا کیا فائدہ جو ماں بننے کو ترس جائے)

جناب خدیجہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں بلکہ یہ وہ خاتون تھیں کہ جنھوں نے اپنا رشتہ خود حضور (ص) کے پاس بھیجا تھا اور اپنے آنے والے تمام رشتوں سے انکار کر دیاتھا(بڑے باپ کی بیٹی ہونے کے غرور میں چلی ہیں جناب خدیجہ سے ہمسری کرنے، بڑے باپ کی بیٹی ہونگی تو اپنے گھر کی ، یہاں تمھارا دیہ نہیں جلے گا تم جیسی ہزار دوشیزہ و باکرہ لڑکیوں سے یہ بڑھیا اچھی ہے)(۳)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم:ص۳۳

(۳)سیرۂ پیامبراکرم:ص۳۳

(۲)وسائل الشیعہ: ج۱۴،ص۱۲۲

۳۴

۷ ۔ رسول اسلام (ص) کی سیرت میں ساد گی

مال غنیمت کو دیکھہ کر آپ (ص) کی بعض ازواج نے کہا یا رسول اللہ (ص) اس میں ہمارا بھی حق ہے، ہمیں بھی دیجئے، سب لوگ عیش کی زندگی گذار رہے ہیں، آخر ہماری کیا خطا ہے؟(اگر اس وقت میں وہاں موجود ہوتا تو جواب دیتا کہ تمھاری سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ تم بد نصیبی کے جھنجال سے نکل کر خوش نصیبی کی وادیوں میں آگئیں اور رسول اسلام (ص) کی زوجہ محترمہ بن کو ام المومنین کے لقب سے نوازدی گئیں) لیکن حضور (ص)کا جملہ دیکھئے آپ (ص) نے جواب دیا کہ:'' میری زندگی سادگی کے سوا کچھ نہیں ہے ، اگر تم کو سادہ لوحی پسندہے تو میری زوجیت میں رہو ورنہ میں طلاق دینے کو تیار ہوں''(۱)

حضوراکرم (ص) ایک مرتبہ جناب فاطمہ زہرا کے بیت الشرف میں تشریف لائے تو آپ (ص) نے دیکھا کہ جناب فاطمہ نے اپنے ہاتھ میں دستبند(کنگن) پہن رکھا ہے اور گھر میں نیا پردہ لٹکا رکھا ہے تو آپ (ص) نے فاطمہ زہرا سے کوئی بات نہیں کی اور کچھ بات کئے بغیر خاموشی سے واپس ہوگئے،مزاج رسالت شناس ''فاطمہ زہرا '' سمجھ گئیں کہ بابا کس لئے ناراض ہوکر واپس چلے گئے، فوراَ پردہ کو اتارا ہاتھ سے کنگن اتارا اور حضور (ص) کی خدمت میں بھیج دیا اور فرمایا بابا! جیسا آپ بہتر سمجھیں ان چیزوں کا استعمال کریں(۲)

۸۔ حضور (ص) کا ہمسایوں کے ساتھہ اخلاق

حضور سرور کائنات (ص) غذا نوش فرمانے سے پہلے یہ دیکھتے تھے کہ ہمارا ہمسایہ تو بھوکا نہیں ،ایسا نہ ہو کہ ہم شکم سیر ہو کر سوئیں اور ہمارا ہمسایہ بھوکا سوئے ،اگر ایسا ہوا تو ہم خدا کو کیا جواب دیں گے ؟

آپ (ص) خود فرماتے ہیں :کہ جبرئیل امین نے مجھے ہمسایہ کے بارے میں اتنی زیادہ تاکید کی کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ اب یہ میری وراثت میں بھی ہمسایہ کو شامل کردیں گے(۳)

____________________

(۱)سیرۂ پیامبر اکرم (ص): ص۴۱

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۲۔اعلام الدین:ص۲۶۳

(۳)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۴۲۔ اعلام الدین:ص۲۶۳

۳۵

۹۔ آنحضرت (ص) کا دوستوں کے ساتھہ اخلاق

دوستوں کی احوال پرسی کرنا ،اور ان کی خبر لینا بھی اخلاق حسنہ کی ایک شاخ ہے ،جو دوستوں کے دلوں کی دریائے محبت میںاور زیادہ موجیں لے آتا ہے ۔

پیغمبر خدا (ص) کبھی بھی اپنے دوستوں سے غافل نہیں رہتے تھے ،بلکہ ہمیشہ رابطہ رکھتے تھے۔

مولا علی ـفرماتے ہیں : اگر آپ (ص) تین دن تک کسی برادر دینی کو نہیں دیکھ پاتے تھے تو اس کی تلاش میں نکل جاتے تھے،اگر معلوم ہوتا تھا کہ وہ سفر میں ہے تو سلامتی کی دعا فرماتے تھے ،اگر شہر میں موجود ہوتا تھا تو فوراَ اس کی احوال پرسی اور دیدار کے لئے تشریف لے جاتے تھے اور اگر بیمار ہوتا تھا تو اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے اور اس کی صحت یابی کی دعا فرماتے تھے(۱)

ایک مرتبہ رسول اسلام (ص)اپنے اصحاب کے ساتھ سفر کر رہے تھے، راستے میں کھانے کا وقت آگیا، حضور (ص) نے قافلہ کو روکا، تمام لوگوں کے ذمہ ایک ایک کام کردیا اور خود سوکھی لکڑیاں جمع کرنے لگے، اصحاب نے بہت روکنا چاہا لیکن حضور (ص) نے قبول نہیں کیا۔

دوسری جگہ آپ (ص) ناقہ سے اترے اور اسے باندھنے کے لئے ایک گوشہ کی جانب چلے، اصحاب آگے بڑھے تاکہ ناقہ کی لگام اپنے ہاتھوں میں لے لیں اور باندھ دیں لیکن حضور (ص) نے قبول نہیں کیا اور فرمایا ''جہاں تک ہو سکے، اپنا کام خود انجام دو(۲)

۱۰۔ اعزاء و اقارب کے ساتھ اخلاق

آپ (ص) خود فرماتے ہیں :صلوا ارحامکم ولو بالسلام۔اپنے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحم کرو چاہے وہ سلام کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو ،یعنی اپنے رشتہ داروں سے کبھی بھی قطع تعلق نہ کرنا چونکہ تمھاری گردنوں پر ان کے کچھ حقوق ہیں جن میں سے سب سے اہم حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئو۔

____________________

(۱)مکارم الاخلاق ص:۱۹

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۲۷

۳۶

۱۱۔ خادموں اور غلاموں کے ساتھہ اخلاق

آپ (ص) کو یہ منظور نہیں تھا کہ گھر میں غلام موجود ہے تو تمام کام وہی انجام دے بلکہ آپ (ص) غلام کی بھی مد د فرماتے تھے ،غلام کے ساتھ چکی چلاتے تھے ،اور اگر وہ بہت زیادہ خستہ ہوجا تا تھا تو اس سے کہتے تھے کہ تم آرام کرو یہ کام میںانجام دوں گا(۱)

انس ابن مالک کہتاہے کہ میں نو سال تک رسول اسلام (ص) کا خادم تھا ،مجھے یاد نہیں کہ رسول (ص) نے کبھی یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا کیوں کیا ایسا کیوں نہیں کیا؟(۲)

۱ ۲ ۔ حضرت (ص)کا دشمنوں کے ساتھہ اخلاق

دوستوں کے ساتھ حسن اخلاق اور خوش رفتاری سے پیش آنا کوئی کمال کی بات نہیں ہے بلکہ کمال تو یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آئیں ۔ حضور (ص) کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ جس طرح دوستوں کے ساتھ نیک برتائو سے پیش آتے تھے اسی طرح دشمنوں کے ساتھ بھی اچھے اخلاق سے پیش آتے تھے چنانچہ واقعہ مشہور ہے کہ آپ (ص)کے گذرنے کا جو راستہ تھا اس راستہ میں ایک ضعیفہ رہتی تھی اور وہ اپنے گھر کا سارا کوڑا کرکٹ جمع کرکے رکھتی تھی تاکہ حضور (ص) کے اوپر پھینکے یہاں تک کہ حضور کا گذر ہوتا تھا اور وہ گھرکی ساری غلاظتیں آپ (ص)کے اوپر پھینک دیتی تھی لیکن آپ (ص) اس سے کچھ بھی نہیں کہتے تھے بلکہ اسطرح خاموشی سے گذرجاتے تھے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔ یا رسول اللہ (ص)گستاخی معاف!آپ کے حسن اخلاق کا تقاضہ بجا ہے لیکن راستہ تبدیل کرنے میں تو حسن اخلاق حائل نہیں ہے کم سے کم راستہ بدل دیجئے تا کہ غلاظتوں سے محفوظ رہ سکیں ؟

رسول اسلام (ص) جواب دیں گے کہ ذرادل کی آنکھوںسے دیکھو .......یہ ضعیفہ میرے اوپر غلاظتیں نہیں پھینک رہی ہے بلکہ میں اپنے اخلاق کے ذریعہ اس کے دل سے کفرو نفاق اور شرک کی غلاظتیں نکال کر باہر پھینک رہا ہوں ۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا .............ایک روز رسول (ص)کا گذر ہواتو بڑھیا نے کوڑا نہیں پھینکا ،آپ (ص) نے ہمسایوں سے دریافت کیا کہ بڑھیا کہاں ہے ؟جواب ملا کہ وہ مریض ہے (بستر علالت پر پڑی ہوئی ہے )

____________________

(۱)بحار الانوار:ج۱۶، ص۲۲۷

(۲)مکارم الاخلاق :ص۱۶

۳۷

رسول اسلام (ص) اس کے گھر پہونچے بڑھیانے دروازہ پر نگاہ کی تو رسول (ص)نظر آئے بڑھیا نے کہا : واہ محمد (ص)اچھاموقع تلاش کیا ہے انتقام کا ،بدلہ لینا تھا تو اسی وقت لیتے جب میں صحت مند تھی ،اب تو میںاپنا دفاع بھی نہیں کرسکتی۔

رسول اسلام (ص)نے فرمایا :۔میں تجھ سے بدلہ لینے نہیں آیا ہوں بلکہ تیری عیادت کے لئے آیا ہوں ۔

بس..........قارئین کرام!یہی وہ وقت تھا کہ اس کے دل کی تمام تاریکیاں نور سے تبدیل ہو گئیں ،ایک مرتبہ کہا محمد (ص)! مجھے کلمہ پڑھا دیجئے ،بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۔

یہ تھا رسول اسلام (ص) کا اخلاق دشمنوں کے ساتھ،اگر رسول اسلا م (ص) اس اخلاق سے پیش نہ آتے تو یہ کافرہ کبھی بھی مسلمان نہ ہوتی اور حالت کفر ہی میں دنیا سے چلی جاتی ،بے شک آج بھی ایسے ہی اخلاق کی ضرورت ہے چونکہ بہت سے افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے روشنی کا وجود ہی نہیں دیکھا اگر ذرا سا بھی نور مل جائے تو راہ راست پر آسکتے ہیں ،لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارا اخلاق ،اخلاق نبوی ہو۔

۱۳۔ سرکار رسالت (ص) کا کفار کے ساتھہ اخلاق

خدا وند عالم نے رسول اسلام (ص) کو حکم دیاکہ(وان احد من المشرکین استجارک فاجرہ حتیٰ یسمع کلام اللہ ثم ابلغلہ مامنہ ذٰلک بأنھم قوم لا یعلمون)(۱)

اگر ایک مشرک وکافر تم سے پناہ کا طلبگار ہو تو اسے پناہ دو تاکہ وہ کلام خدا وندی کوسن سکے اور پھر اسے پر امن مقام پر پہونچادو ، چونکہ یہ لوگ نا واقف ہیں ، شاید قرآنی آیات سننے کے بعد اور تمہاری محبت ومہربانی کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہدایت پا جائیں۔ جی ہاں قارئین کرام! دین اسلام محبت وعطوفت اور مہربانی و آزادی کا دین ہے نہ کہ زوروزبر دستی کا، یہاں تک کہ جنگ کی شرطوں میں بھی کفار کو تحقیق کا موقع دیا جاتا ہے(۲)

____________________

(۱)سورۂ توبہ/۶

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۷۶

۳۸

۱ ۴ ۔ حضرت (ص) کی سیرت ،اسیروں کے ساتھہ

خدا وند عالم کی جانب سے حضرت (ص) کو یہ حکم ہوا تھا کہ آپ (ص) بذات خود، اسیروں سے گفتگو کریںاور انھیں راہ ہدایت کی طرف دعوت دیں( یا ایها النبی قل لمن فی ایدیکم من الاساریٰ ) (۱)

اتنی بڑی شخصیت کا اسیروں سے بلا واسطہ(ڈائرکٹ Direct )گفتگو کرنا ، اسیروں کی خاطر رحمت وعطوفت اور مہربانی نہیں تو اور کیا ہے؟

رسول (ص) کی بات چھوڑیئے، آپ (ص) کے گھرانے کے بچے بچے میں یہی جذبہ نظر آتا ہے بلکہ آپ (ص) کے گھر کی کنیز ''فضہ'' بھی اپنے سامنے سے روٹی اٹھاکر مسکین ویتیم واسیر کو دیدیتی ہے اور جبرئیل امین آیت لیکر نازل ہوتے ہیں( و یطعمون الطعام علیٰ حبه مسکیناویتیماواسیرا ) (۲)

یعنی یہ وہ گھرانہ ہے کہ خدا وند عالم کی محبت میں مسکین ویتیم واسیر کو کھانا کھلاتاہے ، اس گھرانے کے علاوہ کون ایسا سخی ہے کہ پورے دن روزے سے رہ کر اپنا افطار اٹھاکر فقیر کو دیدے اور پانی سے افطار کرکے سوجائے؟ وہ بھی ایک دن نہیں بلکہ مسلسل تین دن تک، یہی وجہ ہے کہ مشہور عالم ''حاتم طائی کی سخاوت'' ان ہستیوں کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے ہوئے سر تسلیم خم کرتی نظر آتی ہے۔

حضرت علی ـ ، ضربت کے بعد قاتل کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کو اسیر کر لولیکن اس کے کھانے پینے کا خیال رکھنا اور اس کے ساتھ خوش رفتاری سے پیش آنا(۳)

جب ایسی محبت و مہربانی نظر آتی ہے تو عقل انسانی انگشت بدنداں نظر آتی ہے کہ جو آپ ـ کا قاتل ہے اس کو جام شیر پلاتے ہیں اوراپنے بیٹوںسے فرماتے ہیں کہ اس کے ساتھ اچھا برتائو کرنا۔

____________________

(۱)سورۂ انفال/۷۰

(۲)سورۂ انسان''سورۂ دہر''/۸

(۳)میزان الحکمة

۳۹

۱۵۔ اجنبی و مسافراور عام انسان کے ساتھہ اخلاق

اگر کوئی مسافر ہے تو وہ اجنبی ضرور ہے لیکن انسان تو ہے، انسانیت کے ناطہ ہمارا فریضہ ہے کہ وہ اگر بھوکا ہے تو کھانا کھلائیں،اگر وہ پیاسا ہے تو پانی پلائیں یا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو اسے بھی پورا کریں تاکہ اس کے دل پر ہمارے اخلاق کا سکہ بیٹھ جائے ۔

رسول اسلا م (ص) کا عام لوگوں کے ساتھ یہ اخلاق تھا کہ اگر کسی بزم میں جاتے تھے تو کسی کویہ موقع نہیں دیتے تھے کہ وہ آ پ (ص)کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو ،کسی کی طرف پیر پھیلاکر نہیں بیٹھتے تھے ،ہمیشہ سلام میں سبقت کیا کرتے تھے ،چرب زبانی کے مخالف تھے یعنی آپ (ص) ضرورت کے مطابق زبان کھولتے تھے ،فضول باتوں سے پر ہیز فرماتے تھے،کبھی بھی آپ (ص) کو کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا گیا،زمین پر بیٹھتے تھے اور غلاموں کی طرح زمین پر بیٹھ کر ہی غذا تناول فرماتے تھے(۱)

آپ (ص) ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے ،دوسروں کے ساتھ خندہ روئی سے پیش آتے تھے اوریہ پسند فرماتے تھے کہ دوسرے لوگ بھی مسکراتے رہیں(۲)

____________________

(۱)بحارالانوار:ج۱۶، ص۲۲۸ ۔مکارم الاخلاق :ص۱۷

(۲)المحجة البیضاء :ج۴، ص۱۳۴

۴۰

آٹھویں فصل

۱۔ ذات رسول اسلام (ص)، درس عبرت

جس وقت جنگ حنین کے مال غنیمت کو حضور (ص)کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور (ص) نے ایک ایک کو آواز دی کہ فلاں آئے اور سو اونٹ لے جائے، فلاں آئے تین سو اونٹ لے جائے، فلاں آئے اتنے اونٹ لے جائے فلاں اتنے اونٹ لے جائے اتنے اتنے وغیرہ.....حالانکہ آپ (ص) اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ سب کافر ہیں، جب حضور (ص) کے مقدس صحابہ نے دیکھا کہ مال غنیمت ختم ہوگیا، ہمارے لئے تو کچھ بچا ہی نہیں تو فوراَ کھڑے ہو گئے..... یا رسول اللہ (ص)! آخر ہمارے پاس کیا بچا ؟ آپ نے تمام مال کافروں کو دیدیا؟ آپ (ص) نے فرمایا ''کیا تمھیں یہ پسند نہیں کہ اونٹوں کی جگہ پر میں خود تمھارے ساتھ ہوں؟(۱)

یہ تھی حضور (ص) کی سیرت کہ کفار میں مال غنیمت تقسیم فرما رہے ہیں اور ادھر صحابہ کا امتحان بھی ہو رہا ہے کہ آخر یہ لوگ کتنے پانی میں ہیں، حضور (ص) کا سوال کرنا بتا رہا ہے کہ اصحاب کا تمام ہم وغم صرف وصرف دنیا کے لئے تھا اور بس......

۲۔ حضور اکرم (ص) کی سیرت میں عدالت

سرکار رسالت مآب (ص) اپنی حیات طیبہ کے آخری ایام میں رونق افروز منبر ہوئے اور فرمایا کہ جس شخص کا بھی حق میری گردن پر باقی ہو وہ بلا جھجک طلب کر سکتا ہے، تمام مجمع پر خاموشی حاکم تھی ،اسی اثناء میں ایک بدو عرب محفل سے کھڑا ہوا جس کا نام تاریخ نے ''اسودہ بن قیس'' تحریر کیا ہے، کہتا ہے یا رسول اللہ (ص)! آپ کے اوپر میرا ایک حق ہے، سوال کیا کون سا حق؟

جواب دیا کہ آپ جنگ طائف میں تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے ایک تازیانہ میری پشت پر ماردیا تھا، آپ (ص) نے فرمایا ''آئو قصاص لے لو''

____________________

(۱)صحیفۂ امام خمینی: ج۳،ص۲۴۸

۴۱

اس نے کہا نہیں جس وقت آپ نے تازیانہ مار اتھا تو میں اس وقت برہنہ تن تھا، حضور (ص) نے لباس ہٹایا اور اس نے فوراَ آگے بڑھ کر مھر نبوت کا بوسہ لے لیا۔

ہماری بحث اس سے نہیں ہے کہ اس نے یہ کام غلط کیا یا صحیح؟ ایک بوسہ کی خاطر کتنے جھوٹ بولے؟ رسول اسلام (ص) پر کتنی تہمتیں لگائیں؟کس راستے سے منزل مقصود تک پہونچنے میں کامیاب ہوا؟

ہماری بحث یہ ہے کہ حضور اکرم (ص) کی سیرت دیکھئے، خود اپنی ذات کے متعلق اتنی عدالت ہے کہ پیرہن ہٹادیا آئو قصاص لے لو(۱)

۳۔ پیغمبر اسلام (ص) کا عہدو پیما ن

عمّار کہتے ہیں: بعثت سے پہلے میں اور پیغمبر اکرم (ص)، ایک ساتھ بکریاں چَرایا کرتے تھے، ایک روز میں نے حضور (ص) سے کہا کہ یا رسول اللہ (ص)! فلاں جگہ بہت ہریالی ہے، کل بکریوں کولے کر وہیں چلتے ہیں، حضور (ص) نے قبول کر لیا، میں معین وقت پر اس جگہ پہونچا تو میں نے دیکھا کہ حضور (ص) مجھ سے پہلے وہاں پہونچ چکے ہیں لیکن بکریوں کو چَرنے نہیں دے رہے ہیں میں نے سوال کیا کہ آخر آپ بکریوں کو چرنے کیوں نہیں دیتے؟ تو آپ (ص) نے جواب دیا ''میں نے تم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم دونوں اپنی اپنی بکریوں کو ساتھ چَرائیں گے تو تمھاری بکریوں سے پہلے میں اپنی بکریوں کو کیسے اجازت دیتا؟(۲)

اللہ اکبر، ایک معمولی سا کام ہے ، بکریوں کو چَرانا ہے لیکن اس میں بھی عہدو پیمان کی وفا کا اتنا زیادہ خیال؟ (لیکن کیا کہا جائے ان حضرات کو کہ جن کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم سنت رسول (ص) پر عمل کرتے ہیں لیکن غدیر خم کے وعدے کو بھلا بیٹھے)

____________________

(۱)سیرۂ رسول اللہ و آرمان انبیاء الٰہی ،از دید گاہ امام خمینی: ص۸۹

(۲)سیرۂ پیامبر اکرم (ص):ص۲۸

۴۲

۴۔ رسول اسلام (ص) کی تبلیغی سیرت

جس وقت یہ آیت نازل ہوئی( أنذر عشیرتک الاقربین ) (۱)

یعنی اے میرے رسول آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو عذاب الٰہی سے خوف دلائیئے، تو آپ (ص) نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو دعوت دی(آیت کالہجہ اور حضور (ص) کا عمل، بتا رہا ہے کہ سب سے پہلے تبلیغ کے حقدار اعزاء واقارب ہیں،سب سے پہلے اپنے اہلبیت کو تبلیغ کرو تاکہ دوسرے لوگوں کو انگشت نمائی کا موقع نہ مل سکے)

تاریخ نے دعوت ذوالعشیرہ کے مہمانوں کی تعداد، ۴۵افراد بتائی ہے، کھانا کھلانے کے بعد جیسے ہی رسول اسلام (ص) پیغام سنانے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب (جو آپ (ص) ہی کا چچا تھا) نے فوراَ لوگوں کو بھڑکانا اوراکساناشروع کیا، جس کے نتیجہ میں تمام لوگ اٹھ کر چلے گئے اور آپ (ص) لوگوںتک پیغام نہیںپہونچا سکے، دوسرے دن پھر دعوت دی لیکن پھر وہی نتیجہ ملا، تیسرے دن دعوت کی تو پھر ابو لہب کھڑا ہوا لیکن اب ولایت ورسالت کے حامی ومحامی جناب ابو طالب ـ کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا فوراَ کھڑے ہوگئے اور ابو لہب کو ڈانٹا ''اسکت یا اعور'' اے کانے خاموش............. پورے مجمع پر ایسی خاموشی حاکم ہوگئی کہ سوئی بھی گر جائے تو با قاعدہ آواز سنائی دے، تمام لوگوں کے سر اس طرح جھکے تھے کہ گویا تمام سروں پر طائر بیٹھے ہوں کہ اگر ذرا سا بھی سر ہلا یا تو سروں پر بیٹھے ہوئے پرندے اڑ جائیں گے، تمام لوگ انتہائی دریائے حیرت میں غرق، انگشت بدنداں تھے، جناب ابو طالب ـ نے ادھر تو ابو لہب کو ڈانٹا اور ادھر بھتیجے سے فرمایا ''قم یا سیدی ومولای'' اے میرے سید وسردار آپ کھڑے ہوں اور جو کچھ بھی کہنا ہو کہیں، آپ (ص) کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کون ایسا ہے جو میرا وصی وخلیفہ اور جانشین ہو؟ سکوت کے علاوہ کوئی جواب حاصل نہیں ہوا لیکن اسی سکوت کو ایک تیرہ سالہ بچے نے یہ کہکر توڑ ڈالا ''انا یا رسول اللہ'' یا رسول اللہ (ص) علی آپ کی نصرت کے لئے آمادہ ہے، آپ (ص) نے تمام مجمع سے خطاب کیا کہ علی میرا بھائی ، میرا وصی، میرا خلیفہ، میرا وزیر ہے تم پر لازم ہے کہ اس کی بات کو سنو اور اس کی اطاعت کرو(۲)

____________________

(۱)سورۂ شعراء/۲۱۴

(۲)آمالی ،شیخ طوسی:ص۵۸۱

۴۳

آپ (ص) نے تین سال تک پوشیدہ طور پر تبلیغ کی یہاں تک کہ حکم خدا وندی نازل ہوا (فاصدع بما تؤمر واعرض عن المشرکین)(۱)

یعنی اے رسول! جن کاموں پر تمھیں مامور کیا گیا ہے انھیں آشکار کردو اور مشرکین سے پرہیز کرو(ان پر بھروسہ نہ کرو) ہم تمھیں ان کے شر سے محفوظ رکھیں گے۔

حضور (ص) کوہ صفا کے دامن میں خانۂ کعبہ کے کنارے تشریف لائے اور اعلان عام کردیا اور فرمایا کہ اگر تم میری دعوت کو قبول کرلوگے تو دنیاوی حکومت و عزت اور آخرت، سب تمھارا ہے لیکن لوگوں نے آپ (ص) کا مذاق اڑایا

اور جناب ابوطالب ـ کے پاس آکر کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے نو جوانوں کو گمراہ کر رہا ہے، اس سے پو چھئے کہ وہ کیاچاہتا ہے؟ اگر اسے دولت چاہیئے تو ہم دولت دینے کو تیار ہیں، اگر عورت درکار ہے تو ہم عورت دینے کو تیار ہیں، اگر منزلت کا خواہاںہے تو منزلت بھی دیدیں گے، جناب ابوطالبـ نے یہ بات رسول اسلام (ص)کو بتائی، رسول اسلام (ص) نے جواب دیا کہ اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر آفتاب اور دوسرے ہاتھ پر ماہتاب رکھ دیں تو بھی میں اپنے کام سے باز نہیں آسکتا، کفار نے جناب ابو طالبـ سے چاہا کہ محمد (ص) کو ان کے حوالے کردیں لیکن جناب ابوطالب ـنے قبول نہیں کیا(۲)

آپ (ص) نے تبلیغ کا طریقۂ کار بتایا ہے کہ چاند اور سورج ملنے کے بعد بھی ، میں تبلیغ سے باز نہیں آسکتا(لیکن افسوس! سیرت رسول (ص) کی پیروی کا دم بھرنے والے، عصر حاضر کے مبلغین کو کیا ہو گیا ؟ آخر عقل کو کون سے چوربازار میں بیچ آئے؟ کہ ان کی زبانوں میں چند ڈالر ہی تالا ڈال دیتے ہیں اور وہ بھی ایسا تالا کہ کوئی سی چابھی اسے نہ کھول پائے یا دوسری طرف سے اسلام کے خلاف وہی چند ڈالر، زبان کے دریا کو ایسے بہائو پر لے آتے ہیں کہ محکم سے محکم باندھ بھی اسے نہیں روک پاتا)

____________________

(۱)سورۂ حجر/۹۴

(۲)شرح نھج البلاغہ:ج۱۴،ص۵۴

۴۴

۵۔ حضرت ختمی مرتبت (ص) کی عملی '' Practicaly '' سیرت

یوں توحضرت (ص) کا کوئی بھی ایسا عمل نہیں مل سکتا کہ بغیر انجام دیئے کسی دوسرے کو حکم دیا ہو لیکن حضور (ص) کے دو کام ایسے ہیں جو بہت ہی آشکارا ہیں کہ سب کو معلوم ہو گیا کہ حضرت (ص) نے یہ عمل انجام دیئے ہیں۔

آپ (ص) کا پہلا کام: مدینہ منورہ میں مسجد بنوائی، مسجد بنانے میں آپ (ص) خود بھی کام انجام دیتے تھے اور مسلمان خواتین کے لئے بھی ایک وقت مقرر فرمادیا تھا تاکہ اس ثواب سے خواتین بھی محروم نہ رہیں اور انھیں احساس کمتری نہ ہو۔

آپ (ص) کا دوسرا کام:لوگوں کے درمیان اخوت وبرادری اور بھائی چارگی قائم کی جیسا کہ خدا وند عالم نے حکم دیا تھا( انما المومنون اخوة فاصلحوا بین اخویکم واتقوا الله لعلکم تر حمون ) (۱)

یعنی مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس بھائیوں کے درمیان صلح وآشتی برقرار رکھو اور تقویٰ اختیار کرو امید ہے کہ تم مشمول رحمت الٰہی قرار پائوگے۔

اس آیت میں دو مومنوں کے درمیان تعلقات کو دو بھائیوں کے درمیان رابطہ سے تشبیہ دی گئی ہے جس سے چند باتیں سامنے آتی ہیں۔

۱۔دو بھائیوں کی دوستی، محکم اور عمیق و پائیدار ہے۔

۲۔دو بھائیوں کی دوستی ،دو طرفہ ہے نہ کہ ایک طرفہ۔

۳۔دو بھائیوں کی دوستی، فطرت وطبیعت کا تقاضہ ہے(جس کا مادی دنیا سے کو ئی تعلق نہیں ہے)

۴۔دشمن کے مقابل، دو بھائی ، ایک دوسرے کے لئے قوت بازو ہیں۔

۵۔دونوں بھائیوں کی اصل ایک ہے۔

۶۔اگر ایک مومن دوسرے مومن کو بھائی تسلیم کرے گا تو عفو وبخشش کا جذبہ زیادہ ہوگا اور اس کی خطائوں سے چشم پوشی کرے گا (چونکہ دو بھائیوں کے درمیان ایسا ہی ہوتا ہے)

____________________

(۱)سورۂ حجرات/۱۰

۴۵

۷۔ایک بھائی دوسرے بھائی کی خوشی میں خوش اور اس کے غم میں غمگین و رنجیدہ ہوتا ہے، اگر ایک مومن دوسرے مومن کو اپنا بھائی نہیں سمجھتا تو بالکل اس کے بر خلاف نظر آئے گا، اگر ایک مومن خوش ہے تو دوسرا اس کی خوشی سے رنجیدہ ہوگا اور اگر ایک رنجیدہ ہے تو دوسرا اس کے دردوالم سے خوشحال ومسرور ہوگا، اگر ایک بھائی ترقی کے زینوں کو طے کر رہا ہے تو دوسرا بھائی اسے تنزلی کی طرف کھینچتا نظر آئے گااور اگر ایک بھائی پستی کی جانب جا رہا ہے تو بجائے اس کے کہ اسے سہارادیکرترقی کی طرف لا کر اس کا مددگارو معاون ثابت ہو ، گڑھے میں ڈھکیلتا نظر آئے گا۔

روایت میں آیا ہے کہ ''دو بھائی دو ہاتھوں کی مانند ہیںکہ دھوتے وقت ایک دوسرے کا مددگار ثابت ہوتا ہے''(۱)

اس روایت سے یہ صاف ظاہر ہے کہ بھائی اسی کوکہتے ہیں جو دوسرے بھائی کے لئے معاون ومددگار ثابت ہو ، اگر ایسا نہیں ہے تو کچھ بھی ہو، بھائی کہلانے کاحقدار نہیں ہے۔

آغازاسلام میں، رسول اسلام (ص) ،سات سو چالیس افراد کے ساتھ ''نخیلہ نامی مقام پر'' قیام پذیر تھے کہ جبرئیل امین یہ پیغام لے کر نازل ہوئے کہ خدا وند عالم نے فرشتوں کے درمیان برادری قائم کردی ہے یعنی ایک کودوسرے کا بھائی قرار دیا ہے، آپ (ص) نے بھی اپنے اصحاب کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور ایک کو دوسرے کا بھائی بنا دیا جن میں سے چند افراد کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں:۔

____________________

(۱) المحجة البیضائ: ج۳،ص۳۱۹

۴۶

۱۔ابوبکروعمر۔

۲۔عثمان و عبد الرحمن۔

۳۔سلمان و ابوذر۔ ۴۔طلحہ وزبیر۔

۵۔مصعب وابو ایوب انصاری۔

۶۔حمزہ و زید بن حارثہ۔

۷۔ابو درداء وبلال۔

۸۔جعفر طیارو معاذ بن جبل۔

۹۔مقدادوعمار۔

۱۰۔عائشہ وحفصہ۔

۱۱۔ام سلمیٰ و صفیہ۔

۱۲۔اور خود کو حضرت علی ـ کا بھائی قرار دیا(۲)

____________________

(۲)بحار الانوار:ج۳۸،ص۳۳۵

۴۷

جنگ احد میں دو شہید بنام عبداللہ ابن عمر اورعمر ابن جموح ، کہ جن کے درمیان آپ (ص) نے رشتۂ اخوت قائم کیا تھا ، حضور نے حکم دیا کہ ان دونوں کو ایک قبر میں دفن کرو(۱)

اخوت و برادری کا رابطہ صرف مردوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ خواتین کے لئے بھی وارد ہوا ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے( وَإِن كَانُوا إِخْوَةً رِّجَالًا وَنِسَاءً ) (۲)

یعنی اخوت و برادری قائم کرو چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔

برادری اور ہمبستگی فقط اور فقط فی سبیل اللہ ہونی چاہیئے ، اگر کوئی انسان کسی کو دنیا کے لئے بھائی بنائے تو اسے اس کی مراد حاصل نہیں ہو سکتی اور قیامت میں ایک دوسرے کے دشمن بھی ہو جائیں گے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے..............

( الاخلاء یو مئذ بعضهم لبعض عدو الا المتقین ) (۳)

ہوشیار ہوجائو! (جو لوگ دنیاوی غرض سے بھائی اور دوست بنتے اور بناتے ہیںوہ) قیامت کے دن ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے سوائے پرہیز گارں گے(یعنی جن لوگوں نے خدا کے لئے دوستی وبرادری قائم کی تھی وہی فائدہ میں ہیں )

امام جعفر صادق ـ فرماتے ہیں: ''مومن، مومن کا بھائی ہے، یہ دونوں ایک جسم کی مانند ہیں، اگر ایک جسم کا ایک حصہ بھی اذیت وتکلیف میں ہوتا ہے تو پورے جسم کو تکلیف محسوس ہوتی ہے''(۴)

یعنی بھائی وہی ہے جو اپنے بھائی کی تکلیف کا احساس کرے ۔

____________________

(۱)شرح نھج البلاغہ: ابن ابی الحدید معتزلی،ج۱۴،ص۲۱۴۔ بحارالانوار:ج۲۰،ص۱۲۱

(۲)سورۂ نسائ۱۷۶

(۳)سورۂ زخرف۶۷

(۴) اصول کافی:ج۲،ص۱۳۳

۴۸

مشہورو معروف فارسی شاعر جناب سعدی شیرازی صاحب اس حدیث کو اپنے اشعارر میں اس طرح قلم بند کرتے ہیں۔

بنی آدم اعضای یک پیکرند

کہ در آفرینش ز یک گوہر ند

چو عضوی بہ درد آورد روزگار

دگر عضوھا را نماند قرار

تو کز محنت دیگران بی غمی

نشاید نامت نہند آدمی(۱)

یعنی بنی نوع انسان ،ایک جسم کی مانند ہیں جو ایک ہی گوہر سے پیدا ہوئے ہیں، جب جسم کے کسی ایک حصہ میں درد ہوتا ہے تو جسم کا کوئی حصہ بھی قرار نہیں پاتا، ہر حصہ بے چین ومضطرب اور پریشان رہتا ہے، اگر تم دوسروں کی زحمت اور تکلیف کی پرواہ نہیں کرتے تو تم آدمی کہلانے کے لائق نہیں ہو۔ یا ایک اردو شاعر اس طرح قلمبند کرتا ہے:۔

انس سے انساں بنا گر انس ہی اس میںنہ ہو

آدمی وہ ہو تو ہو انسان ہو سکتا نہیں

جناب سعدی شیرازی کہہ رہے ہیں کہ تم آدمی کہلانے کے لائق نہیں ہو لیکن اردو شاعر ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ تم آدمی کہلائو لیکن انسانیت کا خواب مت دیکھنا چونکہ انسانیت کا تمھارے اندر دوردور تک نام ونشان نہیں ہے۔

____________________

(۱)گلستان سعدی۔ دیوان سعدی شیرازی

۴۹

۶۔ حضرت (ص) کی نظر میں حقوق برادری

جب ایک مومن نے دوسرے مومن کو بھائی مان ہی لیا ہے تو اب ظاہر ہے کہ اس کے حقوق کی بھی رعایت کرنی پڑے گی (قانون کا النگھن ضروری ہے)

رسول اسلا م (ص) فرماتے ہیں: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کی گردن پر تیس حق ہیںکہ جن کا ادا کرنا واجب ہے، ان میں سے چند حقوق مندرجہ ذیل ہیں:۔

۱۔اس کے ساتھہ عفووبخشش اور مہربانی کے ساتھہ پیش آئے۔

۲۔اس کے رازاں کو مخفی رکھے۔

۳۔اس کی خطائوں کا جبران کرے۔

۴۔اس کے عذرو معذرت کوقبول کرے۔

۵۔اس کے دشمنوں اور بد خواہوں سے اس کا دفاع کرے۔

۶۔اس کے بارے میں اچھا سوچے۔

۷۔اس سے کئے وعدوں کی وفا کرے۔

۸۔اگر وہ بیمار ہوجائے تو اس کی مزاج پرسی کرے۔

۹۔اگر وہ مر جائے تو اس کی تشییع جنازہ میں شرکت کرے۔

۱۰۔اس کی دعوت اور اس کے تحفہ کو قبول کرے۔

۱۱۔اس کے تحفہ کے بدلہ میں اس سے بہترین تحفہ دے۔

۱۲۔اس کی خدمتوں کا شکریہ ادا کرے۔

۱۳۔اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے۔

۵۰

۱۴۔اس کی عزت وناموس کی حفاظت کرے۔

۱۵۔اس کی حاجت روائی کرے۔

۱۶۔اس کی مشکل حل کرنے میں وسیلہ بنے۔

۱۷۔اس کے سلام کا جواب دے۔

۱۸۔اس کی قسم قبول کرے۔

۱۹۔اس کے دوست کو بھی دوست رکھے۔

۲۰۔اس کی گفتگو کا احترام کرے۔

۲۱۔اس کو حوادثات میں تنہا نہ چھوڑے۔

۲۲۔جو کچھہ اپنے لئے چاہے وہ اس کے لئے بھی چاہے۔(۱)

۷۔ حضور (ص) کی سیرت باعث محبوبیت

آپ (ص) کی سیرت ،خلّاق دوجہاں کو اتنی زیادہ پسند آئی کہ اپنا محبوب بنا لیا اور آپ (ص) کا لقب حبیب اللہ پڑ گیا، اور جہان اسلام بڑی شان وشوکت کے ساتھہ آپ (ص) کے اس لقب پر فخرو مباہات کرکے نعت شریف پڑھتا نظر آتا ہے ۔جب خدا وند عالم نے آپ (ص) کو اپنا محبوب بنالیا تو یہ ظاہر سی بات ہے کہ محبوب سے متعلق ہر چیز محبوب ہوجاتی ہے اس کی ہر ادا دل میں جگہ بناتی ہے، آنکھوں میں سما جاتی ہے لہٰذا۔

۱۔جب آپ (ص) کو بچپن کے عالم میں دیکھا تو فرمایا:( ألم یجدک یتیمافأویٰ ) (۱)

____________________

(۱)بحار الانوار:ج۷۴،ص۲۳۶

(۱)سورۂ ضحیٰ/۶

۵۱

یعنی اے میرے رسول (ص) کیا جب ہم نے تمھیں یتیم پایا تو تمھارے لئے پناہگاہ کا انتظام نہیں کیا؟تمام تفاسیر کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت سے جناب ابو طالب ـ کی جانب اشارہ ہے چونکہ جب آپ (ص) یتیم تھے تو آپ (ص) کی پناہ گاہ جناب ابو طالب ـکے علاوہ کوئی نہیں تھی ۔

۲۔آپ (ص) کو وطن میں دیکھا تو فرمایا:( لا اقسم بهٰذا البلد وانت حل بهٰذا البلد ) (۲)

یعنی اے میرے رسول میں اس شہر پر عذاب نازل کر ہی نہیں سکتا جب تک کہ تم اس شہر میں ہو ، مجھے یہ گوارہ نہیں ہے کہ جس شہر میں رحمة للعالمین ہو اس پر عذاب نازل کروں۔

۳۔آپ (ص) کو سفر کی حالت میں دیکھا تو فرمایا:( ووجدک ضالا فهدی ٰ ) (۳)

یعنی اے میرے حبیب کیا ہم نے تمھاری گمراہیوں میں ہدایت نہیں کی؟یہ مسئلہ پیچیدہ ہے کیونکہ آپ (ص) تو دونوں عالم کے رہبر بناکر بھیجے گئے تھے پھر آپ (ص) کو ہدایت کی ضرورت کیا معنی؟مراد یہ ہے کہ جب آپ (ص) کسی مسئلہ میں مشوش ہوتے تھے تو خدا وند عالم آپ (ص) کی ہدایت و رہنمائی کرتا تھا کہ ایسا کرو یہ بہتر ہوگا وغیرہ......

۴۔آپ (ص) کی حیا کو دیکھا تو فرمایا:( فیستحی منکم ) (۴)

اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ میرا رسول تم میں سب سے زیادہ حیا دار ہے۔

____________________

(۲)سورۂ بلد/۱،۲

(۳)سورۂ ضحیٰ۷

(۴)سورۂ ضحیٰ/۷

۵۲

۵۔آپ (ص) کی ضیا کو دیکھا تو فرمایا:( وداعیا الیٰ الله بأذنه و سراجا منیرا ) (۱)

میرا رسول تمھیں میری طرف دعوت دینے والا اور تمھارے لئے راہ ضلالت و گمراہی میں چراغ ہدایت ہے۔

۶۔آپ (ص) کی عبا کو دیکھا تو فرمایا:( یا ایهاالمدثر ) (۲)

اللہ اکبر...آپ (ص) نماز کی حالت میں جو کمبلی اوڑھے تھے وہ بھی خدا کو اتنی پسند آئی کہ آپ (ص)کا لقب قرار دیا ''اے کمبلی اوڑھنے والے رسول''

۷۔آپ (ص) کے کردار کو دیکھا تو فرمایا:( انک لعلیٰ خلق عظیم ) (۳)

یعنی اے میرے حبیب آپ خلق عظیم پر فائز ہیں، جیساکہ ہم نے پہلے بھی اس کی کئی مرتبہ تکرار کی ہے کہ آپ (ص) کو ہمارے لئے نمونۂ عمل( Ideal ) بناکر بھیجا گیا ہے اور خدا وند عالم اس بات سے یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ میرے حبیب کے جیسا کسی کا اخلاق نہیں ہے لہٰذا اگر تمھیں نمونے کی ہی تلاش ہے تو میرے حبیب کو ہی نمونہ بناناچونکہ یہی ایک ایسی شخصیت ہے جو نمونۂ عمل( Ideal ) بننے کے قابل ہے ورنہ باقی تو سب ایسے ہی ہیں جیسے آب رواں پر حباب۔

۸۔آپ (ص) کی رفتار کو دیکھا تو فرمایا:( انک علیٰ صراط مستقیم ) (۴)

اس آیت سے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر تمھیں صراط مستقیم چاہیئے تو میرے حبیب کی راہ اپنائو یہی صراط مستقیم ہے۔

____________________

(۱)سورۂ احزاب/۴۶

(۲)سورۂ مدثر/۱۱

(۳)سورۂ قلم/۴

(۴)سورۂ زخرف/۴۶

۵۳

۹۔آپ (ص) کے پرستار کو دیکھا تو فرمایا:( رحماء بینهم ) (۵)

اشارہ ہے جناب ابو طالب ـ کی طرف کہ آپ کے جیسا کوئی پرستار اور نگہبان نہیں وہ تو دوسرے لوگوں کے لئے بھی رحم دل انسان ہے۔

۱۰۔آپ (ص) کے یار کو دیکھا تو فرمایا:( اشداء علیٰ الکفار ) (۶)

اشارہ ہے مولا علی ـ کی ذات گرامی کی جانب کہ یہ میری عبادت میں اتناغرق ہے کہ اسے میرے سوا کچھ نظرہی نہیں آتا اور میرے دشمنوں کے مقابلہ میں بہت شدید ہے ، ان کو معاف نہیں کرے گا سوائے اس کے کہ ان کی نسلوں میں کوئی محمد و آل محمدکا شیعہ آنے والاہو۔

۱۱۔آپ (ص) کی اصالت کو دیکھا تو فرمایا:( اصلها ثابت ) (۱)

اشارہ ہے آپ (ص) کے شجرۂ نسب کی جانب کہ آپ (ص) کے شجرہ میں کسی قسم کے شک وتردد کی گنجائش نہیں ہے (وہ اور ہوں گے جن کا شجرۂ نسب معلوم ہی نہیں دور جانے کی ضرورت نہیں صرف باپ کو دیکھا جائے تو باپ نہیں ملتا)

۱۲۔آپ (ص) کی سیادت کو دیکھا تو فرمایا:( یٰس والقرآن الحکیم ) (۲)

یعنی آپ (ص) کو اتنا پاک و پاکیزہ اور طاہر پایا کہ یٰس جیسے لقب سے نوازا۔

۱۳۔آپ (ص) کی طہارت کو دیکھا تو فرمایا:( طٰه ما انزلنا علیک القرآن لتشقیٰ) ( ۳)

یعنی اے میرے طاہر و پاک طینت حبیب ہم نے اپنی عبادت اس لئے واجب قرار نہیں دی کہ تم خود کو مشقت میں ڈالو۔

____________________

(۵)سورۂ فتح/۲۹

(۶)سورۂ فتح/۲۹

(۱)سورۂ ابراہیم/۲۴

(۲)سورۂ یٰس/۱

(۳)سورۂ طٰہ/۱

۵۴

۱۴۔آپ (ص) کی فصاحت کو دیکھا تو فرمایا:( خلق الانسان علمه البیان ) (۴)

یعنی خدا وند عالم نے انسان کو خلق کیا پھر اسے واضح طور پر تعلیم دی، یعنی ایسی تعلیم دی جس میںپیچیدگی کا شائبہ بھی نہیں پایا جاتا۔

۱۵۔آپ (ص) کی سخاوت کو دیکھا تو فرمایا:( لاتبسطها کل البسط ) (۵)

یعنی آپ (ص) کا ہاتھ اتنا زیادہ کھلا ہوا کہ دنیا بھر کے کتنے بھی ہاتھ کھل جائیں آپ (ص) کی برابری نہیں کر سکتے۔

۱۶۔آپ (ص) کے علم پر نظر پڑی تو فرمایا:( علمک مالم تکن تعلم ) (۶)

اشارہ ہے کہ اے رسول! ہم نے آپ (ص) کو ایسی تعلیم دی کہ کسی کو بھی ایسی تعلیم نہیں دی گئی اور نہ ہی تا قیام قیامت دی جائے گی۔

۱۷۔آپ (ص) کے حلم کو دیکھا تو فرمایا:( ویعفو عن کثیر ) (۱)

یعنی میرا رسول اتنا حلیم وبرد بار ہے کہ اکثر اوقات اس کے اندر انتقام کا جذبہ نہیں رہتا بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا ہے معاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۱۸۔آپ (ص) کے نور کو دیکھا تو فرمایا:( مثل نوره کمشکاة فیها مصباح ) (۲)

یعنی میرے رسول کا نور، اس نور کی طرح ہے کہ جیسے چراغ قندیل میں رکھا ہو اور دھیمی دھیمی روشنی باہر آرہی ہو جو انسان کے دل کو لبھاتی ہے۔

____________________

(۴)سورۂ رحمن/۳،۴

(۵)سورۂ اسراء/۲۹

(۶)سورۂ نساء/۱۱۳

(۱)سورۂ مائدہ/۱۵

(۲)سورۂ نور/۳۵

۵۵

۱۹۔آپ (ص) کے حسین چہرۂ مبارک کو دیکھا تو فرمایا:( والشمس وضحا ها ) (۳)

آپ (ص) کے تابناک چہرہ (سورج) اور اسکی روشنی کی قسم۔

۲۰۔آپ (ص) کی زلفوں کو دیکھا تو فرمایا:( واللیل اذا یغشاها ) (۴)

آپ کی زلف(رات) کی قسم جو زمانہ پر تاریکی پھیلا دیتی ہے۔

۲۱۔آپ (ص) کے دست مبارک کو دیکھا تو فرمایا:( وما رمیت اذ رمیت ولٰکن الله رمیٰ ) (۵)

اللہ اکبر....اے میرے رسول! یہ کنکریاں جو تم نے پھینکی ہیں یہ تم نے نہیں پھینکیں بلکہ ہم نے پھینکی ہیں ، یہ فعل تمھارے ہاتھوں سے انجام پایا لیکن یہ کام ہمارا ہے، تم میری صفات کے مظہر ہو، اس لئے میں نے یہ کام تمھارے ہاتھوں سے انجام دلوایا۔

۲۲۔آپ (ص) کے قدم مبارک کو دیکھا تو فرمایا:( دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ ) (۱)

اشارہ ہے واقعہ معراج کی جانب، جب رسول اسلام (ص) کو حکم ہوا تھا کہ اے میرے رسول چلے آئو چلے آئو بڑھتے رہو میری جانب بڑھتے رہو ''میرے رسول آئیے اور قریب آئیے'' یہاں تک کہ حضور اکرم (ص) اتنے قریب ہوئے اتنے قریب ہوئے کہ جبرئیل نے بھی ساتھ چھوڑ دیا جوکہ خدا وند عالم کا مقرب ترین فرشتہ تھااور حضور (ص) اتنا نزدیک ہوئے کہ کوئی مقدار نہیں بتائی گئی کہ کتنے قریب ہوئے دوکمان یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا (میں آگے کچھ نہیں کہوں گا کہ کس شخص یا کس چیز سے قریب ہوئے ایسا نہ ہو کہ کوئی الزام لگ جائے)

____________________

(۳)سورۂ شمس/۱

(۴) سورۂ شمس/۴

(۵)سورۂ انفال/۱۷

(۱)سورۂ نجم/۸،۹

۵۶

۲۳۔آپ (ص) کے سینہ مبارک کو دیکھا تو فرمایا:( ألم نشرح لک صدرک؟) (۲)

اے میرے حبیب کیا ہم نے تمھارے سینہ کو کشادہ نہیں کیا؟ (شاید اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر ہم تمھارے سینہ کو کشادہ نہ کرتے تو تم آسمانی کتاب ''قرآن کریم''کا وزن کس طرح اٹھاتے؟ چونکہ قرآن وہ عظیم کتاب ہے کہ اگر ہم اسے پہاڑوںپر نازل کردیتے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے۔

۲۴۔آپ (ص) کی پشت مبارک کو دیکھا تو فرمایا:( ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظهرک ) (۳)

اور کیا ہم نے تمھاری اس پشت کا وزن (علی ـ کے ذریعہ) ہلکا نہیں کیا جو وزن سے ٹوٹی جارہی تھی؟

۲۵۔آپ (ص) کے بیت الشرف پر نظر پڑی تو فرمایا:( فی بیوت اذن الله ان ترفع ) (۴)

گھروں میں سب سے اعلیٰ وارفع آپ (ص) کے بیت مبارک کوقرار دیا گیا۔

۲۶۔آپ (ص) کے اہلبیت (ع) کو دیکھا تو فرمایا:( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا ) (۵)

اے اہل بیت اللہ کا یہ ارادہ ہے کہ ہر نجاست وکثافت کوتم سے اسطرح دور رکھے جو دور رکھنے کا حق ہے۔

۸۔ سنت رسول اسلا م (ص) کی جگہ بدعتوں کا رواج

معاویہ علیھا الھاویہ نے سنت رسول (ص) کو نیست ونابوداور بدعتوں کے رائج کرنے کے لئے بھر پور کوششیں کی ہیں تاریخ نے ان میں سے چند کا تذکرہ کیا ہے جو یہاں بیان کرنا مناسب سمجھتا ہوں، معاویہ وہ شخص ہے

____________________

(۲)سورۂ انشراح/۱

(۳)سورۂ انشراح/۲،۳

(۴)سورۂ نور/۳۶

(۵)سورۂ احزاب/۳۳

۵۷

جس نے سنت رسول (ص) کی جگہ بدعتوں کو رائج کیا..........

۱۔مسلمانوں میں زنا اور بد کاری کو عام کیا۔

۲۔سود کو حلال قرار دیا۔

۳۔سفر میں نماز قصر پڑھنے کی جگہ پوری نماز ادا کی۔

۴۔نماز عیدین میں اذان کہی۔

۵۔دو سگی بہنوں سے ایک وقت میںشادی کو حلال قرار دیا۔

۶۔دیت میں تبدیلی کرکے اس میں سنت کے بر خلاف اضافہ کیا۔

۷۔رکوع سے پہلے اور بعد میں تکبیر کہنی چھوڑدی۔

۸۔نماز عیدین میں خطبوں کو نماز سے پہلے (نماز جمعہ کی طرح)پڑھا۔

۹۔ناجائز اولاد کے حکم کو نقض کیا۔

۱۰۔انگھوٹھی بائیں ہاتھ میں پہنی۔

۱۱۔حضرت علی ـ پر سب وشتم کا آغاز کیا اور اسے با قاعدہ رائج کیا۔

۱۲۔بیت المال کو تحریف قرآن میں خرچ کیا۔

۱۳۔پیغمبر (ص) کے عادل صحابہ کو قتل کیا۔

۱۴۔اہل بیت (ع) کی پیروکار خواتین کو قتل کیا۔

۱۵۔اسلامی خلافت کو بادشاہت میں تبدیل کیا۔

۱۶۔ریشمی لباس پہنا اور چاندی سونے کے برتن میں پانی پیا۔

۱۷۔حرام موسیقی سنی اور اس پر رقم خرچ کی(۱)

____________________

(۱)الغدیر:ج۱۱،ص۷۲۔ نوٹ:۔علامہ امینی مرحوم نے ۲۷ مقامات شمار کئے ہیں تفصیل کے لئے اسی حوالہ پر مراجعہ فرمائیں۔

۵۸

دور حاضر میں بھی سیرت رسول (ص) کی پامالی کے متعلق بہت زیادہ ناکام کوششیں کی جارہی ہیں لہٰذا:

ہمارا فریضہ ہے کہ آنحضرت (ص) کی سیرت طیبہ کے احیاء میں ''رات دن'' کوشاں رہیں تاکہ محشر میں حضور (ص) کے سامنے خجالت وشرمندگی سے محفوظ رہ سکیں اور فخر کے ساتھ حضرت سے کہیں کہ یا رسول اللہ (ص) ہم پر بھی ایک نظر کرم کیجئے، ہماری شفاعت فرمائیئے ہم آپ (ص) کی سنت کے احیاء میں زندگی بسر کرکے آئے ہیں ۔

خدا وند عالم کے فرستادہ نمونہ اور آئیڈیل( Ideal )حضرت ختمی مرتبت (ص) نے اپنے اخلاق کے ذریعہ دنیائے انسانیت کو یہ درس دیا ہے کہ شمشیر ظلم سے سروں پر تو حکومت ہو سکتی ہے ،دلوں پر حکومت نہیں کی جا سکتی ۔

اگر دلوں پر حکومت کرنی ہے تو اس کا صرف ایک ہی اسلحہ ہے اور وہ ہے ''اخلاق''

۵۹

خلاصہ

یوںتو سرکار رسالت مآب (ص) کی سیرت کوبیان کرنا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے چونکہ عقل ناقص، عقل کامل کو کس طرح درک کرسکتی ہے؟ آخر دریا کو ایک کوزہ میں سمانا چاہیں گے تو کس طرح سما سکتے ہیں،لیکن جو کچھ ناکام کوشش کی گئی ہے اسی کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

بعثت کا ھد ف

جس طرح تمام انبیاء کا روی زمین پر آنا مقصد اور ہدف سے خالی نہیں ہے اسی طرح ہمارے آخری پیغمبرحضرت محمد مصطفےٰ (ص) کی بعثت کا بھی ایک مقصد ہے اور وہ ہے ''اشرف المخلوقات کی بہترین تربیت'' حضور (ص) کو خدا وند عالم نے اسی وجہ سے روی زمین پر بھیجا تھا کہ تمام انسانوں کو منزل کمال اور سعادت سے ہمکنار کریں، چونکہ انسان ہی تمام مخلوقات میں اشرف ہے اور تمام مخلوقات کے نچوڑکو انسان کہا جاتا ہے، لہٰذا اگر ہر انسان اپنی اصلاح کر لے تو خود بخود پورے معاشرے کی اصلاح ہو جائے گی اور اگر ایک انسان فاسداورفاسق وفاجر ہو تو معاشرہ پر اپنا رنگ چڑھا دیتا ہے چونکہ ''ایک مچھلی تالاب کو گندا کرتی ہے''

جناب آدم ـ سے لے کر حضرت ختمی مرتبت (ص) تک، ہر نبی کی یہی کوشش رہی ہے کہ انسان کو کمال وسعادت کی منزلیں طے کرائے، انھیں صراط مستقیم پر گامزن کرے، نہ یہ کہ صرف راستہ بتادے۔

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70