زوجہ حضرت ایوب
ارشاد رب العزت ہے :
(
وَاذْکُرْ عَبْدَنَا أَیُّوْبَ إِذْ نَادٰی رَبَّهُ أَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطَانُ بِنُصْبٍ وَّعَذَابٍ اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ هَذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّشَرَابٌ وَوَهَبْنَا لَه أَهْلَه وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَة مِّنَّا وَذِکْرٰی لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ وَخُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِه وَلاَتَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّه أَوَّابٌ
)
۔ "
اور ہمارے بندے ایوب کا ذکر کیجئے۔ جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا۔ شیطان نے مجھے تکلیف اور اذیت دی ہے ( ہم نے کہا ) اپنے پاؤں سے(زمین پر)ٹھوکر مارو! یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کیلئے ،ہم نے انہیں اہل و عیال دیئے اور اپنی خاص رحمت سے ان کے ساتھ اتنے ہی اور دے دیئے اور عقل والوں کے لئے نصیحت و عبرت قرار دی۔ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو تھام لو اسے مارو اور قسم نہ توڑ وبتحقیق ہم نے انہیں صابر پایا وہ بہترین بندے تھے بے شک وہ (اپنے رب کی طرف) رجوع کرنے والے تھے۔" (ص : ۴۱ تا ۴۴) حضرت ایوب کی حیران کن زندگی صبر و استقامت کی اعلیٰ مثال تھی ان کی زوجہ محترمہ کا بے مثال ایثار مشکلات میں گھرے ہوئے انسانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ حضرت ایوب کی فراوان دولت، کھیتیاں، بھیڑ بکریاں اور آل و اولاد سب ختم ہو گئے اور وہ نان جویں کے محتاج ہو گئے، رشتہ دار اور دوست و احباب اور ماننے والے سب چھوڑ گئے وہ تن و تنہا اپنی پردہ دار زوجہ ،نبی کی بیٹی زوجہ کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ایسی کہ زوجہ لوگوں کے گھروں میں کام کاج کر کے گذر بسر کرتی رہی اور پھر دوسری طرف شماتت اعداء کا ہجوم تھا۔ حضرت ایوب سے پادریوں کا ایک وفد ملا اور کہنے لگا جناب ایوب ! لگتا ہے آپ سے کوئی بہت بڑا گناہ ہوا ہے حالانکہ حقیقت یہ تھی ایوب صابر و شاکر تھے اللہ نے ان کی بہت تعریف کی تو شیطان نے کہا جب ایوب کے پاس سب کچھ موجود ہے تو وہ صبر و شکر نہ کرے تو کیا کرے؟ بات تو تب ہے جب کچھ نہ ہو تو پھر صبر کرے۔ امتحان شروع ہوا سب کچھ ختم ہو گیا ۔یکہ و تنہا ، بے یار و مددگار، مریض اور لاچار ہو گئے لیکن کیا کہنا عظمت زوجہ کا کہ انہوں نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ مزدوری کی زحمت اٹھائی۔ایک دن کسی حکیم نے کہا میں دوا دیتا ہوں ٹھیک ہو جائیں گے لیکن ایک شرط ہے۔ آپ کو کہنا ہو گا کہ مجھے حکیم نے شفا دی ہے ان کی بیوی نے ہاں کر دی حضرت ایوب نے بہت برا منایا اور سزا دینے کی قسم کھا لی۔ اب جب مصائب کا تلاطم ختم ہوا اور نصمات لوٹ آئیں تو قسم پوری کرنے کا مسئلہ پیدا ہوا خدا نے فرمایا : ایسی بے مثال زوجہ توکسی کو نصیب نہیں ہوئی اس بے چاری کی اس قدر خدمات ہیں اس کے باوجود تم سزا کا سوچ رہے ہیں ہرگز نہیں بلکہ اللہ کا نام سب سے بڑا ہے تم جھاڑو لے لو اور اسے سزا کا آلہ قرار دو تاکہ قسم نہ ٹوٹے اور بات بھی پوری ہو جائے۔ ایوب نبی تھے صابر تھے عبد خاص تھے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے ان تمام صفات کے ساتھ وہ نبی تھے۔ کیا کہنا زوجۂ ایوب کا (عورت کی عظمت ) کہ سب چھوڑ گئے لیکن اس کا ایثار اور اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں آئی اسی لئے کہا گیا کہ اے مرد زوجہ کی اچھائی پورے گھر کو جنت میں بدل دیتی ہے عورت کی ذہانت اور اخلاق سے تیرا گھر جنت بن جاتا ہے تو بھی اچھا رہے عورت بھی اچھی رہے جبکہ آج کے زمانے میں برا گھر ہی تیرے لئے جنت بنا ہوا ہے۔ ۷ ۔ مادر موسیٰ۔ ۸ ۔ خواہر موسیٰ۔
آسیہ زوجہ فرعون
قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ایک سو اکیس مرتبہ ہوا۔ ان کے مفصل واقعات ہیں جنہیں میں کئی حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ولادت کا مخفی ہونا ، بعد از ولادت کے واقعات جس میں موسیٰ کی والدہ کا کردار، صبر و استقامت، بہن کا کردار، جدت و ہوشیاری کے ساتھ اس صندوق کا تعاقب جس میں حضرت موسیٰ سوئے ہوئے تھے اور پھر جناب آسیہ کا کردار جس نے فرعون کے دل میں ان کی محبت ڈالی اسے راضی کیا اور پھر اپنے گھر میں بہترین انداز سے موسیٰ کی پرورش کی۔ خوف کی حالت میں مصر سے روانگی اور مَدْیَنِ آمد، شادی و تزویج ، خدمت حضرت شعیب۔ شعیب جیسی بہترین شخصیت کا سہارا ثابت ہوئی۔ شادی ہو گئی کام مل گیا اور با عزت زندگی بسر ہونے لگی۔ ۳ ۔ مدین سے مصر واپسی ، نبوت کا اعلان ، فرعون سے تخاطب، جادوگروں کا واقعہ اور اس میں کامیابی اور عصا کے معجزات۔ ۴ ۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد قوم میں تبلیغ ، ان میں وحدت قائم رکھنا ، قوم کی ریشہ دوانیاں اور پھر عذاب کی مختلف صورتیں۔ ظاہر ہے سب کا تذکرہ تو ہمارے اس مختصر سے رسالہ میں مشکل ہے صرف بعد از ولادت کے چند واقعات کو آیات قرآن کی حدود میں رہتے ہوئے ذکر کریں گے۔ ارشاد رب العزت ہے :
(
وَأَوْحَیْنَا إِلٰی أُمِّ مُوْسَیٰ أَنْ أَرْضِعِیْهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَأَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَلاَتَخَافِیْ وَلَاتَحْزَنِیْ إِنَّا رَادُّوْهُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ
)
۔
" ہم نے مادر موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو دودھ پلالو اور جب اس کے بارے میں خوف محسوس کرو تو اسے دریا میں ڈال دو اور بالکل رنج و خوف نہ کرنا کریں ہم اسے تمہاری طرف پلٹا نے والے ہیں اور اسے پیغمبروں میں شامل کرنے والے ہیں۔
(
وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَیٰ فَارِغًا إِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِه لَوْلَاأَنْ رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِهَا لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَقَالَتْ لِأُخْتِه قُصِّیْهِ فَبَصُرَتْ بِه عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَایَشْعُرُوْنَ وَحَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ أَدُلُّکُمْ عَلٰی أَهْلِ بَیْتٍ یَّکْفُلُوْنَه لَکُمْ وَهُمْ لَه نَاصِحُوْنَ فَرَدَدْنَاهُ إِلٰی أُمِّه کَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَلاَتَحْزَنْ وَلِتَعْلَمَ أَنَّ وَعْدَ الله حَقٌّ وَّلٰکِنَّ أَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُوْنَ
)
"ادھر مادر موسیٰ کا دل بے قرار ہو گیا قریب تھا کہ راز کو فاش کر دیتی اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا کہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائے۔ اور مادر موسیٰ نے ان کی بہن (کلثوم)سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ موسیٰ کو (دور سے) دیکھتی رہی کہ دشمنوں کو اس کام پتہ نہ چل جائے اور ہم نے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں کے دودھ کو پہلے سے حرام قرار دیا تھا چنانچہ موسیٰ کی بہن نے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ دوں جو اس بچے کو تمہارے لئے پالیں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں۔ " (قصص: ۱۰ تا ۱۴) موسی ٰ کے پیدا ہوتے ہی دایہ نے چاہا کہ حکومت کو خبر کر دوں کہ بچے کے نور کی چمک سے اس بچہ کی محبت پیدا ہو گئی دایہ نکلی تو حکومتی افراد گھر میں داخل ہوئے ماں نے موسیٰ کو تندور میں ڈال دیا۔ حکومتی افراد کے جانے کے بعد بچے کے رونے کی آواز آئی دیکھا کہ آتش تندور سلامتی او برد بن چکی تھی صندوق بنایا گیا بہن ساتھ چلی ماں نے آخری بار دودھ پلا کر نیل کی موجوں کے سپرد کر دیا۔ فرعون اور اسکی ملکہ دریا کے کنارے محل میں موجود دریا کا نظارہ کر رہے ہیں صندوق نظر آیا تو حکم ہوا کہ فوراً جائیں اور صندوق لے کر آئیں۔ حضرت موسیٰ کی نجات کے لیے صندوق کا ڈھکنا کھولا گیاملکہ نے بچہ دیکھا تو اس کی محبت نے دل میں گھرکر لیا۔
(
وَقَالَتِ امْرَأَة فِرْعَوْنَ قُرَّة عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ لاَتَقْتُلُوْهُ عَسٰی أَنْ یَّنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَه وَلَدًا وَّهُمْ لاَیَشْعُرُوْنَ
)
۔
"اور فرعون کی زوجہ نے کہا یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو ممکن ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ (انجام سے )بے خبر تھے۔ " (قصص: ۹) اللہ کی عجیب قدرت ہے کہ آسمان و زمین کے لشکروں سے کسی قوم کو نیست و نابود کر دے یا خود مستکبرین کے ہاتھوں برباد ی کاسامان ظہور پذیر ہو۔ موسیٰ کی دایہ قبطی دریا سے نکالنے والے، متعلقین فرعون ڈھکنا کھولنے والا فرعون اور پھر موسیٰ غلبہ و اقتدار، موسیٰ جوان ہو گئے، بازار میں دو آدمیوں کو لڑا ئی کرتے دیکھا ایک کے مدد طلب کرنے پر دوسرے کو جان لیوا مکا مارا، اب مخفیانہ طور پر مصر کو چھوڑ کر چلے۔
(
وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسَیٰ رَبِّیْ أَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَاءَ السَّبِیْلِ وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ أُمَّة مِّنْ النَّاسِ یَسْقُوْنَ وَوَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَأَتَیْنِ تَذُوْدَانِ قَالَ مَا خَطْبُکُمَا قَالَتَا لَانَسْقِیْ حَتّٰی یُصْدِرَ الرِّعَاءُ وَأَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ فَسَقیٰ لَهُمَا ثُمَّ تَوَلَّی إِلٰی الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ إِنِّی لِمَا أَنزَلْتَ إِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیرٌ فَجَائَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِیْ عَلَی اسْتِحْیَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ أَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا فَلَمَّا جَائَه وَقَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَاتَخَفْ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ
)
۔
"اور جب موسیٰ نے مدین کا رخ کیا اور کہا کہ اب پروردگار مجھے سیدھے راستے کی ہدایت فرمائے گا اور جب وہ مدین کے کنویں پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت اپنے جانوروں کو پانی پلا رہی ہے اور دیکھا کہ ان کے علاوہ دو عورتیں اپنے جانور لیے ہوئے کھڑی ہیں موسیٰ نے کہا کہ آپ دونوں کا کیا مسئلہ ہے؟ وہ دونوں بولیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کرواپس نہ چلے جائیں ہم پانی نہیں پلا سکتیں اور ہمارے والد بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ موسیٰ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا یا پھر سایہ کی طرف ہٹ گئے اور کہا کہ پالنے والے جو چیزیں تو مجھ پر نازل کرتا ہے میں اس کا محتاج ہوں پھر ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک حیا کے ساتھ چلتی ہوئی موسیٰ کے پاس آئی کہنے لگی میرے والد تم کو بلا رہے ہیں تاکہ تم نے جو ہمارے جانوروں کو پانی پلا یا ہے تمہیں کو اس کی اجرت دیں جب موسیٰ ا ن کے پاس آئے اور اپنا سارا قصہ انہیں سنا یا تو وہ کہنے لگے خو ف نہ کرو تم اب ظالموں سے نجات پا چکے ہو۔" (قصص: ۲۲ تا ۲۵ )