اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق0%

اسلامی اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں
صفحے: 296

اسلامی اخلاق

مؤلف: احمد دیلمی ومسعود آذر بائیجانی
زمرہ جات:

صفحے: 296
مشاہدے: 5254
ڈاؤنلوڈ: 449

تبصرے:

اسلامی اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 5254 / ڈاؤنلوڈ: 449
سائز سائز سائز
اسلامی اخلاق

اسلامی اخلاق

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

اسلامی ا خلاق

مولف: احمد دیلمی ومسعود آذر بائیجانی

shianet.in

۳

پہلا باب : اخلاق کے اصول

پہلی فصل: کلّیات

علم اخلاق کیا ہے ؟ اس کا موضوع اور ہدف کیا ہے؟ دوسرے علوم سے اس کا کیا رابطہ ہے؟اخلاق کی تعلیم کیوں ضروری ہے ؟ مسلمان علماء کے درمیان موجود اخلاقی نظریات اور اُن کے طریقوں کی قسمیں کون سی ہیں؟

یہ وہ اہم سوالات ہیں جو علم اخلاق کے مسائل شروع ہوتے ہی ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ان کا مناسب اور شائستہ جواب نہ صرف اس علم کے موضوع، حدود اور مقام و منزلت کے واضح ہونے کا سبب بنے گا بلکہ ہماری امیدوںکی اصلاح کے ساتھ بہت سے ایسے شبہات اور ابہامات کو بڑھنے سے روک سکتا ہے جو ممکن ہے بعد کی بحثوں میں سامنے آسکتے ہیں۔

الف۔ علم اخلاق سے واقفیت

علم اخلاق کی ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل نکات اور مفاہیم کا واضحہونا ضروری ہے:

١۔ لفظ اخلاق کا لغوی مفہوم

اخلاق خُلق کی جمع ہے جس کے معنی انسان کی باطنی قدرت اور عادت کے ہیں، جسے باطنی آنکھوں سے نہیں بلکہ چشم بصیرت سے درک کیا جا سکتا ہے یہ(خُلق) خَلق کے مقابلہ میں ہے جو ظاہراً قابل حس و درک شکل وصورت کے معنی میں ہے اور ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے قابل ہے۔(١)

اسی طرح خُلق کو واضح و پائیدار نفسانی صفت بھی کہتے ہیں کہ انسان اپنی صفت کے مطابق بغیر کسی تاخیر کے اعمال کو انجام دیتا ہے۔مثلاً اگر کوئی انسان شجاع ہے تو وہ اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے میں شش وپنج میں نہیں پڑتا۔ یہ باطنی وراسخ وثابت حالت، ممکن ہے کسی انسان میں طبیعی، ذاتی و فطری طور پر پائی جاتی ہو جیسے کوئی

____________________

١۔ اصفہانی، راغب: معجم مفردات الفاظ قرآن، ص: ١٥٩۔

۴

جلدی غصہ میں آجاتا ہے یا معمولی بات پر خوش ہو جاتا ہے۔خُلق پیدا ہونے کے دوسرے عوامل واسباب وراثت، تمرین و تکرار ہیں۔ مثلاًیہ کہ کوئی پہلے شجاعت والے کاموں کو تردّد اور تذبذب کی حالت میں انجام دیتا ہے پھر تمرین کی وجہ سے تدریجاً اس کے اندر شجاعت کی پائدار صفت اس طرح وجود میں آجاتی ہے کہ اُس کے بعد کسی جھجک کے بغیر شجاعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔(١)

یہ باطنی و نفسانی راسخ صفت ممکن ہے '' فضیلت'' یعنی اچھی خصلتوںکا سبب قرار پائے اور ممکن ہے ''رذیلت '' یعنی برائی اور بدکرداری کی ہو جائے۔بہر حال اُسے خُلق کہا جاتا ہے۔

٢۔علم اخلاق کی تعریف

اسلامی علوم میں علم اخلاق کے مستند و معروف اور سب سے اصلی منابع کی طرف رجوع کرنے سے اور قرآن واحادیث میں اس کے استعمال کے مقامات پر دقت کرنے سے علم اخلاق کی تعریف اس طرح بیان کی جاسکتی ہے: علم اخلاق وہ علم ہے جو ا چھی ا و ر بری نفسانی صفات اور ان کے مطابق اختیاری اعمال و رفتار کو بیان کرتا ہے اور ا چھی نفسانی صفات کو حاصل کرنے، پسندیدہ اعمال کو انجام دینے اور بری نفسانی صفات اور نا پسندیدہ اعمال سے پرہیز کرنے کے طریقوں کو بتاتا ہے۔(٢)

اس تعریف کی بناء پر علم اخلاق ا چھی ا و ر بری صفات کے بارے میںگفتگو کرنے کے علاوہ ان کے مطابق انجام پانے والے اعمال و رفتار کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔ اس کے علاوہ نفسانی یا عمل فضائل تک پہنچنے اور برائیوں سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے۔

اس طرح علم اخلاق کے موضوع کو یوں بیان کیا گیا ہے: اچھی اور بری صفات اور اعمال، اس وجہ سے کہ انسان کے لئے ان کا حاصل کرنا اور انجام دینا یا ترک کرنا ممکن ہو۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: ابن مسکویہ: تہذیب الاخلاق و طہارة الاعراق، ص: ٥١۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج: ١، ص: ٢٢۔

٢۔ رجوع کیجئے: ابن مسکویہ: تہذیب الاخلاق، ص ٢٧، طوسی۔ خواجہ نصیر الدین: اخلاق ناصری: ص ٤٨۔ نراقی، محمد مہدی: جامع السعادات، ج ١، ص ٢٦، ٢٧۔ صدر الدین شیرازی: الاسفار الاربعة، ج ٤، ص ١١٦، ١١٧۔

۵

چونکہ انسان کے ا چھے اور برے صفات اور اس کے طرز عمل کی بازگشت اس کی جان و روح سے وابستہ ہے اس لئے بعض اخلاقی دانشوروں نے انسانی نفس کو علم اخلاق کا موضوع قرار دیا ہے۔(١) علم اخلاق کا آخری ہدف یہ ہے کہ انسان کو اس کے حقیقی کمال و سعادت تک پہنچائے کہ یہی کائنات اور انسان کی خلقت کا اصلی مقصد ہے. اس کمال و سعادت کی واقعی تفسیر اور اس کا محقق ہونا، اس بات میں ہے کہ انسان اپنی استعداد اور ظرفیت کے مطابق، نفسانی صفات اور کردارمیں الٰہی اسماء اور صفات کا مظہر بن جائے تاکہ جہاں پوری طبیعی دنیا کسی ارادہ کے بغیر، خدا کے جمال وجلال کی تسبیح میں مشغول ہے، وہیںانسان اپنے اختیار اور اپنی آزادی کے ساتھ سب سے زیادہ گویا، مقرب اور مکمل الٰہی مظہر بن کر سامنے آجائے۔

٣۔ اخلاق کا فلسلفہ

اخلاقی گفتگو میں قبل اس کے کہ ا چھی ا و ر بری صفات و اعمال کے مصادیق کو معین کیا جائے اور ان کو حاصل کرنے یا ان سے پرہیز کرنے کے طریقوں کو بیان کیا جائے، بعض ایسے بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں جو دوسرے اخلاقی مباحث پر مقدم ہیں اور مخصوصاً عقلی ماہیت رکھتے ہیں۔ اُن میں سے کچھ سوالات مندر جہ ذیل ہیں:

''اچھے'' اور' 'برے '' جیسے الفاظ اور عناوین کا مفہوم کیا ہے ؟

اخلاقی مفاہیم کی ماہیت و حقیقت کیا ہے ؟

اخلاقی قضیوں کی زبان، انشائی ہے یااخباری ؟

صحیح یا غلط اخلاقی قضیوں کا مبدأ اور معیار کیا ہے ؟

کسی اچھی یا بری صفت یا رفتار کا معیار کیا ہے ؟

آیااخلاقی قضیے مطلق (عالمی اور دائمی) ہیں یا نسبی(زمانی و مکانی ہیں) ؟

اخلاقی ذمہ داری کی حدیں اور شرطیں کیا ہیں ؟

اخلاقی مباحث وتحقیقات کا وہ حصہ جو اِن بنیادی سوالوں کا جوابدہ ہے اسے فلسفۂ اخلاق کہتے ہیں۔ اگر چہ اس کے مباحث کی ماہیت حتمی اور ہمیشہ عقلی نہیں ہوتی ہے، خاص طور سے فلسفۂ اخلاق کے جدید مکاتب فکر میں زبان و ادب کے لحاظ سے بھی (پہلے سوال کے مانند) گفتگو ہوتی ہے۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: نراقی، محمد مہدی، جامع السعادات، ج ١، ص ٢٦۔

۶

٤۔ اخلاقی تربیت

لغت میں تربیت کے معنی کسی شئے کی صلاحیتوں کو پرورش دینا ہے۔یہ صلاحیتیں ممکن ہے جسمی و مادّی، علمی و عقلی ہوں اور ممکن ہے وہ قابلیتیں اخلاقی ہوں۔

اخلاقی تربیت سے مراد، پسندیدہ اخلاقی صفات و کردار کے حصول میں باطنی صلاحیتوں کو پرورش دینا، بلند اخلاقی فضائل کو حاصل کرنا اور برائیوں سے پرہیز اور ان کو نابود کرنا ہے۔اس بناء پر تربیت اخلاقی کا اہم کام، اخلاقی صلاحیتوں کو پیدا کرنا اور اخلاقی کمالات تک پہونچنا ہے۔ جبکہ علمی تربیت میں اصل مقصد علمی قابلیتوں کی پرورش کرنا اور اس کے اعلیٰ مراتب کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔اس بناء پر انسان کو ایک آلہ اور وسیلہ کی حیثیت دیکھاجاتا ہے۔

اخلاقی تربیت کا ربط علم اخلاق کے ایک اہم حصے سے ہے اور چونکہ اس کی اکثر باتیںعمل سے متعلق ہیں لہٰذا اس حصہ کو کبھی اخلاق عملی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں اخلاقی مباحث کا وہ حصہ جو اخلاقی لحاظ سے اچھائیوں اوربرائیوں کی تعریف کرتا ہے اُسے کبھی اخلاق نظری کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

۷

ب۔ علم اخلاق اور دوسرے علوم

علم اخلاق بھی دوسرے علوم کی طرح بعض موجودہ علوم سے مربوط ہے۔ہم یہاں دوسرے علوم پر علم اخلاق کے اثر اور اس سے مربوط بعض علوم جیسے علم فقہ، عرفان عملی و علوم تربیتی کا ایک جائزہ پیش کریں گے۔

١۔ علم اخلاق اور فقہ

علم فقہ مکلّف انسان کے اعمال و رفتار کے بارے میں دو جہت سے بحث کرتا ہے:

الف۔ اُخروی آثار کے لحاظ سے یعنی ثواب وعقاب کے لحاظ سے، جو واجب و حرام جیسے عناوین کے تحت بیان ہوتے ہیں۔

ب۔ دنیاوی آثار کے لحاظ سے جس میں صحیح و باطل جیسے عناوین کے تحت گفتگو ہوتی ہے۔

فقہ کی پہلی قسم کے احکام کی حیثیت اخلاقی ہے اور ان میں سے بہت سے علم اخلاق سے مربوط ہیں۔

۸

فقہ کی دوسری قسم کے احکام کا ربط علم اخلاق سے نہیں ہے، ان کی حیثیت صرف فقہی اور حقوقی ہے۔(١)

٢۔ علم اخلاق اور حقوق

علم حقوق کا موضوع، معاشرے کے لئے وہ لازم الاجراء قوانین ہیں جنہیں حکومت پیش کرتی ہے اور وہ اس کی ذمہ دار ہے۔ اس بناء پر علم حقوق کا ربط فقط انسان کی اجتماعی و دنیاوی زندگی سے ہے اور اس کے سارے قوانین سب کے لئے ہوتے ہیں اور ان کا اجراء دنیاوی فلاح کے لئے ہوتا ہے۔ جبکہ علم اخلاق کا ربط، انسان کی فردی زندگی سے بھی ہوتا ہے اور اس پر عمل کرنا ضروری بھی نہیں ہوتا۔اس طرح اخلاق کا ربط، فردی و اجتماعی زندگی سے بھی ہے اور اس میں بعض پر عمل ضروری اور بعض پر عمل ضروری نہیں ہوتا ہے ۔ وہ اخلاقی احکام جن کی حقوقی حیثیت نہیں ہوتی۔(٢)

اور اُن میں دنیاوی فائدے بھی نہیں ہوتے وہ پاکیزگی ٔ نفس کے لئے اور اُخروی لحاظ سے لازم الاجرء ہوتے ہیں۔

علم اخلاق اور حقوق میں فرق ہونے کے باوجود دونوں میں یگا نگت بھی پائی جاتی ہے۔ ایک طرف حقوق عدالت اجتماعی کے اجراء میں جس کا شمار بلند اخلاقی اقدار میں ہوتا ہے، اخلاق کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے تو دوسری طرف علم اخلاق، اخلاقی خوبیوں کی ترویج اور برائیوں سے مقابلہ کر کے معاشرے کو پاک و پاکیزہ بناتا ہے۔ اس طرح یہ معاشرے میں نظم و ضبط اور عدالت برقرار کرکے علم حقوق کا بہترین معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دونوں میں سے کسی ایک کا بھی نہ ہونا معاشرے کے لئے بہت زیادہ نقصاندہ ہے۔

٣۔ علم اخلاق اورعرفان عملی

عرفان ایک علمی اور ثقافتی نظام ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں: نظری اور عملی۔عرفان نظری کا رابطہ ہستی (وجود)، یعنی خدا، دنیا اور انسان سے ہے۔ عرفان کی یہ قسم فلسفہ سے زیادہ مشابہ ہے۔ عرفان عملی، خدا، دنیا اور خود سے

____________________

١۔ البتہ کبھی کبھی اُن احکام کو جن پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے مثلاً مستحب و مکروہ، احکام اخلاقی یا آداب کہا جاتا ہے اور فقہ میں ان کے شامل ہونے کا معیار حکم کا لازم ہونا مانا جاتا ہے۔ یہ استعمال صرف ایک خاص اصطلاح ہے اور عام طور پر اس کا واسطہ اخلاق سے نہیں ہے۔

٢۔غیر مذہبی حقوقی نظام میں حقوق کو اخلاق کے مقابل قرار دیاگیا ہے اور اُن دونوں کے لئے مشترک حدود اور موضوعات کے قائل نہیں ہیں۔ لیکن اسلامی حقوقی نظام میں بعض اجتماعی زندگی کے طریقے، اخلاقی ماہیت بھی رکھتے ہیں اور حقوقی ماہیت بھی۔جس کے نتیجہ میں وہ حقوقی حکم اور اجراء کی ضمانت بھی رکھتے ہیں، جیسے چوری اورقتل۔

۹

انسان کے رابطے اور ان کے فرائض کوبیان کرتا ہے۔ عرفان کی یہ قسم جس کو سیر و سلوک کا علم بھی کہتے ہیں، علم اخلاق سے زیادہ مشابہ ہے۔ عرفان عملی میں گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ سالک کو انسانیت کی معراج (توحید) تک پہنچنے کے لئے کہاں سے آغازاور کن منزلوں کو ترتیب سے طے کرنا چاہئے اور اس سفر کی منزلوں میں کون سے حالات، اس سے روبرو ہوسکتے ہیں اور اس کے سامنے کون سے واقعات پیش آئیں گے۔ البتہ یہ تمام مراحل اس کامل اور تجربہ کار انسان کے زیر نظر ہوں جو خود اس سفر کو طے کر چکا ہو اور ان منزلوں کے قاعدے اور قانون سے آگاہ ہو اور اگر انسان کامل کی رہنمائی ہمراہ نہ ہو تو گمراہی کا خطرہ ہے۔(١)

اس طرح عرفان عملی کی بحثیںخاص طور پر اخلاقی تربیت اور معنوی مقامات تک پہنچنے کے طریقوں اور وسیلوں کے ارد گرد گھومتی ہیںاور حقیقت میں یہ مسئلہ علم اخلاق کے اصلی موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔

٤۔علم اخلاق اور تربیتی علوم

تربیتی علوم، علم نفسیات کے نتیجوں سے بہرہ مند ہو کر اور انسان کے سلیقوں پر حاکم قوانین کوپہچنواکر اور اُن فارمولوں سے آگاہی کی کوشش کر کے جو انسان کے عمل اور رد عمل کے دائر ہ میں ہیں، شکل اختیار کرتے ہیں اور علمی، اخلاقی و فنی مہارتوں کی قابلیتوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لئے وسائل امکانات فراہم کرتے ہیں اور اگر ان کی توجہ اخلاقی عوامل پر ہے تو ان کی اُن عاملوں پر نظر وسیلہ اور آلہء کار کی حثیت رکھتی ہے اور چونکہ اخلاقی فضیلتوں کی وجہ سے تربیتی مرحلوں کو طے کرنے میں مدد ملتی ہے، لہٰذا اُن پر بھی توجہ کر تے ہیں۔(٢)

اگر چہ علم اخلاق اس سے بلند ہے کہ اس کو تربیت کے ایک وسیلہ کے عنوان سے پہچنوایا جائے لیکن بعض اخلاقی حدود میں علم اخلاق اور تربیتی علوم (دونوں) حدود اور مسائل میںاخلاق علمی کے مانندمشترک ہیں۔

علم اخلاق اس (اخلاق علمی کے) دائرہ میں بھی، اصل علم وموضوع اور متعلقات پر اخلاقی نظر رکھتا ہے اور معلم وشاگرد کے مقاصد کو بھی اخلاقی لحاظ سے منظم کرتا ہے اور ساتھ ہی ان کے ایک دوسرے سے متعلق رابطوں کو، اخروی معیار کے مطابق مستحکم کر تا ہے۔ علو م تربیتی کی تربیت کر نے والے ان اخلاقی فارمولوں سے اور علم نفسیات کی معلومات نیز، خطا و آزمائش کے نتیجوں سے بہرمند ہوکر اپنے بلند اور قیمتی اہداف تک تیزی سے اور آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: شہید مطہری، مرتضیٰ: آشنائی باعلوم اسلامی (عرفان) ص: ١٨١، ١٨٦۔

٢۔ تعلیم وتربیت کی تعریف اور ماہیت کے سلسلہ میں مجموعی نظریات سے زیادہ معلومات حاصل کر نے کے لئے''فلسفہء تعلیم وتربیت، دفتر ہمکاری حوزہ ودانشگاہ، جلد اول، بخش دوم، ، کی طرف رجوع کیجئے۔

۱۰

ج۔ اخلاق سے متعلق نظریات

اخلاق کے بارے میںمسلمانوں کے درمیان خاص طور سے علمائے علم اخلاق کے درمیان تین نظریات پائے جاتے ہیں ابتداء میں اِن تین نظریوں کے بارے میں اجمالی طور پر گفتگو کی جائے گی پھر ان میں مورد قبول نظریہ کو پیش کیا جائے گا۔

١۔فیلسوفوں کا نظریۂ اخلاق

اس مکتب فکر کے افراد، افراط و تفریط کے مقابلہ میں جو رذائل اخلاقی میں سے ہیں، اخلاقی فضائل کے لئے حد اعتدال کو اختیار کرتے ہیں اور خوبی و بدی کے لئے اسی کو کسوٹی قرار دیتے ہیں۔اس بناء پر چونکہ انسان کے عمل کا سرچشمہ نفسانی قوتیں ہیں لہٰذا اس کے اعمال و کردار باطنی قوتوں میں اعتدال یا عدم اعتدال سے مربوط ہیں اس بناء پر اس مکتب میں قوائے نفسانی میں اعتدال اور اس میں افراط وتفریط سے بحث ہوتی ہے اور تمام دینی اخلاقی باتوں کو اسی معیار پر پیش کیا جاتا ہے۔ تربیت اخلاقی کے بارے میں یہ مکتب نفسانی قوتوں میں اعتدال کی نصیحت کرتا ہے ۔ ابن مسکویہ کی تہذیب الاخلاق و طہارت الاعراق، نصیر الدین طوسی کی اخلاق ناصر ی اور کافی حد تک جامع السعادات، تصنیف مولیٰ محمد مہدی نراقی اسی مکتب ونظریہ کی بنیاد پر لکھی گئی ہیں۔

اعتدال کی توضیح کے سلسلہ میں موجود مشکلوں کی وجہ سے نیز اخلاق کے تمام مفاہیم کی تفسیر میں جامعیت کے نہ ہونے کی بناء پر یہ مکتب تنقید کا شکار ہوا ہے اور چونکہ یہ موضوع علمی اور بہت زیادہ خشک ہے لہٰذا علماء اور فلاسفر کو چھوڑ کر عوام کے درمیان رائج نہ ہو سکا۔(١)

٢۔ عارفوں کا نظریۂ اخلاق

یعنی وہ اخلاق جس کو رائج کرنے والے صوفی اور عرفاء تھے۔اس طرح کے اخلاق نے جس کازیادہ دار ومدار اخلاقی تربیت اور سیر سلوک پر ہے، ایک تربیتی نظام کو رائج کرنے اور اس کے آغاز وانجام و مراحل کے علاوہ

____________________

١۔ استاد مطہری، مرتضیٰ: تعلیم وتربیت در اسلام، ص: ٢٠٠۔

۱۱

اس راہ پر چلنے کے لئے ضروری وسیلوں کو معیّن کرنے پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ عارفانہ اخلاق کا محور (اصل مقصد) نفس سے جنگ وجہاد کرنا ہے۔پرہیز گار عارفوں کی ہمیشہ یہ کوشش تھی کہ اپنے اعمال و کردار کو شریعت کے ظاہر و باطن کے مطابق قرار دیں اور اس سلسلہ میں اُنھوں نے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ان لوگوں نے اسی طرح دل اور محبت کی قدرت پر زور دے کر اور اشعار کی نفوذی زبان سے استفادہ کر کے اور تشبیہات واستعارات وکنایات کو استعمال کر کے لوگوں کے درمیان زیادہ مقبولیت حاصل کر لی ہے۔خواجہ عبداﷲ انصاری کی لکھی ہوئی کتاب ''منازل السائرین، ، اور بہت سے معنوی وعرفانی مضامین والے فارسی اشعار کے معتبر دیوان جیسے مولوی کی مثنوی معنوی اور عطار نیشاپوری کی منطق الطیر اسی طرح کے اخلاق کو بیان کرتی ہیں۔

اس نظریۂ اخلاق میں بھی متعدد نظریات پائے جاتے ہیں۔اس مکتب کا تنقیدی جائزہ اور اس کی قدر وقیمت کو طے کرتے وقت ضروری ہے کہ اس بات پر بھی توجہ کی جا ئے کہ اُن نظریات کو بطور کلی تقسیم کر نے پراُن کے دو گروہ بنتے ہیں:

پہلا گروہ: وہ نظریات جو معنوی سلوک میں اصولی طور پر شریعت کی پابندی کو ضروری نہیں جانتے یا مختصر مدت اور ایک خاص مرحلہ تک ہی لازم مانتے ہیں۔

دوسرا گروہ: وہ نظریات جو شرعی احکام کی پابندی کو بلند معنوی مقامات تک پہنچنے کے لئے تنہا راستہ اور اسے ہمیشہ ضروری جانتے ہیں۔

پہلے گروہ کی قدر وقیمت کا اگر اندازہ لگایا جائے توکہا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ ایک طرح سے نفس سے جنگ کرنے

میں افراط کا شکار ہوگئے اور اخلاق اسلامی کو زندگی سے موت کی طرف لے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اخلاق میں غور و فکر کی اہمیت کو بھی کافی حد تک فراموش کرچکے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ لوگ ایسی تعلیمات سے نزدیک ہو گئے ہیں جو قرآن وسنت کے بر خلاف ہے مثلاًخود پرستی (تکبر) اور نفس سے جہاد کے بہانے، نفس کی عزت اور کرامت کو فراموش کر دیا ہے۔

۱۲

حالانکہ اخلاق اسلامی میں نفس کی شرافت و کرامت نہ صرف ایک اخلاقی فضیلت ہے(١) بلکہ اسے حاصل کرنا اور تقویت پہنچانا تربیت کا خود ایک طریقہ ہے۔(٢)

لیکن عرفانی نظریہ کے دوسرے گروہ والے جو شریعت سے وفاداری کو اپنی تعلیم کے لئے سرِ لوح (بنیاد) اور لازم قرار دیتے ہیں، معنوی سفر کے قاعد وں کو منظم کرنے اوراُن کے مبدأ و مقصد اور اس سفر کے مرحلوں کو معین کرنے سے حاصل نتیجوں کواور ان قدرتمند عناصر (جیسے محبت، ذکر، معنوی بلندی کے لئے نظارت) کے استعمال کر نے کی کیفیتوں کو جو اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں بہت ہی کار آمد و مفید ہیں، اپنے ہمراہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ اِن تمام امور کو قرآن و روایات کے مطابق جانتے ہیں۔ تربیت کے ان جذاب نتیجوں کو اخلاق اسلامی کے توصیفی مباحث کے ہمراہ کرنا اسلام کے اخلاقی نظام کے لئے مفید ثابت ہوگا۔

٣۔اخلاق نقلی(٣)

یعنی وہ اخلاق جسے محدثین نے اخبار واحادیث کو نقل ونشر کر کے لوگوں کے در میان بیان کیا ہے اور اس طرح اسے وجود میں لائے ہیں۔(٤)

اس نظریہ میں اخلاقی مفاہیم کو کتاب وسنت کی بنیاد پر بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ عمل اُن مفاہیم پر حاکم، واقعی تربیت اور ان کے درمیان پائی جانے والی مناسبتوں پر کافی و وافی توجہ کے بغیر ہوتا ہے۔ اس طرح کے متن اکثر اخلاقی مفاہیم کی توصیف کو اپنا مقصد قرار دیتے ہیں اور ان کی بنیادوں اور عملی نمونوں پر کم توجہ دیتے ہیں۔ اس بناء پر (اس نظریہ میں ) اخلاق کی ابتداء و انتہا مخصوصاً اخلاقی تربیت زیادہ واضح نہیں ہے۔ اس اخلاقی روش میں ایسی کوئی چیز نظرنہیں آتی ہے جس کی بناء پر اسے ایک اخلاقی نظام کہا جاسکے اور جو اخلاق کی بنیادی بحثوں کو بھی شامل کئے ہو اور تربیتی و توصیفی بحثوں کو بھی عقلی ترتیب کے لحاظ سے پیش کئے ہو۔اس روش پر لکھی ہوئی

____________________

١۔ (وَ لِلّٰهِ العِزَّةُ وَ لِرَسُولِه وَ لِلمُومِنین ) (سورہ: منافقون، آیت: ٨)۔

''وَلاَ تَکُن عَبد غَیرکَ وَ قَد جَعَلَکَ اﷲُ حُرّاً ، ، (نہج البلاغہ: نامہ٣١)۔

٢۔ مقدس اسلامی کتابوں میں مکارم اخلاق (مکارم یعنی بڑی خوبیاں) سے مراد یہی ہے۔

بعض روایتیں، جیسے''مَن کَرُمَت عَلَیه نَفسَه هَانَت عَلَیه شَهوَاته ، ،۔(نہج البلاغہ، حکمت: ٤٤١)۔

ایضاً: ''مَن هَانَت عَلَیه نَفسَه فَلَا تَمَن شَرَّه ، ،۔(تحف العقول، ص: ٤٨٣) اس بات کو بیان کرتی ہیں۔

٣۔ نقلی سے مراد آیات و روایات یا کسی کے قو ل کو نقل کرنا ہے۔٤۔ استاد مطہری، مرتضیٰ: تعلیم وتربیت در اسلام، ص: ٢٠١۔

۱۳

کتابیں، اخلاقی مواد و مطالب کے لحاظ سے غنی ہونے کے باوجود، شکل وصورت کے لحاظ سے مناسب ورضایت بخش نہیں ہیں۔محمد غزالی کی احیاء العلوم اور فیض کاشانی کی المحجة البیضاء جیسی کتابیں اس طرح کے اخلاقی مضامین کی ترجمانی کرتی ہیں۔

اس کتاب میں ایسا قابل قبول قاعدہ ہے جو تینوں مذکورہ طریقوں میں پائے جانے والے مثبت نکات کی ترکیب اور ان کا مجموعہ ہے۔اسی کے ساتھ اس قاعدہ میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ مذکورہ طریقوں میں پائی جانے والی کمیوں کو پورا کیا جائے۔ اس بناء پر اس قاعدہ میں اولاًیہ کوشش کی گئی ہے کہ حتی الامکان اخلاق اسلامی کو شکل ومضمون کے لحاظ سے منطقی و عقلی قاعدوں کی بنیاد پر بیان کیا جائے۔ثانیاًعارفوں کے نتیجوں اورتجربوں سے حتی المقدوراستفادہ کیا جائے اور ثالثاً اخلاقی فیصلوں کا معیار ہمیشہ قرآن و روایات کو قرار دیا جائے۔

اس روش میں کتاب خدا اور نبی اکرم اوراُن کے اہلبیت اطہار (ع) کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے جن خوبیوں کو گذشتہ اخلاقی طریقوں اور مکاتب میں شمار کیا گیا ہے، وہ سبھی موجود ہیں۔ اخلاق اسلامی میں وسعت کی بناء پر اصلی اخلاقی سوالوں کے جواب بھیملیں گے اور اس میں اخلاقی مفاہیم پر بحث بھی شامل ہوگی اور اسی کے ساتھ طریقۂ کار اور تربیت کے عملی طریقوں اور قوانین کی توضیح بھی کی گئی ہے۔ یہاں اسلامی مفاہیم پر ایک خاص نظام حاکم ہے۔ ہر مفہوم کی دوسرے مفاہیم سے نسبتوں پر اور اخلاقی نظام کے مجموعہ میں ان کی اہمیت پر بھی دقت کی گئی ہے۔ اخلاق تربیتی پر زیادہ توجہ کے ساتھ ہی مخاطبین کے شعور کی مناسبت سے راستوں اور وسیلوں کو پہچنوایا گیا ہے اور اس میں مبدأ و مقصد، درجات و مراتب کا بھی خیال کیا گیا ہے۔معر فت اور جہاد بالنفس پر خا ص توجہ کے ساتھ ہی انسان کی عزت و شرافت و بزرگی پر بھی تاکید کی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقی مفاہیم کو سمجھنے اور بیان کرنے اور عمل کی ترغیب کے لئے عقلی نتیجوں کو سامنے رکھ کر محبت و دوستی کو اس معنوی سفر کے لئے کامیاب اور نتیجہ تک پہنچانے والے وسیلہکے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

اس نظریہ کا وحی سے نسبت رکھنا اور اس کا شریعت کے مطابق ہونا اس کی جوہری خصوصیت ہے۔ اس کے باوجود، عقلی میزانوں، عرف و عقل کے مسلّم اصولوں، اور معنوی سفر میں پیش قدمی کرنے والے سچے لوگوں کے عملی تجربوں سے، نیز قرآن و سنت میں جو کچھ آیا ہے اسے سمجھنے، اس کی تفسیر، تطبیق و اجرا ء کر نے میں غفلت نہیں کی گئی ہے۔

۱۴

اس بناء پر اس مقبول اخلاقی نظریہ کی کچھ خاص خصوصیتوں کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔مباحث کا کتاب و سنت کے مطابق ہونا اور ان کے بر خلاف نہ ہونے کو واضح کرنا۔

٢۔ایسا جامع نظام پیش کرنے کی کوشش کرنا جو تمام اخلاقی سوالوں کا جواب دے سکے۔

٣۔ایک ایسی تفسیر پیش کرنا جو معتدل اور اخلاقی مفاہیم کے موافق ہو۔

٤۔ اخلاقی بحثوں کوعقلی لحاظ سے مطالعات کے تین حصوں (اصولی، توصیفی، ترتیبی ) میں تقسیم و ترتیب دینا۔

٥۔اخلاقی تربیت کے وسیلوں اور ان کی طبیعی ترتیب پر توجہ دینا اور ان کا شرعی ہونا۔

٦۔ تہذیب اخلاق (خوش اخلاقی ) میں پیش قدم و کہنہ مشق (تجربہ کار ) لوگوں کے تجربوں سے عملی فائدہ حاصل کرنا۔

٧۔ کتاب و سنت میں وارد ہوئے مصداقوں کے درمیان سے اخلاق کے کلی اصولوں اور قاعدوں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

٨۔عمل اور نفسانی ملکات کے مختلف حلقوںکے بارے میں اسلام کے نظریہ کو مستقل طور پر البتہ ہر ایک کی تثیر پر توجہ کرتے ہوئے بیان کرنا۔

٩۔ فکر، نفسانی ملکات، ر فتار و کردار پر آپس میں پڑنے والے ہر ایک کے اثرات پرتوجہ کرنا۔

١٠۔ اخلاقی مفاہیم کی تفسیر اور عمل میں، عقل، فطری رجحانات اور عملی آثار اور تجربوں کے مرتبہ پر توجہ کرنا۔

١١۔ اخلاقی لیاقتوں کے توازن اور اُن سب کی باہمی ترقی پر تا کید کرنا اور اُن میں افراط و تفریط سے پرہیز کرنا۔

١٢۔ اخلاقی قوانین کو استعمال کرنے میں مخاطبین کی خاص حالت و کیفیت پرتوجہ کرنا۔

۱۵

د: اخلاق اسلامی کے مباحث کی تقسیم

یہ اخلاق، اسلامی مفہوم کے مطابق اور قرآن و عترت اطہار (ع) کے ذریعہ جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس کی روشنی میں علم اخلاق کے اُن بنیادی سوالوں کا جن کی گفتگو آج فلسفہء اخلاق میں کی جاتی ہے، جواب دیتا ہے اور مطلوب و کامل انسان کو نفسانی صفات اور عمل کے مختلف نمونوں کے طور پر نمایاں بھی کرتا ہے۔ان دو مسئلوں کے علاوہ، مثالی انسان اور سب سے بلند معنوی مقامات تک پہنچنے کے لئے علمی و اجرائی، عملی قاعدوں اور ضابطوں کو پہچنواتا ہے۔ اس بناء پر اخلاق اسلامی منظّم ومرتّب طور پر مندرجہ ذیل تین فصلوں میں تقسیم وترتیب پاتا ہے:

١۔اخلاق کی بعض بنیادی اور فلسفی بحثیں

اخلاق کی حقیقت اوراخلاقی عمل کے ضروری عناصر سے واقفیت اور ان کو پہچنوانا۔

٢۔اخلاقی خوبیوںاوربرائیوں کی توصیف

نفسانی صفت کے عنوان سے بھی اور عمل کے مختلف حدود میں بھی۔

٣۔اخلاق تربیتی

انسان کو اخلاقی فضیلتوں سے آراستہ اور برائیوں سے پاک کرنے کے لئے وسیلوں اور طریقوں کو بیان کرنا۔

۱۶

دوسری فصل : اخلاق کی جاودانی

مقدمہ

١۔مسئلہ کی وضاحت:

ناقص بچوں اور بوڑھوں کو قتل کرنا، چوری کرنا، قومی برتری پر اعتقاد رکھنا وغیرہ بعض گذشتہ معاشرے میں جائز مانا جاتا تھا اور اُنھیں اخلاق کے خلاف شمار نہیں کیا جاتا تھا۔ آج معاشرے کی اکثریت ان چیزوں کو غیر اخلاقی مانتی ہے۔اس زمانے میں بھی مختلف تہذیبیں اخلاقی فضائل ورذائل کے بارے میں متعدد قسم کے نظریات رکھتی ہیں۔ ایسی صورت میں جبکہ بعض معاشرے ''چند بیویوں، ، کے ہونے کو جائز اور حجاب کو ضروری جانتے ہیں، اکثر عیسائی تہذیبوں میں ''چند بیویوں، ، کا ہونا غیر اخلاقی بات اور حجاب کو غیر ضروری جانا جاتا ہے۔

اس طرح کی حقیقتوں پر توجہ کر نے سے ہم اخلاق سے متعلق ایک اہم سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ کیا اچھی اور بری اخلاقی عادتیں اور خصلتیں آفاقی و جاودانی ہیں ؟ اخلاقی عدالتوں نے انسانوں کی ظاہری اور باطنی صفتوں کے لئے جن احکام کو صادر کیا ہے کیا وہ عالمی اور ابدی اعتبار رکھتی ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں کیا اخلاقی خوبیا ں اور برائیاں مطلق اور عام ہیں یا نسبی خصوصیتیں رکھتی ہیں اور تنہا کسی خاص دور اور زمانہ یا خاص مکان و معاشرہ اور مخصوص حالات کے لئے اعتبار اور معنی رکھتی ہیں ؟

٢۔ بحث کی تاریخ:

اس بحث کی شروعات قدیم یونان کے زمانہ تک پہنچتی ہے اور مغربی ملکوں کے جدید علمی زمانہ میں بھی یہ سوال اخلاقی فلسفیوں کے لئے ایک بنیادی سوال بن گیا ہے۔ اسلامی مکاتب میں اخلاق کے نسبی رجحان کو اشعری متکلمین کے یہاں پایاجا سکتا ہے، اگرچہ ان لوگوں نے اشیاء کے عقلی وذاتی حسن وقبح

سے انکار کرنے میں '' اخلاقی نسبیت''( Ethical relataivity )کی اصطلاح سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔ لیکن یہ بحث موجودہ زمانہ میں مسلمان دانشوروں کے علمی حلقوں میں بھی ایک بلند درجہ رکھتی ہے اور مختلف زاویوں سے اس پر بحث کی گئی ہے۔

۱۷

٣۔ موضوع کی دینی اہمیت:

اُن آثار کے علاوہ جو اس بحث کے نتیجوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور آگے بیان کئے جائیں گے یہ موضوع مسلمانوں کے سب سے زیادہ بنیادی و کلیدی عقیدوں اور اعتقادی و ایمانی ارکان میں سے کسی ایک سے بہت زیادہ نزدیکی رابطہ رکھتا ہے۔ اسلام کا مکمل اور خاتم ہونا اور نتیجةً اس کا عالمی اور جاودانی ہونا ایسی خصوصیت ہے کہ اسے گذشتہ و حال کے کٹگھروں سے آزاد کرتا ہے۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ، گذشتہ وآئندہ کے ادیان سے بشر کے بے نیاز ہونے کو بیان کرتا ہے، اخلاق کا جاودانی ہونا اس بات کی تاکید ہے کہ جغرافیائی موقعیت، تاریخی ادوار، زمان و مکان کے حالات، دینی تعلیمات اور منجملہ ان کے اخلاقی احکام اس کو اپنے زیر اثر قرار نہیں دیتے ہیں مگر ان مجازو بہترراستوں سے جسے دین نے خود معین کیا ہے۔

وہ مبانی و نظریات جو نسبیت کو اچھائیوں اور برائیوں کے دائرہ میں قبول کرتے ہیں، اسلام کے کمال اور خاتمیت کی معقول تفسیر کے سلسلہ میں ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ اس بناء پر مذکورہ اصل کی پابندی، اخلاقی مفاہیم میں ثبات واطلاق کے اثبات کی مرہونی ہے۔ یہ بات ثابت ہو نا چاہئے کہ اخلاقی موضوعات کی ابتدائی طبعیت ہمیشہ ایک حکم رکھتی ہے اور جغرافیائی اختلاف زمانہ کا گذر، تہذیبوںکا اختلاف، ایک اخلاقی موضوع کے اچھائی یا برائی سے متّصف نے میں کوئی اثر نہیں رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ مذکورہ سوال کا جواب دینے کا ہمارا طریقہ اخلاق کے سلسلہ میں ہمارے نظریہ کو بھی بیان کرے گا اور اخلاقی تحقیقات کے تانے بانے پر بہت اثر ڈالے گا اور نہ صرف اخلاقی اچھائی اور برائی کے سلسلہ میں ہمارا فیصلہ بدل جائے گا بلکہ اخلاق میں بحث کے طریقے، اس کے منابع اور یہاں تک کہ اخلاقی احکام کے مخاطبین کے حدود کو بھی بیان کرے گا۔

٤۔اطلاق اور نسبیت کا مفہوم:

اخلاقی مطلق پسندی سے مراد اس عقیدہ پر زور دینا ہے کہ اخلاقی اصول و تعلیمات، ا خلاقی موضوعات کی ذات اور ان کے حقیقی آثار ونتائج کے علاوہ کسی بھی دوسری چیز سے وابستہ نہیں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی موضوع کے اچھے یا برے ہونے کی جو چیزیں سبب بنتی ہیں صرف موضوع کی ذات میں موجود عناصر کا مجموعہ اور اس پر پڑنے والے واقعی آثارہیں نہ کہ اس سے باہر کے حالات و حوادث۔جیسے کسی سماجی، اجتماعی، ثقافتی، اقتصادی زندگی کے حالات یا فاعل کے ذوقی ونفسیاتی حالات۔ا س بناء پر بوڑھوں کی مناسب طریقہ سے دیکھ بھال کرنا، ابتداء سے پرہیزگار و پاک دامن رہنا اور اخلاقی لحاظ سے دوسروں کی عزت کی حفاظت کرنا اگر ایک پسندیدہ عمل مانا گیا ہے تو اصولی طور پر ہر زمان ومکان میں اور ہر فاعل کے ذریعہ تمام حالات میں اسے سراہا گیا ہے اور اخلاقی بھی مانا گیا ہے مگر یہ کہ حالات کا بدل جانا عمل کی ماہیت میں تبدیلی کا سبب قرار پائے

۱۸

یا قدروں کے درمیان کش مکش کا سبب بن جائے۔(١)

نسبیت یعنی ایک شئے کا اس کے اصلی آثار اور ذات سے خارج و متغیر امر یا امور سے وابستہ ہونا۔اس بناء پر ایک اخلاقی مفہوم کی نسبیت خواہ فضیلت ہو یا رذیلت اس طرح سے ہے کہ ایک باطنی صفت یا ظاہری رفتار پر اس کا صادق آنا یا نہ آنامعلوم ہو اور وہ صفات (باطنی یا ظاہری ہوں) اپنے اصلی آثار اور حقیقت سے خارج اور متغیّر عناصر سے وابستہ ہوں۔ جیسے اس صفت کا حامل انسان یا اس رفتار سے مربوط فاعل، وہ سماج جس میں وہ انسان زندگی گذار رہا ہے اور جس میں وہ قاعدہ و طریقہ پایا جاتا ہے، اور اس زمانہ کے حالات۔ مثلاًبوڑھوں سے متعلق رفتار، اخلاقی لحاظ سے ہمیشہ ایک حکم نہیں رکھتی۔ یا مختصر شراب پینا یا حجاب کی پابندی نہ کرنا، عیسائی سماج میں زندگی بسر کرنے والے کے لئے ایک اخلاقی برائی شمار نہیں کی جاتی لیکن اسلامی سماج میں زندگی گذارنے والے کے لئے ایک برا اور اخلاق کے خلاف عمل مانا جاتا ہے۔(٢)

ایک موضوع کو اخلاقی اچھائی یابرائی سے متّصف ہونے کے اعتبار سے موضوع کی ذات اور اس کے اصلی آثار سے باہر کس متغیّر چیز کے تابع قرار دیا جائے اس کے لئیاخلاقی نسبت پسندی کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

ایک کلی تقسیم کی بناء پر(٣) وہ لوگ جو اخلاقی اصول کو سماجی تہذیب کی تبدیلی کے تابع قرار دیتے ہیں وہ نسبیت قرار دادی(۴) کے طرفدار ہیں اور وہ لوگ جو اسے انسان کی خواہش اور انتخاب کے تابع قرار دیتے ہیں، نسبیت ذہنی(۵) کو قبول کرتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جو اخلاقی اصول کے لئے عینی وخارجی اصل اور مبدأ کے قائل ہیں وہ اصالت عین(۶) کے طرفدار ہیں۔

____________________

١۔ رجوع کیجئے: اسی کتاب میں اخلاقی قدروں میں تزاحم اور ترجیح کا معیار اور سوالات وجوابات کی طرف (صفحہ ٦٧ پر) ۔

٢۔ رجوع کیجئے علامہ طباطبائی: المیزان، ج: ١، ص: ٣٧٦، ٣٧٧۔

٣۔ رجوع کیجئے: لوئس پویمن۔ نقدی برنسبیت اخلاقی، ترجمہ فتح علی۔ ( بحوالۂ مجلّہ نقد و نظر، ش ١٣، ١٤، ص٣٢٦)

Objectivsm ۔۶ Subjectivism ۔۵ Conventional ۔۴

۱۹

دوسری تقسیم کے لحاظ سے اخلاقی نسبیت پسندی کی قسموں کو مندرجہ ذیل طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے:

١۔علم حیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول، انسان کی متغیر زندگی کے حالات کے تابع ہیں۔

٢۔علم سماجیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی اصول اس سماج کے متغیر حالات کے تابع ہیں جس میں انسان زندگی گذار تا ہے۔

٣۔ علم نفسیات کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی مفاہیم، انسان کے متغیر نفسیاتی حالات اور اس کے ذوق وشوق، رغبت وسلیقہ کے تابع ہیں۔ اس طرح کی قسم کو کبھی ذوقی نسبیت پسندی یا (نظریۂ اصالت وجود) { Egzistansialism } اگز سٹنسیا لیسٹی بھی کہتے ہیں۔

٤۔ تہذیب وثقافت کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: اخلاقی فضائل و رذائل اخلاقی سماج کے آداب و رسوم کے پابند ہیں۔

٥۔ مادہ پرستی کے سلسلہ میں نسبیت کا رجحان: کسی صفت یا رفتار کی اچھائی یا برائی کا معیار، انسانوں کے درمیان مادی لحاظ سے برابری اور مساوات کو ایجاد کرنے اور امکانات کو مساوی لحاظ سے تقسیم کرنے کے سلسلہ میں اس کی تثیرو کار کردگی کو قرار دیا گیا ہے۔(١)

الف۔ اخلاقی نسبیت پسندی کے نتیجے:

کلی طور پر اور ہر اس دلیل و مبنیٰ کی بنیاد پر جسے دعوے کے طور پر پیش کیا جائے، اخلاقی نسبیت کا رجحان، تباہ کن نتائج کا حامل اور غیر قابل قبول ہے اور وہی دلیلیں اسے باطل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے بعض کلی اور مشترک نتیجے مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ ذمہ داری کا سلب ہونا:

اخلاق مطلق اور عمومی و جاودانی اصول سے انکار کرنے سے کسی بھی انسان کو اس کی رفتار کے مقابلہ میں، اخلاقی لحاظ سے اور بہت سی جگہوں پر حقوقی لحاظ سے بھی ذمہ دار نہیں مانا جاسکتا ہے۔(٢)

____________________

١۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: موافق و مخالف اگزسٹنسیالیزم، ترجمہ: سعید عدالت نژاد، نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، ش١٣۔١٤، ص: ٣٠٠تا٣٢٣۔

٢۔ رجوع کیجئے: پُل رو بیجک: ایضاً، (نقل ازمجلہ ء نقد و نظر، شمارہ: ١٣۔١٤، ص: ٣٠٥)۔

۲۰