ضربِ کلیم

ضربِ کلیم 0%

ضربِ کلیم مؤلف:
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 164

ضربِ کلیم

مؤلف: علامہ ڈاکٹرمحمد اقبال لاہوری
زمرہ جات:

صفحے: 164
مشاہدے: 4521
ڈاؤنلوڈ: 366

تبصرے:

ضربِ کلیم
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 164 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4521 / ڈاؤنلوڈ: 366
سائز سائز سائز
ضربِ کلیم

ضربِ کلیم

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

ضربِ کلیم

علاّمہ محمّد اقبال

۳

اعلیٰ حضرت نواب سرحمید اللہ خاں فرمانروائے بھوپال کی خدمت میں!

زمانہ با امم ایشیا چہ کرد و کند

کسے نہ بود کہ ایں داستاں فرو خواند

*

تو صاحب نظری آنچہ در ضمیر من است

دل تو بیند و اندیشۂ تو می داند

*

بگیر ایں ہمہ سرمایۂ بہار از من

'کہ گل بدست تو از شاخ تازہ تر ماند'

***

ناظرین سے

جب تک نہ زندگی کے حقائق پہ ہو نظر

تیرا زجاج ہو نہ سکے گا حریف سنگ

*

یہ زور دست و ضربت کاری کا ہے مقام

میدان جنگ میں نہ طلب کر نوائے چنگ

*

خون دل و جگر سے ہے سرمایۂ حیات

فطرت ، لہو ترنگ ہے غافل! نہ ، جل ترنگ

***

۴

تمہید

(۱)

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری

کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی

*

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے

بری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی

*

تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن

کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی

*

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا

ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی

*

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو

کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی!

***

۵

(۲)

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی

اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند

*

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو

تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند

*

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے

وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند

*

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی

مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی

***

۶

اسلام اور مسلمان

صبح

(۱)

نہ دیر میں نہ حرم میں خودی کی بیداری

کہ خاوراں میں ہے قوموں کی روح تریاکی

*

اگر نہ سہل ہوں تجھ پر زمیں کے ہنگامے

بری ہے مستئ اندیشہ ہائے افلاکی

*

تری نجات غم مرگ سے نہیں ممکن

کہ تو خودی کو سمجھتا ہے پیکر خاکی

*

زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا

ترا حجاب ہے قلب و نظر کی ناپاکی

*

عطا ہوا خس و خاشاک ایشیا مجھ کو

کہ میرے شعلے میں ہے سرکشی و بے باکی!

***

۷

(۲)

ترا گناہ ہے اقبال! مجلس آرائی

اگرچہ تو ہے مثال زمانہ کم پیوند

*

جو کوکنار کے خوگر تھے، ان غریبوں کو

تری نوا نے دیا ذوق جذبہ ہائے بلند

*

تڑپ رہے ہیں فضاہائے نیلگوں کے لیے

وہ پر شکستہ کہ صحن سرا میں تھے خورسند

*

تری سزا ہے نوائے سحر سے محرومی

مقام شوق و سرور و نظر سے محرومی

***

۸

لا الہ الا اللہ

خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ

خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

*

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

*

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا

فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

*

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند

بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

*

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری

نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

*

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

*

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

***

۹

تن بہ تقدیر

اسی قرآں میں ہے اب ترک جہاں کی تعلیم

جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

*

'تن بہ تقدیر' ہے آج ان کے عمل کا انداز

تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

*

تھا جو 'ناخوب، بتدریج وہی ' خوب' ہوا

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

***

معراج

دے ولولۂ شوق جسے لذت پرواز

کر سکتا ہے وہ ذرّہ مہ و مہر کو تاراج

*

مشکل نہیں یاران چمن ! معرکہ باز

پر سوز اگر ہو نفس سینۂ دراج

*

ناوک ہے مسلماں ، ہدف اس کا ہے ثریا

ہے سر سرا پردۂ جاں نکتہ معراج

*

تو معنیِ و النجم ، نہ سمجھا تو عجب کیا

ہے تیرا مد و جزر ابھی چاند کا محتاج

***

۱۰

ایک فلسفہ زدہ سید زادے کے نام

تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا

زناری برگساں نہ ہوتا

*

ہیگل کا صدف گہر سے خالی

ہے اس کا طلسم سب خیالی

*

محکم کیسے ہو زندگانی

کس طرح خودی ہو لازمانی!

*

آدم کو ثبات کی طلب ہے

دستور حیات کی طلب ہے

*

دنیا کی عشا ہو جس سے اشراق

مومن کی اذاں ندائے آفاق

*

میں اصل کا خاص سومناتی

آبا مرے لاتی و مناتی

*

تو سید ہاشمی کی اولاد

میری کف خاک برہمن زاد

*

۱۱

ہے فلسفہ میرے آب و گل میں

پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں

*

اقبال اگرچہ بے ہنر ہے

اس کی رگ رگ سے باخبر ہے

*

شعلہ ہے ترے جنوں کا بے سوز

سن مجھ سے یہ نکتۂ دل افروز

*

انجام خرد ہے بے حضوری

ہے فلسفۂ زندگی سے دوری

*

افکار کے نغمہ ہائے بے صوت

ہیں ذوق عمل کے واسطے موت

*

دیں مسلک زندگی کی تقویم

دیں سر محمد و براہیم

*

''دل در سخن محمدی بند

اے پور علی ز بو علی چند!

*

چوں دیدۂ راہ بیں نداری

قاید قرشی بہ از بخاری ''

***

___________________

فارسی اشعار حکیم خاقانی کی 'تحفۃ العراقین' سے ہیں

۱۲

زمین و آسماں

ممکن ہے کہ تو جس کو سمجھتا ہے بہاراں

اوروں کی نگاہوں میں وہ موسم ہو خزاں کا

*

ہے سلسلۂ احوال کا ہر لحظہ دگرگوں

اے سالک رہ! فکر نہ کر سود و زیاں کا

*

شاید کہ زمیں ہے یہ کسی اور جہاں کی

تو جس کو سمجھتا ہے فلک اپنے جہاں کا!

***

مسلمان کا زوال

اگرچہ زر بھی جہاں میں ہے قاضی الحاجات

جو فقر سے ہے میسر، تو نگری سے نہیں

*

اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور

قلندری مری کچھ کم سکندری سے نہیں

*

سبب کچھ اور ہے، تو جس کو خود سمجھتا ہے

زوال بندۂ مومن کا بے زری سے نہیں

*

اگر جہاں میں مرا جوہر آشکار ہوا

قلندری سے ہوا ہے، تو نگری سے نہیں

***

۱۳

علم و عشق

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن

عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن

*

بندۂ تخمین و ظن! کرم کتابی نہ بن

عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب!

*

عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات

علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات

*

عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات

علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب!

*

عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دیں

عشق کے ادنی غلام صاحب تاج و نگیں

*

عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں

عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتح باب!

*

شرع محبت میں ہے عشرت منزل حرام

شورش طوفاں حلال، لذت ساحل حرام

*

عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام

علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب!

***

۱۴

اجتہاد

ہند میں حکمت دیں کوئی کہاں سے سیکھے

نہ کہیں لذت کردار، نہ افکار عمیق

*

حلقۂ شوق میں وہ جرأت اندیشہ کہاں

آہ محکومی و تقلید و زوال تحقیق!

*

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

*

ان غلاموں کا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب

کہ سکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق!

***

۱۵

شکر و شکایت

میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شکر ہے تیرا

رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہوت سے پیوند

*

اک ولولۂ تازہ دیا میں نے دلوں کو

لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند

*

تاثیر ہے یہ میرے نفس کی کہ خزاں میں

مرغان سحر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند

*

لیکن مجھے پیدا کیا اس دیس میں تو نے

جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

***

ذکر و فکر

یہ ہیں سب ایک ہی سالک کی جستجو کے مقام

وہ جس کی شان میں آیا ہے 'علم الاسما'

*

مقام ذکر، کمالات رومی و عطار

مقام فکر، مقالات بوعلیسینا

*

مقام فکر ہے پیمائش زمان و مکاں

مقام ذکر ہے سبحان ربی الاعلی

***

۱۶

ملائے حرم

عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو

تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام

*

تری نماز میں باقی جلال ہے، نہ جمال

تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام

***

تقدیر

نااہل کو حاصل ہے کبھی قوت و جبروت

ہے خوار زمانے میں کبھی جوہر ذاتی

*

شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں

تقدیر نہیں تابع منطق نظر آتی

*

ہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کو

تاریخ امم جس کو نہیں ہم سے چھپاتی

*

'ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی

براں صفت تیغ دو پیکر نظر اس کی!'

***

۱۷

توحید

زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی

آج کیا ہے، فقط اک مسئلۂ علم کلام

*

روشن اس ضو سے اگر ظلمت کردار نہ ہو

خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام

*

میں نے اے میر سپہ! تیری سپہ دیکھی ہے

'قل ھو اللہ، کی شمشیر سے خالی ہیں نیام

*

آہ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ فقیہ

وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام

*

قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام!

***

۱۸

علم اور دین

وہ علم اپنے بتوں کا ہے آپ ابراہیم

کیا ہے جس کو خدا نے دل و نظر کا ندیم

*

زمانہ ایک ، حیات ایک ، کائنات بھی ایک

دلیل کم نظری، قصۂ جدید و قدیم

*

چمن میں تربیت غنچہ ہو نہیں سکتی

نہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شریک نسیم

*

وہ علم، کم بصری جس میں ہمکنار نہیں

تجلیات کلیم و مشاہدات حکیم!

***

ہندی مسلمان

غدار وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن

انگریز سمجھتا ہے مسلماں کو گداگر

*

پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت

کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر

*

آوازۂ حق اٹھتا ہے کب اور کدھر سے

'مسکیں ولکم ماندہ دریں کشمکش اندر'!

***

۱۹

آزادی شمشیر کے اعلان پر

سوچا بھی ہے اے مرد مسلماں کبھی تو نے

کیا چیز ہے فولاد کی شمشیر جگر دار

*

اس بیت کا یہ مصرع اول ہے کہ جس میں

پوشیدہ چلے آتے ہیں توحید کے اسرار

*

ہے فکر مجھے مصرع ثانی کی زیادہ

اللہ کرے تجھ کو عطا فقر کی تلوار

*

قبضے میں یہ تلوار بھی آ جائے تو مومن

یا خالد جانباز ہے یا حیدر کرار

***

۲۰