ہدیہ مبلّغین

ہدیہ مبلّغین0%

ہدیہ مبلّغین مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

ہدیہ مبلّغین

مؤلف: مولانا صابر علی بخاری
زمرہ جات:

مشاہدے: 2116
ڈاؤنلوڈ: 577

تبصرے:

ہدیہ مبلّغین
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 24 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2116 / ڈاؤنلوڈ: 577
سائز سائز سائز
ہدیہ مبلّغین

ہدیہ مبلّغین

مؤلف:
اردو

ساتواں درس

فلسفہ اخلاق

قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم :انّی بعثت لأُتمّم مکارم الأخلاق

مؤمنین کرام رسول مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاارشاد مبارک ہے جس میں یہ فرما رہے کہ مجھے مکارم اخلاق کو کامل کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا .اور یہ ایک حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام اخلاق کی اس اعلٰی منزل تک پہنچے کہ ارشاد قدرت ہوا : انّک لعلٰی خلق عظیم.

(اے میرے رسول ) آپ اخلاق کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں.

تو جس مکارم اخلاق کی تکمیل کو رسالت کامقصد قرار دیا گیا اس سے مراد کیا ہے ؟ امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں : مکارم اخلاق دس چیزیں ہیں ان کے حاصل کرنے میں کوتاہی مت برتو اس لئے کہ ممکن ہے ایک صفت بیٹے میں ہو مگر باپ میں نہ ہو یا باپ میں ہو اور بیٹے میں نہ ہو .اور اسی طرح ممکن ہے کہ غلام میں تو پائی جاتی ہو مگر آزاد میں نہ ہو ، اور وہ صفات یہ ہیں :صدق مع الناس و صدق و اللسان و أداء الأمانة صلة الرحم و اقراء الضیف و اطعام السائل و المکافاة علی الصنایع و التذمّم للجار و التذمّم للصاحب و رأسهنّ الحیاء ( ۵۱ )

١۔ لوگوں سے سچائی

٢۔ صداقت

٣۔ امانت کا اداکرن

٤۔ صلہ رحمی

٥۔مہمان نوازی

٦۔فقراء کی مدد

٧۔ احسان

٨۔ نیکی کا بدلہ نیکی سے

٩۔ہمسایوں سے اچھا سلوک

١٠۔ دوستوں سے بھلائی اور ان تمام نیک صفات کا سر چشمہ حیاء ہے.

امام رضا علیہ السلام رویت کرتے ہیں کہ رسول خدا نے لوگوں سے فرمایا : اخلاق حسنہ کو حاص کرو اور برے اخلاق سے پرہیز کرو اس لئے کہ نیک اخلاق انسان کو جنّت میں لے جاتا ہے جبکہ برااخلاق اسے جھنّم میں لے جانے کا باعث بنتا( ۵۲ )

امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

حسن الاخلاق برهان الأعراق ( ۵۳ )

اچھا اور نیک اخلاق انسان کی فطرت کے پاک ہونے کی علامت ہے

سئل عن الصادق( ع) : ما حدّ حسن الخلق ؟ قال: نلین جانبک و تقلّب کلامک و تلقٰی أخاک ببشر حسن ( ۵۴ )

امام صادق(ع) سے پوچھا گیا کہ حسن خلق کی کیاعلامت ہے ؟ فرمایا :١۔ نرم مزاج ہونا .٢۔ اچھی گفتگو کرنا .٣۔ دوسروں سے خندہ پیشانی سے پیش آنا

ہم اکثر نماز کے قنوت میں یہ دعا پڑھتے رہتے ہیں : ربّنا آتنا فی الدنیا حسنة . اے پالنے والے ہمیں دنیا میں نیکی عطافرما اس نیکی سے مراد کیا ہے؟ امام معصو م(ع) فرماتے ہیں : اس سے مراد اخلاق حسنہ ہے.(٢)

اسلام میں اخلاق کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:اخلاق حسنہ نصف ایمان ہے( ۵۵ )

اس اخلاق کا فلسفہ کیا ہے ؟ کس لئے شریعت مقدس اسلام نے اس کی اتنی تاکید فرمائی ہے؟ اس کا جواب واضح ہے کہ یقینا اس میں انسانوں کے لئے دینی و دنیاوی فائدہ پایا جاتا ہے کیو نکہ کوئی بھی حکم اسلام حکمت و فلسفہ سے خالی نہیں ہے روایات میں اخلاق کا فلسفہ جو بیان ہوا ہے وہ یہ ہے:

١۔روح کی لذّت :

امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں :

لاعیش ألذّ من حسن الخلق ( ۵۶ )

حسن خلق سے بڑھکر زندگی کی کوئی لذت نہیں ہے.

٢۔ دوستی کا باعث :

رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :حسن خلق دوستی کا باعث اور کینہ کے دور ہونے کا موجب بنتا ہے اور لوگوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا نصف عقل ہے( ۵۷ )

٣۔ گناہوں کی نابودی :

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : جس طرح سورج برف کو پگھلا کرختم کردیتا ہے اسی طرح اخلاق حسنہ گناہوں کی نابودی کا باعث بنتا ہے. نیز فرمایا : برااخلق انسان کے نیک اعمال کو اسے طرح ضائع کردیتا ہے جس طرح سرکہ شھد کو ضائع کر دیتاہے( ۵۸ ) .

٤۔رسول خدا سے قربت :

رسول خداصلی اللہ نے فرمایا :أقربکم منّی غداأحسنکم خلقا و اقربکم من الناس ( ۵۹ )

روز قیامت وہی میرے نزدیک ہوگا جس کا اخلاق اچھاہوگا اور لوگوں سے نزدیک ہوگا.

٥۔اجر برتر:

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انسان حسن خلق کے ذریعہ سے روزہ داراور شب زندہ دار شخص کا اجر پا سکتاہے( ۶۰ )

٦۔گناہوں کا کفارہ:

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

التبسّم فی وجه المؤمن الغریب من کفّارة الذّنوب ( ۶۱ )

مسافر مومن کے سامنے مسکرانا گناہوں کے کفارہ کاباعث بنتا ہے.

٧۔وسعت رزق:

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

حُسن الخُلق من الّدین وهو یزید فی الرّزق ( ۶۲ )

حسن خلق ایمان کی علامت ہے اور رزق میں وسعت کاباعث بنتا ہے.

٨۔تکمیل ایمان:

امام رضا علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار اور انہوں نے اپنے اجداد سے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ایمان کے لحاظ سے وہ لوگ کامل تر ہیں جن کااخلاق اچھا ہو اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہوں

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجیجانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگوں کو اخلاقی برائیوں سے بچائیں اور انہیں سعادت و کمال اخروی تک پہنچاسکیں اسی لئے شریعت مقدسہ اسلام میں اخلاق پر اس قدر زور دیا گیا ہے آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی مشکل یہی اخلاقی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے آئے دن بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا جارہا ہے اگر لوگ اخلاق حسنہ کی خوبیوں اور اخلاق سیئہ کی برائیوں اور اس کے انجام سے آشنا ہو جائیں تو یہ سب برائیاں خود بخود دور ہو جائیں گی اس لئے کہ جب لوگوں کو معنوی غذا ملنی ہی نہیں تو وہ کیسے ان برائیوں سے چھٹکاراپاسکتے ہیں .اور اس کے کئی ایک عوامل ہیں کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارا معاشرہ دن بدن کیوں پستی کی طرف جاریا ہے ؟ کیوں ہمارے اندر اخلاقی برایئوں کا اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے.؟ اسکی وجہ کیا ہے اور یہ برائیا ں کہاں سے جنم لے رہی ہیں ؟

عزیزان گرامی ! کسی بھی شخص کے بد اخلاق ہونے کے تین عوامل ہیں :

١۔ جھالت:

امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں :

الخُلق المذموم من ثمار الجهل

برا اخلاق جھالت کا ثمرہ ہے.( ۶۳ )

آج ہمارے معاشرہ میں علم کا بہت فقدان ہے جس کی بناء پرطرح طرح کی برائیاں جنم لے رہی ہیں اور ایسی ایسی بیماریاں جن کا انسان تصور ہی نہیں کر سکتا.لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم کی بیماری کا تعلقاخلاقی بیماریوں سے ہے جس قدر اخلاقی بیماریوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ویسے ہی جسمانی بیماریاںبھی نئی نئی وجود میں آتی جائیں گی. اگر آج سے بیس سال پہلے کے آدمی کو لایا جائے تو وہ موجودہ اخلاقی بیماریوں کو دیکھ کر حیران رہ جائے اس لئے کہ آج جو ڈش ، کیبل اور پھر ان سب سے بڑھ کر انٹر نیٹ کی بیماری ہے جس سے ہمارے بچے بگڑ رہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دن بدن جسمانی بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے.

اور یہ سب دینی تعلیمات سے جھالت کا نتیجہ ہے جس قدر ھم اپنے بچوں کی دنیاوی تعلیم کا خیال رکھتے ہیں کیا کبھی اس کا دسواں حصہ بھی ان دینی تعلیم پر توجہ دی ہے

٢۔ پستی و نجاست:

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

النّفس الدّنیة لا تنفک عن الدّناآت ( ۶۴ )

نفس پست ہے اورپستیوں سے جدا ہونے والا نہیں اس لئے جب تک انسان اپنے نفس پر مسلط نہیں ہوگا تب تک وہ اسے اخلاقی بیماریوں میں مبتلا رکھے گا .تبھی تو نفس سے جھاد کو جھاد اکبر کا نام دیا گیاہے اس لئے کہ نفس کا مقابلہ کرنا انتھائی دشوار کام ہے.

٣۔وراثت:

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : خداوند متعال نے جناب آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ایک کے لئے حور اور دوسرے کے لئے جنوں میں سے ایک عورت کا انتخاب کیا جن سے انہوں نے شادی کی جتنے بھی خوش اخلاق لوگ ہیں وہ سب اس حور کی اولاد ہیں اور بد اخلاق جن کی

آٹھواں درس

جھالت کا دین پر اثر (١)

قال الامام المهدی علیه السلام : آذانا جهلاء الشّیعة وحمقائهم ومن دینه جناح البعوضة أرجح منه ( ۶۵ )

تحقیق ہمیں جاہل اور کم عقل شیعہ اور ان لوگوں نے اذیت کی ہے جن کے دین سے مچھر کا پر بھی زیادہ محکم ہے

عزیزان گرامی ! کل کے درس میں یہ بیان کیا گیا کہ کسی بھی انسان کے بد اخلاق ہونے کا ایک عامل، ایک سبب اس کی دینی احکام سے جھالت ہے جھالت کی پستی اور اس کے ناپسند ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ اگر آپ کسی کو جاھل کہیں تو وہ فورا ناراض ہو جائے گا

اس جھل کی دو قسمیں ہیں :

١: جھل بسیط:

کسی بھی انسان کا پڑھنا لکھنا نہ جاننا ، یا یہ کہ دنیا کاعلم تو اس کے پاس بہت ہے مگر علم دین سے بے بھرہ ہے تو ایسے شخص کو جاھل بسیط کا جائے گا. اس لئے کہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ میرے پاس دین کا علم نہیں ہے .اور یہ اس کے لئے نقص شمار ہوتاہو گا. چاہے وہ مرد ہو یا عورت .اگر عورت ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام نے اولاد کی تربیت کے بارے میں کیا کیا احکام بیان فرمائے ہیں کس طرح اولاد کی صحیح تربیت کی جائے ، شریعت مقدسہ اسلام نے شوھر کے کیا حقوق بیان کئے ہیں اور اگر نوجوان ہے تو اسے یہ علم ہونا چاہئے کہ کیسی زوجہ کا انتخاب کرے ؟ اسلام نے نیک زوجہ کی کیا علامات بیان فرمائی ہیں ؟ تاکہ اس کے دین وایمان میں اس کی مدد گار بن سکے ورنہ کتنے افراد ایسے ہیں جو شادی سے پہلے تو نماز بھی پڑھتے تھے ، روزہ بھی رکھتے تھے اور باریش بھی تھے لیکن جیسے ہی بیوی آتی گئی نماز بھی گئی ، روزہ بھی گیا ، مسجد بھی گئی، امام بارگاہ جانا بھی ترک ہو گیا اور آہستہ آھستہ ڈاڑھی بھی کلین شیو ہونے لگی

یہ سب شریعت سے جھالت کا نتیجہ ہے اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں :

طلب العلم فریضة علٰی کل مسلم ( ۶۶ )

علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے

اور پھر فرمایا :

أطلبو االعلم من المهد الی اللّحد

گود سے لیکر گور تک علم حاصل کرو

اس میں کونسی شرم کی بات ہے کہ اگر انسان مولاناصاحب کے پاس جا کر اپنی نماز یا اپنے عقیدہ کی اصلاح کر لے .اور اپنی جھالت کو علم میںبدل دے اسلام نے بھی تو اہل علم ہی کی تعریف کی ہے :

یرفع اللّه الّذین آمنوا منکم و الّذین اُوتوا العلم درجات ( ۶۷ )

ترجمہ:خدا صاحبان ایمان اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے درجات کو بلند کرنا چاہتاہے.

یہ آیت مجیدہ بتا رہی ہے کہ ایسا شخص جو دین کی سوجھ بوجھ رکھتا ہے اس میں اور جو دین کے احکامات سے جاہل ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے اور آئمہ معصومیں نے بھی اپنی دوستی کا یہی معیار بتایا کہ اگر دیکھنا چاہتے ہو کہ کون ہم سے زیادہ قریب ہے تو ہماری روایات کو معیار قرار دو جو جس قدر ہماری روایات کو بہتر جانتا ہو گا اتنا ہی ہم سے قریب ہو گا

ہشام بن حکم سترہ یا اٹھارہ سال کا جوان ہے ابھی ڈاڑھی کے بال تک نہیں آئے لیکن جب چھٹے امام کی مجلس میں آتا ہے تو امام اپنے مقام سے بلند ہوتے ہیں اس کے استقبال کے لئے اور اسے اپنے پہلو میں بٹھاتے ہیں اب محفل میں موجود بوڑھے افراد پر یہ گراں گذرا کہ اتنا احترام ہمارا نہیں کیا جاتا جتنا ایک نوجوان کا کیا جارہا امام علیہ السلام نے فرمای

هذا ناصرنا بقلبه ولسانه و یده ( ۶۸ )

یہ دل ، زبان اور ہاتھوں سے ہماری مدد کرنے والا ہے یہ مبلّغ اسلام ہے اس کے پاس دین کا علم ہے اس کے بعد امام علیہ السلام نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی گویا امام یہ بتانا چاہ رہے کہ اگرچہ یہ نوجوان ہے لیکن چونکہ اس کے پاس دین کا علم ہے لہذا تم سب پر فضیلت رکھتا ہے اس لئے کہ اسلام میں برتری کا معیار علم ہے.کیونہ علم کمال بشریت ہے جو اپنے حامل کو ہمیشہ سرفراز اور سر بلند رکھتا ہے.

اب اگر کوئی مومن قرآن پڑھنا نہ جانتا ہو تو یہ ایک عیب ہے اسی طرح اگر کوئی ماں یا بہن طہارت و نجاست کے احکام سے آگاہ نہ تو اس کے لئے بھی یہ عیب ہے اس لئے کہ جب وہ طہارت و نجاست سے آگاہ نہ ہوگی تو خود بھی حرام کھائے گی اور اپنے شوہر اور اپنی اولاد کو بھی حرام کھلائے گی. ایسی عورت کبھی بھی کنیز فاطمہ نہیں بن سکتی کبھی بھی سیدہ زینب کی سچی چاہنے والی نہیں بن سکتی اس لئے کہ ان کے جو چیز محبت کا معیار ہے. وہ دین کا علم ہے

آج کتنے نوجوان ایسے ہیں جو بی اے، ایم اے کر چکے لیکن قرآن پڑھنا نہیں جانتے اور یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا نقص ہے

ورنہ ہر مرنے والا علی مولا کی زیارت کرتا ہی کرتا ہے چاہے دنیا میں زیارت کا منکر ہی کیوں نہ ہو مسلمان ہو یا کافر ، مومن ہو یا منافق ، شیعہ ہو یا علی کے شیعوں کو برا بھلا کہنے والا ہر ایک مرنے والا علی مولا کی زیارت کرتا ہے جیسا کہ مولائے کائنات نے حارث ھمدان سے فرمایا :

یا حارث همدان من یمت یرنی من مؤمن أو منافق قبل ( ۶۹ )

ہاں یہ الگ بات ہے کہ کوئی مولا کی زیارت کر کے خوش ہو جاتا ہے اور کوئی غمگین و پریشان اس لئے کہ اگر اس دنیا میں علی مولا کی پیروی کی ہوگی ، اپنے امام کی آواز پر لبیک کہی ہو گی تو جیسے ہی مولا کو دیکھے گا خوش ہو جائے گا لیکن اگر خدا نخواستہ مولا کی بات کو مانا ہی نہیں مسجد میں کبھی گیا ہی نہیں ، نماز کبھی پڑھی ہی نہیں ، روزہ رکھ لے تو تبخیر ہو جاتی ہے، یتیم کے سر پہ کبھی ہاتھ رکھا ہی نہیں. تو ایسا شخص یقینا مولاکو دیکھ کر گھبرا جائے گا اور کبھی بھی مولا کی زیارت کا مشتاق نہیں ہوگا اس لئے کہ اس نے مولا کی تعلیمات پر عمل ہی نہیں کیا اور ممکن ہے کہ اس کی یہ جھالت اسے مرتے وقت دشمن خدا وعلی اور دشمن عزرائیل بنا دے

اس لئے کہ سب کی روح مولا کے حکم سے قبض ہوگی.اگر علم ہوگا یقین ہو گا ایمان کامل ہوگا تو صحیح ورنہ بہت مشکل ہے کہ انسان کا خاتمہ خیر پر ہو اس لئے کہ ایک طرف توشیطان انسان پر مسلسل حملہ کر رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیا کی محبت اسے اس دنیا سے جانے نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ روایات میں ملتا ہے کہ بعض لوگوں کی روح اس قبض کی جائے گی جس طرح رگ کو بدن سے جدا کیا جاتا ہے یعنی وہ جانا نہیں جاتا اسے زبردستی لے جایا جاتا ہے اس کی روح زبردستی نکالی جاتی ہے اب جب مولائے کائنات اجازت دیں گے اور ملک مقرّب اس کی روح قبض کرنے لگے گا تو چونکہ وہ اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا لہذادشمن خدا بھی بن جائے گا ، دشمن علی بھی اور دشمن عزرائیل بھی اب یہ جب دینا سے جا رہا تو دشمن خدا و علی بن کے جا رہا

عزیزان گرامی !میں اپنے واجب الاحترام بزرگوں اور خاص طور پر نوجواں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ھمیشہ یہ دعا پڑھتے رھا کریںکہ :الّلهمّ اجعل عاقبة أمرنا خیرا اے پالنے والے ! ہماری عاقبت نیکی پر ہو.ہمارا خاتمہ ایمان پر ہو ، زندہ رہیں تو حسین حسین کرتے ہوئے اور اس دینا سے جائیں تو نام علی زبان پر ہو اور علی مولا کی زیارت نصیب ہو ایسی حالت میں کہ مولا ہم سے راضی ہوں خدانہ کرے کہیں ایسے نہ ہو کہ انسان ساٹھ یا ستر سال تک علی علی کرتا رہے اور موت کے وقت جھالت کی وجہ سے دشمن علی ہو کر مرے.

٢۔ جھل تردید:

جھل کی دوسری قسم جھل تردید ہے یعنی انسان ھمیشہ شک و تردید کا شکار رہے. ماتم ٹھیک ہے یا نہیں ، نماز کوئی فائدہ پہنچاتی ہے یا نہیں ؟ یا علی مدد کہنا درست ہے یا نہیں ؟ تقلیدکرنا جائز ہے یا نہیں؟اور پھر کیا یہ مذہب بھی ٹھیک ہے یا نہیں ؟ یا یہ کہ خدا بھی ہے یا نہیں ؟ اسی طرح پوری زندگی شک وتردید میں گذار دیتا ہے جس اس کی دنیا بھی تباہ ہو جاتی ہے اور دین بھی. اس کی یہ حالت ویسے ہی ہے جیسے بدن کے اندر کوئی کانٹا ہو جو اسے ہر وقت اذیت پہنچاتا رہتا ہو ایسے افراد خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں لیکن ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کردیتے ہیں اس لئے کہ جب انسان کے ذہن میں شک آگیا تو پھر وہ کوئی بھی فیصلہ نہیں کر پاتا اور آج تو لوگوں کے عقیدوں کو خراب کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ انہیں دین ومذہب کے بارے میں شک میں مبتلا کردیں جیسے آج پوری پوری کتابیں لکھی جارہی ہیں کہ نماز کا کوئی فائدہ نہیں ! تقلید کا کوئی فائدہ نہیں !کس لئے علماء کی طرف رجوع کریں ! اور پھر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ایسی کتابیں لکھنے والے خود کو عالم بھی کہلواتے ہیں اور لوگوں کو مسائل حل کروانے کے لئے اپنی طرف رجوع کرنے کا حکم بھی دیتے ہیں ایسے صاحبان سے ہمارا یہ سوال ہے کہ اگر شریعت میں کہیں پہ علماء و فقھاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تو آپ کس عنوان سے لوگوں کے پاس جاکر انہیں ایسی تبلیغ کر رہے اور کس عنوان سے آپ کو دعوت دی جاتی ہے یقینا ایک عالم ہونے کے ناطے بلایا جاتا ہے اگرچہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اہل بیت علیہم السلام کو مانتے نہیں بلکہ ان کے مقصد کے دشمن بھی ہیں اورضعیف مومنین کی جھالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اہل بیت علیہم السلام کی سیرت سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہی وہ علماء ہیں جو دین کا مقدس لبادہ اڑھ کر مومنین کو نامحسوس طریقے سے دین سے دور کررہے ہیں امام عسکری علیہ السلام نے ان کا تعارف یوں کروایا :

عزیزان گرامی ! ایسے علماء سوء سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم خود اور اپنی اولاد کو دین مبین اسلام کی نورانی تعلیمات سے مزیّن نہیں کرتے اس لئے کہ جب ہمیں دین اور غیر دین کی پہچان ہی نہ ہو گی تو پھر دشمنان اسلام و اہل بیت علیہم السلام ہمیں اور ہماری اولاد کو آسانی سے گمراہ کر سکیں گے لہذا خدارا علماء سے استفادہ کرتے ہوئے اس جھالت کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں.

خداوند متعال مومنین کو یزید صفت عالم نماملاؤں کے شر سے محفوظ رکھے

نواں درس

جھالت کا دین پر اثر (٢)

قا ل الامام المهدی علیه السلام : آذانا جهلاء الشّیعة و حُمقائهم و من دینه جناح البعوضة أرجح منه

عزیزان گرامی ! یہ امام زمانہ ارواحنا لہ الفداء کا فرمان ہے جس میں امام اپنے شیعوں سے ان کی جھالت کی شکایت کررہے کہ ہمارے ان شیعوں نے ہمیں اذیت کی ہے ہمیں دشمن سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے جو اپنی جھالت کے سبب دشمن کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ ہماری بھی توہیں کرے اور ہمارے بے گناہ شیعوں کا قتل عام بھی کرے آج جتنااپنے شیعہ، مذہب کو نقصان پہنچارہے ہیں شاید دشمن اسے تصور ہی نہ کر سکتا ہو یہ جاھل اپنی جھالت کو علم ظاہر کرتے ہوئے غلط عقائد کو آئمہ علیہم السلام یا مذہب شیعہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور پھر دشمن اسی کو بہانہ بنا کر مومنین پر کفر و شرک کے بے بنیاد فتوے لگا کر مساجد اور امام بارگاہوں میں ان کا بے گناہ خون بہاتا ہے .لیکن یاد رکھیں عزیزان گرامی ! بانیان مجالس اور سامعین محترم اس بے گناہ خون میں برابر کے شریک ہیں اس لئے کہ یہ بانیان مجالس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے افراد کو دعوت دیں جو فرامین اہل بیت علیہم السلام سے لوگوں کو آگاہ کریں اور پھر خود بھی باعمل ہوں، ایسا نہ کہ لوگوں کو تو تبلیغ کریں مگر خود نماز تک ن پڑھتے ہوں! لوگوں کو ماتم کی فضیلت بتاتے ہوں مگر خود زندگی میں کبھی ماتم کیا ہی نہ ہو

عزیزان گرامی! یہ لوگ خائن ہیں، جاہل ہیں لیکن چونکہ ہم خود بھی تو دین سے آگاہی نہیں رکھتے کہ اچھے برے کو سمجھ سکیں لہذا ان کو ہمیں بے وقوف بنانے اور امام زمانہ ارواحنالہ الفداء کو اذیت پہنچانے کا موقع مل جاتا ہے ہماری گفتگو جہل کی دوسری قسم یعنی جھل تردید کے بارے میں تھی کہ مومن کو اپنے عقیدہ میں شک و تردید کا شکار نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ شک انسانی روح کے لئے ایسے ہی ہے جیسے خدانہ کرے کسی کی آنکھ میں خار دار کانٹاچبھا ہوا ہو کس قدر انسان پریشان ہوتا ہے اس کا بدن دکھی رہتا ہے اور جلد سے جلد اس کے علاج کے در پے ہوتا ہے اسی طرح شک بھی انسان کی روح کو ھمیشہ پریشان کئے رکھتا ہے وہ کوئی بھی فیصلہ صحیح طرح سے نہیں کر پاتا لہذا اس کے علاج میں بھی جلدی کرنا چاہئے اور پھر مومن توہے وہ جو شک کو عقیدہ میں آنے ہی نہیں دیتا .اس بارے میںامام صادق علیہ السلام سے دو روایتیں نقل کر رہا ہوں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :

ألمؤمن کالجبل الرّاسخ لا تحرّکه العواصف

مومن محکم پہاڑ کے مانند ہوتا ہے جسے آندھیاں اور طوفان اپنے مقام سے ہلا نہیں سکتے

جیسے سخت سے سخت آندھیاں اور طوفان پہاڑ کو اس کی جگہ سے حرکت نہیں دے سکتے اسی طرح زمانہ کے حالات اور تبدیلیاں مومن پر کبھی اثر انداز نہیں ہوتے اس کے عقیدہ کو کوئی شے متزلزل نہیں کرسکتی ، اور یہی وہ زمانہ ہوتا ہے کہ جب ثابت قدم مومنین ، شک وتردید کے شکار مومنین سے جدا ہوتے نظر آتے ہیں اس لئے کہ وہ ہر ایک کی بات کو قبول نہیں کرتے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے امام نے یہ فرمایا ہے :

ہماری غیبت کے زمانہ میں اگر کوئی نئی بات یا نیاعقیدہ تمھارے سامنے پیش کیا جائے تو اس کے بارے میں مت جھگڑو بلکہ جس طرح عمل کرتے چلے آرے ہو اسی پر باقی رہو یہاں تک کہ ہمارا ظہور ہو ( غیبت نعمانی)

آج پوری دنیا میں عقیدے کی جنگ جاری ہے اور خاص طور پر ہمارا ملک اس کا میدان بنا ہواہے اوراس کی وجہ بھی ہماری جہالت ہے جس سے دشمن بھر پور فائدہ اٹھارہا ہے .اور ہم آپس میں لڑ رہے ہیں ایسے حالات میں وہی اپنے ایمان کو بچا پائے گا جو ایمان مستقر کا حامل ہوگا آج کہیں نماز کے تشھّد میں أشھد أنّ علیا ولی اللہ کے نہ پڑھنے والوں کو دشمن اہل بیت کہا جارہا تو کہیں اذان میںسے اس مقدس گواہی کو نکالنے کی مذموم کوششیں کر کے جاہل مومنین کے ایمان کو، ان کے عقیدہ کو متزلزل کیا جارہا ہے لیکن جو مومنین اپنے امام کے فرمان سے آشنا ہیں وہ نہ ان کی بات پر توجہ کرتے ہیں اور نہ ان کی بات پر عمل کرتے ہیں بلکہ جس طرح علماء نے بیان فرمایا اور فقہاء نے فتوٰی دیا اور جس طرح پہلے عمل کر رہے اسی پر ثابت قدم ہیں. اسلئے کہ وہ جانتے ہیں کہ نہ ان کے اندر دین کادرد ہے اور نہ ہی اخلاص نام کی کوئی چیز، بلکہ ذاتیات کی جنگ ہے نام کی جنگ ہے شہرت کی جنگ ہے جس میں نقصان مومنین کا ہورہا ہے مومنین کی صفوںمیں پھوٹ ڈالی جارہی ہے زمانہ کے امام کو پریشان کیاجارہا ہے.

دوسری روایت: امام علیہ السلام فرماتے ہیںالمؤمن کالسّنبلة مومن گندم کی بالی کے مانند ہوتا ہے جس طرح گندم کی بالیاں ہوا کے ساتھ ساتھ مڑتی دکھائی دیتی ہیں لیکن پہاڑ کے مانند محکم ہوتی ہیں کبھی ٹوٹنے نہیں پاتیں.

اے نوجوانو! تم بھی اپنے عقیدہ میں پہاڑ کی طرح رہو،اسے دلیل سے مانواور اس پر ثابت قدم رہو. آج کچھ اور کل کچھ یہ درست بات نہیں ہے .آپ ایسے افراد کو جانتے ہوں گے جو آج اس کے مرید تو کل کسی اور کے مرید اور اس پہلے والے کے دشمن یہ کام ابتداء ہی سے اشتباہ ہے اور عام طور پر ایسا کام جاہل افراد ہی کرتے ہیں کہ کسی کی ایک اچھی تقریر سن لی فورا اس کے مرید بن گئے اور اس کے پیچھے دوڑنے لگے ، اس سے بڑھکر کسی کو عالم تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتے ، لیکن جیسے ہی اس سے کوئی اشتباہ ہوا فورا اس کے مخالف بن گئے

بعض گھرانوں کی عورتیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں .شوہر نے دس سال بیس سال اچھاسلوک کیا ، ہمیشہ ہر خواہش پوری کی لیکن ایک دن غصہ میں کچھ کہہ دیا یا کوئی خواہش پوری نہ کرسکا توفورا مزاج بگڑ گیا ، پوری زندگی کی نیکیاں بھول گئیں اور بعض اوقات تو یہ جملے بھی زبان پہ جاری ہونے لگتے ہیں کہ تجھ سے تو پوری زندگی نیکی دیکھی ہی نہیں ، معلوم ہے کہ اسے شروع ہی سے شوہر سے محبت نہیں تھی

یا اس کے برعکس ایک عورت گھر کے کاموں کوانتہائی سلیقے سے انجام دیتی ہے کھانا وقت پر آمادہ رکھتی ہے لیکن ایک دن غلطی سے دیر ہو گئی یا کھانا خراب ہو گیا تو ساری محبت ختم ہوگئی ،ڈانٹ پلانا شروع کردی .واضح ہے کہ پہلے ہی سے یہ محبت پہاڑ کے مانند نہیں تھی

عزیزان گرامی ! اگر کسی سے محبت کرو تو بھی پہاڑ کے مانند محکم اور اگر کسی شے پر عقیدہ رکھو تو بھی پہاڑ کے مانند محکم واستوار .یعنی انسان کو محکم ارادہ کا مالک ہونا چاہئے تاکہ اس کی دنیا اور آخرت سنور سکے ورنہ اگر شک و تردید اور جھالت میں زندگی گذار دی تو دنیاو آخرت دونوں میں گھاٹا ہی گھاٹا ہو گا