شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں16%

شيعہ جواب ديتے ہيں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

شيعہ جواب ديتے ہيں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 80589 / ڈاؤنلوڈ: 4413
سائز سائز سائز
شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

شیعہ جواب دیتے ہیں

(اہل سنت اور شیعہ کے ما بین دس اہم مورد بحث مسائل پر تحقیق)

۳

نام کتاب: شیعہ جواب دیتے ہیں

مؤلف: حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی

مترجم: معارف اسلام پبلشرز

ناشر: انتشارات نور مطاف

اشاعت: پہلی

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ _ق

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہیں _

۴

مقدمہ:

حمدہے اس ذات کے لیئے جس نے انسان کو قلم کے ساتھ لکھنا سکھایا اور درود و سلام ہواس نبی (ص) پر جسے اس نے عالمین کے لیئے سراپا رحمت بناکر مبعوث فرمایا اور سلام و رحمت ہو ان کی آل (ع) پر جنہیں اس نے پورے جہاں کے لیئے چراغ ہدایت بنایا _

اما بعد: آپ کے ہاتھوں میں موجود کتاب کے عظیم مصنف نے اس میں اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانے والے دس اختلافی مسائل پر انتہائی مختصر ، عام فہم اور منصفانہ بحث کی ہے_

مصنف کی روش یہ ہے کہ ایک مسئلہ کوپیش کرکے اس پر طرفین کی ادلہ ذکر کرتے ہیں اور آخر میں نتیجہ قارئین محترم پر چھوڑ دیتے ہیں تا کہ قارئین کرام خود فیصلہ کرسکیں کہ حق کس کے ساتھ ہے_

اللہ تعالی نے اس عظیم کتاب کے ترجمہ کی سعادت و توفیق بھی معارف اسلام پبلشرز کو عنایت فرمائی ہے اور اس خوبصورت ترجمہ اور تصحیح کی زحمت فاضل برادر جناب آقای سید محسن علی کاظمی و آقای عمران سہیل نے اٹھائی ہے _ خدا انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے ،ہمیں امید ہے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے درمیان وحدت کا باعث بنے گی_

معارف اسلام پبلشرز

۵

مقدمہ

یہ راستہ وحدت کی طرف نہیں جاتا

اس دنیا کے موجودہ حالات پر ایک اجمالی نگاہ دوڑانے سے پتہ چلتاہے کہ شدیدطوفان چل رہے ہیں ،پردے ہٹ چکے ہیں، دلفریب باتوں،انسانی حقوق کے دعوے ،ڈیموکریسی اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے نعروں کی حیثیت واضح ہوچکی ہے _ عالمی طاقتوں نے دوسرے ملکوں پر قبضہ کرنے کے لئے خطرناک سازشیں آمادہ کررکھی ہیں اور وہ لگے لپٹے الفاظ میں اپنے دل کی باتوں کو بیان کررہے ہیں_

اور کتنا اچھا ہو ا کہ انہوں نے ان تمام باتوں کا اظہار کردیا ہے اور اپنے اوپر بے جا اعتماد کرنیوالوں کی آنکھوں سے پردہ ہٹادیاہے_اور اب اللہ تعالی کے لطف و عنایت کے بعد قوموں کی اپنی قدرت و طاقت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ باقی نہیں رہی ہے_ہاں اپنے آپ کو طاقتور بنانا چاہیے کیونکہ دنیا کے اس نظام میں کمزور کو پایمال کیا جاتاہے_

ان شرائط میں اگر پوری دنیا کے مسلمان متحد ہوجائیں اور اپنی عظیم ثقافتی اور مادی طاقت کو استعمال کریں تو اسی صورت میں طاغوتی طاقتوں کے شر سے امان میں رہ سکتے ہیں_کئی سالوں سے ہر جگہ وحدت مسلمین کی باتیں زبانوں پر جاری ہیں_ ہفتہ وحدت کی تشکیل ، وحدت کے

۶

سلسلہ میں کانفرنسوں اور سیمیناروں کے انعقادکی خبروں کا چرچاہے_

اگر چہ ان اقدامات کے سیاسی اور اجتماعی میدانوںمیں اچھے آثار سامنے آئے ہیں اور دشمن خوفزدہ ہوگئے ہیں _ لیکن ابھی تک ان اقدامات سے ایسی وحدت وجود میں نہیں آئی جس کا لازمہ ان عظیم طوفانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور مقاومت کرنا ہو_

اس بات کے اسباب کو چند امور میں خلاصہ کیا جاسکتاہے:

۱_اس سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات بنیادی نہیں تھے جس کی وجہ سے مسئلہ وحدت اسلامی ،معاشروں کے عمق اور مسلمانوں کے افکار میں نفوذ نہیں کرسکاہے تا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک ہی راستے پر اکٹھا کرتا_

۲ _ دشمنوں نے بدگمانی ، سوء ظن، اختلاف اور نفاق ایجاد کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر کام کیاہے _ اور جسطرح خبروں سے اندازہ ہوتاہے انہوں نے ان مسائل کو عملی بنانے کے لیے مادی اعتبار سے بھی بہت بھاری سرمایہ مختص کیا ہوا ہے اور اپنے شوم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے دونوں طرف سے متعصب اور شدت پسند افراد کو استعمال کرتے ہیں _ من جملہ:

الف) ہمیں با وثوق ذرائع سے معلوم ہواہے کہ حال ہی میں سعودی عرب کے متعصب سلفیوں نے ایک کروڑ تفرقہ انگیز کتابیں چھپواکر حجاج کے درمیان تقسیم کی ہیں اور حج جو مسلمانوں کی وحدت کا ذریعہ تھا، کو نفاق کے وسیلہ میں تبدیل کردیا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اس قسم کے کام ہر سال کیے جاتے ہیں_

ب) حج اور عمرہ کے ایام میں متعصب وہابی خطیب نفاق پیداکرنے کے لیے زہر اگلنے کا کام کرتے ہیں اور ایران و سعودی عرب کے اچھے تعلقات کے باوجود انہوں نے شیعوں کے

۷

خلاف حملے اور زیادہ کردیے ہیں _

ج) سپاہ صحابہ کے حملے اور مظلوم و بے گناہ افراد کا وحشیانہ قتل، اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک اس قتل و غارت اور دہشت گردی پر فخر کرناہے جسے آئے دن تھوڑے تھوڑے وقفی انجام دیا جاتاہے_ یہ بات سب لوگوں پرعیاں ہے_

د) طالبان جیسے انتہا پسندگروہوں کو اکسانا، شواہد کے مطابق یہ کام بھی امریکی ایجنسیوں کی طرف سے انجام پانے والا ایک خطرناک کام تھا تا کہ ایک طرف تو اسلام کے چہرے کو بدنما، بے رحم اور علم و دانش اور تہذیب و تمدن سے بے بہرہ ظاہر کریںاور دوسری طرف مسلمانوں کے درمیان تفریق کو زیادہ کریں_اگر چہ یہ مغربی سیاست کے سائے میں پلنے والا گروہ آخر کار انکے کنٹرول سے خارج ہوگیا تھا اور خود ان ہی کے خلاف برسرپیکار ہوگیا تھا _ اسطرح جب امریکہ کو اپنے نمک خواروں کے تلخ نتائج کا سامنا کرنا پڑا تووہ انکے ختم کرنے کے درپے ہوا_

۳_بعض اسلامی سیاستدانوں کی کوتاہ فکری بھی پائیدار وحدت کے اہداف کے حصول میں مانع ثابت ہوئی کیونکہ انہوں نے ۱پنے محدود اوروقتی منافع کو ،عالم اسلام کے طولانی منافع پر مقدم کیا _ مثال کے طور پر ہم بعض اسلامی ممالک کو جانتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے محدود اورکم اہمیت منافع کی خاطر اسرائیل کے ساتھ بہت زیادہ سیاسی اور اقتصادی تعاون کیا، یہاںتک کہ اس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کیں اور یہ بات آج سب پر آشکار ہوچکی ہے_

بہر حال جو چیز علمائے اسلام کے اختیار میں ہے وہ یہ کہ ضمناً ان غلطیوں کے برے نتائج کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اور اس جانب متوجہ کرتے ہوئے کہ کوئی ملک یا اسلامی گروہ ، ان

۸

اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کی ظالمانہ اور بے رحم سیاست سے امان میں نہیں رہے گا ،یہ کریں کہ جہاں تک ممکن ہو مذہبی مسائل کو شفاف بنائیں تا کہ دشمنوں کو زہر اگلنے اور انتہا پسند و متعصب گروہوں کو سوء ظن پیداکرنے کا موقع نہ مل سکے_

اس نکتہ کے پیش نظر ہم نے اس کتاب میں کہ جو قارئین محترم کے ہاتھ میں ہے، مسلمانوں کی صفوں کو تقویت پہنچانے کے لئے ایک جدید اور دلکش روش سے استفادہ کیاہے_ اس روش میں یہ مسئلہ مکمل طور پر روشن ہوجائیگا کہ مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں اور اہلسنت کے درمیان اہم اختلافی مسائل کی بنیاد خود انکی اپنی مشہور کتابیں ہیں اور ان مسائل میں شیعہ حضرات کے نظریات کی واضح اور روشن دلیلیں اہل سنت کی اپنی کتابوں میں موجود ہیں_ اہلسنت کے ایک آزاد فکر عالم دین کے بقول ''شیعہ اپنے مذہب کے تمام اصول اور فروع کو ہماری کتب سے ثابت کرسکتے ہیں''_

اگر یہ بات ثابت ہوجائے ، کہ انشاء اللہ اس کتاب میں ثابت ہوجائیگی، تو پھر مکتب اہلبیت (ع) کے پیروکاروں کے عقائد کی نسبت کسی طرح کے تردد، مذمت یا شبہہ ایجاد کرنے کی گنجائشے باقی نہ رہے گی_بلکہ یہ بات یقینا منطقی اور منصف مزاج افراد سے سوء ظن کو برطرف کرنے اور مسلمانوں کی صفوںمیں اتحاد پیدا کرنے نیز حسن ظن رکھنے کا باعث بنے گی اور ایران جو ایک قدرتمند اسلامی ملک ہے اسی طرح اسلام کے مدافع کے اعتبار سے باقی رہے گا ، اور اسی طرح تمام شیعیان جہان بھی _اب حضور والایہ آپ اور یہ ہماری دلیلیں !

۹

۱

قرآن ھر قسم کی تحریف سے منزہ ہے

۱۰

عدم تحریف قرآن:

شیعوں کے خلاف ہونے والے جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ آج جو قرآن مجیدہمارے اور تمام مسلمانوں کے پاس ہے یہ بالکل وہی قرآن مجید ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوا اور اس میں حتی ایک لفظ کی بھی کمی و زیادتی نہیں ہوئی ہے _ ہم نے اس مسئلہ کو اپنی تفسیر ، اصول فقہ و غیرہ کی متعدد کتب میں وضاحت کے ساتھبیان کیا ہے اور عقلی و نقلی ادلّہ کے ذریعہ اسے ثابت کیا ہے _

ہم قائل ہیں کہ تمام مسلمان علماء اعم از شیعہ و سنی کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن مجید میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا ہے اور دونوں مذہب کے محققین کی اکثریت جو اتفاق کے قریب ہے اس بات کی قائل ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بھی واقع نہیں ہوئی ہے _

دونوں طرف کے چند گنے چُنے افراد اس بات کے قائل ہیں کہ قرآن مجید میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مشہور علماء اسلام ان کی اس بات کے طرفدار نہیں ہیں_

فریقین کی دو کتابیں:

ان گنتی کے چند علماء میں سے ایک اہل سنت عالم دین ''ابن الخطیب مصری'' ہیں جنہوں نے ''الفرقان فی تحریف القرآن''نامی کتاب لکھی جو ۱۹۴۸عیسوی بمطابق

۱۱

(۱۳۶۷ ہجری قمری)میں نشرہوئی _ لیکن بروقت الازہر یونیورسٹی کے علماء اس کتاب کی طرف متوجہ ہوگئے اور انہوں نے،اس کتاب کے نسخوں کو جمع کرکے ضائع کردےالیکن اس کے چند نسخے غیر قانونی طور پر آس پاس کے لوگوں تک پہنچ گئے_

اسی طرح ایک کتاب (فصل الخطاب فی تحریف کتاب ربّ الا رباب) کے نام سے شیعہ محدث حاجی نوری کے توسط سے لکھی گئی جو ۱۲۹۱ہجری قمری میں شائع ہوئی_اس کتاب کے شائع ہوتے ہی حوزہ علمیہ نجف اشرف کے بزرگ علماء نے اس کتاب کے مطالب سے اظہار برائت کیا اور اس کتاب کی جمع آوری کا حکم دیدیا_اور اس کے بعد کئی کتابیں اس کے رد میں لکھی گئیں_جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں_

۱_نامور فقیہ مرحوم محمود بن ابی القاسم المعروف بہ معرب طہرانی (متوفی سال ۱۳۱۳ھ_ق) نے (کشف الارتیاب فی عدم تحریف الکتاب)نامی کتاب لکھی جو کتاب فصل الخطاب کا ردّ تھا_

۲_مرحوم علامہ سید محمد حسین شہرستانی (متوفی۱۳۱۵ھ_ق )نے بھی ایک کتاب بنام (حفظ الکتاب الشریف عن شبہة القول بالتحریف)حاجی نوری کی کتاب فصل الخطاب کے جواب میں لکھی _

۳_مرحوم علامہ بلاغی (متوفی ۱۳۵۲ھ_ق ) حوزہ علمیہ نجف کے عظیم محقق نے بھی اپنی مشہور کتاب (تفسیر آلاء الرحمن )میں ایک قابل ملاحظہ باب ،فصل الخطاب کے رد میں لکھا ہے(۱)

____________________

۱) آلاء الرحمن ،جلد ۱ص ۲۵_

۱۲

۴_ہم نے بھی اپنی کتاب (انوار الاصول )میں عدم تحریف قرآن مجید کے بارے میں انتہائی مفصل بحث کی ہے اور فصل الخطاب کے شبہات کا دندان شکن جواب دیا ہے_

مرحوم حاجی نوری اگر چہ عالم دین تھے لیکن بقول علامہ بلاغی انہوں نے ضعیف روایات پر اعتماد کیا ہے اور مذکورہ کتاب شائع ہونے کے بعد خود بھی نادم و پشیمان ہوئے_اور حوزہ علیمہ نجف اشرف کے تمام بزرگ علماء نے اس اقدام کو واضح طور پر ایک غلطی قرار دیاہے_(۱)

اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کتاب فصل الخطاب کے شائع ہونے کے بعد ہر طرف سے حاجی نوری کی مخالفت کا ایسا عظیم طوفان اٹھا کہ وہ خود اپنے دفاع میں ایک رسالہ لکھنے پر مجبور ہوگئے جس میں انہوں نے لکھا کہ میری مراد عدم تحریف قرآن مجید تھی لوگوں نے میری تعبیرات سے سوء استفادہ کیا ہے_(۲)

مرحوم علامہ سید ھبة الدین شہرستانی کہتے ہیں کہ میں اس وقت سامرا میں تھا اور میرزا شیرازی بزرگ نے اس وقت سامرا کو علم و دانش کا مرکز بنا دیا تھا _جس محفل میں بھی ہم جاتے ہر طرف سے حاجی نوری اور اُن کی کتاب کے خلاف صدائیں بلند ہوتی تھیں _اور بعض لوگ تو انتہائی نازیباالفاظ کے ساتھ انکو یا دکرتے تھے(۳)

کیااتنی مخالفت کے با وجود بھی حاجی نوری کی باتوں کو شیعہ عقیدہ شمار کرنا چاہیے؟ بعض

____________________

۱) آلاء الرحمن ،جلد ۲ ص ۳۱۱_

۲) الذریعہ ، جلد ۱۶ص ۲۳۱_

۳) برہان روشن،ص ۱۴۳_

۱۳

متعصب وہابی اس کتاب (فصل الخطاب)کو بہانہ بنا کر تحریف قرآن کے نظریہ کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہیں حالانکہ :

۱_ایک کتاب کی تالیف اس مسئلہ میں شیعہ عقیدہ پر دلیل بن سکتی ہے تو پھراس تحریف قرآن والے نظریہ کو علمائے اہل سنت کی طرف بھی نسبت دینی چاہیے کیونکہ ابن الخطیب مصری نے بھی تو(الفرقان فی تفسیر القرآن)نامی کتاب لکھی تھی اور اگر جامعة الازہر کے علماء کی تردید اس کتاب کے مطالب کی نفی پر دلیل بن سکتی ہے تو علمائے نجف اشرف کا اظہار برائت بھی فصل الخطاب کے مفاہیم کی نفی پردلیل بن سکتاہے_

۲_اہل سنت کی دو مشہور تفاسیر ، تفسیر قرطبی،اور تفسیر در المنثورمیں حضرت عائشےہ (زوجہ رسول(ص) سے نقل کیا گیا ہے کہ :

(و انّها _ای سورة الاحزاب (۱۱) کانت ماتی آیة فلم یبق منها الّا ثلاثٌ و سبعین )(۱)

سورة الاحزاب کی ۲۰۰ آیات تھیں اور اب ۷۳ سے زیادہ باقی نہیں بچی ہیں

اس سے بڑھ کر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی ایسی روایات نظر آتی ہیں جن سے تحریف کی بُو آتی ہے(۲)

لیکن ہم ہر گز کسی ایک مصنف یا چند ضعیف روایات کی وجہ سے تحریف والے قول کو اہل سنت کی طرف نسبت نہیں دیتے ہیں_

اسی طرح انہیں بھی کسی ایک مصنف یا چند ضعیف روایات کی وجہ سے کہ جنکا جمہور علمائے

____________________

۱) تفسیر قرطبی،جلد ۱۴ص ۱۱۳و تفسیر الدر المنثور ،جلد ۵ ص ۱۸۰_

۲) صحیح بخاری ،جلد ۸ص ۲۰۸ تا ۲۱۱و صحیح مسلم ،جلد ۴، ص ۱۶۷و جلد ۵ ،ص ۱۱۶_

۱۴

شیعہ نے انکار کیا ہے ،اس قول تحریف کو شیعوںکی طرف نسبت نہیں دینی چاہیے_

۳_حاجی نوری کی کتاب فصل الخطاب میں عام طور پر ان تین راویوں سے احادیث لی گئی ہیں کہ جو یا تو فاسد المذہب ،یا کذّاب اورجھوٹے یا مجہول الحال ہیں _(احمد ابن محمد السیاری ،فاسد المذهب ،علی ابن احمد کوفی، کذّاب،اور ابی الجارود مجهول یا مردود )(۱)

فرقہ و ارانہ دشمنی کی خاطر اسلام کی جڑوں کوکھوکھلانہ کیا جائے _

۴_جن لوگوں کا اصرار ہے کہ مذہب شیعہ کو تحریف قرآن کے عقیدہ سے متہم کیا جائے ، گویا وہ اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ فرقہ وارانہ خصومت کی خاطر وہ اسلام کی جڑیں کاٹ رہے ہیں _کیونکہ غیر مسلم لوگ کہیں گے کہ عدم تحریف کا عقیدہ مسلمانوں کے در میان مسلم اور متفقہ عقیدہ نہیں ہے _

کیونکہ ایک عظیم گروہ تحریف قرآن کا قائل ہے _ ہم ان بھائیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ فرقہ واریت اور تعصب آمیز دشمنی کی خاطر قلب اسلام یعنی قرآن مجید کو نشانہ نہ بنائیں_آیئےسلام اور قرآن پر رحم کیجئے اور بے جا تحریف کی باتوں کو اُچھال کر دشمن کو موقع فراہم نہ کیجئے_

۵_شیعوں کے خلاف یہ تہمت اور افترا اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک مرتبہ ہم عمرہ کی خاطر بیت اللہ مشرف ہوئے _ سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور سے ہماری ملاقات ہوئی اس نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا _لیکن کہنے لگا تمہارا قرآن ہمارے قرآن سے مختلف ہے (سمعت ان لکم مصحفا غیر مصحفنا )

____________________

۱) ان تین راویوں کے مزید حالات کے لیے رجال نجاشی،فہرست شیخ اور دیگر رجالی کتب کی طرف مراجعہ کیا جائے _

۱۵

میں نے جواب میں کہا ،اس بات کو آزمانا انتہائی آسان ہے _آپ خود ہمارے ساتھ تشریف لے چلیے یا اپنا نمائندہ بھیج دیں(تمام اخراجات ہمارے ذمہ ہونگے )واپس تہران چلے چلتے ہیں_ قرآن مجید تمام مساجد اور گھروں میں موجود ہیں _تہرا ن میں ہزاروں مسجدیںاور لاکھوں گھر ہیں _مسجد یا گھر کا انتخاب آپکے نمائندے کے اختیار میں ہوگا _وہ جس گھر کا انتخاب کرے گا ہم اُس دروازے پر دستک دیکر قرآن مجید طلب کریں گے اس وقت آپ دیکھ لینا کہ شیعوں کے گھروں میں موجود قرآن مجید، دیگر مسلمان ممالک کے قرآن مجید کے ساتھ ایک لفظ کا بھی فرق نہیں رکھتا ہے _ آپ جیسے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں کو اس قسم کی جھوٹی افواہوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے

۶_ہمارے بہت سے قاری، انٹرنیشنل مقابلہ قرا ت میں اوّل نمبر پرآئے ہیں _ہمارے حافظ ، بالخصوص ہمارے کمسن حفاظ نے بہت سے اسلامی ممالک میں تعجب خیز اور قابل تحسین قرآنی منظر پیش کیئے ہیں_ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہمارے حفّاظ اور قاریوں میں اضافہ ہوتا ہے_ ہمارے وسیع و عریض ملک میں جگہ جگہ حفظ ،قرا ت،تفسیر قرآن کی کلاسیں اور علوم قرآن کے کالج و یونیورسٹیاں موجود ہیں _ان تمام چیزوں کا اثبات ،نزدیک سے مشاہدہ کے ذریعہ تمام لوگوں کے لئے آسان ہے _

ان تمام موارد میں صرف اسی قرآن مجید سے استفادہ کیا جاتا ہے جو تمام مسلمان ممالک میں متداول ہے اور ہمارا کوئی بھی باشندہ اس معروف قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کو نہیں پہچانتا ہے _ اور ہمارے ہاں کسی بھی مجلس یا محفل میں تحریف قرآن کی بات نہیںکی جاتی ہے_

۱۶

عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں :

۷_ہمارے عقیدہ کے مطابق بہت سے عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں جو قرآن مجید کی عدم تحریف پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایک تو خود قرآن مجید فرماتا ہے :( انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحافظون ) (ہم نے قرآن مجید کو نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے(۱) ایک اور مقام پریوں ارشاد ہوتا ہے:

( و انه لکتاب عزیز_لایا تیه الباطل من بین یدیه و لا من خلفه تنزیل من حکیم حمید ) _(۲)

''یہ کتاب شکست ناپذیر ہے _اس میں باطل اصلا سرایت نہیں کر سکتا ہے نہ سامنے سے ا ور نہ پیچھے کی طرف سے کیونکہ یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ''

کیا اس قسم کی کتاب جسکی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالی نے لی ہو اس میں کوئی تحریف کرسکتا ہے ؟

اور ویسے بھی قرآن مجید کوئی متروک اور بھلائی گئی کتاب نہیں تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کرسکے _

کاتبان وحی کی تعدادچودہ سے لیکر تقریبا چار سو (۴۰۰) تک نقل کی گئی ہے _جیسے ہی کوئی آیت نازل ہوتی یہ افراد فورا اسے لکھ لیتے تھے _ علاوہ بر این سینکڑوں حافظ قرآن پیغمبر اکرم (ص) کے زمانہ میں تھے جو آیت کے نازل ہوتے ہی اس کو حفظکر لیتے تھے اور قرآن مجید کی

____________________

۱) سور ةحجر آیت ۹_

۲) سورة فصلت آیت ۴۱و ۴۲_

۱۷

تلاوت کرنا اس زمانے میں انکی سب سے اہم عبادت شمار ہوتی تھی _ اور دن رات قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی تھی _

اس سے بڑھ کر قرآن مجید، اسلام کا بنیادی قانون اور مسلمانوں کی زندگی کا آئین و اصول تھا اور زندگی کے ہر شعبے میں قرآن مجید حاضر و موجود تھا _

عقل یہ حکم لگاتی ہے کہ ایسی کتاب میں تحریف اور کسی کمی اور زیادتی کا امکان نہیں ہے_

آئمہ معصومینسے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی قرآن مجید کی عدم تحریف اور تمامیت پر تاکید کرتی ہیں _

امیر المومنین علی _ ،نہج البلاغہ میں واضح الفاظ میں فرماتے ہیں ;

(انزل علیکم الکتاب تبیانا لکل شی و عمر فیکم نبيّه ازمانا حتی اکمل له و لکم فیما انزل من کتاب، دینه الذی رضی لنفسه )(۱)

(اللہ تعالی نے ایسا قرآن مجید نازل کیا جو ہر شے کو بیان کرتا ہے پھراس نے اپنے پیغمبر (ص) کو اتنی عمر عطا فرمائی کہ وہ اپنے دین کوتمہارے لیے قرآن مجید کے وسیلہ سے کامل کردیں _

نہج البلاغہ کے خطبوں میں بہت سے مقامات پر قرآن مجید کا تذکرہ ہوا ہے لیکن کہیں بھی قرآن مجید کی تحریف سے متعلق زرہ برابراشارہ نہیں ملتا بلکہ قرآن مجید کے کامل ہونے کو بیان کیا گیا ہے_

____________________

۱) نہج البلا غہ خطبہ ۸۶_

۱۸

۲۱ نویں امام حضرت امام محمد تقی _ اپنے ایک صحابی کو لوگوں کے حق سے منحرف ہو جانے کے بارے میں فرماتے ہیں _

(و کان من نبذهم الکتاب ان ا قامو حروفه و حرفو حدودهُ )(۱)

بعض لوگوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے ،وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ کو انہوں نے حفظ کرلیا ہے اور اس کے مفاہیم میں تحریف کی ہے_

یہ اور اسکی مانند دیگر احادیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ اس کے معانی میں تحریف ہوئی ہے _ بعض لوگ اپنی خواہشات اور ذاتی منافع کی خاطر آیات کی خلاف واقع تفسیر و تو جیہ کرتے ہیں _یہاںسے ایک اہم نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر بعض روایات میں تحریف کی بات ہوئی بھی ہے تو اس سے تحریف معنوی اور تفسیر بالرائی مراد ہے نہ الفاظ و عبارات کی تحریف_

دوسری طرف سے بہت سی معتبر روایات جو ائمہ معصومینسے ہم تک پہنچی ہیں میں بیان کیا گیا ہے کہ روایات کے صحیح و ناصحیح ہونے کی تشخیص کے لئے بالخصوص جب انکے در میان ظاہراً تضاد و اختلاف پایا جارہاہو تو معیار ،قرآن مجید کے ساتھ تطبیق دینا ہے _ جو حدیث قرآن مجید کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو حدیث قرآن مجید کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے _

____________________

۱) کافی ،جلد۸ ص ۵۳_

۱۹

(اعرضوا هما علی کتاب الله فما وافق کتاب الله فخذوه و ما خالف کتاب الله فردّوه )(۱)

یہ بالکل واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے_ کیونکہ اگر تحریف ہوجاتی تو قرآن مجید حق و باطل کی تشخیص کا معیار قرار نہیں پاسکتاتھا_

ان تمام ادلہ سے بڑھ کر مشہور حدیث ''حدیث ثقلین'' شیعہ و اہل سنت کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل ہوئی ہے(۱) جس میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

(انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلو )

میں تمہارے در میان دو یادگارگرانبہا چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت ہے اگر ان دونوں سے تمسک رکھا تو ہر گز گمراہ نہیں ہوگے _

یہ پر مغز حدیث شریف بالکل واضح کررہی ہے کہ قرآن مجید ،عترت پیغمبر(ص) کے ساتھ قیامت تک لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک انتہائی مطمئن پناہ گاہ ہے _ اب اگر قرآن مجید خود تحریف کا شکار ہو جا تا تو وہ کس طرح لوگوں کے لئے ایک مطمئن پناہ گاہ بن سکتا تھا اور انہیں ہر قسم کی گمراہی سے نجات دلا سکتا تھا_

اختتامیہ کلمات:

آخری بات یہ ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ گناہ کبیرہ ہے کہ کسی پر ایسی بات یا ایسے کام کی تہمت لگائی جائے جو اس نے نہ کہی ہو یا اُسے انجام نہ دیا ہو _

____________________

۱) وسائل الشیعہ ،جلد ۱۸ص ۸۰_

۲۰

ہم نے ہر مقام پر کہا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ کے علماء و محققین میں سے کوئی بھی (خود انکی اپنی کتابوں کی گواہی کے مطابق) تحریف کا قائل نہیں تھا اور نہ ہے _لیکن پھر بھی بعض تعصب اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ اس تہمت پر اصرار کرتے ہیں _پتہ نہیں قیامت والے دن وہ کیا جواب دیں گے کیونکہ ایک طرف تو تہمت لگا رہے ہیں اور دوسری طر ف قرآن مجید کی اہمیت کو کم کررہے ہیں _

اگر آپ کا بہانہ وہ بعض ضعیف روایات ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں تو اس قسم کی ضعیف روایات آپ کی حدیث و تفسیر کی کتابوں میں بھی موجود ہیں_ جنکی طرف پہلے اشارہ کیاجاچکا ہے_

کوئی بھی مذہب ضعیف روایات کی بنا پر استوارنہیں ہوتا ہے _

اور ہم نے کبھی بھی ابن الخطیب مصری کی کتاب (الفرقان فی تحریف القرآن ) کی خاطر یا آپ کی ان ضعیف روایات کی خاطر جو تحریف قرآن پر مشتمل ہیں آپ پر تحریف قرآن کی تہمت نہیں لگائی _ اور ہم کبھی بھی قرآن مجید کو تخریب کاری کرنے والے تعصّب کا شکار نہیں ہونے دیں گئے_

دن رات تحریف قرآن کی باتیں نہ کیجئے _ اسلام ،مسلمین اور قرآن مجید پر ظلم نہ کیجئے اور اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے بار بار تحریف قرآن کی رٹ لگا کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے اصلی سرمائے یعنی قرآن مجید کے اعتبار کو کم نہ کیجئے _دشمن کو بہانہ فراہم نہ کیجئے _تم اگر اس طریقے سے شیعوں اور اہل بیت (ع) کے پیروکاروں سے انتقام لینا چاہتے ہو تو جان لوتم جہالت

۲۱

اور نادانی سے اسلام کی بنیادوں کو کھو کھلا کررہے ہو_کیونکہ تم کہتے ہو کہ مسلمانوں کا ایک عظیم گروہ تحریف قرآن کا قائل ہے اور یہ قرآن مجید پر ظلم عظیم ہے _

آخر میں پھر ایک دفعہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ شیعہ اوراہل سنت کا کوئی محقق بھی تحریف قرآن کا قائل نہیں ہے بلکہ سب علما ء اس قرآن مجید کو جو پیغمبر (ص) اکرم پر نازل ہوا اور جو آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے ایک ہی سمجھتے ہیں _اور خود قرآن مجید کی تصریح کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اُٹھایا ہے اور ہر قسم کی تحریف ،تبدیلی اور زوال سے اسے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی ہے _

لیکن دونوں طرف سے بعض بے خبر، نا آگاہ متعصب قسم کے لوگ ،ایک دوسرے کی طرف تحریف کی نسبت دیتے ہیں اور اس مسئلے کو اختلاف کے عروج تک پہنچادیتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو ہدایت فرمائے _(آمین)

۲۲

۲

''تقیہ'' قرآن و سنت کے آئینہ میں

۲۳

دوسرا مسئلہ جس پر ہمیشہ ہمارے متعصب مخالفین اور بہانہ تلاش کرنے والے افراد، مکتب اہلبیت کے پیروکاروں پر تشنیع کرتے ہیں ،''تقیہ''کا مسئلہ ہے _

وہ کہتے ہیں تم کیوں تقیہ کرتے ہو؟کیا تقیہ ایک قسم کا نفاق نہیں ہے ؟

یہ لوگ اس مسئلہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ گویا تقیہ کوئی حرام کام یا گناہ کبیرہ یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی گناہ ہے _یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو مخصوص شرائط کے ساتھ جائز شمار کیا ہے _اور خود انکے اپنے مصادر میں منقول روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں _اور اس سے بڑھ کر تقیہ (اپنی مخصوص شرائط کے ساتھ)ایک واضح عقلی فیصلہ ہے _خود ان کے بہت سے لوگوں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کا تجربہ کیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں _

اس بات کی وضاحت کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے _

۱-تقیہ کیا ہے ؟

تقیہ یہ ہے کہ انسان اپنے مذہبی عقیدہ کو شدیداور متعصب مخالفین کے سامنے کہ جو اس کے لئے خطرہ ایجاد کرسکتے ہوں چھپا لے_ مثال کے طور پر اگر ایک موحّد مسلمان،ہٹ دھرم بت پرستوں کے چنگل میں پھنس جائے، اب اگر وہ اسلام اور توحید کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس کا خون بہا دیں گے یا اسے جان ،مال یا ناموس کے اعتبار سے شدید نقصان پہنچائیں گے _ اس

۲۴

حالت میں مسلمان اپنے عقیدہ کو ان سے پنہاں کر لیتا ہے تا کہ انکے گزند سے امان میں رہے یا مثلا،اگر ایک شیعہ مسلمان کسی بیابان میں ایک ھٹ دھرم وہابی کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے جو شیعوں کا خون بہانا مباح سمجھتا ہے _ اس حالت میں وہ مومن اگر اپنی جان،مال اور ناموس کی حفاظت کے لئے اُس وہابی سے اپنا عقیدہ چھپا لیتا ہے تو ہر عاقل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسی حالت میں یہ کام مکمل طور پر منطقی ہے اور عقل بھی یہاں یہی حکم لگاتی تھے _کیونکہ خواہ مخواہ اپنی جان کو متعصب لوگوں کی نذرنہیں کرنا چاہیئے

۲_تقیہ اور نفاق کا فرق:

نفاق بالکلتقیہ کے مقابلے میں ہے_ منافق وہ ہوتا ہے جو باطن میں اسلامی قوانین پر عقیدہ نہ رکھتا ہو یا انکے بارے میں شک رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کے در میان اسلام کا اظہار کر تا ہو_

جس تقیہ کے ہم قائل ہیں وہ یہ ہے کہ انسان باطن میں صحیح اسلامی عقیدہ رکھتا ہو، البتہ صرف ان شدت پسند وہابیوں کا پیروکارو نہیں ہے جو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور انکے لیے کفر کا خط کھینچ دیتے ہیں اور انہیں دھمکیاںدیتے ہیں_ جب بھی ایسا با ایمان شخص اپنی جان،مال یا ناموس کی حفاظت کے لئے اس متعصب ٹولے سے اپنا عقیدہ چھپا لے اس کو تقیہ کہتے ہیں اور اسکے مقابل والا نکتہ نفاق ہے_

۳_تقیہ عقل کے ترازو میں :

تقیہ حقیقت میں ایک دفاعی ڈھال ہے_ اسی لیے ہماری روایات میں اسے (تُرس

۲۵

المومن ) یعنی (باایمان لوگوں کی ڈھال)کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے _کسی انسان کی عقل اجازت نہیں دیتی کہ انسان اپنے باطنی عقیدہ کا خطرناک اور غیر منطقی افراد کے سامنے اظہار کرے اور خواہ مخواہ اپنی جان، مال یا ناموس کو خطرے میں ڈالے _کیونکہ بلاوجہ طاقت اوروسائل کو ضائع کرنا کوئی عقلی کام نہیں ہے _

تقیہ:اس طریقہ کار کے مشابہہ ہے جسے تمام فوجی ،میدان جنگ میں استعمال کرتے ہیں اپنے آپ کو دختوں ،سرنگوں اور ریت کے ٹیلوںکے پیچھے چھپا لیتے ہیں اور اپنا لباس درختوں کی شاخوں کے رنگ جیسا انتخاب کرتے ہیں تا کہ بلا وجہ ان کا خون ہدر نہ جائے _

دنیا کے تمام عقلاء اپنی جان کی حفاظت کے لئے سخت دشمن کے مقابلے میں تقیہ والی روش سے استفادہ کرتے ہیں_ کبھی بھی عقلائ، کسی کو ایسا طریقہ اپنا نے پر سرزنش نہیں کریںگے_آپ دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ڈھونڈسکتے جو تقیہ کو اس کی شرائط کے ساتھ قبول نہ کرتاہو_

۴_تقیہ کتاب الہی میں :

قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو کفار اور مخالفین کے مقابلہ میں جائز قراردیا ہے _ مثال کے طور پر چند آیات پیشخدمت ہیں_

الف)آل فرعون کے مؤمن کی داستان میں یوں بیان ہوا ہے _

( و قال رجل مومن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله و قد جاء کم

۲۶

بالبینات ) (۱)

آل فرعون میں سے ایک باایمان مرد نے کہ جو (موسی کی شریعت پر) اپنے ایمان کو چھپا تا تھا کہا: کیا تم ایسے مرد کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اوروہ اپنے ساتھ واضح معجزات اور روشن دلائل رکھتا ہے_

پھر مزید مؤمن کہتا ہے (اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اگر جھوٹ کہتا ہے تو اسجھوٹ کا اثر اس کے دامن گیر ہوگا اور اگر سچ کہتا ہے تو ممکن ہے بعض عذاب کی جو دھمکیاں اس نے سنائی ہیں وہ تمہارے دامن گیر ہوجائیں)پس اس طریقے سے آل فرعون کے اس مومن نے تقیہ کی حالت میں (یعنی اپنے ایمان کو مخفی رکھتے ہوئے ) اس ھٹ دھرم اور متعصب ٹولے کو کہ جو حضرت موسی (ع) کے قتل کے درپے تھا ضروری نصیحتیں کردیں _

ب)قرآن مجید کے ایک دوسرے صریح فرمان میں ہم یوں پڑھتے ہیں _

( لایتخذ المومنون الکافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلک فلیس من الله فی شئی الا ان تتقو منهم تقاة ً ) ___(۲)

مومنین کو نہیں چاہیے کہ کفار کو اپنا دوست بنائیں _ جو بھی ایسا کریگا وہ خدا سے بیگانہ ہے ہاں مگر یہ کہ تقیہ کے طور پر ایسا کیا جائے _

اس آیت میں دشمنان حق کی دوستی سے مکمل طور پر منع کیا گیا ہے مگر اس صورت میں اجازت ہے کہ جب ان کے ساتھ اظہار دوستی نہ کرنا مسلمان کی آزار و اذیت کا سبب بنے، اس وقت ایک دفاعی ڈھال کے طور پر ان کی دوستی سے تقیہ کی صورت میں فائدہ اٹھایا جائے_

____________________

۱)سورہ غافر آیت ۲۸_

۲)سورہ آل عمران آیت ۲۸_

۲۷

ج) جناب عمار یاسر اور انکے ماں ،باپ کی داستان کو تمام مفسرین نے نقل کیا ہے _ یہ تینوںاشخاص مشرکین عرب کے چنگل میں پھنس گئے تھے _اور مشرکین نے انہیں پیغمبر اکرم (ص) سے اظہار براء ت کرنے کوکہا _جناب عمار کے والدین نے اعلان لا تعلقی سے انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے _لیکن جناب عمار نے تقیہ کرتے ہوئے انکی مرضی کی بات کہہ دی_ اور اس کے بعد جب گریہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی _

( من کفر بالله من بعد ایمانه الا من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۱)

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائیں انکے لئے شدید عذاب ہے مگر وہ لوگ جنہیں مجبور کیا جائے_

پیغمبر اکرم (ص) نے جناب عمار کے والدین کو شہداء میں شمار کیا اور جناب عمار یاسر کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور فرمایا تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر پھر مشرکین تمھیں مجبور کریں تو انہی کلمات کا تکرار کرنا_تمام مسلمان مفسرین کا اس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ آیت جناب عمار یاسر اور انکے والدین کے بارے میں نازل ہوئی اور بعد میں رسول خدا (ص) نے یہ جملات بھی ادا فرمائے_ تو اس اتفاق سے عیاں ہوجاتا ہے کہ سب مسلمان تقیہ کے جواز کے قائل ہیں_ ہاں یہ بات باعث تعجب ہے کہ قرآن مجید سے اتنی محکم ادلہ اور اہل سنت مفسرین کے اقوال کے با وجود شیعہ کو تقیہ کی خاطر مورد طعن قرار دیا جاتا ہے-_

____________________

۱) سورة النحل آیت ۱۰۶_

۲۸

جی ہاں نہ تو جناب عمار منافق تھے نہ ہی آل فرعون کا وہ مومن منافق تھا بلکہ تقیہ کے دستور الہی سے انہوں نے فائدہ اٹھایا_

۵_تقیہ اسلامی روایات میں :

اسلامی روایات میں بھی تقیہ کاکثرت سے ذکر ملتا ہے_مثال کے طور پر مسند ابی شیبہ اہل سنت کی معروف مسند ہے _اس میں (مسیلمہ کذاب) کی داستان میں نقل ہوا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے رسو ل خدا (ص) کے دو اصحاب کو اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں گرفتار کرلیا اور دونوں سے سوال کیا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں خدا کا نمائندہ ہوں؟ ایک نے گواہی دے کر اپنی جان بچالی اور دوسرے نے گواہی نہیں دی تو اسکی گردن اڑادی گئی_ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپ(ص) نے فرمایا جو قتل ہو گیا اس نے صداقت کے راستے پر قدم اٹھایا اور دوسرے نے رخصت الہی کو قبول کرلیا اوراس پر کوئی گناہ نہیں ہے(۱)

ائمہ اہل بیت کی احادیث میں بھی بالخصوص ان ائمہ کے کلمات میں کہ جو بنوعباس اور بنو اُميّہ کی حکومت کے زمانہ میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس دور میں جہاں کہیں محب علی ملتا اسے قتل کردیا جاتا تھا_تقیہ کا حکم کثرت سے ملتا ہے _ کیونکہ وہ مامور تھے کہ ظالم اور بے رحم دشمنوں سے اپنی جان بچانے کے لئے تقیہ کی ڈھالسے استفادہ کریں_

۶_کیا تقیہ صرف کفار کے مقابلے میں ہے؟

ہمارے بعض مخالفین جب ان واضح آیات اور مندرجہ بالاروایات کا سامنا کرتے ہیں تو اسلام میں تقیہ کے جواز کو قبول کرنے کے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا_ اس وقت وہ

____________________

۱) مسند ابی شیبہ ، ج۱۲ ص ۳۵۸_

۲۹

یوں راہ فرار تلاش کرتے ہیں کہ تقیہ تو صرف کفار کے مقابلہ میں ہوتا ہے_ مسلمانوں کے مقابلے میں تقیہ جائز نہیں ہے _ حالانکہ مندرجہ بالا ادلہ کی روشنی میں بالکل واضح ہے کہ ان دو موارد میں کوئی فرق نہیں ہے_

۱_ اگر تقیہ کا مفہوم متعصب اور خطرناک افراد کے مقابلے میں اپنی جان ،مال اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے، اور حقیقت میں بھی یو نہی ہے، تو پھر نا آگاہ اور متعصب مسلمان اور کافرکے در میان کیا فرق ہے ؟ اگر عقل و خرد یہ حکم لگاتی ہے کہ ان امور کی حفاظت ضروری ہے اور انہیں بیہودہ طور پر ضائع کرنا مناسب نہیں ہے تو پھر ان دومقامات میں کیا فرق ہے_

دنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انتہائی جہالت اور غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے کہتے ہیں کہ شیعہ کا خون بہانا قربت الہی کا ذریعہ بنتا ہے _ اب اگر کوئی مخلص شیعہ جو امیر المومنین _ کا حقیقی پیرو کار ہو اور اس جنایت کارٹولے کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے اور وہ اس سے پوچھیں کہ بتا تیرا مذہب کیا ہے ؟ اب اگر یہ شخص واضح بتادے کہ میں شیعہ ہوں تو یہ خواہ مخواہ اپنی گردن کو جہالت کی تلوار کے سپردکرنے کے علاوہ کوئی اور چیزہے؟ کوئی بھی صاحب عقل و خرد یہ حکم لگا سکتا ہے ؟

باالفاظ دیگر جو کام مشرکین عرب نے جناب عمار و یاسریا مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں نے دواصحاب رسول خدا کے ساتھ کیا اگر وہی کام بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء اور جاہل مسلمان، شیعوں کے ساتھ انجام دیں تو کیا ہم تقیہ کو حرام کہیں اور اہل بیتکے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مخلص پیروکاروں کی نابودی کے اسباب فراہم کریں صرف اس خاطر کہ یہ حاکم بظاہر مسلمان تھے ؟

اگر ائمہ اہل بیتتقیہ کے مسئلہ پربہت زیادہ تاکید نہ کرتے یہاںتک کہ فرمایا ہے

۳۰

(تسعة اعشار الدین التقیه ) دس میں سے نو حصے دین تقیہ ہے _(۱)

تو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں شیعوں کے مقتولین کی تعداد شاید لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچ جاتی _ یعنی انکی بے رحمانہ اوروحشیانہ قتل و غارت دسیوں گنا زیادہ ہوجاتی_

آیا ان شرائط میں تقیہ کی مشروعیت کے بارے میں ذرہ برابر شک رہ جاتا ہے ؟ہم یہ بات فراموش نہیں کرسکتے کہ جب اہل سنت بھی سالہا سال مذہبی اختلافات کی خاطر ایک دوسرے سے تقیہ کرتے تھے _ من جملہ قرآن مجید کے حادث یا قدیم ہونے پر انکا شدید اختلاف تھا اور اس راہ میں بہت ساروں کا خون بہایا گیا (وہی نزاع کہ جو آج محققین کی نظر میں بالکل بیہودہ اوربے معنی نزاع ہے )کیا جو گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا اگر ان میں سے کوئی شخص مخالفین کے چنگل میں گرفتار ہوجاتا تو کیا اسے صراحت کے ساتھ کہہ دینا چاہیے کہ میرا یہ عقیدہ ہے چاہے اس کا خون بہہ جائے اور اس کے خون بہنے کا نہ کوئی فائدہ ہو اور نہ کوئی تاثیر؟

۲_جناب فخر رازی اس آیت( الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ آیت کا ظہور یہ ہے کہ تقیہ غالب کافروں کے مقابلے میں جائزہے (الا ان مذهب الشافعی _رض_ان الحالة بین المسلمین اذا شاکلت الحالة بین المسلمین و المشرکین حلّت التقیه محاماة علی النفس ) لیکن مذہب شافعی یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی کیفیت بھی ایک دوسرے کے ساتھ مسلمین و کفار جیسی ہوجائے تو اپنی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ جائزہے _

____________________

۱) بحارالانوار ، جلد ۱۰۹، ص ۲۵۴_

۲) سورة آل عمران آیة ۲۸_

۳۱

اس کے بعد حفظ مال کی خاطر تقیہ کے جواز پر دلیل پیش کرتے ہیںکہ حدیث نبوی ہے (حرمة مال المسلم کحرمة دمہ ) مسلمان کے مال کا احترام اس کے خون کی مانند ہے ) اور اسی طرح دوسری حدیث میں ہے (من قتل دون مالہ فہو شہید) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے ماراجائے وہ شہید ہے(۱) _

تفسیر نیشاپوری میں کہ جو تفسیر طبری کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے یوں بیان کیا گیا ہے کہ قال الامام الشافعی :

(تجوز التقیه بین المسلمین کما تجوز بین الکافرین محاماة عن النفس )(۲)

امام شافعی فرماتے ہیں کہ جان کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں سے تقیہ کرنا بھی جائز ہے _ جس طرح کفار سے تقیہ کرنا جائز ہے _

۳_دلچسب بات یہ ہے کہ بنی عباس کی خلافت کے دور میں بعض اہل سنت محدثین (قرآن مجید کے قدیم ہونے ) پر عقیدہ رکھنے کیوجہ سے بنو عباس کے حكّام کی طرف سے دباؤ کا شکار ہوئے انہوں نے تقیہ کرتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید حادث ہے اوراس طرح انہوںنے اپنی جان بچالی _

''ابن سعد'' مشہور مورخ کتاب طبقات میں اور طبری ایک اور مشہور مورخ اپنی تاریخ کی کتاب میں دو خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو مامون کی طرف سے اسی مسئلہ کے بارے میں بغداد کے پولیس افسر (اسحق بن ابراہیم) کی طرف ارسال کیے گئے _

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی، جلد ۸ ص ۱۳_

۲) تفسیر نیشابوری (تفسیر الطبری کے حاشیہ پر) جلد ۳، ص ۱۱۸_

۳۲

پہلے خط کے بارے میں ابن سعد یوں لکھتا ہے کہ مامون نے پولیس افسر کو لکھا کہ سات مشہور محدثین ( محمد بن سعد کاتب واقدی _ابو مسلم_یحیی بن معین_زہیر بن حرب_ اسمعیل بن داوود_ اسمعیل بن ابی مسعود_ و احمد بن الدورقی ) کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ میری طرف بھیج دو_جب یہ افراد مامون کے پاس پہنچے تو اس نے ان سے آزمانے کے لیے سوال کیا کہ قرآن مجید کے بارے میں تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ تو سب نے جواب دیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے (حالانکہ اس وقت محدثین کے درمیان مشہور نظریہ اس کے برعکس تھا یعنی قرآن مجید کے قدیم ہونے کے قائل تھے اور ان محدثین کا بھی یہی عقیدہ تھا(۱) ہاں انہوں نے مامون کی سخت سزاؤں کے خوف سےتقیہ کیا اور قرآن مجید کے مخلوق ہونے کا اعتراف کرلیا اور اپنی جان بچالی _مامون کے دوسرے خط کے بارے میں کہ جسے طبری نے نقل کیا ہے اور وہ بھی بغداد کے پولیس افسر کے نام تھایوں پڑھتے ہیں کہ جب مامون کا خط اس کے پاس پہنچاتو اس نے بعض محدثین کو کہ جنکی تعداد شاید ۲۶چھبیس افراد تھی حاضر کیا اور مامون کا خط انکے سامنے پڑھا_پھر ہر ایک کو الگ الگ پکار کر قرآن مجید کے بارے میں اُسکا عقیدہ معلوم کیا_ ان میں سوائے چار افراد کے سب نے اعتراف کیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے ( اور تقیہ کرکے اپنی جان بچالی ) جن چار افراد نے اعتراف نہیں کیا انکے نام یہ تھے احمد ابن حنبل ، سجادہ ، القواریری، اور محمد بن نوح _ پولیس انسپکٹر نے حکم دیا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر زندان میں ڈال دیا جائے _ دوسرے دن دوبارہ ان چاروںافراد کو بلایا اور قرآن مجید کے بارے میں اپنے سوال کا تکرار کیا _سجادة نے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے وہ آزاد ہو

____________________

۱) طبقات ابن سعد، جلد ۷،ص ۱۶۷، چاپ بیروت_

۳۳

گیا _ باقی تین نے مخالفت پر اصرار کیا ،انہیں دوبارہ زندان بھیج دیا گیا_ اگلے دن پھر ان تین افراد کو بلایا گیا اس مرتبہ (القواریری)نے اپنا بیان واپس لے لیا اور آزاد ہوگیا_لیکن احمد ابن حنبل اور محمد بن نوح اسی طرح اپنے عقیدہ پر مصّر رہے _ پولیس انسپکٹر نے انہیں (طرطوس )(۱) شہر میں جلا وطن کردیا_

جب کچھ لوگوں نے ان تقیہ کرنے والوں پر اعتراض کیا تو انہوں نے کفار کے مقابلے میں جناب عمار یاسر کے عمل کو دلیل کے طور پر پیش کیا(۲) ان موارد سے بالکل روشن ہوجاتا ہے کہ جس دقت انسان کسی چنگل میں گرفتار ہوجائے اور اس وقت ظالموں سے نجات پانے کا تنہا راستہ تقیہ ہوتو وہ یہ راستہ اختیار کر سکتا ہے خواہ یہ تقیہ کافر کے مقابلہ میں ہو یا مسلمان کے مقابلے میں ہو_

۷) حرام تقیہ:

بعض موارد میں تقیہ حرام ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب ایک فرد یا گروہ کے تقیہ کرنے اور اپنا مذہبی عقیدہ چھپا نے سے اسلام کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہوتا ہو یا مسلمانوں کو شدید نقصان ہو تا ہو_ اس وقت اپنے حقیقی عقیدہ کو ظاہر کرنا چاہیے، چاہے ان کے لئے خطرے کا باعث ہی کیوں نہ ہو _اور جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے( ولا تلقو بایدیکم الی التهلکة ) یہ

____________________

۱) یہ شام میں دریا کے کنارے ایک شہر ہے (معجم البلدان جلد۴، ص ۳۰)_

۲) تاریخ طبری جلد ۷، ص ۱۹۷_

۳۴

لوگ سخت خطاء سے دوچار ہیں کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ میدان جہاد میں حاضر ہونا بھی حرام ہو حالانکہ کوئی بھی عاقل ایسی بات نہیں کرتا ہے _یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ یزید کے مقابلے میں امام حسین _ کا قیام یقینا ایک دینی فریضہ تھا _ اسی لئے امام _ تقیہ کے طور پر بھی یزیدیوں اور بنو امیہ کے غاصب خلفاء کے ساتھ کسی قسم کی نرمی دکھانے پر راضی نہ ہوئے_ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے اسلام کی بنیاد کو شدید دھچکا لگے گا_ آپ (ع) کا قیام اور آپکی شہادت مسلمانوں کی بیداری اور اسلام کو جاہلیت کے چنگل سے نجات دلانے کا باعث نبی_

(مصلحت آمیز ) تقيّہ:

یہ تقیہ کی ایک دوسری قسم ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایک مذہب والے ،مسلمانوں کی صفوں میں وحدت برقرار رکھنے کے لئے ان باتوں میں جن سے دین و مذہب کی بنیادکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، دوسرے تمام فرقوں کے ساتھ ہماہنگی اور یکجہتی کا ثبوت دیتے ہیں _ مثلا مکتب اہل بیت کے پیرو کار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کپڑے اور قالین پر سجدہ نہیں ہوتااورپتھریا مٹی و غیرہ پر سجدہ کرنا ضروری ہے _اور پیغمبر اکرم (ص) کی اس مشہور حدیث (جعلت لی الارض مسجداً و طهورا )(۱) ''زمین کو میرے لئے محل سجدہ اور وسیلہ تیمّم قرار دیا گیا ہے '' کو اپنی دلیل قرار دیتے ہیں اب اگر وہ وحدت برقرار رکھنے کیلئے دیگر مسلمانوں کی صفوں میں انکی مساجد میں یامسجد الحرام اور مسجد نبوی میں جب نماز پرھتے ہیں تو ناگزیر کپڑے پر سجدہ کرتے ہیں _ یہ کام جائز ہے اور ایسی نماز ہمارے عقیدہ کے مطابق

____________________

۱)صحیح بخاری جلد ۱ ص ۹۱و سنن بیہقی ،جلد ۲ ص ۴۳۳(اور بھی بہت سی کتب میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے )_

۳۵

درست ہے اور اسے ہم مدارا کرنے والا ( مصلحت آمیز )تقیہ کہتے ہیں _کیونکہ اس میں جان و مال کا خوف درکار نہیں ہے بلکہ اس میں تمام اسلامی فرقوں کے ساتھ مدارا کرنے اورحسن معاشرت کا عنوان در پیش ہے _تقیہ کی بحث کا ایک بزرگ عالم دین کے کلام کے ساتھ اختتام کرتے ہیں _

ایک شیعہ عالم دین کی مصر میں الازہر کے ایک بزرگ استاد سے ملاقات ہوئی اس نے شیعہ عالم کو سرزنش کرتے ہوئے کہا-میں نے سنا ہے تم لوگ تقیہ کرتے ہو؟ شیعہ عالم دین نے جواب میں کہا(لعن الله من حملنا علی التقیة ) رحمت الہی سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں تقیہ پر مجبور کیا(۱)

____________________

۱) یعنی اگر دشمنوں کی طرف سے ہماری جان و مال کو خطرہ نہ ہوتا تو ہم کبھی بھی تقیہ نہ کرتے (مترجم)

۳۶

۳

عدالت صحابہ

اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب خصوصی امتیازات سے بہرہ مند تھے _ وحی الہی اور آیات کو پیغمبر اکرم(ص) کی زبان مبارک سے سنتے تھے_ آنحضرت(ص) کے معجزات کا مشاہدہ کرتے تھے _اور آپکی قیمتی باتوں کے ذریعے پرورش پاتے تھے آنحضرت (ص) کے عملی نمونوں اور اسوہ حسنہ سے بہرہ مند تھے _

اسی وجہ سے انکے در میان ایسی بزرگ اور ممتاز شخصیات نے تربیت پائی کہ جہان اسلام جنکے وجود پر فخر و مباہات کرتا ہے _ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کہ کیا تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے مومن،صالح،سچے،درستکار اور عادل افراد تھے یا ان کے در میان غیر صالح افراد بھی موجود تھے _

۱_ دو متضاد عقیدے :

صحابہ کے بارے میں دو مختلف عقیدے موجود ہیں : پہلا عقیدہ یہ کہ تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے پاکیزگی و طہارت کے نور سے منور ہیں اور سب ہی صالح، عادل ، باتقوی اور صادق تھے _ اسی وجہ سے ان میں سے جو بھی پیغمبر اکرم(ص) سے حدیث نقل کرے صحیح اور قابل قبول ہے _ اور ان پر کوئی چھوٹا سا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر ان سے غلط کام سرزد ہوجائے تو ان کی توجیہ کرنا چاہیئے_یہ اہل سنت کے اکثر گروہوںکا عقیدہ ہے _

۳۷

دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ اگر چہ ان کے در میان باشخصیت،فداکار،پاک اور باتقوی افراد موجود تھے لیکن منافق اور غیر صالح افراد بھی موجود تھے _اور قرآن مجید اور پیغمبر اکرم (ص) نے ان سے اظہار بیزاری کیا ہے _

با الفاظ دیگر اچھے اور برے کی تشخیص کا جو معیار ہر جگہ استعمال ہوتا ہے وہی معیار ہم یہاں بھی جاری کریں گے _ ہاں چونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب تھے اس لئے ان کے بارے میں ہمارا اصلی و بنیادی نظریہ یہ ہوگا کہ یہ نیک و پاک افراد ہیں ،لیکن اس کے با وجود ہم حقائق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے _اور عدالت و صدق سے منافی اعمال کے صدورپر غض بصر نہیں کریں گے _چونکہ یہ کام ،اسلام اور مسلمین پر ایک کاری ضرب لگا تا ہے اور اسلام کی چار دیواری میں منافقین کے داخلہ کا سبب بنتا ہے_

مذہب شیعہ اور اہلسنت کے روشن فکر علماء کے ایک گروہ نے اس عقیدہ کا انتخاب کیا ہے_

۲_تنزیہ کے سلسلہ میں شدّت پسندی:

تنزیہ صحابہ والے نظریہ کے طرفداروں کے ایگ گروہ نے اتنی شدت اختیار کی ہے کہ جو بھی اصحاب پر تنقید کر دے اسے فاسق اورکبھی ملحد اور زندیق شمار کرتا ہے اور یا اس کا خون بہانا مُباح سمجھتا ہے_

من جملہ ابو زرعہ رازی کی کتاب '' الاصابة'' میں یوں ملتا ہے:'' اگر دیکھو کوئی شخص اصحاب پیغمبر(ص) میں سے کسی پر تنقید کر رہا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق ہے_ یہ فتوی اس لئے ہے چونکہ رسولخدا(ص) حق اور قرآن حق ہے اور جو کچھ پیغمبر پر نازل ہوا حق ہے اور ان تمام چیزوں کو

۳۸

صحابہ نے ہم تک پہنچایا ہے اور یہ ( مخالفین) چاہتے ہیں ہمارے شہود (گواہوں) کو بے اعتبار کردیں تا کہ کتاب و سنت ہاتھ سے چلی جائے''(۱)

'' عبداللہ موصلی '' اپنی کتاب '' حتی لا ننخدع '' میں یوں رقمطراز ہیں'' یہ اصحاب ایسا گروہ ہے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کی ہم نشینی اور دین و شریعت کے قوام کے لیے چُن لیا ہے_ اور انہیں پیغمبر(ص) کا وزیر قرار دیا ہے_ انکی محبت کو دین و ایمان اور انکے بُغض کو کفر و نفاق شمار کیا ہے اور امت پر واجب کیا ہے کہ ان سب کو دوست رکھیں اور ہمیشہ انکی خوبیاں اور فضائل بیان کریں اور انکی آپس میں جو جنگیں اور جھگڑے ہوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کریں''(۲)

عنقریب روشن ہو جائیگا کہ یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے_

۳_ لا جواب سوالات:

ہر عقلمند اور منصف مزاج انسان جو ہر بات کو بغیر دلیل اور آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتا اپنے آپ سے یہ سوالات کرتا ہے_

اللہ تعالی قرآن مجید میں ازواج پیغمبر(ص) کے بارے میں یوں فرماتا ہے کہ:

( '' يَانسائَ النّبی مَن يَات منكُنَّ بفاحشة: مبيّنة: يُضاعَفُ لَهَا العذابُ ضعفَین و کانَ ذلک علی الله یسیراً'' ) (۳)

____________________

۱) الاصابہ ، جلد ۱، ص ۱۷_

۲) حتی لاننخدع ، ص ۲_

۳)سورہ احزاب، آیت ۳۰_

۳۹

اے ازواج رسول(ص) تم میں سے جس نے بھی کھلم کھلا گناہ کیا اس کی سزا دو برابر ہوگی اور یہ بات اللہ تعالی کے لیے انتہائی آسان ہے_

ہم صحابہ کی جو بھی تفسیر کریں ( عنقریب اصحاب کی مختلف تعریفیں بیان ہونگی) بلاشک ازواج نبی(ص) اصحاب کا روشن ترین مصداق ہیں_

قرآن مجید کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انکے گناہوں سے چشم پوشی نہیں کی جائے گی بلکہ انکی سزا دوبرابر ہوگی_

کیا ہم اس آیت پریا نظریہ تنزیہ کے طرفداروں کی بلا مشروط حمایت پریقین رکھیں؟

نیز قرآن مجید ،شیخ الانبیاء حضرت نوح _ کے فرزند کے بارے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے یوں فرماتا ہے ''( إنّه عملٌ غیرُ صالح ) :'' وہ غیر صالح عمل ہے _(۱)

اور جناب نوح (ع) کو خبردار کیا گیا کہ اس کی شفاعت نہ کریں

کیا ایک نبی(ع) کا فرزند اہم ہوتا ہے یا اس کے اصحاب و اعوان؟

حضرت نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کے بارے میں قرآن مجید یوں کہتا ہے:

''( وَ فَخَانَتاهُما فلم يُغنيَا عنهما من الله شَیئاً و قیلَ ادخُلا النّارَ مع الدَّاخلین'' ) (۲)

ان دو نے اپنے شوہروں ( نوح (ع) اور لوط(ع) کے ساتھ خیانت کی ( اور دشمنوں کا ساتھ دیا) اور وہ دو پیغمبر انکی شفاعت نہ کر سکے اور ان دونوں کو حکم دیا گیا کہ دوزخیوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجاؤ_

____________________

۱) سورة ہود آیت ۴۶_

۲)سورة تحریم آیت ۱۰_

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232