شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں16%

شيعہ جواب ديتے ہيں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

شيعہ جواب ديتے ہيں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 80957 / ڈاؤنلوڈ: 4436
سائز سائز سائز
شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

عبادات میں سجدہ کی اہمیت:

اسلام کی نظر میں سجدہ، اللہ تعالی کی سب سے اہم یا اہم ترین عبادات میں سے ایک ہے_ اور جیسا کہ احادیث میں بیان کیا گیا ہے، کہ انسان سجدہ کی حالت میں دیگر تمام حالات کی نسبت سب سے زیادہ اللہ تعالی کے نزدیک ہوتا ہے_ تمام بزرگان دین بالخصوص رسو ل اکرم(ص) اور اہلبیت بہت طولانی سجدے کیا کرتے تھے_ خدا کی بارگاہ میں طولانی سجدے انسان کی روح اور جان کی نشو ونما کرتے ہیں_ اور یہ اس لم یزل کی بارگاہ میں خضوع اور عبودیت کی سب سے بڑی علامت شمار ہوتے ہیں_ اسی لیے نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے بجالانے کا حکم دیا گیا ہے_

اسی طرح سجدہ شکر اور قرآن مجید کی تلاوت کے دوران مستحب اور واجب سجدے بھی اسی سجدہ کا واضح ترین مصداق شمار ہوتے ہیں_

انسان سجدہ کی حالت میں سوائے خدا کے ہر چیز کو بھول جاتا ہے اور اپنے آپ کو اس کے بہت نزدیک پاتا ہے اور گویا وہ اپنے آپ کو بساط قرب پر پاتا ہے_

یہی وجہ ہے کہ سیرو سلوک و عرفان کے اساتید اور اخلاق کے معلم حضرات ،سجدہ کے مسئلہ پر انتہائی تاکید فرماتے ہیں_

۱۲۱

مذکورہ بالا مطالب اس مشہور حدیث پر ایک روشن دلیل ہیں کہ انسان کا کوئی عمل بھی شیطان کو اتنا پریشان نہیں کرتا جتنا سجدہ اسے پریشان کرتا ہے_

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ '' جناب ختمی مرتبت نے اپنے ایک صحابی کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگرچاہتے ہو کہ قیامت کے دن میرے ساتھ محشور ہو تو خداوند قہار کے حضور طولانی سجدے انجام دیا کرو''

و اذا اَرَدتَ ا ن یحشُرَک الله معی يَومَ القیامة فأطل السّجودَ بین يَدَی الله الواحد القهّار'' (۱)

غیر خدا کے لیے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے:

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس واحد و یکتا پروردگار کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ سجدہ انتہائی عاجزی اور خضوع کی علامت اور پرستش کا روشن مصداق ہے اور پرستش و عبوديّت صرف ذات خدا کے ساتھ مخصوص ہے_

قرآن مجید کی اس آیت ''( وللّه يَسجُد مَن فی السموات و الارض'' ) (۲) میں کلمہ '' اللہ '' کو مقدم کیا گیا ہے اور یہ تقدیم حصر پر دلالت کر رہی ہے یعنی زمین اور آسمان کی ہر چیز صرف اور صرف اللہ تعالی کو سجدہ کرتی ہے

اسی طرح سورہ اعراف کی ۲۰۶ نمبر آیت( '' و له یسجدون'' ) بھی اس بات پر بہترین دلیل ہے کہ سجدہ صرف اللہ تعالی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے_

____________________

۱) سفینة البحار ، مادہ سجدہ_

۲) سورة رعد، آیہ ۱۵_

۱۲۲

حقیقت میں سجدہ خضوع کا آخری درجہ ہے اور یہ درجہ خداوند عالم کے ساتھ مخصوص ہے_ لہذا کسی اور شخص یا چیز کے لیے سجدہ کرنا گویا خداوند عالم کے برابر قرار دینا ہے اور یہ درست نہیں ہے_

ہمارے نزدیک توحید کے معانی میں سے ایک معنی '' توحید در عبادت'' ہے یعنی پرستش اور عبادت صرف اللہ تعالی کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے بغیر توحید کامل نہیں ہوتی ہے_

دوسرے الفاظ میں : غیر خدا کی عبادت کرنا شرک کی ایک قسم ہے اور سجدہ عبادت شمار ہوتا ہے_ اس لیے غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_

اور جو سجدہ ملائکہ نے حضرت آدم کو کیا تھا ( اور اسکا قرآن مجید میں کئی مقامات پر تذکرہ ہے ) مفسرین کے بقول یا تو یہ حضرت آدم(ع) کی تعظیم ، تکریم اور احترام کا سجدہ تھا نہ عبادت کا سجدہ، بلکہ اسی سجدہ سے ملائکہ کی مراد یہ تھی کہ چونکہ یہ سجدہ اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل ہے لہذا اس ذات حق کی عبودیت ہے _ اور یا یہ شکر خدا کا سجدہ تھا_اسی طرح جو سجدہ حضرت یعقوب(ع) اورانکے بیوی بچّوں نے حضرت یوسف _ کے لیے کیا تھا اور اسے قرآن مجید نے ''خرَّ و له سُجَّداً'' اور سب انکے سامنے سجدہ میں گر پڑے'' کے الفاظ کے ساتھ یاد کیا ہے_ یہ بھی اللہ تعالی کے سامنے سجدہ شکر تھا_ یا ایک قسم کی تعظیم، تکریم اور احترام کے معنی میں سجدہ تھا_

اور قابل توجہ یہ ہے کہ '' وسائل الشیعہ'' کہ جو ہماری کتب حدیث کاایک مصدرشمار ہوتی ہے، میں سجدہ نماز کے ابواب میں ایک مکمل باب ''عدم جواز السجود بغیر الله '' کے عنوان سے ذکر ہوا ہے اور اس میں پیغمبر اکرم(ص) اور آئمہ معصومینسے سات احادیث نقل کی گئی ہیں کہ غیر خدا کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_(۱)

____________________

۱)وسائل الشیعہ، جلد ۴، ص ۹۸۴_

۱۲۳

اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین فرما لیجئے کیونکہ آئندہ اسی گفتگو سے ہم نتیجہ اخذ کریںگے_

کس چیز پر سجدہ کرنا چاہیے:

مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زمین کے علاوہ کسی چیز پر سجدہ نہیں ہوسکتا ہے، ہاں البتہ جو چیزیں زمین سے اُگتی ہیں اور کھانے و پہننے کے کام نہیں آتیں جیسے درختوں کے پتے اور لکڑی و غیرہ اسی طرح حصیر و بوریا و غیرہ_ ان پر سجدہ کیا جاسکتا ہے_ جبکہ علماء اہلسنت عام طور پر معتقد ہیں کہ ہر چیز پر سجدہ کیا جاسکتا ہے_ ہاںان میں سے صرف بعض علماء نے لباس کی آستین اور عمامہ وپگڑی کے گوشے کو مستثنی کیا ہے کہ اُن پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے_

اس مسئلہ میں مکتب اہلبیت(ع) والوں کی دلیل، رسولخدا(ص) اور آئمہ اطہار(ع) سے نقل ہونے والی احادیث اور اصحاب کا عمل ہے_ ان محکم ادلّہ کی وجہ سے وہ اس عقیدہ پر اصرار کرتے ہیں اور اس لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی(ص) میں اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ قالین و غیرہ پر سجدہ نہ کریں بلکہ پتھر پر سجدہ کریں اور کبھی حصیر اور مصلی و غیرہ اپنے ساتھ لاتے ہیں اور ا س پر سجدہ کرتے ہیں_

ایران، عراق اور دیگر شیعہ نشین ممالک کی تمام مساجد میں چونکہ قالین بچھے ہوئے ہیں، اس لیے خاک سے ''سجدہ گاہ'' بنا کر اسے قالین پر رکھتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں تاکہ پیشانی کو کہ جو تمام اعضاء میں اشرف و افضل ہے اللہ تعالی کے حضور، خاک پر رکھا جاسکے_ اور اس ذات احديّت کی بارگاہ میں انتہائی تواضع و انکساری کا مظاہرہ کیا جاسکے_ کبھی یہ '' سجدہ گاہ''

۱۲۴

شہداء کی تربت سے بنائی جاتی ہے تا کہ راہ خدا میں ان کی جانثاری کی یاد تازہ ہو اور نماز میں زیادہ سے زیادہ حضور قلب حاصل ہوسکے_اور پھر شہدائے کربلا کی تربت کو دوسری ہر قسم کی خاک پر ترجیح دی جاتی ہے لیکن شیعہ ہمیشہ اس تربت یا دوسری خاک کے پابند نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے مساجد کے صحنوں میں لگے ہوئے پتھروں ( جیسے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے صحن والے سنگ مرمر) پر بھی با آسانی سجدہ کر لیتے ہیں ( غور کیجئے)

بہرحال مکتب اہلبیت(ع) کے پاس زمین پر سجدہ کے وجوب کے بارے میں بہت سی ادلّہ ہیں من جملہ پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث ، صحابہ کی سیرت جو آئندہ بحث میں بیان ہوگی اور آئمہ اطہار سے نقل ہونے والی روایات کہ جنہیں ہم عنقریب نقل کریں گے_

ہمیں تعجب یہ ہے کہ بعض اہلسنت برادران ہمارے اس فتوی کے مقابلے میں کیوں اسقدر شدید ردّعمل کا مظاہرہ کرتے ہیںاور کبھی اسے بدعت سے تعبیر کرتے ہیں حتی بعض اوقات اسے کفر اور بُت پرستی شمار کرتے ہیں_

اگر ہم خود ان کی اپنی کتابوں سے ثابت کردیں کہ رسولخدا(ص) اور انکے اصحاب، زمین پر سجدہ کرتے تھے تو کیا پھر بھی یہ عمل بدعت ہوگا؟

اگر ہم ثابت کردیں کہ آنحضرت(ص) کے بعض اصحاب جیسے جناب جابر ابن عبداللہ انصاری وغیرہ جب شدید گرمی کی وجہ سے پتھر اور ریت گرم ہوجاتی تھی تو وہ کچھ مقدار ریت کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تبدیل کرتے تھے تا کہ کچھ ٹھنڈی ہوجائے اور اس پر سجدہ کیا جاسکے''(۱) تو کیا اس صورت میں جناب جابر ابن عبداللہ کو بت پرست یا بدعت گزار شمار کریں گے؟

____________________

۱) مسند احمد ، ج ۳، ص ۳۲۷و سنن بیہقی جلد ۱ص ۲۳۹_

۱۲۵

پس جو شخص حصیر پر سجدہ کرتا ہے یا ترجیح دیتا ہے کہ مسجد الحرام یا مسجد نبوی(ص) کے فرش پر سجدہ کرے تو کیا وہ حصیر کی پرستش کرتا ہے یا مسجد کے فرش کی پوجا کرتا ہے؟

کیا ضروری نہیں ہے کہ یہ برادران اس موضوع پر مشتمل ہماری ہزاروں فقہی کتابوں میں سے کم از کم ایک کتاب کا مطالعہ کریں تا کہ انہیں پتہ چل جائے کہ ان ناروا نسبتوں میں ذرّہ برابر بھی حقیقت کی جھلک نہیں ہے؟

آیا کسی پر بدعت یا کفر و بت پرستی کی تہمت لگنا،کم گناہ ہے اور قیامت کے دن اللہ تعالی اسے آسانی سے معاف کردیگا؟

اس بات کو جاننے کے لیے کہ کیوں شیعہ زمین پر سجدہ کرتے ہیں، امام صادق _ کی اس حدیث کی طرف توجہ کافی ہے_ ہشام بن حکم نے کہ جو امام کے خصوصی اصحاب میں سے تھے سوال کیا، کہ کس چیز پر سجدہ کیا جاسکتا ہے اور کسی چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا''السجود لا یجوز الا علی الارض او ما انبتت الارض الا ما أکل اَو لبس'' کسی چیز پر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے مگر صرف زمین پر یا ان چیزوں پر جو زمین سے اگتی ہیں اور کھانے اور پہننے کے کام نہیں آتیں ہشام کہتا ہے میں نے عرض کی آپ(ع) پر قربان ہوجاؤں اس کی حکمت کیا ہے ؟

آپ(ع) نے فرمایا:''لانّ السّجُودَ هُو الخضوع للّه عزّوجل فلا ینبغی أن یکونَ علی ما يُؤكَلُ و يُلبس لانّ أَبناء الدُّنیا عَبید ما یا کلون و یلبسون و الساجدُ فی سُجوده فی عبادة الله فلا ینبغی أن يَضَعَ جَبهَتَهُ فی سُجوده علی معبود أبناء الدُّنیا الذین اغتَرُّ وا بغرورها'' کیونکہ سجدہ اللہ تعالی کے سامنے خضوع اور انکساری ہے اس لیے مناسب نہیں ہے کہ انسان کھانے اور پہننے کی چیزوں پر سجدہ کرے_

۱۲۶

کیونکہ دنیا پرست لوگ کھانے اور پہننے والی چیزوںکے بندے ہوتے ہیں_ جبکہ وہ شخص جو سجدہ کر رہا ہے سجدہ کی حالت میں اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہے پس مناسب نہیں ہے کہ انسان اپنی پیشانی کو سجدہ کی حالت میں ایسی چیزوں پر رکھے جو دنیا پرستوں کے معبود ہیںاور انکی زرق و برق کے وہ فریفتہ ہیں_

اس کے بعد امام _ نے اضافہ فرمایا: ''و السّجودُعلی الارض أفضلُ لانّه أبلغ للتواضع و الخُضوع للّه عزوجل ''کہ زمین پر سجدہ کرنا افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالی کے حضور بہتر طور پرخضوع وتواضع اور انکساری کی علامت ہے_(۱)

۴_ مسئلہ کی ادلّہ:

اب ہم اس مسئلہ کی ادلّہ بیان کرتے ہیں _سب سے پہلے رسول اکرم(ص) کے کلام سے شروع کرتے ہیں:

الف) زمین پر سجدہ کے سلسلہ میں معروف حدیث نبوی:

اس حدیث کو شیعہ و اہل سنت نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''جُعلت لی الارضُ مسجداً و طهوراً'' کہ زمین میرے لیے محل سجدہ اور طہارت ( تیمم) قرار دی گئی ہے''(۲)

بعض علماء نے یہ خیال کیا ہے کہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ پوری روئے زمین اللہ کی عبادت کا مقام ہے_ پس عبادت کا انجام دینا کسی معيّن مقام کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ یہود

____________________

۱) علل الشرائع، جلد ۲، ص ۳۴۱_

۲) صحیح بخاری جلد ۱، ص ۹۱و سنن بیہقی، جلد ۲_ ص ۴۳۳ (ا ور بہت سی دوسروی کتابوں میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے)_

۱۲۷

و نصاری گمان کرتے تھے کہ عبادت کو حتماً کلیساؤں اور عبادت خانوں میں انجام دینا چاہیے''_

لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تفسیر حدیث کے حقیقی معنی کے ساتھ سازگار نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرما یا'' زمین طہور بھی ہے اور مسجد بھی'' اور ہم جانتے ہیں کہ جو چیز طہور ہے اور جس پر تیمّم کیا جاسکتا ہے وہ زمین کی خاک اور پتھر ہیں پس سجدہ گاہ کو بھی وہی خاک اور پتھر ہونا چاہیے_

اگر پیغمبر اکرم(ص) اس معنی کو بیان کرنا چاہتے کہ جسکا بعض اہلسنت کے علماء نے استفادہ کیا ہے تو یوں کہنا چاہیے تھا کہ ''جُعلت لی الارض مسجداً و ترابُها طهوراً'' پوری سرزمین کو میرے لیے مسجد قرار دیا گیا اور اس کی خاک کو طہارت یعنی تیمم کا وسیلہ قرار دیا گیاہے'' لیکن آپ(ص) نے یوں نہیں فرمایا_ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہاں مسجد سے مراد جائے سجدہ ہے لہذا سجدہ گاہ کو بھی اسی چیز سے ہونا چاہیے جس پر تیمم ہوسکتا ہے_

پس اگر شیعہ زمین پر سجدہ کرنے کے پابند اور قالین و غیرہ پر سجدہ کو جائز نہیں سمجھتے تو یہ کوئی غلط کام نہیں کرتے بلکہ رسولخدا(ص) کے دستور پر عمل کرتے ہیں_

ب) سیرت پیغمبر(ص) :

متعدّد روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے، کپڑے یا قالین و غیرہ پر سجدہ نہیں کرتے تھے_

ابوہریرہ کی ایک حدیث میں یوں نقل ہوا ہے وہ کہتا ہے ''سجد رسول الله (ص) فی یوم مطیر حتی أنّی لانظر الی أثر ذلک فی جبهته و ارنبته'' میں نے رسولخدا(ص) کو ایک

۱۲۸

بارانی دن زمین پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا _ سجدہ کے آثار آپ کی پیشانی اور ناک پر نمایاں تھے_(۱)

اگر سجدہ کپڑے یا دری و غیرہ پر جائز ہوتا تو ضرورت نہیں تھی کہ آنحضرت(ص) بارش کے دن بھی زمین پر سجدہ کریں_

حضرت عائشےہ نیز فرماتی ہیں ''ما رأیتُ رسول الله متقیاً وجهه بشیئ''میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آنحضرت(ص) ( سجدہ کے وقت ) اپنی پیشانی کسی چیز سے ڈھانپ لیتے ہوں''(۲)

ابن حجر اسی حدیث کیتشریح میں کہتے ہیں: کہ یہ حدیث اس بات کیطرف اشارہ ہے کہ سجدہ میں اصل یہ ہے کہ پیشانی زمین پر لگے لیکن اگر قدرت نہ ہو تو پھر یہ واجب نہیں ہے_(۳)

ایک دوسری روایت میں جناب میمونہ ( رسول اکرم(ص) کی ایک دوسری زوجہ) سے یوں نقل ہوا ہے کہ ''و رسول الله یصّلی علی الخُمرة فیسجد'' پیغمبر اکرم حصیر (چٹائی) پر نماز پڑھتے اور اس پرسجدہ کرتے تھے_

اہلسنت کی معروف کتب میں متعدّد روایات نقل ہوئی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) '' خمرہ'' پر نماز پڑھتے تھے ( خُمرہ اس چھوٹے سے مصلی یا حصیر کو کہتے ہیں جو کجھور کے پتوں سے بنایا جاتا تھا)تعجب یہ ہے کہ اگر شیعہ اسی طرح عمل کریں اور نماز پڑھتے وقت کوئی مصلی بچھالیں تو ان پر بعض متعصب لوگوں کی طرف سے بدعت کی تہمت لگائی جاتی ہے_ اور غصے کے ساتھ انہیں

____________________

۱) مجمع الزوائد، جلد ۲، ص ۱۲۶_ ۲) مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد ۱ ، ص ۳۹۷_

۳) فتح الباری ، جلد۱، ص ۴۰۴_

۱۲۹

دیکھا جاتا ہے_

حالانکہ یہ احادیث بتاتی ہیں کہ یہ کام پیغمبر اکرم(ص) کی سنت ہے_

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ سنّت کو بدعت شمار کیا جائے

مجھے نہیں بھولتا کہ ایک مرتبہ حج کے موقع پر مدینہ میں ، میں مسجد نبوی(ص) میں ایک چھوٹی سی چٹائی پر نماز پڑھنا چاہتا تھا تو ایک متعصّب وہابی عالم دینآیا اور اس نے بڑے غصّے کے ساتھ چٹائی اٹھاکر کونے میں پھینک دی گویا وہ بھی اس سنت کو بدعت سمجھتا تھا_

ج) صحابہ اور تابعین کی سیرت

اس بحث میں دلچسپ موضوع یہ ہے کہ اگر ہم اصحاب اور انکے بعد آنے وال-ے افراد (یعنی تابعین) کے حالات کا غور سے مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے وہ بھی زمین پر سجدہ کرتے تھے مثال کے طور پر:

۱_ جابر ابن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں''کنتُ اُصلّی مع النّبی الظهر فآخذ قبضة من الحصی فاجعلها فی کفّی ثُم احولها الی الکفّ الاُخری حتی تبرد ثم اضعها لجبینی حتی اسجد علیها من شّدة الحرّ''میں پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ نماز ظہر پڑھتا تھا_ شدید گرمی کی وجہ سے کچھ سنگریزے ہاتھ میں لے لیتا تھا اور انہیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں تبدیل کرتا رہتا تھا تا کہ وہ کچھ ٹھنڈے ہوجائیں اور ان پر سجدہ کرسکوں یہ کام گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا''(۱)

____________________

۱) مسند احمد ، جلد ۳، ص ۳۲۷ ، سنن بیہقی ، جلد۱ ، ص ۴۳۹_

۱۳۰

اس حدیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) زمین پر سجدہ کرنے کے پابند تھے، حتی کہ شدید گرمی میں بھی اس کا م کے لیے راہ حل تلاش کرتے تھے_ اگر یہ کام ضروری نہ ہوتا تو اتنی زحمت کی ضرورت نہیں تھی_

۲_ انس بن مالک کہتے ہیں ''كُنّا مع رسول الله (ص) فی شدّة الحرّ فیأخذأحدنا الحصباء فی یده فإذا برد وضعه و سجّد علیه '' ہم شدید گرمی میں رسولخدا(ص) کے ساتھ تھے ہم میں سے بعض لوگ کچھ سنگریزے ہاتھ میں لے لیتے تھے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں پھر انہیں زمین پر رکھ کر اُن کے اوپر سجدہ کرتے تھے_(۱)

یہ تعبیر یہی بتاتی ہے کہ یہ کام اصحاب کے درمیان رائج تھا_

۳_ ابوعبیدہ نقل کرتے ہیں ''انّ ابن مسعود لا یسجد _ أو قال لا یصلّی _ الا علی الارض'' کہ جناب عبداللہ ابن مسعود صرف زمین پر سجدہ کرتے تھے یا یوں کہا کہ صرف زمین پر نماز پڑھتے تھے_(۲)

اگر زمین سے قالین یا دری و غیرہ مراد ہوتی تو کہنے کی ضرورت نہیں تھی اس سے پتہ چلتا ہے کہ زمین سے وہی خاک: ریت اور سنگریزے و غیرہ مراد ہیں_

۴_ عبداللہ ابن مسعود کے ایک دوست مسروق بن اجدع کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ'' کان لا یرخص فی السجود علی غیر الارض حتی فی السفینة وکان یحمل فی السفینة شیئاً یسجدعلیه'' وہ سوائے زمین کے کسی شے پر سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے حتی اگر کشتی میں سوار ہونا ہوتا تو کوئی چیز اپنے ساتھ کشتی میں رکھ لیتے تھے جس

____________________

۱) السنن الکبری بیہقی ، جلد ۲، ص ۱۰۶_

۲) مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد ۱، ص ۳۹۷_

۱۳۱

پر سجدہ کرتے''(۱)

۵_ جناب علی ابن عبداللہ ابن عباس نے '' رزین '' کو خط میں لکھا''ابعث اليّ بلوح من أحجار المروة علیه اسجُد'' کہ مروہ کے پتھروں میں سے ایک صاف سا پتھر میرے لیے بھیجنا تا کہ میں اس پر سجدہ کرسکوں''(۲)

۶_ کتاب فتح الباری ( شرح صحیح بخاری) میں نقل ہوا ہے کہ ''کان عمر ابن عبدالعزیز لا یکتفی بالخمرة بل یضع علیها التراب و یسجد علیه'' عمر ابن عبدالعزیز نماز کے لیے صرف چٹائی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس پر مٹی رکھ لیتے اور اس پر سجدہ کرتے تھے_(۳)

ان تمام روایات سے کیا سمجھ میں آتا ہے؟ کیا یہی سمجھ میں نہیں آتا کہ اصحاب اور انکے بعد آنے والے افراد کی ( ابتدائی صدیوں میں ) یہی سیرت تھی کہ زمین پر یعنی خاک ، پتھر، ریت اور سنگریزوں و غیرہ پر سجدہ کرتے تھے_

اگر آج ہمارے زمانے میں کچھ مسلمان اس سنت کو زندہ رکھنا چاہیں تو کیا اسے بدعت کے عنوان سے یاد کیا جائے؟

کیا فقہائے اہلسنت کو نہیں چاہیے کہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے اس سنّت نبوی (ص) کو زندہ کریں، وہی کام جو اللہ تعالی کی بارگاہ میں انتہائی خضوع، انکساری اور عاجزی سے حکایت کرتا ہے اور سجدہ کی حقیقت کے ساتھ زیادہ سازگار ہے_ ( ایسے دن کی امید کے ساتھ)_

____________________

۱) طبقات الکبری ، ابن سعد، جلد ۶، ص ۵۳_

۲) اخبار مكّہ ازرقی، جلد ۲ ،ص ۱۵۱_

۳) فتح الباری ، جلد ۱ ، ص ۴۱۰_

۱۳۲

۷

جمع بین صلاتین

۱۳۳

بیان مسئلہ:

نماز، خالق اور مخلوق کے درمیان ایک اہم ترین رابطہ اور تربيّت کے ایک اعلی ترین لائحہ عمل کا نام ہے_ نماز خودسازی اور تزکیہ نفوس کا ایک بہترین وسیلہ اور فحشاء و منکر سے روکنے والے عمل کا نام ہے_ نماز قرب الہی کا بہترین ذریعہ ہے_

اور با جماعت نماز مسلمانوں کی قوّت و قدرت اور انکی صفوف میں وحدت کا مظہر اور اسلامی معاشرے کے لیے با افتخار زندگی کا باعث ہے_

نماز اصولی طور پر دن رات میں پانچ مرتبہ انجام دی جاتی ہے جس سے انسان کے دل و جان ہمیشہ فیض الہی کے چشمہ زلال سے دُھلتے رہتے ہیں_

نماز کو رسول خدا(ص) نے اپنی آنکھوں کا نور قرار دیا اور اس کے لیے ''قرةُ عینی فی الصلاة ''(۱) ارشاد فرمایا اور اسے مؤمن کی معراج شمار کرتے ہوئے_''الصلوة معراج المؤمن'' (۲) کی صدا بلند کی اور اسے متّقین کے لیئے قرب الہی کے وسیلہ کے عنوان سے

____________________

۱) مکارم الاخلاق ، ص ۴۶۱_

۲) اگرچہ یہ جملہ کتب احادیث میں نہیں ملا لیکن اسقدر مشہور ہے کہ علامہ مجلسی نے اپنے بیانات کے دوران اس جملہ سے استشہاد فرمایا ہے ( بحار الانوار ، جلد ۷۹ ص ۲۴۸، ۳۰۳)_

۱۳۴

متعارف کرایا''الصلاة قربان کلی تقّی'' (۱)

اس مقام پر موضوع سخن یہ ہے کہ کیا پانچ نمازوں کا پانچ اوقات میں علیحدہ علیحدہ انجام دینا ایک واجبی حکم ہے؟ اور اس کے بغیر نماز باطل ہوجاتی ہے ( جسطرح وقت سے پہلے نماز پڑھ لینا ،اس کے باطل ہونے کا سبب بنتا ہے ) یا اسے تین وقتوں میں انجام دیا جاسکتا ہے؟

( یعنی ظہر و عصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز کو جمع کر کے ادا کیا جائے) علمائے شیعہ _ مکتب اہلبیت(ع) کی پیروی کرتے ہوئے _ عموماً اس بات پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ پانچ نمازوں کو تین وقتوں میں انجام دینا جائز ہے اگرچہ افضل و بہتر یہ ہے کہ نماز پنچگانہ کو پانچ وقتوں میں انجام دیا جائے_

لیکن علمائے اہلسنت کی اکثریت _ سوائے چند ایک کے _ اس بات کی قائل ہے کہ نماز پنچگانہ کو علیحدہ علیحدہ پانچ اوقات میں انجام دینا واجب ہے ( صرف عرفہ کے دن میدان عرفات میں ظہر و عصر کی نماز وں کو اکٹھا پڑھا جاسکتا ہے اور عید قربان کی رات مشعر الحرام میں مغرب و عشاء والی نماز کواکٹھا بجالایا جاسکتا ہے البتہ بہت سے علماء نے سفر اور بارش کے اوقات میں کہ جب نماز جماعت کے لیے مسجد میں رفت وآمد مشکل ہو دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی اجازت دی ہے)_

شیعہ فقہاء کی نظر میں _ جیسا کہ بیان ہوا _ نماز پنچگانہ کے جدا جدا پڑھنے کی فضیلت پر تاکید کے ساتھ _ نمازوں کو تین اوقات میں بجالانے کی اجازت اور ترخیص کو ایک عطیہ الہی شمار کیا جاتا ہے جسے امر نماز میں سہولت اور لوگوں کے لیے وسعت کی خاطر پیش کیا گیا ہے_

____________________

۱) کافی جلد ۳، ص ۲۶۵ ، حدیث ۲۶_

۱۳۵

اور اس اجازت کو روح اسلام کے ساتھ سازگار سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسلام ایک ''شریعة سمحة و سہلة'' (آسان و سہل) ہے_

تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ نماز کے لیے پانچ وقتوں پر علیحدہ علیحدہ تاکید کبھی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ اصل نماز بالکل فراموش ہوجائے اور بعض لوگ نماز کو ترک کردیں_

اسلامی معاشروں میں پانچ اوقات پر اصرار کے آثار:

اسلام نے کیوں عرفہکے دن ظہر و عصر کی نماز اور مشعر الحرام میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت دی ہے؟

کیوں بہت سے اہلسنت فقہائ، روایات نبوی(ص) کی روشنی میں سفر کے دوران اور بارش کے اوقات میں دو نمازوں کے اکٹھا پڑھنے کو جائز سمجھتے ہیں؟ یقیناً امت کی سہولت کی خاطر یہ احکام نازل ہوئے ہیں_

یہ تسہیل تقاضا کرتی ہے کہ دیگر مشکلات میں بھی چاہے سابقہ زمانے میں ہوں یا اس دور میں _ نماز کے جمع کرنے کی اجازت دینی چاہیے_

ہمارے زمانے میں لوگوں کی زندگی تبدیل ہوچکی ہے_ کارخانوں میں بہت سے مزدوروں، دفتروں میں بہت سے ملازمین اور کلاسوں میں بہت سے طالب علموں کو پانچ وقت نماز کی فرصت نہیں ملتی ہے یعنی انکے لیےکام کرنا کافی دشوار اور پیچیدہ ہوجاتا ہے_

پس ان روایات کے مطابق جو پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہوئی ہیں اور آئمہ طاہرین نے ان پر تاکید کی ہے اگر لوگوں کو دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو اس اعتبار سے

۱۳۶

انکے کام میں سہولت حاصل ہوگی_ اور نماز پڑھنے والوں کی تعداد بڑھ جائیگی_

اگر ایسا نہ کیا جائے تو ترک نماز میں اضافہ ہوگا اور تارک صلوة لوگوں کی تعداد بڑھتی جائیگی شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے اہلسنت کے جوان نماز کو چھوڑ تے ہیں اور اہل تشیع میں تارکین نماز کی تعداد بہت کم ہے_

انصاف یہ ہے کہ'' بُعثتُ الی الشریعة السمحة السهلة'' (۱) اور رسولخدا(ص) سے نقل ہونے والی متعدد روایات کی روشنی میں لوگوں کو تین اوقات میں نماز پڑھنے کی اجازت دینی چاہیے اسی طرح فرادی نماز کی بھی اجازت دینی چاہیے تا کہ زندگی کی مشکلات، ترک نماز کا موجب نہ بنے _ اگرچہ اسلام میں پانچ وقت نماز کی فضیلت پر تاکید ہوئی ہے اور وہ بھی جماعت کے ساتھ_

دو نمازوں کو اکٹھا پڑھنے کے جواز پر روایات:

اہلسنت کی معروف کتب جیسے صحیح مسلم ، صحیح بخاری ، سنن ترمذی ، مؤطّاء مالک، مسند احمد، سنن نسائی، مصنف عبدالرّزاق اور دیگر مشہور کتابوں میں تقریباً تیس ۳۰ روایات نقل کی گئی ہیں جن میں بغیر سفر اور مطر ( بارش) کے، بغیر خوف اور ضرر کے ، نماز ظہر و عصر یا نماز مغرب و عشاء کے اکٹھا پڑھنے کو نقل کیا گیا ہے_ ان میں سے اکثر روایات کو ان پانچ مشہور اصحاب نے نقل کیا ہے_

۱_ ابن عباس، ۲، جابر ابن عبداللہ انصاری، ۳_ ابو ايّوب انصاری ، ۴_ عبداللہ ابن عمر ، ۵_ ابوہریرہ ، ان میں سے بعض کو ہم قارئین محترم کے لیئے نقل کرتے ہیں_

____________________

۱)مُجھے ایک سہل اور آسان شریعت کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے ( ترجمہ)_

۱۳۷

۱_ ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے ، انہوں نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ '' صلّی رسول اللہ(ص) الظہر و العصر جمیعاً بالمدینة فی غیر خوف و لا سفر'' رسولخدا(ص) نے مدنیةمیں بغیر کسی خوف اور سفر کے نماز ظہر او ر عصر کو اکٹھا انجام دیا_

ابو الزبیرکہتے ہیں میں نے سعید ابن جبیر سے پوچھا کہ پیغمبراکرم(ص) نے ایسا کیوں کیا؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہی سوال میں نے ابن عباس سے کیا تھا تو انہوں نے جواب میں کہا تھا ''أراد أن لا يَحرجَ أحداً من أمّته '' آنحضرت(ص) کا مقصد یہ تھا کہ میری امت کا کوئی مسلمان بھی زحمت میں نہ پڑے''(۱)

۲_ایک اور حدیث میں ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے ''جَمع رسول اللّه بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء فی المدینة فی غیر خوف و لا مطر'' ''پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا انجام دیا''_

حدیث کے ذیل میں آیا ہے کہ جب ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ پیغمبر اکرم(ص) کا اس جمع بین صلاتین سے کیا مقصد تھا تو انہوں نے جواب میں کہا''أراد أن لا یحرج'' آنحضرت(ص) کا یہ مقصد تھا کہ کوئی مسلمان بھی زحمت و مشقت سے دوچار نہ ہو_(۲)

۳_ عبداللہ ابن شقیق کہتے ہیں:

' ' خطبنا ابن عباس یوماً بعد العصر حتی غربت الشمس و بدت النجوم و جعل الناس یقولون الصلاة، الصلاة قال فجائه، رجل من بنی تمیم لا

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۲،ص ۱۵۱_

۲) صحیح مسلم، جلد ۲،ص ۱۵۲_

۱۳۸

یفتر و لا یتنی: الصلوة ، الصلوة فقال ابن عباس أتعلّمنی بالسّنّة لا اَمّ لک ثمّ قال: رایت رسول الله جمع بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء قال عبدالله بن شقیق: فحاک فی صدری من ذلک شیء فأتیتُ ابا هریره فسألته ، فصّدق مقالتَه'' (۱)

کہ ایک دن ابن عباس نے نماز عصر کے بعد خطبہ پڑھنا شروع کیا یہاںتک کہ سورج غروب ہوگیا اور ستارے ظاہر ہوگئے ، لوگوں نے نماز، نماز کی آوازیں لگانا شروع کردیں_ ایسے میں بنو تمیم قبیلہ کا ایک آدمی آیا وہ مسلسل نماز، نماز کی صدائیں بلند کر رہا تھا اس پر ابن عباس نے کہا ، تو مجھے سنت رسول(ص) سکھانا چاہتا ہے اے بے حسب و نسب میں نے دیکھا ہے کہ رسولخدا(ص) نے نماز ظہر و عصر کو ،اسی طرح نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھا ہے عبداللہ بن شقیق کہتا ہے میرے دل میں شک سا پیدا ہوگیا، میں ابوہریرہ کے پاس آیا اور اُن سے یہی بات دریافت کی انہوں نے ابن عباس کے کلام کی تصدیق کی_

۴_ جابر ابن زیدلکھتے ہیں کہ ابن عباس نے کہا کہ : ''صلّی النّبی(ص) سبعاً جمیعاً و ثمانیاً جمیعاً'' پیغمبر اکرم(ص) نے سات رکعتیں اور آٹھ رکعتیں اکٹھی پڑھیں'' (مغرب اور عشاء کی نماز اسی طرح ظہر اور عصر کی نماز کے اکٹھا پڑھنے کی طرف اشارہ ہے)(۲)

____________________

۱) سابقہ مدرک_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۱، ص ۱۴۰ ( باب وقت المغرب)_

۱۳۹

۵_ سعید بن جُبیر، ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ:

'' جَمع رسولُ الله (صلی الله علیه و آله و سلم ) بین الظهر و العصر و بین المغرب و العشاء بالمدینة من غیر خوف و لا مطرً قال: فقیل لأبن عباس : ما أراد بذلک؟ قال أراد أن لا یحرج أمتّه'' (۱)

'' پیغمبر اکرم (ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف اور بارش کے ، ظہر و عصر کی نماز، اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا کہ آنحضرت(ص) کا اس کام سے کیا مقصدتھا؟ تو انہوں نے کہا آپ(ص) چاہتے تھے کہ انکی امت مشقّت میں نہ پڑے''

۶_ امام احمد ابن حنبل نے بھی اسی کے مشابہ حدیث اپنی کتاب مسند میں ابن عباس سے نقل کی ہے_(۲)

۷_ امام مالک نے اپنی کتاب '' مؤطا'' میں مدینہ کا تذکرہ کیے بغیر ابن عباس سے یہ حدیث نقل کی ہے:

'' صلَّ رسولُ الله (ص) الظهر و العصر جمیعاً و المغرب و العشاء جمیعاً فی غیر خوف و لا مطر'' (۳)

____________________

۱) سنن ترمذی ، جلد ۱۲۱ حدیث ۱۸۷_

۲) مسند احمد، جلد ۱ ، ص ۲۲۳_

۳) مؤطا مالک، جلد ۱ ، ص ۱۴۴_

۱۴۰

'' رسولخدا(ص) نے ظہر و عصر کی نماز کو اسی طرح مغرب و عشاء کی نماز کو اکٹھا پڑھا حالانکہ نہ تو دشمن کا خوف تھا اور نہ ہی بارش کا خطرہ''

۸: '' مصنف عبدالرزاق'' نامی کتاب میں جناب عبداللہ ابن عمر سے نقل کیا گیا ہے کہ:

'' جَمع لنا رسولُ الله صلَّی الله علیه و آله و سلم مقیماً غیر مسافربین الظهر و العصرفقال رجلٌ لأبن عمر : لم تری النّبی (ص) فعل ذلک؟ قال لأن لا یحرج اُمّته أن جمع رجل'' (۱)

پیغمبر اکرم (ص) نے بغیر سفر کے یعنی قیام کی حالت میں ظہر و عصر کی نمازوں کو اکٹھا پڑھایا، کسی نے ابن عمر سے پوچھا آپ کے خیال کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے یہ کام کیوں کیا؟ اس پرانہوں نے کہا آپ(ص) نے یہ کام اس لیے انجام دیا کہ اگر امت میں سے کوئی ان دو نمازوں کو اکٹھا پڑھ لے توزحمت میں مبتلا نہ ہو( لوگ اس پراعتراض نہ کریں)_

۹_ جابر ابن عبداللہ کہتے ہیں کہ:

'' جَمع رسولُ الله (ص) بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء فی المدینة للرّخص من غیر خوف: و لا علّة'' (۲)

'' رسولخدا(ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف اوربغیر کسی عذر کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا تا کہ امت کے لیے اجازت اور رخصت شمار ہو _

____________________

۱) مصنف عبدالرزاق ، جلد ۲ ، ص ۵۵۶_

۲) معانی الآثار، جلد ۱ ، ص ۱۶۱_

۱۴۱

۱۰_ ابوہریرہ نیز نقل کرتے ہیں کہ:

'' جمع رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم ) بین الصلوتین فی المدینة من غیر خوف:'' (۱)

رسولخدا(ص) نے مدینہ میں بغیر دشمن کے خوف کے دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا _

۱۱_ عبداللہ بن مسعود بھی نقل کرتے ہیں کہ:

'' جمع رسول الله (ص) بین الاولی و العصر و المغرب و العشاء فقیل له فقال(ص) : صنعته لئلّا تکون أمتی فی حرج'' (۲)

رسولخدا(ص) نے مدینہ میں ظہر و عصر کی نماز، اسی طرح مغرب و عشاء کی نمازوں کو اکٹھا پڑھا_ کسی نے آپ (ص) سے اس کے سبب کے بارے میں سوال کیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ یہ کام میں نے اس لیے کیا ہے تا کہ میری امّت مشقّت میں نہ پڑے_

اسی طرح اور بہت سی احادیث موجود ہیں جو اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں_

یہاںپر دوسوال پیش نظر ہیں:

۱_ مذکورہ احادیث کا نتیجہ :

مذکورہ بالا تقریباً تمام احادیث میں '' کہ جو اہلسنت کی مشہور اور درجہ اول کی کتب میں ذکر ہوئی ہیں اور ان کی سند بعض بزرگ اصحاب تک پہنچتی ہے'' د و نکات پر تاکید کی گئی ہے:

____________________

۱) مسند البزّاز، جلد ۱ ، ص ۲۸۳_

۲) المعجم الکبیر طہرانی، جلد ۱۰، ص ۲۱۹ ، حدیث ۱۰۵۲۵_

۱۴۲

ایک تو یہ کہ رسولخدا(ص) نے دو نمازوں کو اس حال میں اکٹھا انجام دیا کہ کسی قسم کی مشکل جیسے دشمن کا خوف، سفر ، بارش و غیرہ، در پیش نہیں تھی_

اور دوسرے یہ کہ آپ(ص) کا مقصد '' امت کو رخصت دینا'' اور '' عسر و حرج سے نجات دلانا'' تھا_

آیا ان نکات کی روشنی میں سزاوار ہے کہ بعض لوگ اعتراض تراشی کریں اوریوں کہیں کہ یہ اکٹھا پڑھنا اضطراری موارد میں تھا؟ہم کیوں حقائق سے چشم پوشی کریں، اور اپنے خام نظریات کو رسولخدا(ص) کے صریح فرامین پر ترجیح دیں؟

خدا اور اس کے رسول(ص) نے اجازت دی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ امّت کے بعض متعصّب لوگ اجازت نہیں دیتے آخر کیوں ؟

یہ لوگ کیوں نہیں چاہتے ہیں کہ مسلمان جوان ہر حال میں اور ہر جگہ پر ، اسلامی ممالک کے اندر اور باہر، یونیور سٹیوں، دفتروں اور کارخانوں میں اس اہم ترین اسلامی فریضہ (یعنی یومیہ نمازیوں) پر عمل کریں؟

ہمارا نظریہ ہے کہ اسلام قیامت تک ہر زمان اور ہر مکان کے لیے ہے_

پیغمبر اکرم (ص) یقینا اپنی وسعت نظری کے ذریعہ تمام دنیا کے مسلمانوں اور تمام زمانوں اور صدیوں کے لوگوں کو مدنظر رکھے ہوئے تھے وہ جانتے تھے کہ اگر تمام لوگوں کو پانچ وقت میں نماز پڑھنے پر مقيّد کریں گے تو اس کے نتیجے میں بعض لوگ تارک الصلاة ہوجائیں گے ( جیسا کہ ہم آجکل دیکھ رہے ہیں) اسی لیے انہوں نے اپنی امت پر احسان کیا اور کام کو آسان

۱۴۳

کردیا تا کہ سب لوگ ہر زمان و مکان میں آسانی کے ساتھ روزانہ کی نمازوں کو بجالا سکیں_

قرآن مجید فرماتا ہے:

( '' و مَا جَعَل عَلیكُم فی الدّین من حَرَج:'' ) (۱)

۲_ قرآن مجید اور نماز کے تین اوقات:

اسی مسئلہ میں تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کی دو آیات میں جب نماز کے اوقات کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہاں یومیہ نمازوں کے لیے صرف تین اوقات ذکر کیے گئے ہیں_ تعجب یہ ہے کہ کیوں ان بھائیوں میں سے ایک گروہ پانچ اوقات کے وجوب پر اصرار کرتا ہے_

پانچ اوقات میں نماز کی زیادہ فضیلت کے بارے میں کسی کو انکار نہیں ہے_ ہمیں بھی اگر توفیق الہی شامل حال رہے تو پانچ اوقات میں نماز ادا کرتے ہیں_

اختلاف صرف ان پانچ اوقات کے وجوب کے بارے میں ہے_

۱_ پہلی آیت سورہ ہود میں ہے:( ''و أقم الصلوة طَرَفی النهار و زلفاً من اللّیل'' ) دن کے دو اطراف میں اور رات کے کچھ حصّے میں نماز ادا کرو ...''(۲)

'' طرفی النہار'' نماز صبح کی طرف جو دن کی ابتداء میں انجام دی جاتی ہے، اور نماز ظہر و عصر کی طرف اشارہ ہے کہ جن کا وقت سورج غروب ہونے تک باقی ہے_ بالفاظ دیگر نماز ظہر و عصر کے وقت کا غروب آفتاب تک باقی رہنا اس آیت سے با آسانی استفادہ ہوتا ہے اور ''زُلفاً من اللیل'' کہ جس میں لفظ '' زُلف'' استعمال ہوا ہے جس کے بارے میں '' مختار

____________________

۱) سورة حج آیت ۷۸_ اور اللہ نے تم پر دین کے مسئلے میں کوئی حرج اور مشقت نہیں رکھی_

۲) سورة ہود آیت ۱۱۴_

۱۴۴

الصحاح'' اور راغب نے کتاب المفردات میں لکھا ہے کہ یہ '' زلفة'' کی جمع ہے اور اسے رات کے ابتدائی حصوں کے بارے میں استعمال کیا جاتا ہے_ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ''زلفاً من اللیل'' مغرب اور عشاء کے وقت کی طرف اشارہ ہے_

بنابراین اگر پیغمبر اکرم (ص) نمازوں کو عام طور پر پانچ وقتوں میں انجام دیتے تھے تووہ یقینا ان پانچ اوقات کی فضیلت کے اعتبار سے تھا کہ جس کے ہم سب معتقد ہیں ہم کیوں قرآن مجید کی آیت کے ظہور سے چشم پوشی کریں اور دوسری تاویلوں کو تلاش کریں؟

۲_ دوسری آیت سورہ اسراء میں ہے; ''( أقم الصلوة لدُلُوک الشمس إلی غَسَق اللیل و قرآن الفجر إنّ قرآن الفجر کانَ مشهوداً ) '' نماز کوزوال آفتاب کے آغاز سے رات کی تاریکی تک ادا کرو اسی طرح قرآن فجر ( نماز صبح) ادا کرو ...''(۱)

'' دلوک'' متمایل ہونے اور جھکنے کے معنی میں آتا ہے_ یہاں نصف النہار سے سورج کے تمایل کی طرف اشارہ ہے یعنی زوال کا وقت_

'' غسق اللیل'' رات کی تاریکی کے معنی میں ہے، بعض نے اسے رات کی ابتداء سے تعبیر کیا ہے اور بعض نے آدھی رات کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے_ جیسا کہ راغب نے ''مفردات'' میں لکھا ہے کہ '' غسق'' رات کی و تاریکی کی شدّت کے معنی میں ہے اور یہ وہی آدھی رات کے وقت ہوتی ہے _

ان معانی کے مطابق دلوک شمس سے نماز ظہر و عصر کے وقت کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے اور غسق اللیل سے نماز مغرب و عشاء کے وقت کی انتہا کی طرف اشارہ ہے اور قرآن فجر سے

____________________

۱) سورة اسرائ، آیت ۷۸_

۱۴۵

نماز صبح کی طرف اشارہ ہے_

جناب فخر رازی نے اس آیت کی بہترین تفسیر بیان کی ہے، وہ یوں رقمطراز ہیں کہ :

''إن فَسّرنا الغسق بظهور اوّل الظلمة_ و حکاه عن ابن عباس و عطا و النضر بن شمیل_ کان الغسق عبارة عن أول المغرب و علی هذا التقدیر یکون المذکور فی الآیة ثلاث اوقات وقت الزّوال ووقت أول المغرب و وقت الفجر، و هذا یقتضی أن یکون الزوال وقتا، للظُهر و العصر فیکون هذا الوقت مشترکاً بین الصلوتین و أن یکون أول المغرب وقتاً للمغرب و العشاء فیکون هذا الوقت مشترکاً ایضاً بین هاتین الصلوتین فهذا یقتضی جواز الجمع بین الظهر و العصر و المغرب و العشاء مطلقاً'' (۱)

اگر ہم کلمہ غسق کو رات کی تاریکی کے آغاز کے معنی میں تفسیر کریں ( جیسا کہ ابن عباس عطا اور نضر بن شمیل بھی اسی کے قائل ہیں) تو اس وقت غسق سے مغرب کے ابتدائی وقت کی طرف اشارہ ہوگا_ اور اس بناء پر آیت میں تین اوقات ذکر

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی ، ج ۲۱، ص ۲۷_

۱۴۶

ہوئے ہیں زوال کا وقت_ غروب کا وقت اور فجر کا وقت_ اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ تین اوقات تقاضا کرتے ہیں کہ زوال نماز ظہر و عصر کا مشترکہ اورغروب نماز مغرب و عشاء کا مشترکہ وقت ہو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نماز ظہر اور عصر کو ،اسی طرح نماز مغرب اور عشاء کو بغیر کسی قید وشرط کے اکٹھا پڑھا جاسکتا ہے''

جناب فخر رازی نے یہاںتک تو بالکل صحیح بات بیان کی تھی اور آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھا اور سمجھایا_ لیکن اس کے بعد کہتے ہیں کہ چونکہ ہمارے پاس دلیل موجود ہے کہ دو نمازوں کے درمیان بغیر عذر و سفر کے جمع کرنا جائز نہیں ہے، اس لیئےم آیت کو عذر کی حالت میں محدود کریںگے_(۱)

موصوف کو یاد دہانی کرانی چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ ہمارے پاس آیت کو صرف حال عذر میں محدود کرنے پر دلیل موجود نہیں ہے بلکہ متعدّد روایات موجود ہیں ( جنکی طرف اشارہ ہوچکا ہے ) کہ رسولخدا(ص) نے بغیر عذر اور بغیر سفر کے نماز ظہر و عصر اور نماز مغرب و عشاء کو اکٹھا پڑھا تا کہ امّت کو سہولت دی جاسکے اور وہ اس رخصت سے بہرہ مند ہوسکیں_

علاوہ بر این آیت کے اطلاق کو کس طرح انتہائی محدود موارد کے ساتھ مختص کیا جاسکتا ہے حالانکہ علم اصول میں یہ بات مسلّم ہے کہ تخصیص اکثر جائز نہیں ہے_

بہرحال آیت نے بالکل وضاحت کے ساتھ نماز کے جو تین اوقات ذکر کیے ہیں اُن سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے_

سابقہ بیان سے ہم مندرجہ ذیل نتائج اخذ کرتے ہیں_

____________________

۱) سابقہ مدرک_

۱۴۷

۱_ قرآن مجید نے وضاحت کے ساتھ پانچ نمازوں کی تین اوقات میں بجا آوری کو جائز قرار دیا ہے_

۲_ فریقین کی کتب میں بیان کی جانے والی اسلامی احادیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے کئی مرتبہ دو نمازوں کو اکٹھا پڑھا حالانکہ نہ ہی سفر میں تھے اور نہ ہی کوئی اور عذر تھا_ اور اس کام کو انہوں نے مسلمانوں کے لیئے رخصت شمار کیا تا کہ وہ مشقتسے دوچار نہ ہُوں_

۳_ اگرچہ پانچ اوقات میں نماز پڑھنا فضیلت ہے، لیکن اس فضیلت پر اصرار کرنے اور ترخیص کی راہ میں رکاوٹ بننے کی وجہ سے بہت سے لوگ بالخصوص جوان نسل اصل نماز سے فرار کر جاتے ہیں _ اور اس بات کی تمام ذمہ داری ترخیص کے مخالفین کے دوش پر آتی ہے_

کم از کم اہلسنت علماء اتنا قبول کرلیں کہ اس مسئلہ میں انکے جوان بھی مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کے فتوی پر عمل کرلیں جیسا کہ بزرگ عالم دین شیخ الازہر '' جناب شیخ محمد شلتوت'' نے مذہب جعفریہ کے تمام فتاوی پر عمل کرنے کو جائز قرار دیاہے_

آخر میں پھر ہم دوبارہ تاکید کرتے ہیں _ کہ ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ آج کل دنیا میں بہت سے مزدوروں ، ملازمین ، سکول و کا لجز کے طلاب اور دیگر طبقات کے لوگوں کے لیے پانچ اوقات میں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھنا بہت مشکل کام ہے_ کیا ہمیں نہیں چاہیئے کہ رسولخدا(ص) کی دی گئی اس سہولتسے استفادہ کریں جو آجکل کے معاشرے کو مد نظر رکھتے ہوئے عنایت کی گئی ہے تا کہ نسل جوان اور دیگر لوگ نماز ترک کرنے کے بہانے نہ بنائیں_

کیا '' سنت '' پر اس حد تک اصرار کرنا صحیح ہے کہ جو '' فریضہ'' کے ترک کرنے کا سبب بنے؟

۱۴۸

۸

وضو میں پاؤں کا مسح

۱۴۹

قرآن مجید اور پاؤں کا مسح:

وضو میں پاؤں کا مسح ایک اور ایسا اعتراض ہے جسے اہلسنت کے بعض علماء ، شیعوں پر کرتے ہیں _ چونکہ اُن کی اکثریت پاؤں دھونے کو واجب سمجھتی ہیں اور پاؤں کے مسح کو کافی نہیں سمجھتی _

حالانکہ قرآن مجید نے بالکل واضح الفاظ میں پاؤں کے مسح کا حکم دیا ہے_ اس طرح مکتب اہلبیت(ع) کے پیروکاروں کا عمل قرآن مجید کے بالکل مطابق ہے_ اس کے علاوہ پیغمبر اکرم(ص) کی بہت سی احادیث جن کی تعداد تقریباً تیس (۳۰) سے بھی زیادہ ہے پاؤں کے مسح کو بیان کر رہی ہیں_ اور اس کے علاوہ بہت سے اصحاب اور تابعین ( وہ لوگ جو اصحاب کے بعد والے زمانے میں تھے) کا عمل پاؤں کے مسح کے بارے میں موجود ہے نہ پاؤں دھونے کے بارے میں _

لیکن مقام افسوس ہے کہ بعض مخالفین نے ان تمام ادلّہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے، بغیر کسی غور و فکر کے، ہم پر حملہ کرنا شروع کردیا اور تند و تیز الفاظ کے ذریعے، حق و عدالت سے دُوری اختیار کرتے ہوئے اس مذہب حقہ کے پیروکاروں کی سرزنش شروع کردی ہے_ ابن کثیر ، مذہب اہلسنت کے معروف عالم دین اپنی کتاب '' تفسیر القرآن العظیم'' میں کہتے ہیں:

۱۵۰

'' روافض ( ان کا مقصود اہلبیت(ع) کے پیروکار ہیں) نے وضو میں پاؤں دھونے کے مسئلہ میں مخالفت کی ہے اور جہالت و گمراہی کی وجہ سے بغیر کسی دلیل کے مسح کو کافی سمجھ لیا ہے_ حالانکہ قرآن مجید کی آیت سے پاؤں دھونے کا وجوب سمجھا جاتا ہے_ اور رسولخدا(ص) کا عمل بھی آیت کے مطابق تھا_ حقیقت میں اُن کے پاس اپنے نظریہ پر کوئی دلیل نہیں ہے(۱)

بعض دیگر علماء نے بھی اسکی اندھی تقلید کرتے ہوئے اسکی بات کو اخذ کر لیا ہے اور اس مسئلہ پر تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور اپنی دلخواہ نسبت شیعوں کی طرف دی ہے_

شاید وہ اپنے تمام مخاطبین کو عوام تصوّر کر رہے تھے اور انہوں نے یہ نہ سوچا کہ ایک دن محققین انکی باتوں پر تنقید کریں گے اور( انہیں باطل ثابت کریں گے )اس طرح انہیں اسلامی تاریخ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے گا_

اس وقت ہم سب سے پہلے قرآن مجید کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اس مسئلہ کا فیصلہ دریافت کرتے ہیں_ سورة مائدہ ( کہ جو پیغمبر اکرم(ص) پر نازل ہونے والی سب سے آخری سورت ہے ) کی آیت نمبر ۶ میں یوں ارشاد باری تعالی ہے:

''یا ايّها الذین آمنوا إذا قمتم إلی الصلوة فاغسلوا وُجوهکم و أیدیکم إلی المرافق و اَمسَحُوا برُء وسکم و أرجلکم إلی الکعبین''

اے صاحبان ایمان جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور اپنے سر اور پاؤں کا ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرو''

____________________

۱) تفسیر القرآن العظیم، جلد ۲، ص ۵۱۸_

۱۵۱

واضح ہے کہ کلمہ ''ارجلکم'' ( اپنے پاؤں)کا کلمہ '' روسکم'' ( اپنے سر) پر عطف

ہے اور اس وجہ سے دونوں کا مسح کرنا واجب ہے نہ کہ دھونا_ چاہے '' ارجلکم'' کو نصب کے ساتھ پڑھا جائے یا جر کے ساتھ ( غور کیجئے)(۱)

____________________

۱) اس مطلب کی وضاحت یہ ہے کہ کلمہ '' ارجلکم'' کے اعراب کے بارے میں دو مشہور قرا تیں ہیں ایک جر کے ساتھ قرا ت کہ جسے بعض مشہور قرّاء جیسے حمزہ ، ابوعمرو، ابن کثیر اور حتی عاصم نے ( ابوبکر کی روایت کے مطابق ) لام کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسری طرف بعض مشہور قرّاء نے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور آجکل قرآن مجید کے تمام رائج نسخوں میں اسی دوسری قرا ت کے مطابق اعراب لگایا گیا ہے_

لیکن دونوں اعراب کے مطابق یقینا معنی کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے_ کیونکہ اگر زیر کے ساتھ پڑھا جائے تو بالکل واضح ہے کہ ''ارجلکم'' کا '' رؤس'' پر عطف ہے اس کا معنی یہ ہے کہ وضو میں پاؤں کا مسح کرو (جسطرح سر کا مسح کرتے ہو)اگر شیعہ اس قرا ت کے مطابق عمل کریں کہ جس کے اور بھی بہت سے طرفدار ہیں تو اس میں کیا عیب ہے؟

اور اس سے بڑھ کر اگر فتح ( زبر) کے ساتھ بھی پڑھا جائے پھر بھی ''ارجلکم ''کا عطف ''برو سکم'' کے محل پر ہوگا اور واضح ہے کہ برؤسکم محل کے اعتبار سے منصوب ہے کیونکہ '' و امسحوا'' کا مفعول ہے _ پس دونوں صورتوں میں آیت کا معنی یہی بنے گا کہ پاؤں کا مسح کرو_

ہاں بعض لوگوں نے یوں خیال کیا ہے کہ اگر ''ارجلکم '' کو فتح ( زبر) کے ساتھ پڑھا جائے تو اس کا '' وجوہکم'' پر عطف ہوگایعنی ہاتھ اور منہ کو دھویئےس طرح پاؤں کو دھولیجئے حالانکہ یہ بات ادبیات عرب کے قواعد کے بھی خلاف اور قرآن مجید کی فصاحت کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے_

بہرحال یہ بات ادبیات عرب کے اس لئے خلاف ہے کیونکہ معطوف اور معطوف علیہ کے در میان کبھی اجنبی جملہ واقع نہیں ہوتا ہے_ بلکہ ایک معروف اہلسنت عالم کے بقول محال ہے کہ '' ارجلکم '' کا ''وجوہکم'' پر عطف ہو کیونکہ ہرگز فصیح عربی میں ایسا جملہ نہیں بولا جاتا ہے کہ مثلا کوئی کہے '' ضربتُ زیداً و مررتُ ببکر و عمراً'' کہ ''میں نے زید کو مارا اور بکر کے قریب سے گزرا اور عمر کو'' یعنی عمرو کو بھی مارا ( شرح منیة المصلی ص ۱۶)

۱۵۲

بہرحال قرآن مجیدنے پاؤں کے بارے میں مسح کا حکم دیا ہے_

عجیب توجیہات

بعض لوگوں نے جب قرآن مجید کے حکم کو اپنے پہلے سے معین کردہ مفروضہ کے خلاف دیکھا تو توجیہات کرنا شروع کردیں_ ایسی توجیہات کہ جو انسان کو حیران کر دیتی ہیں_ من جملہ:

۱_ یہ آیت سنت پیغمبر (ص) کی وجہ سے اور جو احادیث آپ(ص) سے نقل ہوئی ہیں انکی خاطر منسوخ ہوگئی ہو ابن حزم نے اپنی کتاب '' الاحکام فی اصول الاحکام'' میں لکھا ہے کہ ''چونکہ سنت میں پاؤں دھونے کا حکم آیا ہے اس لیے ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ مسح والا حکم منسوخ ہوگیا ہے''_

جبکہ اولا ً:تمام مفسرین نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ سورہ مائدہ وہ آخری سورہ ہے جو پیغمبر اکرم (ص) پر نازل ہوئی ہے اور اس کی کوئی بھی آیت منسوخ نہیں ہوئی ہے_

حتی کہ عام افراد بھی اس قسم کا جملہ نہیں بولتے ہیں چہ جائیکہ قرآن مجید جو فصاحت کا اکمل و اتم نمونہ ہے اس قسم کا جملہ بیان کرے_

پس جس طرح اہلسنت کے بعض محققین نے کہا ہے کہ بلاشک و شبہہ نصب کی صورت میں کلمہ '' ارجلکم'' کا عطف '' بر ء ؤسکم'' کے محل پر ہوگا اور ہرحال میں آیت کا مفہوم یہی بنے گا کہ وضو کرتے وقت سر اور پاؤں کا مسح کرو_

۱۵۳

ثانیاً : جس طرح عنقریب بیان کیا جائیگا کہ جہاں پیغمبر اکرم (ص) سے وضو میں پاؤں دھونے والی روایات نقل ہوئی ہیں اُن کے مقابلے میں آپ(ص) سے ہی متعدد روایات پاؤں کے مسح کے بارے میں بھی نقل ہوئی ہیں کہ آپ(ص) وضو میں پاؤں کا مسح کیا کرتے تھے_

کس طرح ممکن ہے کہ ہم قرآن مجید کے دستور کو اس قسم کی روایات کے ذریعے نسخ کردیں_

علاوہ بر این ،تعارض روایات کے باب میں ثابت کیا گیا ہے کہ جب بھی روایات کے درمیان تضاد ہو تو قرآن مجید سے ان کی مطابقت کرنی چاہیے ، جو روایات قرآن مجید کے مطابق ہوں انہیں قبول کر لینا چاہیے اور جو قرآن مجید کے مخالف ہوں ان پر عمل نہیں کرنا چاہیے_

۲_ دوسرے کچھ افراد جیسے '' جصاص'' نے '' احکام القرآن'' نامی کتاب میں لکھا ہے کہ ''وضو والی آیت مجمل ہے اور ہم احتیاط پر عمل کرتے ہوئے پاؤں دھو لیتے ہیں تا کہ دھونا بھی صادق آجائے اور مسح بھی''(۱)

حالانکہ سب جانتے ہیں کہ (غَسل) '' دھونا'' اور '' مسح کرنا'' دو مختلف اور متباین مفہوم ہیں اور دھونا ہرگز مسح کو شامل نہیں ہوتا ہے_

لیکن کیاکیا جائے انکی پہلے سےقضاوت انہیں قرآن مجید کے ظہور پر عمل نہیں کرنے دیتی_

____________________

۱) احکام القرآن ، جلد ۲ ، ص ۴۳۴_

۱۵۴

۳_ جناب فخر رازی کہتے ہیں کہ حتی اگر '' جرّ'' کے ساتھ بھی قرا ت کی جائے یعنی ''ارجلکم'' کا '' روؤسکم'' پر عطف کیا جائے تو بالکل واضح طور پر یہ پاؤں کے مسح پر دلالت کرتا ہے، لیکن پھر بھی اس کا مقصد پاؤں کا مسح کرنا نہیں ہوگا، بلکہ پاؤں کے مسح سے مُراد یہ ہوگی کہ پاؤں دھوتے وقت پانی استعمال کرنے میں اسراف نہ کرو''(۱)

حالانکہ اگر آیات قرآن میں اس قسم کے اجتہاد اور تفسیر بالرا ی کا دروازہ كُھل جائے تو پھر ظواہر قرآن پر عمل کرنے کے لیے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی_ اگر ہمیں اجازت ہو کہ ہم ''مسح'' کو '' دھوتے وقت اسراف نہ کرنے'' کے معنی میں لے لیں تو پھر تمام آیات کے ظواہر کی دوسری طرح تفسیر کی جاسکتی ہے_

نص ّ کے مقابلے میں اجتہاد اور تفسیر بالرا ی:

بہت سے قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسطرح ہمارے زمانے میں اجتہاد در مقابل نص ایک قبیح اور غیر قابل قبول امر سمجھا جاتا ہے ، اسلام کے ابتدائی زمانے میں اسطرح نہیں تھا_ با الفاظ دیگر جسطرح آج ہم احادیث پیغمبر(ص) اور آیات قرآن کے مقابلے میں تعبّد اور تسلیم محض رکھتے ہیں_ اُس زمانے میں یہ تعبّد اس شدّت و قوت کے ساتھ نہیں تھا_

مثلا جب حضرت عمر نے اپنے معروف جملے میں یوں کہا کہ ''متعتان کانتا محللتان فی زمن النبی(ص) و ا نا أحرمهما و اعاقب علیهما متعة النساء و متعة الحج'' دو

____________________

۱) تفسیر کشّاف ، جلد ۱ ، ص ۶۱۰_

۱۵۵

متعے رسولخدا(ص) کے زمانے میں حلال تھے میں اُن دونوں کو حرام کرتا ہوں اور جو بھی اس حکم کی مخالفت کریگا میں اسے سزا دونگا، ایک متعة النساء اور دوسرا متعہ حج(۱) ( یعنی حج تمتع اپنے خاص احکام کے ساتھ'' تو بہت کم یا اصلاً دیکھنے میں نہیں آیا ہے کہ اصحاب میں سے کسی نے اُن پر تنقید کی ہو اور کہا ہو کہ نص کے مقابلے میں اجتہاد جائز نہیں ہے ( اور وہ بھی اس شدت کے ساتھ ) _

حالانکہ اگر ہمارے زمانے میں کوئی بڑے سے بڑا مسلمان فقیہہ یا دانشمند کہہ دے کہ ''فلان عمل رسولخدا(ص) کے زمانے میں حلال تھا اور میں اسے حرام کر رہا ہوں'' سب اس پر تعجّب کریں گے اور اس کی بات کو فضول اور غیر قابل قبول سمجھیں گے اور جواب میں کہیں گے کہ کسی کو بھی حق نہیں ہے کہ حرام خدا کو حلال یا حلال خدا کو حرام کر سکے کیونکہ احکام کو منسوخ کرنا یا نص ّکے مقابلے میں اجتہاد کرنا کسی کے لیئے جائز نہیں ہے_

لیکن اسلام کے ابتدائی زمانے میں اسطرح نہیں تھا_ اسی لیے بعض موارد دیکھنے کو ملتے ہیں کہ جس میں فقہائ، احکام الہی کے مقابلے میں مخالفت کی جرا ت کرتے تھے_

شاید پاؤں پر مسح کے انکار اور اسے دھونے میں تبدیل کرنے کامسئلہ بھی اسی اجتہاد کا شکار ہوا ہوگا_ شاید بعض لوگوں نے سوچا ہوگا کہ پاؤں چونکہ آلودگی کے نزدیک رہتے ہیں بہتر ہے کہ انہیں دھولیا جائے چونکہ ان کے مسح کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

بالخصوص اُس زمانے میں تو بعض لوگ ننگے پاؤں رہتے تھے اور بالکل جوتے نہیں پہنتے تھے اسی وجہ سے آداب احترام مہمان میں سے ایک یہ تھا کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اس کے پاؤں دھلواتے تھے

____________________

۱) اس حدیث کے مصادر ،نکاح موقّت کی بحث میں بیان ہوچکے ہیں_

۱۵۶

ہماری اس بات پر گواہ صاحب تفسیر المنارکا کی کلام ہے جسے انہوں آیت وضو کے ذیل میں پاؤں دھونے کے قائل افراد کی توجیہ میں بیان کیا ہے _ وہ کہتے ہیں کہ '' پاؤں پر تر ہاتھ کھینچ دینے سے ، کہ جو اکثر اوقات غبار آلود اور کثیف ہوتے ہیں نہ صرف کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ پاؤں زیادہ کثیف ہوجاتے ہیں اور ہاتھ بھی آلودہ اور کثیف ہو جاتا ہے_

اور اہلسنت کے معروف فقیہ ابن قدامہ ( متوفی ۶۲۰ ھ ق) بعض علماء سے نقل کرتے ہیں کہ پاؤں چونکہ آلودگی کے نزدیک ہیں جبکہ سر اس طرح نہیں ہے لہذا مناسب ہے کہ پاؤں کو دھو لیا جائے اور سر کا مسح کر لیا جائے(۱) اسطرح انہوں نے اپنے اجتہاد اور استحسان کو ظاہر قرآن پر ترجیح دیتے ہوئے مسح کو چھوڑ دیا ہے اور آیت کی غلط توجیہ کردی ہے_

اس گروہ نے شاید اس بات کو بُھلا دیا ہے کہ وضو نظافت اور عبادت دونوں کا مركّب ہے، سر کا مسح کرنا وہ بھی بعض کے فتوی کے مطابق صرف ایک انگلی کے ساتھ ، نظافت کا فائدہ نہیں دیتا ہے اس طرح پاؤں کا مسح بھی_

حقیقت میں سر اور پاؤں کا مسح اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ وضو کرنے والا آدمی سر سے لیکر پاؤں تک اللہ تعالی کا مطیع ہو_ ورنہ نہ تو سر کا مسح نظافت کا موجب بنتا ہے اور نہ ہی پاؤں کا مسح_

بہرحال ہم اللہ تعالی کے فرمان کے تابع ہیں اور ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ اپنی قاصر عقول کے ساتھ احکام الہی میں تبدیلیاں کریں_ جس وقت قرآن مجید نے پیغمبر(ص) پر نازل ہونے والی آخری سو رت میں حکم دے دیا ہے کہ اپنے ہاتھ اور منہ کو دھولو اور سر اور پاؤں کا مسح کرلو تو

____________________

۱)المغنی ابن قدامہ ، جلد ۱ ، ۱۱۷_

۱۵۷

ہمیں اپنی ناقص عقلوں کے ذریعے فلسفہ چینی کر کے اس حکم کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے اور اپنی مخالفتوں کی توجیہ کے لیے کلام خدا کی نامعقول توجیہات نہیں کرنی چاہئیں_

تفسیر بالرا ی اور نص ّکے مقابلے میں اجتہاد دو ایسی عظیم مصیبتیں ہیں جنہوں نے بعض مقامات میں فقہ ا سلامی کے چہرے کو مخدوش کردیا ہے_

جوتوں پر مسح کرنا

واقعاً یہ عجیب بات کہ جس نے ہر غیر جانبدار محقق کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ یہی برادران کہ جو وضو میں پاؤں پر مسح کے جائز نہ ہونے پر اتنا اصرار کرتے ہیں اور پاؤں دھونے کو واجب سمجھتے ہیں _ اکثر وضاحت کے ساتھ لکھتے ہیں کہ پاؤں دھونے کی بجائے جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے وہ بھی مجبوری کے عالم میں نہیں بلکہ اختیار کی حالت میں اور صرف سفر میں نہیں بلکہ حضر میں بھی اور ہر حال میں جوتوں پر مسح کیا جاسکتا ہے_

واقعاً انسان اس قسم کے احکام پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ پاؤں کا دھونا واجب تھا اور یا پھر جوتوں کے اوپرسے مسح جائز ہوگیا ہے

البتہ ایک گروہ کہ جو فقہ اہلسنت کی نظر میں اقليّت شمار ہوتے ہیں جوتوں پر مسح کو جائز نہیں سمجھتے ہیں جیسے حضرت علی ابن ابی طالب _ ، جناب ابن عباس اور امام مالک کہ جو اہلسنت کے ایک امام ہیں ( انکے فتوی کے مطابق جوتوں پر مسح جائز نہیں ہے)_

دلچسپ یہ ہے کہ حضرت عائشےہ، کہ اہلسنت برادران جنکے فتاوی اور روایات کے لیے خاص اہمیت کے قائل ہیں، ایک مشہور حدیث میں فرماتی ہیں کہ ''لئن تقطع قدمایی أحبّ إليّ من أن أمسح علی الخفّین''اگر میرے دنوں پاؤں کاٹ دیے جائیں میرےلیے

۱۵۸

اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں ( وضو میں ) جوتوں پر مسح کروں''(۱)

جبکہ وہ دن رات پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ تھیں اور آپ(ص) کا وضو دیکھ چکی تھیں_

بہرحال اگر یہ برادران اہل بیت رسولکی احادیث کی پیروی کرتے کہ جو ظاہر قرآن کے مطابق ہیں تو کبھی بھی پاؤں کے مسح کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہ کرتے_

پیغمبر اکرم(ص) ، نے معتبر اور صحیح حدیث میں فرمایا کہ '' میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں ایک کتاب خدا اور دوسری میری عترت اور اہلبیت کہ اگر ان دونوں سے تمسک کروگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے_

امام محمد باقر _ فرماتے ہیں کہ تین چیزوں میں ، میں کسی سے تقيّہ نہیں کرتا ہوں ۱_ مسکرات کے نہ پینے میں ( چونکہ بعض فقہاء نبیذ کو جائز سمجھتے تھے) ۲_ جوتوں پر مسح والے مسئلہ میں اور ۳_ حج تمتع میں _ ''ثلاثةٌ لا أتّقی فیهنّ أحداً شُربُ المُسکر و مسحٌ الخُفّین و مُتعة الحجّ'' (۲)

پاؤں پر مسح اور احادیث اسلامی :

امامیہ فقہاء اس بات پر متّفق ہیں کہ وضو میں پاؤں کے مسح کے علاوہ کوئی چیز قابل قبول نہیں ہے_ اور اس مسئلہ میں اہلبیت کے واسطہ سے منقول روایات بھی بالکل واضح ہیں_

آپ نے امام باقر _ سے نقل کی گئی مذکورہ بالا روایت کو ملاحظہ فرمایا کہ جو بالکل واضح ہے، اسی قسم کی اور بہت سی روایات موجود ہیں_

____________________

۱) مبسوط سرخسی ، جلد ۱، ص ۹۸_

۲) کافی ، جلد ۳، ص ۳۲_

۱۵۹

لیکن جو احادیث اہلسنت کی کتب میں بیان ہوئی ہیں وہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر اختلاف رکھتی ہیں_ دسیوں احادیث پاؤں پر مسح کی طرف اشارہ یا اسے بیان کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) سر کے مسح کے بعد پاؤں پر مسح کرتے تھے، جبکہ بعض دوسری احادیث میں پاؤں دھونے کو پیغمبر (ص) کی طرف نسبت دی گئی ہے_ اور بعض میں جوتوں پر مسح کرنے کی نسبت دی گئی ہے

احادیث کی پہلی قسم کہ جو صرف مسح کا حکم دیتی ہیں اہل سنت کی معروف کتب میں موجود ہیں جیسے:

۱_ صحیح بخاری

۲_ مسند احمد

۳_ سنن ابن ماجہ

۴_ مستدر ک حاکم

۵_ تفسیر طبری

۶_ درّ المنثور

۷_کنزل العمال

و غیرہ کہ ان کتب کا معتبر ہونا اہلسنت کے نزدیک مسلم ہے_

اور ان روایات کے راوی بھی مشہور اصحاب میں سے ہیں_ جیسے:

۱_ امیرالمؤمنین علی (ع)

۲_ جناب ابن عباس

۳_ انس بن مالک ( پیغمبر اکرم(ص) کے مخصوص خادم)

۴_ جناب عثمان بن عفّان

۵_ بسر بن سعید

۶_ رفاعہ

۷_ ابوظبیان و غیرہ

ہم یہاں ان روایات میں سے صرف پانچ کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں_

۱۶۰

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232