شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں16%

شيعہ جواب ديتے ہيں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

شيعہ جواب ديتے ہيں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 81005 / ڈاؤنلوڈ: 4437
سائز سائز سائز
شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

ہم نے ہر مقام پر کہا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ مذہب شیعہ کے علماء و محققین میں سے کوئی بھی (خود انکی اپنی کتابوں کی گواہی کے مطابق) تحریف کا قائل نہیں تھا اور نہ ہے _لیکن پھر بھی بعض تعصب اور ہٹ دھرم قسم کے لوگ اس تہمت پر اصرار کرتے ہیں _پتہ نہیں قیامت والے دن وہ کیا جواب دیں گے کیونکہ ایک طرف تو تہمت لگا رہے ہیں اور دوسری طر ف قرآن مجید کی اہمیت کو کم کررہے ہیں _

اگر آپ کا بہانہ وہ بعض ضعیف روایات ہیں جو ہماری کتابوں میں نقل ہوئی ہیں تو اس قسم کی ضعیف روایات آپ کی حدیث و تفسیر کی کتابوں میں بھی موجود ہیں_ جنکی طرف پہلے اشارہ کیاجاچکا ہے_

کوئی بھی مذہب ضعیف روایات کی بنا پر استوارنہیں ہوتا ہے _

اور ہم نے کبھی بھی ابن الخطیب مصری کی کتاب (الفرقان فی تحریف القرآن ) کی خاطر یا آپ کی ان ضعیف روایات کی خاطر جو تحریف قرآن پر مشتمل ہیں آپ پر تحریف قرآن کی تہمت نہیں لگائی _ اور ہم کبھی بھی قرآن مجید کو تخریب کاری کرنے والے تعصّب کا شکار نہیں ہونے دیں گئے_

دن رات تحریف قرآن کی باتیں نہ کیجئے _ اسلام ،مسلمین اور قرآن مجید پر ظلم نہ کیجئے اور اپنے مذہبی تعصب کی وجہ سے بار بار تحریف قرآن کی رٹ لگا کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے اصلی سرمائے یعنی قرآن مجید کے اعتبار کو کم نہ کیجئے _دشمن کو بہانہ فراہم نہ کیجئے _تم اگر اس طریقے سے شیعوں اور اہل بیت (ع) کے پیروکاروں سے انتقام لینا چاہتے ہو تو جان لوتم جہالت

۲۱

اور نادانی سے اسلام کی بنیادوں کو کھو کھلا کررہے ہو_کیونکہ تم کہتے ہو کہ مسلمانوں کا ایک عظیم گروہ تحریف قرآن کا قائل ہے اور یہ قرآن مجید پر ظلم عظیم ہے _

آخر میں پھر ایک دفعہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ شیعہ اوراہل سنت کا کوئی محقق بھی تحریف قرآن کا قائل نہیں ہے بلکہ سب علما ء اس قرآن مجید کو جو پیغمبر (ص) اکرم پر نازل ہوا اور جو آج مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے ایک ہی سمجھتے ہیں _اور خود قرآن مجید کی تصریح کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ اُٹھایا ہے اور ہر قسم کی تحریف ،تبدیلی اور زوال سے اسے محفوظ رکھنے کی ضمانت دی ہے _

لیکن دونوں طرف سے بعض بے خبر، نا آگاہ متعصب قسم کے لوگ ،ایک دوسرے کی طرف تحریف کی نسبت دیتے ہیں اور اس مسئلے کو اختلاف کے عروج تک پہنچادیتے ہیں اللہ تعالی ان سب کو ہدایت فرمائے _(آمین)

۲۲

۲

''تقیہ'' قرآن و سنت کے آئینہ میں

۲۳

دوسرا مسئلہ جس پر ہمیشہ ہمارے متعصب مخالفین اور بہانہ تلاش کرنے والے افراد، مکتب اہلبیت کے پیروکاروں پر تشنیع کرتے ہیں ،''تقیہ''کا مسئلہ ہے _

وہ کہتے ہیں تم کیوں تقیہ کرتے ہو؟کیا تقیہ ایک قسم کا نفاق نہیں ہے ؟

یہ لوگ اس مسئلہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ گویا تقیہ کوئی حرام کام یا گناہ کبیرہ یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی گناہ ہے _یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو مخصوص شرائط کے ساتھ جائز شمار کیا ہے _اور خود انکے اپنے مصادر میں منقول روایات اس بات کی تائید کرتی ہیں _اور اس سے بڑھ کر تقیہ (اپنی مخصوص شرائط کے ساتھ)ایک واضح عقلی فیصلہ ہے _خود ان کے بہت سے لوگوں نے اپنی ذاتی زندگی میں اس کا تجربہ کیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں _

اس بات کی وضاحت کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے _

۱-تقیہ کیا ہے ؟

تقیہ یہ ہے کہ انسان اپنے مذہبی عقیدہ کو شدیداور متعصب مخالفین کے سامنے کہ جو اس کے لئے خطرہ ایجاد کرسکتے ہوں چھپا لے_ مثال کے طور پر اگر ایک موحّد مسلمان،ہٹ دھرم بت پرستوں کے چنگل میں پھنس جائے، اب اگر وہ اسلام اور توحید کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس کا خون بہا دیں گے یا اسے جان ،مال یا ناموس کے اعتبار سے شدید نقصان پہنچائیں گے _ اس

۲۴

حالت میں مسلمان اپنے عقیدہ کو ان سے پنہاں کر لیتا ہے تا کہ انکے گزند سے امان میں رہے یا مثلا،اگر ایک شیعہ مسلمان کسی بیابان میں ایک ھٹ دھرم وہابی کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے جو شیعوں کا خون بہانا مباح سمجھتا ہے _ اس حالت میں وہ مومن اگر اپنی جان،مال اور ناموس کی حفاظت کے لئے اُس وہابی سے اپنا عقیدہ چھپا لیتا ہے تو ہر عاقل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ایسی حالت میں یہ کام مکمل طور پر منطقی ہے اور عقل بھی یہاں یہی حکم لگاتی تھے _کیونکہ خواہ مخواہ اپنی جان کو متعصب لوگوں کی نذرنہیں کرنا چاہیئے

۲_تقیہ اور نفاق کا فرق:

نفاق بالکلتقیہ کے مقابلے میں ہے_ منافق وہ ہوتا ہے جو باطن میں اسلامی قوانین پر عقیدہ نہ رکھتا ہو یا انکے بارے میں شک رکھتا ہو لیکن مسلمانوں کے در میان اسلام کا اظہار کر تا ہو_

جس تقیہ کے ہم قائل ہیں وہ یہ ہے کہ انسان باطن میں صحیح اسلامی عقیدہ رکھتا ہو، البتہ صرف ان شدت پسند وہابیوں کا پیروکارو نہیں ہے جو اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں اور انکے لیے کفر کا خط کھینچ دیتے ہیں اور انہیں دھمکیاںدیتے ہیں_ جب بھی ایسا با ایمان شخص اپنی جان،مال یا ناموس کی حفاظت کے لئے اس متعصب ٹولے سے اپنا عقیدہ چھپا لے اس کو تقیہ کہتے ہیں اور اسکے مقابل والا نکتہ نفاق ہے_

۳_تقیہ عقل کے ترازو میں :

تقیہ حقیقت میں ایک دفاعی ڈھال ہے_ اسی لیے ہماری روایات میں اسے (تُرس

۲۵

المومن ) یعنی (باایمان لوگوں کی ڈھال)کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے _کسی انسان کی عقل اجازت نہیں دیتی کہ انسان اپنے باطنی عقیدہ کا خطرناک اور غیر منطقی افراد کے سامنے اظہار کرے اور خواہ مخواہ اپنی جان، مال یا ناموس کو خطرے میں ڈالے _کیونکہ بلاوجہ طاقت اوروسائل کو ضائع کرنا کوئی عقلی کام نہیں ہے _

تقیہ:اس طریقہ کار کے مشابہہ ہے جسے تمام فوجی ،میدان جنگ میں استعمال کرتے ہیں اپنے آپ کو دختوں ،سرنگوں اور ریت کے ٹیلوںکے پیچھے چھپا لیتے ہیں اور اپنا لباس درختوں کی شاخوں کے رنگ جیسا انتخاب کرتے ہیں تا کہ بلا وجہ ان کا خون ہدر نہ جائے _

دنیا کے تمام عقلاء اپنی جان کی حفاظت کے لئے سخت دشمن کے مقابلے میں تقیہ والی روش سے استفادہ کرتے ہیں_ کبھی بھی عقلائ، کسی کو ایسا طریقہ اپنا نے پر سرزنش نہیں کریںگے_آپ دنیا میں ایک انسان بھی ایسا نہیں ڈھونڈسکتے جو تقیہ کو اس کی شرائط کے ساتھ قبول نہ کرتاہو_

۴_تقیہ کتاب الہی میں :

قرآن مجید نے متعدد آیات میں تقیہ کو کفار اور مخالفین کے مقابلہ میں جائز قراردیا ہے _ مثال کے طور پر چند آیات پیشخدمت ہیں_

الف)آل فرعون کے مؤمن کی داستان میں یوں بیان ہوا ہے _

( و قال رجل مومن من آل فرعون یکتم ایمانه اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله و قد جاء کم

۲۶

بالبینات ) (۱)

آل فرعون میں سے ایک باایمان مرد نے کہ جو (موسی کی شریعت پر) اپنے ایمان کو چھپا تا تھا کہا: کیا تم ایسے مرد کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اوروہ اپنے ساتھ واضح معجزات اور روشن دلائل رکھتا ہے_

پھر مزید مؤمن کہتا ہے (اسے اس کے حال پر چھوڑ دو اگر جھوٹ کہتا ہے تو اسجھوٹ کا اثر اس کے دامن گیر ہوگا اور اگر سچ کہتا ہے تو ممکن ہے بعض عذاب کی جو دھمکیاں اس نے سنائی ہیں وہ تمہارے دامن گیر ہوجائیں)پس اس طریقے سے آل فرعون کے اس مومن نے تقیہ کی حالت میں (یعنی اپنے ایمان کو مخفی رکھتے ہوئے ) اس ھٹ دھرم اور متعصب ٹولے کو کہ جو حضرت موسی (ع) کے قتل کے درپے تھا ضروری نصیحتیں کردیں _

ب)قرآن مجید کے ایک دوسرے صریح فرمان میں ہم یوں پڑھتے ہیں _

( لایتخذ المومنون الکافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلک فلیس من الله فی شئی الا ان تتقو منهم تقاة ً ) ___(۲)

مومنین کو نہیں چاہیے کہ کفار کو اپنا دوست بنائیں _ جو بھی ایسا کریگا وہ خدا سے بیگانہ ہے ہاں مگر یہ کہ تقیہ کے طور پر ایسا کیا جائے _

اس آیت میں دشمنان حق کی دوستی سے مکمل طور پر منع کیا گیا ہے مگر اس صورت میں اجازت ہے کہ جب ان کے ساتھ اظہار دوستی نہ کرنا مسلمان کی آزار و اذیت کا سبب بنے، اس وقت ایک دفاعی ڈھال کے طور پر ان کی دوستی سے تقیہ کی صورت میں فائدہ اٹھایا جائے_

____________________

۱)سورہ غافر آیت ۲۸_

۲)سورہ آل عمران آیت ۲۸_

۲۷

ج) جناب عمار یاسر اور انکے ماں ،باپ کی داستان کو تمام مفسرین نے نقل کیا ہے _ یہ تینوںاشخاص مشرکین عرب کے چنگل میں پھنس گئے تھے _اور مشرکین نے انہیں پیغمبر اکرم (ص) سے اظہار براء ت کرنے کوکہا _جناب عمار کے والدین نے اعلان لا تعلقی سے انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے _لیکن جناب عمار نے تقیہ کرتے ہوئے انکی مرضی کی بات کہہ دی_ اور اس کے بعد جب گریہ کرتے ہوئے پیغمبر اکرم (ص) کی خدمت میں آئے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی _

( من کفر بالله من بعد ایمانه الا من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ) (۱)

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائیں انکے لئے شدید عذاب ہے مگر وہ لوگ جنہیں مجبور کیا جائے_

پیغمبر اکرم (ص) نے جناب عمار کے والدین کو شہداء میں شمار کیا اور جناب عمار یاسر کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور فرمایا تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر پھر مشرکین تمھیں مجبور کریں تو انہی کلمات کا تکرار کرنا_تمام مسلمان مفسرین کا اس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتفاق ہے کہ یہ آیت جناب عمار یاسر اور انکے والدین کے بارے میں نازل ہوئی اور بعد میں رسول خدا (ص) نے یہ جملات بھی ادا فرمائے_ تو اس اتفاق سے عیاں ہوجاتا ہے کہ سب مسلمان تقیہ کے جواز کے قائل ہیں_ ہاں یہ بات باعث تعجب ہے کہ قرآن مجید سے اتنی محکم ادلہ اور اہل سنت مفسرین کے اقوال کے با وجود شیعہ کو تقیہ کی خاطر مورد طعن قرار دیا جاتا ہے-_

____________________

۱) سورة النحل آیت ۱۰۶_

۲۸

جی ہاں نہ تو جناب عمار منافق تھے نہ ہی آل فرعون کا وہ مومن منافق تھا بلکہ تقیہ کے دستور الہی سے انہوں نے فائدہ اٹھایا_

۵_تقیہ اسلامی روایات میں :

اسلامی روایات میں بھی تقیہ کاکثرت سے ذکر ملتا ہے_مثال کے طور پر مسند ابی شیبہ اہل سنت کی معروف مسند ہے _اس میں (مسیلمہ کذاب) کی داستان میں نقل ہوا ہے کہ مسیلمہ کذاب نے رسو ل خدا (ص) کے دو اصحاب کو اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں گرفتار کرلیا اور دونوں سے سوال کیا کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں خدا کا نمائندہ ہوں؟ ایک نے گواہی دے کر اپنی جان بچالی اور دوسرے نے گواہی نہیں دی تو اسکی گردن اڑادی گئی_ جب یہ خبر رسول خدا (ص) تک پہنچی تو آپ(ص) نے فرمایا جو قتل ہو گیا اس نے صداقت کے راستے پر قدم اٹھایا اور دوسرے نے رخصت الہی کو قبول کرلیا اوراس پر کوئی گناہ نہیں ہے(۱)

ائمہ اہل بیت کی احادیث میں بھی بالخصوص ان ائمہ کے کلمات میں کہ جو بنوعباس اور بنو اُميّہ کی حکومت کے زمانہ میں زندگی بسر کرتے تھے اور اس دور میں جہاں کہیں محب علی ملتا اسے قتل کردیا جاتا تھا_تقیہ کا حکم کثرت سے ملتا ہے _ کیونکہ وہ مامور تھے کہ ظالم اور بے رحم دشمنوں سے اپنی جان بچانے کے لئے تقیہ کی ڈھالسے استفادہ کریں_

۶_کیا تقیہ صرف کفار کے مقابلے میں ہے؟

ہمارے بعض مخالفین جب ان واضح آیات اور مندرجہ بالاروایات کا سامنا کرتے ہیں تو اسلام میں تقیہ کے جواز کو قبول کرنے کے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا_ اس وقت وہ

____________________

۱) مسند ابی شیبہ ، ج۱۲ ص ۳۵۸_

۲۹

یوں راہ فرار تلاش کرتے ہیں کہ تقیہ تو صرف کفار کے مقابلہ میں ہوتا ہے_ مسلمانوں کے مقابلے میں تقیہ جائز نہیں ہے _ حالانکہ مندرجہ بالا ادلہ کی روشنی میں بالکل واضح ہے کہ ان دو موارد میں کوئی فرق نہیں ہے_

۱_ اگر تقیہ کا مفہوم متعصب اور خطرناک افراد کے مقابلے میں اپنی جان ،مال اور ناموس کی حفاظت کرنا ہے، اور حقیقت میں بھی یو نہی ہے، تو پھر نا آگاہ اور متعصب مسلمان اور کافرکے در میان کیا فرق ہے ؟ اگر عقل و خرد یہ حکم لگاتی ہے کہ ان امور کی حفاظت ضروری ہے اور انہیں بیہودہ طور پر ضائع کرنا مناسب نہیں ہے تو پھر ان دومقامات میں کیا فرق ہے_

دنیا میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انتہائی جہالت اور غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے کہتے ہیں کہ شیعہ کا خون بہانا قربت الہی کا ذریعہ بنتا ہے _ اب اگر کوئی مخلص شیعہ جو امیر المومنین _ کا حقیقی پیرو کار ہو اور اس جنایت کارٹولے کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے اور وہ اس سے پوچھیں کہ بتا تیرا مذہب کیا ہے ؟ اب اگر یہ شخص واضح بتادے کہ میں شیعہ ہوں تو یہ خواہ مخواہ اپنی گردن کو جہالت کی تلوار کے سپردکرنے کے علاوہ کوئی اور چیزہے؟ کوئی بھی صاحب عقل و خرد یہ حکم لگا سکتا ہے ؟

باالفاظ دیگر جو کام مشرکین عرب نے جناب عمار و یاسریا مسیلمہ کذاب کے پیروکاروں نے دواصحاب رسول خدا کے ساتھ کیا اگر وہی کام بنو امیہ اور بنو عباس کے خلفاء اور جاہل مسلمان، شیعوں کے ساتھ انجام دیں تو کیا ہم تقیہ کو حرام کہیں اور اہل بیتکے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مخلص پیروکاروں کی نابودی کے اسباب فراہم کریں صرف اس خاطر کہ یہ حاکم بظاہر مسلمان تھے ؟

اگر ائمہ اہل بیتتقیہ کے مسئلہ پربہت زیادہ تاکید نہ کرتے یہاںتک کہ فرمایا ہے

۳۰

(تسعة اعشار الدین التقیه ) دس میں سے نو حصے دین تقیہ ہے _(۱)

تو بنو امیہ اور بنو عباس کے دور میں شیعوں کے مقتولین کی تعداد شاید لاکھوں بلکہ کروڑوں تک پہنچ جاتی _ یعنی انکی بے رحمانہ اوروحشیانہ قتل و غارت دسیوں گنا زیادہ ہوجاتی_

آیا ان شرائط میں تقیہ کی مشروعیت کے بارے میں ذرہ برابر شک رہ جاتا ہے ؟ہم یہ بات فراموش نہیں کرسکتے کہ جب اہل سنت بھی سالہا سال مذہبی اختلافات کی خاطر ایک دوسرے سے تقیہ کرتے تھے _ من جملہ قرآن مجید کے حادث یا قدیم ہونے پر انکا شدید اختلاف تھا اور اس راہ میں بہت ساروں کا خون بہایا گیا (وہی نزاع کہ جو آج محققین کی نظر میں بالکل بیہودہ اوربے معنی نزاع ہے )کیا جو گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا تھا اگر ان میں سے کوئی شخص مخالفین کے چنگل میں گرفتار ہوجاتا تو کیا اسے صراحت کے ساتھ کہہ دینا چاہیے کہ میرا یہ عقیدہ ہے چاہے اس کا خون بہہ جائے اور اس کے خون بہنے کا نہ کوئی فائدہ ہو اور نہ کوئی تاثیر؟

۲_جناب فخر رازی اس آیت( الا ان تتقوا منهم تقاة ) (۲) کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ آیت کا ظہور یہ ہے کہ تقیہ غالب کافروں کے مقابلے میں جائزہے (الا ان مذهب الشافعی _رض_ان الحالة بین المسلمین اذا شاکلت الحالة بین المسلمین و المشرکین حلّت التقیه محاماة علی النفس ) لیکن مذہب شافعی یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کی کیفیت بھی ایک دوسرے کے ساتھ مسلمین و کفار جیسی ہوجائے تو اپنی جان کی حفاظت کے لئے تقیہ جائزہے _

____________________

۱) بحارالانوار ، جلد ۱۰۹، ص ۲۵۴_

۲) سورة آل عمران آیة ۲۸_

۳۱

اس کے بعد حفظ مال کی خاطر تقیہ کے جواز پر دلیل پیش کرتے ہیںکہ حدیث نبوی ہے (حرمة مال المسلم کحرمة دمہ ) مسلمان کے مال کا احترام اس کے خون کی مانند ہے ) اور اسی طرح دوسری حدیث میں ہے (من قتل دون مالہ فہو شہید) جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے ماراجائے وہ شہید ہے(۱) _

تفسیر نیشاپوری میں کہ جو تفسیر طبری کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے یوں بیان کیا گیا ہے کہ قال الامام الشافعی :

(تجوز التقیه بین المسلمین کما تجوز بین الکافرین محاماة عن النفس )(۲)

امام شافعی فرماتے ہیں کہ جان کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں سے تقیہ کرنا بھی جائز ہے _ جس طرح کفار سے تقیہ کرنا جائز ہے _

۳_دلچسب بات یہ ہے کہ بنی عباس کی خلافت کے دور میں بعض اہل سنت محدثین (قرآن مجید کے قدیم ہونے ) پر عقیدہ رکھنے کیوجہ سے بنو عباس کے حكّام کی طرف سے دباؤ کا شکار ہوئے انہوں نے تقیہ کرتے ہوئے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید حادث ہے اوراس طرح انہوںنے اپنی جان بچالی _

''ابن سعد'' مشہور مورخ کتاب طبقات میں اور طبری ایک اور مشہور مورخ اپنی تاریخ کی کتاب میں دو خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو مامون کی طرف سے اسی مسئلہ کے بارے میں بغداد کے پولیس افسر (اسحق بن ابراہیم) کی طرف ارسال کیے گئے _

____________________

۱) تفسیر کبیر فخر رازی، جلد ۸ ص ۱۳_

۲) تفسیر نیشابوری (تفسیر الطبری کے حاشیہ پر) جلد ۳، ص ۱۱۸_

۳۲

پہلے خط کے بارے میں ابن سعد یوں لکھتا ہے کہ مامون نے پولیس افسر کو لکھا کہ سات مشہور محدثین ( محمد بن سعد کاتب واقدی _ابو مسلم_یحیی بن معین_زہیر بن حرب_ اسمعیل بن داوود_ اسمعیل بن ابی مسعود_ و احمد بن الدورقی ) کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ میری طرف بھیج دو_جب یہ افراد مامون کے پاس پہنچے تو اس نے ان سے آزمانے کے لیے سوال کیا کہ قرآن مجید کے بارے میں تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ تو سب نے جواب دیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے (حالانکہ اس وقت محدثین کے درمیان مشہور نظریہ اس کے برعکس تھا یعنی قرآن مجید کے قدیم ہونے کے قائل تھے اور ان محدثین کا بھی یہی عقیدہ تھا(۱) ہاں انہوں نے مامون کی سخت سزاؤں کے خوف سےتقیہ کیا اور قرآن مجید کے مخلوق ہونے کا اعتراف کرلیا اور اپنی جان بچالی _مامون کے دوسرے خط کے بارے میں کہ جسے طبری نے نقل کیا ہے اور وہ بھی بغداد کے پولیس افسر کے نام تھایوں پڑھتے ہیں کہ جب مامون کا خط اس کے پاس پہنچاتو اس نے بعض محدثین کو کہ جنکی تعداد شاید ۲۶چھبیس افراد تھی حاضر کیا اور مامون کا خط انکے سامنے پڑھا_پھر ہر ایک کو الگ الگ پکار کر قرآن مجید کے بارے میں اُسکا عقیدہ معلوم کیا_ ان میں سوائے چار افراد کے سب نے اعتراف کیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے ( اور تقیہ کرکے اپنی جان بچالی ) جن چار افراد نے اعتراف نہیں کیا انکے نام یہ تھے احمد ابن حنبل ، سجادہ ، القواریری، اور محمد بن نوح _ پولیس انسپکٹر نے حکم دیا کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر زندان میں ڈال دیا جائے _ دوسرے دن دوبارہ ان چاروںافراد کو بلایا اور قرآن مجید کے بارے میں اپنے سوال کا تکرار کیا _سجادة نے اعتراف کرلیا کہ قرآن مجید مخلوق ہے وہ آزاد ہو

____________________

۱) طبقات ابن سعد، جلد ۷،ص ۱۶۷، چاپ بیروت_

۳۳

گیا _ باقی تین نے مخالفت پر اصرار کیا ،انہیں دوبارہ زندان بھیج دیا گیا_ اگلے دن پھر ان تین افراد کو بلایا گیا اس مرتبہ (القواریری)نے اپنا بیان واپس لے لیا اور آزاد ہوگیا_لیکن احمد ابن حنبل اور محمد بن نوح اسی طرح اپنے عقیدہ پر مصّر رہے _ پولیس انسپکٹر نے انہیں (طرطوس )(۱) شہر میں جلا وطن کردیا_

جب کچھ لوگوں نے ان تقیہ کرنے والوں پر اعتراض کیا تو انہوں نے کفار کے مقابلے میں جناب عمار یاسر کے عمل کو دلیل کے طور پر پیش کیا(۲) ان موارد سے بالکل روشن ہوجاتا ہے کہ جس دقت انسان کسی چنگل میں گرفتار ہوجائے اور اس وقت ظالموں سے نجات پانے کا تنہا راستہ تقیہ ہوتو وہ یہ راستہ اختیار کر سکتا ہے خواہ یہ تقیہ کافر کے مقابلہ میں ہو یا مسلمان کے مقابلے میں ہو_

۷) حرام تقیہ:

بعض موارد میں تقیہ حرام ہے اور یہ اس وقت ہے کہ جب ایک فرد یا گروہ کے تقیہ کرنے اور اپنا مذہبی عقیدہ چھپا نے سے اسلام کی بنیاد کو خطرہ لاحق ہوتا ہو یا مسلمانوں کو شدید نقصان ہو تا ہو_ اس وقت اپنے حقیقی عقیدہ کو ظاہر کرنا چاہیے، چاہے ان کے لئے خطرے کا باعث ہی کیوں نہ ہو _اور جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے اور قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ اس سے منع فرمایا ہے( ولا تلقو بایدیکم الی التهلکة ) یہ

____________________

۱) یہ شام میں دریا کے کنارے ایک شہر ہے (معجم البلدان جلد۴، ص ۳۰)_

۲) تاریخ طبری جلد ۷، ص ۱۹۷_

۳۴

لوگ سخت خطاء سے دوچار ہیں کیونکہ اس کا لازمہ یہ ہے کہ میدان جہاد میں حاضر ہونا بھی حرام ہو حالانکہ کوئی بھی عاقل ایسی بات نہیں کرتا ہے _یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ یزید کے مقابلے میں امام حسین _ کا قیام یقینا ایک دینی فریضہ تھا _ اسی لئے امام _ تقیہ کے طور پر بھی یزیدیوں اور بنو امیہ کے غاصب خلفاء کے ساتھ کسی قسم کی نرمی دکھانے پر راضی نہ ہوئے_ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کرنے سے اسلام کی بنیاد کو شدید دھچکا لگے گا_ آپ (ع) کا قیام اور آپکی شہادت مسلمانوں کی بیداری اور اسلام کو جاہلیت کے چنگل سے نجات دلانے کا باعث نبی_

(مصلحت آمیز ) تقيّہ:

یہ تقیہ کی ایک دوسری قسم ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایک مذہب والے ،مسلمانوں کی صفوں میں وحدت برقرار رکھنے کے لئے ان باتوں میں جن سے دین و مذہب کی بنیادکو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، دوسرے تمام فرقوں کے ساتھ ہماہنگی اور یکجہتی کا ثبوت دیتے ہیں _ مثلا مکتب اہل بیت کے پیرو کار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کپڑے اور قالین پر سجدہ نہیں ہوتااورپتھریا مٹی و غیرہ پر سجدہ کرنا ضروری ہے _اور پیغمبر اکرم (ص) کی اس مشہور حدیث (جعلت لی الارض مسجداً و طهورا )(۱) ''زمین کو میرے لئے محل سجدہ اور وسیلہ تیمّم قرار دیا گیا ہے '' کو اپنی دلیل قرار دیتے ہیں اب اگر وہ وحدت برقرار رکھنے کیلئے دیگر مسلمانوں کی صفوں میں انکی مساجد میں یامسجد الحرام اور مسجد نبوی میں جب نماز پرھتے ہیں تو ناگزیر کپڑے پر سجدہ کرتے ہیں _ یہ کام جائز ہے اور ایسی نماز ہمارے عقیدہ کے مطابق

____________________

۱)صحیح بخاری جلد ۱ ص ۹۱و سنن بیہقی ،جلد ۲ ص ۴۳۳(اور بھی بہت سی کتب میں یہ حدیث نقل ہوئی ہے )_

۳۵

درست ہے اور اسے ہم مدارا کرنے والا ( مصلحت آمیز )تقیہ کہتے ہیں _کیونکہ اس میں جان و مال کا خوف درکار نہیں ہے بلکہ اس میں تمام اسلامی فرقوں کے ساتھ مدارا کرنے اورحسن معاشرت کا عنوان در پیش ہے _تقیہ کی بحث کا ایک بزرگ عالم دین کے کلام کے ساتھ اختتام کرتے ہیں _

ایک شیعہ عالم دین کی مصر میں الازہر کے ایک بزرگ استاد سے ملاقات ہوئی اس نے شیعہ عالم کو سرزنش کرتے ہوئے کہا-میں نے سنا ہے تم لوگ تقیہ کرتے ہو؟ شیعہ عالم دین نے جواب میں کہا(لعن الله من حملنا علی التقیة ) رحمت الہی سے دور ہوں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں تقیہ پر مجبور کیا(۱)

____________________

۱) یعنی اگر دشمنوں کی طرف سے ہماری جان و مال کو خطرہ نہ ہوتا تو ہم کبھی بھی تقیہ نہ کرتے (مترجم)

۳۶

۳

عدالت صحابہ

اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب خصوصی امتیازات سے بہرہ مند تھے _ وحی الہی اور آیات کو پیغمبر اکرم(ص) کی زبان مبارک سے سنتے تھے_ آنحضرت(ص) کے معجزات کا مشاہدہ کرتے تھے _اور آپکی قیمتی باتوں کے ذریعے پرورش پاتے تھے آنحضرت (ص) کے عملی نمونوں اور اسوہ حسنہ سے بہرہ مند تھے _

اسی وجہ سے انکے در میان ایسی بزرگ اور ممتاز شخصیات نے تربیت پائی کہ جہان اسلام جنکے وجود پر فخر و مباہات کرتا ہے _ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کہ کیا تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے مومن،صالح،سچے،درستکار اور عادل افراد تھے یا ان کے در میان غیر صالح افراد بھی موجود تھے _

۱_ دو متضاد عقیدے :

صحابہ کے بارے میں دو مختلف عقیدے موجود ہیں : پہلا عقیدہ یہ کہ تمام اصحاب بغیر کسی استثناء کے پاکیزگی و طہارت کے نور سے منور ہیں اور سب ہی صالح، عادل ، باتقوی اور صادق تھے _ اسی وجہ سے ان میں سے جو بھی پیغمبر اکرم(ص) سے حدیث نقل کرے صحیح اور قابل قبول ہے _ اور ان پر کوئی چھوٹا سا اعتراض بھی نہیں کیا جا سکتا ہے اور اگر ان سے غلط کام سرزد ہوجائے تو ان کی توجیہ کرنا چاہیئے_یہ اہل سنت کے اکثر گروہوںکا عقیدہ ہے _

۳۷

دوسرا عقیدہ یہ ہے کہ اگر چہ ان کے در میان باشخصیت،فداکار،پاک اور باتقوی افراد موجود تھے لیکن منافق اور غیر صالح افراد بھی موجود تھے _اور قرآن مجید اور پیغمبر اکرم (ص) نے ان سے اظہار بیزاری کیا ہے _

با الفاظ دیگر اچھے اور برے کی تشخیص کا جو معیار ہر جگہ استعمال ہوتا ہے وہی معیار ہم یہاں بھی جاری کریں گے _ ہاں چونکہ یہ پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب تھے اس لئے ان کے بارے میں ہمارا اصلی و بنیادی نظریہ یہ ہوگا کہ یہ نیک و پاک افراد ہیں ،لیکن اس کے با وجود ہم حقائق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریں گے _اور عدالت و صدق سے منافی اعمال کے صدورپر غض بصر نہیں کریں گے _چونکہ یہ کام ،اسلام اور مسلمین پر ایک کاری ضرب لگا تا ہے اور اسلام کی چار دیواری میں منافقین کے داخلہ کا سبب بنتا ہے_

مذہب شیعہ اور اہلسنت کے روشن فکر علماء کے ایک گروہ نے اس عقیدہ کا انتخاب کیا ہے_

۲_تنزیہ کے سلسلہ میں شدّت پسندی:

تنزیہ صحابہ والے نظریہ کے طرفداروں کے ایگ گروہ نے اتنی شدت اختیار کی ہے کہ جو بھی اصحاب پر تنقید کر دے اسے فاسق اورکبھی ملحد اور زندیق شمار کرتا ہے اور یا اس کا خون بہانا مُباح سمجھتا ہے_

من جملہ ابو زرعہ رازی کی کتاب '' الاصابة'' میں یوں ملتا ہے:'' اگر دیکھو کوئی شخص اصحاب پیغمبر(ص) میں سے کسی پر تنقید کر رہا ہے تو جان لو کہ وہ زندیق ہے_ یہ فتوی اس لئے ہے چونکہ رسولخدا(ص) حق اور قرآن حق ہے اور جو کچھ پیغمبر پر نازل ہوا حق ہے اور ان تمام چیزوں کو

۳۸

صحابہ نے ہم تک پہنچایا ہے اور یہ ( مخالفین) چاہتے ہیں ہمارے شہود (گواہوں) کو بے اعتبار کردیں تا کہ کتاب و سنت ہاتھ سے چلی جائے''(۱)

'' عبداللہ موصلی '' اپنی کتاب '' حتی لا ننخدع '' میں یوں رقمطراز ہیں'' یہ اصحاب ایسا گروہ ہے جنہیں اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر(ص) کی ہم نشینی اور دین و شریعت کے قوام کے لیے چُن لیا ہے_ اور انہیں پیغمبر(ص) کا وزیر قرار دیا ہے_ انکی محبت کو دین و ایمان اور انکے بُغض کو کفر و نفاق شمار کیا ہے اور امت پر واجب کیا ہے کہ ان سب کو دوست رکھیں اور ہمیشہ انکی خوبیاں اور فضائل بیان کریں اور انکی آپس میں جو جنگیں اور جھگڑے ہوئے ہیں ان پر خاموشی اختیار کریں''(۲)

عنقریب روشن ہو جائیگا کہ یہ بات قرآن و سنت کے خلاف ہے_

۳_ لا جواب سوالات:

ہر عقلمند اور منصف مزاج انسان جو ہر بات کو بغیر دلیل اور آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کرتا اپنے آپ سے یہ سوالات کرتا ہے_

اللہ تعالی قرآن مجید میں ازواج پیغمبر(ص) کے بارے میں یوں فرماتا ہے کہ:

( '' يَانسائَ النّبی مَن يَات منكُنَّ بفاحشة: مبيّنة: يُضاعَفُ لَهَا العذابُ ضعفَین و کانَ ذلک علی الله یسیراً'' ) (۳)

____________________

۱) الاصابہ ، جلد ۱، ص ۱۷_

۲) حتی لاننخدع ، ص ۲_

۳)سورہ احزاب، آیت ۳۰_

۳۹

اے ازواج رسول(ص) تم میں سے جس نے بھی کھلم کھلا گناہ کیا اس کی سزا دو برابر ہوگی اور یہ بات اللہ تعالی کے لیے انتہائی آسان ہے_

ہم صحابہ کی جو بھی تفسیر کریں ( عنقریب اصحاب کی مختلف تعریفیں بیان ہونگی) بلاشک ازواج نبی(ص) اصحاب کا روشن ترین مصداق ہیں_

قرآن مجید کہتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ انکے گناہوں سے چشم پوشی نہیں کی جائے گی بلکہ انکی سزا دوبرابر ہوگی_

کیا ہم اس آیت پریا نظریہ تنزیہ کے طرفداروں کی بلا مشروط حمایت پریقین رکھیں؟

نیز قرآن مجید ،شیخ الانبیاء حضرت نوح _ کے فرزند کے بارے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے یوں فرماتا ہے ''( إنّه عملٌ غیرُ صالح ) :'' وہ غیر صالح عمل ہے _(۱)

اور جناب نوح (ع) کو خبردار کیا گیا کہ اس کی شفاعت نہ کریں

کیا ایک نبی(ع) کا فرزند اہم ہوتا ہے یا اس کے اصحاب و اعوان؟

حضرت نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویوں کے بارے میں قرآن مجید یوں کہتا ہے:

''( وَ فَخَانَتاهُما فلم يُغنيَا عنهما من الله شَیئاً و قیلَ ادخُلا النّارَ مع الدَّاخلین'' ) (۲)

ان دو نے اپنے شوہروں ( نوح (ع) اور لوط(ع) کے ساتھ خیانت کی ( اور دشمنوں کا ساتھ دیا) اور وہ دو پیغمبر انکی شفاعت نہ کر سکے اور ان دونوں کو حکم دیا گیا کہ دوزخیوں کے ساتھ آگ میں داخل ہوجاؤ_

____________________

۱) سورة ہود آیت ۴۶_

۲)سورة تحریم آیت ۱۰_

۴۰

۴۷ کیا یہ آیات صراحت کے ساتھ بیان نہیں کر رہیں کہ افراد کی خوبی اور بدی کا معیار انکا اپنا ایمان اور عمل ہے_ حتی کہ اگر بُرے اعمال ہوں تو نبی(ع) کی بیوی یا بیٹا ہونا بھی جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتا_

اس کے باوجود کیا صحیح ہے کہ ہم آنکھیں بند کرلیں اور کہیں کہ فلاں شخص چونکہ کچھ عرصہ کے لیئے بنی (ص) کا صحابی رہا ہے لہذا اس کی محبت دین و ایمان اور اس کی مخالفت کفر و نفاق ہے_ چاہے وہ صحابی بعد میں منافقین کی صف میں داخل ہوگیا ہو اور اس نے نبی اکرم(ص) کا دل دکھایا ہو اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہو_ کیا عقل و خرد اس بات کو قبول کرتی ہے؟

اگر کوئی کہے کہ طلحہ و زبیر ابتدائ-ے اسلام میں اچھے انسان تھے لیکن جس وقت حکومت کی ہوس اُن پر سوار ہوئی تو انہوں نے زوجہ رسول(ص) ( حضرت عائشےہ) کواپنے ساتھ لیا اور حضرت علی(ع) کے ساتھ اپنی بیعت و پیمان توڑ ڈالی حالانکہ تقریبا تمام مسلمانوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی_ پھر انہوں نے جنگ جمل کی آتش کو بھڑ کایا اور اس طرح سترہ ہزار مسلمان اس جنگ کا لقمہ بن گئے_ پس یہ لوگ راہ راست سے منحرف ہوگئے تھے اور اس عظیم تعداد کا خون انکی گردن پر ہے اور قیامت کے دن یہ جوابدہ ہونگے_

کیا یہ بات حقیقت کے خلاف ہے؟

یا اگر کوئی کہے چونکہ معاویہ نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی خلاف ورزی کی اور جس خلافت کو تمام مسلمانوں نے قبول کر لیا تھا تو اس نے انکار کیا اور جنگ صفین کی آگ بھڑکائی جس میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان لقمہ اجل بن گئے_ لہذا معاویہ سمتگر آدمی تھا_ کیا یہ بات نا حق ہے؟

۴۱

کیا تاریخ کے ان تلخ حقائق سے چشم پوشی کی جاسکتی ہیں_ یا ان غلط توجیہات کی خاطر کہ جنہیں کوئی بھی عقلمند آدمی قبول نہیں کرتا ان نہایت افسوس ناک حوادث سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ کیا '' عبداللہ موصلی کے بقول ایسے افراد کی محبت، دین و ایمان ہے اور انکا بغض کفر و نفاق ہے؟

کیا ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ان غلط کاموں کے سامنے جو ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے موجب بنے ہیں سکوت اختیار کریں؟ کونسی عقل یہ حکم لگاتی ہے؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے گرد جمع ہونے والوں میں منافق لوگ بھی تھے کیا ان آیات قرآن سے چشم پوشی کرلیں؟

قرآن مجید یوں فرماتا ہے :

''( و ممَّن حَولَکم من الأعراب مُنافقُونَ و من أهل المدینة مَرَدُوا علی النّفاق لا تَعلَمُهُم نَحنُ نَعلَمُهُم ) ''(۱)

کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس قسم کی منطق کو دنیا کے عقلمند انسان قبول کرلیں؟

۴: صحابہ کون ہیں؟

اس مقام پر ایک اور اہم نکتہ مفہوم '' صحابہ'' ہے_

صحابہ کہ جن کے بارے میں طہارت و پاکیزگی کی بات کی جاتی ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ صحابہ سے کون لوگ مراد ہیں _اس سلسلہ میں علمائے اہل سنت کی جانب سے مکمل طور پر مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں_

____________________

۱)سورہ توبہ آیت ۱۰۱_

۴۲

۱_ بعض نے تو اس کے مفہوم کو بہت وسیع کردیا ہے _وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جس نے بھی آنحضرت (ص) کو دیکھا ہے وہ آپ (ص) کاصحابی ہے

اسی تعبیر کو '' بخاری'' نے ذکر کیا ہے وہ یوں لکھتے ہیں ''من صَحَبَ رسولُ الله او رآه من المسلمین فهو من أصحابه''

اہل سنت کے معروف عالم جناب احمد بن حنبل نے بھی صحابی کے مفہوم کو بہت وسیع بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں''أصحابُ رسول الله کلُّ منَ صَحَبه ، شَهراً أو يَوماً أو سَاعَةً أو رَآه''

''رسولخدا(ص) کا صحابی وہ ہے کہ جس نے رسولخدا(ص) کی صحبت اختیار کی ہو چاہے ایک ماہ ایک دن یا حتی ایک گھنٹے کیلئے بھی بلکہ اگر کسی نے آنحضرت(ص) کی زیارت کی ہو وہ بھی صحابی ہے''

۲_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کو محدود انداز میں پیش کیا ہے مثلا '' قاضی ابوبکر محمد ابن الطيّب'' لکھتے ہیں کہ اگرچہ صحابی کا لغوی معنی عام ہے لیکن اُمت کے عرف عام میں اس اصطلاح کا اطلاق صرف اُن افراد پرہوتا ہے جو کافی عرصہ تک آنحضرت(ص) کی صحبت میں رہے ہوں نہ ان لوگوں پرکہ جو صرف ایک گھنٹہ کی محفل میں بیٹھاہو یا آپ(ص) کے ساتھ چند قدم تک چلا ہو یا اُس نے ایک آدھ حدیث آنحضرت(ص) سے سُن لی ہو''_

۳_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کا دائرہ اس سے بھی زیادہ تنگ کردیا ہے جیسے'' سعید بن المسيّب'' لکھتے ہیں کہ '' پیغمبر (ص) کا صحابی وہ ہے جو کم از کم ایک یا دو سال آنحضرت(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دو غزووں میں اس نے آنحضرت(ص) کے ساتھ شرکت کی ہو''(۱)

____________________

۱) تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۲۳۷_

۴۳

ان تعاریف اور دیگر تعریفوں میں کہ جنہیں طوالت کے خوف کیوجہ سے ذکر نہیں کیا جا رہا ہے مشخّص نہیں ہے کہ اس قداست کے دائرے میں آنے والے افراد کون سے ہیں_ اکثر علماء نے اسی وسیع معنی کو اختیار کیا ہے_اگرچہ ہماری مدّ نظر ابحاث میں ان تعریفوں کے اختلاف سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے_ جیسا کہ عنقریب روشن ہوجائیگا کہ سیرت رسول(ص) کی خلاف ورزی کرنیوالے اکثروہ افراد ہیں جو کافی عرصہ تک آپ(ص) کے ہمنشین رہے ہیں_

۵:''عقیدہ تنزیہ کا اصلی سبب''

اس کے باجود کہ اصحاب کی اس حد تک پاکیزگی کا عقیدہ رکھنا کہ جو بعض لحاظ سے عصمت کے مشابہ ہے نہ تو قرآن مجید میں اس کا حکم آیا ہے نہ احادیث میں بلکہ قرآن ، سنت اور تاریخ سے اس کے برعکس مطلب ثابت ہے حتی کہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی میں اس قسم کا کوئی عقیدہ موجود نہیں تھا_ تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں یہ مسئلہ کیوں اور کس د لیل کی بناپرپیش کیا گیاہے؟

ہمارے خیال کے مطابق اس عقیدہ کے انتخاب کی چند وجوہات تھیں

۱_ اگر کمال حُسن ظن سے کام لیا جائے تو ایک وجہ تو یہی ہے جسے سابقہ ابحاث میں ذکر کیا گیا ہے کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ اگر صحابہ کرام کا تقدس پائمال ہوجائے تو انکے اور پیغمبر(ص) کے درمیان حلقہ اتصال ٹوٹ جائے گا_کیونکہ قرآن مجید اور پیغمبر اکرم(ص) کی سنت انکے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہے_

لیکن اس بات کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان معاذ اللہ تمام اصحاب کو غلط اور کاذب نہیں کہتا ہے کیونکہ انکے درمیان ثقہ اور مورد اطمینان افراد کثرت کے ساتھ

۴۴

تھے،وہی بااعتماد افراد ہمارے اور پیغمبر اکرم(ص) کے درمیان حلقہ اتصال بن سکتے ہیں_ جس طرح ہم شیعہ، اہلبیت(ع) کے اصحاب کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں_

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں بھی یہی مشکل موجود ہے کیونکہ آج ہم کئی واسطوں کے ذریعے اپنے آپ کو زمانہ پیغمبر(ص) کے ساتھ متّصل کرتے ہیں_ لیکن کسی نے دعوی نہیں کیا کہ یہ تمام واسطے ،ثقہ اور صادق ہیں اور ہر صدی کے لوگ بڑے مقدس تھے اور اگر ایسا نہ ہوتو ہمارا دین متزلزل ہوجائیگا_

بلکہ سب یہی کہتے ہیں کہ روایات کو ثقہ اور عادل افراد سے اخذ کرنا چاہیئے_

علم رجال کی کتب تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ثقہ کو غیر ثقہ سے ممتاز کیا جاسکے_

تواب کیا مشکل ہے کہ اصحاب کرام کے بارے میں بھی ہم وہیطریقہ عمل اختیار کریں جو ان سے بعد والوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں؟

۲: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بعض صحابہ کے بارے میں ''جرح'' یعنی انکے نقائص بیان کرنے اور ان پر تنقید کرنے سے پیغمبر اسلام(ص) کے مقام و منزلت میں کمی واقع ہوتی ہے_ اس لیے اصحاب پر تنقید جائز نہیں ہے_

جو لوگ اس دلیل کا سہارا لیتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے پیغمبر(ص) کے گرد جمع ہونے والے منافقین پر شدید ترین حملے نہیں کیے ہیں؟ کیا آنحضرت(ص) کے خالص اور صادق اصحاب کے درمیان منافقین کی موجودگی کی وجہ سے آپ(ص) کی شان میں کمی واقع ہوئی ہے؟ ہرگزایسا نہیں ہے

خلاصہ یہ کہ ہمیشہ اور ہر زمانے میں حتی تمام انبیاء کے زمانوں میں اچھے اور بُرے افراد

۴۵

موجود تھے_ اور انبیاء کے مقام و منزلت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا_

۳_ اگر اصحاب کے اعمال پر جرح و تنقید کا سلسلہ شروع ہوجائے تو بعض خلفاء راشدین کی شخصیت پر حرف آتا ہے_اس لئے ان کے تقدس کی حفاظت کیلئے صحابہ کی قداست پر تاکید کرنا چاہئے تا کہ کوئی شخص مثلا حضرت عثمان کے اُن کاموں پر اعتراض نہ کرے جو بیت المال کے بارے میں اور اس کے علاوہ ان کے دور حکومت میں وقوع پذیر ہوئے اور یہ نہ کہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا_

یہاںتک کہ اس قداست کے قالب میں معاویہ اور اس کے اقدامات ;جیسے کہ اس نے خلیفہ رسول(ص) حضرت علی _ کی مخالفت کی اور اُن کے ساتھ جنگیں کیں اور مسلمانوں کے قتل عام کا موجب بنا;کی توجیہ کی جاسکے، اور اس ہتھیار کے ذریعے ایسے افراد کو تنقید سے بچایا جاسکے_ البتہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قداست والے مسئلہ کی بنیاد ابتدائی صدیوں کے سیاستدانوں نے رکھی_ جسطرح انہوں نے کلمہ '' اولی الامر'' کی تفسیر، ''حاکم وقت'' کی تا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے ظالم حکام کی اطاعت کو بھی ثابت کیا جاسکے نیز یہ حکام کا سیاسی پروگرام اور لائحہ عمل تھا_ ہمارا یہ خیال ہے کہ ایسی باتوں سے ان کا مقصدسب صحابہ کو بچانا نہ تھا بلکہ اپنے مورد نظر افراد کی حمایت مقصود تھی_

۴_ بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اصحاب کے تقدس کا عقیدہ قرآن مجید اور سنت نبوی(ص) کے فرمان کے مطابق ہے کیونکہ قرآن مجید کی بعض آیات اوربعض احادیث میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے_

اگرچہ یہ بہترین توجیہ ہے لیکن جب ہم ادّلہ کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات و روایات میں جس چیز کو وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں موجود نہیں ہے_سب سے اہم آیت

۴۶

جس کو دلیل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے مندرجہ ذیل آیت ہے:

''( و السابقون الاوّلون من المُهاجرینَ و الأنصار وَ الَّذین اتّبعُوهُم رَضی الله عنهم و رَضُو عنه و أعَدَّ لهم جَنّات: تَجری تَحتهَا الأنهارُ خالدین فیها أبداً ذلک الفَوزُ العظیم ) ''(۱)

مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ انکی پیروی کی اللہ تعالی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں اور اللہ تعالی نے انکے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جنکے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے _

اہلسنت کے بہت سے مفسّرین نے اس آیت کے ذیل میں ( بعض صحابہ اور پیغمبر(ص) اکرم سے حدیث ) نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ ''جمیع أصحاب رسول الله فی الجنّة مُحسنهم ومُسیئهم'' اس حدیث میں مذکورہ بالا آیت سے استناد کیا گیا ہے_(۲)

دلچسپ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت کہتی ہے کہ تابعین اس صورت میں اہل نجات ہیں جب نیکیوں میں صحابہ کی پیروی کریں ( نہ برائیوں میں ) اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ کے لیے بہشت کی ضمانت دی گئی ہے _کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ گناہوں میں آزاد ہیں؟

جو پیغمبر(ص) ، لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے آیا ہے کیا ممکن ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو استثناء کر دے اور ان کے گناہوں سے چشم پوشی کرے_ حالانکہ قرآن مجید ،ازواج رسول(ص) کے بارے میں فرماتا ہے کہ جو سب سے نزدیک صحابیہ تھیں، اگر تم نے گناہ کیا تو تمہاری سزا دو

____________________

۱) سورة توبہ آیت ۱۰۰_

۲) تفسیر کبیر فخر رازی و تفسیر المنار ذیل آیت مذکورہ_

۴۷

برابر ہے_(۱)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اگر اس آیت میں کسی قسم کا ابہام بھی ہو تو اسے سورة فتح کی آیت نمبر ۲۹ رفع کر دیتی ہے کیونکہ یہ آیت پیغمبر اکرم(ص) کے سچّے اصحاب کی صفات بیان کر رہی ہے_

''أشدَّاء عَلی الکفّار رُحَمَائُ بَینَهُم تراهُم رُكَّعاً سُجَّداً يَبتَغُونَ فَضلاً منَ الله و رضوَاناً سیمَاهُم فی وُجُوههم من أثَر السُجُود''

یہ لوگ کفار کے مقابلے میں شدید اور زبردست ہیں اور آپس میں مہربان ہیں انہیں ہمیشہ رکوع و سجود کی حالت میں دیکھو گے اس حال میں کہ مسلسل فضل و رضائے خدا کو طلب کرتے ہیں_ سجدہ کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں''_

جنہوں نے جمل و صفّین جیسی جنگوں کی آگ بھڑکائی اور امام وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا_ کیا وہ ان سات صفات کے مصداق تھے؟ کیا وہ آپس میں مہربان تھے؟ کیا انکے عمل کی شدت کفار کے مقابلے میں تھی یا مسلمانوں کے مقابلے میں ؟

اللہ تعالی نے اسی آیت کے ذیل میں ایک جملہ ارشاد فرمایا ہے جو مقصود کو مزید روشن کرتا ہے

( ''وَعَدَ الله الّذین آمَنُو و عَملُو الصّالحات منهم مَغفرَةً و أجراً عَظیماً'' ) (۲)

اللہ تعالی نے ( ان اصحاب میں سے) جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے

____________________

۱) سورہ احزاب آیہ ۳۰_

۲) سورہ فتح آیہ ۲۹_

۴۸

رہے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ دیا ہے_

پس واضح ہوگیا کہ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو با ایمان اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں_ جن لوگوں نے جنگ جمل میں مسلمانوں کو قتل کیا اور اس جیسی جنگوں کو بھڑکایا اور حضرت عثمان کے دور میں بیت المال کو ہڑپ کیا وہ کیا اعمال صالح انجام دینے والے تھے؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اولوالعزم پیغمبروں کا ایک ترک اولی کی خاطر مؤاخذہ کیاہے _ حضرت آدم(ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر بہشت سے نکال دیا_ حضرت یونس (ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر ایک عرصہ مچھلی کے پیٹ میں ،تین اندھیروں میں بند رکھا_

حضرت نوح (ع) کو اپنے گناہ گار بیٹے کی سفارش پر تنبیہ فرمائی_تو اب کیا یہ یقین کرنے کی بات ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) اس قانون سے مستثنی ہوں_

۶_ کیا تمام اصحاب بغیر استثناء کے عادل تھے؟:

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اکثر برادران اہلسنت اسی بات کے قائل ہیں کہ تمام صحابہ یعنی جو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں تھے یا جنہوں نے آپ(ص) کے زمانے کو پویا اور کچھ عرصہ تک آپ(ص) کے ساتھ رہے ہیں بغیر کسی استثناء کے مقام عدالت پر فائز تھے اور قرآن مجید اسی بات کی گواہی دیتا ہے_

مقام افسوس یہ ہے کہ ان بھائیوں نےقرآن کی کچھ اُن آیات کو جو ان کے نفع میں تھیں قبول کر لیا ہے لیکن دوسری آیات سے انہوں نے چشم پوشی کی ہے اُن آیات سے جن میں اس

۴۹

بات سے استثناء موجود ہے ( جیسا کہ واضح ہے کہ ہر عموم کے لئے عام طور پر استثناء موجود ہوتا ہے)_

ہم عرض کریں گے:

کہ یہ کیسی عدالت ہے جس کے خلاف قرآن مجید نے بارہا گواہی دی ہے _ من جملہ سورة آل عمران کی آیت ۱۵۵ میں یوں بیان ہوا ہے_

'' انّ الّذین تَوَلَّوا منكُم يَومَ التقيَ الجَمعَان انّما إستَزَلَّهُم الشَیطانُ ببَعض مَا كَسَبُوا وَ لَقَد عَفاَ الله عنهم إنّ الله غفورٌ حَلیم''

اس آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو جنگ اُحد کے دن فرار کر گئے اور پیغمبر اکرم(ص) کو دشمن کے مقابلہ میں تنہا چھوڑ گئے تھے_ آیت فرماتی ہے '' جو لوگ دو لشکروں کے روبرو ہونے والے دن ( یعنی جنگ احد میں ) فرار کر گئے تھے_ شیطان نے انہیں انکے بعض گناہوں کی وجہ سے بہکا لیا اللہ تعالی نے انہیں معاف کردیا چونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور بردبار ہے''_

اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اُس دن ایک گروہ فرار کر گیا تھا اور تاریخ میں اس گروہ کی تعداد بہت زیادہ ذکر کی گئی ہے اور دلچسپ یہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے شیطان نے ان پر غلبہ کیا اور یہ غلبہ انکے اُن گناہوں کی وجہ سے تھا جس کے وہ پہلے مرتکب ہوچکے تھے_ اس سے پتہ چلا کہ سابقہ گناہ ایک بڑے گناہ یعنی غزوہ سے فرار اور میدان اور دشمنسے پشت کرکے فرار کرنے کا موجب بنے_ اگرچہ آیت کا ذیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بخش دیا_

۵۰

یہ بخشش پروردگارپیغمبر اکرم(ص) کی وجہ سے تھی_

اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عادل تھے اور انہوں نے گناہ نہیں کیا_ بلکہ صراحت کے ساتھ قرآن مجید فرما رہا ہے کہ انہوں نے متعدّد گناہ کیئے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں سورة حجرات کی آیة نمبر ۶ میں بعض کو فاسق کے عنوان سے یاد کر رہا ہے:

''یا ايّها الّذین آمَنُو إن جاء كُم فاسقٌ بنَبا فَتَبَيَّنُوا أن تُصیبُوا قوماً بجهالة فَتُصبحُوا علی مَا فَعَلتُم نَادمین''

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ لا علمی میں تم لوگ کسی کونقصان پہنچا بیٹھواور پھر بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہو''

مفسّرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ آیت '' ولید بن عُقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے_ پیغمبر اکرم' نے اسے ایک جماعت کے ساتھ '' بنی المصطلق'' قبیلہ کے پاس زکات کی جمع آوری کے لیئے بھیجا_ واپسی پر ولید نے کہا کہ وہ زکوة نہیں دیتے اور اسلام کے خلاف انہوں نے قیام کرلیا ہے مسلمانوں کے ایگ گروہ نے ولید کی بات پر یقین کرلیا اور اس قبیلہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوگئے_ لیکن سورہ حجرات کی یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگر ایک فاسق آدمی خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو_ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جھوٹی خبر کی وجہ سے تم کسی قبیلہ کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیئے پر

۵۱

پشیمان ہو_

اتفاقاً تحقیق کے بعد واضح ہوا کہ بنی المصطلق قبیلہ کے لوگ مؤمن ہیں اور ولید کے استقبال کے لیئے باہر آئے تھے نہ اسلام اوراس کے خلاف قیام کرنے کے لیے لیکن چونکہ ولید انکے ساتھ سابقہ ( قبل از اسلام ) دشمنی رکھتا تھا اسی امر کا بہانہ بنا کر واپس چلا آیا اور غلط خبر پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں پیش کردی_ ولید صحابی پیغمبر(ص) تھا_ یعنی اُن افراد میں سے تھا جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کوپایا اور آپ(ص) کی خدمت میں رہے_ جبکہ قرآن مجید اس آیت میں اُسے فاسق بتارہا ہے _کیا یہ آیت تمام اصحاب کی عدالت والے نظریہ کے ساتھ سازگار ہے؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ بعض اصحاب زکاة کی تقسیم کے وقت پیغمبر اکرم(ص) پر اعتراض کرتے ہیں__ قرآن مجید انکے اعتراض کو سورہ توبہ آیہ۵۸ میں نقل فرماتا ہے :

'' و منهم مَن يَلمزُک فی الصّدقات فان اُعطُوا منها رَضُوا وَ إن لم يُعطُوا منها اذأ هم يَسخَطُون''

'' انکے درمیان ایے لوگ بھی ہیں جو غنائم کی تقسیم میں آپ(ص) پر اعتراض کرتے ہیں اگر انہیں اس میں سے عطا کیا جائے تو راضی ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو غصّے میں رہتے ہیں'' کیا اس قسم کے افراد عادل ہیں؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ قرآن مجید سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۲ اور ۱۳ میں جنگ احزاب کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بعض منافقین او ر بیماردل لوگ جو پیغمبر اکرم' کی خدمت میں تھے اور انہوں نے جنگ میں شرکت کی لیکن پیغمبر اکرم(ص) پر فریب کاری کی تہمت لگائی_

۵۲

'' ما وَعَدَنا الله و رسُولہ الاّ غُروراً'' خدا اور رسول(ص) نے ہمیں صرف اور صرف جھوٹے وعدے دیئے ہیں ان میں سے بعض یہ خیال رکھتے تھے کہ اس جنگ میں پیغمبر اکرم(ص) کو شکست ہوگی اور احتمالاً وہ قتل ہوجائیں گے اور اسلام کی بساط لپٹ جائیگی_

یا ان روایا ت کے مطابق جنہیں شیعہ و سنّی نے نقل کیا ہے یہ معلوم ہوتاہے کہ خندق کھودنے کے دوران ایک پتھر ملا جسے آپ(ص) نے توڑا اور مسلمانوں کو شام ، ایران اور یمن کی فتح کا وعدہ دیا تو ایک گروہ نے آنحضرت(ص) کی اس بات کا مذاق اڑایا_

کیا یہ اصحاب نہیں تھے؟اور اس سے زیادہ عجیب بات کو بعد والی آیت بیان کر رہی ہے کہ '' ان میں سے ایک گروہ نے ( مدینہ کے بعض لوگوں کو کہ جو جنگ میں حاضر ہوئے تھے مخاطب کر کے )کہا یہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ( ''و إذ قَالَت طائفةٌ منهم یا اَهلَ يَثربَ لا مُقَامَ لکم فَارجعُوا'' )

اور پھر ایک گروہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں آیا اور میدان احزاب سے فرار کرنے کے بہانے بنانے لگا_ اسی آیت میں یوں ارشاد ہے( ''وَ يَستَأذنُ فریقٌ منهم النّبی يَقُولُون إن بُيُوتَنَا عَورَة و مَا هی بعَورَة إن يُریدُونَ الا فراراً'' ) ان میں سے ایک گروہ پیغمبر اکرم(ص) سے واپسی کی اجازت مانگتا تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں لہذا ہمیں اجازت دیجئے تا کہ اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے واپس مدینہ چلے جائیں_یہ لوگ جھوٹ بول رہے تھے ان کے گھر اکیلے نہیں تھے_ یہ صرف فرار کا بہانہ تلاش کر رہے تھے'' اب خود ہی فیصلہ کیجئے ہم کیسے ان تمام امورسے چشم پوشی کرلیں اور ان پر تنقید کو جائز نہ سمجھیں؟

۵۳

ان سب سے بدتر بعض اصحاب کا پیغمبر اکرم(ص) کی طرف خیانت کی نسبت دینا ہے اور قرآن مجید نے سورة آل عمران کی آیت ۱۶۱ میں اسے منعکس کیا ہے( '' و ما كَانَ لنَبيّ أن يَغُلَّ و من يَغلُل يَأت بما غَلَّ يَومَ القیامَة ثُم تُوَفّی كُلّ نفس: مّا کسبَت و هُم لا يُظلَمُونَ'' )

''ممکن نہیں ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا قیامت کے دن جس قسم کی خیانت کی ہوگی اسے اپنے ساتھ دیکھے گا_ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا_ اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا'' یعنی اگر سزا ملے گی تو انکے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگی_

اس آیت کی دو شأن نزول بیان کی گئی ہیں_ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت ''عبداللہ بن جُبیر'' کے دوستوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ جنگ اُحد میں ''عینین'' نامی مورچہ میں تھے_ اور جب جنگ کی ابتداء میں اسلام کا لشکر دشمن پر فتح پاگیا تو عبداللہ کے ہمراہ تیرانداز تھے حالانکہ رسولخدا(ص) نے فرمایا تھا کہ تمہیںاپنی جگہ سے حرکت نہیں کرنی جبکہ اس گروہ نے اپنا مورچہ چھوڑ دیا اور غنائم لوٹنے کے پیچھے دوڑ پڑے_ اس سے بھی بُرا عمل انکی باتیں تھیں کہ کہتے تھے کہ ہمیں خطرہ ہے کہیں رسولخدا(ص) ہمارا حق ہمیں نہ دیں (اور اس قسم کے جملے کہے جنہیں لکھنے سے قلم شرم محسوس کرتی ہے)_

''ابن کثیر'' اور '' طبری'' نے اسی آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں ایک اور شان نزول کوذکر کیا ہے_ وہ یہ کہ جنگ بدر میں کامیابی کے بعد ایک سرخ رنگ کا قیمتی کپڑا گم ہوگیا_ بعض کم عقل لوگوں نے رسولخدا(ص) کو خیانت سے متہم کیا_ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کپڑا مل گیا اور معلوم ہوا کہ لشکر میں موجود فلاں شخص نے اٹھایا تھا_

۵۴

پیغمبر اکرم(ص) کی طرف اس قسم کی ناروا نسبتیں دینے کے باوجود کیا عدالت باقی رہتی ہے؟ اگر ہم اپنے وجدان کے ساتھ قضاوت کریں تو کیا قبول کریں گے کہ اس قسم کے افراد عادل اور پاک و پاکیزہ تھے اور کسی کو انکے ایسے کاموں پر تنقید کرنے کا حق نہیں ہے؟

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اکثر اصحاب و یاران با تقوی اور پاکیزہ انسان تھے_ لیکن سب کے لیے ایک ہی حکم لگا دینا اور سب پر تقوی اور عدالت کی قلعی چڑھا دینا اور ان پر کسی قسم کی تنقید کرنے کا حق سلب کردینا ایک انتہائی عجیب بات ہے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ ایک انسان جو ظاہراً پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب میں سے ہے ( ہمارا مقصود معاویہ ہے ) نبی اکرم(ص) کے با عظمت صحابی حضرت علی _ پر سال ہا سال سبّ و لعن کرتا ہے اور تمام شہروں میں سب کواس کام کا حکم دیتا ہے_

ان دو احادیث کی طرف توجہ فرمایئے

۱_ صحیح مسلم میں کہ جو اہلسنت کی معتبر ترین کتاب ہے یوں بیان ہوا ہے_

کہ ''معاویہ'' نے ''سعد بن ابی وقاص''سے کہا کہ کیوں ابو تراب (علی ابن ابی طالب) پر سبّ و لعن سے پرہیز کرتے ہو؟ اس نے کہا میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے اُن کے بارے میں تین فضائل ایسے سنے ہیں کہ اگر وہ میرے بارے میں ہوتے تو میرے لیئے دنیا کی عظیم دولت سے زیادہ اہمیت رکھتے _ اس لیے میں اُن پر سَبّ و شتم نہیں کرتا ہوں_(۱)

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۴ ص ۱۸۷۱، کتاب فضائل الصحابہ اور اسی طرح کتاب فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، جلد ۷ ص ۶۰ پر بھی یہ حدیث بیان ہوئی ہے ( وہ تین فضلتیں یہ ہیں: ۱_ حدیث منزلت، ۲_حدیث لاعطین الرایة غداً ۳_ آیت مباہلہ)_

۵۵

۲_ کتاب '' العقد الفرید'' میں کہ جسے اہلسنت کے بزرگ عالم دین ( ابن عبد ربّہ اندلسی ) نے تألیف کیا ہے یوں بیان ہوا ہے کہ جب امام حسن ابن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی، اس کے بعد معاویہ مكّہ کے بعد مدینہ آیا اُس کا ارادہ تھا کہ مدینہ میں منبر رسول (ص) سے حضرت علی _ پَر سبّ و لعن کرے_ لوگوں نے کہا کہ '' سعد بن ابی وقاص'' بھی مسجد میں ہے اورہمارے خیال کے مطابق وہ تیری اس بات کو تحمل نہیں کریگا اور شدید ردّ عمل کا اظہار کرے گا لہذا کسی کو اُس کے پاس بھیج کر اُس کی نظر معلوم کرلو_

معاویہ نے ایک آدمی کو سعد کے پاس بھیجا اور اس مطلب کے بارے میں استفسار کیا سعد نے جواب میں کہا کہ اگر معاویہ نے یہ کام کیا تومیں رسولخدا(ص) کی مسجد سے باہر چلا جاؤں گا اور پھر کبھی بھی مسجد نبوی میں داخل نہیں ہوں گا_

معاویہ نے یہ پیغام اور ردّ عمل سّننے کے بعد سب و شتم سے پرہیز کیا_ یہاں تک کہ سعد فوت ہوگئے _ سعد کی وفات کے بعد معاویہ نے منبر سے حضرت علی (ع) پر لعنت کی اور اپنے تمام اہلکاروں کو حکم دیا کہ منبروں سے حضرت پر لعن و سب کریں _ اُن سب نے بھی یہی کام کیا_ اس بات کا جب جناب ام سلمہ زوجہ پیغمبر(ص) کو پتہ چلا تو انہوں نے معاویہ کے نام ایک خط میں یوں لکھا کہ '' تم کیوں منبروں سے خدا و رسول(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو کیا تم یوں نہیں کہتے ہو کہ علی (ع) اور اسکے چاہنے والوں اور محبت کرنیوالوں پر لعنت، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالی ،حضرت علی(ع) سے محبت کرتا ہے اور رسولخدا(ص) بھی حضرت علی (ع) سے بہت محبت کرتے ہیں_ پس حقیقت میں تم خدا اور رسولخدا(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو'' معاویہ نے جناب ام سلمہ کا خط پڑھا لیکن اس کی کوئی پرواہ نہ کی(۱)

____________________

۱)العقد الفرید، جلد ۴ ص ۳۶۶ و جواہر المطالب فی مناقب الامام علی ابن ابی طالب، جلد ۲ ص ۲۲۸ تالیف محمد بن احمد الدمشقی الشافعی، متوفائے قرن نہم ہجری قمری_

۵۶

کیا اس قسم کے بُرے کام عدالت کے ساتھ سازگار ہیں؟ کیا کوئی عاقل یا عادل انسان یہ جرا ت کرسکتا ہے کہ حضرت علی (ع) جیسی با عظمت شخصیت کو اس شرمناک انداز اور اتنے وسیع پیمانے پر گالیاں دے_

ایک عرب شاعریوں کہتا ہے:

اعلی المنابر تعلنون بسبّه و بسیفه نصبت لکم أعوادها؟

کیا منبر سے اس شخصیت پر لعن کرتے ہو جس کی تلوار کی برکت سے یہ منبرقائم ہوئے ہیں_

۷_اصحاب پیغمبر(ص) کی اقسام:

رسولخدا(ص) کے اصحاب کو _ قرآن مجید کی گواہی کے مطابق _ پانچ اصلی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے_

۱_ پاک و صالح:

یہ افراد مؤمن اور با اخلاص تھے_ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نفوذ کرچکا تھا_ یہ لوگ راہ خدا میں اور کلمہ اسلام کی بلندی کے لیے کسی قسم کے ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے_ یہ وہی گروہ ہے جس کی طرف سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۰۰ میں اشارہ ہوا ہے کہ اللہ تعالی ان سے راضی تھا اور یہ بھی اللہ تعالی کے الطاف پر راضی تھے_'' رضی الله عنہم و رَضوُ عنہ''

۲_ مؤمن خطاکار:

یہ وہ گروہ ہے جو ایمان اور عمل صالح رکھنے کے باوجود کبھی کبھار لغزش کا شکار ہوجاتے تھے اور اعمال صالح اور غیر صالح کو آپس میں مخلوط کردیتے تھے_

اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے تھے_ ان کے عفو و بخشش کی امید ہے جیسا کہ سورہ توبہ

۵۷

کی آیة ۱۰۲ میں پہلے گروہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس گروہ کا تذکرہ کیا ہے_

''و آخَرُون اعتَرفُوا بذُنُوبهم خَلَطُوا عَمَلاً صَالحاً و آخَرَ سَيّأً عَسی الله أن يَتُوبَ علیهم''

۳_ گناہگار افراد:

یہ وہ گروہ ہے جس کے لیے قرآن مجید نے فاسق کا نام انتخاب کیا ہے_ کہ اگر فاسق تمہارے لئے خبر لائے تو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرنا_ سورہ حجرات کی آیت نمبر ۶ میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے:( '' یا ايّها الّذین آمنوا ان جاء كُم فاسقٌ بنباء فَتَبَيّنُوا'' ) اس آیت کا مصداق شیعہ و سنّی تفاسیر میں ذکر کیا گیا ہے_

۴_ ظاہری مسلمان:

یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کا دعوی کرتے تھے لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا_ سورہ حجرات کی چودھویں آیت میں اس گروہ کی طرف اشارہ ہوا ہے( ''قال الاعرابُ آمَنّا قُل لَم تُؤمنُوا و لکن قُولُوا أسلَمنا و لَمَّا يَدخُل الایمانُ فی قُلوبكُم'' )

۵_ منافقین:

یہ وہ گروہ ہے جو روح نفاق کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے کبھی ان کی شناخت ہوجاتی اور کبھی نہ ہوتی تھی_ یہ لوگ اسلام اور مسلمین کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں رہتے تھے_ سورہ توبہ میں ہی مؤمن و صالح گروہ کی طرف اشارہ کے بعد آیت ۱۰۱ میں ان منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے_

( '' و ممَّن حَولَكُم منَ الاعراب مُنافقُونَ و من اَهل المَدینَة مَرَدوا عَلی النّفاق'' ) بے شک ان تمام گروہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کا دیدار کیا تھا اور آنحضرت (ص) کے ساتھ مصاحبت اور معاشرت رکھتے تھے_ اور ان میں سے بہت ساروں نے غزووں مین شرکت کی

۵۸

تھی_ اور ہم صحابہ کی جو تعریف بھی کریں ان پانچوں گروہوںپر صادق آتی ہے کیا سب کو اہل بہشت اور پاکیزہ شمار کیا جاسکتا ہے؟ کیا قرآن مجید کی صراحت کے بعد یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم راہ اعتدال کو اپنائیں اور اصحاب کو قرآن مجید میں بیان شدہ پانچ گروہوں میں تقسیم کریں اور ان میں سے نیک و باتقوی اصحاب کے لیے انتہائی احترام کے قائل ہوں اور دیگر گروہوں میں سے ہر ایک کو انکے مقام پر رکھیں_ اور غلّو، افراط اور تعصّب سے پرہیز کریں_( اور انصاف کے ساتھ قضاوت کریں)

۸_تاریخی گواہی:

تمام اصحاب کی قداست کے عقیدے نے اس کے طرفداروں کے لئے بہت سی مشکلات ایجاد کی ہیں_ ان عظیم مشکلات میں سے ایک تاریخی حقائق ہیں_ کیونکہ انکی معروف اور مورد اعتماد تاریخی کتب میں حتی صحاح ستّہ کی احادیث میں بعض صحابہ کی شدیدلڑائی اور جنگ کے تذکرے ہیں ایسی صورتحال میں ہم فریقین کو عادل، صالح اور مقدس شمار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کام ضدّین کے درمیان جمع کرنا ہے اور ضدین کے درمیان جمع نہ ہوسکنا ایک واضح عقلی فیصلہ ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے_

جنگ جمل اور صفین کے علاوہ کہ جو طلحہ ، زُبیر اور معاویہ نے امام المسلمین حضرت علی _ کے مقابلہ میں لڑیں اگر ہم حقائق سے چشم پوشی نہ کریں تو حتماً جنگ بھڑکانے والوں کی غلطیوں اور جنایتوں کا اعتراف کریں گے_ اوراس سلسلہ میں بہت سے تاریخی شواہد موجود ہیں_اس مختصر کتاب میں ہم صرف تین نمونوں پر اکتفا کریں گے_

۱_ امام بُخاری اپنی کتاب صحیح میں کتا ب التفسیر میں مسئلہ افک کے بارے میں ( زوجہ پیغمبر(ص) کے بارے میں جو تہمت لگائی گئی تھی ) لکھتے ہیں: کہ ایک دن پیغمبر اکرم (ص) منبر پر تشریف

۵۹

لے گئے اور فرمایا اے مسلمانو ں کون اس شخص کوسزادے گا ( مقصود عبداللہ بن سلول تھا جو منافقین کاایک سر غنہ تھا ) مجھے بتایا گیا ہے کہ اس نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے حالانکہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی سعد بن معاذ انصاری ( مشہور صحابی ) اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کی، میں اس کو سزا دوں گا اگر یہ '' اوس'' قبیلہ سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دونگا اور اگر یہ خزرج قبیلہ سے ہوا تو جو حکم آپ صادر فرمائیںگے ہم انجام دیں گے_ سعد بن عبادہ، خزرج قبیلہ کا سردار کہ جو اس سے پہلے صالح آدمی تھا قبائلی تعصب کی وجہ سے سعد بن معاذ کو کہنے لگا خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہا ہے تیری اتنی جرا ت نہیں ہے کہ تو یہ کام کرسکے اسید بن خُضیر ( سعد بن معاذ کا چچا زاد) کہنے لگا کہ خدا کی قسم تو جھوٹا ہے یہ شخص منافقین میں سے ہے ہم اسے ضرور قتل کریں گے_ نزدیک تھا کہ قبیلہ اوس و خزرج کی آپس میں جنگ چھڑ جائے_ رسولخدا(ص) نے انہیں خاموش کرایا(۱) کیا یہ سب افراد صالح صحابی تھے؟

۲: معروف دانشمند '' بلاذری'' اپنی کتاب '' الانساب'' میں لکھتے ہیں کہ '' سعد بن ابی وقاص'' کوفہ کے والی تھے، حضرت عثمان نے انہیں معزول کردیا اور '' ولید بن عقبہ'' کو انکی جگہ گورنر بنادیا_ عبداللہ بن مسعود اس دوران بیت المال کے خزانہ دار تھے جب ولید ،کوفہ میں داخل ہوا تو اس نے عبداللہ ابن مسعود سے بیت المال کی چابیاں طلب کیں_ عبداللہ نے چابیاں ولید کے سامنے پھینکتے ہوئے کہا کہ خلیفہ نے سنت ( رسول(ص) کو تبدیل کردیا ہے_ سعد بن ابی وقاص جیسے آدمی کو معزول کرکے ولید جیسے آدمی کو اپنا جانشین منتخب کر لیا ہے؟ ولید نے حضرت عثمان کو خط میں لکھا کہ عبداللہ بن مسعود آپ پر تنقید کرتا ہے خلیفہ نے جواب لکھا

____________________

۱) صحیح بخاری، جلد ۵ ص ۵۷_

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232