شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں25%

شيعہ جواب ديتے ہيں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

شيعہ جواب ديتے ہيں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 81020 / ڈاؤنلوڈ: 4437
سائز سائز سائز
شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

۴۷ کیا یہ آیات صراحت کے ساتھ بیان نہیں کر رہیں کہ افراد کی خوبی اور بدی کا معیار انکا اپنا ایمان اور عمل ہے_ حتی کہ اگر بُرے اعمال ہوں تو نبی(ع) کی بیوی یا بیٹا ہونا بھی جہنم میں جانے سے نہیں روک سکتا_

اس کے باوجود کیا صحیح ہے کہ ہم آنکھیں بند کرلیں اور کہیں کہ فلاں شخص چونکہ کچھ عرصہ کے لیئے بنی (ص) کا صحابی رہا ہے لہذا اس کی محبت دین و ایمان اور اس کی مخالفت کفر و نفاق ہے_ چاہے وہ صحابی بعد میں منافقین کی صف میں داخل ہوگیا ہو اور اس نے نبی اکرم(ص) کا دل دکھایا ہو اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہو_ کیا عقل و خرد اس بات کو قبول کرتی ہے؟

اگر کوئی کہے کہ طلحہ و زبیر ابتدائ-ے اسلام میں اچھے انسان تھے لیکن جس وقت حکومت کی ہوس اُن پر سوار ہوئی تو انہوں نے زوجہ رسول(ص) ( حضرت عائشےہ) کواپنے ساتھ لیا اور حضرت علی(ع) کے ساتھ اپنی بیعت و پیمان توڑ ڈالی حالانکہ تقریبا تمام مسلمانوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی_ پھر انہوں نے جنگ جمل کی آتش کو بھڑ کایا اور اس طرح سترہ ہزار مسلمان اس جنگ کا لقمہ بن گئے_ پس یہ لوگ راہ راست سے منحرف ہوگئے تھے اور اس عظیم تعداد کا خون انکی گردن پر ہے اور قیامت کے دن یہ جوابدہ ہونگے_

کیا یہ بات حقیقت کے خلاف ہے؟

یا اگر کوئی کہے چونکہ معاویہ نے حضرت علی (ع) کی بیعت کی خلاف ورزی کی اور جس خلافت کو تمام مسلمانوں نے قبول کر لیا تھا تو اس نے انکار کیا اور جنگ صفین کی آگ بھڑکائی جس میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان لقمہ اجل بن گئے_ لہذا معاویہ سمتگر آدمی تھا_ کیا یہ بات نا حق ہے؟

۴۱

کیا تاریخ کے ان تلخ حقائق سے چشم پوشی کی جاسکتی ہیں_ یا ان غلط توجیہات کی خاطر کہ جنہیں کوئی بھی عقلمند آدمی قبول نہیں کرتا ان نہایت افسوس ناک حوادث سے صرف نظر کیا جاسکتا ہے؟ کیا '' عبداللہ موصلی کے بقول ایسے افراد کی محبت، دین و ایمان ہے اور انکا بغض کفر و نفاق ہے؟

کیا ہمارا فریضہ یہ ہے کہ ان غلط کاموں کے سامنے جو ہزاروں مسلمانوں کے قتل کے موجب بنے ہیں سکوت اختیار کریں؟ کونسی عقل یہ حکم لگاتی ہے؟ قرآن مجید کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے گرد جمع ہونے والوں میں منافق لوگ بھی تھے کیا ان آیات قرآن سے چشم پوشی کرلیں؟

قرآن مجید یوں فرماتا ہے :

''( و ممَّن حَولَکم من الأعراب مُنافقُونَ و من أهل المدینة مَرَدُوا علی النّفاق لا تَعلَمُهُم نَحنُ نَعلَمُهُم ) ''(۱)

کیا آپ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس قسم کی منطق کو دنیا کے عقلمند انسان قبول کرلیں؟

۴: صحابہ کون ہیں؟

اس مقام پر ایک اور اہم نکتہ مفہوم '' صحابہ'' ہے_

صحابہ کہ جن کے بارے میں طہارت و پاکیزگی کی بات کی جاتی ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ صحابہ سے کون لوگ مراد ہیں _اس سلسلہ میں علمائے اہل سنت کی جانب سے مکمل طور پر مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں_

____________________

۱)سورہ توبہ آیت ۱۰۱_

۴۲

۱_ بعض نے تو اس کے مفہوم کو بہت وسیع کردیا ہے _وہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے جس نے بھی آنحضرت (ص) کو دیکھا ہے وہ آپ (ص) کاصحابی ہے

اسی تعبیر کو '' بخاری'' نے ذکر کیا ہے وہ یوں لکھتے ہیں ''من صَحَبَ رسولُ الله او رآه من المسلمین فهو من أصحابه''

اہل سنت کے معروف عالم جناب احمد بن حنبل نے بھی صحابی کے مفہوم کو بہت وسیع بیان کیا ہے وہ لکھتے ہیں''أصحابُ رسول الله کلُّ منَ صَحَبه ، شَهراً أو يَوماً أو سَاعَةً أو رَآه''

''رسولخدا(ص) کا صحابی وہ ہے کہ جس نے رسولخدا(ص) کی صحبت اختیار کی ہو چاہے ایک ماہ ایک دن یا حتی ایک گھنٹے کیلئے بھی بلکہ اگر کسی نے آنحضرت(ص) کی زیارت کی ہو وہ بھی صحابی ہے''

۲_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کو محدود انداز میں پیش کیا ہے مثلا '' قاضی ابوبکر محمد ابن الطيّب'' لکھتے ہیں کہ اگرچہ صحابی کا لغوی معنی عام ہے لیکن اُمت کے عرف عام میں اس اصطلاح کا اطلاق صرف اُن افراد پرہوتا ہے جو کافی عرصہ تک آنحضرت(ص) کی صحبت میں رہے ہوں نہ ان لوگوں پرکہ جو صرف ایک گھنٹہ کی محفل میں بیٹھاہو یا آپ(ص) کے ساتھ چند قدم تک چلا ہو یا اُس نے ایک آدھ حدیث آنحضرت(ص) سے سُن لی ہو''_

۳_ بعض علماء نے صحابی کی تعریف کا دائرہ اس سے بھی زیادہ تنگ کردیا ہے جیسے'' سعید بن المسيّب'' لکھتے ہیں کہ '' پیغمبر (ص) کا صحابی وہ ہے جو کم از کم ایک یا دو سال آنحضرت(ص) کے ساتھ رہا ہو اور ایک یا دو غزووں میں اس نے آنحضرت(ص) کے ساتھ شرکت کی ہو''(۱)

____________________

۱) تفسیر قرطبی، جلد ۸، ص ۲۳۷_

۴۳

ان تعاریف اور دیگر تعریفوں میں کہ جنہیں طوالت کے خوف کیوجہ سے ذکر نہیں کیا جا رہا ہے مشخّص نہیں ہے کہ اس قداست کے دائرے میں آنے والے افراد کون سے ہیں_ اکثر علماء نے اسی وسیع معنی کو اختیار کیا ہے_اگرچہ ہماری مدّ نظر ابحاث میں ان تعریفوں کے اختلاف سے زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے_ جیسا کہ عنقریب روشن ہوجائیگا کہ سیرت رسول(ص) کی خلاف ورزی کرنیوالے اکثروہ افراد ہیں جو کافی عرصہ تک آپ(ص) کے ہمنشین رہے ہیں_

۵:''عقیدہ تنزیہ کا اصلی سبب''

اس کے باجود کہ اصحاب کی اس حد تک پاکیزگی کا عقیدہ رکھنا کہ جو بعض لحاظ سے عصمت کے مشابہ ہے نہ تو قرآن مجید میں اس کا حکم آیا ہے نہ احادیث میں بلکہ قرآن ، سنت اور تاریخ سے اس کے برعکس مطلب ثابت ہے حتی کہ کہا جاسکتا ہے کہ پہلی صدی میں اس قسم کا کوئی عقیدہ موجود نہیں تھا_ تو پھر دیکھنا یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں یہ مسئلہ کیوں اور کس د لیل کی بناپرپیش کیا گیاہے؟

ہمارے خیال کے مطابق اس عقیدہ کے انتخاب کی چند وجوہات تھیں

۱_ اگر کمال حُسن ظن سے کام لیا جائے تو ایک وجہ تو یہی ہے جسے سابقہ ابحاث میں ذکر کیا گیا ہے کہ بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ اگر صحابہ کرام کا تقدس پائمال ہوجائے تو انکے اور پیغمبر(ص) کے درمیان حلقہ اتصال ٹوٹ جائے گا_کیونکہ قرآن مجید اور پیغمبر اکرم(ص) کی سنت انکے واسطہ سے ہم تک پہنچی ہے_

لیکن اس بات کا جواب بالکل واضح ہے کیونکہ کوئی بھی مسلمان معاذ اللہ تمام اصحاب کو غلط اور کاذب نہیں کہتا ہے کیونکہ انکے درمیان ثقہ اور مورد اطمینان افراد کثرت کے ساتھ

۴۴

تھے،وہی بااعتماد افراد ہمارے اور پیغمبر اکرم(ص) کے درمیان حلقہ اتصال بن سکتے ہیں_ جس طرح ہم شیعہ، اہلبیت(ع) کے اصحاب کے بارے میں یہی نظریہ رکھتے ہیں_

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد والی صدیوں میں بھی یہی مشکل موجود ہے کیونکہ آج ہم کئی واسطوں کے ذریعے اپنے آپ کو زمانہ پیغمبر(ص) کے ساتھ متّصل کرتے ہیں_ لیکن کسی نے دعوی نہیں کیا کہ یہ تمام واسطے ،ثقہ اور صادق ہیں اور ہر صدی کے لوگ بڑے مقدس تھے اور اگر ایسا نہ ہوتو ہمارا دین متزلزل ہوجائیگا_

بلکہ سب یہی کہتے ہیں کہ روایات کو ثقہ اور عادل افراد سے اخذ کرنا چاہیئے_

علم رجال کی کتب تحریر کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ثقہ کو غیر ثقہ سے ممتاز کیا جاسکے_

تواب کیا مشکل ہے کہ اصحاب کرام کے بارے میں بھی ہم وہیطریقہ عمل اختیار کریں جو ان سے بعد والوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں؟

۲: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بعض صحابہ کے بارے میں ''جرح'' یعنی انکے نقائص بیان کرنے اور ان پر تنقید کرنے سے پیغمبر اسلام(ص) کے مقام و منزلت میں کمی واقع ہوتی ہے_ اس لیے اصحاب پر تنقید جائز نہیں ہے_

جو لوگ اس دلیل کا سہارا لیتے ہیں ان سے ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا قرآن مجید نے پیغمبر(ص) کے گرد جمع ہونے والے منافقین پر شدید ترین حملے نہیں کیے ہیں؟ کیا آنحضرت(ص) کے خالص اور صادق اصحاب کے درمیان منافقین کی موجودگی کی وجہ سے آپ(ص) کی شان میں کمی واقع ہوئی ہے؟ ہرگزایسا نہیں ہے

خلاصہ یہ کہ ہمیشہ اور ہر زمانے میں حتی تمام انبیاء کے زمانوں میں اچھے اور بُرے افراد

۴۵

موجود تھے_ اور انبیاء کے مقام و منزلت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا_

۳_ اگر اصحاب کے اعمال پر جرح و تنقید کا سلسلہ شروع ہوجائے تو بعض خلفاء راشدین کی شخصیت پر حرف آتا ہے_اس لئے ان کے تقدس کی حفاظت کیلئے صحابہ کی قداست پر تاکید کرنا چاہئے تا کہ کوئی شخص مثلا حضرت عثمان کے اُن کاموں پر اعتراض نہ کرے جو بیت المال کے بارے میں اور اس کے علاوہ ان کے دور حکومت میں وقوع پذیر ہوئے اور یہ نہ کہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا_

یہاںتک کہ اس قداست کے قالب میں معاویہ اور اس کے اقدامات ;جیسے کہ اس نے خلیفہ رسول(ص) حضرت علی _ کی مخالفت کی اور اُن کے ساتھ جنگیں کیں اور مسلمانوں کے قتل عام کا موجب بنا;کی توجیہ کی جاسکے، اور اس ہتھیار کے ذریعے ایسے افراد کو تنقید سے بچایا جاسکے_ البتہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قداست والے مسئلہ کی بنیاد ابتدائی صدیوں کے سیاستدانوں نے رکھی_ جسطرح انہوں نے کلمہ '' اولی الامر'' کی تفسیر، ''حاکم وقت'' کی تا کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے ظالم حکام کی اطاعت کو بھی ثابت کیا جاسکے نیز یہ حکام کا سیاسی پروگرام اور لائحہ عمل تھا_ ہمارا یہ خیال ہے کہ ایسی باتوں سے ان کا مقصدسب صحابہ کو بچانا نہ تھا بلکہ اپنے مورد نظر افراد کی حمایت مقصود تھی_

۴_ بعض لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اصحاب کے تقدس کا عقیدہ قرآن مجید اور سنت نبوی(ص) کے فرمان کے مطابق ہے کیونکہ قرآن مجید کی بعض آیات اوربعض احادیث میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے_

اگرچہ یہ بہترین توجیہ ہے لیکن جب ہم ادّلہ کی تحقیق کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات و روایات میں جس چیز کو وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں موجود نہیں ہے_سب سے اہم آیت

۴۶

جس کو دلیل کے طور پر ذکر کیا گیا ہے مندرجہ ذیل آیت ہے:

''( و السابقون الاوّلون من المُهاجرینَ و الأنصار وَ الَّذین اتّبعُوهُم رَضی الله عنهم و رَضُو عنه و أعَدَّ لهم جَنّات: تَجری تَحتهَا الأنهارُ خالدین فیها أبداً ذلک الفَوزُ العظیم ) ''(۱)

مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ انکی پیروی کی اللہ تعالی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں اور اللہ تعالی نے انکے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جنکے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں یہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے _

اہلسنت کے بہت سے مفسّرین نے اس آیت کے ذیل میں ( بعض صحابہ اور پیغمبر(ص) اکرم سے حدیث ) نقل کی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ ''جمیع أصحاب رسول الله فی الجنّة مُحسنهم ومُسیئهم'' اس حدیث میں مذکورہ بالا آیت سے استناد کیا گیا ہے_(۲)

دلچسپ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت کہتی ہے کہ تابعین اس صورت میں اہل نجات ہیں جب نیکیوں میں صحابہ کی پیروی کریں ( نہ برائیوں میں ) اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ کے لیے بہشت کی ضمانت دی گئی ہے _کیا اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ گناہوں میں آزاد ہیں؟

جو پیغمبر(ص) ، لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے آیا ہے کیا ممکن ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو استثناء کر دے اور ان کے گناہوں سے چشم پوشی کرے_ حالانکہ قرآن مجید ،ازواج رسول(ص) کے بارے میں فرماتا ہے کہ جو سب سے نزدیک صحابیہ تھیں، اگر تم نے گناہ کیا تو تمہاری سزا دو

____________________

۱) سورة توبہ آیت ۱۰۰_

۲) تفسیر کبیر فخر رازی و تفسیر المنار ذیل آیت مذکورہ_

۴۷

برابر ہے_(۱)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اگر اس آیت میں کسی قسم کا ابہام بھی ہو تو اسے سورة فتح کی آیت نمبر ۲۹ رفع کر دیتی ہے کیونکہ یہ آیت پیغمبر اکرم(ص) کے سچّے اصحاب کی صفات بیان کر رہی ہے_

''أشدَّاء عَلی الکفّار رُحَمَائُ بَینَهُم تراهُم رُكَّعاً سُجَّداً يَبتَغُونَ فَضلاً منَ الله و رضوَاناً سیمَاهُم فی وُجُوههم من أثَر السُجُود''

یہ لوگ کفار کے مقابلے میں شدید اور زبردست ہیں اور آپس میں مہربان ہیں انہیں ہمیشہ رکوع و سجود کی حالت میں دیکھو گے اس حال میں کہ مسلسل فضل و رضائے خدا کو طلب کرتے ہیں_ سجدہ کے آثار ان کے چہروں پر نمایاں ہیں''_

جنہوں نے جمل و صفّین جیسی جنگوں کی آگ بھڑکائی اور امام وقت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورہزاروں مسلمانوں کو قتل کرایا_ کیا وہ ان سات صفات کے مصداق تھے؟ کیا وہ آپس میں مہربان تھے؟ کیا انکے عمل کی شدت کفار کے مقابلے میں تھی یا مسلمانوں کے مقابلے میں ؟

اللہ تعالی نے اسی آیت کے ذیل میں ایک جملہ ارشاد فرمایا ہے جو مقصود کو مزید روشن کرتا ہے

( ''وَعَدَ الله الّذین آمَنُو و عَملُو الصّالحات منهم مَغفرَةً و أجراً عَظیماً'' ) (۲)

اللہ تعالی نے ( ان اصحاب میں سے) جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیتے

____________________

۱) سورہ احزاب آیہ ۳۰_

۲) سورہ فتح آیہ ۲۹_

۴۸

رہے ان سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ دیا ہے_

پس واضح ہوگیا کہ مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو با ایمان اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں_ جن لوگوں نے جنگ جمل میں مسلمانوں کو قتل کیا اور اس جیسی جنگوں کو بھڑکایا اور حضرت عثمان کے دور میں بیت المال کو ہڑپ کیا وہ کیا اعمال صالح انجام دینے والے تھے؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے اولوالعزم پیغمبروں کا ایک ترک اولی کی خاطر مؤاخذہ کیاہے _ حضرت آدم(ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر بہشت سے نکال دیا_ حضرت یونس (ع) کو ایک ترک اولی کی خاطر ایک عرصہ مچھلی کے پیٹ میں ،تین اندھیروں میں بند رکھا_

حضرت نوح (ع) کو اپنے گناہ گار بیٹے کی سفارش پر تنبیہ فرمائی_تو اب کیا یہ یقین کرنے کی بات ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) اس قانون سے مستثنی ہوں_

۶_ کیا تمام اصحاب بغیر استثناء کے عادل تھے؟:

جیسا کہ بیان کیا گیا ہے اکثر برادران اہلسنت اسی بات کے قائل ہیں کہ تمام صحابہ یعنی جو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں تھے یا جنہوں نے آپ(ص) کے زمانے کو پویا اور کچھ عرصہ تک آپ(ص) کے ساتھ رہے ہیں بغیر کسی استثناء کے مقام عدالت پر فائز تھے اور قرآن مجید اسی بات کی گواہی دیتا ہے_

مقام افسوس یہ ہے کہ ان بھائیوں نےقرآن کی کچھ اُن آیات کو جو ان کے نفع میں تھیں قبول کر لیا ہے لیکن دوسری آیات سے انہوں نے چشم پوشی کی ہے اُن آیات سے جن میں اس

۴۹

بات سے استثناء موجود ہے ( جیسا کہ واضح ہے کہ ہر عموم کے لئے عام طور پر استثناء موجود ہوتا ہے)_

ہم عرض کریں گے:

کہ یہ کیسی عدالت ہے جس کے خلاف قرآن مجید نے بارہا گواہی دی ہے _ من جملہ سورة آل عمران کی آیت ۱۵۵ میں یوں بیان ہوا ہے_

'' انّ الّذین تَوَلَّوا منكُم يَومَ التقيَ الجَمعَان انّما إستَزَلَّهُم الشَیطانُ ببَعض مَا كَسَبُوا وَ لَقَد عَفاَ الله عنهم إنّ الله غفورٌ حَلیم''

اس آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو جنگ اُحد کے دن فرار کر گئے اور پیغمبر اکرم(ص) کو دشمن کے مقابلہ میں تنہا چھوڑ گئے تھے_ آیت فرماتی ہے '' جو لوگ دو لشکروں کے روبرو ہونے والے دن ( یعنی جنگ احد میں ) فرار کر گئے تھے_ شیطان نے انہیں انکے بعض گناہوں کی وجہ سے بہکا لیا اللہ تعالی نے انہیں معاف کردیا چونکہ اللہ تعالی بخشنے والا اور بردبار ہے''_

اس آیت سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اُس دن ایک گروہ فرار کر گیا تھا اور تاریخ میں اس گروہ کی تعداد بہت زیادہ ذکر کی گئی ہے اور دلچسپ یہ ہے کہ قرآن مجید کہتا ہے شیطان نے ان پر غلبہ کیا اور یہ غلبہ انکے اُن گناہوں کی وجہ سے تھا جس کے وہ پہلے مرتکب ہوچکے تھے_ اس سے پتہ چلا کہ سابقہ گناہ ایک بڑے گناہ یعنی غزوہ سے فرار اور میدان اور دشمنسے پشت کرکے فرار کرنے کا موجب بنے_ اگرچہ آیت کا ذیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بخش دیا_

۵۰

یہ بخشش پروردگارپیغمبر اکرم(ص) کی وجہ سے تھی_

اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ عادل تھے اور انہوں نے گناہ نہیں کیا_ بلکہ صراحت کے ساتھ قرآن مجید فرما رہا ہے کہ انہوں نے متعدّد گناہ کیئے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں سورة حجرات کی آیة نمبر ۶ میں بعض کو فاسق کے عنوان سے یاد کر رہا ہے:

''یا ايّها الّذین آمَنُو إن جاء كُم فاسقٌ بنَبا فَتَبَيَّنُوا أن تُصیبُوا قوماً بجهالة فَتُصبحُوا علی مَا فَعَلتُم نَادمین''

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ لا علمی میں تم لوگ کسی کونقصان پہنچا بیٹھواور پھر بعد میں اپنے کیے پر پشیمان ہو''

مفسّرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ آیت '' ولید بن عُقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے_ پیغمبر اکرم' نے اسے ایک جماعت کے ساتھ '' بنی المصطلق'' قبیلہ کے پاس زکات کی جمع آوری کے لیئے بھیجا_ واپسی پر ولید نے کہا کہ وہ زکوة نہیں دیتے اور اسلام کے خلاف انہوں نے قیام کرلیا ہے مسلمانوں کے ایگ گروہ نے ولید کی بات پر یقین کرلیا اور اس قبیلہ کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوگئے_ لیکن سورہ حجرات کی یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگر ایک فاسق آدمی خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرلیا کرو_ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس جھوٹی خبر کی وجہ سے تم کسی قبیلہ کو نقصان پہنچاؤ اور پھر بعد میں اپنے کیئے پر

۵۱

پشیمان ہو_

اتفاقاً تحقیق کے بعد واضح ہوا کہ بنی المصطلق قبیلہ کے لوگ مؤمن ہیں اور ولید کے استقبال کے لیئے باہر آئے تھے نہ اسلام اوراس کے خلاف قیام کرنے کے لیے لیکن چونکہ ولید انکے ساتھ سابقہ ( قبل از اسلام ) دشمنی رکھتا تھا اسی امر کا بہانہ بنا کر واپس چلا آیا اور غلط خبر پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں پیش کردی_ ولید صحابی پیغمبر(ص) تھا_ یعنی اُن افراد میں سے تھا جنہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کوپایا اور آپ(ص) کی خدمت میں رہے_ جبکہ قرآن مجید اس آیت میں اُسے فاسق بتارہا ہے _کیا یہ آیت تمام اصحاب کی عدالت والے نظریہ کے ساتھ سازگار ہے؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ بعض اصحاب زکاة کی تقسیم کے وقت پیغمبر اکرم(ص) پر اعتراض کرتے ہیں__ قرآن مجید انکے اعتراض کو سورہ توبہ آیہ۵۸ میں نقل فرماتا ہے :

'' و منهم مَن يَلمزُک فی الصّدقات فان اُعطُوا منها رَضُوا وَ إن لم يُعطُوا منها اذأ هم يَسخَطُون''

'' انکے درمیان ایے لوگ بھی ہیں جو غنائم کی تقسیم میں آپ(ص) پر اعتراض کرتے ہیں اگر انہیں اس میں سے عطا کیا جائے تو راضی ہیں اور اگر نہ دیا جائے تو غصّے میں رہتے ہیں'' کیا اس قسم کے افراد عادل ہیں؟

یہ کیسی عدالت ہے کہ قرآن مجید سورہ احزاب کی آیت نمبر ۱۲ اور ۱۳ میں جنگ احزاب کی منظر کشی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بعض منافقین او ر بیماردل لوگ جو پیغمبر اکرم' کی خدمت میں تھے اور انہوں نے جنگ میں شرکت کی لیکن پیغمبر اکرم(ص) پر فریب کاری کی تہمت لگائی_

۵۲

'' ما وَعَدَنا الله و رسُولہ الاّ غُروراً'' خدا اور رسول(ص) نے ہمیں صرف اور صرف جھوٹے وعدے دیئے ہیں ان میں سے بعض یہ خیال رکھتے تھے کہ اس جنگ میں پیغمبر اکرم(ص) کو شکست ہوگی اور احتمالاً وہ قتل ہوجائیں گے اور اسلام کی بساط لپٹ جائیگی_

یا ان روایا ت کے مطابق جنہیں شیعہ و سنّی نے نقل کیا ہے یہ معلوم ہوتاہے کہ خندق کھودنے کے دوران ایک پتھر ملا جسے آپ(ص) نے توڑا اور مسلمانوں کو شام ، ایران اور یمن کی فتح کا وعدہ دیا تو ایک گروہ نے آنحضرت(ص) کی اس بات کا مذاق اڑایا_

کیا یہ اصحاب نہیں تھے؟اور اس سے زیادہ عجیب بات کو بعد والی آیت بیان کر رہی ہے کہ '' ان میں سے ایک گروہ نے ( مدینہ کے بعض لوگوں کو کہ جو جنگ میں حاضر ہوئے تھے مخاطب کر کے )کہا یہ تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ( ''و إذ قَالَت طائفةٌ منهم یا اَهلَ يَثربَ لا مُقَامَ لکم فَارجعُوا'' )

اور پھر ایک گروہ آنحضرت(ص) کی خدمت میں آیا اور میدان احزاب سے فرار کرنے کے بہانے بنانے لگا_ اسی آیت میں یوں ارشاد ہے( ''وَ يَستَأذنُ فریقٌ منهم النّبی يَقُولُون إن بُيُوتَنَا عَورَة و مَا هی بعَورَة إن يُریدُونَ الا فراراً'' ) ان میں سے ایک گروہ پیغمبر اکرم(ص) سے واپسی کی اجازت مانگتا تھا اور کہتا تھا کہ ہمارے گھر اکیلے ہیں لہذا ہمیں اجازت دیجئے تا کہ اپنے گھروں کی حفاظت کے لیے واپس مدینہ چلے جائیں_یہ لوگ جھوٹ بول رہے تھے ان کے گھر اکیلے نہیں تھے_ یہ صرف فرار کا بہانہ تلاش کر رہے تھے'' اب خود ہی فیصلہ کیجئے ہم کیسے ان تمام امورسے چشم پوشی کرلیں اور ان پر تنقید کو جائز نہ سمجھیں؟

۵۳

ان سب سے بدتر بعض اصحاب کا پیغمبر اکرم(ص) کی طرف خیانت کی نسبت دینا ہے اور قرآن مجید نے سورة آل عمران کی آیت ۱۶۱ میں اسے منعکس کیا ہے( '' و ما كَانَ لنَبيّ أن يَغُلَّ و من يَغلُل يَأت بما غَلَّ يَومَ القیامَة ثُم تُوَفّی كُلّ نفس: مّا کسبَت و هُم لا يُظلَمُونَ'' )

''ممکن نہیں ہے کہ کوئی نبی خیانت کرے اور جو کوئی خیانت کرے گا قیامت کے دن جس قسم کی خیانت کی ہوگی اسے اپنے ساتھ دیکھے گا_ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائیگا_ اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا'' یعنی اگر سزا ملے گی تو انکے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگی_

اس آیت کی دو شأن نزول بیان کی گئی ہیں_ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت ''عبداللہ بن جُبیر'' کے دوستوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ وہ جنگ اُحد میں ''عینین'' نامی مورچہ میں تھے_ اور جب جنگ کی ابتداء میں اسلام کا لشکر دشمن پر فتح پاگیا تو عبداللہ کے ہمراہ تیرانداز تھے حالانکہ رسولخدا(ص) نے فرمایا تھا کہ تمہیںاپنی جگہ سے حرکت نہیں کرنی جبکہ اس گروہ نے اپنا مورچہ چھوڑ دیا اور غنائم لوٹنے کے پیچھے دوڑ پڑے_ اس سے بھی بُرا عمل انکی باتیں تھیں کہ کہتے تھے کہ ہمیں خطرہ ہے کہیں رسولخدا(ص) ہمارا حق ہمیں نہ دیں (اور اس قسم کے جملے کہے جنہیں لکھنے سے قلم شرم محسوس کرتی ہے)_

''ابن کثیر'' اور '' طبری'' نے اسی آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں ایک اور شان نزول کوذکر کیا ہے_ وہ یہ کہ جنگ بدر میں کامیابی کے بعد ایک سرخ رنگ کا قیمتی کپڑا گم ہوگیا_ بعض کم عقل لوگوں نے رسولخدا(ص) کو خیانت سے متہم کیا_ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ کپڑا مل گیا اور معلوم ہوا کہ لشکر میں موجود فلاں شخص نے اٹھایا تھا_

۵۴

پیغمبر اکرم(ص) کی طرف اس قسم کی ناروا نسبتیں دینے کے باوجود کیا عدالت باقی رہتی ہے؟ اگر ہم اپنے وجدان کے ساتھ قضاوت کریں تو کیا قبول کریں گے کہ اس قسم کے افراد عادل اور پاک و پاکیزہ تھے اور کسی کو انکے ایسے کاموں پر تنقید کرنے کا حق نہیں ہے؟

ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کے اکثر اصحاب و یاران با تقوی اور پاکیزہ انسان تھے_ لیکن سب کے لیے ایک ہی حکم لگا دینا اور سب پر تقوی اور عدالت کی قلعی چڑھا دینا اور ان پر کسی قسم کی تنقید کرنے کا حق سلب کردینا ایک انتہائی عجیب بات ہے_

یہ کیسی عدالت ہے کہ ایک انسان جو ظاہراً پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب میں سے ہے ( ہمارا مقصود معاویہ ہے ) نبی اکرم(ص) کے با عظمت صحابی حضرت علی _ پر سال ہا سال سبّ و لعن کرتا ہے اور تمام شہروں میں سب کواس کام کا حکم دیتا ہے_

ان دو احادیث کی طرف توجہ فرمایئے

۱_ صحیح مسلم میں کہ جو اہلسنت کی معتبر ترین کتاب ہے یوں بیان ہوا ہے_

کہ ''معاویہ'' نے ''سعد بن ابی وقاص''سے کہا کہ کیوں ابو تراب (علی ابن ابی طالب) پر سبّ و لعن سے پرہیز کرتے ہو؟ اس نے کہا میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے اُن کے بارے میں تین فضائل ایسے سنے ہیں کہ اگر وہ میرے بارے میں ہوتے تو میرے لیئے دنیا کی عظیم دولت سے زیادہ اہمیت رکھتے _ اس لیے میں اُن پر سَبّ و شتم نہیں کرتا ہوں_(۱)

____________________

۱) صحیح مسلم، جلد ۴ ص ۱۸۷۱، کتاب فضائل الصحابہ اور اسی طرح کتاب فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، جلد ۷ ص ۶۰ پر بھی یہ حدیث بیان ہوئی ہے ( وہ تین فضلتیں یہ ہیں: ۱_ حدیث منزلت، ۲_حدیث لاعطین الرایة غداً ۳_ آیت مباہلہ)_

۵۵

۲_ کتاب '' العقد الفرید'' میں کہ جسے اہلسنت کے بزرگ عالم دین ( ابن عبد ربّہ اندلسی ) نے تألیف کیا ہے یوں بیان ہوا ہے کہ جب امام حسن ابن علی علیہما السلام کی شہادت ہوئی، اس کے بعد معاویہ مكّہ کے بعد مدینہ آیا اُس کا ارادہ تھا کہ مدینہ میں منبر رسول (ص) سے حضرت علی _ پَر سبّ و لعن کرے_ لوگوں نے کہا کہ '' سعد بن ابی وقاص'' بھی مسجد میں ہے اورہمارے خیال کے مطابق وہ تیری اس بات کو تحمل نہیں کریگا اور شدید ردّ عمل کا اظہار کرے گا لہذا کسی کو اُس کے پاس بھیج کر اُس کی نظر معلوم کرلو_

معاویہ نے ایک آدمی کو سعد کے پاس بھیجا اور اس مطلب کے بارے میں استفسار کیا سعد نے جواب میں کہا کہ اگر معاویہ نے یہ کام کیا تومیں رسولخدا(ص) کی مسجد سے باہر چلا جاؤں گا اور پھر کبھی بھی مسجد نبوی میں داخل نہیں ہوں گا_

معاویہ نے یہ پیغام اور ردّ عمل سّننے کے بعد سب و شتم سے پرہیز کیا_ یہاں تک کہ سعد فوت ہوگئے _ سعد کی وفات کے بعد معاویہ نے منبر سے حضرت علی (ع) پر لعنت کی اور اپنے تمام اہلکاروں کو حکم دیا کہ منبروں سے حضرت پر لعن و سب کریں _ اُن سب نے بھی یہی کام کیا_ اس بات کا جب جناب ام سلمہ زوجہ پیغمبر(ص) کو پتہ چلا تو انہوں نے معاویہ کے نام ایک خط میں یوں لکھا کہ '' تم کیوں منبروں سے خدا و رسول(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو کیا تم یوں نہیں کہتے ہو کہ علی (ع) اور اسکے چاہنے والوں اور محبت کرنیوالوں پر لعنت، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالی ،حضرت علی(ع) سے محبت کرتا ہے اور رسولخدا(ص) بھی حضرت علی (ع) سے بہت محبت کرتے ہیں_ پس حقیقت میں تم خدا اور رسولخدا(ص) پر سبّ و لعن کرتے ہو'' معاویہ نے جناب ام سلمہ کا خط پڑھا لیکن اس کی کوئی پرواہ نہ کی(۱)

____________________

۱)العقد الفرید، جلد ۴ ص ۳۶۶ و جواہر المطالب فی مناقب الامام علی ابن ابی طالب، جلد ۲ ص ۲۲۸ تالیف محمد بن احمد الدمشقی الشافعی، متوفائے قرن نہم ہجری قمری_

۵۶

کیا اس قسم کے بُرے کام عدالت کے ساتھ سازگار ہیں؟ کیا کوئی عاقل یا عادل انسان یہ جرا ت کرسکتا ہے کہ حضرت علی (ع) جیسی با عظمت شخصیت کو اس شرمناک انداز اور اتنے وسیع پیمانے پر گالیاں دے_

ایک عرب شاعریوں کہتا ہے:

اعلی المنابر تعلنون بسبّه و بسیفه نصبت لکم أعوادها؟

کیا منبر سے اس شخصیت پر لعن کرتے ہو جس کی تلوار کی برکت سے یہ منبرقائم ہوئے ہیں_

۷_اصحاب پیغمبر(ص) کی اقسام:

رسولخدا(ص) کے اصحاب کو _ قرآن مجید کی گواہی کے مطابق _ پانچ اصلی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے_

۱_ پاک و صالح:

یہ افراد مؤمن اور با اخلاص تھے_ ایمان ان کے دل کی گہرائیوں میں نفوذ کرچکا تھا_ یہ لوگ راہ خدا میں اور کلمہ اسلام کی بلندی کے لیے کسی قسم کے ایثار اور قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے_ یہ وہی گروہ ہے جس کی طرف سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۰۰ میں اشارہ ہوا ہے کہ اللہ تعالی ان سے راضی تھا اور یہ بھی اللہ تعالی کے الطاف پر راضی تھے_'' رضی الله عنہم و رَضوُ عنہ''

۲_ مؤمن خطاکار:

یہ وہ گروہ ہے جو ایمان اور عمل صالح رکھنے کے باوجود کبھی کبھار لغزش کا شکار ہوجاتے تھے اور اعمال صالح اور غیر صالح کو آپس میں مخلوط کردیتے تھے_

اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے تھے_ ان کے عفو و بخشش کی امید ہے جیسا کہ سورہ توبہ

۵۷

کی آیة ۱۰۲ میں پہلے گروہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس گروہ کا تذکرہ کیا ہے_

''و آخَرُون اعتَرفُوا بذُنُوبهم خَلَطُوا عَمَلاً صَالحاً و آخَرَ سَيّأً عَسی الله أن يَتُوبَ علیهم''

۳_ گناہگار افراد:

یہ وہ گروہ ہے جس کے لیے قرآن مجید نے فاسق کا نام انتخاب کیا ہے_ کہ اگر فاسق تمہارے لئے خبر لائے تو بغیر تحقیق کے قبول نہ کرنا_ سورہ حجرات کی آیت نمبر ۶ میں اس مطلب کی طرف اشارہ ہوا ہے:( '' یا ايّها الّذین آمنوا ان جاء كُم فاسقٌ بنباء فَتَبَيّنُوا'' ) اس آیت کا مصداق شیعہ و سنّی تفاسیر میں ذکر کیا گیا ہے_

۴_ ظاہری مسلمان:

یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کا دعوی کرتے تھے لیکن ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا_ سورہ حجرات کی چودھویں آیت میں اس گروہ کی طرف اشارہ ہوا ہے( ''قال الاعرابُ آمَنّا قُل لَم تُؤمنُوا و لکن قُولُوا أسلَمنا و لَمَّا يَدخُل الایمانُ فی قُلوبكُم'' )

۵_ منافقین:

یہ وہ گروہ ہے جو روح نفاق کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان چھپے ہوئے تھے کبھی ان کی شناخت ہوجاتی اور کبھی نہ ہوتی تھی_ یہ لوگ اسلام اور مسلمین کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں رہتے تھے_ سورہ توبہ میں ہی مؤمن و صالح گروہ کی طرف اشارہ کے بعد آیت ۱۰۱ میں ان منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے_

( '' و ممَّن حَولَكُم منَ الاعراب مُنافقُونَ و من اَهل المَدینَة مَرَدوا عَلی النّفاق'' ) بے شک ان تمام گروہوں نے پیغمبر اکرم (ص) کا دیدار کیا تھا اور آنحضرت (ص) کے ساتھ مصاحبت اور معاشرت رکھتے تھے_ اور ان میں سے بہت ساروں نے غزووں مین شرکت کی

۵۸

تھی_ اور ہم صحابہ کی جو تعریف بھی کریں ان پانچوں گروہوںپر صادق آتی ہے کیا سب کو اہل بہشت اور پاکیزہ شمار کیا جاسکتا ہے؟ کیا قرآن مجید کی صراحت کے بعد یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم راہ اعتدال کو اپنائیں اور اصحاب کو قرآن مجید میں بیان شدہ پانچ گروہوں میں تقسیم کریں اور ان میں سے نیک و باتقوی اصحاب کے لیے انتہائی احترام کے قائل ہوں اور دیگر گروہوں میں سے ہر ایک کو انکے مقام پر رکھیں_ اور غلّو، افراط اور تعصّب سے پرہیز کریں_( اور انصاف کے ساتھ قضاوت کریں)

۸_تاریخی گواہی:

تمام اصحاب کی قداست کے عقیدے نے اس کے طرفداروں کے لئے بہت سی مشکلات ایجاد کی ہیں_ ان عظیم مشکلات میں سے ایک تاریخی حقائق ہیں_ کیونکہ انکی معروف اور مورد اعتماد تاریخی کتب میں حتی صحاح ستّہ کی احادیث میں بعض صحابہ کی شدیدلڑائی اور جنگ کے تذکرے ہیں ایسی صورتحال میں ہم فریقین کو عادل، صالح اور مقدس شمار نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ کام ضدّین کے درمیان جمع کرنا ہے اور ضدین کے درمیان جمع نہ ہوسکنا ایک واضح عقلی فیصلہ ہے جس کا انکار ممکن نہیں ہے_

جنگ جمل اور صفین کے علاوہ کہ جو طلحہ ، زُبیر اور معاویہ نے امام المسلمین حضرت علی _ کے مقابلہ میں لڑیں اگر ہم حقائق سے چشم پوشی نہ کریں تو حتماً جنگ بھڑکانے والوں کی غلطیوں اور جنایتوں کا اعتراف کریں گے_ اوراس سلسلہ میں بہت سے تاریخی شواہد موجود ہیں_اس مختصر کتاب میں ہم صرف تین نمونوں پر اکتفا کریں گے_

۱_ امام بُخاری اپنی کتاب صحیح میں کتا ب التفسیر میں مسئلہ افک کے بارے میں ( زوجہ پیغمبر(ص) کے بارے میں جو تہمت لگائی گئی تھی ) لکھتے ہیں: کہ ایک دن پیغمبر اکرم (ص) منبر پر تشریف

۵۹

لے گئے اور فرمایا اے مسلمانو ں کون اس شخص کوسزادے گا ( مقصود عبداللہ بن سلول تھا جو منافقین کاایک سر غنہ تھا ) مجھے بتایا گیا ہے کہ اس نے میری بیوی پر تہمت لگائی ہے حالانکہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی سعد بن معاذ انصاری ( مشہور صحابی ) اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کی، میں اس کو سزا دوں گا اگر یہ '' اوس'' قبیلہ سے ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دونگا اور اگر یہ خزرج قبیلہ سے ہوا تو جو حکم آپ صادر فرمائیںگے ہم انجام دیں گے_ سعد بن عبادہ، خزرج قبیلہ کا سردار کہ جو اس سے پہلے صالح آدمی تھا قبائلی تعصب کی وجہ سے سعد بن معاذ کو کہنے لگا خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہا ہے تیری اتنی جرا ت نہیں ہے کہ تو یہ کام کرسکے اسید بن خُضیر ( سعد بن معاذ کا چچا زاد) کہنے لگا کہ خدا کی قسم تو جھوٹا ہے یہ شخص منافقین میں سے ہے ہم اسے ضرور قتل کریں گے_ نزدیک تھا کہ قبیلہ اوس و خزرج کی آپس میں جنگ چھڑ جائے_ رسولخدا(ص) نے انہیں خاموش کرایا(۱) کیا یہ سب افراد صالح صحابی تھے؟

۲: معروف دانشمند '' بلاذری'' اپنی کتاب '' الانساب'' میں لکھتے ہیں کہ '' سعد بن ابی وقاص'' کوفہ کے والی تھے، حضرت عثمان نے انہیں معزول کردیا اور '' ولید بن عقبہ'' کو انکی جگہ گورنر بنادیا_ عبداللہ بن مسعود اس دوران بیت المال کے خزانہ دار تھے جب ولید ،کوفہ میں داخل ہوا تو اس نے عبداللہ ابن مسعود سے بیت المال کی چابیاں طلب کیں_ عبداللہ نے چابیاں ولید کے سامنے پھینکتے ہوئے کہا کہ خلیفہ نے سنت ( رسول(ص) کو تبدیل کردیا ہے_ سعد بن ابی وقاص جیسے آدمی کو معزول کرکے ولید جیسے آدمی کو اپنا جانشین منتخب کر لیا ہے؟ ولید نے حضرت عثمان کو خط میں لکھا کہ عبداللہ بن مسعود آپ پر تنقید کرتا ہے خلیفہ نے جواب لکھا

____________________

۱) صحیح بخاری، جلد ۵ ص ۵۷_

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی

____________________

(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔

۱۶۱

دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔

منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔

۱۶۲

روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ

یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان

____________________

(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔

۱۶۳

لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔

یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے

____________________

(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵

۱۶۴

اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔

آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر

یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا

____________________

(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔

۱۶۵

لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔

وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

۱۶۶

جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو

____________________

(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔

۱۶۷

مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔

(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔

۱۶۸

اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔

جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔

اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔

۱۶۹

روح کی بیماری اور سلامتی

روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔

ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ

____________________

(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔

۱۷۰

روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔

کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔

(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔

۱۷۱

ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں

____________________

(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.

۱۷۲

انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.

۱۷۳

بحث کا خلاصہ

اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔

البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :

(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔

(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔

(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔

۱۷۴

سوال اور جواب

سوال :

جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟

جواب :

سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔

۱۷۵

یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔

۱۷۶

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳

پچھلی بحثوں پر سرسری نظر

پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:

(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں

(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔

۱۷۷

انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع

لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟

ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔

۱۷۸

دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔

۱۷۹

(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ

انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟

اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا

____________________

(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232