شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں25%

شيعہ جواب ديتے ہيں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

شيعہ جواب ديتے ہيں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 81021 / ڈاؤنلوڈ: 4437
سائز سائز سائز
شيعہ جواب ديتے ہيں

شيعہ جواب ديتے ہيں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

پہنچيں گے اس وقت قبيلہ اوس كے تمام افراد ہمارى طرفدارى كے لئے اُٹھ كھڑے ہوںگے_

لشكر قريش كى مدينہ روانگي

مكمل تيارى كے بعد قريش نے لشكر كو كوچ كا حكم ديا ، يہ لشكر تين ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں سات سو زرہ پوش ، دو سو گھڑ سوار ، تين ہزار اونٹ اور بے پناہ اسلحہ كے علاوہ دوران جنگ گا بجا كر سپاہيوں كو تازہ دم كرنے كے ليے ۱۵ عورتيں بھى شريك تھيں_

مشركين كے لشكر كا سپہ سالار ابوسفيان تھا ، سواروں كى كمان خالد بن وليد كے ہاتھ ميں تھى اور ''عكرمہ بن ابى جہل ''خالد كے نائب كى حيثيت سے شريك تھا اس بار لشكر مشركين ہر ايسے اختلاف سے اجتناب كر رہا تھا جو ان كو دو گروہوں ميں بانٹ ديتا_

عبّاس كى خبر رساني

جب لشكر نے كوچ كا ارادہ كيا تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا عبّاس بن عبدالمطلب نے '' جو مخفى طور پر مسلمان ہوچكے تھے اور بہت قريب سے قريش كى تياريوں اور كوچ پر نظر ركھے ہوئے تھے'' پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مشركين كے لشكر كى جنگى صورتحال كى اطلاع دينے كے ليے ايك خط تحرير كيا_

اور قبيلہ بنى غفار كے ايك قابل اعتماد شخص كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_ يہ فرستادہ اتنى تيزى سے روانہ ہوا كہ مكّہ اور مدينہ كا درميانى فاصلہ صرف تين دن ميں طے كر ليا_

۲۱

جب يہ سوار مدينہ پہنچا تو اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ' ' قُبا'' ميں تھے _ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور خط ديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط ايك شخص كو دياتا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سُنائے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا كہ اس كا مضمون كسى كو نہ بتانا_

مدينہ كے يہودى اور منافقين نامہ بَر كے آنے سے آگاہ ہوچكے تھے _ اور انھوں نے مشہور كرديا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بُرى خبر پہنچى ہے_ تھوڑى ہى دير ميں لوگ قريش كى لشكركشى سے باخبر ہوگئے_(۱۵)

سپاہ قريش راستہ ميں

راستہ ميں جہاں كہيں پڑاؤ ہوتا لشكر كے ہمراہ موجود عورتيں گانا بجانا شروع كرديتيں اور مقتولين قريش كى ياد دلاكر سپاہيوں كو بھڑكاتى قريش كے سپاہى جہاں كہيں پانى كے كنارے رُكتے اونٹوں كو ذبح كركے اُن كا گوشت كھاتے_(۱۶)

عمروبن سالم خزاعى نے مكّہ اور مدينہ كے درميان مقام ''ذى طوى '' ميں قريش كو خيمہ زن ديكھا تو مدينہ آئے اور جو كچھ ديكھا تھا اس كى خبر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي(۱۷) _

معلومات كى فراہمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات كى رات ۵ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۴ مارچ ۶۲۵كو فضالہ كے سراغ رساں بيٹوں ''انس اور مونس ''كو دشمن كى نقل و حركت كے بارے ميں معلومات اكھٹى كرنے كے لئے بھيجا_ انھوں نے قريش كو ''عقيق '' كے مقام پر ديكھا اور ان كے پيچھے ہولئے جب لشكر نے ''وطاء '' كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں سے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

۲۲

رپورٹ پيش كرنے كے لئے واپس آگئے_(۱۸)

لشكر ٹھہرنے كى خبر

جيسے ہى سپاہ مشركين نے احد كے نزديك وطاء كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''حُباب بن مُنذر ''كو پوشيدہ طور پر مامور فرمايا كہ دشمن كى قوّت كا اندازہ كريں اور ضرورى معلومات جمع كركے اس كى رپورٹ ديں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات كى تاكيد كى كہ اپنى رپورٹ دوسروں كى موجودگى ميں پيش نہ كريں مگر يہ كہ دشمن كى تعداد كم ہو ( تو اس وقت كوئي حرج نہيں ہے)_

''حُباب ''دشمن كے لشكر كے قريب پہنچے اور نہايت دقت نظر سے جائزہ لے كر واپس آئے اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تنہائي ميں ملاقات كى اور كہا كہ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے ايك بڑا لشكر ديكھاہے ميرا اندازہ ہے كہ كم و بيش تين ہزار افراد ، دو سو گھوڑے اور زرہ پوش سپاہيوں كى تعداد تقريباً سات سو كے قريب ہوگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ تم نے عورتوں كو بھى ديكھا؟ حباب نے كہا كہ ايسى عورتيں ديكھى ہيں جن كے پاس گانے بجانے كا سامان ہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' يہ عورتيں مردوں كو لڑائي پر اُكسانا اور مقتولين بدر كى ياد دلانا چاہتى ہيں، اس سلسلہ ميںتم كسى سے كوئي بات نہ كرنا خدا ہمارى مدد كے لئے كافى اور بہترين حفاظت كرنے والا ہے اے خدا ہمارى روانگى اور حملہ تيرى مدد سے ہوگا_(۱۹)

۲۳

مدينہ ميں ہنگامى حالت

شب جمعہ ۶ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۵ مارچ ۶۲۵ئ _ اوس و خزرج كے برجستہ افراد سعد بن معاذ ، اُسَيد بن حُضَير اور سعد بن عُبَادة چند مسلح افراد كے ہمراہ مسجد اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر كے دروازہ پر حفاظت كے لئے كھڑے ہوگئے_

مشركين كے شب خون مارنے كے خوف سے صبح تك شہر مدينہ كى نگرانى كى جاتى رہي_(۲۰)

فوجى شورى كى تشكيل

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہ كر شہر كا دفاع كريں گے تو مسلمانوں كى فوجى شان و شوكت كمزور پڑ جائے گى اور دشمن جرى ہوجائے گا اور ممكن ہے دشمن كے شہر كے قريب ہوتے ہى منافقين و يہود اندرونى سازش ( يا بغاوت) كے ذريعہ دشمن كى كاميابى كى راہ ہموار كريں دوسرى طرف شہر ميں رہنے كا فائدہ يہ ہے كہ قريش مجبور ہوں گے كہ شہر پر حملہ كريں اور اس صورت ميں دست بدست لڑائي كے حربوں كو بروئے كار لاكر دشمن پر ميدان تنگ اور شكست سے دوچار كيا جاسكتا ہے اور شہر ميں رہنا سپاہيوں ميں دفاع كے لئے زيادہ سے زيادہ جوش پيدا كرے گا_

قريش بھى اسى فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہے تو درختوں كو كاٹ كر اور نخلستان ميں آگ لگا كر ناقابل تلافى اقتصادى نقصان پہنچايا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دفاعى حكمت عملى كى تعيين كے لئے اجلاس بلايا اور اصحاب سے مشورہ طلب كيا اجلاس ميں حضوراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ اگر آپ لوگ مصلحت سمجھيں تو ہم مدينہ

۲۴

ميں رہيں اور دشمنوں كو اسى جگہ چھوڑديا جائے جہاں وہ اُترے ہيں تا كہ اگر وہ وہيں رہيں تو زحمت ميں مبتلا رہيں اور اگر مدينہ پر حملہ كريں تو ہم ان كے ساتھ جنگ كريں_

عبداللہ بن اُبى نے اُٹھ كر كہا كہ '' يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى تك كوئي دشمن اس شہر پر فتحياب نہيں ہوسكا ماضى ميں ہم نے دشمن كے ساتھ جب بھى ميدان ميں لڑائي كى شكست سے دوچار ہوئے اور جب بھى دشمن نے چاہا ہمارے شہر ميں آئے تو ہم نے شكست دى لہذا آپ انھيں ان كے حال پر چھوڑ ديجئے _ اس لئے كہ اگر وہ وہيں رہے تو بدترين قيد ميں ہيں اور اگر حملہ آور ہوئے تو ہمارے بہادر ان سے لڑيں گے ، ہمارى عورتيں اور بچّے چھتوں سے ان پر پتھراؤ كريں گے اور اگر پلٹ گئے توشرمندہ رسوا ، نااُميد اور بغير كسى كاميابى كے واپس جائيں گے '' مہاجر ين و انصار كے بزرگ افراد حسن نيّت كے ساتھ اسى خيال كے حامى تھے ليكن شہادت كے شوقين نوجوانوں كى بڑى تعداد خصوصاً وہ لوگ جو جنگ بدر ميں شريك نہيں ہوسكے تھے دشمن سے روبرو لڑنے كے لئے بے قرار تھے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ خواہش ظاہر كر رہے تھے كہ دشمن كے مقابل ميدان كار زار ميں لے چليں_

اس اكثريت ميں لشكر اسلام كے دلير سردار حضرت حمزہ (ع) بھى تھے انھوں نے فرمايا: اس خدا كى قسم جس نے قرآن كو نازل فرمايا ہم اس وقت تك كھانا نہيں كھائيں گے جب تك شہر سے باہر دشمنوں سے نبرد آزمائي نہ كرليں_

جواں سال افراد كچھ اس طرح كا استدلال پيش كر رہے تھے كہ : اے خدا كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس بات سے ڈر رہے ہيں كہ كہيں دشمن يہ خيال نہ كر بيٹھيں كہ ہم ان كے سامنے آنے سے ڈرتے ہيںاور شہر سے باہر نكلنا نہيں چاہتے _ ہميں اچھا نہيں لگتا قريش اپنے رشتہ داروں كى طرف واپس جاكر كہيں كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يثرب ميں محصور كرديا ; اور ( اس طرح) اعراب

۲۵

كو ہمارے مقابلے ميں دلير بناديں_(۲۱)

آخرى فيصلہ

جوانوں كے اصرار پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اكثريت كى رائے كو قبول فرمايا اور مسلمانوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى ،خطبہ ميں انہيں جانفشانى اور جہاد كى دعوت دى اور حكم ديا كہ دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوجائيں ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز عصر جماعت كے ساتھ پڑھائي ، اس كے بعد فوراً گھر كے اندر تشريف لے گئے ، جنگى لباس زيب تن فرمايا ''خود ''سرپر ركھى تلوار حمائل كى اور جب اس حليہ ميں گھر سے باہر تشريف لائے تو وہ لوگ جو باہر نكلنے كے سلسلہ ميں اصرار كر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل ميں كہنے لگے كہ '' جس بات كى طرف پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ميلان نہيں تھا ہميں اس كے خلاف اصرار كرنے كا حق نہيں تھا''_ اس وجہ سے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب آئے اور كہا كہ'' اگر آپ چاہيں تو مدينہ ميں رہيں '' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا '' يہ مناسب نہيں ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لباس جنگ پہن لے اور قبل اس كے كہ خدا دشمنوں كے ساتھ جنگ كى سرنوشت كو روشن كردے وہ لباس جنگ كو اُتار پھينكے _

اب ہم جو كہہ رہے ہيں وہ كرتے جائيں خدا كا نام لے كر راستہ پرگامزن ہوجاؤ اگر صبر كروگے تو كامياب رہوگے''_(۲۲)

۲۶

سوالات:

۱ _ غزوہ بنى قينقاع كب واقع ہوا اور اس كا نتيجہ كيا رہا؟

۲_ ''ذى قرد'' كے مقام پر سّريہ ''زيد بن حارثہ ''كس مقصد كے تحت انجام پايا؟

۳_ حضرت على (ع) و حضرت فاطمہ (ع) كا عقد مبارك كس سال ہوا؟

۴_ جنگ احدشروع ہونے كے اسباب كيا تھے؟

۵_ جنگ احد كا بجٹ كفّار نے كس طرح پورا كيا؟

۶_ راہ خدا سے روكنے كى خاطر مال خرچ كرنے كے سلسلہ ميں قرآن كيا كہتا ہے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كى روانگى سے كيسے واقف ہوئے؟

۸_ دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مسلمانوں نے آخرى فيصلہ كيا كيا ؟

۲۷

حوالہ جات

۱_ان شعراء كے نام حسب ذيل ہيں:

كعب بن اشرف يہودى ، ابى عفك يہودى اور مشركين ميں سے ايك عورت عصماء بنت مروان ، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷/۲۸_

۲_ ابن ہشام كى تحرير كے مطابق بشير بن عبدالمنذر ( ابولبابہ) اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق عبادہ بن وليد بن عبادہ بن صامت_

۳_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۷۶، سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۴۷، تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۴۹۷، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷_

۴_ ہر درہم ۱۲ نخود كے يعنى آدھا مثقال چاندى كے برابر ہے اس حساب سے آپ كا مہر ۲۵۰ مثقال چاندى ہے_

۵_ اللہم بارك لقوم: جُلّ انيتہم الخزف _ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۹_

۶_مزيد معلومات كے لئے كشف الغمہ كى طرف رجوع كريں ج۱ ص ۳۷۴/۳۴۸، بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۴۵/۹۲ مطبوعہ بيروت ،سيرة المصطفى ص ۳۲۹_۳۲۶_

۷_ انشاء اللہ حضرت علي(ع) و فاطمہ (ع) كے عقد كا تفصيلى حال امامت كى تاريخ ميں بيان كيا جائے گا_

۸_ سويق ايك غذا ہے جو چاول اور جوكے آٹے، شہد اور دودھ سے يا پھر خرمے آٹے اور روغن سے بنتى ہے_ جيسے ستّو_

۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۱_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۱۳۰_ سيرة ابن ہشام جلد ۲ ص ۴۴، دلائل النبوة بيہقى جلد ۲ ص ۳۲۲_

۱۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۵_ سيرة ابن ہشام جلد ۴/۳ ص ۴۳_

۲۸

۱۱_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۹۷_طبقات جلد ۲ ص ۳۶ _ متاع الاسماع ص ۱۱۲_

۱۲_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۹۰_۱۹۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۴_

۱۳_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۰_

۱۴_ سورہ انفال آيت ۳۶_

۱۵_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰_

۱۶_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۴_

۱۷_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵،۲۰۶_

۱۸_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵_

۱۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۰۶،۲۰۷_

۲۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۷۰،۲۰۸_

۲۱_ مغازى واقدى جلد ۱، ص ۲۰۸_

۲۲_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۱۹،۲۰۹_

۲۳_ مغازى واقدى جلد ۳، ص ۲۴۱،۲۱۳_

۲۹

دوسرا سبق

لشكر اسلام كى روانگي

لشكر توحيد كا پڑاؤ

منافقين كى خيانت

صف آرائي

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

جنگى توازن

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اجتماعى حملہ

فتح كے بعد شكست

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

ام عمارہ شير دل خاتون

لشكر كى جمع آوري

سوالات

حوالہ جات

۳۰

لشكر اسلام كى روانگي

روانگى كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين نيزے طلب فرمائے اور تين پرچم تيار كيئے لشكر كا عَلَم على بن طالب(ع) ، قبيلہ '' اوس'' كا پرچم '' اُسَيد بن حُضَير '' اور قبيلہ خزرج كا پرچم '' سعد بن عبادة'' كے سپُرد كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جمعہ كے دن عصر كے وقت ايك ہزار افراد كے ساتھ مدينہ سے باہر نكلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھوڑے پر سوار اور ہاتھ ميں نيزہ ليے ہوئے تھے _ مسلمانوں كے درميان صرف سو افراد كے جسم پر زرہ تھي_

لشكر اسلام مقام ''شيخان ''پر پہنچا تو ناگہاں ايك گروہ شور و غل كرتا ہوا پيچھے سے آن پہنچا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ يہ كون ہيں؟ لوگوں نے عرض كيا: اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' يہ عبيد اللہ بن اُبّى كے ہم پيمان يہودى ہيں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ان تك يہ بات پہنچا دو كہ ہم ان كى مددسے بے نياز ہيں'' اس كے بعد فرمايا كہ '' مشركين سے جنگ كرنے كے لئے مشركين سے مدد نہ لى جائے''_(۱)

لشكر توحيد كا پڑاؤ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخان كے پاس پڑاؤ ڈالا اور محمد بن مسلمہ كو ۵۰ افراد كے ساتھ لشكر اسلام

۳۱

كے خيموں كى حفاظت پر مامور فرمايا_

اس مقام پر جنگ ميں شركت كے خواہشمند نوجوان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور جنگ ميں شركت كى اجازت چاہى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت نہ دى ،انہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ رافع بن خَديج ايك ماہر تيرانداز ہے اور رافع نے بھى اونچى ايڑى والے جوتے پہن كر اپنے قد كى بلندى كا مظاہرہ كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رافع كو شركت كى اجازت دے دي_ سُمرَة بن جُندُب نے عرض كيا كہ ميں رافع سے زيادہ قوى ہوں ، ميں ان سے كشتى لڑنے كے لئے تيار ہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ٹھيك ہے، كُشتى لڑو_ سمرہ نے رافع كو پٹخ ديا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھى شركت كى اجازت ديدي_(۲)

عبداللہ بن حجش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ : اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا دشمنوں نے وہاں ڈيرہ ڈال ركھا ہے_ ميں نے پہلے ہى خدا كى بارگاہ ميں دُعا كى ہے كہ كل جب دشمن سے مقابلہ ہوتو وہ مجھے قتل كرديں ،ميرا پيٹ پھاڑ ڈاليں ،ميرے جسم كو مثلہ كرديں تا كہ اسى حالت ميں خدا كا ديدار كروں اور جس وقت خدا مجھ سے پوچھے كہ كس راہ ميں تيرى يہ حالت كى گئي؟ تو ميں كہہ سكوں كہ اے خدا تيرى راہ ميں_(۳)

عمر و بن جموح ايك پاؤں سے اپاہج تھے جن كے چار بيٹے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنگوں ميں شير كى طرح لڑتے تھے، جب جنگ اُحد پيش آئي تو عزيز و اقارب نے عمرو بن جموح كو شركت سے منع كيا اور كہا كہ چونكہ تم پاؤں سے اپاہج ہو لہذا فريضہ جہاد كا بار تمہارے دوش پر نہيں ہے، اس كے علاوہ تمہارے بيٹے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنك كيلئے جارہے ہيں_ اس نے كہا كہ ''وہ لوگ تو جنّت ميں چلے جائيں_ اور ميں يہاں تمہارے پاس رہ جاؤں؟'' ان كى بيوى نے ديكھا كہ وہ ہتھياروں سے ليس ہوتے ہوئے زير لب يہ دعا كر

۳۲

رہے ہيں كہ '' خدايا مجھے گھر واپس نہ پلٹا_'' بيٹوں نے اصرار كيا كہ جنگ ميں شركت سے اجتناب كريں تو وہ پيغمبراكرم كى خدمت ميں پہنچے اور عرض كيا'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے بيٹے نہيں چاہتے كہ مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اس جنگ ميں شركت كرنے ديں، بخدا ميرى خواہش ہے كہ اس ناقص پاؤں كو بہشت كى سرزمين سے مَس كروں_''

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' خدا نے تمہيںجنگ سے معاف ركھا ہے اور فريضہ جہاد تمہارے كندھوں سے اٹھاليا ہے_''

وہ نہيں مانے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹوں سے فرمايا كہ '' اگر تم ان كو نہ رو كو تو تمہارے اوپر كوئي گناہ نہيں ہے_ شايد خدا ان كو شہادت نصيب كردے _(۴)

آفتاب غروب ہوا ،جناب بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين اسلام كے ساتھ نماز جماعت ادا كي_

دوسرى طرف دشمن كے لشكر ميں عكرمہ بن ابى جہل كو چند سواروں كے ساتھ خيموں كى حفاظت پر مامور كرديا گيا _(۵)

منافقين كى خيانت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صبح سويرے شيخان سے احد (مدينہ سے ۶كلوميٹردور) كى طرف روانہ ہوئے _ مقام شوط پر منافقين كا سرغنہ عبداللہ بن ابى بن سلول اپنے تين سوساتھيوں سميت مدينہ واپس لوٹ گيا_ اس نے اپنے بہانہ كى توجيہ كے لئے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں كى بات سنى ہمارى بات نہيں سنى اے لوگو ہميں نہيں معلوم كہ ہم كس لئے اپنے آپ كو قتل كئے

۳۳

جانے كے لئے پيش كرديں:؟ عبداللہ بن عمر و بن حرام ان كے پيچھے گئے اور كہا كہ '' اے قوم خدا سے ڈرو، ايسے موقع پر كہ جب دشمن نزديك ہے اپنے قبيلے اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا نہ چھوڑو'' منافقين نے جواب ديا '' اگر ہميں يقين ہوتا كہ جنگ ہوگى تو ہم تمہيں نہ چھوڑتے، ليكن ہميں معلوم ہے كہ كسى طرح كى جنگ نہيں ہوگي''_

عبداللہ بن عمرو جوكہ ان سے نا اميد ہوچكے تھے ان سے كہنے لگے، اے دشمنان خدا خدا تمہيں اپنى رحمت سے دور كرے اور بہت جلد خدا اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تم سے بے نياز كردے گا_

ان تين سو افراد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بنى حارثہ اور قبيلہ بنى سلمہ كے افراد بھى سست پڑگئے اور واپس جانے كيلئے سوچنے لگے مگر خدا نے انھيں استوار ركھا_(۶)

صف آرائي

۷/ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶مارچ ۶۲۵ئبروز ہفتہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد ميں نماز صبح ادا كرنے كے بعد لشكر كى صف آرائي شروع كردي_ كوہ احد كو پيچھے اور مدينہ كو اپنے سامنے قرار ديا_ سپاہيوں كو مكمل طور پر ترتيب دينے كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقرير فرمائي اور كہا كہ ''تعريف اور جزاء اس شخص كے لئے ہے جو اپنے فريضے كو صبر و سكون اور متانت و يقين كے ساتھ انجام ديتا ہے ، اس لئے كہ جہاد انتہائي دشوار كام اور بہت سى مشكلات و پريشانيوں كا حامل ہے_ ايسے لوگ بہت كم ہيں جو اس ميں ثابت قدم ہيں، مگر وہ لوگ جن كو خدا ہدايت و پائيدارى عطا فرمائے ،خدا اس كا دوست ہے جو اس كا فرماں بردار ہے اور شيطان اس كا دوست ہے جو اس كى پيروى كرتا ہے ''_

''ہر چيز سے پہلے جہاد ميں ثابت قدم رہو اور اس وسيلے سے ان سعادتوں كو اپنے لئے

۳۴

فراہم كرو جن كا خدا نے وعدہ كيا ہے_ اختلاف، كشمكش اور ايك دوسرے كو كمزور بنانے كا ارادہ ترك كردو كيونكہ يہ باتيں حقارت و ناتوانى كا سبب ہيں''_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عبداللہ بن جُبَير'' كو ۵۰ تيراندازوں كے ساتھ درّہ كوہ عينين كى نگرانى پر معين فرمايا اور درّہ كى حفاظت كے لئے جنگى حكمت عملى بتاتے ہوئے فرمايا: ہم فتحياب ہوں يا شكست كھائيں تم اپنى جگہ ڈٹے رہنا اور دشمن كے سواروں كو تيراندازى كے ذريعہ ہم سے دور كرتے رہنا_ تا كہ وہ پيچھے سے ہم پر حملہ نہ كريں اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم فتحياب ہوجائيں اور مال غنيمت حاصل كرنے لگيں پھر بھى تم ہمارے پاس نہ آنا تم اپنى جگہ مضبوطى سے ڈٹے رہنا يہاں تك كہ ہمارا كوئي حكم تمہارے پاس آجائے_(۷)

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

ابوسفيان نے بھى اپنى فوج كى صفوں كو منظم كيا پيادہ زرہ پوش لشكر كو درميان ميں ''خالد بن وليد ''كى كمان ميں سواروں كا ايك دستہ دائيں جانب اوردوسرا دستہ ''عكرمہ بن ابى جہل'' كى سركرد گى ميں بائيں جانب ترتيب ديا، سياہ پرچم قبيلہ ''بنى عبدالدّار''كے افراد كے سپرد كيا اور شرك و الحاد كے وجود كى حفاظت كے لئے حكم ديتے ہوئے كہا كہ '' لشكر كى كاميابى پرچم داروں كى استقامت ميں پوشيدہ ہے ہم نے بدر كے دن اسى وجہ سے شكست كھائي تھى اب اگر اپنے آپ كو تم اس كے لائق ثابت نہيں كروگے تو پرچم دارى كا فخر كسى اور قبيلے كو نصيب ہوگا ، ان باتوں سے اس نے ''بنى عبدالدار ''كے جاہلى احساسات كو ابھارا يہاں تك كہ وہ آخرى دم تك جان كى بازى لگانے كيلئے آمادہ ہوگئے _(۸)

۳۵

جنگى توازن

اب ايك ہولناك جنگ كے دہانہ پر لشكر توحيد و شرك ايك دوسرے كے مقابل كھڑے ہيں اور ان دونوں لشكروں كا جنگى توازن مندرجہ ذيل ہے_(۹)

تفصيل لشكر اسلام لشكر مشركين باہمى نسبت

فوجي ۷۰۰ ۳۰۰۰ مسلمانوں كى نسبت ۷/۲:۴ زيادہ

زرہ پوش ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

نيزہ بردار ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

شہ سوار ۲ ۲۰۰ مشركين ۱۰۰گنا زيادہ

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دونوں لشكروں كے درميان ٹكراؤ كا باعث بننے والا پہلا شخص '' ابوعامر '' تھا_ احد كے دن آگے بڑھتا ہوا لشكر اسلام كے مقابل آيا اور آواز دے كر كہنے لگا، اے اوس ميں ابوعامر ہوں ،لوگوں نے كہا '' اے فاسق تيرى آنكھيں اندھى ہوجائيں '' ابوعامر اس غير متوقع جواب كے سننے سے اہل مكّہ كے درميان ذليل ہوگيا_ اس نے كہا كہ '' ميرى غير موجود گى ميں ميرا قبيلہ فتنہ و فساد ميں مبتلا ہوگيا ہے _ '' اسكے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ كا آغاز كرديا لشكر اسلام نے اس پر اور اس كے ساتھيوں پر سنگ بارى كى اس كے بيٹے'' حنظلہ ''جو كہ لشكر اسلام ميں تھے، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگى تا كہ اپنے باپ كو قتل كرديں ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دي_(۱۰)

''ابوعامر ''كى عقب نشينى كے بعد مشركوں كا پرچمدار '' طلحہ بن ابى طلحہ'' جسے لشكر كا مينڈھا كہا جاتا تھا، مغرورانہ انداز ميں آگے بڑھا اور چلّا كر كہا كہ ''تم كہتے ہوكہ ہمارے

۳۶

مقتولين دوزخ ميں اور تمہارے مقتولين بہشت ميں جائيں گے _ اس صورت ميں آيا كوئي ہے جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے دوزخ ميں پہنچادے ؟'' حضرت على عليہ السلام مقابلے كے لئے آگے بڑھے_

جنگ شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں مشركين كا پرچم دار شمشير على (ع) كى بدولت كيفر كردار كو پہنچا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خوش ہوگئے اور مجاہدين اسلام نے صدائے تكبر بلند كى _

طلحہ كے بھائي نے پرچم اُٹھاليا اور آگے بڑھاجبكہ دوسرے چند افراد بھى پرچم سرنگوں ہوجانے كى صورت ميں شرك كا دفاع كرنے اور دوبارہ پرچم اٹھانے كے لئے تيار بيٹھے تھے_(۱۱)

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اسلام كے مجاہد اپنے مقدّس دين كے دفاع كے لئے لڑرہے تھے اور اپنے دل و دماغ ميں شہادت كى آرزو كو پروان چڑھار ہے تھے ليكن مشركين كے سپاہيوں كا مقصد پست مادّى آرزوؤں كا حصول اور انتقام كے سوا كچھ نہ تھا _ مشركين كے نامور افراد جنگ كے دوران سپاہيو ںكے ان ہى جذبات كو بھڑ كار ہے تھے اور يہ ذمّہ دارى ان آوارہ عورتوں كى تھى جو آلات موسيقى بجاتيں اور مخصوص آواز ميں ترانے گاتى تھيں تا كہ ايك طرف لشكر كے جنسى جذبات بھڑكائيں اور دوسرى طرف انتقام كى آگ شعلہ ور كريں تا كہ وہ لوگ نفسياتى دباؤ كے تحت جنگ جارى ركھيں _

جو شعريہ بد قماش عورتيں پڑھ رہى تھيں ان كا مطلب كچھ اس طرح تھا'' ہم طارق كى بيٹياں ( وقت سحر طلوع ہو نے والا ستارہ) ہيں اور بہترين فرش پر قدم ركھتى ہيں_ اگر دشمن

۳۷

كى طرف بڑھوگے تو ہم تمہارے ساتھ بغل گير ہوگئيں، اگر دشمن كو پيٹھ دكھاؤ گے اور فرار كرو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائے گئيں _(۱۲)

اجتماعى حملہ

حضرت علي(ع) نے نئے پرچم دار پر حملہ كيا اور وہ بھى اپنے گندے خون ميں لوٹنے لگا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اجتماعى حملہ شروع ہوا، مجاہدين اسلام ايسى شجاعت سے لڑرہے تھے جس كى تعريف بيان سے باہر ہے_ اس دوران على (ع) ، حمزہ(ع) اور ابودجانہ بے خوفى كى عظيم مثال تاريخ بشريت ميں ثبت كرتے ہوئے سپاہ دشمن پر بجلياں گرار ہے تھے ان كى تمام تر كوشش يہ تھى كہ پرچم داروں كے پير اُكھاڑديں اس ليے جنگ زيادہ تر اسى حصّہ ميں ہو رہى تھى _ چونكہ اس زمانے ميں پرچم كا سرنگوں ہوجانا شكست اور خاتمہ جنگ سمجھا جاتا تھا اسى وجہ سے مشركين كے پرچم دار انتہائي شجاعت كا مظاہرہ كر رہے تھے اور بنى عبدالدار كے قبيلہ كے افراد نہايت غيظ و غضب كے عالم ميںاپنے پرچم دار كے اردگرد جنگ كرتے جاتے تھے اور جب كوئي پرچم دار قتل ہوجاتا تو احتياطى فوجيں بلافاصلہ جلدى سے بڑھ كر پرچم كھول ديتى تھيں _ اس دوران دشمن كے شہ سواروں نے تين مرتبہ سپاہيان اسلام كے محاصرہ كو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبير كے دستے نے مردانہ وار، نہايت بہادرى كے ساتھ تيراندازى كے ذريعے ان كو پيچھے دھكيل ديا_

حضرت على (ع) كى تلوار، حمزہ (ع) كى دليرى اور عاصم بن ثابت كى تيراندازى سے'' بنى عبدالدار'' كے نو پرچم داريكے بعد ديگر ے ہوا ہوگئے اور رعب و وحشت نے مشركين كے سپاہيوں كو گھير ليا _ آخرى بار انہوں نے ''صئواب ''نامى غلام كو پرچم ديا_ صواب سياہ چہرے

۳۸

اور وحشت ناك حُليے كے ساتھ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف بڑھا، شدت غضب سے آنكھيں سرخ اور منہ سے كف جارى تھا_ ليكن على (ع) نے حملہ كيا اور تلوار كى ايسى ضربت اس كى كمر پر لگائي كہ وہ وہيں ڈھير ہوگيا_

مسلمانوں نے مشركين كى صفوف كود رہم بر ہم كرديا وہ عورتيں، جودف بجار ہى تھيں اور گانے گارہى تھيں ، دف پھينك كر پہاڑوں كى طرف بھاگيں، مشركين كے لشكر ميں فرار اور شكست شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں زيادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ كا پہلا مرحلہ مشركين كى شكست اور مجاہدين اسلام كى كاميابى پر ختم ہوا_

فتح كے بعد شكست

راہ خدا ميںجہاد، رضائے خدا كى طلب ، آئين اسلام كى نشر و اشاعت كے علاوہ مجاہدين اسلام كا كوئي اور مقصد نہ تھا وہ آخرى وقت تك بہادرى كے ساتھ جنگ كرتے رہے اور نتيجہ ميں فتحياب ہوئے_ ليكن فتح كے بعد بہت سے مسلمان مقصد سے ہٹ گئے اور ان كى نيت بدل گئي _ قريش نے جو مال غنيمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں كے اخلاص كى بنياديں ہلاديں انہوں نے فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور جنگ كے مقصد كو بُھلا ديا_ دشمنوں كے تعاقب سے چشم پوشى كركے مال غنيمت كى جمع آورى ميں مشغول ہوگئے_ انہوں نے اپنى جگہ يہ سوچ ليا تھا كہ دشمن كا كام تمام ہوگيا ہے_

درّہ كى پشت پر موجود محافظوں نے جب دشمن كو فرار اور مجاہدين كو مال غنيمت جمع كرتے ہوئے ديكھا تو جنگى حكمت عملى كے اعتبار سے اس اہم درّے كى حفاظت كى حساس ذمّہ دارى كو بُھلا ديا اور كہا كہ '' ہم يہاں كيوں رُكے رہيں؟ خدا نے دشمن كو شكست دى اور اب تمہارے بھائي مال غنيمت جمع كررہے ہيں_ چلو تا كہ ہم بھى ان كے ساتھ شركت

۳۹

كريں'' _ عبداللہ بن جبير نے ياد دلايا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ '' اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم كامياب ہوگئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے تب بھى ہمارے ساتھ شركت نہ كرنا بلكہ عقب سے ہمارى حفاظت كرتے رہنا؟'' عبداللہ نے بہت سمجھايا كہ كمانڈر كے حكم سے سرتابى نہ كرو، ليكن كوئي فائدہ نہيں ہوا_ انہوں نے غنيمت كے لالچ ميں اپنى جگہ كو چھوڑديا اوردرّے سے نكل آئے عبداللہ صرف دس ۱۰ افراد كے ساتھ وہاں باقى رہ گئے_

مشركين كى فوج كے شہ سواروں كے سردار ''خالد بن وليد ''نے جب درّے كو خالى ديكھا تو اپنے ما تحت فوجيوں كو ليكر وہاں حملہ كرديا اور چند بچے ہوئے تيراندازوں پر ٹوٹ پڑا ''عكرمہ بن ابى جہل ''نے اپنى ٹولى كے ساتھ خالد بن وليد كى پشت پناہى كى ، جن تيراندازوں نے درّہ نہيں چھوڑا تھا انھوں نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ ان كے تركش كے تمام تير خالى ہوگئے اس كے بعد انھوں نے نيزے اور پھر آخر ميں شمشير سے جنگ كى يہاں تك كہ سب شہيد ہوگئے_

سپاہيان اسلام اطمينان كے ساتھ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول تھے كہ يكا يك خالد بن وليد لشكر اسلام كى پشت پر آپہنچااور جنگى حكمت عملى والے اہم حصّہ كو فتح كرليا_ دوسرى طرف سے مشركين اپنے فرار كو جارى ركھے ہوئے تھے جبكہ خالد بن وليد چلّا چلّاكر شكست خوردہ لشكر قريش كو مدد كے ليے پكار رہا تھا_ اسى دوران بھاگنے والوں ميں پيچھے رہ جانے والى ايك عورت نے كُفر كے سرنگوں پرچم كو لہرا ديا_ تھوڑى ہى دير ميں قريش كا بھاگا ہوا لشكر واپس آگيا اور شكست خوردہ لشكر پھر سے منظم ہوگيا_

سپاہ اسلام افرا تفرى اور بدنظمى كى وجہ سے تھوڑى ہى دير ميں سامنے اور پيچھے سے محاصرہ

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

کہ اسے حکومت کی نگرانی میں میرے پاس بھیج دیا جائے _جب عبداللہ بن مسعود مدینہ میں وارد ہوا تو خلیفہ منبر پر تھے جیسے ہی انکی نظر عبداللہ بن مسعود پر پڑی تو کہنے لگے بُرا جانورداخل ہوگیا ہے ( اور بہت سی گالیاں دیں قلم جنہیں لکھنے سے شرم محسوس کرتا ہے) عبداللہ بن مسعود کہنے لگے میں ایسا نہیں ہوں،میں رسولخدا(ص) کا صحابی ہوں_ جنگ بدر اور بیعت رضوان میں شریک تھا_

حضرت عائشےہ ،عبداللہ کی حمایت کے لیے اٹھیں لیکن حضرت عثمان کا غلام ،عبداللہ کو مسجد سے باہر لے گیا اور انہیں زمین پر پٹخا اور انکی پسلیاں توڑدیں(۱)

۳: بلاذری اپنی اُسی کتاب انساب الاشراف میں نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کے بیت المال میں بعض جواہرات اور زیورات تھے حضرت عثمان نے ان میں سے کچھ زیورات اپنے گھروالوں کو بخش دیئےجب لوگوں نے دیکھا تو کھلے عام اعتراض شروغ کردیا اور انکے بارے میں سخت وگھٹیا باتیں کہیں حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور وہ منبر پر گئے اور خطبہ کے دوران کہا ہم غنائم میں سے اپنی ضرورت کے مطابق اٹھائیں گے اگرچہ لوگوں کی ناک زمین پر رگڑی جائے

اس پر حضرت علی _ نے کہا کہ '' مسلمان خود تمہارا راستہ روک لیں گے''

جناب عمّار یاسر نے کہا: سب سے پہلے میری ناک زمین پر رگڑی جائے گی

( اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں تنقید سے باز نہیں آؤنگا)

حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور کہنے لگے تو نے میری شان میں گستاخی کی ہے_ اس کو گرفتار

____________________

۱) انساب الاشراف، جلد ۶ ص ۱۴۷، تاریخ ابن کثیر، جلد ۷ ص ۱۶۳و ۱۸۳ حوادث سال ۳۲ ( خلاصہ)_

۶۱

کر لو_ لوگوں نے جناب عمّار کو پکڑ لیا اور عثمان کے گھر لے گئے وہاں انہیں اسقدر ماراگیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے_ اس کے بعد انہیں جناب ام سلمہ ( زوجہ پیغمبر (ص) کے گھر لایا گیا وہ اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھے یہاںتک کہ انکی ظہر، عصر اور مغرب کی نماز قضاء ہوگئی_ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے وضو کرکے نماز ادا کی اور کہنے لگے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں خدا کی خاطر اذیت و آزار پہنچائی جارہی ہے_(۱) ( ان واقعات کی طرف اشارہ تھا جنکا زمانہ جاہلیت میں کفار کیطرف سے انہیں سامنا کرنا پڑا تھا)_

ہم ہرگز مائل نہیں ہیں کہ تاریخ اسلام کے اس قسم کے ناگوار حوادث کو نقل کریں ( ترسم آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است) اگر ہمارے بھائی تمام صحابہ اور انکے تمام کاموں کے تقدّس پر اصرار نہ کرتے تو شاید اتنی مقدارکے نقل کرنے میں بھی مصلحت نہیں تھی_ اب سوال یہ ہے کہ اصحاب رسول(ص) میں سے تین پاکیزہ ترین افراد ( سعد بن معاذ ،عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر) کو گالیاں دینے اور مارنے پٹینے کی کیا تو جیہ ہوسکتی ہے؟ ایک باعظمت صحابی کو اتنا مارا جائے کے اسکی پسلیاں ٹوٹ جائیں اور دوسرے کو اتنا مارا جائے کہ بے ہوش ہوجائے اور اس کی نمازیں قضاہوجائیں_

کیا یہ تاریخی شواہد کہ جنکے نمونے بہت زیادہ ہیں ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم حقائق سے چشم پوشی کریں اور کہیں کہ تمام اصحاب اچھے اور انکے تمام کام صحیح تھے_ اور ایک سپاہ ''سپاہ صحابہ '' کے نام سے بنادیں اور انکے تمام کاموں کا بلا مشروط دفاع کریں_

کیا کوئی بھی عقلمند اس قسم کے افکار کو پسند کرتا ہے؟

____________________

۱) انساب الاشراف جلد ۶ ص ۱۶۱_

۶۲

اس مقام پر پھر تکرار کرتے ہیں کہ رسولخدا(ص) کے اصحاب میں مؤمن ، صالح اور پارسا افراد بہت سے تھے لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جنکے کاموں پر تنقید کرنا چاہیے اور انکی تحلیل کرتے ہوئے انہیں عقل کے ترازو پر تولنا چاہیے اور اس کے بعد انکے بارے میں حکم لگانا چاہیے_

۹_ پیغمبر(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد بعض صحابہ پر حدّ کا جاری ہونا

صحاح ستّہ یا برادران اہلسنت کی دیگر معروف کتابوں میں کچھ موارد ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بعض اصحاب، رسولخدا(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد ایسے گناہوں کے مرتکب ہوئے جن کی حد وسزا تھی_ لہذا اُن پر حد جاری کی گئی _

کیا اس کے باوجود آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب عادل تھے؟ اور ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی؟ یہ کیسی عدالت ہے کہ ایسا گناہ کیا جائے جس پر حد جاری ہوتی ہو اور ان پرحد جاری ہونے کے بعد بھی عدالت اپنی جگہ محکم باقی رہتی ہے؟

ہم ذیل میں نمونہ کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف) ''نعیمان'' صحابی نے شراب پی، پیغمبر اکرم (ص) نے حکم صادر فرمایا اور اسے تازیانے مارے گئے(۱)

ب) ''بنی اسلم '' قبیلہ کے ایک مرد نے زنائے محصّن کیا تھا_ پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر اسے سنگسار کردیا گیا(۲)

____________________

۱)صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۱۳، حدیث نمبر ۶۷۷۵ ، کتاب الحدّ_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۲۲ ، حدیث ۶۸۲۰_

۶۳

ج) واقعہ افک میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر چند افراد پر حدّ قذف جاری کی گئی تھی(۱)

د) پیغمبر اکرم (ص) کے بعد عبدالرحمن بن عمر اور عقبہ بن حارث بدری نے شراب پی او ر مصر کے امیر عمر ابن عاص نے ان پر حدّ شرعی جاری کی _ اس کے بعد عمر نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بلایا اور دوبارہ اس پر حدّ جاری کی(۲)

ہ) ولید بن عقبہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے شراب پی اور مستی کے عالَم میں صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی _ اُسے مدینہ حاضر کرکے شراب کی حد اس پر جاری کی گئی_(۳)

ان کے علاوہ اور بہت سے موارد ہیں، مصلحت کی خاطر جن کے ذکر سے اجتناب کیا جا رہا ہے_ اس کے باوجود کیا اب بھی ہم حقائق کے سامنے آنکھیں اور کان بند کرلیں اور کہہ دیں کہ سب اصحاب عادل تھے؟

۱۰_ نادرست توجیہات

۱_ تنزیہ او رہر لحاظ سے تقدّس کے نظریہ کے طرفدار جب متضاد حالات کے انبوہ سے روبرو ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اس توجیہ کے ساتھ قانع کرتے ہیں کہ سب صحابہ ''مجتہد'' تھے اور ہر ایک نے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا_یقیناً یہ تو ضمیر اوروجدان کو فریب دینا ہے کہ یہ برادران اس قسم کے آشکار اختلافات میں اس بوگس توجیہہ کا سہارا لیں_

____________________

۱) المعجم الکبیر، جلد ۲۳ ص ۱۲۸ و کتب دیگر_

۲) السنن الکبری ، جلد ۸ ص ۳۱۲ اور بہت سی کتب _

۳) صحیح مسلم، جلد ۵ ، ص ۱۲۶ حدیث نمبر ۱۷۰۷_

۶۴

کیا بیت المال کو ہڑپ کرنے کے بارے میں ایک معمولی سی تنقید اور سادہ سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک مؤمن صحابی کو اتنا مارنا کہ وہ بے ہوش اور اس کی نمازیں قضا ہوجائیں، اجتہاد ہے؟ کیا ایک اور مشہور صحابی کی پسلیاں توڑ دینا صرف اس اعتراض کی خاطر جو اس نے کیاکہ کیوں ایک شرابی ( ولید ) کو کوفہ کا حاکم تعیین کیا گیا ہے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اس سے بڑھ کر امام المسلمین کے مقابلے میں کہ جو مقامات الہی کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے منتخب کردہ اتّفاقی خلیفہ تھے، صرف جاہ طلبی اور حکومت حاصل کرنے کی خاطر جنگ کی آگ بھڑ کانا جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہہ جائے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اگر یہ موارد اور ان کی مثل ، اجتہاد کی شاخیس شمار ہوتی ہیں تو پھر طول تاریخ میں ہونے والی تمام جنایات کی یہی توجیہ کی جاسکتی ہے_

اس کے علاوہ کیا اجتہاد صرف اصحاب میں منحصر تھا یا کم از کم چند صدیوں بعد بھی امت اسلامی میں کثرت کے ساتھ مجتہد موجود تھے بلکہ بعض علمائے اہلسنت کے اعتراف اور تمام علمائے شیعہ کے مطابق آج بھی تمام آگاہ علماء کے لئے اجتہاد کا دورازہ کھلا ہے؟

جو افراد اس قسم کے بھیانک افعال انجام دیں کیا آپ انکے افعال کی توجیہہ کرنے کو حاضر ہیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے_

۲: کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ انکے بارے میں سکوت اختیار کریں_

( '' تلک اُمةٌ قد خَلَت لَهَا ما كَسَبَت و لَكُم ما كَسَبتُم و لَا تُسأَلُونَ عَمّا كَانُوا يَعمَلُون'' ) (۱)

____________________

۱) سورة بقرہ آیت ۱۳۴_

۶۵

وہ ایک اُمّت ہیں جو گزرچکے انکے اعمال انکے لیئےیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیئےاور آپ سے انکے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا_

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ہماری سرنوشت میں مؤثر نہ ہوتے تو پھر یہ بات اچھی تھی _ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی روایات کو انکے توسط سے دریافت کریں اور انہیں اپنے لیئے نمونہ عمل قرار دیں_ تو کیا اس وقت یہ ہمارا حق نہیں ہے کہ ثقہ اور غیر ثقہ اسی طرح عادل اور فاسق کی شناخت کریں تا کہ اس آیت( '' إن جاء کم فاسقٌ بنبائ: فَتَبَيَّنُوا'' ) اگر فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کیجئے ''(۱) پر عمل کرسکیں_

۱۱_ مظلوميّت علی (ع)

جو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرے اس نکتہ کو با آسانی درک کرسکتا ہے کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حضرت علی _ جو علم و تقوی کا پہاڑ، پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک ترین ساتھی اور اسلام کے سب سے بڑے مدافع تھے، انہیں اسطرح ہتک حرمت، توہین اور سبّ و شتم کا نشانہ بنایاگیا_

انکے دوستوں کو اسطرح دردناک اذیتوں اور مظالم سے دوچار کیا گیا کہ تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی_ وہ بھی ان افراد کیطرف سے جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (ص) کا صحابی شمار کرتے ہیں_

چند نمونے ملاحظہ فرمایئے

الف) لوگوں نے علی ابن جہم خراسانی کو دیکھا کہ اپنے باپ پر لعنت کر رہا ہے جب وجہ

____________________

۱) سورة حجرات آیة ۶_

۶۶

پوچھی گئی تو کہنے لگا: اس لئے لعنت کر رہاہوں کیونکہ اس نے میرا نام علی رکھا ہے_(۱)

ب ) معاویہ نے اپنے تمام کارندوں کو آئین نامہ میں لکھا: جس نے بھی ابوتراب (علی _ ) اور انکے خاندان کی کوئی فضیلت نقل کی وہ ہماری امان سے خارج ہے (اس کی جان و مال مباح ہے ) اس آئین نامہ کے بعد سب خطباء پوری مملکت میں منبر سے علی الاعلان حضرت علی (ع) پر سبّ و شتم کرتے اور اُن سے اظہار بیزاری کرتے تھے_ اس طرح ناروا نسبتیں انکی اور انکے خاندان کی طرف دیتے تھے_(۲)

ج ) بنواميّہ جب بھی سُنتے کہ کسی نو مولود کا نام علی رکھا گیا ہے اسے فوراً قتل کردیتے_ یہ بات سلمة بن شبیب نے ابوعبدالرحمن عقری سے نقل کی ہے_(۳)

د) زمخشری اور سیوطی نقل کرتے ہیں کہ بنو اميّہ کے دور حکومت میں ستّر ہزار سے زیادہ منابر سے سبّ علی (ع) کیا جاتاتھا اور یہ بدعت معاویہ نے ایجاد کی تھی_(۴)

ہ) جس وقت عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ اس بُری بدعت کو ختم کیا جائے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں امیرالمؤمنین علی _ کو بُرا بھلانہ کہا جائے تو مسجد سے نالہ و فریاد بلند

ہوگئی اور سب عمربن عبدالعزیز کو کہنے لگے '' ترکتَ السُنّة ترکتَ السُنّة'' تونے سنت کو ترک کردیا ہے_ تونے سنّت کو ترک کردیا ہے_(۵)

____________________

۱) لسان المیزان ، جلد ۴ ص ۲۱۰_

۲) النصائح الکافیہ ص ۷۲_

۳) تہذیب الکمال ، جلد ۲۰، ص ۴۲۹ و سیر اعلام النبلاء ، جلد ۵، ص ۱۰۲_

۴) ربیع الابرار ، جلد ۲، ص ۱۸۶ و النصائح الکافیہ، ص ۷۹ عن السیوطی_

۵) النصائح الکافیہ ، ص ۱۱۶ و تہنئة الصدیق المحبوب، تالیف سقاف ص ۵۹_

۶۷

یہ سب اس صورت میں ہے کہ برادران اہلسنت کی معتبر اور صحیح کتب کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ '' مَن سَبَّ عليّاً فَقد سَبّنی و مَن سبّنی فقد سبَّ الله '' جس نے علی (ع) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی ''(۱)

۱۲: ایک دلچسپ داستان

حُسن اختتام کے طور پر شاید اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو کہ جو خود ہمارے ساتھ مسجد الحرام میں پیش آیا ہے_

ایک دفعہ جب عمرہ پر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک رات ہم مغرب و عشاء کی نماز کے درمیان مسجد الحرام میں بیٹھے تھے کہ کچھ علماء حجاز کے ساتھ تمام اصحاب کے تقدّس کے بارے میں ہماری بحث شروع ہوگئی، وہ معمول کے مطابق اعتقاد رکھتے تھے کہ اصحاب پر معمولی سی بھی تنقید نہیں کرنا چاہیے _یایوں کہہ دیجئے کہ پھول سے زیادہ نازک اعتراض بھی ان پر نہیں کرنا چاہئے _ ہم نے اُن کے ایک عالم کو مخاطب کرکے کہا : آپ فرض کیجیئے کہ اس وقت'' جنگ صفین '' کا میدان گرم ہے_ آپ دو صفوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ صف علی (ع) کا یا صف معاویہ کا؟

کہنے لگے: یقیناً صف علی (ع) کا انتخاب کروں گا_

میں نے کہا: اگر حضرت علی (ع) آپ کو حکم دیں کہ یہ تلوار لے کر کر معاویہ کو قتل کردیں تو آپ کیا کریں گے؟

____________________

۱)اخرجه الحاکم و صَحَّهُ و ا قرّه الذهبی ( مستدرک الصحیحین ، جلد ۳، ص ۱۲۱)_

۶۸

کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ معاویہ کو قتل کردوں گا لیکن اس پر کبھی بھی تنقید نہیں کرونگا

ہاں یہ ہے غیر منطقی عقائد پر اصرار کرنے کا نتیجہ کہ اس وقت دفاع بھی غیر منطقی ہوتا ہے اور انسان سنگلاخ میں پھنس جاتا ہے_

حق یہ ہے کہ یوں کہیں: قرآن مجید اور تاریخ اسلام کی شہادت کے مطابق، اصحاب پیغمبر اکرم (ص) ایک تقسیم کے مطابق چند گروہوں پر مشتمل تھے_ اصحاب کا ایک گروہ ایسا تھا جو شروع میں پاک، صادق اور صالح تھا اور آخر تک وہ اپنے تقوی پر ثابت قدم رہے_ ''عاشُوا سعداء و ماتوا السعدائ'' انہوں نے سعادت کی زندگی گذاری اور سعادت کی موت پائی_

ایک گروہ ایسا تھا جو آنحضرت(ص) کی زندگی میں تو صالح اور پاک افراد کی صف میں تھے لیکن بعد میں انہوں نے جاہ طلبی اور حبّ دنیا کی خاطر اپنا راستہ تبدیل کر لیا تھا_اور ان کا خاتمہ خیر و سعادت پر نہیں ہوا ( جیسے جمل و صفین کی آگ بھڑ کانے والے)

اور تیسرا گروہ شروع سے ہی منافقوں اور دنیا پرستوں کی صف میں تھا_ اپنے خاص مقاصد کی خاطر وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے جیسے ابوسفیان و غیرہ یہاں پر پہلے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم یوں کہیں گے_

( '' ربّنا اغفر لنا و لإخواننا الّذین سَبَقُونَا بالإیمان و لا تجعَل فی قلوبنا غلّاً للّذین آمَنُوا رَبّنا إنّک رَء وفٌ رَّحیم'' ) (۱)

____________________

۱) سورہ حشرآیت ۱۰_

۶۹

۴

بزرگوں کی قبروں کا احترام

۷۰

اجمالی خاکہ

اس مسئلہ میں ہمارے مخاطب صرف شدت پسند وہابی ہیں_کیونکہ اسلام کے بزرگوں کی قبور کی زیارت کو مسلمانوں کے تمام فرقے (سوائے اس چھوٹے سے گروہ کے ) جائز سمجھتے ہیں_ بہرحال بعض وہابی ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کیوں مذہبی رہنماؤں کی زیارت کے لیے جاتے ہو؟

اور ہمیں '' قبوريّون'' کہہ کر پکارتے ہیں_حالانکہ پوری دنیا میں لوگ اپنے گذشتہ بزرگوں کی آرام گاہوں کی اہمیت کے قائل ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے ہیں_

مسلمان بھی ہمیشہ اپنے بزرگوں کے مزاروں کی اہمیت کے قائل تھے اور ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے تھے اور جاتے ہیں_ صرف ایک چھوٹا سا شدت پسند وہابی ٹولہ انکی مخالفت کرتا ہے اور اپنے آپ کو پوری دنیا کے مسلمان ہونے کا دعویدار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے_

البتہ بعض مشہور وہابی علماء نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کرنا مستحب ہے، لیکن زیارت کی نيّت سے رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے _ یعنی مسجد النبی (ص) کی زیارت کے قصد یا اس میں عبادت کی نيّت سے یا عمرہ کی نیت سے مدینہ آئیں اور ضمناً پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت بھی کرلیں_ لیکن خود زیارت کے قصد سے بار سفر نہیں باندھنا چاہیئے_

'' بن باز'' مشہور وہابی مفتی کہ جو کچھ عرصہ قبل ہی فوت ہوئے ہیں_ الجزیرہ اخبار کے مطابق وہ یہ کہتے تھے'' جو مسجد نبوی(ص) کی زیارت کرے اس کے لیے مستحب ہے کہ روضہ رسول(ص)

۷۱

میں دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر آنحضرت(ص) پر سلام کہے اور نیز مستحب ہے کہ جنت البقیع میں جا کر وہاں مدفون شہداء پر سلام کہے''(۱)

اہلسنت کے چاروں ائمہ '' الفقہ علی المذاہب الاربعہ'' کی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کو بغیر ان قیود اور شروط کے مستحب سمجھتے ہیں_

اس کتاب میں یوں نقل ہوا ہے'' پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت اہم ترین مستحبّات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدّد احادیث نقل ہوئی ہیں'' اس کے بعد انہوں نے چھ احادیث نقل کی ہیں_(۲)

یہ وہابی ٹولہ اس مسئلہ میں مجموعی طور پر تین نکات میں دنیا کے باقی مسلمانوں کے ساتھ اختلاف رکھتا ہے_

۱_ قبروں پر تعمیر کرنا

۲_ قبور کی زیارت کے لیئے سفر کا سامان باندھنا ( شدّ رحال )

۳_ خواتین کا قبروں پر جانا

انہوں نے بعض روایات کے ذریعے ان تین موارد کی حرمت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان روایات کی یا تو سند درست نہیں یا اس مطلب پر ان کی دلالت مردود ہے ( انشااللہ عنقریب ان روایات کی تشریح بیان کی جائے گئی) ہمارے خیال کے مطابق یہ لو گ اس غلط حرکت کے لیے کچھ اور مقصدرکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ توحید و شرک والے مسئلہ میں وسوسے میں گرفتار ہیں_ شاید خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کرنا انکی پوجا کرنے کے مترادف ہے اس لیے انکے علاوہ پوری دنیا کے مسلمان انکے نزدیک مشرک اور ملحد ہیں

____________________

۱) الجزیرہ اخبار شمارہ ۶۸۲۶( ۲۲ ذی القعدہ ۱۴۱۱ ق)_

۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد ۱ ،ص ۵۹۰_

۷۲

زیارت قبول کی گذشتہ تاریخ:

گذشتہ لوگوں کی قبروں کا احترام ( بالخصوص بزرگ شخصيّات کی قبروں کا احترام ) بہت قدیم زمانے سے چلا آرہاہے_ ہزاروں سال پہلے سے لوگ اپنے مردوں کا احترام کرتے تھے اور انکی قبروں اور بالخصوص بزرگان کی قبروں کی تکریم کرتے تھے_ اس کام کا فلسفہ اور مثبت آثار بہت زیادہ ہیں_

۱_ گذشتہ لوگوں کی تکریم کا سب سے پہلا فائدہ، ان بزرگوں کی حرمت کی حفاظت ہے اور ان کی قدردانی انسانی عزت و شرافت کی علامت ہے_ اسی طرح جوانوںکے لیے ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لیئےشویق کا باعث بنتی ہے_

۲_ دوسرا فائدہ ان کی خاموش مگر گویا قبروں سے درس عبرت حاصل کرنا اور آئینہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرکے دنیاوی زرق و برق کے مقابلے میں ہوشیاری اور بیداری پیدا کرنا ہے اور ہوا و ہوس پر قابو پانا ہے_

جیسا کہ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا کہ مُردے بہترین وعظ و نصیحت کرنے والے ہیں_

۳_ تیسرا فائدہ پسماندگان کی تسلی کا حصول ہے کیونکہ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر سکون کا احساس کرتے ہیں_ گویا وہ انکے ساتھ ہمنشین ہیں_ اسطرح قبروں پر جانے سے انکے غم کی شدت میں کمی آجاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جو جنازے مفقود الاثر ہوجاتے ہیں انکے وارث انکے لیے ایک قبر کی علامت اور شبیہ بنا لیتے ہیں اور وہاں پرانہیں یاد کرتے ہیں_

۴_ چوتھا فائدہ یہ کہ گذشتہ شخصیات کی قبروں کی تعظیم و تکریم ہر قوم و ملت کی ثقافتی میراث کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ شمار ہوتی ہے اور ہر قوم اپنی قدیمی ثقافت کے ساتھ زندہ رہتی ہے_ پوری دنیا کے مسلمان ایک عظیم اور بے نیاز ثقافت رکھتے ہیں جس کا ایک اہم حصہ

۷۳

شہدائ، علمائے سلف اور سابقہ دانشوروں کی آرامگاہوں کی صورت میں ہے اور بالخصوص بزرگان دین اور روحانی پیشواؤں کے مزاروں میں نہفتہ ہے_ ایسے بزرگوں کی قبور کی یادمنانا اور انکی حفاظت و تکریم اسلام اور سنّت پیغمبر(ص) کی حفاظت کا موجب بنتی ہے_

وہ لوگ کتنے بے سلیقہ ہیں جنہوں نے مکہ ، مدینہ اور بعض دوسرے شہروں میں بزرگان اسلام کے پر افتخار آثار کو محو کر کے اسلامی معاشرے کو عظیم خسارے سے دوچار کردیا ہے_

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نادان اور محدود فکر رکھنے والے سلفیوں نے غیر معقول بہانوں کی آڑ میں یہ کام کرکے پیکر اسلام کی ثقافتی میراث پر ایسی شدید ضربیں لگائی ہیں جنکی تلافی نا ممکن ہے_

کیا یہ عظیم تاریخی آثار صرف اس ٹولے کے ساتھ مخصوص ہیں کہ اسقدر بے رحمی کے ساتھ انہیں نابود کیا جارہا ہے_ کیا ان آثار کی حفاظت و پاسداری پوری دنیا کے اسلام سے آگاہ دانشوروں کی ایک کمیٹی کے ہاتھ میں نہیںہونی چاہیے؟

۵_ پانچواں فائدہ یہ کہ دین کے عظیم پیشواؤں کی قبروں کی زیارت اور بارگاہ الہی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا عند اللہ، توبہ اور انابہ کے ہمراہ ہوتا ہے_ اور یہ چیز نفوس کی تربيّت اور اخلاق و ایمان کی پرورش میں انتہائی مؤثر ہے بہت سے گناہوں میں آلودہ لوگ جب انکی بارگاہ ملکوتی میں حاضری دیتے ہیں تو توبہ کر لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیئے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے_ اور جو نیک و صالح افراد ہوتے ہیں انکے روحانی ومعنوی مراتب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے _

قبور کی زیارت کے سلسلہ میں شرک کا توہّم:

کبھی کمزور فکر لوگ ائمہ اطہار کی قبو ر کے زائرین پر '' شرک'' کا لیبل لگادیتے ہیں یقینا اگر

۷۴

وہ زیارت کے مفہوم اور زیارت ناموں میں موجود مواد سے آگاہی رکھتے تو اپنی ان باتوں پر شرمندہ ہوتے_

کوئی بھی عقلمند آدمی پیغمبر اکرم (ص) یا آئمہکی پرستش نہیں کرتا ہے_ بلکہ یہ بات تو انکے ذہن میں خطور بھی نہیں کرتی ہے_ تمام آگاہ مؤمنین احترام اور طلب شفاعت کے لیئےیارت کو جاتے ہیں_

ہم اکثر اوقات زیارت نامہ پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ '' اللہ اکبر'' کہتے ہیں اور اسطرح سو مرتبہ توحید کی تاکید کرتے ہیں اورشرک کے ہر قسم کے شبہہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں_

معروف زیارت نامہ '' امین اللہ '' میں ہم آئمہ کی قبروں پر جا کر یوں کہتے ہیں:

''أشہَدُ أنّک جَاہَدتَ فی الله حقَّ جہادہ و عَملتَ بکتابہ و اتَّبَعتَ سُنَنَ نبيّہ حتی دَعاک الله إلی جَوارہ''

'' ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا اور جہاد کا حق ادا کردیا_ کتاب خدا پر عمل کیا اور سنت پیغمبر(ص) کی پیروی کی یہانتک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اس جہان سے اپنی جوار رحمت میں بُلالیا_''

کیا اس سے بڑھ کر توحید ہوسکتی ہے؟

اسی طرح مشہور زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم يُوں پڑھتے ہیں کہ:

'' الی الله تدعُون و علیه تَدُلُّون و به تؤمنوُن و لَه تُسلّمُونَ و بأمره تَعمَلُون و إلی سَبیله

۷۵

تَرشُدُونَ''

( ان چھ جملوں میں سب ضمیریں اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹتی ہیں، زائرین یوں کہتے ہیں)'' کہ آپ آئمہ، اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے اور اس کی طرف راہنمائی کرتے ہیں_ اور آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے تسلیم ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف ارشاد و ہدایت کرتے ہیں''

ان زیارت ناموں میں ہر جگہ اللہ تعالی اور دعوت توحید کی بات ہے کیا یہ شرک ہے یا ایمان؟ اسی زیارت نامہ میں ایک جگہ یوں کہتے ہیں:

'' مستشفعٌ إلی الله عزّوجل بکم'' میں آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کو طلب کرتا ہوں_

اور اگر بالفرض زیارت ناموں کی بعض تعبیروں میں ابہام بھی ہو تو ان محکمات کیوجہ سے کاملاً روشن ہوجاتا ہے_

کیا شفاعت طلب کرنا توحید ی نظریات کے ساتھ سازگار ہے؟

ایک اور بڑی خطا جس سے وہابی دوچار ہوئے ہیں یہ ہے کہ وہ بارگاہ ربّ العزت میں اولیاء الہی سے شفاعت طلب کرنے کو بتوں سے شفاعت طلب کرنے پر قیاس کرتے ہیں (وہی بُت جو بے جان اور بے عقل و شعور ہیں)

حالانکہ قرآن مجید نے کئی بار بیان کیا ہے کہ انبیاء الہی، اسکی بارگاہ میں گناہگاروں کی شفاعت کرتے تھے_ چند نمونے حاضر خدمت ہیں:

۱_ برادران یوسف نے حضرت یوسف(ع) کی عظمت اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کے بعد حضرت

۷۶

یعقوب(ع) سے شفاعت کا تقاضا کیا اور انہوں نے بھی انہیں مُثبت وعدہ دیا_

( '' قالُوا یا أبَانَا استغفر لنا ذُنوبَنا إنّا كُنّا خَاطئین، قال سَوفَ أستغفرُ لکم رَبّی إنَّه هُو الغفورُ الرّحیم'' ) (۱)

کیا ( معاذ اللہ ) یعقوب مشرک پیغمبر(ص) تھے؟

۲_ قرآن مجید گنہگاروں کو توبہ اور پیغمبر اکرم (ص) سے شفاعت طلب کرنے کی تشویق کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے:

''و لَو انّهم إذ ظَّلَموا أنفسَهُم جَاء وک فاستغفروا الله و استغفر لَهُم الرَّسُولّ لَوَجَدُوا الله تَوّاباً رحیماً''

'' جب بھی وہ اگراپنے آپ پر ( گناہوں کی وجہ سے ) ظلم کرتے اور آپ (ص) کی خدمت میں آتے اور توبہ کرتے اور رسولخدا(ص) بھی انکے لیے استغفار کرتے_ تو وہ اللہ تعالی کو توبہ قبول کرنیوالا اور مہربان پاتے ''(۲)

کیا یہ آیت شرک کی طرف تشویق کر رہی ہے؟

۳_ قرآن مجید منافقین کی مذمّت میں یوں کہتا ہے:

( '' و إذا قیلَ لَهُم تَعَالَوا يَستَغفر لکم رَسُولُ الله لَوَّوا رُئُوسَهُم و رأیتَهُم يَصُدُّونَ وَ هُم مُستَکبرُون'' ) (۳)

____________________

۱) سورة یوسف آیات ۹۷ ، ۹۸_

۲) سورة نساء آیت ۶۴_

۳) سورة منافقون آیت ۵_

۷۷

جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تا کہ رسولخدا(ص) تمہارے لیئے مغفرت طلب کریں تو وہ (طنزیہ ) سر ہلاتے ہیں اور آپ(ص) نے دیکھا کہ وہ آپکی باتوں سے بے پرواہی برتتے اور تکبّر کرتے ہیں''

کیا قرآن مجید، کفار اور منافقین کو شرک کی طرف دعوت دے رہا ہے؟

۴_ ہم جانتے ہیں کہ قوم لوط بدترین امت تھی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم _ شیخ الانبیاء نے انکے بارے میں شفاعت کی ( اور خداوند سے درخواست کی کہ انہیں مزید مہلت دی جائے شاید توبہ کرلیں ) لیکن یہ قوم چونکہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی بد اعمالیوں کی وجہ سے شفاعت کی قابلیت کھوچکی تھی _ اس لیے حضرت ابراہیم (ع) کو کہاگیا کہ انکی شفاعت سے صرف نظر کیجئے _

( '' فلمَّا ذهَبَ عن إبراهیمَ الرّوعُ و جَاء تهُ البُشری يُجادلُنا فی قوم لُوط، إنّ إبراهیمَ لَحلیمٌ أواهٌ مُنیبٌ يَا إبراهیمُ أعرض عَن هذا إنَّه قد جَاء أمرُ رَبّک و أنهم آتیهم عذابٌ غَیرُ مَردُود'' ) (۱)

'' جس وقت ابراہیم کا خوف ( اجنبی فرشتوں کی وجہ سے ) ختم ہوگیا اور ( بیٹے کی ولادت کی ) بشارت انہیں مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں ہم سے گفتگو کرنے لگے (اور شفاعت کرنے لگے) کیونکہ ابراہیم (ع) بردبار، دلسوز اور توبہ کرنے والے تھے (ہم نے ان سے کہا ) اے ابراہیم(ع) اس (درخواست ) سے صرف نظر کیجئے کیونکہ آپ کے پروردگار کا فرمان پہنچ چکا ہے اور یقینی طور پر ناقابل رفع عذاب انکی طرف آئیگا ''

____________________

۱) سورة ہود آیات ۷۴ تا ۷۶_

۷۸

دلچسب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شفاعت کے مقابلے میں حضرت ابراہیم (ع) کی عجیب تمجید فرمائی اور کہا '' إنّ ابراہیم لَحلیم اواہُ مُنیبٌ'' لیکن اس مقام پر انہیں تذکر دیا ہے کہ پانی سر سے گذر چکا ہے اور شفاعت کی گنجائشے باقی نہیں رہی ہے_

اولیا ء الہی کی شفاعت اُنکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے:

بہانہ تلاش کرنے والے جب ایسی آیات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جن میں صراحت کے ساتھ انبیائے الہی کی شفاعت کی قبولیت کا تذکرہ ہے اور ان آیات کو قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ بھی نہیں ہے تو پھر ایک اور بہانہ بناتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ آیات انبیاء کرام کی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں_ ان کی وفات کے بعد شفاعت پر کوئی دلیل نہیں ہے اسطرح شرک والی شاخ کو چھوڑ کر دوسری شاخ کو پکڑ تے ہیں_

لیکن اس جگہ یہ سوال سامنے آئیگا کہ کیا پیغمبر اکرم(ص) اپنی رحلت کے بعد خاک میں تبدیل اور مکمل طور پر نابود ہوگئے ہیں یا حیات برزخی رکھتے ہیں؟ ( جسطرح بعض وہابی علماء نے ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا ہے)

اگر حیات برزخی نہیں رکھتے تو اولاً کیا پیغمبر اکرم (ص) کا مقام شہداء سے کم ہے جنکے بارے میں قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ ''( بل أحیائٌ عند ربّهم يُرزَقُون ) ''(۱)

ثانیاً : تمام مسلمان نماز کے تشہدّمیں آنحضرت(ص) پر سلام بھیجتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: ''السلام علیک ايّہا النبيّ ...'' اگر آنحضرت (ص) موجود نہیں ہیں تو کیا یہ کسی خیالی شے کو سلام کیا جاتا ہے؟

____________________

۱) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹_

۷۹

ثالثاً: کیا آپ معتقد نہیں ہیں کہ مسجد نبوی میں پیغمبر اکرم (ص) کے مزار کے قریب آہستہ بولنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ ''( یا ايّها الذین آمنوا لا ترفَعُوا أصواتکم فَوقَ صوت النّبی ) ...''(۱) اور اس آیت کو تحریر کر کے آپ لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی ضریح پر نصب کیا ہوا ہے؟

ہم ان متضاد باتوں کو کیسے قبول کریں

رابعاً: موت نہ فقط زندگی کا اختتام نہیں ہے بلکہ ایک نئی ولادت اور زندگی میں وسعت کا نام ہے_'' الناس نیامٌ فإذا ماتُوا إنتبهوا'' (۲) لوگ غفلت میں ہیں جب مریں گے تو بیدار ہونگے_

خامساً: ایک معتبر حدیث میں جسے اہلسنت کی معتبر کتب میں ذکر کیا گیا ہے_ عبداللہ بن عمر نے رسولخدا(ص) سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''من زارَ قبری وَجَبَت له شفاعتی'' (۳) جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لیے میری شفاعت یقینی ہوگئی_

ایک اور حدیث میں یہی راوی پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتا ہے'' مَن زَارنی بَعدَ مَوتی فَانّما زارنی فی حیاتی'' (۴) جس نے میری رحلت کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی

____________________

۱) سورة حجرات آیت ۲_ اے صاحبان ایمان ،اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیجئے_

۲) عوالی اللئالی، جلد ۴ ص ۷۳_

۳) دار قطنی مشہور محدث نے اس حدیث کو اپنی کتاب '' سنن'' میں نقل کیا ہے ( جلد ۲ ص ۲۷۸) دلچسپ یہ ہے کہ علامہ امینی نے اسی حدیث کو اہلسنت کی ۴۱ مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ملاحظہ فرمائیں الغدیر ج ۵ ص ۹۳

۴) (سابقہ مدرک) علامہ امینی نے اس حدیث کو ۱۳ کتابوں سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232