اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )0%

اصول عقائد (چالیس اسباق میں ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 303

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مؤلف: شیخ علی اصغر قائمی
زمرہ جات:

صفحے: 303
مشاہدے: 30005
ڈاؤنلوڈ: 956

تبصرے:

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 303 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 30005 / ڈاؤنلوڈ: 956
سائز سائز سائز
اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مولف: شیخ علی اصغر قائمی

مترجم: سید مبین حیدررضوی

نظر ثانی: مرغوب عالم عسکری

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

کمپوزنگ : سید مظہر علی رضوی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیھم السلام

طبع اول : ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : اعتماد

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودارہوتاہے کائنات کی ہر چیزاپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ وکلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ وراہ اجالوں سے پرنور ہوجا تے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلا م کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہرفرد اور ہر قوم نے قوت وقابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلا م کے مبلغ وموسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم وآگہی کی پیاسی اس دنیاکو چشمہء و حق وحقیقت سے سیراب کردیا ،آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا ،اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران وروم کی قدیم تہذیبیںاسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑ گئیں ،وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت وعمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ،ولولہ اور شعورنہ رکھتے تو مذہب عقل وآگہی سے رو برو

۴

ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ایک چھوتھا ئی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان ومذاہب اور تہذیب وروایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گرانبہامیراث کہ جس کی اہل بیت اور ان کے پیروں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت وپاسبانی کی ہے وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنکنائیوںکا شکا ر ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کر دی گئی تھی ،پھر بھی حکومت وسیاست کے عتاب کی پرواکئے بغیر مکتب اہل بیت نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء ودانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار ونظریات سے متاثر اسلا م وقرآن مخالف فکری ونظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروںاور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دوراور ہر زمانے میں ہرقسم کے شکوک وشبہات کا ازالہ کیاہے ،خاص طورپر عصرحاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگا ہیں ایک بارپھر اسلا م و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلا م کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ،دشمنان اسلام اس فکری ومعنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اورثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کا میاب وکا مراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشرواشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل وشعورکو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا ،وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا ۔

(عالمی اہل بیت کونسل )مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلا م نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت وطہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری ویکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھا یا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے ،تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن وعترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق ومعنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان وولایت سے سیراب ہو سکے ،ہمیں یقین ہے عقل وخرد پر استوار ماہر انہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت وطہارت کی ثقافت کو عام کیاجائے اور حریت وبیداری کے علمبردار خاندان نبوت ورسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدوخال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلا ق وانسانیت کے دشمن ،انانیت کے شکا ر ،سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب وثقافت اور عصرحاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے ۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کو ششوں کے لئے محققین ومصنفین کے شکر گزارہیں اور خود کو مؤلفین ومترجمین کا ادنی خدمتگارتصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب مکتب اہل بیت کے ترویج واشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،فاضل علام آقای شیخ علی اصغر قائمی کی گرانقدر کتاب'' اصول عقائد'' کوجناب مولانا سید مبین حیدر رضوی نے اردو زبا ن میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کابھی صمیم قلب سے شکریہ اداکرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھا ئی ہے ،خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کاباعث قرار پائے ۔

والسلام مع الا کرام

مدیر امور ثقافت ،مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

انتساب

میں اپنی اس ادنیٰ کو شش کو مُکمِل مقصد حسینی ، بطلۂ کربلا

ثانی زہرا، حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی پاک

بارگاہ میں پیش کر کے شرف قبولیت کامتمنی ہو ں۔

سید مبین حیدر رضوی

۷

مقدمہ

بسم الله الرّحمٰن الرّحیم

وَبهِ نَستعین الحمدُ للّهِ رَبِّ العالمینَ و صلیٰ اللّه علیٰ سیّدنا وآله الطیبین الطاهرین لا سیّما بقیة اللّه فی الأرضین و لعنة اللّه علیٰ أعدائهم و مخالفیهم أجمعین من الان الیٰ قیام یوم الدّین

اصول عقائد دین اسلا م کی اساس اور بنیاد ہے ، ہرمسلمان کے عقیدہ کودلیل و برہان پر مبنی ہو نا چاہئے ۔ اسی لئے اسلام کی عظیم دانشمند ہستیوں نے صدیوں پہلے سے ہی عقیدتی مسائل کی تبیین و تشریح کی ہے اور آج بھی ان کے قیمتی آثار و خدمات ہمارے درمیان موجود ہیں ۔

تقریباً دس سال کا عرصہ گذر چکا ہے کہ حقیر ،مدیریت حوزہ علمیہ قم کے پروگراموں کے تحت اصول عقائد کے تدریسی فرائض کو انجام دے رہا ہے۔ اسی دوران ایک کتابچہ تیار کیا جو (توحید تا معاد )عقائد پر مشتمل تھا اور طلاب کی خدمت میں پیش کیا ، اس کتابچہ کی تیاری کے لئے میں نے عقائد کی متعدد جدید و قدیم کتب کا بغور مطالعہ کیا اور وہ مسائل جو جوان طلاب کے لئے مفید و موثر تھے ان کا انتخاب کیا۔

اس کتابچہ پہ میں نے بارہا تجدید نظر کی اور حد امکا ن اس کی خا میوں کو دور کیا، بات یہا ں تک آ پہنچی کہ بعض مسئولین و اساتید و طلاب نے اس بات کی رائے دی کہ یہ چھپ جا ئے تو بہتر ہو گا ، خدا کا شکر ہے کہ ان کے آرا ء نے عملی جا مہ پہنا اور یہ کتاب جو چالیس اسباق پر مشتمل ہے حسب ذیل خصوصیات کے ساتھ آپ کے ہا تھو ں میں ہے ،ہم اس بات کی امید کرتے ہیںکہ یہ خدمت حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ کی تائید سے شرفیاب ہوسکے ۔

۱۔چونکہ اس کتاب کی تدوین کے لئے دسیوں جدید و قدیم عقائد ی کتب کا مطالعہ کیا گیا ہے اور ان سے خاطر خواہ استفادہ کیا گیا ہے نیزاس بات کی سعی پیہم کی گئی ہے کہ ہر کتاب کی خصوصیت کا خیال کرتے ہوئے اس کے پیچیدہ مسائل اور مشکل عبا رتوں سے پر ہیز کیا جائے ۔

۸

۲۔باوجود یکہ اس کتاب کے اسباق نہا یت سادہ و سلیس اور عام فہم زبان میں عام لو گو ں کے لئے مرتب کئے ہیں ، اس میں عقلی و نقلی دلا ئل کا بھر پور سہا را لیا گیا ہے نیز وہ نوجوان و جو ان جو عقیدتی مسائل کو تقلید سے ہٹ کر تحقیق کی رو سے ماننا اور سمجھنا چاہتے ہیں ان کے لئے نہا یت تسلی بخش اسلو ب کو اپنایا گیا ہے اور ثقل و سنگینی سے قطعی پر ہیز کیا گیا ہے ۔

۳۔یہ کتاب جوان طلاب کے درمیان کئی برسوں کے تجربہ کے بعد وجو د میں آئی ہے لہٰذا ایّام تبلیغ میں مبلغین کے لئے کلا س داری نیز دیگر امور میں نفع بخش ثابت ہو گی ۔

۴۔اس کتاب میں اس بات کی کو شش کی گئی ہے کہ عقیدتی پنجگا نہ اصولوں سے متعلق جو سوال پیدا ہوتے ہیں ان کا مدلّل جواب دیا جا سکے ۔

۵۔ آخرمیں یہ با ت قابل ذکر ہے کہ اس کتاب میں متعدد کتب سے استفادہ کیا گیا ہے جن کا تذکرہ حسب ضرورت کیا گیا ہے ،بعض مواقع پر ان کتابوں کی عین عبارت کو بھی نقل کیا گیا ہے ہم ان مؤلفین کی زحمات و خدمات کے مرہو ن و مدیو ن ہیں۔

اساتید و علم دوست افراد سے اس بات کی توقع ہے کہ اپنے مفید مشوروں سے ہم کو ضرور آگا ہ فرمائیں گے تاکہ آئندہ طباعت میں اس کی اصلا ح ہو سکے ۔

وما توفیقی الّا باللّه توکلت علیه وألیه أنیب

اصغر قائمی حوزہ علمیہ قم

۹

کچھ اپنی بات

تمام تعریف اس خدا کے لئے جس نے ہادیوں کو خلق کیا تاکہ لوگ صراط مستقیم پر گامزن رہ سکیں ،درود پاک رسول وآل رسول پر جو امت وسطیٰ ،خیرالبریة، ائمہ ہدیٰ اور کا ئنا ت کے لئے مایۂ رحمت اور سبب ہدایت ہیں ، جن کی کرم فرمائیوں کے سبب آج دنیا میں خدا کادین باقی ہے دنیاکے کسی گوشہ وکنار کارہنے والاہو کسی طبقہ سے اس کا تعلق ہو ، ایک چیز جوبلا تفریق ہر انسان میں پائی جاتی ہے وہ ہے فطرت اور فطری تقاضے ،جس کا پہلا قدم ،ضرورت مذہب ہے ۔ اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتاہے مذہب در حقیقت انسانی کامیاب زندگی کے لا ئحہ عمل کا نام ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ دین ،یا دھرم یا مذہب ،خدا ساختہ ہے یا خود ساختہ مسئلہ کی وضاحت لفظوں سے واضح ہے :

آج کی ترقی یافتہ دنیا میں ،نظریہ وعقیدہ کی جنگ ہے اب جنگ اسلحوں کی کم، نظریات وعقائد کی زیادہ ہے ،اس جنگ میں ہر شخص اپنے حریف پر اپنے عقائد کی تبیین نہیں تحمیل چاہتاہے ، لیکن عدل وانصاف کاتقاضایہ ہے کہ اگر آپ کے نظریات صحیح اورمعقول ہیں تو اس کو دلیل وبرہان کے ذریعہ پیش کریں نہ کہ سر تھوپیں...

اور یہ حقیقت ہے کہ حق کا جادو ہمیشہ سر چڑھ کر بولتاہے کہا جا تاہے کہ ''انسان کے عمل میں اس کاعقیدہ دخیل ہو تاہے ''۔اگر انسان کا عقیدہ اس کے جذبات او راحساسات وذہنی اپج کی بنا پر ہے تو اس کے اعمال کا رنگ ڈھنگ دوسرا ہوگا ،لیکن اگر اس کے عقائد آسمانی تائیدا ت کے تحت ہوںگے تواس کے اعمال ورفتار وکردار میں الٰہی رنگ جلوہ نما ہوگا ،اس دورمیں تو ہر شخص یہ کہہ کر اپنا قد اونچا کرنا چاہتاہے کہ '' صاحب !ہم تو کتاب ،حدیث اور مجتہد کچھ نہیں جانتے ہمارا عقیدہ یہ کہتا ہے!! '' ،''ایسا ہے جناب، میں روایت وتاریخ کی بات نہیں جانتا ،میری نظر میں اور میرے عقیدہ کے حساب سے تویوں ہے!! ''۔

ظاہر سی بات ہے جہاں الٰہی نظام میں ، میں ،ہم ،کا دخل ہوجائے گا وہاں للہیت کتنی باقی رہے گی اس کا فیصلہ تو صاحبان عقل ہی کر سکتے ہیں، ضروری ہے کہ دین میں ''میں اور ہم ''نہ آئے اور خالص رہے ،تو خالص دین کہا ں تلا ش کریں؟۔

خالص دین،انبیاء ومرسلین واوصیاء الٰہی سے لیں، خدا نے اپنے دین اسلام کو صاحبان کتاب وشریعت رسولوں کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے اماموں نے اس کو بچایا ،اور اس کی مکمل تشریح وتفسیر کی ہے ، اور زمانہ غیبت میں ،علماء کرام نہایت ہی جانفشانی سے اس کو نسلاًبعد نسل ٍ منتقل کرتے رہے ہیں ،خدا ان کی ارواح طیبہ پر نزول رحمت فرمائے آمین۔

یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کو حجةالاسلام والمسلمین جناب اصغر قائمی استا د حو زہ علمیہ قم نے مرتب فرمایا ہے جس کانام (اصول عقائدہے) ہم نے بھی اس کا اردو ترجمہ ''اصول عقائد '' ہی کیاہے ۔

۱۰

عقائدکے عنوان سے سر دست متعدد علماء کی کتابیں موجودومقبول ہیںلیکن جو بات اس کتاب کو دیگرکتب سے ممتاز کر دیتی ہے وہ اس کی سلاست وعام فہم دلیل اورطرز بیان ہے ،جس کو ہر طبقہ اور ہر فکر کاانسان پڑھ اورسمجھ سکتا ہے ۔

اس کتاب میں نہ ہی پیچیدہ فلسفی اصطلاحیں استعمال کی گئیں ہیں اور نہ ہی بے جاغرب اور غرب زدہ افراد کے نظریات کا کھوکھلاسہارا لے کر خود کو بہت ہی روشن فکر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔عقیدئہ،معاد ،برزخ ،حقیقت روح ،جیسے پیچیدہ مسائل کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے دلیلوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔ نیز اختلافی عقائد کو بہت برملا بیان کیاہے اس کی افادیت کا علم تو اس کے مطالعہ کے بعد ہی ہوگا ۔

میں عزیزالقلب حجة الاسلام والمسلمین جنا ب مولانا سید مظہر علی رضوی کا تہہ دل سے شکر گذار ہو ں کہ جنہو ں نے میری عدیم الفرصتی کے سبب اس کتاب کے ترجمہ میں مددکی ،خداان کے قلم وزبان میں استحکام اور اثرپیداکرے تاکہ دین آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مدافع ووکیل بن سکیں ،آمین ۔

صاحبان علم وادب سے مفید مشوروں کا متمنی

خاکپائے اولاد زہرا

سید مبین حیدر رضوی(پپروی )

۱۱

پہلا سبق

اعتقادی مبا حث کی اہمیت

علم عقائد

ہر علم کی اہمیت اور قدر و قیمت کا دار و مدار اس کے موضوع پہ ہو تا ہے اور تمام علوم کے درمیان علم عقائد کا موضوع سب سے بہتر اور بیش قیمت ہے ۔

ہر انسان کی جملہ مادی ومعنوی افکا ر و افعال کی بنیاد در اصل اس کے عقائد ہیں ، اگر وہ صحیح و سالم، قوی اور بے عیب ہو ں تو اس کے اعمال و افکا ر اور مختلف نظریات سبھی صحیح اور شائستہ ہو ں گے ،اسی بنیاد پر فروع دین (جو کہ اسلام کے عملی احکام ہیں ) کی جا نب ہر انسان کی کمی و کیفی توجہ اس بات پر موقوف ہو تی ہے کہ اصول دین کے سلسلہ میں اس کا عقیدہ کس معیار پر کھرا اترتا ہے ۔

دوسرے یہ کہ اعتقاد ی مسائل میں خدا شناسی ( معرفت خدا ) کا ایک خاص مقام ہے کیونکہ ایک موحد انسان کے تمام عقائد اور دنیا پر طرز نگاہ کی اصل بنیاد اور نقطۂ مرکزی اس کی خدا شناسی ہے !

قال الصادق علیه السلا م: لو یعلم الناس ما فی فضل معرفة اللّٰه ما مدوا أعینهم الیٰ ما متع به الأعداء من زهرة الحیاة الدنیا و نعیمها وکا نت دنیاهم ،أقل عندهم مما یطئونه بأرجلهم ( ۱ )

اگر لوگ معرفت خدا کی حقیقت سے آگاہ ہوجا تے تو دنیاجس سے دشمنان خدا نے زیادہ استفادہ کیا ہے اس کی رنگینیوں کی جانب کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور دنیا ان کی نگا ہوں میں پیروں سے روندی ہوئی خاک سے بھی زیادہ کم قیمت ہوتی ۔

اس چھوٹے سے مقدمہ کے بعد اصول عقائد کی بحث، خاص طور توحید الٰہی کی اہمیت بالکل روشن اور واضح ہو جا تی ہے، لیکن اس سے پہلے کہ توحید کی بحث شروع کی جائے بہتر یہ ہو گا کہ دین پر اعتقاد رکھنے کے جو فوائد اور نتائج ہیں ان کو بیان کردیا جائے ۔

____________________

(۱)وافی جلد ۱۰،ص ۴۲

۱۲

دینی عقیدے کے آثار

۱۔ دین، زندگی کو وزنی بناتاہے ،اگر دین کو زندگی سے جدا کرلیں تو کھوکھلاپن اور حیرانی کے سوا کچھ بھی نہیں رہ جائے گا ۔

۲۔ دین حیرت و استعجاب کو دور کرتا ہے .یعنی اس حیرانی کو دورکرتاہے کہ کہاں تھے؟ کہا ں ہیں ؟کس لئے ہیں اور کہاں جا ئیں گے ؟

مولا امیرالمومنین ں فرماتے ہیں:''رحم اللّه امرء علم من أین وفی أین و الی أین ''خدا رحمت نازل کرے اس شخص پر جو یہ جا نتاہے کہ کہا ں سے آیا ہے ،کہاں ہے اور کہا ں جا نا ہے!

۳۔ انسان ذاتی طور پر ترقی اور کمال کا تشنہ اور اس کا فدائی ہو تا ہے اور صرف دین وہ شی ٔہے جو انسان کو حقیقی کمال کی جا نب ہدایت کر سکتا ہے۔

امام با قر ںفرماتے ہیں :''الکمال کل الکمال التفقه فی الدین والصبر علی النائبة و تقدیر المعیشة'' تمام کے تمام کمالا ت کا خلاصہ دین میں بصیرت ،مشکلا ت میں صبر اور زندگی میں میانہ روی اختیار کرنا ہے۔( ۱ )

۴۔ فکری سکو ن صرف آغوش دین میں ہے ،بے دین ہمیشہ مضطرب خائف اورپریشان رہتا ہے ، اگر دنیا کی فیصدی آبادی کو ملا حظہ کیا جا ئے تو ذہنی او ر اعصابی نیز نفسانی بیماریاں ان معاشروں میں زیادہ ہیں جہا ں دین نام کی کسی چیز کا وجود نہیں ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے :( الّذینَ آمَنُوا ولم یَلبسُوا اِیمانهِم بظلمٍ اُولئِکَ لَهُم الأمنُ وَ هُم مُهتَدُونَ ) ( ۲ )

''جو لوگ ایمان لا ئے او ر ایمان کو ظلم سے آلو دہ نہیں کیا وہ وہی لوگ ہیں جن کے لئے امن و سکو ن ہے اور وہ سالکین راہ ہدایت ہیں ''۔

۵۔ کو شش اور امید صرف دامن دین میں ہے جب کبھی حوادث روزگا ر اور زندگی کے پیچیدہ مسائل انسان کی زندگی میں سر اٹھا تے ہیں اور اس کو تمام راہیں مسدود نظر آتی ہیں اور وہ ان مشکلا ت کے سامنے اپنے آپ کو بے بس ،مجبور و کمزور محسوس کرتاہے تو ایسے وقت میں صرف مبداء و معاد، توحید و قیامت پر ایمان ہی وہ

____________________

(۱) منتھی الامال ،کلمات امام باقر

(۲) انعام آیة: ۸۲

۱۳

مرکز ہے جو بے تکان اس کی مدد کو دوڑتا ہے اور اس کو قوت عطا کرتا ہے،ایسے وقت میں و ہ ا پنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا بلکہ اس با ت کا احساس کرتاہے کہ ایک بہت بڑی طاقت اس کی پشت پناہی کر رہی ہے ۔

پھر امید اور حوصلہ کے ساتھ اپنی محنت اور کو شش کو جا ری رکھتا ہے او رسختیوں کا گلا گھونٹ دیتاہے لہٰذا تو حید او رقیامت پر ایمان رکھنا انسان کے لئے پشت پناہ نیز استقامت و جواں مردی کا سر چشمہ ہے ۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :''المُؤمنُ کالجبلِ الراسخِ لا تحرّکه العواصف''

''مومن اس پہا ڑکی مانند ہے جس کو آندھیاں ہلا بھی نہیں سکتی ہیں ''

دین کے فوائد کے با رے میں حضرت علی کے چند اقوال :

۱۔الدین أقویٰ عماد '' دین سب سے مستحکم پایگاہ ہے''۔

۲۔صیانة المرء علی قدر دیانته' 'انسان کی حفاظت اس کی دیانت داری کی مطابق ہو تی ہے ''۔

۳۔الدّین أفضل مطلوب ''دین بہترین مطلوب و مقصود ہے ''۔

۴۔اجعل دینک کهفک '' دین کو اپنی پنا ہ گا ہ قرار دو'' ۔

۵۔الدّین یصدّ عن المحارم ''انسان کو گنا ہوںسے بچائے رکھتاہے ''۔

۶۔سبب الورع صحة الدین دین کی سلا متی پرہیز گاری کا سبب ہے ۔

۷۔یسیر الدّین خیر من کثیر الدنیا '' تھوڑا سا دین بہت ساری دنیا سے بہتر ہے ''۔

۱۴

۸۔من رزق الدّین فقد رزق خیر الدنیا و الاخرة ''جوکوئی بھی دیندار ہو گیا گو یا خیر دنیا و آخرت اس کو عطا کر دی گئی ''۔

۹۔الدّین نور ''دین نو ر ہے''۔

۱۰۔نعم القرین الدّین ''بہترین ساتھی او ردوست دین ہے''۔( ۱ )

دین او رمعاشرتی عدالت کی حفاظت

کسی نے امام رضا ںسے سوال کیا کہ خدا ، رسول اور امام پر ایمان لانے کا فلسفہ کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا :لعلل کثیرة منها ان من لم یقرّ باللّه عزّو جلّ لم یجتنب معاصیه ولم ینته عن ارتکاب الکبائر ولم یراقب أحداً فیما یشتهی و یستلذّ مِن الفساد والظلم ( ۲ )

''ممکن ہے اس کی بہت ساری علتیں ہو ں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص خدا پر ایمان نہیں رکھتا و ہ گنا ہوں سے پر ہیز نہیں کرتا اور گنا ہان کبیرہ کا مرتکب ہو تا ہے او ر وہ فساد و ظلم جو اس کے لئے باعث لذت ہے اس کو انجام دینے میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا ''۔

یہ بالکل عام سی بات ہے کہ جو شخص خدا و قیامت پر یقین نہیں رکھتا اسی کے

____________________

(۱)تمام احادیث ،غرر ودرر جلد ۷، باب دین،

(۲) میزان الحکمة، با ب معرفت ۔

۱۵

لئے عدالت مساوات ،ایثار، عفو ودر گذشت بلکہ تمام اخلا قی مسا ئل بالکل کھو کھلے بے معنی اور بے قیمت ہیں ۔

اور ایسے شخص کی نظر میں عادل ،ظالم ،صالح اور مجرم کے درمیان کو ئی فرق نہیں ہے کیونکہ اس کی نظر میں مرنے کے بعد سب ایک مساوی نقطہ پر پہنچیں گے۔

لہٰذا پھر کو نسی ایسی چیز ہے جو اس انسان کو فتنہ و فساد اور ہو س رانی سے روک سکے ۔

نتیجةًخدا اور قیامت پر ایمان اس بات کا باعث ہو تا ہے کہ انسان اپنے ہر فعل پر خو د کو خدا کے سامنے جو اب دہ و ذمہ دار قرار دے ۔

ایک متدین انسان اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ اس کا معمولی سا عمل چاہے نیک ہو یا بد اس کا حساب ضرور ہوگا ۔

( فَمَنْ یَعمل مِثقالَ ذَرَّةٍ خَیْراً یَرَهُ وَمَنْ یَعمل مِثقالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَهُ ) ( ۱ ) ''جو کو ئی بھی ذرہ برابرنیک عمل کرے گا اس کو( روز محشر) دیکھے گا اور جو ذرہ برابر براعمل انجام دے گا اس کو (روزمحشر ) دیکھے گا ''۔

بیشمار مسلمان دین کے والا مقام تک کیو ں نہیں پہونچ سکے؟

گذشتہ بحثوں میں دین پر اعتقادرکھنے کے جو نتائج و فوائدبیان کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ اگر دین زندگی کو قیمتی اور بھاری بھر کم بناتا

____________________

(۱) سو رہ زلزال ۷۔۸

۱۶

انسان کو حیرانی و سر گردانی سے نکا لتانیز انسان کے لئے کمال و سعادت کا باعث ہوتااور اگردین سکو ن قلب کاسبب او رقوم وملت میں عدل وانصاف کے پھیلنے کا باعث ہوتا تو مسلمانو ں کی اکثریت ان مقامات کو کیوں نہ پاسکی ؟اس سوال کا جو اب امیرالمومنین کے کلا م کی روشنی میں ملا حظہ فرمائیں ۔

قال علی ''الیمانُ اِقرار باللسان ومعرفة بالقلبِ و عمل بالجو ارح ''

''ایمان زبان سے اقرار ،دل سے معرفت اور اعضا ء و جوارح سے عمل کرنے کا نام ہے ''۔ اور یہ بات بالکل روز روشن کی مانند واضح ہے کہ مسلمانوں کی اکثرتعداد پہلے مرحلہ سے آگے نہ بڑھ سکی'' ۔( ۱ )

نتیجہ یہ ہو ا کہ معرفت وعمل کے بغیر صر ف زبانی ایمان کا کو ئی اثراور فائدہ نہیں ہو ا ۔

قال الصادق علیه السلام : لا معرفة الاّ بالعمل فَمَنْ عرف دلته المعرفة علیٰ العمل و من لم یعمل فلا معرفة له ( ۲ )

''معرفت، عمل کے سو ا کچھ بھی نہیں اور جس نے بھی معرفت حاصل کی معرفت نے اسی کو عمل کی راہ پر گا مزن کردیا لہٰذا جو شخص با عمل نہیں وہ با معرفت بھی نہیں ''۔

امام جعفر صادق علیہ السلام کے اس نورانی قول کی روشنی میں یہ با ت ثابت

____________________

(۱) بحا رالانوار جلد ۶۹، ص ۶۸ (۲)اول کا فی .باب جو نادانستہ عمل کرے (حدیث دوم )

۱۷

ہو جا تی ہے کہ ایمان کے آثار و فوائد اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب ایمان دل کی تہوں میں اترجا ئے اور دل کے توسط سے اعضا ء و جو ارح کے ذریعہ عمل ظہو رپذیر ہو جا ئے ۔

سوالا ت

۱۔ اصول دین میں بحث کیوں اہمیت رکھتی ہے ؟

۲۔دین پر اعتقاد رکھنے کے آثارخلا صہ کے طور پر بیان کیجئے ؟

۳۔ خدا اور رسول و امام پر عقیدہ رکھنے کا فلسفہ کیا ہے ؟

۴۔ مذہبی معاشرہ ،دین کے فوائد اور اس کے آثار سے کیو ں بہرمندنہیں ہوسکا؟

۱۸

دوسراسبق

توحید فطری

فطرت کے لغوی معنی سرشت و طبیعت سے عبارت ہے اور اصطلا ح میں ہر انسان کے معنوی جذبہ او ر خو اہش کو فطرت کہا جا تاہے، انسان کے اندر دو طرح کے خو اہشات پا ئے جا تے ہیں ۔

۱۔ما دی خو اہشات :جو مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے انسانی وجو د میں پوشیدہ ہو تی ہیں جیسے حب ذات ،بھوک ،پیا س ، خو ف، امید و غیرہ ۔

۲۔ معنوی خو اہشات : جیسے ترقی ،دوستی ، ایثارو قربانی ، احسان و شفقت اور اخلا قی ضمیر ،یہ خو اہشات انسانی وجو د میں اس لئے رکھی گئی ہیں تاکہ وہ حیو انیت کے حدود سے نکل کر واقعی او رحقیقی کمالا ت تک پہو نچ سکے ۔

فطرت یا معنوی خو اہشات

معنوی خو اہشا ت یا فطرت اسے کہتے ہیں کہ جس کو انسان خود بخودپالیتا ہے اور اس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی فطرت ،معرفت و شناخت کے سر چشموں میں سے ایک سر چشمہ ہے، کبھی اس سر چشمہ شناخت کو قلب سے بھی تعبیر کیا جا تا ہے اور عقل جوکہ تفکرو ادراکا ت نظری کا مرکز ہے اس سے بہت جداہے اور یہ سب کے سب انسانی روح کے ایک ہی درخت کے پھل اور اس کی شاخیں ہیں یہ معنوی معرفت ہر انسان کے اندر موجو د ہے۔

۱۹

البتہ کبھی کبھی سیاہ پردے بیچ میں حائل ہو جا تے ہیں اور یہ فطرت آشکا ر نہیں ہو پاتی .انبیاء کی بعثت نیز اماموں کا سلسلہ انہیں پردوں کو ہٹانے او رفطرت الٰہی کے رشد کے لئے تھا انسان فطرت توحید کے ساتھ دنیا میں آتا ہے ۔

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے( : ( فَأَقِم وَجهکَ للدّین حَنِیفًا فِطرَتَ اللّٰهِ التِی فَطرَ النّاسَ عَلَیها لا تَبدِیلَ لِخَلقِ اللّٰه ذلک الدّینُ القَیّمُ ولَکنّ أَکثَرُ النّاسِ لَا یَعلَمُونَ ) ( ۱ ) ''آ پ اپنے رخ کو دین کی طرف رکھیں اور باطل سے کنارہ کش رہیں کہ یہ دین فطرت الٰہی ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیاہے اور خلقت الٰہی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ،یقینا یہی سیدھا اور مستحکم دین ہے مگر لوگو ں کی اکثریت اس بات سے بالکل بے خبر ہے'' ۔

فطرت، روایا ت کی روشنی میں

قال رسول اللّہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم :''کُلُّ مولودٍ یُولدُ علیٰ الفِطرة ِحتیٰ یکون أبواه یهّودانه أوینصّرانه'' ( ۲ ) ہر بچہ فطرت (توحید و اسلا م ) پر پیدا ہو تا ہے مگر یہ کہ اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سو رہ روم آیت :۳۰ (۲) بحارالانوار جلد ۳،ص۲۸۱

۲۰