اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )12%

اصول عقائد (چالیس اسباق میں ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 303

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 303 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 155053 / ڈاؤنلوڈ: 4153
سائز سائز سائز
اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

علم امام

امام کو چاہئے کہ وہ ان تمام احکام وقوانین کوجانتا ہو جولوگوں کے لئے دنیا اور آخرت کی سعادت کے لئے ضروری ہیں یعنی امام کا علم اہل زمین کے تمام لوگو ں سے زیادہ ہو، تاکہ وہ رہبری کا حقدار بن سکے وہ تمام دلیلیں جو امام کی ضرورت کے لئے ہم نے بیان کی ہیں، وہی یہاں بھی امام کے افضل واعلم ہونے پر دلالت کر تی ہیں، قرآن نے اس کی طرف اس طرح اشارہ کیا ہے :( أَفَمَنْ یَهدِی اِلیٰ الحَقِّ أَحَقُ أنْ یُتَّبَعَ أمَنَ لَایَهدِّیِ اِلَّا أنْ یُهدیٰ فَما لَکُمْ کَیفَ تَحکُمُونَ ) او رجو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ واقعا قابل اتباع ہے یا جو ہدایت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے آخر تمہیں کیا ہوگیاہے اورتم کیسے فیصلے کر رہے ہو۔( ۱ )

اما م کے تعیین کا طریقہ

جب ہم نے امام کے صفات اور کمالات کوپہچان لیاتو اب یہ دیکھنا ہے کہ

ایسے امام کو کس طریقہ سے معین ہونا چاہئے۔

آج کل کی دنیا میں ذمہ دار اور عہدہ دار کے چننے کابہترین طریقہ انتخا بات ہے( چنائو کے ذریعہ ) البتہ یہ چناؤ را ہ حل تو ہوسکتا ہے لیکن ہمیشہ راہ حق نہیںہوتا کیونکہ چنائو واقعیت کو تبدیل نہیں کر سکتا نہ حق کو باطل اور نہ باطل کو حق بنا سکتا ہے،ہر چندکہ عملی میدان میں اکثریت کو مد نظر رکھا جاتاہے لیکن یہ چنے ہو ئے فرد کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے ،تاریخ گواہ ہے کہ انتخابات میں بعض لوگ اکثریت کے ذریعہ چنے گئے پھر تھوڑے یازیادہ دن کے بعدیہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ انتخاب اور چنائوسے آنے والا شخص غلط تھا حقیقت یہ ہے کہ ہم علم غیب یاآئندہ کی بات نہیں جانتے لوگوں کے باطن کے سلسلہ میں ہم کس طرح حتمی فیصلہ یا صحیح فیصلہ کر سکتے ہیں۔؟

لہٰذا کبھی بھی اکثریت حق کی دلیل اور اقلیت باطل کی دلیل نہیں بن سکتی دوسری طرف قرآن نے تقریبا ً اسی مقامات پر اکثریت کی مذمت کی ہے اور سورہ

____________________

(۱) سو رہ یونس آیة :۳۵

۱۶۱

انعام کی آیة ۱۱۶ میں ارشاد ہوتا ہے:( وَأنْ تُطِع أَکثَرمَنْ فیِ الأرضِ یُضلُّوکَ عَن سَبِیلِ اللَّهِ اِن یَتَّبِعُونَ اِلاَّالظَّنَّ وَاِن هُم اِلَّایَخرصُوُنَ ) اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کریں گے تویہ راہ خدا سے بہکا دیں گے یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں۔

اس سے ہٹ کر امامت اوررہبری کاکام فقط دین اور سماجی زندگی کو چلانے کا نام نہیں ہے بلکہ امام دین کا محافظ اور دین ودنیا میں لوگوں کی حفاظت کرنے والا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ ہرگز گناہ وخطا سے معصوم ہواور تمام لوگوں میں افضل واعلم ہو اور ایسے شخص کو لوگ نہیں چن سکتے کیونکہ لوگوں کو کیا معلوم کہ کو ن شخص صاحب عصمت اور علوم الٰہی کاجاننے والا اوردوسری فضیلتوں کامالک ہے تاکہ اسے چنا جائے چونکہ صرف خدا انسان کے باطن اور مستقبل سے باخبر ہے لہٰذا اس کو چاہئے کہ بہترین شخص کو اس مقام کے لئے چنے اور اسے اس کی شایان شان کمال سے نواز کر لوگوں کے سامنے پہچنوائے ۔

امام کیسے معین ہوگا ؟

رسول کے بعد امامت وپیشوای یعنی کار رسالت کوانجام دینا،امام اوررسول میں بس فرق یہ ہے کہ رسول بانی شریعت اور صاحب کتاب ہوتاہے اور امام اس کے جانشین کی حیثیت سے محا فظ شریعت اور اصول دین وفروع دین کابیا ن کرنے والا اورنبوت کی تمام ذمہ داریوں کونبھانے والاہوتا ہے جس طرح نبی کاانتخاب خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح امام کاانتخاب بھی خدا کی جانب سے ہوناچاہئے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیة ۱۲۴ میں ہے کہ امامت عہدخداوندی ہے اورخدا کاعہدہ انتخاب اور چنائو سے معین نہیں ہوسکتا کیونکہ چنائو اورشوری لوگوں سے مربوط ہے۔

۱۶۲

جن دوآیتوں میں مشورت کا ذکر کیاہے وہاں لفظ امر آیا ہے( وَأَمرُهُم شُوریٰ بَینَهم )( وشَاورْهُم فیِ الأَمرِ ) ان دو آیتوں میں جومشورت کے لئے کہاگیاہے وہ معاشرتی امور لوگو ں کے لئے ہے اور یہ خدا کے عہدوپیمان میں شامل نہیں ہو گا سورہ قصص کی ۶۸ آیة میں ارشاد ہوتا ہے( و َرَبُّک یَخلُقُ مَا یَشائُ وَ یَختَارُ مَا کَانَ لَهُمُ الخِیَرةُ ) اور آپ کا پرور دگار جسے چاہتا ہے پیدا کرتاہے اور پسند کرتاہے ۔

ان لوگوں کو کسی کا انتخاب کرنے کاکوئی حق نہیں ہے مرحوم فیض کاشانی تفسیر صافی میں اس آیت مذکورہ کے ذیل میں حدیث نقل کرتے ہیں کہ: جب خداوند عالم کسی کو امامت کے لئے منتخب کردے تو لوگ دوسرے کی طرف ہرگز نہیں جاسکتے اور دوسری حدیث میں ارشاد ہوا :

چنائو میں خطا کے امکان کی بناپر اس کی اہمیت کم ہو جا تی ہے صرف خدا کاچناہوا اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے چونکہ صرف وہ ہمارے باطن اور مستقبل کوجانتا ہےلمّاکَانَ النبّیِّ یَعرضُ نَفسَهُ علیٰ القبائل جائَ الیٰ بنَی کلابِ فقالوا : نُبایعک علیٰ أَن یکون لنا الأمر بعَدک فقال: الأَمر للَّه فاِن شاَء کان فیکم أَوفیِ غیرکم ،جس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قبیلوں میں جاکر لوگوں کو دعوت دیتے تھے جب قبیلہ بنی کلاب میں گئے تو ان لوگوں نے کہا ہم اس شرط پرآپ کی بیعت کریں گے کہ امامت آپ کے بعد ہمارے قبیلہ میں رہے حضرت نے فرمایا: امامت کی ذمہ داری خداکے ہاتھ میں ہے اگروہ چاہے گا تو تم میں رکھے گا یاتمہارے علاوہ کسی او ر میں ۔( ۱ )

____________________

(۱) بحارالانوار جلد،۲۳ ص ۷۴

۱۶۳

سوالات

۱۔ عصمت امام پر قرآن سے دلیل پیش کریں ؟

۲۔ قرآن کی نظر میں ظالمین کون لوگ ہیں ؟

۳۔ کیوں امام کو انتخاب او رمشورت سے معین نہیں کر سکتے ؟

۴۔امام کا تعین کیسے کریں ؟

۱۶۴

پچیسواں سبق

امامت خاصہ

مولا ئے کائنات ں اور ان کے گیارہ فرزندوںکی امامت وولایت کااثبات:

ہم گذشتہ بحثوں میں امام کی صفات اور ضروری خصوصیات سے آگاہ ہوچکے ہیںلہٰذا اب ہم کو یہ تحقیق کرناچاہئے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ان کا حقیقی جانشین کون ہے اوریہ صفات کن میں پائے جا تے ہیں تاکہ وہ عقیدہ جوہمارے پاس ہے اس کا عقلی ونقلی دلیلوں سے اثبات ہوسکے تاکہ جولوگ حق وحقانیت سے دور ہیں ان کی ہدایت کرسکیں۔

مولائے کا ئنات ں کی امامت اور ولایت پر عقلی دلیل

دومقدمہ ایک نتیجہ

۱۔ مولائے کائنات تمام انسانی فضائل وکمالات کے حامل تھے جیسے علم تقوی ،یقین ،صبر ، زہد ، شجاعت ، سخاوت ،عدالت ،عصمت ، اور تمام اخلاق حمیدہ یہاں تک بلا شک وشبہہ(دشمنوں کوبھی اعتراف تھا ) تمام کمالات میں سب سے افضل وبرتر ہیں اور یہ فضائل شیعہ اور سنی دونوں کی کتابوں میں بھرے پڑے ہیں ۔

۲۔عقل کی روسے مفضول کوفاضل پر ترجیح دینا قبیح ہے اور جو بھی مذکورہ فضائل کاحامل نہیں ہے اس شخص پر جو ان فضائل کاحامل ہے ترجیح دینا قبیح ہے ۔

۱۶۵

نتیجہ

حضرت امیر المومنین علی بن ابی طالب ہی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی جانشین ہیں۔

دوسری دلیل

جیسا کہ بیان ہوچکاہے کہ عقلی ونقلی اعتبار سے امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اور ہر خطا وغلطی سے پاک اور دور ہوناچاہیئے، آئندہ بحث میں انشاء اللہ قران وحدیث سے ہم ثابت کریں گے کہ یہ صفات وخصوصیات صرف اہل بیت سے مخصوص ہیں، لہٰذ ا حضرت علی اور ان کے گیارہ فرزندوں کے علا وہ کوئی عہدئہ امامت کے لائق نہیں ہے ۔

عصمت اور آیہ تطہیر

ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے ،اب یہ دیکھیں کہ معصوم کو ن ہے ؟( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیراً ) ( ۱ ) (بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر برائی دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

____________________

(۱)سورہ احزاب ۔آیة: ۳۳

۱۶۶

اہل بیت سے مراد ؟

شیعہ اور سنی کی بہت سی متواتر حدیثیں اس بات پر دلا لت کرتی ہیں کہ آیة تطہیر رسول اکرم اور اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے یہ حدیثیں اہلسنت کی معتبر کتا بو ں میں موجود ہیں جیسے صحیح مسلم ، مسنداحمد، درالمنثور،مستدرک حاکم ،ینابیع المو دة ،جامع الاصول ،الصواعق المحرقہ ،سنن ترمذی ،نور الابصار مناقب خوارزمی وغیرہ اور شیعوں کی لا تعداد کتب میں موجود ہیں۔

امام حسن ںنے اپنے خطبہ میں فرمایا : ہم اہل بیت ہیں جن کے واسطے خدا وند عالم نے قرآن میں فرمایا :( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۱ )

انس بن مالک کہتے ہیں کہ : رسو ل خد ا چھ مہینے تک نماز کے وقت جب جناب زہراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر پہونچتے تھے فرماتے تھے اے اہل بیت وقت نماز ہے( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۲ )

ابن عباس بیان کرتے ہیں : کہ رسول خدا نو مہینے تک وقت نماز جنا ب امیر علیہ السلام کے دروازے پر آکر فرماتے تھے سلام علیکم یا أَھلَ البَیت:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرّکُم تَطهِیراً ) ( ۳ )

____________________

(۱)ینابیع المودة ص۱۲۶۔

(۲)جامع الاصول جص۱۱۰۔

(۳)الامام الصادق والمذاہب الاربعہ ج،۱ص۸۹۔

۱۶۷

مولا ئے کائنات فرماتے ہیں کہ رسول خدا ہر روز صبح ہمارے گھر کے دروازے پر آکر فرماتے تھے خدا آپ پر رحمت نازل کرے نماز کے لئے اٹھو :

( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُم تَطهِیرا ) ( ۱ )

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کافی دن اس پر عمل کرتے رہے تاکہ اہل بیت کی پہچان ہوجائے اور ان کی اہمیت لوگوں پر واضح ہوجائے ۔

شریک ابن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا کی وفات کے بعد مولائے کائنات نے اپنے خطبہ میں فرمایا : تم لوگوںکو قسم ہے اس معبود کی بتاؤکہ کیا میرے اورمیرے اہل بیت کے علاوہ کسی اور کی شان میں یہ آیة نازل ہو ئی ہے :( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرِّکُم تَطهِیراً ) ( ۲ ) لوگوں نے جواب دیا نہیں ۔

حضرت علی ںنے ابوبکر سے فرمایا تمہیں خداکی قسم ہے بتائو آیة تطہیر میرے اور میری شریک حیات اور میرے بچوں کی شان میں نازل ہو ئی ہے یا تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے ؟جواب دیا :آپ اور آپ کے اہل بیت کی شان میں نازل ہو ئی ہے۔( ۳ )

____________________

(۱) غایةالمرام ص ۲۹۵

(۲) غایةالمرام ص، ۲۹۳

(۳) نو ر الثقلین ج ۴، ص ۲۷۱

۱۶۸

اعتراض :

لوگو ں کاکہنا ہے کہ آیة تطہیر پیغمبر کی ازواج کی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ اس کے پہلے اور بعد کی آیات پیغمبر کی ازواج کے سلسلے میں ہے یا کم ازکم پیغمبر کی ازواج بھی اس میں شامل ہیں ۔اسی لئے یہ ان کی عصمت کی دلیل نہیںہوسکتی ہے کیونکہ کوئی بھی پیغمبر کی ازواج کومعصوم نہیں مانتا ہے ۔

جواب

علامہ سید عبد الحسین شرف الدین نے اس کے چند جواب دیئے ہیں ۔

۱۔ یہ اعتراض اور شبہ نص کے مقابلہ میں اجتہا د کرناہے کیونکہ بے شمار روایتیں اس سلسلے میں آئی ہیں جوتواتر کے حد تک ہیں کہ آیة تطھیر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فاطمہ زہراصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی ، وحسنین کی شان میں نازل ہو ئی ہے ۔

۲۔ اگر آیة تطہیر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کی شان میں ہو تی تو مخاطب مونث ہوناچاہئے نہ کہ مذکر ،یعنی آیت اس طرح ہو نی چاہئے ''( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُنَّ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهِّرکُنَّ تَطهِیرا'' )

۳۔آیة تطھیر اپنے پہلے اور بعد کی آیت کے درمیان جملہ معترضہ کے طور پر ہے اور یہ چیز عربوں میں فصیح مانی جاتی ہے اور قرآن میں بھی آیا ہے:

۱۶۹

( فَلَمَّا رَأیٰ قَمِیصهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قالَ اِنَّه مِنْ کَیدِ کُنَّ اِنَّ کَیدَ کُنَّ عَظِیمُ یُوسُف أَعرِض عَن هَذا وَاستغفِریِ لِذَنبِکِ انک کُنتِ مِنْ الخَاطِئیِنَ ) ''( یُوسُف أَعرِض عَن هَذا'' ) : مخاطب یو سف ہیں اور یہ جملہ معترضہ ہے اور پہلے اور بعد کی آیة میں زلیخا سے خطاب ہے:( ۱ )

آیة تطہیر او رمولا ئے کا ئنا ت اور انکے گیارہ فرزندوں کی عصمت وامامت

مولائے کائنات نے ارشاد فرمایا ہم ام سلمہ کے گھر میں رسول خدا کے پاس بیٹھے تھے کی آیة تطہیر( اِنَّمَایُرِیدُ اللَّهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أَهَلَ البَیتِ وَیُطهرِّ کُم تَطهِیرا ) نازل ہو ئی۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :یہ آیت آپ اور آپ کے فرزند حسن وحسین علیہما السلام اور ان اماموں کی شان میں نازل ہو ئی ہے جو آپ کی نسل سے آئندہ آئیںگے میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ کے بعد کتنے امام ہو نگے ۔؟

حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : میرے بعد آپ امام ہو ں گے اورآپ کے بعد حسن اور حسن کے بعد حسین اور ان کے بعد ان کے فرزند علی پھر علی کے فرزند محمد اور پھر محمدکے فرزندعلی اور علی کے فرزندجعفر اورجعفر کے فرزندموسیٰ ،موسیٰ کے فرزند علی ،علی کے فرزند محمد،صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند علی ،علی کے فرزند حسن ،حسن کے فرزند حجت امام ہو ں گے ان تمام کے اسماء گرامی اسی ترتیب سے عرش پر لکھے ہیں میں نے خدا سے پوچھا یہ کون ہیں ؟جواب یہ تمہارے بعد کے امام ہیں جو پاک اور معصوم اور ان کے دشمن ملعون ہوںگے۔( ۲ )

____________________

(۱)سورہ یوسف آیة:۲۸۔ ۲۹

(۲) غایة المرام ص ، ۲۹۳

۱۷۰

لہٰذا یہ آیة تطہیر چودہ معصوم کی شان میں نازل ہوئی ہے اور رسول خدانے اپنی بے شمار احادیث کے ذریعہ ( انشاء اللہ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے ) لوگوں کویہ بتایا کہ یہ عہدہ امامت قیامت تک انہیں مخصوص حضرات سے مربوط ہے کیو نکہ یہ صاحب عصمت ہیں اور اس عہدے کے تمام شرائط ان کے اندر پائے جاتے ہیں ۔

عصت کے متعلق دوحدیث

عن ابن عبّاس قال سمعت رسول اللّه صلیٰ اللّه وآله وسلم یقول : أناوعلیِ والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مطهّرون معصومون ( ۱ ) ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں اور علی ،حسن و حسین اور حسین کی نسل سے ان کے گیارہ فرزندپاک اور معصوم ہیں ۔

قال امیر المومنین :اِنّ اللّه تبارک وتعالیٰ طهّرنا وعصمنا وجعلنا شهداء علیٰ خلقه وحجّته فی أرضه وجعلنا مع القرآن وجعل القرآن معنا لانفارقه ولا یفارقنا ( ۲ )

مولائے کائنا ت نے فرمایا : بیشک خدا نے ہمیں پاک ومعصوم بنایا ہے اور اپنی مخلوق کا گواہ اور زمین پر حجت قرار دیا اور ہمیں قرآن کے ساتھ اورقرآن کو ہمارے ساتھ رکھا ہے نہ ہم قرآن سے الگ ہو سکتے ہیں نہ قرآن ہم سے الگ ہوسکتا ہے ۔

____________________

(۱)ینابیع المودة ص ۵۳۴

(۲) اصول کا فی کتاب الحجة

۱۷۱

سوالات

۱۔ مولا ئے کائنات کی امامت پر عقلی دلیل بیان کریں ؟

۲۔آیة تطہیر سے اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں حدیث سے ثابت کریں ؟

۳۔ آیة تطہیر میں پیغمبر کی ازواج شامل کیوں نہیں ہوسکتی ہیں ؟

۴۔ بارہ اماموں کی امامت کے سلسلہ میں مولائے کا ئنات کی حدیث بیان کریں ؟

۱۷۲

چھبیسواں سبق

قرآن اور مولائے کا ئنات کی امامت

آیة ولایت

( اِنَّمَا وَلیکُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمُنوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلٰوةَ وُیُؤتُونَ الزَّکٰوةَ وَهُم رَاکِعُونَ ) ایمان والو تمہارا ولی بس اللہ ہے او ر اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جونماز قائم کرتے ہیں اورحالت رکوع میں زکاةدیتے ہیں۔( ۱ )

خدا وند عالم نے اس آیت میں لفظ ،،انما،، کے ذریعہ جو انحصار پر دلا لت کرتاہے۔ مسلمانوں کا ولی و سرپرست صرف تین شخصیتوں کوقرار دیاہے خود خدا، پیغمبر اور جو لوگ صاحبان ایمان ہیںکہ جونماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔

آیة کا شان نزول

آیت سے خدا اورسول کی ولا یت میں کسی کو شک نہیں لیکن تیسری ولایت

____________________

(۱) سورہ مائدہ آیة: ۵۵

۱۷۳

( ''والذین آمنوا'' ) کے بار ے میں شیعہ اور سنی دونو ں کے یہا ں بے شمار حدیثیں پائی جاتی ہیں کہ یہ آیة مولا ئے کا ئنات ںکی شان میں نازل ہوئی ہے اس وقت کہ جب انھو ںنے حالت رکوع میں اپنی انگو ٹھی سائل کو دے دی شیعوں میں اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیںاوراہل سنت کے علماء میں سے فخر رازی نے تفسیرکبیر میں ،زمخشری نے کشاف میں ،ثعلبی نے الکشف والبیان میں ، نیشاپوری بیضاوی ،بہیقی ،نظیری اورکلبی نے اپنی اپنی تفسیر وں میں ،طبری نے خصائص میں ، خورازمی نے مناقب ،احمد بن حنبل نے مسند میں ،یہاں تک کہ تفتازانی اورقوشجی نے اتفاق مفسرین کا دعوی کیا ہے غایة المرام میں ۲۴ حدیثیں اس سلسلے میں اہل سنت سے نقل کی گئی ہیں ،مزید معلو ما ت کے لئے الغدیر کی دوسری جلد اور کتاب المراجعات ،کی طرف رجوع کریں ۔

یہ مسئلہ اس حد تک مشہور ومعروف تھا اور ہے کہ (پیغمبر کے زمانے کے مشہورشاعر)حسان بن ثابت نے اسے اپنے شعر کے ذریعہ بیان کیااور مولا سے مخاطب ہو کرکہتے ہیں:

فأنتَ الَّذیِ أَعطیت اِذ کنت راکعاً

زکاةً فَد تک النفس یا خیرراکع

فانزل فیک اللّه خیر ولا یة

وبیّنها فی محکمات الشرائع

''اے علی آپ نے حالت رکوع میں زکوة دی ۔میری جان آپ پر قربان اے بہترین رکوع کرنے والے ''

خدانے بہترین ولایت آپ کے لئے نازل کی اور قرآن میں اسے بیان فرمایا ،لہٰذا مولائے کائنات تمام مومنین کے ولی مطلق ہیں اور عقل کی رو سے ایسا شخص ابوبکر وعمر وعثمان کا تابع نہیں ہوسکتا ،ہاں اگر یہ افراد مومن تھے تو ا ن کو مولائے کائنات کی اتباع وپیروی کرنی چاہئے ۔

۱۷۴

دواعتراض اور انکا جواب

بعض اہل سنت کا کہناہے کہ ولی کے معنی دوست اورساتھی کے ہیںنہ کہ رہبر وولی مطلق کے ۔

جو اب :

الف )پہلی بات تویہ کہنا ہی نص آیة اورظاھر کے خلاف ہے اس سے ہٹ کر ولی کے معنی عرف عام میں ولی مطلق ،اور اولی بہ تصرف کے ہیں اور دوسرے معنی میں استعمال کے لئے قرینہ کی ضرورت ہے چونکہ اولی کا لفظ آیت میں( النَّبُّ أَولیٰ بِالمُؤمنِینَ مِن أنفُسهِم ) ( ۱ ) کا لفظ حدیث غدیر میں ''من کنت مولاہ'' ولایت مطلق پرواضح طور پر دلا لت کرتا ہے ۔

ب) آیة ولایت میں لفظ ''انما'' کے ذریعہ انحصار ہے اور دوستی صرف خدا ورسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی ہی پر منحصر نہیں ہے ۔بلکہ تمام مومنین ایک دوسرے کے دوست ہیں جیسے کہ خدا وند عالم نے فرمایا( المُؤمنُون والمؤمنات بعضهم أولیائُ بَعضٍ ) اب چونکہ دوستی کا انحصار فقط خدا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وعلی سے مختص نہیں ہے۔( ۲ )

____________________

(۱)الاحزاب آیة:۶

(۲) سورہ توبہ آیة:۷۱

۱۷۵

بلکہ اس کاتمام مومنین سے ہے آیہ( اِنَّما وَلیُّکُم اللّه ) (میں انحصار کاحکم ہے لہٰذا ولا یت کے معنی رہبر وولی مطلق کے ہیں۔

بعض متعصب اہل سنت نے اعتراض کیاکہ مولائے کائنات جب نماز میں اتنا محو رہتے تھے کہ حالت نماز میں تیر نکلنے کابھی انہیںپتہ نہیں چلتا تھا تو کس طرح ممکن ہے کہ سائل کے سوال کو سن کر اس کی طرف متوجہ ہوئے ہوں۔

جواب:

یقینا مولا ئے کائنات حالت نماز میں مکمل طور سے خدا کی طرف دھیان رکھتے تھے، اپنے آپ اور ہر مادی شی ٔ سے جو روح عبادت کے منافی ہوتی تھی بیگانہ رہتے تھے ۔لیکن فقیر کی آواز سننا اور اس کی مدد کرنا اپنی طرف متوجہ ہونا نہیں ہے بلکہ عبادت میں غرق ہو نے کی دلیل ہے دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ آپ کا یہ فعل عبادت میں عبادت ہے اس کے علاوہ عبادت میں غرق ہونے کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اپنے اختیارات کھو بیٹھیں یا بے حس ہو جا ئیں بلکہ اپنے اختیار کے ذریعہ اپنی توجہ اور وہ چیز جوراہ خدا میں سد راہ ہے اس سے اپنے آپ کو الگ کرلیں ۔

یہا ں نمازبھی ایک عبادت ہے اور زکوة بھی ،اور دونوںخداکی خوشنودی کے راستے ہیں ،لہٰذا مولائے کائنات کومتوجہ ہونا صرف خداکے لئے تھا اس کی دلیل خود آیت کانازل ہو نا ہے ،جو تواتر سے ثابت ہے ۔

۱۷۶

آیت اطاعت اولی الامر:

( یَاأیُّها الَّذینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِ الأمرِ مِنکُم ) ''ایمان والواللہ کی اطاعت کرو اوراس کے رسول اورصاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہیں''۔( ۱ )

اس آیت میں صاحبان امرکی اطاعت بغیر کسی قید و شرط کے خد ااوررسول کے اطاعت کے ساتھ واجب قرار دیاہے شیعوں کانظریہ ہے کہ اولی الامر سے مراد بارہ امام معصوم ہیں اوراہل سنت سے بھی روایت پائی جاتی ہے کہ اس سے مراد امام معصوم ہیں۔

مشہور مفسر ،ابوحیان اندلسی مغربی نے اپنی تفسیر بحارالمحیط ،اور ابوبکر مومن شیرازی نے اپنے رسالہ اعتقادی میں ،سلیمان قندوزی نے ینابیع المو دة میں ان روایتوں کو بطور نمونہ ذکر کیا ہے ،شیعوں کی تفسیر وں میں بھی اس آیت کے ذیل میں رجوع کریں منجملہ تفسیر برہان ،نورالثقلین ،تفسیر عیاشی ،اور کتاب غایة المرام اوردوسری بہت ساری کتابوں میں آپ رجوع کریں۔یہاں پر بعض احادیث کونقل کررہے ہیں جابر بن عبداللہ انصاری نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیاکہ اولی الامرجن کی اطاعت کا ہمیں حکم دیاگیا ہے اس سے مراد کون ہیں۔ ؟

آنحضرت نے جواب میں فرمایا : میرے بعد کے خلیفہ وجانشین جو میری ذمہ داریوں کو سر انجام دینے والے ان میں سب سے پہلے میرے بھائی علی ہیںان

____________________

(۱)سورہ نساء آیة:۵۹

۱۷۷

کے بعد حسن وحسین علیہماالسلام پھر علی بن الحسین ان کے بعد محمد باقر (تم اسوقت تک رہوگے اور اے جابر! جب ان سے ملاقات ہو تو انہیں ہماراسلام کہنا)پھرجعفر صادق ان کے بعد موسی کاظم ا ن کے بعد علی الرضا ا نکے بعد محمد جواد پھر علی ہادی ان کے بعد حسن عسکری او ران کے بعد قائم منتظر مہدی میرے بعد امام او ر رہبر ہوںگے۔

اسی حدیث کو امام زمانہ کے سلسلے میں تفسیر نورالثقلین کی پہلی جلد میں صفحہ ۴۹۹ میں واضح طور سے بیان کیاہے ، عن أبی جعفر علیہم السلام: أوصیٰ رسول اللّہ اِلیٰ علی والحسن والحسین علیہم السلام ،ثم قال فی قول اللَّہ عزَّوجلَّ :( یَا أیُّها الَّذینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَأطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُولِ الأمرِ مِنکُم ) قالَ: الأَئِمة مِن وُلِد علیِ وفاطمه أِلی أن تقوم الساعة ( ۱ )

امام محمد باقر سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے مولائے کا ئنات اورحسن وحسین علیہم السلام کی امامت کے لئے وصیت کی ،پھرخد اکے اس قول کی طرف اشارہ کیا''أطِیعُوااللَّہَ'' اورفرمایا:بقیہ امام ،علی و فاطمہ کی اولا د سے ہوںگے یہاںتک کہ قیامت آجائے گی لہٰذا اولی الامر کی اطاعت کاتذکرہ جس آ یت میں ہے وہ چند طریقوں سے مولائے کائنات امیرالمومنین ںاورانکے گیارہ فرزندوں کی امامت پر دلالت کرتی ہے اولی الامر کی اطاعت خدا ور رسول کی اطاعت کے ساتھ ہے چونکہ اطاعت مطلق طور پرواجب ہے لہٰذا انہیں پہچانناضروری ہے ۔

جس طرح خد انے رسول خدا کی اطاعت کو واجب کرکے خود رسول کو معین

____________________

(۱) تفسیر نورا لثقلین ج ۱ ص۵۰۵، دلائل امامت ۲۳۱

۱۷۸

کردیا اسی طرح جب اولی الامر کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے تو ضروری ہے کہ انہیں بھی معین کرے ورنہ تکلیف مالایطاق ہوجا ئے گی(یعنی جسے ہم نہیں جانتے اس کی اطاعت ہمارے امکان سے با ہر ہے) بے شمار روایتوں نے آیت کے شان نزول کو مولائے کا ئنات اور ان کے گیا رہ فرزندو ں سے مختص کیاہے ۔

علی کی امامت اورآیت انذار وحدیث یوم الدار

حدیث یوم الدار

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بعثت کے تیسرے سال میں حکم ہوا کہ دعوت اسلا م کو علی الاعلان پیش کریں :( وَأنذِر عَشِیرَتَکَ الأَقرَبِین )( ۱ ) (اپنے قریبی رشتے داروں کوانذار کرو ،ڈرائو ) اس حکم کے ساتھ پیغمبر اسلام نے اپنے رشتے داروں کو جناب ابوطالب کے گھر میں اکٹھا کیا اورکھانے کے بعد فرمایا :اے عبد المطلب کے فرزندو! خد اکی قسم میں عرب میں کسی کو نہیں جانتاکہ اپنی قوم وقبیلہ کے لئے اس سے بہترچیز جو میں پیش کر رہا ہو ں اس نے پیش کی ہو ، میں دنیااور آخرت کی فلاح وبہبودی تمہارے لئے لایاہوں اورخدا نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی توحید اور اس کی وحدانیت اوراپنی رسالت کی طرف دعوت دوں،تم میں سے کون ہے؟ جو اس سلسلے میں میری مددکرے گاتاکہ وہ میرا بھائی میراولی وجانشین بن سکے ۔

کسی نے اس جانب کو ئی توجہ نہیںدی ۔پھر مولائے کائنات کھڑے

____________________

(۱)سورہ شعراء آیة:۲۱۴

۱۷۹

ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ میں حاضر ہو ں ،اس سلسلہ میں آپ کا ناصر ومددگار ہوں یہاں تک تین مرتبہ پیغمبر نے اس جملہ کی تکرار کی،اور علی کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ، اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت کے گلے میں باہیں ڈال کے فرمایا : اِنَّ ھذا أخیِ وَوصییِّ وخلیفتی فیکم فاسمعوا لہ وأطیعوہ بیشک یہ میرابھائی ہے تم لوگوںمیں میراوصی وجانشین ہے اس کی باتو ں کو سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

اس حدیث کو اہل سنت کے علماء کرام جیسے ابن ابی جریر ، ابو نعیم ،بہیقی ،ثعلبی ابن اثیر ،طبری اور دوسرے بہت سے علماء نے نقل کیا ہے ،مزید معلومات کے لئے کتاب المراجعات کے صفحہ ۱۳۰ کے بعد اور احقاق الحق ج۴ کے ص ۶۲نیزاس کے بعد ملاحظہ فرمائیں ،یہ حدیث واضح طورپر علی کی ولا یت وامامت کو ثابت کرتی ہے ۔

سوالات

۱۔ آیت ولا یت ''انما ولیکم اللہ'' کے ذریعہ مولائے کا ئنا ت کی امامت کو کیسے ثابت کریں گے ؟

۲۔'' انما ولیکم'' میں ولی کس معنی میں ہے اور اس کی دلیل کیاہے ؟

۳۔ اطاعت اولی الامر کی دلالت کوبیا ن کریں ؟

۴۔ آیة انذار اور حدیث یوم الدار سے کس طرح مولائے کائنات کی

امامت پر استدلال کریں گے ؟

۱۸۰

ستاسٔواں سبق

مولا ئے کا ئنا ت کی امامت اور آیة تبلیغ

( یَاأَیُّها الرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتهُ وَاللَّهُ یَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللَّه لَا یَهدِی القَومَ الکَافِرِین ) اے پیغمبر!ٍ آپ اس حکم کوپہنچادیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیاگیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ۔( ۱ )

خطاب کا انداز بتا رہا ہے کہ کو ئی اہم ذمہ داری ہے کہ جس کے چھو ڑنے سے رسالت ناقص ہو جائیگی اور یہ آیت یقینا توحید یا جنگ یادوسری چیزوں کے واسطے نہیں تھی چونکہ اس آیت کے نازل ہو نے سے پہلے یہ تمام مسائل حل ہو چکے تھے کیونکہ یہ آیت پیغمبر کی زندگی کے آخری وقت میں نازل ہو ئی ہے بغیر کسی شک کے یہ آیت مسئلہ امامت اور جانشین پیغمبر سے متعلق ہے۔ یہا ںتک کہ اہل سنت کے بے شمار علماء ،مفسرین اور مورخین نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مذکو رہ آیت

____________________

(۱)سورہ مائدہ آیة: ۶۷

۱۸۱

واقعہ غدیر اور مولا ئے کا ئنا ت کے لئے نازل ہوئی ہے مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب مقدس الغدیر میں حدیث غدیرکو ۱۱۰ صحابہ سے اور ۳۶۰ بزرگ علماء اور مشہو ر اسلا می کتابو ں سے نقل کیاہے اورکسی نے اس حدیث کے صدور پر شک نہیں کیا ہے اگر آیة تبلیغ اور حدیث غدیر کے علا وہ کوئی دوسری آیت یا حدیث نہ بھی پا ئی جاتی تب بھی مولائے کا ئنات کی خلا فت بلا فصل کو ثابت کرنے کے لئے یہی دوآیتیں کا فی تھیں اس کے باوجود بے شمار آیتیں مولا ئے کا ئنا ت اور ان کے فرزندوں کی امامت کے سلسلہ میں نازل ہو ئی ہیں اورہمارا اعتقاد ہے کہ پوراقرآن مفسر اہل بیت ہے اور اہل بیت مفسر قرآن ہیں اور حدیث ثقلین کی نظر سے یہ کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے ،اس سلسلہ میں روائی تفسیروں میں من جملہ نورالثقلین ،تفسیر برہان ،تفسیر عیاشی اور کتاب غایة المرام او ر دوسری بہت سی کتابو ں میں دیکھ سکتے ہیں ہم یہیں پر اس بحث پر اکتفا کرتے ہو ئے بحث کو مکمل کرنے کے لئے مشہور حدیث غدیر کو نقل کرتے ہیں ۔

مولا ئے کا ئنات کی امامت اور حدیث غدیر

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۰ھمیں مکہ کی طرف حج کے قصد سے گئے یہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آخری حج تھا لہٰذا تاریخ میں اسے حجة الوداع بھی کہتے ہیں اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ ایک لا کھ بیس ہزار صحابی تھے مدینہ کی طرف واپسی پر ۱۸ ذی الحجہ کو غدیر خم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے ) میں جبرئیل نازل ہو ئے او راس آیت کو پیش کیا( یَاأَیُّهاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنِزلَ اِلیک مِنْ رَبِّک وَاِنْ لَمْ تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتهُ وَاللَّهُ یَعصِمُک مِنَ النَّاس اِنَّ اللَّه لَا یَهدِی القَومَ الکَافِرِین )

۱۸۲

قبل اس کے کہ مسلمان یہا ں سے جداہو ں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب کو رکنے کاحکم دیا جوآگے بڑھ گئے تھے انہیں پیچھے بلا یا اورجو پیچھے رہ گئے تھے ان کا انتظارکیا بہت گرم اور جھلسا دینے والی ہوا چل رہی تھی مسلمانوں نے نماز ظہر پیغمبر اسلام کی امامت میں ادا کی، نماز کے بعد آنحضرت نے طویل خطبہ پڑھااور اس کے ضمن میں فرمایا :میں جلد ہی خدا کی دعوت پر لبیک کہنے والا ہوں اور تمہارے درمیان سے چلاجائو ں گا پھر فرمایا :اے لوگوں! میری آواز سن رہے ہو سب نے کہا ،ہاں ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :یَا أَیُّهاالنَّاس مَن أولَیٰ النّاس بالمُؤمنین من أ نفسهم اے لوگو! مومنین کے نفوس پر کون زیادہ حقدار ہے ، سب نے ایک آواز ہوکر کہا خدا اوراس کا رسول بہتر جانتا ہے حضرت نے فرمایا خدا میرا رہبر ومولاہے اور میں مومنین کارہبر ومولاہوں او رمومنین پر ان سے زیادہ میراحق ہے پھر مولا ئے کا ئنا ت کو ہاتھو ں پہ بلند کیا اور فرمایا:''مَنْ کنت مولاه فعلِّمولاه'' جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں اس جملہ کو تین بار دہرایا پھر آسمان کی طرف سر کو بلند کیا اور فرمایا:''اللَّهمَّ والِ مَن وَالاه وعاد مَنْ عاداه وانصر من نصره واخذل مَن خذله ُ''خدا یا! تو اس کو دوست رکھ جو اس (علی )کو دوست رکھے تو اس کی مدد کر جو اس کی مددکرے تواس کو رسواوذلیل کر جوان کی عزت نہ کرے

۱۸۳

پھر فرمایا : تمام حاضرین غائبین تک یہ خبر پہونچا دیں ابھی مجمع چھٹا نہیں تھا کہ جبرئیل نازل ہو ئے اور اس آیت کی پیغمبر پر تلا وت کی :( الیَومَ أکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَأَتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِ وَرَضِیتُ لَکُمُ الاِسلَامَ دیناً ) ''آج میں نے تمہارے لئے دین کوکامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتوں کوتم پر تمام کر دیاہے او رتمہارے دین اسلام سے راضی ہوگیا''۔( ۱ )

اسی وقت پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :اللَّهُ أَکبرُ اللّّه أکبرُ علیٰ ٰاِکمال الدِّین واِتمام النّعمة ورِضیٰ الرّب برسالتِوالولایة لعلیّ مِن بعدیِ اللہ بہت بڑا ہے اللہ بہت بڑا ہے دین کو کامل کرنے ،اور اپنی نعمتوں کے تمام کرنے اورمیری رسالت پر راضی ہونے ،اور میرے بعد علی کی ولایت پر راضی ہو نے پر ، اسی وقت لوگو ں کے بیچ ایک خبر گشت کرنے لگی او ر تمام لوگ مولائے کائنا ت کو اس مقام و منزلت پر مبا رک باد پیش کرنے لگے یہاں تک عمر نے لوگو ں کے درمیان مولا ئے کا ئنا ت سے کہا:''بخِِ بخِِ لَک یابنَ أَبیِ طالب أَصبحتَ وأَمسیتَ مولایِ ومولیٰ کُلّ مُؤمن ومؤمنة''مبارک ہو مبارک اے ابو طالب کے بیٹے آپ کی صبح وشام اس حالت میں ہے کہ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہیں اس حدیث کو مختلف الفاظ میں کبھی تفصیل کے ساتھ کبھی اختصار سے بے شمار علماء اسلام نے نقل کیا ہے اس حد تک کہ کسی کو بھی اس کے صادر ہونے پر شک نہیں ہے مرحوم بحرانی

____________________

(۱)سورہ مائدہ آیة:۳

۱۸۴

نے اپنی کتاب غایة المرام میں اس حدیث کو ۸۹ سند کے ساتھ اہل سنت سے اور۴۳ سند کے ساتھ شیعہ سے نقل کیاہے اوراس سلسلہ میں بہترین کتاب جولکھی گئی ہے وہ ''الغدیر ''ہے جسے علامہ امینی نے بے انتہا زحمتوں کے بعد لبا س وجود عطا کیا ہے ۔

لفظ مولا کے معنی پر اعتراض اور اس کا جو اب

جب بعض نے یہ دیکھا کہ حدیث کی سند انکا ر کے قابل نہیں تو لفظ مولا کے معنی میں شک ایجاد کیا اور کہنے لگے کہ یہ دوست کے معنی میں ہے ۔

جو اب :

دس دلیلوں کی بنا پر لفظ مولی صرف ولا یت ورہبری کے معنی میں ہے اور دوست کے معنی ہر گز نہیںہو سکتے ۔

۱۔ خو د پیغمبر اسلام نے علی کے تعارف سے قبل فرمایا :''مَنْ أَولیٰ النّاس بالمؤمنین مِن أنفسھم'' اور پھر یہ جملہ''من کنت مولاہ فعلی مولاہ'' ' فرمایا توپھر جس طرح پہلا جملہ ولا یت کے لئے ہے ، دوسرے کو بھی اسی طرح ہو نا ضروری ہے تاکہ دونو ں جملہ میں ربط باقی رہے ۔

۲۔ آیة تبلیغ جو مولا ئے کا ئنا ت کو پہنچنوانے سے قبل نازل ہو ئی پیغمبر سے خطاب کرکے فرمایا : اگر آپ نے یہ نہ کیاتوگویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا،کیا اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی سے دوستی کا اعلان نہیں کرتے تو رسالت ناقص رہتی ؟ جبکہ متعدد بار رسول اسلا م حضرت علی سے بے انتہا محبت اور دوستی کا اظہار کر چکے تھے یہ کو ئی نئی بات نہیں تھی ۔

۱۸۵

۳۔ کیا یہ بات معقول ہے کہ وہ پیغمبر جسے''مَایَنطِقُ عن الهَوی ٰ''کا خطاب ملا ہو ا س سخت گرمی میں ہزاروں لوگو ں کوروک کر کہے :اے لوگو ں جس کا میں دوست ہو ں علی بھی اس کے دوست ہیں۔ ؟

۴۔ جو آیتیں علی کے تعارف کے بعد نازل ہوئیں ہیں جیسے الیوم آج دین کامل ہوگیا نعمتیں تم پر تمام کردیں او رتمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنادیا۔( ۱ ) دوسری آیت( الیَومَ یَئِس الّذین کَفَرُوا ) .....اور کفار تمہارے دین سے مایوس ہوگئے( ۲ ) یہ تمام چیزیں کیا اس بناپر تھیں کہ پیغمبر نے علی کو دوست بنایا تھا۔ ؟

۵۔ وہ تمام خو شیاں اور حتی عمر کی مبارکبادی صرف پیغمبر اور علی کی دوستی کی وجہ سے تھی کیا یہ کوئی نئی بات تھی۔ ؟

۶۔پیغمبر اسلام اورائمہ معصومین نے یوم غدیر کومسلمانوں کے لئے سب سے بڑی عید قرار دیا ہے تاکہ ہر سال یہ واقعہ زندہ رہے کیا صرف دوستی کااعلان کرنا ان تمام چیزوں کا باعث بنا کہ اسے سب سے بڑی عید قرار دے دیا جائے ۔؟

۷ ۔تعارف کرانے سے پہلے آیت آئی( ''واللّه یَعصِمُک مِنْ النَّاسِ ) ''کیا پیغمبر اسلام علی سے دوستی کا اعلا ن کرنے سے ڈر رہے تھے کہ خدا کو کہنا پڑا کہ خدا آپ کو دشمنو ں کے شر سے محفوظ رکھے گا یاامامت اورجانشینی کااہم مسئلہ تھا۔ ؟

۸۔ شعراء اور ادیبوں نے اس وقت سے لے کر آج تک جو اشعار غدیر کے سلسلہ میں کہے ہیں ان سب نے خطبہ غدیر کو ولا یت اور امامت مولائے کا ئنات

____________________

(۱) سورہ مائدہ آیة۳

(۲) سورہ مائدہ آیة ۳

۱۸۶

سے مرتبط ماناہے اور مولائے کائنات کی جانشینی کو بیان کیاہے ان اشعار کا تذکرہ علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر کی پہلی جلد میں کیا ہے۔ ؟

۹۔ مولائے کائنات اور دوسرے ائمہ معصومین نے بہت سی جگہوں پر حدیث غدیر کے ذریعہ اپنی امامت ثابت کی ہے اور سب نے ان کے کلام سے ولایت ورہبری کو جانا،قائل ہوئے اور قبول کیا ۔

۱۰۔ مرحوم علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد کے ص ۲۱۴ پر اہل سنت کے مشہو ر مفسر ومورخ محمد جریر طبری سے نقل کیاہے کہ پیغمبر اسلام نے آیت تبلیغ کے نازل ہونے کے بعد فرمایا : کہ جبرئیل خداکی طرف سے حکم لائے ہیں کہ اس جگہ رک کرسبھی اورسب کالے اور گورے کو بتادیں کہ: علی ابن ابی طالب میرے بعد میرے بھائی میرے وصی و جانشین اورامام ہیں۔

سوالات

۱۔آیةتبلیغ مولائے کائنات کی امامت پر کیوں کر دلالت کرتی ہے ؟

۲۔ حدیث مقدس غدیر کا خلاصہ بیان کریں ؟

۳۔کیوں لفظ مولا حدیث غدیر میں صرف ولایت اور رہبری کیلئے آیا ہے ؟

۱۸۷

اٹھائیسواں سبق

حضرت مہدی ں (قسم اول )

امامت کی بحث کے بعد ،امام زمانہ کے سلسلہ میں اب مختصر سی بحث ضروری ہے کچھ روایتیں جواہل سنت کے یہاں پائی جاتی ہیں پہلے ان کاذکر کرتے ہیں تاکہ وہ رواتیںان کے لئے دلیل بن سکیں ۔

قال رسول اللّه :یخرجُ فی آخرالزمان رجل من ولدیِ اسمه کاسمیِ وکنیته ککنیتیِ یملأ الأرض عدلًا کما ملئت جوراً فذلکَ هوالمهدی ِ :آخر زمانے میں ہماری نسل سے ایک ایساشخص قیام کرے گا جس کا نام میرے نام پر ہو گا اور جس کی کنیت میری کنیت ہوگی ، اوروہ زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی اوروہی مہدی علیہ السلام ہیں۔( ۱ )

قال النبی صلی اللّه علیه وآله:''لولم یبق من الدهر اِلّا یوم لبعث اللّه رجلاً مِن اهل بیتی یملأها عدلاً کما مُلئت جَوراً '' اگر اس دنیاکے ختم ہونے میں ایک دن بھی باقی رہے گا تو اس دن بھی خدا وند عالم میرے اہل بیت سے ایک شخص کومبعوث کرے گا تاکہ دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے جس

____________________

(۱) التذکرہ ص۲۰۴ ۔منھا ج السنہ ص ۲۱۱۔

۱۸۸

طرح ظلم وجور سے بھری ہوئی ہوگی ۔( ۱ )

قال رسول اللّه : ''لا تذهب الدّنیا حتی یقوم مِن أمتیِ رجل من ولد الحُسین یملأ الأَرض عدلاً کما مُلئت ظلماً ''اس دنیا کا اختتام اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک کہ ہماری امت سے ایک شخص قیام نہ کرے جو نسل امام حسین سے ہو گا وہ زمین کوعدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہو ئی ہوگی ۔( ۲ )

شیعہ مصنفین نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں جن میں بے شمارروایتیں حضرت مہدی کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔لیکن مطلب روشن ہونے کی خاطر انہیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

حضرت مہدی ں کی مخفی ولا دت

حضرت حجت بن الحسن المہدی کی ولا دت پندرہ شعبان ۲۵۵ ھ کوہوئی ماں کا نام نرجس اورباپ کا نام امام حسن عسکری ہے ۔مخفی ولا دت کاسبب یہ تھا کہ امام کی ولا دت ایسے زمانے میں ہوئی جب عباسی دور خلافت کے ظالم وجابر اسلامی حکمران ملکوں پر قابض تھے وہ بہت سی حدیثوں کے ذریعہ جانتے تھے کہ امام حسن عسکری کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو ظالم اور ستمگر حکومتوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینکے گا لہٰذا وہ اس تاک میں تھے کہ قائم آل محمد کی ہر نشانی کومٹادیں، اسی لئے متوکل عباسی نے ۲۳۵ ھ ق میں حکم دیا کہ حضرت ہادی اور ان کے رشتہ داروں کو مدینہ سے سامرہ

____________________

(۱)ینابیع المودة ،ج۳،ص۸۹ سنن سجستانی ،ج ۴ ص ۱۵۱ مسند ، ج ۱ ص ۹۹ نورالابصار ،ص۲۲۹

(۲) مودة القربی ،ص ۹۶ ینابیع المودة ص ۴۵۵

۱۸۹

(حکومت کے پایہ تخت ) میں لایا جائے اور عسکر نامی محلے میں مستقر کر کے ان پر کڑی نظر رکھی جائے معتمد عباسی امام حسن عسکری کے اس نومولددفرزندکاشدت سے انتظار کررہا تھا اور اس نے اپنے جواسیس اور دائیوں کو اس امرکے لئے معین کرد یاتھا تاکہ علویوںکے گھروں خاص کر امام حسن عسکری کے گھرکا وقتا فوقتا معاینہ کریںاور اگر کوئی بچہ ملے جس پر منجی بشریت کاگمان ہوتو اسے فوراً قتل کردیا جائے اسی لئے احادیث معصومین میں امام زمانہ کی مخفی ولا دت کو جناب موسی کی ولادت سے تشبیہ دی گئی ہے اور اسی خاطر ان کی ماں کاحمل ،موسی کی ماں کی طرح ظاہر نہیں ہوا او ر کسی کو علم نہیں تھا ،حتیٰ حکیمہ خاتون (امام حسن عسکری کی پھوپھی) کو بھی علم نہیں تھاجب نیمہ شعبان کی رات امام نے ان سے کہا ،آج رات یہیں ٹھہریں (چونکہ آج وہ بچہ آنے والا ہے جس کا وعدہ کیاگیا ہے ) تو انھوں نے تعجب کیا،کیونکہ نرجس خاتون میں حمل کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے جب امام زمانہ کی ولا دت ہوئی تو ان کے والد انہیںلوگوںکی نظروں سے چھپا کے رکھتے تھے ،صرف اپنے مخصوص اصحاب کو انکی زیارت کرائی ۔

شیخ صدوق اپنی کتاب اکمال الدین میں احمد بن حسن قمی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسن عسکری کے یہاں سے ایک خط ہمارے دادا (احمد بن اسحق ) کے پاس آیا ،جس میں لکھا تھا :ہمارے یہاں بچہ پیداہواہے لیکن یہ خبر لوگوں سے چھپی رہے کیونکہ اس بات سے ہم صرف اپنے اصحاب اور قریبی رشتہ داروں کو ہی مطلع کررہے ہیں ۔

۱۹۰

امام زمانہ کی خصوصیت

۱۔امام زمانہ کانورائمہ کے نور کے درمیان اس ستارہ کی مانند ہو گا جوکواکب کے درمیان درخشاں ہو تا ہے ۔

۲۔ شجرہ شرافت ،پدر کے ذریعہ ائمہ علیہم السلا م اور پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک او رماں کے ذریعہ قیصر روم اورشمعون الصفا حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کے وصی سے ملتا ہے ۔

۳۔ولا دت کے روز امام زمانہ کو عرش لے جا یا گیا اور خدا کی جانب سے آواز آئی، مرحبا اے میرے خاص بندے ،میرے دین کی مدد کرنے والے ،میرے حکم کوجاری کرنے والے ،اور میرے بندوں کی ہدایت کرنے والے ۔

۴۔نام اورکنیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام اورکنیت پر ہے ۔

۵۔ وصی کا سلسلہ امام زمانہ پر ختم ہے ،جس طرح پیغمبر اسلام خاتم الانبیاء ہیں اسی طرح امام زمانہ خاتم الا وصیاء ہیں ۔

۶۔ ابتدائے ولا دت سے ہی روح القدس کے سپرد ہیں ، مقدس فضا اورعالم انوار میں تربیت ہوئی اٹھنا بیٹھنا مقدس ارواح اور بلند ترین لوگو ں کے ساتھ ہے ۔

۷۔ کسی ظالم وجابر کی بیعت نہ کی تھی، نہ کی ہے اور نہ کریں گے۔

۸۔امام زمانہ کے ظہور کی عجیب وغریب ،زمینی او رآسمانی نشانیاں ظاہر ہوں گی ،جوکسی حجت کے لئے نہیں تھیں ۔

۹۔ ظہور کے قریب آسمان سے ایک منادی آپ کے اسم گرامی کو پکا رے گا ۔

۱۰ ۔وہ قرآن جو امیرالمومنین نے پیغمبر کے انتقال کے بعد جمع کیا تھا اور محفوظ رکھا تھا وہ امام کے ظہو ر کے وقت ظاہر ہوگا ۔

۱۱۔ عمر کا طولا نی ہونا یاشب وروز کی گردش سے آنجنا ب کے مزاج یا اعضاء وجوارح پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔اور جب سرکار کاظہور ہوگا توآپ ایک چالیس سالہ جوان کی مانند نظر آئیں گے ۔

۱۲۔ ظہور کے وقت زمین اپنے تمام خزانے اور ذخیرے کو اگل دے گی ۔

۱۹۱

۱۳ ۔لوگو ں کی عقل سرکار کے وجود کی برکت سے کامل ہوجائے گی ،اور آپ لوگو ں کے سروں پر ہاتھ پھیریں گے جس سے لوگوںکے دل کا کینہ وحسد ختم ہوجائے گااورلوگوں کے دل علم سے لبریز ہوں گے ۔

۱۴۔ آپ کے اصحاب کی عمر کافی طولانی ہوگی ۔

۱۵۔مرض ،بلاء ،مصیبت، کمزوری، غصہ، یہ تمام چیزیں آپ کے اصحاب کے جسم سے ختم ہوجائے گی اور ان کے اصحاب میں ہر ایک کی طاقت چالیس جوان کے برابر ہوگی ۔

۱۶۔آپ کی حکمرانی اور سلطنت مشرق سے مغرب تک پوری دنیا پر ہوگی ۔

۱۷۔ پوری دنیا عدل وانصاف سے بھر جائے گی ۔

۱۸۔بعض مردے زندہ ہوکر آپ کے ساتھ ہوجا ئیں گے منجملہ ۲۷افراد اصحاب موسی سے اور ۷ آدمی اصحاب کہف سے ۔یوشع بن نون ،سلمان ،ابوذر،مقداد مالک اشتر یہ لوگ تمام شہروں میں حاکم ہوں گے ۔ اور جو بھی چالیس صبح دعائے عہد پڑھے گا اس کا شمار امام کے ساتھیوں میں ہوگا او راگر حضرت کے ظہور سے پہلے انتقال کر گیا تو خدا وند عالم اسے زندہ کرے گا تاکہ امام کی خدمت میں حاضری دی سکے۔

۱۹۲

۱۹۔ وہ تمام الٰہی احکام جو ابھی تک نافذ نہیں ہو سکے نافذ ہوں گے ۔

۲۰۔علم کے تمام۲۷ حروف ظاہر ہوجا ئیںگے ۔اور امام کے ظہور تک صرف دو حرف ظاہر ہو ئے ہوںگے ۔

۲۱۔ کفا ر ومشرکین سے تقیہ کا حکم ،آپ کے زمانہ میں ہٹا لیا جائے گا۔

۲۲۔ کسی سے گواہی یا دلیل نہیں مانگی جائے گی،امام خود حضرت داود کی طرح اپنے علم امامت سے فیصلہ کریں گے ۔

۲۳۔ با رش، درخت ، ہریالی ،میوہ جات اور دوسری نعمتیں بے شمار ہوں گی۔

۲۴۔آپ کی مدد کے لئے جناب عیسی آسمان سے اتریں گے اور آپ کے پیچھے نما ز پڑھیں گے۔

۲۵۔ ظالموں کی حکومت اور جابروں کی سلطنت کا خاتمہ ہوجائے گا ۔

لِکلِّ أُناس دولة یرقبونها

ودولتنا فی آخر الدَّهر تظهر

روایت میں ہے کہ امام صادق ہمیشہ اس شعر کو زمزمہ کیا کرتے تھے ۔

ترجمہ: (تمام لوگو ں کے لئے ہرزمانہ میں حکومت ہے جس پر وہ نظر جمائے ہیں اور ہماری حکومت آخری زمانہ میں ہوگی) امام زمانہ کی حکومت آنے پر تمام ائمہ معصومین رجعت فرمائیں گے۔( ۱ )

____________________

(۱) یہ ان خصوصیات کا خلا صہ ہے جنہیں محدث قمی نے منتھی الاما ل میں نقل کیا ہے ۔

۱۹۳

سوالات

۱۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایسی روایت بیان کریں جوآپ کے ظہور اور آفاقی عدالت

پر دلا لت کرتی ہے ؟

۲۔ امام زمانہ کی ولا دت مخفی کیوں تھی ؟

۳۔ امام زمانہ کی خصوصیات بطور خلا صہ بیان کریں ؟

۱۹۴

امام زمانہ کے شکل وشمائل (دوسری فصل )

روایت میں ہے کہ امام زمانہ رسول اللہ سے بہت زیادہ مشابہ ہوں گے اور آپ کے شکل وشمائل کے حوالے سے جو کچھ تاریخ میں درج ہے وہ یہ ہیں۔

۱۔سفیدی وسرخی کا سنگم نورانی چہرہ۔

۲۔ رخسار مبارک گندمی لیکن شب زندہ داری کے باعث زردی مائل۔

۳۔ کشادہ اور تابناک پیشانی۔

۴۔ بھویں آپس میں متصل اور ناک ستواں۔

۵۔دلکش چہرہ ۔

۶۔ ریش مبارک اور سر کے بالوں کی سیاہی پر رخ زیبا کانور غالب ہوگا۔

۷۔ داہنے رخسار پر ایک تل ہوگا۔

۸۔سامنے کے دندان مبارک میں (رسول خدا کی مانند ) شگاف ہوگا (جو حسن کو دوبالاکردے گا ) ۔

۹ ۔ آنکھیں سیاہ وسرمئی اور سرپر ایک نشان ہوگا ۔

۱۰۔ بھرے اور کشادہ شانے ۔

۱۱۔ روایت میں ہے کہ ''المھدِّ طاووس أھلَ الجَنَّةِ وجھہ کالقمر الدری علیہ جلابیب النور'' امام زمانہ اہل بہشت کے لئے طائووس (مور ) کی طرح ہیں آپ کاچہرہ چاند کی طرح منور اور جسم پر نورانی لباس ہوگا ۔

۱۲۔ نہ دراز نہ پستہ بلکہ میا نہ قد ہوںگے ۔

۱۳۔ قدوقامت ایسا اعتدال وتناسب کے سانچہ میں ڈھلا ہوگا کہ چشم عالم نے اب تک نہ دیکھا ہوگا ۔''صلی اللّہ علیہ وعلی آبائہ الطاہرین ''

۱۹۵

امام زمانہ کی غیبت صغریٰ

غیبت صغریٰ کا آغاز آپ کے پدر بزگوار کی شہا دت اور ان پر نماز پڑھنے کے بعد ہو ا ۔اس غیبت میں امام زمانہ نے اپنے لئے خصوصی نائب چنے جن کے ذریعہ شیعوں کی ضروریات اور ان کے سوالات کا جواب دیتے تھے کچھ دن تک چار نمایندے ایک کے بعد ایک آپ کاحکم اور جو اب لے کر شیعوں تک پہنچاتے تھے ۔

امام کے پہلے نائب خاص :ابو عمر عثمان بن سعید العمری الاسدی تھے جن کی نیابت ۲۶۰ھ سے شروع ہوکر ۲۸۰ھ پر ختم ہو گئی ۔

دوسرے نائب :ان کے بیٹے محمد بن عثمان العمری تھے جو باپ کے انتقال کے بعد ۲۸۰ ھ سے ۲۰۵ ھتک نائب تھے ۔

تیسرے نائب :ابوالقاسم الحسین بن روح نو بختی جن کی نیابت ۳۰۵ ھ سے لے کر ۳۲۶ھ تک تھی ۔

چوتھے نائب :ابو الحسن علی بن محمد سمری ۳۲۶ھ سے لے کر ۳۲۹ ھتک تھے او ر اسی سال ۱۵شعبان کو انتقال کر گئے ۔

ان حضرات کے نیابت کی جگہ بغداد تھی اور یہ سب بغداد میں ہی مدفون ہیں اس کے بعد غیبت کبریٰ کا آغاز ہوجاتا ہے۔

امام زمانہ کی غیبت کبریٰ

امام زمانہ کی غیبت کبری علی بن محمد سمری کے انتقال سے چھ دن قبل امام زمانہ کی جانب سے توقیع شریف جاری ہوئی ۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا علیِّ بن محمّد ا لسّمری أعظم اللّه أجر اخوانک فیک فاِنّک میت ما بینک وبین ستة أیام فاجمع أمرک ولا توص اِلیٰ أحد فیقوم مقامک بعد وفاتک فقد وقعت الغیبة التامة فلا ظهور اِلاّ بعد اِذن اللّه تعالیٰ ذکره و ذلک بعد طول الأمد وقسوة القلوب وامتلاء الأرض جوراً وسیاتی من شیعتیِ مَن یدعیِ المشاهدة الا فمن ادعیٰ المشاهدة قبل خروج السّفیانیِ والصیحة فهوکذّاب مفترّ ولا حول ولا قوة اِلّا باللّه العَلِّی العظیم.

۱۹۶

اے علی بن محمد سمری! ''خدا تمہاری موت پر تمہارے بھائیوں کو صبر اور اجر عظیم عطا کرے اب سے چھ دن کے اندر تمہارا انتقال ہوجائے گا ،لہٰذا اب تم اپنے امور کو مرتب کرلو اور آئندہ کے لئے کسی کو اپنا وصی مقرر نہ کرنا،جو تمہارے انتقال کے بعدتمہارا جانشین قرار پائے کیونکہ اب غیبت تامہ (کبری ) کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور اب اس وقت ظہور ہوگا جب خدا کا حکم ہو گا اوریہ ایک طویل مدت اوردلو ں کے سخت ہوجانے اور زمین کے ظلم سے بھر جانے کے بعد ہی ہو گا ۔آئندہ زمانے میں ہمارے شیعو ں میں سے بعض اس بات کا دعوی کریں گے کہ ہم نے امام زمانہ کو دیکھا ہے لیکن جو شخص سفیانی کے خروج اور آسمانی آواز سے پہلے مجھے دیکھنے کا دعوی کرے وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے اور کوئی طاقت وقوت نہیں سوائے بلند وعظیم خد اکے''۔( ۱ )

لہٰذا اب لوگ غیبت کبری میں علماء مجتہدین کی طرف رجوع کریں جیسا کہ خود امام زمانہ نے اسحاق بن یعقوب کے مسئلہ کے جواب میں جومحمد بن عثمان بن سعید سمری کے ذریعہ امام تک پہنچاتھا ۔آپ نے فرمایا :''وأمّا الحوادث الواقعة فارجعوا فیهااِلیٰ رواة أحَادیثنا فأِنّهُم حُجَّتِی علیکم وأنا حُجّة اللّهِ علیهم'' ا ب اگر کوئی نیا مسئلہ درپیش ہوجا ئے تو اس میں راویان حدیث کی جانب رجوع کرنا کیونکہ یہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم خدا کی طرف سے ان کے لئے حجت ہیں۔

''اللَّهمَّ عَجّل فَرجه واجعلنا من أعوانه وأنصاره'' (آمین )( ۲ )

____________________

(۱) منتھی الامال نقل از شیخ طوسی وصدوق ۔(۲)بحث امامت کی تدوین و ترتیب میں حسب ذیل کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے ؛ بحارالانوار ، حق الیقین مرحوم مجلسی ؛ اثبات الھدی، شیخ الحر عاملی ؛ المراجعات شرف الدین ، بررسی مسائل کلی امامت ابراہیم امینی اصول اعتقادرا این گونہ تدریس کنیم ، امامی ، آشتیانی ، حسنی ) کتابھا ، عقائد آقایان مکارم شیرازی ، سبحانی استادی ری شہری، قرأتی کلمة الطیب ، مرحوم طیب۔

۱۹۷

سوالات

۱۔امام زمانہ کے شمائل کو مختصر طور پر بیان کریں ؟

۲۔ غیبت صغری کسے کہتے ہیں اور یہ کب تک جاری رہی ؟

۳۔نواب اربعہ کے نام بتائیں ؟

۱۹۸

انتیسواں سبق

ولایت فقیہ

عربی میں ولا یت کے دومعنی بیان کئے گئے ہیں ۱۔رہبری اور حکومت ۲ ۔ سلطنت( ۱ ) جب ولایت کسی فقیہ کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی معاشرہ کی راہنمائی اور ان کی رہبری ہے اگر اسلام کے سیاسی نظام کی شرح کی جائے اور اس کے سیاسی پہلوئوں کو اجاگر کیاجائے تواس صورت میں ولایت فقیہ غیبت امام زمان میں اس مذہب کا ایک اہم رکن ہوگا ۔

اہل تشیع کے نزدیک عصر غیبت میں ولایت فقیہ ائمہ معصومین کی ولایت کی تکمیل واستمرار ہے جس طرح ائمہ کی امامت رسول کی ولا یت کا دوام ہے اس عقیدہ کااصل مقصد یہ ہے کہ اسلامی حکومت کی کلید باگ ڈور سنبھالنے کے لئے ایک صدر مقام ہو اور وہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہوجواسلام کی صحیح شناخت رکھتا ہو اگر عصر معصوم ہے تو خود معصوم اس کی نظارت فرمائیں اور ان کی عدم موجودگی میں فقیہ جامع الشرائط اس عہدہ کو ذمہ دار ہو گا۔چونکہ اسلام کی نظرمیں حکومت کا اصل کام ضروریات اسلام اوراحکام اسلامی کو لوگوں کے درمیان نافذ کرنا ہے۔اور اس مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حکم کوقطعی اور حتمی صورت دینے والا شخص دین کی مکمل شناخت رکھتاہو ۔

____________________

(۱) قاموس المحیط ص،۱۷۳۲ مصباح المنیر ج،۲ ص ۳۹۶ تاج العروس ج،۱۰ ص ۳۹۸ ۔

۱۹۹

ولایت فقیہ پر دلیل

ولایت فقیہ پرعقلی دلیل

اس میں کو ئی شک نہیں کہ ہرسماج اورہر حکومت کے لئے رہبر کا ہونا ضروری ہے، اگر کسی سماج میں اسلامی حکومت وسلطنت ہو تو عقل کا تقاضا ہے کہ اس حکومت کی باگ ڈور ایسے ہاتھ میں ہوجو احکام وقوانین اسلامی کومکمل طور سے جانتا ہو، اب اگر امام معصوم لوگوں کے درمیان ہے تو وہ اس منصب کا حقیقی حقدار ہے ۔

لیکن زمانہ غیبت میں معاشرہ کی رہبریت کی صلا حیت رکھنے والا فقیہ عادل اس مقام کامستحق ہے۔دوسرے لفظوںمیں یوں کہاجائے کہ اسلامی قوانین اوراحکام اسلامی کوجاری کرنے والے کے لئے تین شرطوں کاہونا ضروری ہے ۔

۱۔''بہترین قانون شناس ہو'' ۲۔'' قوانین اسلام کابہترین مفسر ہو''

۳۔''قوانین اسلام کا بہترین عالم اور نافذ کرنے والاہو او ر کسی قسم کے اغراض ومقاصد کے تحت مخالفت کاقصدنہ رکھتا ہو ''۔

اس خصوصیت کا حامل اس زمانہ غیبت میں ولی فقیہ ہے ۔

ولایت فقیہ :یعنی ایسے اسلام شناس عادل کی طرف رجو ع کرناجو سب سے زیادہ امام معصوم سے قریب ہو ۔

دلیل نقلی:

ولایت فقیہ کے اثبات کے لئے بہت ساری روایتیں پائی جاتی ہیں جن میں بعض کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔

۱۔ توقیع شریف جیساکہ صدوق نے اسحاق بن یعقوب سے نقل کیاہے کہ امام زمانہ نے ان کے سوال کے جواب میں جوخط لکھا تھا وہ یہ حکم تھا۔

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303