اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )18%

اصول عقائد (چالیس اسباق میں ) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 303

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 303 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 155128 / ڈاؤنلوڈ: 4154
سائز سائز سائز
اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

اصول عقائد (چالیس اسباق میں )

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

تاریخی حقائق اور سیف کا افسانہ:

داستان کی حقیقت یہ تھی کہ قیس پر ''داوذیہ'' کو قتل کرنے اور ایرانیوں کو صنعا سے نکال باہر کرنے کی تدبیر کا الزام تھا۔ اس لئے ابوبکر نے اپنے کارگزار کو حکم دیا تھا کہ صنعا میں داخل ہونے کے بعد قیس کو گرفتار کر کے اس کے پاس مدینہ بھیجدے ۔ قیس نے بھی مدینہ پہنچ کر خلیفہ کے پاس قسم کھائی کہ داذویہ کے قتل میں اس کا دخل نہیں تھا ۔ اورخلیفہ نے اسے جنگ کے لئے شام بھیجدیا۔ قیس کی پوری روایت یہی تھی اور بس!

لیکن، سیف اپنی تخلیق توانائی سے استفادہ کرتے ہوئے اس مختصر اور جھوٹی داستان کے شاخ وبرگ نکال کراسے ایک طویل افسانہ میں تبدیل کر دیتا ہے اور اسے ارتداد کے دوسرے افسانوں کے ساتھ بڑی آب و تاب کے ساتھ '' یمنیوں کے دوسرے ارتداد'' کے عنوان سے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے ۔

وہ اپنے افسانہ میں سب سے پہلے قیس کو ابوبکر کے فیروز کو یمن پر حاکم منصوب کرنے کے حکم کے نتیجہ میں فیروز،جشیش اور داذویہ کے خلاف اکساتا ہے اور اس کے بعد منظر کشی کرکے داذویہ کو قتل کراتا ہے ، اس کے بعد اسود عنسی کی تتر بتر ہوئی سپاہ کو اس کے گرد جمع کرکے صنعااور اس کے اطراف کے تمام علاقوں پر قابض کراتا ہے ، اس کے بعد ایرانیوں کے خاندان کو اس کے ذریعہ دوگر و ہوں میں تقسیم کر اکے ایک حصہ کو آبی راستہ سے اور دوسرے گروہ کو خشکی کے راستہ سے ان کے اپنے وطن ایران روانہ کراتا ہے ۔ آخر کار عرب قبائل فیروز کی مدد کے لئے آتے ہیں اور خلیفہ کی طرف سے بھیجے گئے سپاہیوں کی ہمت افزائی اور ''مھاجر بن ابی امیہ '' کے ذریعہ قیس کی حکومت کا شیرازہ بکھیر کے رکھدیتا ہے اور قیس کو گرفتا ر کر کے دست بستہ خلیفہ ابوبکر کی خدمت میں مدینہ بھیجتا ہے۔

سیف کے اس افسانہ نے امام المورخین طبری کی تاریخ کبیر کے دس صفحوں میں جگہ لی ہے

سیف نے اس افسانہ میں چھہ راوی پیش کئے ہیں اور ہر ایک کو دوسرے پر ناظر و موید قرار دیتا ہے کہ اس میں حقیقی راویوں کے ساتھ ساتھ اس کے جعلی اور خیالی راوی بھی نظر آتے ہیں ۔

سیف نے اس افسانہ کا نام'' یمانیوں کا دوسرا ارتداد '' رکھا ہے اور طبری نے بھی اسے اسی عنوان سے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے.

۱۸۱

طبری کے بعد اس کے مکتب کے شاگردوں جیسے ابن اکثیر اور ابن خلدون میں سے ہر ایک نے اپنی باری پر اس افسانہ کو اس سے نقل کر کے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ یہیں سے یہ موصنوع ارتداد کی دوسرے روایتوں ، اور اسی نام سے دوسری خونیں جنگوں اور بے رحمانہ قتل عاموں نے اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ایک زندہ دلیل دیدی ہے تاکہ وہ اس ذریعہ ادعا کر یں کہ اسلام تلوار کی ضرب اور زور زبردستی سے قائم ہو ا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے ! عجیب بات یہ ہے کہ ابن حجر جیسے صحابی شناس علامہ نے سیف کی اس روایت کاپورا پورا فائدہ اٹھا کر ،اس سے ''ذویناق''اور شہر ''نامی دو اصحاب انکشاف کئے ہر ایک کے لئے الگ سے اپنی کتا ب ''اصابہ'' میں شرح لکھی اور ان کے آخر میں حرف(ز) لکھا ہے تاکہ سب جان لیں کہ ان کا صرف ابن حجر نے انکشاف کیا ہے نہ کہ کسی اورنے !

اس عالمنے ''ذویناق''کو اصحاب کے پہلے طبقہ میں رکھا ہے ، لیکن اس کی داستان کو ''شہر '' کی داستان کے حوالہ کیا ہے ۔

''شہر '' کی داستان اور اس کے حالات کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں درج کیا ہے اور اس کی روایت کو طبری سے نقل کیاہے اور ہم نے دیکھا کہ طبری نے خود اس داستان کو سیف بن عمر سے نقل کیا ہے اور اس کانام بھی ''شہر ذونیاف '' رکھا ہے نہ ''ذونیاق''۔!

٨٦واں جعلی صحابی معاویہ ثقفی

ابن حجر نے اس صحابی کے حالات کے سلسلہ میں ''یمانیوں کا دوسرا ارتداد'' نامی سیف کی روایت سے استفادہ کر کے یوں لکھا ہے :

۱۸۲

معاویہ ثقفی احلاف سے :

طبری نے لکھا ہے کہ خلافت ابوبکر کی ابتداء میں '' معاویہ ثقفی'' بنی عقیل کے جنگجوؤں کے ایک گروہ کی سرپرستی میں ''فیروزدیلمی '' کی مدد کے لئے گیا تھا اور اس نے یمینوں کے مرتدوں کے چنگل سے اس کے رشتہ داروں کو نجات دلائی ہے ۔

سیف بن عمر نے بھی ان ہی مطالب کو درج کرکے اضافہ کیا ہے کہ معاویہ ثقفی''کی رہبری میں عقیلیوں نے فیروز دیلمی کے رشتہ داروں کو ''اسودعنسی کے مارے جانے سے پہلے ''قیس بن عبدلغیوث'' کی قید سے نجات دلائی ہے ۔ اس کے بعد ابن حجر مزید لکھتا ہے :

اس صحابی کا نسب ''عقیلی '' تھا ، گو یاوہ ''بنی عقیل ثقیف ''سے تھا ۔ ہم نے اس سے پہلے بھی یاددہا نی کی ہے کہ ۔ قریشوں اور ثقیفیوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے ابوبکر کے زمانے میں یا ان ہی دنوں میں جنگوں میں شرکت کی تھی ، چونکہ وہ حجتہ الوداع میں حاضر تھے اس لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی شمار ہوتے ہیں !(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ابن حجر نے اپنی کتاب کی اسی جلد میں چند صفحات کے بعد ''معاویہ عقیلی ''نام کے ایک اورصحابی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان ہی مذکورہ مطالب کو حسب ذیل لکھا ہے :

معاویہ ٔ عقیلی :

وہ ان افراد میں سے ہے کہ جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھاہے ۔ سیف بن عمر نے اپنی کتاب''فتوح'' میں اس کا نام لیا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے ''فیروزویلمی کے خاندان اور دوسرے ایراینوں کو قیس کی قید سے نجات دلائی ہے اس ماجرا کی تفصیل یوں ہے :

جب ''قیس بن مکشوح '' نے صنعا پر قبضہ کیا اور ایرانی عورتوں اور بچوں کو پکڑ کر یمن سے بالکل باہر کیا تو فیروز نے ان کی نجات کے لئے بنی عقیل سے مدد طلب کی اور اس کے نتیجہ میں عقیلوں نے ''معاویہ '' کی سرپرستی میں اس کی مدد کی اور راستے میں قیس کے سواروں کو پکڑ کر ان سے ایک جنگ لڑنے کے بعد انھیں باگھنے پر مجبور کیا۔ اس طرح ایرانی عورتوں اور بچوں کو ان سے آزاد کر انے میں کامیاب ہوئے۔ فیروز نے بھی چند اشعار کے ذریعہ ''معاویہ '' اور عقیلیوں کی قدر دانی کی ہے ۔(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ابن حجر ''معاویہ ثقفی '' اور ''معاویہ عقیلی'' نام کے دو صحابیوں کو تنہا سیف کی روایت سے انکشاف کرکے مغالطہ کا شکار ہوا ہے ۔ اس نے ایک بار اس تنہا ''معاویہ کو ثقفی جان کر اس کے حالات پر روشنی ڈالی اور اسے طبقہ اول کے صحابیوں میں شمار کیا ہے اور دوسری دفعہ بھی اسی کو '' عقیلی'' کہکر صحابیوں کے تیسرے طبقہ میں شمار ہے ۔

۱۸۳

اس کی ایک دوسری فاش غلطیی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے :

اس صحابی کا نسب ''عقیلی '' ہے اور گویا ''بنی عقیل ثقیف''سے ہے !

ابن حجر اس لئے اس کوو ہم کا شکار ہو ا ہے کہ سیف بن عمر نے کہا ہے کہ:

فیروزنے ''بنی عقیل بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ '' کو ایک قاصد بھیجا اور اس سے مدد طلب کی ۔ عقیلی ، حلفاء سے ''معاویہ نام کے ایک شخص کی سرپرستی میں اس کی مدد کے لئے آگے ئ۔۔۔۔۔۔۔(تاآخر)

جبکہ ''عقیل بن ربیعہ بن عامر '' کی عقیلی اولاد معا ویہ بن بکربن ھوازن'' کی اولاد میں سے ہیں ، کہ انھیں ''عقیل '' کہتے تھے اور وہ بحرین میں زندگی بسر کرتے تھے ۔ لیکن''ثقیف '' ''منبہ بن بکر بن ہو زان'' کی اولاد تھے اور طائف میں رہتے تھے ۔

اس لحاظ سے سیف کا معاویہ عقیلی '' ثقفی '' نہیں ہوسکتا ہے تاکہ ابن حجر اوراس کے ہمفکروں کے تصور کی بنیاد پر اس معاویہ کو صحابیوں کی فہرست میں قرار دیا جاسکے ۔

اور اس معاویہ ٔ ثقفی کو غلطی سے ''معاویہ ثقفی بصری '' خیال نہیں کیا جانا چاہئے ۔کیونکہ ''معاویہ بصری بن عبدالکریم بن عبدالرحمان'' ، ثقیف کا اور ابوبکرہ کا آزاد کردہ ، ''ضال'' نام سے معروف ہے ١٨٠ھ میں وفات پائی ہے ۔

اور یہ جو ابن حجر کہتا ہے ، ''قریش وثقیف'' سے جن لوگوں نے ابوبکر کے زمانہ کی جنگوں میں شرکت کی ہے ،وہ اصحاب میں شمار ہوتے ہیں ، انشاء اﷲآیندہ ا س پر بحث و تحقیق کریں گے ،

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہاس عالم نے ،سیف کی اسی روایت کے پیش نظر ''سعید عافر'' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار کرتے ہوئے اس کے بارے میں کہا ہے :

سعید بن عافر:

یہ ان پانچ افراد میں سے ہے جنھیں ابوبکر نے خط لکھ کر ''فیروز ویلمی ''کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے ۔۔۔(تاآخر کلام ابن حجر)

ہم اس سعید بن عافر کو ان افراد میں سے شمار کرتے ہیں کہ سیف نے جن کیلئے صحابیت کو گڑھ لیا ہے۔ انشاء اﷲ ہم اس کتاب کے اگلے صفحات میں اس سعید اور اس جیسے دوسرے اشخاص کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالیں گے ۔

۱۸۴

افسانہ ''شہرو معاویہ'' سے سیف کانتیجہ :

سیف نے ''قیس ''کے صنعا میں ابوبکرکے منصوب حاکم کے خلاف شورش کے افسانہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے مندرجہ ذیل دوصحابی جعل کئے ہیں ۔

١۔شہر ذویناف،یا (ذویناق)

٢۔معاویہ ٔثقفی

ان کو جعل کرنے کے علاوہ سیف بن عمر نے درج ذیل حقیقی اشخاص:

٣:معاویۂ عقیلی ۔

٤۔سعید بن عافر اور ان جیسے دیگر اشخاص کو ،جن کے حالات پر ہم بعد میں روشنی ڈالیں گے،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی شمار کیا ہے ۔

اس کے علاوہ سیف نے ایسی روایت گڑھ کر اپنے قبیلہ کے دیر ینہ دشمنوں یعنی یمانی اور قحطانیوں پردوبار مرتد ہونے اور دین اسلام سے مخرف ہونے کی تہمت لگا کر ان کی سرزنش اور ملامت کی ہے ۔

سیف کے ان ہی جھوٹ کے پلندوں کی وجہ سے ، یہ اتہامات اسلام کے معتبر منابع ومصادر میں حقیقی اور تاریخی مآخذ کے طور پر درج کئے گئے ہیں تاکہ یمانی وقحطانیوں کے لئے رسوائی کے علاوہ خود اسلام کے پپیکر پر ایک کاری ضرب واقع ہو ! کیونکہ سیف نے ارتداد کی جنگوں کے تعجب انگریزافسانوں کو خلق کرکے ، لشکر کشیوں اور ہزارہا بے گناہ انسانوں کا خون بہا کر یہ دکھلایا ہے کہ اسلام زورزبردستی ، تلوار کی ضرب ، خون کی ہولی کھیل کر اور خوف ودہشت کے ذریعہ پھیلا ہے نہ کہ کسی اور چیز سے ۔افسوس ہے کہ اس کے افسانوں کو اسلام کی معتبر تاریخ کی کتابوں میں جگہ ملنے کی وجہ سے اس کے مقاصد پورے ہوئے ہیں ۔!

مصادر و مآخذ

ذویناف کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (١/٤٧٧) حصہ اول نمبر:٢٤٨٣

۱۸۵

شہر کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٢/١٦٣) حصہ سوم نمبر:٢٩٨٧

معاویہ ثقفی کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٣/٤١٧) حصہ اول نمبر:٨٠٨٦

معاویہ عقیلی کے حالات:

''اصابہ''ابن حجر ٣/٤٧٣) حصہ سوم نمبر:٨٤٨٣

افسانہ شہر ، معاویہ ، اور قیس کے بارے میں سیف کی روایات:

١۔''تاریخ طبری '' (١/١٩٨٩۔١٩٩٩)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' (٢/٢٨٧۔٢٨٩)

٣۔تاریخ ابن کثیر (٦/٣٣١)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٧٤۔٢٧٨)

داستان قیس کے بارے میں تاریخی حقائق:

١۔''فتوح بلدان'' بلاذری (١٢٧)

معاویہ بن عبدالکریم کے حالات:

١۔''جرم و تعدیل'' (٤/٣٨١) حصہ اول نمبر: ١٧٤٩

٢۔''تاریخ بخاری '' (٤/٣٣٧) حصہ اول نمبر: ١٤٥١

٣۔''تذھیب الکمال'' (٣٢٦)

۱۸۶

ساتواں حصہّ:

حضرت ابوبکر کی جنگوں میں شرکت کرنے کے سبب بننے والا اصحاب

٨٧۔سیف بن نعمان لخمی

٨٨۔ ثمامہ بن اوس طائی

٨٩۔مہلہل بن زید طائی

٩٠۔غزال ھمدانی

٩١۔معاویہ بن آنَس سلمی

٩٢۔جرادبن مالک تمیمی

٩٣۔عبد بن غوث حمیری

۱۸۷

حضرت ابو بکر کی سپاہ کو مدد پہنچانے کے سبب بننے والے اصحاب۔

٧٩واں جعلی صحابی سیف بن نعمان

اس صحابی کو ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ '' میں یوں پہچنوایا ہے :

سیف بن نعمان لخمی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں لکھا ہے کہ ''سیف بن نعمان '' نے حضرت ابوبکر کی خلافت کے اوائل میں ''اسامہ بن زید'' کیساتھ ''بنی جُذام'' کی جنگ میں شرکت کی ہے اور اس کے کچھ اشعار بھی درج کئے ہیں (ز)(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کا نسب :

سیف بن عمرنے اس صحابی کو ''لخمی '' خلق کیا ہے کہ یہ '' بنی زید بن کہلان کے ابن سبأ کے مالک بن عدّی '' کے '' لخم ''سے نسبت ہے ۔ لخم و جذام دو قبیلے تھے اور یمن میں زندگی بسر کرتے تھے۔

سیف بن نعمان اور بنی جذام کی جنگ:

اسامہ بن زید کی جُذام سے جنگ کی خبر ١١ھکے حوارث کے ضمن میں تاریخ طبری میں آئی ہے لیکن اس میں سیف بن عمر کے خلق کئے گئے اور منظور نظر سیف بن نعمان کا کہن نام و نشان نہیں ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن حجر نے اس صحابی کے حالات کو بلا واسطہ سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح '' سے نقل کیا ہے اور طبری نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔

۱۸۸

اس کے علاوہ سیف بن نعمان کا نام ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' کے علاوہ اسلامی منابع و مصادر کی کسی اور کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس لئے قاعدہ کے مطابق ہم نے اس سیف بن نعمان لخمی کو سیف بن عمر کے جعلی اصحاب میں شمار کیا ہے ۔ ابن حجر نے سیف بن نعمان لخمی کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں قرار دیا ہے کیونکہ سیف بن عمر نے کہا ہے کہ اس نے ابو بکر کی خلافت کے اوائل میں جذامیوں کی جنگ میں شرکت کی ہے !

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف کا ''سیف بن نعمان لخمی'' '' سیف بن نعمانی'' سے الگ ہے کہ بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور جس سیف کا بخاری نے نام لیا ہے وہ ''تابعین '' کے شاگردوں میں سے تھا نہ یہ کہ خود صحابی ہوتا ۔

مصادر و مآخذ.

سیف بن نعمان لخمی کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٢/١١٨) تیسرا حصہ نمبر:٣٧٢٦

خاندان لخمی کا نسب:

١'۔'اللباب'' (٣/٦٨)

اسامہ بن زید کی جذا میوں سے جنگ:

١۔تاریخ طبری (١/١٨٧٢)

سیف بن نعمان ، شاگرد و پیرو تابعین کے حالات:

١۔تاریخ بخاری (٢/١٧٢) دوسرا حصہ نمبر:٢٣٧٠

۱۸۹

٨٨واں جعلی صحابی ثمامہ بن اوس

ابن حجر اس صحابی کے تعارف میں یوں لکھتاہے :

ثمامہ بن اوس بن ثابت بن لام طائی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب''فتوح'' میں اس کا ذکرکیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوران جب '' ضرار بن ازور'' طلیحہ'' سے نبرو ازما تھا ، ثمامہ بن اوس'' نے اسے یعنی ضرار کو حسب ذیل مضمون کا ایک پیغام بھیجا ہے :

میرے ساتھہ'' جلدیلہ'' کے پانچ سو جنگجو ہیں ۔۔۔۔۔(تاآخرداستان)

اس مو ضوع سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اس نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا ہے ۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

مذکورہ داستان کہ جس کے بارے میں ابن حجر نے صرف ایک اشارہ کیا ہے ، طبری نے ١١ ھ کی روداد کے ضمن میں '' طلیحہ سے ملحق ہونے کے بارے میں غطفان کی باقی خبر کو'' کے عنوان سے کہ جب وہ طلیحہ سے ملحقہ ہوئے ہیں ''عمارة بن فلان اسدی '' کے ذریعہ سیف سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں حسب ذیل درج کیا ہے :

جب طلیحہ اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہو ا ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''ضرار بن ازور '[ کو مأ مور کیا کہ بنی اسد '' میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارگزاروں سے رابط قائم کرکے انھیں طلیحہ کی بغاوت کو سر کو ب کرنے کے لئے آمادہ کرے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اشارہ پر طلیحہ سے جنگ کرنے کے لئے ایک سپاہ آمادہ ہوئی اور مسلمانوں نے ''واردات'' کے مرتدوں اور ''سمیرا'' مشرکوں کو سر کوب کرنے کے لئے مور چے سنبھالے۔ دوسری طرف ذوالخمار بن عوف جذمی '' اور اس کے ساتھی بھی ''طلیحہ '' کے مقابلہ میں کھڑے ہوگئے ۔

اسی اثنا ء میں '' ثمامہ بن اوس بن لام طائی '[ نے اس کے لئے پیغام بھیجا کہ:

میرے ساتھ ''جدیلہ '' کے پانچ سو جنگجو ہیں ، اگر کوئی مہم پیش آئے اور تمہارے لئے کام مشکل ہو تو ہم ''قردودہ یا النسر '' کی بلندیوں کے نذدیک مورچے سنبھالے ہوئے ہیں اور ہر لمحہ تمہاری مدد کے لئے تیار ہیں ۔

ہم اس بحث پر دوبارہ روشنی ڈالیں گے ۔

۱۹۰

٨٩واں جعلی صحابی مہلہل بن زید

ابن حجر نے اس صحابی کا یوں تعارف کر ایا ہے :

مہلہل بن زید الخیل طائی :

''طی '' کی طرف سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچنے والے نمایندوں میں اس صحابی کا نام دکھائی نہیں دیتا ہے .، بہر حال سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور لکھا ہے کہ جب ''ضرار بن ازور'' پیغمبری کے مدعی ''طلیحہ '' سے لڑ رہا تھا ، ''مہلہل بن زید صا ئی '' نے اس کے لئے پیغام بھیجا ہے کہ اگر طلیحہ سے جنگ میں مشکل سے دو چار ہوئے تو ہمیں اطلاع دینا ہم ، عرب جنگجوؤ ں کے ہمراہ ''اکناف ''،'' قید'' کے کنارے پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں ، اور تمہاری مدد کے لئے حاضر ہیں ۔

یہ مطلب اس بات کی دلیل ہے کہ اس صحابی' مہلہل بن یزیدنے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھا ہے ،کیونکہ ''طلیحہ '' کی داستان ابوبکر کے زمانہ میں پیش آئی ہے اور اس کا باپ یزید الخیل بھی معروف صحابی ہے ۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

مہلہل بن زید کا نام سیف کی ایک دوسری روایت میں ٢٢ھ کے حوارث کے ضمن میں ''تاریخ طبری '' میں آیا ہے ۔ طبری نے اس روایت میں سیف سے نقل کر کے لکھا ہے :

''نعیم بن مقر ن '' نے علاقہ ''دستبی'' کے نظم و انتظا م کوفہ کے سردار وں ''عصمتہ ابن عبداﷲضبّی'' اور ''مہلہل بن زید طائی '' میں تقسیم کیا اور ۔۔۔ (یہاں تک کہ کہتاہے :)

یہ لوگ ( یعنی عصمتہ ابن عبداﷲ اور مہلہل ) پہلے حاکم تھے جو علاقہ دستبی سے ''دیلمیوں '' سے جنگ کے لئے اٹھے ہیں ۔

یہ بات قابل بیان ہے کہ ''اسدالغابہ '' تجرید '' اور اصابہ '' میں '' مسلمہ البضی '' کی روایت کی بناپر ایک اور ''مہلہل '' کے حالات کی تشریح ملتی ہے کہ ابن حجر نے اس کی پہچان کے سلسلے میں لکھا ہے :

اس صحابی کو پہچنوانے کے سدمہ میں ایک ایسے راوی کانام ملتا ہے جو سخت مجہول اور نامعلوم ہے !

اس لحاظ سے ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے عنوان سے دو مہلہل دکھائی دیتے ہیں جو حسب ذیل ہیں :

١۔ مہلہل طائی ، کہ ابن حجر نے اس کے حالات کی تفصیل سیف بن عمر سے نقل کی ہے ۔

٢۔مہلہل مجہول النسب : اس کے حالات کی تشریح ایک مہجول اور نا معلوم راوی سے نقل کی گئی ہے ۔

۱۹۱

ثمامہ و مہلہل کے بارے میں ایک مجموعی بحث

ہم دوبارہ اصل داستان کی طرف پلٹتے ہیں :

طبری نے ١١ھ کے حوادث کے ضمن میں سیف بن عمر سے نقل کرکے لکھا ہے کہ جب طلیحہ مرتد ہوا اور اس نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ، تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ضراربن ازور '' کو حکم دیا کہ قبائل بنی اسد میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارگزاروں اورگماشتوں سے رابطہ برقرار کرکے انھیں طلیحہ کی بغاوت کو کچلنے کے لئے آمادہ کرے ۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے مسلمان آمادہ ہو کر طلیحہ سے لڑنے کے لئے باہر نکلے اور انہوں نے ''واردات'' کے مقام پر اور مشرکوں نے ''سمیرا'' کے مقام پر مورچے سنبھالے ۔ ''ذوالخمار بن عوف جذمی '' نے طلیحہ کے مقابلے میں اپنی سپاہ کو لا کھڑا کیا تھا۔

اسی اثنا ء میں '' ثمامہ بن اوس بن لام طائی '' نے ذوالخمار '' کو پیغام بھیجاکہ میں ''جدیلہ '' کے پانچ سو جنگجؤ ئی کے ہمراہ '' قردودہ یا انسر'' کی بلندیوں کے پاس مورچے سنبھالے ہوئے ہوں ، اگر طلیحہ سے جنگ میں کوئی مشکل پیش آئی تو ہم تمہاری مدد کے لئے آمادہ ہیں

مہلہل بن زید نے بھی ذو الخمار کو پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ قبیلہ ٔ طے '' غوثی '' کے جنگجو ہیں اور ہم نے ''فید '' کے اطراف میں مورچے سنبھالے ہیں ۔ اگر طلیحہ کے ساتھ تمہیں جنگ میں کوئی مشکل پیش آئی تو ہم مدد کے لئے آمادہ ہیں ۔

سیف نے یہاں پر خصوصی تاکید کی ہے کہ طی کے جنگجو ''ذوالخمار بن عوف '' کے گرد جمع ہو کر اس کے حکم کی اطاعت کررہے تھے ۔

۱۹۲

''ثمامہ اور مہلہل '' کے اسناد:

اس سے پہلے کہ ہم سیف کی روایت اور اس کی روایت کو سمجھنے میں ابن حجر کے مغالطہ کے بارے میں بحث کریں ، مناسب ہے کہ پہلے یہ دیکھیں کہ سیف نے اپنے افسانہ کو کن راویوں کی زبان سے جاری کیا ہے اوریہ افسانہ کس طرح اسلامی منابع و مصادر میں درج ہو اہے

سیف نے اپنی روایت کو ''طلحہ بن اعلم اور حبیب بن ربیعہ اسدی سے اور عمارة بن فلانی اسلامی '' سے روایت کی ہے کہ ان میں ''حبیب وعمارہ '' اس کے جعلی راوی ہیں ۔

معتبر منابع میں سیف کا افسانہ:

سیف کی یہی جعلی روایت مندرجہ ذیل جغرافیا کی کتابوں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے حالات پر مشتمل کتابوں میں نظر آتی ہے۔

عالم اسلام کا عفلیم جغرافیہ دان یاقوت حموی اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں لفظ '' اکناف '' کے سلسلے میں لکھتاہے :

''اکناف'':

جب طلیحہ بن خویلد نے پیغمبری کا دعویٰ کیا اور ''سمیرا'' میں پڑاؤ ڈالا۔ مہلہل بن زید طائی نے اس کے لئے پیغام بھیجا کہ میرے ساتھ ''غوث '' کے دلیراور جنگجوہیں ، اگر کوئی مسٔلہ پیش آیا اور کسی قسم ضرورت محسوس کی ، تو ہم نے ''اکناف '' میں ''فید''کے نزدیک مورچے سنبھالے ہیں ۔

حموی نے بھی لفظ ''سمیراء '' کے سلسلہ میں سیف کی اسی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے اور مہلہل کے طلیحہ کو مدد کرنے کی روایت کی ہے ۔

۱۹۳

اس کے علاوہ وہ لفظ ''قردودہ '' کے بارے میں لکھتا ہے :

جب طلیحہ بن خولید نے پیغمبری کا ادعا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔( یہاں تک کہتا ہے :)

ثمامہ بن اوس نے پیغام بھیجا کہ میرے ہمراہ جدیلہ کے پانچ سو دلاور جنگجو ہیں اگر تجھہ پر کوئی مشکل گزری اور ہماری مدد کی ضرورت کا احساس کیا تو ہم '' قر دودہ'' میں مورچے سنبھالے ہوئے ہیں اس طرح حموی جیسا دانشمند اور محقق اپنی گراں قدر کتاب میں دوجگہ پر لکھتاہے کہ مہلہل نے طلیحہ کو پیغام بھیجا اور اپنی اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے مدد کرنے کا اعلان کیا ہے

جبکہ ہم نے دیکھا کہ ابن حجر ثمامہ اور مہلہل کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے کہ ان دوصحابیوں نے ''ضر ار بن ازور ''کے لئے پیغام بھیجا ہے اور طلیحہ سے اس کی جنگ میں مدد کرنے کی پیشکش کی ہے ، جبکہ ان دونوں عالموں نے مغالطہ کیا ہے ، کیونکہ :

تاریخ طبری میں موجود سیف کی روایت میں بالترتیب ''طلیحہ ، ضرار اور ذوالخمار '' کے نام آئے ہیں ۔ اور عبارت ''وَاَرسَلَ اِلَیہِ''جہاں پر سیف کہتا ہے :''واقبل ذوالخمار بن عوف جذمی حتی نذل بازاء طلیحہ و ارسل الیہ۔۔' میں ( اس کی ) ضمیر داستان کے آخری شخص ذوالخمارکی طرف پلٹتی ہے ۔ یعنی ثمامہ و مہلہل نے ''ذوالخمار '' کے لئے پیغام بھیجا ہے اور اپنی طرف سے مدد کی پیشکش کی ہے نہ کہ ضرار یا طلیحہ کے لئے اس کے علاوہ سیف نے افراد ''صیٰ '' کی طرف سے ذوالخمار کو مدد کرنے کی آمادگی کے سلسلہ میں بیان کیا ہے کہ '' طی'' کے جنگجو ''ذوالخمار'' کے گرد جمع ہو کر اس کے حکم کی اطاعت کرنے پر آمادہ تھے ۔

یہ اتفاق اس لحاظ سے پیش آیا تھا کہ جاہلیت کے زمانہ میں قبائل '' بنی اسد ، غطفان اور طی'' کے درمیا ن یکجہی اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہ کرنے کا ایک معاہدہ طے پا یا تھا ۔ لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت سے پہلے ایک زمانہ میں قبائل بنی اسد اور غطفان طیٰ کے خلاف متحد ہوئے اور ''جدیلہ و غوث '' کے قبیلوں کو ان کے وطن و گھر سے نکال باہر کرکے آوارہ کردیا تھا ۔

قبیلہ عُوف کے افراد نے اس پیمان شکنی سے چشم پوشی کرتے ہوئے غطفان سے جدا ہو کر '' جدیلہ و غوث '' کے قبیلوں کو چلے جانے سے روکا اور ان کے ساتھ دوبارہ عہدو پیمان باندھا اور عملاً افراد ''طی'' سے اپنی مدد کا مظاہرہ کیا ۔بنی طی نے بھی وہا ں سے چلے جانے سے اجتناب کیا اور بدستور اپنی جگہ پر باقی رہے ۔۔۔۔(تا آخر)۔

ہم یہاں پر دیکھتے ہیں سیف نے قبائلی تعصب کے پیش نظر ایسا دکھایا ہے کہ '' جدیلہ '' کے افراد ''ثمامہ بن اوس کے ساتھ اور ''غوثی '' کے دلاورں نے مہلہل بن ''زید کی کمانڈ میں ذوالخمار '' کی مدد کے لئے قبائل طی کو اپنے ساتھ لے کر اپنی آمادگی کا اعلان کیا تھا ، نہ کہ ضرار بن ازور کی مدد کرنے کے لئے جس کی ابن حجر نے صراحت کی ہے ۔

۱۹۴

خلاصہ :

سیف تنہا شخص ہے جس نے یہ روایت بیان کی ہے اور ابن حجر نے اس کے ایک حصہ پر اعتماد کر کے ''ثمامہ اور مہلہل '' کے حالات لکھا کر انھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں شمار کیا ہے ۔

یہ دانشمند ثمامہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے اخذ کرتا ہے کہ اس صحابی نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا ہے ۔ اور مہلہل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس صحابی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ دیکھا ہے اور اس حکم کو وہاں سے جاری کرتا ہے کہ ''طلیحہ بن خولید کی داستان ابوبکر کے زمانہ میں پیش آئی ہے ''

اور مہلہل کے حالات کی تشریح کی ابتداء میں کہتاہے :

اس کا نام طی کے نمایندوں میں نہیں پایا جاتا ہے ۔

ان نمائندوں سے ابن حجر کی مراد قبیلہ طی کے منتخب شدہ وہ پندرہ افراد ہیں جو ١٠ھ میں ''زید الخیل اور ''قبیصہ '' کی سرپرستی میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے تھے ، اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زید کا ''زیدالخیر''نام رکھا تھا جو قبیلہ میں واپس آنے کے بعد فوت ہوگیا ۔ ابن حجر نے اسی نسبت سے مہلہل کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :

اس کا باپ زیدالخیل ایک معروف صحابی ہے ۔

زیدالخیل طائی کے بیٹے :

ابن حزم نے اپنی کتاب ''انساب '' میں زید کے بیٹوں کا ذکر یوں کیا ہے:

زیدالخیرکے بیٹے حسب ذیل تھے :

۱۹۵

مکنف ، عروہ ، حنظلہ اور حریث

ابن کلبی نے بھی زید کے بیٹوں کا ایک ایک کرکے نام لیا ہے ۔ لیکن ان دو مصادر ۔ انساب ابن حزم و ابن کلبی ۔ اور دیگر معتبر مصادرمیں ''مہلہل بن زید الخیل طائی '' نام کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملتا اور اسی طرح قبیلہ ء طیمیں ''ثمانہ بن اوس طائی ' ' نام کا کوئی شخص موجود نہیں ہے

اب رہی، ابو الفرج اصفہانی کی بات جسے وہ اپنی کتاب ''اغانی ''میں در ج کرکے کہتا ہے :

زید کے تین بیٹے تھے ، یہ شب شاعر تھے ، ان کے نام عروہ ، حریث اور مہلہل تھے لیکن لوگ زید کے دوفرزندوں ''عروہ اور حریث '' کے علاوہ اس کے کسی اور بیٹے کے بارہ میں یقین نہیں رکھتے ہیں ۔

معلوم ہو تا ہے کہ ابوالفرج نے اس مطلب کوذکر کرتے وقت سیف کی روایت کو مدنظر رکھا ہے۔

مصادر ومآخذ

٭تمامہ بن اوس طائی کے حالات:

١۔''اصابہ ''ابن حجر (١/٢٠٧) تیسرا حصہ نمبر: ٩٧٨

٭مہلہل بن زید طائی کے حالات:

١۔اصابہ ابن حجر (٣/٤٧٨۔٤٧٩) نمبر:٨٤٧٣

٭مہلہل مجہول النسب کے حالات:

١۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٤/٤٢٥)

٢۔''تجرید'' ذہبی (٢/٩٩)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٤٤٧)

۱۹۶

٭طلیحہ ،ثمامہ اور مہلہل کی داستان کے بارے میں سیف کی روایت :

١۔''تاریخ طبری '' (١/١٨٩١۔١٨٩٣)،(١/٢١٤٩۔٢٦٥٠)

٭ذید الخیل کا نسب :

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (٤٠٣)

٢۔''تلخیص جمہرہ ابن کلبی ''

(٢٦٠) نسخہ فوٹوکاپی کتابخانہ آیتہ اللہ نجفی مرعشی قسم۔

٭طی کے بارے میں ایک تشریح :

١۔تلخیص جمہرہ ابن کلبی (٢٦٠)

٢۔''اغانی '' ابو الفرج افہانی طبع ساسی (١٦/٤٧)

٭طی کے نمایندوں کی داستان :

١۔''تاریخ ابن خلدون'' (٢/٢٥٩)

''اکناف، انسر ،سمیرا اور قردودہ '' کی تشریح:

١۔ ''معجم البلدان '' یا قوت حموی

۱۹۷

٩٠واں جعلی صحابی غزال ہمدانی

ابن حجر نے اس صحابی کو یوں پہچنوایا ہے :

غزال ھمدانی :

سیف بن عمر نے اس سے ایک شعر نقل کیا ہے کہ جس میں غزال نے ''اسودعنسی '' کی ہجو کی ہے اوراس کے قاتل کی ستائش کی ہے ۔حسب ذیل ہے :

افسوس !کہ ہماری اور ہمارے مردوں کی یہ قسمت نہ تھی کہ ہمارے ہاتھوں وہ ۔ اسود ۔ موت کے گھاٹ اتاراجاتا اور نابود ہوتا !(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

سیف نے اس کے لئے جس نسب کو منتخب کیا ہے وہ ھمدانی ہے کہ یہ ''ھمدان بن مالک ''سے ایک نسبت ہے ۔ جو قبائل قحطان سے بنی زید بن کہلون کا پوتا تھا ۔

غزال ھمدانی کی داستان روایت :

ابن حجر نے جو روایت سیف سے نقل کر کے غزال ھمدانی کے بارے میں درج کی ہے ، اسے طبری نے اپنی تاریخ میں درج نہیں کیا ہے ۔ لیکن اس کے بجائے ١٧ھ کو حوادث کے ضمن میں ایک دوسری روایت سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کی ہے اور اس میں کہتا ہے :

حلیفہ عمر ابن خطاب نے اس سال ایرانیوں سے جنگی تیاریوں کے ضمن میں مختلف پر چموں کو معروف جنگی افراد کے نام سے وابستہ کیا اور انھیں ابن ام غزال کے ہاتھ ان کے لئے بھیجدیا ۔

اور ٢١ ھ کے حوارث کے ضمن میں ''یزد گرد کے خراسان کی طرف فرار'' کے عنوان سے سیف سے نقل کر کے لکھتا ہے :

احنف بن قیس جب یزد گرد سو مّ ، آخری ساسانی پادشاہ کا پیچھا کرتے ہوئے مروا نشاہ جہا ں '' میں داخل ہوا ، تو کوفہ کی طرف سے ایک فوج چار نامور عرب افسروں کی سرکرد گی میں کہ ان میں سے ایک ''ابن ام غزال ھمدانی '' بھی تھا ، اس کی مدد کے لئے پہنچی۔

۱۹۸

افسانہ غزال میں سیف کے اسناد:

طبری کے مطابق سیف نے مندرجہ ذیل ناموں کو راوی کے طور پرپیش کیا ہے :

١۔محمد ، یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٢۔ مہلب یا مہلب بن عقبہ اسدی ۔ اور اس سے پہلے ہم نے کہا ہے کہ یہ دونوں راوی سیف کے ذہن کی تخلیق ہیں اور خارج میں وجود نہیں رکھتے

بحث کا نتیجہ :

غزال ہمدانی کے بارے میں سیف کی روایتوں پر بحث و تحقیق کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابن حجر نے سیف بن عمر کی روایتوں پر اعتماد کیا ہے ۔ یہ جو اس نے کہا ہے کہ غزال نے ایک شعر کہا ہے اور اس میں ''اسود عنسی '' کی ہجو کی ہے اور اس کے قاتل کی ستائش کی ہے ، اس سے اس نے یہ تصور کیا ہے کہ سیف کے غزال ہمدانی نے حضرت ابوبکر کے زمانہ کی ارتداد کی جنگو ں کو دیکھا ہو گا ، لہذا یہ صحابی ہے ! اس لحاظ سے اس نے اس صحابی کو اپنی کتاب کے تیسرے حصہ میں قرار دیا ہے ۔

واضح ہے کہ اگر اس عالم نے سیف کی روایت پر تا ریخ طبری '' میں دقت کی ہوتی تو دیکھ لیتا کہ یہی صحابی خلیفہ عمر کی طرف سے سرداری اور سپہ سالاری کے پر چم لے کر جاتا ہے ، تو بے شک اسے اپنی کتاب کے پہلے حصے میں جگہ دیتا اور صحابیوں کے سرداروں کے زمرے میں قرار دیتا ! اور معروف قاعدہ '' قدماء کی رسم یہ تھی ۔۔۔۔۔'' اس پر لاگو کرکے اس کے حالات مفصل طور پر لکھتا !!

مصادر و ما خذ

٭ غزال ھمدانی کے حالات:

١۔''اصابہ'' ابن حجر (٣/١٨٩) حصہ سوم نمبر: ٦٩٣٥

۱۹۹

٭غزال ھمدانی کے بارے میں سیف کی روایت

١۔'' تاریخ طبری '' (١/٢٥٦٩۔٢٦٨٣)

٭قبائل ھمدان کا نسب

١۔ '' جمہرہ انساب'' ابن حزم (٣٩٢۔٣٩٥)

٩١واں جعلی صحابی معاویہ بن انس

ابن حجر اس صحابی کے تعارف میں لکھتا ہے :

معاویہ بن انس سلمی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں اس کا نام لیا ہے ۔ اور اس نے سہل بن یوسف سے ، اس نے قاسم بن محمد سے نقل کرکے لکھا ہے کہ معاویہ بن انس ان افراد میں سے تھا جس نے پیغمبر خُداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیا ت میں پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے اسود عنسی سے جنگ کی ہے ۔

(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس صحابی کا نسب :

ابن حجر نے اپنی کتاب میں اسے '' سلمی '' معرفی کیا ہے ، اور یہ نام بعض قبائل ''عدنان وقحطان '' سے منسوب ہے ۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ سیف نے اپنے اس صحابی کو ان میں سے کس قبیلہ سے پیدا کیا ہے ۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ طبری '' میں ''معاویہ ابن انس '' کا نام نسب کے ذکر کے بغیر آیا ہے ۔ یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ ابن حجر نے اس نسب کو براہ راست سیف کی کتاب سے نقل کیا ہے ۔

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

اڑتیسواں سبق

قیامت میں کس چیز کے بارے میں سوال ہوگا ؟

روز قیامت سب سے پہلے اس چیز کے بارے میں پوچھا جائے گا جس کی طرف توجہ دینابہت اہم اور زندگی ساز ہے عن الرِّضا عن آبائہ عن علیِّ علیہ السلام قا ل:''قال النَّبیِّ أوَّل ما یسأل عنه العبد حبنا اهل البیت ''امام رضا ںنے اپنے والد اور انھوں نے مولائے کائنات سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :سب سے پہلا سوال انسان سے ہم اہل بیت کی محبت کے بارے میں ہوگا۔( ۱ )

عن أبی بصیر قال : سمعتُ أ با جعفر علیہ السلام یقول: ''اوّل ما یُحاسب العبد الصلاة فاِنْ قُبِلت قُبِلَ ما سواها''ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام صادق کو میں نے فرماتے سنا ہے کہ سب سے پہلے جس کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اگر یہ قبول تو سارے اعمال قبول ہوجائیں گے۔( ۲ )

پہلی حدیث میں عقیدہ کے متعلق پہلا سوال ہے اور دوسری حدیث میں عمل کے متعلق پہلاسوال ہےعن أبی عبداللّه علیه السلام فی قول اللّه :

____________________

(۱) بحارالانوار ج،۷ص ۲۶۰

(۲) بحا رالانوار ج،۷ ص ۲۶۷

۲۶۱

''( اِنّ السمع والبصروالفؤاد کُلّ أولئِک کان عنه مسئولا ) قال یُسال السمع عمّا یسمع والبصر عما یطرف والفؤاد عمّا عقد علیه ''امام صادق نے خدا وند عالم کے اس قول کی تفسیر میں جس میں کہا گیاہے کہ کان آنکھ اور دل سے سوال ہوگا فرمایا: جوکچھ کان نے سنا اورجوکچھ آنکھو ں نے دیکھا اور جس سے دل وابستہ ہوا سوال کیا جائے گا( ۱ ) عن أبی عبداللّهں قال، قال: رسول اللّه أنا أوّل قادم علیٰ اللّه ثُمَّ یُقدّم علّکتاب اللّه ثُمَّ یُقدم علّ أهل بیتی ثُمَّ یقدم علّ أمت فیقفون فیسألهم ما فعلتم فی کتابی وأهل بیت نبیّکم؟ اما م صادق سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :میں وہ شخص ہو ں جو سب سے پہلے خدا کی بارگاہ میں جائوں گا پھر کتاب خدا (قرآن) اس کے بعد میرے اہل بیت پھر میری امت آئے گی ،وہ لوگ رک جائیں گے اور خدا ان سے پوچھے گا کہ میری کتاب اور اپنے نبی کے اہل بیت کے ساتھ تم نے کیاکیا؟( ۲ ) عن الکاظم عن آبائه قال : قال رسول اللّه: لا تزول قدم عبد یوم القیامة حتیٰ یسأل عن أربع عن عمره فیما أفناه وشبابه فیما ابلاه وعَن مالهِ من این کسبه وفیما أنفقه وعن حبنا اهل البیت ۔امام کاظم نے اپنے آباء واجداد سے نقل کیاہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ روز قیامت کسی بندے کاقدم نہیںاٹھے گا مگر یہ کہ اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اس کی عمر کے بارے میں کہ

____________________

( ۱) بحارالانوار ج۷ص ،۲۶۷

(۲) بحارالانوار ج۷، ص ۲۶۵

۲۶۲

کس راہ میں صرف کی؟ اس کی جوانی کے متعلق کہ کس راہ میں برباد کیا ؟اور مال کے بارے میں کہ کہا ں سے جمع کیا اورکہاں خرچ کیا ؟اورہماری کی محبت کے بارے میں ۔( ۱ )

روز قیامت او ر حقوق الناس کا سوال

جس چیز کا حساب بہت سخت دشوار ہوگا وہ لوگوں کے حقوق ہیں جو ایک دوسرے پر رکھتے ہیں ا س حق کو جب تک صاحب حق نہیں معاف کر ے گاخدا بھی نہیں معاف کرے گا اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے بعض بطور نمونہ پیش خدمت ہے۔

قال علی ں :أمّا الذنب الذیِ لا یغفر فمظالم العباد بعضهم لبعض أنَّ اللَّه تبارک وتعالیٰ اِذا برز لخلقه أقسم قسماً علیٰ نفسه فقال: وعزتِی وجلالِی لا یجوزنِی ظلم ظالم ولو کف بکف... فیقتص للعباد بعضهم من بعض حتیٰ لایبقی لأحد علیٰ أحد مظلمة مولائے کائنات نے فرمایا وہ گناہ جو قابل معافی نہیں ہیں وہ ظلم ہے جو لوگ ایک دوسرے پر کرتے ہیں خداوند عالم قیامت کے دن اپنے عزت وجلال کی قسم کھا کر کہے گا کہ آج کسی کے ظلم سے در گذر نہیں کیاجائے گا چاہے کسی کے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہی کیوںنہ ہو پھر اس دن لوگوں کے ضائع شدہ حقوق کوخدا واپس پلٹائے گا تاکہ کوئی

____________________

(۱) بحا الانوار ج،۷ص ۲۵۸

۲۶۳

مظلوم نہ رہ جائے۔( ۱ ) مولا ئے کائنات نے فرمایا ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھی اور پھر فرمایا : یہاں قبیلہ بنی نجار کاکوئی ہے ؟ان کا دوست جنت کے دروازے پر روک لیاجائے گا اسے داخل ہو نے کی اجازت نہیںدی جائے گی صرف ان تین درہم کے لئے جو فلاں یہودی کا مقروض ہے جبکہ وہ شہدا ء کے مرہون منت ہے۔( ۲ ) قال ابو جعفر:''کُلُّ ذَنب یُکفرّه القتل فی سبیل اللّه اِلّا الدین فانّه لا کفّارة له اِلّا أدائه أو یقضی صاحبه أو یعفو الذی له الحق''امام محمد باقر ں نے فرمایا :اللہ کی راہ میں شہید ہونا ہرگناہ کے لئے کفارہ ہے سوائے قرض کے چونکہ قرض کا کوئی کفارہ نہیں ہے صرف ادا ہے چاہے اس کا دوست ہی ادا کرے یاقرض دینے والا معاف کردے۔( ۳ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک دن لوگو ں کو مخاطب کرکے فرمایا: جانتے ہو فقیر کو ن ہے، مفلس کون ہے ؟ انھوں نے کہا جس کے پاس دولت وثروت نہ ہوہم اسے مفلس کہتے ہیںحضرت نے فرمایا: میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو روزہ ،نماز اور زکوةکے ساتھ محشر میں آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہو یا غلط تہمت لگا یا ہو اور کسی کے مال کوغصب کیا ہو اورکسی کو طمانچہ ماراہو اس کے گناہ کو ختم کرنے کے لئے اس کی اچھائیوں کوبانٹ دیاجائے گااگر اس کی نیکیاں تمام ہو گئیں تو صاحبان حق کے گناہوں کو اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا اور اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔( ۴ )

____________________

(۱)معاد فلسفی ج۳،ص ۱۷۲ ازکافی

(۲)معا د فلسفی ج۲،ص ۱۹۴ احتجاج طبرسی

(۳) سابق حوالہ ۱۹۵ از وسائل الشیعہ

(۴) معاد فلسفی ج۳ ازمسند احمد وصحیح مسلم

۲۶۴

قال أ ّبو عبداللّه ں:''أما أنّه ما ظفر أحد بخیر من ظفر بالظلم أما أن المظلوم یأخذ من دین الظالم أکثر مما یأخذ الظالم من مال المظلوم ''امام صادق نے فرمایا :یہ جان لوکہ کوئی شخص ظلم کے ذریعہ

کامیاب نہیں ہو سکتا اور مظلوم ظالم کے دین سے اس سے زیادہ حاصل کرے گا جتنا اس نے مظلوم کے مال سے حاصل کیاہے۔( ۱ )

صراط دنیا یا آخرت کیاہے ؟

صراط کے معنی لغت میں راستہ کے معنی ہیں قران اور احادیث پیغمبر کی اصطلاح میں صراط دومعنی میں استعمال ہو اہے ایک صراط دنیا اوردوسرا صراط آخرت

صراط دنیا :نجات وکامیابی او ر سعادت کی راہ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے( وأنّ هَذَا صِرَاطیِ مُستقیماً فاتَّبِعُوه وَلاَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُم عَن سبِیلِهِ ) اور یہ ہمارا سیدھا راستہ ہے اس کا اتباع کرو اوردوسرے راستوں کے پیچھے نہ جائو کہ راہ خدا سے الگ ہوجا ئو گے۔( ۲ ) ( وهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُستَقِیماً ) اور یہی تمہارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔( ۳ )

یہ صراط دنیا حدیثوں میں مختلف طریقوں سے آیا ہے من جملہ خدا کو پہچاننے کاراستہ اسلام ،دین ،قرآن ،پیغمبر ،امیرالمومنین ،ائمہ معصومین اور یہ سب کے سب ایک معنی کی طرف اشارہ ہیں وہ ہے سعادت اور کامیابی کاراستہ۔اس راستہ

____________________

(۱) کافی جلد ۳، از مسند احمد وصحیح مسلم

(۲) سورہ انعام آیة ۱۵۳

(۳)سورہ انعام آیة ۱۲۶

۲۶۵

کو پار کرنے کا مقصد عقائد حقہ کا حاصل کرنا ہے (خدا وند عالم کو پہچاننے سے لے کر اس کے صفات اور انبیاء اور ائمہ کی معرفت اورتمام اعتقادات کی شناخت نیز دین کے احکا م پر عمل کرنا اور اخلاق حمیدہ کا حصول ہے ) ۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ راستہ بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے او رجو بھی دقت اور غور وفکر کے ساتھ اس سے گزر جائے گا وہ راہ آخرت طے کرلے گا۔ صراط آخرت : اس پل اور راستہ کو کہا جا تاہے جو جہنم پر سے گذر ا ہے اور اس پل کادوسرا سراجنت کوپہنچتا ہے جوبھی اسے طے کرلے گا وہ ہمیشہ کی کامیابی پالے گا اور جنت میں اس کا ٹھکانہ جاودانی ہوگا اور جو بھی اس سے عبور نہیں کرپائے گا آگ میں گر کر مستحق عذاب ہوجائے گا( وَاِن مِنکُم اِلَّا وَارِدُهَا کَانَ علیٰ رَبِّک حَتَماً مَقضِیاً ثُمَّ نُنجِی الَّذینَ أِتَّقوا وَ نَذرُ الظَّالِمِینَ فِیهَا جَثِیاً ) اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر یہ کہ اسے جہنم میں وارد ہوناہے ہو کہ یہ تمہارے رب کاحتمی فیصلہ ہے اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کو جہنم میں چھوڑ دیں گے۔( ۱ )

اس آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث ہے جس میں فرمایا ہے: بعض لوگ بجلی کی طرح پل صراط سے گذر جائیں گے، بعض لوگ ہوا کی طرح اور بعض لوگ گھوڑے کی طرح اور بعض دوڑتے ہو ئے اوربعض راستہ چلتے ہوئے اوریہ ان کیاعمال کے لحاظ سے ہوگا ۔

____________________

(۱) سورہ مریم آیة ،۷۲

۲۶۶

جابر ابن عبداللہ انصاری کہتے ہیں : میں نے رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا :کوئی نیک یا گنہگار نہیں بچے گا مگر یہ کہ اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا لیکن مومن کے لئے ٹھنڈی اور سالم ہوگی جیسے جناب ابراہیم کے لئے آگ تھی پھر متقی اس سے نجات پا جائے گا اور ظالم وستم گر اسی آگ میں رہیںگے ۔( ۱ )

جوبھی دنیا کے راستے پر ثابت قدم رہے گا وہ آخرت میں لڑکھڑا ئے گا نہیں

عن مفضل بن عمر قال :سألت أبا عبد اللّهِ علیه السلام عن الصِّراط فقال:هو الطریق اِلیٰ معرفة اللّه عزَّوجلَّ وهما صراطان صراط فیِ الدّنیا وصراط فیِ الآخرة فَأمّا صراط الذیِ فی الدنیا فهو الأمام المفروض الطاعة من عرفه فی الدنیا واقتدیٰ بهداه مرّ علیٰ الصّراط الذی هو جسر جهنم فی الا خرة ومن لم یعرفه فی الدنیا زلت قدمه علیٰ الصّراط فِی الآخرة فتردیٰ فی نار جهنم ۔

مفضّل بیان کرتے ہیں میں نے امام صادق سے صراط کے بارے میں پوچھا : امام نے فرمایا :وہی خدا کو پہچانتے کاراستہ ہے اوریہ دو راستے ہیں ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں لیکن دنیامیں صراط امام ہے جس کی اطاعت واجب ہے اور جو بھی اسے پہچان لے او راس کی اتبا ع کرے تو اس پل سے جو جہنم پر ہے آسانی سے گذر جائے گا اور جس نے بھی اسے نہیں پہچانا اس کے قدم صراط آخرت پہ

____________________

(۱) تفسیر نورالثقلین ج،۳ ص ۳۵۳

۲۶۷

لڑکھڑائیں گے او رجہنم میں گرجائے گا ۔( ۱ )

سورہ الحمد کے اِھدنا الصِّراط المُستقیمَ کے ذیل میں بہت سے حدیثیں تفسیر روائی میں بیان کی گئی ہیں، تفسیر نورالثقلین سے ،ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں''قال رسول اللّه: اِهدنا الصَّراط المُستقیمَ صراط الأنبیّاء و هم الّذین أنعم اللّه علیهم'' رسول اللہ نے فرمایا صراط مستقیم انبیاء کا راستہ ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے نعمت نازل کی ہے ۔

امام صادق نے فرمایا: صراط مستقیم امام کو پہچاننے کا راستہ ہے اور دوسری حدیث میں فرمایا :واللّه نحن الصّّراط المستقیم خد اکی قسم ہم ہی صراط مستقیم ہیں۔( صِراط الّذین أنَعمتَ عَلیهم ) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے محمد اور ان کی ذریة( صلوات اللہ علیہم ) مراد ہے ۔

امام محمد باقر ں نے آیت کی تفسیر میں فرمایا : ہم خد ا کی طرف سے روشن راستے اورصراط مستقیم ہیں اور مخلوقات خد ا کے لئے نعمات الٰہی ہیں۔( ۱ )

دوسری حدیث میں امام جعفر صادق نے فرمایا :الصَّراط المستقیم أمیرُ المؤمنین امیر المومنین صراط مستقیم هیں قال النبّی :اِذاکان یوم القیامة ونصب الصّراط علیٰ جهنم لم یجز علیه اِلّا مَن کان معه جواز فیه ولایة علی بن أبی طالب علیه السلام وذلک قوله:

____________________

(۱) تفسیر نور الثقلین ج۱،ص ۲۰ تا ۲۴

۲۶۸

( وَقفُوهُم أَنَّهم مَسئُولُونَ ) یعنی عن ولایة علی بن ابی طالب ؛ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا جب قیامت آئے گی اور پل صراط کو جہنم پر رکھاجائے گا کوئی بھی اس پر سے گذر نہیں سکتا مگر جس کے پاس اجازت نامہ ہوگا جس میں علی ں کی ولایت ہوگی اور یہی ہے قول خدا :کہ روکو انہیں ان سے سوال کیا جائے گایعنی علی ابن ابی طالب کی ولا یت کے سلسلے میں سوال کیاجائے گا ۔

دوسری حدیث میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : پل صراط پر وہ اتنا ہی ثابت قدم ہوگا جو ہم اہل بیت سے جتنی محبت کرے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) بحارالانوار ج ۸ ،ص ۶۸۔۶۹

۲۶۹

سوالات

۱۔قیامت میں کس چیز کے بارے میں سوال ہوگا ؟

۲۔ پیغمبر کی نظرمیں فقیر اور مفلس کون ہے ؟

۳۔ صراط دنیا اور صراط آخرت کسے کہتے ہیں ؟

۴۔ امام صادق نے صراط کے سلسلے میں مفضل سے کیافرمایا ؟

۲۷۰

انتالیسواں سبق

بہشت اور اہل بہشت ، جہنم اور جہنمی

انسان کا آخری مقام جنت یا دوزخ ہے یہ قیامت کے بعد او ر ابدی زندگی کی ابتدا ء ہے جنت یعنی جہاں تمام طرح کی معنوی اورمادی نعمتیں ہو ں گی دوزخ یعنی تمام طرح کی مصیبت سختی اور شکنجہ کا مرکز ۔ بہت سی آیتیں اور روایتیں جنت کی صفات ونعمات اور جنتی لوگوں کے بارے میں آئی ہیں یہ نعمتیں روحانی بھی ہیں اور جسمانی بھی، پہلے جیسا کہ بیان کیاجاچکا ہے کہ معاد جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی لہٰذا ضروری ہے جسم اور روح دونوں مستفیض ہوں یہاں فقط ان نعمتوں کی فہرست بیان کر رہے ہیں ۔

جسمانی نعمتیں

۱۔ جنتی باغ : قرآن مجید کی ۱۰۰سے زیادہ آیتیں ہیں جس میں جنت اور جنات وغیرہ جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ایسے باغ جن کا دنیا کے با غات سے تقابل نہیں کیا جاسکتا اور وہ ہمارے لئے بالکل قابل ادراک نہیں ہے ۔

۲۔بہشتی محلا ت : مساکن طیبہ کے لفظ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بہشتی محل میں تمام سہولتیں مہیا ہو ں گی ۔

۳۔ مختلف النوع تخت اور بستر : جنت کی بہترین نعمتوں میں سے وہاں کے بہتریں بستر ہیں جو انسان کے دلوں کو موہ لیں گے اوردل کو لبھا نے والے ہیں جنکے لئے مختلف لفظ استعمال ہوئے ہیں ۔

۴۔ جنتی خو ان : تمام آیتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جنت میں طرح طرح کے کھانے ہو ںگے جملہ مِمَّا یشَتھُونَ(من چاہا ) کے بہت وسیع معنی ہیں اور اس کی بہترین تعبیر رنگ برنگ کے پھل ہیں ۔

۵۔ پاک مشروب :جنت میں مشروب مختلف النو ع اور نشاط آورہو گی اور قرآن کے بقول '' لَذةُ لِلشَاربینَ'' پینے والو ں کے لئے لذت وسرور کا باعث

۲۷۱

ہوگا ہمیشہ تازہ ، مزہ میں کوئی تبدیلی نہیں شفاف او رخوشبو دار ہوگا ۔

۶۔ لبا س اور زیورات :انسان کے لئے بہترین زینت لباس ہے قرآن وحدیث میں اہل بہشت کے لبا س کے سلسلے میں مختلف ا لفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے ان کے لبا س کے خوبصورتی او رکشش کا پتہ چلتاہے ۔

۷۔ جنتی عورتیں : شریف عورت، انسان کے سکو ن کاباعث ہے بلکہ روحانی لذت کا سرچشمہ ہے قرآن اور احادیث معصومین میں مختلف طریقہ سے اس نعمت کا ذکر ہواہے اور اس کی بہت سے تعریف کی گئی ہے یعنی جنتی عورتیں تمام ظاہری اور باطنی کمالات کی مظہر ہو ںگی ۔

۸۔ جو بھی چاہئے ''( فِیها مَاتشتهیِهِ الأنفُس وتَلذَ الأعیُن'' ) جو بھی دل چاہے گا اور جو بھی آنکھو ںکی ٹھنڈک کا باعث ہوگا وہ جنت میں موجود ہوگا یہ سب سے اہم چیز ہے جو جنت کے سلسلہ میں بیان کی گئی ہے یعنی تمام جسمانی او رروحانی لذتیں پائی جا ئیں گی ۔

روحا نی سرور

جنت کی روحانی نعمتیں مادی اور جسمانی لذتوں سے بہتر او ر افضل ہوں گی چونکہ ان معنوی نعمتوں کا ذکر پیکر الفاظ میں نہیں سماسکتا : یعنی کہنے اور سننے والی نہیں ہیں، بلکہ درک کرنے والی او رحاصل کرنے والی اوربراہ راست قریب سے لذت بخش ہیں ،اسی لئے قرآن او رحدیث میں زیادہ ترکلی طور پر او رمختصر بیان کیاگیاہے۔

۱۔ خصوصی احترام : جنت میں داخل ہوتے وقت فرشتوں کے استقبال اور خصو صی احترام کے ذریعہ آغاز ہوگا اورجس دروازہ سے بھی داخل ہوگا فرشتے اسے سلام کریں گے اور کہیں گے صبر اور استقامت کے باعث اتنی اچھی جزاملی ہے ۔

۲۔سکون کی جگہ:جنت سلامتی کی جگہ ہے سکون واطمینان کاگھر( أُدخُلُوا الجَنَّةَ لَا خَوفُ عَلَیکُم وَلَا أَنتُم تَحزَنُونَ ) جا ئو جنت میں داخل ہو جائو۔جہاں نہ کسی طرح کاخوف ہوگا نہ حزن وملا ل پایا جائے گا۔( ۱ )

____________________

(۱)سورہ اعراف آیة ۴۹

۲۷۲

۳۔باوفا دوست اور ساتھی : پاک اورباکمال دوستوں کا ملنا یہ ایک بہترین روحانی لذت ہے جیسا کہ قرآن میں آیا ہے( وَحَسُنَ أُولئِکَ رَفِیقاً ) کتنے اچھے دوست ہیں یہ فضل ورحمت خدا ہے۔

۴۔شیریں لہجہ میں گفتگو : جنت میں بے لوث اور اتھاہ محبت فضاکو اور شاداب وخوشحال کردے گی وہا ں لغو اوربیہودہ باتیں نہیں ہوں گی فقط سلام کیاجائیگا ''فی شغل فاکھون''خوش وخرم رہنے والے کام ہو ں ۔

۵۔ بیحد خو شحالی او رشادابی :( تَعرِفُ فیِ وُجُوهِهِم نَضَرةَ النَّعیِمِ ) تم ان کے چہروں پر نعمت کی شادابی کامشاہدہ کروگے( ۱ ) ( وَوُجُوهُ یَومئِذٍ مُسفِرَةُ ضاحکةُ مُستبشِرَةُ ) مسکراتے ہوئے کھلے ہوئے ہوںگے۔( ۲ )

۶۔خد ا کی خوشنودی کا احساس :محبوب کی رضایت کاادراک سب سے بڑی معنوی لذت ہے جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیة۱۵ میں جنت کے سرسبز باغ او رپاک وپاکیزہ عورتوں کے ذکر کے بعد ارشاد ہوتاہے وَ رِضوان مِن اللّہ (خداکی خوشنودی )''( رَضِیَ اللَّهُ عَنهُم وَرَضُوا عَنهُ ذَلِک الفَوزُ العَظِیمَ'' ) خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے۔( ۳ )

۷۔ بہشتی نعمتوں کاجاویدانی اور ابدی ہونا : خوف اور ہراس ہمیشہ فنا اور نابودی سے ہوتا ہے لیکن جنت کی نعمتیں ابدی او رہمیشہ رہنے والی ہیں فنا کاخوف

____________________

(۱) سورہ مطففین آیة: ۲۴

(۲) سورہ عبس آیة:۳۸۔ ۳۹

(۳) سورہ مائدہ آیة: ۱۱۹

۲۷۳

نہیں ہے یہ بہترین اورابدی خاصیت کے حامل ہیں:( أُکُلُهَا دَائمُ وَظِلُّهَا ) ۔( ۱ )

اس کے پھل دائمی ہوں گے اور سایہ بھی ہمیشہ رہے گا ۔

۸۔ پرواز فکر کی رسائی جہا ں ممکن نہیں :( فَلَا تَعلمُ نَفس مَاأخفیٰ لهُم مِّن قُرَّةِ أعیُن ) کوئی نہیں جانتا کہ اس کے لئے ایسی مخفی جزاء ہے جواس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوگی۔( ۲ ) پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو گا او رنہ کا ن نے سنا ہوگا او رنہ ہی قلب کی رسائی وہاںتک ہوئی ہوگی۔( ۳ )

جہنم او رجہنمی لوگ

جہنم، الٰہی قہر وغضب کانام ہے جہنم کی سزا جسمانی اور روحانی دونوںہے، اگرکوئی شخص انہیں فقط روحی اور معنوی سزا سے مخصوص کرتا ہے تویہ قرآن کی بہت سی آیتوں پر توجہ نہ کرنے کے سبب ہے، قیامت کی بحث میں ذکر کیا گیاہے کہ قیامت جسمانی اور روحانی دونوںہے لہٰذا جنت اورجہنم دونوں میں یہ صفت ہے ۔

جہنمیوں کی جسمانی سزا

۱۔ عذاب کی سختی :

جہنم کی سزا اس قدر سخت ہوگی کہ گنہگار شخص چاہے گا کہ بچے ،بیوی ،بھا ئی

____________________

(۱)سورہ رعد آیة :۳۵

(۲) سورہ سجدہ آیة: ۱۷

(۳) المیزان ومجمع البیان

۲۷۴

دوست ،خاندان یہاںتک کہ روی زمین کی تمام چیزوں کو وہ قربان کر دے تاکہ اس کے نجات کاباعث قرار پائے ۔( یَوَدُّ المُجرِمُ لویَفتَدِ مِن عَذَابِ یَومَئِذٍ بِبَنِیهِ وَصَاحِبتِه وأَخِیهِ وَفَصِیلتِه التِ تُؤیهِ وَمَن فیِ الأَرضِ جَمیعاً ثُمَّ یُنجِیهِ ) مجرم چاہے گا کہ کاش آج کے دن کے عذاب کے بدلے اس کی اولاد کو لے

لیا جائے اور بیوی اوربھائی کو اور اس کے کنبہ کو جس میں وہ رہتا تھا اورروی زمین کی ساری مخلوقات کو اور اسے نجات دے دی جائے۔( ۱ )

۲۔جہنمیوںکا خورد ونوش :( اِنَّ شَجَرةَ الزَّقُومِ طَعَامُ الأَثِیمِ کَالمُهلِ یَغل فیِ البُطُونِ کَغلِ الحَمِیمِ ) بے شک آخرت میں ایک تھوہڑ کادرخت ہے جوگنہگا ر وںکی غذاہے وہ پگھلے ہوئے تانبے کی مانند پیٹ میں جوش کھائے گا جیسے گرم پانی جوش کھاتاہے۔( ۲ )

۳۔جہنمی کپڑے :( وَتَریٰ المُجرِمِینَ یَومئِذٍ مُقَرَّنِینَ فیِ الأَصفَادِ سَرَابِیلُهُم مِن قَطِرانٍ وَتَغشیٰ وُجُوهَهم النَّارُ ) اور تم اس دن مجرموں کو دیکھو گے کہ کسی طرح زنجیر وں میں جکڑے ہوئے ہیں ان کے لباس قطران (بدبودار مادہ کے) ہوںگے اور ان کے چہروں کو آگ ہر طرف سے ڈھا نکے ہوئے ہوگی( ۳ ) ( فَالَّذِینَ کَفَرُوا قُطِعَت لَهُم ثِیَابُ مِن نَارٍ یُصبُّ مِن فَوقِ رُؤُوسِهِم الحَمِیمُ یُصهَرُ بِهِ مَا فیِ بُطُونِهِم وَالجُلُودُ ) جولوگ کافر ہیں ان کے واسطے آگ کے

____________________

(۱) سورہ معارج ۱۱۔۱۴

(۲) سورہ دخان ۴۳۔۴۶

(۳)سورہ ابراہیم ۴۹۔ ۵۰

۲۷۵

کپڑے قطع کئے جائیں گے او ران کے سروں پر گرما گرم پانی انڈیلاجائے گا جس سے ان کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے او ران کی جلدیں سب گل جا ئیں گی ۔( ۱ )

۴۔ ہر طرح کاعذاب : جہنم میں ہر طرح کا عذاب ہوگا کیونکہ جہنم خدا کے غیظ وغضب کانام ہے( أِنَّ الَّذیِنَ کَفَرُوا بِآیاتِنا سَوفَ نُصلِیهِمَ نَاراً کُلَّما نَضِجَت جُلُودُهُم بَدَّلنَا هُم جُلُوداً غَیرَها لِیَذُوقُوا العَذَابَ اِنَّ اللَّهَ کَانَ عَزِیزاً حَکِیما ) اور بے شک جن لوگو ں نے ہماری آیتوں کاانکا ر کیاہے ہم انہیں آگ میں بھون دیں گے اور جب ایک کھال پک جائے گی تو دوسری بدل دیںگے تاکہ عذاب کامزہ چکھتے رہیں خدا سب پر غالب اور صاحب حکمت ہے( ۲ )

روحانی عذاب

۱۔ غم والم اور ناامیدی :( کُلَّما أَرادُوا أَنْ یَخرُجُوا مِنها مِن غَمٍّ أُعیدُوا فِیهَا وَذُوقُوا عَذَابَ الحَریقِ ) جب یہ جہنم کی تکلیف سے نکل بھاگنا چائیں گے تو دوبارہ اسی میں پلٹا دیے جائیں گے کہ ابھی اور جہنم کا مزہ چکھو ۔( ۳ )

۲۔ذلت ورسوائی( وَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیاتِنَا فَأُولئِک لَهُم عَذَابُ مُهِینُ ) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اورہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کے لئے نہا یت درجہ رسواکن عذاب ہے۔( ۴ )

قرآن میں متعدد جگہ اہل جہنم کی ذلت اور رسوائی کوبیان کیا گیا ہے جس

____________________

(۱) سورہ حج ۱۹ تا۲۰

(۲) سورہ نساء آیة ۵۶

(۳) سورہ حج آیة ۲۲

(۴) سورہ حج آیة ۵۷

۲۷۶

طرح وہ لوگ دنیا میں مومنین کو ذلیل سمجھتے تھے ۔

۳۔تحقیر وتوہین :جب جہنمی کہیں گے با ر الہا! ہمیں اس جہنم سے نکا ل دے اگر اس کے بعدھم دوبارہ گنا ہ کرتے ہیں تو ہم واقعی ظالم ہیں ان سے کہا جا ئیگا۔( أخسَئوا فِیهَا وَلَا تُکلِّمُونَ ) اب اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور بات نہ کرو( ۱ )

اخساء کا جملہ کتے کو بھگانے کے وقت کیا جاتا ہے اوریہ جملہ گنہگا روں اور ظالموں کو ذلیل کرنے کے لئے استعمال ہو اہے ۔

۴۔ابدی سزا اور امکا نات :( وَمَنْ یَعصِ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ فَأِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدینَ فِیهَا أَبَداً ) اور جو اللہ او ررسول کی نافرمانی کرے گا اس کے لئے جہنم ہے اور وہ اسی میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔( ۲ )

دائمی اور ابدی ہونا جو جہنمیوںکے لئے ہے بہت دردنا ک اور سخت ہوگا چونکہ ہر پریشانی او ر سختی میں نجا ت کی امید ہی خوشی کاسبب ہوتی ہے لیکن یہاں سختی اور بے چینی اس لئے زیادہ ہوگی،کہ نجا ت کی کوئی امید نہیں ،اس کے علا وہ رحمت خدا سے دوری سخت روحی بے چینی ہے ۔

سوال؟ یہ کیسے ہو گا کہ وہ انسان جس نے زیا دہ سے زیادہ سوسال گنا ہ کئے اسے کروڑوں سال بلکہ ہمیشہ سزادی جائے البتہ یہ سوال جنت کے دائمی ہو نے پر بھی

____________________

(۱) سورہ مومنون آیة:۱۰۸

(۲)سورہ جن آیة ۲۳

۲۷۷

ہے لیکن وہاں خداکا فضل وکرم ہے لیکن دائمی سزا عدالت الٰہی سے کس طرح سازگا ر ہے ؟۔

جواب : بعض گنا ہ جیسے( کفر )کا فر ہونااس پر دائمی عذاب یہ قرین عقل ہے بطور مثال اگر ڈرائیور کا ٹرافیک کے قانو ن کی خلاف ورزی کے باعث ایکسیڈنٹ میں پیر ٹوٹ جائے تو اس کی خلا ف ورزی ایک سکنڈ کی تھی مگر آخری عمر تک پیر کی نعمت سے محروم رہے گا ۔

ماچس کی ایک تیلی پورے شہر کو جلا نے کے لئے کا فی ہے انسان کے اعمال بھی اسی طرح ہیں، قرآن میں ارشاد رب العزت ہے( وَلَا تُجزَونَ اِلَّا مَاکُنتُم تَعملَُونَ ) اورتم کو صرف ویسا ہی بدلہ دیا جا ئے گا جیسے اعمال تم کررہے ہو( ۱ ) دائمی ہونا یہ عمل کے باعث ہے ۔

____________________

(۱)سورہ یس آیة ۵۴

۲۷۸

سوالات

۱۔ جنت کی پانچ جسمانی نعمتوں کو بیان کریں ؟

۲۔جنت کی پانچ روحانی نعمتوںکا بیان کریں ؟

۳۔ اہل جہنم کی تین جسمانی سزائیں بیان کریں ؟

۴۔ اہل جہنم کی تین روحانی عذاب کو بیان کریں ؟

۲۷۹

چالیسواں سبق

شفاعت

شفاعت ایک اہم دینی اور اعتقادی مسائل میں سے ہے قرآن اور احادیث معصومین میں اس کا متعدد بار ذکر آیاہے اس کی وضاحت کے لئے کچھ چیزوں پر توجہ ضروری ہے !

۱۔ شفاعت کے کیا معنی ہیں ؟ لسان العرب میں مادہ شفع کے یہ معنی ہیں : ''الشَّافعُ الطالب لغیره یتشفع به الیٰ المطلوب'' (شافع اسے کہتے ہیں جو دوسرے کے لئے کوئی چیز طلب کرے ) مفردات راغب میں لفظ شفع کے یہ معنی بیان کئے گئے ہیں :''الشفاعة الانضمام الیٰ آخر ناصراً له وسائلاً عنه'' شفاعت ایک دوسرے کا ضم ہو نا اس لحاظ سے کہ وہ اس کی مدد کرے او راس کی طرف سے اس کی ضروریا ت کا طلبگار ہو ۔

مولا ئے کائنات نے اس سلسلے میں فرمایا : الشفیع جناح الطالب شفاعت کرنے والا محتاج کے لئے اس کے پر کی مانند ہے جس کے مدد سے وہ مقصد تک پہنچے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) نہج البلاغہ حکمت ۶۳

۲۸۰

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303