اہل بیت کے شیعہ

اہل بیت کے شیعہ0%

اہل بیت کے شیعہ مؤلف:
زمرہ جات: ادیان اور مذاھب
صفحے: 142

اہل بیت کے شیعہ

مؤلف: آیة اللہ محمد مہدی آصفی
زمرہ جات:

صفحے: 142
مشاہدے: 4948
ڈاؤنلوڈ: 740

تبصرے:

اہل بیت کے شیعہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 142 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4948 / ڈاؤنلوڈ: 740
سائز سائز سائز
اہل بیت کے شیعہ

اہل بیت کے شیعہ

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: اہل بیت کے شیعہ

مولف: آیة اللہ محمد مہدی آصفی

مترجم: نثار احمد زین پوری

مصحح: کلب صادق اسدی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ۱۴۲۷ھ ۲۰۰۶ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : اعتماد

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر(عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،فاضل علّامہ آیة اللہ محمد مہدی آصفی کی گرانقدر کتاب ''اہل بیت کے شیعہ ''کو فاضل جلیل مولانا نثار احمد زین پوری نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

بسم الله الرحمٰن الرحیم

( قل لا أسألُکُم عَلَیهِ أجرًا إلاَّ المُوَدَّةَ فِی القُربیٰ ) سورہ شوریٰ: ۲۳

اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہہ دیجئے کہ میں تم سے تبلیغ کی کوئی اجرت نہیں چاہتا ہوں سوائے اس کے کہ تم میرے قرابتداروں سے محبت کرو۔

( إنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاةَ وَ یُؤتُونَ الزّکاةَ وَ هُم رَاکِعُونَ ) سورہ مائدہ : ۵۵

تمہارا ولی خدا ،اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکواة دیتے ہیں ۔

( یَا أیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا أُنزِلَ لَیکَ مِن رَّبِّکَ وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) سورۂ مائدہ : ۶۷

اے رسول اس پیغام کو پہنچا دیجئے جو آپ پر نازل کیا جا چکا ہے اگر آپ نے یہ پیغام نہ پہنچایا تو گو یا رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہ دیا خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔

۷

اجمالی فہرست

۱۔ پیش گفتار''اہل بیت کے شیعہ کون ہیں ''

۲۔ اہل بیت سے محبت اور نسبت کا معیار

۳۔ اہل بیت سے محبت اور نسبت کے عام شرائط

۴۔ ولاء سے متعلق جملے اور اہل بیت سے نسبت

۵۔ مکتب اہل بیت سے وابستہ ہونے کے فوائد

۶۔استدراک و الحاق

۸

پیش گفتار

اہل بیت کے شیعہ کون ہیں

''تشیع'' کے معنی نسبت، مشایعت، متابعت اور ولاء کے ہیں ، یہ لفظ قرآن مجید میں بھی بیان ہوا ہے:( وَ اِنَّ مِن شِیعَتِهِ لإبرَاهِیمَ إذ جَائَ رَبَّهُ بِقَلبٍ سَلِیم ) ( ۱ ) ان کے شیعوں میں سے ابراہیم بھی ہیں جب وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قلب سلیم کے ساتھ آئے۔

یعنی نوح کے پیروئوں میں سے ابراہیم بھی تھے جو خدا کی وحدانیت اور عدل کی طرف دعوت دیتے تھے ا ور نوح ہی کے نہج پر تھے۔

لیکن یہ لفظ علی بن ابی طالب اور آپ کے بعد آپ کی ذریت سے ہونے والے ائمہ سے محبت و نسبت رکھنے والوں کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ یہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہیں کہ جن کی شان میں آیت تطہیر اور آیت مودت نازل ہوئی ہے ۔

تاریخ اسلام میں یہ لفظ اہل بیت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت و نسبت اور ان کے مکتب سے تعلق رکھنے والوں کے لئے شہرت پا گیا ہے ۔ اس محبت و نسبت اور اتباع کے دو معنی ہیں :سیاسی اتباع و نسبت (سیاسی امامت) اورثقافتی و معارفی اتباع (فقہی و ثقافتی مرجعیت) یہ وہ چیز ہے جس کے ذریعہ شیعیانِ اہل بیت پہچانے جاتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔

اب آپ کے سامنے مذکورہ دونوں شقوں کی وضاحت کی جاتی ہے :

۱۔اہل بیت کی سیاسی امامت

رسول نے حجة الوداع سے واپس لوٹتے ہوئے ، غدیر خم میں (قافلہ کے) مختلف راستوں میں بٹنے سے پہلے یہ حکم دیا کہ جو لوگ آگے بڑھ گئے ہیں ان کو واپس بلایا جائے اور جو

____________________

(۱) سورۂ صافات ۸۳

۹

پیچھے رہ گئے ہیں وہ آپ سے ملحق ہو جائیں یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس لوگوں کا جم غفیر جمع ہو گیا۔ اس وقت شدید گرمی تھی اس سے پہلے وہ اتنی شدید گرمی سے دوچار نہیں ہوئے تھے۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے شامیانے لگائے گئے ان کے نیچے جھاڑو لگائی گئی، پانی چھڑکا گیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے کپڑے سے سایہ کیا گیا۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ظہر پڑھی پھر خطبہ دیا اور لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ آپ کا وقت قریب ہے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑا ( اور اتنا بلند کیا کہ) آپ کی بغلوں کی سفیدی نمایاں ہو گئی اس کے بعد فرمایا:

اے لوگو! کیا میں تم سب سے اولیٰ نہیں ہوں ۔ سب نے کہا : ہاں! پھر فرمایا:جس کامیں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں ، اے اللہ جو ان کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو ان کو دشمن سمجھے تو اس کو دشمن سمجھ، جو ان کی نصرت کر ے تو اس کی مدد فرما اور جو ان کو چھوڑ دے تواس کو رسوا فرما۔

خدا نے اپنے رسول کو اس سے پہلے اس پیغام کو پہنچا نے کا حکم دیا تھا جیسا کہ ارشاد ہے :( یَا أیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغ مَا أُنزِلَ لَیکَ مِن رَّبِّکَ وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) ( ۱ )

اس آیت میں خدا نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ لوگوں کو اپنے بعد ہونے والے وصی اور ولی کا تعارف کرا دیں۔ یہ بات آیت میں بڑی تاکیدکے ساتھ کہی گئی ہے ، ہمیں قرآن مجید میں کوئی دوسری آیت ایسی نہیں ملتی جس میں رسول کو اس انداز میں مخاطب کیا گیا ہو

( وَإن لَّم تَفعَل فَمَا بَلَّغتَ رِسَالَتَه ) اس کے بعد رسول کو اطمینان دلانے کے انداز میں مخاطب کیا ہے کیونکہ اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خود کو لوگوں کے شر سے محفوظ نہیں سمجھ رہے تھے لہذا خدا نے فرمایا:

____________________

(۱) سورۂ مائدہ ۶۷۔

۱۰

( وَاﷲ ُیَعصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )

جب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لوگوں کو ولایت اور وصایت کے بارے میں بتادیا اور تبلیغ دین کی تکمیل کردی تو اس سلسلہ میں خدانے فرمایا:

( ألیَومَ أکمَلتُ لَکُم دِینَکُم وَ أتمَمتُ عَلَیکُم نِعمَتِی وَ رَضِیتُ لَکُمُ الإسلاَمَ دِینًا )

عہد صحابہ سے آج تک تاریخ کے اس عظیم واقعہ کی روایتیں ہر طبقہ اور سند کے اعتبار سے متواتر ہیں چنانچہ طبقہ اولیٰ میں ایک سو دس صحابہ سے زیادہ نے اس کو بیان کیا ہے اور دوسرے طبقہ میں ۸۴ تابعین نے اس کی روایت کی ہے ، اس کے بعد راویوں کے طبقات میں وسعت ہوتی رہی شیخ عبد الحسین امینی نے اپنی کتاب ''الغدیر'' کی پہلی جلد میں اس حدیث کے راویوں کی تعداد بیان کی ہے ،ہمارے ساتھی محقق سید عبد العزیزطباطبائی نے اس کی مستدرک لکھی ہے، جس میں موصوف نے کچھ صحابہ، تابعین ، تبع تابعین اور منابع و ماخذ کا اضافہ کیاہے ۔

اس حدیث کے طرق اتنے صحیح ہیں کہ اس میں شک نہیں کیا جا سکتا ،کیونکہ اس حدیث کو حفاّظ، محدثین ، مفسرین ، مورخین اور بہت سے لوگوں نے بیان کیا ہے کہ ان سب کابیان کرنا ہماری طاقت سے باہر ہے ، ترمذی اپنی صحیح میں ، ابن ماجہ نے سنن میں ،احمد بن حنبل نے مسندمیں ، نسائی نے خصائص میں ،حاکم نے مستدرک میں ، متقی ہندی نے کنز العمال میں ، مناوی نے فیض القدیر میں ، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ، محب الطبری نے ریاض النضرة میں ، خطیب نے تاریخ بغداد میں ، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ، ابن اثیر جزری نے اسد الغابة میں ، طحاوی نے مشکل الآثار میں ، ابو نعیم نے حلیة الاولیاء میں ،ابن حجر نے صواعق محرقہ میں ، ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں اور بہت سے لوگوں نے حدیث غدیر کی روایت کی ہے کہ اس مقدمہ میں ان کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔

۱۱

ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں بعض ان صحابہ کے اسماء تحریر کئے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کی روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ ابن جریر طبری نے اپنی تالیف میں حدیث ولایت کو نقل کیا ہے ،اس میں اس حدیث کو نقل کرنے والوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے اور موصوف نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ پھر لکھتے ہیں : ابو العباس بن عقدہ نے اس حدیث کے طرق کو جمع کیا ہے اور سترّ یا سترّ سے زیادہ صحابہ سے اس کی روایت کی ہے ۔( ۱ )

فتح الباری میں لکھا ہے : لیکن، حدیث'' من کنت مولاہ فعلّ مولاہ'' کو ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے اور اس کے طرق بہت زیادہ ہیں ۔ ان طرق کو ابن عقدہ نے ایک الگ کتاب میں جمع کیا ہے۔ اس حدیث کی زیادہ تر سندیں صحیح اور حسن ہیں ۔( ۲ )

لہذا اس کے متن و سند میں کوئی شک نہیں کرے گا اور اس کے جو قرائن ہیں وہ اتنے روشن ہیں کہ شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شدید گرمی میں صحابہ کے جم غفیر کو ، ان کے مختلف راستوں میں تقسیم ہونے سے قبل، جمع کرنا اور جو پیچھے رہ گئے تھے ان کاانتظار کرنا اور جو آگے نکل گئے تھے ان کو پیچھے بلانا،امت کی سرنوشت میں اہمیت کے حامل ایک امر کے لئے تھا۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کا ہاتھ بلند کرنے اور'' من کنت مولاه فعلی مولاه'' کہنے سے پہلے صحابہ سے معلوم کیا: کیا میں تمہارے نفسوں پر خود تم سے زیادہ حق تصرف نہیں رکھتا ہوں ؟ سب نے کہا: بیشک ، آپ اولیٰ ہیں اور یہ تمام مسلمانوں پر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حاکمیت و ولایت کے معنی ہیں - لہذا فرمایا:

''من کنت مولاه فهذا علّ مولاه''

____________________

(۱) تہذیب التہذیب: ج۷ ص ۳۳۹حالات علی بن ابی طالب

(۲) فتح الباری : ج ۸ ص ۷۶ب ۹ مناقب علی بن ابی طالب

۱۲

پھربہت سے بزرگ صحابہ علی کو ولایت کی مبارک باد دینے کے لئے خدمت علی میں حاضر ہوئے ،ان میں ابوبکر و عمر بھی شامل تھے۔

اس کے علاوہ اس کی دلالت، شہرت، گواہی اور تصریح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد ہونے والے خلیفہ اور امام کے لئے کافی ہے ۔ اس سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد تھا کہ علی کو اپنے بعدمسلمانوں کا امام بنا دیں مگر کیا کیاجائے کہ سیاسی امور آڑے آ گئے اور لوگ اس حدیث کی دلالت میں شک کرنے لگے جبکہ اس کی سند میں شک کرنا ان کے لئے آسان نہیں تھا۔شیعیان اہل بیت اس اور دوسری واضح و صحیح حدیثوں کی روشنی میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد علی کو اور ان کے بعد ان کی ذریت سے ہونے والے ائمہ کوسیاسی امام تسلیم کرتے ہیں ۔

۲۔ اہل بیت ، فقہی و ثقافتی مرجعیت

یہ نکتہ ان دو روشن شقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعہ اہل بیت کے شیعہ دوسرے مسلمانوں سے جدا ہوتے ہیں ۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل بیت کو اپنی حیات ہی میں مسلمانوں کا مرجع بنا دیا تھا کہ وہ حلال و حرام میں ان سے رجوع کریں گے وہ انہیں سیدھے راستہ کی ہدایت کریں گے اور ان کو گمراہی سے بچا ئیں گے : اور اہل بیت کو قرآن سے مقرون کیا تھا یہ بات حدیث ثقلین سے ثابت ہے جوکہ محدثین کے درمیان مشہور ہے اور فریقین کے نزدیک صحیح ہے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کی روایت متواتر ہے اور یہ تواترہے اور شہرت اس لئے ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد اس کے پھیلانے کا اہتمام کیا تھا۔

۱۳

جن لوگوں نے اس حدیث کی روایت کی ہے ان میں سے مسلم بن حجاج بھی ہے انہوں نے صحیح مسلم کے باب فضائل علی بن ابی طالب میں زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداایک تالاب کے کنارے ، جس کو خم کہتے ہیں اور مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ہے ، ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، پہلے خدا کی حمد و ثناء کی ، پھر لوگوں کووعظ و نصیحت کی اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں بھی بشر ہوں ، قریب ہے کہ خداکا فرستادہ آئے اور میں اس کی آواز پر لبیک کہوں ، میں تمہارے درمیان دوگراں قدر چیزیں چھوڑنے والا ہوں ان میں سے ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت و نور ہے ،لہٰذا کتاب خدا کو لے لو اور اس سے وابستہ ہو جائو، کتاب خدا کے بارے میں ترغیب کی۔ پھر فرمایا: اور میرے اہل بیت ہیں میں اپنے اہل بیت کے بارے میں خدا کو یاد دلاتا ہوں ۔ تین باریہی جملہ دہرایا۔( ۱ )

ترمذی نے اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے ۔ زید بن ارقم کہتے ہیں : رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دوچیزیںچھوڑنے والا ہوں اگر تم اس سے وابستہ رہوگے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے ان میں سے ایک دوسری سے عظیم ہے ایک کتابِ خدا ہے جو رسی کی مانند آسمان سے زمین تک ہے، دوسری میری عترت ہے وہی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض پر وارد ہوں گے ،دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو۔( ۲ )

ترمذی نے جابر بن عبد اللہ سے بھی اس کی روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : میں نے عرفہ کے روز رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا وہ ناقہ قصویٰ پر سوارہیں اور خطبہ دے رہے ہیں ، میں نے سنا کہ فرماتے ہیں : اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اس سے وابستہ

____________________

(۱)صحیح مسلم کتاب فضائل صحابہ باب فضائل علی بن ابی طالب

(۲) سنن ترمذی : ج۲ ص ۳۰۸ کتاب المناقب اہل نبی ح ۳۷۸۸

۱۴

ہو گئے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے کتاب خد اور میرے اہل بیت عترت۔( ۱ )

حاکم نے مستدرک الصحیحین میں اس حدیث کو اپنی سند سے زید بن ارقم سے متعدد طریقوں سینقل کیا ہے ۔( ۲ )

احمد بن حنبل نے مسند میں اس حدیث کو کئی طریقوں سے نقل کیا ہے : ابو سعید خدری سے( ۳ ) زید بن ارقم سے( ۴ ) اور زید بن ثابت سے اس کو دو طریقوں سے نقل کیا ہے۔( ۵ ) اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں ، اس کی سندیں صحیح ہیں لہذا یہ حدیث مستفیض ہے ۔ اور اس کی صحت کے لئے اتناہی کافی ہے کہ اس کو مسلم و ترمذی نے اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔

علامہ میر حامد حسین لکھنوی نے (عبقات الانوار )میں اس حدیث کے طرق کو تفصیل کے ساتھ تحریر کیا ہے وہ ایک بڑی کتاب ہے اس کی دوسری جلد میں حدیث کی دلالت سے بحث کی ہے ابھی کچھ عرصہ پہلے ان دونوں جلدوں کو دس جلدوں میں طبع کیا گیا ہے ۔خدا سید میر حامد حسین پر رحم کرے اور ان کی اس علمی کوشش کو قبول فرمائے۔ اس حدیث میں :

۱۔اہل بیت کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن کے برابر قرار دیاہے ۔

۲۔ دونوں کو خطا و گمراہی سے محفوظ قرار دیا ہے ۔

۳۔ اپنی امت کو دونوں سے تمسک کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی تاکید کی ہے ۔

۴۔ امت کو یہ بھی بتایا ہے کہ یہ دونوں -قرآن و اہل بیت-ایک دوسرے سے ہرگزجدانہ ہوں گے، یہاں تک کہ حوض کوثر پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس وارد ہوں گے پس یہ دونوں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدہر چیز میں امت کے لئے مرجع ہیں ، اس دین کے حدود ، احکام اور اصول و فروع کی معرفت کے لئے انہیں سے رجوع کیا جائے گا۔

____________________

(۱) سنن ترمذی : ج ۲ ص ۳۰۸

(۲) مستدرک الصحیحین:ج ۳ ص ۱۰۹ ۱۴۸

(۳)مسند احمد ج۳ ص ۱۷

(۴) مسند احمد ج۴ ص ۳۷۱

(۵)مسند احمد ج ۵ ص ۱۸۱

۱۵

صواعق میں ہیثمی لکھتے ہیں : جن حدیثوں میں امت کو اہل بیت ،سے تمسک کرنے کی ترغیب کی گئی ہے ان میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اہل بیت ،سب سے لائق و شائستہ افرد،کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا تاکہ امت ان سے وابستہ ہو سکے اسی طرح قرآن بھی قیامت تک باقی رہے گا، یہ زمین کے لئے باعثِ امان ہیں جیسا کہ اس حدیث: فی کل خلف من امت عد ول من اہل بیتی( ۱ ) میری امت کی ہر نسل میں میرے اہل بیت سے کچھ عادل ہوں گے۔( ۲ )

یہ تھا اس اہم نقطہ کا خلاصہ جس سے شیعہ ممتاز ہوتے ہیں ۔

اس بحث سے جو ہمارا مقصد ہے اس تک پہنچنے کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ یہ کتاب شیعیان اہل بیت کے عقائد کو بیان کرنے کے لئے کافی نہیں ہے اسی لئے ہم نے محبتِ اہل بیت سے متعلق درج ذیل چار نکات سے بحث کرنے کے لئے مذکورہ دوکو تمہید کے طور پر اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے، اوروہ نکات یہ ہیں :

۱۔ اہل بیت سے محبت و نسبت کی قدر و قیمت

۲۔ مکتبِ اہل بیت سے محبت کرنے اور اس سے منسوب ہونے کے عام شرائط

۳۔ محبت کے اجزا اور اس کے عناصر

۴۔ مکتب اہل بیت سے نسبت و محبت کے فوائد

اب ہم انشاء اللہ یکے بعد دیگرے ان نکات سے بحث کریں گے۔

____________________

(۱)الصواعق المحرقہ: ۱۵۱ طبع مصر ۱۹۶۵ئ

(۲)جو شخص اس مقدمہ کو پڑھتا ہے وہ یہ سوال کرتا ہے کہ اہل بیت کون ہیں اور کیا خصوصیات ہیں ،اس سوال کا جواب دینے کیلئے ہم کتاب کے آخر تک گفتگو جاری رکھیں گے تاکہ سلسلہ منقطع نہ ہو۔

۱۶

اہل بیت سے نسبت اور محبت کی قدر و قیمت

محبت اہل بیت کی اہمیت خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نظر میں

ہم یہاںاہل بیت کی محبت کی اہمیت کے بارے میں کچھ آیتیں اور کچھ حدیثیں بیان کرتے ہیں :

علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں

سیوطی نے در منثور میں اس آیت:( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) ( ۱ ) کی تفسیر میں تحریر کیاہے کہ ابن عساکر نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی تشریف لائے تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن یہ اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی:( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) چنانچہ جب علی آتے تھے تو اصحابِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہتے تھے: خیر البریة آ رہے ہیں ۔

علامہ عبد الرئوف المناوی نے اپنی کتاب ''کنوز الحقائق'' کے صفحہ ۸۲ پر اس طرح روایت کی ہے:

''شیعة علّ ھم الفائزون''علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ۔ پھر لکھتے ہیں اس حدیث

____________________

(۱)سورہ بینہ: ۷

۱۷

کو دیلمی نے بھی نقل کیا ہے ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد کی کتاب المناقب کے مناقبِ علی بن ابی طالب( ۱ ) میں ۔ علی سے روایت کی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: میرے دوستصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی تم اور تمہارے شیعہ خدا کی بارگاہ میں اس حال میں پہونچو گے کہ تم اس سے راضی اور وہ تم سے خوش ہوگا اور تمہارا دشمن اس حال میں حاضر ہوگا کہ خد اس پر غضبناک ہو گا اور وہ جہنم میں جائے گا۔

اس حدیث کی طبرانی نے اوسط میں روایت کی ہے۔

ابن حجر نے ''صواعق کے ص ۹۶ پر روایت کی ہے اور لکھا ہے : دیلمی نے روایت کی ہے کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی : مبارک ہو کہ خدا نے تمہیں ، تمہاری ذریت ، تمہارے بیٹوں ، اہل ، تمہارے شیعوں اور تمہارے شیعوں کے دوستوں کو بخش دیا ہے ۔( ۲ )

ایوب سجستانی سے مروی ہے کہ انہوں نے ابو قلابہ سے روایت کی ہے کہ ا نہوں نے کہا: ام سلمہ نے کہا: میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا سے سنا کہ فرماتے ہیں : قیامت کے روز علی اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہوں گے۔( ۳ )

علی اور ان کے شیعہ بہترین خلائق ہیں

جریر طبری نے اپنی تفسیر میں خدا وند عالم کے اس قول( أوْلٰئِکَ خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) کی تفسیر کے سلسلہ میں اپنی سند سے ابو جارود سے انہوں نے محمد بن علی سے روایت کی ہے کہ

____________________

(۱) مجمع الزوائد : ج۹ ص ۱۳۱

(۲) فضائل الخمسہ من الصحاح الستہ : ج۲ ص ۱۱۷ ص ۱۱۸

(۳)بشارت مصطفی : ص ۱۹۷

۱۸

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: اے علی تم اور تمہارے شیعہ ہی کا میاب ہیں ۔( ۱ )

اس کو سیوطی نے در منثور میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا ہے اور لکھا ہے :اس حدیث کو ابن عدی اور ابن عساکر نے علی سے مرفوع طریقہ سے نقل کیا ہے کہ : علی خیر البریة ہیں ۔

نیز تحریر کیا ہے : ابن عدی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جب یہ آیت( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَ عَمِلُواْ الصَّالِحاتِ أولئک هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) نازل ہوئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا: روز قیامت تم اور تمہارے شیعہ خدا سے خوش اور وہ تم سے راضی ہوگا۔( ۲ )

نیز لکھا ہے : ابن مردویہ نے علی سے روایت کی ہے کہ آپ نے کہا: مجھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: کیا تم نے خدا کا قول( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) نہیں سنا ہے ؟ تمہاری اورتمہارے شیعوں کی، میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوض، کوثرہے جب امتیں حساب کے لئے آئیں گی تو تمہیں اور تمہارے شیعوں کو عزت کے ساتھ بلایا جائیگا اور بٹھایا جائیگا ۔

ابن حجر نے صواعق میں لکھا ہے:

گیارہویں آیت( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أوْلٰئِکَ هُم خَیرُ الْبَرِیَّةِ ) جمال الدین زرندی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت

____________________

(۱) تفسیر طبری: ج۳ ص ۱۷۱ سورہ بینہ

(۲) در منثور : سیوطی تفسیر بینہ

۱۹

نازل ہوئی تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی سے فرمایا: یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں کہ قیامت کے روز تم خدا سے راضی اوروہ تم سے راضی ہوگا۔ اور تمہارا دشمن اس حال میں آئیگا کہ وہ غصہ میں ہوگا اور اس کے ہاتھ گردن کے طوق میں پڑے ہوں گے۔( ۱ )

اس روایت کو شبلنجی نے نور الابصار میں نقل کیا ہے۔( ۲ )

اسلام میں محبت اہل بیت کا مقام

محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی اسناد سے ابو حمزہ ثمالی سے اور انہوں نے ابوجعفر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں ، نماز،زکواة، روزہ، حج اور ولایت ،پررکھی گئی ہے اورجس طرح ولایت کی طرف دعوت دی گئی ہے اس طرح کسی بھی چیز کی طرف نہیں بلایا گیا ہے ۔( ۳ )

محمد بن یعقوب کلینی نے اپنی اسناد سے عجلان ابو صالح سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابو عبد اللہ امام صادق کی خدمت میں عرض کیا: مجھے ایمان کی حدود و تعریف سے آگاہ کیجئے فرمایا: یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، محمد اللہ کے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ، جو چیزوہ خدا کی طرف سے لائے ہیں وہ بر حق ہے ، پانچ وقت کی نماز، ماہ رمضان کا روزہ، خانہ کعبہ کاحج ،ہمارے ولی کی ولایت اور ہمارے دشمن سے عداوت اور سچوں میں شامل ہونا۔( ۴ )

کلینی نے اپنی اسناد سے زرارہ سے انہوں نے ابو جعفر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہیں ، نماز ، زکواة ، روزہ ، حج اور ولایت ۔(۵)

____________________

(۱)الصواعق المحرقہ: ۹۶

(۲) نور الابصار: ج۷ ص ۷۰ و ص ۱۱۰ ہم نے مذکورہ روایات کوفیروز آبادی کی کتاب فضائل الخمسہ من صحاب الستہ طبع مجمع جہانی اہل بیت: ج۱ ص ۳۲۸ و ۳۲۹سے نقل کیاہے

(۳) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۲۹ اصول کافی:ج۲ ص ۱۸

(۴) بحار الانوار: ج۶۸ ص ۳۲۹ اصول کافی : ج ۲ ص ۱۸

(۵) بحار الانوار : ج۲: ص ۳۳۲ اصول کافی : ج۲ ص ۲۱

۲۰