شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں13%

شیعہ جواب دیتے ہیں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 296

شیعہ جواب دیتے ہیں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 94807 / ڈاؤنلوڈ: 4159
سائز سائز سائز
شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

شیعہ جواب دیتے ہیں

سید رضا حسینی نسب

مترجم:عمران مہدی

مجمع جہانی اہل بیت (ع)

۳

قال رسول ﷲ : ''انّى تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتى أهل بیتى ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا أبداً وانّهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علّى الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵ ،اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)

۴

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچے و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۵

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۶

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای سیدرضا حسینی نسب کی گرانقدر کتاب (شیعہ پاسخ می دھد)کو مولاناعمران مہدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۷

پیش گفتار

عالم اسلام کے موجودہ حالات سے باخبر حضرات یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آج امت اسلامیہ کئی ''امتوں ''میں بٹی ہوئی ہے ۔اور ہر امت خاص نظریات اور رسومات کی پابند ہے جسکے نتیجہ میں ان کی زندگی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہے کہ جن کی بقا کا راز ہی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے میں ہے اور وہ اپنے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مختلف طریقوں سے سرمایہ گزاری کرتے ہیں اور اس کیلئے ہر ممکن وسیلے کو بروئے کار لاتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی فرقوں کے درمیان چند اختلافی مسائل ضرور پائے جاتے ہیں اگرچہ ان اختلافی مسائل کا تعلق علم کلام کے ایسے مسائل سے ہے جن کے موجد خود اسلامی متکلمین ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان سے آگاہ تک نہیں ہے۔اور یہ بالکل طے شدہ بات ہے کہ مسلمانوں کے درمیان ان اختلافی مسائل سے کہیں زیادہ اہم ، مشترک نکات بھی پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے لیکن اختلاف ڈالنے والے افراد ، اصول اور فروع میں موجود ان مشترک نکات کو چھوڑ کر صرف اختلافی مسائل کو ہی بیان کرتے ہیں ۔

''اتحاد بین المسلمین''کی ایک کانفرنس میں انفرادی مسائل (جیسے نکاح ، طلاق اور میراث وغیرہ ہیں ) سے متعلق اسلامی مذاہب کے فقہی نظریات کا بیان میرے سپرد کیا گیا تھا چنانچہ میں نے اس کانفرنس میں ان موضوعات کے متعلق ایک تحقیقی رسالہ پیش کیا کہ جس نے تمام شرکاء کو تعجب میں ڈال دیا اس رسالہ کے مطالعہ سے پہلے کسی کے لئے ہر گز یہ بات قابل قبول نہ تھی کہ فقہ شیعہ ان تینوں موضوعات کے اکثر مسائل میں اہل سنت کے موجودہ چاروں مذاہب سے موافقت رکھتی ہے ۔

۸

یہ اختلاف ڈالنے والے افراد ، شیعوں کو دوسرے اسلامی فرقوں سے جدا سمجھتے ہیں اور شب و روز اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس مظلوم فرقے کے خلاف سرگرم عمل ہیں ۔ یہ لوگ اپنے ان کاموں کے ذریعہ اپنے مشترکہ دشمن کی خدمت کررہے ہیں ان ناآگاہ افراد کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ شیعوں سے بھائی چارے ، اور ان کے علماء اور دانشوروں سے رابطے کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے ناآگاہی کے پردے ہٹا دیں اور شیعوں کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور اس طرح وہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت کے مصداق قرار پائیں:

إنَّ هٰذِهِأ ُمَّتُکُمْ ُمَّةً وَاحِدَةً وَأنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُون

استعمار کے پرانے حربوں میں سے ایک حربہ مسلمانوں کے درمیان طرح طرح کے شبہات اور اعتراضات پیدا کرنا رہا ہے تاکہ وہ اس طرح ایران کے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچا سکیں اور یہ وہ پرانا حربہ ہے جو آخری چند صدیوں میں مشرق وسطیٰ اور دوسرے علاقوں میں مختلف صورتوں میں رائج رہا ہے

حج کے موقع پر بہت سے حجاج کرام اسلامی انقلاب سے آشنائی حاصل کرتے ہیں مگر دوسری طرف سے دشمنوں کی غلط تبلیغات ان کے اذہان کو تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں اور وہ حجاج جب ایرانی حجاج سے ملتے ہیں تو ان سے ان سوالات کے جوابات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ کتاب دینی اور ثقافتی مسائل سے متعلق انہی سوالوں کا جواب دینے کی خاطر تحریر کی گئی ہے۔اس کتاب کو میری نگرانی میں محترم جناب سید رضا حسینی نسب نے ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے منظم انداز سے تحریر کیا ہے ۔البتہ اختصار کی خاطر ضرورت کے مطابق مختصر جوابات ہی پیش کئے گئے ہیں مزید تفصیلات کسی اور مقام پر پیش کی جائیں گی ۔

امید ہے کہ یہ ناچیز خدمت امام زمانہ (ارواحنالہ الفدائ)کی بارگاہ میں مورد قبول قرار پائے گی ۔

جعفر سبحانی

حوزئہ علمیہ قم

۲۲نومبر ۱۹۹۴ئ

۹

پہلا سوال

''وعترتی اہل بیتی '' صحیح ہے یا ''وسنتی''؟

حدیث ثقلین ایک بے حد مشہور حدیث ہے جسے محدثین نے اپنی کتابوں میں ان دو طریقوں سے نقل کیا ہے :

الف:''کتاب اللّہ و عترت أہل بیت''

ب:''کتاب اللّہ وسنت''

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو میں سے کونسی حدیث صحیح ہے ؟

جواب: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو حدیث صحیح اور معتبر طریقے سے نقل ہوئی ہے اس میں لفظ ''اہل بیتی '' آیا ہے اور وہ روایت جس میں ''اہل بیتی''کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے وہ سند کے اعتبار سے باطل اور ناقابل قبول ہے ہاں جس حدیث میں ''واہل بیتی'' ہے اس کی سند مکمل طور پر صحیح ہے

۱۰

حدیث ''واہل بیتی'' کی سند

اس مضمون کی حدیث کو دو بزرگ محدثوں نے نقل کیا ہے :

۱۔ مسلم ،اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں : ایک دن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک ایسے تالاب کے کنارے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا نام ''خم'' تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا اس خطبے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خداوندکریم کی حمدو ثنا کے بعد لوگوں کو نصیحت فرمائی اور یوں فرمایا:

''ألاٰ أیّهاالناس ، فاِنما أنا بشر یوشک أن یأت رسول رب فأجیب وأنا تارک فیکم الثقلین. أولهما کتاب اللّه فیه الهدی والنور ، فخذوا کتاب الله واستمسکوا به ، فحث علی کتاب اللّه ورغب فیه ثم قال: وأهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت .''( ۱ )

اے لوگو! بے شک میں ایک بشر ہوںاور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اس کے بعد یوں

____________________

(۱)صحیح مسلم جلد۴ ص۱۸۰۳حدیث نمبر ۲۴۰۸طبع عبدالباقی

۱۱

فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اپنے اہل بیت کے سلسلے میں ،میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں اور اس جملے کی تین مرتبہ تکرار فرمائی.

اس حدیث کے متن کو دارمی نے بھی اپنی کتاب سنن( ۱ ) میں نقل کیا ہے پس کہنا چاہئے کہ حدیث ثقلین کے مذکورہ فقرے کیلئے یہ دونوں ہی سندیں روز روشن کی طرح واضح ہیں اور ان میں کوئی خدشہ نہیں ہے

۲۔ ترمذی نے اس حدیث کے متن کو لفظ''عترتی اهل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے : متنِ حدیث اس طرح ہے:

''اِنّى تارک فیکم ما اِن تمسکتم به لن تضلوا بعدى ، أحدهما أعظم من الاخر : کتاب اللّه حبل ممدود من السماء اِلی الأرض و عترتى أهل بیتى ، لن یفترقا حتی یردا علَّ الحوض فانظروا کیف تخلفون فیهما''(۱)

میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان

____________________

(۱)سنن دارمی جلد۲ ص ۴۳۲،۴۳۱

(۲)سنن ترمذی جلد۵ص۶۶۳نمبر۳۷۷۸۸

۱۲

سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں .لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.

صحیح کے مؤلف مسلم اور سنن کے مؤلف ترمذی نے لفظ ''اہل بیتی '' پرزور دیا ہے اور یہی مطلب ہمارے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے یہی نہیں بلکہ ان کی نقل کردہ سندیں پوری طرح سے قابل اعتماد اور خصوصی طور پر معتبر مانی گئی ہیں

لفظ ''و سنتی'' والی حدیث کی سند

وہ روایت کہ جس میں لفظ'' اہل بیتی '' کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے جعلی ہے. اس کی سند ضعیف ہے اور اسے اموی حکومت کے درباریوں نے گھڑا ہے

۱۔ حاکم نیشا پوری نے اپنی کتاب مستدرک میں مذکورہ مضمون کو ذیل کی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے.

''عباس بن أبى أویس'' عن ''أبى أویس'' عن ''ثور بن زیدالدیلم''عن ''عکرمه'' عن ''ابن عباس'' قال رسول اللّه :''یا أیّها الناس اِنّى قد ترکت فیکم ، اِن اعتصمتم به فلن تضلوا أبداً کتاب اللّه و سنة نبیه. ''

۱۳

اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑاہے اگر تم نے ان دونوں کو تھامے رکھاتو ہر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں( ۱ )

اس حدیث کے اس مضمون کے راویوں کے درمیان ایک ایسے باپ بیٹے ہیں جو سند کی دنیا میں آفت شمار ہوتے ہیں وہ باپ بیٹے اسماعیل بن ابی اویس اور ابو اویس ہیں کسی نے بھی ان کے موثق ہونے کی شہادت نہیں دی ہے بلکہ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ دونوں جھوٹے اور حدیثیں گھڑنے والے تھے.

ان دو کے بارے میں علمائے رجال کا نظریہ

حافظ مزی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسماعیل اور اس کے باپ کے بارے میں علم رجا ل کے محققین کا نظریہ اس طرح نقل کیا ہے: یحییٰ بن معین ( جن کا شمار علم رجال کے بزرگ علماء میں ہوتا ہے) کہتے ہیں کہ ابو اویس اور ان کا بیٹا دونوں ہی ضعیف ہیں

اسی طرح یحییٰ بن معین سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ دونوں حدیث کے چورتھے۔ ابن معین سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ابو اویس کے بیٹے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.

ابو اویس کے بیٹے کے بارے میں نسائی کہتے تھے کہ وہ ضعیف اور ناقابل اعتماد ہے

____________________

(۱)حاکم مستدرک جلدنمبر۱ ص۹۳

۱۴

ابوالقاسم لالکائی نے لکھا ہے کہ ''نسائی'' نے اس کے خلاف بہت سی باتیں کہی ہیں اور یہاں تک کہا ہے کہ اس کی حدیثوں کو چھوڑ دیا جائے.

ابن عدی (جو کہ علماء رجال میں سے ہیں ) کہتے ہیں کہ ابن ابی اویس نے اپنے ماموں مالک سے ایسی عجیب و غریب روایتیں نقل کی ہیں جن کو ماننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے( ۱ )

ابن حجر اپنی کتاب فتح الباری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں ، ابن ابی اویس کی حدیث سے ہر گز حجت قائم نہیں کی جاسکتی ، چونکہ نسائی نے اس کی مذمت کی ہے.( ۲ )

حافظ سید احمد بن صدیق اپنی کتاب فتح الملک العلی میں سلمہ بن شیب سے اسماعیل بن ابی اویس کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، سلمہ بن شیب کہتے ہیں کہ میں نے خوداسماعیل بن ابی اویس سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہا تھا : جب میں یہ دیکھتا کہ مدینہ والے کسی مسئلے میں اختلاف کر کے دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو اس وقت میں حدیث گھڑ لیتاتھا( ۳ )

اس اعتبار سے اسماعیل بن ابی اویس کا جرم یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑتا تھا ابن معین نے کہا ہے کہ وہ جھوٹا تھا اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کی حدیث کو نہ تو صحیح مسلم نے نقل کیا ہے

____________________

(۱) حافظ مزی ، کتاب تھذیب الکمال ج ۳ ص ۱۲۷

(۲) مقدمہ فتح الباری ابن حجر عسقلانی ص ۳۹۱ طبع دار المعرفة

(۳) کتاب فتح الملک العلی ، حافظ سید احمد ص ۱۵

۱۵

اور نہ ہی ترمذی نے ، اور نہ ہی دوسری کتب صحاح میں اس کی حدیث کو نقل کیا گیا ہے.

اور اسی طرح ابو اویس کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ابو حاتم رازی نے اپنی کتاب ''جرح و تعدیل'' میں اس کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ابو اویس کی حدیثیں کتابوں میں لکھی تو جاتی ہیں مگر ان سے حجت قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کی حدیثیں قوی اور محکم نہیں ہیں( ۱ )

اسی طرح ابو حاتم نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ ابو اویس قابل اعتماد نہیں ہے.

جب وہ روایت صحیح نہیں ہوسکتی جس کی سند میں یہ دو افراد ہوں تو پھر اس روایت کا کیا حال ہوگا جو ایک صحیح اور قابل عمل روایت کی مخالف ہو.

یہاں پر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث کے ناقل حاکم نیشاپوری نے خود اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتراف کیا ہے اسی وجہ سے انہوں نے اس حدیث کی سند کی تصحیح نہیں کی ہے لیکن اس حدیث کے صحیح ہونے کے لئے ایک گواہ لائے ہیں جو خود سندکے اعتبارسے کمزور اور ناقابل اعتبار ہے اسی وجہ سے یہ شاہد حدیث کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اور ضعیف بنا رہا ہے اب ہم یہاں ان کے لائے ہوئے فضول گواہ کو درج ذیل عنوان کی صورت میں ذکر کرتے ہیں :

____________________

(۱)الجرح والتعدیل جلد ۵ ص ۹۲ ابو حاتم رازی

۱۶

حدیث''وسنتی'' کی دوسری سند

حاکم نیشاپوری نے اس حدیث کو ابو ہریرہ سے مرفوع( ۱ ) طریقہ سے ایک ایسی سند کے ساتھ جسے ہم بعد میں پیش کریں گے یوں نقل کیا ہے:

اِن قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما : کتاب اللّہ و سنت و لن یفترقا حتی یردا علَّالحوض.( ۲ )

اس متن کوحاکم نیشاپوری نے درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

''الضب'' عن ''صالح بن موسیٰ الطلح'' عن ''عبدالعزیز بن رفیع'' عن ''أب صالح'' عن ''أب ہریرہ''

یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح جعلی ہے اس حدیث کے سلسلہ سند میں صالح بن موسی الطلحی نامی شخص ہے جس کے بارے میں ہم علم رجال کے بزرگ علماء کے نظریات کو یہاں بیان کرتے ہیں :

یحییٰ بن معین کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ قابل اعتماد نہیں ہے ابو حاتم رازی کہتے ہیں ، اس کی حدیث ضعیف اور ناقابل قبول ہے اس نے بہت سے موثق و معتبر

____________________

(۱)حدیث مرفوع: ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند سے ایک یا کئی افراد حذف ہوں اور ان کی جگہ کلمہ ''رفعہ'' استعمال کردیا گیا ہوتو ایسی حدیث ضعیف ہوگی.(مترجم)

(۲) حاکم مستدرک جلد ۱ ص ۹۳

۱۷

افراد کی طرف نسبت دے کر بہت سی ناقابل قبول احادیث کو نقل کیا ہے

نسائی کہتے ہیں کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ احادیث لکھنے کے قابل نہیں ہیں ، ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ اس کی نقل کردہ احادیث متروک ہیں( ۱ )

ابن حجر اپنی کتاب '' تھذیب التھذیب'' میں لکھتے ہیں : ابن حِبانّ کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ موثق افراد کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیتا ہے جو ذرا بھی ان کی باتوں سے مشابہت نہیں رکھتیں سر انجام اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث نہ تو دلیل بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حدیث حجت ہے ابونعیم اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے۔وہ ہمیشہ ناقابل قبول حدیثیں نقل کرتا تھا( ۲ )

اسی طرح ابن حجر اپنی کتاب تقریب( ۳ ) میں کہتے ہیں کہ اس کی حدیث متروک ہے اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب کاشف( ۴ ) میں اس کے بارے میں لکھا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی حدیث ضعیف ہے.

یہاں تک کہ ذہبی نے صالح بن موسیٰ کی اسی حدیث کو اپنی کتاب ''میزان الاعتدال''

میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ یہ حدیث اس کی ناقابل قبول احادیث میں سے ہے.( ۵ )

____________________

(۱)تہذیب الکمال جلد ۱۳ ص ۹۶ حافظ مزی.

(۲)تہذیب التہذیب جلد ۴ ص ۳۵۵، ابن حجر

(۳)ترجمہ تقریب ، نمبر ۲۸۹۱، ابن حجر

(۴)ترجمہ الکاشف، نمبر ۲۴۱۲ ذہبی

(۵)میزان الاعتدال جلد۲ ص ۳۰۲ ذہبی

۱۸

حدیث ''وسنتی''کی تیسری سند

ابن عبدالبرنے اپنی کتاب ''تمہید''( ۱ ) میں اس حدیث کے متن کو درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے.

''عبدالرحمن بن یحییٰ '' عن ''احمد بن سعید '' عن ''محمد بن ابراھیم الدبیل'' عن ''عل بن زید الفرائض'' عن ''الحنین'' عن ''کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف'' عن ''أبیہ'' عن ''جدہ''

امام شافعی نے کثیر بن عبداللہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک رکن تھا۔( ۲ )

ابوداؤد کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے افراد میں سے تھا.( ۳ )

ابن حبان اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن کثیر نے حدیث کی جو کتاب اپنے باپ اور دادا سے نقل کی ہے اس کی بنیاد جعل حدیث پر ہے اس کی کتاب سے کچھ نقل کرنا اور عبداللہ بن کثیر سے روایت لینا قطعا حرام ہے صرف اس صورت میں صحیح ہے کہ اس کی بات کو تعجب کے طور پر یا تنقید کرنے کے لئے نقل کیا جائے.( ۴ )

____________________

(۱) التمہید، جلد ۲۴ ص ۳۳۱

(۲) تھذیب التھذیب جلد ۸ ص ۳۷۷ ( دارالفکر) اور تھذیب الکمال جلد ۲۴ ص ۱۳۸

(۳) گزشتہ کتابوں سے مأخوذ

(۴) المجروحین، جلد ۲ ص ۲۲۱ ابن حبان

۱۹

نسائی اور دارقطنی کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے امام احمد کہتے ہیں : کہ وہ معتبر راوی نہیں ہے اور اعتماد کے لائق نہیں ہے.

اسی طرح اس کے بارے میں ابن معین کا بھی یہی نظریہ ہے تعجب انگیز بات تویہ ہے کہ ابن حجر نے ''التقریب'' کے ترجمہ میں صالح بن موسیٰ کو فقط ضعیف کہنے پر اکتفاء کیا ہے اور صالح بن موسیٰ کو جھوٹا کہنے والوںکو شدت پسند قرار دیا ہے ،حالانکہ علمائے رجال نے اس کے بارے میں جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں یہاں تک کہ ذھبی اس کے بارے میں کہتے ہیں : اس کی باتیں باطل اور ضعیف ہیں

سند کے بغیر متن کا نقل

امام مالک نے اسی متن کو کتاب ''الموطا''( ۱ ) میں سند کے بغیراور بصورت مرسل( ۲ ) نقل کیا ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کی حدیث کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس تحقیق سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث جس میں ''وسنتی'' ہے وہ جعلی اور من گھڑت ہے اور اسے جھوٹے راویوں اور اموی حکومت کے درباریوں نے ''وعترتی'' کے کلمہ والی صحیح حدیث کے مقابلے میں گھڑا ہے لہذا مساجد کے خطباء ،

____________________

(۱) الموطا ، مالک ص ۸۸۹ حدیث ۳

(۲)روایت مرسل : ایسی روایت کو کہا جاتا ہے جس کے سلسلہ سند سے کوئی راوی حذف ہو جیسے کہا جائے ''عن رجل'' یا عن بعض اصحابنا تو ایسی روایت مرسلہ ہوگی(مترجم)

۲۰

مقررین اور ائمہ جماعت حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حدیث کوچھوڑ دیںجو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بیان نہیں کی ہے بلکہ اس کی جگہ صحیح حدیث سے لوگوں کو آشنا کریں اور وہ حدیث جسے مسلم نے اپنی کتاب ''صحیح'' میں لفظ ''و اہل بیتی'' کے ساتھ اور ترمذی نے لفظ ''عترتی و اہل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے اسے لوگوںکے سامنے بیان کریں اسی طرح علم ودانش کے متلاشی افراد کے لئے ضروری ہے کہ علم حدیث سیکھیں تاکہ صحیح اور ضعیف حدیث کو ایک دوسرے سے جدا کرسکیں.

آخر میں ہم یہ یاددلا دیں کہ حدیث ثقلین میں لفظ ''اہل بیتی'' سے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد حضرت علی ـ اور وہ حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت امام حسن ـ اورحضرت امام حسین ـ ہیں ۔

کیونکہ مسلم نے( ۱ ) اپنی کتاب صحیح میں اور ترمذی نے( ۲ ) اپنی کتاب سنن میں حضرت عائشہ سے اس طرح نقل کیا ہے:

نزلت هذه الآیة علیٰ النبى .(اِنّما یریدُ اللّهُ لیذهبَ عَنْکم الرِجْسَ أهْلَ البیتِ و یُطِّهرکم تطهیراً )فى بیت أم سلمة فدعا النبى فاطمة و حسناً و حسیناً فجللهم بکسائٍ و عَلّى خلف

____________________

(۱)صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۸۳ ح ۲۴۲۴

(۲)ترمذی جلد ۵ ص ۶۶۳

۲۱

ظهره فجللّه بکساء ثم قال : أللّهم هٰؤلائِ أهل بیت فأذهبعنهم الرجس و طهرهم تطهیرا. قالت أم سلمة و أنا معهم یا نبى اللّه؟ قال أنتِ علیٰ مکانک و أنتِ اِلی الخیر .( ۱ )

یہ آیت(اِنّما یریداللهُ لیذهبَ عَنْکم الرِجْسَ اَهْلَ البیتِ و یُطَهِّرکم تطهیراً )ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فاطمہ ،حسن و حسین کو اپنی عبا کے اندر لے لیا اس وقت علی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیچھے تھے آ پ نے ان کوبھی چادر کے اندر بلا لیااورفرمایا : اے میرے پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں پلیدیوں کو ان سے دور رکھ اور ان کو پاک وپاکیزہ قرار دے۔ ام سلمہ نے کہا : اے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میں بھی ان میں سے ہوں(یعنی آیت میں جو لفظ اہل بیت آیا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں؟) پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا تم اپنی جگہ پر ہی رہو (عبا کے نیچے مت آؤ) اور تم نیکی کے راستے پر ہو۔''

حدیث ثقلین کا مفہوم

چونکہ رسول اسلام نے عترت کو قرآن کاہم پلہ قرار دیا ہے اور دونوں کو امت کے

____________________

(۱)اقتباس از حسن بن علی السقاف صحیح صفة صلاة النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ص ۲۹۴. ۲۸۹

۲۲

درمیان حجت خدا قرار دیا ہے لہٰذا اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں :

۱۔ قرآن کی طرح عترت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کلام بھی حجت ہے اور تمام دینی امور خواہ وہ عقیدے سے متعلق ہوں یا فقہ سے متعلق ان سب میں ضروری ہے کہ ان کے کلام سے

تمسک کیا جائے ،اور ان کی طرف سے دلیل و رہنمائی مل جانے کے بعد ان سے روگردانی کر کے کسی اور کی طرف نہیں جانا چاہئے

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد مسلمان خلافت اور امت کے سیاسی امور کی رہبری کے مسئلہ میں دو گروہوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنی بات کو حق ثابت کرنے کے لئے دلیل پیش کرنے لگا اگرچہ مسلمانوں کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے مگر اہل بیت کی علمی مرجعیت کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا

کیونکہ سارے مسلمان حدیث ثقلین کے صحیح ہونے پر متفق ہیں اور یہ حدیث عقائد اور احکام میں قرآن اور عترت کو مرجع قرار دیتی ہے اگر امت اسلامی اس حدیث پر عمل کرتی تو اس کے درمیان اختلاف کا دائرہ محدود اور وحدت کا دائرہ وسیع ہوجاتا.

۲۔ قرآن مجید، کلام خدا ہونے کے لحاظ سے ہر قسم کی خطا اور غلطی سے محفوظ ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس میں خطا اور غلطی کا احتمال دیا جائے جبکہ خداوند کریم نے اس کی یوں توصیف کی ہے:

۲۳

(لاٰیْاتِیهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلاٰمِنْ خَلْفِهِ تَنزِیل مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ )( ۱ )

''باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے اور یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے .''

اگر قرآن مجید ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہے تو اس کے ہم رتبہ اور ہم پلہ افراد بھی ہر قسم

کی خطا سے محفوظ ہیں کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک یا کئی خطاکار افراد قرآن مجید کے ہم پلہ اور ہم وزن قرار پائیں۔ یہ حدیث گواہ ہے کہ وہ افراد ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ اور معصوم ہیں البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ عصمت کا لازمہ نبوت نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی معصوم ہو لیکن نبی نہ ہوجیسے حضرت مریم اس آیۂ شریفہ :

إنَّ ﷲ اصْطَفَاکِ وَطَهَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَائِ الْعَالَمِینَ )( ۲ )

(اے مریم !) خدا نے تمہیں چن لیا اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دیا ہے ۔

کے مطابق گناہ سے تو پاک ہیں لیکن پیغمبر نہیں ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ فصلت آیت ۴۲

(۲) سورہ آل عمران آیت ۴۲

۲۴

دوسرا سوال

شیعہ سے کیا مراد ہے؟

جواب: عربی لغت میں ''شیعہ'' کے معنی ہیں پیروی کرنے والاجیسا کہ قرآن مجید فرماتا ہے :

(وَإِنَّ مِنْ شِیعَتِهِ لَإِبْرَاهِیم( ۱ )

اور یقیناان (نوح) کے پیروکاروں میں سے ابراہیم بھی ہیں ۔

لیکن مسلمانوں کی اصطلاح میں شیعہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی وفات سے قبل کئی موقعوں پر اپنے جانشین اور خلیفہ کا اعلان فرمایا تھا ان ہی موقعوں میں سے ایک ہجرت کے دسویں سال کی اٹھارہ ذی الحجہ کی تاریخ بھی ہے

جو روز غدیر خم کے نام سے معروف ہے اس دن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کے ایک عظیم مجمع میں اپنے جانشین اور خلیفہ کو اپنے بعد مسلمانوں کے لئے ان کے سیاسی، علمی اور دینی امور میں مرجع قرار دیا تھا اس جواب کی مزید وضاحت یہ ہے : پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

(۱) سورہ صافات آیت ۸۳

۲۵

کے بعد مہاجرین اور انصار دو گروہوں میں بٹ گئے :

۱۔ ایک گروہ کا یہ عقیدہ تھا کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسئلہ خلافت کو یونہی نہیں چھوڑ دیا تھا بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے جانشین کو خود معین فرمایا تھا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین حضرت علی بن ابی طالب ـ ہیں جو سب سے پہلے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان لائے تھے

مہاجرین اور انصار کے اس گروہ میں بنی ہاشم کے تمام سربرآوردہ افراد اور بعض بزرگ مرتبہ صحابہ جیسے سلمان ، ابوذر، مقداداور خباب بن ارت وغیرہ سرفہرست تھے مسلمانوں کا یہ گروہ اپنے اسی عقیدے پر باقی رہا، اور یہی افراد علی ـ کے شیعہ کہلائے.

البتہ یہ لقب پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی ہی میں امیر المومنین ـ کے پیروکاروں کو عطا فرمایا تھا آنحضرت نے حضرت علی بن ابی طالب ـ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

والذى نفسي بیده اِنّ هذا و شیعته لهم الفائزون یوم القیامة. ( ۱ )

قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدر ت میں میری جان ہے یہ (علی ) اور ان کے پیروکار قیامت کے دن کامیاب ہوں گے.

اس بنا پر شیعہ صدر اسلام کے مسلمانوں کے اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ منصب ولایت و امامت خدا کی طرف سے معین کیا جاتا ہے اس وجہ سے یہ گروہ اس نام سے مشہور ہوا اور یہ گروہ آج بھی راہ امامت پر گامزن ہے اور اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پیروی کرتا ہے اس وضاحت سے شیعوں کا مرتبہ اور مقام بھی واضح ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بعض جاہل یا مفاد پرست افراد کا یہ کلام بھی باطل ہوجاتا ہے کہ شیعیت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد کی پیداوار ہے تاریخ شیعیت کی مزید اور بہتر شناخت کے لئے ''اصل الشیعہ و اصولھا'' ''المراجعات'' اور ''اعیان الشیعہ '' جیسی کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا.

۲۔دوسرے گروہ کا عقیدہ یہ تھا کہ منصب خلافت، انتخابی ہے اور اسی لئے انہوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت کی اورمدتوں بعد یہی گروہ''اہل سنت'' یا تسنن کے نام سے مشہور ہوا اور نتیجہ میں ان دو اسلامی گروہوں کے درمیان بہت سے اصولوں میں مشترک نظریات ہونے کے باوجود مسئلہ خلافت اور جانشینی پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا۔ واضح رہے کہ ان فرقوں کے بانی افراد مہاجرین اور انصار تھے.

____________________

(۱) تفسیر درالمنثور جلد ۶ جلال الدین سیوطی نے سورۂ بینہ کی ساتویں آیت(إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إُوْلٰئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) کی تفسیر میں یہ حدیث نقل کی ہے.

۲۶

تیسرا سوال

کیوں حضرت علی ہی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی اور جانشین ہیں ؟

جواب:ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں کہ شیعوں کا راسخ عقیدہ یہ ہے کہ منصب خلافت ، خدا عطا فرماتا ہے اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد شروع ہونے والی امامت چند اعتبار سے نبوت کی طرح ہے جس طرح یہ ضروری ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا معین فرمائے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی کو بھی خدا ہی معین کرے اس حقیقت کے سلسلے میں حیات پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تاریخ بہترین گواہ ہے کیونکہ پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چند موقعوں پر اپنا خلیفہ معین فرمایا ہے ہم یہاں ان میں سے تین موقعوں کا ذکر کرتے ہیں :

۱۔ آغاز بعثت میں :

جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس آیہ کریمہ(وَأَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ )( ۱ ) کے مطابق آئین توحید کی طرف

____________________

(۱) سورہ شعراء آیت ۲۱۴

۲۷

دعوت دیں، تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سب کو خطاب کرتے ہوئے یوں فرمایا ''جو بھی اس راستے میں میری مدد کرے گا ، وہی میرا وصی ، وزیر، اور جانشین ہوگا'' پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے الفاظ یہ تھے:

'' فأیکم یؤازرن ف هذاالأمر علی أن یکون أخى و وزیرى و خلیفتى و وصیى فیکم''

تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میری مدد کرے تاکہ وہی تمہارے درمیان میرا بھائی، وزیر، وصی اور جانشین قرار پائے؟

اس ملکوتی آواز پر صرف اور صرف علی ابن ابی طالب ـ نے لبیک کہا اس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے رشتہ داروں کی طرف رخ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

''اِن هذا أخى و وصىى و خلیفتى فیکم فاسمعوا له و أطیعوه'' ( ۱ )

بہ تحقیق یہ (علی ) تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور جانشین ہے. اس کی باتوں کو سنو اور اس کی پیروی کرو.

۲۔ غزوۂ تبوک میں

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی ـ سے فرمایا :

____________________

(۱) تاریخ طبری ؛ جلد ۲ ص ۶۳. ۶۲ اور تاریخ کامل جلد ۲ ص ۴۱ ۔۴۰اور مسند احمد جلد۱ ص ۱۱۱ ،

اور شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) جلد۱۳ ص ۲۱۲. ۲۱۰

۲۸

''أما ترضی أن تکون منى بمنزلة هارون من موسیٰ اِلا أنّه لانبى بعدى'' ( ۱ )

کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی ہے جیسی ہارون کو موسیٰ سے تھی بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا.

یعنی جس طرح ہارون ـ حضرت موسیٰ ـ کے بلا فصل وصی اور جانشین تھے ، اسی طرح تم بھی میرے خلیفہ اور جانشین ہو۔

۳۔ دسویں ہجری میں

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجة الوداع سے و اپس لوٹتے وقت غدیر خم کے میدان میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کے درمیان حضرت علی ـ کو مسلمانوں اور مومنوں کا ولی معین کیا اور فرمایا:

''مَن کنت مولاه فهذا علّى مولاه''

''جس کا میں سرپرست اور صاحب اختیار تھا اب یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں .''

یہاں پر جو اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے وہ یہ کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے خطبے کے آغاز

____________________

(۲)سیرۂ ابن ہشام جلد۲ ص ۵۲۰ اور الصواعق المحرقہ طبع دوم مصر باب ۹ فصل ۲ ص ۱۲۱.

۲۹

میں ارشاد فرمایا:

''ألستُ أولیٰ بکم مِن أنفسکم؟''

''کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے بڑھ کر حق نہیں رکھتا ؟''

اس وقت تمام مسلمانوں نے یک زبان ہوکر پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق کی تھی لہذا یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس حدیث کی رو سے جو برتری اور اختیار تام رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حاصل تھا وہی برتری و اختیار کامل علی کو حاصل ہے۔

اس اعتبار سے یہاں پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مومنین پر برتری اور فوقیت رکھتے تھے اسی طرح حضرت علی ـ بھی مومنین کے نفسوں پر برتری اور فوقیت رکھتے ہیں اس دن حسان بن ثابت نامی شاعر نے غدیر خم کے اس تاریخی واقعے کو اپنے اشعار میں اس طرح نظم کیا ہے :

ینادیهم یوم الغدیر نبیُّهم

بخم واسمع بالرسول منادیا

فقال فمن مولاکم و نبیُّکم ؟

فقالوا ولم یبدوا هناک التعامیا

الهک مولانا و أنت نبیُّنا

و لم تلق منا فِ الولایة عاصیا

فقال له قم یا عل فنن

رضیتک من بعد اِماما وهادیا

فمن کنت مولاه فهذا ولیه

فکونوا له أتباع صدق موالیا

هناک دعا: اللّهم وال ولیه

وکن للذ عادیٰ علیاً معادیا( ۱ )

____________________

(۱) المناقب (خوارزمی مالکی)ص ۸۰ اور تذکرة خواص الامہ (سبط ابن جوزی حنفی) ص ۲۰ اور کفایة الطالب ص ۱۷ (مصنف گنجی شافعی) وغیرہ...

۳۰

حدیث غدیر ، اسلام کی ایسی متواتر( ۱ ) احادیث میں سے ایک ہے جس کو شیعہ علماء کے علاوہ تقریبا تین سو ساٹھ سنی علماء نے بھی نقل کیا ہے( ۲ ) یہاں تک کہ اس حدیث کا سلسلہ سند ایک سو دس اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچتا ہے اور عالم اسلام کے چھبیس بزرگ علماء نے اس حدیث کے سلسلۂ سند کے بارے میں مستقل طور پر کتابیں لکھی ہیں

مشہور مسلمان مورخ ابوجعفر طبری نے اس حدیث شریف کے سلسلۂ اسناد کو دو بڑی جلدوں میں جمع کیا ہے اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے کتاب ''الغدیر'' کا مطالعہ کریں.

____________________

(۱) حدیث متواتر: وہ روایت ہے جو ایسے متعدد اور مختلف راویوں سے نقل ہوئی ہو جس میں ذرا بھی جھوٹ کا شائبہ نہ رہ جائے.(مترجم)

(۲) بطور نمونہ کتاب ''الصواعق المحرقہ'' (ابن حجر) طبع دوم مصر باب ۹ اور فصل ۲ ص ۱۲۲ کا مطالعہ کریں.

۳۱

چوتھا سوال

''ائمہ'' کون ہیں ؟

جواب: پیغمبر گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی ہی میں یہ بات واضح کردی تھی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بارہ خلیفے ہوں گے اورسب قریش میں سے ہوں گے اور اسلام کی عزت انہیں خلفاء کی مرہون منت ہوگی.

جابربن سمرہ کہتے ہیں :

''سمعت رسول الله یقول: لایزال السلام عزیزأ اِلی اثنى عشر خلیفةً ثم قال کلمة لا أسمعها فقلت لأبى: ماقال ؟ فقال:کلهم من قریش. ''( ۱ )

میں نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو بارہ خلفاء کے ذریعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کوئی لفظ کہا جسے میں نے نہیں سنا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کیا

____________________

(۱)صحیح مسلم جلد ۶ صفحہ ۲ طبع مصر

۳۲

فرمایاہے.جواب دیا کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہ یہ سب قریش میں سے ہوں گے

اسلام کی تاریخ میں ایسے بارہ خلفاء جو اسلام کی عزت کے محافظ اور نگہبان رہے ہوں ان بارہ اماموں کے علاوہ نہیں ملتے جن کو شیعہ اپنے امام مانتے ہیں کیونکہ جن بارہ خلفاء کا تعارف خود پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کرایا تھا وہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بلا فصل خلیفہ شمار ہوتے ہیں

اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بارہ افراد کون ہیں ؟

اگر ہم ان چار خلفاء سے کہ جن کو اہل سنت خلفاء راشدین کہتے ہیں ، چشم پوشی کرلیں تو دوسرے خلفاء میں سے کوئی بھی عزت اسلام کا باعث نہیں تھاجیسا کہ اموی اور عباسی خلفاء کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے. لیکن شیعوں کے سبھی بارہ ائمہ اپنے اپنے زمانے میں تقوی اور پرہیزگاری کے پیکر تھے.

وہ سب پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت کے محافظ تھے نیز وہ سب صحابہ کرام، تابعین اور بعد میں آنے والی نسلوں کی توجہ کا مرکز قرار پائے مورخین نے بھی انکے علم اور ان کی وثاقت کی صاف لفظوں میں گواہی دی ہے.

ان بارہ اماموں کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں :

۳۳

۱۔امام علی ابن ابی طالب ـ

۲۔امام حسن بن علی (مجتبیٰ) ـ

۳۔ امام حسین بن علی ـ

۴۔ امام علی ابن الحسین (زین العابدین) ـ

۵۔امام محمد بن علی (باقر) ـ

۶۔ امام جعفر بن محمد (صادق) ـ

۷۔ امام موسیٰ بن جعفر (کاظم) ـ

۸۔ امام علی بن موسیٰ (رضا) ـ

۹۔ امام محمد بن علی (تقی) ـ

۱۰۔ امام علی بن محمد (نقی) ـ

۱۱۔ امام حسن بن علی (عسکری) ـ

۱۲۔ امام مہدی (قائم) ـ

آپ کے سلسلے میں مسلمان محدثین نے پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متواتر احادیث نقل کی ہیں کہ جن میں آپ کو مہدی موعود (جن کا وعدہ کیا گیا ہے) کے نام سے یاد کیاگیا ہے.

یہ وہ ائمہ معصومین ہیں کہ جنکے اسمائے مبارک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے بیان فرمائے ہیں انکی زندگی سے متعارف ہونے کیلئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا:

۱. تذکرة الخواص (تذکرة خواص الامّہ)

۲.کفایة الاثر

۳.وفیات الاعیان

۴. اعیان الشیعہ(سید محسن امین عاملی) یہ کتاب بقیہ کتابوں کی نسبت زیادہ جامع ہے.

۳۴

پانچواں سوال

حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات پڑھتے وقت کیوں آل کا اضافہ کرتے ہیں اور: اللّھم صل علی محمد و آل محمد کہتے ہیں ؟

جواب: یہ ایک مسلم اور قطعی بات ہے کہ خود پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کو درود پڑھنے کا یہ طریقہ سکھایا ہے جس وقت یہ آیۂ شریفہ:

(إِنَّ ﷲ وَمَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِّىِِ یٰاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیمًا )( ۱ ) نازل ہوئی تو مسلمانوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا : ہم کس طرح درود پڑھیں ؟

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''لاتُصلُّوا علَّ الصلاة البتراء '' مجھ پر ناقص صلوات مت پڑھنا'' مسلمانوں نے پھر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا:ہم کس طرح درود پڑھیں؟

____________________

(۱)سورہ احزاب آیت ۵۶

۳۵

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا کہو:اللهم صلِّ علی محمد و آل محمد .( ۱ )

اہل بیت ٪ قدرومنزلت کے ایک ایسے عظیم درجہ پر فائز ہیں جسے امام شافعی نے اپنے ان مشہورا شعار میں قلمبند کیا ہے:

یاأهل بیت رسول الله حبُّکم

فرض من الله فى القرآن انزله

کفاکم من عظیم القدر أنکم

مَن لم یصلِّ علیکم لاصلاة له( ۲ )

ترجمہ:اے اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کی محبت کو خدا نے قرآن میں نازل کر کے واجب قرار دے دیا ہے.آپ کی قدر ومنزلت کے لئے بس یہی کافی ہے کہ جو شخص بھی آپ پر صلوات نہ پڑھے اس کی نماز ہی نہیں ہوتی.

____________________

(۱) الصواعق المحرقہ (ابن حجر) طبع دوم مکتبة القاہرہ مصر باب ۱۱ فصل اول ص ۱۴۶ اورایسی روایت تفسیر

در المنثور جلد ۵ سورہ احزاب کی آیت ۵۶ کے ذیل میں بھی موجود ہے اس روایت کو صاحب تفسیر نے محدثین اور کتب صحاح اور کتب مسانید(جیسے عبدالرزاق ، ابن ابی شبیہ، احمد ، بخاری ، مسلم، ابوداؤد ، ترمذی، نسائی ، ابن ماجہ اور ابن مردویہ) سے نقل کیا ہے ۔ مذکورہ راویوں نے کعب ابن عجرہ سے اور انہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے.

(۲) الصواعق المحرقہ (ابن حجر) باب ۱۱ ص ۱۴۸ فصل اول اور کتاب اتحاف (شبراوی) ص ۲۹ اور کتاب

مشارق الانوار (حمزاوی مالکی) ص ۸۸ اور کتاب المواہب (زرقانی) اور کتاب الاسعاف (صبان) ص ۱۹۹.

۳۶

چھٹا سوال

آپ اپنے اماموں کو معصوم کیوں کہتے ہیں ؟

جواب:شیعوں کے ائمہ ٪ جو کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہیں ان کی عصمت پر بہت سی دلیلیں موجود ہیں ہم ان میں سے صرف ایک دلیل کا یہاں پر تذکرہ کرتے ہیں :

شیعہ اور سنی دانشوروں نے یہ نقل کیا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ ارشاد فرمایا ہے :

''اِنى تارک فیکم الثقلین کتاب اللّه و أهل بیتى و انهما لن یفترقا حتی یردا علَّى الحوض ۔''( ۱ )

میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں''کتاب خدا'' (قرآن) اور ''میرے اہل بیت '' یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے

____________________

(۱) مستدرک حاکم ، جزء سوم ص ۱۴۸۔اور الصواعق المحرقہ ابن حجر باب ۱۱ فصل اول ص ۱۴۹اور اسی سے ملتی جلتی روایات کنز العمال جزء اول باب الاعتصام بالکتاب والسنة ص ۴۴، اور مسند احمد جز ء پنجم ص ۱۸۹ ، ۱۸۲اور دیگر کتب میں موجود ہیں

۳۷

یہاں پر ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ : قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور گمراہی سے محفوظ ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ وحیِ الہی کی طرف غلطی اور خطا کی نسبت دی جائے جبکہ قرآن کو نازل کرنے والی ذات، پروردگار عالم کی ہے اور اسے لانے والا فرشتۂ وحی ہے اور اسے لینے والی شخصیت پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہے اور ان تینوں کا معصوم ہونا آفتاب کی طرح روشن ہے اسی طرح سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وحی کے لینے، اس کی حفاظت کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے سلسلے میں ہر قسم کے اشتباہ سے محفوظ تھے لھذا یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جب کتاب خدا اس پائیدار اور محکم عصمت کے حصار میں ہے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ٪ بھی ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ ہیں کیونکہ حدیث ثقلین میں پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی عترت کو امت کی ہدایت اور رہبری کے اعتبار سے قرآن مجید کا ہم رتبہ اور ہم پلہ قرار دیا ہے.اور چونکہ عترت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قرآن مجید ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں لہذا یہ دونوں عصمت کے لحاظ سے بھی ایک جیسے ہیں دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ غیر معصوم فرد یا افراد کو قرآن مجید کا ہم پلہ قراردینے کی کوئی وجہ نہ تھی.

اسی طرح ائمہ معصومین ٪ کی عصمت کے سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ جملہ ہے:

'' لن یفترقا حتی یردا علّى الحوض. ''

یہ دو ہرگز (ہدایت اور رہبری میں ) ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیںگے.

۳۸

اگر پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہر قسم کی لغزشوں سے محفوظ نہ ہوں اور ان کے لئے بعض کاموں میں خطا کا امکان پایا جاتا ہو تو وہ قرآن مجید سے جدا ہوکر (معاذاللہ) گمراہی کے راستے پر چل پڑیں گے کیونکہ قرآن مجید میں خطا اور غلطی کا امکان نہیں ہے لیکن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انتہائی شدت کے ساتھ اس فرضیہ کی نفی فرمائی ہے.

البتہ یہ نکتہ واضح رہے کہ اس حدیث میں لفظ اہل بیت سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمام نسبی اور سببی رشتہ دار نہیں ہیں کیونکہ اس بات میں شک نہیں ہے کہ وہ سب کے سب لغزشوں سے محفوظ نہیں تھے.

لہذا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عترت میں سے صرف ایک خاص گروہ اس قسم کے افتخار سے سرفراز تھا اور یہ قدر ومنزلت صرف کچھ گنے چنے افراد کے لئے تھی اور یہ افراد وہی ائمہ اہل بیت ٪ ہیں جو ہر زمانے میں امت کو راہ دکھانے والے، سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے محافظ اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شریعت کے پاسبان تھے۔

۳۹

ساتواں سوال

اذان میں أشھد أن علیًّا ول اللّہ کیوں کہتے ہیں اور حضرت علی ـ کی ولایت کی شہادت کیوں دیتے ہیں ؟

جواب: بہتر ہے کہ اس سوال کے جواب میں درج ذیل نکات کو مدنظر رکھا جائے:

۱۔تمام شیعہ مجتہدین نے فقہ سے متعلق اپنی استدلالی یا غیر استدلالی کتابوں میں اس بات کو صراحت کیساتھ بیان کیا ہے کہ ولایت علی ـ کی شہادت اذان اور اقامت کا جزء نہیں ہے اور کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ولایت علی کی شہادت کو اذان اور اقامت کا جزء سمجھ کر زبان پر جاری کرے.

۲۔ قرآن مجید کی نگاہ میں حضرت علی ـ ولی خدا ہیں اور خداوندعالم نے اس آیت میں مومنین پرحضرت علی ـ کی ولایت کو بیان کیا ہے:

(إِنَّمَا وَلِیُّکُمْ ﷲ وَرَسُولُهُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَهُمْ رَاکِعُونَ )( ۱ )

____________________

(۱)سورہ مائدہ آیت :۵۵.

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296