شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں13%

شیعہ جواب دیتے ہیں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 296

شیعہ جواب دیتے ہیں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 95358 / ڈاؤنلوڈ: 4184
سائز سائز سائز
شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

اختیار کرنے والوں کی دوقسمیں ہیں :

پہلی قسم

وہ ایسے اصحاب ہیں جن کی قرآن مجید کی آیتیں مدح و ستائش کرتی ہیں اور انہیں شوکت اسلام کا بانی قرار دیتی ہیں یہاں پر ہم صحابہ کرام کے ایسے گروہ سے متعلق چند آیتوں کا ذکر کرتے ہیں :

۱۔دوسروں پر سبقت لے جانے والے

(وَالسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ مِنْ الْمُهَاجِرِینَ وَالْاَنصَارِ وَالَّذِینَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانٍ رَضِىَ ﷲ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِى من تَحْتِهَا الْاَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا َبَدًا ذَٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ )( ۱ )

اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے نیکی میں ان کا اتباع کیا ہے ان سب سے خدا راضی ہوگیا ہے اور یہ سب خدا سے راضی ہیں اورخدا نے ان کے لئے وہ باغات مہیا کئے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے.

____________________

(۱) سورہ توبہ آیت:۱۰۰

۱۰۱

۲۔درخت کے نیچے بیعت کرنے والے

(لَقَدْ رَضِىَ ﷲ عَنْ الْمُؤْمِنِینَ اِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِهِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِینَةَ عَلَیْهِمْ وَاَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِیبًا )( ۱ )

یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کررہے تھے پھر اس نے وہ سب کچھ دیکھ لیا جوان کے دلوں میں تھا تو ان پر سکون نازل کردیا اور انہیں اس کے عوض قریبی فتح عنایت کردی.

۳۔مہاجرین

(لِلْفُقَرَائِ الْمُهَاجِرِینَ الَّذِینَ ُخْرِجُوا مِنْ دِیارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ ﷲِ وَرِضْوَانًا وَیَنْصُرُونَ ﷲ وَرَسُولَهُا ُوْلٰئِکَ هُمْ الصَّادِقُونَ )( ۲ )

یہ مال ان مہاجر فقراء کے لئے بھی ہے جنہیں ان کے گھروں سے نکال دیا گیا اور ان کے اموال سے انہیں دور کردیا گیا اور وہ

صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلب گار ہیں اور خدا اور رسول کی مدد کرنے والے ہیں یہی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں

____________________

(۱)سورہ فتح آیت:۱۸

(۲)سورہ حشر آیت:۸

۱۰۲

۴۔اصحابِ فتح

(مُحَمَّد رَسُولُ ﷲِ وَالَّذِینَ مَعَهُ اَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنْ ﷲِ وَرِضْوَانًا سِیمَاهُمْ فِى وُجُوهِهِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُودِ )( ۱ )

محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار کے لئے سخت ترین اور آپس میں انتہائی رحم دل ہیں تم ان کودیکھو گے کہ بارگاہ احدیت میں سرخم کئے ہوئے سجدہ ریز ہیں اور اپنے پروردگار سے فضل وکرم اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں کثرت سجود کی وجہ سے ان کے چہروں پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں

____________________

(۱)سورہ فتح آیت:۲۹

۱۰۳

دوسری قسم

بزم رسالت میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جنہیں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت تو حاصل ہوئی

تھی مگر وہ یا تو منافق تھے یا پھر ان کے دل میں مرض تھا قرآن مجید نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ایسے افراد کی حقیقت کو نمایاں کیا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ تاکید کی ہے کہ ان سے محتاط رہیں یہاں پر ہم اس سلسلے میں نازل ہونے والی آیتوں کے چند نمونے پیش کرتے ہیں :

۱۔معروف منافقین

اذَا جَائَکَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ اِنَّکَ لَرَسُولُ ﷲِ وَﷲ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُولُهُ وَﷲ یَشْهَدُاِنَّ الْمُنَافِقِینَ لَکَاذِبُونَ )( ۱ )

اے پیغمبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں

۲۔غیر معروف منافقین

(وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنْ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ---- الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفَاقِ لاَتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ )( ۲ )

____________________

(۱)سورہ منافقون آیت:۱

(۲)سورہ توبہ آیت: ۱۰۱

۱۰۴

اور تم لوگوں کے گرد، دیہاتیوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم لوگ ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں

۳۔دل کے کھوٹے

(وَاِذْ یَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِى قُلُوبِهِمْ مَرَض مَا وَعَدَنَا ﷲ وَرَسُولُها ِلاَّ غُرُورًا )( ۱ )

اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رہے تھے کہ خدا اور رسول نے ہم سے صرف دھوکا دینے والا وعدہ کیا ہے.

۴۔گناہ گار

(وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَیِّئًا عَسَی ﷲ اَنْ یَتُوبَ عَلَیْهِمْ اِنَّ ﷲ غَفُور رَحِیم )( ۲ )

اور دوسرے وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا کہ انہوں نے نیک اور بد اعمال مخلوط کردئیے ہیں عنقریب خدا

____________________

(۱)سورہ احزاب آیت :۱۲.

(۲)سورہ توبہ آیت : ۱۰۲.

۱۰۵

ان کی توبہ قبول کر لے گا وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے.

قرآن مجید کی آیات کے علاوہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھی بعض صحابہ کی مذمت میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں ان میں سے ہم صرف دو روایتوں کو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں :

۱۔ابوحازم،سہل بن سعد سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا :

''أنا فرطکم علیٰ الحوض مَن ورد شرب و مَن شرب لم یظمأ أبداً و لیردنّ علّ أقوام أعرفهم و یعرفونن ثم یحال بین و بینهم.''

میں تم سب کو حوض کی طرف بھیجوں گا جو شخص بھی اس حوض تک پہنچے گا وہ اس میں سے ضرور پئے گا اور جو بھی اس سے پئے گا پھر وہ تاابد پیاس محسوس نہیں کرے گا پھر ایک گروہ میرے پاس آئے گا جسے میں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وہ بھی مجھے پہچانتے ہوں گے اس کے بعد ان لوگوں کو مجھ سے جدا کردیا جائے گا .''

۱۰۶

ابو حازم کا بیان ہے کہ جس وقت میں نے نعمان ابن ابی عیاش کے سامنے یہ حدیث پڑھی تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نے یہ حدیث سھل سے اسی طرح سنی ہے ؟ میں نے کہا ہاں اس وقت نعمان بن ابی عیاش نے کہا کہ ابوسعید خدری نے بھی اس حدیث کو ان کلمات کے اضافے کے ساتھ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :

''اِنهم من فیقال: نک لاتدر ما أحدثوا بعدک فأقول سحقًا سحقًا لمن بدل بعد'' ( ۱ )

یہ افراد مجھ سے ہیں پس کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کام انجام دیئے ہیں ! پس میں کہوں گا ایسے لوگوں سے خدا کی رحمت دور ہوجائے جنہوں نے میرے بعد (احکام دین میں ) تبدیلی کی.

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس حدیث میں ان دو جملوں'' جنہیں میں اچھی طرح پہچانتا ہوں گا اور وہ سب بھی مجھے پہچانتے ہونگے ''اور ''میرے بعد تبدیلی کی'' سے صاف واضح ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مراد آپکے وہ اصحاب ہیں جو کچھ مدت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ رہے ہیں (اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے بھی نقل کیاہے)

۲۔بخاری اور مسلم ،پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے:

''یرد علَّ یوم القیامة رهط من أصحاب أو قال من أمت فیحلون عن الحوض فأقول یاربى أصحابى فیقول اِنّه لاعلم لک بما أحدثوا بعدک أنهم ارتدوا علیٰ أدبارهم القهقری . ''( ۲ )

____________________

(۱)جامع الاصول (ابن اثیر) جلد۱ ۱ کتاب الحوض فی ورود الناس علیہ ص ۱۲۰ حدیث نمبر ۷۹۷۲.

(۲)جامع الاصول جلد ۱۱ ص ۱۲۰ حدیث ۷۹۷۳

۱۰۷

قیامت کے دن میرے اصحاب میں سے یا فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ میرے پاس آئے گاپس ان کو حوض کوثر سے دور کردیا جائے گا اس وقت میں کہوں گا اے میرے پروردگار! یہ میرے اصحاب ہیں تو خدا فرمائے گا آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیسے کیسے کام انجام دئیے ہیں بے شک یہ لوگ اپنی سابقہ حالت (زمانہ جاہلیت) پر لوٹ کر مرتد ہوگئے تھے.

نتیجہ:قرآنی آیات اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اصحاب اور وہ افراد جنہیں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے وہ سب ایک ہی درجہ کے نہیں تھے ان میں بعض ایسے بلند مقام افراد تھے جن کی خدمات نے اسلام کے پھیلانے میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا ہے لیکن بعض ایسے بھی تھے جو ابتداء ہی سے منافق، دل کے مریض اور گمراہ تھے.( ۱ )

اسی بیان کے ساتھ صحابۂ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں شیعوں کا نظریہ (جو درحقیقت قرآن اور سنت کا نظریہ ہے) واضح ہوجاتا ہے۔

____________________

(۱) اس بارے میں مزید وضاحت کے لئے سورہ منافقون ملاحظہ کریں.

۱۰۸

اٹھارہواں سوال

متعہ کیا ہے اور شیعہ اسے کیوں حلال سمجھتے ہیں ؟

جواب:نکاح، مرد اور عورت کے درمیان ایک ارتباط کا نام ہے بعض اوقات یہ ارتباط دائمی ہوتا ہے اور عقد پڑھتے وقت اس میں زمانے کی کوئی قید ذکر نہیں کی جاتی لیکن بسا اوقات یہی ارتباط ایک معین مدت کے لئے انجام پاتا ہے یہ دونوں ہی عقد شرعی نکاح کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کے درمیان صرف ''دائمی'' اور ''موقت'' کا فرق ہوتا ہے لیکن یہ دونوں باقی خصوصیات میں مشترک ہیں اب ہم یہاں نکاح ''متعہ'' کی ان شرائط کا ذکر کریں گے جو نکاح ''دائم'' کی طرح معتبر ہیں :

۱۔مرد اور عورت کے درمیان آپس میں کوئی نسبی و سببی اور کوئی شرعی مانع نہ ہو ورنہ ان کا عقد باطل ہے

۲۔ طرفین کی رضامندی سے معین کئے جانے والے مہرکا تذکرہ عقد میں ہونا چاہئے

۳۔نکاح کی مدت معین ہونی چاہئے.

۴۔شرعی طریقے سے عقد پڑھا جانا چاہئے.

۵۔ان دونوں سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ شرعی طور پر ان دونوں کی شمار ہوگی اور جس طرح نکاح دائم سے پیدا ہونے والی اولاد کانام شناختی کارڈ وغیرہ میں درج ہوتا ہے اسی طرح عقد متعہ سے پیدا ہونے والی اولاد کا نام بھی شناختی کارڈ میں شامل کیا جاتا ہے.

۶۔اس اولاد کا نان ونفقہ والد کے ذمے ہے اور یہ اولاد ماں اور باپ دونوں سے میراث پائے گی.

۱۰۹

۷۔جس وقت عقد متعہ کی مدت ختم ہوجائے تو اگر عورت یائسہ نہ ہو تو وہ شرعی طور پر عدہ گزارے گی اور اگراثنائے عدت میں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے تو وضع حمل سے پہلے کسی بھی قسم کا عقد نہیں کرسکتی. اسی طرح نکاح دائم کے باقی احکام بھی متعہ میں جاری ہوں گے ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ چونکہ عقد متعہ چند ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے حلال کیا گیا ہے لہذا اس عورت کا نان ونفقہ مرد کے ذمے نہیں ہے اور اگر عقد متعہ پڑھتے وقت عورت کی طرف سے میراث لینے کی شرط نہ لگائی جائی تو یہ عورت شوہر کی میراث نہیں پائے گی واضح ہے کہ ان دو فرقوں سے نکاح کی حقیقت میں کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ہم سب اس بات کے معتقد ہیں کہ اسلام ایک دائمی شریعت اور آخری شریعت ہے لہذا اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ انسانوں کی تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اب یہاں پر اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ایک ایسا جوان شخص جو کہ تعلیم حاصل کرنے کیلئے کسی دوسرے شہر یا ملک میں زندگی بسر کررہا ہو اور محدود وسائل کی وجہ سے دائمی عقد نہ کرسکتا ہو اسکے سامنے صرف تین راستے ہیں اور ان میں سے وہ کسی ایک کا انتخاب کرے گا۔

الف:کنوارہ ہی رہے.

ب:گناہ اور آلودگی کی دلدل میں دھنس جائے.

ج:گذشتہ شرائط کے ساتھ ایک ایسی عورت کے ساتھ ایک محدود اور معین مدت کے لئے شادی کر لے جس سے شرعا عقد جائز ہو پہلی صورت کے بارے میں یہ کہنا چاہئے اس میں اکثر افراد شکست کھاجاتے ہیں اگرچہ بعض ایسے انگشت شمار اشخاص ضرور مل جائیں گے جو اپنی خواہشات کو دبا کر صبر کا دامن تھام لیتے ہیں لیکن اس روش پر عمل پیرا ہونا سب کے بس کی بات نہیں ہے

۱۱۰

دوسرے راستے کو اختیار کرنے والوں کا انجام تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا اور اسلام کی نگاہ میں بھی یہ ایک حرام عمل ہے.اس فعل کو فطری تقاضے کا نام دے کر صحیح قرار دینا ایک غلط فکر ہے

اب صرف تیسرا راستہ بچتا ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے اور یہی مناسب اور صحیح بھی ہے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا ہے اس مسئلے میں اختلاف آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد پیدا ہوا ہے

یہاں پر اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ وہ لوگ جو عقد متعہ سے خوف وہراس رکھتے ہیں انہیں اس بات کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ تمام اسلامی مجتہدین اور محققین نے اس متعہ کو معنوی اعتبار سے نکاح دائم میں بھی اس طرح میں قبول کیا ہے کہ جب مرد اور عورت آپس میں عقد دائم تو کریں لیکن ان کی نیت یہ ہو کہ ایک سال کے بعد یا اس سے کمتر یا بیشتر مدت میں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں گے تو وہ طلاق کے ذریعہ جدا ہو سکتے ہیں

واضح ہے کہ اس قسم کی شادی ظاہری اعتبار سے تو دائمی ہے لیکن حقیقت میں معین وقت کے لئے ہے اور اس قسم کے دائمی نکاح اور عقد متعہ کے درمیان صرف یہ فرق ہے کہ عقد متعہ ظاہری اور باطنی ہر دو اعتبار سے معین وقت کے لئے ہوتا ہے جبکہ اس قسم کا دائمی نکاح ظاہری طور پر تو ہمیشہ کے لئے ہے لیکن باطنی طور پر ایک محدود وقت کے لئے انجام پایا ہے.

وہ لوگ جو اس قسم کے دائمی نکاح کو جائز سمجھتے ہیں جیسا کہ اس کو تمام مسلمان فقہاء جائز قرار دیتے ہیں تووہ عقد متعہ کو حلال سمجھنے میں کیوں خوف وہراس محسوس کرتے ہیں .یہاں تک ہم نے عقد متعہ کی حقیقت سے آشنائی حاصل کی اب ہم دلیلوں کی روشنی میں اس کے جواز کو ثابت کریں گے اس سلسلے میں ہم دو مرحلوں میں بحث کریں گے:

۱۔صدر اسلام میں عقد متعہ کا شرعا جائز ہونا.

۲۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں اس حکم شرعی کا منسوخ نہ ہونا.

۱۱۱

عقد متعہ کا جواز اس آیۂ شریفہ سے ثابت ہوتا ہے :

(فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ فَرِیضَة )( ۱ )

پس جب بھی تم ان عورتوں سے متعہ کرو تو انکی اجرت انہیں بطور فریضہ دے دو.

اس آیہ شریفہ کے الفاظ اچھی طرح اس بات کے گواہ ہیں کہ یہ آیۂ کریمہ نکاح موقت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ :

اول :اس آیت میں استمتاع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے ظاہری معنی نکاح موقت ہیں .اور اگر اس سے مراد دائمی نکاح ہوتا تو اس کیلئے قرینہ لایا جاتا.

دوم:اس آیت میں کلمہ ''اجورھن'' (ان کی اجرت) ہے اور یہ اس بات کا گواہ ہے کہ اس آیت سے مراد عقد متعہ ہے کیونکہ نکاح دائم میں لفظ ''مہر'' اور لفظ ''صداق'' استعمال کئے جاتے ہیں

سوم: شیعہ اور سنی مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ آیۂ شریفہ عقد متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر درالمنثور میں ابن جریر اور سدی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت عقد متعہ کے بارے میں ہے( ۲ )

اسی طرح ابوجعفر محمد بن جریرطبری اپنی تفسیر میں سدی اور مجاہد اور ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت نکاح موقت کے بارے میں ہے( ۳ )

____________________

(۱)سورہ نساء آیت:۲۴.

(۲)تفسیر درالمنثور جلد۲ ص۱۴۰ سورہ نساء کی ۲۴ویں آیت کے ذیل میں

(۳)جامع البیان فی تفسیر القرآن جزء ۵ ص۹.

۱۱۲

چہارم:صاحبان صحاح و مسانیداور احادیث کی کتابوں کے مولفین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے بعنوان مثال مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح میں جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

خرج علینا مناد رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فقال:ا ن رسول اللّه قد أذن لکم أن تستمتعوا یعنى متعة النسائ .( ۱ )

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منادی نے ہمارے پاس آکر کہا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تم لوگوں کو استمتاع کی اجازت دی ہے یعنی عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی ہے.عقد متعہ سے متعلق صحاح اور مسانید میں جو روایات آئی ہیں ان سب کو اس کتاب میں بیان نہیں کیا جاسکتا البتہ ان سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ عالم اسلام کے تمام علماء اور مفسرین نے آغاز اسلام میں اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں عقد متعہ کے جائز ہونے کوتسلیم کیا ہے:( ۲ )

____________________

(۱)صحیح مسلم جز ۴ ص ۱۳۰ طبع مصر

(۲)نمونے کے طور پر ہم ان منابع میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں :

صحیح بخاری باب تمتع۲مسند احمد جلد۴ ص۴۳۶ اور جلد ۳ ص ۳۵۶

الموطا مالک جلد۲ ص ۳۰سنن بہیقی جلد۷ ص ۳۰۶

تفسیر طبری جلد ۵ ص ۹

نہایہ ابن اثیر جلد۳ ص ۲۴۹

تفسیر رازی جلد۳ ص ۲۰۱

تاریخ ابن خلکان جلد۱ ص ۳۵۹

احکام القرآن جصاص جلد ۲ ص ۱۷۸

محاضرات راغب جلد۲ ص ۹۴

الجامع الکبیر سیوطی جلد۸ ص ۲۹۳

فتح الباری ابن حجر جلد۹ ص ۱۴۱

۱۱۳

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس آیت کا حکم منسوخ ہوا ہے یا نہیں ؟شاید ہی کوئی ایسا آدمی ہو جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں متعہ کے شرعا جائز ہونے کے بارے میں تردید کرے بحث اس بارے میں ہے کہ یہ حکم آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں باقی تھا یا منسوخ ہوگیا تھا؟تاریخ اسلام اور روایات کے مطابق خلیفہ دوم کے زمانے تک مسلمان اس حکم الہی پر عمل کرتے تھے اور سب سے پہلے خلیفہ دوم نے چند مصلحتوں کی بنا پر اس حکم پر عمل کرنے سے مسلمانوں کو روکا تھا مسلم بن حجاج اپنی کتاب صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ جب ابن عباس اور ابن زبیر کے درمیان متعة النساء اور متعہ حج کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا تو جابر ابن عبداللہ نے کہا :

''فعلنا هما مع رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ثم نهانا عنهما عمر فلم نعدلهما'' ( ۱ )

____________________

(۱)سنن بیہقی جلد۷ ص۲۰۶ اور صحیح مسلم جلد۱ ص۳۹۵

۱۱۴

ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ متعة النساء اور متعہ حج کو انجام دیتے تھے اور پھر عمر نے ہمیں ان دونوں کاموں سے روک دیا اس کے بعد سے ہم نے ان دونوں کو انجام نہیں دیا ہے.

جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر میں عبدالرزاق اور ابو داؤد اور ابن جریر سے اور ان سب نے ''حکم'' سے روایت کی ہے کہ جب حکم سے آیۂ متعہ کے بارے میں سوال کیاگیا کہ کیا یہ آیت منسوخ ہوئی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا نہیں منسوخ نہیں ہوئی ہے اور حضرت علی ـ نے فرمایا ہے:

''لولا أن عمر نهیٰ عن المتعة مازنیٰ لاّ شق'' ( ۱ )

اگر عمر نے متعہ سے منع نہ کیا ہوتا تو سوائے بدبخت کے کوئی زنا نہ کرتا.

نیز علی بن محمد قوشچی کہتے ہیں کہ عمربن خطاب نے منبر پر بیٹھ کر کہا :

''أیّها الناس ثلاث کنّ علی عهد رسول اللّه وأنا أنهیٰ عنهنّ و أحرمهن و أُعاقب علیهنّ وهمتعة النساء و متعة الحج و حَّ علیٰ خیر العمل''( ۲ )

اے لوگو! تین چیزیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں تھیں لیکن میں ان سے منع کرتا ہوں اور انہیں حرام قرار دیتا ہوں اور جو کوئی بھی

____________________

(۱)تفسیر درالمنثور جلد۲ ص۱۴۰ سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں

(۲)شرح تجرید قوشچی بحث امامت ص۴۸۴.

۱۱۵

انہیں انجام دے گا، میں اسے سزا دوں گا وہ تین چیزیں یہ ہیں :متعة النساء اور متعة الحج اورحی علی خیر العمل .

عقد متعة کے جائز ہونے کے بارے میں اس قدر روایات ہیں کہ ان کو ذکر کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے.زیادہ معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں( ۱ )

اب یہ مان لینا چاہیے کہ متعہ نکاح ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ نکاح کی دو قسمیں ہیں :دائمی اور موقت اور وہ عورت جس کے ساتھ نکاح موقت کیا جائے وہ اس مرد کی

____________________

(۱)مسند احمد جلد۳ ص۳۵۶

البیان والتبیین جاحظ جلد۲صفحہ ۲۲۳

احکام القرآن جصاص جلد۱ ص ۳۴۲

تفسیر قرطبی جلد۲ ص ۳۷۰

المبسوط سرخسی حنفی کتاب الحج باب القرآن

زادالمعاد ابن قیم جلد۱ ص۴۴۴

کنزالعمال جلد۸ ص۲۹۳

مسند ابی داؤد طیالسی ص۲۴۷

تاریخ طبری جلد۵ ص۳۲

المستبین طبری

تفسیر رازی جلد۳ص۲۰۰سے ۲۰۲ تک

تفسیر ابوحیان جلد۳ ص ۲۱۸

۱۱۶

زوجہ شمار ہوتی ہے اور وہ مرد بھی اس عورت کا شوہر کہلاتا ہے اس اعتبار سے فطری طور پر اس قسم کی شادی بھی نکاح سے متعلق آیتوں کے ذیل میں آئے گی مثال کے طور پر قرآن مجید کی یہ آیت ملاحظہ ہو :

(وَالَّذِینَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ اِلاَّ عَلَی اَزْوَاجِهِمْ وْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُهُم )( ۱ )

اور مومنین اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنیوالے ہیں علاوہ اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی کنیزوں کے.

اب تمام گزشتہ شرائط کے ساتھ جس عورت سے متعہ کیا جائے وہ '' ِلاَّ عَلَی َزْوَاجِہِم ْ''(سوائے اپنی بیویوں کے)کا ایک مصداق قرار پائے گی یعنی یہ عورت

اس مرد کی زوجہ کہلائے گی اور لفظ '' َزْوَاجِہِم ''اس کو بھی اپنے اندر شامل کرے گا.سورہ مومنون کی یہ آیت جنسی عمل کو فقط دو قسم کی عورتوں یعنی بیویوں اور کنیزوں کے ساتھ جائز قرار دیتی ہے اور وہ عورت جس سے متعہ کیا گیا ہو وہ پہلی قسم کی عورتوں (یعنی اپنی بیویوں) میں شامل ہے.

یہاں پر بعض لوگوں کا یہ کلام تعجب خیز ہے کہ سورہ مومنون کی یہ آیت سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کیلئے ناسخ ہے جب کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ناسخ آیت کو منسوخ ہونے والی آیت کے بعد نازل ہونا چاہیے اور یہاں معاملہ بالکل برعکس ہے سورہ مومنون جسکی

____________________

(۱)سورہ مومنون آیت :۵اور ۶

۱۱۷

آیت کو ناسخ تصورکیا جارہاہے وہ مکی ہے (یعنی یہ سورہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت سے قبل مکہ معظمہ میں نازل ہوا ہے) اور سورہ نساء جس میں آیۂ متعہ ہے مدنی ہے (یعنی یہ سورہ مدینۂ منورہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہجرت کے بعد نازل ہوا ہے) اب سوال یہ ہے کہ مکی سورہ میں آنے والی آیت مدنی سورہ میں آنے والی آیت کیلئے کیسے ناسخ بن سکتی ہے؟

اسی طرح رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں آیہ متعہ کے منسوخ نہ ہونے کی ایک اور واضح دلیل وہ کثیر روایات ہیں جن کے مطابق یہ آیت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں منسوخ نہیں ہوئی تھی ایسی روایتوں میں سے ایک روایت تو وہی ہے جسے جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیر درالمنثور میں ذکر کیا ہے اور جس کی وضاحت گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے( ۱ )

آخر میں ہم اس نکتے کا ذکر کردیں کہ وہ ائمہ معصومین ٪ جو حدیث ثقلین کے مطابق امت کے ہادی اور قرآن کے ہم پلہ ہیں انہوں نے عقد متعہ کے شرعاجائز ہونے اور اس کے منسوخ نہ کئے جانے کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے.( ۲ )

ساتھ ہی ساتھ اسلام چونکہ ہرزمانے میں انسانوں کی مشکلات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لہذا اس نے بھی چند ذکر شدہ شرائط کی رعایت کے ساتھ اس قسم کے نکاح کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ آج کی اس گمراہ کن دنیا میں جوانوں کو تباہی کے دلدل سے نجات دینے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے متعہ۔

____________________

(۱) تفسیر درالمنثور جلد۲ ص ۱۴۰ اور ص ۱۴۱ سورہ نساء کی چوبیسویں آیت کی تفسیر کے ذیل میں

(۲)وسائل الشیعہ جلد۱۴ کتاب النکاح ابواب متعہ باب اول ص ۴۳۶.

۱۱۸

انیسواں سوال

شیعہ خاک پر کیوں سجدہ کرتے ہیں ؟

جواب:بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ خاک یا شہیدوں کی تربت پر سجدہ کرنا ان کی عبادت کرنے کے برابر ہے اوریہ ایک قسم کا شرک ہے اس سوال کے جواب میں اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ ان دو جملوں ''السجود للّہ''و ''السجود علیٰ الأرض'' میں بڑا فرق ہے اور اس سوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوال کرنے والا ان دو جملوں کے درمیان موجود فرق کو نہیں سمجھ پایا ہے.

السجود للّہ کے معنی یہ ہیں کہ سجدہ خدا کے لئے ہوتا ہے اور السجود علیٰ الأرضیعنی سجدہ زمین پر ہوتا ہے.بہ الفاظ دیگر ہم زمین پر خدائے عظیم کا سجدہ بجا لاتے ہیں اصولی طور پر دنیا کے سارے مسلمان کسی نہ کسی چیز کے اوپر سجدہ کرتے ہیں جبکہ وہ خدا کا سجدہ کرتے ہیں مسجد الحرام میں بھی لوگ پتھروں پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ خدا کا سجدہ کررہے ہیں

اس بیان کے ساتھ یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ خاک یا پتوں یا کسی اور چیز پر سجدہ کرنا ان چیزوں کی عبادت نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ خدائے عظیم کے سامنے خود کو خاک سمجھتے ہوئے اس کے لئے سجدہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خاک شفا پر سجدہ کرنا خاک شفا کو سجدہ کرنا نہیں ہے.قرآن مجید فرماتا ہے:

۱۱۹

(وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْأرْض )( ۱ )

اللہ ہی کو زمین و آسمان میں رہنے والے سب سجدہ کرتے ہیں

نیز پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام فرماتے ہیں :

''جُعِلَتْ لى الأرض مسجدًا وطهورًا'' ( ۲ )

زمین میرے لئے جائے سجدہ اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے.

لہذا ''خد اکے لئے سجدہ '' اور ''زمین یا خاک شفا پر سجدہ'' کے درمیان آپس میں پوری طرح سازگاری ہے کیونکہ خاک اور پتوں پر سجدہ کرنا خدائے عظیم کے سامنے انتہائی درجہ کے خضوع کی علامت ہے اس بارے میں شیعوں کے نظرئیے کی وضاحت کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم امام صادق ـ کے اس گہر بار ارشاد کو پیش کریں:

''عن هشام ابن الحکم قال قلت لأبى عبداللّه ـ اخبرنى عما یجوز السجود علیه و عما لایجوز

____________________

(۱)سورہ رعد آیت: ۱۵

(۲)صحیح بخاری کتاب الصلوة ص۹۱

۱۲۰

علیه؟ قال : السجود لایجوز لاّعلی الأرض أو ما أنبتت لاّرض الا ماأکل أو لبس فقلت له:جعلت فداک ماالعلّة ف ذلک؟ قال: لأن السجود هو الخضوع للّه عزّوجلّ فلا ینبغ أن یکون علیٰ ما یؤکل و یلبس لأن أبناء الدنیا عبید ما یأکلون و یلبسون والساجد ف سجوده ف عبادة اللّه عزّوجلّ فلا ینبغ أن یضع جبهته ف سجوده علیٰ معبود أبناء الدنیا الذین اغتروا بغرورها والسجود علیٰ الأرض أفضل لأنه أبلغ ف التواضع والخضوع للّه عزّوجلّ'' ( ۱ )

ہشام بن حکم کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق ـ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ رہنمائی فرمائیں کہ کن چیزوں پرسجدہ کرنا صحیح ہے اور کن چیزوں پر صحیح نہیں ہے؟ امام ـ نے فرمایا سجدہ صرف زمین اور اس سے اگنے والی اشیاء پر ہوسکتا ہے لیکن کھانے اور پہننے والی اشیاء پر سجدہ نہیں کیا جاسکتا میں نے عرض کی : میں آپ پرقربان ہوجاؤں اس کا کیا سبب ہے؟ امام نے فرمایا: سجدہ خداوند عزوجل کے لئے خضوع کا نام ہے پس یہ صحیح نہیں ہے کہ

____________________

(۱)بحارالانوار جلد ۸۵ ص۱۴۷ ''علل الشرائع'' سے نقل کرتے ہوئے.

۱۲۱

کھانے اور پہننے والی چیزوں پر سجدہ کیا جائے کیونکہ دنیا پرست افراد خوراک اور لباس کے بندے ہیں جبکہ انسان سجدے کی حالت میں اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے.پس یہ مناسب نہیں ہے کہ اپنی پیشانی اس چیز پر رکھے جس کو دنیا پرست اپنا معبود سمجھتے ہیں اور وہ دنیا کے دھوکہ میں آگئے ہیں اور زمین پر سجدہ کرنا افضل ہے کیونکہ اس سے خدا کی بارگاہ میں زیادہ خضوع کا اظہار ہوتا ہے

امام کا یہ کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خاک پر سجدہ اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ یہ کام خدا کی بارگاہ میں تواضع کو ظاہر کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے.

یہاں پرایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ شیعہ صرف خاک اور بعض پتوں ہی پر کیوں سجدہ کرتے ہیں اور باقی چیزوں پرسجدہ کیوں نہیں کرتے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس طرح یہ ضروری ہے کہ ہر عبادت کا حکم شریعت کی طرف سے ہم تک پہنچے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تمام شرائط ، اجزاء ، اور اس کا طریقہ بھی شریعت کو بیان کرنے والی شخصیت یعنی پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اقوال اور کردار کے ذریعے ہم تک پہنچے کیونکہ قرآن کے حکم کے مطابق تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل فقط پیغمبر گرامیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات ہے

۱۲۲

اب ہم چند ایسی احادیث ذکر کرتے ہیں جو اس بارے میں پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت کو بیان کرتی ہیں یہ حدیثیں اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خاک پر اور زمین سے اگنے والی بعض چیزوں جیسے چٹائی وغیرہ پر سجدہ فرماتے تھے اور آج شیعہ بھی اسی چیز کا عقیدہ رکھتے ہیں بہت سے مسلمان محدثین نے اپنی صحاح ومسانید میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے زمین کو اپنے لئے سجدہ کے عنوان سے پہچنوایا تھا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں :

''جعلت لى الأرض مسجدًا و طهورًا'' ( ۱ )

زمین میرے لئے جائے سجدہ اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے.

۱)اس حدیث میں لفظ ''جعلت ''قانون گزاری کے معنی میں ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ مسئلہ دین اسلام کی پیروی کرنے والوں کے لئے ایک حکم الہی ہے اس حدیث سے خاک، پتھر اور ہر اس چیز پر سجدے کا جائز ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس کو زمین کہا جاسکے.

۲)بعض دوسری روایات اس نکتے پردلالت کرتی ہیں کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانیوں کو خاک پر رکھا کریں جیسا کہ

____________________

(۱)سنن بیہقی جلد۱ ص ۲۱۲(باب التیمم بالصعید الطیب)صحیح بخاری جلد۱ کتاب الصلوة ص۹۱ اقتضائ

الصراط المستقیم (ابن تیمیہ) ص ۳۳۲.

۱۲۳

زوجہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ام سلمہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا:

''ترِّب وجهک للّه'' ( ۱ )

اللہ کے لئے اپنے چہرے کو خاک پر رکھو.

اس حدیث میں ''ترب'' کے لفظ سے دو نکتے سمجھ میں آتے ہیں ایک یہ ہے کہ انسان کو سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی کو خاک پر رکھنا چاہیے دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ''ترب'' صیغہ امر ہے لہذا خاک پر سجدہ کرنا واجب ہے.

۳)خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمل بھی خاک پر سجدے کے صحیح ہونے کا بہترین گواہ ہے وائل بن حجر کہتے ہیں :

''رأیت النبى صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اِذا سجد وضع جبهته و أنفه علیٰ الأرض'' ( ۲ )

میں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا ہے کہ جب آپ سجدہ کرتے تھے تو اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر رکھتے تھے.

انس بن مالک اور ابن عباس اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج جیسے عائشہ اور ام سلمہ اور بہت سے محدثین نے اس طرح روایت کی ہے:

''کان رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یصل علیٰ الخمرة'' ( ۳ )

____________________

(۱)کنزالعمال جلد۷ ص ۴۶۵ حدیث نمبر ۱۹۸۰۹ کتاب الصلوة السجود و مایتعلق بہ.

(۲) احکام القرآن (جصاص حنفی جلد۳ ص۲۰۹ باب السجود علی الوجہ)

(۳)سنن بیہقی جلد۲ ص۴۲۱ کتاب الصلوة علی الخمرہ.

۱۲۴

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چٹائی پر نماز پڑھتے تھے (ایسی چٹائی جوکہ کھجور کی پتیوں سے تیار کی جاتی تھی)

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی ابوسعید کہتے ہیں کہ:

''دخلت علیٰ رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وهو یصل علیٰ حصیر'' ( ۱ )

میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہواتو اس وقت آپ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے

یہ بات شیعوں کے نظرئیے کے صحیح ہونے کی گواہی دیتی ہے کیونکہ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ زمین سے اگنے والی ان اشیاء پر سجدہ صحیح ہے جو نہ تو کھائی جاتی ہوں اور نہ ہی پہنی جاتی ہوں.

۴)پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اور تابعین کی سیرت اور ان کے اقوال بھی اس بارے میں آنحضرت کی سنت کو بیان کرتے ہیں :جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں :

''کنت أصل الظهر مع رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فأخذ قبضة من الحصاء لتبرد ف کف أضعها لجبهت أسجد علیها لشدة الحرّ'' ( ۲ )

____________________

(۱)گذشتہ حوالہ

(۲) سنن بیہقی جلد۱ ص۴۳۹کتاب الصلوة باب ماروی فی التعجیل بھا فی شدة الحر.

۱۲۵

جب میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ نماز ظہر پڑھتا تھا تو اپنی مٹھی میں سنگ ریزے اٹھا لیتا تھا تاکہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈے ہو جائیں اور انہیں سجدہ کے وقت اپنی پیشانی کے نیچے رکھ سکوں کیونکہ گرمی بہت شدید تھی.

اور پھر خود راوی نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ اگر اپنے کپڑوں پر سجدہ کرنا جائز ہوتا تویہ سنگریزوں کے اٹھانے اور انہیں سنبھالنے سے آسان تھا

ابن سعد (وفات ۲۰۹ ھ) اپنی کتاب ''الطبقات الکبری'' میں یوں لکھتے ہیں :

''کان مسروق اِذا خرج یخرج بلبنةٍ یسجد علیها فى السفینة'' ( ۱ )

مسروق ابن اجدع جس وقت سفر کے لئے نکلتے تھے تواپنے ساتھ ایک کچی اینٹ رکھ لیتے تھے تاکہ کشتی میں اس پر سجدہ کرسکیں

مسروق بن اجدع پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تابعین اورابن مسعود کے اصحاب میں سے تھے،

کتاب ''الطبقات الکبری'' کے مؤلف ان کے بارے میں تحریر کرتے ہیں :

'' وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اہل کوفہ میں سے طبقہ اول کے لوگوں میں سے تھے اور انہوں نے ابوبکر ، عمر، عثمان، علی اور عبداللہ بن مسعود سے روایتیں نقل کی ہیں .''

اس کلام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مٹی کی سجدہ گاہ کا ہمراہ رکھنا ہرگز شرک یا

____________________

(۱)''الطبقات الکبری''جلد ۶ ص۷۹ طبع بیروت مسروق بن اجدع کے حالات کو بیان کرتے ہوئے.

۱۲۶

بدعت نہیں ہے کیونکہ صحابۂ کرام بھی ایسا کرتے تھے( ۱ )

نافع کہتے ہیں :

'' ان ابن عمرکان اذا سجد و علیه العمامة یرفعها حتیٰ یضع جبهته بالأرض'' ( ۲ )

عبد اللہ بن عمر سجدہ کرتے وقت اپنے عمامے کو اوپر کرلیا کرتے تھے تاکہ اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ سکیں.

رزین کہتے ہیں :

''کتب اِلّى علّى بن عبداللّه بن عباس أن أبعث الَّى بلوح من أحجار المروة أسجد علیها ''( ۳ )

علی بن عبداللہ بن عباس نے مجھے لکھا کہ مروہ پہاڑ کے ایک پتھر کی تختی میرے پاس بھیج دو تاکہ میں اس پر سجدہ کرسکوں.

۵)دوسری طرف سے مسلمان محدثین نے کچھ روایتیں نقل کی ہیں جن کے مطابق پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسے افراد کو ٹوکا ہے جو سجدہ کرتے وقت اپنی پیشانی اور زمین کے درمیان عمامے کے کپڑے کو حائل کرلیا کرتے تھے

____________________

(۱)اس سلسلے میں مزید شواہد کے لئے علامہ امینی کی کتاب ''سیرتنا'' کی طرف مراجعہ فرمائیں.

(۲)سنن بیہقی جلد۲ ص۱۰۵( مطبوعہ حیدرآباد دکن) کتاب الصلوة باب الکشف عن السجدة فی السجود

(۳)ازرقی ،اخبار مکہ جلد ۳ ص۱۵۱

۱۲۷

صالح سبائی کہتے ہیں :

''اِنّ رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رأی رجلاً یسجد علیٰ جنبه و قد اعتم علیٰ جبهته فحسر رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علیٰ جبهته'' ( ۱ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے پاس ایک ایسے شخص کو سجدہ کرتے دیکھا جس نے اپنی پیشانی پر عمامہ باندھ رکھا تھا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کے عمامے کو ہٹا دیا

عیاض بن عبداللہ قرشی کہتے ہیں :

''رأی رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رجلاً یسجد علیٰ کور عمامته فأوما ٔ بیده ارفع عمامتک وأومأ الیٰ جبهته'' ( ۲ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے عمامے کے ایک گوشے پر سجدہ کررہا تھا تو آپ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھا کر پیشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اپنے عمامے کو اوپر اٹھاؤ.

ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں زمین پر

____________________

(۱)سنن بیہقی جلد۲ ص ۱۰۵

(۲)گذشتہ حوالہ.

۱۲۸

سجدہ کرنا ایک لازمی امر تھا اور جب بھی کوئی شخص عمامے پر سجدہ کرتا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسے اس کام سے روکتے تھے

۶)شیعوں کے ائمہ اطہار ٪ جوکہ حدیث ثقلین کے مطابق، قرآن مجید سے کبھی جدا نہ ہوںگے اور دوسری طرف وہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت ہیں انہوں نے زمین پر سجدہ کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے امام صادق ـ فرماتے ہیں :

''السجود علیٰ الأرض فریضة و علیٰ الخمرة سنة'' ( ۱ )

زمین پر سجدہ کرنا حکم الہی ہے اور چٹائی پرسجدہ سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہے.

اور ایک مقام پر فرماتے ہیں :

''السجود لایجوز اِلاعلیٰ الأرض أو علیٰ ما أنبتت الأرض اِلا ما أکل أو لبس'' ( ۲ )

سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے سوائے زمین یا اس سے اگنے والی اشیاء پر لیکن کھائی اور پہننے والی اشیاء پر سجدہ نہیں ہوسکتا.

نتیجہ:گزشتہ دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ صرف اہل بیت ٪ کی روایات بلکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب اور تابعین کی سیرت اس

____________________

(۱)وسائل الشیعہ جلد۳ ص۵۹۳ کتاب الصلوة ابواب ما یسجد علیہ ،حدیث نمبر ۷.

(۲)وسائل الشیعہ جلد۳ ص۵۹۱ کتاب الصلوة ابواب ما یسجد علیہ ،حدیث نمبر ۱.

۱۲۹

بات کی گواہ ہیں کہ سجدہ صرف زمین یا اس سے اگنے والی اشیاء (سوائے کھانے اور پہنے جانے والی اشیاء کے) پر ہی کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ بقیہ دوسری چیزوں پر سجدے کے جائز ہونے کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے لہذا اس احتیاط پر عمل کرتے ہوئے نجات اور کامیابی کی راہ صرف یہ ہے کہ ان چیزوں پر سجدہ کیا جائے

جن پر سب کا اتفاق ہے آخر میں ہم اس نکتے کی یاد آوری ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ بحث صرف ایک فقہی مسئلہ ہے اور اس قسم کے جزئی مسائل کے بارے میں مسلمان فقہاء کے درمیان بہت اختلافات ہیں لیکن اس قسم کے اختلافات کوکسی قسم کی پریشانی کا باعث نہیں بننا چاہیے کیونکہ اس قسم کے فقہی اختلافات اہل سنت کے چار فرقوں کے درمیان فراوان ہیں مثال کے طورپر مالکی کہتے ہیں کہ ناک کو سجدہ گاہ پر رکھنا مستحب ہے جب کہ حنبلی کہتے ہیں کہ یہ عمل واجب ہے اور اسے چھوڑنے کی صورت میں سجدہ باطل ہوجائے گا۔( ۱ )

____________________

(۱) الفقہ علی المذاہب الاربعة جلد۱ ص ۱۶۱ طبع مصر کتاب الصلوة ، بحث سجود.

۱۳۰

بیسواں سوال

شیعہ حضرات زیارت کرتے وقت حرم کے دروازوں اور دیواروں کو کیوں چومتے ہیں اور انہیں باعث برکت کیوں سمجھتے ہیں ؟

جواب:اولیائے الہی سے منسوب اشیاء کو اپنے لئے باعث برکت سمجھنا کوئی ایسا جدید مسئلہ نہیں ہے جو مسلمانوں کے درمیان آج پیدا ہوا ہو بلکہ اس کی بنیادیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے صحابہ کے زمانے میں دکھائی دیتی ہیں اس عمل کو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اصحاب ہی نے انجام نہیں دیا ہے بلکہ گزشتہ انبیاء بھی ایسا ہی کرتے تھے اب ہم آپ کے سامنے اس عمل کے جائز ہونے کے سلسلے میں قرآن مجید اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے چنددلیلیں پیش کرتے ہیں :

۱۳۱

۱۔قرآن مجید میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس وقت حضرت یوسفـ نے اپنے بھائیوں کے سامنے خود کو پہچنوایا اور ان کے گناہوں کو معاف کردیا تو یہ فرمایا:

(اِذْهَبُوا بِقَمِیصِى هَذَا فَاَلْقُوهُ عَلیٰ وَجْهِا َبِى یَاْتِ بَصِیرًا )( ۱ )

میری یہ قمیص لے کر جاؤ اورمیرے بابا کے چہرے پر ڈال دو کہ انکی بصارت پلٹ آئے گی.

اور پھرقرآن فرماتا ہے:

(فَلَمَّا َنْ جَائَ الْبَشِیرُ َلْقَاهُ عَلَیٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا )( ۲ )

اور اس کے بعد جب بشارت دینے والے نے آکر قمیص کو یعقوب کے چہرے پر ڈال دیا تو وہ دوبارہ صاحب بصارت ہوگئے

قرآن مجید کی یہ آیتیں گواہی دے رہی ہیں کہ ایک نبی (جناب یعقوبـ) نے دوسرے نبی (جناب یوسفـ) کی قمیص کو باعث برکت سمجھا تھا اور یہی نہیں بلکہ حضرت یعقوبـ کا یہ عمل ان کی بصارت کے لوٹنے کا سبب بنا تھا. کیا یہاں پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان دو انبیاء کے اس عمل نے انہیں توحید اور عبادت خدا کے دائرے سے خارج کردیا تھا!؟

۲۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت انہوں نے جواب دیا:

____________________

(۱)سورہ یوسف آیت:۹۳

(۲)سورہ یوسف آیت:۹۶

۱۳۲

''رایت رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یستلمه و یقبله ''( ۱ )

میں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا ہے کہ وہ حجر اسود کو سلام کررہے تھے اور بوسے دے رہے تھے.

اگر ایک پتھر کو سلام کرنا اور بوسے دینا شرک ہوتا تو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہرگز اس عمل کو انجام نہ دیتے.

۳۔صحیح، مسنداور تاریخی کتابوںمیں بہت سی ایسی روایات ہیں جن کے مطابق صحابۂ کرام آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منسوب اشیاء جیسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا لباس، آپ کے وضو کا پانی اور برتن وغیرہ کو باعث برکت سمجھتے تھے اگر ان روایات کا مطالعہ کیا جائے تو اس عمل کے جائزہونے میں کسی بھی قسم کی تردید باقی نہیں رہے گی.

اگرچہ اس بارے میں وارد ہونے والی روایات کی تعداد زیادہ ہے اور سب کو اس مختصر کتاب میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی یہاں ہم ان میں سے بعض روایتوں کو نمونہ کے طور پر پیش کررہے ہیں :

الف: بخاری نے اپنی کتاب صحیح میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اصحاب کے خصوصیات کو بیان کرنے والی ایک طولانی روایت کے ضمن میں یوں نقل کیا ہے:

''واذا توضّأ کادوا یقتتلون علیٰ وضوئه'' ( ۲ )

____________________

(۱)صحیح بخاری جزئ۲ کتاب الحج باب تقبیل الحجر ص ۱۵۱ اور ص ۱۵۲ طبع مصر.

(۲)صحیح بخاری جلد۳ باب مایجوز من الشروط ف الاسلام باب الشروط ف الجہاد والمصالحة ص ۱۹۵

۱۳۳

جس وقت پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وضو کرتے تھے تو نزدیک ہوتا تھا کہ مسلمان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وضوکے پانی کو حاصل کرنے کے لئے آپس میں جنگ شروع کردیں.

ب:ابن حجر کہتے ہیں کہ:

''اِنّ النبى صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کان یؤت بالصبیان فیبرک علیهم'' ( ۱ )

بے شک نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں بچوں کو لایا جاتا تھا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے وجود کی برکت سے انہیں بھی بابرکت بنا دیتے تھے.

ج:محمد طاہر مکی کہتے ہیں : ام ثابت سے روایت ہوئی ہے وہ کہتی ہیں : کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ نے دیوار پر آویزاں ایک مشک کے دھانے سے کھڑے ہو کر پانی نوش فرمایا یہ دیکھ کر میں اپنی جگہ سے اٹھی اور میں نے اس مشک کے دھانے کو کاٹ کر اپنے پاس رکھ لیا اور پھر اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : اسی حدیث کو ترمذی نے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور حسن ہے اور کتاب ریاض الصالحین میں اس حدیث کی شرح میں کہا گیا ہے کہ ام ثابت نے مشک کے دھانے کو اس لئے کاٹ لیا تھا تاکہ وہ اس جگہ کو اپنے پاس محفوظ کرلیں جہاں سے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پانی نوش فرمایا تھا کیونکہ وہ اسے باعث برکت سمجھتی تھیںاسی طرح صحابہ کی بھی یہی کوشش رہتی تھی کہ وہ اس جگہ سے پانی پئیں جہاں سے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پانی پیا ہو.( ۲ )

____________________

(۱)الاصابة جلد۱ خطبہ کتاب ص۷ طبع مصر

(۲)تبرک الصحابہ (محمد طاہر مکی) فصل اول ص۲۹ترجمہ انصاری.

۱۳۴

''کان رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اِذا صلیٰ الغداة جاء خدم المدینة بآنیتهم فیها الماء فما یُؤتی بانائٍ اِلا غمس یده فیها فربما جاؤوه فى الغداة الباردة فیغمس یده فیها ''( ۱ )

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جب نماز صبح سے فارغ ہوجاتے تو مدینہ کے خادم پانی کے برتن لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آتے تھے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان سب برتنوں میں اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے بعض اوقات تو وہ لوگ ٹھنڈک والی صبح میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچ جاتے تھے لیکن پھربھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے برتنوں میں ہاتھ ڈبو دیتے تھے.( ۲ )

گذشتہ دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اولیائے الہی سے منسوب اشیاء کو باعث برکت قرار دینا ایک جائز عمل ہے اور وہ لوگ جو شیعوں پر اس عمل کی وجہ سے تہمت لگاتے ہیں وہ توحید اور شرک کے معنی کو اچھی طرح سے سمجھ نہیں پائے ہیں کیونکہ شر ک کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی عبادت کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی خدا سمجھا جائے یا یہ عقیدہ ہو کہ خدائی امور اس کے سپرد کردئیے گئے ہیں اور وہ اپنے وجود اور

____________________

(۱)صحیح مسلم جزء ۷ کتاب الفضائل باب قرب النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم من الناس و تبرکھم بہ، ص۷۹.

(۲)مزید معلومات کے لئے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ فرمائیں:

صحیح بخاری، کتاب اشربہ ،مؤطا مالک جلد۱ ص۱۳۸ باب صلوة علی النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، اسدالغابة جلد۵ ص۹۰، مسند احمد جلد۴ ص ۳۲، الاستیعاب (الاصابة) کے حاشیے میں جلد۳ ص ۶۳۱، فتح الباری جلد۱ صفحہ ۲۸۱ اور ۲۸۲.

۱۳۵

تاثیر رکھنے میں خدا سے بے نیاز ہے.

جبکہ شیعہ اولیائے الہی اور ان سے متعلق اشیاء کو خدا کی مخلوق اور اس کا محتاج سمجھتے ہیں اور وہ اپنے اماموں اور دین کے پرچمداروں کے احترام اور ان سے سچی محبت کے اظہار کے لئے ان بزرگوں کو باعث برکت قرار دے کر ان سے فیض حاصل کرتے ہیں

شیعوں کا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اہل بیت ٪ کے حرم میں جاکر ان کی ضریح مقدس کو بوسہ دینا یا حرم کے در ودیوار کو مس کرنا صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے دل پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی عترت کے عشق سے سرشار ہیں اور یہ عشق ہر انسان کی فطرت میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک انسانی محبت کاجذبہ ہے جو ہر محبتی انسان کے اندر ظاہر ہوتا ہے : اس بارے میں ایک شاعر کہتا ہے:

أمر علیٰ الدیار دیار سلمیٰ

اقبل ذاالجدار و ذالجدار ا

وما حُبّ الدیار شغفن قلب

ولکن حُبّ مَن سکن الدیارا

میں جب سلمیٰ کے دیار سے گزرتا ہوں تو اس دیوار اور اس دیوار کے بوسے لیتا ہوںاس دیار کی محبت نے میرے دل کولبھایا نہیں ہے بلکہ اس دیار کے ساکن کی محبت نے میرے قلب کو اسیر کرلیا ہے۔

۱۳۶

اکیسواں سوال

کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا نہیں ہے؟

جواب: اس سوال کے جواب سے قبل بہتر یہ ہے کہ پہلے سیاست کے معنی کو واضح کردیا جائے تاکہ دین اور سیاست کا رابطہ سمجھ میں آسکے یہاں سیاست کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں

۱۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کے وسیلے کو اختیار کیا جائے چاہے وہ وسیلہ دھوکہ اور فریب کاری ہی کیوں نہ ہو (یعنی مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی چیز کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے) واضح ہے کہ اس قسم کی سیاست دھوکے اور فریب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور ایسی سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے.

۲۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی معاشرے کے نظام کو چلایا جائے اس قسم کی سیاست کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے نظام کو قرآن اور سنت کی روشنی میں چلایا جائے ایسی سیاست دین کا حصہ ہے اور ہرگز اس سے جدا نہیں ہے.

۱۳۷

اب ہم یہاں پر سیاست اور دین کے درمیان رابطے اور حکومت کو تشکیل دینے سے متعلق چند دلیلیں پیش کریں گے : اس سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا عمل ہے پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اقوال اور کردار کے مطالعے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی دعوت اسلام کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت قائم کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس کی بنیاد خدا پر ایمان کے محکم عقیدہ پر استوار تھی اور جو اسلام کے مقاصد کو پورا کرسکتی تھی یہاں پر بہتر ہے کہ ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عزم و ارادہ کے سلسلے میں چند شواہد پیش کریں:

پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلامی حکومت کے بانی ہیں

۱۔جس وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حکم ملا کہ لوگوں کو کھلم کھلا طریقے سے اسلام کی دعوت دیں تو اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مختلف طریقوں سے جہاد و ہدایت کے زمینے کو ہموار کیا اور اسلامی سپاہیوں کی تربیت اور ان کی آمادگی کا بیڑا اٹھایا اس سلسلے میں آپ نزدیک اور دور سے زیارت کعبہ کے لئے آنے والے افراد سے ملاقات کرتے تھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اسی دوران آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینے کے دو گروہوں سے عقبہ کے مقام پر ملاقات کی اور ان سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ لوگ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے شہر میں بلائیںگے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کریں( ۱ ) اور اس طرح اسلامی حکومت قائم

____________________

(۱) سیرہ ہشام جلد۱ ص۴۳۱ مبحث عقبہ اولی طبع دوم مصر

۱۳۸

کرنے کے لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیاست کا آغاز ہوا

۲۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک ایسی مضبوط فوج تیار کی جس نے بیاسی جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں کامیابی حاصل کر کے اسلامی حکومت کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا.

۳۔مدینے میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس زمانے کی سیاسی اور اجتماعی بڑی طاقتوں کے پاس اپنے سفیراور خطوط بھیج کر ان سے رابطہ قائم کیا اور بہت سے قبیلوں کے سربراہوں سے اقتصادی ،سیاسی اور فوجی معاہدے کئے تاریخ نے پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان خطوط کی خصوصیات و تفصیلات کو بیان کیا ہے جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایران کے شہنشاہ ''کسریٰ'' ، روم کے بادشاہ ''قیصر'' ، مصر کے بادشاہ ''مقوقس''، حبشہ کے بادشاہ ''نجاشی'' اور دوسرے بادشاہوں کو بھیجے تھے بعض محققین نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان خطوط کو اپنی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے( ۱ )

۴۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسلامی حکومت کے استحکام کے لئے بہت سے قبیلوں اور شہروں کے لئے حکام معین فرمائے تھے ہم یہاں اس سلسلے میں بطور مثال ایک نمونے کا ذکر کرتے ہیں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رفاعہ بن زید کو اپنا نمائندہ بنا کرانھیں ان کے اپنے قبیلے کی طرف روانہ کیا اور خط میں یوں تحریر فرمایا :

''بسم الله الرحمن الرحیم ، (هذا کتاب) من

____________________

(۱)جیسے کہ''الوثائق السیاسیہ'' (مؤلفہ محمد حمید اللہ) ''مکاتیب الرسول''(مؤلفہ علی احمدی) ہیں

۱۳۹

محمد رسول اللّه صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لرفاعة بن زید بعثته اِلیٰ قومه عامة و من دخل فیهم یدعوهم اِلیٰ اللّه والیٰ رسوله فمن اقبل منهم فف حزب اللّه و حزب رسوله و من أدبر فله أمان شهرین'' ( ۱ )

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے محمد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے یہ نوشتہ رفاعہ بن زید کے نام، بے شک میں انہیں ان کی قوم کے عام لوگوں اور قوم میں شامل ہوجانے والوں کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ انہیں خدا اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیں پس جس نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ خدا اور اس کے رسول کے گروہ میں شامل ہو گیا.اور جو ان کی دعوت سے روگردانی کرے گا اس کے لئے صرف دو ماہ کی امان ہے.

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان اقدامات سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بعثت کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت بنانا چاہتے تھے کہ جس کے سائے میں انسانی معاشرے کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق، اسلام کے احکام کونافذ کیا جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مختلف گروہوں اور قدرتمند قبیلوں سے معاہدہ کرنا ،ایک

____________________

(۱) مکاتیب الرسول جلد ۱ ص ۱۴۴.

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296