شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں26%

شیعہ جواب دیتے ہیں مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 296

شیعہ جواب دیتے ہیں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 95348 / ڈاؤنلوڈ: 4184
سائز سائز سائز
شیعہ جواب دیتے ہیں

شیعہ جواب دیتے ہیں

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

شیعہ جواب دیتے ہیں

سید رضا حسینی نسب

مترجم:عمران مہدی

مجمع جہانی اہل بیت (ع)

۳

قال رسول ﷲ : ''انّى تارک فیکم الثقلین، کتاب ﷲ، وعترتى أهل بیتى ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا أبداً وانّهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علّى الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

( صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶، ۵۹. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵ ،اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)

۴

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچے و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۵

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۶

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای سیدرضا حسینی نسب کی گرانقدر کتاب (شیعہ پاسخ می دھد)کو مولاناعمران مہدی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۷

پیش گفتار

عالم اسلام کے موجودہ حالات سے باخبر حضرات یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ آج امت اسلامیہ کئی ''امتوں ''میں بٹی ہوئی ہے ۔اور ہر امت خاص نظریات اور رسومات کی پابند ہے جسکے نتیجہ میں ان کی زندگی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی ہے کہ جن کی بقا کا راز ہی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے میں ہے اور وہ اپنے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے مختلف طریقوں سے سرمایہ گزاری کرتے ہیں اور اس کیلئے ہر ممکن وسیلے کو بروئے کار لاتے ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اسلامی فرقوں کے درمیان چند اختلافی مسائل ضرور پائے جاتے ہیں اگرچہ ان اختلافی مسائل کا تعلق علم کلام کے ایسے مسائل سے ہے جن کے موجد خود اسلامی متکلمین ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان سے آگاہ تک نہیں ہے۔اور یہ بالکل طے شدہ بات ہے کہ مسلمانوں کے درمیان ان اختلافی مسائل سے کہیں زیادہ اہم ، مشترک نکات بھی پائے جاتے ہیں کہ جنہوں نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے لیکن اختلاف ڈالنے والے افراد ، اصول اور فروع میں موجود ان مشترک نکات کو چھوڑ کر صرف اختلافی مسائل کو ہی بیان کرتے ہیں ۔

''اتحاد بین المسلمین''کی ایک کانفرنس میں انفرادی مسائل (جیسے نکاح ، طلاق اور میراث وغیرہ ہیں ) سے متعلق اسلامی مذاہب کے فقہی نظریات کا بیان میرے سپرد کیا گیا تھا چنانچہ میں نے اس کانفرنس میں ان موضوعات کے متعلق ایک تحقیقی رسالہ پیش کیا کہ جس نے تمام شرکاء کو تعجب میں ڈال دیا اس رسالہ کے مطالعہ سے پہلے کسی کے لئے ہر گز یہ بات قابل قبول نہ تھی کہ فقہ شیعہ ان تینوں موضوعات کے اکثر مسائل میں اہل سنت کے موجودہ چاروں مذاہب سے موافقت رکھتی ہے ۔

۸

یہ اختلاف ڈالنے والے افراد ، شیعوں کو دوسرے اسلامی فرقوں سے جدا سمجھتے ہیں اور شب و روز اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اس مظلوم فرقے کے خلاف سرگرم عمل ہیں ۔ یہ لوگ اپنے ان کاموں کے ذریعہ اپنے مشترکہ دشمن کی خدمت کررہے ہیں ان ناآگاہ افراد کو میری یہ نصیحت ہے کہ وہ شیعوں سے بھائی چارے ، اور ان کے علماء اور دانشوروں سے رابطے کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے ناآگاہی کے پردے ہٹا دیں اور شیعوں کو اپنا دینی بھائی سمجھیں اور اس طرح وہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت کے مصداق قرار پائیں:

إنَّ هٰذِهِأ ُمَّتُکُمْ ُمَّةً وَاحِدَةً وَأنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُون

استعمار کے پرانے حربوں میں سے ایک حربہ مسلمانوں کے درمیان طرح طرح کے شبہات اور اعتراضات پیدا کرنا رہا ہے تاکہ وہ اس طرح ایران کے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچا سکیں اور یہ وہ پرانا حربہ ہے جو آخری چند صدیوں میں مشرق وسطیٰ اور دوسرے علاقوں میں مختلف صورتوں میں رائج رہا ہے

حج کے موقع پر بہت سے حجاج کرام اسلامی انقلاب سے آشنائی حاصل کرتے ہیں مگر دوسری طرف سے دشمنوں کی غلط تبلیغات ان کے اذہان کو تشویش میں مبتلا کردیتی ہیں اور وہ حجاج جب ایرانی حجاج سے ملتے ہیں تو ان سے ان سوالات کے جوابات کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کے ہاتھوں میں موجود یہ کتاب دینی اور ثقافتی مسائل سے متعلق انہی سوالوں کا جواب دینے کی خاطر تحریر کی گئی ہے۔اس کتاب کو میری نگرانی میں محترم جناب سید رضا حسینی نسب نے ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے منظم انداز سے تحریر کیا ہے ۔البتہ اختصار کی خاطر ضرورت کے مطابق مختصر جوابات ہی پیش کئے گئے ہیں مزید تفصیلات کسی اور مقام پر پیش کی جائیں گی ۔

امید ہے کہ یہ ناچیز خدمت امام زمانہ (ارواحنالہ الفدائ)کی بارگاہ میں مورد قبول قرار پائے گی ۔

جعفر سبحانی

حوزئہ علمیہ قم

۲۲نومبر ۱۹۹۴ئ

۹

پہلا سوال

''وعترتی اہل بیتی '' صحیح ہے یا ''وسنتی''؟

حدیث ثقلین ایک بے حد مشہور حدیث ہے جسے محدثین نے اپنی کتابوں میں ان دو طریقوں سے نقل کیا ہے :

الف:''کتاب اللّہ و عترت أہل بیت''

ب:''کتاب اللّہ وسنت''

اب دیکھنا یہ ہے کہ ان دو میں سے کونسی حدیث صحیح ہے ؟

جواب: پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو حدیث صحیح اور معتبر طریقے سے نقل ہوئی ہے اس میں لفظ ''اہل بیتی '' آیا ہے اور وہ روایت جس میں ''اہل بیتی''کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے وہ سند کے اعتبار سے باطل اور ناقابل قبول ہے ہاں جس حدیث میں ''واہل بیتی'' ہے اس کی سند مکمل طور پر صحیح ہے

۱۰

حدیث ''واہل بیتی'' کی سند

اس مضمون کی حدیث کو دو بزرگ محدثوں نے نقل کیا ہے :

۱۔ مسلم ،اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں : ایک دن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک ایسے تالاب کے کنارے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا نام ''خم'' تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا اس خطبے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خداوندکریم کی حمدو ثنا کے بعد لوگوں کو نصیحت فرمائی اور یوں فرمایا:

''ألاٰ أیّهاالناس ، فاِنما أنا بشر یوشک أن یأت رسول رب فأجیب وأنا تارک فیکم الثقلین. أولهما کتاب اللّه فیه الهدی والنور ، فخذوا کتاب الله واستمسکوا به ، فحث علی کتاب اللّه ورغب فیه ثم قال: وأهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت اُذکرکم اللّه ف أهل بیت .''( ۱ )

اے لوگو! بے شک میں ایک بشر ہوںاور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اس کے بعد یوں

____________________

(۱)صحیح مسلم جلد۴ ص۱۸۰۳حدیث نمبر ۲۴۰۸طبع عبدالباقی

۱۱

فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اپنے اہل بیت کے سلسلے میں ،میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں اور اس جملے کی تین مرتبہ تکرار فرمائی.

اس حدیث کے متن کو دارمی نے بھی اپنی کتاب سنن( ۱ ) میں نقل کیا ہے پس کہنا چاہئے کہ حدیث ثقلین کے مذکورہ فقرے کیلئے یہ دونوں ہی سندیں روز روشن کی طرح واضح ہیں اور ان میں کوئی خدشہ نہیں ہے

۲۔ ترمذی نے اس حدیث کے متن کو لفظ''عترتی اهل بیتی'' کے ساتھ نقل کیا ہے : متنِ حدیث اس طرح ہے:

''اِنّى تارک فیکم ما اِن تمسکتم به لن تضلوا بعدى ، أحدهما أعظم من الاخر : کتاب اللّه حبل ممدود من السماء اِلی الأرض و عترتى أهل بیتى ، لن یفترقا حتی یردا علَّ الحوض فانظروا کیف تخلفون فیهما''(۱)

میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان

____________________

(۱)سنن دارمی جلد۲ ص ۴۳۲،۴۳۱

(۲)سنن ترمذی جلد۵ص۶۶۳نمبر۳۷۷۸۸

۱۲

سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں .لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.

صحیح کے مؤلف مسلم اور سنن کے مؤلف ترمذی نے لفظ ''اہل بیتی '' پرزور دیا ہے اور یہی مطلب ہمارے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے یہی نہیں بلکہ ان کی نقل کردہ سندیں پوری طرح سے قابل اعتماد اور خصوصی طور پر معتبر مانی گئی ہیں

لفظ ''و سنتی'' والی حدیث کی سند

وہ روایت کہ جس میں لفظ'' اہل بیتی '' کی جگہ ''سنتی'' آیا ہے جعلی ہے. اس کی سند ضعیف ہے اور اسے اموی حکومت کے درباریوں نے گھڑا ہے

۱۔ حاکم نیشا پوری نے اپنی کتاب مستدرک میں مذکورہ مضمون کو ذیل کی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے.

''عباس بن أبى أویس'' عن ''أبى أویس'' عن ''ثور بن زیدالدیلم''عن ''عکرمه'' عن ''ابن عباس'' قال رسول اللّه :''یا أیّها الناس اِنّى قد ترکت فیکم ، اِن اعتصمتم به فلن تضلوا أبداً کتاب اللّه و سنة نبیه. ''

۱۳

اے لوگو! میں نے تمہارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑاہے اگر تم نے ان دونوں کو تھامے رکھاتو ہر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا اور سنت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں( ۱ )

اس حدیث کے اس مضمون کے راویوں کے درمیان ایک ایسے باپ بیٹے ہیں جو سند کی دنیا میں آفت شمار ہوتے ہیں وہ باپ بیٹے اسماعیل بن ابی اویس اور ابو اویس ہیں کسی نے بھی ان کے موثق ہونے کی شہادت نہیں دی ہے بلکہ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ دونوں جھوٹے اور حدیثیں گھڑنے والے تھے.

ان دو کے بارے میں علمائے رجال کا نظریہ

حافظ مزی نے اپنی کتاب تہذیب الکمال میں اسماعیل اور اس کے باپ کے بارے میں علم رجا ل کے محققین کا نظریہ اس طرح نقل کیا ہے: یحییٰ بن معین ( جن کا شمار علم رجال کے بزرگ علماء میں ہوتا ہے) کہتے ہیں کہ ابو اویس اور ان کا بیٹا دونوں ہی ضعیف ہیں

اسی طرح یحییٰ بن معین سے یہ بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ دونوں حدیث کے چورتھے۔ ابن معین سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ابو اویس کے بیٹے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا.

ابو اویس کے بیٹے کے بارے میں نسائی کہتے تھے کہ وہ ضعیف اور ناقابل اعتماد ہے

____________________

(۱)حاکم مستدرک جلدنمبر۱ ص۹۳

۱۴

ابوالقاسم لالکائی نے لکھا ہے کہ ''نسائی'' نے اس کے خلاف بہت سی باتیں کہی ہیں اور یہاں تک کہا ہے کہ اس کی حدیثوں کو چھوڑ دیا جائے.

ابن عدی (جو کہ علماء رجال میں سے ہیں ) کہتے ہیں کہ ابن ابی اویس نے اپنے ماموں مالک سے ایسی عجیب و غریب روایتیں نقل کی ہیں جن کو ماننے کے لئے کوئی بھی تیار نہیں ہے( ۱ )

ابن حجر اپنی کتاب فتح الباری کے مقدمہ میں لکھتے ہیں ، ابن ابی اویس کی حدیث سے ہر گز حجت قائم نہیں کی جاسکتی ، چونکہ نسائی نے اس کی مذمت کی ہے.( ۲ )

حافظ سید احمد بن صدیق اپنی کتاب فتح الملک العلی میں سلمہ بن شیب سے اسماعیل بن ابی اویس کے بارے میں نقل کرتے ہیں ، سلمہ بن شیب کہتے ہیں کہ میں نے خوداسماعیل بن ابی اویس سے سنا ہے کہ وہ کہہ رہا تھا : جب میں یہ دیکھتا کہ مدینہ والے کسی مسئلے میں اختلاف کر کے دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو اس وقت میں حدیث گھڑ لیتاتھا( ۳ )

اس اعتبار سے اسماعیل بن ابی اویس کا جرم یہ ہے کہ وہ حدیثیں گھڑتا تھا ابن معین نے کہا ہے کہ وہ جھوٹا تھا اس سے بڑھ کر یہ کہ اس کی حدیث کو نہ تو صحیح مسلم نے نقل کیا ہے

____________________

(۱) حافظ مزی ، کتاب تھذیب الکمال ج ۳ ص ۱۲۷

(۲) مقدمہ فتح الباری ابن حجر عسقلانی ص ۳۹۱ طبع دار المعرفة

(۳) کتاب فتح الملک العلی ، حافظ سید احمد ص ۱۵

۱۵

اور نہ ہی ترمذی نے ، اور نہ ہی دوسری کتب صحاح میں اس کی حدیث کو نقل کیا گیا ہے.

اور اسی طرح ابو اویس کے بارے میں اتنا ہی کافی ہے کہ ابو حاتم رازی نے اپنی کتاب ''جرح و تعدیل'' میں اس کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ ابو اویس کی حدیثیں کتابوں میں لکھی تو جاتی ہیں مگر ان سے حجت قائم نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کی حدیثیں قوی اور محکم نہیں ہیں( ۱ )

اسی طرح ابو حاتم نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ ابو اویس قابل اعتماد نہیں ہے.

جب وہ روایت صحیح نہیں ہوسکتی جس کی سند میں یہ دو افراد ہوں تو پھر اس روایت کا کیا حال ہوگا جو ایک صحیح اور قابل عمل روایت کی مخالف ہو.

یہاں پر قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث کے ناقل حاکم نیشاپوری نے خود اس حدیث کے ضعیف ہونے کا اعتراف کیا ہے اسی وجہ سے انہوں نے اس حدیث کی سند کی تصحیح نہیں کی ہے لیکن اس حدیث کے صحیح ہونے کے لئے ایک گواہ لائے ہیں جو خود سندکے اعتبارسے کمزور اور ناقابل اعتبار ہے اسی وجہ سے یہ شاہد حدیث کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اور ضعیف بنا رہا ہے اب ہم یہاں ان کے لائے ہوئے فضول گواہ کو درج ذیل عنوان کی صورت میں ذکر کرتے ہیں :

____________________

(۱)الجرح والتعدیل جلد ۵ ص ۹۲ ابو حاتم رازی

۱۶

حدیث''وسنتی'' کی دوسری سند

حاکم نیشاپوری نے اس حدیث کو ابو ہریرہ سے مرفوع( ۱ ) طریقہ سے ایک ایسی سند کے ساتھ جسے ہم بعد میں پیش کریں گے یوں نقل کیا ہے:

اِن قد ترکت فیکم شیئین لن تضلوا بعدھما : کتاب اللّہ و سنت و لن یفترقا حتی یردا علَّالحوض.( ۲ )

اس متن کوحاکم نیشاپوری نے درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے:

''الضب'' عن ''صالح بن موسیٰ الطلح'' عن ''عبدالعزیز بن رفیع'' عن ''أب صالح'' عن ''أب ہریرہ''

یہ حدیث بھی پہلی حدیث کی طرح جعلی ہے اس حدیث کے سلسلہ سند میں صالح بن موسی الطلحی نامی شخص ہے جس کے بارے میں ہم علم رجال کے بزرگ علماء کے نظریات کو یہاں بیان کرتے ہیں :

یحییٰ بن معین کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ قابل اعتماد نہیں ہے ابو حاتم رازی کہتے ہیں ، اس کی حدیث ضعیف اور ناقابل قبول ہے اس نے بہت سے موثق و معتبر

____________________

(۱)حدیث مرفوع: ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند سے ایک یا کئی افراد حذف ہوں اور ان کی جگہ کلمہ ''رفعہ'' استعمال کردیا گیا ہوتو ایسی حدیث ضعیف ہوگی.(مترجم)

(۲) حاکم مستدرک جلد ۱ ص ۹۳

۱۷

افراد کی طرف نسبت دے کر بہت سی ناقابل قبول احادیث کو نقل کیا ہے

نسائی کہتے ہیں کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ احادیث لکھنے کے قابل نہیں ہیں ، ایک اور مقام پر کہتے ہیں کہ اس کی نقل کردہ احادیث متروک ہیں( ۱ )

ابن حجر اپنی کتاب '' تھذیب التھذیب'' میں لکھتے ہیں : ابن حِبانّ کہتے ہیں : کہ صالح بن موسیٰ موثق افراد کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیتا ہے جو ذرا بھی ان کی باتوں سے مشابہت نہیں رکھتیں سر انجام اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث نہ تو دلیل بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کی حدیث حجت ہے ابونعیم اس کے بارے میں یوں کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے۔وہ ہمیشہ ناقابل قبول حدیثیں نقل کرتا تھا( ۲ )

اسی طرح ابن حجر اپنی کتاب تقریب( ۳ ) میں کہتے ہیں کہ اس کی حدیث متروک ہے اسی طرح ذہبی نے اپنی کتاب کاشف( ۴ ) میں اس کے بارے میں لکھا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی حدیث ضعیف ہے.

یہاں تک کہ ذہبی نے صالح بن موسیٰ کی اسی حدیث کو اپنی کتاب ''میزان الاعتدال''

میں ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صالح بن موسیٰ کی نقل کردہ یہ حدیث اس کی ناقابل قبول احادیث میں سے ہے.( ۵ )

____________________

(۱)تہذیب الکمال جلد ۱۳ ص ۹۶ حافظ مزی.

(۲)تہذیب التہذیب جلد ۴ ص ۳۵۵، ابن حجر

(۳)ترجمہ تقریب ، نمبر ۲۸۹۱، ابن حجر

(۴)ترجمہ الکاشف، نمبر ۲۴۱۲ ذہبی

(۵)میزان الاعتدال جلد۲ ص ۳۰۲ ذہبی

۱۸

حدیث ''وسنتی''کی تیسری سند

ابن عبدالبرنے اپنی کتاب ''تمہید''( ۱ ) میں اس حدیث کے متن کو درج ذیل سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے.

''عبدالرحمن بن یحییٰ '' عن ''احمد بن سعید '' عن ''محمد بن ابراھیم الدبیل'' عن ''عل بن زید الفرائض'' عن ''الحنین'' عن ''کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف'' عن ''أبیہ'' عن ''جدہ''

امام شافعی نے کثیر بن عبداللہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ جھوٹ کے ارکان میں سے ایک رکن تھا۔( ۲ )

ابوداؤد کہتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے افراد میں سے تھا.( ۳ )

ابن حبان اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ عبداللہ بن کثیر نے حدیث کی جو کتاب اپنے باپ اور دادا سے نقل کی ہے اس کی بنیاد جعل حدیث پر ہے اس کی کتاب سے کچھ نقل کرنا اور عبداللہ بن کثیر سے روایت لینا قطعا حرام ہے صرف اس صورت میں صحیح ہے کہ اس کی بات کو تعجب کے طور پر یا تنقید کرنے کے لئے نقل کیا جائے.( ۴ )

____________________

(۱) التمہید، جلد ۲۴ ص ۳۳۱

(۲) تھذیب التھذیب جلد ۸ ص ۳۷۷ ( دارالفکر) اور تھذیب الکمال جلد ۲۴ ص ۱۳۸

(۳) گزشتہ کتابوں سے مأخوذ

(۴) المجروحین، جلد ۲ ص ۲۲۱ ابن حبان

۱۹

نسائی اور دارقطنی کہتے ہیں : اس کی حدیث متروک ہے امام احمد کہتے ہیں : کہ وہ معتبر راوی نہیں ہے اور اعتماد کے لائق نہیں ہے.

اسی طرح اس کے بارے میں ابن معین کا بھی یہی نظریہ ہے تعجب انگیز بات تویہ ہے کہ ابن حجر نے ''التقریب'' کے ترجمہ میں صالح بن موسیٰ کو فقط ضعیف کہنے پر اکتفاء کیا ہے اور صالح بن موسیٰ کو جھوٹا کہنے والوںکو شدت پسند قرار دیا ہے ،حالانکہ علمائے رجال نے اس کے بارے میں جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں یہاں تک کہ ذھبی اس کے بارے میں کہتے ہیں : اس کی باتیں باطل اور ضعیف ہیں

سند کے بغیر متن کا نقل

امام مالک نے اسی متن کو کتاب ''الموطا''( ۱ ) میں سند کے بغیراور بصورت مرسل( ۲ ) نقل کیا ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کی حدیث کوئی حیثیت نہیں رکھتی اس تحقیق سے قطعی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث جس میں ''وسنتی'' ہے وہ جعلی اور من گھڑت ہے اور اسے جھوٹے راویوں اور اموی حکومت کے درباریوں نے ''وعترتی'' کے کلمہ والی صحیح حدیث کے مقابلے میں گھڑا ہے لہذا مساجد کے خطباء ،

____________________

(۱) الموطا ، مالک ص ۸۸۹ حدیث ۳

(۲)روایت مرسل : ایسی روایت کو کہا جاتا ہے جس کے سلسلہ سند سے کوئی راوی حذف ہو جیسے کہا جائے ''عن رجل'' یا عن بعض اصحابنا تو ایسی روایت مرسلہ ہوگی(مترجم)

۲۰

پہنچيں گے اس وقت قبيلہ اوس كے تمام افراد ہمارى طرفدارى كے لئے اُٹھ كھڑے ہوںگے_

لشكر قريش كى مدينہ روانگي

مكمل تيارى كے بعد قريش نے لشكر كو كوچ كا حكم ديا ، يہ لشكر تين ہزار افراد پر مشتمل تھا جس ميں سات سو زرہ پوش ، دو سو گھڑ سوار ، تين ہزار اونٹ اور بے پناہ اسلحہ كے علاوہ دوران جنگ گا بجا كر سپاہيوں كو تازہ دم كرنے كے ليے ۱۵ عورتيں بھى شريك تھيں_

مشركين كے لشكر كا سپہ سالار ابوسفيان تھا ، سواروں كى كمان خالد بن وليد كے ہاتھ ميں تھى اور ''عكرمہ بن ابى جہل ''خالد كے نائب كى حيثيت سے شريك تھا اس بار لشكر مشركين ہر ايسے اختلاف سے اجتناب كر رہا تھا جو ان كو دو گروہوں ميں بانٹ ديتا_

عبّاس كى خبر رساني

جب لشكر نے كوچ كا ارادہ كيا تو پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے چچا عبّاس بن عبدالمطلب نے '' جو مخفى طور پر مسلمان ہوچكے تھے اور بہت قريب سے قريش كى تياريوں اور كوچ پر نظر ركھے ہوئے تھے'' پيغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو مشركين كے لشكر كى جنگى صورتحال كى اطلاع دينے كے ليے ايك خط تحرير كيا_

اور قبيلہ بنى غفار كے ايك قابل اعتماد شخص كے ذريعہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں بھيجا_ يہ فرستادہ اتنى تيزى سے روانہ ہوا كہ مكّہ اور مدينہ كا درميانى فاصلہ صرف تين دن ميں طے كر ليا_

۲۱

جب يہ سوار مدينہ پہنچا تو اس وقت پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ' ' قُبا'' ميں تھے _ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس پہنچا اور خط ديا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خط ايك شخص كو دياتا كہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو سُنائے پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمايا كہ اس كا مضمون كسى كو نہ بتانا_

مدينہ كے يہودى اور منافقين نامہ بَر كے آنے سے آگاہ ہوچكے تھے _ اور انھوں نے مشہور كرديا كہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس بُرى خبر پہنچى ہے_ تھوڑى ہى دير ميں لوگ قريش كى لشكركشى سے باخبر ہوگئے_(۱۵)

سپاہ قريش راستہ ميں

راستہ ميں جہاں كہيں پڑاؤ ہوتا لشكر كے ہمراہ موجود عورتيں گانا بجانا شروع كرديتيں اور مقتولين قريش كى ياد دلاكر سپاہيوں كو بھڑكاتى قريش كے سپاہى جہاں كہيں پانى كے كنارے رُكتے اونٹوں كو ذبح كركے اُن كا گوشت كھاتے_(۱۶)

عمروبن سالم خزاعى نے مكّہ اور مدينہ كے درميان مقام ''ذى طوى '' ميں قريش كو خيمہ زن ديكھا تو مدينہ آئے اور جو كچھ ديكھا تھا اس كى خبر پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو دي(۱۷) _

معلومات كى فراہمي

پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جمعرات كى رات ۵ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۴ مارچ ۶۲۵كو فضالہ كے سراغ رساں بيٹوں ''انس اور مونس ''كو دشمن كى نقل و حركت كے بارے ميں معلومات اكھٹى كرنے كے لئے بھيجا_ انھوں نے قريش كو ''عقيق '' كے مقام پر ديكھا اور ان كے پيچھے ہولئے جب لشكر نے ''وطاء '' كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو وہاں سے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى خدمت ميں

۲۲

رپورٹ پيش كرنے كے لئے واپس آگئے_(۱۸)

لشكر ٹھہرنے كى خبر

جيسے ہى سپاہ مشركين نے احد كے نزديك وطاء كے مقام پر پڑاؤ ڈالا تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''حُباب بن مُنذر ''كو پوشيدہ طور پر مامور فرمايا كہ دشمن كى قوّت كا اندازہ كريں اور ضرورى معلومات جمع كركے اس كى رپورٹ ديں_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس بات كى تاكيد كى كہ اپنى رپورٹ دوسروں كى موجودگى ميں پيش نہ كريں مگر يہ كہ دشمن كى تعداد كم ہو ( تو اس وقت كوئي حرج نہيں ہے)_

''حُباب ''دشمن كے لشكر كے قريب پہنچے اور نہايت دقت نظر سے جائزہ لے كر واپس آئے اور پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تنہائي ميں ملاقات كى اور كہا كہ ''اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں نے ايك بڑا لشكر ديكھاہے ميرا اندازہ ہے كہ كم و بيش تين ہزار افراد ، دو سو گھوڑے اور زرہ پوش سپاہيوں كى تعداد تقريباً سات سو كے قريب ہوگى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ تم نے عورتوں كو بھى ديكھا؟ حباب نے كہا كہ ايسى عورتيں ديكھى ہيں جن كے پاس گانے بجانے كا سامان ہے_ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' يہ عورتيں مردوں كو لڑائي پر اُكسانا اور مقتولين بدر كى ياد دلانا چاہتى ہيں، اس سلسلہ ميںتم كسى سے كوئي بات نہ كرنا خدا ہمارى مدد كے لئے كافى اور بہترين حفاظت كرنے والا ہے اے خدا ہمارى روانگى اور حملہ تيرى مدد سے ہوگا_(۱۹)

۲۳

مدينہ ميں ہنگامى حالت

شب جمعہ ۶ شوال ۳ ھ ق، بمطابق ۲۵ مارچ ۶۲۵ئ _ اوس و خزرج كے برجستہ افراد سعد بن معاذ ، اُسَيد بن حُضَير اور سعد بن عُبَادة چند مسلح افراد كے ہمراہ مسجد اور پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كے گھر كے دروازہ پر حفاظت كے لئے كھڑے ہوگئے_

مشركين كے شب خون مارنے كے خوف سے صبح تك شہر مدينہ كى نگرانى كى جاتى رہي_(۲۰)

فوجى شورى كى تشكيل

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہ كر شہر كا دفاع كريں گے تو مسلمانوں كى فوجى شان و شوكت كمزور پڑ جائے گى اور دشمن جرى ہوجائے گا اور ممكن ہے دشمن كے شہر كے قريب ہوتے ہى منافقين و يہود اندرونى سازش ( يا بغاوت) كے ذريعہ دشمن كى كاميابى كى راہ ہموار كريں دوسرى طرف شہر ميں رہنے كا فائدہ يہ ہے كہ قريش مجبور ہوں گے كہ شہر پر حملہ كريں اور اس صورت ميں دست بدست لڑائي كے حربوں كو بروئے كار لاكر دشمن پر ميدان تنگ اور شكست سے دوچار كيا جاسكتا ہے اور شہر ميں رہنا سپاہيوں ميں دفاع كے لئے زيادہ سے زيادہ جوش پيدا كرے گا_

قريش بھى اسى فكر ميں تھے كہ اگر مسلمان مدينہ ميں رہے تو درختوں كو كاٹ كر اور نخلستان ميں آگ لگا كر ناقابل تلافى اقتصادى نقصان پہنچايا جائے گا_

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دفاعى حكمت عملى كى تعيين كے لئے اجلاس بلايا اور اصحاب سے مشورہ طلب كيا اجلاس ميں حضوراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اعلان كيا كہ اگر آپ لوگ مصلحت سمجھيں تو ہم مدينہ

۲۴

ميں رہيں اور دشمنوں كو اسى جگہ چھوڑديا جائے جہاں وہ اُترے ہيں تا كہ اگر وہ وہيں رہيں تو زحمت ميں مبتلا رہيں اور اگر مدينہ پر حملہ كريں تو ہم ان كے ساتھ جنگ كريں_

عبداللہ بن اُبى نے اُٹھ كر كہا كہ '' يا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ابھى تك كوئي دشمن اس شہر پر فتحياب نہيں ہوسكا ماضى ميں ہم نے دشمن كے ساتھ جب بھى ميدان ميں لڑائي كى شكست سے دوچار ہوئے اور جب بھى دشمن نے چاہا ہمارے شہر ميں آئے تو ہم نے شكست دى لہذا آپ انھيں ان كے حال پر چھوڑ ديجئے _ اس لئے كہ اگر وہ وہيں رہے تو بدترين قيد ميں ہيں اور اگر حملہ آور ہوئے تو ہمارے بہادر ان سے لڑيں گے ، ہمارى عورتيں اور بچّے چھتوں سے ان پر پتھراؤ كريں گے اور اگر پلٹ گئے توشرمندہ رسوا ، نااُميد اور بغير كسى كاميابى كے واپس جائيں گے '' مہاجر ين و انصار كے بزرگ افراد حسن نيّت كے ساتھ اسى خيال كے حامى تھے ليكن شہادت كے شوقين نوجوانوں كى بڑى تعداد خصوصاً وہ لوگ جو جنگ بدر ميں شريك نہيں ہوسكے تھے دشمن سے روبرو لڑنے كے لئے بے قرار تھے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے يہ خواہش ظاہر كر رہے تھے كہ دشمن كے مقابل ميدان كار زار ميں لے چليں_

اس اكثريت ميں لشكر اسلام كے دلير سردار حضرت حمزہ (ع) بھى تھے انھوں نے فرمايا: اس خدا كى قسم جس نے قرآن كو نازل فرمايا ہم اس وقت تك كھانا نہيں كھائيں گے جب تك شہر سے باہر دشمنوں سے نبرد آزمائي نہ كرليں_

جواں سال افراد كچھ اس طرح كا استدلال پيش كر رہے تھے كہ : اے خدا كے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم اس بات سے ڈر رہے ہيں كہ كہيں دشمن يہ خيال نہ كر بيٹھيں كہ ہم ان كے سامنے آنے سے ڈرتے ہيںاور شہر سے باہر نكلنا نہيں چاہتے _ ہميں اچھا نہيں لگتا قريش اپنے رشتہ داروں كى طرف واپس جاكر كہيں كہ ہم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو يثرب ميں محصور كرديا ; اور ( اس طرح) اعراب

۲۵

كو ہمارے مقابلے ميں دلير بناديں_(۲۱)

آخرى فيصلہ

جوانوں كے اصرار پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اكثريت كى رائے كو قبول فرمايا اور مسلمانوں كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى ،خطبہ ميں انہيں جانفشانى اور جہاد كى دعوت دى اور حكم ديا كہ دشمن سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوجائيں ، پھر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز عصر جماعت كے ساتھ پڑھائي ، اس كے بعد فوراً گھر كے اندر تشريف لے گئے ، جنگى لباس زيب تن فرمايا ''خود ''سرپر ركھى تلوار حمائل كى اور جب اس حليہ ميں گھر سے باہر تشريف لائے تو وہ لوگ جو باہر نكلنے كے سلسلہ ميں اصرار كر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل ميں كہنے لگے كہ '' جس بات كى طرف پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا ميلان نہيں تھا ہميں اس كے خلاف اصرار كرنے كا حق نہيں تھا''_ اس وجہ سے وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے قريب آئے اور كہا كہ'' اگر آپ چاہيں تو مدينہ ميں رہيں '' رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے فرمايا '' يہ مناسب نہيں ہے كہ پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لباس جنگ پہن لے اور قبل اس كے كہ خدا دشمنوں كے ساتھ جنگ كى سرنوشت كو روشن كردے وہ لباس جنگ كو اُتار پھينكے _

اب ہم جو كہہ رہے ہيں وہ كرتے جائيں خدا كا نام لے كر راستہ پرگامزن ہوجاؤ اگر صبر كروگے تو كامياب رہوگے''_(۲۲)

۲۶

سوالات:

۱ _ غزوہ بنى قينقاع كب واقع ہوا اور اس كا نتيجہ كيا رہا؟

۲_ ''ذى قرد'' كے مقام پر سّريہ ''زيد بن حارثہ ''كس مقصد كے تحت انجام پايا؟

۳_ حضرت على (ع) و حضرت فاطمہ (ع) كا عقد مبارك كس سال ہوا؟

۴_ جنگ احدشروع ہونے كے اسباب كيا تھے؟

۵_ جنگ احد كا بجٹ كفّار نے كس طرح پورا كيا؟

۶_ راہ خدا سے روكنے كى خاطر مال خرچ كرنے كے سلسلہ ميں قرآن كيا كہتا ہے؟

۷_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قريش كى روانگى سے كيسے واقف ہوئے؟

۸_ دشمن كا مقابلہ كرنے كيلئے مسلمانوں نے آخرى فيصلہ كيا كيا ؟

۲۷

حوالہ جات

۱_ان شعراء كے نام حسب ذيل ہيں:

كعب بن اشرف يہودى ، ابى عفك يہودى اور مشركين ميں سے ايك عورت عصماء بنت مروان ، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷/۲۸_

۲_ ابن ہشام كى تحرير كے مطابق بشير بن عبدالمنذر ( ابولبابہ) اور ابن اسحاق كى تحرير كے مطابق عبادہ بن وليد بن عبادہ بن صامت_

۳_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۷۶، سيرة ابن ہشام جلد ۳ ص ۴۷، تاريخ طبرى جلد ۲ ص ۴۹۷، طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۲۷_

۴_ ہر درہم ۱۲ نخود كے يعنى آدھا مثقال چاندى كے برابر ہے اس حساب سے آپ كا مہر ۲۵۰ مثقال چاندى ہے_

۵_ اللہم بارك لقوم: جُلّ انيتہم الخزف _ كشف الغمہ جلد ۱ ص ۳۵۹_

۶_مزيد معلومات كے لئے كشف الغمہ كى طرف رجوع كريں ج۱ ص ۳۷۴/۳۴۸، بحار الانوار ج ۴۳ ص ۱۴۵/۹۲ مطبوعہ بيروت ،سيرة المصطفى ص ۳۲۹_۳۲۶_

۷_ انشاء اللہ حضرت علي(ع) و فاطمہ (ع) كے عقد كا تفصيلى حال امامت كى تاريخ ميں بيان كيا جائے گا_

۸_ سويق ايك غذا ہے جو چاول اور جوكے آٹے، شہد اور دودھ سے يا پھر خرمے آٹے اور روغن سے بنتى ہے_ جيسے ستّو_

۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۱_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۱۳۰_ سيرة ابن ہشام جلد ۲ ص ۴۴، دلائل النبوة بيہقى جلد ۲ ص ۳۲۲_

۱۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۸۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۵_ سيرة ابن ہشام جلد ۴/۳ ص ۴۳_

۲۸

۱۱_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۱۹۷_طبقات جلد ۲ ص ۳۶ _ متاع الاسماع ص ۱۱۲_

۱۲_ مغازى واقعدى جلد ۱ ص ۱۹۰_۱۹۳_ طبقات ابن سعد جلد ۲ ص ۳۴_

۱۳_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۰_

۱۴_ سورہ انفال آيت ۳۶_

۱۵_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰_

۱۶_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۴_

۱۷_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵،۲۰۶_

۱۸_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۰۵_

۱۹_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۰۶،۲۰۷_

۲۰_ مغازى واقدى جلد ۱ ص ۲۷۰،۲۰۸_

۲۱_ مغازى واقدى جلد ۱، ص ۲۰۸_

۲۲_ مغازى واقدى جلد ۱ ، ص ۲۱۹،۲۰۹_

۲۳_ مغازى واقدى جلد ۳، ص ۲۴۱،۲۱۳_

۲۹

دوسرا سبق

لشكر اسلام كى روانگي

لشكر توحيد كا پڑاؤ

منافقين كى خيانت

صف آرائي

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

جنگى توازن

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اجتماعى حملہ

فتح كے بعد شكست

پيغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كا دفاع كرنيوالوں كى شجاعت

ام عمارہ شير دل خاتون

لشكر كى جمع آوري

سوالات

حوالہ جات

۳۰

لشكر اسلام كى روانگي

روانگى كے وقت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تين نيزے طلب فرمائے اور تين پرچم تيار كيئے لشكر كا عَلَم على بن طالب(ع) ، قبيلہ '' اوس'' كا پرچم '' اُسَيد بن حُضَير '' اور قبيلہ خزرج كا پرچم '' سعد بن عبادة'' كے سپُرد كيا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جمعہ كے دن عصر كے وقت ايك ہزار افراد كے ساتھ مدينہ سے باہر نكلے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم گھوڑے پر سوار اور ہاتھ ميں نيزہ ليے ہوئے تھے _ مسلمانوں كے درميان صرف سو افراد كے جسم پر زرہ تھي_

لشكر اسلام مقام ''شيخان ''پر پہنچا تو ناگہاں ايك گروہ شور و غل كرتا ہوا پيچھے سے آن پہنچا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پوچھا كہ يہ كون ہيں؟ لوگوں نے عرض كيا: اللہ كے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم '' يہ عبيد اللہ بن اُبّى كے ہم پيمان يہودى ہيں''_ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا كہ '' ان تك يہ بات پہنچا دو كہ ہم ان كى مددسے بے نياز ہيں'' اس كے بعد فرمايا كہ '' مشركين سے جنگ كرنے كے لئے مشركين سے مدد نہ لى جائے''_(۱)

لشكر توحيد كا پڑاؤ

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شيخان كے پاس پڑاؤ ڈالا اور محمد بن مسلمہ كو ۵۰ افراد كے ساتھ لشكر اسلام

۳۱

كے خيموں كى حفاظت پر مامور فرمايا_

اس مقام پر جنگ ميں شركت كے خواہشمند نوجوان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے پاس آئے اور جنگ ميں شركت كى اجازت چاہى ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انہيں جنگ ميں شركت كرنے كى اجازت نہ دى ،انہوں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ رافع بن خَديج ايك ماہر تيرانداز ہے اور رافع نے بھى اونچى ايڑى والے جوتے پہن كر اپنے قد كى بلندى كا مظاہرہ كيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رافع كو شركت كى اجازت دے دي_ سُمرَة بن جُندُب نے عرض كيا كہ ميں رافع سے زيادہ قوى ہوں ، ميں ان سے كشتى لڑنے كے لئے تيار ہوں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا ٹھيك ہے، كُشتى لڑو_ سمرہ نے رافع كو پٹخ ديا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے بھى شركت كى اجازت ديدي_(۲)

عبداللہ بن حجش نے پيغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے عرض كيا كہ : اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا دشمنوں نے وہاں ڈيرہ ڈال ركھا ہے_ ميں نے پہلے ہى خدا كى بارگاہ ميں دُعا كى ہے كہ كل جب دشمن سے مقابلہ ہوتو وہ مجھے قتل كرديں ،ميرا پيٹ پھاڑ ڈاليں ،ميرے جسم كو مثلہ كرديں تا كہ اسى حالت ميں خدا كا ديدار كروں اور جس وقت خدا مجھ سے پوچھے كہ كس راہ ميں تيرى يہ حالت كى گئي؟ تو ميں كہہ سكوں كہ اے خدا تيرى راہ ميں_(۳)

عمر و بن جموح ايك پاؤں سے اپاہج تھے جن كے چار بيٹے پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنگوں ميں شير كى طرح لڑتے تھے، جب جنگ اُحد پيش آئي تو عزيز و اقارب نے عمرو بن جموح كو شركت سے منع كيا اور كہا كہ چونكہ تم پاؤں سے اپاہج ہو لہذا فريضہ جہاد كا بار تمہارے دوش پر نہيں ہے، اس كے علاوہ تمہارے بيٹے تو پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ہمراہ جنك كيلئے جارہے ہيں_ اس نے كہا كہ ''وہ لوگ تو جنّت ميں چلے جائيں_ اور ميں يہاں تمہارے پاس رہ جاؤں؟'' ان كى بيوى نے ديكھا كہ وہ ہتھياروں سے ليس ہوتے ہوئے زير لب يہ دعا كر

۳۲

رہے ہيں كہ '' خدايا مجھے گھر واپس نہ پلٹا_'' بيٹوں نے اصرار كيا كہ جنگ ميں شركت سے اجتناب كريں تو وہ پيغمبراكرم كى خدمت ميں پہنچے اور عرض كيا'' اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا ميرے بيٹے نہيں چاہتے كہ مجھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے ساتھ اس جنگ ميں شركت كرنے ديں، بخدا ميرى خواہش ہے كہ اس ناقص پاؤں كو بہشت كى سرزمين سے مَس كروں_''

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:

'' خدا نے تمہيںجنگ سے معاف ركھا ہے اور فريضہ جہاد تمہارے كندھوں سے اٹھاليا ہے_''

وہ نہيں مانے تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان كے بيٹوں سے فرمايا كہ '' اگر تم ان كو نہ رو كو تو تمہارے اوپر كوئي گناہ نہيں ہے_ شايد خدا ان كو شہادت نصيب كردے _(۴)

آفتاب غروب ہوا ،جناب بلال نے اذان دي، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجاہدين اسلام كے ساتھ نماز جماعت ادا كي_

دوسرى طرف دشمن كے لشكر ميں عكرمہ بن ابى جہل كو چند سواروں كے ساتھ خيموں كى حفاظت پر مامور كرديا گيا _(۵)

منافقين كى خيانت

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صبح سويرے شيخان سے احد (مدينہ سے ۶كلوميٹردور) كى طرف روانہ ہوئے _ مقام شوط پر منافقين كا سرغنہ عبداللہ بن ابى بن سلول اپنے تين سوساتھيوں سميت مدينہ واپس لوٹ گيا_ اس نے اپنے بہانہ كى توجيہ كے لئے كہا كہ '' محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جوانوں كى بات سنى ہمارى بات نہيں سنى اے لوگو ہميں نہيں معلوم كہ ہم كس لئے اپنے آپ كو قتل كئے

۳۳

جانے كے لئے پيش كرديں:؟ عبداللہ بن عمر و بن حرام ان كے پيچھے گئے اور كہا كہ '' اے قوم خدا سے ڈرو، ايسے موقع پر كہ جب دشمن نزديك ہے اپنے قبيلے اور پيغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تنہا نہ چھوڑو'' منافقين نے جواب ديا '' اگر ہميں يقين ہوتا كہ جنگ ہوگى تو ہم تمہيں نہ چھوڑتے، ليكن ہميں معلوم ہے كہ كسى طرح كى جنگ نہيں ہوگي''_

عبداللہ بن عمرو جوكہ ان سے نا اميد ہوچكے تھے ان سے كہنے لگے، اے دشمنان خدا خدا تمہيں اپنى رحمت سے دور كرے اور بہت جلد خدا اپنے پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو تم سے بے نياز كردے گا_

ان تين سو افراد كے چلے جانے كے بعد قبيلہ بنى حارثہ اور قبيلہ بنى سلمہ كے افراد بھى سست پڑگئے اور واپس جانے كيلئے سوچنے لگے مگر خدا نے انھيں استوار ركھا_(۶)

صف آرائي

۷/ شوال ۳ ھ ق بمطابق ۲۶مارچ ۶۲۵ئبروز ہفتہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد ميں نماز صبح ادا كرنے كے بعد لشكر كى صف آرائي شروع كردي_ كوہ احد كو پيچھے اور مدينہ كو اپنے سامنے قرار ديا_ سپاہيوں كو مكمل طور پر ترتيب دينے كے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تقرير فرمائي اور كہا كہ ''تعريف اور جزاء اس شخص كے لئے ہے جو اپنے فريضے كو صبر و سكون اور متانت و يقين كے ساتھ انجام ديتا ہے ، اس لئے كہ جہاد انتہائي دشوار كام اور بہت سى مشكلات و پريشانيوں كا حامل ہے_ ايسے لوگ بہت كم ہيں جو اس ميں ثابت قدم ہيں، مگر وہ لوگ جن كو خدا ہدايت و پائيدارى عطا فرمائے ،خدا اس كا دوست ہے جو اس كا فرماں بردار ہے اور شيطان اس كا دوست ہے جو اس كى پيروى كرتا ہے ''_

''ہر چيز سے پہلے جہاد ميں ثابت قدم رہو اور اس وسيلے سے ان سعادتوں كو اپنے لئے

۳۴

فراہم كرو جن كا خدا نے وعدہ كيا ہے_ اختلاف، كشمكش اور ايك دوسرے كو كمزور بنانے كا ارادہ ترك كردو كيونكہ يہ باتيں حقارت و ناتوانى كا سبب ہيں''_

پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' عبداللہ بن جُبَير'' كو ۵۰ تيراندازوں كے ساتھ درّہ كوہ عينين كى نگرانى پر معين فرمايا اور درّہ كى حفاظت كے لئے جنگى حكمت عملى بتاتے ہوئے فرمايا: ہم فتحياب ہوں يا شكست كھائيں تم اپنى جگہ ڈٹے رہنا اور دشمن كے سواروں كو تيراندازى كے ذريعہ ہم سے دور كرتے رہنا_ تا كہ وہ پيچھے سے ہم پر حملہ نہ كريں اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم فتحياب ہوجائيں اور مال غنيمت حاصل كرنے لگيں پھر بھى تم ہمارے پاس نہ آنا تم اپنى جگہ مضبوطى سے ڈٹے رہنا يہاں تك كہ ہمارا كوئي حكم تمہارے پاس آجائے_(۷)

دشمن اپنى صفوں كو منظم كرتاہے

ابوسفيان نے بھى اپنى فوج كى صفوں كو منظم كيا پيادہ زرہ پوش لشكر كو درميان ميں ''خالد بن وليد ''كى كمان ميں سواروں كا ايك دستہ دائيں جانب اوردوسرا دستہ ''عكرمہ بن ابى جہل'' كى سركرد گى ميں بائيں جانب ترتيب ديا، سياہ پرچم قبيلہ ''بنى عبدالدّار''كے افراد كے سپرد كيا اور شرك و الحاد كے وجود كى حفاظت كے لئے حكم ديتے ہوئے كہا كہ '' لشكر كى كاميابى پرچم داروں كى استقامت ميں پوشيدہ ہے ہم نے بدر كے دن اسى وجہ سے شكست كھائي تھى اب اگر اپنے آپ كو تم اس كے لائق ثابت نہيں كروگے تو پرچم دارى كا فخر كسى اور قبيلے كو نصيب ہوگا ، ان باتوں سے اس نے ''بنى عبدالدار ''كے جاہلى احساسات كو ابھارا يہاں تك كہ وہ آخرى دم تك جان كى بازى لگانے كيلئے آمادہ ہوگئے _(۸)

۳۵

جنگى توازن

اب ايك ہولناك جنگ كے دہانہ پر لشكر توحيد و شرك ايك دوسرے كے مقابل كھڑے ہيں اور ان دونوں لشكروں كا جنگى توازن مندرجہ ذيل ہے_(۹)

تفصيل لشكر اسلام لشكر مشركين باہمى نسبت

فوجي ۷۰۰ ۳۰۰۰ مسلمانوں كى نسبت ۷/۲:۴ زيادہ

زرہ پوش ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

نيزہ بردار ۱۰۰ ۷۰۰ مشركين ۷ گنا زيادہ

شہ سوار ۲ ۲۰۰ مشركين ۱۰۰گنا زيادہ

جنگ كيسے شروع ہوئي؟

دونوں لشكروں كے درميان ٹكراؤ كا باعث بننے والا پہلا شخص '' ابوعامر '' تھا_ احد كے دن آگے بڑھتا ہوا لشكر اسلام كے مقابل آيا اور آواز دے كر كہنے لگا، اے اوس ميں ابوعامر ہوں ،لوگوں نے كہا '' اے فاسق تيرى آنكھيں اندھى ہوجائيں '' ابوعامر اس غير متوقع جواب كے سننے سے اہل مكّہ كے درميان ذليل ہوگيا_ اس نے كہا كہ '' ميرى غير موجود گى ميں ميرا قبيلہ فتنہ و فساد ميں مبتلا ہوگيا ہے _ '' اسكے بعد اس نے مسلمانوں سے جنگ كا آغاز كرديا لشكر اسلام نے اس پر اور اس كے ساتھيوں پر سنگ بارى كى اس كے بيٹے'' حنظلہ ''جو كہ لشكر اسلام ميں تھے، انھوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت مانگى تا كہ اپنے باپ كو قتل كرديں ليكن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اجازت نہيں دي_(۱۰)

''ابوعامر ''كى عقب نشينى كے بعد مشركوں كا پرچمدار '' طلحہ بن ابى طلحہ'' جسے لشكر كا مينڈھا كہا جاتا تھا، مغرورانہ انداز ميں آگے بڑھا اور چلّا كر كہا كہ ''تم كہتے ہوكہ ہمارے

۳۶

مقتولين دوزخ ميں اور تمہارے مقتولين بہشت ميں جائيں گے _ اس صورت ميں آيا كوئي ہے جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے دوزخ ميں پہنچادے ؟'' حضرت على عليہ السلام مقابلے كے لئے آگے بڑھے_

جنگ شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں مشركين كا پرچم دار شمشير على (ع) كى بدولت كيفر كردار كو پہنچا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خوش ہوگئے اور مجاہدين اسلام نے صدائے تكبر بلند كى _

طلحہ كے بھائي نے پرچم اُٹھاليا اور آگے بڑھاجبكہ دوسرے چند افراد بھى پرچم سرنگوں ہوجانے كى صورت ميں شرك كا دفاع كرنے اور دوبارہ پرچم اٹھانے كے لئے تيار بيٹھے تھے_(۱۱)

دشمن كے حوصلے بلند كرنے ميں موسيقى كا كردار

اسلام كے مجاہد اپنے مقدّس دين كے دفاع كے لئے لڑرہے تھے اور اپنے دل و دماغ ميں شہادت كى آرزو كو پروان چڑھار ہے تھے ليكن مشركين كے سپاہيوں كا مقصد پست مادّى آرزوؤں كا حصول اور انتقام كے سوا كچھ نہ تھا _ مشركين كے نامور افراد جنگ كے دوران سپاہيو ںكے ان ہى جذبات كو بھڑ كار ہے تھے اور يہ ذمّہ دارى ان آوارہ عورتوں كى تھى جو آلات موسيقى بجاتيں اور مخصوص آواز ميں ترانے گاتى تھيں تا كہ ايك طرف لشكر كے جنسى جذبات بھڑكائيں اور دوسرى طرف انتقام كى آگ شعلہ ور كريں تا كہ وہ لوگ نفسياتى دباؤ كے تحت جنگ جارى ركھيں _

جو شعريہ بد قماش عورتيں پڑھ رہى تھيں ان كا مطلب كچھ اس طرح تھا'' ہم طارق كى بيٹياں ( وقت سحر طلوع ہو نے والا ستارہ) ہيں اور بہترين فرش پر قدم ركھتى ہيں_ اگر دشمن

۳۷

كى طرف بڑھوگے تو ہم تمہارے ساتھ بغل گير ہوگئيں، اگر دشمن كو پيٹھ دكھاؤ گے اور فرار كرو گے تو ہم تم سے جدا ہوجائے گئيں _(۱۲)

اجتماعى حملہ

حضرت علي(ع) نے نئے پرچم دار پر حملہ كيا اور وہ بھى اپنے گندے خون ميں لوٹنے لگا_ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كے حكم سے اجتماعى حملہ شروع ہوا، مجاہدين اسلام ايسى شجاعت سے لڑرہے تھے جس كى تعريف بيان سے باہر ہے_ اس دوران على (ع) ، حمزہ(ع) اور ابودجانہ بے خوفى كى عظيم مثال تاريخ بشريت ميں ثبت كرتے ہوئے سپاہ دشمن پر بجلياں گرار ہے تھے ان كى تمام تر كوشش يہ تھى كہ پرچم داروں كے پير اُكھاڑديں اس ليے جنگ زيادہ تر اسى حصّہ ميں ہو رہى تھى _ چونكہ اس زمانے ميں پرچم كا سرنگوں ہوجانا شكست اور خاتمہ جنگ سمجھا جاتا تھا اسى وجہ سے مشركين كے پرچم دار انتہائي شجاعت كا مظاہرہ كر رہے تھے اور بنى عبدالدار كے قبيلہ كے افراد نہايت غيظ و غضب كے عالم ميںاپنے پرچم دار كے اردگرد جنگ كرتے جاتے تھے اور جب كوئي پرچم دار قتل ہوجاتا تو احتياطى فوجيں بلافاصلہ جلدى سے بڑھ كر پرچم كھول ديتى تھيں _ اس دوران دشمن كے شہ سواروں نے تين مرتبہ سپاہيان اسلام كے محاصرہ كو توڑنا چاہا اور ہر بار عبداللہ بن جبير كے دستے نے مردانہ وار، نہايت بہادرى كے ساتھ تيراندازى كے ذريعے ان كو پيچھے دھكيل ديا_

حضرت على (ع) كى تلوار، حمزہ (ع) كى دليرى اور عاصم بن ثابت كى تيراندازى سے'' بنى عبدالدار'' كے نو پرچم داريكے بعد ديگر ے ہوا ہوگئے اور رعب و وحشت نے مشركين كے سپاہيوں كو گھير ليا _ آخرى بار انہوں نے ''صئواب ''نامى غلام كو پرچم ديا_ صواب سياہ چہرے

۳۸

اور وحشت ناك حُليے كے ساتھ پيغمبراكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف بڑھا، شدت غضب سے آنكھيں سرخ اور منہ سے كف جارى تھا_ ليكن على (ع) نے حملہ كيا اور تلوار كى ايسى ضربت اس كى كمر پر لگائي كہ وہ وہيں ڈھير ہوگيا_

مسلمانوں نے مشركين كى صفوف كود رہم بر ہم كرديا وہ عورتيں، جودف بجار ہى تھيں اور گانے گارہى تھيں ، دف پھينك كر پہاڑوں كى طرف بھاگيں، مشركين كے لشكر ميں فرار اور شكست شروع ہوئي اور تھوڑى ہى دير ميں زيادہ تر لوگ بھاگ گئے اور اس طرح جنگ كا پہلا مرحلہ مشركين كى شكست اور مجاہدين اسلام كى كاميابى پر ختم ہوا_

فتح كے بعد شكست

راہ خدا ميںجہاد، رضائے خدا كى طلب ، آئين اسلام كى نشر و اشاعت كے علاوہ مجاہدين اسلام كا كوئي اور مقصد نہ تھا وہ آخرى وقت تك بہادرى كے ساتھ جنگ كرتے رہے اور نتيجہ ميں فتحياب ہوئے_ ليكن فتح كے بعد بہت سے مسلمان مقصد سے ہٹ گئے اور ان كى نيت بدل گئي _ قريش نے جو مال غنيمت چھوڑا تھا اس نے بہت سے لوگوں كے اخلاص كى بنياديں ہلاديں انہوں نے فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور جنگ كے مقصد كو بُھلا ديا_ دشمنوں كے تعاقب سے چشم پوشى كركے مال غنيمت كى جمع آورى ميں مشغول ہوگئے_ انہوں نے اپنى جگہ يہ سوچ ليا تھا كہ دشمن كا كام تمام ہوگيا ہے_

درّہ كى پشت پر موجود محافظوں نے جب دشمن كو فرار اور مجاہدين كو مال غنيمت جمع كرتے ہوئے ديكھا تو جنگى حكمت عملى كے اعتبار سے اس اہم درّے كى حفاظت كى حساس ذمّہ دارى كو بُھلا ديا اور كہا كہ '' ہم يہاں كيوں رُكے رہيں؟ خدا نے دشمن كو شكست دى اور اب تمہارے بھائي مال غنيمت جمع كررہے ہيں_ چلو تا كہ ہم بھى ان كے ساتھ شركت

۳۹

كريں'' _ عبداللہ بن جبير نے ياد دلايا كہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ نہيں فرمايا تھا كہ '' اگر ہم قتل كرديئےائيں تو ہمارى مدد نہ كرنا اور اگر ہم كامياب ہوگئے اور مال غنيمت جمع كرنے لگے تب بھى ہمارے ساتھ شركت نہ كرنا بلكہ عقب سے ہمارى حفاظت كرتے رہنا؟'' عبداللہ نے بہت سمجھايا كہ كمانڈر كے حكم سے سرتابى نہ كرو، ليكن كوئي فائدہ نہيں ہوا_ انہوں نے غنيمت كے لالچ ميں اپنى جگہ كو چھوڑديا اوردرّے سے نكل آئے عبداللہ صرف دس ۱۰ افراد كے ساتھ وہاں باقى رہ گئے_

مشركين كى فوج كے شہ سواروں كے سردار ''خالد بن وليد ''نے جب درّے كو خالى ديكھا تو اپنے ما تحت فوجيوں كو ليكر وہاں حملہ كرديا اور چند بچے ہوئے تيراندازوں پر ٹوٹ پڑا ''عكرمہ بن ابى جہل ''نے اپنى ٹولى كے ساتھ خالد بن وليد كى پشت پناہى كى ، جن تيراندازوں نے درّہ نہيں چھوڑا تھا انھوں نے مردانہ وار مقابلہ كيا يہاں تك كہ ان كے تركش كے تمام تير خالى ہوگئے اس كے بعد انھوں نے نيزے اور پھر آخر ميں شمشير سے جنگ كى يہاں تك كہ سب شہيد ہوگئے_

سپاہيان اسلام اطمينان كے ساتھ مال غنيمت جمع كرنے ميں مشغول تھے كہ يكا يك خالد بن وليد لشكر اسلام كى پشت پر آپہنچااور جنگى حكمت عملى والے اہم حصّہ كو فتح كرليا_ دوسرى طرف سے مشركين اپنے فرار كو جارى ركھے ہوئے تھے جبكہ خالد بن وليد چلّا چلّاكر شكست خوردہ لشكر قريش كو مدد كے ليے پكار رہا تھا_ اسى دوران بھاگنے والوں ميں پيچھے رہ جانے والى ايك عورت نے كُفر كے سرنگوں پرچم كو لہرا ديا_ تھوڑى ہى دير ميں قريش كا بھاگا ہوا لشكر واپس آگيا اور شكست خوردہ لشكر پھر سے منظم ہوگيا_

سپاہ اسلام افرا تفرى اور بدنظمى كى وجہ سے تھوڑى ہى دير ميں سامنے اور پيچھے سے محاصرہ

۴۰

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296