• ابتداء
  • پچھلا
  • 10 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1376 / ڈاؤنلوڈ: 503
سائز سائز سائز
امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات

امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

بسمہ تعالیٰ

امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات

تالیف: استاد شعبان داداشی

ترجمہ : شعبہ علمی و تحقیقی ادارہ امید

بسمہ تعالی

پاکستانی معاشرہ، اجتماعی حوالہ سے پیچیدہ ترین معاشرہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ہر قسم کی سازش خواہ وہ وطن کے خلاف ہویا وحدت مسلمین کے خلاف ہو، اس معاشرے میں پنپ رہی ہے ۔خصوصاًمکتب تشیع کے خلاف دشمنان اہل بیت کسی بھی سازش سے دریغ نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نے اسی ضروت کے پیش نظر مکتب تشیع کی اساس امامت کے نظریہ کے خلاف شبہات ، جو معاشرے میں پھیلائے جارہے ہیں، کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ خدا ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے ۔

شبہات:

پہلا شبہ:

١۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خلیفہ کو انتخاب کرنے کا حق صرف خدا و ر رسول (ص )کو ہے اور لوگوں کو ہر حال میں اس انتخاب کو قبول کرناچاہیے۔ آیا یہ جبر اور زبردستی نہیں ہے کہ جو تعلیمات اسلامی کے خلاف ہے کہ جو جبر کو مکروہ و غلط سمجھتا ہے ۔ القرآن:"( لا اکراه فی الدین )

جواب:

آیہ شریفہ( لا ِاکراه فِی الدِینِ قد تبین الرشد مِن الغیِ فمن یکفر بِالطاغوتِ و یؤمِن بِاللهِ فقد استمسک بِالعروةِ الوثقیٰ لا انفِصام لها و الله سمیع علیم ) (بقرہ ٢٥٦)) دین میں کوئی جبر و اکراہ نہیںیقینا ہدایت اور ضلالت میںفرق نمایاں ہو چکا ہے، پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے یقیناً اس نے نہ ٹوٹنے والا مضبوط سہارا تھام لیااور اللہ سب کچھ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے)

یہاں زور و زبردستی سے ایمان کسی پر تھوپنے کی مذمت کی جا رہی ہے اور ہمیں یہ پتہ ہے کہ ایمان دل کا معاملہ ہے اور دلوں کے معاملات زور و زبردستی سے پیدا نہیں کئے جاسکتے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی سے زبردستی ایمان کا اقرار کرالیا جائے لیکن کسی بھی صورت زبردستی ایمان دل میںاتارا اور باقی نہیں رکھا جاسکتا ۔ دوسری طرف ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ انسان اس دنیا میں بااختیار خلق ہوا ہے اور اس روشنی میں ایمان کو بھی اس نظام ہستی میں عقل و تدبر کے ساتھ مربوط ہونا چاہیے ۔عقل اور یکتا پرستی کی فطرت سے درست راستہ کو انتخاب کیا جاسکتا ہے اور درست راستہ پر ایمان بھی رکھا جاسکتا ہے ۔درج ذیل آیہ شریفہ اسی نکتہ پر روشنی ڈالتی نظر آتی ہے ۔

( لا ِاکراه فِی الدِینِ قد تبین الرشد مِن الغیِ فمن یکفر بِالطاغوتِ و یؤمِن بِاللهِ فقد استمسک بِالعروةِ الوثقیٰ لا انفِصام لها و الله سمیع علیم ) )بقرہ (۲۶۵

'' لا اکراہ فی الدین ''کے بیان کے بعد اِس جملہ کے مقصد کو"قد تبین الرشد من الغی کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے یعنی ہر شخص یہ قدرت رکھتا ہے کہ درست و نادرست راہ کو پہچان سکے، اپنی عقل کی مدد سے راہ رشد یعنی درست راہ اور خدا کے انتخاب کو اختیار کرے، "عرو الوثقی "یعنی خدا کی سب سے مضبوط رسی کو تھام لے ۔اس طرح وہ نجات پا جائے گا۔ یہ محال ہے کہ کوئی شخص عقل سلیم رکھتا ہو اور خدا پر دل سے ایمان نہ رکھے۔ ایسی صورت میں اس کا دل ضرور خدا کی حقانیت کی گواہی دیگا۔ جب کوئی شخص دل سے با ایمان ہوگیا اور خدا کی صفات مثلا اس کے حکیم ہونے ،اس کے عادل ہونے یا اس کے ہادی (ہدایت کرنے والا)ہونے کو دل سے تسلیم بھی کرلیاتو پھر لازم ہے کہ وہ شخص خدا اور اس کے رسول (ص) کے احکامات پرمضبوطی کے ساتھ عمل پیر اہو۔ اس میں شک نہیں ہے کہ خدا اور رسول (ص) کے سامنے اس طرح سر تسلیم خم کرنا عقل کا تقاضہ ہے اور یہ عین ایمان ہے کہ اختیار و آزادی سے اِس کی طرف بڑھا جائے ۔

( من یطِعِ الرسول فقد اطاع الله ) (نسائ۸۰)

( جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی)

( و قرن فی بیوتِکن و لا تبرجن تبرج الجاهِلِیةِ اولیٰ وا قِمن الصلاة و آتین الزکوة وا طِعن الله و رسوله ا ِنما یرید الله لِیذهِب عنکم الرِجس ا هل البیتِ و یطهِرکم تطهیرا ) )احزاب(۳۳

(اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں کرتی نہ پھرو نیز نماز قائم کرو اور زکوة دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)

( ما افاء الله علیٰ رسولِهِ مِن ا هلِ القریٰ فلِلهِ و لِلرسولِ و لِذِی القربیٰ و الیتٰمیٰ و المسٰکینِ و ابنِ السبیلِ کی لا یکون دولة بین الاغنِیائِ مِنکم و ما ء اتٰکم الرسول فخذوه و ما نهٰکم عنه فانتهوا و اتقوا الله ا ِن الله شدید العِقاب ) (حشر ۷)

(اللہ نے ان بستی والوںکے مال سے جو کچھ بھی اپنے رسول کی آمدنی قرار دیا ہے وہ اللہ اور رسول اور قریب ترین رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ مال تمہارے دولت مندوں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے اور رسول جو تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جا اور اللہ کا خوف کرو، اللہ یقینا شدید عذاب دینے والا ہے)

( یا یها الذین آمنوا أطیعوا الله و رسوله و لا تولوا عنه وا نتم تسمعون ) (انفال (۲۰/

) اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد تم اس سے روگردانی نہ کرو)

اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ پیامبر (ص)کا خود اپنے خلیفہ کا انتخاب کرنا اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دینا اور نما ز، جہاد، روزہ، زکواة، خمس اور دسیوں دیگر احکام کی بجاآوری کا پابند کرنا آزادی کے خلاف ایک جبر ی عمل ہے ۔ کیونکہ لوگوں نے خود قرآن اور رسول (ص) اور دوسرے دین کے احکامات کو اپنے یے خود انتخاب نہیں کیا ہے اور اس طرح کی دلیل لانا کہ رسول کی طرف سے خلیفہ مقرر کرنا زور و زبردستی ہے، بالکل ایک خلاف عقل بات ہے۔ جب عقل خداوند متعال کو اور اس عالم کو بہترین خلقت کے نظام کے طور پر قبول کرتی ہے اور خدا کی اطاعت کرنے کو انسانیت کی نجات کا ذریعہ سمجھتی ہے تو پھر عقل کا یہ تقاضہ ہے کہ خدا کی ہر بات کے سامنے بہ رضا ورغبت سر تسلیم خم کیا جائے ۔

جب خداوند متعال نے رہبروں اور حکومت کرنے کے اہل لوگوں کی پہچان کرائی ہے تو پھر لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی اطاعت کریں اور ان کی حکومت کو دل و جان سے مانیں۔ ایسی اطاعت کوہر گز زور و زبردستی سے تعبیر نہیں کیا جائے گا۔

( انما ولِیکم الله و رسوله و الذین ء امنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزکوٰة و هم راِکعون ) ( مائدہ (۵۵/

) تمہارا ولی تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکو دیتے ہیں)

( یا یها الذین ء امنوا أطیعوا الله و اطیعوا الرسول و اولِی الامرِ مِنکم فاِن تنٰزعتم فی شی ئٍ فردوه اِلیَ اللهِ و الرسولِ ا ِن کنتم تؤمِنون بِاللهِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر وا حسن تأویلاً ) (النسائ/ (۵۹(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا)

یا جیسا کہ خود پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا: "من اطاعنی فقد اطاع الله و من عصانی فقد عصی الله و من اطاع علیا فقد اطاعنی و من عصی علیا فقد عصانی '' )

رہبر کے انتخاب کے دو طریقے ہوسکتے ہیں۔ یا تو خداو رسول(ص) انتخاب کریں یا لوگ اپنی رائے Vote ) )دے کر رہبر کا انتخاب کریں۔ دوسری بات یہ کہ اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر ایک شخص بھی کسی کی خلافت کے لیے اس کی بیعت کرے تو خلافت نافذ ہو جائے گی۔ اب اہل سنت کے اس اعتقاد کے لیے کیا یہ نہیں کہا جائے گا کہ باقی لوگوں کا ایسے خلیفہ کی اطاعت پر مجبور ہونا کہ جو صرف ایک شخص کی بیعت سے خلیفہ بنا ہے، زور و زبردستی ہے؟یا مغرب کی جمہوریت کہ جس میں کبھی ۳۰% لوگ ووٹ دیتے ہیں کبھی ۴۰% اور کبھی ۵۰% تو جو لوگ Vote نہیں دیتے تو ان پر مثلا Prime Minister کی حکومت کی اطاعت کولازم قراردینا زور زبردستی نہیں ہوگی؟

اب ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس بات کو قبول کرلیں۔ کیونکہ سوسائٹی (معاشرہ )پر ایسے حکمران کا کہ جس کو لوگوں نے انتخاب نہیں کیا ہے، حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ پس معاشرہ خلیفہ یا رہبر یا امام کے بغیر رہے انسانی فطرت اور ( Society )معاشرے کے تقاضوں سے متصادم بات ہے ۔ جیسا کہ کہا گیا کہ جب خدا اپنے بندوں کے لیے حاکم کو منتخب کرتا ہے تو اس میں کسی بھی قسم کی زور و زبردستی نہیں ہے لیکن جب عوام اپنے لیے حاکم کومنتخب کرتے ہیں تو اس میں زور و زبردستی ہے کیونکہ مخلوق کومستقل طور پر لوگوں پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔

ان نکات بالا کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ جناب عمرکا ابوبکر کو منتخب کرنا زور و زبردستی کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور اس طرح جناب ابوبکر کی جانب سے خلیفہ کے لئے عمر کونامز د کرنا بھی زور و زبردستی پر مبنی عمل تھا۔ اسی طرح جناب عثمان کا انتخاب چھ لوگوں کی شوریٰ کے ذریعہ بھی زور و زبردستی و اجبار ہے اور اسلحہ کے زور پر معاویہ کا مسلط یا اس کا اپنے نا ہنجاربیٹے یزیدکوبزورطاقت جانشین مقر ر کرنا بھی زبر دستی کا مظہر ہے ۔ ازیں قبیل بنی امیہ اور عباسیوں اور ترکوں کی موروثی حکومتیں کہ جن کو اہل سنت برادران صحیح و جائز مانتے ہیں سب کی سب زور و زبردستی ،اجباری اور طاغوتی تھیں کہ یہ تمام حکومتیں اسلام کی نظر میں غلط تھیں۔ اسلام آزادی کا دوست اور زور و زبردستی کا دشمن ہے۔

اگر بالفرض ہم اس اعتراض کو قبول کرلیں کہ اسلام کے احکامات اکراہ اور زور و زبردستی کے حامی ہیں یہاں تک کہ خدا اور رسول کی طرف سے کسی کو منتخب کرنا بھی زور و زبردستی ہے تو پھر درج ذیل آیات کہ جو حکم دے رہی ہیں جہاد کااس ااعتراض کی روسے اجبار و زور و زبردستی کی ہی علامت قرار پائینگی ۔

( و قٰتِلوهم حتیٰ لا تکون فِتنة و یکون الدِین لِلهِ فاِنِ انتهوا فلا عدوان ِلا علیَ الظٰلِمین ) (بقرہ ١٩٣)

(اور تم ان سے اس وقت تک لڑو کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے، ہا ں اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموںکے علاوہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو گی)

( یا یها النبِی جٰهِدِ الکفار و المنٰفِقین و اغلظ علیهِم و مأواهم جهنم و بِئس المصیر ) (التوبہ ٧٣)

(اے نبی ! کفار اور منافقین سے لڑو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے)

( فلا تطِعِ الکٰفرین و جٰهِدهم بِهِ جِهادا کبیراً ) (فرقان ٥٢)

( آپ کفار کی بات ہرگز نہ مانیں اور اس قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر جہاد کریں)

و جاہِدوا فِی اللہِ حق جِہادِہِ ہو اجتبٰکم و ما جعل علیکم فِی الدِینِ مِن حرج مِلة ا بیکم ا ِبراہیم ہو سمٰکم المسلِمین مِن قبل و فی ہذا لِیکون الرسول شہیداً علیکم و تکونوا شہداء علیَ الناسِ فأقیموا الصلاة و آتوا الزکٰوة و اعتصِموا بِاللہِ ہو مولٰکم فنِعم المولیٰ و نِعم النصیر (الحج ٧٨)

(اور راہ خدا میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین کے معاملے میں تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کیا، یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا اس (قرآن)سے پہلے اور اس (قرآن)میں بھی تاکہ یہ رسول تم پر گواہ رہے اور تم لوگوں پر گواہ رہو، لہذا نماز قائم کرو اور زکواة دیا کرو اور اللہ کے ساتھ متمسک رہو، وہی تمہارا مولا ہے سو وہ بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے)

( یا یها النبِی حرِضِ المؤمِنین علی القِتالِ ا ِن یکن مِنکم عِشرون صابِرون یغلِبوا مِائتینِ وا ِن یکن مِنکم مِائة یغلِبوا الفاً مِن الذین کفروا باِنهم قوم لا یفقهون ) (انفال ٦٥)

(اے نبی ! مومنوں کو جنگ کی ترغیب دیں، اگر تم میں بیس صابر (جنگجو) ہوں تو وہ دو سو (کافروں) پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سو افراد ہوں تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آ جائیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیںجو سمجھتے نہیںہیں)

( ملعونین ا ینما ثقِفوا أخِذوا و قتِلوا تقتیلا ) (احزاب٦١)

(لعنت کے سزاوار ہوں گے، وہ جہاں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح سے مارے جائیںگے)

( و ِان نکثوا یمٰنهم مِن بعدِ عهدِهِم و طعنوا فی دینکِم فقٰتِلوا أئِمة الکفراِ ِنهم لاأ یمٰن لهم لعلهم ینتهون ) (التوبہ ١٢)

(اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین کی عیب جوئی کرنے لگ جائیں تو کفر کے اماموں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں شاید وہ باز آجائیں)

اگر ہم یہ کہیں کہ یہ مشرکین کو قتل کرنے کے احکامات اس لیے ہیں کہ خدا کے دین کی حکمرانی ہو اور لوگ دین کو قبول کریں، تو اس طرح بھی اس آزادی پرحرف آتا ہے جسے معترضین بطوردلیل سامنے لاتے ہیں۔ اگرمعترضین کی یہ بات مان لی جائے توپھریہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ خدا کی کتاب میں تناقض (اختلاف)پایا جاتا ہے کہ ایک طرف اس میں کہاجارہا ہے'' لا اکراہ فی الدین ''اور دوسری طرف'' قاتلوا ھم ''اور یوں ایسی کتاب کہ جو تناقض رکھتی ہے معجزہ نہیں ہوسکتی۔

اس قسم کے اشکالات اورمغالطوں سے بچنے کے لیے( ''لا اکراه فی الدین'' ) کی ہماری یہ تفسیر قبول کر نی ہوگی کہ خدا اور رسول پر ایمان لانا قلبی معاملہ ہے اور اس کی جڑ عقل ہے کہ جو اپنے اختیار سے ایمان کو قبول کرتی ہے ۔چنانچہ خدا کے احکامات مثلاًجہادوغیرہ کی اطاعت بھی اسی ایمان کا حصہ ہے۔ یعنی اگر لوگ چاہتے ہیں کہ اس ایمان کی حفاظت کریں اور دوسری اقوام کی طرف سے اس ایمان کی قبولیت کے راستہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو دور کریں تو پھر خدا کے حکم کے مطابق کفر کی جڑوں کو کاٹنا ہوگا تاکہ ایمان کی راہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں دور ہوں۔ یہ حکم عادل اور حکیم خدا کا ہے اور اس میںآزادی کی ہرگز کوئی نفی نہیں پائی جاتی ۔

پس ثابت ہوا کہ امام کا منتخب کرنا خدا اور رسول کی طرف سے زور و زبردستی نہیں ہے اور ناہی لوگوں پرزبردستی کسی امام کوتھونپناہے بلکہ ائمہ کی حاکمیت اور ولایت کو قبول کرنا ہی عین آزادی ہے جسے مکلفین اپنے اختیار اور عقل سے قبول کرتے ہیں۔

دوسرا شبہ:

خدا اور اس کے رسول (ص) کی طرف سے امام کا انتخاب منطق کے بغیر تھا یا اس طرح کا انتخاب ایک خاندان میں امامت کو موروثی کرنے جیسا تھا۔ اور اگریہ مان لیا جائے کہ خدا نے ایک ہی خاندان میں امامت کو رکھا تو پھر اس وراثت کا ا س موروثی بادشاہت سے کیا فرق ہوگا ؟جبکہ یہ سوال اس موقف کے ساتھ بے محل ہوگاکہ لوگوں کو اپنے خلیفہ کے انتخاب میں آزاد ہونا چاہیے؟

جواب:

سنی و شیعہ، دونوں نے اسلامی معاشرہ میں رہبر کی ضرورت کو لازمی قرار دیا ہے۔ شیعہ اس ضرورت کو ضرورت عقلی کہتے ہیں کہ جو خدا اور رسول (ص)کی طرف سے معین کیا جاتا ہے۔

سنی اس کو ضرورتِ نقلی کہتے ہیںجو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کا انتخاب کرنا لوگوں کی ذمہ داری ہے۔ شیعوں کے دلائل کہ امام کا معین کرنا خدا اور رسول (ص) کی ذمہ داری ہے،درج ذیل ہیں:

حاکمیت میں وحدت:

حاکمیت میں وحدت اس بات کی طرف سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ خداوند ، خالق، مالک اور رب ہونے کی وجہ سے حقیقی معنوں میں حکومت کرنے کا حق اور سارے جہاںپر تصرف رکھتا ہے۔وہ اس حکومت کرنے کے حق کو اس زمین پر اپنے نبی اور ولی کو دے سکتا ہے اور یوں خدا کی پیروی میں نبی اور ولی بھی جہان میں تصرف اور امر و نہی کا حق رکھتے ہیں۔

( قلِ اللهم مٰلکِ الملکِ تؤتی الملک من تشاء و تنزِع الملک مِمن تشاء و تعِز من تشاء و تذِل من تشاء بِیدکِ الخیر اِنک علیٰ کلِّ شیئٍ قدیر ) (اٰل عمران۲۶:)

(کہدیجیے اے اللہ ! (اے)مملکت (ہستی ) کے مالک تو جسے چاہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہے حکومت چھین لیتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلیل کر دیتا ہے بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے،بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے)

( النبِی ا ولیٰ بِالمؤمِنین مِن ا نفسِهِم وا زواجه ا مهاتهم وأ ولوا الا رحامِ بعضهم ا ولیٰ بِبعضٍ فی کِتابِ اللهِ مِن المؤمِنین و المهٰجِرین ا ِلّا ان تفعلوا ِلیٰ ا ولِیائکِم معروفاً کان ذالکِ فِی الکِتابِ مسطوراً ) (الاحزاب۶)

) نبی مومنین کی جانوں پر خود ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہے اور نبی کی ازواج ان کی مائیں ہیں اور کتاب اللہ کی رو سے رشتے دار آپس میں مومنین اور مہاجرین سے زیادہ حقدار ہیں مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں پر احسان کرنا چاہو، یہ حکم کتاب میں لکھا ہوا ہے)

( یا یها الذین آمنوا طیعوا الله و طیعوا الرسول و أولِی الامرِ مِنکم فأِن تنازعتم فی شی ئٍ فردوه ِلیَ اللهِ و الرسولِ اِن کنتم تؤمِنون بِاللهِ و الیومِ الآخِرِ ذلکِ خیر و أحسن تأویلا ) (النسائ٥٩)

(اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع ہو جائے تو اس سلسلے میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو یہی بھلائی ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہو گا)

ان آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کو بھی خدا کے علاوہ دوسروں پر حکومت کرنے اور دوسروں کو اپنی اطاعت کی طرف دعوت دینے کا حق نہیں ہے۔

۔ قرآن میں خداوند کی صفات میں سے ایک صفت خلیفہ کا انتخاب ہے۔

( و اِذ قال ربّک لِلملائکة اِِ ِنِّی جاعِل فِی الارضِ خلیفة قالوا ا تجعل فیها من یفسِد فیها و یسفکِ الدِماء و نحن نسبِح بحمدک و نقدِس لک قال ا ِنِّی ا علم ما لا تعلمون ) (البقرہ ٣٠)

(اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فسادپھیلائے گا اور خون ریزی کرے گا؟جب کہ ہم تیری ثنا کی تسبیح اور تیری پاکیزگی کا ورد کرتے رہتے ہیں، (اللہ نے) فرمایا:( اسرار خلقت بشر کے بارے میں) میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)

( وا ِذِ ابتلیٰ ا ِبراهیمَ ربهُ بِکلماتٍ فأ تمّهنّ قال ا ِنِّی جاعِلکَ لِلناسِ ا ِماماً قال و مِن ذرّیّتی قال لا ینالُ عهدِی الظالِمینَ ) (البقرة١٢٤)

(اور( وہ وقت یاد رکھو )جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا )

( یا داوودا ِنا جعلنٰک خلیفة فِی الارضِ فاحکم بین الناسِ بِالحقِ و لا تتبِعِ الهویٰ فیضِلک عن سبیلِ اللهِ اِن الذین یضِلون عن سبیلِ اللهِ لهم عذاب شدید بِما نسوا یوم الحِسابِ ) (ص٢٦)

(اے داؤد!ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہذا لوگوںمیں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا )

( ام یحسدون الناس علیٰ ما آتاهم الله مِن فضلِهِ فقد آتینا آل ِبراهیم الکِتاب و الحِکمة و آتیناهم ملکاً عظیماً ) (نسائ٥٤)

(کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟(اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیںعظیم سلطنت عنایت کی )

( و جعلناهم ائِمة یهدون باِمرِنا و واحینا اِلیهِم فِعل الخیراتِ وا ِقام الصلاةِ وا یتاء الزکوةاِ وکانوا لنا عابِدین ) (انبیائ٧٣)

(اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے نیک عمل کی انجام دہی اور قیام نماز اور ادائیگی زکواة کے لیے ان کی طرف وحی کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے )

( و نریدا ن نمن علی الذین استضعِفوا فِی الارضِ و نجعلهم ا ئِمة و نجعلهم الوارِثین ) ( قصص٥)

ّ(اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ جنہیں زمین میں بے بس کر دیا گیا ہے ہم ان پر احسان کریں اور ہم انہیں پیشوا بنائیں اور ہم انہی کو وارث بنائیں )

( فهزموهم باِِذنِ اللهِ و قتل داوود جالوت و ء اتاه الله الملک و الحکِمة و علمه مِما یشاء و لو لا دفع اللهِ الناس بعضهم بِبعض لفسدتِ الارض و لکِن الله ذو فضل علی العالمین ) (بقرة ٢٥١)

(چنانچہ اللہ کے اذن سے انہوںنے کافروں کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے انہیں سلطنت و حکمت عطا فرمائی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھا دیا اور اگر اللہ لوگوں میں سے بعض کا بعض کے ذریعے دفاع نہ فرماتا رہتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا، لیکن اہل عالم پر اللہ کا بڑا فضل ہے )

( قال ربِ اغفِر لی و هب لی ملکاً لا ینبغی لاِحد مِن بعدی اِنک ا نت الوهاب ) (ص٣٥)

(کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جو میرے بعد کسی کے شایان شان نہ ہو، یقینا تو بڑا عطا کرنے والا ہے )

مندرجہ بالا اور دوسری آیتوں میں خلیفہ کا انتخاب کرنا خدا کے اوصاف میںایک وصف شمارکیا گیا ہے۔ اور لوگوں کے ذریعہ خلیفہ کو منتخب کیے جانے کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ خداوند اپنے علم سے یہ جانتا ہے کہ انسانوں کے لیے کیا صحیح ہے اور کون اس کی اس دنیا میں جانشینی اور دین خدا کو زمین پر نافذ کرنے کی شرائط رکھتا ہے۔ ان شرائط میں معصوم ہونا، اعلم اور افضل ہونا شامل ہیں اور صاف ظاہر یہ کہ یہ اوصاف کسی بھی شخص میں اگر موجود ہوں تو یہ اس کے باطن میں موجود ہوں گی اور ان اوصاف کو پھر وہی پہچان سکتا ہے کہ جو خود تمام حقیقتوں کا عالم ہو۔ کس طرح لوگ ان اوصاف کو پہچان سکتے ہیں جبکہ وہ خود صرف ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں اور ان کی نگاہ سطحی ہے اور یہ سطحی نگاہ بہت آرام سے فریب کار افراد سے دھوکہ بھی کھا جاتی ہے۔ امامت جو کہ اِس زمین پر خدا کی خلافت ہے اور امام کا وظیفہ (مشن) انسانوں کے درمیان خدا اور اس کے دین کی حاکمیت کوقائم کرنا ہے۔ امامت اور امام کا انتخاب خدا کے کاموں میں سے ایک کام ہے کہ وہ بلند ترین معیار کے مطابق اپنا نمائندہ اور خلیفہ اس سرزمین پر منتخب کرے اور اس انتخاب میں عام لوگوں کا کوئی کردار نہیں ہے اور ان پر فرض ہے کہ خدا کے انتخاب کیے ہوئے ایسے معصوم اور الہی انسانوں کی اطاعت کریں۔

بس خدا کے ذریعہ خلیفہ کے انتخاب کی مضبوط عقلی اور نقلی دونوںدلیلیں موجود ہیں اور یہ بات کہ خدا اور رسول(ص) نے عام لوگوں پر چھوڑ دیا تھا وہ کہ اپنے لیے خلیفہ خود منتخب کرلیں عقلی اور نقلی دلیل سے عاری ہے۔ اس طرح کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے کہ وہ بجائے اہل تشیع پر اشکال کرنے کہ اہل سنت پر اشکال کرے کہ کس طرح وہ عام لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرنے کے قابل ہیں جبکہ اسکے خلاف شیعوں کے پاس عقلی اور نقلی دونوں دلیلیں موجود ہیں۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ امامت کس طرح بظاہر ایک موروثی طریقہ کے ذریعہ ایک خاندان میں موجود ہے، شیعوں کے نقطہ نظر کے مطابق اس بات میں بھی مضبوط دلیل موجود ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پیامبر (ص)کا خاندان ، آیہ تطہیر اور آیہ مباہلہ کی روشنی میں باطنی طہارت اور عصمت رکھتا ہے۔ اور ان کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ خدا کی عظیم ولایت کو قبول کریں اسی وجہ سے خلافت پیامبر(ص) کے اہل بیت میں رکھی گئی۔

بس یہ بات واضح ہوئی کہ خلافت کو پیامبر (ص) کے خاندان میں رکھنے کی وجہ وہ امامت کے شرائط ، کہ جو معصوم اور صاحب علم لدنی ہونا ہے، ہیں کہ جو پیامبر (ص) کے خاندان میں موجود ہیں اوریوں اِس الہی خلافت کا بنو امیہ اور بنو عباس کی خلافت سے فرق واضح ہوتا ہے کہ بنو امیہ اور بنو عباس اور دوسرے سلطانوں کی خلافتوں میں ولی عہد شاہی خاندان کاہی فرد ہوتا ہے چاہے وہ کتنی ہی بری عادتوں میں مبتلا ہو، مثلا شراب خوری، زناکاری وغیرہ، لیکن خاندان پیامبر(ص) میں امامت، اس خاندان کے امامت کی شرائط پر پورا اترنے کی وجہ سے ہے اس صراحت کے ساتھ کہ ضروری نہیں ہے کہ یہ خصوصیت خاندان پیامبر (ص)اور بنی ہاشم کے ہر فرد میںموجودہو۔

دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے زمانہ کے پیامبروں کے خاندانوں میں بھی خلافت اور وصی موجود تھے اور یہ خدا کی قطعی سنت ہے۔

( أن الله اصطفیٰ ء ادم و نوحا و ء ال ِبراهیم و ء ال عِمران علی العالمین ) (آلعمران٣٣)

(بے شک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالمین پر برگزیدہ فرمایا ہے)

( ذرِیة بعضها مِن بعض و الله سمیع علیم ) (آل عمران٣٤)

(وہ اولاد جو ایک دوسرے کی نسل سے ہیں اور اللہ خوب سننے والا، جاننے والا ہے)

( ووهبنا له ا ِسحاق ویعقوب کلا هدینا ونوحا هدینا مِن قبل ومِن ذرِیتِهِ داوود وسلیمٰن وأیوب ویوسف وموسیٰ وهارون وکذلکِ نجزِی المحسِنِین ) (انعام٨٤)

)اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کیے، سب کی رہنمائی بھی کی اور اس سے قبل ہم نے نوح کی رہنمائی کی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسی اور ہارون کی بھی اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں،)

( وزکرِیا ویحیٰ وعِیسیٰ واِلیاس کل مِن الصالِحِین ) (انعام٨٥)

)اور زکریا، یحیی، عیسی اور الیاس کی بھی، (یہ) سب صالحین میں سے تھے(.

( واِسمٰعِیل والیسع ویونس ولوطا وکلا فضلنا علیَ العالمِین ) (انعام/۸۶)

)اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط (کی رہنمائی کی) اورہم نے سب کو عالمین پر فضیلت عطا کی)

( ومِن ء ابائِهِم وذرِیاتِهِم واِخوانِهِم واجتبینٰهم وهدینٰهم اِلیٰ صِراط مستقِیم ) (انعام٨٧)

(اور اسی طرح ان کے آبا اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں کو بھی (ہدایت دی) اور ہم نے انہیں منتخب کر لیا اور ہم نے راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کی)

( ذلکِ هدی اللهِ یهدِی بِهِ من یشاء مِن عِبادِهِ ولوا شرکوا لحبِط عنهم ماکانوا یعملون ) (انعام٨٨)

(یہ ہے اللہ کی ہدایت جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے نوازے اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کے کیے ہوئے تمام اعمال برباد ہو جاتے)

( أولئکَ الذِین ء اتینٰهم الکِتاب والحکم والنبوة فاِن یکفر بِها هؤلائِ فقد وکلنا بِها قوما لیسوا بِها بکِافِرِین ) (انعام٨٩)

(یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی، اب اگر یہ لوگ ان کا انکار کریں تو ہم نے ان پر ایسے لوگ مقرر کر رکھے ہیں جو ان کے منکر نہیں ہیں)

( ام یحسدون الناس علیٰ ما ء اتٰهم الله مِن فضلِهِ فقد ء اتینا ء ال ِبراهیم الِکتاب و الحِکمة و ء اتینٰهم ملکاً عظیماً ) (النسا٥٤)

(کیا یہ( دوسرے) لوگوںسے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟ (اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیںعظیم سلطنت عنایت کی)

( وا ِذِ ابتلیٰ ا ِبراهیم ربه بکِلِمات فاتمهن قال اِنِی جاعِلک لِلناسِ اِماما قال و مِن ذرِیتی قال لا ینال عهدِی الظالِمین ) (بقرہ١٢٤)

(اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا)

و اجعل لی وزیرا مِن اهلی (طہ٢٩) (اور میرے کنبے میںسے میرا ایک وزیر بنا دے)

زیادہ تر پیامبروں کے وصی ان کے اپنے خاندانوں میں سے تھے اور اِس کی ایک وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے دلوں میں پیامبروں سے خاص محبت تھی اور ان کے خاندانوں سے اس وجہ سے خاص روحی تعلق رکھتے تھے اور قدرتی طور پر ان کی باتوں کی اطاعت کرتے تھے اور دوسری طرف پیامبروں کے خاندان والوں نے بھی پیامبروں کی سیرت اور ان کی چیزوں کو زندہ اور محفوظ رکھا۔ اس لیے خدا نے خلافت اور رسالت کے تسلسل کو انہی کے خاندانوں میں باقی رکھا۔

تیسری بات یہ ہے کہ پیامبر (ص) کے خاندان میں موروثی خلافت کا ہونا حدیث ثقلین، حدیثِ سفینہ، حدیثِ یوم الانذار،حدیثِ منزلت اور حدیثِ اثنا عشر:''اِن خلفائی اثنا عشره کلهم من بنی هاشم یا قریش'' سے بھی ثابت ہے۔ یہ تمام حدیثیں متواتر اور صحیح ہیں اور شیعہ اور سنی ان احادیث کے صحیح ہونے کو قبول کرتے ہیں۔

بس کیوں یہ اعتراض صرف شیعوں پر ہی ہوتا ہے کہ شیعہ پیامبر (ص) کی خلافت کو پیامبر (ص) کے خاندان میں محصور کرتے ہیں جبکہ پچھلے زمانہ کہ پیامبروں پر یہ اعتراض نہیں کیا جاتا اور اس طرح یہ اعتراض اہل سنت پر بھی نہیں کیا جاتا جبکہ وہ معتقد ہیں اس بات پر کہ پیامبر کے خلیفہ صرف قریش ہوسکتے ہیں۔ اگر پیامبر کے خاندان سے پیامبر کے خلیفہ کا انتخاب ہونا غلط ہے تو پھر تمام پچھلے پیامبروں میں ایسے انتخاب کو غلط ہونا چاہیے اور اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو پھر وہ قرآن اور سنت خداوند اور پیامبران پر اعتراض کر رہا ہے اور یہ اعتراض اہل سنت میں بھی غلط شمار ہونا چاہیے۔ بس کیوں اس اعتراض کو اہل سنت کے سامنے نہیں اٹھایا جاتا کہ جو خلافت کو پیامبر کے خاندان یعنی قریش میں مقید کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کا پیغمبر(ص) کے خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ لوگوں کے انتخاب پر مبنی ہے۔ کیا خلافت کو صرف ایک خاندان میں محدود کرنا لوگوں سے اختیار اور آزادی کو چھیننا نہیں ہے؟ بس ثابت ہوتا ہے کہ اہل سنت کا پیامبر (ص) کے خلیفہ کو ایک خاندان میں محدود کرنا ان کے اپنے، لوگوں کے خلیفہ کے انتخاب کرے کے ،عقیدہ کے مخالف ہے اور یوں اصل اعتراض اہل سنت کے نظریہ پر وارد ہوتا ہے کہ جو ایسے عقیدہ کو مانتے ہیں جو خدا کی کتاب اور پچھلے زمانہ کے پیامبروں کی سنت نیزپیامبر خاتم (ص) کی سنت اور عقل کے خلاف ہے۔

دوسری طرف شیعوں کا نظریہ کہ خلیفہ کا انتخاب کرنا خدا کا کام ہے اور پچھلے انبیا کی سنت، پیامبر اکرم اسلام (ص) کے قول و فعل اور عقلی دلائل کی روشنی میں یہ نظریہ مضبوطی کے ساتھ روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اسی طرح خدا کا پیامبر (ص) کے خاندان سے امامت کا انتخاب کرنے کا بھی نظریہ مضبوط عقلی اور نقلی دلائل کاحامل ہے۔

لیکن اگر لوگ خدا اور رسول کے جانشین کا خود انتخاب کریں تو یہ نظریہ بالکل دلیل سے خالی ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ایک طرف فاسقوں اور ظالموں کے ہاتھوں میں نبوت کی خلافت پہنچنے کا امکان ہے اور دوسری طرف یہ عمل مسلمانوں کے آپس میں اختلافات اور لڑائی کا سبب بن سکتا ہے خصوصاً عربوں کے ابتدائی اسلامی معاشرے میں کہ جس میں اسلام نے اپنی جڑیں مضبوط نہیں کی تھیں اورجاہلیت کے دورکی قبیلہ پرستی( TRIBALISM )اورقوم پرستی ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے پوری طرح محونہیں ہوئی تھی۔ ہم اس انتخاب کے نتیجہ میں عمر اور عثمان کا قتل، ابوبکر کو زہر دیا جانا ، حضرت علی کی شہادت اور کربلا کا عظیم ودردناک واقعہ دیکھتے ہیں اور بنی امیہ وبنی وعباس کی حکومت کی صورت میںشجرہ خبیثہ کی آبیاری کے تسلسل کو بھی دیکھتے ہیں۔

اگر اعتراض کرنے والے خدا اور رسول (ص)کی طرف سے امامت کے انتخاب کو عقل کے خلاف سمجھتے ہیں تو یقینا وہ بنی امیہ جیسے ظالموں اور چند دیگر فاسق خلیفوں کے حکومت میں آنے کو صحیح سمجھتے ہوں گے۔