• ابتداء
  • پچھلا
  • 10 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1917 / ڈاؤنلوڈ: 785
سائز سائز سائز
امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات

امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات

مؤلف:
اردو

شبہ سوم:

شیعوں کے نظریہ کے مطابق پیامبر اکرم (ص)نے خود حضرت علی کو اپنا خلیفہ نامزد کیا تھا۔ اگر ایسا واقعہ تاریخ میں ہوا تھا تو کس طرح ممکن ہے کہ پوری امت نے یہ واقع بھلا دیا؟

جواب:

اس قسم کے اعتراض کرنے والے کو چاہیے تھا کہ اپنے اس اعتراض کو امت سے جوڑنے بجائے اہل سنت کے دوسرے متکلمین کی طرح اِس طرح پیش کرے کہ کس طرح اصحاب پیامبر (ص) کہ اس قدر متقی، دیندار اور پیامبر اکرم (ص) کے فرمانبردار ، پیامبر اکرم (ص) کے اس فرمان کو کہ جس میں انہوں نے حضرت علی کو اپنا جانشین نامزد کیا ہے ، سے انکار کردیا اور اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہے کیونکہ وہ تمام صحابہ کی عدالت کے قائل ہیں اور اس طرح پیامبر اکرم (ص) نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔

لیکن جس طرح صدر اسلام میں بعض صحابیوں کی طرف سے اس بات کو دبا دیا گیا ، آنے والی نسل نے بھی اس روش کا جاری رکھا۔ یہ اعتراض کہ کس طرح اتنی اہم بات پوری امت بھلا سکتی ہے ، اس بات کی دلیل اہل سنت اس ہی بات پر بناتے ہیں کہ چونکہ تمام صحابہ عادل ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی اطاعت کرلی جائے کافی ہے، بس ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ صحابہ پیامبر (ص) کی بات کے خلاف کچھ کریں۔ جبکہ قرآن، سنت پیامبر (ص)اور تاریخ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ صحابہ کے درمیان ایسے لوگ تھے کہ جو منافقین، مرتدین، جنگوں سے بھاگے ہوئے، پیامبر (ص) کو تکلیف پہچانے والے، پیامبر (ص) کے رازوں کو فاش کرنے والے اور جھوٹ بولنے والے تھے۔

دس فیصد قرآن کی آیتیں منافقین کے متعلق ہیں۔ مدینہ مسلمانوں کا مرکز تھا اورقرآن کے مطابق ان میں کچھ لوگ منافق تھے اور پیامبر(ص)اُن کو پہچانتے تھے۔(۲) ( و مِمن حولکم مِن الاَعرابِ منافِقون و مِن اهلِ المدینةِ مردوا علیَ النِفاقِ لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذِبهم مرتینِ ثم یردون اِلیٰ عذابٍ عظیمٍ ) (التوبہ١٠١)

(اور تمہارے گرد و پیش کے بدوں میں اور خود اہل مدینہ میں بھی ایسے منافقین ہیں جو منافقت پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے (لیکن) ہم انہیں جانتے ہیں، عنقریب ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے)

اہل سنت کی صحابی کے حوالے سے تعریف یہ کی جاتی ہے کہ' من رای نبیا مسلما و ہو صحابی'' یعنی جس نے مسلمان ہونے کے بعد پیامبر اکرم (ص) کو دیکھا چاہے ایک لحظہ ہی کے لیے کیوں نہ دیکھا ہو، وہ صحابی ہے۔ اس تعریف کے مطابق تمام منافقین بھی صحابہ کی لسٹ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس میں بہت ساروں نے پیامبر اکرم (ص) کو صرف حج الوداع میں دیکھا تھا اور جب پیامبر اکرم (ص) کی رحلت ہوئی تو یہی لوگ مرتد ہوگئے۔ طلیع اسدی اور مسیلمہ کذاب( ۴) بھی اہل سنت کی صحابی کی تعریف کے مطابق صحابی تھے کہ جنہوں نے بعد میں نبوت کا دعوی کیا اورمرتد ہوگئے تھے(۵) اور دوسرے لوگ جیسے عبد اللہ بن ابی سورح، اشعث بن قیس اور شث بن ربعی صحابیوں میں سے تھے اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے اعراب جنہوں نے جناب ابوبکر کی مخالفت کی اور زکواة دینے سے انکار کردیا اور بہت سے عرب جاہلیت پرستی کی طرف پلٹ گئے۔(۶) جناب عائشہ(رض) نے کہا ہے: پیامبر(ص) کی رحلت کے بعد سب دین سے پلٹ گئے تھے لیکن مکہ اور مدینہ کے رہنے والوں کے علاوہ اور(اس زمانہ میں) نفاق اور مرتد ہونا ظاہر ہوگیا تھا۔

پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا:میں اپنے اصحاب سے پہلے حوض کوثر پرپہنچوں گا اورپھر اصحاب میری طرف آئیں گے کہ میں ان کو سیراب کروں لیکن ملائکہ ان کو جہنم کی طرف دھکیل رہے ہوں گے اور مجھ سے کہیں گے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں رخنے ایجاد کئے۔ اور ان میں سے کاروان سے جدا ہونے والے اونٹوں کی تعداد کے برابر(یعنی بہت کم) نجات پائیں گے۔

یہ حدیث اہل سنت کی حدیث کی کتابوں میں تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ مثلا صحیح بخاری، ج٥، ص١٢٠٢١٠ ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتی ہے کہ کیا ایسے صحابہ کہ جو اصل دین اور نبوت سے منکر ہوسکتے ہیں توکیا ولایتِ امام علی کے منکر نہیں ہوسکتے؟ یہ حدیث حدیثِ ثقلین اور حدیثِ انذار ، کہ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، کی تفسیر کر رہی ہے۔'' انی تارک فیکم کتاب الله و عترتی ان تمسسکتم بهما لن تضلوا ابدا و لن یفترقا حتی یرد علی الحوض'' (۳) اس حدیث ِثقلین کے مطابق جو بھی کتاب اور عترت سے متمسک ہوگا وہی حوض کوثر میں پیامبر (ص) کے پاس جاسکتاہے اور جس نے ان میں سے کسی ایک سے بھی اپنا ربط توڑا وہ حوض کوثر سے دور دھکیل دیا جائے گا۔ کچھ صحابہ مرتد ہو گئے تھے۔ کچھ نماز، روزہ، جہاد اور زکواة تو انجام دیتے تھے لیکن انہوں نے حضرت علی کی ولایت کو قبول نہیں کیاتو یہ لوگ بھی حوض کوثر میں داخل نہیں ہوسکتے۔علاوہ ازیں حدیث :'' علی مع القرآن و القران مع العلی لن یفترقا حتی یرد علی الحوض ''(۷) بھی حدیث ثقلین کی تائید کررہی ہے۔درج ذیل حدیث بھی قابل غورہے۔

''اما ترضی ان تکون منی بمنزله هارون من موسی؟ الا انه لیس بعدی نبی الا من احبک حف با الامن و الایمان و من ابخضک اماته الله میتته الجاهلیه ''(۸) اور حضرت علی حدیثِ منزلت میں، حدیث ِمواخات میں، حدیثِ سد الابواب میں، حدیث ِنام گزاری حسن و حسین علیہما السلام میں کہ جہاں پیامبر اکرم (ص)کی نسبت سے علی مانند ہارون ہوتے ہوئے ان کے بیٹے حسن وحسین کانام بھی ہارون کے دونوں بیٹوں شبر اور شبیر باالترتیب رکھا گیا۔(۹) قرآن نے سورہ اعراف آیہ ٤١میں سامری کی داستان بیان کرتے ہوئے حضرت موسی(ع)کے ہزاروں صحابیوں کے مرتد ہونے کے بارے میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ میقات پر چلے گئے تو تقریبا ستر ہزار حضرت موسیٰ کے اصحاب سامری کی رہبری میں کہ جو حضرت موسیٰ کی فوج کا کمانڈر تھا، بت پرست ہوگئے اور حضرت ہارون(ع)جتنی بھی نصیحتیں ان کو کرتے، وہ لوگ ان کوقبول نہیں کرتے اور چاہتے تھے کہ حضرت ہارون کو قتل کردیں۔ جب حضرت موسیٰ کوہ ِطور سے پلٹے اور حالات کو دیکھا تو اتنے شدید غصہ میں آئے کہ حضرت ہارون(ع) کے بالوں کو پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹا جس پر حضرت ہارون(ع)نے اپنی صفائی پیش کر تے ہوئے جواب دیا :( قال ابن أُمَّ ا ِنّ القوم استضعفونی و کادوا یقتلوننی فلا تشمِت بِی الاعداء و لا تجعلنی مع القومِ الظٰلِمین ) (الاعراف١٥٠) عجیب یہ ہے کہ اس آیت کوامام علی(ع) نے قبر پیامبر (ص)کی طرف مڑ کر اس وقت پڑھا جب ان کو زبردستی بیعت کے لیے خلیفہ وقت کے سامنے لے جایا جارہا تھا۔(۱۰) بہرحال یہ کوئی بعیداز امکان واقعہ نہیں تھا۔تاریخ میں پہلے بھی ایساہوچکا ہے۔ جب حضرت موسیٰ کے اصحاب نے اتنے سارے معجزے دیکھنے کے باوجود آپ (ص) کے پیچھے بت پرستی شروع کردی تواس پرکیوں تعجب ہو کہ بعض اصحاب رسول (ص) نے رحلت رسول خدا (ص) کے بعد حضرت علی کی وصایت سے انکار کردیا۔ حدیث ارتدار بہترین دلیل ہے اس بات کی کہ بعض اصحاب رسول (ص) نے وصایت و ولایت حضرت علی کا انکار کیا اور اس وجہ سے ان کا حوض کوثر پر داخلہ ممنوع ہوا اور جہنم کی طرف دھکیلے گئے۔ اور اس حدیث کو اہل سنت کی کتابوں میں فراوان دیکھا جاسکتا ہے۔

اصحاب کی طرف سے پیامبر اسلام (ص) کی زندگی میں ان کی مخالفت کرنا اورآپ(ص) کی رحلت کے بعد آپ(ص) کی سنت کی مخالفت کرنا، ایسی بات نہیں ہے کہ جو اہل بصیرت سے پوشیدہ ہو۔

وہ چودہ دن کہ جب پیامبر اکرم (ص) بستر مرگ پر تھے اور اس بستر سے تھوڑی دیر کے لئے بھی اُٹھنا آپ کے لیے محال تھا ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح قریش کے کچھ لوگوں نے اس وقت پیامبر (ص) کے احکامات کی صریحاً مخالفت کی۔

١۔اسامہ بن زید کی فوج میں شامل ہونے سے انکار

پیامبر (ص) نے اپنے اصحاب مثلاً ابوبکر، عمر، عثمان، سعد بن عبادہ (قبیلہ خزرج کے قائد) اور اسید بن حضیر (قبیلہ اوس کے قائد)کو حکم دیا کہ جائیں اور اسامہ کی فوج میں شامل ہوں۔ لیکن کچھ اصحاب نے اس بات کی مخالفت شروع کردی اور اِس فوج کی پیشرفت کی مخالفت کردی اور حیرت ہے کہ مخالفین کے رہنماجناب عمر و ابو بکر تھے ۔(۱۱)

یہ بات پیامبر اکرم (ص) کو اس قدر بری لگی کہ آپ (ص) نے مخالفت کرنے والوں پر لعنت بھیجی لیکن پھر بھی یہ لوگ جناب اسامہ کی فوج میں شامل ہونے کو تیار نہ ہوئے اور بہت عجیب بات یہ ہے کہ جناب ابوبکر کا خلیفہ بننے کے بعد پہلا کام اسامہ کی فوج کو جنگ کے لیے روانہ کرنا ہے۔(۱۲)

٢۔ پیامبر اسلام (ص) کو وصیت لکھنے سے روکا گیا

یہ حادثہ رزِی یوم الخمیس(یعنی جمعرات کے روز کی مصیبت)سے معروف ہے۔ اس واقعہ کو بخاری نے صحیح میں ج۱ ص ۱۱۱ باب العلم باب ۳۹ اور ج۴ ص ۶۲ باب قول المریض کتاب المرض ج ۲ ص ۱۲۲ کتاب الشروط فی الجہاد ج۴ ص ۲۷۱ کتاب الاعتصام بالکتاب و السنہ باب کراہیہ الخلاف میں نقل کیا ہے۔ جناب عمر کا پیامبر اکرم(ص) کے بارے میں وہ مشہور جملہ کہنا کہ ان الرجل لیھجر (پیغمبر ہذیان کہہ رہے ہیں)اس حال میں تھا کہ پیامبر (ص) زندہ تھے اور وہ جناب عمر کو دیکھ رہے تھے جبکہ عمر سارے اصحاب کے درمیان یہ توہین آمیز جملہ اپنی زبان سے جاری کر رہے تھے تو ایسا شخص کیا ولایت علی کا منکر نہیں ہوسکتا؟ جناب عمر نے خود عبد اللہ بن عباس سے ایک روز کہا تھا: ''میں نے جان بوجھ کر یہ جملہ کہا تھا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ وہ(آنحضرت ص)کیا لکھنا چاہتے ہیں وہ علی کے بارے میں وصیت کرنا چاہتے تھے کہ میں آڑے آگیا۔''(۱۳)

جناب عمر اور ان جیسے لوگوں نے جان بوجھ کر پیامبر (ص) کی طرف سے وصیت لکھے جانے کی مخالفت کی اور اگر پیامبر (ص) وصیت لکھ بھی دیتے پھر بھی وہ مخالفت سے بازنہ آتے تو کیاایسی صورت میں علی کی ولایت کی مخالفت کرنا ایسے صحابہ سے بعید ہے؟

٣۔ پیامبر (ص) کی اجازت کے بغیر ان کی جگہ نماز پڑھانا

تمام چودہ دنوں میں کہ جب پیامبر اکرم (ص) شدت مرض کی وجہ سے اپنے بستر سے نہیں اٹھ سکتے تھے تو آپ (ص) کی جگہ حضرت علی نے نماز پڑھائی۔(۱۴) آنحضرت کی زندگی کے آخری پیر کے روز جب حضرت بلال نے فجر کی اذا ن دی تو ہر روز کی طرح آنحضرت (ص) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ نماز کے لیے تشریف لے آئیے کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں پیامبر اکرم (ص)نے کہا کہ میرے بھائی علی سے کہو کہ نماز پڑھائے۔ جناب بلال پلٹ گئے ۔

جناب عائشہ نے اپنے والد ابوبکر سے کہا کہ آپ نماز پڑھائیں۔ وہ پیامبر (ص) سے اجازت لئے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہوگئے دوسری طرف جب پیامبر (ص) کو پتہ چلا کہ ابوبکر نماز پڑھا رہے ہیں تو کہا: مجھے اٹھائو، آنحضرت (ص) کواٹھایا گیا اور آپ (ص) مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ ابوبکر کو کنارے کیا جائے ۔پیامبر (ص) نے نماز دوبارہ بیٹھ کر پڑھائی اور نماز کے بعد کہا کہ مجھے اٹھائو اور منبر پر بٹھائو۔پھر آپ(ص) نے دوبارہ غدیر کے خطبہ کو پڑھا اور امام علی کے ہاتھ کو پکڑ کر دوبارہ یہ جملہ کہا کہمن کنت مولاه فهذا علی مولا ۔(۱۵)

اگر ابوبکر کا نماز پڑھانا پیامبر اسلام (ص) کی مرضی کے مطابق تھا تو پھر آپ (ص)کیوںشدت مرض کی حالت میں مسجد تشریف لائے اور نماز کو بیٹھ کر پڑھایا اور ابوبکر کی نماز کو ختم کروایا اور اس واقع کے بعد ابوبکر مسجد سے فورا چلے جاتے ہیں اور اپنے گھر کہ جو سخ میں تھا اس میں جاکر خانہ نشین ہوجاتے ہیں۔(۱۶) اور اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ جناب ابوبکر آنحضرت (ص) کی مرضی کے خلاف نماز پرھانے کھڑے ہوئے تھے اور اس سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ آنحضرت(ص) اس ہی روز اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، لوگ ظہر کی نماز فرادا پڑھتے ہیں لیکن عصر کی نماز دوبارہ ابوبکر کی امامت میں پڑھی جاتی ہے اور کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ یہ وہی صاحب ہیں کہ جو آج صبح مسجد سے فرار ہوگئے تھے ۔

بخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں اس ماجرے کو ذکر کیا ہے۔(۱۷)

٤۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر اصحاب کی کھلی مخالفت کرنا

چھ ہجری ، ذیعقد کے مہینے میں پیامبر اسلام (ص) عمرہ کی نیت سے نکلتے ہیں اور تمام مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ بھی ان کے ساتھ آئیں لیکن بہت سارے منافقین اور اصحاب آپ (ص) کے ساتھ نہیں آتے۔ تقریبا چھ سو افراد پیامبر (ص) کے ساتھ عمرہ کے لیے روانہ ہوتے ہیں اوردوسری طرف قریش نے راستہ کی ناکہ بندی کردی ہے اور پیامبر (ص) اور ان کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیاہے۔ بہرحال گفت و شنید کے بعد مسلمانوں اور قریش کے درمیان صلح کے معاہدہ کا اعلان ہوتا ہے لیکن اس صلح کی جناب عمر کے ساتھ ساتھ کئی اور صحابہ نے مخالفت کی۔ جناب عمر نے فرمایا کہ صلح حدیبیہ کے بعد مجھے پیامبر اکرم (ص) کی نبوت پر شک ہوا تھا اگر میرے ساتھ میرے ساتھی ہوتے تو میں ان سے جنگ کرتا۔

صلح ہونے کے بعد رسول خدا (ص) نے حکم دیا کہ سب اپنے احراموں کو اتار دیں لیکن کسی نے آپ (ص) کے حکم کو نہیں سنا اور پیامبر (ص) شدید غصہ کی حالت میں جناب ام سلمہ (س)کے خیمے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جناب ام سلمہ(س) پیامبر اکرم (ص)کے غصہ و پریشانی کی وجہ کو سمجھتے ہوئے ان کو مشورہ دیتی ہیں کہ آپ خود اپنے احرام کو اتار دیں، یہ لوگ بھی آہستہ آہستہ احرام اتار دیں گے۔(۱۸)

٥۔ فتح مکہ کے روز، روزہ افطار کرنے کی مخالفت

٨ہجری ، ماہ مبارک رمضان میںپیامبر اکرم (ص) فتح مکہ کے لیے مدینہ سے نکلتے ہیں۔ جب کراع الغمیم کے علاقے میں پہنچے تو اپنے روزہ کو افطار کرلیا اور باقی سب اصحاب کو بھی حکم دیا کہ روزہ کو افطار کریں لیکن ان اصحاب میں سے چند لوگوں نے آپ (ص) کی بات نہیں مانی۔ جب اس بات کی اطلاع پیامبر اکرم (ص) کو پہنچائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ گنہگار ہیں''اولئک العماة''

یہ اصحاب کی پیامبر اکرم (ص) سے مخالفت کی چند باتیں ہم نے ذکر کیں جو پیامبر اکرم کے زمانے میں ان لوگوں نے کیں۔ جب آنحضرت (ص) اس دنیا سے تشریف لے گئے تو ان لوگوں کی پیامبر اسلام (ص) کے احکامات سے مخالفت کرنا اتنا زیادہ تھا کہ ان میں سے چند مخالفتوں کو مرحوم سید شرف الدین نے اپنی کتاب النص والاجتہاد میں ذکر کیا ہے۔

کہ ان میں سے چند باتیں درج ذیل ہیں:

١۔ احادیث کی تعلیم اور ان کے نقل کرنے کی ممانعت۔

٢۔ حضرت فاطمہ الزہرا کو رسول خدا (ص) کی ملکیت سے ان کا حصہ دینے اور آیہ ارث کی مخالفت۔

٣۔ ذوی القربی کے حقوق کی مخالفت کرنا اور عترت اہل بیت کو غنایم جنگی کا خمس نہ دینا ۔

٤۔ زکوٰة کے پیسوں میں سے مولف القلوب لوگوں کا حصہ دینا۔

٥۔ متعہ النساء اور حج تمتع کی ممانعت

٦۔ حی علیٰ خیرِ العمل کے جملہ کو اذان اور اقامت سے نکالنا۔

٧۔ اذان میں الصلاة خیر من النوم کے جملہ کا اضافہ کرنا۔

٨۔ صلا ةتراویح کو رائج کرنا۔(۱۹)

اگر اصحاب کی طرف سے پیامبرِ اسلا م(ص) کی مخالفت کرنا، چاہے آپ (ص) کی زندگی میںہو چاہے آپ (ص) کی رحلت کے بعدہو، ایک عام بات تھی تو ولایت علی کا انکار کرنا کیونکر بعید ہوسکتا ہے؟ اس بات کو نظام معتزلی کہ جو اہل سنت اور فرقہ معتزلہ کا ایک بڑا عالم دین گزرا ہے، نے قبول کیا ہے اور کہا ہے کہ پیامبر اکر م(ص) نے حضرت علی کو اپنا خلیفہ اور ولی نامزد کیا تھا لیکن جناب عمر اور ابوبکر نے اس بات کی مخالفت کی اور خلافت پر قبضہ کرلیا۔ نظام معتزلی کے اس نظریہ کی دوسرے علمائے اہل سنت نے بھی تائید کی ہے۔(۲۰)

اہل سنت کے ایک متعصب عالم ذہبی نے جناب نجرانی سے نقل کیا ہے کہ : عمر نے غدیر خم میں امام علی کی بیعت کرلی تھی لیکن پیامبر اسلا م(ص) کی رحلت کے بعد اپنے ہوائے نفس کی خاطرنیزحصول حکومت وقدرت کی خواہش ومحبت میں اپنی بیعت کو توڑدیا۔(۲۱)

امام علی نے ایک روز اپنی خلافت کے زمانہ میں مسجد کوفہ کے صحن میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی واقعہ غدیر میں موجود تھا اورمیری وصایت و ولایت کے اعلان کو سنا تھا، کھڑا ہو اور گواہی دے۔ اس موقع پر اصحاب نے کہ جن میں جناب ابو ایوب انصاری بھی شامل تھے گواہی دی اور چھ لوگوں نے کہ جن میں انس بن مالک اور برا بن عازب حفر دراری شامل تھے اپنی شہادت کو چھپایا۔

اہل سنت کی کتابوں میں موجود احادیث اس حقیقت کو آشکار کرتی ہیں کہ اصحاب میں ایسے لوگ بھی شامل تھے کہ جو اپنی شہادوتوں کو چھپاتے تھے اور یہ بات ان کے لیے عام تھی۔ پھر کیوں اس بات کو بعید جانیں کہ جب پیامبر (ص)نے حضرت علی کی وصایت کا اعلان کیا تو لوگوں نے اس کو بھلا دیا۔

اہل سنت نے تواتر کے ساتھ اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ پیامبر اسلام (ص)نے فرمایا کہ ہر واقعہ اور حادثہ جو بنی اسرائیل پر گزرا ہے میری امت پر بھی گزرے گا حتیٰ کہ اگر ایک چیونٹی بنی اسرائیل کے زمانہ میں ایک سوراخ سے باہر آکر دوسرے سوراخ س میں گئی ہو تو اس کا بھی اعادہ میری امت میں ہوگا۔(۲۲)

قرآن بنی اسرائیل کی شہادتوں اور گواہیوں کو چھپانے کے بارے میں فرماتا ہے:

( ِان الذین یکتمون ما أَنزل الله مِن الکِتابِ و یشترون بِهِ ثمنا قلیلاً أُلئک ما یأکلون فی بطونِهِم اِلا النار و لا یکلِمهم الله یوم القِیٰمةِ و لا یزکِیهِم و لهم عذاب أَلیم ) (البقرہ١٧٤)

(جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے عوض میں حقیر قیمت حاصل کرتے ہیں، یہ لوگ بس اپنے پیٹ آتش سے بھر رہے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ایسے لوگوں سے بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے)

( اِن الذین یکتمون ما أَنزلنا مِن البیِناتِ و الهدیٰ مِن بعدِ ما بینّٰه لِلناسِ فِی الکِتابِ أُولئکَ یلعنهم الله و یلعنهم اللٰعِنون ) (البقرہ١٥٩)

(جولوگ ہماری نازل کردہ واضح نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم کتاب میں انہیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان کر چکے ہیں، تو ایسے لوگوں پر اللہ اور دیگر لعنت کرنے والے سب لعنت کرتے ہیں)

جب حضرت موسیٰ کے اسی ہزار۸۰۰۰۰) ) اصحاب حضرت ہارون کی وصایت کو جھٹلا سکتے ہیں اور یہ ایک قرآنی حقیقت ہے اور دوسری طرف پیامبر اکرم (ص) صر احتًا فرما رہے ہیں کہ جو بھی واقعہ بنی اسرائیل پر گزرے گا، امت اسلام پر بھی گزرے گا تو صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی کی وصایت اور ولایت کا انکار کرنا بھی ان ہی حقیقتوں میں سے ایک ہے۔ کیا حضرت علی کو جناب ہارون سے تشبیہ دینابلا کسی سبب کے تھا؟ کیا یہ تشبیہ ہمارے ذہنوں کو اس بات کی طرف متوجہ نہیں کرتی کہ جس طرح حضرت موسی کے اصحاب نے جناب ہارون کی وصایت کا انکار کیا ، پیامبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد آپ(ص)کے اصحاب نے حضرت علی کی وصایت کا انکار کیا۔

اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے کہ پیامبر اکرم (ص) کم ازکم چھ مہینے اور بعض روایات کے مطابق دو سال تک روزانہ نماز صبح سے پہلے سب کی نظروں کے سامنے حضرت علی اور حضرت زہرا(س) کے گھر کے دروازہ کے باہر کھڑے ہوکر یہ فرماتے تھے:''السلام علیکم یا اهل البیت،الصلوة'' (۲۳) سب صحابہ نے پیامبر اسلام (ص) کی طرف سے جناب زہرا(س) اور ان کے بچوں کی غیر معمولی عزت افزائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا تھا اور ابھی رحلت پیامبر (ص) کے کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ اس گھر کے دروازہ کو گرایا گیا اور اس گھر کی بے حرمتی کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ پھر کیوں تمام اصحاب نے اس عمل کو دیکھا اور اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی؟ کیوں کسی نے نہیں کہا کہ یہ گھر اتنی عظمت رکھتا ہے اور کس طرح اس حقیقت کا انکار کیا گیا؟

پیامبر اکرم (ص) نے٢٣ سال مسلمانوں کے سامنے وضو کیا، نماز پڑھی، اذان دی، لیکن کس طرح پیامبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعد وضو، نماز اور اذان کے طریقوں میں اتنا ختلاف پیدا ہوگیا؟ کیا مسلمانوں نے پیامبر (ص) کے وضو اور نماز کو نہیں دیکھا تھا؟ کیا مسلمانوں نے یہ نہیں دیکھا کہ رسول(ص) ہاتھ باندھ کر نماز پڑھ رہے ہیں یا ہاتھ کھول کر؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ آنحضرت (ص) وضو کس طرح کر رہے ہیں؟ پھر کیا ہوا کہ لوگوں نے ان معاملات میں بھی اختلاف کردیا؟ کیا یہ نہیں کہا جاسکتا ہے سنت نبوی (ص)کواپنی ہواو ہوس کی خاطر تبدیل کیا گیا؟

کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ اعتراض کرنے والوں کو دین میں ہونے والی اتنی ساری تبدیلیاں نظر نہیں آئیں؟ نظر آئیں توپھر لوگوں کے ذریعہ وصایت کا انکار کیے جانے میں تعجب کرنا چہ معنیٰ دارد؟پھر اس سوال میں کیاوزن رہ جاتا ہے کہ اگر نبی اکرم (ص) نے وصیت کی تھی تو اصحاب کرام نے اس کو کس طرح بھلا دیا؟

ابن ابی الحدید معتزلی ایک جگہ لکھتا ہے کہ میرے استاد نے ایک دن مجھ سے کہا تھا کہ اگر پیامبر اکر م(ص)کا بیٹا زندہ رہ جاتا اور پیامبر اکرم (ص) اس کو اپنا وصی نامزد کرتے پھر بھی وہ لوگ کہ جنہوں نے منافقت کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور پیامبر(ص) کے سامنے بادل نخواستہ سرنگوں ہوئے تھے، اُس کے ساتھ اس سے بھی خراب سلوک کرتے جو امام علی کے ساتھ کیا کیونکہ عربوں نے رسول خدا (ص) سے لینے والا انتقام حضرت علی اور ان کی اولاد سے لیا۔

وصایت کا انکار کرنا ہرگز ایک غیر ممکن بات نہ تھی اور اصحاب بھی کوئی معصوم نہ تھے کہ ایسا نہ کرسکتے ہوں۔ یہ اس طرح ہے کہ جس طرح اور دوسرے صریح احکام میں رسول خدا(ص) کی مخالفت کی گئی تھی اس معاملے میں بھی مخالفت کی اور حق کو دبایاگیا۔ اس حق کو چھپانے کے ماجرے کو تاریخ ثابت کرتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق دار کو اس کا حق نہیں ملا اور اس کاسبب حسد، کینہ، قبائلی تعصب ( Tribal Prejudice )تھا۔

چوتھا شبہ:

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خداوند عالم نے امام کا انتخاب خود کیا ہے لیکن پھر کیوں یہ انتخاب ٢٦٠ھ کے بعد آگے نہ چل سکا اور امام حسن عسکری کی شہادت کے بعد ان کا کوئی جانشین معین نہیں ہوا ۔لہٰذا ایسا دین کہ جو قیامت تک کے لیے آیا ہے اور لوگوں کی راہنمائی کے لیے آیا ہے، راہنما کے بغیر کیسے ہوگیا؟

جواب:

اصولاً نبی اور امام کے وجود کے آثار یہ ہیں کہ وہ مکلفین(لوگوں)پر اپنی حجت کو تمام کردیں یعنی اپنے آپ کو پہچنوا دیںپھر لوگوں کا اختیار ہے کہ وہ نبی اور امام کی اطاعت کریں اور اپنے کمال تک پہنچیں۔ اگر لوگ خدا کی طرف سے معین کی ہوئی ان حجتوں کی مخالفت کرنے لگیں تو ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جس فلسفہ کے تحت خدا نے ان ہستیوں کو دنیا میں بھیجا تھا وہ غلط تھا۔

یہ بات اللہ تعالی پر واجب ہے کہ وہ اس زمین پر اپنی حجت کو بھیجے جو معاشرے کو عدالت کی طرف دعوت دے اور لوگوں کی تعلیم اور تربیت کرے اس حجت کو خداوند عالم نے انبیا و امامان کی شکل میں بھیجا لیکن ان کے اس دنیا میں آنے کا مقصد اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک معاشرہ خود کو اِن ہستیوں کے اختیار میں نہ دے۔ لیکن جب ظالموں اور حاکموں کے ذریعہ ائمہ کو قتل کردیا گیا تو اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ معاشرہ( Society ) پران اماموں کی حاکمیت کی حجت ہمیشہ رہنی چاہیے "( و لقدکتبنا فِی الزبورِ مِن بعدِ الذکِرِا ن الارض یرِثها عِبادِی الصالِحون ) (الانبیائ١٠٥)

(اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے)

پھر اس بات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حجت تو زمین پر رہے لیکن لوگوں کی نظروں سے غائب رہے۔

امام کی غیبت کا سبب معاشرے کارویہ ہے کہ جب تک معاشرہ امام کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگااور طاغوت اور استعمار کی غلامی سے منہ نہیں موڑے گا اس وقت تک امام حجت خدا ظاہر نہیں ہوں گے لیکن اس نظامِ ہستی کی معنوی رہبری ان ہی کے پاس ہے۔

بس ٢٦٠ھ سے امت کی رہبری ختم نہیں ہوئی بلکہ اس وقت سے ا س عہدہ کو امام زمانہ(عج) کے حوالہ کیا گیا کہ جو زندہ ہیں لیکن لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں اور منتظر ہیں کہ جب یہ دنیا قانون الہی کو قبول کرنے کی صلاحیت پیدا کرلے تو ان کا خدا کے حکم سے ظہور ہو اوروہ دنیا کو عدلِ الہی سے بھر دیں۔ اور یہ حقیقت دین اسلام کے تمام فرقوں میں تسلیم شدہ ہے اور مہدویت و مہدی موعود (عج) مسلمانوں کے ضروریات دین میں سے ایک ضرورت ہے۔

حجت خدا کی ذمہ داری اس زمین پر یہ ہے کہ وہ دوسری تمام مخلوقات کے لیے واسطہ فیض الٰھی ہے۔ اگر حجت خدا زمین پر نہ ہو تو خدا کے فیض اس زمین تک نہیں پہنچ سکتے یعنی زمین قابلیت نہیں رکھتی ان فیوضات کو مستقلاً تحمل کرے لہٰذا زمین کے پایے ( Pillars ) امام کے وجود سے قائم ہیں ۔ لو لا الحج ۔۔۔۔ بس امام کے ذریعہ سے زمین پر مادی اور معنوی ہر دو نوع کے فیوض وبرکات پہنچتے ہیں اور اس طرح خدا کے دین اور اس کی کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری بھی امام کی ہے۔ کتاب خدا کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب میں کوئی تحریف نہ ہونے پائے کیونکہ یہ کتاب روز قیامت تک کے لیے انسانوں کی راہنمائی کے لیے آئی ہے اور انسانوں کے لیے خدا کی طرف سے یہ فکری اور عملی راہنما ہے اور اس کے بعد اور کوئی کتاب نہیں بھیجی جائے گی۔ ایسی کتاب کہ جو انسانوں کو سعات تک لے کر جائے لازم ہے کہ اس کو ہر قسم کی تحریف سے دور رکھا جائے اور اس ذمہ داری کو خدا کی حجت انجام دیتی ہے۔

امام کے وظائف اور ذمہ داریوں میں گمراہوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو سیدھے راستہ پر لانا اور ان کی تعلیم و تربیت کرنا بھی ہے۔ امام کی دوسری ذمہ داریوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ معاشرے میں دین کو عملی طور پر جاری کرے اور معاشرہ کی سیاسی رہبری کرے۔ تو معلوم ہوا کہ امام کی مختلف ذمہ داریاں ہیں۔ اب اگر ظالموں کے ظلم اور معاشرہ کی ان سے دوری کی وجہ سے امام اپنی ایک ذمہ داری انجام نہیں دے پا رہا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ دوسری ذمہ داریاں انجام نہیں دے رہا بلکہ تمام دوسری ذمہ داریاں ائمہ اپنی تمام توانائیوں کے ساتھ انجام دیتے رہے ہیں۔

اگر معاشرہ امام کو قتل کرنے پر تلا ہوا ہو اور امام خدا کے حکم سے لوگوں کی نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں تو ایسی حالت میں وہ عملی طور پر لوگوں کی سیاسی رہبری نہیں کرسکتے لیکن ان کے کندھوں پر موجود دوسری ذمہ داریوں سے وہ ہرگز بری الذمہ نہیں ہوئے اور وہ انسانوں اور خدا کے درمیان، خدا کے فیض کا واسطہ ہیں اور انسانوں کی معنوی طریقہ سے ہدایت ان کے وجود مبارک سے جاری ہے۔

امام کی غیبت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ معاشرہ اور لوگوں سے دور کہیں زندگی گزار رہے ہوں بلکہ وہ لوگوں کے درمیان ہیں اور ان کی مختلف طریقوں سے راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔

جہاں کہیں بھی معاشرہ یالوگ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے تیار ہوں تو امام کے عمومی نائبین یعنی فقہا اس جامع کی رہبری کو اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیں۔ جس طرح تیس سال سے فقیہ عادل کی نظارت میں مملکت ایران میں حکومت اسلامی قائم ہے۔ بس نتیجہ یہ نکلا کہ کسی طور بھی امت کی رہبری کو خالی نہیں چھورا گیا بلکہ یہ رہبری اس وقت سے اب تک جاری ہے اور جاری رہے گی۔

شبہ پنجم:

اگر خلافت اہل بیت میں رکھی گئی ہے تو پھر اہل بیت کے تمام افراد اس بات کو قبول کریں جبکہ ہم نے تاریخ میں یہ دیکھا ہے کہ اس اہل بیت کے خاندان کے لوگوں مثلاً زید بن علی ابن حسین نے خلافت کے لیے قیام کیا ہے۔

جواب:

جب ہم نے امامت کے وجود کو عقلی دلائل اور نقلی دلائل سے ثابت کردیا تو پھر اصول یہ ہے کہ جب حق ثابت ہوجاتا ہے تو پھر اگر ایک فرد یا چند افراد اس کی حمایت کریں یا اس کا انکارکریں اس سے حق کی حقانیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ پھر لوگوں پر لازم ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو اس حق کے ساتھ کریں۔

جب علی مع الحق و الحق مع العلی ہو ، لوگوں کو امام علی کی ذات سے تولا جاتا ہو کیونکہ وہ ایمان، ہدایت اور نور کی علامت ہوں'' حبہ ایمان و بغضہ کفر'' ہو تو اس منزل پر ان کی حقانیت طلحہ، زبیر ، معاویہ اور ابوہریرہ جیسے لوگوں کی باتوں سے نہیں پرکھی جاسکتی۔

خاندان اہل بیت میںامامت، حدیث متواتر کے مطابق ثابت ہے ۔پیامبر اکرم (ص) نے فرمایا ''ان خلفائی اثنا عشر خلیفة'' یعنی میرے خاندان سے میرے بارہ خلیفہ ہوں گے۔ یہ بارہ خلیفہ پیامبر اکرم (ص) کی طرح معصوم اور علم الہی کے حامل ہوں گے اور اہل بیت میں شامل دوسرے افراد ان کے حامل نہیں ہیں۔ پھر ممکن ہے کہ اس خاندان کا کوئی فرد ہوا و ہوس اور دنیاوی اغراض میں مبتلاء ہوجائے لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ اس خاندان کے زیادہ تر افراد متقی، علما اور صالح تھے۔

بس نتیجہ یہ نکلا کہ اگر اس خاندان میں کوئی دنیا طلب فرد پیدا ہوتا ہے تو اس سے اس خاندان میں خلافت کے موجود ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

زید بن علی علیہ الرحمہ کے بارے میں تاریخ گواہی دیتی ہے کہ آپ عالم ، مفسر قرآن، محدث اور عابد و پرہیز گار شخصیت تھے۔ اتفاقاً یہ حدیث '' اِن خلفایی اثنا عشر خلیفة'' جناب زید سے بھی نقل ہوئی ہے۔(۲۴) جناب زید ابن علی کا قیام، امر بالمعروف اور نہی ازمنکر کی خاطر تھا اور ہرگز ان کا قیام لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینا نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے ائمہ کی امامت کا انکار کیا تھا۔ جناب زید بن علی علیہ الرحمہ کے قیام کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت کے اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے امام باقر کی بے عزتی کی تھی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر جناب زید اپنے قیام میں کامیاب ہوجاتے تو خلافت کو اس کے اصل حقدار تک پہنچا دیتے۔ اسی وجہ سے ائمہ اہل بیت اور اہل تشیع کے علمائے رجال نے جناب زید بن علی کی شخصیت کی تائید کی ہے اور آپ کے قیام کی وجہ امر بہ معروف اور نہی از منکر کو قرار دیا ہے اور جناب زید اور آج کہ فرقہ زیدیہ کے درمیان فرق کے قائل ہیں کیونکہ جناب زید بن علی زیدیہ فرقہ سے کوئی رابطہ اور نسبت نہیں رکھتے تھے۔ مرحوم صدوق نے اپنی کتاب عیون الرضا میں امام علی رضا سے حدیث نقل کی ہے کہ جس میں امام رضا نے جناب زید کے قیام کی تائید کی ہے اور اس بات کی کہ جناب زید امامت کا دعوی کرتے تھے، تردید کی ہے اور جناب زید کو اس طرح کے دعووں سے بلند قرار دیا ہے۔(۲۵)

بہرحال نتیجہ اس مختصر سی بحث کا یہ ہے کہ اگر خاندان اہل بیت سے امامت کی مخالفت میں کوئی کھڑاہوتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ امامت اہل بیت میں نہیں تھی اور اگر ہم اعتراض کرنے والے کے اعتراض کو قبول کرلیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ کیونکہ ابولہب وغیرہ نے رسول خدا (ص)کی مخالفت کی تھی اسی لیے نعوذ باللہ پیامبر (ص) حق پر نہیں تھے۔ اور یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ جس طرح اہل سنت جناب ابو بکر کی خلافت کو حق تسلیم کرتے ہیں تو چونکہ جناب محمد بن ابی بکر اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے جناب ابوبکر کی خلافت کے مسند پر بیٹھنے کی مخالفت کی تو جناب ابوبکر کی خلافت صحیح نہیں تھی کیونکہ ان کے بیٹے اور پوتے نے ان کی مخالفت کی تھی جبکہ یہ حقیقت ہے کہ اہل سنت اس طرح کی مخالفتوں پر توجہ نہیں دیتے۔

تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لوگوں کو حق پر تولا جاتا ہے نہ حق کو لوگوں کے رویوں پر۔ لوگوں کی حق سے مخالفت حق کو صحیح یا باطل نہیں کرتی۔

و الحمد لله رب العالمین

۱. ۱۲۱,۳المستدرک علی الصحیحین،

۲. اس مطلب کو مزید سمجہنے کے لئے دیکھیں سورہ منافقین/۱ احزاب/۱۲ آل عمران/۱۵۳ ۱۵۴ حجرات/۱۶ انفال/۱۵ ۱۶

۳. صحیح بخاری ۸ /۱۲۰

۴. تاریخ الطبری ج۳ ص ۱۴۶

۵. الفتوح ج ۱ ص ۲۳

۶. الفتوح ج ۱ ص ۴۰ ج۲ ص ۴۱۵

۷. مستدرک حاکم ج۳ ص ۲۴

۸. کنز الایمان ج ۹ ص۱۵۴/۵۵۵

۹. مستدرک حاکم ج۳ ص ۱۶۵/۱۶۸/۱۴/۱۲۵

۱۰. الامامیہ و السیاسیہ ج ۱ ص ۱۲/۱۳

۱۱. شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ج ۱۷ ص۱۸۲ و ج۱ ص ۱۵۹

۱۲. تاریخ طبری حوادث سال سوم

۱۳. الملل و النحل شہرستانی ص ۲۳ مقد مہ چار شرح ابن ابی الحدید ج۱ ص ۱۰۹

۱۴. منہاج السنہ ابن تیمیہ ج۸ ص ۵۶۶

۱۵. صواعق المحرکہ

۱۶. جناب مظفر نے السقیفہ میں لکھا ہے کہ ابو بکر نے نماز پڑھانے کی کوشش پیغمبر(ص) کی وفات کے روز فجر کے وقت کی اور طلوع آفتاب کے وقت ابو بکر "سخ" جا چکے تہے شرح ابن الحدید ج۲ ص ۴۰

۱۷. شرح ابن الحدید ج ۹ ص ۱۹۷ و ج۱۳ ص ۳۳

۱۸. مسند احمد ج ۴ ص ۳۲۹ صحیح بخاری کتاب شروط ج۲ ص ۲/۱۲ الدر المنثور ج۶ ص ۷۷

۱۹. ان نکات کو سید شرف الدین عاملی کی کتاب النص والاجتہاد مین دیکہا جا سکتا ہے

۲۰. الملل و النحل شہرستانی ج۱ ص ۵۷/۵۸

۲۱. سیر اعلام الانبیا ج۱۹ ص ۳۲۸

۲۲. مسند احمد ابن حنبل ج۲ ص ۳۲۸ صحیح بخاری کتاب الاعتصام با الکتاب و السنہ رقم ۷۳۱۹

۲۳. الدر المنثور ج۵ ص ۱۹۹ نور الابصار ص۱۱۲ تفسیر برہان ج ۳ ص ۳۱۸ شواہد التنزیل ج۲ ص ۵۰/۹۱

۲۴. کفایہ الاثر ۳۰۴

۲۵. عیون اخبار رضا ج۱ باب ۲۵ ص ۲۴۱