تقيه اسلام کی نگاہ میں

تقيه  اسلام کی نگاہ میں0%

تقيه  اسلام کی نگاہ میں مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 336

تقيه  اسلام کی نگاہ میں

مؤلف: غلام مرتضي انصاری
زمرہ جات:

صفحے: 336
مشاہدے: 32636
ڈاؤنلوڈ: 915

تبصرے:

تقيه اسلام کی نگاہ میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 336 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 32636 / ڈاؤنلوڈ: 915
سائز سائز سائز
تقيه  اسلام کی نگاہ میں

تقيه اسلام کی نگاہ میں

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

تقيه اسلام کی نگاہ میں

تأليف

غلام مرتضي انصاري

gmansari۶۱@gmail.com

۳

( بسم الله الرحمن الرحیم )

( مَن كَفَرَ بِاللهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنِ‏بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ ) ( بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ )

( مِّنَ اللهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔ نحل/ ۱۰۶

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لئےسخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے

لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"

۴

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله ربّ العالمین والصلوه والسّلام علی محمد ٍ وآله الطاهرین المعصومین ولعته الله علی اعدائهم اجمعین الی قیام یوم الدین ۔

مقدمه

تقیہ ایک اسلامی اور قرآنی قانون اورحکم ہے جسے عقل بھی قبول کرتی ہے اور فطرت انسانی بھی ۔ اسی لئے ہر عاقل اور باشعور انسان اسے تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن ایک متعصّب گروہ (وہابی)اہلبیت اطہارعليهم‌السلام کے ماننے والوں کی دشمنی میں تقیہ کا اصلی اسلامی چہرہ مسخ کرکے اسے منافقت ،بزدلی ، جھوٹ ، ۔۔۔ سے تشبیہ دے کر شیعیان حیدر کرار پر قسم قسم کی تہمتیں لگاتے ہیں ، جبکہ قرآن کی صریح آیتیں اس کی مشروعیت اور حقانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔

اسی کے پیش نظر یہ کتاب لکھی گئی ہے کہ ان اعتراض کرنے والوں کوقرآن ، حدیث ،اجماع اور عقلی دلائل کے ساتھ اطمینان بخش اور مستدل جواب دیا جائے اور ان کے عزائم کو برملا کیا جائے ۔اس امید کے ساتھ کہ حقیقت کےطلب گاروں کے ذہنوں میں ان عناصر کی ایجاد کردہ اشکالات اور ابہامات اورغلط فہمیوں کو دور کرسکے، جو اس مکتب کے ماننے والوں کے بارے میں پیدا کی گئی ہیں ۔

چنانچه ان مباحث کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ تقیہ کا لغوی معنی اپنی جان بچانا ہے اور اصطلاحی تعریف ،دشمن کا ہم عقیدہ ہوکر باطن کے خلاف زبان پرکلمات ادا کرنا ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ جو بات دل میں ہے وہ حق ہو۔یعنی دل میں ایمان اور زبان پرایمان کے خلاف کلمہ جاری ہو۔

۵

تقیہ کے شرائط ، آثار ، اقسام اور اس کی مشروعیت کو قرآن ، سنت ،عقل اور فطرت کے ذریعے ثابت کیا گیاہے ۔

تقیہ کی تاریخی حیثیت (قبل از اسلام اور بعد از اسلام )کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے ۔

اسی طرح تقیہ کے واجب ہونے، مباح ہونے ، اور حرام ہونے کے موارد کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا گیا هے کہ تقیہ صرف مکتب تشیع کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام اسلامی اور غیر اسلامی مکتب فکر والے بھی تقیہ کرنے کو ایک عاقلانہ فعل سمجھتے ہیں ۔اگر کوئی اس کو عقل اور شریعت کے خلاف سمجھتا ہے تو خود اس کی عقل اور عقیده پر شک کرنا چاہئے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قرآن اور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اللہ کے پاک نبیوںؑ کی سیرت میں بھی جگہ جگہ ملتا ہے تو پھر کیوں صرف شیعوں پر الزام تراشی کرتے ہیں؟

جواب بہت سادہ ہے ، وہ یہ ہے کہ پوری تاریخ میں شیعیان حیدر کرار ہر زمانے میں حکومت اور خلافت کیلئے آنکھوں کا خار بنتے رهے ، اور ہمیشہ ظالم و جابر حاکموں کے خلاف آواز بلند کرتے رهے ۔ جس کی وجہ سے ظالموں کے ظلم وبربریت کا شکار اور قتل ہوتے رهے ،اور اپنی جان بچانے کیلئے تقیہ کے ذریعے اپنے عقائد اور اعمال کو چھپانے پر مجبور ہوتے رهے ۔

چناچہ ہر انسان اپنی جان ،مال ، ناموس اور عزت کو بچانے کی خاطر بعض اوقات تقیہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور یہ اسباب ہر انسان کیلئے مختلف ہوتے ہیں ۔اس کتاب کے دوسرے حصے میں وہابیوں کی طرف سے کئےہوئے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے ثابت کیا گیاہے کہ تقیہ نہ بدعت ہے نہ جھوٹ اور بہتان ہے ، نہ علم امامت کے منافی ہے ،نہ سلونی سلونی قبل ان تفقدونی سے منافات رکھتا ہے ، اور نہ حرام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حلال کا باعث ہے نہ اس کے برعکس۔اور نہ جہاد کے منافی ہے اور نہ امر بہ معروف ونہی از منکر کے منافی ہے ۔

۶

ان مباحث کے ذیل میں خود وہابیوں سے کچھ سوال کئے گئے ہیں کہ کس طرح تقیہ کو دوسروں پر تہمت لگانے کا بہانہ بنادیتے ہو جبکہ قرآن مجید میں تقیہ کرنے والوں کی اللہ اور اس کے رسول نے مدح سرائی کی ہے؟!

اور یہ بھی یاد رہے کہ اس موضوع کو اس لئے انتخاب کیاهے که مختلف ممالک جیسے پاکستان ، افغانستان ، ہندوستان، عربستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں سادہ لوح مسلمانوں کوشیعیت کے خلاف اکسانے اور مکتب اہل بیتعليهم‌السلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں عداوت ،نفرت ، شکوک اور دشمنی پیدا کرنے کی جو ناپاک کوششیں کی جارہی ہے ،اپنی توانائی اور صلاحیت کے مطابق ان کا سد باب کرسکے ۔

اس امید کے ساتھ حقیقت کے طلب گاروں کیلئے مکتب قرآن اور اہلبیتعليهم‌السلام تک رسائی کا یہ ایک وسیلہ بنے ،قرآن کریم کی آیات ، اہلبیت اطہارعليهم‌السلام کے فرامین اور اسلامی دانشوروں اور عالموں کے بیانات کو ایک کتاب کی شکل میں تألیف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، خداتعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ تمام عالم انسانیت کو راہ حق اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے اور جو ہدایت یافتہ ہیں ان کو ثابت قدم رکھے ، اور امربه معروف ونهي از منکرکرنے والوں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔

آمین

وَالسَّلامُ عَليٰ مَن اتَّبَعَ الهُديٰ

غلام مرتضي انصاري

۷

پہلی فصل

کلیات تقیہ

۸

پہلی فصل : کلیاتِ تقیہ

تقیہ کی تعريف

تقیہ کی لغوی تعریف ، تقوی اور اتقاء ہے جس سے مراد پرہیز کرنا، اپنے کو بچانا اور مراقبت کرناہے ۔

اور اصطلاحی تعریف یہ ہے :

التقيةُ سترُ الاعتقادِ و مكاتمةُ المخالفينَ و تركُ مظاهرتهم بما يعقب ضرراً في الدينِ و الدنيا ۔(۱)

____________________

۱:۔ صفری ،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ،ص۴۶۔

۹

يعني تقيه سے مراد اپنے اعتقادات کو دشمنوں سے چھپا رکھنا، تاکہ دینی ، دنیوی اور جانی نقصان سے محفوظ رہے ۔

اس تعریف میں دو مطلب نظر آتے ہیں : ایک یہ کہ اپنی باطنی اعتقاد ات کا چھپانا ، دوسرا معنوی اور مادی نقصان ہونے سے پہلے دفاع کرنا ۔اوراگر اجتماعي اور انفرادي مفاد اور مصلحتوں ميں ٹکراؤ هو جائے تو اجتماعی منفعتوں اور مصلحتوں کو ذاتی اور شخصی مفادات پر مقدم رکھنا ہے ۔

اہل بیتعليهم‌السلام کے ذریعے جو آثار ہم تک پہنچے ہیں ان میں تقیہ ؛ حسنہ ، مؤمن کی ڈھال ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ،تورية،عبادة السريه ، وقايةالدين،سلامت، خير الدنيا د وغیرہ کے نام سے پہچنوایا گیا ہے ۔(۱)

شيخ انصاري  اور تقیہ کی تعریف

آپ « رساله في التقيه» ميں فرماتے ہیں :

المراد من التقية هنا التحفظ عن ضررالغير

____________________

۱: ۔ محب الاسلام؛ شيعه مي پرسد،ج ۲،ص۲۸۱۔

۱۰

بموافقته في قول او فعل مخالف للحق ۔(۱)

تقیہ سے مراد اپنے آپ کو دشمنوں کے کہنے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ان کے شرّ اور نقصان سے بچانا ہے ۔اگرچہ ظاہراً حق کے خلاف کرنا پڑے ۔لیکن یہ تعریف جامع تعریف نہیں ہے کیونکہ تقیہ کی کئی اقسام جیسے مدارات والا تقیہ اس میں نہیں آسکتی ۔

شهيد اول  اورتقيه کی تعريف

شهيد اپنی کتاب (القواعد) میں فرماتے ہیں :

التقية مجاملة الناس بما يعرفون و ترك ما ينكرون حذرا من غوائلهم(۲)

تقيه سے مراد لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت رکھنے کی خاطر جانتے ہوئے بھی کئی کاموں کو چھوڑ دینا ، تاکہ درد سر سے بچ جائے ۔

یہ تعریف زیادہ تر مداراتي تقيه کی طرف اشارہ کرتی ہے ،جس میں پوری انسانیت خواہ مسلمان ہو یا کافر ، مخالف ہو یا موافق، سب شامل ہیں ، که انسانيت کے ناطے

____________________

۱:۔ شيخ اعظم انصاري؛ رسائل الفقهيه، ص۷۱۔

۲: عاملي و مشقي ؛ للقواعد و القوائد،ج۲،ص۱۵۵۔

۱۱

ايک دوسرے پر رحم کرے اور احترام کي نگاه سے ديکھے ۔اس سلسلے ميں اگر تقيه کرنے پر مجبور هوجائے تو اس کے لئے ضروري هے ،تقيه کرے ۔

تقيه کی جامع اور مانع تعريف

تقیہ کے مختلف موارد کے پیش نظر درج ذیل تعریف جامع اور مانع تعریف ہوگی :

التقية اخفاء حق عن الغيرا واظهار خلافه لمصلحة اقوي ۔(۱)

تقيه،حق کو دوسروں کی نظروں سے چھپانے کیلئے مخالفت کا اظهار کرنا ، اس شرط کے ساتھ کہ چھپائی جانے والی مصلحت ، اظہار کرنے والی مصلحت سے زیادہ اہم ہو۔اس عبارت میں (اخفاء حق اور اظہار خلاف )یہ دو ایسی عبارت ہے جس میں چھپائے جانے والا تقيه اور نہ چھپائے جانے والا تقیہ اور مدارات والا تقیہ سبھی شامل ہوجاتا ہے ۔لیکن كلمه مصلحت جو تعريف کا ثقیل ترین اور لغوی اوراصطلاحی معانی کے درمیان ارتباط پیدا کرنے والا نکتہ ہے ۔ اور اس طرح مصلحت یعنی مفسدہ کا دفع کرنا اور منفعت کا جلب کر نا مراد ہے ۔جس کی تقسیم بندی کچھ یوں کی جاسکتی ہے :

____________________

۱:۔ صفری،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ، ص ۵۱ ۔

۱۲

تقیہ یعنی مصلحت اندیشی

مصلحت کی دو قسمیں ہیں:

۱. نقصان سے بچنا" دفع ضرر"

۲. منفعت حاصل کرنا "جلب منفعت"

نقصان سے بچنا انفرادی ہے یا اجتماعی ۔

انفرادی نقصان خود تین طرح کے ہیں :

۱. جانی نقصان

۲. مالی نقصان

۳. شخصيت کو ٹھیس پہنچنا ۔

اجتماعی نقصان خود چار قسم کی ہیں :

۱. دین اسلام کو ضرر پہنچنا ،

۲. مذہب تشیع کو ضرر پہنچنا ،

۳. مسلمانوں کو ضرر پہنچنا،

۴. شیعوں کو ضرر پہنچنا ۔

۱۳

جلب منفعت بھی دو قسم ہیں:

۱. انفرادی ہے جو تقیہ کا مصداق نہیں بن سکتا ،

۲. اجتماعی ہے جس کی خود تین صورتیں بنتی ہیں :

۱. مسلمانوں کے درمیان وحدت اور یکجہتی کی حفاظت کرنا۔

۲. دین اسلام کیلئے عزت اور آبرو کاباعث بننا۔

۳. مکتب تشیع کیلئے عزت اور آ برو کا سبب بننا۔(۱)

تقیہ کے مزید نام:

روایات میں تقیہ کے مختلف نام آئے ہیں ۔ جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

دين الله ، جُنّة، تُرس ، حُصن ، صون ، شعار ، ايمان ، عزة، قرة العين ،سنن الانبياء ، سِرّ، حرز، خبأ ،حجا ب ، مدار اة ، ضروره ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ،بادة، تورية، عبادة السريه، وقايةالدين، سلامة، خيرالدنيا و(۲)

____________________

۱: ۔ ایضاً ، ص ۵۲۔

۲:۔ عادل علوی ;التقیہ بین العلام، ص ۵۳۔

۱۴

تقيه کے اقسام

آيات اور روايات کی روشنی میں تقیہ کي ا قسام:

مختلف اعتبار سے تقيه کی کئی قسمیں ہیں :

۱۔تقیہ خوفیہ

۱۔ مکتب اسلام پر ضرر کے خوف کی وجہ سے(۱) ۔

۲۔ دوسروں پر ضرر کے خوف کی وجہ سے ۔

۳۔ یا اپنے نفس ، ما ل اورآبرو پر ضرر کے خوف کی وجہ سے ۔

سبب کے اعتبار سے تقیہ کی دوا قسام ہیں:

خوفي اور مداراتي۔

اور خود تقيه خوفي یا حفظی کی تین اقسام ہیں :

____________________

۱: التقيه في رحاب العلمين(شيخ انصاري و امام خميني)،ص۱۳۔

۱۵

الف: تقيه جان ، مال ، عزت ، آبرو اور ان سے متعلقہ چیزوں کی وجہ سےکیاجائے ۔

ب: تقيه اپنے مؤمن بھائیوں کی خاطر ہو کہ ان پر کوئی ضرر یا نقصان نہ آنے پائے ۔

ج : تقيه دین مقدس اسلام پر کوئی ضرر یا آنچ آنے کے ڈر سے کیا جائے ۔ کیونکہ ممکن ہے خود مسلمانوں کے درمیان اختلافات پائے جائیں لیکن اسلام کے اوپر کوئی بات نہ آئے ۔

جو اختلاف اور نزاع پایا جاتا ہے ، وہ تقیہ خوفی میں ہے ۔ ورنه تقیہ مداراتی کہ لوگوں کے ساتھ نیک رفتاری اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے ؛ جسے ایک قسم کی ہوشیاری اور چالاکی تصور کیا جاتا ہے ۔

تقيه کو تقيه كننده کے اعتبارسےبھی کئی قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے : تقيه كننده : يا وہ ایک عام انسان ہےیا مذہبی رہنما ؤںمیں سے ہے ۔ جیسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او رآئمہ طاهرينعليهم‌السلام فقهاء اور مسئولين۔

تقيه کو تقیہ پر مجبور کرنے والے کے اعتبار سے دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں: کافر ہے یا مسلمان ۔

تقيه پرعمل کرنے کےاعتبار سےبھی کئی قسميں هيں ۔ جیسے : يا وہ فعل ،حرام ہےاورچھوڑ دينا واجب ہے ، یا اس فعل کا شرط یا جزا میں تقیہ کرنا ہے ۔

۱۶

تقيه احكام کےاعتبارسے يا واجب ہے يا حرام، يا مستحب يا مباح يا مكروه ،يا وجوب نفسي ہے يا وجوب غيري۔(۱)

تقيه خوفيه اعمال اور عبادات کا اہل سنت کے علماء اور فقہاء کے فتاوٰی کے مطابق عمل کرنا ، تاکہ اپني اور اپنے ہم مسلک افراد کی جان محفوظ رکھ سکے ۔

تقيه خوفيه کے موارد کو خود عاقل اور باہوش انسان تشخیص دے سکتے ہیں ۔جب ایک اہم اور مہم کام کے درمیان ٹکراؤ پيداہو جائے تو اہم کو مہم پر مقدم کرنا چاہئیے ۔اور تقیہ خوفیہ کی اسناد درج ذیل ہیں :

۱ ـ تقيه خوفيه کی پہلی دلیل:

سيد مرتضي علم الهدي نے اپنے رساله (محكم اور متشابه) میں تفسير نعماني سےنقل کیا ہے :عليعليه‌السلام نے فرمایا: خدا تعالي نے مؤمن کو کافروں کے ساتھ دوستي اور وابستگی سے منع کیا ہے لیکن تقیہ کے مواقع پر کفر ظاہر کرنے کی اجازت دی

____________________

۱:انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ج۱،ص ۲۷۷۔

۱۷

گئی ہے پھر اس آیہ شریفہ کی تلاوت کی :

( لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ ) ۔(۱)

"خبردار صاحبانِ ایمان مؤمنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے"

کہتے ہیں کہ یہ مؤمنین کیلئے رخصت دینا، خدا کی رحمت اورتفضل ہے كه تقيه کے موقع پر ظاہر ہوتا ہے ۔(۲)

۲ ـ تقيه خوفيه کی دوسری دلیل:

طبرسي نےاميرالمؤنينعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں طبیب یونانی سے گفتگو کرنے اور کچھ اسرار ولایت دکھانے کے بعد

____________________

۱: سوره آلعمران/۲۸۔

۲: وسائل الشيعه،باب امر بالمعروف،باب۲۹۔

۱۸

وظیفہ شرعی کے بیان کرنے کے ضمن میں تمہیں دستور دونگا کہ تم اپنے دین میں تقیہ پر عمل کرو ۔ جیسا کہ خداوند تعالی نے فرمایا: : لا يتخذ المؤمنون۔۔۔تمہیں اجازت دونگا کہ جب بھی تمہیں کوئی مجبور کرے اور تمہیں خوف پیدا ہوجائے تو تم اپنے دشمنوں کی تعریف کرو اور ہم سے دشمنی کا اظہار کرو۔ اگر واجب نمازوں کے پڑھنے سے جان کا خطرہ ہو تو ، ترک کردو ۔اس طرح کچھ دستور دینے کے بعد فرمایا: حالانکہ تمہارے دل میں ہماری محبت پائی جاتی ہے اور ہماری پیروی کرتے ہو ۔مختصر وقت کیلئے ہم سے برائت کا اظہار کرکے اپنی جان ، مال ناموس اور دوستوں کو طولانی مدت کیلئے بچالو؛ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تم پرآسانی کے دروازے کھول دے ۔ اور یہ بہتر ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے دوستوں کی خدمات اور دینی امور میں ان کی اصلاح کرنے میں کوتاہی سے بچے ۔

(۱)

____________________

۱: علی تہرانی ؛ تقیہ در اسلام، ص ۵۰۔

۱۹

۲۔تقيه اكراهيه

مجبور شخص کا جابر اور ظالم شخص کے دستور کے مطابق عمل کرنا تاکہ اپنی جان بچائی جاسکے اور مال دولت اور عزت کو برباد ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

اس کے مصداق حضرت عمار بن یاسر ہیں ۔ جن کے بارے میں قرآن فرمارها ہے:

( مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔(۱)

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لئے سخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"

اس آیۃ شریفہ کی شان نزول میں مفسرين کا کہنا ہے : جب پیغمبر اسلام

____________________

۱:نحل ۱۰۶۔

۲۰