تقيه ايک قرآني اصول

تقيه ايک قرآني اصول0%

تقيه ايک قرآني اصول مؤلف:
زمرہ جات: اصول دین
صفحے: 23

تقيه ايک قرآني اصول

مؤلف: غلام مرتضي انصاری
زمرہ جات:

صفحے: 23
مشاہدے: 6146
ڈاؤنلوڈ: 474

تبصرے:

تقيه ايک قرآني اصول
  • مقدمہ

  • تقیہ کے اسباب

  • پہلی فصل :

  • کلیات

  • تعريف

  • شيخ انصاري(رہ)اور تقیہ کی تعریف

  • شهيد اول (رہ) اورتقيہ کی تعريف

  • تقيہ کی جامع اور مانع تعريف

  • مصلحت کی قسمیں

  • روايات میں تقیہ کے نام:

  • تقيہ کے آثارا ور فوائد

  • • اسلام کی حفاظت اور تقویت

  • شرائط تقيہ

  • دوسری فصل:

  • تقیہ تاریخ کے آئنے میں

  • الف:ظهوراسلام سے پهلے

  • حضرت آدم(ع) اور تقيہ

  • حضرت ابراهيم(ع)او رتقيہ

  • حضرت يوسف(ع)ا ور تقيہ

  • حضرت موسي(ع)اورتقيہ

  • مؤمن آل فرعون اور تقيہ

  • آسيہ بنت مزاحم اور تقيہ

  • اصحاب كهف او رتقيہ

  • ب:ظهور اسلام کے بعد تقيہ

  • ابو طالب(ع) اور تقيہ

  • پيامبر اكرم(ص) ا ور تقيہ

  • علي(ع) اور تقيہ

  • حسنين و زين العابدين (ع) اور تقيہ

  • امام باقر(ع) او رتقيہ

  • امام صادق(ع) اور تقيہ

  • امام موسي كاظم(ع) اور تقيہ

  • اس دورمیں تقيہ امام(ع)کے بعض موارد

  • امام رضا(ع)اور تقيہ

  • امام هادي(ع) اور تقيہ

  • امام جواد(ع) اور تقيہ

  • امام حسن العسكري(ع) اور تقيہ

  • حضرت حجت(عج) اور تقيہ

  • ۱. ابو عمرو عثمان ابن سعيد عمري

  • ۲. ابو جعفر محمد بن عثمان

  • ۳. ابو القاسم حسين بن روح

  • ۴ـ علي ابن محمد السمري(رہ)

  • اسلامي فرقے اورتقيہ

  • تقيہ اور احاديث اهل سنت

  • تقیہ اور دیدگاہ صحابہ

  • عمر بن خطاب (ت ۲۳ھ) اور تقیہ

  • عبد اللہ ابن مسعود(ت ۳۲ھ)اور تقیہ

  • ابو الدرداء(ت۳۲ھ)اور تقیہ

  • ابو موسی اشعری(ت۴۴ھ)اور تقیہ

  • ثوبان (ت۵۴ھ) غلام پیامبر(ص) اور تقیہ

  • ابو ہریرہ (ت۵۹ھ) اور تقیہ

  • امام شافعی اور تقیہ

  • امام مالك او رتقيہ

  • ابو بكرا ور تقيہ

  • امام احمد بن حنبل اور تقيہ

  • حسن بصری (ت۱۱۰ھ)اور تقیہ

  • بخاری (ت۲۵۶ھ) اور تقیہ

  • وہابی مذہب کے علمائےرجال اور تقیہ

  • اسلامی فرقے اور ان کے فقہ میں تقیہ

  • فقہ مالکی اورتقیہ

  • فقہ حنفی اورتقیہ

  • فقہ شافعی اورتقیہ

  • فقہ حنبلی اورتقیہ

  • تیسری فصل:

  • تقيہ کےاقسام

  • نمودار اقسام تقيہ

  • مداراتي

  • خوفي

  • آيات ، روايات کی روشنی میں تقیہ کي چار قسميں:

  • اقسام تقيہ کی تشريح

  • تقيہ خوفيه اوراسکے اسناد

  • تقيہ كتمانيہ

  • تقيہ كتمانيہ کی دلیل

  • تقيہ مداراتي

  • تقيہ اور توريہ میں موازنہ

  • تقيہ ، اكراه اور اضطرارکے درمیان میں تقابل

  • چوتھی فصل:

  • دلائل مشروعيت تقيہ

  • مقدمہ

  • الف: قرآن

  • اگر تقيہ جائز نہیں تو ان ساري آیتوں کا کیا کروگے؟!

  • ب: سنت

  • ۱.تقيہ، پیامبر(ص) کی تدبير

  • ۲ .تقيہ،مقدس اهداف کے حصول کا ذریعہ

  • ۳.نقش تقيہ اورجنگ موتہ

  • ۴. فتح مكہ میں تقيہ کا کردار

  • ۵ . تقيہ دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی وسیلہ

  • ۶ ـ تقيہ مؤمن کی روشن بيني

  • ۷ .تقيہ مؤمن کا ڈھال ہے

  • ۸ . تقيہ پيامبران مجاهدکی سنت

  • ۹ .تقيہ ،مجاهدوں کا مقام 98

  • ۱۰ . تقيہ ،مسلمانوں کےحقوق کی حفاظت 99

  • ج . عقل 99

  • ۱.دفع ضرر 100

  • ۲ـ مہم پر اہم کا مقدم کرنا 101

  • د : فطرت 102

  • ه : اجماع 103

  • پانچویں فصل 105

  • وجوب تقيہ کے موارد اوراس کا فلسفہ 105

  • ۱. طاقت کی محافظت 106

  • ۲. پروگرام کو چھپانے کے خاطر تقیہ 107

  • ۳ ـ تقيہ دوسروں کی حفاظت کیلئے 108

  • وہ روایات جو وجوب تقيہ پردلالت کرتی ہیں : 110

  • کیابطورتقیہ انجام دئے گئے اعمال کی قضا ہے 112

  • کیا خلاف تقيہ عمل باطل ہے ؟ 114

  • وہ موارد جہاں تقيہ حرام ہے 115

  • ۱. تقيہ کامفهوم 116

  • ۲. تقيہ کاحكم 116

  • تحريم تقيہ کےموارد اور اس کا فلسفہ 117

  • ۱. جہاں حق خطر ے میں پڑ جائے 117

  • ۲.جہاں خون خرابہ کا باعث ہو 117

  • ۳. وہ موارد جہاں واضح دليل موجود ہو 118

  • ۴. شارع اور متشرعين کے نزدیک زیادہ اہميت والے موارد 119

  • چھٹی فصل 120

  • تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات 120

  • شبہات کی تقسيم بندي 122

  • •وہ شبہات جو مربوط ہے تشريع تقيہ سے 122

  • •وہ شبہات جو امام معصوم(ع) کے تقيہ سے مربوط ہے 122

  • •وہ شبہات او ر تهمتيں جوشيعوں کے تقيہ سے مربوط هيں: 123

  • تشريع تقيہ سے مربوط شبہات کی تفصيل: 124

  • تقيہ اور جھوٹ : 124

  • شيخ طوسیS کا جواب 126

  • تقيہ يعني منافقت! 127

  • تقيہ، جهادکے متنافی 130

  • تقيہ اور آيات تبليغ کے درمیان تعارض 131

  • تقيہ اور ذ لّت مؤمن 133

  • تقيہ ،ما نع امر بہ معروف 133

  • تقيہ امام معصوم(ع)سےمربوط شبہات 134

  • تقيہ اور امام(ع) کا بیان شريعت 135

  • امام (ع) کتقيہ اور شيخ طوسي(رہ) 136

  • امام(ع)کیلئے تقیہ جائز ہونے کے شرائط 136

  • تقيہ، فرمان امام(ع) پر عدم اعتماد کاباعث 137

  • تقيہ اور علم امام (ع) 137

  • دوسرا نظریہ :

  • اس شبہہ کا جواب 141

  • تقيہ اور عصمت 141

  • بجائےتقيہ؛ خاموشی کیوں اختیار نهیں کرتے؟ 142

  • تقيہ کے بجائے توریه کیوں نهیں کرتے ؟! 143

  • اس شبہہ کا جواب: 143

  • تقيہ اور دین کا دفاع 144

  • تقيہ « سلوني قبل ان تفقدوني» کے منافی 145

  • تقيہ اور شجاعت 146

  • تقيہ اور تحليل حرام و تحريم حلال 148

  • تقيہ ا يك حكم اختصاصي هے يا عمومي؟ 148

  • کیوں کسی نے تقیه کیا اور کسی نے نهیں کیا ؟! 151

  • وہ شبہات ا ور تّهمتیں جو شیعوں کے تقیه سے مربوط هیں : 154

  • تقيہ شیعوں کی بدعت 154

  • تقيہ، مكتب تشيع کا اصول دين ؟! 155

  • تقيہ، زوال دين کا موجب ؟! 157

  • امام کی پيروي اور تقیه کے درميان تناقض 158

  • فتواي تقيہ امام (ع)کي تشخيص 159

  • تقيہ اورشیعوں کا اضطراب! 160

  • تقيہ كافروں سے کیا جاتا هے نه مسلمانوں سے 170

  • تتمہ 176

  • وہ لوگ خود قابل مذمت هیں 176

  • ان لوگوں کو کيا غم ؟! 181

  • كتاب نامہ 185

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 23 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 6146 / ڈاؤنلوڈ: 474
سائز سائز سائز
تقيه ايک قرآني اصول

تقيه ايک قرآني اصول

مؤلف:
اردو
مقدمہ تقيہ ايک قرآني اصول
تأليف
غلام مرتضي انصاري
۱۴۳۲ھ
مقدمہ تقیہ اسلامی اور قرآنی قوانین میں سے ایک قانون ہے جسے عقل بھی قبول کرتی ہے اور طبیعت بھی . اسی لئے ہر عاقل انسان اس پر عقیدہ رکھتا ہے . لیکن بعض متعصب اور اسلام دشمن عناصر اور نام نہاد علماء، اہلبیت اطہار(ع) کے ماننے والوں کی دشمنی میں طرح طرح کے بیهودہ اشکالات اور جھوٹے الزامات لگا کر اپنی قرآن اور اہلبیت (ع) دشمنی کو ثابت کرتےہیں . اور تقیہ کا اصل اسلامی چہرہ مسخ کرکے اسے منافقت ،بزدلی ، جھوٹ ، ... سے تشبیہ دے کر شیعیان حیدر کرار (ع)پر قسم قسم کی تہمتیں لگا تے ہیں ، جبکہ قرآن کی صریح آیتیں اس کی مشروعیت اور حقانیت پر دلالت کرتی ہیں .
اسی کے پیش نظر یہ کتاب لکھی جاتی ہے کہ دشمن اہلبیت (ع) کوقرآن ، حدیث ،اجماع اور عقلی ٹھوس دلائل کے ساتھ قانع کننده جواب دیا جائے اور ان کی ناپاک عزائم کو برملا کرے .اس امید کے ساتھ کہ حقیقت کےطلب گاروں کے ذہنوں میں اسلام دشمن عناصر کی ایجاد کردہ اشکالات اور ابہامات اورغلط فہمیوں کو دور کرسکے، جو اس مکتب کے ماننے والوں کے بارے میں پیدا کی گئی ہیں .
چنانچه ان مباحث کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ تقیہ کا لغوی معنی اپنی جان بچانا ہے اور اصطلاحی تعریف ،دشمن کا ہم عقیدہ ہوکر خلاف باطن زبان پر لانا ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ جو بات دل میں ہے وہ حق ہو.یعنی دل میں ایمان اور زبان پر کفر ہو.
تقیہ کے شرائط ، آثار ، اقسام اور اس کی مشروعیت کو قرآن ، سنت ، عقل اور فطرت کے ذریعے ثابت کیا ہے .
تقیہ کی تاریخی بحث کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے .خصوصاً ائمہ طاہرین (ع) اور ان کے ماننے والوں پر جو اعتراضات اور اشکالات کئے جاتے ہیں ان کا مستدل جواب دیا گیا ہے .
دوسرے حصے میں تقیہ کے واجب ہونے، مباح ہونے ، اور حرام ہونے کے موارد کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا گیا هے کہ تقیہ صرف مکتب تشیع کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام اسلامی اور غیر اسلامی مکتب فکر والے بھی تقیہ کرنے کو ایک عاقلانہ فعل سمجھتے ہیں .اگر کوئی اس کو خلاف عقل اور شریعت سمجھتا ہے تو خود اس کی عقل اور عقیده پر شک کرنا چاہئے .
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قرآن اور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اللہ کے پاک نبیوں کی سیرت میں بھی جگہ جگہ ملتی ہے تو پھر کیوں صرف شیعوں پر الزام تراشی کرتے ہیں؟
جواب بہت سادہ ہے ، وہ یہ ہے کہ پوری تاریخ میں شیعیان حیدر کرار(ع) ہر زمانے میں حکومت اور خلافت کیلئے آنکھوں کا خار بنتے رهے ، اور ہمیشہ ظالم و جابر حاکموں کے خلاف آواز بلند کرتے رهے . جس کی وجہ سے ظالموں کے ظلم وبربریت کا شکار اور قتل ہوتے رهے ،اور اپنی جان بچانے کیلئے تقیہ کے ذریعے اپنے عقائد اور اعمال کو چھپانے پر مجبور ہوتے رهے .

تقیہ کے اسباب انسان اپنی جان ،مال ، ناموس اور عزت کو بچانے کے خاطر بعض اوقات تقیہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں. اور یہ اسباب ہر انسان کیلئے مختلف ہوتے ہیں .اس کتاب کے دوسرے حصے میں وہابیوں کی طرف سے کئےہوئے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تقیہ نہ بدعت ہے نہ جھوٹ اور بہتان ہے ، نہ علم امامت کے منافی ہے ،نہ سلونی سلونی قبل ان تفقدونی سے منافات رکھتا ہے ، اور نہ حرام محمد(ص) کے حلال کا باعث ہے نہ اس کے برعکس.اور نہ جہاد کے منافی ہے اور نہ امر بہ معروف ونہی از منکر کے منافی ہے .
ان مباحث کے ذیل میں خود وہابیوں سے کچھ سوال کئے گئے ہیں کہ کس طرح تقیہ کو دوسروں پر تہمت لگانے کا وسیلہ بنادیتے ہو جبکہ قرآن مجید میں تقیہ کرنے والوں کی اللہ اور ان کے رسول نے مدح سرائی کی ہو؟!
اور یہ بھی یاد رہے کہ اس موضوع کو اس لئے انتخاب کیاهے که مختلف ممالک جیسے پاکستان ، افغانستان ، ہندوستان، عربستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں سادہ لوح مسلمانوں کوشیعیت کے خلاف اکسانے اور مکتب اہل بیت (ع) کے خلاف لوگوں کے دلوں میں عداوت ،نفرت ، شکوک اور دشمنی پیدا کرنے کی ناپاک کوششیں کی جارہی ہے ، کا سد باب ہوسکے . اس امید کے ساتھ حقیقت کے طلب گاروں کیلئے مکتب قرآن اور اہلبیت (ع) تک رسائی کا یہ ایک وسیلہ بنے ،قرآن کریم کی آیات ، اہلبیت اطہار (ع) کے فرامین اور اسلامی دانشوروں اور عالموں کے بیانات کو ایک کتاب کی شکل میں تألیف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، خداتعالی سے یہی دعا ہے کہ تمام عالم انسانیت کو راہ حق اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے اور جو ہدایت یافتہ ہیں ان کو ثابت قدم رکھ ، اور امربہ معروف ونهي از منکرکرنے والوں کی توفیقات میں اضافہ فرمایئے . آمین
والسلام علي من اتبع الهدي
غلام مرتضي انصاري
۶محرم الحرام ۱۴۲۹


۱
پہلی فصل : کلیات تقيہ ايک قرآني اصول

پہلی فصل : کلیات تعريف تقیہ کی لغوی تعریف ، تقوی اور اتقاء ہے جس سے مراد پرہیز کرنا، اپنے کو بچانا اور مراقبت کرناہے .
اور اصطلاحی تعریف یہ ہے :التقية ستر الاعتقاد و مكاتمة المخالفين و ترك مظاهرتهم بما يعقب ضررا في الدين و الدنيا.(١ ) يعني تقيہ سے مراد اپنے اعتقادات کو دشمنون سے چھپا رکھنا، تاکہ دینی اور دنیوی اور جانی نقصان سے محفوظ رہے .
اس تعریف میں دو مطلب دیکھنے میں آتا ہے : ایک یہ کہ اپنی باطنی اعتقاد کا چھپانا ، دوسرا معنوی اور مادی نقصان کے وارد ہونے سے پہلے دفاع کرنا .اوراگر اجتماعي اور انفرادي مفاد اور مصلحتوں ميں ٹکراؤ هو جائے تو اجتماعی منفعتوں اور مصلحتوں کو ذاتی اور شخصی مفادات پر مقدم رکھنا ہے .
اہل بیت (ع) کے ذریعے جو آثار ہم تک پہنچے ہیں ان میں تقیہ ؛ حسنہ ، مؤمن کی ڈھال ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ،تورية،عبادة السريه ، وقايةالدين،سلامت، خير الدنيا د وغیرہ کے نام سے پہچنوایا گیا ہے . (٢ )

شيخ انصاري(رہ)اور تقیہ کی تعریف آپ « رساله في التقيہ» ميں فرماتے ہیں :المراد من التقية هنا التحفظ عن ضررالغير بموافقته في قول او فعل مخالف للحق.(٣ ) تقیہ سے مراد اپنے آپ کو دشمنوں کے کہنے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ان کے شر اور نقصان سے بچانا ہے .اگرچہ ظاہراً حق کے خلاف کرنا پڑے .لیکن یہ تعریف جامع تعریف نہیں ہے کیونکہ تقیہ کی کئی اقسام جیسے مدارات والا تقیہ اس میں نہیں آسکتی .

شهيد اول (رہ) اورتقيہ کی تعريف شهيد اپنی کتاب (القواعد) میں فرماتے ہیں :التقية مجاملة الناس بما يعرفون و ترك ما ينكرون حذرا من غوائلهم .(٤ ) يعني تقيہ سے مراد لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت رکھنے کے خاطر جانتے ہوئے بھی کئی کاموں کو چھوڑ دینا ، تاکہ درد سر سے بچ جائے .
یہ تعریف زیادہ تر مداراتي تقيہ کی طرف اشارہ کرتی ہے ،جس میں پوری انسانیت خواہ مسلمان ہو یا کافر ، مخالف ہو یا موافق، سب شامل ہیں ، که انسانيت کے ناطے ايک دوسرے پر رحم کرے اور احترام کي نگاه سے ديکھے .اس سلسلے ميں اگر تقيہ کرنے پر مجبور هوجائے تو اس کے لئے ضروري هے ،تقيہ کرے .

تقيہ کی جامع اور مانع تعريف تقیہ کے مختلف موارد کے پیش نظر درج ذیل تعریف جامع اور مانع تعریف ہوگی : التقية اخفاء حق عن الغيرا واظهار خلافه لمصلحة اقوي .(٥ ) تقيہ،حق کو دوسروں کی نظروں سے چھپانے کیلئے مخالفت کا اظهار کرنا ، اس شرط کے ساتھ کہ چھپائی جانے والی مصلحت ، اظہار کرنے والی مصلحت سے زیادہ مہم تر ہو.اس عبارت میں (اخفاء حق اور اظہار خلاف )یہ دو ایسی عبارت ہے جس میں چھپائے جانے والا تقيہ اور نہ چھپائے جانے والا تقیہ اور مدارات والا تقیہ شامل ہوجاتا ہے .لیکن كلمه مصلحت جو تعريف کا ثقیل ترین اور لغوی اوراصطلاحی معانی کے درمیان ارتباط پیدا کرنے والا نکتہ ہے . اور اس طرح مصلحت یعنی مفسدہ کا دفع کرنا اور منفعت کا جلب کر نا مراد ہے .جس کی تقسیم بندی کچھ یوں کی جاسکتی ہے :

مصلحت کی قسمیں مصلحت کی دو قسمیں ہیں:
١. نقصان سے بچنا" دفع ضرر"
٢. منفعت حاصل کرنا ہے "جلب منفعت"

نقصان سے بچنا انفرادی ہو یا اجتماعی .
انفرادی نقصان خود تین طرح کے ہیں :
١. جانی نقصان
٢. مالی نقصان
٣. شخصيت کو ٹھیس پہنچنا .

اجتماعی نقصان خود چار قسم کی ہیں :
١. دین اسلام کو ضرر پہنچنا ،
٢. مذہب تشیع کو ضرر پہنچنا ،
٣. مسلمانوں کو ضرر پہنچنا،
٤. شیعوں کو ضرر پہنچنا .

جلب منفعت بھی دو قسم ہیں:
١. انفرادی ہے جو تقیہ کا مصداق نہیں بن سکتا ،
٢. اجتماعی ہے جس کی خود تین صورتیں بنتی ہیں :
١. مسلامنوں کے درمیان اتحاد اور وحدت کی حفاظت کرنا.
٢. دین اسلام کیلئے عزت اور آبرو کاباعث بننا.
٣. مکتب تشیع کیلئے عزت اور آ برو کا سبب بننا. (٦ )

روايات میں تقیہ کے نام: روایات میں تقیہ کے مختلف نام آئے ہیں . جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
۱. دين الله ، جنه ، ترس ، حصن ، صون ، شعار ، ايمان ، عزة ،قرة العين ،سنن الانبياء ، سر، حرز، خبأ ،حجا ب ، مدار اة ، ضروره ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ، عباده ، تورية، عبادة السريه ، وقايةالدين، سلامت، خير الدنيا و... . (٧ )
..............
(١ ) . صفری ،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ،ص۴۶.
(٢ ) . محب الاسلام؛ شيعه مي پرسد،ج ۲،ص۲۸۱.
(٣ ) . شيخ اعظم انصاري؛ رسائل الفقهيه، ص۷۱.
(٤ ) . عاملي و مشقي ؛ للقواعد و القوائد،ج۲،ص۱۵۵.
(٥ ) . صفری،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ، ص ۵۱ .
(٦ ) . ہمان ، ص ۵۲.
(٧ ) . عادل علوی ;التقیہ بین العلام، ص ۵۳.



۲
پہلی فصل : کلیات تقيہ ايک قرآني اصول

تقيہ کے آثارا ور فوائد • شہیدوں کے خون کی حفاظت
تقیہ کا بہترین فائدہ شہیدوں کے خون کی حفاظت ہے .یعنی پوری تاریخ میں شیعیان علی (ع) مظلوم واقع ہوتے رہے ہیں. جب بھی ظالموں کے مظالم کا نشانہ بنتےتھے تقیہ کرکے اپني جان بچاتےتھے.
چنانچہ امام صادق (ع)فرماتے هيں: اے ہمارے شیعو! تم، لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی ہے . اگر پرندوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ شہد کی مکھی کے پیٹ میں شہد موجود ہے ، تو سارے شهد کي مکھیوں کو کھاجاتے اور ایک بھی زندہ نہیں چھوڑتے ؛ اسي طرح اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ تمھارے دلوں میں ہم اہل بیت (ع) کی محبت موجود ہے تو تمھیں زخم زبان کے ذریعے کھا جائيں گے اور ہر وقت تمھاری غیبت اور بدگمانی میں مصروف رہيں گے . خدا ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے جو ہماری ولایت کو مانتے ہيں.(١ )

• اسلام کی حفاظت اور تقویت یہ تقیہ کا دوسرا فائدہ ہے کہ اہل بیت (ع)، اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اور تقویت کیلئے زیادہ کوشش کرتے تھے ، تاکہ اسلامی معاشرہ ایک واحد اور قدرت مند معاشرہ بنے ، تاکہ اسلام دشمن عناصر کبھی بھی اس معاشرے پر آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کرسکيں .
اس عظیم مقصد کے حصول کے خاطر ائمه طاهرين(ع) اپنے چاہنے والوں کو سخت تاکید فرماتے تھے .جيسا که حديث ميں آيا هے: قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع وَ عِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الشِّيعَةِ فَسَمِعْتُهُ وَ هُوَ يَقُولُ مَعَاشِرَ الشِّيعَةِ كُونُوا لَنَا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْناً قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً احْفَظُوا أَلْسِنَتَكُمْ وَ كُفُّوہا عَنِ الْفُضُولِ وَ قَبِيحِ الْقَوْل.(٢ )
چنانچه امام صادق(ع)فرماتے ہیں : اے ہمارے شیعو! خبردار! کوئی ایسا کام انجام نہ دیں ، جوہماری مذمت کا سبب بنے . لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کیا کریں ، اپنی زبانوں کی حفاظت کریں اور فضول اور نازیبا باتیں کرنے سے باز آئیں .
عَنْ هِشَامٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ إِيَّاكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا عَمَلًا نُعَيَّرُ بہ فَإِنَّ وَلَدَ السَّوْءِ يُعَيَّرُ وَالِدُهُ بِعَمَلِهِ كُونُوا لِمَنِ انْقَطَعْتُمْ إِلَيْهِ زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا عَلَيْهِ شَيْناً صَلُّوا فِي عَشَائِرِهِمْ وَ عُودُوا مَرْضَاهُمْ وَ اشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَ لَا يَسْبِقُونَكُمْ إِلَى شَيْ‏ءٍ مِنَ الْخَيْرِ فَأَنْتُمْ أَوْلَى بہ مِنْهُمْ وَ اللَّهِ مَا عُبِدَ اللَّهُ بِشَيْ‏ءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْخَبْ‏ءِ قُلْتُ وَ مَا الْخَبْ‏ءُ قَالَ التَّقِيَّة.(٣ )
راوی کہتا ہے کہ امام صادق(ع) نے فرمایا: خبردار ! تم کوئی ایسا کام کر نہ بیٹھيں جس کی وجہ سے هميں ذلت اٹھانا پڑے کیونکہ جب بھی کوئی اولاد برا کام کرتی ہے تو اس کے والدین کی لوگ مذمت کرنے لگتے ہیں.جب کسی سے دوستی کرنے لگے اور اس کی خاطر دوسروں سے دوری اختیار کرے ؛ اس کیلئے زینت کاباعث بنیں نہ مذمت اور بدنامی کاباعث . برادران اہل سنت کی نماز جماعت میں شرکت کریں ، ان کے مرنے والوں کے جنازے میں شریک ہو جائیں ، ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ تم سے کار خیر میں آگے ہو ں ، کیوں کہ اچھے کاموں میں تم لوگ ان سے زیادہ سزاوار ہیں . خدا کی قسم ! خبأسے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے . کسی نے سوال کیا : اے فرزند رسول (ص ) خبأ سے کیا مراد ہے ؟! تو امام نے جواب دیا : اس سے مرادتقیہ هے .
عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَ الْوَرَعِ وَ الِاجْتِهَادِ وَ صِدْقِ الْحَدِيثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَ حُسْنِ الْخُلُقِ وَ حُسْنِ الْجِوَارِ وَ كُونُوا دُعَاةً إِلَى أَنْفُسِكُمْ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ وَ كُونُوا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا شَيْناً وَ عَلَيْكُمْ بِطُولِ الرُّكُوعِ وَ السُّجُودِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَطَالَ الرُّكُوعَ وَ السُّجُودَ هَتَفَ إِبْلِيسُ مِنْ خَلْفِهِ وَ قَالَ يَا وَيْلَهُ أَطَاعَ وَ عَصَيْتُ وَ سَجَدَ وَ أَبَيْت.(٤ )
راوی کہتا ہے کہ میں نے امام صادق سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے : تم پر لازم ہے کہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرے ،کوشش اور تلاش کرے، سچ بات،امانت میں دیانت داری دکھائے ،اچھے اخلاق کا مالک بنے، اور اچھا پڑوسی بنے،اور لوگوں کو زبانی نہیں بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اچھائی کی طرف بلائیں .اور ہمارے لئے باعث افتخار بنے نہ باعث ذلت اور رسوائی.اور تم پر لازم ہے کہ طولانی رکوع اور سجدے کیا کریں ؛ جب تم میں سے کوئی رکوع اور سجود کو طول دیتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیچھے سے چیخ وپکار کرنےلگتا هے ، اور کهتا هے : واویلا ! اس نے خدا کی اطاعت اوربندگی کی، ليکن میں نے نافرمانی کی ، اس نے خدا کیلئے سجدہ کیا اور میں نے انکار کیا .
اگر ان دستورات کو آپ ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہو جائےگا کہ ائمہ طاہرین (ع) کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت پیداهوں اور صلح و صفا کے ساتھ زندگي کريں .

شرائط تقيہ تقیہ ہر صورت اور ہر موقع اور ہر جگہ صحیح نہیں ہے بلکہ خاص شرائط اور زمان و مکان میں جائز اور مطلوب ہے .جہاں باطل اور ناجائز کاموں کا اظہار کرنا جائز ہو ؛ صرف وہاں تقيہ کرسکتا هے. اسی لئے تقیہ کے شرائط اور اسباب کچھ اس طرح تنظیم ہوا ہے کہ اس کام کے بطلان اور قباحت کو اٹھائے گئے ہو . شيخ الطائفه( طوسي(رہ)) اپنے استاد سيدمرتضي(رہ) سے فعل قبیح کے مرتکب ہونے کے لئے تین شرط نقل کرتے ہیں:
١. اپنی جان کیلئے خطرہ ہو ، یعنی اگر اس قبیح فعل کو انجام نہ دے تو جان سے ماردینے کا خطرہ ہو .
٢. اس باطل فعل کے انجام دینے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو .
٣. قبیح فعل کے انجام دینے پر مجبورکيا جارها ہو .
اگر یہ تین شرطيں موجود ہو تو اس کام کی قباحت بھی دور ہوجاتی ہے .(٥ )
..............
(١ ) علامه كليني ؛ اصول كافي،ج۲،ص۲۱۸..
(٢ ) ۱ . أمالي الصدوق، ص ٤٠٠، جلسہ۶۲‏.
(٣ ) . وسائل الشيعة ‏، باب وجوب عشرة العامة بالتقية ،ج۱۶،ص٢١٩ .
(٤ ) . كافي ،باب الورع، ج‏٢ ، ص ٧٦.
(٥ ) . يزدي ،دكتر محمود؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي .


۳
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

دوسری فصل
تقیہ تاریخ کے آئنے میں

الف:ظهوراسلام سے پهلے تاريخی اعتبار سے تقيہ کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے ،جب وہ اپنے آپ کو دشمن کے سامنے عاجز محسوس کرے . اور یہ عاجزی انسان میں گام بہ گام احساس ہونے لگتا ہے .اور یہ ایک طبیعی چيز ہے کہ انسان اس خوف اور ہراس کو اپنے سے دور کرنے کی فکر کرے .اور اس طبیعی امر میں تمام عالم بشریت حتی تمام ذی روح "حیوانات" بھی شریک ہیں.
تقیہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اس لئے اسے زندگی کے صرف ایک حصے سے مخصوص نہیں کياجاسکتا .بلکہ زندگی کے تمام پہلو میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے .خواہ یہ اخطار بھوک اور پیاس کی شکل میں ہو یا گرمی ، سردی اور بیماری کی شکل میں ہو ؛ انسان ان خطرات سے بچنے کیلئے کوئی نہ کوئی راہ پیدا کر لیتا ہے . لیکن ان طبیعی خطرات میں کوئی جنگ و جدال کی ضرورت نہیں ہے . لیکن غیر طبیعی خطرات اور مشکلات کے موقع پر جیسے اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم وستم کو روکنے کا سبب هو تو تقیہ کرنا بہترہے .
اس فصل ميں هم بہت هي اختصار کے ساتھ انبياء اوراولياءالهي نے جهاں جهاں تقيہ کئے هيں ؛ ان موارد کو بيان کريں گے :

حضرت آدم(ع) اور تقيہ سب سے پہلی سزا اپنے بھائی کے حسد اور دشمنی کی بنا پر قتل کرنے کی وجہ سے ملی وہ حضرت آدم ہی کے زمانےمیں ان کے بیٹے کو ملی.قرآن اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرما رہا ہے : وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ
اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہا: میں تجھے ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا: اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے. اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں، میں تو عالمین کے پروردگار اللہ سے ڈرتا ہوں. میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اپنے گناہ میں تم ہی پکڑے جاؤ اور دوزخی بن کر رہ جاؤ اور ظالموں کی یہی سزا ہے .چنانچہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی اور اسے قتل کر ہی دیا، پس وہ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو گیا.
تاريخ بتاتي ہے چونکہ هابيل حضرت آدم(ع) کا وصی اور جانشین تھے ، ان کی شہادت کے بعد خلافت اور جانشینی ان کے بھائی شیث کی طرف منتقل ہوئی . اور سب سے پہلے جس نے تقیہ کیا وہ حضرت شيث (ع)تھا ، جس نے قابیل سے تقیہ کیا کہ اسے خدا تعالی نے علم عطا کیا تھا . اگر وہ تقیہ نہ کرتے تو روی زمین عالم دین سے خالی ہوجاتا.
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کے خلاف مقاومت اور مقابلہ کرنے سے عاجز اور ناتوان هونے کی صورت میں تقیہ کرنا جائزہوتاہے .
اور یہ ایک فطری چیز ہے کہ حضرت ہابیل نے جو چیز اسے خدا کی طرف سے عطا ہوئی تھی ، اپنے بھائی قابیل سے چھپایا . اور یہ ان کا چھپانا صرف اس لئے تھا کہ حق کو نااہل لوگوں کے ہاتھ لگنے سے بچایا جائے .
اور یہ ایک ایسی سنت ہے جس پر سارے انبيآء ، اوليآء اور صالحين(ع) نے عمل کئے ہیں.
طبري نے اپنی تاريخ میں روایت نقل کي ہے کہ : حضرت آدم(ع)اپنی وفات سے پہلے گیارہ دن مریض ہوئے اور اپنے بیٹے شيث(ع) کو اپنا جانشین بنانے کے بعد فرمایا: میری یہ وصیت نامہ قابیل سے چھپائے رکھنا.

حضرت ابراهيم(ع)او رتقيہ ابراهيم خليل(ع) نے بت پرستون اورمشركون کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ؛ یہاں تک کہ ان کی قوم اسے آگ میں جلانے کے لئے تیار ہوگئ . قرآن اس واقعے کو یوں بیان فرما رہا ہے :
َوَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بہ عَالِمِينَ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مّبِينٍ قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ قَالُوا مَن فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيم قَالُوا فَأْتُوا بہ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُو نَ قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوہمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ فَرَجَعُوا إِلَى أَنفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُمُ
الظَّالِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُؤُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءيَنطِقُونَ .
اور بہ تحقیق ابراہیم کو پہلے ہی سے عقل کامل عطا کی تھی اور ہم اس کے حال سے باخبر تھے جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے کہا: یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم جمے رہتے ہو؟ کہنے لگے: ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے پایاہے. ابراہیم نے کہا: یقینا تم خود اور تمہارے باپ دادا بھی واضح گمراہی میں مبتلا ہیں.وہ کہنے لگے : کیا آپ ہمارے پاس حق لے کر آئے ہیں یا بیہود ہ گوئی کر رہے ہیں؟ابراہیم نے کہا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ہوں. اور اللہ کی قسم! جب تم یہاں سے پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے ان بتوں کی خبر لینے کی تدبیر ضرور سوچوں گا. چنانچہ ابراہیم نے ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا سوائے ان کے بڑے (بت) کے تاکہ و ہ اس کی طرف رجوع کریں.وہ کہنے لگے: جس نے ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے یقینا وہ ظالموں میں سے ہے. کچھ نے کہا: ہم نے ایک جوان کو ان بتوں کا (برے الفاظ میں) ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں. کہنے لگے: اسے سب کے سامنے پیش کرو تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں. کہا :اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کا یہ حال تم نے کیا ہے ؟ ابراہیم نے کہا: بلکہ ان کے اس بڑے (بت )نے ایسا کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں. (یہ سن کر) وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور کہنے لگے : حقیقتاً تم خود ہی ظالم ہو. پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے اور (ابراہیم ) سے کہا: تم جانتے ہو یہ نہیں بولتے .
بخاري روايت کرتا ہے : حضرت ابراهيم(ع) تین جھوٹ بولے: اس میں سے دو خدا کی ذات کے بارے میں «قوله اني سقيم» اور« بل فعله كبير هم» تیسرا جھوٹ اپنی بیوی سارہ کے بارے میں ، جو خوبصورت تھی ، اور فرعون کو کسی نے ان کی لالچ دکھائی تھی . فرعون نے ان کو اپنے دربار میں بلایا اور حضرت ابراہیم سے سوال کیا : یہ جو تمھارے ساتھ آئی ہے وہ کون ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا : یہ میری بہن ہے . اور ادھر سارا سے بھی کہہ رکھا تھا کہ تو بھی میری بات کی تائید کرے ، درحالیکہ خود ان کی بیوی تھی . حضرت ابراہیم کا تقیہ کرنے کا سبب یہی تھا کہ اپنی جان بچائی جائے ،کیونکہ فرعون ابراهيم کو قتل کرنا چاہتا تھا .

حضرت يوسف(ع)ا ور تقيہ حضرت يوسف(ع) کا واقعه بہت طولاني اور معروف ہے ، اس لئے خلاصه كلام بيان کروں گا وہ یوں ہے : فرمایا : فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ.(٤ )
اس کے بعد جب یوسف نے ان کا سامان تیار کرادیا تو پیالہ کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھوادیا اس کے بعد منادی نے آواز دی کہ قافلے والو تم سب چور ہو.
اسی سے استدلال کرتے هوئے امام صادق(ع) نے فرمایا : التقيہ من دين الله . قلت:من دين الله؟ قال(ع):اي والله من دين الله لقد قال يوسف(ع): ايتها العير انكم لسارقون والله ما كانوا سرقوا شی.
تقیہ دین خدا میں سے ہے ، میں نے سوال کیا: کیا دین خدا میں سے ہے ؟تو فرمایا: ہاں خدا کی قسم ؛دین خدا میں سے ہے بے شک یوسف پیامبر(ع) نے فرمایا: اے قافلہ والو بدون شک تم لوگ چور ہو ؛ درحالیکہ خدا کی قسم انہوں نے کوئی چوری نہیں کی تھی .
..............
(١ ) سوره مائدہ ۲۷ ـ ۳۰.
(٢ ) . التقيہ في فقه اهل البيت(ع) ، ج۱ ، ص ۱۵.
(٣ ) . انبياء /۵۱ ـ ۶۵.
(٤ ) . سوره يوسف/۷۰.
(٥ ) . تاريخ الامر والملوك،ج۱،ص۱۷۱.


۴
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

حضرت موسي(ع)اورتقيہ قرآن كريم نے حضرت موسي(ع) کی شجاعت کے بارے میں کئی دفعہ اشارہ کیا ہے کہ کس طرح فرعون کے ساتھ روبرو ہوا ، حضرت موسیٰ کو بہت سے پیغمبروں پر فضیلت حاصل ہے : تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ.(١ )
یہ سب رسول (ع)وہ ہیں جنہیں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے. ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے خدا نے کلام کیا ہے اور بعض کے درجات بلند کئے ہیں .
ان تمام شجاعت اور فضیلتوں کے باوجود اپنی زندگی میں کئی موقعوں پر لوگوں کو رسالت کی تبلیغ کے دوران تقیہ کئے ہیں .اور یہ تقیہ اپنی جان کے خوف سے نہیں بلکہ باطل کا حق پر غلبہ پانے کے خوف سے کئے ہیں .جب خدا نے موسي اور هارون (ع) کو حکم دیا :
اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى .(٢)
تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے . اس سے نرمی سے بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا خوف زدہ ہوجائے .
اورفرعون کے ساتھ نرم اور میٹھی زبان میں بات کرنا اور اعلان جنگ نہ کرنا ، جبکہ وہ طغیان اور نافرمانی کے عروج پر تھا ؛ ایک قسم کا تقیہ ہے .البتہ یہ تقیہ مداراتی تھا نہ خوفی . لیکن اصحاب موسي(ع) کے بارے میں قرآن مجيد اشاره کرتا ہے : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ.(٣ )
فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اور اس نے اہلِ زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا کہ ایک گروہ نے دوسرے کو بالکل کمزور بنادیا وہ لڑکوں کو ذبح کردیا کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھا کرتا تھا. وہ یقینا مفسدین میں سے تھا . یہ خوف لوگوں کا تھا نہ اپنی جان کا .لیکن ولادت حضرت موسي(ع) کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ جنہوں نے حضرت موسیٰ (ع)کی دعوت کو قبول کرلی تھی ، اپنے ایمان کو دلوں میں چھپائے رکھے تھے ، جب تک موسیٰ(ع) نے علیٰ الاعلان دعوت کرنا شروع کیا . تاریخ میں آپ کے بعض اصحاب اور مؤمنوں کی تاریخ کو قرآن نے ثبت کیا ہے ؛ جو درج ذیل ہیں :

مؤمن آل فرعون اور تقيہ قرآن فرما رہا ہے : وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبہ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ.(٤ )
اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ،یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے .
ابن كثيرلکھتا ہے : یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اور اپنا ایمان کو اپنی قوم سے چھپا رکھا تھا . جس کے نام میں مورخین نے اختلاف کیا ہے ؛ کسی نے کہا آپ کا نام شمعان تھا ، کسی نے کہا حزقیل تھا .بہر حال جب فرعون نے حضرت موسیٰ کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے حواریوں سے مشورت کرنے لگا ، تو مؤمن اس ناپاک سازش سے آگاہ ہو ا تو سخت فکر مند ہوا ، فرعون کو یوں مشوره دیا : وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبىّ‏َِ اللَّهُ ؟! اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے .
: قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى‏.(٥) فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں .
ثعلبي نے لکھا ہے اس شخص کا نام حزقیل ہے اور یہ اصحاب فرعون میں سے تھااور وہی ترکھان تھا جس نے حضرت موسیٰ (ع)کی ماں کیلئے وہی صندوق بنا کر دیا تھا جس میں ڈال کر موسیٰ کو دریای نیل میں ڈال دیا گیا تھا .
قَالَ الصادق(ع):إِنَّ مَثَلَ أَبِي طَالِبٍ مَثَلُ أَصْحَابِ الْكَهْفِ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ وَ أَظْهَرُوا الشِّرْكَ فَآتَاهُمُ اللَّهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ .(٦ )
امام صادق (ع)نے فرمایا: بے شک ابوطالب کی مثال اصحاب کہف کی مثال ہے ، انہوں نے اپنا ایمان چھپائے رکھا اور شرک کا اظہار کیا ، خدا تعالیٰ انہیں قیامت کے دن دو دفعہ ثواب عطا کریگا .
امام حسن العسکری (ع)نے فرمایا: ان ابا طالب كمؤمن آل فرعون يكتم ايمانه.(٧ ) فرماتے ہیں : حضرت ابوطالب (ع)بھی مؤمن آل فرعون کی طرح اپنا ایما ن کفار قریش سے چھپا رکھا تھا .

آسيہ بنت مزاحم اور تقيہ آپ فرعون کی بیوی ہے قرآن نے آپ کے بارے میں فرمایا:وَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبّ‏ِ ابْنِ لىِ عِندَكَ بَيْتًا فىِ الْجَنَّةِ وَ نجَِّنىِ مِن فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نجَِّنىِ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ .(٨ ) اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار !میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا کردے.
روايات اهلبيت(ع) میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت آسیہ بہشت میں نبی کی بیویوں میں سے ہونگی.(٩ )

اصحاب كهف او رتقيہ قطب راوندي نے شيخ صدوق سے امام صادق(ع) کي روايت کو نقل کي هے : فَقَالَ لَوْ كَلَّفَكُمْ قَوْمُكُمْ مَا كَلَّفَهُمْ قَوْمُهُمْ فَافْعَلُوا فِعْلَهُمْ فَقِيلَ لَهُ وَ مَا كَلَّفَهُمْ قَوْمُهُمْ قَالَ كَلَّفُوہمُ الشِّرْكَ بِاللَّهِ فَأَظْهَرُوہ لَهُمْ وَ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ حَتَّى جَاءَهُمُ الْفَرَجُ وَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ كَذَبُوا فَآجَرَهُمُ اللَّهُ إِلَى أَنْ قَالَ وَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ وَ أَظْهَرُوا الْكُفْرَ فَكَانُوا عَلَى إِظْهَارِهِمُ الْكُفْرَ أَعْظَمَ أَجْراً مِنْهُمْ عَلَى إِسْرَارِهِمُ الْإِيمَانَ وَ قَالَ مَا بَلَغَتْ تَقِيَّةُ أَحَدٍ تَقِيَّةَ أَصْحَابِ الْكَهْفِ ... فَأَعْطَاهُمُ اللَّهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ .(١٠) اگر تمهاري قوم کفر کا اظهار کرنے پر مجبور کرے تو اظهار کرنا اوراپنا ايمان آرام آنے تک چھپا رکھنا. پھر فرمايا اصحاب کهف نے بھي ظاهراً جھوٹ بولا اور الله تعالي نے بھي ان کو جزاے خير دي اور کها اصحاب کهف نے اپنے ايمان کو چھپائے اور کفر کا اظهار کئے.پس کفر کا اظهار کرنے کا ثواب ايمان کے چھپانے سے زياده هے . اور فرمايا: اصحاب کهف سے زياده کسي اور نے تقيہ نهيں کيا ...الله تعالي نے بہي ان کو دو مرتبہ اجر اور ثواب عطا کيا.
امير المؤمنين(ع)سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے : وَ عَلَيْكُمْ بِالتَّمَسُّكِ بِحَبْلِ اللَّهِ وَ عُرْوَتِهِ وَ كُونُوا مِنْ حِزْبِ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ الْزَمُوا عَهْدَ اللَّهِ وَ مِيثَاقَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيباً وَ سَيَعُودُ غَرِيباً وَ كُونُوا فِي أَهْلِ مِلَّتِكُمْ كَأَصْحَابِ الْكَهْفِ وَ إِيَّاكُمْ أَنْ تُفْشُوا أَمْرَكُمْ إِلَى أَهْلٍ أَوْ وَلَدٍ أَوْ حَمِيمٍ أَوْ قَرِيبٍ فَإِنَّهُ دِينُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ الَّذِي أَوْجَبَ لَهُ التَّقِيَّةَ لِأَوْلِيَائِهِ فَيَقْتُلَكُمْ قَوْمُكُمْ الْخَبَرَ .(١١ )
امام حسن العسكري (ع) کی روايت اس بات کیلئے مؤيدہے: قال قال رسولالله(ص) : ان الانبياء انما افضلهم علي خلقه اجمعين بشدة مداراتهم لاعداء دين الله و حسن تقيتهم لاجل اخوانهم في الله.(١٢ )
رسول خدا (ص ) نے فرمایا: بیشک انبیای الہی کو دوسرے لوگوں پر اس لئے فضیلت ملی ہے کہ خدا کے دشمنوں کے ساتھ مدارات کیا کرتے تھے اور نیک لوگوں کے ساتھ خدا کے خاطر اچھا تقیہ کیا کرتے تھے .
یہ اسلام سے پہلے کے تقیہ کے کچھ موارد تھےجو آیات ، احادیث اور شیعہ سنی کتابوں میں مرقوم تھے . اور یہ ایسے حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ہے .
..............
(١ ) . سوره بقره۲۵۳.
(٢ ) . سوره طه۴۳،۴۴.
(٣ )سورہ قصص ۴ .
(٤ ). غافر۲۸ .
(٥ ). غافر۲۹ .
(٦ ) . الكافي باب مولد النبي ص و وفاته‏،ج ١، ص ٤٤٨.
(٧ )۸۳ . . وسائل الشيعه ،ج۱۱، ص .
(٨ ). سوره تحريم ۱۱.
(٩ ) . تفسير نور الثقلين . ج۵ ، ص۲۷۷.
(١٠ ) . مستدرك‏الوسائل ،ج ١٢ ،ص ٢٧٢.
(١١ ). مستدرك، باب وجوب التقية مع الخوف إلى خر.
(١٢ ) . همان ، با ب دوم .


۵
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

ب:ظهور اسلام کے بعد تقيہ اسلام چون کہ ابتدا سے غریب تھا اور غریب ہی رہ گیا .ابتدای اسلام میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور اس زمانے میں لوگ انحرافات اور گمراہی کے اسیر ہوچکے تھے ، رسول خدا ﷺ نے آکر انہیں نجات دلاد دی .جس پر قرآن گواہی دے رہا ہے : هُوَ الَّذِى بَعَثَ فىِ الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنهُْمْ يَتْلُواْ عَلَيهِْمْ ءَايَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الحِْكْمَةَ وَ إِن كاَنُواْ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَالٍ مُّبِينٍ.(١ )
اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو ان ہی میں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ,ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگرچہ یہ لوگ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے .
یہ تعلیمات اسلامی کی خصوصیت تھی کہ انسان کو اس گمراہی سے نکال کر انسانیت کے بلند و بالا مقام تک پہنچایا.اور عقلوں پر تالے لگے ہوئے تھااسے کھول دیا .اور سارے انسانوں کو ایک ہی صف میں لاکر رکھ دیا . اور انسان کی فضیلت کیلئے تقوا کو معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا : إِنَّ أَكْرَمَكمُ‏ْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَئكُمْ.(٢ ) بے شک خدا کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ باعزت ترین شخص وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو .
اسی طرح ظالم وجابر بادشاہیں جو فقیر اور مستضعفوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے زندگی کرتے تھے ، جب اس پیغام کو سنا تو وہ لوگ خاموش نہیں رہ سکے ؛ بلکہ اسلام کو اس صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہوگئے .جس کی وجہ سے اسلام مظلوم اور غریب ہوا .

ابو طالب(ع) اور تقيہ بعض نفسياتي خوہشات کے اسیر او ر ریاست طلب ،دین فروش اور درہم و دینار کے لالچی لوگوں نے ظالموں کے ساتھ گھٹ جوڑ کرکے اپنی کتابوں میں ابوطالب کے ایمان کو مشکوک ظاہر کرنا چاہا . نعوذ باللہ ! آپ شرک کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے ؛ جبکہ آپ کی شخصیت ، عظمت اور اسلام کے ساتھ محبت اور ایمان پر واضح دلائل موجود ہیں .ابوطالب(ع) کی ذات وہ ہے جسے پیامبر اسلام ﷺ کی حمایت کا شرف حاصل ہے ؛ کہ آپ نے حضور ﷺ کو کفار قریش اور دوسرے دشمنوں کے مکر وفریب اور ظلم وستم سے بچاتے رہے ، جبکہ وہ لوگ آپﷺ کی جان کے درپے تھے .
اگر آپ کا اسلام اور پیامبر اسلام ﷺ پر مکمل ایمان اور اعتقاد نہ ہوتا توکیسے دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر رسول خدا ﷺ کو یوں خطاب کیا ؟!:

والله لن يصلوا اليك بجمعهم
حتي اوسد في التراب دفينا
فاصدع بامرك ما عليك غضاض
هوابشر بذاك وقرمنك عيونا
و دعوتي و علمت انتك ناصحي
ولقد دعوت و كنت ثم امينا
و لقد علمت بان دين محمد(ص)
من خير اديان البرية دينا .(٣ )

ترجمہ:
اگر ابوطالب(ع) ايمان نہ لائے ہوتے تو ابولہب کی طرح وہ بھی پیامبر ﷺ کے چچا تھا ، خدا کی طرف سے مورد مذمت اور نفرین قرار پاتا ؛ لیکن ایمان ابوطالب (ع) ہمیں پیامبر اسلامﷺ اور ائمہ طاہرین (ع) کے فرامیں کے ذریعے واضح اور روشن ہے ، اور آپ کا رسول خدا ﷺ کی خدمت کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے . یہاں تک کہ ابن ابی الحدید نے اشعار کی شکل میں اس مطلب کو بیان کیا ہے :

لو لا ابو طالب و ابنه
لما مثل الدين شخصا فقاما
فهذا بمكة آوي و حامي
و هذا بيثرب جس الحماما .(٤ )
اگر ابوطالب (ع) اور ان کے فرزند علی نہ ہوتے تو دین اسلام بطور نمونہ برپا نہ ہوتے . پس ابوطالب (ع) نے مکہ میں رسول خدا ﷺ کو پناہ دی اور ان کے بیٹے نے مدینے میں آپ ﷺ کی جان بچانے کے خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی . ..............
اگر علی نہ ہوتے تو ابوطالب سید سادات المسلمین والسابقین الاولین ہوتے .جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ﷺ سے امیر المؤمنین(ع) کی ولادت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے وضاحت فرمائی ، یہاں تک کہ ابوطالب (ع)کے بارے میں عرض کیا :
قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ النَّاسُ يَقُولُونَ [إِنَ‏] أَبَا طَالِبٍ مَاتَ كَافِراً قَالَ يَا جَابِرُ اللَّهُ أَعْلَمُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا إِلَى السَّمَاءِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْعَرْشِ فَرَأَيْتُ أَرْبَعَةَ أَنْوَارٍ فَقُلْتُ إِلَهِي مَا هَذِهِ الْأَنْوَارُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا عَبْدُالْمُطَّلِبِ وَ هَذَا أَبُو طَالِبٍ وَ هَذَا أَبُوكَ عَبْدُ اللَّهِ وَ هَذَا أَخُوكَ طَالِبٌ فَقُلْتُ إِلَهِي وَ سَيِّدِي فَبِمَا نَالُوا هَذِهِ الدَّرَجَةَ قَالَ بِكِتْمَانِهِمُ الْإِيمَانَ وَ إِظْهَارِهِمُ الْكُفْرَ وَ صَبْرِهِمْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى مَاتُوا .(٥ )
جابر بن عبد اللہ انصاری نےعرض کیا : یا رسول اللہ ! خدا بہت بڑا ہے ؛ لوگ کہتے ہیں کہ ابوطالب حالت کفر میں اس دنیا سے رحلت کر گئے! فرمایا: اے جابر خداوند سب سے زیادہ جاننے والا ہے علم غیب کا مالک ہے ، جس رات کو مجھے معراج پر لے گئے اور عرش پر پہنچےتو چار نور دیکھنے میں آیا ، میں سے سوال کیا : خدایا یہ چار نور کن کے ہیں ؟!تو الله تعالي کی طرف سے جواب آیا : اے محمد!ﷺ یہ عبدالمطلب ، ابوطالب،تیرے والد عبداللہ اور تیرے بھائی طالب کے ہیں.میں نے کہا : اے میرے الله اے میرے آقا ! یہ لوگ کیسے اس مرتبے پر پہنچے ؟ خدا تعالی کی طرف سے جواب آیا : ایمان کے چھپانے اور کافروں کے مقابلے میں کفر کے اظہار اور ان پر صبر کرنے کی وجہ سے پہنچے ہیں.
يونس بن نباته نے امام صادق(ع) سے روايت کی ہے : قال(ع) يا يونس ما يقول الناس في ايمان ابو طالب(ع) قلت جعلت فداك ، يقولون «هو في ضحضاح من نار و في رجليه نعلان من نار تغلى منهما امّ رأسه». فقال كذب اعداءالله ، ان اباطالب(ع) من رفقاء النبيين و الصديقين و الشهداء و الصالحين و حسن اولئك رفيقا.(٦ )
چنانچہ محمد بن یونس نے اپنے والد سے انہوں نے امام صادق(ع) سے نقل کيا هے کہ آنحضرت نے ہم سے کہا: اے یونس ! لوگ ابوطالب کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، مولیٰ میں آپ پر قربان ہو جاؤں ؛ لوگ کہتے ہیں : هو في ضحضاح من نار و في رجليه نعلان من نار تغلى منهما امّ رأسه.
ابو طالب کھولتے ہوئے آگ میں پیروں میں آگ کے جوتے پہنائے ہوئے ہے جس کی وجہ سے ان کا دماغ کھول رہا ہے . امام نے فرمایا: خدا کی قسم یہ خدا کے دشمن لوگ غلط کہہ رہے ہیں ! ابوطالب انبیا صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھیوں میں سے ہے اور وہ لوگ کتنے اچھے ساتھی ہیں .(٧ )
كوتاه سخن اگر علمای اہل تسنن بھی تھوڑا انصاف سے کام لیتے تو ايمان ابو طالب(ع) کو درک کرلیتے کہ ایمان کے کتنے درجے پر آپ فائز ہیں .لیکن بعض خود غرض اور بغض اور کینہ دل میں رکھنے والے لوگوں نے ایک جعلی اور ضعیف روایت جو حدیث ضحضاح کے نام سے مشہور ہے کو دلیل بنا کر امير المؤمنين کے پدر گرامی اور پيامبر اكرم ﷺ کے چچا ابو طالب ايمان لائے بغیر اس دنیا سے چلے گئے ہیں .اگران لوگوں کو اہل بیت اور علی ابن ابی طالب سے دشمنی نہ ہوتی تو ان ساری صحیح اور معتبر حدیثوں میں سے صرف ایک ضعیف حدیث کو نہیں اپناتے . اور شيخ بطحا مؤمن قريش پيامبر اسلام ﷺکے بڑے حامى پر یہ تہمت نہ لگاتے .(٨ )
محققین اور راويو ں نے اس حديث کی بررسى اور گہری تحقيق کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالے ہیں کہ یہ حدیث مورد اعتماد نہیں ہے . علمای اہل سنت کے نزدیک اس روایت کو نقل کرنے والے جھوٹے ، بعض مجہول اور بعض علی اور اولاد علی (ع)سے بغض و کینہ رکھنے والے تھے . جن میں سے ایک مغيرة بن شعبہ ہے جو ایک فاسق و فاجر اور سرسخت دشمن اہل بیت تھا .اس بارے میں درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں :
١- اسنى المطالب في نجاة ابي طالب، سيد احمد زينى دحلان.
٢- شيخ الأبطح او ابو طالب، سيد محمد علي آل شرف الدين.
٣- الطرائف-ترجمه داود الهامى، ص: ٤٦١.
٤- الشهاب الثاقب، لرجم كفر ابى طالب، شيخ نجم الدين.
٥- ايمان ابى طالب، ابو على كوفى.
٦- ايمان ابى طالب، مرحوم مفيد.
٧- ايمان ابى طالب، ابن طاوس.
٨- ايمان ابى طالب، احمد بن قاسم.
٩- بغية الطالب ..، سيد محمد عباس تسترى .
١٠- موہاب الوہب في فضائل ابى طالب.
١١- الحجة على الذاهب الى تكفير ابى طالب، سيد فخار.(٩ )
امام کاظم (ع) سے روایت ہے: لووضع ایمان ابی طالب فی کفة وایمان الخلایق فی الکفة الاخری لرجح ایمان ابی طالب علی ایمانهم ... فکان والله امیرالمؤمنین یحجّ عن ابيه و امه وعن اب رسول الله حتی مضی ، ووصّی الحسن والحسین (ع) بمثل ذالک ، وکل امام منّا یفعل ذالک الی ان یظهر امره .(١٠ )
یعنی اگر ایمان ابوطالب(ع) کو ترازو کے ا یک پلڑے میں قرار دیدے ا ور دوسرے تمام مخلوقات کے ایمان کو دوسرے پلڑےمیں رکھ دئے جائیں تو ابوطالب(ع) کا ایمان دوسرے تمام مخلوقات کے ایمان سے زیادہ بھاری ہوگا ... خدا کی قسم امیر المؤمنین (ع) جب تک زندہ رہے اپنے باپ، ماں اور رسول خدا ﷺکی نیابت میں حج انجام دیتے رہے .اور حسن و حسین (ع) کو بھی وصیت کرگئے کہ وہ لوگ بھی اسی طرح ان کی نیابت میں حج انجام دیتے رہیں .اور ہم میں سے ہر امام اس سنت پر عمل کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آخری حجت کا ظہور ہوگا .
عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ أَ كَانَ مُؤْمِناً فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَاهُنَا قَوْماً يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَافِرٌ فَقَالَ وَا عَجَبہ أَ يَطْعَنُونَ عَلَى أَبِي طَالِبٍ أَوْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ص وَ قَدْ نَهَاهُ اللَّهُ أَنْ يُقِرَّ مُؤْمِنَةً مَعَ كَافِرٍ فِي غَيْرِ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَ لَا يَشُكُّ أَحَدٌ أَنَّ بِنْتَ أَسَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ السَّابِقَاتِ وَ أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحْتَ أَبِي طَالِبٍ حَتَّى مَاتَ أَبُو طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.(١١ )
امام سجاد (ع) سے ایمان ابوطالب (ع) کے بارے میں سوال ہوا: کیا وہ مؤمن تھے ؟ تو فرمایا : ہاں .راوی نے عرض کیا : یہاں ایک قوم رہتی ہے جن کا عقیدہ ہے کہ ابوطالب حالت کفر میں اس دنیا سے چلے گئے ہیں ! تو امام نے فرمایا : واعجبا ! کیا وہ لوگ ابوطالب پر طعنہ اور تہمت لگا رہے ہیں یا رسول خدا ﷺ پر ؟! جب کہ خدا تعالی نے قرآن مجید کی کئی آیات میں کفار کے ساتھ ازدواج کو ممنوع قرار دیا ہے؛ اور اس میں بھی کسی کو شک نہیں کہ فاطمہ بنت اسد مؤمنہ عورتوں میں سے تھی اور مرتے دم تک ابوطالب کی زوجیت میں رہی .
اور یہ دوسری دلیل ہے ایمان ابوطالب پر کہ مسلمان عورتوں کا کافروں کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ؛ چنانچہ . جب زینب نے اسلام قبول کیا ، اور ابی العاص نے شریعت اسلام قبول نہیں کیا تو اسلام نے ابی العاص کے ایمان لانے تک ان کے درمیان فاصلہ ڈالا. اور جب اس نے ایمان لایا تو دوبارہ نکاح پڑھ کر ان کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا (١٢ )
لیکن حضرت فاطمه بنت اسد(س) وہ پہلی خاتون ہیں جس نے مکہ سے مدینے میں رسول خدا(ص) کی طرف ہجرت کی ہیں اور آپ پيامبر اسلام(ص) کیلئے مہربان ترین خاتون تھيز(١٣ ).
جب آپ رحلت کرگئی تو امير المؤمنين(ع) روتے ہوئے رسول خدا(ص) کی خدمت میں تشریف لائے . رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا : یارسول اللہ ﷺ ! میری ماں فاطمہ اس نیا سے رحلت کر گئی ہے . فقال رسولالله(ص): امي والله! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم وہ میری ماں تھی . آپ ﷺ روتے ہوئے تشریف لائے اور تشییع جنازے میں شریک ہوئے ز(١٤ )
پس اگر فاطمه بنت اسد(س) مؤمنه تھی اور ابو طالب(ع) كافر، تو کیسے پيامبر اسلام(ص) نے ان کے درمیان جدائی نہیں ڈالی ؟!کیسے یہ تصور ممكن ہے كه پيامبر اسلام(ص) نے ایک مهمترين احكام اسلام سے چشم پوشي كرتے ہوئے اس حکم کو تعطيل كیا ہو؟!ز(١٥ )
..............
(١ ). سوره جمعه۲.
(٢ ). سوره حجرات۱۳.
(٣ ). الغدير، ج۷ ، ص۳۳۴.
(٤ ) . شرح نهج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ج۱۴،ص۸۴.
(٥ ) . بحار الانوار،ج۳۵، ص۱۶.
(٦ ) . كنز الفوائد ،ص۸۰.
(٧ ). الطرائف؛ترجمه داود الهامى؛ ايمان ابو طالب ص۴۴۸.
(٨ ). الطرائف؛ترجمه داود الهامى؛ ايمان ابو طالب ص٤٦٠.
(٩ ) . ہمان، ص ٤٦١.
(١٠ ) . مستدرک الوسایل،ج۸،ص۷۰.
(١١ ) . بحار ،ج ۳۵، ص ۱۱۷.
(١٢ ). تنقيح المقال في علم الرجال،ج۳،ص۷۹.
(١٣ ) . اصول كافي ،ج۱،باب امير المؤمنين .
(١٤ ) . ہمان .
(١٥ ) . بحار الانوار،ج۳۵،ص۱۱۵.


۶
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

پيامبر اكرم(ص) ا ور تقيہ پيامبر اسلام (ص) کےتقيہ كرنے کے موارد میں سے ایک مورد آپ کا بعثت سے تین سال پہلے سری طور پر دعوت دینا تھا .
اسی طرح صلح حدیبیہ کےموقع پرسهيل بن عمرو مشركون کانماينده تھا ، کے درخواست پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجائے 'باسمک اللهم' لکھنا اور رسول اللہ (ص) کے عنوان کو حذف کرکے محمد بن عبداللہ لکھنا بھی ایک قسم کا تقیہ ہے . (١ )
آنحضرت(ص) کا عبد الله بن ابي پر نماز ميت پڑھنا اور بجائے دعا کے آہستہ سے نفرین کرنا جبکہ وہ منافقين مدينه کا سردار تھا ؛ موارد تقيہ میں سے تھا . (٢ )

علي(ع) اور تقيہ آپ کا سقیفہ والوں کے انتخاب پر ظاہرا ً ۲۵ سال تک خاموش رہنا جبکہ آپ کو معلوم تھا کہ قرآن اور فرمان رسول خدا ﷺ کے مطابق خلافت آپ کا حق تھا ، لیکن مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اتحاد کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے خاموش رہنا ،تقیہ تھا . جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی مصلحتوں کو محفوظ کیا . اگر آپ خاموش نہ رہتے تو اس وقت روم والے مسلمانوں کے سر پر کھڑے تھے کہ کوئی موقع ہاتھ آجائے تاکہ مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کو نابود کرسکیں ، جو مسلمانوں کی وحدت کی وجہ سے ناکام ہوا .آپ کا اپنے زمانے کے حاکموں کے پیچھے نماز پڑھنا بھی تقیہ کے موارد میں سے ہے .

حسنين و زين العابدين (ع) اور تقيہ یہ دوره زمان خلافت امام حسن(ع) ۲۱ رمضان ۴۱ھ سے لے کر وفات امام سجاد(ع) سن ۹۵ ھ تک تاريكترين اور وحشت ناكترين دوران ہے كه ائمه طاهرين (ع) پرگذری ہے
صلح امام حسن(ع) ربيع الاول سال ۴۱ھ کے بعد اور حكومت اموي کے مستقر ہونے کے بعد ، شيعه اور ان کے پيشواوں کوشدید دباؤ ميں رکھے. معا ويه نے دستور دیا كه خطيب لوگ علي(ع) اور ان کے خاندان کی شان میں گستاخی کریں اور منابر سے ناسزا اور لعن طعن کرے . شهادت اما م حسين(ع) سن ۶۱ھ کے بعد مزید سختی کرنے لگے . حضرت علي(ع) اپني خاص روشن بینی کی وجہ سے اپنے بعد آنے والی تمام واقعات کی پیشگوئي فرمائی . اور اس دوران میں اپنے دوستوں سے تقیہ کرنے کا حکم فرمارہے تھے .کہ جب بھی ان کے مولا کے بارے میں گستاخی کرنے پر مجبور کیا جائے تو اپنی جان بچائیں اور ان کی بات قبول کریں. (٣ )
اس دوران میں ائمه(ع) کے سياسي تقيہ کے واضح ترين مصداق ،صلح امام حسن(ع) کوقراردے سکتے ہیں . كه جو خود مهمترين علل اور اسباب میں سے ایک ہے جس کے ذریعے سے مسلمانوں خصوصاً شیعیان حیدر کرار کے خون کی حفاظت تھی . (٤ )
اسی طرح امام حسين(ع) کا معاويه کے خلاف جنگ نہ کرنا بھی تقیہ شمار ہو تا ہے .اور اس دوران امام حسن و امام حسين(ع) کا مروان بن حكم ، حاكم مدينه کے پیچھے نماز پڑھنا بھی سياسي و اجتماعي تقيہ کے مصاديق میں سے ہے . (٥ )
جب بررسي کرنے لگتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام سجاد(ع)تقیہ کرنے کا ایک خاص طریقہ اپناتے ہیں اور وہ دعا کی شکل میں اسلامی معارف اور تعلیمات کا عام کرنا ہے . جس کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے .

امام باقر(ع) او رتقيہ امام باقر(ع) کا دور بنی امیہ کے کئی خلفاء(وليد بن عبد الملك ، سليمان بن عبد الملك،عمر بن عبد العزيز، هشام بن عبد الملك) مصادف تھا اس دوران میں سخت گيري نسبتاً كم ہوا . یہی وجہ تھی کہ آپ نے شيعه مکتب کے مختلف کلامي، فقهي اور فرهنگي امور کو تدوين کرکے اسلامي مکاتب کے سامنے رکھ ديا ، اور بہت سے شاگردوں کي تربيت کي .
امام (ع)کے سیاسی تقیہ کے موارد میں سے درج ذیل توریہ والی روایات کو شمار کر سکتے ہیں کہ امام نے ہشام کی مجلس میں اسے یوں خطاب کرنا : يا امير المؤمنين الواجب علي الناس الطاعه لامامهم و الصدق له بالنصيحه.(٦ ) اے امير مؤمنین! لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے امام کی اطاعت کرے اور نصیحت اور خیر خواہی کے وقت اسے قبول کرے .اس روایت میں لفظ امام ،غاصب حاكمون ا ور ائمه اهل بيت(ع) دونوں پر قابل تطبيق ہے .بنی امیہ کے بادشاہوں سے تقیہ کرتے ہوئے شاہین اور عقاب کے ذریعے شکار کرنے کو حلال قرار دیا ؛ ان دو پرندوں کے ذریعے خلفای بنی امیہ بہت زیادہ شکار کیا کرتے تھے .امام باقر(ع) کاتقیہ کرنے پر یہ روایت صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے . (٧ )

امام صادق(ع) اور تقيہ امام صادق(ع) کي۳۴ ساله مدت امامت ( ۱۱۴ھ سے لیکر ۱۴۸ ھ تک) ائمه طاهرين (ع) کي طولاني ترين مدت امامت شمار ہوتا ہے كه جسے تین بخش میں تقسيم کرسکتے ہیں:
پہلابخش:یہ هشام بن عبد الملک( ۱۰۵ ـــ ۱۲۵) کادور تھا ، جو سياسي لحاظ سے قدرت مند خليفه شمار ہوتا تھا اور مملكت اسلامي کے او ضاع پرمسلط تھا . امام اور ان کی فعالیتوں کو سخت کنٹرول میں رکھتا تھا .
دوسرا بخش : یہ دوره سن ﴿۱۲۵ _ ۱۴۵﴾ھ کو شامل کرتا ہے كه بني اميه کي حكومت روبہ زوال تھي اور بنی عباس کے ساتھ جنگ وجدال میں مشغول ہوگئے تھے آخرکار ان کے ہاتھوں شکست کھا کران کي حکومت سرنگون ہوئي .
تیسرا بخش: سن(۱۴۵ ـ ۱۴۸)ھ کوشامل کرتا ہے كه اس وقت منصور نے شدت کے ساتھ امام (ع)ا ور ان کی فعاليتوں کو مختلف جوانب سے كنٹرول کررکھا تھا.
بحارالانوار میں آن حضرت کے تقيہ سے مربوط ۵۳ روايت جمع آوري کي گئي هے (٨ ) كه جن میں سے زیادہ تر اس کتاب کے مختلف صفحات پر ذکر ہوا ہے .
جب منصور نے امام کو ان کی حکومت کے خلاف قیام کرنے سے ڈرايا تو امام (ع) فرمايا: میں نے بنی امیہ کے زمانے میں کوئي ایسا قيام نہیں کیا ہے جب کہ وہ سب سے زیادہ ہمارے ساتھ دشمنی کرنے والے تھے ، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے چچا زاد بھائی کے خلاف قیام کروں جب کہ رشتے کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب ہے ، اور اب سے زیادہ میرے اوپر مہربان اور نیکی کرنے والا ہے .. (٩ )
امام صادق(ع) کی وصيت بعنوان تقیہ ہم بیان کر سکتے ہیں کہ جب امام صادق(ع) رحلت فرماگئے تو منصور نے مدينه کے گورنر کو خط لکھا : جس کو بھی امام نے اپنا جانشین اوروصی بنایا، اسے اپنے پاس لا کر اس کا سر قلم کرو.
جب مدینے کا گورنر اس ماجرا کی تحقیق کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ امام(ع) کئی افراد کو اپنا جانشین کے طور پر معین کرچکے هيں، جیسے موسی ابن جعفر(ع)، اپنی زوجہ حميدہ اور اپنا دوسرا فرزند عبدالله خود امام(ع).جن میں سے ایک خود منصور اور مدینہ کا گورنر بھی ہے .
دوسرے دن جب منصور کو یہ خبر دی گئی تو وہ چیخ اٹھا اور کہنے لگا : اے گورنر اس صورت میں کسی کو بھی قتل نہیں کرسکتا . (١٠ )
الْإِمَامُ الْعَسْكَرِيُّ(ع)فِي تَفْسِيرِهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً قَالَ الصَّادِقُ ع قُولُوا لِلنَّاسِ كُلِّهِمْ حُسْناً مُؤْمِنِهِمْ وَ مُخَالِفِهِمْ أَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَيَبْسُطُ لَهُمْ وَجْهَهُ وَ أَمَّا الْمُخَالِفُونَ فَيُكَلِّمُهُمْ بِالْمُدَارَاةِ لِاجْتِذَبہمْ إِلَى الْإِيمَانِ فَإِنِ اسْتَتَرَ مِنْ ذَلِكَ يَكُفَّ شُرُورَهُمْ عَنْ نَفْسِهِ وَ عَنْ إِخْوَانِهِ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ الْإِمَامُ ع إِنَّ مُدَارَاةَ أَعْدَاءِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ صَدَقَةِ الْمَرْءِ عَلَى نَفْسِهِ وَ إِخْوَانِهِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي مَنْزِلِهِ إِذِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ائْذَنُوا لَهُ فَأَذِنُوا لَهُ فَلَمَّا دَخَلَ أَجْلَسَهُ وَ بَشَرَ فِي وَجْهِهِ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ افِيهِ مَا قُلْتَ وَ فَعَلْتَ بہ مِنَ الْبِشْرِ مَا فَعَلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص يَا عُوَيْشُ يَا حُمَيْرَاءُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ يُكْرَمُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ وَ قَالَ الْإِمَامُ ع مَا مِنْ عَبْدٍ وَ لَا أَمَةٍ دَارَى عِبَادَ اللَّهِ بَأَحْسَنِ الْمُدَارَاةِ وَ لَمْ يَدْخُلْ بہا فِي بَاطِلٍ وَ لَمْ يَخْرُجْ بہا مِنْ حَقٍّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ نَفَسَهُ تَسْبِيحاً وَ زَكَّى أَعْمَالَهُ وَ أَعْطَاهُ لِصَبْرِهِ عَلَى كِتْمَانِ سِرِّنَا وَ احْتِمَالِ الْغَيْظِ لِمَا يَحْتَمِلُهُ مِنْ أَعْدَائِنَا ثَوَابَ الْمُتَشَحِّطِ بِدَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. ...(١١)
امام عسکري (ع)اپني تفسير ميں امام صادق (ع)سے اس آيه شريفه کے ذيل ميں نقل فرماتے هيں :که هر انسان کے ساتھ نيک گفتار هونا چاهئے ، خوہ وہ مؤمن هو يا ان کا مخالف هو.مؤمنوں کے ساتھ خوش روئي کے ساتھ پيش آئے،ليکن ان کے مخالفين کے ساتھ مدارات کے ساتھ پيش آئيں تاکه ان کوايمان کي طرف جلب کرسکيں. اگر يه لوگ ان سے چھپائے تو ان کے شر سے اپنے آپ کو ، اپنے مؤمن بھائيوں کوبچا سکتے هيں .امام نے فرمايا : دشمنوں کے ساتھ مدارات کے ساتھ پيش آنا؛ اپني جان، اور اپنے بھائيوں کا بہترين صدقه دينا هے.رسول خدا ﷺايک دن اپنے گھر ميں تشريف فرما تھے که عبدالله بن ابي سلول نے دستک دي ، تو رسول الله ﷺ نے فرمايا: قوم کا سب سے برا انسان هے ، اسے اندر آنے کي اجازت دي جائے . جب وہ اندر داخل هواتو آپ نے خنده پيشاني سے اس کا استقبال کيا . جب وہ نکل گيا تو عائشه نے سوال کيا : يا رسول الله ! آپ نے کيا کچھ ، اور کها کچھ؟تو رسول خدا ﷺ نے فرمايا:اے عويش اے حميرا! الله کے نزديک قيامت کے دن سب سے برا انسان وہ هوگا، جس کے خوف سے لوگ اس کي عزت کريں .
امام نے فرمايا : کسي بھي مرد اور عورت ميں سے کوئي بھي الله کے بندوں کيساتھ نيکي کرے ،در حاليکه وہ اس حالت سے بہر بھي نهيں نکلتا،مگر يه که الله تعالي اس کے سانسوں کو اپني تسبيح پڑھنے کا ثواب لکھ ديتا هے . اور اس کے سارے اعمال کوخالص نه بنائے اور اسے همارے اسرار کو چھپانے ، اور دشمن کے غم وغصے کو برداشت کرنے کي وجه سے، اس شخص کا ثواب عطا کرے گا ، جو الله کي راه ميں جهاد کرتے هوئے اپنے خون ميں غلطان هوچکا هو.اور اس مداراتي تقيہ کے نتائج کو بھی بیان فرمایا.
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع ... قَالَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ عَنِ النَّاسِ- فَإِنَّمَا يَكُفُّ عَنْهُمْ يَداً وَاحِدَةً- وَ يَكُفُّونَ عَنْهُمْ أَيَادِيَ كَثِيرَة(١٢ ) جو بھی لوگوں کے ساتھ مدارات اور مہربانی کرے اور ان کےساتھ سختی سے پیش نہ آئے تو حقیقت میں ایک ہاتھ کو كسي دوسرے کو اذیت اور آذار پہنچانے سے باز رکھا لیکن بہت سے ہاتھوں کو اپنے اوپر ظلم و تعدی کرنے سے دور رکھا ہے .

امام موسي كاظم(ع) اور تقيہ امام كاظم(ع) اپنے ۳۵ساله دور امامت (۱۴۸ ـ ۱۸۳)ه میں جو حضرت حجت(عج) کی امامت کے علاوہ طولاني ترين اورسخت ترين دور شمار ہوتا ہے .
یہ دور،بنی عباس کے سرسخت اورسفاک خلفاء جیسے منصور ، مهدي ، هادي اور هارون کی حکومت سے مصادف تھا .کہ ان میں سے ہر ایک امامت کی نسبت بہت زیادہ حساس تھے ، یہاں تک کہ امام کے بعض چاہنے والوں ، جیسے محمد ابن ابي عمير کو کئی عرصے تک جیل میں ڈالے گئے . اسی دور میں حسين ابن علي ابن حسن جو شهيد فخ کے نام سے معروف تھے ، ۱۶۹ه میں حکومت کے ساتھ ان کي جنگ هوئي ،جو ان کی شهادت پر جا کر ختم ہوئي. اور هادي عباسي یه تصور كررہا تھا کہ یہ جنگ ،امام(ع) کے فرمان کے مطابق کي گئي ہے، اس لئے ان کے اوپر زیادہ سخت گيري کرنا شروع کیا .

اس دورمیں تقيہ امام(ع)کے بعض موارد ۱ـ جب خلیفہ موسي الهادي اس دنيا سے چلے گئے تو امام(ع) نے ان کی ماں خیزران کو تسليتي پیغام دیتے ہوئے خلیفہ کو امير المؤمنين کا عنوان دے کر ياد کرنا اور اس کیلئے رحمه الله کہہ کر طلب مغفرت کرنا اور پھر هارون کی خلافت کو بھی امير المؤمنين کے عنوان سے ياد کرتے ہوئے ان کو مبارک باد کہنا ،
مرحوم مجلسي(رہ) نے اس خط کے ذیل میں لکھا ہے کہ ، آنحضرت کے زمانے میں شدت تقيہ کا نظاره كر سکتے ہیں كه انہیں ایک فاسق اور جابر حاکم کے لئے ایسےالقابات لکھنے پر مجبورکرديا تھا. (١٣ )
۲ـ يحي بن عبد الله بن حسن نے ایک خط امام(ع) کے نام لکھا ،کہ آنحضرت کو حكومت عباسي کے خلاف قیام کرنے سے روکتے ہوئے سزا دیا جائے .لیکن امام(ع) نے ان کے جواب میں خط لکھا جس کے ضمن میں اسے بطورخلیفہ یاد کیا . امام(ع) کا یہ خط هارون کے ہاتھوں میں پہونچ گیا .جسے دیکھ کر انہوں نے کہا: لوگ موسي ابن جعفر(ع) کے بارے میں مجھے بہت سی چیزیں بتا تے ہیں ، اور مجھے ان کے خلاف اکساتے ہیں جب کہ وہ ان اتہامات سے پاک هیں . (١٤ )
۳ـ علي ابن يقطين جو هارون کی حکومت میں مشغول تھا ؛ ایک خط امام کو لکھتے ہیں کہ اور امام سے وضو کے بارے میں سوال کرتے ہیں. امام(ع)اس کے جواب میں اهل سنت کے وضو کا طریقہ اسے تعلیم دیتے ہیں کہ تو انہیں کی طرح وضو کیا کرو . اگرچه علي ابن يقطين کو بڑاتعجب ہوا ، لیکن حکم امام(ع) کی اطاعت ضروری تھی . هارون كو بھی علي ابن يقطين پرشك ہو چکا تھا ، سوچا کہ اس کے وضو کرنے کے طریقے کو مشاہدہ کروں گا . اگر اس نے مذهب شيعه کے مطابق وضوکیا تو اسے بہت سخت سزادوں گا . لیکن جب ان کے وضوکرنے کے طریقے کو دیکھا تو اسے اطمنان ہواکه ان کے بارے ميں لوگ جھوٹے تھے ، تو علی ابن یقطین کی عزت اور مقام ان کے نزدیک مزید بڑھ گيا .بلا فاصله اس ماجرا کے بعد امام(ع) کی طرف سے علي ابن یقطین کو دستور ملا کہ وضو اب مذهب شيعه کے مطابق انجام دیا کریں . (١٥)

امام رضا(ع)اور تقيہ امام رضا(ع)کی امامت کا دور (۱۸۳ ـ۲۰۳)تک ہے ، جسے تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
پہلا دور :۱۸۳ سے لیکر ۱۹۳ سال تک کا دور ہے . اس دور میں ہارون الرشید حاکم تھا ؛ يه دورشیعیان حیدر کرار پر بہت سخت گذرا.اس ملعون نے قسم کھا یا ہوا تھا کہ موسي ابن جعفر(ع) کے بعد جو بھی امامت کا ادعی کرے گا اسے قتل کیا جائے گا . لیکن اس کے باوجود امام رضا(ع) نے بغیر کسی خوف اور وہم و گمان کے اپنی امامت کو لوگوں پرآشکار کیا امام کا تقیہ نہ کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت خواہشات نفسانی اور مال و زر کے اسیروں نے آپ کی امامت کا انکار کرکے فرقہ واقفیہ کی بنیاد ڈالی تھی . امام موسی (ع) کے زندہ ہونے کے قائل ہوگئے تھے . چنانچہ کہنے لگے : الامام الکاظم لم یمت ولایموت ورفع الی السماء وقال رسول الله فی شانه:ویملأالارض قسطاً وعدلاً کماملئت ظلماً وجوراً.(١٦ ) امام کاظم فوت نہیں ہوا ہے اور نہ فوت ہوگا ، انہیں خدا تعالی نے آسمان کی طرف اٹھایا ہے . اور رسول خدا (ص) نے ان کی شان میں فرمایا :زمین کو وہ عدل و انصاف سے اسي طرح پر کرے گا جس طرح ظلم و جور سے پر ہو چکی ہے .
اس ماجرے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاتھوں مال خمس اور زکوۃ کا کچھ رقم موجود تھا . کیونکہ حضرت امام موسی بن جعفر قید و بند میں تھے ؛ جس کے بعد آپ کی شہادت ہوئی تو جو مال ان کے ہاتھوں میں موجود تھا ،ضبط کر لئے اور ان کے فرزند ارجمند علی ابن موسی الرضا (ع)کی امامت کے منکر ہوگئے . (١٧ )
اے میرے بیٹے ! خدا تعالیٰ نے فرمایا: میں روی زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کروں گا ، اور خدا جو بھی فرماتا ہے وہ اسے انجام دے گا . زياد بن مروان قندى جو گروہ واقفيه میں سے تھا کہتا ہے میں ابو ابراہیم عليه السّلام کی خدمت میں تھا کہ ان کے بیٹے علی ابن موسیٰ الرضا (ع)بھی ان کی خدمت میں حاضر تھا ؛ مجھ سے فرمانے لگا: اے زیاد ! یہ میرا بیٹا ہے اس کا قول میرا قول ہے اس کی کتاب میری کتاب ہے اس کا رسول میرا رسول ہے ، اور جو بھی وہ زبان پر جاری کرے گا و حق ہوگا. (١٨ )
بہر حال امام(ع) نے اپنی امامت کا اظہار کیا تو آپ کے ایک صحابی نے اصرار کیا کہ آپ مزيد لوگوں کو اپنی امامت کے بارے میں وضاحت کریں ؛ توفرمایا: اس سے بڑھ کر اور کیا وضاحت کروں ؟! کیا تم چاہتے ہو کہ میں ہارون کے پاس جاکر اعلان کروں کہ میں لوگوں کا امام ہوں اور تیری خلافت اور تیرا منصب باطل ہے ؟! ایسا توپيامبراكرم(ص) نے بھی اپنی رسالت کے اولین بار اعلان کرتے وقت نہیں کیا ہے ، بلکہ آغاز رسالت میں اپنے دوستوں ، عزیزوں اورقابل اعتماد افراد کو جمع کرکے اپنی نبوت کا اظہار کیا .(١٩ )
..............
(١ ). ابن هشام؛ السنة النبويه،ج۳، ص۳۱۷ .
(٢ ). وسائل الشيعه،ج۹ ، ص۳۲۸ ـ ۳۲۹.
(٣ ) . بحار الانوار،ج۷۵ ، ص۳۹۳.
(٤ ) . همان ، ص ۴۴۷ا.
(٥ ). ہمان ،ج۸۸.
(٦ ) . همان ، ج ۴۶، ص ۳۱۶.
(٧ ) . وسائل الشيعه ، ج ۱۶ ،ص ۲۶۴.
(٨ ) . بحار الانوار،ج ۷۵، ص ۳۹۳ .
(٩ ). ہمان ، ص،۱۹۶.
(١٠ ) . مهدي پيشوائي ؛ سيره پيشوايان ، ص۴۱۴.
(١١ ) . مستدرك‏الوسائل، ج٩، ص ٣٦، باب استحباب مداراة الناس .
(١٢). بحار الأنوار، ج‏٧٢، باب التقية و المداراة،ص : ٣٩٣
(١٣) . بحار الانوار،ج۴۸.ص۱۶۶.
(١٤ ) . همان،ص۳۸.
(١٥ ) . رياض ، ناصري ، الواقفيه.
(١٦ ) . بحار الانوار، ج۴۶، ص ۱۱۴.
(١٧ ) . زندگانى چهارده معصوم (ع)، ،امامت حضرت رضا(ع), ص٤٢٤.
(١٨ ) . ہمان ، ص٤٢٥.
(١٩ ) . بحار الانوار، ج۴۶، ص ۱۱۴.


۷
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

امام هادي(ع) اور تقيہ امام هادي(ع) کا دوران امامت (۲۲۰ ـ ۲۵۴ھ)بھی سخت ترین دور تھا ، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ هے کہ بنی عباس کے خلفاء اور حکمران، آپ پر ہر وقت پہرہ لگائےرکھتے تھے . چنانچہ متوكل(۲۳۲ـ۲۴۷)نے شدت کے ساتھ امام(ع)کی فعاليت کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا تھا .اس کے لئے متوكل مجبور ہوا کہ آپ کو شدیداً كنٹرول میں رکھنے کیلئے مدينه سے سامرا (دارالخلافہ) منتقل کیاجائے .جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عباسیوں کے ایک گروہ نے متوکل کو خط لکھا کہ لوگ امام ہادی کے گرویدہ ہورہے ہیں جو تمھاری حکومت کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے . اوراگر تم مكہ اور مدينه چاہتے ہو تو علي ابن محمدکو مدينه سے نکال کر کہیں اور منتقل کردے . (٢٠ )
امام(ع) کے سیاسی اوضاع کی شناخت کیلئے اتنا ہی کافی ہے . اور اب اس دور میں اجتماعی تقیہ کے پائے جانے پر ہمارے پاس جو دلیل ہے ،انہیں بیان کروں گا :روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ علی ابن مہزیار نے امام سے پوچھا : کیا ہم اہل سنت کے احکام کے مطابق اموال پر مالک ہوسکتے ہیں جبکہ مکتب اہل بیت کے احکام کے مطابق اس مال پر مالک نہیں بن سکتے؟جیسے ارث وغیرہ کے احکام ہیں ،جب کہ وہ لوگ اپنے احکام کے مطابق ہم سے اموال لیتے ہیں ؟
تو امام(ع) نے فرمایا: يجوز لكم ذالك انشاءالله اذا كان مذهبكم فيه التقية منهم والمداراة لهم(٢١ ) يعني ہاں تمھارے لئے ایسا کرنا جائز ہے انشاءالله اگر تقيہ اور مدارات کی حالت میں ہو .

امام جواد(ع) اور تقيہ امام جواد(ع) کا دور امامت سن ۲۰۳سے ۲۲۰ ھ تک ہے جو مامون اور اس کے بھائی معتصم کی حكومت کا دور ہے. امام نے بیشتر وقت مدینہ اور مرکزی حکومت سے دور رہ کر گذارا . لیکن پھر بھی مامون اور معتصم ،ام الفضل جو آپ کی زوجہ اور مامون کی بیٹی ہے ، کے ذریعے امام(ع) کے گھریلو معاملات میں جاسوسی کرنے لگے ؛ لیکن وہ قابل ذکر موارد جہاں آپ نے تقیہ کیا ہے وہ یہ ہیں:
١. امام(ع) کا نماز میں قنوت نہ پڑھنا .: اذا كانت التقية فلا تقنت وانا اتقلد هذا. (٢٢ )
٢. ایک دفعہ يحي بن اكثم کے ساتھ مناظرہ ہوا ، جب یحی نے ابوبکر اور عمر کی شان میں جعلی احادیث کو بیان کیا تو امام(ع) نے فرمایا: میں منكر فضائل نہیں ہوں ، اس کے بعد منطقي دلائل کے ذریعے ان احادیث کے جعلی ہونے کو ثابت کرنے لگا . (٢٣ )

امام حسن العسكري(ع) اور تقيہ امام عسكري(ع) کا دور امامت اگرچہ بہت ہی مختصر ہے (۲۵۴ ـ ۲۶۰) لیکن اپنے بابا کے دور امامت سے کئی درجہ زیادہ سخت اور مشکل ہے .اس دور کے آغاز میں معتز(۲۵۲ ـ ۲۵۵) نے آپ کو آل ابوطالب (ع)کے کچھ افراد کے ساتھ قید کئے . اس کے بعد مهدي(۲۵۵ـ۲۵۶)عباسی نے بھی یہی رویہ اختیار کیا ، یہاں تک کہ آپ کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی . (٢٤ )
لیکن وہ اس مکروہ ارادے میں کامیاب نہیں ہوا . لیکن آخر کار معتمد(۲۵۶ـ۲۷۹) جس نے یہ سن رکھا تھا کہ امام عسكري(ع) کی اولاد میں سے ایک فرزند آئے گا جو ظلم و بربریت کو ختم کرے گا ؛امام اور ان کے خاندان پر کڑی نظر اور پہرہ ڈال رکھا تھا ، تاکہ وہ فرزند اس دنیا میں نہ آنے پائے . آخرکار اس نے امام(ع) کو شهید کیا .
لیکن امام(ع) نے اپنے بیٹے کی ولادت کو مخفی رکھا ، یہاں تک کہ بہت سارے شیعوں کوبھی ان کی ولادت کا علم نہیں تھا جو سن ۲۵۵ه میں متولد ہوا تھا (٢٥ ) کیونکہ بہت زياده خطر تھا . اسی لئے امام (ع) کی شہادت کے بعد آپ کا بھائی جعفر جو ایک بےایمان انسان تھا ، آپ کی ساری میراث اپنے نام کردیا .کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ امام کا کوئی وارث بھی ہے . (٢٦ )
امام(ع) کے کچھ سیاسی تقیہ کے موارد اپنے چاہنے والوں کے نام لکھا ہوا خط سے واضح ہوتا ہے، فرماتے ہیں کہ:
۱ـ جب میں تمھارے سامنے سے گذرے تو مجھے سلام نہ کرنا .اور اپنے ہاتھوں سے میری طرف اشارہ نہ کرنا ، کیونکہ تم لوگ امان میں نہیں ہو .ممکن ہے اس طرح اپنے آپ کو درد سر میں ڈالنے سے محفوظ رکھیں .
۲ـ امام(ع) جب اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے تھے تو ان کیلئے مخفی طور پر پیغام بھیجتے تھے کہ فلان جگہ جمع ہو جائیں ، تاکہ ایک دوسرے کی دیدار ہو سکے . .امام(ع) سخت سياسي دباؤ کی وجہ سے اپنے چاہنے والوں کو تقیہ کرنے پر زیادہ زور دیتے تھے .جیسا کہ فرمایا:
وسع لهم في التقيہ يجاهرون باظهار موالاة اولياءالله و معادات اعداءالله اذا قدروا و يسترونها اذا عجزوا.
خدا تعالی نے شیعیان حیدر کرار کو تقیہ میں راحت اور آرام کو پوشیدہ رکھا ہے کہ اپنی طاقت اور قدر کو آشکار کرنے کا وقت آتا ہے تو اللہ کے چاہنے والوں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت کا اعلان کریں، اور جب بھی دوسرے گروہ کے مقابلے میں کمزور واقع ہوجائے تو اس دوستی اور دشمنی کو چھپائیں ؛ پھر فرمایا: أَلَا وَ إِنَّ أَعْظَمَ فَرَائِضِ اللَّهِ عَلَيْكُمْ بَعْدَ فَرْضِ مُوَالاتِنَا وَ مُعَادَاةِ أَعْدَائِنَا اسْتِعْمَالُ التَّقِيَّةِ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ إِخْوَانِكُمْ وَ مَعَارِفِكُمْ وَ قَضَاءُ حُقُوقِ إِخْوَانِكُمْ فِي اللَّهِ أَلَا وَ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ كُلَّ ذَنْبٍ بَعْدَ ذَلِكَ وَ لَا يَسْتَقْصِي فَأَمَّا هَذَانِ فَقَلَّ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمَا إِلَّا بَعْدَ مَسِّ عَذَابٍ شَدِيدٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ مَظَالِمُ عَلَى النَّوَاصِبِ وَ الْكُفَّارِ فَيَكُونَ عَذَابُ هَذَيْنِ عَلَى أُولَئِكَ الْكُفَّارِ وَ النَّوَاصِبِ قِصَاصاً بِمَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحُقُوقِ وَ مَا لَهُمْ إِلَيْكُمْ مِنَ الظُّلْمِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَ لَا تَتَعَرَّضُوا لِمَقْتِ اللَّهِ بِتَرْكِ التَّقِيَّةِ وَ التَّقْصِيرِ فِي حُقُوقِ إِخْوَانِكُمُ الْمُؤْمِنِينَ. (٢٧ )
آگاہ رہو ! ہمارے ساتھ دوستی اور ہمارے دشمنوں کے ساتھ نفرت اور دشمنی کے بعد خدا تعالی کے واجبات میں سے سب سے بڑا واجب تقیہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت کرے اور اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرے ، آخر میں فرمایا: تقوی الہی کو اپنا پیشہ قرار دو اور اپنے آپ کو تقیہ نہ کرکے اور اپنے مؤمن بھائیوں کے حقوق ادا نہ کرکے غضب الہی کا مستحق نہ بنیں .
۳ـ آپ کے اصحاب میں سے ایک چاہتا تھا کہ آپ اعلانیہ طور پر حجت خدا کی حیثیت سے معرفی ہوجائے .لیکن امام(ع) نے فرمایا:خاموش رہو ! یا اسے چھپا ئے رکھو یا آشکار کرکے موت کیلئے تیار ہوجاؤ .(٢٨ )

حضرت حجت(عج) اور تقيہ آنحضرت(عج) کی امامت کاپہلا دور جو غيبت صغري کا دورکہلاتا ہے اور سنہ (۲۶۰ ـ ۳۲۹)ھ پر مشتمل ہے .اس دوران میں امام اپنے چار خاص نائبین کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے . ان چار نائبین کے نام لیتے ہوئے امام کے ساتھ ان کا ارتباط اور تقیہ کے موارد کو بیان کریں گے:

۱. ابو عمرو عثمان ابن سعيد عمري وہ امام حسن العسكري (ع) کے وكيل بھی تھے جو روغن فروشي کے شغل کو اپنی فعاليتوں کیلئے وسیلہ قرار دیتے ہوئے امام تک ان کے اموال کو پہونچاتے تھے .یہی وجہ تھی کہ ابوعمرو عثمان عمری ”سمان“ يعني روغن فروش کے نام سے معروف تھا. (٢٩ )

۲. ابو جعفر محمد بن عثمان اس زمانے میں شیعیان حیدر کرار کا زیادہ اصرار تھا کی امام(ع)کا نام مبارک معلوم ہوجائے. اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اس قدر سری تھا کہ بہت سارے شیعوں کو ان کا نام بھی معلوم نہ تھا . لیکن آنحضرت نے ایک خط میں جو محمد بن عثمان کے ذریعے بھیجے ؛ جس میں یوں لکھا تھا : ليخبر الذين يسالون عن الاسم،اما السكوت و الجنة و اما الكلام و النارفانهم اوقفوا علي الاسم اذاعوہ و ان وقفوا علي المكان دلوا عليه. (٣٠ )
ضروی ہے کہ ان لوگوں کو جو میرا نام جاننا چاہتے ہیں ،بتادوں کہ اس بارے میں خاموش رہیں جس میں بہشت ہے اور اگر اس بارے میں بات کرے تو اس میں جہنم ہے . کیونکہ جو میرا نام جاننے کے بعد اسے افشا کرے اور اگر میرے رہنے کی جگہ معلوم ہوجائے اور دوسروں کو خبر دے .

۳. ابو القاسم حسين بن روح حسين بن روح جو بہت ہی محتاط انسان تھا، امنیت اور حفاظت کے تمام اصول اور قواعد وضوابط کو بروی کار لاتے تھے . چنانچہ محمد بن عثمان کے بعد نائب امام آپ ہی کو بننا تھا، جب ایک مؤمن نے آپ سے سوال کیا کہ کیوں یہ نیابت آپ کو نہیں ملی ؟
تو کہا : میں ایک ایسی موقعیت اور حالت میں تھا کہ اگر اس بارے میں مجھ پر سختی کرتے اور شاید میں آنحضرت(ع) کے مكان اور جائیگاہ کو فاش کر لیتا . (٣١ )
ان کے تقیہ کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے کہ ایک مجلس میں تینوں خلیفوں کو علي(ع) سے افضل اور برتر توصیف اور تمجید کرنے لگے اور لوگوں کو اپنے اوپر راضی کرانے لگے تو ایک صحابی جو آپ کے عقیدے سے باخبر تھا ، ہنسنے لگے . جب مجلس اختتام پذیر ہوا تو اس شخص کے پاس گئے اور اسے خوب ڈھانٹ دیا اور اگر دوبارہ کبھی ایسا کیا تو قطع رابطہ کر نے کی دھمکی دی .(٣٢ )

۴ـ علي ابن محمد السمري(رہ) ان کی وفات کے وقت ایک خط جو آنحضرت(عج)نے آپ کو دیا تھا جس میں نائب خاص کے منقطع اور اس کے ادعا کرنے والوں کی تکذیب کی ہوئی تھی . اسی طرح آپ کی سیاسی تقیہ کے موارد میں شیعیان سے وجوہات لینے کے بعد ان کو کوئی رسید نہ دینا بھی شامل ہے (٣٣ )
..............
(٢٠ ) . بحار الانوار،ج۵۰،ص۲۱.
(٢١ ). وسائل الشيعه،ج۱۸، ص۱۶۵.
(٢٢ ). همان،ج۴،ح۱ .
(٢٣ ). بحار الانوار،ج۵۰،ص۸۰.
(٢٤ ). همان ،ص ۳۰۸.
(٢٥ ) .همان ج ۵۱، ص .۱۵ .
(٢٦ ). الارشاد ، ج ۲، ص ۳۳۰.
(٢٧ ) . همان ، ج ۷۵، ص۴۰۹ .
(٢٨ ). همان ، ج ۵۰، ص ۲۹۰.
(٢٩ ). همان ، ج ،۵۱،ص۳۴۴.
(٣٠ ). همان ، ص ۳۵۱.
(٣١ ). همان ، ص۳۵۹.
(٣٢ ). همان ، ص۳۵۶.
(٣٣ ). همان ، ص۳۵۴.


۸
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

اسلامي فرقے اورتقيہ مباحث قبلي سے معلوم ہو کہ بيشتر اسلامي فرقے تقيہ کو قبول کرتے ہیں .لیکن بعض کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے جیسے :
o فرقه ازارقه کہتا ہے ،تقيہ نه قولاً جائزہے ا ور نه فعلاً.
o فرقه صفريه کہتا ہے ، تقيہ قولاً جائز ہے لیکن فعلاً جائز نہیں .
o فرقه زيديه کہتا ہے ، تقيہ اهل عصمت کیلئے جائز ہے ليکن عصمت کے نااہل کیلئے جائز ہے .

تقيہ اور احاديث اهل سنت اس کتاب میں یہ ایک مہم بحث ہے کہ ہم ثابت کریں گے کہ ،کیا اهل سنت والجماعت اور ان کے ائمه نے بھی تقيہ کیا ہے یا نہیں کیا ہے .
وہ احادیث جنہیں مسلم ا ور بخاري نے ذکر کئے ہیں اہل سنت صحیح مانتے ہیں . اوریہ دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ اپنی جان بچانے کیلئے کفر کا اظہار کرنا جائز ہے ،اور اسی ضمن میں عمار بن یاسر کا قصہ نقل کرتے ہیں : الا من اكره و قلبہ مطمئن بالايمان .
آگے کہتے ہیں کہ جب بھی اپنی جان خطر میں پڑ جائے تو عمار بن یاسر کی پیروی کرنا کوئی بدعت نہیں ہے . کیونکہ سب جانتے تھے کہ عمار، سر سے لیکر پیر تک یعنی سارا وجود ایمان سے لبریز تھا . (١ )
اہل سنت کے بعض روایات کو اس فصل میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا :
١. ذهبي نے اسی قصے کو اپنی کتاب میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اگر مسلم اور بخاری نے اسے صحیح اور جائز مانے ہیں تو جائز ہے .

تقیہ اور دیدگاہ صحابہ
عمر بن خطاب (ت ۲۳ھ) اور تقیہ بخاری روایت کرتا ہے کہ عمر بن خطاب نے جب اسلام قبول کیا تو مشرکوں سے خوف زدہ ہوکرگھر میں چھپا رہا ، اس قصہ کو عبداللہ بن عمر خطاب نے یحیی بن سلیمان کے ذریعے " عمر بن خطاب کا اسلام کے باب " میں نقل کیا ہے :وہ لکھتا ہے کہ عمر ابن خطاب بہت ہي خوف زدہ ہوگیا تھا ، اچانک ابو عمر و عاص بن وائل سھمی جس کے بدن پر ریشم کے کپڑے تھے بنی سہم اور ان کے ہم پیمان افراد جو دور جاہلیت میں ان کے ساتھ ہم پیمان ہو چکے تھے ، سے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ جواب نہیں دیا .تیری قوم کا کہنا ہے کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤ ں تو مجھے قتل کیا جائیگا.تو اس نے کہا : وہ لوگ تمھار ا کچھ نہیں بھگاڑ سکتے . جب اس سے یہ بات سنی تو اس کے بعد سے میں امان محسوس کرنے لگا .
اس کے بعد عاص باہر آیا اور دیکھا کہ لوگ درے سے نیچے آرہے ہیں ، ان سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو ؟ تو کہنے لگے : خطاب کے بیٹے کو قتل کرنے جارہے ہیں.
اس نے کہا: نہیں تم ایسا نہیں کروگے.تو وہ لوگ وہاں سے واپس چلے گئے . (٢ )
مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث پوری صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہے کہ عمر نے تقیہ کے طورپر اپنے آپ کو گھر میں چھپارکھا . اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر نے اپنی اسلامی زندگی کا آغاز هي تقیہ سے کیا .اور اس کی کوئی عاقل انسان مذمت بھی نہیں کر سکتا ؛ کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے ،اس کے برخلاف اگر کوئی دشمن کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرلے تووہ قابل مذمت ہے .

عبد اللہ ابن مسعود(ت ۳۲ھ)اور تقیہ عبداللہ ابن مسعود کہتا ہے : جب بھی مجھے کوئی ظالم و جابر اپنی مرضی کے مطابق الفاظ زبان پر لانے پر مجبور کرے جو ایک یا دو کوڑے لگنے سے بچنے کا سبب ہو تو ضرور وہ الفاظ زبان پر جاری کروں گا .
اسی کے ذیل میں ابن حزم کہتا ہے:اس بارے میں کسی بھی صحابی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے . بلکہ سب کا اتفاق ہے .(٣ )
یہ بات تقیہ کے جائز ہونے اورسارے صحابہ کا اتفاق ہونے پر دلیل ہے اگر چہ جابر حکمران کے ایک یا دو تازیانے سے بچنے کیلئے ہی کیوں نہ کیا جائے .
ابن مسعود کا تقیہ کرنے کا دوسرا مورد ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز پڑھنا ہے کہ ولید کبھی شراب پی کر مستی کی حالت میں مسجد نبویﷺ میں آتا اور نماز جماعت پڑھاتا تھا ؛ ایک دن صبح کی نماز میں اس نے چار رکعت پڑھائی !! جب لوگوں نے تعجب کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ کانا پھوسی کرنے لگے تو کہا: کیا تمھارے لئے ایک رکعت کا اور اضافہ کروں ؟
ابن مسعود نے اس سے کہا :ہم آج کے دن کو ابتدا سے ہی زیادتی کے ساتھ شروع کریں گے . (٤ )
اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن مسعود اور دوسرے تمام نمازگذاروں کا فاسق اور شراب خوار حاکم کے سامنے تقیہ کرتے ہوئے نماز ادا کی ہیں . اور یہ وہی شخص ہے جسے عثمان کے زمانے میں شرابخواری کے جرم ميں کوڑے مارےگئے تھے . (٥ )

ابو الدرداء(ت۳۲ھ)اور تقیہ بخاری اپنی کتاب میں ابودرداء سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک گروہ کے سامنے مسکرا رہے تھے جب کہ اپنے دلوں میں ان پر لعنت بھیج رہے تھے . (٦ )

ابو موسی اشعری(ت۴۴ھ)اور تقیہ ابو موسی اشعری نے بھی اسی روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے کہ ہم ایک گروہ کے سامنے مسکرا رہے تھے جب کہ اپنے دلوں میں ان پر لعنت بھیج رہے تھے . اس نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اس گروہ سے مراد وہ ظالم اور جابر حکمران تھے ، کہ جن کے شر سے بچنے کیلئے تقیہ کرتے ہوئے ہم ان کے سامنے مسکرا رہے تھے. (٧ )

ثوبان (ت۵۴ھ) غلام پیامبر(ص) اور تقیہ یہ بات مشہور ہے کہ ثوبان جھوٹ کو ان موارد میں مفید اور سود مند جانتا تھا جہاں سچ بولنا مفید نہ ہو . غزالی (ت۵۰۵ھ) نے ان سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : جھوٹ بولنا گناہ ہے سوائے ان موارد میں کہ جہاں کسی مسلمان کو نقصان اور ضرر سے بچائے اور فائدہ پہونچے . (٨ )

ابو ہریرہ (ت۵۹ھ) اور تقیہ ان کی زندگی کے بہت سارے واقعات ہیں جنہیں پڑھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اموی حکومت والوں کی شر سے بچنے کیلئے تقیہ کو بہترین اور وسیع ترین وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے . ابوہریرہ بطور واضح تقیہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر تقیہ نہ ہوتا تو میری گردن بھی اڑا چکی تھی .
صحیح بخاری نقل کرتا ہے کہ اسماعیل نے ہمارے لئے نقل کیا کہ میرے بھائی نے ابی ذئب سے انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابی ہریرہ سے روایت کی ہے کہ: دوچیزوں کو پیامبر خدا (ص ) سے ہم نے حفظ کیا ؛ ایک کو ہم نے پھیلا دی دوسری کومخفی رکھا . اگر اسے بھی آشکار کرتے تو میری گردن کٹ چکی ہوتی .(٩ )
..............
(١ ) . تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرقہ ہای اسلامی ، ص ۹۵.
(٢ ) . صحیح بخاری ۵: ۶ باب اسلام عمر بن خطاب.
(٣ ) . المحلی ابن حزم ج ۸ ص ۳۳۶،مسالہ ۱۴۰۹.
(٤ ) . قاضی دمشقی، شرح العقیدہ الطحاویہ؛ ج۲،ص ۵۳۳.
(٥ ). صحیح مسلم،ج۳،ص ۱۳۳۱، کتاب الحدود ، باب الخمر.
(٦ ) .صحیح بخاری، ج ۸ ص ۳۷ کتاب الادب ، باب المداراۃ مع الناس.
(٧ ) . قرافی، الفروق ؛ ج۴ ، ص ۲۳۶.
(٨ ) . احیاء علوم الدین ؛ غزالی ،ج ۳،ص ۱۳۷.
(٩ ) . صحیح بخاری ، ، کتاب العلم، باب حفظ العلم ،ج۱، ص ۴۱ .


۹
دوسری فصل:تقیہ تاریخ کے آئنے میں تقيہ ايک قرآني اصول

امام شافعی اور تقیہ دو جگہوں پر امام شافعی نے تقیہ کیا ہے اور دونوں مورد ہارون الرشید کے ساتھ اتفاق ہوا:
۱.سارے تاریخ دانوں کے ہاں مشہور ہے کہ امام شافعی نے ایک مدت یمن میں اپنی زندگی گذاری اور یمن کے اکثرلوگ علوی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے . اور شافعی بھی علویوں کی طرف مائل ہوئے اور یہاں سے اس پر قسم قسم کی مشکلات آنا شروع ہوا . یہاں تک کہ ان کے اپنے قبیلے میں وہ شیعہ متہم ہوا . یہ ہارون الرشید کے جاسوسوں پر مخفی نہ رہا ، حماد بربری یمن سے ہارون الرشید کو ایک خط لکھا اور اسے علویوں کی طرف سے احساس خطر دلایا ، اور شافعی کے وجود کو ان کیلئے بہت ہی خطرناک بتایا اور کہا کہ شافعی کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ تلوار سے زیادہ تیز ہے . اس لئے ہارون نے یہ دستور دیا کہ شافعی کو بعض علوی اکابرین کے ساتھ بغداد بھیجا جائے .جب یہ لوگ بغداد پہونچے تو ہارون نے سارے علویوں کے قتل کا حکم دیا اور بے چون و چرا سب کو قتل کیا گیا . لیکن شافعی نے تقیہ کے طور پر ایک جملہ کہا جو حقیقت پر مشتمل نہیں تھا ، اس نے ہارون سے کہا : کیا میں اس شخص کو ترک کروں جو کہتا ہے ، میں ان کے چچا زاد بھائی ہوں ؟! اور اس شخص کی جانب داری کروں کہ جو کہتا ہے کہ میں اس کا خادم اور غلام ہوں ؟!! (١ )
شافعی کا یہ جملہ مؤثر ہوا اور ان کی جان بچ گئی .
۲. تقیہ کا دوسرا مورد پہلا مورد سے زیادہ واضح تر اور آشکار تر است : ایک دن شافعی کو زنجیروں میں بندھے ہوئے ہارون کے دربار میں لایا گیا .جس میں ان کے کچھ دشمن بھی موجود تھے ؛ جن میں سے ایک بشر مریسی معتزلی (ت۲۱۸ھ)تھا .اس نے حکم دیا کہ شافعی کو اور سخت سزا دی جائے جسے ہارون الرشید سن رہا تھا ؛ شافعی سے کہنے لگا: تو اجماع کا مدّعی ہے کیا کوئی ایسی چیز کا علم ہے جس پر لوگوں کا اجماع قائم ہوا ہو ؟ شافعی نے جواب دیا : اسی امیرالمؤمنین پر لوگوں نے اجماع کیا ہے . جو بھی ان کی مخالفت کرے ، وہ مارا جائے گا ؛ ہارون ہنس پڑے ، پھر حکم دیا کہ زنجیروں کو کھول کر اسے آزاد کر دیا جائے ،پھر ان کو اپنے پاس بٹھاکر ان کا احترام کرنے لگا. (٢ )

امام مالك او رتقيہ جب تک بنی عباس کا حکم ظاہر نہیں ہوا اس وقت تک بنی امیہ کے دور میں مالک نے امام صادق(ع) سے روايت نقل نہیں کی .یہ اپنی جان و مال کے خوف اور تقیہ کے سواکچھ نہیں تھا .
پس ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیسے آپ کے اماموں کیلئے تقیہ کرنا جائز ہوا اور ہمارے لئے تقیہ جائز نہیں ؟ اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ تعصب کی بنا پر يه لوگ ایک جائز اور قرآنی حکم کا مزاق اڑا رهے هيں.

ابو بكرا ور تقيہ مكہ اور مدينه کے درمیان میں پيامبراسلام(ص) کے همراه ا يك اونٹ پر سوار تھا .اور اس سے پہلے بھی ابوبکر کا مکہ اور مدینے میں آنا جانا رہتا تھا .راستے سے بخوبی واقف تھا ... جب ابوبکر سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ تو اس نے کہا : یہ میرا راہنما ہے .
واقدي کہتا ہے :رسول خدا(ص) ابو بكر کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اور جس سے بھی ملاقات کرتے تھے اور پوچھے جاتے تھے کہ یہ کون ہے تیرے ساتھ؟ تووہ کبھي نہیں کہتے تھے که: یہ رسول خدا(ص) ہے بلکہ وہ کهتا تھا کہ یہ میرا راہنما ہے . (٣ )

امام احمد بن حنبل اور تقيہ مامون کے بعدمعتصم عباسي نے دوسری مرتبہ احمد حنبل کا امتحان لیا اور پوچھا: تيرا قرآن کے بارے میں کیا عقيده ہے ؟
چونکہ اس وقت عرب اور یونان کے فلاسفروں اور دانشمندوں کے درمیان قرآن کے قدیم یا حادث ہونے میں اختلاف پایا جاتا تھا ؛ احمد بن حنبل نے کہا: میں ایک دانشمند انسان ہوں لیکن اس مسئلے کو نہیں جانتا . خلیفہ نے سارےعلماء کو جمع کیا تاکہ اس کے ساتھ علمی بحث شروع کرے . عبد الرحمن نے احمد کے ساتھ بحث شروع کی ، لیکن قرآن کے مخلوق ہونے کا اعتراف نہیں کیا ،جب اسے کئی کوڑے لگے تو اسحق نے خلیفہ سے اجازت مانگی کہ وہ ان کے ساتھ مناظرہ شروع کرے گا .خلیفہ نے بھی اجازت دے دی .
اسحاق: یہ جو علم تیرے پاس ہے اسے کیا کسی فرشتے کے ذریعے سے تم پر الہام ہوا ہے یالوگوں سے حاصل کیا ہے ؟
احمد: دانشمندوں سے سیکھا ہے .
اسحاق: تھوڑا تھوڑا کرکے حاصل کیا ہے یا ایک ہی مرتبے میں؟
احمد:تھوڑا تھوڑا اور بتدریج حاصل کیا ہے .
اسحاق:کیا مزید علم باقی ہے جو تو نے نہیں سیکھا ہے؟
احمد: ہاں ضرور باقی ہے .
اسحاق: قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ اسی علم کی وجہ سے ہے جو ابھی تک نہیں سیکھا ہے اور امير المؤمنين تجھے سکھائے گا.
احمد: امير المؤمنين کے اسی بات کو قبول کرتا ہوں .
اسحاق :کیا قرآن کے مخلوق هونے میں؟
احمد: ہاں قرآن کے مخلوق هونے میں.
ان کے اس اعتراف پر گواہ رکھ کر اسے شاہی لباس تحفہ دیا .اور آزاد کردیا.(٤ )
امام اهل سنت احمد بن حنبل کے اس مناظره پر مشهور ومعروف اديب اور دانشمند ”جاحظ“نے ایک اچھی تفسیر لکھی ہے . جاحظ اپنے اس رسالے میں اہل سنت سے مخاطب ہے کہ تمھارا امام احمد بن حنبل نے رنج اور امتحان کے بعد اعتراف کرلیا ہے : سوائے کافرستان کے کہیں اور تقیہ جائز نہیں ہے . ليکن ان کا قرآن کے بارے میں مخلوق ہونے کا اعتراف کرنا تقیہ کے سوا کچھ اور تھا ؟! اور کيا یہ تقیہ دار الاسلام میں انہوں نے نهيں کیا جو اپنے عقیدے کی تکذیب کررہا ہے ؟! اگر ان کا اقرار صحیح تھا تو تم ان سے اور وہ تم سے نہیں ہے .
شيعه ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ حجر بد عدی اور يزيد بن صوحان عبدي جو علی (ع)کے ماننے والےتھے ان کا معاویہ کا ظالمانہ اور جابرانہ دربار میں علی کا مدح کرنا کیا تقيہ تھا ؟!
بس يه ماننا پڑے گا که شيعه هر جگه تقيہ کو روا نهيں سمجھتے ، بلکه جهاں جائز هو وہاں تقيہ کرتے هيں.

حسن بصری (ت۱۱۰ھ)اور تقیہ یہ تابعین میں سے تھا کہتا ہے کہ تقیہ قیامت تک کيلئے جائز هے(٥ ) یہ ان لوگوں میں سے تھا جو صحابہ کےحالات سے واقف تھے.اس قول کو یا ان سے سنا ہے یا اس نے اس مطلب کو قرآن سے لیا ہے . (٦ )

بخاری (ت۲۵۶ھ) اور تقیہ مشروعیت تقیہ پر لکھي هوئي کتاب "الاکراہ " میں مختلف روایات کو دلیل کے طور پر نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری کا نظریہ کیا ہے ؟اس آیہ شریفہ کو نقل کرتا ہے :
ومَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبہ مطْمَئنِ‏ُّ بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ(٧ ) جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے .... علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ....اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے.
اور: لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَن يَفْعَلْ ذَالِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فىِ شىَ‏ْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَئةً (٨ )
(خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے . (٩ )

وہابی مذہب کے علمائےرجال اور تقیہ وہابی مذہب کے علمائےرجال تقیہ کا انکار نہیں کرتے ، بلکہ آشکارا تمام مسلمانان عالم کے سامنے تقیہ کو بروي کار لاتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ بڑے بڑے اولیا اور صالحین کے قبور کو گرانا ، لیکن قبر مبارک پیامبر (ص) اور ابوبکراور عمر کے قبور کو باقی رکھنا تقیہ کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے . ان کا قبر پیامبر (ص) اور اصحاب کے قبور کو باقی رکھنا کئی ملین مسلمانوں کے دلوں کو آزار پہونچنے سے بچانا ہے اور یہی تقیہ ہے . (١٠ )

اسلامی فرقے اور ان کے فقہ میں تقیہ اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ اختیاری طور پر بغیر کسی جبر و اکراہ کے جائز نہیں .اس بات پر سارے علماء کا اتفاق ہے کہ تقیہ صرف اجبار اور اکراہ کی صورت میں جائز ہے .یہی وجہ ہے کہ تمام مذاہب اسلامی کے فقہی کتابوں میں باب الاکراہ کے نام سے الگ باب ہے .

فقہ مالکی اورتقیہ امام مالک بن انس ( ت ۲۷۹ھ)کے تقیہ بارے میں پہلے بیان کرچکا ؛ جس میں ان کا کہنا تھا : کوئی بھی ایک بات جو جابر حکمران کے دو کوڑے سے بچنے کا باعث ہو ، اسے میں اپنی زبان پر جاری کروں گا. (١١ )
اسی طرح مالکی مذہب کے علماء بھی جبر اور اکراہ کے موقع پر کفر آمیز کلمات کا زبان پر لانے کو ، جب کہ اس کا دل ایمان سے پر ہو ؛جائز قرار دیتے ہیں .
ابن عربی مالکی (ت۵۴۳ھ) کہتا ہے کہ تقیہ کرکے کافر ہوجائے لیکن ایمان سے اس کا دل مطمئن اور استوار ہو تو اس پر مرتد کا حکم جاری نہیں ہوگا . وہ دنیا میں معذور اور آخرت میں بخشا جائے گا .
پھر صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے .اسی کے ذیل میں مالکی مذہب کے ہاں اکراہ اور اجبار کے موقع پر قسم کھانااور اس میں تقیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؛ اس مورد میں تقیہ کے جواز پر حکم لگاتا ہے .(١٢ )

فقہ حنفی اورتقیہ فقہ حنفی میں تقیہ کا مفہوم بہت وسیع ہے .ان کے فقہاء بڑے دقت اور اہتمام کے ساتھ تقیہ کو جائز قرار دیتے ہیں . ہم یہاں صرف ایک کتاب جس میں تقیہ کے کئی مورد بیان کیا گیا ہے جو حنفی عالم دین فرغانی (ت ۲۹۵ھ)نے قاضی خان کے فتاوا کو جمع کرکے لکھی ہے .
پہلا مورد: جب کسی شخص کو کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرنے پر مجبور کرے ، اور اگر نہ مانے تو اسے خود قتل کیا جائے گا یا اس کے بدن کا کوئی عضو کاٹا جائے گا ؛ تو کیا ایسے مورد میں اس پر اکراہ صدق آتا ہے ؟ اور کیا وہ ایک مسلمان کو قتل کرسکتا ہے ؟اگر جائز نہیں ہے تو کیا اس پر قصاص ہے ؟
ابوحنیفہ اور محمد کہتے ہیں کہ اکراہ اس پر صدق آتا ہے اور قصاص مجبور کرنے والے سے لیا جائے گا نہ مجبور ہونے والے سے .
ابو یوسف کہتا ہے کہ اکراہ صحیح ہے اور قصاص کسی پر بھی واجب نہیں ہے لیکن مقتول کا دیہ مجبور کرنے والے پر واجب ہے کہ تین سال کے اند ر مقتول کے وارث کو دیا جائے !!!
امام مالک اور امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ اکراہ کرنے والا اور مجبور کئے جانے والا ، دونوں کو قتل کرناچاہئے (١٣ ) اس کا مطلب يه هے که ابوحنيفه ،امام مالک،امام شافعياور محمد اس بات کے قائل هيں که مجبور شخص دوسرے انسان کو قتل کرسکتے هيں . جب که شيعوں کےنزديک شخص مجبور ، خود قتل هوتو هو سکتا هے ليکن کسي کو وہ قتل نهيں کرسکتا .
دوسرا مودر:کسی فعل کا انجام دینا اس کے ترک کرنے سے بہتر ہے تو ایسی صورت میں تقیہ جائز ہے . اور جب بھی اس فعل کے ترک کرنے سے وہ گناہ کا مرتکب ہوجائے تو اس پر تقیہ کرنا واجب ہے .جیسے اگر کسی کوخنزير کا گوشت کھانے ، یا شراب پینے پر مجبور کرے تو مجبور ہونے والے کو کھانا اور شراب کا پینا جائز ہے . اسی طرح کوئی پیامبراسلام(ص) کی شان میں گستاخی کرنے اور زبان پر کفر آمیز الفاظ کے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے تو جائز ہے ، جب کہ اس کا دل رسول خدا (ص) پر ایمان اور ان کی محبت سے پر ہو.
تیسرا مورد: اگر کسی عورت کو قید کرکے اسے زنا کرنے پر مجبور کیا جائے تو اس پر کوئی حد جاری نہیں ہوگا . (١٤ )
جب که شيعوں کے نزديک مجبوري کي حالت ميں بھي زناجائز نہیں ہے .
چوتھا مورد : اگر کسی مرد کو مجبور کرے کہ ماہ رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرے یا کوئی چیز کھائے یا پئے ، تو اس پ کوئی کفارہ نہیں ہے لیکن اس روزے کی قضا اس پر واجب ہوگا. (١٥ )

فقہ شافعی اورتقیہ فقہ شافعی(ت،۲۰۴) ،میں تقیہ وہاں جائز اور مباح ہے، جهاں مجبور ہونے والے کيلئے جائز ہو ؛جيسے: کفر آمیز کلمات کا زبان پر جاری کرنا ، جبکہ اس کا دل ایمان سے پر ہے .شافعی کے نزدیک وہ شخص ایسا ہے جیسا اس نے زبان پر ایسا کوئی کفر آمیز کلمہ جاری ہی نہیں کیا ہے .اس بات کو عطاء بن ابی ریاح (ت۱۱۴ھ)کی طرف نسبت دی گئی ہے جو بڑے تابعین میں سے ایک ہے .(١٦ )
اسی طرح ابن حجر عسکلانی شافعی (ت۸۲۵ھ) نے بھی مجبور کرنے کی صورت میں تقیہ کرنے اور کفر آمیز الفاظ زبان پر جاری کرنے کی اجازت دی ہے . (١٧ )
تقیہ کے ایک اور مورد جسے سیوطی شافعی (ت۹۱۱ھ) نے بیان کیا ہے : وہ صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر جب بھی زبان پر کفر کا اظہار کرنے پر مجبور ہوجائے تو اپنی جان بچانے کے خاطر زبان پر کفر کا اظہار کرنا افضل ہے .آگے لکھتا ہے کہ اسی طرح جب بھی مجبور کرے شراب پینے پر ، پیشاب پینے پر ،خنزیر کا گوشت کھانے پر ، دوسرے کے مال تلف کرنے پر، دوسرے کے غذا کھانے پر، جھوٹی گواہی دینے پر، رمضان میں روزہ کھانے پر، واجب نماز کے ترک کرنے پر ،... تو اس کے لئے جائز ہے وہ انہیں انجام دے .ان کی تعبیر یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو خدا کی بارگاہ میں توبہ کے ذریعے ساقط ہو سکتی ہے ، اکراہ کے ذریعے بھی ساقط ہوسکتی ہے . (١٨ )

فقہ حنبلی اورتقیہ ابن قدامہ حنبلی (ت ۶۲۰ھ) حالت اکراہ میں تقیہ کے مباح ہونے پرتصریح کیا ہے کہ مجبور شخص کا فعل تہدید اور اکراہ کی وجہ سےجائز ہوجائے گا اور مجازات بھی نہیں ہوگا . (١٩ )
فقہ حنبلی میں تقیہ کے موارد میں ذکر ہوا ہے کہ کفرمیز کلمہ پر اگر اکراہ کیا جائے تو اس کیلئے جائز ہے حنبلی مذہب کے مفسروں نے لکھا ہے :
ابن جوزی نے تصریح کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کفر پر مجبور کرنے کی صورت میں تقیہ کرنا جائز ہے .(٢٠ )
احمد بن حنبل (ت۲۴۱ھ) کا اس بارے میں نظریہ یہ ہے کہ اگر مجبور شخص اس فعل کو انجام نہ دے تو اسے قتل کرے گا یا اس کےجسم کا کوئی حصہ کاٹ دے گا ، دونوں صورتوں میں تقیہ کرنا اس کیلئے جائز ہے .
ابن قدامہ کا نظریہ یہ ہے کہ اگر کسی کو کفر آمیز کلمہ کو زبان پر لانے پر مجبور کیا جائے تو تقیہ کرے اور اس پر مرتد کا حکم نہیں لگے گا . ان کا کہنا ہے کہ مالک، شافعی اور ابوحنیفہ کا بھی یہی رای ہے .
ابن قدامہ اپنے نظرئے کی تائید کیلئے قرآن کریم اور سنت نبوی (ص) سے استدلال کرتا ہے . (٢١ )
..............
(١ ) . بیھقی ؛ مناقب الشافعی ، ج۱،ص ۱۱۲.
(٢ ) . ابونعیم، حليۃ الاولیاء ؛ ج ۹ ، ص ۸۲.۸۴
(٣ ). محب الاسلام، شيعه مي پرسد،ج۲،ص ۲۷۴.
(٤ ). تاريخ يعقوبي، ج ۳، ص ۱۹۷.
(٥ ) . طبری ؛ جامع البیان ، ج۶، ص ۳۱۶.
(٦ ) . تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرقہ ہای اسلامی غیر شیعی،ص۱۲۶.
(٧ ) . نحل ۱۰۶.
(٨ ) . آلعمران ۲۸.
(٩ ) . صحیح بخاری، کتاب الاکراہ .
(١٠ ) . تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرق اسلامی غیر شیعی، ص ۱۶۶.
(١١ ) . مالک بن انس؛ المدونہ الکبری ، ج۳،ص۲۹، کتاب الایمان بالطلاق.
(١٢) . ابن عربی؛ احکام القرآن ،ج۳، ص۱۱۷۷.۱۱۸۲.
(١٣ ) . فرغانی؛ فتاوی قاضی خان؛ ،ج ۵،ص ۴۸۴.
(١٤ ) . ہمان ، ج ۵،ص ۴۹۲.
(١٥ ) . ہمان ، ج ۵ ، ص ۴۸۷.
(١٦ ) . امام شافعی ؛ احکام القرآن ، ج۲، ص ۱۱۴.۱۱۵.
(١٧) . ابن حجر عسکلا نی ؛ فتح الباری ،ج۱۲، ص ۲۶۳.
(١٨ ) .سیوطی؛ الاشباہ و النظایر فی قواعد و فروع الفقہ الشافعی ، ص ۲۰۷ .۲۰۸
(١٩ ) . ابن قدامہ ، المغنی ،ج ۸ ،ص ۲۶۲.
(٢٠ ) . ابن جوزی؛ زاد المسیر ، ج۶ ، ص ۶۹۶.
(٢١ ). ابن قدامہ ؛ المغنی ؛ ، ج۱۰، ص ۹۷.


۱۰
تیسری فصل:تقيہ کےاقسام تقيہ ايک قرآني اصول

تیسری فصل
تقيہ کےاقسام
مختلف اعتبار سے تقيہ کی کئی قسمیں ہیں :
Ø سبب کے اعتبار سے تقیہ کی دو قسم ہیں: خوفي اور مداراتي. اور خود تقيہ خوفي یا حفظی کی تین قسم ہیں :
الف: تقيہ جان ، مال ، عزت ، آبرو اور ان سے متعلقہ چیزوں کی وجہ سےکیاجائے .
ب: تقيہ اپنے مؤمن بھائیوں کے خاطر ہو کہ ان پر کوئی ضرر یا نقصان نہ آنے پائے .
ج : تقيہ دین مقدس اسلام پر کوئی ضرر یا آنچ آنے کے ڈر سے کیا جائے . کیونکہ ممکن ہے خود مسلمانوں کے درمیان اختلافات پائی جائے لیکن اسلام کے اوپر کوئی بات نہ آئے .
جو اختلاف اور نزاع پایا جاتا ہے ، وہ تقیہ خوفی میں ہے . ورنه تقیہ مداراتی کہ لوگوں کے ساتھ نیک رفتاری اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے ؛ جسے ایک قسم کی ہوشیاری اور چالاکی تصور کیا جاتا ہے .
Ø تقيہ کو تقيہ كننده کے اعتبارسےبھی کئی قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے : تقيہ كننده يا وہ ایک عادي اور معمولي انسان ہے . یا مذہبی راہنما میں سے ہے . جیسے پيامبر (ص)او رائمه طاهرين(ع) فقهاء اور مسئولين.
Ø تقيہ کو تقیہ پر مجبور کرنے والے کے اعتبار سے دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں :کافر ہے یا مسلمان .
Ø تقيہ پرعمل کرنے کےاعتبار سےبھی کئی قسميں هيں . جیسے : يا وہ فعل ،حرام ہےاورچھوڑ دينا واجب ہے ، یا اس فعل کا شرط یا جزا میں تقیہ کرنا ہے .
Ø تقيہ احكام کےاعتبارسے يا واجب ہے يا حرام، يا مستحب يا مباح يا مكروہ ،يا وجوب نفسي ہے يا وجوب غيري.(١ )

نمودار اقسام تقيہ
ـ مداراتي ۱. مطلوبيت ذاتي رکھتا ہے = وجوب نفسي
۲. مطلوبيت غيري رکھتا ہے = وجوب غيري

ـ خوفي ۱. حوزه اسلام پر ضرر کا خوف کی وجہ سے .
۲. دوسروں پر ضرر کا خوف کی وجہ سے .
۳. یا اپنے نفس ، ما ل اورآبرو پر ضرر کا خوف کی وجہ سے .(٢ )

آيات ، روايات کی روشنی میں تقیہ کي چار قسميں: ١. تقيہ اكراهيه: مجبور شخص کا جابر اور ظالم شخص کے دستور کے مطابق عمل کرنا تاکہ اپنی جان بچائی جاسکے اور مال دولت اور عزت کو برباد ہونے سے محفوظ رکھ سکے .
٢. تقيہ خوفيه: اعمال اور عبادات کا اہل سنت کے علماء اور فقہاء کے فتاواي کے مطابق عمل کرنا ، تاکہ اپني اور اپنے ہم مسلک افراد کی جان محفوظ رکھ سکے .
٣. تقيہ كتمانيہ: ضعف اور ناتوانی کے مواقع پر اپنا مذہب اور مذہب والوں کی حفاظت کرنا اور ان کی طاقت اور پاور کو محفوظ کرنا تاکہ بلند و بالا اہداف حاصل کرسکے .
٤. تقيہ مداراتي يا تحبيبي: اهل سنت کےساتھ حسن معاشرت اور صلح آميز زندگي کرنے کے خاطر ان کے عبادي ا ور اجتماعي محفلوں اور مجلسوں میں جانا تاکہ وحدت پیدا ہو اور اسلام دشمن عناصر کے مقابلے میں اسلام اور مسلمین قدرت مند ہو .

اقسام تقيہ کی تشريح تقيہ اكراهيه: اس کا مصداق حضرت عمار بن یاسر (رض)ہیں . جن کے بارے میں قرآن فرمارها ہے: مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبہ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ .(٣ )
جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے ...علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ...اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے .
اس آیہ شریفہ کی شان نزول میں مفسرين کا کہنا ہے : جب پيامبر اسلام(ص) لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دیتے هوئے بتوں کو اعلانیہ طور پر باطل قرارديتے تھے تو کفار قریش اسے تحمل نہیں کرسکتے تھے . اورجب کوئی اسلام قبول کر تا تھا ان پر ظلم وتشدد کیا کرتے تھے .چنانچہ بلال، عمار، ياسر و سميه (رض) جیسے پاک دل اور ایمان سے سرشار افراد کو مختلف مواقع پر جان لیوا اذیت اور آزار پہونچا تے تھے اور ان کو دوبارہ کفر کی طرف بلاتے تھے .چنانچہ عمار اور ان کے ماں باپ کو پیامبر اسلام (ص) کی شان میں گستاخی اور نازیبا الفاظ زبان پر لانے پر مجبور کیا گيا؛ تو جناب یاسر اور ان کی زوجہ ، یعنی حضرت عمار کے والدین نے یہ گوارا نہیں کیا کہ پیامبر اسلام (ص) کی شان میں گستاخی کئے جائيں . اسی جرم میں ان دونوں کو اپنے بیٹے کے سامنے شہید کئے گئے ، لیکن عمار کی جب باری آئی تو اپنی جان بچانے کے خاطر کفار قریش کے ارادے کے مطابق پیامبر کی شان میں گستاخی کی . جس پر کفار نے انہیں آزاد کیا .جب رسول اللہ (ص) کی خدمت میں یہ شکایت پہونچی کہ عمار نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے . تو فرمایا : ایسا ممکن نہیں کہ عمار نے دوبار ہ کفر اختیار کیا ہو بلکہ وہ سر سے لیکر پیر تک ایمان سے لبریز اور اس کے گوشت و خون اور سراسر وجود میں ایمان کا نور رواں دواں ہے .اتنے میں عمار روتے ہوئے آپ (ص) کی خدمت میں پہونچے ،آنحضرت (ص) نے اپنے دست مبارک سے ان کے چهرے سے آنسو صاف کیا اور فرمایا : جو کام تو نے انجام ديا هے ، قابل مذمت اور جرم نہیں ہے اگر دوبارہ کبھی ایسا موقع آجائے اور مشرکوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجائے تو کوئی بات نہیں کہ تو ان کی مرضی کے مطابق انجام دو .پھر یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی .
جس سے معلوم ہوتا کہ دینی مقدسات کی شان میں گستاخی کرنے پر مجبور ہوجائے تو کوئی بات نہیں . آپ کو اختیار ہے کہ یا آپ تقیہ کرکے اپنی جان بچائے یا جرأت دکھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرے .
ایک روايت منقول ہے کہ ایک مسلمان کو مسیلمہ کے پاس لایا گیا جو نبوت کا ادعی ٰ کررہا تھا .مسیلمہ نے پوچھا: محمد (ص) کے بارے میں تو کیا کہتے ہو؟
اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں .
مسیلمہ : میرے بارے میں کیا کہتے ہو؟
مسلمان: آپ بھی اسی طرح ہے .
دوسرے شخص کو لایا گیا ، اور اس سے یہی سوال تکرار کیا ، لیکن کچھ بھی نہیں کہا .تو اسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا .
یہ خبر رسول خدا(ص) تک پہونچی ، فرمایا: پہلا شخص نے ترخیص کے دستور کی رعایت کی اور دوسرے شخص نے حق کو آشکار اور بلند و بالا کیا .اور اس کی حق میں دعا کی اور فرمایا :ان کیلئے شہادت مبارک ہو . (٤ )
يوسف بن عمران روايت کرتا ہے کہ ميثم تمار(رہ) سے سنا ہے: امير المؤمنين(ع) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا : اے میثم (رہ)جب عبيد الله ابن زياد تجھے میرے بارے میں گستاخی کرنے اور مجھ سے برائت کرنے کا حکم دے گا تو تو کیا کرے گا؟
میں نے کہا :يا امير المؤمنين(ع) خدا کی قسم! کبھی اظہار برائت نہیں کروں گا .
فرمایا:پھر تو تم مارےجاؤ گے .
میں نے کہا : میں صبر کروں گا ؛ کیونکہ راہ خدا میں جان دینا کوئی بڑھی بات نہیں ہے .
فرمایا:اے میثم! تیرے اس رفتار کی وجہ سے تو قیامت کے دن میرے ساتھ ہونگے .
پس یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اگر کسی نے تقیہ کے موارد میں تقیہ نہیں کیا تو اس نے خودکشی کرلی هو ، بلکہ ایسے موارد میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ شہادت کو اختیار کرے یا تقیہ کرکے اپنی جان بچائے تاکہ آئندہ ائمه طاهرين(ع) اور اسلام کي زیادہ خدمت کرسکے .

تقيہ خوفيه اوراسکے اسناد تقيہ خوفيه کی تعر يف گذر گئی لیکن اس کے موارد کو خود عاقل اور باہوش انسان تشخیص دے سکتے ہیں .جب ایک اہم اور مہم کے درمیان تعارض پيداہو جائے تو اہم کو مہم پر مقدم کرنا ہے .اور تقیہ خوفیہ کےاسناد درج ذیل ہیں :
۱ـ سيد مرتضي علم الهدي(رہ) نے اپنا رساله (محكم اور متشبہ) میں تفسير نعماني سےنقل کی ہے :علي(ع)نے فرمایا: خدا تعالي نے مؤمن کو کافروں کے ساتھ دوستي اور وابستگی سے منع کیا ہے لیکن تقیہ کے مواقع پر تظاہر کرنے کی اجازت دی گئی ہے پھر اس آیہ شریفہ کی تلاوت کی : لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ. (٥ )
خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے.
کہتے ہیں کہ یہ مؤمنین کیلئے رخصت دینا، خدا کی رحمت اورتفضل ہے كه تقيہ کے موقع پر ظاہر ہوتا ہے .(٦ )
۲ـ تقيہ خوفيه کی دوسری دلیل:طبرسي (رہ)نےاميرالمؤنين(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں طبیب یونانی سے گفتگو کرنے اور کچھ اسرار ولایت دکھانے کے بعد وظیفہ شرعی کے بیان کرنے کے ضمن میں تجھے دستور دونگا کہ تو اپنے دین میں تقیہ پر عمل کرو . جیسا کہ خداوند تعالی نے فرمایا: : لا يتخذ المؤمنون...تجھے اجازت دونگا جب بھی تجھے کوئی مجبور کرے اور تمہیں خوف پیدا ہوجائے تو تو اپنے دشمنوں کی تعریف کیا کرو اور ہم سے دشمنی کا اظہار کرو. اگر واجب نمازوں کے پڑھنے سے جان کا خطرہ ہو تو ، ترک کردو .اس طرح کچھ دستور دینے کے بعد فرمایا: درحالیکہ تمھارے دل میں ہماری محبت پائی جاتی ہے اور ہماری پیروی کرتے ہو .مختصر وقت کیلئے ہم سے برائت کا اظہار کرکے اپنی جان ، مال ناموس اور دوستوں کو طولانی مدت کیلئے بچالو؛ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تم پرآسانی کے دروازے کھول دے . اور یہ بہتر ہے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے دوستوں کی خدمات اور دینی امور میں ان کی اصلاح کرنے میں کوتاہی سے بچائے . (٧ )

تقيہ كتمانيہ يعني دین مقدس اسلام اور مکتب اہل بیت (ع)کی نشر واشاعت کے خاطر اپنی فعالیتوں کو مخفی اور پوشیدہ رکھنا ، تاکہ دشمنوں کے مقابلے میں زیادہ قدرت مند ہو . سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ہمارے دینی اور مذہبی راہنما حضرات اس طرح تقیہ کرنے کا حکم دیتے ہیں ؟
اس کا جواب یہی ہے کہ کیونکہ مکتب تشیع ایک ایسا مکتب ہے کہ حقيقي اسلام کو صرف اور صرف ان میں ملاحظہ کرسکتے ہیں .شیعہ ابتدا ہی سے مظلوم واقع ہوا ہے کہ جب ائمہ طاہرین(ع) تقیہ کرنے کا حکم دے رہے تھے اس وقت شیعہ انتہائی اقلیت میں تھے اور ظالم وجابر اور سفاک بادشاہوں اور سلاطین کے زد میں تھے .اگر شیعہ اپنے آداب و رسوم کو آشکار کرتے تو ہر قسم کی مشکلات ان کے سروں پر آجاتی اور جان بھی چلی جاتی .اور کوئی شیعہ باقی نہ رہتا . اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حقیقی اسلام باقی نہ رہتا . یہی وجہ تھی کہ ائمه اطهار(ع) نے تقیہ کا حکم دیا .

تقيہ كتمانيہ کی دلیل ۱ـ: كِتَابُ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْهِلَالِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ التَّقِيَّةَ مِنْ دِينِ اللَّهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ وَ اللَّهِ لَوْ لَا التَّقِيَّةُ مَا عُبِدَ اللَّهُ فِي الْأَرْضِ فِي دَوْلَةِ إِبْلِيسَ فَقَالَ رَجُلٌ وَ مَا دَوْلَةُ إِبْلِيسَ فَقَالَ إِذَا وُلِّيَ إِمَامُ هُدًى فَهِيَ فِي دَوْلَةِ الْحَقِّ عَلَى إِبْلِيسَ وَ إِذَا وُلِّيَ إِمَامُ ضَلَالَةٍ فَهِيَ دَوْلَةُ إِبْلِيسَ . (٨ )
کتاب سليم بن قيس هلالي نےحسن بصري سے روايت کي ہے : هم نے امير المؤمنين(ع) سےقتل عثمان کے دن فرماتے هوئےسنا :هم نے رسول خدا(ص)سے تاکید کے ساتھ فرماتے هوئےسنا: تقیہ میرا دین ہے اور جو بھی تقیہ کا قائل نہیں ، اس کا کوئی دین نہیں . اور اگر تقیہ کے قوانین پر عمل نہ ہوتا تو شیطان کی سلطنت میں روی زمین پر خدا کی کوئی عبادت نہ ہوتی . اس وقت کسی نے سوال کیا ، ابلیس کی سلطنت سے کیا مراد ہے ؟
فرمایا : اگر کوئی خدا کا ولی یا عادل امام لوگوں پر حکومت کرے تو وہ خدائی حکومت ہے ، اور اگرکوئی گمراہ اور فاسق شخص حکومت کرے تو وہ شیطان کی حکومت ہے .
اس روایت سے جو مطلب ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طاغوتی حکومت کے دوران صرف اپنے مذہب کو مخفی رکھنا اور خاموش رہنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس میں بھی خدا تعالی کی عبادت و بندگی ہوتی رہے.
اصحاب كهف کا عمل بھی اسی طرح کا تقیہ تھا ، اور حضرت ابوطالب(ع) کا تقیہ بھی اسی قسم کا تقیہ شمار ہوتا ہے .جسے ابتدای اسلام میں انہوں نے اختیار کیا تھا .کہ اپنے دین کو کفار قریش سے مخفی رکھا گیا . اور کفار کا ہم مسلک ظاہر کرتے رہے تاکہ رسول گرامي اسلام(ص) کی حمايت اور حفاظت آسانی سے کرسکے .اور مخفی طور پر دین مبین اسلام کی ترویج اور انتشار کرتے رہے . چنانچہ آپ ہی کی روش اور ٹیکنک کی وجہ سے پيامبر اسلام(ص) سے بہت سارے خطرات دور ہوتے رہے .

تقيہ مداراتي اس نوع کی تعریف گذر گئی . لیکن اس کی شرعی جواز پر دلیل درج ذیل ہیں:
o امام سجاد(ع) نے صحيفه سجاديه مسلمانوں کیلئے دعای خیر اور کفار کیلئے بددعا کرتے ہوئے فرمایا:خدايا اسلام اور مسلمين کودشمن کےآفات و بليات سے محفوظ فرما ، اور ان کے اموال کو با ثمر و منفعت اورپر بركت فرما. اور انہیں دشمن کے مقابلے میں زیادہ قدرت مند اور شان وشوکت اور نعمت عطا فرما .اور میدان جنگ میں انہیں کافروں پر فتح و نصرت عطا فرما . اور تیری عبادت اور بندگی کرنے کی مہلت اور فرصت عطا فرما تاکہ توبہ اور استغفار اور راز و نیاز کر سکے، خدایا ! مسلمانوں کو ہر طرف سے مشرکوں کے مقابلے میں عزت اور قدرت عطا فرما اور مشرکوں اور کافروں کو اپنے درمیان جنگوں میں مشغول فرما ! تاکہ وہ مسلمانوں کے حدود اور دیار کی طرف دست درازی نہ کرسکے . (٩ )
o معاويه بن وہب کہتا ہے کہ میں نے امام صادق(ع) سے سوال کیا : کہ دوسرے مسلمانوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ زندگی کرنے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟
امام(ع) فرمود: ان کی امانتوں کو پلٹایا جائے اور جب آپس میں کوئی نزاع پیدا ہو جائے اور حاکم شرع کے پاس پہنچ جائے تو حق دار کے حق میں گواہی دو اور ان کے بیماروں کی عیادت کیلئے جاؤ اور ان کے مرنے والوں کی تشییع جنازے میں شرکت کرو. (١٠ )
o امام صادق(ع)نے فرمایا: اياكم ان تعملواعملا نعيّر بہ فان ولد السوء يعيّر ولده بعمله. كونوا لمن انقطعتم اليه زينا ولا تكونوا علينا شينا، صلوا في عشائرهم عودوا مرضاهم و اشهدوا جنائزهم ولا يسبقونكم الي شيئ من الخير. فا نتم اولي بہ منهم. والله ما عبدالله بشيئ احب اليه من الخباء . قلت: و ما الخباء؟ قال(ع): التقيہ. (١١ )
کوئی ایسے کاموں کے مرتکب ہونے سے پرہیز کرو جو ہمارے مخالفین کے سامنے سرزنش کا باعث بنے ، کیوں کہ لوگ باپ کو ان کےبرے بیٹوں کے اعمال کی وجہ سے ملامت کرتے ہیں .کوشش کریں کہ ہمارے لئے باعث زینت بنو نہ باعث ذلت. اہل سنت کے مراکز میں نماز پڑھا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرواور ان کے مردوں کی تشییع جنازے میں شرکت کیا کرو اور ہر اچھے کاموں میں ان پر سبقت لے جاؤ ان صورتوں میں اگر ضرورت پڑي تو محبت جلب کرنے اور اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کیلئے اپنے عقائد کو چھپاؤ . خدا کی قسم ایسے مواقع میں اپنے کو کتمان کرنا بہترین عبادت ہے . راوی نے سوال کیا : یابن رسول اللہ ! کتمان سے کیا مراد ہے ؟ ! تو فرمایا: تقیہ .
یہ تقیہ مداراتی اور تحبیبی کے جواز پر کچھ دلائل تھے . لیکن ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سارے عقیدتی ، فکری اور سلیقائی اختلافات مکمل طور پر ختم کرکے صرف ایک ہی عقیدہ اور سلیقہ کا پابندہوجائے ؟ !
اس سوال کا جواب بالکل منفی میں ملے گا. یہ ناممکن ہے .کیونکہ کوئی بھی قوم یا قبیلہ نہیں ملے گا جس میں سینکڑوں اختلافات اور نظریات نہیں پائی جاتی ہو. حتی خود دین اسلام میں کہ سارے اصول اور فروع دین توحید کی بنیاد پر قائم ہے ، پھر بھی زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اصلی راستے اور قاعدے سے منحرف ہوجاتے ہیں اور اختلافات کا شکار ہوجاتے ہیں . پس ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟! اور راہ حل کیا ہے ؟!
ایک طرف سے بغیر وحدت اور اتحاد کے کوئی کام معاشرے کے حوالے سے نہیں کرپاتے، دوسری طرف سے اس وحدت اور اتحاد کے حصول کیلئے سارے اختلافی عوامل کو پس پشت ڈالنا ہوگا.
کیا ایسی صورت میں ہم بیٹھے رہیں اور اختلافات کے کیڑے مکوڑے معاشرے کی سعادت مند ستون کو اندر سے خالی کرتے کرتےسرنگون کرے؟!یا کوئی راہ حل موجود ہے جس کے ذریعے سے ايک حد تک وحدت برقرار کرلے ؟!
یہ وہ مقام ہے جہاں دور حاضر کے مفکرین اور دانشمندوں نے کئي فارمولے تیار کئے ہیں جس کے ذریعے ممکن ہے کہ یہ ہدف حاصل ہوجائے ، اور وہ فامولے درج ذیل ہے:
۱.ہر معاشرہ میں موجود تمام ادارے بغیر کسی قوم پرستی، رنگ و زبان اور موقعیت ، مذہب میں فرق کئے ، اجتماعی حقوق کو بعنوان ”حقوق بشر“ رسمی مان لیں اور خود مداری سے پرہیز کریں .
۲. ہر ملک کو چاہئے کہ معاشرے میں موجود تمام گروہوں کو اس طرح تعلیم دیں کہ اتحاد و اتفاق کی حفاظت کے خاطر اجتماعی منافع کو شخصی منافع پر مقدم رکھیں . اور انہیں یہ سمجھائیں کہ اجتماع کی بقا میں افراد کی بقا ہے .
۳. ہر ایک شخص کو تعلیم دیں کہ دوسروں کے عقائد کا احترام کریں کہ معاشرے کیلئے کوئی مشکل ایجاد نہ کرے .اور ملک اور معاشرے کے بنیادی اصولوں اور قواعد و ضوابط کیلئے ضرر نہ پہنچائيں . اور ایک دوسرے کے احساسات اور عواطف کا احترا م کریں .
۴. ان کو سمجھائیں کہ دوسرے مکاتب فکر کے مختلف اور معقول آداب و رسوم میں شرکت کریں . اس طرح ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا کریں.
پس اگر ايك جامعه یامعاشرے میں ان قوانین اور اصول پر عمل درآمدهوجائے تو سارے اسلامی ممالک ایک پليٹ فارم پر جمع ہونگے اور ایک دوسرے کے درمیان محبت اور جذبہ ایثار پیدا هونگے . یہی وجہ تھی کہ ائمه طاهرين(ع) نے اپنے گوہر بار كلمات میں اس بات کی طرف تشویق کرتے هوئے نظر آتے هيں.

تقيہ اور توريہ میں موازنہ لغت میں توريہ ؛وراء یا پيٹھ سے نکلا ہے جس کا مد مقابل امام یعنی (آگے ) سے لیا گیا ہے .اور اصطلاح میں کسی چیز کو چھپانے کو کہا جاتا ہے .
ü تقيہ اور توريہ کے درمیان نسبت تباين پایاجا تا ہے . کیونکہ توریہ لغت میں ستر اور تقیہ صیانت اور حفاظت کو کہا جاتا ہے .
ü توریہ میں شخص واقعیت کا ارادہ کرتا ہے لیکن تقیہ میں نہیں .
ü توریہ میں کئی مصلحت کو ملحوظ نظر نہیں لیکن تقیہ میں کئی مصالح کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے .
ü لیکن مصداق کے لحاظ سے ان دونوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت پائی جاتی ہے . کہ ان دونوں کا مورد اجتماع یہ ہے کہ تقیہ کرنے والا تقیہ کے موارد میں اوراظہار کے موقع پر حق کے برخلاف ، توریہ سے استفادہ کرتا ہے کیونکہ خلاف کا اظہار کرنا ؛ حق کا ارادہ کرنے یا خلاف حق کا ارادہ کرنے سے ممکن ہے.
ü تقيہ اور توريہ میں افتراق کا ایک مورد ، تقيہ كتماني ہے كه یہاں کوئی چیز بیان نہیں ہوئی ہے جو توریہ کا باعث بنے .
ü ان دونوں میں افتراق کا ایک اور مورد یہ ہے کہ توریہ میں کوئی مصلحت لحاظ نہیں ہوا ہے اور اگر کوئی مصلحت ملحوظ ہوا ہے تو بھی ذاتی منافع ہے .

تقيہ ، اكراه اور اضطرارکے درمیان میں تقابل تقيہ کے بعض موارد کو اكراه و اضطرار کے موارد میں منحصر سمجھاجاتاہے .شيخ انصاري(رہ) مكاسب میں اكراه کے بارمیں یوں فرماتے ہیں : ثم ان حقيقة الاكراه لغة و عرفا حمل الغير علي ما يكرهه في وقوع الفعل من ذالك الحمل اقترانه بوعيد منه مظنون الترتب الغير علي ترك ذالك الفعل مضر بحال الفاعل او متعلقه نفسا او عرضا او مالا(١٢ ) اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اکراہ کے تحقق پانے کے تین شرائط ہیں:
١. یہ مخالف کی طرف سے واقع ہوتا ہے . پس جہاں اگر خود انسان سے جلب منفعت یا دفع ضرر کیلئے کوئي اقدام اٹھائے تو وہ توریہ میں شامل نہیں ہے .
٢. اكراه یہ ہے کہ مستقيماکسی کام پر انسان کو مجبور کیا جائے نه بطور غير مستقيم.
٣. تهديد اور وعيد کے ساتھ ہو کہ اگر انجام نہ دے تو اس کی جان ، مال، عزت آبرو خطرے میں پڑ جائے .
ان تین شرائط اور اولین آیہ شریفہ جو مشروعیت تقیہ کے بارے میں نازل ہوئی جس میں عمار ابن یاسر (رض) کا قصہ بیان ہوا ہے ، سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض موارد میں تقیہ اور اکراہ میں مطابقت پائی جاتی ہے . اور یہ تین شرائط کے ذریعے حضرت عمار(رض) کے تقیہ کرنے پا استدلال کیا جا سکتا ہے . اور تقیہ کی تعریف بھی اس پر منطبق ہوسکتی ہے .لیکن جہاں یہ تین شرائط صدق آئے اور تقیہ صدق نہ کرے تو وہ اکراہ اور تقیہ کے افتراق کے موارد ہونگے .
..............
(١ ). انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ج۱،ص ۲۷۷.
(٢ ). التقيہ في رحاب العلمين(شيخ انصاري و امام خميني)،ص۱۳.
(٣ ). نحل ۱۰۶.
(٤ ). تقيہ در اسلام ، ص۱۰.
(٥ ) . سوره آلعمران/۲۸.
(٦ ). وسائل الشيعه،باب امر بالمعروف،باب۲۹.
(٧ ) . علی تہرانی ؛ تقیہ در اسلام، ص ۵۰.
(٨ ). مستدرك‏الوسائل، ج ۱۲، ص٢٥٢ باب وجوب التقية مع الخوف .
(٩ ). همان، ص ۱۰۰.
(١٠ ). وسائل الشيعه،ج۱ ، كتاب حج،احكام عشرت.
(١١ ). همان،ج ۱۱،ص ۴۷۱.
(١٢ ). شيخ انصاري(رہ) ،المكاسب،شروط متعا قد ين،ص۱۱۹.


۱۱
چوتھی فصل:دلائل مشروعيت تقيہ تقيہ ايک قرآني اصول

چوتھی فصل
دلائل مشروعيت تقيہ

مقدمہ ہر ایک دلائل کی بررسی کرنے سے پہلے اس محل بحث کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں . چنانچہ اس فصل میں درج ذیل عناوین پر گفتگو ہوگی:
١. شیعوں کے نزدیک تقیہ کی مشروعيت مسلمات میں سے ہے . صرف ایک دو موارد میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ جائز ہے یا نہیں . اور وہ بھی ائمہ معصومین (ع)سے مربوط ہے . لیکن اس کے مقابلےمیں اہل سنت کے نزدیک کیا تقیہ جائز ہے یا نہیں ؛ بحث کریں گے .
٢. چونكه ہماری بحث اهل سنت سے ہے لہذا دلائل ایسے ہوں جن کے ذریعے اہل سنت کے ساتھ استدلال کرسکے .اس لئے هم کوشش کريں گے که زياده تر دلائل اهل سنت کي کتابوں سے پيش کريں.
٣. مشروعیت تقیہ سے مراد ، اصل جواز تقیہ ہے جو وجوب ، استحباب ، مباح، اور کراہت کو بھی شامل کرتا ہے .
٤. مشروعیت تقیہ کے بارے میں شیعوں اور اہل سنت حضرات کے درمیان ابتداے اسلام میں کوئی اختلاف نہیں پایاجاتا .کیونکہ قرآن کریم نے اسے ثابت کیا ہے . اصل اختلاف شیعہ اور اہل سنت کے درمیان دو نقطے پر ہے :
الف: کیا مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ تقیہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ شیعہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں.
ب: اس بات کو تو مانتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں تو تقیہ جائز تھا کیونکہ اس وقت اسلام اور مسلمانان ضعیف تھے .لیکن اب چونکہ اسلام ایک قدرت مند اور عزت مند اور بڑی شان وشوکت والا دین بن چکا ہے تو کیا اب بھی تقیہ کرنا مناسب ہے ؟
انهي سوالات اور اشکالات کے جواب ميں هم قرآن و سنت واجماع و عقل اور فطرت سے استدلال کريں گے :

الف: قرآن قرآن مجيد نے کئی موقع پر تقیہ کے مسئلے کو بیان کیا ہے ؛ کبھی تقیہ ہی کے عنوان سے تو کبھی کسی اور عنوان سے اشارہ کیا ہے کہ تقیہ قرآنی احکام کے مسلمات میں سے ہے :سوره غافر میں اس مرد مجاهد ، فدا كاراور وفادارکا ذکر ہوا ہے ، جو فرعون کے دربار میں ایک خاص اور حساس مقام کا مالک ہے . اور حضرت موسیٰ(ع) کے آئین پر محکم ایمان رکھنے والا ہے ، جسے دل میں چھپا رکھا ہے تاکہ اپنے دوستوں کی ضرورت کے وقت اس سے استفادہ کیا جائے . جس کے بارے میں فرمایا:وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبہ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ. (١ )
اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟ اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے .
یہ آیہ شریفہ مؤمن آل فرعون کی مستدل اور منطقی بات کی طرف اشارہ ہے جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا.
انہوں نے فرمایا: موسیٰ الله کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور قابل مطالعہ اور اچھی دلیل بھی ساتھ بیان کرتے ہیں تو یہ دو حالت سے خارج نہیں :
یا وہ جھوٹ بول رہا ہے ،ایسی صورت میں وہ خود رسوا اور ذلیل ہوگا اور قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں . کیونکہ قتل کرنا اسے افکار عمومی میں ایک کامیاب اور فاتح ہیرو اور لیڈر بنادے گا . اور اس کے پیچھے ایک گروہ ہمیشہ کیلئے چلنے کی کوشش کرے گا ، اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں میں زندہ رہے اور لوگ خود ان سے دور ہو جائیں .
یا واقعاً وہ سچ کہہ رہا ہے اور خدا کی طرف سے آیا ہے ، اس صورت میں جس چیز کی وہ تہدید کر رہا ہے ممکن ہے تحقق پائے . ہمارا ان کے ساتھ حساب کتاب بالکل صاف ہے اس لئے اسے قتل کرنا کسی بھی صورت میں عاقلانہ کام نہیں ہوگا.ان کلمات کے ساتھ لوگوں کو اور بھی کچھ نصیحیں کی .اس طرح فرعونیوں کے دل میں وحشت اور رعب ڈال دی ، جس کی وجہ سے وہ لوگ ان کے قتل کرنے سے منصرف ہوگئے .
قرآن اس آیہ شریفہ میں مؤمن آل فرعون کے عقيده کو چھپانے کو ایک اچھا اور نیک عمل کے طور پر معرفی کررها ہے ، کیونکہ انہوں نے ایک بہت بڑے انقلابی رہنما کی جان بچائی اور دشمنوں سےنجات دلائی.اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ عقیدہ کو چھپانے کے سوا کچھ نہیں .
سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اس مرد مجاہد کے اس عمل کو اس حساس موقع پرایک عظیم ہدف کے بچانے کے خاطر فدا کاری اور جہاد کے علاوہ کچھ اور کوئي نام دےسکتا ہے ؟!
کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ اگر یہ مرد مؤمن تقیہ کے اس ٹیکنیک سے استفادہ نہ کرتا تو حضرت موسي(ع) کی جان خطرے میں پڑ جاتی .
حضرت ابراهيم (ع)تقیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں : فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ فَرَاغَ إِلَى آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَمَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَفَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِين. (٢ )
اپنی قوم سے کہنے لگے: میں بیمار ہوں اور میں تمھارے جشن میں نہیں آسکتا . قوم نے بھی اس کوچھوڑ دیا . ابراہیم(ع) نے بھی بت خانے کو خلوت پایا ؛بتوں کو توڑنے کی نیت سے چلے اور تمام بتوں کو مخاطب کرکے کہا:تم لوگ اپنے بندو ں کے رکھے ہوئے کھانوں کو کیوں نہیں کھاتے ہو؟ بات کیوں نہیں کرتے ہو؟ تم کیسے بے اثر اور باطل خدا ہو؟! پھر ایک مضبوط اور محکم کلہاڑی اٹھائی اور سب بتوں کو توڑ ڈالا سوای ایک بڑے بت کے.
ان آیات اور روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (ع) بتوں کو توڑنے کا ایک وسیع اور دقیق پروگرام بناچکے تھے ، اور اس پروگرام کو اجرا کرنے کیلئے ایک خاص اور مناسب موقع اور فرصت کی تلاش میں تھے . یہاں تک کہ وہ وقت اور عید کا دن آگیا اور اپنا کارنامہ انجام دیا . یہ دن دولحاظ سے زیادہ مناسب تھا کہ ایک تو سب لوگ شہر سے دور نکل چکے تھے جس کی وجہ سے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام دے سکتے تھے اور دوسرا یہ کہ لوگ چونکہ تہوار کے ختم ہونے کے بعد بت خانے میں عبادت کیلئے آناتھا، لہذا لوگوں کے افکار اور احساس کو بیدار کرنے اور ان کو نصیحت کرنے کیلئے زیادہ موزون تھا . اور آپ کا یہ کام باعث بنا کہ لوگ سوچنے لگے اور شہر بابل والے ظالم و جابر حکمرانوں کے چنگل سے آزاد ہوگئے .
لوگوں کو آپ پر شک تو ہوچکا تھا لیکن آپ نے اپنے عقیدے کو مکمل طور پر چھپا رکھا تھا اور لوگوں کے دعوت کرنے پر کہا کہ میں بیمار ہوں .: فقال اني سقيم. جبکہ آپ کے جسم مبارک پر کوئی کسی قسم کی بیماری موجود نہیں تھی .لیکن آپ نے اپنے اس عظیم ہدف کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے خاطر توریہ کیا ، کیونکہ آپ کی بیماری سے مراد روحانی بیماری تھی کہ لوگوں کے خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پوجھا کرنے کی وجہ سے احساس کررہے تھے .
۳ـ ٹیکنیکی تقیہ کے موارد میں سے این مورد حضرت مسیح (ع)کی جانب سے بھیجے ہوئے مبلغین کا داستان ہے جو انطاکیہ کے لوگوں کے درمیان میں بھیجے گئے تھے .جن کے بارے میں فرمایا: إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوہمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ (٣ )
اس طرح کہ ہم نے دو رسولوں کو بھیجا تو ان لوگوں نے جھٹلادیا تو ہم نے ان کی مدد کو تیسرا رسول بھی بھیجا اور سب نے مل کر اعلان کیا کہ ہم سب تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں.
اس ماجرے میں ان دونوں شخص کو انطاکیہ کے بت پرستوں کے اصولوں کے ساتھ ٹکراؤ کی وجہ سے انطاکیہ کے بادشاہ نے جیل میں ڈالديا. اور کوئی تبلیغی نتیجہ حاصل نہیں ہوا. لیکن تیسرےشخص کو، جو ان دونوں کی مدد کیلئے آئے تھے ناچار اپنا مبارزہ اور ان کے ساتھ مقابله کا راستہ تبدیل کرنا پڑا .پہلے اپنا عقیدہ چھپا تارها. تاکہ اپنی تدبیر ، فصاحت و بلاغت کے ساتھ حکومت کے امور میں مداخلت کرسکے . اس کے بعد ایک مناسب فرصت اور موقع کا انتظار کرتے رہے تاکہ اپنے دوستوں کو نجات دلا سکے .اور اس شہر کے لوگوں میں اخلاقی ، اجتماعی اور فکری انقلاب برپا کرسکے.اتفاقاً دونوں ہدف حاصل ہوا کہ قرآن کریم نے اسے یوں تعبیر کیا ہے : ”عززنا بثالث“یعنی ہم نے اس تیسرے شخص کے ذریعے ان دونوں کی مدد کی اور ان کو عزت اور قوت بخشی .
اب سوال يه هے که کیا حضرت ابراهيم(ع)کا اپنا اعلیٰ ہدف کو چھپا رکھنا ترس اور خوف و ہراس کی وجہ سے تھا؟ یا اس اعلیٰ اور عظیم ہدف کو حاصل کرنے کیلئے مقدمہ سازی تھی؟!
کیا عيسي مسيح(ع) کی طرف سے بھیجے ہوئے تیسرا شخص بھی اپنے دوستوں کی طرح تلخ تجربات کے مرتکب ہوتے؟ اور خود کو بھی زندان میں ڈلوا دیتے ؟!یا یہ کہ روش تقیہ سے استفادہ کرکے تینوں دوستوں کو دشمن کے قید اور بند سے رہائی دلاتے؟!!
ان آیات سے بخوبی معلوم ہوجاتاہے کہ ہدف اور فلسفہ تقیہ کیا ہے اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ (٤ )

اگر تقيہ جائز نہیں تو ان ساري آیتوں کا کیا کروگے؟! شيعه، تقیہ کا انکار کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر تقیہ جائز اور درست نہیں تو ان آیات مبارکہ کا کیا کرو گے ؟ کیا ان آیات کیلئے کوئی شان نزول نہیں ہے ؟ یا اہل قرآن کیلئے ان آیات کے ذریعے کوئی حکم نہیں بیان نہیں ہورہا ؟
اگر يه آيتيں کوئی شرعی تکلیف کو معین نہیں کرتی تو نازل ہی کیوں ہوئیں؟ لیکن اگر کوئی شرعی حکم کو معین کرتی ہیں تو یہ بتائیں کہ وہ احکام کیا ہیں؟آیات شریفہ جو اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ، درج ذیل ہیں:
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبىّ‏َِ اللَّهُ وَ قَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَتِ مِن رَّبِّكُمْ وَ إِن يَكُ كَذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبہ وَ إِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يهَْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ. يَاقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فىِ الْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللَّهِ إِن جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى‏ وَ مَا أَهْدِيكمُ‏ْ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ (٥ ) اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے .میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں.
لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرينَ أَوْلِياءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنينَ وَ مَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ في‏ شَيْ‏ءٍ إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً وَ يُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللَّهِ الْمَصيرُ (٦ ) خبردار! اےایمان والو!مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے .
مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبہ مُطْمَئنِ‏ُّ بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (٧ ) جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے ... علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ...اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے .
سوال یہ ہے کہ اگر تم لوگ تقیہ نہیں کرتے ہیں تو کیوں ہر خلیفہ اور بادشاہ کے ساتھ نشت و برخاست کرتے ہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ؟جب کہ شیعہ عقیدے کے مطابق امام جماعت کی امامت کیلئے عدالت شرط ہے اور ظالم ، فاسق اور غاصب شخص کے پیچھے نمازپڑھنے کو جائز نہیں سمجھتے ہیں.سوال یہ ہے کہ ہر فاسق وفاجر کے پیچھے نماز پڑھنا اگر تقیہ نہیں ہے تو پھر کیا ہے ؟!!

ب: سنت موجودہ اور گذشته تاريخ ميں، تقیہ کو کامیابی کیلئے ایک پل کی مانند تصور کیا جاتارہا ہے . آپ کی تقریب ذہن کیلئے ہم کچھ مثالیں بیان کریں گے :
اعراب اور اسرئیل کے درمیان چھیڑی گئی چوتھی جنگ میں جو ماه رمضان سن ۵۲ھ میں واقع ہوئی اور اسرائیل کي شكست نا پذيري کا افسانہ پہلی ہی فرصت میں صحرای سینا کے خاک میں دفن ہوا اور اسرائیل کے پرخچے اڑادئے گئے . جس میں فتح اور کامیابی کا اصل راز اور مہم ترین عامل استتار اور تقیہ تھا.اگر مصر اور سوریہ والے جنگی نقشے اور نقل و انتقالات خود کو آخرین لحظہ تک نہ چھپاتے تو ہرگز اسرائیل کو اتنی آسانی سے شکست نہیں دے سکتے تھے .

۱.تقيہ، پیامبر(ص) کی تدبير پيامبر اسلام(ص) کی زندگي میں موجود شهامت و شجاعت او رتدبيرمیں کسي دوست يا دشمن کو کوئی تردید نہیں .
بعض مسائل جیسے تین سالہ ” مخفيانه دعوت “ اورآپ کی ” هجرت “ جو مکمل طور پر مخفیانہ اور چھپ کرانجام دیتے رہے . جس کی وجہ سے آنحضرت (ص) دشمن کے دائرہ محاصرہ سے نکلنے کے بعد ہی وہ لوگ متوجہ ہوئے . اس کے بعدمدینہ تشریف لانے تک غار ثورمیں مخفی رہنا اور رات کی تاریکیوں میں چلنا اور دن کو مخفی رہنا ، یہ سب تقیہ کےاعتقادی یا عملی مصادیق میں سے ہیں .

۲ .تقيہ،مقدس اهداف کے حصول کا ذریعہ کیا کوئی کہ ایسے مسائل میں تقیہ کے اصولوں کا بروی کار لانے کو نقطہ ضعف یا ترس یا محافظہ کاری کہہ سکتے ہیں؟!
امام حسين(ع) كه جس نے تقیہ کے سارے نمونے کو پیروں تلے روند ڈالا ، لیکن جب بھی ضرورت محسوس کی کہ مقدس اور ابدی اہداف کے حصول اور ظلم وستم ، کفر و بے ایمانی اور ساری جہالت کے خاتمے کیلئے تقیہ کرتے ہوئے مکہ معظمہ سے نکلے جب کہ سارے مسلمان اعمال حج انجام دینے کی تیاریوں میں مصروف تھے . اور اس کی علت بھی خود امام حسین (ع)نے فرمایا تھا اگرمیں چیونٹی کی بل میں بھی گھس جاؤں تو یہ لوگ وہاں سے نکال کرمجھے شہید کردیں گے . اور اگر مکہ میں ٹھہر تے تو حرم الہی کو میرے خون سے رنگین کردیں گے اور خانہ کعبہ کی بھی بے حرمتی کردیں گے .
تو اہل انصاف سے ہم یہی سوال کریں گے کہ امام حسین (ع)کا اس موقع پر تقیہ کرنا کیا عقل انسانی کے خلاف تھا ؟ یا عین عاقلانہ کام تھا ؟!

۳.نقش تقيہ اورجنگ موتہ جنگ”موتہ“کے میدان میں مجاہدین اسلام کے صفوف میں کچھ اس طرح سےترتیب دینا تاکہ امپراتوري روم کے لاکھوں افراد پر مشتمل فوج جو مسلمانوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھی ،کے ذہنوں میں تزلزل پیدا کرے اور روحی طور پر مفلوج کرے . اور یہ بہت مؤثر بھی رہا .

۴. فتح مكہ میں تقيہ کا کردار پيامبر اسلام(ص) نے مکہ کو فتح کرنے کے خاطر نہایت ہی مخفیانہ طور پر ایک نقشہ تیار کیا ؛ یہاں تک کہ انپے قریبی ترین صحابیوں کو بھی پتہ ہونے نہیں دیا . جس کے نتیجے میں مسلمان فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوئے .اسی طرح بہت سے مواقع پر تقیہ کے اصولوں پر عمل کرکے فوجی طاقتون اور اسلحوں کی حفاظت کی .
مقصد کہنے کایہ ہے کہ تقیہ زندگی کے ہر میدان میں خصوصاً ملکی حفاظت کرنے والوں کا سب سے پہلا اصول تقیہ اور کتمان ہے کہ دشمنوں سے ہر چیز کو چھپائی جائے تاکہ وہ ہم پر مسلط نہ ہو .اس لئے جو بھی تقیہ کرنے پر اعتراض کرتے ہیں وہ در اصل تقیہ کے مفہوم اور معنی سے واقف نہیں یا کسی ایک خاص مکتب کو دوسرے مکاتب فکر کےسادہ لوح افراد کے سامنے متنفر کرنے کیلئے اس قرآنی اور عقلانی اصول کی اصل اور حقیقی شکل و صورت کو بگاڑ کر پیش کرتے ہیں . ہم ان سے کہیں گے کہ آپ کسی مکتب کی اہانت نہیں کررہے ہیں در اصل آپ قرآن مجید کا مزاق اڑا رہے ہيں.

۵ . تقيہ دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی وسیلہ تقیہ دشمنوں کے شر سے بچنے کیلئے مجاہد بروی کار لاتے ہیں تاکہ اس ٹیکنیک کے ذریعے دشمن کو غافل گیر کرکے مغلوب بنایا جائے . اور میدان جنگ میں خود کامیابی سے ہمکنار ہوسکے.اس سے معلوم ہوتا ہے تقیہ گوشہ نشین افراد اور ڈرپوک اور غیر متعہد اور عافیت آرام طلب افراد کا شیوہ نہیں ہے بلکہ یہ مجاہدین اسلام اور محافظین دین کا شیوہ ہے . پس تقیہ بھی ایک طرح کی جنگ اور جہاد ہے .اور یہ تقیہ خود وزارت دفاع اورملکی حفاظت کرنے والوں کی طاقت شمار ہوتا ہے . چنانچه امير المؤمنين(ع)نے فرمایا: التقيہ من افضل اعمال المؤمن يصون بہا نفسه و اخوانه عن الفاجرين(٨ ) یعنی تقیہ مؤمن کی افضل ترین عبادتوں میں سے ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے فاسق اور فاجر طاقتوں کی شر سے وہ اپنی جان و اپنے دوسرے بھائیوں کی جا ن بچاتا ہے .

۶ ـ تقيہ مؤمن کی روشن بيني امام باقر(ع)نے فرمایا : اي شيئ اقر للعين من التقية؟ ان التقية جنة المؤمن (٩ )
يعني کونسی چیز تقیہ سے زیادہ مؤمن کیلئے سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟!

۷ .تقيہ مؤمن کا ڈھال ہے امام صادق(ع) نے فرمایا: التقية ترس المؤمن و التقية حرز المؤمن(١٠ ) بے شک تقیہ مؤمن کیلئے سپر اور ڈھال ہے . جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو دشمن کی شر سے بچاتا ہے .اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ ایک دفاعی مفہوم رکھتا ہے جسے اپنے دشمن کے مقابلے میں بروی کار لایا جاتا ہے .زرہ کا پہننا اور ڈھال کا ہاتھ میں اٹھانا مجاہدین اور سربازوں کا کام ہے . ورنہ جو میدان جنگ سے بالکل بے خبر ہو اور میدان میں اگر جائے توفرار کرنے والا ہو تو اس کیلئے زرہ پہننے اور ڈھال کے اٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی.

۸ . تقيہ پيامبران مجاهدکی سنت امام صادق(ع)نےفرمایا: عليك بالتقيہ فانها سنت ابراهيم الخليل(ع)(١١ ) تم پر تقیہ کرنا ضروری ہے کیونکہ تقیہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ(ع) کی سنت ہے . اور ابراہیم وہ مجاہد ہے جس نے اکیلا ظالم و جابر نمرود کے ساتھ مقابلہ کیا . نہ صرف اس کے ساتھ بلکہ تمام متعصب اور لجوج بت پرستوں کےساتھ مبارزہ کیا ؛ اور ہر ایک کو عقل اور منطق اور اپنی بے نظیر شجاعت کے ساتھ گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کرادئے . ان کے باوجود حضرت ابراہیم (ع)نے کئی مقام پر تقیہ کرکے اپنی جان بچائی ہے . لیکن کیاکوئی ابراہیم پر مصلحت اندیشی کا الزام لگا سکتا ہے ؟!ہرگز نہیں. اس لئے تقیہ حضرت ابراهيم(ع) کی سنت کے عنوان سے بھی معروف ہے .

۹ .تقيہ ،مجاهدوں کا مقام یہ بہت جالب بات ہے کہ امام حسن العسكري (ع) سے اس سلسلے میں کئی روایات نقل ہوئی ہیں : مثل مؤمن لا تقية له كمثل جسد لا راس له (١٢ ) وہ مؤمن جو تقیہ نہیں کرتا وہ اس بدن کی طرح ہے جس پر سر نہ ہو.
اور بالکل یہی تعبیر ”صبر اور استقامت“ کے بارے میں بھی آئی ہے كه ايمان بغيرصبرو استقامت کے بغیر سرکے بدن کی طرح ہے .ان تعابیر سے ہماری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ تقیہ وہی صبر و استقامت کا فلسفہ ہے .سر بدن کے باقی اعضا کی نسبت سب سے زیادہ فعال ہے اور تقیہ ان اصول میں سے ہے جس کے ذریعے اپنی طاقت اور اسلحہ کا بندوبست اور ان کی حفاظت کياجاتا ہے .

۱۰ . تقيہ ،مسلمانوں کےحقوق کی حفاظت تقیہ کا مسئلہ اور مسلمان بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی دو ایسے فریضے ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی قرار دیا گیا ہے .
امام حسن العسكري(ع)نے فرمایا : و اعظمهما فرضان : قضاء حقوق الاخوان في الله و استعمال التقيہ من اعداء الله(١٣ ) يعني تمام فرائض میں سے مهم ترین فریضہ دو چيز یں ہیں:اپنے دینی بھائیوں کے حقوق کا ادا کرنا اور اللہ کے دشمنوں کے سامنے تقیہ کرنا.اس تعبیر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تقیہ ان دو چیزوں کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم کرنا ہے . اگر صحیح دقت کریں تو معلوم ہوگا کہ تقیہ کا مسئلہ دوسرے مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرح ایک اجتماعی مسئلہ ہے .
..............
(١ ). سوره غافر / ۲۸.
(٢ ) . سوره صافات / ۸۹ ـ ۹۳.
(٣ ) . سوره يس ۱۴.
(٤ ) . مكارم شيرازي؛ تقيہ سپري عميقتر براي مبارزه،ص ۳۵.
(٥ ). سوره غافر ۲۸ ـ ۲۹.
(٦ ). سوره آلعمران۲۸.
(٧ ). سوره نحل ١٠٦
(٨ ) . وسائل الشيعه ، ج ۳،باب ۲۸.
(٩ ). همان ، ج ۲۴ ، باب۲۶.
(١٠ ) . همان ، ج ۶ ، باب۲۴ .
(١١ ) . همان .
(١٢ ). همان،ج ۱۶، باب ۲۴.
(١٣ ). همان، باب ۲۸، ح ۱.


۱۲
چوتھی فصل:دلائل مشروعيت تقيہ تقيہ ايک قرآني اصول

ج . عقل معمولاً تقيہ اقلیتوں سے مخصوص ہے جو اکثریت کے پنجوں میں اسیر ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں اگر وہ اپنا عقیدہ کا اظہار کرتا ہے تو اس کے لئے جانی یامالی نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا .اور ساتھ ہی اس اقلیت والے گروہ کے ہاں موجود قومی سرمایہ اور طاقت کا ہدر جانے کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملتا .
کيا عقل نہیں کہتي کہ یہ قومی سرمائے اور طاقت کا اہم ضرورت کے موقعوں کے لئے محفوظ رکھنا ایک عاقلانہ اور اچھا کام ہے ؟ بلکہ عقل کہتی ہے کہ ان طاقتوں کو اپنے عقیدے کوچھپا کر اور کتمان کرکے زخیرہ کیا جائے تاکہ انہیں مناسب فرصت اور مواقع پر بروی کار لایا جائے .
مثال کےطورپر: کوہستانی علاقوں اور دیہاتوں میں مختلف جگہوں سے پانی کے چھوٹے چھوٹے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں. اگر ان کو ایک تالاب میں جمع کریں گے تو اس سے بہت بڑے مزرعے کو سیراب کرسکتے ہیں ، لیکن اگر ان کواسی طرح بہنے دیں تو کھیتوں کو سیراب کئے بغیر پانی اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے . اسی لئے زمیندار ان چشموں کے نزدیک تالاب بناتے ہیں تاکہ اس پانی کو جمع کرکے بیج بوتے وقت زمین کو سیراب کر سکے . جب کہ اس سے قبل سارا پانی ہدر جاتا تھا . اسی طرح تقیہ بھی ہے کہ موقع محل پر مؤثر طریقے سے اس طاقت کو استعمال کرنے کیلئے عام موقعوں پر تقیہ کے ذریعے اس طاقت کی حفاظت کرتے ہیں . جو ایک معقول کام ہے اور ایک عاقلانہ فکر ہے .

۱.دفع ضرر اور عقل بتاتی ہے کہ دفع ضرر واجب ہے ؛ اور تقیہ ایک ایسی ٹیکنیک ہے کہ جس کے ذریعے انسان جانی یا مالی ضرر کو اپنے سے اور اپنے دوسرے هم فکر افراد سے دفع کر سکتا ہے .اسی لئے فقہاء فرماتے ہیں : فقد قضي العقل بجواز دفع الضرر بہا (بالتقيہ) بل بلزومه و اتفق عليها جميع العقلاء: بل هو امر فطري يسوق الانسان اليه قبل كل شيئ عقله و لبہ و تدعوہ اليه فطرته(١ ) یعنی عقل تقیہ کے ذریعے سے دفع ضرر کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ اس کے واجب ہونے پر تمام فقہاء اور عقلاء کا اتفاق ہے .اور اس سے بھی بالا تر یہ ایک فطری بات ہے کہ جو انسان کو اس کی فطرت اور عقل سب سے پہلے تقیہ کے ذریعے اپنی جان اور مال کی حفاظت کرنے پر ابھارتی ہے .اور یہ غریزہ ہر انسان اور حیوان میں پایاجاتا ہے .

۲ـ مہم پر اہم کا مقدم کرنا فالعقل السليم يحكم فطريا بانه عند وقوع التزاحم بين الوظيفة الفرديه مع شوكة الاسلام و عزته و قوته او وقوع التزاحم بين الحفظ النفس و بين الواجب او محرم آخر لابد من سقوط الوظيفة الفرديه و ليست التقيہ الا ذالك.(٢ )
حكم عقل سليم فطرتاً ایسی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے فریضے کی انجام دہی کے موقع پر اسلام کی قدرت ، شان وشوکت اور عزت کے ساتھ مزاحم ہوجاتا ہے . یا اپنی جان بچانے کا وقت آتا ہے تو یہ کسی واجب یا حرام کام کا ترک کرنے یا انجام دینے پر مجبور ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں اہم کو انتخاب کرتے ہوئے مہم کو ترک کرنے کا نام تقیہ ہے . اس استدلال سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ : ان العقل يري ان احكام الدين انما شرعت لسعادة الانسان في حياته الي الابد، فاذا كانت هذه السعادة و ادانت الاكام متوقفة و الاخفاء عن الاعداء في فترة من الزمن فالفعل يستقل بالحكم بحسن التقية لقديما للاهم علي المهم. (٣ )
عقل بتاتی ہے کہ احكام دين کو انسان کی ابدی خوش بختی کیلئے تشریع کیا ہے . لیکن اگر یہی خوش بختی اور احکام دین پر عمل کرنا کچھ مدت کیلئے اپنے جانی دشمنوں سے چھپا نے پر مجبور ہو تو عقل، تقیہ کرنے اور اہم کام کو مہم کام پر مقدم کرنے کو ایک اچھا اور مناسب عمل سمجھے گی .
اگر ان بیانات کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہے تو یوں کہہ سکتے ہیں :جب بھی انسان یا مکلف دو کاموں کوانجام دینے پر مجبور ہو ؛ لیکن ان دوکاموں میں سے صرف ایک کو فی الحال انجام دی سکتا ہے . اب وہ سوچتا ہے کہ کس کام کو انجام دوں اور کس کام کو چھوڑ دوں؟! اگر وہ عاقل اور سمجھدار ہو تو وہ جس میں مصلحت زیادہ ہوگی اسے انجام دیں گے اور جس کام میں مصلحت کم ہوگی اسے ترک کریں گے . اسی کا نام تقیہ ہے .

د : فطرت اگر صحیح معنوں میں فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ تقیہ سراسر عالم حيات کے قانون کی اساس اور بنیاد ہے .اور تمام زندہ موجودات اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان بچانے کے خاطراس اصول سے استفادہ کرتے ہیں .جیسے بحری حیوانات جب احساس خطر کرتے ہیں تو وہ اپنی جان بچانے کے خاطر اپنے جسم پر موجودخاص تھیلیوں سے استفادہ کرتے ہیں کہ جس میں ایک کالے رنگ کا ایک غلیظ مادہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے اطراف میں پھیلادیتی ہے جیسے آنسو گیس استعمال کرکے اس جگہے سے دور ہو جاتے ہیں .
اسی طرح بہت سے حشرات ہیں جو اپنے جسم کو پر اور بال کے ذریعے اس طرح چھپاتے ہیں کہ بالکل اس شاخ کے رنگ و روپ میں بدل جا تا ہے اور جب تک غور نہ کرے نظر نہیں آتا . بعض جاندار ایسے ہیں جو مختلف موقعوں پر اپنا رنگ بھی اسی محیط کے رنگ و روپ میں تبدیل کرتے رہتے ہیں ، اور اس حيران کن دفاعی سسٹم کے ذریعے جانی دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتےہیں، تاکہ اپنی جان بچا سکیں .
بعض حیوانات ہیں جو خطرے کی صورت میں اپنے جسم کو بالکل بے حس و حرکت بناتے ہیں تاکہ دشمن کو دھوکه دے سکیں .
خلاصہ کلام یہ ہے جو بھی تقیہ کے مسئلے کو شیعوں کا مسئلہ قراردیتے ہوئے اعتراضات کرتے ہیں ، حقیقت ميں وہ تقیہ کے مفہوم اور معنی سے واقف نہیں ہے، یا واقف تو ہیں لیکن شیعوں کو دیگر مکاتب فکر یا سادہ لوح عوام کی نگاہوں میں گرانے کے خاطر اس فطری اور عقلانی اصول یا سسٹم سے انکار کرتے ہیں .
ان مطالب سے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ کا سسٹم تمام مکاتب فکر میں کم و بیش پایا جاتا ہے .لیکن یہ یاد رکھیں کہ ہمیشہ نیک اور صالح افراد کہ جو تعداد کے لحاظ سے تھوڑے ہیں ، ان جنایت کار اور ظالم افراد کہ جو تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہے ، سے تقیہ کرتے آئے ہیں ؛ تاکہ اس ٹیکنک یا سیسٹم کے ذریعے اپنی جان ، مال عزت ، آبرو اور ناموس ، کی حفاظت کرسکیں . (٤ )

ه : اجماع جنگي نقشے بھی ہمیشہ مخفیانہ طور پر بنتا ہے کہ جنگجو افراد ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ خود کو دشمن کی نظروں سے چھپائے رکھیں ،اور اپناجنگی سامان اور اسلحے کو میدان جنگ کے گوشہ و کنارميں درخت کے پتوں یا کیچڑوں اور مٹی مل کر چھپا تے هیں ، اسی طرح فوجیوں کی وردیاں بھی کچھ اسطرح سے پہنائے جاتے ہیں کہ میدان جنگ میں آسانی کے ساتھ دشمنوں کی نظروں میں نہ آئے .یا کبھی جنگجو افراد مصنوعی دھوان چھوڑکر دشمن کوغافل گیر کرتے ہیں .یا رات کی تاریکی میں ايک جگه سے دوسري جگه نقل مکاني کرتے ہیں .
اسی طرح جاسوس اور اطلاعات والے جب دشمن کے علاقوں میں جاتے ہیں تو وہ اس علاقے کے لوگوں کے لباس اور ماحول اور فرہنگ میں اپنے آپ کو ضم کرتے ہیں . اگر غور کریں تو یہ سب امور تقیہ کے مختلف شکلیں ہیں .جنہیں بروی کار لاتے ہوئے دشمن پر فتح و کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں . (٥ )
اداری اور دفتری کاموں میں خواہ وہ سیاسی امور ہو یا اقتصادی یا معاشرتی ، مختلف مقاصد کے حصول کیلئے رموز کا استعمال کرنا ، یہ سب اس سسٹم کی مختلف شکلیں ہیں ،جسے کوئی بھی عاقل انسان رد نہیں کرسکتا . بلکہ سب ان کی تائید کریں گے .بلکہ اگر ایسی صورت میں جبکہ دشمن اس کے مقابل میں ہو اور وہ اپنی شجاعت دکھاتے ہوئے آشکار طور پر دشمن کے تیروتلوار یا گولیوں کے زد میں نکلیں تو اس کی عقل پر شک کرنا چاہئے.
یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ تقیہ ہر مکتب فکر والوں میں موجود ہے جس کے ذریعے ہی قومی سرمایہ اور عوام کی جان اور مال اور ملکی سالمیت کی حفاظت ممکن ہے .
..............
(١ ). جعفر سبحاني؛ مع الشيعه الاماميه في عقائدهم، ص ۸۹.
(٢ ). صادق ، روحاني؛فقه الصادق ،ج۱۱ ، ص۳۹۳.
(٣ ). محمد علي،صالح المعلم؛ التقيہ في فقه اهل البيت،ج۱، ص۶۶.
(٤ ). مكارم شيرازي؛ تقيہ سپري عميقتر ، ص۲۲.
(٥ ). همان ، ص ۱۸.


۱۳
پانچویں فصل:وجوب تقيہ کے موارد اوراس کا فلسفہ تقيہ ايک قرآني اصول

پانچویں فصل
وجوب تقيہ کے موارد اوراس کا فلسفہ
وجوب تقیہ کے موارد اور اس کے اہداف کو باہم بررسی کریں گے . کیونکہ یہ دونوں (وجوب و هدف)ایک دوسرے سے مربوط ہے . اگر تقیہ کے اصلی موارد کوبیان کرے تو ہدف اصلی بھی خود بخود واضح ہوجاتا ہے .بطور خلاصہ تقیہ کو کئی اہداف کے خاطر واجب جانا گیا ہے :

۱. طاقت کی محافظت کبھی انسان کیلئے ایسا موقع پیش آتا ہے کہ جہاں اپنا عقیدہ اگر عیان اور آشکار کرے تو بغیر کسی فائدے یااپنے اہداف سے قریب ہونے کے بجاے اس شخص یا اور کئی افراد کی جان نابود یا ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہو سکتی ہے .ایسے مواقع پر عقل اور منطق حکم دیتی ہے کہ احساسات میں بے دلیل گرفتار ہوکر اپنی طاقت کو ضائع کرنے سے باز آئیں .بلکہ آئندہ کیلئے ذخیرہ کریں ؛ تاکہ قدرت و طاقت اس قدر زیادہ ہوجائے کہ جس کے ذریعے اپنا عظیم ہدف تک رسائی ہوسکے .کیونکہ کسی بھی شخص میں اتنی وافر مقدار میں قدرت یا طاقت نہیں ہے کہ جنہیں کھلے دل و دماغ سے ہاتھ سے جانے دیں .
کبھی ایک لائق اور مفید شخص کی تربیت کیلئے کئی سا ل ایک معاشرے کو زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور اپنی طاقت کو خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے . تویہ کیسے ممکن هے که اپني ذمه داري کا احساس نہ کریں ؟!
مخصوصا ًایسے معاشرے میں جہاں اچھے اور نیک انسانوں کیافرادي قوت اور طاقت بہت کم ہو ؟
یہی وجہ تھی کہ پيدائش اسلام کے شروع میں پیامبر(ص) نے تقریباً تین سال اپنا عقیدہ سواے ایک خاص گروہ کے دوسرے لوگوں سے چھپا رکھا . آہستہ آہستہ مسلمانوں میں افرادی طاقت میں اضافہ ہوتا گیا ، یہاں تک کہ تقیہ کی بندش تین سال بعد ٹوٹنے لگی اور اسلام کی طرف علی ٰ الاعلان لوگوں کو دعوت دینے لگے .لیکن پھر بھی آپ کے اوپر ایمان لانے والوں کی تعداد کم تھی ؛دشمنوں کے ہاتھوں اسیر ہوجاتے اور قسم قسم کی اذیت اور آزار برداشت کرنا پڑتے .اور ایک معمولی بات پر انہیں قتل کردئے جاتے تھے . تو پیامبر اسلام ﷺ ایسے افراد کو تقیہ کرنے کی اجازت دیتے تھے .تاکہ اپنی دفاعی طاقت اور قوت کو اس نومولود مکتب کی حفاظت کی خاطر محفوظ کرلے اور بیہودہ اور بے ہدف اوربے دلیل اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے .

۲. پروگرام کو چھپانے کے خاطر تقیہ چونکہ تقیہ زیادہ تر نیک اور صالح افراد جو تعداد کے لحاظ سے کم ہیں ؛ سے مربوط ہے تاکہ وہ اس ظالم اور جابر گروہ کے شر سے اپنے دین یا جان یا ناموس کو بچائیں .یہ بھی معلوم ہے کہ اقلیت اپنی زندگی کو جاری رکھنے اور عالی ہدف تک جانے کیلئے تقیہ کے طور و طریقے سے استفادہ کرنے پر مجبور ہیں . ورنہ اگر اکثریت کے سامنے اپنا عقیدہ برملا کرے تو وہ لوگ مزاحمت کرنے لگیں گے .اس لئے مجبور ہیں کہ اپنے عقائد ، پروگرام اور دیگر کاموں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھنے کیلئے تقیہ کرلیں .اس قسم کا تقیہ ظہور اسلام کے وقت بہت زیادہ پایا جاتا تھا .
هجرت پیامبر(ص) کانقشہ كه جو انقلاب اسلامی کی تکمیل اور کامیابی کا پہلا قدم تھا ،آپ کا مخفیانہ طور پر نکلنا اور امير المؤمنين(ع) کا بستر پيامبرگرامی اسلام (ص)پر جا کر آرام کرنا اور آنحضرت کا رات کی تاریکی میں غار حرا کی طرف حرکت کرنا اور اس غار میں کئی دن تک ٹھہرنے کے بعد مدینہ کی طرف مخالف سمت میں چلنا ،وغیرہ اسی تقیہ کے انواع میں سے ہے .سوال یہ ہے کہ کیا ان موقعوں پر تقیہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟!
کیا اگر پیامبر(ص) اور مسلمانان اپنا عقيده اور فكر کو دشمن سے نہیں چھپاتے تو کیا کامیابی ممکن تھی؟!
کیا ایسے موارد میں تقیہ کرنا ہی اپنی کامیابی اور دشمن کی نابودی کا سبب نہیں ہے ؟
اسی طرح اللہ کے خلیل حضرت ابراهيم(ع) نے جو تقیہ کیا تھا ،عرض کر چکا ، جو اگر اپنا عقیدہ نہ چھپاتے اور توریہ نہ کرتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ لوگ اسے اکیلا شہر میں رکنے دیتے ؟ ہرگز نہیں.اس صورت میں آپ کو بت خانے کی طرف جانے کی فرصت بھی کہاں ملتی ؟!لیکن آپ نے جو اپنا عقیدہ چھپایا اور جو نقشہ آپ نے تیار کیا ہوا تھا اسے اپنی انتہا کو پہنچانے کیلئے تقیہ ہی سے کام لیا.اور یہی آپ کی کامیابی کا راز بنا.
ان تمام روايات میں كه تقيہ کو بہ عنوان ايك دفاعي سپر یا ڈھال « جنّة المؤمن، ترس المؤمن» معرفي کرایا گیا ہے وہ سب تقیہ کے اسی قسم میں سے ہیں .

۳ ـ تقيہ دوسروں کی حفاظت کیلئے کبھی اپنے عقیدے کا اظہار کرنا اپنے اثر رسوخ ہونے کی وجہ سے اپنی ذات کیلئے تو کوئی ضرر یا ٹھیس نہیں پہنچتا ، لیکن ممکن ہے دوسروں کیلئے درد سر بنے . ایسی صورت میں بھی عقیدہ کا اظہار کرنا صحیح نہیں ہے .
اهل بيت اطہار (ع) کے بعض اصحاب اور انصار کی حالات زندگی میں ایسے موارد دیکھنے میں آتا ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم و جابر حکمرانوں کی طرفسے لوگ ان کا پیچھا کررہے تھے ، ان کا اپنے اماموں کے ساتھ رابطہ قائم کرنا حکمران لوگ ان کے جانی دشمن بننےکا باعث تھا.ان میں سے کچھ موارد یہ ہیں :
ایک دن زرارہ نے جو امام باقر(ع) اور امام صادق (ع)کے خاص صحابیوں میں سے تھے ؛ امام جمعہ کو امام کی طرف سے ایک خط پہنچایا ، جس میں امام نے جو لکھا تھا اس کا مفہوم یہ تھا : میری مثال حضرت خضر کی سی ہے اور تیری مثال اس کشتی کی سی ہے جسے حضرت خضر(ع) نے سوراخ کیا تاکہ دشمن کے شرسے محفوظ رہے .اور تیرے سر پر ایک ظالم اور جابر بادشاہ کھڑا ہے ، جو کشتیوں کو غصب کرنے پر تلا ہوا ہے ، جس طرح حضرت خضر(ع) نے اس کشتی کو سوراخ کیا تاکہ غاصب اس کو نہ لے جائے، اسی طرح میں بھی تمہیں محفلوں میں کبھی کبھی ڈراتااور مذمت کرتا رہوں گا ، تاکہ تو فرعون زمان کے شر سے محفوظ رہے .
امام حسين(ع)سے جو تقيہ کے حدود کو سرکرنےنے والوں کا سردار ہیں، فرماتے ہیں : انّ التقية يصلح اﷲ بہا امّة لصاحبہا مثل ثواب اعمالهم فان تركها اهلك امّة تاركها شريك من اهلكهم. (١ )
ایسا تقيہ کرنے والاجوامت کی اصلاح کا سبب بنے ، اس کا انجام دینے والے کو اس پوری قوم کے اچھے اعمال کا ثواب دیا جائے گا . کیونکہ اس قوم کی طاقت اور قوت کو زیادہ خدمت کرنے کیلئے محفوظ کیا . لیکن اگرایسے موارد میں تقیہ کو ترک کرے اور ایک امت کو ہلاکت میں ڈالے تو ہلاک کرنے والوں کے جرم میں یہ بھی برابر کے شریک ہے .اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موارد میں تقیہ کا تر ک کرنا قاتلوں کے جرم میں برابر کے شریک بنتا ہے. (٢ )

وہ روایات جو وجوب تقيہ پردلالت کرتی ہیں : ۱ ـ راوی امام صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے اس آیہ شریفہ« اوليك يؤتون اجرهم مرّتين بما صبروا » کے ذیل میں فرمایا: بما صبروا علي التقية و يدرؤن بالحسنة السيّئة، قال : الحسنة التقية و السيّئة الاذاعة. (٣ )
صبر سے مراد تقیہ پر صبر کرنا ہے .حسنات کے ذریعے اور سیئات کو دور کرتے ہیں اور فرمایا:حسنہ سے مراد تقیہ ہے اور سیئات سے مراد آشکار کرنا ہے .
۲ . حسن كوفي نے ابن ابي يعفورسے اور اس نے امام صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ امام (ع) نے فرمایا:قال اتقوا علي دينكم احجبوہ بالتقيہ. فانّه لا ايمان لمن لا تقية له انّما انتم في الناس كالنحل في الطير ولو انّ الطير يعلم ما في اجواف النحل ما بقي منها شيء الّا اكلته. ولو ان الناس علموا ما في اجوافكم انّكم تحبونا اهل البيت(ع) لاكلو كم بالسنتهم و لنحلوكم في السرّ والعلانية. رحم الله عبدا منكم كان علي ولايتنا. (٤ )
امام(ع)نے فرمایا: اپنے دین اور مذہب کے بارے میں هوشيار رہو اور تقیہ کے ذریعے اپنے دین اور عقیدے کو چھپاؤ ، کیونکہ جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئي ایمان نہیں . اور تم لوگوں کے درمیان ایسے ہیں جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی . اگر پرندوں کو یہ معلوم ہو کہ شہد کی مکھی کے پیٹ میں میٹھا شہد ہے تو کبھی شہد کی مکھی کو زندہ نہیں چھوڑتے .اسی طرح اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ تمھارے دلوں میں ہم اہل بیت(ع) کی محبت موجود ہے ، تو زخم زبان کے ذریعے تمہیں کھا جائیں گے .اور تم پر مخفی اور علانیہ طور پر لعن طعن کریں گے .خدا ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے جو ہماری ولایت کے پیرو ہیں .
۳ . عن ابي جعفر(ع): يقول لاخير فيمن لا تقية له، ولقد قال يوسف(ع): ايّتها العير انّكم لسارقون و ما اسرقوا. لقد قال ابراهيم(ع): انّي سقيم و اﷲ ما كان سقيما. (٥ )
امام باقر (ع)نے فرمایا : جس میں تقیہ نہیں اس میں کوئی خیر نہیں . اور بہ تحقیق حضرت یوسف نے فرمایا: ايّتها العير! بیشک تم لوگ چور ہو . جبکه انہوں نے کوئی چیز چوری نہیں کی تھی . اور حضرت ابراہیم نے فرمایا میں بیمار ہوں.خدا کی قسم !درحالیکہ آپ بیمار نہیں تھے .

کیابطورتقیہ انجام دئے گئے اعمال کی قضا ہے ہمارے مجتہدین سے جب سوال هوا : هل يجب الاعاده و القضاء في مقام التقيہ ام تقول بالاجزاء؟ يعني کيا تقيہ کے طور پر انجام دئے گئے اعمال کا اعاده يا قضا کرناواجب هے يا نهيں ؟کے جواب میں فرماتے ہیں کہ علم فقہ کی دو قسم ہے :
الف: عبادات
ب : معاملات.
عبادات سے مراد یہ ہے کہ اس کا امتثال یا انجام دینا تعبدی ہے اور جس میں قصد قربت شرط ہے جیسے نماز ، روزہ . جب عبادت ایک زمانے سے مختص ہو مانند نماز ظہر و عصر جو مقید ہے زوال شمس اور غروب شمس کے درمیان . کہ اسی وقت کے اندر اسے ادا کی جائے ، ورنه قضا ہوجائے گی.پس عبادت خود دو قسم کی ہے: ( ادائيه و قضائيه)
اگر عبادات ناقص شرائط يا اجزا کے سا تھ ہو تو اس کا اعاده وقت کے اندر اورقضاء ،خارج از وقت واجب ہے . اور یہی قضاء و اداء اور اعاده ا ور اجزاءکامعنی ہے .
اب جو تقیہ کے طور پر انجام پایا ہے وہ اگر عبادت ہے تو تقیہ میں داخل وقت اور خارج وقت کامسئلہ ختم ہوجاتا ہے .
شيخ انصاري (رہ)اس سؤال کے جواب میں کہ کیا اعاده يا قضاء واجب ہے ؟ فرماتے ہیں اگر شارع اقدس نے واجب موسع کےتقیہ کے طور پر انجام دینے کی اجازت دی ہے ، تویہ اجازت یا کسی خاص مورد میں ہے یا عام موارد میں . بعنوان مثال شارع اقدس نے اجازت دی ہے کہ نماز یا مطلق عبادات کو تقیہ کے طور پر انجام دیا جائے ، وقت ختم ہونے سے پہلے تقیہ کی علل و اسباب دور ہوجائے تو یہ سزاوار ہے کہ وہ اجزا جو تقیہ کی وجہ سے ساقط ہوا ہے انجام دیا جائے لیکن اگر شارع نے واجب موسع کو تقیہ کی حالت میں انجام دینے کی اجازت دی ہے خواہ خصوصی ہو یا عمومی ، تو بحث اسی میں ہے کہ کیا یہ تقیہ والا حکم کو بھی شامل کرے گا یا نہیں ؟
بلكه آخر کلام یہ ہے کہ حالت تقیہ میں دیا گیا حکم مکلف سے ساقط ہو جاتا ہے ، اگرچہ وقت وسیع ہی کیون نہ ہو. (٦ )
اس کے بعد شيخ انصاري(رہ) تفصيل کے قائل ہوگئے ہیں کہ فرماتے ہیں : كه کیا کافی ہے یا ساقط یا عادوہ و قضا ضروری ہے ؟ہم یہاں دلیل کی طرف رجوع کریں گے اور انہی اجزاء وشرائط کو جو تقیہ کی وجہ سے کم یا زیادہ ہو ا ہے اعادہ کریں گے .
اگر یہ شرائط اور اجزاءکا شمول عبادات میں کسي بھي صورت ميں ضروري ہے خواہ اختیاری ہو یا اضطراری ہو ، تو یہاں مولی کا حکم مکلف سےساقط ہو جاتا ہے کیونکہ اجزاء میں کمی بیشی تقیہ کی وجہ سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ معذور تھا .اگر چہ یہ تعذر سارا وقت باقی رہے . جیسے نماز کا اپنے وقت میں ادا کرنا ممکن نہیں مگر یہ کہ سرکہ کے ساتھ وضو کرے .باوجودیکہ سرکہ میں کوئی تقیہ نہیں .درنتیجہ نماز کا اصل حکم منتفی ہوجاتا ہے ، کیونکہ نماز کیلئے شرط ہے کہ پانی کے ساتھ وضو کرے .
لیکن اگر یہ اجزاءاورشرائط دخالت رکھتا ہو اور مکلف کیلئے ممکن بھی ہو تو واجب ہے ورنہ نہیں . اگر یہ اجزاء تمام وقت میں ادا ہو تو اس کا حکم پہلے ہی سے ساقط نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے جتنا ممکن ہو انجام دیتے جائیں
اور اگراجزاء میں عذروقت کے اندر ہو ،خواہ اس عذر کا رفع ہونے کی امید ہو یا نہ ہو ، فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ وہ آخر وقت تک انتظار کرے یا انجام دیدے .
لہذا جو بھی تقیہ کے طور پر انجام دیا گیا ہے ؛ یہ عبادات صحیح ہیں کیونکہ شارع نے اسے تقیہ کی حالت میں انجام دینے کی اجازت دی ہے . (٧ )
..............
(١ ). وسائل الشيعه، ج۴ ،باب ۲۷ .
(٢ ). تقيہ سپري عميقتر، ص ۸۲.
(٣ ) . وسائل الشيعه ، باب امر بالمعروف، ص۴۶۰ .
(٤ ) . همان ، ص ۴۶۱.
(٥ ) . همان ، ص ۴۶۴.
(٦ ) . التقيہ في رحاب العلمين ، ص ۲۷.
(٧ ) . همان ، ص ۲۸.


۱۴
پانچویں فصل:وجوب تقيہ کے موارد اوراس کا فلسفہ تقيہ ايک قرآني اصول

کیا خلاف تقيہ عمل باطل ہے ؟ یہ ایک طبیعي چيز ہے کہ اگو کوئی مولی کے حکم کی مخالفت کرے اور اس کا عمل حکم شرعی کے مطابق نہ ہو تو وہ باطل ہوجاتا ہے . اور تقیہ میں بھی اگر کسی پر تقیہ کرنا واجب ہوگیا تھا لیکن اس نے تقیہ نہیں کیا تو کیا اس کا عمل بھي باطل ہوجائے گا یا نہیں ؟

شيخ انصاري(رہ) فرماتے هيں : اگر تقیہ کی مخالفت کرے جہان تقیہ کرنا واجب ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ بعض ترک شدہ عمل اس میں انجام پائے گا . تو حق یہ ہے کہ خود تقیہ کا ترک کرنا بذات خود عقاب کا موجب ہو گا . کیونکہ مولی کے حکم کی تعمیل نہ کرنا گناہ ہے .
پس قاعدہ کا تقاضا یہ ہے کہ یہ فعل بھی باطل ہوگا . بالفاظ دیگر ہم ادلہ کے تابع ہیں اور موارد تقیہ میں ہیں . اس کے بعد شیخ ایک توہم ایجاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شارع اقدس نے تقیہ کی صورت میں اسی فعل کا انجام دینے کا حکم یا ہے .
لیکن یہ توہم صحیح نہیں ہے کیونکہ تقیہ کے ساتھ قید ایک بيروني قید ہے جس کا کوئی اعتبارنہیں ہے .اور نہ هي شرعی قید بطلان کا موجب ہے . (١ )
امام خميني(رہ) اس عنوان «ان ترك التقية هل يفسد العمل ام لا؟» کے تحت فرماتے ہیں کہ اگر تقيہ کے برخلاف عمل کریں تو صحيح ہے ، کیونکہ تقیہ کا حکم ہونا موجب نہیں بنتا کہ عمل سے بھی روکا گیا ہو .علم اصول میں ایک قاعدہ ہے: انّ الامر بالشيئ لا يقتضي النهي عن ضدّه سرايت نہیں کرتا.
امام خميني(رہ) کے مطابق یہ ہے کہ چونکہ ایک عنوان سے روکا گيا هے اور دوسرے عناوین میں بطور مطلق تقیہ کے خلاف عمل کرنا صحیح ہے . (٢ )

وہ موارد جہاں تقيہ حرام ہے تقیہ عموما ً دو گروہ کے درمیان مورد بحث قرار پاتا ہے اور یہ دونوں کسی نہ کسی طرح صحیح راستے سے ہٹ چکے هوتے ہیں .اور اپنے لئے اور دوسروں کے لئے درد سر بنے هوتے ہیں:
پہلا گروہ :وہ مؤمنین جو ترسو اور ڈرپوک ہیں اور وہ لوگ کوئی معلومات نہیں رکھتے، دوسرے لفظوں میں انہیں مصلحت اندیشی والے کہے جاتے ہیں کہ جہاں بھی اظہار حق کو ذاتی مفاد اور منافع کے خلاف دیکھتے ہیں یا حق بات کا اظہار کرنے کی جرأت نہیں ہوتي، تو فوراً تقیہ کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ: التقية ديني و دين آبائي لا دين لمن لاتقية له.یعنی تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے ، جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے .اس طرح دین اور مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں .
دوسرا گروہ: نادان یا دانا دشمن ہے جو اپنے مفاد کے خاطر اس قرآنی دستور یعنی تقیہ کےمفہوم کو مسخ کرکے بطور کلی آئین اسلام یا مذہب حقہ کو بدنام کرنے کی کوشش ميں لگا رهتا ہے .يه لوگ تقيہ کے مفہوم میں تحریف کرکے جھوٹ ،ترس،خوف ، ضعیف ، مسئولیت سے دوری اختیار کرنا، ...کا معنی کرتے ہیں . سرانجام اس کا یہ ہے کہ و ہ اپني ذمه داري کو نبھانے سے دوري اختیار کرتے ہیں ،
ان دونوں گروہ کي غلطي دور کرنے کیلئے کافی ہے کہ دو موضوع کی طرف توجہ کریں .

۱. تقيہ کامفهوم مفهوم تقيہ کے بارے میں پہلے بحث کرچکے ہیں ، کہ تقیہ کامعنی خاص مذہبی عقیدہ کا چھپانا اور کتمان کرنا ہے . اور وسیع تر مفہوم یہ ہے ہر قسم کے عقیدہ ، فکر ، نقشہ، یا پروگرام کااظهار نه کرنا ،تقیہ کہلاتا ہے .

۲. تقيہ کاحكم ہمارے فقهاء اور مجتہدین نے اسلامی مدارک اور منابع سے استفاده کرتے ہوئے تقیہ کو تین دستوں میں تقسیم کئے ہیں : ۱ـ حرام تقيہ ۲ـ واجب تقيہ ۳جائز تقيہ.
اور کبھی اسے پانچ قسموں میں تقسیم کرتے ہیں : یعنی مکروہ اور مباح کو بھی شامل کرتے ہیں .لہذا یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تقیہ نہ ہر جگہ واجب ہے اور نہ ہرجگہ حرام یا مکروہ ، بلکہ بعض جگہوں پر واجب ،و مستحب اور بعض جگہوں پر حرام یا مکروہ هے.اسي لئے اگر کسی نے حرام مورد میں تقیہ کیا تو گویا اس نے گناہ کیا .

تحريم تقيہ کےموارد اور اس کا فلسفہ كلي طورپر جب بھی تقیہ کر کے محفوظ کئے جانے والا ہدف کے علاوہ کوئی اور ہدف جو زیادہ مہمتر ہو ، خطرے میں پڑ جائے تو اس وقت تقیہ کا دائرہ توڑنا واجب ہے ، چوں کہ تقیہ کا صحیح مفہوم ؛ قانون اہم اور مہم کے شاخوں میں سے ایک شاخ ہے جب یہ دونوں ہدف آپس میں ٹکرا جائیں تو اہم کو لیتے ہیں اور مہم کو اس پر فدا کيا جاتا ہے.
یہی اهم اور مهم کا قانون کبھی تقيہ کو واجب قرار دیتا ہے اور کبھی حرام. روایات کي روشني میں بعض موارد ميں تقیہ کرنا حرام ہے ، درج ذیل ہیں:

۱. جہاں حق خطر ے میں پڑ جائے جہاں اپنے عقیدے کو چھپانا مفاسد کا پرچار اور کفر اور بے ایمانی یا ظلم وجور میں اضافہ اور اسلامی ستونوں میں تزلزل اور لوگوں کا گمراہی اور شعائریا احکام اسلامی کا پامال ہو نے کا سبب بنے تو وہاں تقیہ کرنا حرام ہے . لہذا ایسے مواقع پر اگر ہم کہیں کہ تقیہ مباح ہے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہوگی . اور اس قسم کا تقيہ « ويران گر تقيہ » کہلائے گا .پس وہ تقیہ مجاز یا واجب ہے جو مثبت اورمفيد ہو اور اہداف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کا سبب نہ ہو.

۲.جہاں خون خرابہ کا باعث ہو جہان خون ریزی ہو اور بے گناہ لوگوں کی جان مال کو خطرہ ہو تو وہاں تقیہ کرنا حرام ہے . جیسا کہ اگر کوئی مجھ سے کہہ دے کہ اگر فلانی کو تم قتل نہ کرو تو تجھے قتل کروں گا. تو اس صورت میں مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں اس شخص کو قتل کروں . اگرچہ مجھے یقین ہوجائے کہ میری جان خطرے میں ہے .
ایسی صورت میں اگر کوئی کہہ دے کہ ہمارے پاس روایت ہےکہ (المأمور معذور ). لہذا اگر میں فلانی کو قتل کروں تو کوئی گناہ نہیں ہے .
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معروف جملہ «المامور معذور» سند کے لحاظ سے ضعیف ہے کیونکہ اس کی اصلی سند « شمر» تک پہنچتی ہے .(٣ ) اسے کوئی عاقل اور شعور رکھنے والا قبول نہیں کرسکتا.کیونکہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی جان بچانے کے خاطر کسی دوسرے بے گناہ کی جان لے لے . اور اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ قاتل ہوگا . چنانچه امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں : انّما جعل التقية ليحقن بہا الدم فاذا بلغ الدم فليس التقية(٤ ) يعني تقيہ شریعت میں اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ قومی اور انفرادی قدرت ہدر نہ جائے ، اپنے اور دوسروں کے خون محفوظ رہے . اور اگر خون ریزی شروع ہوجائے تو تقیه جائز نہیں ہے .

۳. وہ موارد جہاں واضح دليل موجود ہو وہ موارد جہاں واضح طور پرعقلی اور منطقی دلائل موجود ہو،جیسے اسلام میں شراب نوشی کی ممانعت هے يهاں تقيہ کرکے شراب پينے کي اجازت نهيں هے .اور تقیہ حرام ہے یہاں عقیدہ چھپانے کے بجائے عقلی اور منطقی دلائل سے استدلال کریں .اور ایسا حال پیدا کریں کہ مد مقابل کو یقین ہوجائے کہ یہ حکم قطعی ہےاور اس کا اجراء کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے .لیکن کبھی بعض ڈرپوک اور بزدل لوگ جب شرابیوں کے محفلوں میں پہنچ جاتے ہیں تو وہ بجائے اعتراض کرنے کے ، ان کے ساتھ ہم پیالہ ہو جاتے ہیں . یا اگر نہیں پیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ شراب میرے مزاج کیلئے مناسب نہیں ہے .لیکن یہ دونوں صورتوں میں مجرم اور خطاکار ہیں.یا صراحت کے ساتھ کهه ديں کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے شراب نہیں پیتے .
اسی طرح اجتماعی ، معاشرتی اور سیاسی وظيفے کی انجام دہی کے موقع پر بھی دو ٹوک جواب دینا چاہئے .

۴. شارع اور متشرعين کے نزدیک زیادہ اہميت والے موارد بعض واجبات اور محرمات جو شارع اور متشرعین کے نزدیک زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ، وہاں تقیہ جائز نہیں ہے .جیسے اگر کوئی خانہ کعبہ کی بے حرمتی یا انہدام کرنے کی کوشش کرے یا اسی طرح اور دینی مراکز جیسے مسجد ، ائمہ کے قبور کی بے حرمتی کرے تو وہان خاموش رہنا جرم ہے ، اسی طرح گناہان کبیرہ کے ارتکاب پر مجبور کرے تو بھی انکار کرنا چاہئے .
..............
(١ ). همان ، ص ۲۴.
(٢ ). ہمان
(٣ ). مكارم شيرازي؛ تقيہ مبارزه عميقتر،ص ۷۱.
(٤ ) . شيخ اعظم انصاري؛ مكاسب، ج ۲، ص ۹۸.


۱۵
چھٹی فصل:تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات تقيہ ايک قرآني اصول

چھٹی فصل
تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات
ائمه طاہرین (ع)کے زمانے میں دوسرے مکاتب فکر کے لوگوں کی طرف سے شیعوں پر مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے؛ ان میں سے ایک تقیہ ہے .
سب سے پہلا اشکال اور شبہہ پیدا کرنے والا سلیمان بن جریر ابدی ہے جو فرقہ جریرہ کا رہبر ہے . وہ امام صادق(ع)کا ہم عصر ہے .اس کا کہنا ہے کہ شیعوں کے امام جب کسی خطا کے مرتکب ہوتے تھے تو تقیہ کو راہ فرار کے طور پر مطرح کرتے تھے . اور کہتے تھے کہ یہ تقیہ کے طور پر انجام دیا گیا ہے . (١ )
یہ اشکال اس کے بعد مختلف کلامی اور تفسیری کتابوں میں اہل سنت کی جانب سے کرنے لگے . بعد میں شیعہ بڑے عالم دین سيد شريف مرتضي(رہ) معروف بہ علم الهدي (۳۵۵ ـ۴۳۶)ق نے ان شبہات اور اشکالات کا جواب دیا ہے. (٢ )
فخر رازي(۵۴۴ ـ ۶۰۶ ه ) صاحب تفسير كبيرنے « مفاتيح الغيب»میں سليمان ابن جرير کے تقیہ کے بارے میں اس شبہہ کوتكرار کیا ہے، جس کا جواب خواجه نصير الدين طوسي(رہ)(۵۷۹ـ ۶۵۲ق) نےدیا ہے . (٣ )
بيشترين شبہات گذشتہ دور میں تقي الدين احمد معروف بہ ابن تيميه (۶۶۱ـ۷۲۸ق) کی کتاب منهاج السنّه ، میں دیکھنے میں آتا ہے جو مجموعاً پانچ اشکالات پر مشتمل ہے . (٤ )

شبہات کی تقسيم بندي وہ شبہات جوتقیہ سے مربوط ہے وہ تین بخش میں تقسيم كرسکتے ہیں :

• وہ شبہات جو مربوط ہے تشريع تقيہ سے o تقيہ یعنی جھوٹ.
o تقيہ یعنی منافقت.
o تقيہ امر بہ معروف و نهي ازمنكرکی ضد.
o تقيہ جهادکی ضد.
o تقيہ اورآيات تبليغ کے درمیان تعارض.
o تقيہ یعنی ظلم.

• وہ شبہات جو امام معصوم(ع) کے تقيہ سے مربوط ہے o تقيہ بيان شريعت امام(ع)کي ضد ہے.
o تقيہ روايات « سلوني قبل ان تفقدوني» سے تضاد رکھتا ہے .
o تقيہ كلام امام (ع) پر عدم اعتمادکاموجب ـ
o تقيہ یعنی تحليل حرام و تحريم حلال.
o تقيہ شجاعت کی ضد.
o جہاں سکوت کرنا ممکن ہو وہاں تقیہ کی کیا ضرورت؟
o تقيہ کے علوہ اور بھي راستے هيں .
o کیا تقيہ ايك اختصاصي حكم ہے يا عمومي؟
o تقيہ کیا خلاف عصمت نہیں؟
o تقیہ کیا علم امام(ع)سے منافات نہیں رکھتا ؟.
o تقيہ کرنے کي صورت میں کیا دین کا دفاع ممکن ہے ؟
o کیوں ایک گروہ نے تقيہ كیا اور دوسرےگروہ نے نہیں کیا ؟

• وہ شبہات او ر تهمتيں جوشيعوں کے تقيہ سے مربوط هيں: o تقيہ شیعوں کے اصول دين میں سے ہے .
o تقيہ شیعوں کی بدعتوں میں سے ہے .
o تقيہ پيروي از ائمه اطهار (ع) سے تناقض رکھتا ہے .
o تقيہ زوال دين کاموجب ہے .
o فتواي امام (ع) تقيہ کی صورت میں قابل تشخیص نہیں .
o تقيہ شیعوں کی حالت جبن اور اضطرار ہے .
o تقيہ کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے نہ مسلمانوں کے ساتھ .

تشريع تقيہ سے مربوط شبہات کی تفصيل:
تقيہ اور جھوٹ : ابن تیمیہ اس شبہہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تقیہ ایک قسم کی جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا ایک قبیح اور بری چیز ہے اور خدا تعالی بری چیز کو حرام قرار دیا ہے ، پس تقیہ بھی خدا کے نزدیک قبیح اور بری چیز ہے .اور جائز نہیں ہے .اس اشکال کیلئے دو جواب دئے جاتے ہیں:
۱. اگر تقیہ جھوٹ ہے تو الله تعالي نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر کیوں تقیہ کرنے والوں کی مدح سرائی کی ہے ؟!:جیسے آلعمران کي آيه نمبر ۲۸ میں فرمایا : الّا ان تتقوا منهم، اورسوره نحل کي آيه۱۰۶ میں فرمایا : الا من اكره و قلبہ مطمئن بالايمان.
اللہ تعالی نے صرف تقیہ کرنے کو جائز قرار نہیں دیا بلکہ مجبوری کے وقت تقیہ کرنے کا باقاعدہ حکم دیا ہے اور تقيہ کرنے کا شوق دلايا ہے .

دوسرا جواب یہ ہے کہ کیا جب کافروں کی طرف سے مجبور کیا جائے اور تقیہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ ہو تو وہاں کیا جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ جھوٹ بولنا برا نہیں ہے . جیسے اگر کسی دو مسلمان بھائیوں کے درمیان الفت اور محبت پیدا کرنے اور خون و خرابہ سے بچنے کیلئے جھوٹ بولنا جائز ہے ، کیونکہ اگر سچ بولے تو جھگڑا فساد میں اضافہ ہوسکتا ہے .
لیکن اس اشکال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ : یہ اشکال دومقدمہ (صغری اور کبری) سے تشکیل پایا ہے . صغری میں کہا کہ تقیہ ایک قسم کا جھوٹ ہے . یہ صغری ہر مصداق اور مورد میں صحیح نہیں ہے . کیونکہ تقیہ اخفائی یعنی واقعیت کے بیان کرنے سے سکوت اختیار کرنے کو کوئی جھوٹ نہیں کہتا . بلکہ یہ صرف تقیہ اظہاری میں صدق آسکتا ہے . وہ بھی توریہ نہ کرنے کی صورت میں .
پس تقیہ کے کچھ خاص مورد ہے جہاں تقیہ کا مصداق کذب اور جھوٹ ہے.
لیکن کبری ٰ یعنی جھوٹ بولنا قبیح اور برا ہے ؛ یہاں کہیں گے کہ جھوٹ ہر جگہ برا نہیں ہے .کیونکہ مختلف عناوین کو حسن و قبح کی کسوٹی پر ناپا جاتا ہے تو ممکن ہے درج ذیل تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پائی جائے :
١. یا وہ عنوان حسن و قبح کیلئے علت تامہ ہے .جیسے حسن عدالت اور قبح ظلم.انہیں حسن و قبح ذاتی کہا جاتا ہے .
٢. یا وہ عنوان جو خود بخود حسن و قبح کا تقاضا کرتا ہو ، بشرطیکہ کوئی اور عنوان جو اس تقاضے کو تبدیل نہ کرے ،اس پر صدق نہ آئے .جیسے کسی یتیم پر مارنا خود بخود قبیح ہے لیکن اگر ادب سکھانے کا عنوان اس پر صدق آجائے تو یہ قباحت کي حالت سے نکل آتی ہے .ایسے حسن و قبح کو عرضی کہتے ہیں.
٣. یا وہ عنوان جو حسن و قبح کے لحاظ سے متساوي الطرفين ہو .اور حسن و قبح سے متصف ہونے کیلئے مختلف شرائط کی ضرورت ہے . جیسے کسی پر مارنا اگر ادب سکھانے کیلئے ہو تو حسن ہے اور اگر اپنا غم و غصہ اتارنے کیلئے مارے تو قبیح ہےليکن اگر کسی بےجان چیز پر مارے تو نہ حسن ہے اور نہ قبیح ہے .
اور یہاں ہم اس وقت جھوٹ بولنے کو قبیح مانیں گے کہ پہلا عنوان اس پر صدق آتا ہو . جب کہ ایسا نہیں ہے .اور عقلا نے بھی اسے دوسری قسم میں شمار کئے ہیں . کہ جب بھی کوئی زیادہ مہمتر مصلحت کے ساتھ تزاحم ہو تو اس کی قباحت دور ہوجاتی ہے ، جیسے : ایک گروہ کا خون خرابہ ہونے سے بچانے کیلئے جھوٹ بولنے کو ہر عاقل شخص جائز سمجھتا ہے.
اسی لئے ہم دیکھتے ہیں كه قرآن او ر پيامبر اسلام(ص) نے عماربن یاسر کے تقیہ کرتے ہوئے جھوٹ بولنے اور کفار کے شر سے اپنی جان بچانے کومورد تائید قرار دیا ہے .

شيخ طوسی(رہ) کا جواب تقيہ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ ، الكذب ضد الصدق و هو الاخبار عن الشيء لا علي ما هو بہ(٥ ) یعنی جھوٹ سچائی کی ضد ہے اور جھوٹ سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کی خبر دے، جس کي کوئي حقيقت نهيں .
پس جھوٹ کا دو رکن ہے :
الف: کسی واقعے کے بارے میں خبر دینا .
ب: اس خبر کا واقعیت کے مطابق نہ ہونا.
جبکہ تقیہ کے تین رکن ہیں :
الف:حق بات کا چھپانا.
ب: مخالفین کے ساتھ موافقت کا اظہار کرنا .
ج: اور یہ دونوں رکن اس لئے ہو کہ دشمن کے شر سے اپنی جان یا مال کو حفاظت کرے .
لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ جھوٹ اخباری ہے اور تقیہ دشمن کو برحق ظاہر کرنا ہے .دوسری بات یہ ہے کہ جھوٹ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھا ہے وہ بھی حق ہو، جبکہ تقیہ میں یہ شرط ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھا ہے وہ حق ہو .
اگر کسی نے اشکال کیا کہ جھوٹ تقیہ سے اعم ہے .تو ہم جواب دیں گے کہ بالفرض تقیہ کرنے والا خبر دینے کی نیت کرے بلکہ تعریض کی نیت کرے . (٦ )

تقيہ يعني منافقت! ممكن ہے کوئی یہ ادعا كرے کہ جو مکر اورفریب منافق لوگ کرتے ہیں ، تقیہ بھی اسی کی ایک قسم ہے. کیونکہ منافق دوسروں کو دھوکہ دینے کیلئے زبان پر ایسی چیزکا اظہار کرتے ہیں جس کے برخلاف دل میں چھپا رکھا ہو .
شيخ طوسي(رہ) اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتےہیں کہ مخادع اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دل میں موجود بات کے برخلاف زبان پر اظہار کرے تاکہ جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اس سے وہ محفوظ رہے .اسی لئے منافق کو مخادع کہا جاتا ہے . کیونکہ وہ زبان کے ذریعے اسلام کاکلمہ پڑھ کر کفر کے حکم لگنے سے فرار کرکے اپنی جان بچاتا ہے . اگر چہ منافق مؤمن کو ظاہراً زبان کے ذریعے دھوکہ دیتا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے .
یہ درست ہے کہ تقیہ میں بھی باطن کے خلاف بات کا اظہار ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی جان بچاتا ہے ؛ لیکن یہ دونوں ( تقیہ اور نفاق) اصولاًباہم مختلف اور متفاوت ہے .اور دونوں قابل جمع بھی نہیں.
امام صادق(ع) اس مختصر حدیث میں مؤمن ہونے کا دعوا کرنے اور ایسے موارد میں تقیہ کے دامن پکڑنے والوں کو شدید طور پر ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: و ايّم اﷲ لو دعيتم لتنصرونا لقلتم لا نفعل انّما نتقي و لكانت التقيہ احبّ اليكم من آبائكم و امّهاتكم ، ولو قد قام القائم ما احتاج الي مسائلكم عن ذالك و لا قام في كثير منكم حدّ النفاق. (٧ )
يعني خدا کی قسم ! اگر تمہیں ہماری مدد کیلئے بلائے جائیں تو کہہ دینگے ہر گز انجام نہیں دیں گے،کيونکه ہم تقیہ کی حالت میں ہیں .تمہارے والدین کا تقیہ کرنا تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ، اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور ہماری حکومت تشکیل دے گا ، تو خدا کی قسم بغیر سوال کئے ، منافقین کو سزا دینا شروع کریگا جنہوں نے تمہارا حق مارا ہے .
یہ حدیث بتا تی ہے کہ امام(ع) اپنے بعض نادان دوست کے بے موقع تقیہ کرنے کی وجہ سے غم و غصه کا اظہار فرما تے ہوئے نفاق اور تقیہ کے درمیان حد فاصل کو واضح فرمارہے ہیں .
اپنے مقدس اہداف کی ترقی کے خاطر پرده پوشي کرنے اور چھپانے کا نام تقیہ ہے اور جائز ہے .اجتماعی اور الہی اہداف کی حفاظت کے خاطر اپنا ذاتی اہداف کو فدا کرنے کا نام تقیہ ہے .اس کے برخلاف اگر کوئی اپنے ذاتی مفاد کے خاطر اجتماعی اور قومی مفاد کو قربان کرے تو وہ منافق کهلائے گا.
ایک اور حدیث میں امام (ع)سے منقول ہے :جب بھی انسان ایمان کا اظہار کرے ،لیکن بعد میں عملی میدان ميں اس کے برخلاف عمل کرے تو وہ مؤمن کی صفات سے خارج ہے . اور اگراظہار خلاف ایسے موارد میں کیا جائے جہاں تقیہ جائز نہیں ہے تو اس کا عذر قابل قبول نہیں ہے: لانّ للتقيہ مواضع من ازالها عن مواضعها لم تستقم له (٨ )
کیونکہ تقیہ کے بھی کچھ حدود ہیں جو بھی اس سے باہر قدم رکھے تو وہ معذور نہیں ہوگا .اور حدیث کے آکر میں فرمایا : تقیہ وہاں جایز ہے جہاں دین اور ایمان میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو .
«كميت» شاعر كه جو مجاہدوں کی صف میں شمار ہوتا ہے کہ اپنے ذوق شاعری سے استفادہ کرتے ہوئے بنی عباس کے دور خلافت ميں اس طاغوتی نظام کے خلاف قیام کیا اور مكتب اهل بيت(ع)کی حمایت کی . ایک دن امام موسي ابن جعفر(ع) کی خدمت میں پہنچا ، دیکھا کہ امام(ع) کا چہرہ بگڑا ہوہے . جب وجہ پوچھي توشدید اور اعتراض آميز لہجے میں فرمایا :کیا تونے بنی امیہ کے بارے میں یہ شعرپڑھا ہے ؟!

فـالان صرت ا لي امّة
و الامم لها الي مصائر
يعني ابھي تو ميں خاندان بني اميه کي طرف متوجه هوا هوں اور ان کا کام ميري طرف متوجه هورها هے .
كميت کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: مولا !اس شعر کو میں نے پڑھا ہے لیکن خدا کی قسم میں اپنے ایمان پر باقی ہوں اور آپ خاندان اہل بیت (ع)سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کے دوستداروں سے بھی محبت رکھتا ہوں اور اسی لئےآپ کے دشمنوں سے بیزار ہوں؛ لیکن اسے میں نے تقیۃً پڑھا ہے .
امام(ع) نے فرمایا:اگر ایسا ہو تو تقیہ ہر خلاف کاروں کیلئے قانونی اور شرعی مجوز ملے گا .اور شراب خوری بھی تقیہ کے تحت جائز ہوجائے گا .اور بنی عباس کی حکومت کا دفاع کرنا بھی جائز ہوجائے گا. اس قسم کے تقیہ سے تملّق ،چاپلوسي اور ظالموں کی ثنا خوانی کا بازار گرم اور پر رونق ہوجائے گا.اور نفاق ومنافقت بھی رائج ہوجائے گا . (٩ )

تقيہ، جهادکے متنافی اشکال يه ہے : اگر تقیہ کے قائل ہوجائیں تو اسلام میں جہاد کا نظریہ ختم ہونا چاہئے . جبکہ اس جہاد کے خاطر مسلمانوں کی جان و مال ضائع ہوجاتی ہیں . (١٠ )
جواب: اسلامي احكام جب بھی جانی یا مالی ضرر اور نقصان سے دوچار اور روبرو ہوجاتا ہے تو دو قسم میں تقسیم ہوجاتا ہے :
١. وہ احکامات جن کا اجراء کرنا کسی جانی ضرر یا نقصان سے دوچار نہیں ہوتا ، جیسے نماز کا واجب ہونا ، جس میں نہ مالی ضرر ہے اور نہ جانی ضرر .
٢. وہ احکامات جن کا اجرا کرنا ، جانی یا مالی طورپر ضرر یا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے . جیسے زکوۃ اور خمس کا ادا کرنا ، راہ خدا میں جہاد کرنا وغیرہ .
تقیہ کا حکم صرف پہلی قسم سے مربوط ہے . کہ بعض موارد میں ان احکام کو بطور حکم ثانوی اٹھایا جاتا ہے .لیکن دوسری قسم سے تقیہ کا کوئی رابطہ نہیں ہے .اور جہاد کا حکم بھی دوسری قسم میں سے ہے ، کہ جب بھی شرائط محقق ہوجائے تو جہاد بھی واجب ہوجاتا ہے .اگرچہ بہت زیادہ جانی یامالی نقصان بھی کیوں نہ اٹھانی پڑے.
..............
(١ ). نوبختي، فرق الشيعه ، ص۸۵.
(٢ ) . شيخ انصاري، رسائل ، ج۱،ص ۲۹۰، ۳۱۰.
(٣ ) . المحصل ، ص ۱۸۲.
(٤ ) . ابن تيميه ؛ منهاج السنّه النبويه، ج ۱،ص۱۵۹.
(٥ ). محمود، يزدي؛ انديشه كلامي شيخ طوسي، ص ۲۷۹.
(٦ ) . همان ، ص ۲۸۰.
(٧ ). وسائل الشيعه، ج ۲ ، باب ۲۵.
(٨ ). همان ، ج ۶ ، باب ۲۵.
(٩ ) . مكارم شيرازي؛ تقيہ سپري عميقتر، ص ۷۰.
(١٠ ) . قفاري ؛ اصول مذهب الشيعه، ج۲، ص ۸۰۷.


۱۶
چھٹی فصل:تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات تقيہ ايک قرآني اصول

تقيہ اور آيات تبليغ کے درمیان تعارض آلوسی کہتا ہے کہ تقیہ ان دو آیات کے ساتھ تعارض پیدا کرتا ہے کہ جن میں پیامبر اکرم (ص ) کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے . (١ )
۱. يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ . (٢ )
اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے.
اس آيه مباركه میں اپنے حبیب کو تبلیغ کا حکم دے رہا ہے اگر چہ خوف اور ڈر ہی کیوں نہ ہو.
۲. الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَكَفَى بِاللَّهِ حَسِيبًا (٣ ) يعني وہ لوگ ا للہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ،اوراللہ حساب کرنے کے لئے کافی ہے .
اس آیہ شریفہ میں خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنا ایک بہترین صفت قرار دیتے ہوئے سراہا گیا ہے .
اسی طرح اللہ تعالی کے احکامات کو چھپانے کی مذمت میں بھی آیات نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ فرمایا: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَ يَشْترَُونَ بہ ثمََنًا قَلِيلاً أُوْلَئكَ مَا يَأْكلُُونَ فىِ بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَمَةِ وَ لَا يُزَكِّيهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ. (٤ )
جو لوگ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے احکام کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور خدا روز قیامت ان سے بات بھی نہ کرے گااور نہ انہیں پاکیزہ قرار دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے .
اس اشکال کیلئے یوں جواب دے سکتے ہیں ؛ تبلیغ کبھی اصول دین سے مربوط ہے اور کبھی فروع دین سے . اور جب بھی تبلیغ اصول دین سے مربوط ہو اور تبلیغ نہ کرنا باعث بنے کہ لوگ دین سے آشنائی پیدا نہ کرے اور لوگوں کی دین سے آشنائی اسی تبلیغ پر منحصر ہو تو یہاں تقیہ حرام ہے اور دائرہ تقیہ کو توڑ کر تبلیغ میں مصروف ہونا چاہئے ، اگرچہ تقیہ ضرر جانی یا مالی کا سبب کیوں نہ بنے ؛ کیونکہ آیات مذکورہ اور داخلی اور خارجی قرینے سے پتہ چلتا ہے کہ تقیہ اسی نوع میں سے ہے . یہاں تقیہ بے مورد ہے .
لیکن اگر تقیہ فروع دین سے مربوط ہو تو یہاں تبلیغ اور جانی ومالی نقصانات کا مقائسہ کرے گا کہ کس میں زیادہ مصلحت پائی جاتی ہے ؟ اور کون سا زیادہ مہم ہے ؟اگر جان یا مال بچانا تبلیغ سے زیادہ مہم ہو تو وہاں تقیہ کرتے ہوئے تبلیغ کو ترک کرنا واجب ہے . مثال کے طور پر ایک کم اہمیت والا فقہی فتويٰ دے کر کسی فقیہ یا عالم دین کی جان پچانا.

تقيہ اور ذ لّت مؤمن اشکال :وہابي لوگ کہتے ہیں کہ تقیہ مؤمن کی ذلت کا باعث ہے . خداتعالی نے ہر اس چیز کو جو باعث ذلت ہو ،اسے شریعت میں حرام قرار دیا ہے . اور تقیہ بھی انہی میں سے ایک ہے. (٥)
جواب:اس جملے کاصغریٰ مورد اشکال ہے کیونکہ یہ بات قابل قبول نہیں کہ اگر تقیہ کو اپنے صحیح اور جائز موارد میں بروی کار لایا جائے تو موجب ذلت نہیں ہوسکتا . کیونکہ دشمن کے سامنے ایک اہم مصلحت کے خاطر حق بات کرنے سے سکوت اختیار کرنا یا حق کے خلاف اظہار کرنا نہ ذلت کا سبب ہے اور نہ مذمت کاباعث .
چنانچه عمار ابن ياسر نے ایسا کیا تو قرآن کریم نے بھي اس کی مدح سرائي شروع کی .

تقيہ ،ما نع امر بہ معروف اشکال یہ ہے کہ تقیہ انسان کو امربہ معروف اور نہی از منکر کرنے سے روکتی ہے . کبھی جان کا خوف دلا کر تو کبھی مال یا مقام کا .جب کہ یہ دونوں (امر اور نہی ) واجبات اسلام میں سے ہے .اس مطلب کی تائید میں فرمایا : افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر. ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کا اظہار کرنا بہترین جہاد ہے .
اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے :
۱ـ امر بہ معروف و نهي از منكر بہ صورت مطلق جائز نہیں . بلكه اس کیلئے بھی کچھ شرائط و معيارہے كه اگر یہ شرائط اور معيار موجود ہوں تو واجب ہے ..ورنه اس کا واجب ہونا ساقط ہوجائے گا .
من جمله شرائط امر بہ معروف و نهي از منكر میں سے یہ ہیں :انکار کرنے میں کوئی ایسا مفسدہ موجود نہ ہو جو اس سے بھی کسی بڑے جرم ،جیسے قتل و غارت میں مبتلا ہو جائے . ایسی صورت میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ امر بہ معروف و نہی از منکر کرنا جائز نہیں ہے .
۲ـ وہ روایات جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کا اظہار کرنے کو ممدوح قرار دیتی ہیں ، وہ خبر واحد ہیں جو ادلہ عقلی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی . یعنی تعارض کے موقع پر دلیل عقلی مقدم ہو گا ،اس سے دفع ضرر اور حفظ جان مراد ہے . (٦ )

تقيہ امام معصوم(ع)سےمربوط شبہات اشکال کرنے والا اس مرحلے میں تقیہ کے شرعی جواز کو فی الجملہ قبول کرتا ہے ، کہ بعض موارد میں مؤمنین کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے . لیکن دینی رہنماؤں جیسے امام معصوم(ع) کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے . کیونکہ اگر دین کے رہنما تقیہ کرے تو درج ذیل اشکالات وارد ہوسکتے ہیں :

تقيہ اور امام(ع) کا بیان شريعت شیعہ عقیدے کے مطابق امام معصوم (ع)کے وجود مبارک کوشریعت اسلام کے بیان کیلئے خلق کیا گیا ہے . لیکن اگر یہ حضرات تقیہ کرنے لگے تو بہت سارے احکام رہ جائيں گےاور مسلمانوں تک نہیں پہنچ پائيں گے. اور ان کي بعثت کا فلسفہ بھي ناقص ہو گا.
اسی سلسلے میں اہل سنت کے ایک عالم نے اشکال کیا ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے علي(ع) کو اظهار حق کے خاطر منصوب کیا ہے تو تقیہ کيا معني رکھتا ہے ؟!
اس شبہہ کا جواب یہ ہے كه امامان معصوم (ع)نے بہترین انداز میں اپنے وظیفے پر عمل کئے ہیں لیکن ہمارے مسلمان بھائیوں نے ان کے فرامين کو قبول نہیں کیا (٧ ).
چنانچه حضرت علي(ع) کے بارے میں منقول ہے آپ ۲۵ سال خانہ نشین ہوئے تو قرآں مجید کی جمع آوری ، آیات کی شأن نزول ، معارف اسلامی کی توضیح اور تشریح کرنے میں مصروف ہوگئے . اور ان مطالب کو اونٹوں پر لاد کر مسجد میں مسلمانوں کے درمیان لے گئے تاکہ ان معارف سے لوگ استفادہ کریں ؛ لیکن خلیفہ وقت نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا .
جب امام نے يه حالت ديکھي تو خاص شاگردوں کي تربيت اور ان کو اسلامي احکامات اور دوسرے معارف کا تعليم ديتے هوئے اپنا شرعي وظيفه انجام دينے لگے ؛ ليکن يه هماري کوتاهي تھي که هم نے ان کے فرامين کو پس پشت ڈالا اور اس پر عمل نهيں کيا .

امام (ع) کتقيہ اور شيخ طوسي(رہ) امام کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں:
١. معتزلہ والے کہتے ہیں کہ امام کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے . کیونکہ امام کا قول ، پیامبر اسلامﷺ کے قول کی طرح حجت ہے .
٢. اماميه والے کہتے ہیں کہ اگر تقیہ کے واجب ہونے کے اسباب نہ ہو،کوئی اور مانع بھي موجود نہ ہو تو امام تقیہ کرسکتے ہیں .
شيخ طوسي(رہ) کے ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام تقیہ کرسکتے ہیں بشرطیکہ شرائط موجود ہو .

امام(ع)کیلئے تقیہ جائز ہونے کے شرائط Ø شرعی وظیفوں پر عمل پيرا هونا اور احکام کی معرفت حاصل کرنا اگر فقط امام پر منحصر نہ ہو جیسے امام کا منصوص ہونا فقط امام کے قول پر منحصر نہیں ہے بلکہ قول پیامبر ﷺ اور عقل سلیم کے ذریعے سے بھی مکلف جان سکتا ہے تو ايسي صورت ميں امام تقیہ کرسکتے ہیں .
Ø اس صورت میں امام تقیہ کرسکتے ہیں کہ آپ کا تقیہ کرنا حق تک پہنچنے میں رکاوٹ نه بنے . اورساتھ ہی شرائط بھی پوری ہو.
Ø جن موارد میں امام تقیہ کررہے ہیں وہاں ہمارے پاس واضح دلیل موجود ہوکہ معلوم ہوجائے کہ امام حالت تقیہ میں حکم دے رہے ہیں .
اس بنا پر اگر احکام کی معرفت امام میں منحصر نہ ہو ، یا امام کا تقیہ کرنا حق تک جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور کوئی ایسی ٹھوس دلیل بھی نہ ہو جو امام کا تقیہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتی ہو اور ساتھ ہی اگر معلوم ہو کہ امام حالت تقیہ میں ہو تو کوئی حرج نہیں کہ امام تقیہ کرسکتے ہیں . (٨ )
..............
(١ ) . ابوالفضل آلوسي؛ روح المعاني،ج ۳، ص ۱۲۵.
(٢ ) . مائدہ۶۷.
(٣ ) . احزاب ۳۹.
(٤ ) . بقرہ ۱۷۴.
(٥ ). موسي موسوي؛ الشيعه و التصحيح ، ص ۶۷.
(٦ ). دكتر محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ص ۲۸۹.
(٧ ). محمد باقر حجتي؛ تاريخ قرآن كريم، ص ۳۸۷.
(٨ ). محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ص۳۳۳.


۱۷
چھٹی فصل:تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات تقيہ ايک قرآني اصول

تقيہ، فرمان امام(ع) پر عدم اعتماد کاباعث شیعہ مخالف لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے ائمہ معصومین(ع)وسیع پیمانے پر تقیہ لگے تو یہ احتمال ساری روایات جو ان حضرات سے ہم تک پہنچی ہیں ،میں پائی جاتی ہے کہ ہر روایت تقیہ کرکے بیان کئے ہوں .اس صورت میں کسی ایک روایت پر بھی ہم عمل نہیں کرسکتے .کيونکه کوئي بھی روایت قابل اعتماد نہیں هوسکتي.
اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہمارے ائمہ معصومین(ع) کا تقیہ کرنا کسی قواعد و ضوابط کےبغیر ہو تو یہ اشکال وارد ہے . لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ تقیہ کرنے کیلئے خواہ وہ تقیہ کرنے والا امام ہو یا عوام ہو یا خواص ہو ، خاص شرائط ہیں اگر وہ شرائط نہ ہو تو تقیہ کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے .اور جب اماموں کے تقیہ کے علل و اسباب اگر ان کو معلوم ہوجائے تو یہ اشکال بھی باقی نہیں رہے گا .

تقيہ اور علم امام (ع) علم امام(ع)کے بارے میں شيعه متكلمين کےدرمیان دو نظریے پائے جاتے ہیں :اور یہ اختلاف بھی روایات میں اختلاف ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگئے ہیں .
پہلا نظریہ : قدیم شيعه متكلمين جیسے ، سيد مرتضي(رہ) وغیرہ معتقد ہیں کہ امام تمام احکامات اور معارف اسلامی کا علم رکھتےہیں . لیکن مختلف حادثات اور بعض واقعات جیسے اپنی رحلت کب ہوگی؟ یا دوسروں کی موت کب واقع ہوگی ؟و...بصورت موجبہ جزئیہ ہے نه موجبہ کلیہ .
دوسرا نظریہ : علم امام(ع) دونوں صورتوں میں یعنی تمام احکامات دین اور اتفاقی حادثات کے بارے میں بصورت موجبہ کلیہ علم رکھتے ہیں . (١ )
بہ هر حال دونوں نظریہ کا اس بات پر اتفاق هے كه علم امام(ع)احكام اور معارف اسلامي کے بارے میں بصورت موجبہ ہے . وہ شبہات جو تقیہ اور علم امام سے مربوط ہے وہ بعض کے نزدیک دونوں مبنا میں ممکن ہے . اور بعض کے نزدیک صرف دوسرے مبنی میں ممکن ہے .
پهلا اشکال: تقيہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ائمه(ع) تمام فقهي احكام اور اسلامي معارف کا علم نہیں رکھتے ہیں اور اس کی توجیہ کرنےاور روایات میں موجود اختلاف کو ختم کرنے کیلئے تقیہ کا سہارا لیتے ہیں.
اس اشکال کو سليمان ابن جرير زيدي نے مطرح کیا ہے ،جوعصر ائمه(ع)میں زندگی کرتا تھا .وہ کہتا ہے کہ رافضیوں کے امام نے اپنے پیروکاروں کیلئے دو عقیدہ بیان کئے ہیں . جس کی موجودگی میں کوئی بھی مخالف ان کے ساتھ بحث و مباحثہ میں نہیں جیت سکتا.
پہلا عقیدہ بداء ہے .
دوسرا عقیدہ تقيہ ہے.
شيعيان اپنے اماموں سے مختلف مواقع پر سوال کرتے تھے اور وہ جواب دیاکرتے تھے اور شیعہ لوگ ان روایات اور احادیث کو یاد رکھتے اور لکھتے تھے ،لیکن ان کے امام ، چونکہ کئی کئی مہینے یا سال گذرجاتے لیکن ان سے مسئلہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ؛ جس کی وجہ سے وہ پہلے دئے ہوئے جوابات بھی بھول جاتے تھے . کیونکہ اپنے دئے گئے جوابات کو یاد نہیں رکھتے تھے اس لئے ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جوابات دئے جاتے تھے .اورشیعه جب اپنے اماموں پر ان اختلافات کے بارے میں اشکال کرتےتھے تو توجیہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہمارے جوابات تقیۃً بیان ہوئے ہیں .اور ہم جو چاہیں اور جب چاہیں جواب دے سکتے ہیں .کیونکہ یہ ہمارا حق ہے. اور ہم جانتے ہیں کہ کیا چیز تمہارے مفاد میں ہے اور تمہاری بقا اور سالمیت کس چیز میں ہے .اور تمھارے دشمن کب تم سے دست بردار ہونگے .
سليمان آگے بیان کرتا ہے : پس جب ایسا عقیدہ ایجاد ہوجائے تو کوئی بھی ان کے اماموں پر جھوٹے ہونے کا الزام نہیں لگا سکتا . اور کبھی بھی ان کے حق اور باطل میں شناخت نہیں کرسکتا. اور انہی تناقض گوئی کی وجہ سے بعض شیعیان ابو جعفر امام باقر(ع) کی امامت کا انکار کرنے لگے . (٢ )
پس معلوم ہوا کہ دونوں مبنی کے مطابق شیعوں کے اماموں کے علم پر یہ اشکال وارد ہے .

جواب :
اماميه کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے امامان معصوم(ع) تمام احكام اور معارف الهي کے بارے میں کلی علم رکھتےہیں اس بات پر متقن دلیل بھی بیان کیا گیا ہے لیکن ممکن ہے وہ دلائل برادران اہل سنت کیلئے قابل قبول نہ ہو.
چنانچه شيخ طوسي (رہ)نے اپنی روایت کی كتاب تهذيب الاحكام کو انہی اختلافات کی وضاحت اور جواب کے طور پر لکھی ہے .
علامه شعراني(رہ) اور علامه قزويني(رہ) یہ دو شيعه دانشمندکا بھی یہی عقیدہ ہے کہ شیعوں کے امام تقیہ نہیں کرتے تھے بلکہ تقیہ کرنے کا اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے تھے .
علامه شعراني(رہ) کہتے ہیں : ائمه (ع) تقيہ نہیں کرتے تھے بلکہ صرف امر بہ معروف کیا کرتے تھے کیونکہ امامان تمام واقعیات سے باخبر تھے : اذا شائوا ان يعلموا علموا.کے مالک تھے ہمارے لئے تو تقیہ کرنا صدق آتا ہے لیکن ائمہ کیلئے صدق نہیں آتا کیونکہ وہ لوگ تمام عالم اسرار سے واقف ہیں .
علامه قزويني(رہ) فرماتے ہیں :ائمه (ع)تقيہ نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ عالم تھے اور تمام اوقات اور وفات کی کیفیت اور نوعیت سے باخبرتھے . اس لئے صرف ہمیں تقیہ کا حکم دیتے تھے . (٣ )

اس شبہہ کا جواب اولا: علم امام کے دوسرے مبنا پر یه اشکال هے نه پهلے مبنا پر ، کیونکه ممکن هے جو پهلےمبنا کا قائل هے وہ کهے امام اپنی موت اور مرنے کے وقت اور کیفیت سے آگاه نهیں تھے ، اس لئے جان کے خوف سے تقیه کرتے تھے .
ثانیاً : امام کا تقیه کرنا اپنی جان کے خوف سے نهیں بلکه ممکن هے اپنے اصحاب اور چاهنے والوں کی جان کے خوف سے هوں ؛ یا اهل سنت کے ساتھ مدارات اور اتحاد کے خاطر تقیه کئے هوں. دوسرے لفظوں میں اگر کهیں که تقیه کبھی بھی جان یا مال کے خوف کے ساتھ مختص نهیں هے .
ثالثاً: جو لوگ دوسرے مبنا کے قائل هیں ممکن هے کهه دیں که امام اپنی موت کے وقت اور کیفیت کا علم رکھتے تھے اور ساتھ هی جان کا خوف بھی کھاتے اور تقیه کے ذریعے اپنی جان بچانا چاهتے تھے .
ان دو شیعه عالم دین پر جو اشکال وارد هے یه هے ، که اگر آپ ائمه کے تقیه کا انکار کرتے هیں تو ان تمام روایتوں کا کیا جواب ديں گے که جن میں خود ائمه طاهرین (ع) تقیه کے بہت سے فضائل بیان فرماتے هیں اور ان روایتوں کا کیا کروگے جو امام کے تقیه کرنے کو ثابت کرتی هیں؟!

تقيہ اور عصمت احکام اسلام کی تبلیغ اور ترویج میں ایک عام دین دارشخص سے بھی ممکن نهیں هے که وہ کسی بات کو خدا اور رسول کی طرف نسبت دے دے . تو یه کیسے ممکن هے که امام تقیه کرتے هوئے ایک ناحق بات کو خدا کی طرف نسبت دے ؟!یه حقیقت میں امام کے دین اور عصمت پر لعن کرنے کے مترادف هے ! . (٤ )
جواب یه هے که اگر هم تقیه کی مشروعیت کو آیات کے ذریعے ثابت مانتے هیں چنانچه اهل سنت بھی اسے مانتے هیں ، کهه سکتے هیں که الله تعالی نے تقیه کو حکم کلی قرار دیا هے.
هم نهیں کهه سکتے هیں که امام (ع) نے بہ عنوان حکم اولی اس بات کو خدا کی طرف نسبت دی هے ؛ ليکن بعنوان حکم ثانوی کسی بات کو خدا کی طرف نسبت دینے میں کوئی اشکال نهیں هے .جیسے خود الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں مجبور شخص کیلئے مردار کھانے کوبحکم ثانوی ، جائز قرار دیا هے .
ثانياً: شيعه اپنے اماموں کوصرف راوی کی حیثیت سے قبول نهیں کرتے بلکه انهیں خودشارعین میں سے مانتے هیں .جو اپنے صلاح دید کے مطابق حکم جاری کرتےهیں .

بجائےتقيہ؛ خاموشی کیوں اختیار نهیں کرتے؟ اشکال: تقیه کے موقع پر امام بطور تقیه جواب دینے کے بجائے خاموشی کیوں اختیار نهیں کرتے ؟!

جواب : اولا: امام معصوم(ع) نےبعض موارد میں سکوت بھی اختیار کئے هیں اور کبھی طفره بھی کئے هیں اورکبھی سوال اور جواب کو جابجا بھی کئے هیں .
ثانيا:سكوت خود تعريف تقيہ کے مطابق ایک قسم کاتقیه هے که جسے تقیه کتمانیه کها گیاهے .
ثالثا: کبھی ممکن هے که خاموش رهنا ، زیاده مسئله کو خراب کرے . جیسے اگر سوال کرنے والا حکومت کا جاسوس هو تو اس کو گمراه کرنے کیلئے تقیةً جواب دینا هي زياده فائده مند هے . (٥ )
رابعا: کبھی امام کے تقیه کرنے کے علل اور اسباب کو مد نظر رکھتے هوئے واقعیت کے خلاف اظهار کرنا ضروری هوجاتا هے . جیسے اپنے چاهنے والوں کی جان بچانے کے خاطر اپنے عزیز کو دشمنوں کے درمیان چھوڑنا . اور یه صرف اور صرف واقعیت کے خلاف اظهار کرکے هی ممکن هے .اور کبھی دوستوں کی جان بچانے کیلئے اهل سنت کے فتوی کے مطابق عمل کرنے پر مجبور هوجاتے تھے . چنانچه امام موسي كاظم(ع) نے علي ابن يقطين کو اهل سنت کے طریقے سے وضو کرنے کا حکم دیا گیا . (٦ )

تقيہ کے بجائے توریه کیوں نهیں کرتے ؟! شبہہ: امام(ع)موارد تقيہ میں توریه کرسکتے هیں، تو توریه کیوں نهیں کرتے ؟ تاکه جھوٹ بولنے میں مرتکب نه هو .(٧ )

اس شبہہ کا جواب: اولاً:تقیه کے موارد میں توریه کرنا خود ایک قسم کا تقیه هے .
ثانياً: همارا عقیده هے که اگر امام کیلئے هر جگه توریه کرنے کا امکان هوتا تو ایسا ضرور کرتے .
ثالثاً:بعض جگهوں پر امام کیلئے توریه کرنا ممکن نهیں هوتا اور اظهار خلاف پر ناچار هوجاتےهیں.

تقيہ اور دین کا دفاع شبہہ:اس میں کوئی شک نهیں که الله کے نیک بندوں کی ذمه داریوں میں سے ایک اهم ذمه داری ، الله تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرنا هے .اگر چه اس راه میں قسم قسم کی اذیتیں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑے .اور اهل بيت پیامبر(ص) بالخصوص ان ذمه داری کو نبھانے کیلئے زیاده حقدار هیں . (٨ )
جواب:ائمه طاهرین (ع)نے جب بھی اصل دین کیلئے کوئی خطر محسوس کیا اور اپنے تقیه کرنے کو اسلام پر کوئی مشکل وقت آنے کا سبب پایا تو تقیه کو ترک کرتے هوئے دین کی حفاظت کرنے میں مصروف هوگئے .اور اس راه میں اپنی جان دینے سے بھی دریغ نهیں کیا .جس کا بہترین نمونه سالار شهیدان اباعبدالله (ع) کا دین مبین اسلام کا دفاع کرتے هوئے اپنی جان کے علوہ اپنے عزیزوں کی جانوں کا بھی نذرانه دینے سے دریغ نهیں کیا .
لیکن کبھی ان کا تقیه نه کرنا اسلام پر ضرر پهنچنے ، مسلمانوں کا گروہوں میں بٹنے ، اسلام دشمن طاقتوں کے کامیاب هونے کا سبب بنتا تو ؛ وہ لوگ ضرور تقیه کرتے تھے ..چنانچه اگر علي(ع) رحلت پیامبر ﷺ کے بعد تقیه نه کرتے اور مسلحانه جنگ کرنے پر اترآتے تو اصل اسلام خطرے میں پڑ جاتا . اور جو ابھي ابھي مسلمان هو چکے تھے ، دوباره کفر کي طرف پلٹ جاتے .کيونکه امام کو اگرچه ظاهري فتح حاصل هوجاتي ؛ ليکن لوگ کهتے که انهوں نے پيامبر کے جانے کے بعد ان کي امت پر مسلحانه حمله کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفر کيا .
پس معلوم هوا که ائمه طاهرین (ع) کا تقیه کرنا ضرور بہ ضرور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر تھا.
..............
(١ ). كليني ؛ اصول كافي، ج۱ ، ص ۳۷۶.
(٢ )۱. نوبختي؛ فرق الشيعه ، ص ۸۵ ـ۸۷.
(٣ ) . مجله نور علم، ش ۵۰ ـ ۵۱، ص ۲۴ ـ ۲۵.
(٤ ). محسن امين، عاملي؛ نقض الوشيعه ، ص ۱۷۹.
(٥ ). فخر رازي؛ محصل افكار المتقدمين من الفلسفہ والمتكلمين،ص ۱۸۲.
(٦ ). همان ، ص ۱۹۳.
(٧ ). وسائل شيعه، ج۱، ص ۲۱۳.
(٨ ) . ابوالقاسم، آلوسي؛ روح المعاني،ج۳، ص۱۴۴.


۱۸
چھٹی فصل:تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات تقيہ ايک قرآني اصول

تقيہ « سلوني قبل ان تفقدوني» کے منافی امام علي(ع) فرماتے هیں : مجھ سے پوچھو قبل اس کے که میں تمھارے درمیان سے اٹھ جاؤں ، اور تم مجھے پانه سکو .
اس روایت میں سوال کرنے کا حکم فرمارهے هیں ، جس کا لازمه یه هے که جو کچھ آپ بطور جواب فرمائیں گے ، اسے قبول کرنا هم پر واجب هوگا؛ اور امام کا تقیه کرنے کا لازمه یه هے که بعض سوال کا امام جواب نهیں دیں گے.
جواب : یه کلام امير المومنين (ع) نے اس وقت فرمایا ، که جب آپ برسر حکومت تھے ؛ جس وقت تقیه کے سارے علل و اسباب مفقود تھے .یعنی تقیه کرنے کی ضرورت نه تھی.اور جو بھی سوال آپ سے کیا جاتا ،اس کا جواب تقیه کے بغیر کاملاً دئے جاسکتے تھے . البته اس سنهرے موقع سے لوگوں نے استفاده نهیں کیا .
لیکن همارے دیگر ائمه طاهرین (ع)کو اتنی کم مدت کابھی موقع نهیں ملا. یهی وجه هے که بقیه اماموں سے ایسا جمله صادر نهیں هوا . اگرچه شیعه اور سنی سوال کرنے والوں کو احکام بیان کرنے میں ذره برابر کوتاهی نهیں کی .
امام سجاد(ع) سے روايت هے که هم پر لازم نهیں هے که همارے شیعوں کے هر سوال کا جواب دیدیں .اگر هم چاهیں تو جواب دیں گے ، اور اگر نه چاهیں تو گريز کریں گے . (١ )

تقيہ اور شجاعت اس شبہہ کی وضاحت کچھ یوں هے که شیعوں کا عقیده هے که ان کے سارے امام انسانیت کے اعلاترین کمال اور فضائل کے مرتبے پر فائز هیں . یعنی هر کمال اور صفات بطور اتم ان میں پائے جاتے هیں . اور شجاعت بھی کمالات انسانی میں سے ایک هے .
لیکن تقیه اور واقعیت کے خلاف اظهار کرنا بہت سارے مواقع پر جانی خوف کی وجه سے هے .
اس کے علوہ اس سخن کا مضمون یه هے که همارے لئے الله تعالیٰ نے ایسے رهنما اور امام بھیجے هیں، جو اپنی جان کی خوف کی وجه سے پوری زندگی حالت تقیه میں گذاری . (٢ )
جواب: اولاً شجاعت اور تهور میں فرق هے . شجاعت حد اعتدال اور درمیانی راه هے لیکن تهور افراط اور بزدلی ، تفریط هے .اور شجاعت کا یه معنی نهیں که بغیر کسی حساب کتاب کے اپنے کو خطرے میں ڈالدے . بلکه جب بھی کوئی زیاده اهم مصلحت خطرے میں هو تو اسے بچانے کی کوشش کرتے هیں .
ثانیاً: همارے لئے یه بات قابل قبول نهیں هے که تقیه کے سارے موارد میں خوف اور ترس هی علت تامه هو ، بلکه اور بھی علل و اسباب پائے جاتے هیں جن کی وجه سے تقیه کرنے پر مجبور هوجاتے هیں .جیسے اپنے ماننے والوں کی جان بچانے کے خاطر ، کبھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ محبت اور مودت ایجاد کرنے کے خاطر تقیه کرتے هیں . جن کا ترس اور خوف سےکوئی رابطه نهیں هے .
ثالثا ً: امام کا خوف اپنی جان کی خوف کی وجه سے نهیں بلکه دین مقدس اسلام کے مصالح اور مفاد کے مد نظرامام خائف هیں ، که ایسا نه هو ، دین کی مصلحتوں کو کوئی ٹھیس پهنچے .جیسا که امام حسین (ع) نے ایسا هی کیا .
اب اس اشکال یا بہتان کا جواب که ائمه طاهرین(ع) نے اپنی آخری عمر تک تقیه کیا هے ؛ یه هے:
اولا ً : یه بالکل بیهوده بات هے اور تاریخ کے حقائق سے بہت دور هے .کیونکه هم ائمه طاهرین (ع)کی زندگی میں دیکھتےهیں که بہت سارے موارد میں انهوں نے ظالم و جابر حکمرانوں کے ساتھ بہادرانه طور پر جنگ و جهاد کئے هیں . چنانچه امام موسی کاظم (ع)نے اس وقت ، که جب هارون نے چاها که باغ فدک آپ کو واپس کریں ، هارون الرشید کے کارندوں کے سامنے برملا عباسی حکومت کے نامشروع اور ناجائز هونے کا اعلان فرمایا ، اور مملکت اسلامی کے حدود کو مشخص کیا .
ثانیا ً : هدایت بشر ی صرف معارف اسلامی کا برملا بیان کرنے پر منحصر نهیں هے ، بلکه بعض اهم اور مؤثر افراد تک اپنی بات کو منتقل کرنا بھی کافی اور باعث بنتا تھا که سارے لوگوں تک آپ کا پیغام پهنچ جائیں.

تقيہ اور تحليل حرام و تحريم حلال شبہہ یه هے که اگر اس بات کو قبول کرلے که امام بعض فقهی مسائل کا جواب بطو رتقیه دیں گے تو مسلماً ایسے موارد میں حکم واقعی (حرمت) کے بجائے (حلیت ) کا حکم لگے گا . اور یه سبب بنے گا شریعت میں تحلیل حرام اور تحریم حلال کا، يعني حرام حلال ميں بدل جائے گا اورحلال حرام ميں ... (٣)
اس شبہہ کا جواب یه هے که شیعوں کے نزدیک تقیه سے مراد ؛اضطراری حالات میں بعنوان حکم ثانوی ،آیات اور روایات معصوم(ع) کی پیروی کرنا هے .
تقيہ کا حكم بھی دوسرے احکام جیسے اضطرار، اكراه ، رفع ضرر اور حرج کی طرح هے ، که ایک معین وقت کیلئے حکم اولی کو تعطیل کرکے اس کی جگه تقیه والا حکم لگايا جاتا هے .اور ان جیسے احکام ثانوی فقه اهلسنت میں بھی هر جگه موجود هے .

تقيہ ا يك حكم اختصاصي هے يا عمومي؟ اس حصے میں درج ذیل مسائل کي بررسی کرنے کي ضرورت هے :
١. قانون تقیه پر اعتقاد رکھنا کیا صرف شیعه امامیه کے ساتھ مختص هے یا دوسرے مکاتب فکر بھی اس کے قائل هیں ؟اور اسے ایک الهی قانون کی حیثیت سے قبول کرتے هیں ؟!
٢. کيا تقيہ کوئی ایسا حکم هے جو هرجگه اور هرحال میں جائز هے یا اس کے لئے بھی خاص زمان یا مکان اور دیگر اسباب کا خیال رکھنا واجب هے ؟
٣. کيا حكم تقيہ ،متعلّق کے اعتبار سے عام هے یا نهیں ؟ بطوری که سارےلوگ ایک خاص شرائط میں اس پر عمل کرسکتے هیں ؟ یا بعض لوگ بطور استثنا هر عام و خاص شرائط کے بغیر بھی تقیه کرسکتے هیں ؟جیسے : پیامبر(ص) و امام(ع)؟

جواب: دو احتمال هیں : ۱ـ تقيہ يك حكم ثانوي عام هے که سارے لوگ جس سے استفاده کرسکتے هیں .
۲ـ پيامبران تقيہ سے مستثنی هیں . کیونکه عقلی طور پر مانع موجود هے . شيخ طوسي(رہ) اور اكثر مسلمانوں نے دوسرے احتمال کو قبول کئے هیں . كه پیامبر(ص) کیلئے تقيہ جائز نهیں هے .کیونکه اس کی شناخت اور علم اور رسائی صرف اور صرف پیامبر(ص) کے پاس هے .
اور صرف پيامبر (ص) اور ان کے فرامین کے ذریعے شریعت کی شناخت اور علم ممکن هے .پس جب پیامبر(ص) کیلئے تقیه جائز هو جائے تو همیں کوئی اور راسته باقی نهیں رهتا جس کے ذریعے اپنی تکلیف اور شرعی وظیفه کو پهچان لیں اور اس پر عمل کریں . (٤ )
اسی لئے فرماتے هیں : فلا يجوز علي الانبياء قبائح و لا التقية في اخبارهم لا نّه يؤدي الي التشكيك(٥ ) یعنی انبیا کیلئے نه عمل قبیح جائز هے اور نه اپنی احادیث بیان کرنے میں تقیه جائز هے.کیونکه تقیه آپ کے فرامین میں شکوک و شبہات پیدا هونے کا باعث بنتا هے. اور جب که هم پر لازم هے که هم پیامبر ﷺ کی هربات کی تصدیق کریں .اور اگر پیامبر ﷺ کے اعمال ، شرعی وظیفے کو همارے لئے بیان نه کرے اور همیں حالت شک میں ڈال دے ؛ تو یه ارسال رسل کی حکمت کے خلاف هے . پس پیامبر ﷺ کے لئے جائز نهیں که تقیه کی وجه سے هماری تکالیف کو بیان نه کرے .
شيخ طوسي(رہ)پر اشكال : اگر هم اس بات کے قائل هوجائیں که پیامبرﷺ کیلئے تقیه جائز نهیں هے تو حضرت ابراهیم (ع)کا نمرود کے سامنے بتائی گئی ساری باتوں کیلئے کیا تأویل کریں گے که بتوں کو آنحضرت هی نے توڑ کر بڑے بت کی طرف نسبت دی ؟!اگر اس نسبت دینے کو تقیه نه مانے تو کیا توجیه هوسکتی هے ؟!

شيخ طوسي (رہ) کاجواب:آپ نے دو توجیه کئے هیں : ۱. بل فعله کو «ان كانوا ينطقون»کے ساتھ مقید کئے هیں . يعني اگریه بت بات کرتاهے تو ان بتوں کوتوڑنے والا سب سے بڑا بت هے .جب که معلوم هے که بت بات نهیں کرسکتا.
۲. حضرت ابراهيم(ع) چاهتے تھے که نمرود کے چیلوں کو یه بتا دے که اگر تم لوگ ایسا عقیده رکھتے هو تو یه حالت هوگی . پس آپ کا یه فرمانا: « بل فعله كبيرهم» الزام کے سوا کچھ نهیں اور « اني سقيم» سے مراد یه که تمھارے گمراه هونے کی وجه سے روحی طور سخت پریشانی میں مبتلا هوں.
اسی طرح حضرت يوسف(ع) کا:« انّكم لسارقون»کهنا بھی تقیه هی تھا ، ورنه جھوٹ قاموس نبوت سے دور هے . (٦ )
تمام انبیاءالهی کے فرامین میں توریه شامل هے اور توریه هونا کوئی مشکل کا سبب نهیں بنتا .اور توریه بھی ایک قسم کا تقیه هے .ثانیا ً انبیاء الهی کے فرامین احکام شرعی بیان کرنے کے مقام میں نهیں هے .

کیوں کسی نے تقیه کیا اور کسی نے نهیں کیا ؟! یه سوال همیشه سے لوگوں کے ذهنوں میں ابھرتا رهتا هے که کیوں بعض ائمه اور ان کے چاهنے والوں نے تقیه کیا اور خاموش رهے ؟! لیکن بعض ائمه نے تقیه کو سرے سے مٹادئے اور اپنی جان تک کی بازی لگائی ؟!
اور وہ لوگ جو مجاهدین اسلام کی تاریخ ، خصوصا ً معاویه کی ذلت بار حکومت کے دور کا مطالعه کرتے تو ان کو معلوم هوتا ،که تاریخ بشریت کا سب سے بڑا شجاع انسان یعنی امیر المؤمنین(ع) کا چهره مبارک نقاب پوش هوکر ره گیا . جب یه ساری باتیں سامنے آتی هیں تو یه سوال ذهنوں میں اٹھتا هے که کیوں پیامبر ﷺ اور علی(ع) کے باوفا دوستوں کے دو چهرے کاملاً ایک دوسرے سے مختلف نظر آتا هے :
ایک گروہ : جو اپنے زمانے کے ظالم و جابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا مقابله کرنے پر اتر آتے هیں ؛ جیسے میثم تمار ، حجر بن عدی، عبدالله و... اسی طرح باقی ائمه کے بعض چاهنے والوں نے دشمن اور حاکم وقت کے قید خانوں میں اپنی زندگیاں رنج و آالام میں گذارتے هوئے اپنی جانوں کا نذرانه پیش کئے .اور وحشتناک جلادوں کا خوف نهیں کھائے ، اور عوام کو فریب دینے والے مکار اور جبار حاکموں کا نقاب اتار کر ان کا اصلی چهره لوگوں کے سامنے واضح کردئے .
اور دوسرا گروہ : باقی ائمه طاهرین کے ماننے والوں اور دوستوں میں بہت سارے ، جیسے علی ابن یقطین بڑی احتیاط کے ساتھ هارون الرشید کے وزیراور مشیر بن کر رهے !
جواب : اس اشکال کا جواب امامیه مجتھدین اور فقها دے چکے هیں : که کبھی تقیه کو ترک کرتے هوئے واضح طور پر ما فی الضمیر کو بیان کرنا اور اپنی جان کا نذرانه دینا واجب عینی هوجاتا هے ؛ اور کبھی تقیه کو ترک کرنا مستحب هوجاتا هے . اور اس دوسری صورت میں تقیه کرنے والے نے نه کوئی خلاف کام کیا هے ، نه ان کے مد مقابل والے نے تقیه کو پس پشت ڈال کر فداکاری اور جان نثاری کا مظاهره کرتے هوئے ، جام شهادت نوش کرکے کوئی خلاف کام کیاهے
اسی دلیل کی بنا پر ميثم تمار ، حجر بن عدی اوررشيد هجري جیسے عظیم اور شجاع لوگوں کو همارے اماموں نے بہت سراها هے ، اور اسلام میں ان کا بہت بڑا مقام هے .
ان کی مثال ان لوگوں کی سی هے ، جنهوں نے اپنے حقوق سے هاتھ اٹھائے هیں اور معاشرے میں موجود غریب اور نادار اور محروم لوگوں کی حمایت کرتے هوئے ان پر خرچ کیا هو ، اور خود کو محروم کیا هو.
اس میں کوئی شک نهیں که ان کی یه فداکاری اور محروفیت کو قبول کرنا ؛ سوائے بعض موارد میں ،واجب تو نهیں تھا . کیونکه جو چیز واجب هے وہ عدالت هے نه ایثار .لیکن ان کا یه کام اسلام اور اهل اسلام کی نگاه میں بہت قیمتی اور محترم کام شمار هوتا هے .اور یه احسان کرنا اس بات کی دلیل هے که احسان کرنے والا عواطف انسانی کی آخرین منزل کو طے کرچکا هے .جو دوسروں کو آرام و راحت میں دیکھنے کیلئے اپنے کو محروم کرنے کو اختیار کرے .
پس تقیه کو ترک کرتے هوئے اپنی جانوں کو دوسرے مسلمانوں اور مؤمنوں کا آرام اور راحت کے خاطر فدا کرنا بھی ایسا هی هے .اور یه اس وقت تک ممکن هے ، جب تک تقیه کرنا وجوب کی حد تک نه پهنچا هو . اور یه پهلاراسته هے .
دوسرا راسته یه هے که لوگ موقعیت اور محیط کے اعتبار سے مختلف هوتے هیں . اگر پست محیط میں زندگی کر رهے هوں ، جیسے معاویه کی حکومت کا دور هے ؛اس کی سوء تبلیغ اور اس کے ریزه خواروں اور مزدوروں اور بعض دین فروشوں کی جھوٹی تبلیغات کی وجه سے اسلام کے حقائق اور معارف معاشرے میں سے بالکل محو هوچکا تھا .اور لوگ اسلامی اصولوں سے بالکل بے خبر تھے .اور امیر المؤمنین (ع)کا انسان ساز مکتب بھی اپنی تمام تر خصوصیات کے باوجود ، سنسر کر دئے گئے ، اور پرده سکوت کے پیچھے چلا گیا .اور اس ظلمانی پردے کو چاک کرکے اسلامی معاشرے کو تشکیل دینے کیلئے عظیم قربانی کی ضرورت تھی .ایسے مواقع پر افشاگری ضروري تھا ، اگرچه جان بھی دینا کیوں نه پڑے .
حجر بن عدي اور ان کے دوستوں کے بارے میں که جنهوں نے معاویه کےدور میں مهر سکوت کو توڑ کر علی (ع)کی محبت کا اظهار کرتے هوئے جام شهادت نوش فرمائي ؛اور ان کی طوفانی شهادت اور شهامت اس قدر مؤثر تھا که پورے مکه اور مدینه کے علوہ عراق میں بھی لوگوں میں انقلاب برپا کیا ؛ جسے معاویه نے کبھی سوچا بھي نه تھا .
امام حسين(ع) نے ایک پروگرام میں ، معاویه کے غیراسلامی کردار کو لوگوں پر واضح کرتے هوئے یوں بیان فرمایا : الست قاتل حجر بن عدي اخا كنده ؛ والمصلين العابدين الذين كانوا ينكرون الظلم و يستعظمون البدع و لا يخافون في الله لومة لائم!
اے معاویه ! کیا تو وہي شخص نهیں ، جس نے قبیله کنده کےعظيم انسان (حجر بن عدی) کو نماز گزاروں کے ایک گروہ کے ساتھ بے دردی سے شهید کیا ؟ ان کا جرم صرف یه تھا که وہ ظلم اور ستم کے خلاف مبارزه کرتے اور بدعتوں اور خلاف شرع کاموں سے بیزاری کا اظهار کرتے تھے، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کا کوئی پروا نهیں کرتے تھے ؟!. (٧ )
..............
(١ ) . وسائل الشيعه، ج ۱۸، ص۴۳.
(٢ ). كمال جوادي؛ ايرادات و شبہات عليه شيعيان در هند و پاكستان.
(٣ ). احسان الهي ظهير؛ السنّه والشيعه، ص ۱۳۶.
(٤ ) . محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي،ص ۳۲۸.
(٥ ) . التبيان ، ج۷ ، ص ۲۵۹.
(٦ ) . همان ، ص ۲۶۰.
(٧ ). مكارم شيرازي؛ تقيہ مبارزه عميقتر، ص ۱۰۷.


۱۹
چھٹی فصل:تقیہ کے بارے میں شکوک اورشبہات تقيہ ايک قرآني اصول

وہ شبہات ا ور تّهمتیں جو شیعوں کے تقیه سے مربوط هیں :
تقيہ شیعوں کی بدعت شبہہ پیدا کرنے والے کا کهنا هے که :تقیه شیعوں کی بدعت هے جو اپنے فاسد عقیدے کو چھپانے کے خاطر کرتے هیں. (١ )
اس شبہہ کا جواب یه هے که اس نے بدعت کے معنی میں اشتبہ کیا هے . جب که مفردات راغب نے بدعت کی تعریف کرتے هوئے کها هے : البدعة هي ادخال ما ليس من الدين في الدين(٢ ) بدعت سے مراد یه هے که جوچیز دین میں نهیں، اسے دین میں داخل کرے .اور گذشته مباحث سے معلوم هوا که تقیه دین کی ضروریات میں سے هے . کیونکه قرآن اور احاديث ائمه(ع)میں واضح طور پر بیان هوا هے که تقیه کو اهل تشیع اور اهل سنت دونوں مانتے هیں اور اس کے شرعی هونے کو بھی مانتے هیں .
لذا ، تقیه نه بدعت هے اور نه شیعوں کا اختراع ،که جس کے ذریعے اپنا عقیده چھپائے ، بلکه یه الله اور رسول کا حکم هے .
گذشته مباحث سے معلوم هوا كه تقيہ دين کاحصه هے کيونکه وہ آيات جن کو شيعه حضرات اسلام کا بپاكننده جانتے هيں،ان کي مشروعيت کو ثابت کرچکے هيں اور اهل سنت نے بھي ان کي مشروع هونے کا في الجمله اعتراف کيا هے. اس بنا پر ، نه تقيہ بدعت هے اور نه شيعوں کا اپنا عقيده چھپانے کيلئے اختراع هے.

تقيہ، مكتب تشيع کا اصول دين ؟! بعض لوگوں کا اپنے مخالفین کے خلاف مهم چلانے اور ان کو هرانے کیلئے جو خطرناک اور وحشنتاک راسته اختیار کرتے هیں ، ان میں سے ایک یه هے که ان کو متهم کرنا هے اور ایسی تهمتیں لگاتے هیں ، جن سے وہ لوگ مبریٰ هیں . اگرچه عیوب کا ذکر کرنا معیوب نهیں هے .
ان لوگوں میں سے ایک ابن تیمیه هے ؛ جو کهتا هے که شیعه تقیه کو اصول دین میں سے شمار کرتے هیں . جبکه کسی ایک شیعه بچے سے بھی پوچھ لے تو وہ بتائے گا : اصول دین پانچ هیں :
اول : توحید. دوم :عدل سوم: نبوت چهارم:امامت پنجم : معاد.ليکن وہ اپنی كتاب منهاج السنه میں لکھتا هے : رافضي لوگ اسے اپنا اصول دین میں شمار کرتے هیں .ایسی باتیں یا تهمتیں لگانے کی دو هی وجه هوسکتی هیں:
۱. یا وہ شیعه عقائد سے بالکل بے خبر هے ؛ که هو هی نهیں سکتا . کیونکه مذهب تشیع کا اتنا آسان مسئله ؛ جسے سات ساله بچه بھی جانتا هو ، ابن تیمیه اس سے بے خبر هو .کیونکه همارے هاں کوئی چھٹا اصل بنام تقیه موجود نهیں هے .
۲. یا ابن تیمیه اپنی هوا وہوس کا اسیر هوکر شیعوں کو متهم کرنے پر تلا هوا هے . وہ چاهتا هے که اس طریقے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرےاوراسلام اور مسلمین کی قوت اور شان و شکوکت کو متزلزل کرے .
اس قسم کی بیهوده باتیں ایسے لوگوں کی دل خوشی کا سبب بن سکتے هیں ، جو کسی بھی راستے سے شیعیان علی ابن ابی طالب (ع) کی شان شوکت کو دنیا والوں کے سامنے گھٹائے اور لوگون کو مکتب حقه سے دور رکھے . (٣ )
جب که خود اهل سنت بھی تقیه کے قائل هیں اور ان کے علماء کا اتفاق اور اجماع بھی هے ، که تقیه ضرورت کے وقت جائز هے .چنانچه ابن منذر لکھتا هے: اجمعوا علي من اكره علي الكفر حتي خشي علي نفسه القتل فكفر و قلبہ مطمئن بالايمان انه لا يحكم عليه بالكفر. (٤ )
اس بات پر اجماع هے که اگر کوئی کفر کے اظهار کرنے پر مجبور هو جائے ، اور جان کا خطره هو تو ایسی صورت میں ضرور اظهار کفرکرے .جبکه اس کا دل ایمان سے پر هو ، تو اس پر کفر کا فتوا نهیں لگ سکتا .یا وہ کفر کے زمرے میں داخل نهیں هوسکتا .
ابن بطال کهتا هے : واجمعوا علي من اكره علي الكفر واختار القتل انه اعظم اجرا عنداﷲ !یعنی علماء کا اجماع هے که اگر کوئی مسلمان کفر پر مجبور هوجائے ، لیکن جان دینے کو ترجیح دے دے تو اس کے لئے الله تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا اجر اور ثواب هے .
خوداهل سنت تقيہ کے جائز هونے کو قبول کرتے هیں . لیکن جس معنی ٰ میں شیعه قائل هیں ، اسے نهیں مانتے .یعنی ان کے نزدیک تقیه ، رخصت یا اجازت هے ، لیکن شیعوں کے نزدیک ، ارکان دین میں سے ایک رکن هے . جیسے نماز. اور بعد میں امام صادق(ع)کی روایت کو نقل کرتے هیں، جو پيامبر اسلام(ص) سے منسوب هے . قال الصادق(ع) : لو قلت له تارك التقيہ كتارك الصلوة . اس کے بعد کهتےهیں که شیعه صرف اس بات پر اکتفاء نهیں کرتے بلکه کهتے هیں : لا دين لمن لا تقية له . (٥ )

تقيہ، زوال دين کا موجب ؟! کها جاتا هے که تقیه زوال دین اور احکام کی نابودی کا موجب بنتا هے . لهذا تقیه پر عمل نهیں کرنا چاهئے .اور اس کو جائز نهیں سمجھنا چاهئے .
جواب: تقيہ ، احكام پنجگانه میں تقسيم كيا گیا هے :یعنی:واجب ، حرام ، مستحب ، مكروہ ، مباح.
حرام تقيہ، دین میں فساد اور ارکان اسلام کے متزلزل هونے کا سبب بنتا هے . بہ الفاظ دیگر جوبھی اسلام کی نگاه میں جان، مال ، عزت، ناموس وغیره کی حفاظت سے زیاده مهم هو تو وہاں تقیه کرنا جائز نهیں هے ، بلکه حرام هے .اور شارع اقدس نے بھی یهی حکم دیا هے .کیونکه عقل حکم لگاتی هے که جب بھی کوئی اهم اور مهم کے درمیان تعارض هوجائے تو اهم کو مقدم رکھاجائے ، اور اگر تقیه بھی موجب فساد یا ارکان اسلام میں متزلزل هونے کا سبب بنتا هے تو وہاں تقیه کرنا جائز نهیں هے .
ائمه طاهرین(ع) سے کئی روايات هم تک پهنچی هے که جو اس بات کی تائید کرتی هیں ؛ اور بتاتی هیں که بعض اوقات تقیه کرنا حرام هے .
امام صادق (ع)فرمود: ... فكل شيئ يعمل المؤمن بينهم لمكان التقية مما لا يؤدي الي الفساد في الدين فانّه جائز(٦ ) امام نے فرمایا: هر وہ کام جو مؤمن تقیه کے طور پر انجام دیتے هیں ؛اور دین کیلئے کوئی ضرر یا نقصان بھی نه هو ،اور کوئی فساد کا باعث بھی نه هو ؛ تو جائز هے .
امام صادق (ع)کی اس حدیث سے معلوم هوتا هے که تقیه بطور مطلق حرام نهیں هے بلکه وہ تقیه حرام هے جو زوال دین کا سبب بنتا هو .
لیکن وہ تقیه واجب یا مباح يا مستحب هے جو زوال دین کا سبب نهیں بنتا . اس کا مکتب تشیع قائل هے .
..............
(١ ). فهرست ايرادات و شبہات عليه شيعيان در هند و پاكستان، ص ۳۶.
(٢ ) . راغب اصفهاني ؛ مفردات، بدع.
(٣ ) . عباس موسوي؛ پاسخ و شبہاتي پيرامون مكتب تشيع، ص۱۰۲.
(٤ ) . دكترناصر بن عبدالله؛ اصول مذهب شيعه،ج ۲، ص ۸۰۷.
(٥ ). همان
(٦ ) . وسائل الشيعه ، ج۶، باب۲۵، ص۴۶۹.


۲۰