شیعہ اوراتہامات

شیعہ اوراتہامات 50%

شیعہ اوراتہامات مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 16 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6608 / ڈاؤنلوڈ: 4349
سائز سائز سائز
شیعہ اوراتہامات

شیعہ اوراتہامات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

شیعہ اوراتہامات

صادق حسینی الشیرازی

پیش لفظ

ساری تعریف عالمیں کے پروردگار کے لئے مخصوص اور درور و سلام ہو ،بشیر اور نظیر،خراغ ہدایت ،ہمارے اقا حضرت محمد مصطفی(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور ان کے پاک اور معصوم اہل بیت پر ۔اور ان کے دشمنوں پر لعنت ابدی ہو۔

تشیع اور اس کی فکر کی ساری پریشانی یہ ہے کہ اس کے پاس ان وسائل کی کمی ہے جو ان افکار کو دنیا تک تیزی سے پہچا سکے ورنہ شیعت کے پاس یہ طاقت موجود ہے کہ وہ عقلی اور نقلی دلیلوں کے ذریعہ تمام حق جو افراد کو اس مکتب اسلام کی دعوت دے ۔ان دلائل کی باطل صرف ان لوگوں نے مانا ہے جو فکر اور اعتقادی طور پر منحرف ہیں اور ان کے قلب بیمار۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی سہولت ابھی بھی فراہم نہیں ہے۔تمام ان محدودیتوں اور دوسری طرف منحرف کرنے والوں کے وسائل کی بہتات کو دیکھتے ہوئے ایک عاقل انسان حق کو پہچان سکتا ہے کہ ایک طرف زور و زبر ،تکفیر ،قتل،سختی اور دوسروں کی نفی ہے اور دوسری طرف :گذشت،نرمی،مہربانی دوسروں کی تعظیم اور اکرام تو ان میں سے اسلام محمدی (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کون قریب ہے۔ اس طرح کی فضا میں یہ بات بھی روشن ہے کہ امت اسلام کو حق( جس کے بارے میں رسول (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:’’علی مع الحق والحق مع علی،یدور معہ حیثما‘‘علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ،جہاں بھی علی ہوں حق بھی وہیں ہے)کی بلکل پہچان نہیں ہے اور گروہ وہابیت اور وہ گروہ جو ان کے جیسے ہیں اس فکر خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور تشیع کے چہرے کو داغدار کرنے کے لیئے ان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ جب کہ خدا وند عالم نے قرآن کریم میں لوگوں کو عقائد اور ایمان کو عقل اور دلیل کے ساتھ تولنے کا حکم دیا ہے۔ارشاد اقدس ہوتا ہے:

( قل هاتوا برهنکم ان کنتم صدقین ) (سورہ بقرہ آیت ۱۱۱)" اے رسول کہہ دیجیئے کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل لے کر آؤں"۔

دوسری طرف کم علمی اور علم تفسیر ،حدیث،تاریخ اور سیرت رسول(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور ائمہ معصومیں سے سطحی اگاہی بھی نہ ہونے کی وجہ سے فتنہگروں کو فکری اور اعتقادی حملہ کرنے کا موقع ملتاہے۔ اسلئے امت مسلمہ کی دفاع اور اس کو بے راہی اور گمشدگی سے باہر نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ اہل تشیع اور اس کا درد رکھنے والے افراد کی فکری اور علمی معلومات ہو نکھار دیا جائے۔تاکہ حریف کی فکری چال سے ارشاد الہی کی روشنی میں سرفراز اور کامیاب میدان ہو سکیں۔ارشاد باری تعالی ہے:( وجدلهم بالتی هی احسن ) ۔۔۔سورہ نحل آیت ۱۲۵ "ان سے بہترین طریقہ سے بحث اور مجادلہ کرو" البتہ یہ ضمہداری ان لوگوں کیلئے اور بڑھ جاتی ہے جو فکری اور ثقافتی تحول ،اور دین اور راہ حق (محمد و ال محمد علیھم السلام)کو اپنا وظیفہ سمجھتے ہیں۔اسی لئے حقایق کو امت مسلمہ کے سامنے روشن کرنا ضروری ہے اور دوسری طرف تمام امتوں کو ہر طرح کہ تعصب سے دوری اختیار کرکے تشیع کے افکار کی تحقیق اور مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ ان پر یہ بات روشن ہو سکے کہ شیعوں کے عقاید خاندان رسالت کی تعلیمات ہیں اور یہ عقاید فطرت انسان سے شازگاری رکھتے ہیں۔یہ وہی چیز ہے جو خدا نے بشریت کے لئے چنی اور پسند کی ہے۔

کتاب حاضر ،۔۔’’حقایق عن الشیعہ‘‘کا ترجمہ ہے جو متن کے لحاظ سے مختضر اور بہترین ہے اور اس میں کوشش کی گئی ہے کہ شیعوں پر لگائے گئے بعض الزامات کا جواب دیا جاسکے۔ مولف ،مرجع عالی قدر حضرت ایت اللہ العظمی سید صادق حسینی شیرازی (مد ظلہ العالی)نے اس کتاب کو گفتگو کے ابداز میں پیش کیا ہے ،زبان سلیس اور الفاظ سادہ اور اعم فہم ہیںجس سے اس کی جزابیت دوچندان ہو گئی ہے ۔ مولف نے اس کتاب میں بیجا بحث سے پرہیز کیا ہے تااور علمی حقیقت اور دلیلوں کو اپنا محور قرار دیا ہے۔اسی سادگی بیان اور موضوع پر دلیل کو پیش کرنے کی وجہ سے یہ کتاب اتنا مقبول ہوئی ہیاور مکتب اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں نے اس کو متعدد بار نشر کیا۔(اس کتاب کی تعداد نشر صحیح طرح سے معلوم نہیں ہے کیونکہ یہ کئی ملکوں میں متعدد بار چھپ چکی ہے۔ کتاب آخر میں ہم نے چند دوسری کتابوں کا ذکر کیا ہے جو تشیع اور تسنن کے موضوع پر اہمیت رکھتی ہیں۔اسی طرح وہ اہل سنت جو شیعہ ہو گئے ہیں اور ان کے انترویو چند رسالوں میں آئے ہیں ان کا بھی ہم ذکر کیا ہے۔ شاید یہ کتاب اور اس سے مشابہ دوسری کتابیں حقیقت کی جستجو کرنے والوں کو راہ راست دیکنے میں مدد گارثابت ہوں۔اس امید کے ساتھ کہ ہماری اس کوشش کو حضرت بقیت اللہ العظم امام زمان (عج)قبول کریں بارگاہ خداوند میں دعا کرتے ہیں کہ آپ (ع) کے ظہور میں تعجیل کرے اور ہم کو ان کی رکاب میں قرار دے۔ان شاء اللہ

مقدمئہ مؤلف

استعمار اور اس کے عوامل ہمیشہ اس کوشش میں رہے ہیں کہ امت مسلمہ کو اسلام سے دور کرکے ان میں فرقہ ایجاد کئے جائیں اور ان کو ایک دوسرے کے مقابل میں لاکھڑا کیا جائے اور ’’پھوٹ ڈالو حکومت کرو‘‘کی غلیظ سیاست پر عمل کرتے ہوئے اسلامی ملکوں پر اپنی حکومت کو دوام بخشیں ۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سیاست کے عملی ہونے کے نتیجہ میں کچھ مسلمان ،اس بات سے غافل کہ قرآن نے تمام مسلمانوں کو بھائی قرار دیا ہے نادانی میں حقیقت کی جستجو کئے بغیر شیعوں پر الزامات لگاتے ہیں ۔ کیوں کہ اس گروہ کے لوگ ان کے مذہب پر عمل نہیں کرتے اور اپنے فقہی مسائل کو ان کے امام یا فقیہ سے حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کے فقیہ اور امام دوسرے ہیں ۔ یہ اس حال میں ہے کہ آج کے مسلمان کو اپنی صفوں کو متحد اور مضبوط کرنا چاہئے ،استعمار اور دین کے دشمنوں کو شکست دینے کو اپنا ہدف اور مقصد بنانا چاہئے کیوں کہ تفرقہ تمام مذاہب اسلام کے لئے نقصان دہ ہوگا ۔

مذاہب اسلامی میں جن مسائل میں اختلاف ہے ان کو بھی آپس میں گفتگو اور بحث اور تنقید (ایسی تنقید جو گالی ،تہمت سے خالی ہو اور اصول اسلام جو تمام فرقوں کے درمیان قابل قبول ہیں )ان کے ذریعہ حل کیا جائے ۔ اور بعض مسلمان اختلافی مسائل میں ایک دوسرے کو گالی اور ناسزاکہیں گے اور ایک اختلافی موضوع کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکفیر کریں گے تو اسلام کی عظیم وحدت ختم ہوجائے گی اور فرقوں ،گروہ میں بٹ کر استعمار کی فکری، اقتصادی ،سماجی ...سلسلہ کا ضمینہ فراہم ہوجائے گا۔ لہذا ہم نے اس کتاب میں ان چیزوں (موضوعات)کی بررسی (جانچ)کی جن کو تفرقہ پھیلانے والے شیعوں کے خلاف دستاویز کی صورت میں استعمال کرتے ہیں ۔

شاید اس سے کوئی راستہ نکل آئے اور دیکھیں کہ شیعہ ان چیزوں پر عمل کرنے کی وجہ سے راہ گم کرگئے ہیں اور باطل کی طرف چلے گئے ہیں ؟یابہ معاملات عین حقیقت ہیں اور شیعہ امامیہ شاہراہ ہدایت پر گامزن ہیں ؟!

خدائے متعال سے دعا ہے کہ اس راہ میں ہمیں ثابت قدم رکھے اور حقائق کو دیکھنے کے لئے وہ آنکھ (بصیرت)دے جو تمام معنی اسلامی ہو تاکہ ہر چیز کو اسلامی مہک سے پر کرسکیں اور اس پر عمل کرسکیں !

وہ سننے والا اور اجابت کرنے والا ہے ۔

(۲۸ذی الحجہ ۱۳۸۰ھ؁ ق))

سجدہ گاہ پر سجدہ

سامی :

علی، (تم) آپ شیعہ لوگ سجدہ گاہ پر سجدہ کرکے جو ایک جمی ہوئی مٹی ہے شرک کرتے ہیں اور اس کو خدا کی جگہ پوجتے ہیں

علی:

اگر اجازت ہو تو ایک سوال کروں؟

سامی:

پوچھیئے !

علی:

کیا خدا کے (جسم) پر سجدہ واجب ہے ؟

سامی:

یہ بات کفر (محض) ہے ۔کیونکہ خداوند جسم نہیں رکھتا نہ آنکھ کے ذریعہ دیکھا جاسکتا ہے،نہ ہی اسے ہاتھ کے لمس سے چھوا جاسکتا ہے ،اور اگر کوئی معتقد ہو کہ خدا جسم رکھتا ہے بی تردید کافر ہے ، اور سجدہ خدا کے لئے ہونا چاہیئے ،خدا پر سجدہ کفر ہے کیونکہ سجدہ کامقصد اللہ کے سامنے بندگی کا اقرار ہے ۔

علی:

آپ کا یہ بیان ثابت کرنا ہے کہ ہمارے سجدہ گاہ پر سجدہ شرک نہیں ہے کیونکہ ہم سجدہ گاہ پر سجدہ کو سجدہ نہیں کرتے۔

اور اگر (یہ فرض محال) ہو سجدہ گاہ کو خدا مانتے ( العیاذباللہ) تو ہم کو اس کے لئے سجدہ کرنا پڑتا نہ کہ اس کے اوپر کیونکہ سجدہ کرنے والا اپنے خدا پر سجدہ نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ۔

سامی :

پہلی مرتبہ ایک صحیح تحلیل اس مسئلہ کے لئے سن رہا ہوں کہ اگر آپ لوگ سجدہ گاہ کو خدا مانتے تو اس پر سجدہ نہیں کرتے ، اس پر سجدہ کرنا ہی دلیل ہے کہ اس کے عبادت نہیں کرتے ۔

پھر علی سے کہا : اگر اجازت ہو تو ایک بات پوچھوں ؟

علی:

بسم اللہ

سامی:

پھر یہ اصرار کیوں کہ صرف سجدہ گاہ پر سجدہ کرتے ہیں اور دیگر اشیاء پر سجدہ نہیں کرتے ؟

علی:

تمام اسلامی فرقوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:’’جعلت لی الارض مسجدا وطهورا ‘‘زمیں میرے لئے مسجد ( سجدہ کرنے کی جگہ ) اور پاک کرنے والی قرار دی گئی ہے(۱).

سامی :

زمیں پر جو خاک سے ڈھکی ہوئی تھی!

علی:

اس بنا پر ، رسول (ص) نے اپنی تمام نمازیں زمیں پر پڑھیں اور خاک پر سجدہ کہا اور اس زمانہ اور اس کے بعد کے مسلمانوں نے خاک پر سجدہ کیا ،اس وجہ سے خاک پر سجدہ پر سجدہ قطعی طریقہ سے صحیح ہے اور ہم رسول(ص) کی پیروی میں خاک پر سجدہ کرتے ہیں اور بے تردید ہماری نمازیں صحیح ہیں ۔

سامی:

آپ شیعہ حضرات صرف اس سجدہ گاہ پر جواب اپنے ساتھ رکھتے ہیں کیوں سجدہ کرتے اور دیگر اشیاء پر سجدہ نہیں کرتے ؟

علی :

اس سوال کے دو جواب ہیں :

(۱) مذہب شیعہ تمام اجزای زمیں ( خاک یا پتھر ) پر سجدہ کو صحیح مانتا ہے ۔

(۲) محل سجدہ کا پاک ہونا نماز صحیح ہونے کی شرط ہے اور خاک نجس پر سجدہ صحیح نہیں ہے ، لہذا ہم مٹی کا ایک تکڑا ساتھا میں رکھتے ہیں تا کہ یہ اطمینان رہے کہ نماز کے وقت ہم پاک مٹی پر سجدہ کریں ۔ البتہ اس جگہ یا خاد پر سجدہ جائز ہے کہ جس کے مورد میں شک ہو کہ پاک ہے یہ نہیں ۔

سامی:

اگر آپ کا مقصد خالص اور پاک مٹی پر سجدہ کرنا ہے تو آپ کچھ مقدار مٹی (خاک) کی اپنے ساتھ کیوں نہیں رکھتے ؟

علی:

خاک یا مٹی کا ساتھ میں رکھنا ایک مشکل کام ہے کہ اس سے لباس بھی گندہ ہوجائے گا اس لیئے ہم کچھ خاک (مٹی) کو پانی میں ملاکر سخت کرہیتے ہیں اور پھر اس کو ساتھ رکھتے ہیں کہ جس سے لباس بھی خراب نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف سوکھی ہوئی مٹی پر سجدہ کرنے سے زیادہ خضوع حاصل ہوتا ہے ، کیونکہ سجدہ خضوع کا بلند ترین مرتبہ ہے او رفقط خدا کے لئے مخصوص ہے اس بنا پر اگر سجدہ کا مقصد خدا کے حضور میں بندگی اور انکساری ہے تو جس چیز پر سجدہ کیا جائے اگر کم ارض ہوتو بہتر اور سایستہ تر ہے ۔ اور اسی وجہ سے مستحب ہے کہ سجدہ کی جگہ ہاتھا اور پیر رکھنے کی جگہ سے نیچے ہو تاکہ خدا کے حضور میں یہ سجدہ زیادہ خضوع کی نشاندہی کرے ۔ اسی طرح مستحب ہے کہ سجدہ کی حالت میں اپنے ناک بھی زمین پر لگائے کہ یہ بھی بندگی کا ایک طریقہ اور خضوع میں اضافہ کرتا ہے ۔ لہذا مٹی پر سجدہ بہتر ہے دوسری چیزوں سے جن پر سجدہ صحیح ہے کیونکہ اس حالت میں جسم کا سب سے قیمتی عضو یعنی پیشانی کو خاک پر رکھا جاتا ہے جو کہ خود کو اللہ کے سامنے ناچیز دیکھا ہے اور اگر سجدہ کرتے وقت پیشانی کو کسی قیمتی فرش یا قیمتی کپڑے یا سونے چاندی عقیق وغیرہ پر رکھے گا تو یہ بعید نہیں کہ اس خضوع کم ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو خدا کی عظمت اور جلالت کے سامنے چھوٹا اور ناچیز نہ سمجھے جو کچھ میں نے بیان کیا اس کی روشنی میں کیا ایسی چیز پر سجدہ کرنا شرک اور کفر جو خضوع کو بڑھائے ۔اور ان چیزوں پر سجدہ کرنا جو خضوع کو ختم کردیتی ہیں ’’وسیلہ تقرب‘‘ہے ؟ یہ بات ناحق اور نا درست ہے ۔

سامی:

آپ کی سجدہ گاہوں پر عبارتیں لکھیں ہوتی ہیں یہ عبارتیں کیا ہوتی ہیں ؟

علی:

تمام سجدہ گاہوں پر عبارت نہیں ہوتی ایسی بھی سجدہ گاہیں موجود ہیں جن پر کوئی عبارت نہیں ہوتی البتہ کچھ سجدہگاہوں پر عبادت کندہ ہوتی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ یہ سجدہ گاہ خاک کربلا(۲) سے بنائی گئی ہے کیا آپ کے حساب سے یہ شرک ہے ؟ یا یہ کہ لکھنے کی وجہ سے اس پر سجدہ صحیح نہیں ہے ؟ نہیں یہ بات درست نہیں ہے! ۔

سامی:

وہ سجدہ گاہیں جو خاک کربلا سے بنائی جاتی ہیں کیا خصوصیت رکھتی ہیں کہ اکثر شیعہ حضرات اس پر سجدہ کرتے ہیں ۔

علی: اس کے بارے میں ایک حدیث آئی ہے جوکہ کہتی ہے،’’السجود علی تربة الحسین (ع)یحزق الحجب السبع ،(۳)

تربت حسین (ع) پر سجدہ سات حجابوں (آسمانوں )کو چاک کردیتا ہے )

اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سجدہ پر سجدہ (جو خاک کربلا سے بنی ہو ) قبولی نماز کا باعث بنتی ہے اور اس کے درجہ کو خدا بلند کرتا ہے ۔ البتہ اس کی وجہ خاک کربلا کی دوسری خاک پر برتری ہے ۔

سامی:

کیا خاک کربلا کی سجدہ گاہوں پر سجدہ کرنے سے باطل نماز بھی مقبول خدا وند ہو جاتی ہے ؟

علی۔:

شیعہ نظریہ ہے کہ وہ نمزیں جو شرایط صحت نماز نہ رکھتی ہوں اور صحیح طریقے سے نہ اداکی گئی ہوں وہ تمام باطل ہیں اور قابل قبول نہیں ہیں لیکن وہ نمازیں جو صحیح طریقہ سے بجالائی گئی ہوں مقبول خدا وند ہوتی اور کبھی کبھی مقبول نہیں ہوتی ہیں اور کوئی اجر نہیں پاتی ، لیکن اگر صحیح نماز تربت امام حسین(ع) پر پڑھی جائے تو وہ قبول و مقبول ہے اور اجر بھی زیادہ رکھتی ہے اس بنا پر نماز کا قبول ہونا ایک جدا مطلب ہے اور اس کا صحیح یا باطل ہونا ایک دوسری بحث ہے ۔

سامی:

کیا سرزمین کربلا دوسری زمینوں حتی مکہ مکرمہ اور مدینہ سے بھی با شرف اور برتر ہے کہ اس کی خاک پر سجدہ برتر اور فضیلت تر ہے ؟

علی:

آپ کی نظر میں یہ کیا معنی رکھتا ہے ؟

سامی:

کیا سر زمین مکہ جو ( آدم(ع)) کے زمانے سے ( حرم ) ہے اور زمین مدینہ کہ جس میں جسم مبارک رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) دفن ہے منزلت اور مرتبہ کے لحاظ سے کربلا سے کمتر ہے ؟ اور کیا حسین بن علی (ع) اپنے جد رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے برتر ہیں ؟ یہ بات عجیب و غریب ہے !

علی:

نہیں ، ایسا نہیں ہے ، حسین بن علی (ع) کی عظمت و بلندی رسول خدا(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی شرافت و عظمت کی ایک جھلک ہے ۔ امام حسین (ع) کو جو عظمت اور بندی حاصل ہوئی ہے وہ اس لئے کہ انھوں نے اپنے جد کے دین کے راستے پر چل کر شہادت پائی ،ہاں منزلت امام حسین ؐ منزلت رسول خداؐ کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ آپ ( امام حسین (ع) ) نے اپنے خاندان اور اصحاب کے ساتھ اسلام کو زندہ رکھنے کے لئے اور باطل کو شکست کامل دینے کے لئے جان قربان کردی ، اس لئے اللہ نے عنایت اور محبت سے نوازا اور تین چیزیں آپ کو عطا کیں ۔

(۱)آپ قبہ (حرم ) کے نیچے کی جانے والی دعا ، مستجاب ہوگی ۔

(۲) امام آپ کی نسل میں قرار دیئے

(۳) تمام دردوں کی شفا آپ (ع) کی تربت میں قرار دئے ۔(۴)

خدا نے اس لئے امام حسین(ع) کو عظمت و منزلت عطا کی کہ آپ راہ خدا اور دین مقدس اسلام کی دفاع میں بد ترین اور مظلوم ترین طریقہ سے شہید ہوئے ، آپ کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کیا گیا ،آپ کے ساتھیوں کو میدان جنگ میں شہید کیا گیا ، اور آپ فقط اسلام اور خدا کے لئے یہ سب تحمل کرتے گئے ، کیا اس فداکاری کے بعد آپ دی گئی فضیلت کے معنی سمجھ میں آتے ہیں ؟

کیا امام حسین (ع) کی تربت یا سجدہ گاہوں کو مدینہ اور دیگر خاکوں سے برتر ماننا ہے ؟ میرے بھائی قضیہ بالکل بر عکس ہے ، امام حسین (ع) کی تربت کا احترام امام حسین (ع) کا احترام ہے اور امام حسین (ع) کا احترام رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور خدا کا احترام اور بزرگ ماننا ہے

سامی:

آپ کا یہ بیان کا ملاً درست اور صحیح ہے آپ سے پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ آپ لوگ امام حسین (ع) کو رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے افضل اور بر تر مانتے ہیں ، آج حقیقت روشن ہوگئی ، آپ کے اس بیان کا شکر گزار ہوں اور اتنی مفید معلومات سے نوازنے کا بھی شکر یہ عدا کرتا ہوں ۔

آج ہمیشہ خاک کربلا اپنے ساتھ رکھوں گا اور اسی پر سجدہ کروں گا اور فرش اور دیگر چیزوں پر سجدہ کو ترک کردوں گا ۔

علی:

میری کوشش تھی کہ آپ کو ان الزمات اور تہمت سے آگاہ کردوں جو دشمنوں نے ہم پر لگائے ہیں دشمن جو اپنے کو مسلمان کہتا ہے لیکن در حقیقت تمام مسلمانوں کا دشمت ہے ، آپ سے میری فقط ایک گزارش ہے کہ آج کے بعد جو بھی شیعہ کے بارے میں سنیں اسے حقیقت نہ مانیں اور تلاش کرکے حقیقت تک پہونچے ۔

ضریع اور بارگاہ بنانا

فواد : جعفر ، اگر اجازت ہو تو آپ سے ایک اختلافی موضوع پر کچھ پوچھوں ؟

جعفر : پوچھئے ، میں پسند کرتا ہوں کہ انسان تحقیق کے ساتھ مطالب کو سمجھے نہ یہ کہ ان کے بند کر گئے ہر آواز پر دوڑ پڑے ۔

فواد:اگر ہم اہل سنت کی بات حقیقت پر ہو ، تو آپ اسے مان لیں گے ؟

جعفر:میں ان لوگوں میں ہوں کہ فقط حقیقت جاننے کے بعد تمام تن کے ساتھ اس کو مانتا ہوں اور چونکہ میں نے اس مذہب کو حقیقت پر پایا اس لئے اس کو قبول کیا آپ جانتے ہیں کہ میرے تمام رشتہ دار سب سنی مذہب پر ہیں اگر تمہاری بات مجھے حقیقت لکھی تو بے شک میں پہلا فرد ہوں گا جو اس طرف قدم بڑھائے ۔

فؤاد:آپ شیعہ(۵) لوگ اپنے پیغمبروں ، اماموں ،صالحین اور علماء کی قبروں پر گنبد اور بارگاہ بناتے ہیں ، ان قبروں کے نزدیک نماز ادا کرتے ہیں ،آپ کا یہ کا م قطعی طور پر شرک ہے اور مشرکوں کے طرح آپ لوگ بھی اپنے اولیاء کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں ۔

جعفر : انسان کو تعصب سے دوری اختیار کرنی چاہیئے اور واقیت کو جان کر بات کرنی چاہیئے حقیقت وہ ہے جو کتاب خدا ، سنت پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور صلح لوگوں کی سیرت کو مد نظر قرار دیا جائے ۔

فؤاد:صحیح ہے ، میں بھی یہی عقیدہ رکھتا ہوں ، اور پسند کرتا ہوں کہ علم و فھم کہ ذریعہ حقیقت کو جانوں نہ کہ اندھی تقلید کے ذریعہ !

جعفر: دو چیزوں کا بیان ضروری سمجھتا ہوں ،

(۱) فقط ہم شیعہ نہیں یہی جو بزرگوں اور اولیاء کی قبروں پر تعمیرات کرتے ہیں ، بلکہ تمام مسلمان اپنے پیغمبروں م اماموں ، اور بزرگوں کے مرقد بناتے ہیں ۔ مثال کے طور پر چبد کا ذکر کرتاہوں ،پیغمبر اسلام(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور دو خلیفہ کی قبر جو عظیم گنبد اور تعمیرات پر مشتمل ہے ۔

۔چند پیغمبروں کی قبر جن میں سے حضرت ابراہیم (ع) کی قبر شہر (الخلیل) اردن میں موجود ہے جس پر ضریع ، گنبد ،وغیرہ موجود ہے ۔

۔قبر حضرت موسیٰ (ع) جو کہ اردن میں بیت المقدس اور عمان کے بیچ میں واقع ہے اور اس پر تعمیرات موجود ہیں ۔

۔’’امام ابو حنیفہ‘‘کی قبر جو کہ بغداد میں ہے ان جگہ میں سے ایک ہے جس پر گنبد موجود ہے ۔

۔’’ابو ہریرہ‘‘ کی قبر جو کہ مصر میں ہے اس پر بھی زیارت گاہ بنی ہوئی ہے ،اور بلڈنگ اور گنبد موجود ہے ۔

۔قبر ’’عبد القادر جیلانی‘‘جو بغداد میں ہے اور صحن ، ضریع اور گنبد پر مشتمل ہے ۔ مسلم و اسلامی ممالک میں جگہ جگہ پر پیغمبروں اور اولیاؤں کی قبر یں موجود ہیں جن پر گبند وغیرہ جوجود ہیں ۔ بہت سے چیز اور زمین ان کے نام پر وقف ہیں ، اور ان وقفوں سے حاصل دولت ان مزاروں کی تعمیرات اور نگہداشت پر خرچ ہوتی ہے ۔

شروع سے مسلمان اس کام کو پسند کرتے تھے اور انجام دیتے آئے ہیں اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ اس کام کو کریں ، ایک بار بھی لوگ اس کام کو کرنے سے نہیں روکا گیا ، اس بنا پر فقط ہم شیعہ نہیں ہے جو بارگاہ بناتے ہیں بلکہ دوسرے مسلمان بھی ہمارے ساتھ ساتھ اپنے اماموں اور پیشوا کی قبروں پر تعمیرات کرتے ہیں اور ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں ۔

(۲)ہم شیعہ اور دیگر مسلمان جب حرم کے اندر یا اولیای خدا کے قبر کے نزدیک نماز پڑھتے ہیں تو در اصل وہ نماز خدا کے لئے ہوتی ہے نہ کہ اولیاء خدا کے لئے ، کیونکہ ان جگہ پر ہم نماز کے لئے رو بہ قبلہ نماز پرھتے ہیں ، اگر نماز اولیاء یا پیغمبر کے لئے ہوتی تو نماز کے حال میں ان کی قبر کا رخ کرنا چاہئے تھا ۔

فؤاد: پھر آپ لوگ ان قبروں کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز کیوں ادا کرتے ہیں اور ان قبروں کو اپنا قبلہ قرار دیتے ہیں ؟ جعفر: جس وقت ہم ان قبروں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا قبلہ فقط وفقط کعبہ ہوتا ہے اور یہ قبریں طبیعی طور پر ہمارے سامنے پڑجاتی ہیں اور ہمارا قصد ان کو قبلہ قرار دینا ہر گز نہیں ہوتا ، ایسی حالت میں نماز گزار کی مثال اس طرح بیان کی جا سکتی ہے کہ وہ رو بہ قبلہ کھڑا ہو اور اس کے سامنے ایک عمارت کھڑی ہو تو کیا اس نمازی کی نماز اس عمارت کے لئے مانی جائے گی ؟

اس سے بھی آگے چل کر علماء اسلام کا کہنا ہے کہ : نماز کا رو بہ قبلہ پڑھنا صحیح ہے حتی اگر مشرکین کے معبد (مندر) میں پڑھی جائے چاہے اس کے سامنے ایک بت ہی کیوں نہ رکھا ہو ، جو کہ خدا کی طرح پوجا جاتا ہے ، کیونکہ نماز گزار کی توجہ خدا کی طرف ہے نہ کہ اس بت کی طرف ۔ اس حال میں کیا نمازی کی نماز اس بت کے لئے مانی جائے گی !

فؤاد: اگر اس طرح ہے جیسا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ قبروں پر تعمیرات کرنا شرک نہیں تو پھر علماء حجاز نے آپ کے اماموں کی قبروں پر بنی ضریح اور بارگاہوں کو ویران کردیا ۔

جعفر: تمام علماء حجاز نے اس کام کے لئے فتویٰ نہیں دیا بلکہ ان میں سے بعض نے فقط اس زمانہ میں اس کام کے لئے فتویٰ دیا ۔ ( مدینہ کے ایک بوڑھے نے مجھ سے نقل کیا) جس وقت ائمہ بقیع کے حرم اور بارگاہ کو ویران کرنے کا حکم دیا گیا حجاز کے چند علماء نے اس استدلال کے ساتھ کہ قبروں پر عمارت تعمیر کرنا شرک نہیں بلکہ شریعت اسلامی کی نظر میں ایک پسندیدہ اور مستحب کا م ہے ، کیونکہ خدا وند عالم فرماتا ہے ’’ومن یعظم شعائراللہ فانھامن تقوی القلوب".حج ۳۲۔وہ جس نے اللہ کی نشانیوں کا احترام کیا در اصل وہ اپنے دلوں کی پاکیزگی کا ثبوت دیتے ہیں ۔(۶)

قبروں پر تعمیرات کو شرک جاننے کے دعووں کو باطل قرار دیا اس عمل کا سبب یہ ہوا کہ ان علماء میں سے بعض کو اپنے مذہبوں سے ہاتھ دھوناپڑا اس بنا پر فقط چند علماء حجاز نے اس کام کے شرک ہونے پر فتویٰ دیا۔

فؤاد: میں خود اس فکر میں تھا کہ اگر ضریح اور گنبد کا بنانا شرک اور حرام ہے تو پھر مسلمان پیغمبر کے زمانہ سے آج تک اس مسئلہ کو کیوں نہ سمجھ سکے اور ان تعمیرات کو کیوں نہیں روکا ؟ کیا تیرہ صدیوں میں وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ کام حرام ہے ؟

جعفر: غور کرنے کی بات تو یہ ہے کہ خود پیغمبر اسلام(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ضریح اور تعمیر کے کام کو منع نہیں فرمایا ۔

(حجر اسماعیل ) جو کہ حضرت اسماعیل(ع) اور جناب ھاجرہ کی قبر کا مقام ہے اس دعوے کے لئے بہتریں ثبوت ہے حضرت ابراہیم (ع) اور جناب موسیٰ (ع) کی قبر یں بھی ان مقامات میں شامل ہیں جو پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانہ سے آج تک حرم اور بارگاہ رکھتے ہیں لیکن پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور خلفاء نے اس چیز میں کوئی قباحت نہیں دیکھی اور نہ ہی لوگوں کو وہاں زیارت کرنے سے روکا چنانچہ اگر اس کام کو حرام اور شرک ماننے والوں کا دعویٰ صحیح ہے تو بیشک پیغمبر اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ایک حکم سے ان تمام مقامات کو ویران کر سکتے تھے اور ان کی زیارت کو بھی منع کر سکتے تھے ، لیکن چونکہ پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ایسا نہیں کیا اس بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اماموں اور صالحین کی قبروں پر تعمیرات کرنا ان کی زیارت کرنا اور وہاں نماز پڑھنا جائز ہے

دوسری طرف جس وقت رسول خدا ؐ نے رحلت فرمائی تو آپ کو آپ ہی کے حجرہ مین دفن کیا گیا اور اس کا دروازہ بند کردیا گیا ، اور اس طرح آپ کی قبر ایک کمرے میں آگئی جس کے چاروں طرف دیوار تھی اور چھت بھی تھی اس بنء پر اگر آپ کے صحابیوں میں سے کسی ایک نے بھی اس کام کے حرام یا ناجائز ہونے پر آنحضرت (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کچھ سنا ہوتا تو بی شک وہ اعلان کرنا اور رسول کو وہاں دفن نہ ہونے دیتا یا اگر رسول وہاں دفن ہوگئے تھے تو اس حجرہ کو ویران کردیتا تا کہ وہ زبر پر تعمیرات کے حکم میں نہ آسکے لیکن چونکہ نہ ہی صحابہ آپ کے نزدیک رشتہ داروں نے ایسا کام کیا اور نہ ہی اس کو حرام جانا ، ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ قبر پر تعمیرات کرنا شرک اور حرام نہیں ہے ۔

فؤاد: حقیقت سے آشنا کردنے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ قبروں پر تعمیرات شرک نہیں اور وہ تمام کام جو اس زمینہ میں ( خراب و ویران کے سلسلہ میں )کئے گئے ہیں کوئی شرعی سند نہیں رکھتے ،آپ کا شکر گزار ہوں ۔

جعفر: میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے حقیقت کو جان کر اس کو تہہ دل سے مانا اور صحیح راستہ دیکھنے پر اس کی طرف قدم بڑھایا اور عقل و منطق کی روشنی میہں صحیح کام انجام دیا ۔ اور اسی لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ حقیقت اور دین سے اور زیادہ آشنا ہوں لہٰذا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو آپ سے کچھ اور گفتگو کی جاسکے ۔

فؤاد: حق بات کا طلب گار ہوں اور تمام دل و جان سے تیار ہوں کہ آپ کی بات کو سنو جو بھی چاہیں بات کریں ؟

جعفر: ہماری بحث و گفتگو میں ثابت ہوا کہ اولیاء خدا کی قبروں پر تعمیرات کرنا جائز ہے اور کوئی حرمت نہیں رکھتی ؟

فؤاد: جی ہاں ، اور اس مسئلہ میں ، میں آپ کا ہم عقیدہ ہوں ۔

جعفر: اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اولیاء خداکی قبروں پر ضریع بنانا اور دوسری تعمیرات کرنا مستحب ہے اور جو بھی اس کام کو انجام دے گاوہ خدا سے اس کی جزاء خیر پائے گا ۔

فؤاد : کس طرح ؟

جعفر: خدا وند عالم ارشاد فرماتاہے ’’( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) ".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی ۔(۷) اس بنا پر ہر وہ چیز جو ’’شعار الٰھی ‘‘ہو اس کا احترام کرنا اسلام کی نظر مستحب ہے ۔

فؤاد: صحیح ، لیکن اولیاء خدا کی قبروں پر تعمیر کس طرح سے ’’شعار الھی ‘‘ہوسکتی ہے ؟

جعفر: ’’شعار‘‘اس چیز کو کہا جاتا ہے جو ’’دین ‘‘کو دنیا کی نظر میںبڑا اور عظیم دیکھائے اور اس کی حرمت پر کوئی (نص) دلیل موجود نہ ہو ۔

فؤاد: کیا ان عمارتوں اور گنبدوں سے دین کو عظمت حاصل ہوتی ہے ؟

جعفر:ہاں

فؤاد: وہ کس طرح ؟

جعفر: اس با ت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ بزرگان اسلام کی قبروں پر عمارت بنانا اور اسی طرح ان عمارتوں کو خراب اور ویران کونے سے روکنا ، ان بزرگو ں کا احترام کانا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی قبر کے پاس ایک پیڑ لگادے تو کیا اس کا یہ کام ان قبر کا احترام کرنا نہیں مانا جائے گا ؟

فؤاد: بالکل اسی طرح ہے ۔

جعفر: اب اگر کوئی کسی قبر پر عظیم عمارت بنائے اور اس پر قبہ وغیرہ بنائے تو یہ کام اس صاحب قبر کا احترام کرنا ہے تو پھر دین کے بزرگوں کی قبروں کا احترام اصل میں اسلام کا احترام اور اس کی عظمت کو دیکھنا ہے ،کہ یہ بزرگان اس دین کی طرف دعوت دیتے تھے ، اور لوگوں کی اسی دین کی طرف راہنمائی کرتے تھے اگر کوئی شخص کسی پارٹی کے صدر یا کسی ...........کا احترام کرتا ہے تو کیا یہ احترام اس بڑی یا ....کا احترام نہیں مانا جائے گا ؟

فؤاد : بالکل ایس ہی ہے۔

جعفر :اسی بنا پر ،اولیاء خدا کی قبروں پر عمارت بنانا اور اس کا احترام کرنا ، خدا کا اکرام اور اسلام کا حترام کرنا ہے ۔ اور اسی طرح ہر وہ چیز جو جس کے ذریعہ خدا کی عظمت آشکار ہو اور اسلام کی سر بلندی کا باعث بنے وہ شعار (نشانی) ہے کہ جس کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ :( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) .حج۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی)

فؤاد: اس صورت میں تو ان قبروں کا ویران کرنا اور عمارتوں کو نقصان پہچانا دین کی ہے حرمتی ہے اور اسلام کی منزلت کو گٹھنا ہے ، کیونکہ اس کام سے ہماری بزرگوں کی ہے حرمتی ہے ،اور ان کی ہے حرمتی اسلام کی توہین ہے اور ان کی منزلت کو گٹھانا خود اسلام کی منزلت کو کم کرنا ہے ۔

جعفر: اسی وجہ سے میں نے مذہب اہل بیت (ع) کو چنا اور شیعہ ہوگیا ۔ اور اپنا نام ’’ولید ‘‘سے (جعفر) تبدیل کرلیا ۔ جس وقت دوسروں کی رائے پر عمل کرتا تھا خود کو حق پر سمجھتا تھا ، لیکن جس وقت ’’حق‘‘کا خواہاں ہوا اور اس کی تلاش میں لگا تو اسی کو حقیقت پایا ۔اگر انسان مذہبی تعصب کو کنارے رکھ دے اور کشادہ روی کے ساتھ حق کو مانے تو یقینی طور پر اسے حاصل کرلے گا ۔

فؤاد : آج کے بعد میں حقیقت کی تلاش میں لگا رہوں گا اور جس جگہ بھی جس کسی کے پاس اس کو پاؤنگا اس کی پیروی کرونگا ۔اور آپ کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا کہ آپ نے مجھے حقیقت سے آگاہ کیا ۔ اگر اجازت ہو تو میں جانا چاہوں گا۔ کہ کسی سے ملنے کا وعدہ ہے ۔

جعفر: بالکل تشریف لے جائیے،خدا حافظ

فؤاد: خدا حافظ ۔

حرم اولیاء کی تزیین

صابر: سلام علیکم

باقر: علیکم السلام و رحمۃ اللہ

باقر: یہاں پر اپنے ایک بھائی سے ملنے آیا ہوں ۔

صابر: تو پھر مجھے یہ افتخار دیں کہ کچھ در آپ کی خدمت رہوں اور سر فراز ہو سکوں۔

باقر: میں بہت زیادہ مصروف ہوں اور بہت اہم کام صرف ’’صلہ رحم ‘‘اور اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے چھوڑ کر آیا ہوں اس لئے کہ وقت بہت کم ہے ۔ آپ سے چاہتا ہوں کہ مجھے معاف فرمائیں ۔

صابر: نا ممکن ہے ۔دو دوست ۱۰ سال کے بعد ایک دوسرے سے ملاقات کریں اور ایک گنٹھہ بھی ساتھ بیٹھ کر گفتگو نہ کریں ۔دوسرے طرف میں دینی بھائی ہونے کے لحاظ سے آپ پر حق رکھتا ہوں اور یہ کہ میری ایک مؤمن بھائی کے ساتھ شیعہ اور سنی ی بحث چل رہی ہے اور مجھے آپ پر اعتماد ہے اس لئے چاہتا ہوں کہ آپ سے اس بارے میں گفتگو کروں تا کہ حقیقت میرے لئے روشن ہوجائے ۔

باقر : ٹھیک ہے ،میں تیار ہوں ،

پھر دونوں صابر کے گھر کی طرف چل دئے اور جب دونوں دوستوں کے درمیان کچھ دیر گفتگو ہوچکی تو باقر نے صابر سے پوچھا: آپ کی اس برادر دینی سے کس مسئلہ پر بات ہورہی ہے ؟

صابر: پیغمبرو، اماموں ،علماء اور صالحین وغیرہ کی قبروں کی سونے ،چاندی اور دوسرے چیزوں سے زینت دینے کے بارے میں ۔

باقر: اس کام میں کیا پریشانی ہے ؟

صابر : کیا یہ کام حرام ہونا چاہیے؟

باقر: کس وجہ سے حرام ہونا چاہیئے ؟

صابر: کیا مردہ کو اس زینت سے کوئی فائدہ ملتا ہے ۔

باقر: نہیں

صابر: اس بنا پر یہ کام اسراف ہے اور خدا کا اس بارے میں ارشاد ہے کہ:( ولا تبنذر تبذیراً ان المبذرین کانوا اخوان الشیٰطین ) (سورہ اسرء آیۃ۲۶۔۲۷)اور اسراف سے کام نہ لینا۔اسراف کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں ۔۔۔۔)

باقر: کعبہ کے زیورات ( اور وہ سونا چاندی جو اس پر لگا ہوا ہے ) کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

صابر: بولنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ، اس بارے میں کچھ نہیں معلوم ۔

باقر: جا ہلیت کے زمانے سے آج تک کثیر تعداد میں سونے اور چاندی کے زیورات ’’کعبہ‘‘ پر چڑ ھتے رہے ہیں ۔’’ابن خلدوں ‘‘(۹) نے ’’مقدمہ ‘‘میں لکھا ہے کہ ’’امت جہالت کے زمانے سے کعبہ کو عظیم مانتی تھی اور کسریٰ اور دیگر بادشاہی کعبہ کے لئے کثیر ہدیہ بھیجا کرتے تھے دو سونے کہ ہرن اور تلواریں جو جناب عبد المطلب کو ’’چاہ زم زم‘‘ گھودتے ہوئے ملے تھے جو کہ بہت مشہور قصہ ہے ،جس وقت رسول خداؐ نے مکہ کو فتح کیا اس وقت حرم میں موجود ’’کویں ‘‘میں آپ کو ۲۰ لاکھ سونے کے دینار ملے تھے (جو کہ کعبہ کو ہدیہ کئے گئے تھے )علی ابن ابی طالب (ع) نے رسول خدا(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے عرض کیا کہ ( یا رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) ، اس دولت کا استعمال کفار اور مشرکین سے جنگ کے لئے کتنا اچھا ہوگا ،)لیکن پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ایس نہیں کیا ۔ ابوبکر نے بھی ایسا کیا اور ان کو ہاتھ نہیں لگایا ۔ (ابن خلدون اسی طرح آگے کہتا ہے ) ’’ابو وائل نے شیبہ بن عثمان سے روایت کی ہے کہ شیبہ نے کہا : عمر کے پاس تھا ، عمر نے کہا کہ چھاہتا ہوں کہ خانہ کعبہ میں موجود تمام سونا اور چاندی مسلمانوں میں تقسیم کردوں ۔

میں نے کہا : کای کرنے جارہے ہو ؟ (یعنی تم یہ کرنے کا حق نہیں رکھتا )

عمر نے کہا : کیوں؟

میں نے جواب دیا : تم سے پہلے ( پیغمبر اور ابو بکر ) جو مسلمانوں کے حاکم تھے انھوں نے یہ کام نہیں کیا ۔

عمر نے کہا : پھر مجھے ان کی پیروی کرنی چاہیئے(۱۰)

اس حال میں صابر میرے بھائی تھے تم سے میں ایک سؤال کرتا ہوں کیا کعبہ اس سونے اور چاندی استعمال کرتا تھا یا خدا وند (جو ان چیزوں سے پاک ہے ) اس سے کوئی فائدہ اٹھاتا تھا ،

صابر: ان تمام حالات میں پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اس عظیم دولت کو ہاتھ نہیں لگایا جب کہ اس زمانے میں اسلام کو اس دولت کی ضرورت تھی تا کہ اسلام دنیا میں پھیل سکے ۔

شاید یہ سوال ہو کہ آخر پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) نے ضرورت کے باوجود ایک بھی درہم یا دینار اس دولت سے نہیں کیا ۔

جواب واضع ہے کہ اس عظیم دولت کی کعبہ میں جوجودگی اس کی عظمت اور بزرگی کو لوگوں کی نظر میں بلند کرتی تھی ،البتہ یہ بات بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ خدا کے نزدیک کعبہ کی عظمت اس سے کہیں زیادہ ہے ۔ جو ہم تصور بھی نہیں کرسکتے اور اس زینت کے نہ ہونے سے کعبہ کی عظمت میں کوئی کمی نہیںآئے گی ۔

لہٰذا اسی طرح سونے کے گنبد ، دروازہ وغیرہ جو اولیاء خدا کی قبروں پر بنائے جاتے ہیں جیسے حرم حضرت علی(ع) ، حرم حضرت امام حسین (ع) حرم حضرت امام رضا (ع) وغیرہ بھی اسی طرح ہیں کہ ان چیزوں کے ہونے سے آپ کی منزلت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر یہ چیزیں موجود نہ ہوں تو بھی ان مقامات کی منزلت میں کوئی کمی نہیں رہے گی مثال کے طور پر امام حسن (ع) کی قبر اگر چہ دھوپ اور سورج کی تپش میں بغیر کسی گنبد اور حرم کے ہے لیکن آپ کی منزلت امام حسین(ع) سے برتر ہے جن کے پاس وصیع حرم اور سونے کا گنبد اور دروازہ وغیرہ بھی موجود ہے ۔ لیکن ان تمام چیزوں کے ساتھ قیمتی پتھر اور سونے اور چاندی سے گنبد اور دروازوں کا بنانا ان اولیاء خدا کی مقام اور ان کی منزلت کے سامنے تعظیم ہے ۔

صابر: کیا اس کام سے اولیاء خدا لوگوں کی نظر میں معظم ومعزز ہوئے ہیں ؟

باقر: بالکل ، میں آپ کے سامنے ایک مثال دیتا ہوں ، اگر آپ یہودیوں کے قبر ستان میں جائے تو آپ دیکھیں گے کہ ان کے علماء کی قبریں ویران ہیں اور اس پر کوئی عمارت نہیں جہاں آنے والے سر کو چھپا سکے ۔لیکن مسیحیوں کے طرف معاملہ بر عکس ہے کہ ان کے علماء کی قبر یں سونے اور چاندی سے زینت دی گئی ہیں اور اس پر عمارتیں بھی بنی ہوئی ہیں ۔ اب آپ بتائیے کہ اگر چہ آپ مسلمان ہیں اور دونوں ہی آپ کی نظر میں باطل ہیں پھر بھی ان دونوں میں سے کوئی آپ کی نظر میں بڑا اور عظمت والا دیکھائی دیگا ۔

صابر: طبیعی بات ہے کہ ایسا منظر دیکھنے کے بعد مسیحی علماء کا مرتبہ بلند اور یہودی بہت نظر آئیں گے ۔

باقر: اسی بنا پر جب شیعہ اور سنی اپنے پیغمبروں ، اماموں اور پیشواں کی قبر وں پر زینت کرتے تو وہ ان کے مقام اور منزلت کی تعظیم کرتے ہیں ۔

صابر: آپ جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے ۔ لیکن کیا اس نظر یہ سے اسراف کا پہلو بھی ختم ہوجاتا ہے ؟

باقر : بالکل ، یہ کام نہ صرف یہ کہ اسراف نہیں ہے بلکہ یہ ثابت ہونے کے بعد کے اس کام اولیاء خدا کی تعظیم ہوتی ہے ، خود اسلام کی بھی تعظیم ہوتی ہے ۔کیونکہ پر وہ کام جو اسلام کے عظمت اور مقام کو بلند کرے وہ شعار الھی ہے اور خدا نے اس کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ : ’’( ومن یعظم شعائرالله فانهامن تقوی القلوب ) ".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی(۱۱)

اسی دلیل سے جو بھی یہ کام انجام دے گا وہ خداکے نزدیک اجر کا مستحق ہے ۔

صابر: آپ کا وقت لینے کے لئے معافی چاہتا ہوں ۔ لیکن آپ نے مجھے نادانی کی تاریکی سے علم کی روشنی کی طرف جو ہدایت کی اس کے لئے آپ کا شکر گزار ہوں ۔ آج سے پہلے میں ان مقامات کی زینت کے بارے میں زیادہ سوچتا تھا لیکن ان کام کے صحیح ہونے کو نہیں مانتا تھا لیکن آخر کار آپ کی باتو ں سے بات واضع و روشن ہوگئی اور آپ اس کا سبب ہوئے کہ کھوئی ہوئی چیز کو میں نے حاصل کر لیا ۔

باقر: تو آپ کے تمام شکوک بر طرف ہوگئے ؟

صابر : جی ہاں اور یہ کہ یہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام مستحب ہے اور قرآن کریم نے بھی اس کی طرف دعوت دی ہے ۔

باقر: پھر بھی میں اس ضمینے میں کسی بھی بات اور شک کہ دور کرنے کے لئے ہمیشہ حاضر ہوں ،تا کہ ہم دونوں ہی حقیقت کو جان سکے

صابر: آپ کا بہت بہت شکریہ ،خدا آپ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔

ضریح کا بوسا لینا

مالک : صادق صاحب آپ لوگ پیغمبروں اور اماموں کی ضریح چومنے کے سلسلہ میں اتنا اصرار کیوںکرتے ہیں ۔

صادق: اس کام میں کیا قباحت ہے

مالک: کہا جاتا ہے کہ یہ کام شرک ہے

صادق: یہ بات کون کرتا ہے

مالک: یہ بات مسلمان کہتے ہیں

صادق: عجیب بات ہے ضریح کو بوسہ کون لوگ دیتے ہیں ؟

مالک: کہا جاتا ہے کہ شیعہ یہ کام کرتے ہیں ،

صادق: کیا حج کرنے کے لئے مکہ گئے ہو ،

مالک: جی ہاں ،الحمد للہ

صادق : کیا مدینہ میں رسول اللہ کی قبر کی زیارت کی ہے ؟

مالک : جی ہاں اور اس توفیق کے لئے خدا کا شکر گزار ہوں ۔

صادق : تو پھر آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہزاروں اہل سنت مسلمان اس کوشش میں رہتے ہیں کہ رسول خداکی ضرح کو بوسہ دیں لیکن (امر بالمعروف والے افراد ان کو مارتے ہیں اور اس کام سے روکتے ہیں ۔

مالک : ہاں ایسا ہی ہے ۔

صادق: اس بناء پر صرف ہم شیعہ نہیں ہے جو ضریح پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کو بوسہ دیتے ہیں بلکہ تمام مسلمان یہ کام کرتے ہیں ۔

مالک : تو پھر کچھ لوگ ضریح کو بوسہ دینے کو حرام کیوں سمجھتے ہیں

صادق: وہ لوگ جو حریح کو بوسہ دینے کو حرام اور شرک جانتے ہیں وہ مسلمانوں کی ایک بہت چھوٹی جماعت ہے کہ جو فقط اپنے آپ کو مسلمان واقعی سمجھتے ہیں اور اپنی فکروں کو حق پر سمجھتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو کافر مشرک اور غیر خدا کے پرستار سمجھتے ہیں،اسی وجہ سے تمام اسلامی فرقوں کو کافر کہتے ہیں ، آپ نے دیکھا ہوگا کہ انجمن امر بالمعروف والے حجاز میں ان مسلمانوں کو کہ جو رسول کی ضریح کو بوسہ دینے کے خواہاں ہوتے ہیں مارتے ہیں اور ان کو توہین آمیز جملوں جیسے کافر مشرک زندیق خنزیر اور دوسرے گالیوں سے خطاب کرتے ہیں ان کی نظر میں مخاطب شیعہ یا سنی حنفی مالکی شافعی حنبلی وغیرہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔(۱۲)

مالک: ہاں جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس سے بھی بدتر میں خود شاہد ہوں کہ کوئی ضریح پیغمبر ؐ کو بوسہ دینے کے لئے ضد کرتا تھا تو انجمن امر بالمعروف والے اپنے عصا سے ان کو مارتے تھے جس کی وجہ سے کبھی کبھی ان کے سر پھٹ جاتے تھے اور بات خونریزی تک پہنچ جاتی تھی ،اور کبھی کبھی زائرین کے سینوں پر گھونسے مارتے تھے جس سے وہ شدید درد میں مبتلا ہوجاتے تھے ،ان مناظر کو دیکھنے سے مجھے بہت تکلیف ہوئی ۔

صادق : ہم اہنی گفتگو کی طرف واپس پلٹتے ہیں کیا اپنے بیٹے کو چومتے ہو؟

مالک: جی ہاں ،

صادق: کیا آپ کے اس کام سے آپ خدا کے لئے شرک کرتے ہیں ،

مالک : نہیں بالکل نہیں ،

صادق: آپ اس کام کو کرنے سے مشرک کیوں نہیں ہوئے ۔

مالک : میں محبت اور الفت کی وجہ سے اپنے بیٹے کو چومتا ہوں اور یہ کام شرک نہیں ہے ۔

صادق : قرآن کو بھی چومتے ہو؟

مالک: جی ہاں

صادق: اس کام کے کرنے سے تم مشرک نہیں ہوئے

مالک : نہیں

صادق: کیا قرآن کی جلد ( چمڑے یا گنہ) کو بھی چومتے ہو ،

مالک : بالکل اسی طرح ہے

صادق: اس بناء پر آپ خدا کے لئے شریک کے قائل ہوئے اور یہ شریک وہ چمڑا ہے جو حیواں کی کھال سے حاصل کیا گیا ہے اور خدا ان چیزوں سے برتر ہے ۔

مالک : نہیں نہیں ایسا نہیں ہے ہم قرآن کو جلد کو اس لئے چومتے ہیں کہ اس کے اندر کلام خدا محفوظ ہے اور کہ کام قرآن سے عشق و اشتیاق کی وجہ سے کرتے ہیں ، اب آپ بتائیں کہ یہ کام کہا ں سے شرک ہوگیا ؟ جب کہ قرآن کو چمنے کی وجہ سے مین ثواب کا مستحق بھی ہوتا ہوں کیوںکہ اس کی وجہ سے ہم ؟قرآن کی تعظیم کرتے ہیں جو کہ باعث ثواب ہے ،تو پھر یہ کام شرک سے کائی واسطہ نہیں رکھتا اور اس سے دور ہے ،

صادق: اب جبکہ ایسا ہے تو پھر اسی بات کو آپ ضریح پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور امام(۱۳) کے سلسلہ میں کیوں نہیں مان لیتے شاید آپ کہیں کہ جو لوگ ضریح کو بوسہ دیتے ہیں وہ لوگ لوہے کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پھر وہ تمام لوہا جو ہر طرف دکھائی دیتا ہے اس کو کایں نہیں چوما جاتاایسا بالکل نہیں ہے ؟ ضریح کو اس لئے چاما جاتاہے کہ اس کے اندر پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) یا امام (ع) کی تربت پاک موجود ہے اور چونکہ ان بزرگان تک ہم نہیں پہنچ سکتے اپنا عشق و اشتیاق ان کی ضریح کو بوسہ دیکر جتاتے ہیں ، اس وجہ سے یہ کام خدائے متعال سے جزا لینے کا سبب بھی ہے کیونکہ ضریح کو بوسہ دینا خود پیغمبر(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) اور امام کی تعظیم کرنا ہے ، اور ان کی تعظیم اسلام کی تعظیم ہے ، اور ہر وہ چیز جو اسلام کی تع۔ظیم کا باعث بنے وہ شعائر الہی ہے کہ جس کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے کہ : ’’ومن یعظم شعائراللہ فانھامن تقوی القلوب".حج ۳۲ (اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا ، یہ تعظیم اس کے دل کے تقویٰ کا نتیجہ ہوگی۔

مالک : پھر اس صورت میں کچھ لوگ آپ کو مشرک کیوں کہتے ہیں ۔

صادق: حدیث میں آیا ہے کہ (انما العمل بالنیات ) عمل کا دارو مدار نیت پر منحصر ہے )(۱۴) (اور اسی قاعدے پر جزا یا سزا دی جائیگی ۔ اسی طرح اور کوئی ضریح کو شرک کی نیت سے بوسہ دے تو مشرک ہے لیکن اگر ضریح کو عشق و محبت میں بوسہ دے تو وہ شعائر الھی کی تعظیم کرنے کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہے اگر آپ چاہیں تو شیعوں اور سنیوں سے ان کے ضریح کو بوسہ دینے کی نیت کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں تو بیشک آپ کو جواب میں یہی ملے گا کہ یہ کام عشق و محبت اور ثواب حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اور آپ کو ایک بھی جواب اس کے خلاف نہیں ملے گا ۔

مالک: صحیح بات ہے

صادق: اور اگر صرف ضریح کو بوسہ دینا ( بغیر شرک نیت کے ) انسان کو مشرک کردیتا ہے تو پھر آپ کو ایک بھی انسان ایسا نہ ملے گا جو مشرک نہ ہو کیونکہ مسلمان ضریح یا قرآن کو بوسہ دیتے ہیں اور ان دونوں حالتوں میں وہ مشرک ہوجائیں گے اب میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ کیا اس صورت میں کوئی مسلمان باقی بچے گا ۔

مالک: آپ کا بہت بہت شکر گزار ہوں اور اس مسئلہ پر مین اپنے والد سے بحث کروں گا کہ انھوں نے ہی یہ تعصبات میرے ذہن میں ڈالے ۔ آج میں جان گیا کہ حق آپ شیعوں کے ساتھ ہے اور یہ کہ آپ نے مجھے جو ان حقائق سے آشنا ئی کرائی ہمیشہ کے لئے میرے اوپر احسان رہے گا ، اور میں بھی آج کے بعد بغیر تحقیق کے کسی بھی بات کو تسلیم نہیں کروں گا ۔

اولیاء خدا سے توسل

وہ ایک درد بھری آہ بھر رہا تھا کہ وائے ہو ان مشرکین و کفار پر کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ۔

محمدنے اس سے سوال کیا کس کو کہہ رہے ہو

کمال: شیعوں کو کہہ رہا ہوں ،

محمد: ان کو گالی نہ دو اور نہ مشرک کہو کیونکہ وہ مسلمان ہیں

کمال: ان کو مارنا کافر کو مارنے بہتر ہے

محمد: اتنا جوش کس وجہ سے ہے اور کس دلیل سے ان کو مشرک کہہ رہے ہو ۔

کمال: خدا کے ساتھ ساتھ دوسرے خداؤں کو منتخب کر چکے ہیں اور خدا کی جگہ پر ان چیزوں کی پرستش کرتے ہیں کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔

محمد: یہ بات کس طرح ممکن ہے ۔

کمال: وہ لوگ پیغمبروں اماموں اور اولیاء خدا سے توسل کرتے ہیں اور ان عبارتوں کے ساتھ ( کہ یا رسول اللہ یا علی ،یا حسین (ع) یا صاحب الزمان (ع) وغیرہ) ان سے چاہتے ہیں کہ اپنی حاجتوں کو حاصل کریں ، شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ لوگ اولیاء خدا ہیں اور یہ طاقت رکھتے ہیں کہ ان کی حاجتوں کو پورا کرسکتے ہیں ، آپ کی نظر میں یہ کام کھلا ہوا شرک نہیں ہے اور غیر خدا کی پرستش نہیں ہے ۔

محمد: اگر اجازت ہو تو ایک چھوٹی سی بات عرض کروں ۔

کمال: بولیئے

محمد: میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو شیعں کو گالیاں دیتا تھا اور ان پر بے جا الزامات لگا تا تھا ، جب بھی موقع ملتا تھا ان کو گالیاں دیتا تھا اور اپنا غصہ دکھاتا تھا ، کہ آخر کار ایک دفعہ حج کے سفر میں ایک شیعہ سے ملاقت ہوئی اور چونکہ میں شیعوں سے بد ظن تھا میں نے اپنی تمام نا گواری جتانے کے لئے سالوں سال کا غصہ ( جو ان سے تھا ) اپنی زبان پر لے آیا لیکن وہ (شیعہ ) خاموشی کے ساتھ ان تمام باتوں کو سنتا رہا اور صبر و تحمل سے کام لیتا رہا میری ان تمام باتوں کے جواب میں وہ صرف ہنستا تھا اور میں ہر چند اس کو گالی دیتا تھا تو وہ مسکرا کر میری طرف دیکھتا تھا یہاں تک کہ میرا غصہ اس کی محبت اور اخلاق کی وجہ سے ٹھنڈا پڑ گیا جب میں چپ ہوگیا تو اس نے میری طرف مخاطب ہوکر کہا اے میرے بھائی محمد اگر اجازت ہو تو آپ سے کچھ باتیں کروں اس کے اور ہمارے درمیان مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں ان میں سے ایک موضوع کہ جس کی وجہ سے میں اس کی باتوں کو مان گیا یہی وہ موضوع (توسل بہ اولیا) تھا ۔

کمال: گویا آپ کے اور بھی ان کی شرک اور فریب کا اثر ہوگیا ہے دین اسلام سے تمہاری پہچان بہت کم ہے ۔

محمد : میں قرآن سنت اور صالحین کی سیرت پر اولیاء خدا سے توسل کے بارے میں تم سے بحث کرنے کو تیار ہوں ۔

کمال: خدا وند عالم تمام مخلوقات سے بر تر ہے اور اپنی مخلوق کے لئے سب سے زیادہ مہربان ہے اس کے اور مخلوق کے درماین کوئی رکاوٹ موجود نہیں ہے اور بغیر واسطہ کے بندہ جب اور جہاں چاہے اپنے خدا سے رابطہ بر قرار کرسکتا ہے اور اس سے توسل کرسکتا ہے اور غیر خدا سے توسل اگر چہ وہ پیغمبر امام فرشتے یا صالح بندے ہوں جائز نہیں ہے اگر چہ خداوند عالم کے نزدیک وہ ایک بلند ترین مقام رکھتے ہیں ۔

محمد: ان سے توسل کرنا کیوں جائز نہیں ہے ۔

کمال: انسان مرنے کے بعد ختم ہوجاتا ہے اور اس طرح کے اس سے کوئی بھی کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کرسکتا تو پھر آپ ایک ایسی چیز سے جو نابود ہوچکی ہے توسل کررہے ہیں ۔

محمد: کس دلیل سے آپ کہتے ہیںکہ مرنا نابود ہونا ہے اور کون یہ کہتا ہے ۔

کمال: امام محمد بن وہاب کہتے ہیں ( دنیا سے گذرجانے والے صالحین سے متوسل ہونا اصل میں ایک نابود چیز کی طرف ہاتھ بڑھانا ہے اور یہ کام عقل کی نظر میں ناپسند ہے اسی طرح انہی کہ ایک مرشد نے نقل کیا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کی موجودگی میں کہا گیا اور وہ اس سے راضی تھے کہ کہنے والے نے کہا کہ میرا یہ عصا محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) سے بہتر ہے ( العیاذ باللہ ) اور فایدہ مند ہے کیونکہ اس عصا سے میں سانپ بچھو کو مارنے میں مدد لے سکتا ہوں جب کہ محمد(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) مرچکے ہیں اور ان سے کوئی فایدہ حاصل نہیں ہوسکتا(۱۵) اس وجہ سے جو بات پہلے کہی گئی کہ مردوں سے توسل کرنا بے فائدہ ہے اگر چہ وہ مرد رسول اعظم(ص) جیسا پیغمبرہی کیوں نہ ہو ۔

محمد: بات اس کے برعکس ہے کیونکہ انسان کے مرنے کے بعد وہ چیزیں اس کے لئے اشکار ہوجاتی ہیں جو اس کے لئے مخفی تھیں خداوند عالم اس بارے میں فرماتا ہے:( فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید ) سورہ ق ،آیۃ۲۲ تو ہم نے تمہارے پردوں کو اٹھا دیا اور اب تمھاری نگاہیں بہت تیز ہوگئی ہے۔(۱۶)

( ولا تقوا الامن یقتلوا فی سبیل الله اموات بل احیاء ولا کن لا تشعرون ) ۔(۱۷) وہ لوگ جو راہ خدا میں قتل کئے گئے ان کو مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم نہیں جانتے: اور کہتا ہے "ولا تحسبن الذین قتلو افی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون" ہر گز ہرگز ان کو مردہ نہ سمجھنا کہ جو راہ خدا میں قتل کردئے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق پاتے ہیں ۔(۱۸)

صحیح بخاری میں آیا ہے کہ پیغمبر (ص) قلیب بدر ( وہ جگہ جہاں پر مشرکین کہ کشتوں کو ڈالا گیا تھا ) کے کنارے آئے اور مشرکین کہ کشتوں کو مخاطب کر کے فرمایا ’’خدا نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا اس کو میں نے حق پر پایا کیا تم لوگ اپنے خدا کے وعدوں کو پاسکے ؟ رسول اللہ (ص) سے کہا گیا مردوں سے جواب طلب کررہے ہیں ،

پیغمبر (ص) نے فرمایا ،تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو(۱۹)

اور غزالی ( مذہب شافعی کا ایک بزرگ ) نے بھی کہا ہے کہ کچھ لوگ موت کو نابود ی سمجھتے ہیں یہ عقیدہ ملحدوں ( اور کافروں ) کا ہے(۲۰)

غزالی نے یہ بات احیاء العلوم(۲۱) میں لکھی ہے اور تم اس کتاب میں اس چیز کو دیکھ سکتے ہو ۔

کمال : غزالی کی یہ بات عجیب و غریب ہے ۔

محمد: غزالی کی بات عجیب و غریب نہیں ہے بلکہ تمہاری نادانی تعجب کی بات ہے کیا پیغمبر (ص) کا بدر کے کشتوں سے خطاب تم نے نہیں سنا اگر مرد ے ختم ہوچکے ہوتے تو پھر نہ وہ سمجھ رکھتے ہیں اور نہ ہی سننے کی طاقت اور پیغمبر (ص) کہ رہے ہیں کہ تم ان سے بہتر نہیں سن سکتے ،(۲۲) جو کچھ پیغمبر (ص) نے کہا اس بناء پر وہ ہماری طرح سنتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی اب تو آپ میری بات مانیں گے ۔

کمال: جی ہاں ، لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ اتنے سالوں میں میں نے ان آیتوں کی تفسیر اور مطلب پر غور کیوں نہین کیا ، کہ ان کا مقصد سمجھ سکتا اور کس طرح میں نے ایک بار بھی پیغمبر (ص) کی اس حدیث اور امام غزالی کے قول کو نہیں سنا ۔

محمد : اب تو آپ یہ مان لیں گے کہ شیعوں کمی انسان کے مرنے کے بعد نابود نہ ہونے کا دعویٰ ایک منصفانہ بات ہے اور واقعی ایک حقیقت ہے یا ابھی بھی آپ شک و تردید میں مبتلا ہیں ۔

کمال: نہیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ایک دوسری چیز ہے جو مجھے پریشان کررہی ہے ۔

محمد: کیا چیز آپ کو پریشان کرہی ہے

کمال: یہی کہ غزالی اس عقیدے پر تھے اور اس کے خلاف کو وہ کافراور ملحد سمجھتے تھے اور رسول اللہ نے مردوں کے زندہ ہونے کی تائید کی ہے لیکن محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد نابود ہوجاتا ہے اور دوسری طرف محمد بن عبد الوہاب کمال جسارت میں کہتا ہے کہ میرے ہاتھ کی لکڑی پیغمبر سے بہتر ہے کیونکہ یہ فائدہ پہچاتی ہے ۔

اور پیغمبر (ص)کوئی فائدہ نہیں پہچاسکتے(۲۳) یہی مسئلہ میرے لئے پریشان کھڑی کررہا ہے ۔

محمد: نہیں تم کو حیران اور متعجب نہیں ہونا چاہیئے بلکہ لوگوں کو قرآن و سنت اور صالحین کی سیرت کے ترازو پر تولنا چاہیئے اگر ان کا کردار و گفتار قرآن سنت اور صالحین کی سیرت سے مطابقت رکھتا ہو تو اس کو مؤمن مانیں ، اور ہرگز دین کو لوگوں سے نہ سمجھو اگر ایک انسان کو مؤمن اور مخلص ہم نے سمجھا تو اس کی ہر بات اگر چہ وہ قرآن وسنت اور سیرت کے خلاف ہو اور کفر کا ریشہ رکھتی ہو عین اسلام سمجھ لیں نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ جب بھی کسی میں کوئی انحراف دیکھیں تو اس سے بچیں اور حقیقت کی پیروی کریں ۔

کمال: صحیح بات ہے ابھی تک میں اس شخص ( محمد بن عبد الوہاب ) سے بے حد عقیدت رکھتا تھا لیکن اب جب کہ آپ نے اس کی بہت بڑی غلطی جو کہ دین میں کفر و الحاد میں گنی جاتی ہے سے آگاہ کیا میرا عقیدہ اٹھ چکا ہے اور آج کے بعد میں اس سے اس لائق نہیں سمجھوں گا کہ دین کے مسئلہ میں اس کی پیروی کروں ۔

محمد: اس کی باتوں کو چھوڑو ہم اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہیں ۔

کمال: ٹھیک ہے میں مانتا ہوں کہ انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہوتا لیکن اس فکر کے ساتھ کہ جو کہتا ہے کہ ( خلق خدا سے توسل کرنا شرک ہے اور دین سے جدائی ہے ) کس طرح ہم پیغمبر (ص) امام اور کسی صالح سے متوسل ہوسکتے ہیں ۔

محمد: کسی زندہ سے کچھ مانگنا یا کسی چیز کی درخواست کرنا یا دعا کرنے کے لئے کہنا یا یہ کہنا کہ اے باقر ، اے جعفر ، اے رضا مجھے کچھ مال دیدو یا خدا سے میرے لئے مغفرت کی دعا کرو یا میرا ہوتھ پکر کر مسجد کی طرح لے چلو ( شرع کی نظر ) میں جائز ہے ؟

کمال: البتہ جائزہے ۔

محمد: جب کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مردہ زندہ انسان کی طرحٍسنتا ہے تو اس سے کسی چیز کی طرح درخواست کرنے میں کیا پریشانی ہے ۔

کمال: (کچھ دیر سونچنے کے بعد ) صحیح کہہ رہے ہو بالکل ویسے ہی ہے جیسے کہہ رہے ہو ۔

محمد: ایک دوسری دلیل بھی ہے جو پیغمبر اور دوسرے صالحین سے توسل کرنے کو جائز قرار دیتی ہے ۔

کمال : کیا دلیل ہے

محمد : صحابہ(۲۴) نے پیغمبر (ص) کے زمانے میں اور ان کی وفات کے بعد ان سے توسل کیاہے پیغمبر (ص) نے اپنی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے کسی ساتھی یا اصحاب نے اس کام کو کرنے سے نہیں روکا اور اگر غیر خدا سے توسل کرنا شرک ہوتا تو یہ اشخاص اس کام کو یقینا روکتے ۔

کمال: رسول اللہ کی وفات کے بود کون ان سے متوسل ہوا ۔

محمد: مثال کے طور پر میں چند نمونہ عرض کرتا ہوں ۔ بہیقی، اور ابن ابی شیبہ(۲۵) نے اسناد کے ساتھ روایت کی ہے ، اور احمد بن زینی و حلان سے بھی روایت ہوئی ہے کہ ( خلافت عمر کے زمانہ میں لوگ قحط کا شکار ہوئے بلال بن حرث رسول کی قبر کے پاس گئے اور کہا اے رسول خدا (ص) امت کے لئے بارش طلب کریں کہ بھوک اور خشک سالی سے وہ مرنے والے ہیں(۲۶) ہم یہ جانتے ہیں کہ بلال ایک مدت دراز تک رسول کے ہمنشین اور ساتھی تھے اور آپ کے صحابی تھے اور احکامات کو بلا واسطہ رسول سے حاصل کرتے تھے اگر رسول سے متوسل ہونا شرک ہوتا تو بلال ایسا کام نہیں کرتے ، یا اگر انہوں نے ایسا کیا بھی تو دوسرے اصحاب کو انہیں روکنا چاہییے تھا یہی بات ایک بہت مضبوط دلیل ہے کہ تسول سے متوسل ہوا جا سکتا ہے پھر بہیقی نے عمر بن خطاب سے نقل کیا ہے کہ رسول نے فرمایا کہ جب آدم (ع) سے خطا سر زد ہوئی تو انھوں نے فرمایایا رب اسئلک بحق محمد صلی الله و اله الا ما غفرت لی ،یا الله تجھ سے چاہتا ہوں کہ محمد (ص) کے واسطہ میرے گنا کو بخش دے(۲۷) اس وجہ سے اگر رسول اکرم (ص) سے حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم (ع) ہرگز ایسا کام نہیں کرتے ۔ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ جب منصور دوانیقی حج کے لئے روانہ ہوا تو قبر پیغمبر(ص) کی زیارت کے لئے بھی گیا وہاں اس نے مالک جو مالکیوں کا امام تھا ( یعنی مالک بن ادنس مالک بن غسیما ن بن خثیل بن عمرو ) سے کہا ادے ابو عبداللہ رو بہ قبلہ کھڑا ہو کر اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر دعا کروں یا پیغمبر (ص) کی قبر کی طرف رخ کروں ۔ مالک نے جواب دیا ، آخر پیغمبر (ص) کہ جو تمہارے اور تمہارے باپ آدم (ع) کے بارگاہ خدا میں وسیلہ بنے،ان سےکیوں منھ پھیررہے ہو، ان کی طرف رخ کرو اور ان کو اپنا شفیع قرار دو کہ بیشک خدا وند ان کی شفاعت کو تمہارے لئے قبول کریگا کہ خدا نے فرمایا ہے:"( ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا و الله و استغفر لهم الرسول لوجدنوا الله تواباً رحیمً ) (نساء ۶۴)(۲۸) ترجمہ:جب ان لوگوں نے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا او ر مہربان پاتے

یہ عبارت کہ ( وہ تمہارے اور تمہارے باپ آدم (ع) کا بارگاہ خدا سند میں وسیلہ ہیں )(۲۹) ایک محکم اور مضبوط دلیل ہے کہ رسول سے توسل کرنا جائز بلکہ مستحب ہے ۔

دار می نے اپنی صحیح میں ابو الجوزاء سے نقل کیاہے کہ ( مدینہ کے لوگ قحط سے دوچار ہوئے لہٰذا اپنی مصیبت کی شکایت عائشہ سے کی تو عائشہ نے کہا پیغمبر (ص) کی طرف نظر کرو اور اس کو اپنا وسیلہ قرار دو اس طرح سے کہ کوئی بھی چیز تمہارے اور آسمان کے درمیان حائل ہو ( یعنی خداوند کریم کی بارگاہ میں ان کو اپنا شفیع قرار دو ) ان لوگوں نے یہ کام انجام دیا جس کے نتیجہ میں آسمان پر بادل چھا گئے اور بارش کے بعد سبزہ اگ آیا ، اور اونٹ موٹے ہوگئے وہ سال ( موٹا پہ کا سال کے نام سے ) مشہور ہوگیا(۳۰) ایسے سینکڑوں قصے روایت کی کتابوں میں موجود ہیں کہ جو سب کے سب رسول سے ان کی وفات کے بعد توسل کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں اور جب کہ یہ ثابت ہوچکا کہ رسول سے توسل کرنا جائز ہے ، حرام اور شرک نہیں تو پھر اماموں فرشتوں اور صالحین سے توسل کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اگر یہ کام شرک ہے تو پھر پیغمبر (ص) کے لئے بھی منع ہونا چاہیئے اور اگر جائز ہے تو پھر صرف پیغمبر (ص) سے توسل کرنا صحیح نہیں بلکہ تمام صالحین سے توسل کرنا جائز ہوگا ۔ کمال: تعجب کی بات ہے ! جن روایتوں کی طرف آپ نے اشارہ کیا میں نے آج تک حتی ایک بار بھی نہ انھیں دیکھا تھا اور نہ ہی سنا تھا ۔

محمد : اگر آپ حدیثوں کی کتاب کی طرف رجوع کریں تو ایسی سینکڑوں مثالیں جو کہ رسول سے توسل کو جائز قرار دیتی ہیں کو آپ دیکھ سکتے ہیں جو کچھ میں نے بیان کیا وہ دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آپ کا حدیث اور صالحین کی سیرت کے سلسلہ میں مطالعہ کم ہے ۔

کمال: میں مصروفیت کی وجہ سے اس کام کو انجام نہیں دے سکتا جبکہ میں بہت زیادہ حدیث اور سیرت کی کتابوں کے مطالعہ کا مشتاق ہوں ۔

محمد: اب جب کہ آپ کا حدیث کے سلسلہ میں مطالعہ بہت کم ہے تو کیا یہ صحیح ہے کہ آپ محمد بن عبد الوہاب کے کہنے پر شیعوں ور دوسرے مسلمانوں کو گالیاں دیں اور انہیں مشرک قرار دیں ؟ یہ کام صحیح نہیں ہے اگر اجازت دیں تو آپ کو ایک بات بتاؤں ۔

کمال : ( اس حال میں کہ ہنس رہاتھا ) جو جی میں آئے کہیں ہم دو دوست ہیں اور اسی دلیل سے اس موضوع کو بیان کیا تاکہ تمہاری معلومات سے استعفادہ کرسکوں ۔

محمد : تم بالکل قریش کے کافروں کی طرح ہو کہ اپنے باپ دادا کی بت پرستی کو بہانہ بنا کر کہتے تھے

( ان وجدنا اباء نا علی امة و انا علی آثار هم مقتدرون ) ۔(سورہ زخرف،ایۃ ۲۳)

ترجمہ:ہم نے اپنے باب دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم انہیں کے نقش قدم کی پیروی کرنے والے ہیں

اور اپنی بت پرستی پر اڑے رہتے تھے جانتے ہو خدا نے ان کی مذمت کیوں کی ؟ اس لئے کہ انھوں نے پیغمبر (ص) کے کہے کو نہیں مانا تا کہ اپنے راستے کو صحیح کرلیں اور یا اس لئے کہ ان کی بات کو سننے کے بعد بھی بت پرستی پر اڑے رہے میں تم سے چاہتا ہوں کہ آنکھ بند کرکے اپنے اجداد کی پیروی نہ کرو بلکہ فکر کا استعمال کرو اور حق کو ڈھونڈ و اور اپنی زندگی کو اس کے اوپر گذار و ، حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سمجھ میں آئے گی کہ ایک چھوٹا سا گروہ توسل تو شرک مانتا ہے اور باقی تمام اسلامی فرقے اس کو جائز مانتے ہیں کیا یہ بات تسلیم کروگے ۔

کمال: جی ہاں ، ظاہرا اس مسئلہ میں حق شیعوں اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ ہے میں نے جو شیعوں کو گالیاں دیں اس کا کیا کروں ۔

محمد : خدا کی بارگاہ میں تو بہ کرو ہمیشہ حق کی جستجو کرو اور اسی کو مانو تا کہ خدا تمہیں معاف کر دے جو کچھ بھی شیعوں کے عقاید کے بارے میں سنو اس کی تحقیق کرو اور ان کی دلیلوں سے مطمئن ہو سکو اور تعصب سے دوری اختیار کرو کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ بے جا ہر تعصب اپنے لئے آگ رکھتا ہے ۔

کمال: ایسا ہی کروں گا اور مجھ پر حقیقت کو روشنی کرنے کے لئے آپ کا شکر گذار ہوں ۔


3

4