دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)16%

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل) مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 81994 / ڈاؤنلوڈ: 4524
سائز سائز سائز
دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

ایک انسان کی شخصیت کا جاذب ہونابھی اس معنی میں ہے کہ ظاہری اور جسمانی خصوصیات کے علاوہ اس کے اندر اخلاقی اور روحانی صفات بھی موجو د ہوں جو کہ اس کی طرف دوسرے لوگوں کی رغبت اور کشش کا سبب بنیں ؛ جولوگ با ادب چال ڈھال رکھتے ہیں اورلوگوں سے خوش اخلاقی سے ، ہنستے ہوئے چہرے اور خلوص و محبت کے ساتھ ملتے ہیں وہ لوگوں کے دلوں میں بس جاتے ہیں اور سبھی لوگ ان کو دوست رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ ملنا جلنا اور ان سے قریب رہنا چاہتے ہیں ؛ لیکن جو لوگ بے ادب ،برے اخلاق کے مالک اور خود خواہ ہوتے ہیں ایسے افراد گویا اپنے کو لوگوں سے دور رکھتے ہیں اور اس بات کا سبب بنتے ہیں کہ لوگ ان سے دور رہیں ؛لیکن جس وقت جاذبہ اور دافعہ کی بات کسی انسان سے متعلق ہو تو اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ اس وقت یہ مسئلہ کلچر اورماحول کے تابع ہوتا ہے یعنی ممکن ہے کہ بعض خصوصیات کو کسی ایک سماج یا معاشرہ میں اچھی نظر سے دیکھاجاتاہولیکن وہی خصوصیات دوسرے معاشرہ میں کسی اہمیت کے حامل نہ ہوں بلکہ انھیں بری نظر سے دیکھاجاتاہے اب ظاہر ہے کہ جو شخص ان خصوصیات کا مالک ہوگا وہ پہلے معاشرہ کے نزدیک ایک جاذب وپر کشش شخصیت شمار کیا جائے گا نیزلوگوں کی نظروں میں پسندیدہ ہوگا اور لوگ اس کا احترام کریں گے لیکن وہی شخص دوسرے کلچر اور سماج میں معمولی انسان بلکہ قابل نفرت ہوگا ؛بہر حال میرے عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک انسان کی شخصیت میں جو جاذبہ یا دافعہ ہوتاہے وہ سماج کے ماحول اورتہذیب و ثقافت کے اعتبار سے فرق رکھتا ہے ۔بہر حالیہ مسئلہ ایک جدا گانہ اور مستقل بحث ہے جس کو اس وقت ہم بیان نہیں کریں گے ۔

۱۴۱

یہاں تک ہم نے جو توضیحات پیش کیںان سے جاذبہ اور دافعہ کا مفہوم کسی حد تک روشن ہوگیا ؛لیکن ہماری بحث کا موضوعاسلام میں جاذبہ اور دافعہ ہے'' لہذٰا ہماری مراداسلامسے جو کچھ بھی ہے اس کو واضح ہونا چاہئے، ہماری نظر میں عقائد اور قواعد و احکام کے مجموعہ کا نام اسلام ہے اس میں اعتقادی اور اخلاقی مسائل بھی اور فردی قوانین اور اجتماعی قوا نین بھی شامل ہیں ؛ جس وقت ہم کہتے ہیں کہ اسلام ایسا ہے اور اسلام ویسا ہے توہماری مراد اسلام سے یہی اعتقادات اور اس کے قواعد و احکام ہیں ؛ اس بحث میں جب ہم یہ کہتے ہیںاسلام میں جاذبہ اور دافعہ'' تو اس وقت ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جاذبہ اور دافعہ جو کہ اسلام کے اعتقادی اور اخلاقی قواعد و اصول میں نیز اس کے تمام احکام قوانین میں پائے جاتے ہیں ۔ عقائد کے حصہ میں اسلام کا جاذبہ رکھنا اس معنی میں ہے کہ اسلامی عقائد انسان کی حقیقت پسند فطرت کے موافق ہیں یعنی وہ عقائد جو کہ حقائق ہستی کی بنیاد پر استوار ہیں چونکہ انسان کی فطرت حقیقت کو چاہتی ہے اور یہ عقائد انسانی فطرت کے مطابق ہیں لہذا یہ انسان کے لئے جاذبہ ہو سکتے ہیں ۔ بہر حال وہ جاذبہ اور دافعہ جو کہ اسلامی عقائد سے مربوط ہیں فی الحال ہماری بحث میں شامل نہیں ہیں یہاں پراس جاذبہ اور دافعہ کی بحث زیادہ اہم ہے جو کہ اسلامی احکام اور اخلاق سے مربوط ہیں خاص کر وہ جاذبہ اور دافعہ جو اسلام کے دستوری اور تکلیفی احکام سے مربوط ہیں ،اور ہم زیادہ تر اس بات کو دیکھیں گے کہ کیا تمام قواعد و احکام اسلامی انسان کے لئے جاذبہ رکھتے ہیں یا دافعہ؟

۱۴۲

کیا اسلام کے بارے میں دافعہ کا تصوّرممکن ہے ؟

ممکن ہے یہ سوال ذہن میں آئے کہ اگر تمام اسلامی معارف و احکام؛ انسانی فطرت اور طبیعت کے مطابق بنائے گئے ہیں لہذ اٰ طبعی طور پر اس کے لئے جاذبہ ہونا چاہئے پس اس کے لئے دافعہ فرض کرنا کیسے ممکن ہے ؟ !

اس کا جواب یہ ہے کہ انسان فطری طور پر حقیقت کا متلاشی اور بلندیوں کا خواہاں نیز اچھی چیزوں کا طالب ہے ؛لیکن اس کے علاوہ بہت سے شہوانی اور فطری امور بھی انسان میں پائے جاتے ہیں کہ بہت سے مقامات پر ان مختلف فطری اور شہوانی امور کے درمیان تزاحم اور اختلاف پیدا ہوتا ہے یاایک دوسرے کو دور کر دیتا ہے۔یااس بحث کے خلط اور اشتباہ سے بچنے کے لئے دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ انسان کی مادی اور حیوانی خواہشات کو جذبہ شہوت وخواہش کا نام اور اس کی دوسری تما م خواہشوں کو فطرت کا نام دیا گیا ہے ،بہت سے مقامات پرفطرت اور خواہشوں کے درمیان نا ہماہنگی پائی جاتی ہے، شہوت اور خواہش صرف اپنی تکمیل چاہتی ہے انصاف و عدالت کو نہیں دیکھتی ہے، بھوکا پیٹ آدمی صرف روٹی کھانا چاہتا ہے حلال و حرام ، اچھا ،برا ،اپنا مال ہے یا غیر کا ،اس سے اس کو مطلب نہیں ہے چاہے اس کو حلال و جائز روٹی دیں یا حرام و نا جائز اس کو پیٹ بھر نے سے مطلب ہے، انسان کی آرام پسند طبیعت پیسیے اور اپنی آرام دہ زندگی کی تکمیل کے پیچھے لگی رہتی ہے یہ پیسہ چاہے حلال طریقے سے حاصل ہو یا حرام ذریعہ سے اس کے لئے سب برابر ہے۔

۱۴۳

لیکن انسان کی فطرت انصاف کی طالب اور امانت و عدالت کے موافق ہے نیز حق کو غصب کرنے اور ظلم و خیانت سے بیزار ہے ،اس عدالت طلب اور ظلم سے گریزاں فطرت کے بر خلاف کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ اپنی خواہشات نفسانی کی تکمیل اور مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صرف خیانت اور ظلم و ستم کا سہارا لینا پڑتا ہے؛ یہی وہ مقام ہے جہاں پر انسان اگر حقیقی کمال کو چاہتا ہے تو اس کو مجبوراً ان خواہشات اور لذتوں سے اپنے کو بچانا ہوگا ؛بعض چیزوں کو نہ کھائے ،نہ پئے،نہ اوڑھے پہنے،نہ دیکھے اورنہ سنے ؛خلاصہ یہ کہ اپنے کو محدود و مقید رکھے ۔ اسلام بھی انسان کو حقیقی کمالات تک پہونچانا چاہتا ہے؛ لہذا ان جگہوں پر فطری پہلو کو اختیار کرتا ہے اور خواہشات نفسانی اور مادی ضروریات کو محدود کرتا ہے؛ ان مقامات پر جو لوگ اپنی خواہشات نفسانی پر کنٹرول نہیں رکھتے ہیں ؛یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ حیوانیت ان پر غالب رہتی ہے تو طبعی اور فطری بات ہے کہ بعض اسلامی احکام ان کے لئے جاذبہ نہیں رکھتے ہیں بلکہ دافعہ رکھتے ہیں ،اسلام نے ایک مکمل دستور دیا ہے جو کہ فطرت اور خواہش دونوں کے مطابق ہے اور اس مفہوم کی آیات اور روایات بہت کثرت سے پائی جاتی ہیں ، اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :

( کلوا من الطیبات ما رزقناکم'' ) ( ۱ ) یعنی جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو رزق میں دی ہیں ان میں سے کھائو پیونیزیہ بھہ ارشاد فرماتا ہے:( کلوا و اشربوا ) ( ۲ ) کھائو اور پیو ایسے احکام اور دستور انسان کے لئے مشکل نہیں رکھتے ہیں لیکن جس وقت اسلام کہتا ہے کہ شراب نہ پیوسور کا گوشت نہ کھائو وغیرہ تویہ دستور ہر ایک کے لئے جاذبہ نہیں رکھتے اور بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ احکام اچھے نہیں لگتے۔

____________________

(۱) سورہ اعراف : آیہ ۱۶۰ ۔

(۲) سورہ اعراف :آیہ ۳۱۔

۱۴۴

اسلامی احکام میں دافعہ کا ایک تاریخی نمونہ

یہاں پر مناسب ہوگا کہ تاریخ اسلام کے ایک واقعہ کی جانب اشارہ کرتا چلوں؛ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں نجران کے عیسائی رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس توحیدی عقائد سے متعلق بحث و مناظرہ کے لئے آئے؛ لیکن علمی بحث میں ان لوگوں کوشکست ہوئی، اس کے بعدبھی ان لوگوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان لوگوں کو مباہلہ کی دعوت دی ؛ان لوگوں نے اس مباہلہ کو قبول کیا ؛جس وقت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے محبوب اور سب سے خاص لوگوں یعنی امام علی ، حضرت فاطمہ اور امام حسن و امام حسین کو ساتھ لیکر مباہلہ کے لئے گئے اور نصاریٰ کے علماء کی نگاہ ان پانچ نورانی چہروں پر پڑی ؛تو ان لوگوں نے کہا کہ جو کوئی بھی ان حضرات سے مباہلہ کرے گا اس کے حصّہ میں دنیا و آخرت کی رسوائی اور ذلت ہوگی؛ لہذٰا وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور مباہلہ نہیں کیا ؛ان عیسائیوں نے علمی گفتگو میں بھی شکست کھائی اور مباہلہ بھی نہیں کیا لیکن پھربھی مسلمان ہونے کو تیار نہیں ہوئے اور کہا کہ ہم جزیہ (ٹیکس ) دیں گے لیکن عیسائی رہیں گے ۔

جب اصحاب نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا کہ آخر وہ لوگ اسلام قبول کرنے پر تیار کیوں نہیں ہوئے؟ تو حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :کہ جو عادت اور چاہت ان کو سور کے گوشت کھانے اور شراب پینے کی تھی ،ان چیزوں نے اس سے ان کو مانع رکھا،چونکہ اسلام نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے لہذٰا ان لوگوں نے اسلام کو قبول نہیں کیا

۱۴۵

یہ ایک تاریخی نمونہ ہے کہ اسلام کی حقانیت ایک گروہ اور جماعت کے لئے ثابت اور واضح تھی لیکن بعض اسلامی احکام ان کے لئےدافعہ''رکھتے تھے جو اس بات سے مانع ہوا کہ وہ لوگ اسلام کو قبول کریں ؛یعنی ان کی انسانی فطرت ، حیوانی خواہشات سے مقابلہ کیا ،اس تعارض و ٹکرائو میں انھوں نے نفسانی خواہشات کو مقدم کیا ۔یہ مسئلہ صرف نجران کے عیسائیوں سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں سے متعلق ہے جنھوں نے الٰہی اور خدائی تربیت سے اپنے کو مزین اور آراستہ نہیں کیا ہے ،یا جو لوگ جسمانی اور حیوانی خواہشوں سے مغلوب ہیں ۔ وہ احکام اور دستورات جو کہ انسان کے مادی خواہشات کو محدود کرتے ہیں وہ ہی لوگوں کے لئےدافعہ'' ہیں اور جیسا کہ اشارہ ہوا اسلام میں ایسے بہت سے قوانین پائے جاتے ہیں قانوں اسلامی جو یہ کہتا ہے کہ ۴۰ درجہ گرمی میں ۱۶ گھنٹے اپنے کو کھانے پینے سے روکے رکھو؛اور روزہ رکھو یہ انسانی خواہشات سے میل نہیں کھاتا، ان کے لئے یہ کام مشکل ہے خاص طور سے نان وائیوں کے لئے( جو کہ روٹیاں وغیرہ پکاتے ہیں ) اس لئے کہ وہ مجبوراًآگ کے قریب رہتے ہیں ، پھر بھی ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کہ چلچلاتی دھوپ یا شعلہ ور آگ کے قریب رہ کر بھی ان احکام پر خوشی سے عمل کرتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ،لیکن ایسے تربیت شدہ بہت کم نظر آئیں گے۔یا مثلاًخمس ہی کا قانون ممکن ہے ہمارے اور آپ جیسے لوگوں کے لئے کہ شاید سال میں ہزارروپیہ سے زیادہ نہ ہو اس ہزارروپئے کے نکالنے میں کوئی مشکل اورپریشانی نہیں ہے ،ہو لیکن جن لوگوں کے ذمہ لاکھوں روپئے خمس نکالنا ہو ان کے لئے بہت ہی مشکل کام ہے، اسلام کے اوائل میں بہت سے لوگوں نے صرف اسی حکم زکواة کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ دیا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف ہو گئے؛ اور جس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ایلچی ان کے پاس زکواة لینے کے لئے جاتاتھا تو ان لوگوں نے کہا کہ رسول بھی ٹیکس لیتے ہیں ؛ ہم کسی کو بھی خراج اور ٹیکس نہیں دیں گے ؛یہ قانون ان کے لئے دافعہ تھا اور یہی سبب بنا کہ ان لوگوں نے اسلام سے دوری اختیار کر لی یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ لوگ خلیفہ مسلمین سے جنگ کرنے کو تیار ہو گئے ۔

۱۴۶

یا مثلاً اسلام جنگ و جہاد کا حکم دیتا ہے یہ فطری بات ہے کہ جنگ میں حلوا، روٹی کھانے کو نہیں ملتی بلکہ مارے جانے ، قید ہونے ،اندھے ہونے،ہاتھ پیر کٹنے اور دوسرے بہت سارے خطروں کا امکان رہتا ہے، بہت سے لوگ ان خطروں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حکم جنگ یا میدان جنگ میں جانے کے مخالف ہیں ؛اس کے بر خلاف بہت سے مجاہد (سپاہی ) ایسے بھی ہیں جو میدان جنگ میں جانے کے لئے ہر طرح سے آمادہ دکھائی دیتے ہیں اور بہت ہی شوق سے ان خطرات کو قبول کرتے ہیں ؛پھر بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ حکم بہت سے لوگوں کے لئے جنھوں نے اپنے کو ایسا نہیں بنایا ہے کوئی جاذبہ نہیں رکھتا ہے؛ اور کسی بھی بہانے سے اپنی جان چراتے ہیں اور اس کام سے فرار اختیار کرتے ہیں ۔

لہذا اس سوال کا جواب کہ اسلام کے احکام و قوانین جاذبہ رکھتے ہیں یا دافعہ؟ یہ ہے کہ عام لوگوںکے لئے بعض اسلامی دستورات جاذبہ رکھتے ہیں اور بعض احکام دافعہ رکھتے ہیں ۔

۱۴۷

عملی میدان میں جاذبہ اور دافعہ کے سلسلے میں اسلامی حکم

اب یہ سوال کہ مسلمانوں کا برتائو اور ان کا طور طریقہ آپس میں ایک دوسرے کے متعلق بلکہ غیر مسلمانوں کے ساتھ کیسا ہوناچاہئے؟اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد جاذبہ پر ہے او ر اسلام یہ چاہتا ہے کہ لوگوں اوراسلامی معاشرہ کو سعادت اور کمال تک پہونچائے لہذٰ ااسلامی معاشرہ کا برتائو ایسا ہونا چاہئے کہ دوسرے افراد جو لوگ اس ماحول اور سماج سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں ان کی جانب متوجہ ہوں اور اسلام ان کے لئے واضح ہوجائے اور وہ لوگ راہ راست پر آجائیں۔ اگر لوگ اسلامی ماحول اور اسلامی مرکزسے دور رہیں گے تو ان تک اسلام نہیں پہونچایا جا سکتا اور وہ لوگ ہدایت نہیں پا سکتے۔ لہذٰا اہم اور اصل یہ ہے کہ مسلمان ایسی زندگی بسر کریں کہ وہ آپس میں بھی ایک دوسرے سے جاذبہ رکھتے ہوں اور روز بروز ان کے درمیان اپنائیت اور یکجہتی بڑھتی رہے اور غیرمسلم جو کہ اس ماحول سے الگ اور جدا ہوں ان کے متعلق بھی جاذبہ رکھنا چاہئے تا کہ ان کی بھی ہدایت ہو سکے اگر چہ اسلام کی اصل جاذبہ کی ایجادپر ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم ہر حالت میں ایک ہی رفتار رکھیں ؛بلکہ بعض مواقع پر دافعہ کی چاشنی اور مٹھاس سے بھی فائدہ حاصل کرنا چاہئے۔ اس بات کی وضاحت کے لئے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے اس جلسہ میں جو وقت باقی رہ گیا ہے اسی اعتبار سے کچھ باتوں کو پیش کررہا ہوں اور بقیہ باتوں کو بعد میں عرض کروں گا، ا ن شاء للہ ۔

۱۴۸

جاذبہ رکھنے والے اسلامی کرداروں کے بعض نمونے

مذہب اسلام میں عدل و انصاف،احسان ، لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک اور لوگوں کو خوش رکھنے کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے ؛اسلام کی بڑی عبادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک انسان دوسرے کو خوش کرے اور اگر دوسرا غمگین و رنجیدہ ہو تو اس کے رنج وغم کوکسی نہ کسی طرح دور کرے ۔بعض روایتوں میں ایک مومن کو خوش رکھنے اور اس سے رنج و غم کو دور رکھنے کا ثواب سالوںکی عبادت سے بہتر ہے یہاں تک کہ اگر یہ کام صرف اتنا ہو کہ اس کے ساتھ محبت آمیز برتائو کرے یا ایسی بات کہے جس سے اس کو امید ہوجائے اور اس کو سکون دل پیدا ہو جائے مثلاً مومن کو دیکھ کر مسکرانا ،اس سے ہاتھ ملانا اور اس کو گلے لگانا ، بیماری کے وقت اس کی عیادت کرنا ، اس کے کاموں میں اس کی مدد کرنا جو کہ مسلمانوں کے درمیان ہماہنگی دوستی اور جاذبہ کا سبب ہیں ان سارے کاموں کا ثواب اسلامی ر و ا یات میں بہت کثرت کے ساتھذکر کیا گیا ہے؛ اسلام صرف اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے علاوہ ان میں سے بہت سارے احکام اور دستورات کو غیر مسلموں سے متعلق بھی بتاتاہے اور اس کے متعلق بہت ہی تاکید کرتا ہے ؛اسلام کہتا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم تمھارا پڑوسی ہے یا تم اس کے ساتھ سفر کر رہے ہو تووہ تم پرحق پیدا کر لیتا ہے کہ اگر بیچ راستے سے کسی مقام پر وہ تم سے الگ ہو رہا ہے

۱۴۹

تو جب وہ اپنے راستے پر جانے لگے تو خدا حافظی کے لئے چند قدم اس کے ساتھ جا ئو اور اس کے بعد رخصت کر کے اس سے جدا ہوئواور اپنا راستہ اپنائو،اسلام عدل و انصاف کی ہر ایک کے ساتھ تاکید کرتا ہے حتیّٰ کافروں کے ساتھ بھی ؛نیز کافر وں پر ظلم و ستم کو ناجائز سمجھتا ہے ،اگر کوئی کافر ہے تب بھی تم اس پر ظلم و ستم کا حق نہیں رکھتے ہیں :''( ولایجرمنکم شنٰان قوم علیٰ الاّ تعدلوااعدلواهواقرب للتقویٰ ) ( ۱ ) اور خبر دار کسی قوم کی عداوت تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف کو ترک کر دو انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے حتیّٰ کفّار کے متعلق صرف عدل و انصاف ہی کرنا کافی نہیں ہے بلکہ احسان (اچھا سلوک ) جس کا مرتبہ عدل سے بڑھ کر ہے اس کے متعلق بھی خدا کا حکم ہے کہ اس کوبھی کرنا چاہئے ، ارشاد ہوتا ہے( لا ینهاکم الله عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم ) ( ۲ ) اللہ ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے تم کو نہیں روکتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو، بعض موقعوں پر اس سے بڑھ کر حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ مسلمان

____________________

(۱) سورہ مائدہ آیہ ۸.

(۲) سورہ ممتحنہ آیہ ۸.

۱۵۰

اسلامی حکومت میں جوٹیکس دیتے ہیں تو اس ٹیکس میں سے کچھ ان کفار کودو جو کہ اسلامی حکومت کی سرحداور اس کے پڑوس میں زندگی بسر کرتے ہوں تا کہ وہ لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوں اور اسلام میں گھل مل جائیں(۱) بلکہ ان کو تھوڑا بہت صرف اس لئے دو تاکہ ان کا دل مسلمانوں کے حوالے سے نرم ہو اور وہ لوگ مسلمانوں پر مہر بان ہوں اور ان کے دلوں میں مسلمانوںاور اسلام کی محبت پیدا ہو؛ ایسا سلوک کرنے سے دھیرے دھیرے ایسا ماحول بن جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تم سے قریب ہوں اور وہ تم سے مانوس ہو جائیں؛ پھر وہ تمھاری زندگی کا قریب سے جائزہ لیںگے اور تمھاری باتوں کو سنیںگے؛ ممکن ہے کہ وہ متاثرہو کر مسلمان ہو جائیں ؛ایسی مثالیں تاریخ میں کثرت سے پائی جاتی ہیں کہ کفّار مسلمانوں سے رابطہ رکھنے ، اسلام کی منطقی باتیں سننے اور پیروان اسلام کی رفتارو گفتار اور ان کی سیرت و اخلاق کا مشاہدہ کرنے کی وجہ سے اسلام کو قبول کر لیابہر حال یہ چند نمونے تھے جنکو اسلام نے جاذبہ کے لئے اپنے دستورات اور احکام میں جگہ دی ہے ۔

____________________

(۱) مفہوم سورہ توبہ : آیہ ۶۰۔

۱۵۱

کیا اسلام کردار میں ہمیشہ جاذبہ کی تاکید کرتا ہے؟

جس بات کی جانب توجہ دینا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسلام جس جاذبہ کی سیاست کو اپنانے کا حکم دیتا ہے چاہے وہ مسلمانوں سے متعلق ہو یا کفار سے یہ حکم کلیت نہیں رکھتا ہے؛ بلکہ کبھی کبھی یہی دافعہ کا بھی حکم رکھتا ہے اور اس کو اپنانے کا حکم دیتا ہے؛ کبھی کبھی محبت و احسان، روحی رشد و تکامل اور ہدایت کا سبب نہیں بنتے اس کے بر خلاف اس کے مقابل میں ایک دیوار کھڑی کر دیتے کبھی کبھی حیوانی خواہشات اور مادی شہوات کے اثر سے اور دوسرے اجتماعی عوامل یا گھریلو تربیت اور اس جیسے اثرات کی وجہ سے انسان کے اندر ستم گری آوارگی اور درندگی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے؛ اور اس حال میں اگر اس کو نہ روکا جائے تو وہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ دھیرے دھیرے اور دن بہ دن برائیوں اور بد بختیوں کی دلدل میں دھنستا جاتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کے لئے بھی تکلیف و اذیت اور ان کے حقوق کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔

ایسی جگہوں پر خود اپنی اورمعاشرہ کی اصلاح کے لئے اس کو متنبہ کرنا چاہئے تا کہ وہ برائیوں سے باز آ کر اچھائی اور نیکی کے راستے پر وا پس آجائے یعنی اس تنبیہ کے اندر رحمت بھی ہے اور یہ تنبیہ خود اس کو زیادہ گمراہ ہونے سے بھی روکتی ہے او ردوسروں تک اس کی برائی پہونچنے سے ھی مانع ہوتی ہے۔ البتہ ظاہری تنبیہ چاہے مالی اعتبار سے جرمانہ کی شکل میں ہو، چاہے کوڑے کی سزا ہویا قتل یا قیدیا دوسری اور سزائیں ،بہر حال یہ سب انسان کے لئے تکلیف اور زحمت کا سبب ہوتا ہے اور فطری طور پر کوئی بھی اس سے خوش نہیں ہوتا ہے بہر حال اسلام کہتا ہے کہ خاص حالات میں تمھاراسلوک خشونت اور سختی کے ساتھ ہونا چاہئے اور دافعہ رکھنا چاہئے ،کیونکہ ہر جگہ پر جاذبہ مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے ۔

۱۵۲

پچھلی بحث کا خلاصہ

یہاں تک کی گفتگو کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہوا کہ سب سے پہلے ہم نے اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی تعریف بیان کی ؛جیسا کہ ہم نے کہا کہ اسلام میں جاذبہ اور دافعہ ممکن ہے کسی چیز یا انسان یا پھر عقیدہ و فکر سے مربوط ہو، اسلام کے متعلق ہم نے بیان کیا کہ وہ عقیدے اور احکام اور اخلاق کے مجموعہ کا نام ہے جاذبہ اور دافعہ، اسلام میں ان تینوں میں کسی سے بھی مربوط ہو سکتا ہے اس کے بعد اسلام کے احکام وقوانین سے مربوط جاذبہ اور دافعہ کے متعلق بحث کی اس بحث کے ذیل میں ہم نے عرض کیا کہ اسلام میں کچھ احکام ہیں جو کہ لوگوں کو پسند ہیں اور اکثر لوگ اس کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور بہت سے ایسے احکام بھی ہیں جو لوگوں کو پسند نہیں ہیں اور اس کی جانب رجحان نہیں رکھتے ہیں اور وہ ان کے لئے دافعہ ہیں عطر لگانا ،مسواک کرنا،صاف ستھرے رہنا ،اچھا اخلاق ، سچّائی، امانت داری، انصاف اور احسان یہ سب ایسی چیزیں ہیں کہ اسلام ان کا حکم دیتا ہے اور یہ سب لوگوں کے لئے جاذبہ رکھتی ہیں ۔روزہ رکھنا ، جہاد کرنا ،میدان میں جانا ،مالیات جیسے خمس و زکواة کا ادا کرنا یہ سب ایسے احکام ہیں جو کہ اسلامی قوانین کے زمرہ میں آتے ہیں لیکن اکثر لوگوں کو یہ سب اچھا نہیں لگتا ہے، اور ان کے لئے دافعہ رکھتا ہے؛ اس کے بعد اصل موضوع کو پیش کیا کہ اسلام کا دستور مسلمانوں کے لئے دوسروں کے ساتھ برتائو کے سلسلے میں کیا ہے ؟

کیا اسلام یہ کہتا ہے کہ مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھیں اور مسکرا کر بولیں اور صرف جاذبہ سے استفادہ کریں یا بعض جگہوں پر خشونت وسختی اور دافعہ کا بھی حکم دیتا ہے ؟ جو وضاحت ہم نے پیش کی اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیمات میں دونوں کا حکم ہے اگر چہ ایسے موارد بہت کم ہیں کہ جن میں دوسروں کے ساتھ مسلمانوں کا برتائوخشونت آمیز ہو۔لیکن پھر بھی ایسے مواقع پائے جاتے ہیں ان کے نمونے ان شاء للہ آ ئندہ جلسوں میں پیش کئے جائیں گے ۔

۱۵۳

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود (۲ )

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے بارے میں تین طرح کے سوالات

پچھلے جلسے کے مطالب کے ذیل میں اگر ہم جاذبہ اور دافعہ کے حدود کے بارے میں اسلام کے مطابق گفتگو کرنا چاہیں جو کہ تمام جہتوں کو شامل ہو تو اس بارے میں کم سے کم تین طرح سے گفتگو ہو سکتی ہے۔

گفتگو کا پہلا عنوان اور محور یہ ہے کہ ہم بحث اس طریقے سے کریں کہ اصولی طور پر اسلام کے تمام معارف چاہے وہ عقیدہ سے متعلق ہوں یا اخلاق و احکام سے خواہ وہ ایک انسان سے مربوط ہوں یا ُپورے معاشرے سے عبادتی ہوں یا حقوقی یا سیاسی ہے یا....،یہ مسائل اس بات کا سبب ہوتے ہیں کہ انسان بعض امور کو اپنے اندر جذب کرے اور بعض امور کو دفع کرے وہ امور مادی ہوں یا معنوی؛ اس صورت میں جب ہم کہتے ہیں کہ اسلام جاذبہ رکھتا ہے ؛یعنی اس کے معارف اور احکام اس طرح ہیں کہ وہ انسان کو اس بات پر ابھارتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کو اپنے اندر جذب کرے ،اور اسلام کے دافعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں وہ ان چیزوں سے پرہیز کرے اور ان کو اپنے سے دور رکھے ؛یہ دافعہ اور جاذبہ کے پہلے معنی ہیں کہ جس کا اسلام میں تصّورہے؛او ر اسی کی بنیاد پر سوال پیش کیا جا سکتا ہے، اس کا مختصر جواب بھی یہ ہے کہ ہم چار فرض تصور کریں :

(۱) اسلام صرف جاذبہ رکھتا ہے

(۲)اسلام صرف دافعہ رکھتا ہے

(۳) اسلام نہ جاذبہ رکھتا ہے اور نہ ہی دافعہ

(۴) اسلام جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتا ہے ،کہ ان چاروں میں سیچوتھا فرض صحیح ہے۔

۱۵۴

دوسرا معنی جو اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے لئے لیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ ہم اس بات کے قائل ہوں کہ اسلام کے معارف اور احکام اس طرح ہیں کہ بعض افراد کے لئے جاذبہ رکھتے ہیں اور بعض افراد کے لئے دافعہ رکھتے ہیں ،جاذبہ یعنی وہ لوگوںکو اپنی طرف کھیچنتے ہیں اور دافعہ یعنی وہ ان کے لئے اسلام سے دوری کا سبب بنتے ہیں یا تمام اسلامی معارف میں بعض عناصر ایسے ہوتے ہیں اور وہ ان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور بعض عناصر ایسے بھی ہیں جن کو بعض افراد پسند نہیں کرتے ہیں اور ان کے لئے دفع اور دوری کا سبب بنتے ہیں تیسرے معنی یہ ہیں کہ ہم اس بات کو دیکھیں کہ اسلام غیر مسلموں کو اسلام کی طرف بلانے میں یا وہ لوگ جو کہ مسلمان ہیں انکی تربیت اور رشد و کمال کے لئے کس طریقے کو اپناتا ہے اور کون سے عمل انجام دینے کو کہتا ہے؟ کیا صرف جاذبہ کے طریقے کو اپناتا ہے یا دافعہ کے طریقے کو اختیار کرتا ہے یا دونوں طریقوںکو استعمال کرتا ہے ؟

انسان کاتکامل جاذبہ اور دافعہ کارہین منّت ہے

اس سے قبل کہ ہم ان تینوں معانی پر تفصیلی گفتگو اور بحث کریں اس سوال کو پیش کریں گے کہ انسانکے لئے ایک متحرک مخلوق کے عنوان سے جو کہ اپنے تکامل کے راستے میں ایک مقصد کو نظر میں رکھتا ہے اور اس تک پہونچنے کی کوشش کرتا ہے کیا اصلاً کوئی قوت جاذبہ ہے جو زیادہ سے زیادہ اور بہتر طریقے سے اس راستے میں اس کی مدد کرتی ہے یا کوئی قوت دافعہ ہے یا دونوں قوتیں پائی جاتی ہیں ؟

۱۵۵

اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں ہے تھوڑے سے غور و فکر اور دقت کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اگر زندہ رہنے والی چیزیںجو کہ دنیا میں پائی جاتی ہیں ان کو دیکھا جائے؛ چاہے وہ حیوان ہوں یا انسان؛ پیڑ پود ے ہوں یا کچھ اور؛سب کے سب جاذبہ اور دافعہ دونوں کے محتاج ہیں ؛ہر زندہ رہنے والی چیز کے لئے سب سے اہم اور پہلی چیز جو اس کے لئے خصوصیت رکھتی ہے، وہ غذا ہے۔ تمام زندہ موجودات اپنے نشو نما نیز اپنی زندگی کو باقی رکھنے کے لئے کھانے اور غذا کی احتیاج رکھتے ہیں غذا اور کھانا بغیر جاذبہ کے نہیں ہو سکتا ؛یعنی غذا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے باہر سے کوئی چیز جسم کے اندر داخل ہوکر جذب ہو جائے اسی طرح ہر چیز کا جذب تمام زندہ موجودات کے لئے فائدہ مند نہیں ہے بلکہ بعض چیزوں کا جذب،زندہ شے کی نشوو نما اور اس کے تحرک میں خلل پیدا ہونے کا باعث ،اس کے متوقف ہونے،یہاں تک کی اس کی موت کا باعث ہوجاتا ہے لہذٰا ضروری ہے کہ ان چیزوں کی نسبت دافعہ بھی رکھتا ہو تاکہ ان کو اہنے بدن سے دور رکھے۔ لہذٰا تمام زندہ موجودات اپنے وجود کے باقی رکھنے کے لئے اور اپنے رشد وکمال کے لئے جاذبہ اور دافعہ دونوں کے محتاج ہیں ۔ اس جگہ پر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بعض چیزوں کو جذب کرے اور بعض چیزوں کو دفع کرے تو جو بات سب سے پہلے ذہن میں آتی ہے وہ مادی جذب و دفع ہوتی ہے یعنی ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ تمام جگہوں پر جو کچھ جذب یا دفع ہے ایک مادی اور محسوس ہونے والی چیز ہے ؛ لیکن ہم کو اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے کہ اسلامی معارف کے اعتبار سے انسان کی زندگی صرف اسی بیو لوجک اور مادی زندگی تک محدود نہیں ہے ؛بلکہ انسان ایک معنوی زندگی بھی رکھتا ہے جو کہ روح سے مربوط ہے یعنیایک وہ زندگی،نشو و نما اور تکامل ہے جو کہ انسان کے جسم سے مربوط ہے اورایک وہ زندگی،نشو و نما اور تکامل ہے جو انسان کی روح سے مربوط ہے۔ خدا وند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا استجیبوا لله وللرسول اذا دعاکم لما یحییکم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو ایمان لائے ہو جب خدا و رسول تم

____________________

(۱) سورہ انفال آیہ ۲۴

۱۵۶

کو کسی چیز کی طرف بلائیں جو کہ تم کو زندگی بخشنے والی ہو تو تم اس پر لبےّک کہو ؛یہ بات مسلم ہے کہ اس آیہ کریمہ میں خدا نے جن لوگوں کو مخاطب کیا ہے؛ وہ صاحبان ایمان ہیں اور حیوانی زندگی رکھتے ہیں ؛ اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی باتوں کو سنتے ہیں ، تو خدا اور رسول کیوں ان لوگوں کو اس چیز کی طرف بلارہے ہیں جو ان کو زندگی بخشتی ہو؛ یقیناً یہ حیات جسمانی اور مادی زندگی نہیں ہے بلکہ اس سے دوسری زندگی مراد ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے( و ما علمّناه الشعر وما ینبغی له ان هو الّاذکر و قرآن مبین لینذر من کان حيّاً ) ( ۱ ) ہم نے اس (رسول )کوشعر نہیں سکھایا اور نہ ان کے لئے یہ مناسب ہے یہ صرف نصیحت اور روشن قرآن کے علاوہ کچھ نہیں ہے تا کہ جو زندہ ہوں ان کو ڈرائیں۔ اب یہ کہ قرآن اس شخص کی ہدایت کرتا ہے جو زندہ ہے اس کا مطلب کیا یہی جسمانی اور مادی زندگی ہے ؟ اگر مراد یہی مادی زندگی ہے تو ایسی زندگی تو سارے انسان رکھتے ہیں ؛ لہذٰا قرآن کو سب کی ہدایت کرنی چاہئے لیکن ہم دیکھتے اور جانتے ہیں کہ قرآن نے ابولہب ،ابو جہل جیسوں کی اگر چہ یہ لوگ ظاہری اور جسمانی زندگی رکھتے تھے، کوئی ہدایت نہیں کی اور قران ایسے لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ،تو معلوم ہوا کہ اس حیات سے مراد قران میں کوئی دوسری حیات ہے حیات یعنی زندہ دلی ،روحی زندگی جو کہ انسان کو'' سننے والا کاندیتی ہے تاکہ خدا کے

____________________

(۱) سوررہ ےٰسین : آیہ ۶۹ اور ۷۰ ۔

۱۵۷

کلام کو سن کر ہدایت حاصل کر سکے( فانّک لا تُسمع الموتی'' ) ( ۱ ) اے رسول آپ مردوں کو نہیں سناسکتے ،اس آیہ میں مردوں سے مرادمردہ دل افرادہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے جسم تو زندہ ہیں لیکن ان کی روحیں مردہ ہیں روح اور دل کی زندگی کی کیا نشانی ہے ؟ اس کی علامت اور نشانی ،خشیت و خوف الٰہی ہے( انما تنذرالذین یخشون ربّهم بالغیب'' ) ( ۲ ) اے رسول ! تم صرف انھیں لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جواز غیب خدا سے ڈرتے ہیں ؛ دل کے زندگی کی نشانی یہ ہے کہ جب ان کو متوجہ کریں اور بتائیںکہ تمھارا ایک خالق ہے اس کا تم پر حق ہے اور اس نے تم کو کسی مقصد کے تحت خلق کیا ہے اور تمھارے اوپراس نے کچھ ذمہ داری قراردی ہے تو اسکا دل کانپ اٹھتا ہے اور پھر کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہو تا ہے،دل میں خوف خدا اور ایمان آنے کا نتیجہ یہ ہے کہ'( 'یئوتکم کفلین من رحمته ویجعل لکم نوراًتمشون به ) ( ۳ ) یعنی خدا وند عالم اپنی رحمت سے تم کودوہرے حصے عطا فرماتا ہے اور ایسا نور قرار دیتا ہے کہ اس کے سبب اور اس کی برکت سے تم چل سکتے ہو؛ یہ نور، مادی اور محسوس کرنے والا نور نہیں ہے ،بلکہ وہی نور ہے جو کہ روح اور دل کی زندگی سے مربوط ہے، ایسی زندگی جس کی طرف خداوند عالم نے قران مجید میں مختلف مقامات پراشارہ

____________________

(۱)سورہ روم :آیہ۵۲۔

(۲) سورہ فاطر: آیہ ۱۸۔

(۳) سورہ حدید: آیہ ۲۸۔

۱۵۸

کیا ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے( فا نها لا تعمی الابصار و لٰکن تعمی القلوب التیّ فی الصدور'' ) ( ۱ )

حقیقت میں آنکھیں اندھی نہیں ہیں بلکہ وہ دل جو کہ سینے میں ہیں وہ اندھے ہیں ،مادی اور جسمانی آنکھ زندہ ہے اور دیکھتی ہے، لیکن روحانی اور باطنی آنکھ نہیں رکھتے ہیں ،وہ صنوبری دل جو کہ سینے کے اندر دھڑکتا ہے اور زندہ ہے لیکن ایک دوسرا جو دل بھی ہے کہ عیب ونقص اسی میں ہے( ثمّ قست قلوبکم من بعدذالک فهی کالحجارة او اشدّ قسوة ) ( ۲ ) پھر اس کے بعد تمھارے دل سخت ہوگئے پتھر کی، طرح بلکہ اس بھی زیادہ سخت وہ دل پتھر جیسا بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے کہ کوئی چیز اس میں اثر نہیں کر سکتی ؛بلکہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو چکا ہے( وانّ من الحجارة لما یتفجّرمنه الانهار وانّ منها لما یشقّق فیخرج منه المائ'' ) ( ۳ ) اور بعض پتھروں سے نہریںنکلتی ہیں اور بعض شگافتہ ہوتے ہیں تو اس سے پانی نکلتا ہے بہر حال قران مجید میں ایسی بہت سی آیتیں پائی جاتی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قرآن اس جسمانی آنکھ، کان اوردل کے علاوہ حیاتی آنکھ،کان،دل کا قائل ہے، اور جس طرح سے جسم کی زندگی،نشو ونما اس کے تکامل کے لئے جذب و دفع کی ضرورت ہے ویسے ہی روحی حیات کو بھی جذب و دفع کی احتیاج ہے۔ جس طرح سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو کہ جسمانی زندگی پر اثر ڈالتی ہیں اور اس جسم کے لئے مفید یا مضر ہیں ایسے ہی بہت سے عوامل ایسے بھی پائے

____________________

(۱)سورہ حج؛آیہ ۴۶۔

(۲)اور (۳)سورہ بقرةآیة۷۴.

۱۵۹

جاتے ہیں جو کہ اس روحانی زندگی کے لئے فائدہ مند یا نقصان دہ ہیں ۔جس طرح جسمانی زندگی کئی مرتبے اوردرجے رکھتی ہے اور اس میں نقص و کمال ، اور شدت وضعف پایا جاتا ہے، روحانی زندگی بھی اسی طرح کئی درجے اور مرتبے رکھتی ہے ؛روحانی زندگی کا سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان انبیاء کی پہلی دعوت جو ایمان اور توحید سے متعلق ہے اس کو قبول کرے اور اس کو جذب کرسکے ۔ البتہ انبیاء کی اس ہدایت کے اثر اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کے بعد انسان دھیرے دھیرے روحانی زندگی کے بلند مرتبہ کو حاصل کر سکتا ہے؛ اسی جگہ پرتزکیہ و تہذیب نفس کی بحث آتی ہے۔

تزکیہ نفس یعنی روح کے کمال کے لئے لازمی جذب اور دفع

نفس کو پاک و صاف کرنے (تزکیہ نفس )کی بحث اصل میں وہیروح سے مربوط جذب و دفعبحث ہے۔ ایک درخت کے لئے جب یہ چاہیں کہ وہ خوب تناور اورپھولے پھلے توضروری ہے کہ وہ مٹی اور ہوا سے مواد کو جذب کرے اور اس کی چھٹائی کی جائے اور مضر نباتی زہروں اور آفتوں کو او سے دور رکھا جائے۔اور یہ دونوں چیزیں یعنی جذب و دفع ضروری ہے ؛انسان کے لئے بھی یہ چیزیں ضروری ہیں یعنی وہ ایسا کام کرے کہ اس کی روح صیقل ہو۔اس کا مقدمہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جو انسان کی روح اور زندگی کے لئے ضروری اور مفید ہو ںان کو جذب کرے اور وہ چیزیں جو انسان کی روح کے لئے مضر اور نقصان دہ ہیں اس کو اپنے سے دور کرے ، لہذٰا سب سے پہلاقدم یہ ہے کہ انسان ان چیزوں کو پہچانے اور ان کی معرفت حاصل کرے اور غفلت و جہالت سے باہر آئے؛ انسان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی روح ایسی ہے کہ( بذکر الله تطمئنّ القلوب ) (۱) خدا وند عالم کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے، روح کی غذا خدا کا ذکر اور اس کی یاد ہے، دل کی زندگی اور خدا کی یاد کے درمیان ربط پایا جاتا ہے؛ یہی دل ایسا ہے کہ اگر اس کی حفاظت نہ کی جائے،

____________________

(۱) سورہ رعد: آیہ ۲۸۔

۱۶۰

اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی

____________________

(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔

۱۶۱

دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔

منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔

۱۶۲

روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ

یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان

____________________

(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔

۱۶۳

لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔

یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے

____________________

(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵

۱۶۴

اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔

آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر

یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا

____________________

(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔

۱۶۵

لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔

وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

۱۶۶

جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو

____________________

(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔

۱۶۷

مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔

(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔

۱۶۸

اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔

جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔

اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔

۱۶۹

روح کی بیماری اور سلامتی

روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔

ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ

____________________

(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔

۱۷۰

روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔

کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔

(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔

۱۷۱

ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں

____________________

(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.

۱۷۲

انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.

۱۷۳

بحث کا خلاصہ

اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔

البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :

(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔

(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔

(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔

۱۷۴

سوال اور جواب

سوال :

جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟

جواب :

سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔

۱۷۵

یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔

۱۷۶

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳

پچھلی بحثوں پر سرسری نظر

پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:

(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں

(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔

۱۷۷

انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع

لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟

ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔

۱۷۸

دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔

۱۷۹

(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ

انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟

اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا

____________________

(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232