دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)25%

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل) مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے
صفحے: 232

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 232 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 82017 / ڈاؤنلوڈ: 4524
سائز سائز سائز
دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

دقیق شبھات ٹھوس جوابات( جلد اوّل)

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

کہ اسے حکومت کی نگرانی میں میرے پاس بھیج دیا جائے _جب عبداللہ بن مسعود مدینہ میں وارد ہوا تو خلیفہ منبر پر تھے جیسے ہی انکی نظر عبداللہ بن مسعود پر پڑی تو کہنے لگے بُرا جانورداخل ہوگیا ہے ( اور بہت سی گالیاں دیں قلم جنہیں لکھنے سے شرم محسوس کرتا ہے) عبداللہ بن مسعود کہنے لگے میں ایسا نہیں ہوں،میں رسولخدا(ص) کا صحابی ہوں_ جنگ بدر اور بیعت رضوان میں شریک تھا_

حضرت عائشےہ ،عبداللہ کی حمایت کے لیے اٹھیں لیکن حضرت عثمان کا غلام ،عبداللہ کو مسجد سے باہر لے گیا اور انہیں زمین پر پٹخا اور انکی پسلیاں توڑدیں(۱)

۳: بلاذری اپنی اُسی کتاب انساب الاشراف میں نقل کرتے ہیں کہ مدینہ کے بیت المال میں بعض جواہرات اور زیورات تھے حضرت عثمان نے ان میں سے کچھ زیورات اپنے گھروالوں کو بخش دیئےجب لوگوں نے دیکھا تو کھلے عام اعتراض شروغ کردیا اور انکے بارے میں سخت وگھٹیا باتیں کہیں حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور وہ منبر پر گئے اور خطبہ کے دوران کہا ہم غنائم میں سے اپنی ضرورت کے مطابق اٹھائیں گے اگرچہ لوگوں کی ناک زمین پر رگڑی جائے

اس پر حضرت علی _ نے کہا کہ '' مسلمان خود تمہارا راستہ روک لیں گے''

جناب عمّار یاسر نے کہا: سب سے پہلے میری ناک زمین پر رگڑی جائے گی

( اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ میں تنقید سے باز نہیں آؤنگا)

حضرت عثمان کو غصہ آگیا اور کہنے لگے تو نے میری شان میں گستاخی کی ہے_ اس کو گرفتار

____________________

۱) انساب الاشراف، جلد ۶ ص ۱۴۷، تاریخ ابن کثیر، جلد ۷ ص ۱۶۳و ۱۸۳ حوادث سال ۳۲ ( خلاصہ)_

۶۱

کر لو_ لوگوں نے جناب عمّار کو پکڑ لیا اور عثمان کے گھر لے گئے وہاں انہیں اسقدر ماراگیا کہ وہ بے ہوش ہوگئے_ اس کے بعد انہیں جناب ام سلمہ ( زوجہ پیغمبر (ص) کے گھر لایا گیا وہ اس وقت بے ہوشی کے عالم میں تھے یہاںتک کہ انکی ظہر، عصر اور مغرب کی نماز قضاء ہوگئی_ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے وضو کرکے نماز ادا کی اور کہنے لگے یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہمیں خدا کی خاطر اذیت و آزار پہنچائی جارہی ہے_(۱) ( ان واقعات کی طرف اشارہ تھا جنکا زمانہ جاہلیت میں کفار کیطرف سے انہیں سامنا کرنا پڑا تھا)_

ہم ہرگز مائل نہیں ہیں کہ تاریخ اسلام کے اس قسم کے ناگوار حوادث کو نقل کریں ( ترسم آزردہ شوی ورنہ سخن بسیار است) اگر ہمارے بھائی تمام صحابہ اور انکے تمام کاموں کے تقدّس پر اصرار نہ کرتے تو شاید اتنی مقدارکے نقل کرنے میں بھی مصلحت نہیں تھی_ اب سوال یہ ہے کہ اصحاب رسول(ص) میں سے تین پاکیزہ ترین افراد ( سعد بن معاذ ،عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر) کو گالیاں دینے اور مارنے پٹینے کی کیا تو جیہ ہوسکتی ہے؟ ایک باعظمت صحابی کو اتنا مارا جائے کے اسکی پسلیاں ٹوٹ جائیں اور دوسرے کو اتنا مارا جائے کہ بے ہوش ہوجائے اور اس کی نمازیں قضاہوجائیں_

کیا یہ تاریخی شواہد کہ جنکے نمونے بہت زیادہ ہیں ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم حقائق سے چشم پوشی کریں اور کہیں کہ تمام اصحاب اچھے اور انکے تمام کام صحیح تھے_ اور ایک سپاہ ''سپاہ صحابہ '' کے نام سے بنادیں اور انکے تمام کاموں کا بلا مشروط دفاع کریں_

کیا کوئی بھی عقلمند اس قسم کے افکار کو پسند کرتا ہے؟

____________________

۱) انساب الاشراف جلد ۶ ص ۱۶۱_

۶۲

اس مقام پر پھر تکرار کرتے ہیں کہ رسولخدا(ص) کے اصحاب میں مؤمن ، صالح اور پارسا افراد بہت سے تھے لیکن کچھ ایسے افراد بھی تھے جنکے کاموں پر تنقید کرنا چاہیے اور انکی تحلیل کرتے ہوئے انہیں عقل کے ترازو پر تولنا چاہیے اور اس کے بعد انکے بارے میں حکم لگانا چاہیے_

۹_ پیغمبر(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد بعض صحابہ پر حدّ کا جاری ہونا

صحاح ستّہ یا برادران اہلسنت کی دیگر معروف کتابوں میں کچھ موارد ایسے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بعض اصحاب، رسولخدا(ص) کے زمانے میں یا اس کے بعد ایسے گناہوں کے مرتکب ہوئے جن کی حد وسزا تھی_ لہذا اُن پر حد جاری کی گئی _

کیا اس کے باوجود آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب عادل تھے؟ اور ان سے کوئی غلطی نہیں ہوئی؟ یہ کیسی عدالت ہے کہ ایسا گناہ کیا جائے جس پر حد جاری ہوتی ہو اور ان پرحد جاری ہونے کے بعد بھی عدالت اپنی جگہ محکم باقی رہتی ہے؟

ہم ذیل میں نمونہ کے طور پر چند موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف) ''نعیمان'' صحابی نے شراب پی، پیغمبر اکرم (ص) نے حکم صادر فرمایا اور اسے تازیانے مارے گئے(۱)

ب) ''بنی اسلم '' قبیلہ کے ایک مرد نے زنائے محصّن کیا تھا_ پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر اسے سنگسار کردیا گیا(۲)

____________________

۱)صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۱۳، حدیث نمبر ۶۷۷۵ ، کتاب الحدّ_

۲) صحیح بخاری ، جلد ۸ ص ۲۲ ، حدیث ۶۸۲۰_

۶۳

ج) واقعہ افک میں پیغمبر اکرم (ص) کے حکم پر چند افراد پر حدّ قذف جاری کی گئی تھی(۱)

د) پیغمبر اکرم (ص) کے بعد عبدالرحمن بن عمر اور عقبہ بن حارث بدری نے شراب پی او ر مصر کے امیر عمر ابن عاص نے ان پر حدّ شرعی جاری کی _ اس کے بعد عمر نے دوبارہ اپنے بیٹے کو بلایا اور دوبارہ اس پر حدّ جاری کی(۲)

ہ) ولید بن عقبہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے شراب پی اور مستی کے عالَم میں صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی _ اُسے مدینہ حاضر کرکے شراب کی حد اس پر جاری کی گئی_(۳)

ان کے علاوہ اور بہت سے موارد ہیں، مصلحت کی خاطر جن کے ذکر سے اجتناب کیا جا رہا ہے_ اس کے باوجود کیا اب بھی ہم حقائق کے سامنے آنکھیں اور کان بند کرلیں اور کہہ دیں کہ سب اصحاب عادل تھے؟

۱۰_ نادرست توجیہات

۱_ تنزیہ او رہر لحاظ سے تقدّس کے نظریہ کے طرفدار جب متضاد حالات کے انبوہ سے روبرو ہوتے ہیں تو اپنے آپ کو اس توجیہ کے ساتھ قانع کرتے ہیں کہ سب صحابہ ''مجتہد'' تھے اور ہر ایک نے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا_یقیناً یہ تو ضمیر اوروجدان کو فریب دینا ہے کہ یہ برادران اس قسم کے آشکار اختلافات میں اس بوگس توجیہہ کا سہارا لیں_

____________________

۱) المعجم الکبیر، جلد ۲۳ ص ۱۲۸ و کتب دیگر_

۲) السنن الکبری ، جلد ۸ ص ۳۱۲ اور بہت سی کتب _

۳) صحیح مسلم، جلد ۵ ، ص ۱۲۶ حدیث نمبر ۱۷۰۷_

۶۴

کیا بیت المال کو ہڑپ کرنے کے بارے میں ایک معمولی سی تنقید اور سادہ سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے مقابلے میں ایک مؤمن صحابی کو اتنا مارنا کہ وہ بے ہوش اور اس کی نمازیں قضا ہوجائیں، اجتہاد ہے؟ کیا ایک اور مشہور صحابی کی پسلیاں توڑ دینا صرف اس اعتراض کی خاطر جو اس نے کیاکہ کیوں ایک شرابی ( ولید ) کو کوفہ کا حاکم تعیین کیا گیا ہے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اس سے بڑھ کر امام المسلمین کے مقابلے میں کہ جو مقامات الہی کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے منتخب کردہ اتّفاقی خلیفہ تھے، صرف جاہ طلبی اور حکومت حاصل کرنے کی خاطر جنگ کی آگ بھڑ کانا جس میں ہزاروں مسلمانوں کا خون بہہ جائے، اجتہاد شمار ہوتا ہے؟

اگر یہ موارد اور ان کی مثل ، اجتہاد کی شاخیس شمار ہوتی ہیں تو پھر طول تاریخ میں ہونے والی تمام جنایات کی یہی توجیہ کی جاسکتی ہے_

اس کے علاوہ کیا اجتہاد صرف اصحاب میں منحصر تھا یا کم از کم چند صدیوں بعد بھی امت اسلامی میں کثرت کے ساتھ مجتہد موجود تھے بلکہ بعض علمائے اہلسنت کے اعتراف اور تمام علمائے شیعہ کے مطابق آج بھی تمام آگاہ علماء کے لئے اجتہاد کا دورازہ کھلا ہے؟

جو افراد اس قسم کے بھیانک افعال انجام دیں کیا آپ انکے افعال کی توجیہہ کرنے کو حاضر ہیں؟ یقیناًایسا نہیں ہے_

۲: کبھی کہا جاتا ہے کہ ہمارا فریضہ یہ ہے کہ انکے بارے میں سکوت اختیار کریں_

( '' تلک اُمةٌ قد خَلَت لَهَا ما كَسَبَت و لَكُم ما كَسَبتُم و لَا تُسأَلُونَ عَمّا كَانُوا يَعمَلُون'' ) (۱)

____________________

۱) سورة بقرہ آیت ۱۳۴_

۶۵

وہ ایک اُمّت ہیں جو گزرچکے انکے اعمال انکے لیئےیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیئےاور آپ سے انکے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھا جائیگا_

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ہماری سرنوشت میں مؤثر نہ ہوتے تو پھر یہ بات اچھی تھی _ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) کی روایات کو انکے توسط سے دریافت کریں اور انہیں اپنے لیئے نمونہ عمل قرار دیں_ تو کیا اس وقت یہ ہمارا حق نہیں ہے کہ ثقہ اور غیر ثقہ اسی طرح عادل اور فاسق کی شناخت کریں تا کہ اس آیت( '' إن جاء کم فاسقٌ بنبائ: فَتَبَيَّنُوا'' ) اگر فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کیجئے ''(۱) پر عمل کرسکیں_

۱۱_ مظلوميّت علی (ع)

جو بھی تاریخ اسلام کا مطالعہ کرے اس نکتہ کو با آسانی درک کرسکتا ہے کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ حضرت علی _ جو علم و تقوی کا پہاڑ، پیغمبر اکرم (ص) کے نزدیک ترین ساتھی اور اسلام کے سب سے بڑے مدافع تھے، انہیں اسطرح ہتک حرمت، توہین اور سبّ و شتم کا نشانہ بنایاگیا_

انکے دوستوں کو اسطرح دردناک اذیتوں اور مظالم سے دوچار کیا گیا کہ تاریخ میں اسکی نظیر نہیں ملتی_ وہ بھی ان افراد کیطرف سے جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم (ص) کا صحابی شمار کرتے ہیں_

چند نمونے ملاحظہ فرمایئے

الف) لوگوں نے علی ابن جہم خراسانی کو دیکھا کہ اپنے باپ پر لعنت کر رہا ہے جب وجہ

____________________

۱) سورة حجرات آیة ۶_

۶۶

پوچھی گئی تو کہنے لگا: اس لئے لعنت کر رہاہوں کیونکہ اس نے میرا نام علی رکھا ہے_(۱)

ب ) معاویہ نے اپنے تمام کارندوں کو آئین نامہ میں لکھا: جس نے بھی ابوتراب (علی _ ) اور انکے خاندان کی کوئی فضیلت نقل کی وہ ہماری امان سے خارج ہے (اس کی جان و مال مباح ہے ) اس آئین نامہ کے بعد سب خطباء پوری مملکت میں منبر سے علی الاعلان حضرت علی (ع) پر سبّ و شتم کرتے اور اُن سے اظہار بیزاری کرتے تھے_ اس طرح ناروا نسبتیں انکی اور انکے خاندان کی طرف دیتے تھے_(۲)

ج ) بنواميّہ جب بھی سُنتے کہ کسی نو مولود کا نام علی رکھا گیا ہے اسے فوراً قتل کردیتے_ یہ بات سلمة بن شبیب نے ابوعبدالرحمن عقری سے نقل کی ہے_(۳)

د) زمخشری اور سیوطی نقل کرتے ہیں کہ بنو اميّہ کے دور حکومت میں ستّر ہزار سے زیادہ منابر سے سبّ علی (ع) کیا جاتاتھا اور یہ بدعت معاویہ نے ایجاد کی تھی_(۴)

ہ) جس وقت عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا کہ اس بُری بدعت کو ختم کیا جائے اور نماز جمعہ کے خطبوں میں امیرالمؤمنین علی _ کو بُرا بھلانہ کہا جائے تو مسجد سے نالہ و فریاد بلند

ہوگئی اور سب عمربن عبدالعزیز کو کہنے لگے '' ترکتَ السُنّة ترکتَ السُنّة'' تونے سنت کو ترک کردیا ہے_ تونے سنّت کو ترک کردیا ہے_(۵)

____________________

۱) لسان المیزان ، جلد ۴ ص ۲۱۰_

۲) النصائح الکافیہ ص ۷۲_

۳) تہذیب الکمال ، جلد ۲۰، ص ۴۲۹ و سیر اعلام النبلاء ، جلد ۵، ص ۱۰۲_

۴) ربیع الابرار ، جلد ۲، ص ۱۸۶ و النصائح الکافیہ، ص ۷۹ عن السیوطی_

۵) النصائح الکافیہ ، ص ۱۱۶ و تہنئة الصدیق المحبوب، تالیف سقاف ص ۵۹_

۶۷

یہ سب اس صورت میں ہے کہ برادران اہلسنت کی معتبر اور صحیح کتب کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ '' مَن سَبَّ عليّاً فَقد سَبّنی و مَن سبّنی فقد سبَّ الله '' جس نے علی (ع) کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس نے مجھے گالی دی اس نے خدا کو گالی دی ''(۱)

۱۲: ایک دلچسپ داستان

حُسن اختتام کے طور پر شاید اس واقعہ کو نقل کرنے میں کوئی مضائقہ نہ ہو کہ جو خود ہمارے ساتھ مسجد الحرام میں پیش آیا ہے_

ایک دفعہ جب عمرہ پر جانے کا اتفاق ہوا تو ایک رات ہم مغرب و عشاء کی نماز کے درمیان مسجد الحرام میں بیٹھے تھے کہ کچھ علماء حجاز کے ساتھ تمام اصحاب کے تقدّس کے بارے میں ہماری بحث شروع ہوگئی، وہ معمول کے مطابق اعتقاد رکھتے تھے کہ اصحاب پر معمولی سی بھی تنقید نہیں کرنا چاہیے _یایوں کہہ دیجئے کہ پھول سے زیادہ نازک اعتراض بھی ان پر نہیں کرنا چاہئے _ ہم نے اُن کے ایک عالم کو مخاطب کرکے کہا : آپ فرض کیجیئے کہ اس وقت'' جنگ صفین '' کا میدان گرم ہے_ آپ دو صفوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ صف علی (ع) کا یا صف معاویہ کا؟

کہنے لگے: یقیناً صف علی (ع) کا انتخاب کروں گا_

میں نے کہا: اگر حضرت علی (ع) آپ کو حکم دیں کہ یہ تلوار لے کر کر معاویہ کو قتل کردیں تو آپ کیا کریں گے؟

____________________

۱)اخرجه الحاکم و صَحَّهُ و ا قرّه الذهبی ( مستدرک الصحیحین ، جلد ۳، ص ۱۲۱)_

۶۸

کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنے لگے کہ معاویہ کو قتل کردوں گا لیکن اس پر کبھی بھی تنقید نہیں کرونگا

ہاں یہ ہے غیر منطقی عقائد پر اصرار کرنے کا نتیجہ کہ اس وقت دفاع بھی غیر منطقی ہوتا ہے اور انسان سنگلاخ میں پھنس جاتا ہے_

حق یہ ہے کہ یوں کہیں: قرآن مجید اور تاریخ اسلام کی شہادت کے مطابق، اصحاب پیغمبر اکرم (ص) ایک تقسیم کے مطابق چند گروہوں پر مشتمل تھے_ اصحاب کا ایک گروہ ایسا تھا جو شروع میں پاک، صادق اور صالح تھا اور آخر تک وہ اپنے تقوی پر ثابت قدم رہے_ ''عاشُوا سعداء و ماتوا السعدائ'' انہوں نے سعادت کی زندگی گذاری اور سعادت کی موت پائی_

ایک گروہ ایسا تھا جو آنحضرت(ص) کی زندگی میں تو صالح اور پاک افراد کی صف میں تھے لیکن بعد میں انہوں نے جاہ طلبی اور حبّ دنیا کی خاطر اپنا راستہ تبدیل کر لیا تھا_اور ان کا خاتمہ خیر و سعادت پر نہیں ہوا ( جیسے جمل و صفین کی آگ بھڑ کانے والے)

اور تیسرا گروہ شروع سے ہی منافقوں اور دنیا پرستوں کی صف میں تھا_ اپنے خاص مقاصد کی خاطر وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے جیسے ابوسفیان و غیرہ یہاں پر پہلے گروہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہم یوں کہیں گے_

( '' ربّنا اغفر لنا و لإخواننا الّذین سَبَقُونَا بالإیمان و لا تجعَل فی قلوبنا غلّاً للّذین آمَنُوا رَبّنا إنّک رَء وفٌ رَّحیم'' ) (۱)

____________________

۱) سورہ حشرآیت ۱۰_

۶۹

۴

بزرگوں کی قبروں کا احترام

۷۰

اجمالی خاکہ

اس مسئلہ میں ہمارے مخاطب صرف شدت پسند وہابی ہیں_کیونکہ اسلام کے بزرگوں کی قبور کی زیارت کو مسلمانوں کے تمام فرقے (سوائے اس چھوٹے سے گروہ کے ) جائز سمجھتے ہیں_ بہرحال بعض وہابی ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کیوں مذہبی رہنماؤں کی زیارت کے لیے جاتے ہو؟

اور ہمیں '' قبوريّون'' کہہ کر پکارتے ہیں_حالانکہ پوری دنیا میں لوگ اپنے گذشتہ بزرگوں کی آرام گاہوں کی اہمیت کے قائل ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے ہیں_

مسلمان بھی ہمیشہ اپنے بزرگوں کے مزاروں کی اہمیت کے قائل تھے اور ہیں اور انکی زیارت کے لیے جاتے تھے اور جاتے ہیں_ صرف ایک چھوٹا سا شدت پسند وہابی ٹولہ انکی مخالفت کرتا ہے اور اپنے آپ کو پوری دنیا کے مسلمان ہونے کا دعویدار اور ٹھیکیدار سمجھتا ہے_

البتہ بعض مشہور وہابی علماء نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کرنا مستحب ہے، لیکن زیارت کی نيّت سے رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے _ یعنی مسجد النبی (ص) کی زیارت کے قصد یا اس میں عبادت کی نيّت سے یا عمرہ کی نیت سے مدینہ آئیں اور ضمناً پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت بھی کرلیں_ لیکن خود زیارت کے قصد سے بار سفر نہیں باندھنا چاہیئے_

'' بن باز'' مشہور وہابی مفتی کہ جو کچھ عرصہ قبل ہی فوت ہوئے ہیں_ الجزیرہ اخبار کے مطابق وہ یہ کہتے تھے'' جو مسجد نبوی(ص) کی زیارت کرے اس کے لیے مستحب ہے کہ روضہ رسول(ص)

۷۱

میں دو رکعت نماز ادا کرے اور پھر آنحضرت(ص) پر سلام کہے اور نیز مستحب ہے کہ جنت البقیع میں جا کر وہاں مدفون شہداء پر سلام کہے''(۱)

اہلسنت کے چاروں ائمہ '' الفقہ علی المذاہب الاربعہ'' کی نقل کے مطابق پیغمبر اکرم (ص) کی قبر مبارک کی زیارت کو بغیر ان قیود اور شروط کے مستحب سمجھتے ہیں_

اس کتاب میں یوں نقل ہوا ہے'' پیغمبر اکرم (ص) کی قبر کی زیارت اہم ترین مستحبّات میں سے ہے اور اس بارے میں متعدّد احادیث نقل ہوئی ہیں'' اس کے بعد انہوں نے چھ احادیث نقل کی ہیں_(۲)

یہ وہابی ٹولہ اس مسئلہ میں مجموعی طور پر تین نکات میں دنیا کے باقی مسلمانوں کے ساتھ اختلاف رکھتا ہے_

۱_ قبروں پر تعمیر کرنا

۲_ قبور کی زیارت کے لیئے سفر کا سامان باندھنا ( شدّ رحال )

۳_ خواتین کا قبروں پر جانا

انہوں نے بعض روایات کے ذریعے ان تین موارد کی حرمت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان روایات کی یا تو سند درست نہیں یا اس مطلب پر ان کی دلالت مردود ہے ( انشااللہ عنقریب ان روایات کی تشریح بیان کی جائے گئی) ہمارے خیال کے مطابق یہ لو گ اس غلط حرکت کے لیے کچھ اور مقصدرکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یہ لوگ توحید و شرک والے مسئلہ میں وسوسے میں گرفتار ہیں_ شاید خیال کرتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کرنا انکی پوجا کرنے کے مترادف ہے اس لیے انکے علاوہ پوری دنیا کے مسلمان انکے نزدیک مشرک اور ملحد ہیں

____________________

۱) الجزیرہ اخبار شمارہ ۶۸۲۶( ۲۲ ذی القعدہ ۱۴۱۱ ق)_

۲) الفقہ علی المذاہب الاربعہ، جلد ۱ ،ص ۵۹۰_

۷۲

زیارت قبول کی گذشتہ تاریخ:

گذشتہ لوگوں کی قبروں کا احترام ( بالخصوص بزرگ شخصيّات کی قبروں کا احترام ) بہت قدیم زمانے سے چلا آرہاہے_ ہزاروں سال پہلے سے لوگ اپنے مردوں کا احترام کرتے تھے اور انکی قبروں اور بالخصوص بزرگان کی قبروں کی تکریم کرتے تھے_ اس کام کا فلسفہ اور مثبت آثار بہت زیادہ ہیں_

۱_ گذشتہ لوگوں کی تکریم کا سب سے پہلا فائدہ، ان بزرگوں کی حرمت کی حفاظت ہے اور ان کی قدردانی انسانی عزت و شرافت کی علامت ہے_ اسی طرح جوانوںکے لیے ان کی سیرت پر عمل پیرا ہونے کے لیئےشویق کا باعث بنتی ہے_

۲_ دوسرا فائدہ ان کی خاموش مگر گویا قبروں سے درس عبرت حاصل کرنا اور آئینہ دل سے غفلت کے زنگ کو دور کرکے دنیاوی زرق و برق کے مقابلے میں ہوشیاری اور بیداری پیدا کرنا ہے اور ہوا و ہوس پر قابو پانا ہے_

جیسا کہ امیرالمؤمنین(ع) نے فرمایا کہ مُردے بہترین وعظ و نصیحت کرنے والے ہیں_

۳_ تیسرا فائدہ پسماندگان کی تسلی کا حصول ہے کیونکہ لوگ اپنے عزیزوں کی قبروں پر سکون کا احساس کرتے ہیں_ گویا وہ انکے ساتھ ہمنشین ہیں_ اسطرح قبروں پر جانے سے انکے غم کی شدت میں کمی آجاتی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جو جنازے مفقود الاثر ہوجاتے ہیں انکے وارث انکے لیے ایک قبر کی علامت اور شبیہ بنا لیتے ہیں اور وہاں پرانہیں یاد کرتے ہیں_

۴_ چوتھا فائدہ یہ کہ گذشتہ شخصیات کی قبروں کی تعظیم و تکریم ہر قوم و ملت کی ثقافتی میراث کو زندہ رکھنے کا ایک طریقہ شمار ہوتی ہے اور ہر قوم اپنی قدیمی ثقافت کے ساتھ زندہ رہتی ہے_ پوری دنیا کے مسلمان ایک عظیم اور بے نیاز ثقافت رکھتے ہیں جس کا ایک اہم حصہ

۷۳

شہدائ، علمائے سلف اور سابقہ دانشوروں کی آرامگاہوں کی صورت میں ہے اور بالخصوص بزرگان دین اور روحانی پیشواؤں کے مزاروں میں نہفتہ ہے_ ایسے بزرگوں کی قبور کی یادمنانا اور انکی حفاظت و تکریم اسلام اور سنّت پیغمبر(ص) کی حفاظت کا موجب بنتی ہے_

وہ لوگ کتنے بے سلیقہ ہیں جنہوں نے مکہ ، مدینہ اور بعض دوسرے شہروں میں بزرگان اسلام کے پر افتخار آثار کو محو کر کے اسلامی معاشرے کو عظیم خسارے سے دوچار کردیا ہے_

نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نادان اور محدود فکر رکھنے والے سلفیوں نے غیر معقول بہانوں کی آڑ میں یہ کام کرکے پیکر اسلام کی ثقافتی میراث پر ایسی شدید ضربیں لگائی ہیں جنکی تلافی نا ممکن ہے_

کیا یہ عظیم تاریخی آثار صرف اس ٹولے کے ساتھ مخصوص ہیں کہ اسقدر بے رحمی کے ساتھ انہیں نابود کیا جارہا ہے_ کیا ان آثار کی حفاظت و پاسداری پوری دنیا کے اسلام سے آگاہ دانشوروں کی ایک کمیٹی کے ہاتھ میں نہیںہونی چاہیے؟

۵_ پانچواں فائدہ یہ کہ دین کے عظیم پیشواؤں کی قبروں کی زیارت اور بارگاہ الہی میں ان سے شفاعت کا تقاضا کرنا عند اللہ، توبہ اور انابہ کے ہمراہ ہوتا ہے_ اور یہ چیز نفوس کی تربيّت اور اخلاق و ایمان کی پرورش میں انتہائی مؤثر ہے بہت سے گناہوں میں آلودہ لوگ جب انکی بارگاہ ملکوتی میں حاضری دیتے ہیں تو توبہ کر لیتے ہیں اور ہمیشہ کے لیئے ان کی اصلاح ہوجاتی ہے_ اور جو نیک و صالح افراد ہوتے ہیں انکے روحانی ومعنوی مراتب میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے _

قبور کی زیارت کے سلسلہ میں شرک کا توہّم:

کبھی کمزور فکر لوگ ائمہ اطہار کی قبو ر کے زائرین پر '' شرک'' کا لیبل لگادیتے ہیں یقینا اگر

۷۴

وہ زیارت کے مفہوم اور زیارت ناموں میں موجود مواد سے آگاہی رکھتے تو اپنی ان باتوں پر شرمندہ ہوتے_

کوئی بھی عقلمند آدمی پیغمبر اکرم (ص) یا آئمہکی پرستش نہیں کرتا ہے_ بلکہ یہ بات تو انکے ذہن میں خطور بھی نہیں کرتی ہے_ تمام آگاہ مؤمنین احترام اور طلب شفاعت کے لیئےیارت کو جاتے ہیں_

ہم اکثر اوقات زیارت نامہ پڑھنے سے پہلے سو مرتبہ '' اللہ اکبر'' کہتے ہیں اور اسطرح سو مرتبہ توحید کی تاکید کرتے ہیں اورشرک کے ہر قسم کے شبہہ کو اپنے سے دور کرتے ہیں_

معروف زیارت نامہ '' امین اللہ '' میں ہم آئمہ کی قبروں پر جا کر یوں کہتے ہیں:

''أشہَدُ أنّک جَاہَدتَ فی الله حقَّ جہادہ و عَملتَ بکتابہ و اتَّبَعتَ سُنَنَ نبيّہ حتی دَعاک الله إلی جَوارہ''

'' ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے راہ خدا میں جہاد کیا اور جہاد کا حق ادا کردیا_ کتاب خدا پر عمل کیا اور سنت پیغمبر(ص) کی پیروی کی یہانتک کہ اللہ تعالی نے آپ کو اس جہان سے اپنی جوار رحمت میں بُلالیا_''

کیا اس سے بڑھ کر توحید ہوسکتی ہے؟

اسی طرح مشہور زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم يُوں پڑھتے ہیں کہ:

'' الی الله تدعُون و علیه تَدُلُّون و به تؤمنوُن و لَه تُسلّمُونَ و بأمره تَعمَلُون و إلی سَبیله

۷۵

تَرشُدُونَ''

( ان چھ جملوں میں سب ضمیریں اللہ تبارک و تعالی کی طرف لوٹتی ہیں، زائرین یوں کہتے ہیں)'' کہ آپ آئمہ، اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے اور اس کی طرف راہنمائی کرتے ہیں_ اور آپ اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سامنے تسلیم ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف ارشاد و ہدایت کرتے ہیں''

ان زیارت ناموں میں ہر جگہ اللہ تعالی اور دعوت توحید کی بات ہے کیا یہ شرک ہے یا ایمان؟ اسی زیارت نامہ میں ایک جگہ یوں کہتے ہیں:

'' مستشفعٌ إلی الله عزّوجل بکم'' میں آپ کے وسیلہ سے اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت کو طلب کرتا ہوں_

اور اگر بالفرض زیارت ناموں کی بعض تعبیروں میں ابہام بھی ہو تو ان محکمات کیوجہ سے کاملاً روشن ہوجاتا ہے_

کیا شفاعت طلب کرنا توحید ی نظریات کے ساتھ سازگار ہے؟

ایک اور بڑی خطا جس سے وہابی دوچار ہوئے ہیں یہ ہے کہ وہ بارگاہ ربّ العزت میں اولیاء الہی سے شفاعت طلب کرنے کو بتوں سے شفاعت طلب کرنے پر قیاس کرتے ہیں (وہی بُت جو بے جان اور بے عقل و شعور ہیں)

حالانکہ قرآن مجید نے کئی بار بیان کیا ہے کہ انبیاء الہی، اسکی بارگاہ میں گناہگاروں کی شفاعت کرتے تھے_ چند نمونے حاضر خدمت ہیں:

۱_ برادران یوسف نے حضرت یوسف(ع) کی عظمت اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کے بعد حضرت

۷۶

یعقوب(ع) سے شفاعت کا تقاضا کیا اور انہوں نے بھی انہیں مُثبت وعدہ دیا_

( '' قالُوا یا أبَانَا استغفر لنا ذُنوبَنا إنّا كُنّا خَاطئین، قال سَوفَ أستغفرُ لکم رَبّی إنَّه هُو الغفورُ الرّحیم'' ) (۱)

کیا ( معاذ اللہ ) یعقوب مشرک پیغمبر(ص) تھے؟

۲_ قرآن مجید گنہگاروں کو توبہ اور پیغمبر اکرم (ص) سے شفاعت طلب کرنے کی تشویق کرتے ہوئے یوں فرماتا ہے:

''و لَو انّهم إذ ظَّلَموا أنفسَهُم جَاء وک فاستغفروا الله و استغفر لَهُم الرَّسُولّ لَوَجَدُوا الله تَوّاباً رحیماً''

'' جب بھی وہ اگراپنے آپ پر ( گناہوں کی وجہ سے ) ظلم کرتے اور آپ (ص) کی خدمت میں آتے اور توبہ کرتے اور رسولخدا(ص) بھی انکے لیے استغفار کرتے_ تو وہ اللہ تعالی کو توبہ قبول کرنیوالا اور مہربان پاتے ''(۲)

کیا یہ آیت شرک کی طرف تشویق کر رہی ہے؟

۳_ قرآن مجید منافقین کی مذمّت میں یوں کہتا ہے:

( '' و إذا قیلَ لَهُم تَعَالَوا يَستَغفر لکم رَسُولُ الله لَوَّوا رُئُوسَهُم و رأیتَهُم يَصُدُّونَ وَ هُم مُستَکبرُون'' ) (۳)

____________________

۱) سورة یوسف آیات ۹۷ ، ۹۸_

۲) سورة نساء آیت ۶۴_

۳) سورة منافقون آیت ۵_

۷۷

جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ تا کہ رسولخدا(ص) تمہارے لیئے مغفرت طلب کریں تو وہ (طنزیہ ) سر ہلاتے ہیں اور آپ(ص) نے دیکھا کہ وہ آپکی باتوں سے بے پرواہی برتتے اور تکبّر کرتے ہیں''

کیا قرآن مجید، کفار اور منافقین کو شرک کی طرف دعوت دے رہا ہے؟

۴_ ہم جانتے ہیں کہ قوم لوط بدترین امت تھی لیکن اس کے باوجود حضرت ابراہیم _ شیخ الانبیاء نے انکے بارے میں شفاعت کی ( اور خداوند سے درخواست کی کہ انہیں مزید مہلت دی جائے شاید توبہ کرلیں ) لیکن یہ قوم چونکہ اپنی حد سے بڑھی ہوئی بد اعمالیوں کی وجہ سے شفاعت کی قابلیت کھوچکی تھی _ اس لیے حضرت ابراہیم (ع) کو کہاگیا کہ انکی شفاعت سے صرف نظر کیجئے _

( '' فلمَّا ذهَبَ عن إبراهیمَ الرّوعُ و جَاء تهُ البُشری يُجادلُنا فی قوم لُوط، إنّ إبراهیمَ لَحلیمٌ أواهٌ مُنیبٌ يَا إبراهیمُ أعرض عَن هذا إنَّه قد جَاء أمرُ رَبّک و أنهم آتیهم عذابٌ غَیرُ مَردُود'' ) (۱)

'' جس وقت ابراہیم کا خوف ( اجنبی فرشتوں کی وجہ سے ) ختم ہوگیا اور ( بیٹے کی ولادت کی ) بشارت انہیں مل گئی تو قوم لوط کے بارے میں ہم سے گفتگو کرنے لگے (اور شفاعت کرنے لگے) کیونکہ ابراہیم (ع) بردبار، دلسوز اور توبہ کرنے والے تھے (ہم نے ان سے کہا ) اے ابراہیم(ع) اس (درخواست ) سے صرف نظر کیجئے کیونکہ آپ کے پروردگار کا فرمان پہنچ چکا ہے اور یقینی طور پر ناقابل رفع عذاب انکی طرف آئیگا ''

____________________

۱) سورة ہود آیات ۷۴ تا ۷۶_

۷۸

دلچسب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس شفاعت کے مقابلے میں حضرت ابراہیم (ع) کی عجیب تمجید فرمائی اور کہا '' إنّ ابراہیم لَحلیم اواہُ مُنیبٌ'' لیکن اس مقام پر انہیں تذکر دیا ہے کہ پانی سر سے گذر چکا ہے اور شفاعت کی گنجائشے باقی نہیں رہی ہے_

اولیا ء الہی کی شفاعت اُنکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے:

بہانہ تلاش کرنے والے جب ایسی آیات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جن میں صراحت کے ساتھ انبیائے الہی کی شفاعت کی قبولیت کا تذکرہ ہے اور ان آیات کو قبول کرنے کے سواء کوئی چارہ بھی نہیں ہے تو پھر ایک اور بہانہ بناتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ یہ آیات انبیاء کرام کی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں_ ان کی وفات کے بعد شفاعت پر کوئی دلیل نہیں ہے اسطرح شرک والی شاخ کو چھوڑ کر دوسری شاخ کو پکڑ تے ہیں_

لیکن اس جگہ یہ سوال سامنے آئیگا کہ کیا پیغمبر اکرم(ص) اپنی رحلت کے بعد خاک میں تبدیل اور مکمل طور پر نابود ہوگئے ہیں یا حیات برزخی رکھتے ہیں؟ ( جسطرح بعض وہابی علماء نے ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کیا ہے)

اگر حیات برزخی نہیں رکھتے تو اولاً کیا پیغمبر اکرم (ص) کا مقام شہداء سے کم ہے جنکے بارے میں قرآن مجید گواہی دیتا ہے کہ ''( بل أحیائٌ عند ربّهم يُرزَقُون ) ''(۱)

ثانیاً : تمام مسلمان نماز کے تشہدّمیں آنحضرت(ص) پر سلام بھیجتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: ''السلام علیک ايّہا النبيّ ...'' اگر آنحضرت (ص) موجود نہیں ہیں تو کیا یہ کسی خیالی شے کو سلام کیا جاتا ہے؟

____________________

۱) سورہ آل عمران آیت ۱۶۹_

۷۹

ثالثاً: کیا آپ معتقد نہیں ہیں کہ مسجد نبوی میں پیغمبر اکرم (ص) کے مزار کے قریب آہستہ بولنا چاہیے کیونکہ قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ ''( یا ايّها الذین آمنوا لا ترفَعُوا أصواتکم فَوقَ صوت النّبی ) ...''(۱) اور اس آیت کو تحریر کر کے آپ لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) کی ضریح پر نصب کیا ہوا ہے؟

ہم ان متضاد باتوں کو کیسے قبول کریں

رابعاً: موت نہ فقط زندگی کا اختتام نہیں ہے بلکہ ایک نئی ولادت اور زندگی میں وسعت کا نام ہے_'' الناس نیامٌ فإذا ماتُوا إنتبهوا'' (۲) لوگ غفلت میں ہیں جب مریں گے تو بیدار ہونگے_

خامساً: ایک معتبر حدیث میں جسے اہلسنت کی معتبر کتب میں ذکر کیا گیا ہے_ عبداللہ بن عمر نے رسولخدا(ص) سے یوں نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا''من زارَ قبری وَجَبَت له شفاعتی'' (۳) جس نے میری قبر کی زیارت کی اسکے لیے میری شفاعت یقینی ہوگئی_

ایک اور حدیث میں یہی راوی پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کرتا ہے'' مَن زَارنی بَعدَ مَوتی فَانّما زارنی فی حیاتی'' (۴) جس نے میری رحلت کے بعد میری زیارت کی وہ ایسا ہی

____________________

۱) سورة حجرات آیت ۲_ اے صاحبان ایمان ،اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے بلند نہ کیجئے_

۲) عوالی اللئالی، جلد ۴ ص ۷۳_

۳) دار قطنی مشہور محدث نے اس حدیث کو اپنی کتاب '' سنن'' میں نقل کیا ہے ( جلد ۲ ص ۲۷۸) دلچسپ یہ ہے کہ علامہ امینی نے اسی حدیث کو اہلسنت کی ۴۱ مشہور کتابوں سے نقل کیا ہے ملاحظہ فرمائیں الغدیر ج ۵ ص ۹۳

۴) (سابقہ مدرک) علامہ امینی نے اس حدیث کو ۱۳ کتابوں سے نقل کیا ہے_

۸۰

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

اوراس کو آفتوں اور زہریلے گناہوں سے نہ بچایاجائے اور ان کو دل سے دور نہ کیا جائے ؛تو ایسا بگڑ جاتا ہے کہ خدا وند عالم اس بیزار ہو جاتا ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :( واذا ذکر الله وحده اشمازت قلوب الّذین لا یومنون با لآخرة'' ) ( ۱ ) اور جب ان کے سامنے خدائے یکتا کا ذکر آتا ہے تو جن کا ایمان آخرت پر نہیں ہے ان کے دل متنفر ہو جاتے ہیں ؛ اگر چہ خدا کو پہچاننا اور اس کی معرفت حاصل کرنا ہر انسان کی فطرت میں داخل ہے ؛اور انسان کی طبیعت اولیٰ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھتی ہے اور اس کو پہچانتی ہے لیکن برائیاں اور غلط کام اس کو اس طرح خراب کر دیتے ہیں کہ جب خدا کا نام آتا ہے تو وہ ناخوش ہو جاتے ہیں ۔ جس طرح انسان کی پہلی طبیعت اس طرح بنی ہے کہ جب دھواں اس کے حلق اور پھپھڑے میں جاتا ہے تو وہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور فطری طور پر اس کی وجہ سے کھانسنے لگتا ہے لیکن جب سگریٹ پینے کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے جسم کو ایسا عادی بنا لیتا ہے کہ جب تک سگریٹ کا دھواں اپنے حلق میں نہیں ڈال لیتا اس کو آرام اور سکون نہیں ملتا ہے حتیٰ اگر سگریٹ پئے بھی رہتا ہے اور اس کا اس سے دل بھی بھرا رہتا ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ سگریٹ گھرمیں نہیں ہے تو اس کو نیند نہیں آتی ہے ؛وہی تلخ اور کڑوادھواںجو کہ پہلی فطرت کے خلاف تھا اوراس کوتکلیف دیتا تھا اب اس کی عادت کی وجہ سے اس کا مزاج ایسا بدل گیا ہے کہ وہی

____________________

(۱) سورہ زمر : آیہ ۴۵۔

۱۶۱

دھواں اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا ہے اور اس سے ایسی وابستگی ہو گئی ہے کہ اس کے بغیر اس کو نیند نہیں آتی ہے۔

منجملہ ان چیزوں کے جو انسان کی معنوی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں خدا وند عالم کی محبت ، اس کے دوستوں کی محبت ،اس کے دوستوں کے دوستوں کی محبت ہے کہ جن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے انسان کو کوشش کرنا چاہئے؛ اس کے بر خلاف گناہ ،شیطان اور دشمنان خدا اور دشمنان دین کی محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ انسان کی معنوی زندگی کے لئے صرف گناہ ہی نہیں بلکہ گناہ کا تصّور بھی نقصان پہونچانے کا سبب بنتا ہے؛ اگر مومن یہ چاہتا ہے کہ اس کا ایمان مکمل ہو اور اس کی روح بلند سے بلند تر ہو تو اس کو اپنے ذہن میں گناہ کا خیال بھی نہیں لانا چاہئے؛ شاید یہ بات ہمارے زمانے اور دور میں ]کیونکہ ہمارا ماحول ایسا ہے[ افسانہ لگتی ہو اور اس کا تصور بھی کرنا ہمارے لئے مشکل ہو تصدیق تو بعد کی بات ہے ؛لیکن یہ بات واقعیت اور حقیقت رکھتی ہے ؛اگر چہ میں ان بعض داستانوں پر جو لوگ بیان کرتے ہیں ذاتی طور سے یقین نہیں رکھتا اور عام طور پرمیری عادت بھی نہیں ہے کہ میں بحث کو قصّہ اور کہانی سے ثابت کروں لیکن پھر بھی کبھی کبھی ذہن کو مطالب سے قریب کرنے کے لئے بعض داستانوں کا نقل کرنا مفید ہوتا ہے لہٰذامیں انھیں داستانوں میں سے ایک کو یہاں پر نقل کر رہا ہوں جو کہ اس سے (بحث ) مربوط ہے ۔

۱۶۲

روحی جذب و دفع کا ایک عالی نمونہ

یہ داستان سید رضی اور سید مرتضیٰ سے متعلق مشہور ہے یہ دونوں بھائی تھے سید رضی وہی ہیں جنھوں نے نھج البلاغہ کو جمع کیا ہے؛ سید مرتضیٰ بھی صف اول کے علماء سے ہیں اور بہت بڑی شخصیت کے مالک ہیں ،جب ان دونوں بھائیوں نے پہلی مرتبہ اپنے استاد شیخ مفید کے پاس جانا چاہا مرحوم مفید نے اس سے پہلے رات کو خواب میں دیکھا کہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیھا اپنے دونوں فرزند امام حسن اور امام حسین کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئی ہیں اور فرماتی ہیں کہیا شیخ علّمهما الفقه یعنی اے شیخ ان کو فقہ کی تعلیم دو شیخ خواب دیکھ کر اٹھے تعجب کیا یہ کیا ماجرا ہے؟میری کیا حیثیت ہے کہ میں امام حسن اورامام حسین کو تعلیم دوں، صبح ہوئی اور درس کے لئے مسجد گئے ابھی درس دے ہی رہے تھے کہ ایک معظمہ خاتون کو دیکھا دو بچوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تشریف لائیں اور فرماتی ہیں یا شیخ علّمھما الفقہ اے شیخ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دو یہ دونوں بچّے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سید رضی اور سید مرتضیٰ تھے ۔بہر حالم میرا مقصد یہ واقعہ ہے جیسا کہ لوگوں کا بیان ہے: ایک دن ان دونوں بھائیوں نے سوچا جماعت سے نماز پڑھی جائے؛ مستحب ہے کہ امام جماعت ماموم سے افضل ہو اور یہ دونوں بھائی علم کے اس بلند درجے پر فائز تھے کہ نہ صرف واجبات بلکہ مستحبات پر بھی عمل کرتے اور محرمات کے ساتھ مکروہات سے بھی پرہیز کرتے تھے؛ سید مرتضیٰ چاہتے تھے کہ اس مستحب (جماعت سے نماز پڑھنے )پر بھی عمل کریں دوسری جانب واضح اور صریحی طور پر اپنے بھائی سے یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ اے بھائی !میں تم سے افضل ہوں لہذٰا مجھ کو امام جماعت ہونا چاہئے تا کہ جماعت کااور زیادہ ثواب ہم دونوں کو مل جائے،لہذا انھوں نے چاہا کہ اشارے میں اپنے بھائی کو اس مطلب کی جانب متوجہ کریں اور کہا کہ ہم میں سے وہ امامت کرے جس سے آج تک کوئی گناہ سرزدنہ ہوا ہو گویا سید مرتضیٰ اشارةًیہ بتاناچاہتے تھے کہ جس وقت سے میں حد بلوغ کو پہونچا ہوں، تب سے آج تک مجھ سے کوئی گناہ نہیں ہوا ہے؛ لہذا بہتر یہ ہے کہ میں امامت کے فرائض انجام دوں۔سید رضی نے فرمایا کہ بہتر ہے کہ ہم دونوں سے وہ امام ہو جس نے آج تک گناہ کا خیال بھی نہ کیا ہو، گویایہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب سے میں سن بلوغ کو پہونچا ہوں تب سے میں نے گناہ کا خیال بھی نہیں کیا بہر حال یہ واقعہ کتنی حقیقت رکھتا ہے یہ بات اہم نہیں ہے اہم یہ ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایمان کا سب سے بہترین اور بلند درجہ یہ ہے کہ انسان کے ذہن میں گناہ کا تصور بھی نہ آئے۔ قرآن کریم میں خدا وندعالم ارشادفرماتا ہے:( یا ایهاالذین آمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ) ( ۱ ) اے وہ لوگو !جو کہ ایمان

____________________

(۱)سورہ حجرات : آیہ ۱۲ ۔

۱۶۳

لائے ہو بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو بیشک بعض گمان اور شک گناہ ہیں ، لہذٰا مومن کو چاہئے کہ برے گمان سے بھی دافعہ رکھتا ہو اور اس گمان کو اپنے سے دور رکھے؛ گنا ہ کا خیال رکھنا اور اس کے مناظر کو سوچنا اور اس کی فکر کرنا ممکن ہے انسان کے اندر دھیرے دھیرے وسوسہ کو جنم دے اور اس کو گناہ کی طرف کھینچ لے جائے مومن کو چاہئے کہ ہر حال میں خدا کو یاد رکھے قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے:( الذین یذکرون الله قیاماً و قعوداً وعلیٰ جنوبهم ) ( ۱ ) وہ لوگ ہر حال میں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے یا کروٹ کے بل ہوں خدا کو یاد رکھتے ہیں ؛اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلو کے بل لیٹے ہوں یا سونے کے لئے آنکھوں کو بند کرلئے ہوں ؛اس حال میں بھی خدا کو یاد رکھو؛ اوراس بات کی کو شش کرو کہ خدا کی یاد میں تم کو نیند آ ئے تاکہ تمہاری روح بھی سونے کے عالم میں خدا کے عرش اور ملکوت کی سیرکرے ؛بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جوسونے کے وقت دوسری فکروںکو اپنے ذہن میں لاتے ہیں اور اس سے اپنی فکر کو گندہ کرتے ہیں اورجس وقت سوتے ہیں توشیاطین کی دنیا کی سیر کرتے ہیں اور خواب بھی گناہ کا دیکھتے ہیں ۔

یہ وہ اثرات ہیں جو انسان کی معنوی زندگی میں پیش آتے ہیں ۔ جس طرح مادی اور دنیاوی زندگی میں انسان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا جسم نشو ونما کرے

____________________

(۱)سورہ آل عمران: آیہ، ۱۲۵

۱۶۴

اور صحیح اورسالم رہے تو اسکوچاہئے کی اچھی غذا کھائے اور خراب وزہریلے کھانے سے جوکہ نقصان دہ ہے پرہیز کرے ،اسی طرح روحی زندگی کے شعبہ میں بھی جو چیز اسکی روح کے لئے فائدہ مندہے اسکو جذب یعنی حاصل کرے اور جو چیزنقصان دہ اور مضر ہے اسکو دفع یعنی دور کرے ۔

آیہ( فلینظرالانسان الیٰ طعامه ) ( ۱ ) کی تفسیر

یعنی انسان اپنی خوراک اور غذا کی طرف دیکھے ،البتہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات کے قرینے سے یہ بات کی ظاہر ہوتی ہے کہ یہاں طعام، مادی اورجسمانی غذاسے مربوط ہے،کیوںکہ گفتگو اس اندازسے ہے کہ اے انسان دیکھ یہ غذا کہاں سے آرہی ہے؟ ہم نے پانی کو آسمان سے کیسے نازل کیا،اور کس طر ح پودوں اورسبزوں کو اگایا؛پھر یہ سبزے کس طرح جانوروں کی غذا بنے اور پھر تم کس طرح ان جانوروں کے گوشت سے فائدہ حاصل کرتے ہو؛ یہ سب نعمتیں ہیں جن کو خدا نے تمھارے لئے مہّیا کی ہے ؛خلاصہ یہ کہ آیہ اس بات کی نشان دہی کر رہی ہے کہ ظاہراًیہاں طعام سے مراد جسمانی غذا ہے؛ لیکن اس آیہ شریفہ کے ذیل میں ایک روایت بیان ہوئی ہے جو در حقیقت تاویل کی منزل میں ہے اس آیت کی باطنی تفسیر ہے کہ( 'فلینظر الانسان الیٰ علمه من یتّخذ'' ) انسان اپنے علم کو دیکھے کہ وہ کہاں سے حاصل کررہا ہے ؟کیونکہ علم روح کی غذا ہے اور اس کے مصرف میں انسان کو خاص توجہ دینی چاہئے ؛یعنی جس طرح انسان باہر سے غذا اور کھانا

____________________

(۱) سورہ عبس: آیہ ۲۴۔

۱۶۵

لاناچاہتا ہے تو وہ اس بات کی سعی کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون سا ہوٹل صفائی کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور کس کا کھانا اچھا اور بہتر رہتا ہے،اس کے بعد وہاں سے غذا حاصل کرتا ہے اسی طرح علم بھی آپ کے روح کی غذا ہے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب اور جس سے چاہا علم حاصل کر لیا ؛بلکہ آپ جس استاد سے علم حاصل کر رہے ہیں اس کو دیکھنا چاہئے کیا وہ معنوی اور روحی پاکیزگی رکھتے ہیں یا نہیں ؟ ہر وہ علم جو کسی بھی صورت میں پیش ہو چاہے کلا س میں ہو یا کتاب میں ، تقریر ہو یا تحریر یاکسی اور طریقہ سے اس پر بھروسہ نہ کریں ؛بلکہ دیکھیںکہ یہ علم کس طرح اور کہاں سے آرہا ہے؛ اس لئے کہ علم کا اثرروح پر،اس غذا کے اثرات سے جو کہ جسم و بدن پر ہوتا ہے کم نہیں ہے ؛جس طرح آپ اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ آپ کی جسمانی غذا صاف اور پاک و پاکیزہ ہو؛ پھل، سبزی وغیرہ کو خود آپ دھو کر استعمال کرتے ہیں اور ان چیزوں کو اس کے بعد کھاتے ہیں ، علم بھی آپ کی روح کی غذا ہے اس سے بھی باخبر ر ہیں کہ جو علم حاصل کر رہے ہوں وہ خراب اور آلودہ تو نہیں ہے، اس مقام پر بھی جاذبہ اور دافعہ ضروری ہے۔

وہ چیزیں جو ایمان کو کمزور کرتی ہیں اور ہمارے عقیدہ ا ور یقین کو متزلزل کرتی ہیں یا ان کے خراب کرنے کا سبب ہیں ان سے ہم کو بچنا چاہئے اور ایسے علم کو حاصل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس کو حاصل نہیں کرنا چاہئے، مگر صرف اس صورت میں کہ ہمارا علم اتنا مستحکم ہو کہ وہ غلط باتیں ہمارے اوپر اثر نہ ڈال سکیںاور ان کے اثرات سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔

۱۶۶

جس طرح ٹیکوں اور انجکشن کے ذریعہ ہم اپنے بدن کو بعض بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں اور انجکشن کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیماریوں اوروبائوں کے جراثیم کو ہمارے جسم پر موثر ہونے نہیں دیتا؛ اسی طرح محکم اور متقن دلائل خاص کر اسلامی علوم کو حاصل کرکے ہم اپنی روحانی فکر کو بھی بعض غلط فکروں اور گمراہ کن شبہات سے محفوظ کر لیں تاکہ وہ غلط شبہے اور فاسد فکریں ہمارے اوپر اثر انداز نہ ہو سکیں ؛اگر کوئی شخص مصئونیت اور علمی کمال کے اس درجہ پر پہونچا ہو تو اس کے لئے غلط مطالب کا پڑھنا اور اس طرح کے شبہات کا مطالعہ کرناحرج نہیں رکھتاہے؛ لیکن جو شخص اس مرتبہ کمال پر نہیں پہونچا ہے اس کو چاہئے کہ ان مطالب سے اپنے کو دور رکھے ۔ خدا وند عالم قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے :( اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهزابه فلا تقعدوامعهم حتیّ یخوضوا فی حدیث غیر ه انکم اذا مثلهم ) ( ۱ ) جس وقت تم دیکھو یا سنو کہ خدا کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اوراس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو انکے ساتھ نہ بیٹھو،یہاں تک کہ وہ لوگ اس کے علاوہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہو جائیں ورنہ تم بھی انھیں میں سے ہو جائوگے یہ نہ کہو کہ ہم مومن ہیں اور خدا و رسول کو

____________________

(۱) سورہ نساء : آیہ ۱۴۰۔

۱۶۷

مانتے ہیں لہذاان کافروںکی باتیں ہمارے اندر اثر نہیں کریں گی۔ جب تک تم ہر طرح سے محکم اورمحفوظ نہ ہو جائو اس وقت تک اس بات کا خوف ہے کہ اگر تم ان کے جلسوں میں جائو گے، تقریروں کو سنو گے تو یہ فکری جراثیم دھیرے دھیرے تمھارے اندر بھی سرایت کر جائیں گے اور تمھارے اعتقاد و ایمان کو خراب کر دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( اذا رایت الذین یخوضوا فی آیا تنا فا عرض عنهم حتیّٰ یخوضوا فی حد یث غیره ) ( ۱ ) اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہو جائو یہاں تک کی وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں ۔خدا کا دستور جو کہ ہماری اور آپ کی روح کا معالج ہے اور جو دوا تجویز کرتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لازمی علم ومعرفت کے ٹیکے کے ذریعہ محفوظ ہونے سے پہلے ایسی محافل وجلسات میں کہ جہاں فکری شبہات اور باطل خیالات پیدا کئے جاتے ہیں شرکت نہ کرو، وہ اخبار، مقالہ اور ڈائجسٹ نیز ایسی کتابیں جو کہ مذہبی مقدسات کا مسخرہ کرتے ہیں اور ان کی توہین کرتے ہیں اور دین کے اصول اور احکام میں شک و شبہ کا سبب واقع ہوتے ہیں تو ان کو نہیں پڑھنا چاہئے۔ اگر ایسی جگہوں پر جائیں گے یا ایسی چیزوں کو پڑھیں گے تو کیا ہوگا ؟ قرآن میں اس کے جواب کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:( انکم اذاًمثلهم انّ اللّه جامع الکافرین و المنافقین فی جهنم جمیعاً ) ( ۲ )

____________________

(۱) سورہ انعام : آیہ ۶۸۔

(۲)سورہ نساء :آیہ ۱۴۰۔

۱۶۸

اور اس صورت میں تم بھی انھیں کے مثل ہو جائو گے ،بیشک خدا کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں جمع کرنے والا ہے۔'' اگر تم نے ہماری نصیحت کو قبول نہیں کیا اور اپنے کانوں سے سن کر اس پر عمل نہیں کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ اٹھے بیٹھے تو تم بھی دھیرے دھیرے مقدسات کی اہانت کرنے اور دینی عقائدو احکام کو کمزور کرنے والوں میں شمار کئے جائوگے اور آخر کار تم بھی جہنم میں جائوگے ۔

جس طرح کوئی پھیلنے والی بیماری میں مبتلا ہو تو آپ اس سے بچتے اور دور رہتے ہیں تا کہ اس کی بیماری کی زد میں آپ بھی نہ آجائیںاسی طرح آپ کو ان لوگوں کے جلسات اور خود ان لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہئے جو فکری بیماریوں کو اٹھائے پھرتے ہیں یا نقل کرتے ہیں ، لہذٰا ان سے پرہیز کرنا چاہئے مگر یہ کہ آپ محفوظ رہنے والے اسباب و وسائل سے مجہّز ہوں ،جو کہ پھیلنے والے جراثیم کو آپ کے اندر آنے سے روک سکیں، اس حالت میں صرف ان سے بچنا ہی نہیں چاہئے بلکہ ان کے علاج کی کوشش کرنی چاہئے، اور ان کو اس بیماری سے نجات دلانا چاہئے جس طرح ڈاکٹر اور نرس ،محافظ وسائل او ر سسٹموںکے ذریعہ جراثیم اور اس کے اثرات کے داخل ہونے سے ر وکتے ہیں نیز جسمانی بیماریوں سے مریضوں کا علاج کرتے ہیں ۔

اگرچہ ڈاکٹر کا فریضہ ہے کہ وہ بیمار کے قریب آئے اور اس سے ربط رکھے پھر بھی وہ یہ کام بہت احتیاط سے کرتا ہے اور تمام حفاظتی چیزوں کی رعایت کرتے ہوئے انجام دیتا ہے اور دوسرے لوگ علم و وسائل کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ بیماری سے متعلق کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بیمار کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ خود بھی بیمار ہو جاتے ہیں ،انھیںکسی بھی صوورت سے ایسی حالت میں مریض سے قریب نہیں ہونا چاہئے۔ ممکن ہے کہ لوگوں کی روح اورفکر بھی پھیلنے والی خطرناک بیماریاں رکھتی ہوں اور لازمی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے ان کی بیماریاں ہمارے اندر سرایت کر جائیں۔

۱۶۹

روح کی بیماری اور سلامتی

روح کی مکمل سلامتی کی علامت اور نشانی یہ ہے کہ وہ خدا کو دوست رکھے، اس کے اندر خدا کی یاد، اس کے ذکر سے لذت اور خوشی کا احساس ہونیز ہر وہ چیز اور ہر وہ شخص جو اس کی سچی اطاعت اور اس کے حکم کی پیروی کرتا ہواس سے عشق اور والہانہ محبت کرتا ہو۔ روح کے بیمار ہونے کی نشانی یہ ہے کہ جب نماز ،دعااور دینی محافل و مجالس سے متعلق گفتگو ہو تو اس کے اندر کوئی جذبہ پیدا نہ ہو اور بہت ہی نا گواری اور بے توجہی کے ساتھ اس کے لئے آمادہ ہوتا ہو؛ اگر کوئی انسان کئی گھنٹوں سے کھانا نہ کھائے ہو اور اس کے بعد بھی اس کو بھوک نہ لگے اور بہترین اچھی غذا ئوںکو کھانے کے لئے تیار نہ ہو تو یہ بیماری اور مزاج کے خراب ہونے کی نشانی ہے ۔

ہم کو یہ جاننا چاہئے اور اس بات پر متوجہ ہونا چاہئے کہ دل بھی بیماریاں رکھتا ہے، خدا وند عالم فرماتا ہے :( فی قلوبهم مرض ) ( ۱ ) یعنی ان کے دلوں میں مرض ہے، اگر دل میں بیماری ہو اور اس کا علاج نہ ہو تو بیماری بڑھتی جاتی ہے ،( فزادهم الله مرضاً ) ( ۲ ) اور اللہ ان کی بیماری کو زیادہ کر دیتا ہے؛ اگرہم اس بیماری کو بڑھنے سے نہ

____________________

(۱۔۲) سورہ بقرہ :آیہ ۱۰۔

۱۷۰

روکیں اور وہ دل کے اندر جڑ پکڑ لے تو پھر کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے اور پھر اس کے اچھا ہونے کی امید باقی نہیں رہتی؛ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی آدمی نہایت ڈھالو اور گہری کھائی میں جا پڑا ہو اور اپنے کو اس کی تہ تک گرنے سے نہ روک سکتا ہو۔قرآن مجیدمیں ارشاد ہوتا ہے( طبع الله علیٰ قلوبهم و سمعهم وابصارهم اولٰئک هم الغافلون ) ( ۱ ) خدا نے ان کے دلوں اور کانوں نیز ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے وہی لوگ غافل اور لا پروا ہ ہیں ۔

کبھی اس حال میں کہ ہماری بیماری کینسراور لاعلاج بیماری میں تبدیل ہو جاتی ہے، ہم اس سے غافل رہتے ہیں اورکبھی کبھی تو بہت خوش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ دن بہ دن ترقی حاصل کر رہے ہیں اور منزل کمال سے نزدیک ہو رہے ہیں خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے :( قل هل ننبئکم بالاخسرین اعمالا الذین ضلّ سعیهم فی الحیوٰةالدّنیاوهم یحسبون انهم یحسنون صنعا ) ( ۲ ) اے پیغمبر! آپ کہ دیجئے کہ کیا ہم تم لوگوں کو ان لوگوںکے بارے میں اطلاع دیںجو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں ؛یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں ۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۰۸۔

(۲) سورہ کہف : آیہ ۱۰۳ اور ۱۰۴۔

۱۷۱

ہماری روح جذب وودفع کی محتاج ہے اوراس با ت کا انتخاب کہ کون چیزدفع کریں؟ اورکون چیز جذب کریں ؟یہ ہمارے اوپر چھوڑدیا گیا ہے ۔ہمارے لئے یہ ممکن ہے کہ ہم سگریٹ نوشوں اور گانجا،بھنگاور چرس پینے والوں کے مانند دھوئیںاور زہریلی چیز کو اپنی روح میں داخل کریںاور یہ بھی ممکن ہے کھلاڑیوں ، کوہ نوردوں(پہاڑ پر سفر کرنے والوں )کی طرح پاک اور صاف وشفاف ہوا کو دل اور روح کے لئے انتخاب کریں ؛( من کان یر ید العاجلةعجّلنا له فیها ما نشاء لمن یرید ) ( ۱ ) جو شخص بھی دنیا کا طلبگار ہے ہم اسکے لئے جلد ہی جو چاہتے ہیں دیدیتے ہیں پھر اسکے بعد اسکے لئے جہنم ہے جسمیں وہ ذلت ورسوائی کے ساتھ داخل ہوگا اور جو شخص آخرت کا چاہنے والا ہے اور وہ اسکے لئے ویسی ہی کوشش بھی کرتا ہے اور صاحب ایمان بھی ہے تو اسکی سعی یقینا مقبول ہے ہم آپ کے پروردگار کی عطا وبخشش سے ان سب کی مدد کرتے ہیں اور پروردگار کی عطا کسی پر بند نہیں ہے۔ وہ لوگ جو کہ جلد ختم ہونے زندگی اوروالی لذتوں کے طلبگارہیں اور اسکے علاوہ کوئی غوروفکر نہیں کرتے اور طبعی طور سے اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہیں لیکن پھر بھی تمام توقعات ا و رخواہشات تک نہیں پہنچ پاتے کیونکہ انسان کی خواہشیں بے انتہاہیں جوکچھ اسکو عطا کیا جاتا ہے اسکے بعدبھی وہ اس سے زیادہ کی تلاش میں رہتا ہے، بہر حال خدا انکی اس طرح مددکرتا ہے کہ انکی بعض خواہشوں کو پورا کرتا ہے لیکن انجام اور نتیجہ میں

____________________

(۱) سورہ اسراء آیہ ۱۸ الیٰ ۲۰.

۱۷۲

انکے لئے ذلت اور عذاب جہنم ہے بعض دوسرے گروہ ہیں جو کہ آخرت کے طلبگار اور اسکی نعمتوں کی لذ ت چاہتے ہیں ؛ قرآن کی عبارت میں یہ گروہ توجہ کے لائق ہے ارشاد ہو رہا ہے :سب سے پہلے ارادالآخرة آخرت کے چاہنے والے ہیں ؛ لیکن ایسی چاہت نہیں کہ اسکو حاصل کرنے کیلئے کچھ خرچ نہیں کرتے ؛بلکہوسعیٰ لهاسعیها وہ اسکے لئے کوشش کرتے ہیں اور مناسب چیزوں کو اپنی اس خواہش پر صرف کرتے ہیں ؛ لیکن صرف اسی پر اکتفا ء نہیں کرتے بلکہ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ و ھو مومن یعنی ایمان کے مزہ کو بھی اپنی کوشش اور عمل کے ساتھ شامل کرتے ہیں ،ایسے لوگ صرف اپنی خواہشوں کو ہی نہیں پہنچتے؛ بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ہم (خدا) ایسے لوگوں کی محنت اور کوشش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیںکان سیعهم مشکوراً ان کی کوششیں لائق شکرہیں البتہ خدا وند عالم کا شکر کیاہے؟ وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔

جو بات اس آیت میں اہم اور توجہ کے قابل ہے وہ یہ ہے :( کلاًنمد هٰولاء من عطا ء ربک ) ہم دونوں گروہ کو ان کی خواہشوں تک پہونچتے میں مدد کرتے ہیں اور دونوں کے لئے وسائل و اسباب کو مہےّا کرتے ہیں یعنی ان چیزوں کا انتخاب جو جذب و دفع سے متعلق ہے خود انسان کے اوپر ہے انسان کا انتخاب اچھا ہو یا برا ؛اس سے فرق نہیں پڑتا ہے ،ہماری طرف سے اس کو اپنی خواہش تک پہونچنے میں مدد ملتی ہے؛اس ضمن میں ایک دوسری الھٰی سنت بھی پائی جاتی ہے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :( من جاء با لحسنة فله عشر امثالها ومن جاء بالسّئية فلا یجزٰی الاّ مثلها ) ( ۱ ) جو کوئی اچھا کام کرتا ہے اس کو اس کا دس گنا ثواب ملتا ہے اور جو کوئی برا کام کرتا ہے اس کا بدلہ اس کو اتنا ہی ملتا ہے جوشخص غلط اور زہریلی چیزوں کا انتخاب کرتا ہے تو جتنی وہ چیز اور مادہ خراب کرنے کی قوت اورطاقت رکھتا ہے اتنا ہی ہم اس کو موثر بناتے ہیں ؛لیکن جب وہ اچھی چیز اور اچھے مادہ کا انتخاب کرتا ہے تو ہم اس کی تاثیر کو دس گنا بڑھا دیتے ہیں ۔

____________________

(۱)سورہ انعام آیہ ۱۶۰.

۱۷۳

بحث کا خلاصہ

اس جلسہ میں ہماری بحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان جسمانی زندگی میں جس طرح جاذبہ اور دافعہ کی ضروت رکھتا ہے اسی طرح روحانی اور معنوی زندگی میں بھی جاذبہ اور دافعہ کی ضرورت رکھتا ہے یعنی اس کو ضرورت ایسی قوت و طاقت کی ہے جو اس کے ایمان ، خدا کی محبت اور مفید علم کی راہ میں اس کی مدد کرسکے جو کہ اس کے دل اور قلب کے لئے فائدہ مند ہو، اس کی انسایت کو بڑھائے اور اس کو مضبوط کرے اور اس کو ایسی قوت و طاقت کی بھی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ شیطان ،گناہ اور دشمنان خدا کی محبت 'جو اس کے دین اور معنوی زندگی کے لئے نقصان دہ ہے 'کو اپنی روح سے دور کردے ۔

البتہ یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہئے کہ ہماری اصل بحث جیسا کہ میں نے اس کو شروع میں بھی عرض کیا اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق تھی اور میں نے عرض بھی کیا کہ اس کو تین طرح سے پیش کیا جا سکتا ہے :

(۱) یہ کہ اسلام کے مجموعی عقائد واخلاق، احکام ا ور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کو صرف کچھ چیزوں کے جذب کرنے پر مجبور کرتے ہیں یا فقط دفع کرنے پریا یہ دونوں قسمیں پائی جاتی ہیں ۔

(۲) اسلام کے احکام اور دستورات ایسے ہیں کہ انسان کے لئے صرف جاذبہ رکھتے ہیں یا صرف دافعہ یاپھر جاذبہ اور دافعہ دونوں رکھتے ہیں ۔

(۳) اسلام لوگوں کوجب اپنی طرف اور ان کی تربیت کی دعوت دیتا ہے تو صرف جذبی راستوں کا انتخاب کرتا ہے یا فقط دفعی راستوں اور طریقوں کو، یا دونوں راستوں کو اختیار کرتا ہے۔ ہم نے اس جلسے میں جو کچھ کہا اصل میں وہ اس بحث کا مقدمہ تھا اور تینوں سوالات ابھی بھی باقی ہیں جن کے بارے میں آئندہ جلسوں میں بحث اور گفتگو ہو گی۔

۱۷۴

سوال اور جواب

سوال :

جسم کے بارے میں یہ مسئلہ ہے کہ اس کے اندر معین مقدار میں غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے اگر اس سے زیادہ وہ کھانا کھائے گا تو اس کے لئے نقصان کا سبب بنے گا اور وہ دافعہ کی حالت کوپیدا کرے گا۔ کیا روح اور اس کی غذا کے بارے میں بھی یہی محدودیت اور حد بندی ہے ؟

جواب :

سوال بہت اہم ہے اور یہ سوال فلسفہ اخلاق کے مشہورمکتب فکرسے جس کا نام'' مکتب اعتدالہے تعلق رکھتا ہے اس مکتب فکر کے طرف دار لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ اخلاقی فضائل کے باب میں فضیلت کا معیار اعتدال ہے؛ زیادہ بڑھ جانا یا کم ہونا نقصان دہ ہے۔ فطری اور طبعی طور سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض چیزیں کوئی خاص حد نہیں رکھتی ہیں ؛ جتنی زیادہ ہو ںبہترہے جیسے خدا کی محبت ،عبادت ،علم اور بہت سی ایسی چیزیںہیں ان جیسی چیزوں میں اعتدال کے کیا معنی ہیں ؟؛جو سوال یہاں پر پیش ہوا ہے وہ بھی اسی جیسا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات صحیح ہے کہ فضائل کا حاصل کرنا کوئی حد اور انتہا نہیں رکھتا لیکن مسئلہ یہاں پر یہ ہے کہ انسان دنیا میں محدود طاقت کا مالک ہے ۔اگر وہ صرف کسی ایک چیز کے لئے اپنی پوری طاقت کو صرف کر دے گا تو دوسری چیزوں سے محروم ہو جائے گا ؛اگر ہم صرف عبادت کرنے لگیں اور کھانے ، آرام اور اپنے بدن کی سلامتی کی فکرنہ کریں تو ہمارا جسم بیکار ہو جائے گا اور عبادت کی طاقت و ہمت بھی ہم سے چھن جائے گی ؛یعنی ہماری عبادت میں بھی خلل پڑے گا اور ہمارا جسم بھی بیمار پڑ جائے گا ۔

۱۷۵

یا یہ کہ خدا کا ارادہ انسان کی نسل کو باقی رکھناہے اور یہ مسئلہ بھی اس بات پر منحصر اورمتوقف ہے کہ ہم شادی بیاہ کریں ،ازدواجی رابطہ کو برقرار رکھیں ؛بچوں کی تربییت کریں خلاصہ یہ کہ ایک خاندان کو چلانے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے یقینی طور پر بہت سی قوتوں اور اپنے وقت کو خرچ کرنا پڑے گا؛ اگر انسان صرف معنوی اور اخلاقی مرتبے کی بلندی کی فکر میں رہے گا اور کوئی بھی اہتمام خاندان اور بیوی بچے سے متعلق نہ کرے تو انسانی نسل ختم ہو جائے گی یا برباد ہو جائے گی ۔یا مثلاً اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ میدان جنگ میں حاضر رہے تو وہ زیادہ عبادات اور مستحبات کو انجام نہیں دے سکتا ۔لہذٰاچونکہ انسان دنیا میں کئی قسم کے وظائف اور ذمہ دااریوں کو رکھتا ہے اس کی قوت و طاقت بھی محدود ہے ؛لہذٰا اپنی طاقت و قوت کو ان کے درمیان تقسیم کرے اور ہر حصّہ میں ضرورت بھراس طرح صرف کرے کہ بعض دوسری چیزوں سے مزاحمت کا سبب نہ بنیں ان کے لئے خرچ کرے؛ البتہ یہ انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایسا کام کرے کہ اس کی پوری زندگی نماز و قرآن سے لیکر کھانے پینے اور روز انہ کے معمولی کاموںتک بھی لمحہ بہ لمحہ خدا وند عالم سے قریب ہونے کا باعث بنے اور وہ بلندی کے درجات کو حاصل کرتا جائے ۔

۱۷۶

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کے حدود-۳

پچھلی بحثوں پر سرسری نظر

پچھلے دو جلسوں میں اسلام میں جاذبہ اور دافعہ سے متعلق اور اس کے حدود کے بارے میں مطالب کو پیش کیا گیا اگر چہ وہ مطالب اصل بحث کے لئے مقدمہ کا جنبہ رکھتے تھے وہ اہم نکتہ جس کے متعلق پچھلے جلسے میں خاص تاکید ہوئی وہ یہ تھی کہ انسان تکامل حاصل کرنے والی ایک مخلوق کے عنوان سے تکامل کے راستے کی تکمیل میں دو طرح کے عوامل کا سامنا کرتا ہے:

(۱) ایک وہ عوامل و اسباب جو کہ فائدہ مند ہیں

(۲) دوسرے وہ عوامل جو کہ نقصان دہ ہیں ؛ انسان کو چاہئے کہ دوسرے زندہ موجودات کی طرح مفید عوامل کو جذب کرے اور مضر عوامل کو دفع کرے ؛اس کام کے لئے سب سے پہلا قدم اور مرحلہ یہ ہے کہ انسان ان دونوں طرح کے عوامل کو پہچانے اور ایک دوسرے کو علیحدہ اور جداکرے؛ لہذٰا پہلا قدم ان عوامل کی پہچان ہے چونکہ یہ جذب و دفع جبری اوور زبر دستی نہیں ہے بلکہ خود انسان کے ارادہ و اختیار سے متعلق ہے اور جس کو وہ انتخاب کرتا ہے وہی انجام پاتا ہے لہذادوسری منزل یہ ہے کہ انسان اپنے ارادہ کومضبوط کرے تاکہ اچھے کاموں کو انجام دے سکے اور برے کاموں کو ترک کر سکے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز جو اچھی اور مفید ہے انسان اس سے لگائو رکھتا ہو اور اس سے لذت حاصل کرتا ہو یا ہر وہ چیز جو کہ اس کے لئے بری اور نقصان دہ ہے اسے نا پسندکرتا ہو اور اس میں رغبت نہ رکھتا ہو؛ بلکہ بہت سی جگہوں میں مسئلہ اس کے بر خلاف ہے مثلاً وہ سبب جو کہ بہت نقصان دہ ہے اسی چیز کو انسان خاص طور سے بہت ہی لگائو کے ساتھ اختیار کرتا ہے مثلاً بعض لوگ سگر یٹ اور شراب وغیرہ کو بہت دوست رکھتے ہیں ،پیش کی جا سکتی ہے لہذا جذب و دفع کے مسئلہ میں شناخت اور پہچان کے علاوہ انسان کے ارادہ کی طاقت بھی بنیادی کردارادا کرتی ہے ۔

۱۷۷

انسان کی روح کے کمال کے لئے مفید اور مضر ا سباب کی تشخیص کا مرجع

لیکن مفید اور مضر اسباب کے پہچاننے کے متعلق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون سا مرجع اس بات کومشخص ومعےّن کرے اور کہے کہ فلاں سبب ہمارے معنوی کمال اور روح کے لئے فائدہ مند ہے اور اس کو جذب کرنا چاہئے اور کون سا عامل نقصان دہ ہے کہ اس کو دفع کرنا چاہئے ؟ اسی طرح ارادہ کی تقویت کے متعلق، کون سے عوامل ہیں جو اس ارادہ کو قوی بناتے ہیں ؟

ہم مسلمان اور دیندار لوگ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ مرجع خدا ہے اور اسی کو اس مشکل کو حل کرنا چاہئے کیوںکہ اسی نے انسان کو پیدا کیا اور وہی مکمل طور سے انسان کی روح وجسم کے خواص وقوانین نیز ان کے ایک دوسرے پر اثرات سے واقف ہے' اور وہی خدا یہ جانتا ہے کہ کون سی چیز انسان کے لئے مفید ہے اور کون سی چیز مضر ہے اور کون سے کام روحی و معنوی جذب اور دفع کا باعث ہے ؛خدا وند عالم نے اس کام کو پیغمبروں کے ذریعہ سے انجام دیا ہے انبیاء کے بھیجنے کا بنیادی فلسفہ یہی تھادین اور اس کے تمام دستورات اس کے علاوہ اورکچھ نہیں ہیں یعنی اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ روحی و معنوی کمال اوربلندی پر پہونچے اور مفید و مضر اسباب جو کہ اس راستے میں ہیں ، ان کو پہچانے تو اس کودین و انبیاء کو تلاش کرنا چاہئے یعنی انبیاء اور دین سے متمسک ہونا چاہئے ۔

۱۷۸

دین کی تبلیغ کے سلسلہ میں اسلام کی کلی سیاست

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے تا کہ لوگ دین کی طرف متوجہ ہوں ؟صرف یہ کہ انبیاء نے روحی اور معنوی تکامل کا نسخہ انسان کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے اور ان لوگوں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی ہے ،یہی کافی ہے؟ بلکہ اس کے علاوہ ایسی تدبیر کرنی ہوگی کہ لوگ اس نسخہ کو قبول کرلیں اور اس پر عمل کریں ؛اب اس جگہ پر پھر جاذبہ اور دافعہ کی بحث آتی ہے ؛لیکن جاذبہ اور دافعہ اس معنی میں کہ انبیاء نے لوگوں کو دین کی طرف بلانے اور ان لوگوں کو اس کے قبول کرنے اور اس پر مطمئن کرنے کے لئے کس راستے اور طریقے کو اختیار کیا ہے؟یعنی اس کے لئے آیاقوت جاذبہ کے طریقے کو اپنایا اور نرمی و مہربانی کے ساتھ اس بات کی کوشش کی کہ لوگ دین کی طرف جذب ہو ں یا یہ کہ ان حضرات نے سختی اور جبری طور سے لوگوں سے چاہا کہ لوگ اس نسخہ پر عمل کریں ؟یا یہ کہ ان دونوں طریقوں کو استعمال کیا؟ خلاصہ یہ کہ کوئی خاص قانون او رقاعدہ اس کے متعلق پایا جاتا ہے یا نہیں ؟ ان تین سوالوں میں ایک سوال ہے جس کے لئے ہم نے پچھلے جلسے میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے بارے میں بحث کریں گے البتہ اگر اس مسئلہ میں تفصیل اور جامع و مکمل طریقے سے بحث کی جائے تو کئی جلسوں کی ضرورت ہو گی جس کی گنجائش فی الحال ہمارے جلسے اور پروگرام میں نہیں ہے ، لہذٰا کوشش اس بات کی ہوگی کہ جو کچھ اس سے مربوط ہے اس کو مختصر طور سے یہاں بیان کردیا جائے۔

۱۷۹

(الف )موعظہ اور دلیل سے استفادہ

انبیاء کا سب سے پہلا کام لوگوں کو حق کی طرف دعوت دینا ہے؛ ان کو سب پہلا کام یہ کرنا تھا کہ لوگ ان کی باتوں کو سنیں اور اس بات کو محسوس کریں کہ انبیاء کیا کہتے ہیں اس کے بعد کا مرحلہ یہ تھا کہ لوگ اس پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟

اس پہلے مرحلے یعنی دعوت تبلیغ اور پیغام پہونچانے میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ انبیاء لوگوں کے لئے منطق اور برہان و استدلال لیکر آئے تھے اور قرآن مجید کی آیہ اس پر دلالت کرتی ہے( ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة والموعظة الحسنة ) ( ۱ ) یعنی لوگوں کو پرور دگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دو ؛دعوت تبلیغ ، حکمت اور منطق و دلیل کے ساتھ ہونی چاہئے تاکہ اس میں جاذبہ پیدا ہو؛ اس مرحلہ میں دافعہ کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے ۔

لیکن واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان ایک جیسے نہیں ہیں کہ حکمت ودلیل اچھی طرح سمجھ لیں؛ اگر ہم خود اپنے کو دیکھیں جس دن سے ہم نے اپنے کو پہچانا

____________________

(۱) سورہ نحل :آیہ۱۲۵۔

۱۸۰

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232