ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 27819
ڈاؤنلوڈ: 843


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27819 / ڈاؤنلوڈ: 843
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

قعقاع ،ایران کی جنگوں میں

اعجزت الاخوات ان یلدن مثلک یا قعقاع ! (بارق۔قعقاع کاماموں )

(سیف کا بیان)

بہر سیر کی فتح

طبری ،سیف سے نقل کرتے ہوئے فتح بہر سیر کی داستان کو حسب ذیل صورت میں بیان کرتاہے:

''ابو مفزر تمیمی نے ایران کے بادشاہ کے مأمور اور ایلچی سے ایک ایسی بات کہی جو ایرانیوں کے فرار کاسبب بنی''۔

اس قصہ کی تفصیل ابو مفزر تمیمی جو سیف کے جعلی اصحاب میں سے ایک ہے کی

زندگی کے حالات پر بحث کے دوران بیان ہوگی۔

حمیری ''روض المعطار ''میں جب مدائن کی تشریح کرنے پر پہنچتا ہے تو اس شہر کو تسخیر کئے جانے کے سلسلہ میں سیف کی روایت بیان کرتے ہوئے اس کے آخر میں لکھتاہے:

''اور قعقاع بن عمرو نے اس سلسلے میں یہ شعر کہے ہیں :ہم نے بہر سیر کو شجع وقافیہ سے مزین اس حق بات کے ذریعہ فتح کیا جو ہماری زبان پر جاری ہوئی ۔ہمارے خوف سے ان کے دل ہل گئے اور وہ ہماری ننگی اورتیز تلواروں کے سامنے آنے سے ڈرگئے''۔

۲۰۱

مدائن کی فتح

سیف روایت کرتاہے کہ:

''قعقاع کی کمانڈ میں فوجی دستہ کانام خرساء (خموشان)اور اس کے بھائی عاصم کی کمانڈ میں فوجی دستہ کانام اہوال (وحشت)تھا''۔

ان دو دستوں کے دریائے دجلہ سے عبور کی تفصیلات ہم عاصم سیف کے افسانوی صحابی کی سوانح حیات پر بحث کے دوران بیان کریں گے۔

بہر حال سیف اپنی ایک روایت کے ضمن میں کہتاہے:

''دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے دوران سپاہیوں میں غرقدہ نام کے ایک شخص کے علاوہ کوئی شخص غرق نہیں ہوا۔غرقدہ دریا کو عبور کرتے ہوئے اچانک گھوڑے کی پیٹھ سے پھسل کر پانی مین جاگرا۔قعقاع بن عمرو متوجہ ہوا،اس نے ہاتھ بڑھایااور غرقدہ کا ہاتھ پکڑ کر دریائے دجلہ پار کرکے اسے ساحل تک پہنچادیا۔غرقدہ چونکہ ایک قوی پہلوان تھا اور قعقاع کی والدہ بھی خاندان بارق سے تعلق رکھتی تھی ،اس لئے غرقدہ نے قعقاع کی والدہ کی طرف اشارہ کرکے اس لشکر شکن پہلوان سے خطاب کرکے کہا:اے قعقاع! میری بہنیں پھر کبھی تجھ جیسا پہلوان پیدا نہیں کرسکتیں ''

سپاہیوں کے مدائن میں داخل ہونے کے سلسلے میں سیف لکھتاہے :

''سب سے پہلا فوجی دستہ جو شہر مدائن میں داخل ہوا،اہوال فوجی دستہ تھا جس کی کمانڈ عاصم بن عمرو کررہاتھا۔اس کے بعد خرساء فوجی دستہ مدائن میں داخل ہوا ۔ سپاہیوں نے اس شہر کی گلی کو چوں میں کسی فوجی کو نہیں پایا،کیونکہ سبوں نے سفید محل میں پناہ لے رکھی تھی۔اسلامی فوجیوں نے سفیدمحل کو اپنے محاصرے میں لے لیا اور انھیں ہتھیار ڈالنے کوکہا۔انھوں نے مجبور ہوکر ہتھیار ڈال دئے اور جزیہ دینا قبول کیا''۔

۲۰۲

بادشاہوں کا اسلحہ ،غنیمت میں

سیف نے حسب ذیل روایت کی ہے:

''مدائن کے فتح ہونے کے دن ،قعقاع شہر سے باہر نکلا اور تلاش و جستجو میں مشغول ہوا، اسی دوران اس کی ایک ایرانی سے مڈبھیڑ ہوئی جو دو چوپایوں کے اوپر ایک بھاری بوجھ لے کرجا رہا تھا ۔اور لوگ چاروں طرف سے اس کی حفاظت کر رہے تھے قعقاع نے اس شخص پر حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا اور ان دونوں چوپایوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا جب ان پر لدے ہوئے سامان کی جستجو کی تو ان میں سے ایک کے اندر کسریٰ ،ہرمز ،قباد ،فیروز ،ہراکلیوس ،ترکمنستان کے بادشاہ خاقان ،ہندوستان کے بادشاہ داہر ،بہرام سیاوش اور نعمان جیسے بادشاہوں کی تلواریں موجود تھیں دوسرے صندوق میں کسریٰ کی زرہ ،کلاہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کی حفاظتی سپر اور ہراکلیوس ، خاقان اور داہر کی زرہ سیاوش کی زرہ اور نعمان کی زرہ جو جنگ میں ان سے غنیمت کے طور پر لی گئی تھی موجود تھیں ۔اس کے علاوہ بہرام چوبین اور نعمان کے وہ اسلحہ بھی اس میں موجود تھے جو ان سے اس وقت غنیمت میں لئے گئے تھے جب وہ کسریٰ کی بغاوت کرکے اس سے جدا ہوئے تھے ۔

قعقاع نے یہ سب غنائم یکہ و تنہا اپنے قبضہ میں لینے کے بعد انھیں سپہ سالار اعظم سعد وقاص کی خدمت میں پیش کیا سعد نے تجویز کی کہ ان میں سے ایک تلوار قعقاع اپنے لئے انتخاب کرے ۔قعقاع نے ہر اکلیوس کی تلوار کا انتخاب کیا اس کے علاوہ سعد نے بہرام چو بین کی زرہ بھی اسے بخش دی اور کسریٰ و نعمان کی تلواروں کو جن کے بارے میں عربوں میں کافی شہرت تھی خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا کہ مسلمان اسے دیکھ لیں اور باقی غنائم خرساء فوجی دستہ کے سپاہیوں کو بخش دئے ''

یہ سب روایتیں افسانہ سازی کے بہادر اور ماہر سیف بن عمر تمیمی کی ہیں ۔اس داستان کی ، دریائے دجلہ سے سپاہیوں کے عبور کرتے وقت ،عاصم بن عمر و کی سوانح حیات بیان کرتے وقت اور فتح بہرسیر کے واقعہ کے بارے میں ابو مفزر اسود بن قطبہ کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت مزید وضاحت کی جائے گی ۔

۲۰۳

سند کی پڑتال:

سیف نے اس داستان کو اپنے دو جعلی راوی محمد اور مہلب سے نقل کیا ہے کہ حقیقت مین ان کا کہیں وجود نہیں ہے ۔

ا ن کے علاوہ عصمة بن حارث کو بھی راوی کے طور پر ذکر کیا ہے کہ یہ بھی سیف بن عمر کے جعلی روایوں میں سے ایک ہے اور اس کی زندگی کے حالات مناسب جگہ پر بیان کئے جائیں گے ۔

مزید بر آں نضر بن السری نام کا ایک اور راوی سیف نے پیش کیا ہے کہ اس کے ذریعہ طبری میں چوبیس روایات نقل ہوئی ہیں ۔دو اور راوی رفیل اور ابن رفیل ہیں جن سے طبری نے سیف سے بیس روایتیں نقل کی ہیں ۔

ان سب راویوں کو بھی ہم نے سیف کی روایتوں کے علاوہ کسی اور کتاب میں نہیں پایا ۔

دلچسب بات یہ ہے کہ سیف کے مندرجہ بالا جعلی راویوں کے علاوہ اس داستان کے چند دیگر راوی ایک شخص !قبیلہ ٔحارث کا ایک شخص کے عنوان سے بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان دوافراد کے نام کیا تھے تاکہ ہم انھیں راویوں کی فہرست میں تلاش کریں !!

جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ سیف کی باتیں سنجیدہ اور بھاری بھرکم ہونے کے بجائے بیشتر لچر اور مضحکہ خیز ہوتی ہیں ،خاص کر جب وہ اپنے افسانوں کے راویوں کو ایک شخص ،یا قبیلہ حارث کا ایک شخص یا ابن رفیل وغیرہ کے عنوان سے ذکر کرتا ہے ۔

ستم ظریفی کی حد ہے کہ ان واضح جھوٹ ،بہتان اور افسانوں پر مشتمل داستان کو سیف نے گڑھاہے اور امام المورخین طبری نے انھیں بے چوں وچرا نقل کرکے اپنی گراں قدر اور معتبر کتاب میں درج کیا ہے اور دوسرے تاریخ دانوں نے بھی اس کے بعد انہی مطالب کو طبری سے نقل کیا ہے ۔

۲۰۴

اس داستان کی تحقیق اور اس کے فوائد :

جو کچھ اس بحث و تحقیق سے حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ سیف نے دو تمیمی بھائیوں کی کمانڈ میں ''خاموش '' و ''وحشت'' نامی دو افسانوی فوجی دستے مشخص کئے ہیں اور ایک روایت کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ دریائے دجلہ کو پار کرکے مدائن میں داخل ہونے والے فوجیوں میں یہ دو دستے پیش پیش تھے اور یہ افتخار صرف خاندان تمیم کے ناقابل شکست دو سورمائوں یعنی قعقاع ابن عمرو تمیمی و عاصم ابن عمر و تمیمی کو حاصل ہوا ہے ۔اس کے علاوہ اس بے مثال پہلوان بارقی جو آسانی کے ساتھ کسی کی تعریف نہیں کرتا تھا کی زبانی یہ کہلوایا ہے کہ : '' اے قعقاع !دنیا کی عورتیں کبھی تم جیسا سورما جنم نہیں دے سکتیں !''

یہاں پر بھی قعقاع تمیمی ہی ہے جو فرار کرنے والے سپاہیوں کا پیچھا کرکے غنائم کے محافظین کو قتل کر ڈالتا ہے اور اس قدر غنائم پر قبضہ کرتا ہے ۔ان غنائم میں ایرانی بادشاہوں : کسریٰ ،ہرمز ،قباد ، فیروز اور بہرام چوبین کے علاوہ ہندوستان کے بادشاہ داہر ،روم کے بادشاہ ہراکلیوس اور عرب قحطانی یمانی سلطان نعمان کے اسلحے اور جنگی ساز وسامان شامل تھا ۔اس افتخار سے بڑھ کر مضر خاندان کے عظیم پہلوان اور ناقابل شکست سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے لئے کون سا فخر ہو سکتا ہے کہ اس نے تمام دنیا کے بادشاہوں سے باج لے کر خاندان تمیم کے سرپر فضیلت کا تاج رکھ دیا ہے !!

شاباش ہو سیف پر !جس نے خاندانی تعصب کی بنیاد پر تمام اصولوں کو پائمال کرتے ہوئے خاندان تمیم کے پیروں تلے ایک لڑکھڑاتی سیڑھی قرار دے کر اسے بلند سے بلند لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے چاہے اس کا یہ کام کسی ملت یا اسلام کی تاریخ کے نابود ہونے کا سبب کیوں نہ بن جائے !!

۲۰۵

جلولا ء کی فتح

طبری نے سیف سے روایت کی ہے :

''خلیفہ عمر نے سپہ سالار اعظم سعد و قاص کو حکم دیا کہ ایرانیوں سے جنگ کرنے کے لئے ہاشم کو جلولاء بھیج دے اور قعقاع بن عمرو تمیمی کو اس کے ماتحت ہر اول دستہ کے سردار کی حیثیت سے مقرر کرے ۔خدا کی طرف سے ایرانیوں کو شکست اور مسلمانوں کی فتحیابی کے بعد عراق اور ایران کے سرحدی علاقوں کی حکومت قعقاع کے سپرد کی جائے ۔

جب ہاشم ،جلولاء پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ ایرانیوں نے اپنے چاروں طرف ایک خندق کھودی ہے اور خود اس میں مخفی ہو گئے ہیں خندق کے اطراف میں تیز دھار والے لوہے کے ٹکڑے اور جنگی سازوسامان کے ٹوٹے پھوٹے آلات پھیلا کے رکھے گئے تھے تاکہ اپنی پناہ گاہ میں داخل ہونے سے اسلامی فوج کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر سکیں انھوں نے اپنی پناہ گاہ کے چاروں طرف ایسی رکاوٹیں کھڑی کی تھیں کہ اسلامی فوج کے لئے کسی صورت میں اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں تھا اس کے برعکس ایرانی جب چاہتے ان تما م رکاوٹوں کے باوجود آسانی کے ساتھ اس پناہ گاہ میں رفت و آمد کر سکتے تھے ۔

مسلمان اس معرکہ میں اسّی (٨٠) دن تک مشرکین پر حملہ کرتے رہے لیکن تقریبا تین ماہ کی اس مدت کے دوران کوئی خاص پیش قدمی نہ کر سکے ۔

ان حالات کے پیش نظر قعقاع ،وہ معروف شہسوار اور ناقابل شکست پہلوان اس تنہا راستہ پر قبضہ کرنے کے لئے مناسب فرصت کی تلاش میں تھا ،جسے مشرکین نے اپنے فوجیوں کی رفت و آمد کے لئے بنا رکھا تھا جب اسے مناسب موقع ملا تو اس نے یکہ و تنہا اس جگہ پر حملہ کیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا اور پکار کر کہا : اے مسلمانو!تمھارا سپہ سالار اس وقت دشمن کے مورچے کے اندر ہے حملہ کرو!'' قعقاع نے اس لئے یہ جھوٹ بولا تاکہ اسلامی فوج کے حوصلے بلند ہو جائیں اور وہ دشمن پر ٹوٹ پڑیں ۔

قعقاع کی یہ چال کامیاب ہوئی اور اسلامی فوج نے اجتماعی طور پر مشرکین پر حملہ کردیا اس یورش کے دوران انھیں یہ یقین تھا کہ ان کا سپہ سالار ہاشم دشمن کے مورچوں کے اندر گھس گیا ہے ،لیکن اس کے بر عکس قعقاع ابن عمر وتمیمی کو پایا جس نے دشمنوں کی گزرگاہ پر قبضہ کر رکھا تھا۔

۲۰۶

اس کے بعد گھمسان کی جنگ چھڑ گئی اور ایرانی جان کے لالے پڑ نے کی وجہ سے اندھا دھند بھاکتے ہوئے خود اسی جال میں پھنس کر ہلاک ہو گئے جسے انھوں نے اپنے دشمن کے لئے رکاوٹ کے طور پر بچھا رکھا تھا ۔ اس طرح ان کے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور لاشوں سے زمین بھر گئی ۔اسی لئے اس جگہ کی جنگ کو ''جنگ جلولاء ''(۱) کہتے ہیں !!

قعقاع نے فراریوں کا خانقین تک پیچھا کیا بعض کو قتل کیا اور بعض کو اسیر بنایا ۔ ایرانی فوج کے سردار مہران کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔اس کے بعد قعقاع قصر شرین کی طرف بڑھا اور حلوان سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر پہنچا ۔حلوان کا سرحد بان قعقاع کی پیش قدمی کو روکنے کے لئے مقابلے میں آیا ،لیکن اس جنگ کے نتیجہ میں قعقاع کے ہاتھوں مارا گیا اور مسلمانوں نے حلوان پر بھی قبضہ کر لیا۔

سپہ سالار اعظم سعد وقاص کے مدائن سے کوفہ واپس آنے تک قعقاع بن عمر و ،تسخیر شدہ سرحدی علاقوں اور ان کے اطراف کا حاکم رہا جب وہ سعد وقاص سے ملنے کے لئے کوفہ کی طرف روانہ ہوا تو قباد خراسانی کو سرحد بان کی حیثیت سے مقرر کیا ۔

حموی ،جلولاء کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے:

''ایک دریا ہے جو بعقوبہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے دونوں کناروں پر اس علاقہ کے باشندوں کے گھر بنے ہیں ۔وہاں پر ١٦ھ میں مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان ایک گھمسان اور مشہور جنگ واقع ہوئی ہے کہ اس میں ایرانیوں کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی ۔میدان جنگ لاشوں سے بھر گیا اور زمین ان لاشوں سے ڈھک گئی تھی ،اسی سبب سے اسے '' جلولاء و قیعہ '' کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسے کہ سیف کہتا ہے : خدائے تعالیٰ نے جنگ جلولاء میں مشرکین کے ایک لاکھ افراد کو ہلاک کر دیا اور ان کی لاشوں سے زمین بھر گئی ،اسی لئے اسے جنگ جلولاء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ قعقاع ابن عمر ونے جنگ جلولاء میں شعر کہے :

____________________

۱)۔ جللہ ۔یعنی ایسا پردہ اس پر رکھا گیا جس نے اسے پوری طرح ڈھانپ لیا سیف کا کہنا ہے کہ اس زمین کو خون نے پوری طرح ڈھانپ لیا تھا ،اس لئے اسے '' جلولاء '' کہا گیا ۔یعنی خون سے ڈھکی ہوئی زمین۔

۲۰۷

'' ہم نے جلولاء میں ''اثابر'' اور ''مہران'' کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب ان کے لئے راستے بند ہوگئے اس وقت ہماری فوجوں نے ایرانیوں کو محاصرے میں لے لیا اور ایرانی نسل نابود ہو کر رہ گئی :

اس جنگ کے بارے میں کہے گئے اشعار بہت زیادہ ہیں :

حموی نے حلوان کی تشریح کرتے ہوئے اس کے بارے میں لکھا ہے :

'' یہ جگہ ١٩ھ میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوئی ''

جب کہ سیف بن عمر نے اپنی کتاب میں اسے ١٦ھ لکھا ہے ۔اور قعقاع بن عمر وتمیمی نے حلوان کی فتح کے بارے میں شعر کہے ہیں :

'' کیا تمھیں یاد ہے کہ ہم اور تم نے کسریٰ کے گھروں میں پڑائو ڈالا ؟ ہم نے حلوان کی جنگ میں تمھاری مدد و حمایت کی اور بالاخر ہم سب وہاں ایک ساتھ اترے ۔اور عورتوں اور کنیزوں کے کسریٰ کے اوپر نالہ و شیون کرنے کے بعد ہم نے حلوان میں فتح پائی ''

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایت سے موازنہ :

طبری نے فتح جلولاء اور فتح حلوان کے بارے میں اپنی کتاب میں سیف بن عمر تمیمی کی روایت کے علاوہ کسی اور کی روایت کے بارے مین کوئی ذکر نہیں کیا ہے جب کہ یہ داستانیں دینوری اور بلاذری کی کتابوں میں درج کئے گئے واقعات کے بر عکس ہیں ۔دینوری اور بلاذری نے لکھا ہے :

''جلو لاء میں مسلمانوں کا حملہ ایک ہی دن شروع ہوا اور اس دن شام تک جنگ جاری رہی۔افق پر سرخی نمودار ہوتے ہی مسلما نوں کی کا میابی کے آثار نظر آنے لگے اور دشمن بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور شام ہوتے ہی جنگ ختم ہوئی ۔دشمن کے چھوٹے بڑے خیموں پر مسلما نوں نے قبضہ کرلیا۔''

۲۰۸

جب کہ سیف کہتا ہے:

''مسلما نوں کا حملہ او ر ان کی پیش قدمی اسّی دن تک جاری رہی۔''

وہ مزید کہتا ہے :

''سر حدی علاقوں کے ایک حصہ کی حکومت قعقاع بن عمرو تمیمی کو دیدی گئی ۔''

جب کہ بلا ذری اور دینوری نے لکھا ہے :

''جرید بن عبداللہ بجلی قحطانی یمانی نے چار ہزار سپاہیوں کی سر کردگی میں جلولاء کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسی نے حلوان کو بھی فتح کیا ہے ۔''

نہ کہ بقول سیف قعقاع بن عمرو تمیمی نے !!

سند کی جانچ :

سیف نے اس داستان کو بھی محمد اور مھلب سے نقل کیا ہے جب کہ یہ دونوں اس کے جعلی راوی ہیں ۔

اسی طرح سیف نے اس روایت کے راوی کے طور پر عبداللہ محفز کا ذکر کیا ہے جس نے اپنے باپ سے رو ایت کی ہے ۔عبداللہ محفز سے مجموعی طور پر چھہ احادیث تاریخ طبری میں سیف کے ذریعہ درج ہوئی ہیں ۔

سیف کی نظر میں اس روایت کا ایک اور راوی مستنیر بن یزید ہے کہ تاریخ طبری میں سیف کے ذریعہ اس سے اٹھارہ روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

اس کے علاوہ بطان بن بشیر ہے ،جس سے سیف کی تاریخ طبری میں صرف ایک روایت نقل ہوئی ہے اور حماد بن فلان !!البرجمی ہے جس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔اس سے سیف کے ذریعہ طبری میں دو روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔

ہم نے سیف کے مذکورہ بالا راویوں کو راویوں کا فہرست اور طبقات میں بہت تلاش کیا لیکن ان کا کہیں کوئی نام و نشان نہیں پایا ۔صرف سیف کے یہا ں ان کا سراغ ملتا ہے چونکہ گزشتہ تجربے کی روشنی میں جا ن گئے ہیں کہ سیف اشخاص کو جعل کرنے میں ماہر ہے ،اس لئے ہم سمجھ گئے کہ یہ راوی بھی اس کے تخیلات کی تخلیق اور جعلی ہیں ۔

۲۰۹

اس کے علاوہ ہم نے اس سے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ سیف کی روایتیں سنجیدہ ہونے کے بجائے مضحکہ خیز ہوتی ہیں ،خاص کر جب وہ اپنے افسانوں کے لئے کسی راوی کو حماد بن فلان !!کے نام سے ذکر کرتا ہے جس نے جناب فلاں سے روایت کی ہے !!

سیف کی روایت کا دوسروں کی روایات سے موازنہ:

ہم نے مشاہدہ کیا کہ طبری نے سیف سے جلولاء کی جنگ ،اس کی وجہ تسمیہ اور اس جنگ میں مقتولین کی تعداد کے بارے میں مطالب ذکر کئے ہیں جو سب کے سب اس کے بر عکس ہیں جن کا دوسروں نے ذکر کیا ہے ۔

حموی نے داستان سیف کے ایک حصہ کو سیف کے قعقاع سے نسبت دئے گئے اشعار کو جلولاء کی تشریح میں اپنے مطالب کی دلیل کے طور پر درج کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ جلولاء اور حلوان کے بارے میں سیف کی کتاب میں بہت سے اشعار موجود ہیں ۔

لیکن طبری نے اپنی عادت کے مطابق ان تمام اشعار میں سے ایک شعر بھی اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ہے ۔ وہ سیف سے نقل کرتے ہوئے عراق وایران کے سر حدی علاقوں کی حکومت قعقاع بن عمرو تمیمی کے ہاتھ میں ہونا بیان کرتا ہے اور حلوان کا فاتح بھی اسی کو ٹھہرا تا ہے ۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کی حکومت جریر بن عبداللہ بجلی قحطانی یمانی کے ہاتھ میں تھی اور یہی جریر یمانی ہے جس نے حلوان کو کرمانشاہ تک فتح کیا ہے ،نہ کہ قعقاع نے !

اور یہ نکتہ ہم نے گزشتہ بحثوں میں مکرر کہا ہے کہ طبری نے اس داستان کو براہ راست سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دیگر مورخین ،جیسے ابن کثیر ،ابن اثیر ،ابن خلدون اور میر خواند،سبوں نے طبری سے نقل کرکے اسے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

۲۱۰

اس حدیث کے نتائج :

١۔ناقابل تسخیر مورچہ پر قبضہ کرنے کی صورت میں قعقاع کے افتخارات میں ایک اور فخر کا اضافہ کرنا۔

٢۔ خاندان تمیم کے افسانوی سورما قعقاع کے ہاتھوں ایرانی سپہ سالار مہر ان کا قتل ہونا۔

٣۔ حلوان کی فتح اور اس کے سرحدبان کا قتل ہونا۔

٤۔ تسخیر شدہ سرحدی علاقوں پر خاندان تمیم کے ناقابل شکست بہادر قعقاع کی حکومت جتلا کر خاندان تمیم کے سر پر فضیلت کا تاج رکھنا۔

٥۔ اور آخر کار جنگ جلولاء میں ایک لاکھ انسانوں کے قتل عام کا مسلمانوں کی دوسری جنگوں

میں کئے گئے انسانی قتل عام میں اضافہ کرکے ان لوگوں کے لئے ایک اور سند فراہم کرنا ،جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام تلوار سے پھیلا ہے ۔

یہاں تک ہم نے قعقاع کی ایران میں فتوحات کے سلسلے میں سیف کی روایات کا جائزہ لیا اگلی فصل میں ہم ان دیگر فتوحات کے بارے میں تحقیق کریں گے جن کو سیف نے ایران کی فتح کے بعد دوبارہ شام میں اس افسانوی سورما قعقاع کے لئے جعل کیا ہے۔

۲۱۱

قعقاع دوبارہ شام میں

یدعون قعقاعا لکل کریهة

فیجیب قعقاع دعاء الهاتف

ہر خطر ناک حادثہ میں قعقاع سے مددکی درخواست کی جاتی ہے اور وہ بھی فریاد رس بن کر تیزی سے دوڑتا ہے ۔

حمص کی فتح :

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ١٧ھ کے حوادث کے ضمن میں لکھا ہے :

'' ابو عبید ہ جراح خلیفہ عمر کی طرف سے شام میں مامور تھا ،اس نے خلیفہ سے مدد طلب کی خلیفہ نے سعد وقاص کو لکھا کہ ابو عبیدہ دشمن کے محاصرہ میں ہے میرے اس خط کے ملتے ہی قعقاع بن عمر و کو ایک لشکر کے ہمراہ اس کی مدد کے لئے روانہ کرو کیوں کہ ابوعبیدہ کو دشمن نے گھیرلیا ہے ۔

قعقاع خلیفہ کا حکم ملتے ہی حکم کی تعمیل میں اسی روز چار ہزار سپاہیوں کے ہمراہ شام کی طرف روانہ ہوا ،جوں ہی مشرکین کو پتا چلا کہ ابوعبیدہ کے لئے فوجی کمک پہنچ رہی ہے انھوں نے محاصرہ کھول دیا اور منتشر ہوگئے ۔اس طرح خدا ئے تعالیٰ نے قعقاع کے وجود کی برکت سے شہر حمص کو ابوعبیدہ کے ہاتھوں فتح کیا ۔

قعقاع اپنے سپاہیوں کی قیادت میں فتح حمص کے واقعہ کے تین دن بعد ابو عبیدہ سے ملحق ہوا ۔ ابوعبیدہ نے فتح حمص کے موضوع اور تین دن گزرنے کے بعد قعقاع اور اس کی فوج کے اس سے ملحق ہونے کے بارے میں خلیفہ عمر کو رپورٹ دی اور جنگی غنائم کی تقسیم کے سلسلے میں دریافت کیا ،عمر نے ابو عبیدہ کو لکھا کہ جنگی غنائم میں قعقاع اور اس کے ساتھیوں کو اپنے ساتھ شریک قرار دے ،کیوں کہ وہ تیری مدد کے لئے آئے ہیں اور انہی کے سبب دشمن نے تم پر سے محاصرہ اٹھالیا تھا ۔اور اپنے خط کے آخر میں حسب ذیل اضافہ کیا:

'' خدا ئے تعالیٰ کو فیوں کو نیک جزاء دے کیوں کہ وہ اپنے وطن کا خیال رکھتے ہیں اور دوسرے شہر یوں کی مدد بھی کرتے ہیں ''

۲۱۲

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ :

ابن عساکر نے قعقاع کی زندگی کے حالات میں حمص کی داستان کو سیف سے نقل کیا ہے اور اس کے ضمن میں لکھتا ہے :

'' قعقاع بن عمرو حمص کی جنگ کے بارے میں اپنے شعر میں یوں تشریح کرتا ہے ''

''قعقاع کو ہر سختی اور مشکل سے مقابلہ کرنے کے لئے طلب کرتے ہیں اور وہ بھی مدد طلب کرنے والوں کی طرف فریاد رس کی حیثیت سے دوڑ تا ہے ۔

ہم دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے حمص کی طرف اس طرح دوڑپڑے جیسے کوئی کسی بے چارہ کی مدد کرنے کے لئے فریاد رس کی حیثیت سے بڑھتا ہے ۔

جب ہم دشمن کے نردیک پہنچے تو خدائے تعالیٰ نے ہماری ہیبت سے ان کو شکست دے دی اور وہ فرار کر گئے ۔

میں نے صحرائوں اور درّوں میں دشمن پر پے در پے تیر اندازی کی ،حتیٰ حمص کو اپنے تیروں ،نیزوں اور زور و غلبہ سے اپنے قبضہ میں لے لیا ''

ابن حجر نے ''الاصابہ '' میں اس قصیدہ کے پہلے شعر کو قعقاع کے حالات میں سیف کی روایت سے نقل کیا ہے ۔لیکن طبری نے اپنی روش کے مطابق اسے حذف کیا ہے اور صرف سیف سے روایت کرکے واقعات کی تشریح پر اکتفا کی ہے ۔

حموی نے حمص کی جنگ کے بارے میں سیف کی حدیث سے بالکل چشم پوشی کی ہے اور اس کی داستان اور اشعار کو اپنی کتاب میں درج نہیں کیا ہے ۔حموی کے علاوہ جن لوگوں نے بھی حمص کی فتح کے بارے میں ذکر کیا ہے صرف سیف بن عمر کی روایت کا حوالہ دیا ہے کیوں کہ ہم اس سے پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں کہ تمام مورخین اس بات پرمتفق ہیں کہ فتوحات شام میں خاندان تمیم میں سے کسی ایک فرد نے بھی شرکت نہیں کی ہے ۔

بہر حال جیسا کہ بیان ہوا ،اس داستان کو طبری نے سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور دوسرے(۱) مورخوں نے جو طبری کے بعد آئے ہیں اپنے مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

____________________

۱) ۔طبری کے بعد دوسرے مورخین سے خاص طور پر ہمارا مقصود ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون ہے ۔ گزشتہ صفحات میں ہم نے اشارہ کیا ہے کہ انھوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد والے واقعات اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے بارے میں انھوں نے تاریخ طبری سے ہی استناد کیا ہے ہم نے فہرست مصادر میں ان کی کتابوں کے صفحات کے نمبر بھی حوالہ کے طور پر درج کئے ہیں ۔

۲۱۳

سند کی پڑتال :

سیف نے اس داستان کی سند کے طور پر محمد اور مہلب کا نام لیا ہے ان کے بارے میں پہلے ہی معلوم ہو چکا ہے کہ یہ سیف کے تخیلات کی پیداوار ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ۔

اس جانچ کا نتیجہ :

فتح حمص کے بارے میں سیف کی روایت اور اس کا دوسروں کی روایت سے موازنہ کرنے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ سیف بن عمر تنہا وہ شخص ہے جس نے حمص کی داستان کی دوبارہ روایت کی ہے اور اس سلسلے میں اتفاقات و واقعات بیان کئے ہیں جب کہ ابن اسحاق اور بلاذری نے ایسی کوئی چیز درج نہیں کی ہے ۔

اس روایت کا نتیجہ

اب ہم دیکھتے ہیں کہ سیف نے اس داستان کو گڑھ کے کیا ثابت کیا ہے اور کیا پایا ہے :

١۔قعقاع بن عمرو تمیمی اور اس کے ہم وطن کوفیوں کے لئے فضیلت فراہم کرنا۔کیونکہ صرف قعقاع اور اس کے کوفی لشکر کی آمد کی خبر نے ہی دشمن کی بنیادوں کو متزلزل کردیااور اسی ہیبت نے دشمن کو منتشر کرکے مسلمانوں کو فتح عطا کی ۔

٢۔خلیفہ عمر کا بیان اور اس کی یہ گواہی کہ:''خدا کوفیوں کو نیک جزا دے ،کیونکہ وہ اپنے وطن کاخیال رکھتے ،ہیں اور دوسرے شہر یوں کی مدد بھی کرتے ہیں ''۔خلیفہ عمر ابن خطاب جیسی شخصیت کی طرف سے اس قسم کی گواہی اور تائید اس غیر معمولی جھوٹے افسانہ ساز سیف بن عمر کے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کی راہ میں انتہائی بیش قیمت اور گراں قدر ہے۔

٣۔قعقاع کی رجز خوانی اور رزمیہ شاعری ،خود اس بات کی تائید کرتی ہے کہ اسے ہمیشہ مشکل اور بڑے کاموں کے لئے بلایاجاتا تھا،کیونکہ وہ مشکل کشا اور ہر میدان کا رزار کا بے مثال فاتح ہے۔اور وہ بھی اپنی بہادری کی بناء پر ہمیشہ اس قسم کے مسائل ومشکلات کو حل کرتارہاہے۔اس کے ثبوت کے لئے خلیفہ کابیان بھی جو یہ کہتے ہیں :یہ کوفی ہیں جو اپنے وطن کی بہتر صورت میں حفاظت کرتے ہیں اور مشکلات وسختیوں میں دوسرے شہریوں کی مدد بھی کرتے ہیں ۔

۲۱۴

قعقاع ،نہاوند کی جنگ میں

قتل من الفرس ما طبق ارض المعرکة

نہاوند کی جنگ میں اتنے ایرانی مارے گئے کہ ان کی لاشوں سے زمین بھر گئی اور ان کے خون سے زمین پھسلنی بن گئی ۔

(سیف بن عمر)

جنگ نہاوند کی داستان:

قعقاع ،کوفی سپاہیوں کے ہمراہ دوبارہ عراق لوٹتاہے،لیکن کب،کیسے اور کیوں ؟۔ہم نے اس سلسلہ میں نہ طبری سے اور نہ سیف کے دیگر راویوں سے کہ اس مطلب کے جوابگو ہوں کچھ نہیں پایا اور یہ بھی معلوم نہ ہوسکا کہ سیف نے اس سلسلے میں کیا خیال بندی کی ہے۔

بہر حال ،نہاوند کی جنگ کے بارے میں طبری،سیف سے نقل کرتے ہوئے لکھتاہے:

''نہاوند کی جنگ ١٨ ھ میں واقع ہوئی ۔ایرانیوں نے نہاوند کے قلعہ میں پناہ لے لی تھی،اپنی ضرورت اور مصلحت کے بغیر اس سے باہر نہیں نکلتے تھے کبھی کبھی جنگ کے لئے باہر نکلتے تھے ۔مسلمانوں نے اس قلعہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا اور یہ محاصرہ طولانی مدّت تک جاری رہا ۔مسلمانوں کے لشکر کا سپہ سالار اعظم نعمان بن مقرن تھا۔نعمان نے قعقاع بن عمرو کو مأمور کیا کہ کسی صورت سے ایرانیوں کو قلعہ سے باہر نکال کر میدان کارزار میں کھینچ لائے۔قعقاع بن عمرو (خاندان تمیم کا افسانوی پہلوان ) ہراول دستہ کے سوار فوجیوں کا سردار تھا۔اس نے ایک تدبیر سوچی اور میدان کارزار میں داخل ہوا۔اس نے اپنے سپاہیوں کے ساتھ قلعہ پر حملہ کیا،ایرانی مقابلہ کے لئے آگے بڑھے ،قعقاع نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا ۔اسی طرح جنگ وگریز کی حالت میں وہ پیچھے ہٹتا گیا ۔ایرانیوں نے یہ خیال کیا کہ مسلمان ہزیمت اٹھارہے ہیں ،اس لئے ان کا کام تمام کرنے کی غرض سے قلعہ اور مورچوں سے باہر آگئے اور دور تک مسلمان سپاہیوں کا پیچھا کیا ۔جب قلعہ کے محافظوں کے علاوہ تمام ایرانی قلعہ سے باہر آگئے تو مسلمان اسی چیز کا انتظار کررہے تھے ،اس لئے فرصت کو غنیمت سمجھ کر مسلمان سپہ سالار نے واقعی حملہ کا حکم دیا اور گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ۔اس معرکہ میں اتنے ایرانی مارے گئے کہ زمین پر کشتوں کے پشتے لگ گئے اور ان کے خون سے زمین اتنی پھسلنی بن گئی کہ سوار اور پیادہ اس پر پھسل جاتے تھے ۔

۲۱۵

شام ہونے سے پہلے ہی مشرکین بھاگنے پر مجبور ہوگئے اور حیرانی و پریشانی کے عالم میں چاروں طرف بھاگنے لگے۔ان میں ایسی بھگدڑمچ گئی کہ راہ وچاہ میں فرق نہیں سمجھ سکے۔اسی سبب سے قلعہ اور پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے کے بجائے دشمن کے لئے کھودی گئی اپنی ہی خندق جس میں انھوں نے دشمن کے لئے آگ لگا رکھی تھی کی طرف بھاگے اور ان خوفناک آگ کے شعلوں میں گرتے گئے۔اس خندق میں گرتا ہوا ہر سپاہی فارسی زبان میں چیخ کر کہتاتھا ''وائے خرد!!''۔اسی لئے وہ سرزمین ''وائے خرد!''کے نام سے مشہور ہوگئی اور آج تک اسی نام سے معروف ہے۔ جن ایرانی سپاہیوں نے اس دہکتی ہوئی آگ میں گر کر جان دی ان کی تعداد ایک لاکھ تک بلکہ اس سے زیادہ تک پہنچ گئی ۔مقتولین کی یہ تعدادان بے شمار کشتو ں کے علاوہ تھی جو میدان کار زار میں کام آئے تھے ۔بہت کم ایسے لوگ تھے جو اس معرکہ سے زندہ بچ کر نکلے ۔فرار کرنے والوں میں ایرانی فوج کا کمانڈ ر فیروزان بھی تھا جو بڑی چالاکی سے اس معرکہ سے زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا اور ہمدان کی طرف بھاگ گیا تھا قعقاع بن عمرو نے فیروزان کا پیچھا کیا اور درۂ ہمدان میں اس کے نزدیک پہنچ گیا ۔

اس وقت وہ گزرگاہ ایسے چوپایوں سے کھچا کھچ بھری تھی جن کی پیٹھ پر شہد لدا ہوا تھا ۔ان چوپائوں کی کثرت کی وجہ سے اس تنگ گزرگاہ سے فیروزان کے لئے گزرنا مشکل ہو گیا ۔اس لئے وہ مجبور ہو کر گھوڑے سے اترا اور بڑی تیز ی کے ساتھ پہاڑ پر چڑھنے لگا ۔اسی اثنا میں اس کا پیچھا کرنے والا قعقاع بھی وہاں پہنچ گیا اور اس نے پہاڑ کی طرف بھاگتے ہوئے فیروزان کا پیچھا کیا ۔آخر کار پہاڑکی بلندی پر اس پر قابو پا لیا اور وہیں پر اسے قتل کر ڈالا ۔اسی سبب سے اس دن کے بعد اس گزر گاہ کا نام '' گزر گاہ عسل'' (یعنی شہد کی گزرگاہ) پڑ ا ۔اس امر کے پیش نظر کہ اس گزر گاہ پر شہد کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ کامیابی حاصل ہوئی تھی اس لئے اسلام کے سپاہیوں نے وہاں پر یہ جملہ کہا :'' خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' ۔

دوسری طرف ایرانی فوج کے فراری سپاہی دوڑتے بھاگتے ہمدان پہنچ گئے ۔ان کا پیچھا کرنے والے مسلمانوں نے ہمدان کا محاصرہ کیا اور اس کے اطراف کو اپنے قبضے میں لے لیا ۔ہمدان کے باشندوں نے جب یہ حالت دیکھی تو وہ سمجھ گئے کہ اسلامی فوج سے مقابلہ نہیں کر سکتے ،اس لئے مجبور ہو کر امان چاہی اور ان کی درخواست منظور کرکے انھیں امان دے دی گئی۔

۲۱۶

جب ہمدان کے زوال اور تسخیر ہونے کی خبر ماہان کے باشندوں کو پہنچی ،اور انھیں اطلاع ملی کہ نعیم بن مقر ن اور قعقاع بن عمر و نے ہمدان کو فتح کر لیا ہے تو ماہان کے باشندوں نے بھی ہمدان کے باشندوں کی طرح امان کی درخواست کی اور انھیں بھی امان دے دی گئی ۔ماہان کے باشندوں کے امان نامے کے آخر میں قعقاع بن عمرو تمیمی نے تائید کی اور گواہ کے طور پر دستخط کئے ۔اس فتح ،یعنی فتح نہاوند کو '' فتح الفتوح '' کا نام دیا گیا ہے ۔

سیف کی روایت کا دوسروں سے موازنہ:

نہاوند کی فتح کے سلسلہ میں طبری کی سیف سے کی گئی روایت کا یہ ایک خلاصہ ہے طبری کے بعد آنے والے مورخین(۱) نے ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے

لیکن حموی نے فتح نہاوند کی اس داستان کو '' نہاوند '' ''وائے خرد !''اور ''ماہان ''کی لفظوں کی تشریح کے ضمن میں پراگندہ حالت میں درج کیا ہے ۔اس سلسلے میں وہ نہاوند کے بارے میں لکھتاہے

مسلمانوں نے نہاوند کی فتح کا نام '' فتح الفتوح '' رکھا ہے اس مناسبت سے قعقاع بن عمرو نے یہ شعر کہے ہیں :

'' جو بلا سبب کسی خاندان کی بدگوئی کرے خدا اسے ایسی بلا میں مبتلا کرے ،جس کے

____________________

۱)۔ دیگر مورخین سے ہمارا مقصود خاص کر ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون ہے ہم نے مناسب جگہوں پر ان کے عین متن جوان کے تمام مطالب کو طبری کی کتاب سے نقل کرنے کی دلیل ہے کو درج کیا ہے ،ہم مصادر کتاب درج کرتے ہوئے ان کتابوں کے صفحات کا نمبر بھی الگ الگ درج کریں گے تاکہ خواہشمند حضرات اور محققین کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا آسان ہو جائے ۔

۲۱۷

عذاب سے اس کے سر کے بال سفید ہو جائیں ،پس تم بھی اپنی شماتت کی زبان مجھ سے دور رکھو ،کہ میں دشمن کے مقابلے میں اپنی شرافت کا دفاع کرتا ہوں کیوں کہ جب ہم نہاوند کے پانی میں داخل ہوئے تو اس سے سیراب ہو کر نکلے جب کہ دشمن بے بسی کے عالم میں اپنی جگہ پر پیاسے ہی کھڑے تھے''

وہ مزید کہتا ہے :

'' نہاوند سے پوچھ لو کہ ہمارے حملے کیسے تھے ؟ جب ہم اس کے درودیوار سے دشمنوں پر بلائیں اور مصیبتیں برسا رہے تھے !''

جب عجم پر منحوس ترین راتیں گزر رہی تھیں ،ہم نے نہاوند کے تمام مقامات پراپنے گھوڑے ٹھہرائے تھے اور تمام علاقوں میں پھیل گئے تھے ،ہم ان کے لئے موت کا تلخ پیغام تھے ۔حقیقت میں نہاوند کا دن انتہائی سخت دنوں میں سے تھا جو ان پر گزرا۔ ہم نے دہکتے آگ کے شعلوں والی خندق کو ان کے سوار اور پیدل سپاہیوں کی لاشوں سے بھر دیا اور پہاڑوں کی صاف اور کھلی گزر گاہوں نے بھی فراری فیروزان کے لئے راہ تنگ کردی تھی اور اس کے لئے بھاکنے کی کوئی گنجائش باقی نہ رکھی تھی''

وہ لفظ '' وائے خرد!'' کے بارے میں لکھتا ہے :

نہاوند کے نزدیک ''وائے خرد '' نام کی ایک خندق ہے کہ ایرانی فوج شکست کھا کر اس میں گرتے ہوئے فریا د بلند کرتے تھے '' وائے خرد'' اور اسی سبب اس جگہ کا نام ''وائے خرد '' پڑا ہے اس مطلب کو کتاب ''فتوح'' کے مولف سیف بن عمر تمیمی نے لکھا ہے... اور قعقاع بن عمرو نے اس کے بارے میں یوں کہا ہے :

'' جب ''وائے خرد !'' میں وہ سر کے بل گر گئے ،تو صبح کے وقت گدھ اور لاش خور ان کی ملاقات کے لئے آئے ۔ہم نے ان کے اتنے لوگوں کو قتل کیا کہ جس خندق میں انھوں نے آگ سلگائی تھی ،وہ لاشوں سے بھر گئی''

۲۱۸

پھر چند دیگر اشعار کے ضمن میں اس طرح کہا ہے :

''میں نے نہاوند کی جنگ میں کسی خوف و ہراس کے بغیر شرکت کی ۔ اس دن تمام عرب قبیلوں نے جنگ میں شجاعت کے جوہر دکھائے ،شام کے وقت جب فیروزان ہماری ننگی تلواروں کی ہیبت سے اپنی جان بچانے کے لئے پہاڑ کی طرف بھاگ گیا تو ہمارے ایک شجاع اور جوان مرد جنگجو نے اس کا پیچھا کیا اور چوپایوں کے نزدیک اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔دشمنوں کی لاشیں ''وائے خرد '' میں پڑی ہیں تاکہ وحشی بھیڑیے ان کی ملاقات کے لئے آئیں اور ان کے مہمان بنیں ''

وہ ہامان کے بارے میں لکھتا ہے :

عرب اسے لفظ جمع کی شکل میں ''وماہات''کہتے ہیں ...اور قعقاع بن عمرو نے ماہان کے بارے میں یوں کہا ہے:

'' ہم نے ماہات میں اس وقت ایرانیوں کی ناک رگڑ کے رکھ دی جب ان کے فرزندوں کو جو شیر کے بچے کہلاتے تھے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ان کے گھروں کو مسمار کرکے رکھ دیا ،اسی روز جب میں ان سے لڑنے کے لئے نکلا تھا اور جو بھی میرے مقابلے میں آئے گا اس کا یہی انجام ہوگا''

یہ وہ مطالب ہیں جنھیں سیف نے درج کیا ہے اور ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،کیوں کہ :

١۔ بلاذری اور دینوری نے روایت کی ہے کہ ایرانی فوج کا سپہ سالار شاہ ذوالحاجب تھا نہ فیروزان۔

٢۔دینوری نے ایرانیوں کو پناہ گاہ سے باہر لانے کا طریقہ یوں بیان کیا ہے :

'' عمر بن معد یکرب نے اسلامی فوج کے سپہ سالار نعمان بن مقرن کی خدمت میں تجویز پیش کی کہ خلیفہ عمر کی وفات کا اعلان کریں اور اپنے پورے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف پیچھے ہٹیں اور اس طرح ایرانیوں کو فریب دیں ۔نعمان نے اس تجویز کو پسند کیا اور اس کوعملی جامہ پہنایا۔ ایرانیوں نے جب فریب میں آکر اس خبر کو نوید کے طور پر ایک دوسرے تک پہنچایا اور وہ مسلمانوں کا پیچھا کرنے کے لئے باہر نکلے تو مسلمانوں نے اچانک مڑکر ان پر حملہ کر دیا ...''

۲۱۹

٣۔ طبری نے لکھا ہے کہ سیف ابن عمر نے نہاوند کی فتح کی تاریخ ١٨ھ روایت کی ہے جب کہ دیگر مورخین اسے ٢١ھ درج کیا ہے ۔

٤۔ بلاذری نے ایرانی سپہ سالار اعظم مردان شاہ کے قتل ہونے کے طریقہ کے بارے میں یوں لکھا ہے :

'' وہ اس خچر سے نیچے گر گیا ،جس پر سوار تھا اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اسی کے سبب وہ مرگیا''

٥۔بلاذری نے کہا ہے کہ :

'' ہمدان ،جریر بجلی قحطانی کے ذریعہ فتح ہوا ہے نہ قعقاع بن عمر وتمیمی کے ہاتھوں ''

٦۔اس موضوع ''خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' کے بارے میں کتاب ''معجم البدان '' میں بعلبک کی تشریح میں درج ہے کہ : مشہور یہ ہے کہ یہ جملہ معاویہ ابن ابو سفیان سے مربوط ہے ،جب اس نے مالک اشترہمدانی کو فریب سے شہد میں ملائے ہوئے زہر کے ذریعہ قتل کرایا۔

ابن کثیر بھی کہتا ہے کہ ،معاویہ اور عمر و عاص دونوں نے یہ جملہ ' ' خدا کے پاس شہد کی فوج بھی ہے '' اس وقت کہا جب مالک اشتر شہد میں ملائے ہوئے زہر کے سبب قتل ہوئے ۔

طبری بھی کہتا ہے کہ ،عمرو عاص نے شہد میں ملائے ہوئے زہر کے سبب مالک اشتر کے قتل ہونے کے بعد یہ جملہ کہا۔(۱)

____________________

الف )۔ ملاحظہ ہو تاریخ ابن کثیر ج٨ص٢١٢،تاریخ طبری ٣٢٤٢١

۲۲۰