ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 27762
ڈاؤنلوڈ: 843


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27762 / ڈاؤنلوڈ: 843
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

اس کے علاوہ جو کچھ سیف نے اس سلسلہ میں کہا ہے وہ جعلی ہے اور تنہا وہی اس کا راوی ہے دیگر راویوں نے اس قسم کی کوئی چیز ذکر نہیں کی ہے اور یہ سب دیگر مورخین کے نظریات اور نقل و روایت کے خلاف ہے ۔

سند کی تحقیق :

سیف نے یہ داستان محمد اور مہلب سے نقل کی ہے کہ یہ دونوں اس کے جعلی راوی ہیں اور ہم اس سے پہلے ان کا ذکر کر چکے ہیں ۔

اسی طرح عروہ ابن ولید اور ابو معبد العبسی کہ جنھوں نے اپنے رشتہ دار وں سے روایت کی ہے ،کو بھی اس داستان کے راویوں کے طور سے ذکر کیا ہے ۔ہم نے عروہ اور ابومعبد کا نام سیف کی حدیث کے علاوہ کہیں نہیں پایا ،ان کے مجہول رشتہ داروں کا پتا لگانا تو دور کی بات ہے !!۔

پڑتال کا نتیجہ :

ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف بن عمر نے ایران کی فوج کے سپہ سالار اعظم کا نام بدل دیاہے۔

ایرانیوں کو اپنی پناہ گاہ سے نکالنے کے طریقہ کار میں تحریف کی ہے فتح کے سال کوبھی بدل دیا ہے اور شاید '' گزر گاہ شہد ''کو اس لئے جعل کیا ہے تاکہ معاویہ ابن ابو سفیان مضری کی کارکردگی اور مالک اشتر کو شہد میں ملائے زہر سے قتل کرنے کی اس کی بات گول مول کردے ۔

اس کے علاوہ ہم نے واضح طور پرمشاہدہ کیاکہ اس نے ہمدان کی فتح کو جریر بجلی قحطانی یمانی کے بجائے قعقاع بن عمر و تمیمی مضری کے کارناموں میں درج کردیا ہے ۔

۲۲۱

اس داستان کے نتائج:

١۔ ایرانیوں کو جنگی حیلہ اور فریب سے ان کی پناہ گاہ سے باہر لاکر خاندان تمیم کے ناقابل شکست پہلوان قعقاع بن عمرو کے لئے خاص فضیلت و ستائش تخلیق کرنا۔

٢۔ نہاوند میں ''وائے خرد !'' نام کی جگہ ایک لاکھ سے زائد ایرانیوں کا ان کے اپنی ہی آگ سے بھری خندق میں گر کر ہلاک ہوجانا۔

٣۔ نہاوند کی فتح میں ایک لاکھ انسان کے قتل ہونے اور ایک لاکھ کے جل کر ہلاک ہونے ، یعنی مجموعی طور سے دو لاکھ انسانوں کی ہلاکت پر تاکید اور اصرار کرنا۔

٤۔فیروزان نام کی ایک نمایاں ایرانی شخصیت کو ایرانی فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے جعل کرنا۔

٥۔ ''وائے خرد'' نام کی ایک خندق کی تخلیق کرنا تاکہ جغرافیہ کی کتابوں میں یہ نام درج ہو جائے ۔

٦۔ ''گزر گاہ شہد '' کے نام سے ایک گزرگاہ تخلیق کرنا تاکہ دشمنان اسلام کے لئے رکاوٹ بن جائے ۔اور اس فیروزان کو قتل کر کے قعقاع کے افتخارات میں ایک اور فخر کااضافہ کرنا ۔

٧۔ ہمدان کی فتح کا سحرا قعقاع اور دیگر مضری سرداروں کو بخش کر ان کے افتخارات میں ایک اورفخر کا اضافہ کرنا ۔

٨۔ ان جنگوں میں بے مثال پہلوان قعقاع بن عمرو کے رجز اور رزم ناموں پر مشتمل قصیدوں کو ادبیات عرب کی زینت بنانا۔

٩۔ ہمدان اور ماہان کے باشندوں کے ساتھ صلح و امان نامے جعل کرنا تاکہ تاریخ کی کتابوں میں ناقابل انکار تاریخی اسناد کے طور پر ثبت ہو جائیں اور ہمیشہ کے لئے باقی رہیں ۔

۲۲۲

بحث کاخلاصہ:

یہ ہے سیف کا افسانوی دلاور ،پہلوان ،عقلمند سیاست داں ،نامور رزمی شاعر اور تمام معرکوں اور فتوحات میں ناقابل شکست سورما قعقاع ،جس کی نیک نامیاں ،بہادریاں ،دوراندیشیاں ،سنجیدگیاں اور قابل قدر خدمات کتابوں میں درج ہوئے ہیں اور اس کے نام کی شہرت دنیا میں پھیل گئی ہے ۔

طبری نے سیف سے نقل کرتے ہوئے ٣٤ھو ٣٥ھ کے حوادث کے ضمن میں عثمان کی خلافت کے زمانے میں قعقاع کی سرگرمیوں کا ایک اور باب کھول کر یوں ذکر کیا ہے ۔

'' خلیفہ عثمان نے قعقاع بن عمر و کو کوفہ کی جنگ کا سپہ سالار مقر ر کیا ۔اس زمانے میں کوفہ اسلامی ممالک کا مشرقی دارالخلافہ تھا اور عسکری نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کا حامل تھا ۔سیف کی اس روایت کے مطابق خلیفہ عثمان نے قعقاع بن عمرو کو اسلامی ممالک کے مشرقی حصے کے کمانڈر انجیف کی حیثیت سے مقرر کیا ہے ۔

سیف کی روایت کے مطابق اس کے بعد قعقاع بن عمر و کی سرگرمیاں ایک اور صورت اختیار کرتی ہیں اور اس کے لئے ایک خاص مقام و مرتبہ پر فائز ہوتا ہے ۔آخر اس جیسا افسانوی ''مرد مجاہد '' کیوں ہر لحاظ سے کامل نہ ہو !؟

قعقاع ابن عمرو کی سرگرمیوں کے اس نئے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کو ایک خیر خواہ ،صلح و صفائی کے ایلچی اور عثمان اور حضرت علی ں کی خلافت کے دوران پیدا ہوئی بغاوتوں اور فتنوں کو دوستی و برادری سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔انشاء اللہ ہم اس حصے کی تفصیل اگلی فصل میں پیش کریں گے ۔

۲۲۳

قعقاع ،عثمان کے زمانے میں

انی لکم ناصح و علیکم شفیق

میں آپ کا شجاع دوست اورخیر خواہ ہوں

( قعقاع افسانوی خیر خواہ )

قعقاع ،عثمان کے زمانے کی بغاوتوں میں

طبری نے سیف بن عمر سے روایت کی ہے :

'' جب قعقاع سبائیوں کی عثمان کے خلافت بغاوت کے سلسلے میں مسجد کوفہ میں منعقدہ میٹنگ سے آگاہ ہوا ،تو فوراً وہاں پہنچ گیا اور انھیں ڈرادھمکا کے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں سوال کیا ۔سبائیوں نے اپنے جلسہ کا مقصد اس سے چھپاتے ہوئے کہا : ہم کوفہ کے گورنر سعید کی برطرفی کے حامی ہیں قعقاع نے جواب میں کہا : کاش !تم لوگوں کی خواہش صرف یہی ہوتی !اس کے بعد ان کو منتشر کیا اور مسجد میں رکنے نہیں دیا ''

وہ مزید لکھتا ہے :

جب مالک اشتر سعید کو گورنر کی حیثیت سے کوفہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے باغیوں کو اکسارہا تھا ،تو ڈپٹی گورنر عمر وبن حریث اس شورش کو روکنے اور نصیحت و رہنمائی کرنے کی غرض سے آگے بڑھا اور انھیں اس سلسلہ میں ہر قسم کی انتہا پسندی سے پرہیز کرنے کو کہا ۔اسی اثنا میں قعقاع بھی وہاں پہنچتا ہے اور ابن حریث سے کہتا ہے کیا تم سیلاب طوفانی لہروں کو نصیحت کی زبان سے پلٹنا چاہتے ہو !؟کیا دریائے فرات کو مہربانی اور نرمی سے اپنے سر چشمہ کی طرف پلٹنا چاہتے ہو !؟ یہ ناممکن ہے !! خدا کی قسم اس بغاوت اور شورش کے شعلوں کو تلوار کی تیز دھار کے علاوہ کوئی چیز بجھا نہیں سکتی اب وہ وقت آگیا ہے کہ یہ تلوار میان سے باہر آئے ۔اس وقت ان کی چیخ پکار بلند ہوگی اور وہ اپنے گنوائے ہوئے وقت کی آرزو کریں گے کہ خدا کی قسم :اس وقت دیر ہوچکی ہوگی وہ ہرگز اپنے عزائم کو نہیں پہنچ پائیں گے،لہٰذا تم چپ رہو اور صبر سے کام لو۔

۲۲۴

ابن حریث نے قعقاع کی نصیحت وراہنمائی قبول کی اور اپنے گھر چلاگیا۔وہ مزید کہتاہے:

جب یزید بن قیس مسجد کوفہ میں لوگوں کو سعید کے خلاف بھڑکارہاتھا اور عثمان کے بارے میں بد گوئی کررہاتھا ،تو قعقاع بن عمرو اٹھتاہے اور اس کے سامنے کھڑا ہوکر کہتاہے:کیا تم ہمارے عثمان کے مامور حکام کے استعفا دینے کے علاوہ کچھ

اور چاہتے ہو؟ توہم تمھاری یہ خواہش پوری کردیں گے!

اس نے مزید روایت کی ہے:

جب عثمان کا محاصرہ کیاگیا تو خلیفہ نے مختلف اسلامی شہروں کو خط لکھا اور ان سے مد د چاہی ۔ عثمان کے جواب میں قعقاع بن عمرو ،ساتھیوں کے ایک گروہ کے ہمراہ کوفہ سے مدینہ کی طرف عثمان کی مدد کے لئے روانہ ہوا ۔ادھر عثمان کا محاصرہ کرنے والے باغیوں کو یہ اطلاع ملی کہ مختلف شہروں سے لوگ عثمان کی مدد کے لئے آرہے ہیں اور ان کو یہ بھی پتا چلا کہ معاویہ شام سے اور قعقاع بن عمرو کوفہ سے اور ......خلیفہ کو نجات دینے کے لئے مدینہ کے طرف آرہے ہیں ،تو انھوں نے محاصرہ کا دائرہ تنگ تر کرکے عثمان کا کام تمام کردیا اور اسے قتل کرڈالا۔جب عثمان کے قتل کی خبر راستے میں ہی قعقاع کوملی تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت کوفہ پلٹ گیا۔

یہ تھی ،عثمان کے خلاف لوگوں کی بغاوت اور اس میں قعقاع کے رول کے بارے میں ، سیف کی روایت ۔آئندہ فصل میں ہم امام علی ں کے زمانے میں قعقاع کے رول کے بارے میں سیف کی روایت کا جائزہ لیں گے۔

۲۲۵

قعقاع ،امام علی کے زمانے میں

نادی علی ان اعقرواالجمل

علی نے فریاد بلند کی ،اونٹ کوپے کرو!

(مؤرخین)

امر قعقاع بالجمل فعقر

قعقاع نے حکم دیا اونٹ کوپے کرو اور اونٹ پے کیاگیا۔

(سیف بن عمر)

جنگ جمل کی داستان ،سیف کی روایت کے مطابق:

طبری نے سیف سے یوں روایت کی ہے :

حضرت علی بن ابیطالب کی خلافت کے زمانہ میں کوفہ کے باشندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امام کی مدد کرتے ہوئے ان کے ساتھ بصرہ جائیں گے۔لیکن ابو موسیٰ اشعری جو عثمان کے زمانے سے کوفہ کا گورنر تھا نے انھیں بصرہ جانے سے روکا ۔اس کی وجہ سے زید بن صوحان ابوموسیٰ سے الجھ گیا اور ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی !آخر میں قعقاع اٹھا اور بولا:

میں آپ سبوں کا دوست اور ناصح ہوں ،میں چاہتاہوں کہ آپ لوگ ذرا عقل سے کام لیں اور میری بات مان لیں ،کیونکہ میری بات عین حقیقت ہے۔جو کچھ گورنر ابو موسیٰ اشعری نے کہا، وہ حق بات ہے لیکن قابل اعتماد نہیں ہے۔جہاں تک زید کی بات کا تعلق ہے ،چونکہ اس بغاوت میں خود اس کا ہاتھ ہے،اس لئے اسے ہرگز قبول نہ کرنا ۔(۱) ۔حق و حقیقت یہ ہے کہ بے شک لوگوں کو حکومت اور خلیفہ کی ضرورت ہے تاکہ وہ پوری طاقت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کا اقدام کرے اور سماج میں نظم وضبط برقرار کرے ۔ظالموں کو قرار واقعی سزادے اور مظلوموں کی دادرسی کرے امام علی ـ لوگوں کے حاکم مقرر ہوئے ہیں ۔انھوں نے خیر خواہانہ طور پر لوگوں کو اپنی حمایت کی دعوت دی ہے۔وہ لوگوں کو اصلاح کی طرف بلارہے ہیں ۔لہٰذا ان کاساتھ دو اور ان کی اطاعت کرو۔

۲۲۶

صلح کا سفیر

طبری نے مزید روایت کی ہے :

قعقاع بن عمرو کوفہ کے کمانڈروں میں وہ پہلا کمانڈر تھا ،جس نے علی کا ساتھ دیا۔اور جب ذی قار کے مقام پر علی کی خدمت میں پہنچا،تو حضرت نے اسے اپنے پاس بلاکر اسے بصرہ کے لوگوں کی جانب اپنا سفیر اور ایلچی بنا کر روانہ کیا اور فرمایا:

اے ابن حنظلیہ !ان دو مردوں (طلحہ وزبیر) سے ملاقات کرو (سیف کا کہنا ہے کہ قعقاع

١لف۔سیف نے اس افسانہ میں زید بن صوحان کو اس کے مقام ومنزلت کے پیش نظر خاص طور پر سبائی جتلاکر قعقاع کی زبانی اس کی اس طرح تصویر کشی کی ہے۔

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تھا)اور انھیں اسلامی معاشرے میں اتحاد ویکجہتی قائم کرنے کی دعوت دو اور معاشرے میں اختلاف وافتراق سے انھیں خبر دار کرو!اس کے بعد فرمایا:ان کا جواب سننے کے بعد اگر کسی خاص امر میں تمھارے پاس میرا حکم موجود نہ ہو تو ،تم کیا کروگے؟قعقاع نے جواب میں کہا:آپ کے حکم کے مطابق ان دونوں سے ملوں گا۔اگر کوئی ایسا امر پیش آیا جس کا حکم آپ نے نہ دیا ہوتو میں اپنی رائے اور اجتہاد سے اس کا تدارک کروں گا۔ان کے ساتھ جو بھی سزاوار ہو،مشاہدہ کے مطابق اسی پر عمل کروں گا۔

امام علی ں نے جواب میں کہا:تم اس کام کے لائق ہو ،جاؤ!

اس کے بعد قعقاع اپنی ماموریت پر روانہ ہوا۔جب ان (عائشہ،طلحہ وزبیر)کے پاس پہنچا،تو ان سے گفتگو کی ۔ام المومنین عائشہ نے اس کی بات مان لی اور طلحہ وزبیر نے بھی توافق کیا اور کہا:شاباش ہو!سچ کہتے ہو اور حق یہی ہے۔اس طرح انھوں نے دو گروہوں کے درمیان صلح وآشتی قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

جب قعقاع صلح وآشتی کی نوید لے کر امام علی ں کی خدمت میں پہنچا تو علی ں اٹھ کر منبر پر تشریف لے گئے اور تقریر کرتے ہوئے بولے:

تم لوگ یہ جان لو کہ میں کل روانہ ہورہاہوں ۔تم لوگ بھی تیار رہنا۔لیکن جس نے عثمان کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو وہ ہمارے ساتھ نہ آئے ۔ہم احمقوں کی حمایت سے بے نیاز ہیں ۔

۲۲۷

سبائیوں کی میٹنگ:

سبائیوں نے جب دو سپاہیوں کے درمیان صلح کی خبر سنی تو بڑی تیزی کے ساتھ آپس میں جلسہ منعقد کرکے صلاح و مشورہ کرنے لگے ۔کافی گفتگو کے بعد عبداللہ بن سبا نے یہ تجویز پیش کی کہ :'' دونوں سپاہوں کے قائدین کی بے خبری میں ہم راتوں رات جنگ کے شعلے بھڑکا دیں گے اور انھیں آپس میں ٹکرا دیں گے '' اس تجویز پر تمام سبائیوں نے موافقت کی اور قول و قرار کے بعد متفرق ہو گئے۔

دوسری طرف دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے صف آراہوئیں ۔حضرت علی ـ،طلحہ اور زبیر نے اپنی فوج کے مختلف دستوں کے کمانڈروں کو بلا کر انھیں مطلع کیا کہ دونوں گروہوں کے درمیان صلح کا معاہدہ طے ہونے والا ہے اور جنگ نہیں ہوگی ۔نتیجہ کے طور پت دو طرف کے سپاہیوں نے صلح و آشتی کی امید میں وہ دن آرام سے گزارا ۔لیکن اسی رات تاریکی میں سبائیوں نے عبداللہ ابن سبا کی سرکردگی میں جنگ کے شعلے بھڑکا دئے اور دونوں فوجوں کو ایک دوسرے سے ٹکرادیا۔

قعقاع کی جنگ

جنگ چھڑ گئی اسی گرما گرمی کی حالت میں قعقاع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ طلحہ کے نزدیک سے گزررہا تھا کہ اس نے طلحہ کو یہ کہتے ہوئے سنا :'' اے خدا کے بندو!میری جانب آجائو ،صبر کرو! صبر کرو! قعقاع نے طلحہ سے کہا : تم زخمی ہو چکے ہو اور اپنی طاقت کھو بیٹھے ہو ،اپنے گھر چلے جائو۔

طبری سیف سے مزید روایت کرتا ہے :

قعقاع نے جنگ کی اس حالت میں مالک اشتر کی شماتت کرتے ہوئے کہا : کیا تم جنگ کی طرف نہیں بڑھو گے ؟! چوں کہ مالک اشتر نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اس لئے قعقاع اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا : ہم مضری جنگ میں اپنے مد مقابل سے لڑنے میں دیگر لوگوں سے زیادہ ماہر ہیں ۔اس کے بعد وہ جنگ کو جاری رکھتے حسب ذیل رجز خوانی کرنے لگا:

۲۲۸

''جب ہم کسی پانی پینے کی جگہ پر وارد ہوتے ہیں تو اسے پاک و صاف کرکے رکھتے ہیں اور جس پانی پر ہم قبضہ کر لیتے ہیں تو کسی کی مجال نہیں کہ اس کی طرف دست درازی کرے ''

طبری نے مزید روایت کی ہے :

''زفر بن حارث آخر ی شخص تھا جس نے میدان کا رزار میں جاکر جنگ کی قعقاع نے جاکر اس کا مقابلہ کیا ۔

عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگ شدت اختیار کر گئی تھی ،اس اونٹ کے اطراف میں قبیلہ بنی عامر کے مردوں میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا ،اس وقت قعقاع نے حکم دیا کہ عائشہ کے اونٹ کو پئے کردیں ۔عائشہ کے اونٹ کے مارے جانے کے بعد قعقاع نے ہی عام معافی کا اعلان کیا اور اپنے اطراف میں موجود سپاہیوں سے کہا :''تم امان میں ہو !!'' اس کے بعد اس نے اور زفربن حارث نے اونٹ کے پالان کی پٹیاں کاٹ دیں اور عائشہ کے محمل کو اس سے جدا کر کے آہستہ سے زمین پر رکھ دیا اور اس کے اطراف میں حفاظت کا انتظام کیا۔

جب عائشہ کا اونٹ قتل ہوا تو لوگ (جنگ جمل کے حامی) بھاگ گئے اور جنگ کے شعلے فوراً بجھ گئے ۔یہ کامیابی قعقاع بن عمرو تمیمی مضری کے وجود کی برکت سے نصیب ہوئی ۔جنگ کا عفریت فرار کر گیا اور خطرات ٹل گئے ۔

جنگ جمل کا فخر بھی ابتدا ء سے آخر تک خاندان تمیم کو ہی نصیب ہوا ۔کیوں کہ قعقاع بن عمرو تمیمی کے ذریعہ ہی قوم کے قائدین کے درمیان دوستی و آشتی کا باب کھلتا ہے ۔ سبائیوں کے عبداللہ بن سبا کی سرکردگی میں جنگ کے شعلے بھڑکا نے اور قعقاع کی صلح کی کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے برادر کشی کا بازار گرم کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ ڈالنے کے بعد بھی قعقاع بن عمر و تمیمی ہی ہمت و حوصلہ سے میدان کا رزار میں اتر کر ،عرب قوم کو نابود کرنے والی جنگ کے ان شعلوں کو اپنی تدبیر و حکمت عملی سے بجھاتا ہے اور عائشہ کے اونٹ کو قتل کرنے کے بعد جنگ کا خاتمہ کرتا ہے ۔ عام معافی کا اعلان کرنے والا بھی قعقاع بن عمرو تمیمی ہی تھا ۔

۲۲۹

حضرت علی ں اور عائشہ کی پشیمانی

طبری سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے عائشہ اور قعقاع بن عمر و کے درمیان گفتگو کی حسب ذیل روایت بیان کرتا ہے :

عائشہ نے قعقاع بن عمرو تمیمی سے کہا:

''خدا کی قسم !تمنا کرتی ہوں کاش اب سے بیس سال پہلے مر چکی ہوتی ''

امام علی ـنے بھی قعقاع سے یہی کہا ۔علی اور عائشہ کے جملے یکساں تھے ۔

طبری مزید روایت کرتا ہے :

حضرت علی ـابن ابی طالب نے قعقاع بن عمرو کو مامور کیا کہ ان افراد کا سر تن سے جدا کردے ،جنھوں نے عائشہ کے بارے میں شعر کہہ کر اس کی بے احترامی کی تھی ۔

ان میں سے ایک شعر یہ کہا گیا تھا:

'' اے ماں !تیرا جرم نافرمانی ہے ''

اور دوسرے نے کہا تھا:

'' اے ماں !توبہ کر کیوں کہ تونے خطا کی ہے ''

حضرت علی ں نے یہ حکم جاری کرنے کے بعد قعقاع سے کہا : میں انھیں سخت سزا دوں گا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ ان دونوں کے کپڑے اتار دئے جائیں ہر ایک کو سو سو

کوڑے مارے ۔

مورخین نے سیف کی روایت طبری سے نقل کی ہے

یہ تھا اس داستان کا خلاصہ جس کی طبری نے سیف بن عمر سے ،جنگ جمل ،اس کے وقوع کے اسباب اور افسانوی سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے نمایاں خدمات اور قابل ذکر سرگرمیوں کے بارے میں روایت کی ہے ۔اور ان ہی مطالب کو ابن کثیر اورابن اثیر نے طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

۲۳۰

ابن کثیر اپنے بیان کے آغاز میں کہتا ہے : سیف بن عمر نے اس طرح کہا ہے اور اس کے آخر میں لکھتا ہے : یہ اس کا خلاصہ ہے جسے ابو جعفر طبری

ابن خلدون نے بھی جمل کے بارے میں درج کی گئی اپنی داستان کے آخر میں لکھاہے : ابو جعفر طبری کی روایت کے مطابق جنگ جمل کا یہ ایک خلاصہ ہے ۔

دوسرے مورخین نے بھی سیف کے افسانے کو طبری سے اقتباس کیا ہے منجملہ میر خواند بھی ہے کہ جس نے ''روضة الصفا '' میں جنگ جمل کے بارے میں طبری کے نقل کئے ہوئے مطالب درج کئے ہیں ۔

ان مردود اور باطل مطالب کی وقعت معلوم کرنے کے لئے ایک تفصیلی تجزیہ اور تشریح کی ضرورت ہے کہ یہاں پر اس کی گنجائش نہیں ہے ۔ہم نے اس کے ایک بڑے حصے کی ''اسلامی تاریخ میں عائشہ کا کردار ''نام کی اپنی کتاب کی فصل ''عائشہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دامادوں کے دوران'' میں تشریح کی ہے اور یہاں پر اس کے ایک حصے کو خلاصہ کے طور پر پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں تاکہ واضح ہو جائے کہ دوسری صدی ہجری کے اس افسانہ ساز ،سیف بن عمر نے کس طرح حقائق میں تحریف کی ہے اور کس طرح اسلام اور تاریخ اسلام کا مضحکہ اڑاتے ہوئے اپنے زندیقی اور مانوی پن کے ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دوستی کے لباس میں اسلام کو نابود کرنے کے درپئے رہا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہوتا ہے امام المورخین ابو جعفر جریر طبری جیسے نام کا عالمی شہرت یافتہ شخص اور مورخ کس طرح اور کیوں اس دروغ گو اور عیار افسانہ ساز کا آلۂ کار بن گیا!!

۲۳۱

جنگ جمل کی داستان ،سیف کے علاوہ دیگر راویوں کے مطابق

طبری نے جنگ جمل میں شرکت کرنے کے لئے کوفیوں کی رضاکارانہ آمادگی کے بارے میں اس طرح روایت کی ہے :

''امیرالمومنین علی ں نے ہاشم بن عتبہ کوایک خط دے کر ابو موسیٰ اشعری جو عثمان کے زمانے سے کوفہ کا حاکم تھا کے پاس کوفہ بھیجا ۔اس خط میں ابو موسیٰ کو حکم دیا تھا کہ کوفیوں کی ایک فوج کمک کے طور پرجنگ کے لئے اس کے ساتھ بصرہ بھیج دے۔ چوں کہ ابو موسیٰ اشعری نے امام کے حکم کی نافرمانی کی اور کوفیوں کو امام کی مدد کے لئے بھیجنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا اس لئے حضرت نے اپنے بیٹے حسن اور عمار یاسر کو کوفہ کی طرف روانہ کیا اور ابو موسیٰ کو کوفہ کی حکومت سے معزول کر دیا ۔

حسن ابن علی اور عمار یاسر کوفہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تقریر و ہدایت کرنے لگے ان دونوں کی تقریر وں کا یہ نتیجہ نکلا کہ کوفہ کے باشندوں نے بصرہ کی جنگ میں شرکت کی آمادگی کا اعلان کیا اور تقریباً بارہ ہزار جنگجو کوفی حضرت علی ں کے ساتھ ملحق ہوگئے۔

نیزطبری بصرہ میں حضرت علی ں کی موجودگی کے بارے میں روایت کرتا ہے :

''تین دن تک دونوں متخاصم فوجوں کے درمیان جو ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھیں کوئی جنگ نہ ہوئی ۔بلکہ حضرت علی ـ،بعض افراد کو ایلچیوں کے طور پر ان کے (طلحہ ،زبیر و عائشہ) پاس بھیجتے رہے اور پیغام دیتے رہے کہ اس نافرمانی ،اختلاف اور دشمنی سے باز آجائیں ۔

طبری نے ان تین دنوں کے دوران دو طرفہ خط و کتابت اور گفتگو کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے ۔لیکن اس کے ایک حصہ کو ابن قتیبہ ،ابن اعثم اور سید رضی نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

منجملہ درج ذیل خط یہ ہے جو امام نے طلحہ و زبیر کے پاس لکھ کر بھیجا تھا:

''خد ا کی حمد و ثنا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام کے بعد ،دونوں بخوبی جانتے ہو اور دل سے اقرار بھی کرتے ہو اگر چہ زبان پر نہیں لاتے اور اعتراف نہیں کرتے ہو ، کہ میں نے کسی کو لوگوں کے پاس نہیں بھیجا تھا اور ان سے یہ نہیں چاہاتھا کہ میری بیعت کریں بلکہ یہ لوگ ہی تھے جنھوں نے مجھے حکومت اور بیعت قبول کرنے پر مجبور کیا اور تب تک ارام سے نہ بیٹھے جب تک میرے ہاتھ پر خلافت کے لئے بیعت نہ کرلی۔

۲۳۲

تم دونوں بھی ان کے ساتھ تھے بارہا میرے پاس آئے ہو اور مجھ سے اصرار کرتے رہے ہو کہ میں حکومت قبول کرلوں ۔تملوگ میری خلافت کے لئے میرے ہا تھ پر بیعت کرنے تک آرام سے نہ بیٹھے ۔جن لوگوں نے میری خلافت کو قبول کرتے ہوئے میری بیعت کی انھوں نے یہ کام اس لئے نہیں کیا ہے کہ اس کے بدلے میں انھیں کوئی مال وثروت ملے اور نہ زور و زبردستی ،دھمکی اور خوف وہراس سے میری بیعت کی ہے ۔

بہر حال اگر تم دونوں نے اپنی مرضی اور اختیار سے میرے ساتھ عہد و پیمان کرکے میری خلافت کی بیعت کی ہے تو،یہ راہ جو تم نے اختیار کی ہے (بغاوت ،مخالفت اور مسلمانوں کے در میان اختلاف اندازی )سے جتنا جلد ممکن ہوسکے ہاتھ کھینچ لو اور دل سے خداکے حضور توبہ کرو اور اگر اپنی مرضی کے بر خلاف میری بیعت کی ہے تو تمھارے لئے کوئی عذر و بہانہ نہیں ہے بلکہ یہ میرا حق بنتا ہے کہ تم سے یہ پوچھوں کہ اس ظاہرداری اور دو رخی کا سبب کیا تھا؟تم لوگوں نے کیوں ظاہر ی طور پر میرے ہاتھ پر بیعت کی (اور میری حکومت کے مقاصد کے سلسلے میں جانثاری کا اعلان کیا؟)اور باطن میں میرے ساتھ مخالفت اور امت اسلامیہ میں اختلاف و افتراق کے بیج بوئے ؟اپنی جان کی قسم !تم دونوں دیگر مہاجرین سے کچھ کم فضیلت نہیں رکھتے تھے ،تم بے بس و کمزور نہیں تھے کہ ظاہر داری اور تقیہ سے اپنے دل کی خواہشات چھپاتے ۔تم دونوں کے لئے (میری بیعت کرنے کے بعد اس سے منہ موڑکر رسوائی مول لینے سے ) بہت آسان یہ تھا کہ اسی دن میری بیعت نہ کرتے اور میری خلافت کو قبول نہ کرتے ۔تم لوگوں نے اپنی مخالفت اور بغاوت کے سلسلے میں عثمان کے خون کا بہانہ بنایا ہے اور یہ افواہ پھیلائی ہے کہ میں نے عثمان کو قتل کیا ہے ۔میرے اور تمھارے درمیان مدینہ کے وہ لوگ حَکَم ہوں جو نہ تمھارے طرفدار ہیں اور نہ میرے بلکہ غیر جانبدار ہیں ،تا کہ معلوم ہوجائے کہ عثمان کے قاتل کون ہیں ۔اس وقت جو اس سلسلے میں جتنا مجرم قرار پائے اسی قدر سزا کا مستحق ہوگا ۔

پس اے دو بوڑھو!ان (بے بنیاد و بیہودہ ) افکار کو اپنے دماغ سے نکال باہر کرو اور اس احمقانہ اقدام سے پرہیز کرو ،اگر چہ یہ تمھاری نظرمیں بہت ننگ وعار ہے ،لیکن قیامت کے دن اس سے بڑے ننگ یعنی آتش جہنم سے دوچار نہ ہوگے ۔والسلام

اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو مامور کیا کہ زبیر سے تنہائی میں ملاقات کرے اور اس سے یوں تاکید کی :

'' طلحہ کے پیچھے نہ جانا ،کیوں کہ اگر اسے دیکھو گے تو اس بیل کے مانند پائوگے جو اپنا سر نیچے کئے ہوئے اپنے سینگوں سے دشمن پر حملہ کرنے کے لئے آمادہ ہے وہ ایک متکبر ،خود غرض اور تند خو آدمی ہے ،وہ مشکل، سخت اور بڑا کام شروع کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ بہت آسان ہے ۔

۲۳۳

لیکن اس کے بر عکس زبیر سے ملنا ۔وہ نرم مزاج ،در گزر کرنے والا اور بات سننے والا ہے ۔ اس سے کہنا کہ تیرا ماموں زاد بھائی کہتا ہے : تم حجاز میں (اس کی جائے پیدئش میں ) میرے آشنا اور حامی تھے ،اب کیا ہوا کہ عراق میں (بے وطنی میں ) نا آشنا،میری مخالفت اور دشمنی پر تلے ہوئے ہو؟

(حضرت اس زیبا اور دلچسب بیان میں فرماتے ہیں : عرفتنی بالحجاز وانکرتنی بالعراق فما عدا ممابدا؟)

ابن عباس کہتے ہیں : میں نے امام کے پیغام کو کسی کمی بیشی کے بغیرزبیر تک پہنچا دیا ۔زبیر چند لمحات کے لئے غور فکر میں پڑا ،پھر جواب کے طور پر صرف اتنا کہا: ان سے کہنا : اس راہ میں تمام موجود ہ مشکلات اور خوف و ہراس کے باوجود ہم امید وار ہیں ۔

عبداللہ ابن زبیر نے بھی مجھ سے مخاطب ہو کر کہا:(۱) ان سے کہنا : ہمارے درمیان خون عثمان کا مسئلہ در پیش ہے اور خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ اس شوریٰ کو وا گزار کرنا ہے جس کی تشکیل عمر نے کی تھی ۔اس صورت میں تمھیں جاننا چاہئے کہ ان میں سے دو افراد یعنی طلحہ و زبیر ایک طرف ہوں گے اور ام المومنین عائشہ بھی ان کی حمایت سے ہاتھ نہیں کھینچیں گی ۔جو اثر ورسوخ عائشہ

عوام میں رکھتی ہیں ،اس کے پیش نظر یہ دونوں بھی انھیں نہیں چھوڑیں گے اور اگر مسئلہ لوگوں کے انتخاب پر منحصر ہوا تو اکثریت عائشہ اور ان کے طرفداروں کی ہوگی ۔اس صورت میں تم اکیلے

رہ جائو گے ۔

ابن عباس کہتے ہیں :میں ابن زبیر کی ان باتوں سے سمجھ گیا کہ اس کی گفتگو کے پیچھے صرف جنگ حکم فرما ہے ۔میں علی علیہ السلام کے پاس آیا اور انھیں حالات سے آگاہ کیا۔

امام نے ابن عباس کو ایک بار پھر عائشہ کے پاس درج ذیل پیغام دے کر بھیجا :

'' خدائے تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم اپنے گھر میں رہو اور کسی صورت میں گھر سے باہر

____________________

۱)۔، وقال لی ابنہ عبداللہ : قل لہ بیننا و بینک دم خلیفة و وصیة خلیفة ،واجتماع اثنین و انفراد واحد ، وأم مبرورة و مشاورة العامة : قال ابن عباس فعلمت انہ لیس وراء ھذا الکلام الا الحرب

۲۳۴

نہ نکلو اور تم خود اسے بخوبی جانتی ہو ۔مسئلہ حقیقت میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے تمھیں اکسایاہے اور تمھاری کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر آسانی کے ساتھ اپنے حق میں اور تمھارے نقصان میں اقدام کیاہے اور تمھیں اپنے گھر ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کیا ہے ۔یہ عہد وپیمان جو تم نے ان کے ساتھ باندھاہے اور ان کے ساتھ ہم فکری اور تعاون کررہی ہو،اس سے تم نے لوگوں کو مصیبت ونابودی سے دوچار کرکے رکھدیاہے اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف وافتراق کے شعلے بھڑکائے ہیں ۔

اس کے باوجود تمہارے لئے اسی میں بھلائی ہے کہ اپنے گھر چلی جاؤاور کسی بھی صورت دشمنی ،جنگ اور برادر کشی کی مرتکب نہ ہو!۔

اگر تم اس نصیحت کو قبول کرکے اپنے گھر نہ لوٹیں اور اس فتنہ کی آگ کو ،کہ جسے تم نے خود بھڑکایاہے،نہ بجھایا تو بلاشک ایک خونیں جنگ رونما ہوگی اور یہ جنگ انسانوں کی ایک بڑی تعداد کو نابود کرکے رکھ دے گی اور اس کی ذمہ داری کسی شک وشبہ کے بغیر اس جنگ کی آگ کو ہوا دینے والوں کے ذمہ ہوگی۔

لہٰذا ،اے عائشہ!خدا سے ڈرو،اس اختیار کی گئی راہ سے پیچھے ہٹ کر توبہ کرو ،خدائے تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتاہے اور خطاؤں کو معاف کرنے والاہے ۔ایسا نہ ہو کہ ابن زبیر اور طلحہ سے تمھاری رشتہ داری تمھیں اس جگہ پر کھینچ لے جائے ،جس کا انجام جہنم کی آگ ہے!!

امام کے ایلچی عائشہ کے پاس پہنچے اور پیغام پہنچادیا۔اس نے امام کے جواب میں صرف اتناکہا:

میں فرزند ابو طالب کے جواب میں کچھ نہیں کہہ سکتی ،کیونکہ فصاحت اور استدلال کی قدرت میں اس کی ہم پلہ نہیں ہوں ۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ طلحہ نے بلند آواز میں اپنے دوستوں سے مخاطب ہوکر کہا:

ان لوگوں سے جنگ کے لئے اٹھو!تمھارے پاس فرزند ابوطالب کے استدلال کے مقابلے میں استدلال کی کوئی طاقت نہیں ہے۔

۲۳۵

عبد اللہ بن زبیر نے بھی اس روز ایک تقریر کی اور اس کے ضمن میں بولا

اے لوگو!علی بن ابیطالب نے خلیفہ بر حق عثمان بن عفان کو قتل کیاہے۔اب ایک بڑے لشکر کے ہمراہ تمھاری طرف آیاہے تاکہ تمہاری سرزمین کو تسخیر کرے اور تمھیں اپنی اطاعت پر مجبور کرے۔

اب تمہاری باری ہے کہ مردانہ وار اٹھ کھڑے ہو جاؤاور اپنے خلیفہ کے قتل کے انتقام میں اپنی عزت و آبرو کا تحفظ کرو اور اپنی شرافت ،عفت،اولاد واموال بالاخر اپنی شخصیت کا خیال رکھو اور جان کی بازی لگاکر ان کا تحفظ کرو۔کیاتم جیسے دلاوروں ،ناموس کے شدید محافظوں اور عثمان وعائشہ کی راہ میں جانثاری کرنے والوں کے ہوتے ہوئے رواہے کہ کوفی تمھارے شہرووطن پر حملہ کرکے اس پر قبضہ کریں ؟!

انھوں نے تم پر حملہ کیا ہے،تمھاری شخصیت کی بے حرمتی کی ہے ،تمھارے جذبات کو مجروح کیاہے ۔اس وقت موقع ہے کہ جوش میں آجاؤاور ہر قسم کی مروت کو بالائے طاق رکھ دو۔ان کے اسلحہ کا جواب اسلحہ سے دو اور ان سے جنگ کرو۔علی سے جنگ کرنے میں کسی قسم کی پریشانی اور وسواس سے دوچار نہ ہو،کیونکہ وہ اپنے علاوہ کسی کو خلافت وحکومت کے لائق وسزاوار نہیں سمجھتا ۔خدا کی قسم اگر اس نے تم لوگوں پر تسلط جمانے میں کامیابی پائی تو تمھارے دین ودنیا دونوں کو نابود کردے گا اور تمھیں ذلیل وخوار کرکے رکھ دے گا.....اور اسی طرح کی بہت سی باتیں کہیں ۔

ابن زبیر کی اس تقریر کی رپورٹ علی کو پہنچادی گئی۔امام ں نے اپنے بیٹے حسن ں سے مخاطب ہوکر فرمایا:بیٹے!کھڑے ہوکر ابن زبیر کا جواب دو!۔

علی ں کا بیٹا کھڑا ہو اور بارگاہ الٰہی میں حمد وثناء اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود وسلام کے بعد بولا:

۲۳۶

لوگو!ہم نے اپنے باپ کے بارے میں ابن زبیر کی باتیں سن لیں کہ وہ کہتاہے :عثمان کو انھوں نے قتل کیاہے ،کتنی بڑی تہمت ہے !۔اے مہاجرو انصار !اے مسلمانو!تم بہتر جانتے ہو کہ زبیر عثمان کے بارے میں کیاکہتاتھا اور اس کا کیا نام رکھا تھا اور اسے کس نام سے لوگوں میں مشہور کرتاتھا،اور آخر میں اس نے ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کیااور کیسے ظلم وستم عثمان پرڈھائے!

اور طلحہ !یہ وہی طلحہ ہے کہ ابھی عثمان زندہ تھے کہ اس نے ان کے خلاف مخالفت اور بغاوت کا پرچم بلند کیا،اس پرچم کو بیت المال پر نصب کیا اور حق وانصاف کو پائمال کرتے ہوئے بیت المال پر ڈالا،جب کہ عثمان ابھی زندہ اور خلیفہ تھے!

عثمان کی خلافت کی پوری مدت کے دوران ان دو افراد کے اس کے ساتھ برتاؤ ( اس کے ساتھ اتنی بے وفائی اورظلم کرنے کے بعد بالاخر انھیں خاک وخون میں غلطاں کیا)کے پیش نظر ان کے لئے یہ سزاوار نہ تھا کہ ہمارے باپ پر عثمان کے قتل کی تہمت لگائیں اور ان کے خلاف بدگوئی کریں ! اگر ہم چاہیں تو ضرورت کے مطابق ان کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتے ہیں ۔

لیکن ،یہ جو کہتے ہیں کہ علی زبردستی قدرت حاصل کرکے لوگوں پر حکومت کررہے ہیں اور اس سلسلہ میں ابن زبیر،جو سب سے بڑی دلیل پیش کرتاہے وہ یہ ہے کہ اس کے باپ نے علی کی دل سے بیعت نہیں کی ہے بلکہ ہاتھ سے بیعت کی ہے۔یہ بات کہکر اس نے خود بیعت کا اعتراف واقرار کیاہے اور اس کے بعد بہانہ تراشیاں کرتاہے۔اگر وہ سچ کہتاہے تو اس سلسلے میں دلیل وبرہان پیش کرے،لیکن وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتا۔

اور ،ابن زبیر کا اس پر تعجب کرنا کہ کوفیوں نے بصرہ کے لوگوں پرحملہ کیاہے،تو یہ تعجب بے جاہے ۔آخر یہ کون سی حیرت کی بات ہے کہ حق وحقیقت کے حامی گمراہوں اور بدکاروں پرحملہ کریں ؟

۲۳۷

اما،عثمان کے دوست اور ان کی مدد کرنے والے ،ہمیں ان کے ساتھ کوئی جنگ واختلاف نہیں ہے،بلکہ ہماری جنگ اونٹ سوار اس خاتون اور اس کے حامی باغیوں اور تخریب کاروں سے ہے نہ کہ عثمان کے طرفداروں اور حامیوں کے ساتھ !(۱)

جب امام کے ایلچی ،عائشہ ،طلحہ وزبیر سے مل کر واپس آئے اور ان کے پیغام کو جس میں خون اور اعلان جنگ کی بوتھی امام ں کی خدمت میں پہنچادیا،تو علی ں اٹھے اور خدا کی حمد وثنا اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے بعد فرمایا:

اے لوگو!میں ان سے مہربانی اور نرمی سے پیش آیا تاکہ وہ شرم وحیا کریں اور دوسرے لوگوں کے اکسانے پر مسلمانوں میں تفرقہ واختلاف پیدا کرنے سے باز آئیں ۔

میں نے عہد شکنی اور بیعت توڑنے پر ان کی تنبیہ کی اور ان کی بغاوت اور گمراہی کو واضح کرکے انھیں دکھا کر گوش زد کردیا اور حق وحقیقت کا راستہ دکھانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تاکہ وہ ہوش میں آکر باطل کے مقابلے میں حق کی پیروی کریں ۔لیکن انھوں نے ایک نہ مانی اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو حقیقت پر ترجیح دی اور میری دعوت قبول نہ کی ۔اس کے بر عکس مجھے ہی دھمکی دینے لگے اور مجھے پیغام بھیجا کہ ان کی تلواروں اور نیزوں کے حملوں کے لئے خود کوآمادہ کروں ۔حقیقت میں وہ طولانی آرزؤں کی خوش فہمیوں میں مبتلا ہوکر غرور وغلط فہمیوں کے شکار ہوگئے ہیں ۔

سوگ منانے والے ان کے سوگ میں نالہ وفریاد بلند کریں ۔آخر وہ میرے بارے میں کیا

____________________

۱)۔ علی تواضع اور مہربانی سے پیش آتے تھے تا کہ شاید کوئی بات بن جائے اور جنگ نہ چھڑے،بے گناہوں کا خون نہ بہے اور اس سے زیادہ مسلمانوں میں اختلاف وافتراق پیدا نہ ہو۔اس لئے مسلسل پیغام دیتے رہے ،خط لکھتے رہے،صبر وشکیبائی سے کام لیتے رہے،نصیحت وہدایت فرماتے رہے،حقائق کی وضاحت فرماتے رہے تاکہ جمل کے خیر خواہوں کی طرف سے بھڑکائی گئی فتنہ وبغاوت کی آگ کو تدبیر وتلاش سے بجھاسکیں ۔شاید وہ اس کی ناکام کوشش کررہے تھے تاکہ درخشاں وتاباں ماضی اور صدر اسلام میں جانثار یوں کے مالک اصحاب جیسے ،طلحہ وزبیر کو منحوس اور بدترین حوادث کی زد میں آنے سے بچالیں ۔کیونکہ ان کو اقتدار اور حکومت کی ہوس نے اس حد تک اندھا بنادیاتھا کہ انھوں نے دین خدا،حقیقت اسلام حتیٰ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام نصیحتوں کوبھی پس پشت ڈال دیاتھا۔کیا حقیقت میں ان کے اس اقدام کو جس کے نتیجہ میں اتنے انسانوں کا خون بہایاگیا خدا اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کے علاوہ کسی اور چیز سے تعبیر کیا جاسکتاہے؟ اور قیامت کے دن خدا کے سامنے وہ کیا جواب دیں گے؟!

۲۳۸

سوچتے ہیں ؟اور مجھے کس قسم کاآدمی سمجھتے ہیں ؟جب کہ انھوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیاہے اور اپنے پورے وجود سے محسوس کیاہے کہ میں وہ مرد نہیں ہوں جو دشمن کی جنگ کی دھمکیوں سے خوف زدہ ہوجاؤں گا یا تلواروں کی جھنکار اور میدان کارزار کے شور وغل سے وحشت کروں گا۔ولقد انصف القارہ من راماھا۔(۱)

(حقیقت میں انھوں نے اپنے برپا کئے ہوئے فتنہ وبغاوت کے سلسلے میں بھیجے گئے میرے ایلچیوں کے جواب میں مجھے میدان جنگ کی دعوت دی ہے اور مجھے جنگ کی دھمکیاں دی ہیں اور جنگ وپیکار کے بارے میں میرے ساتھ حق وانصاف پر مبنی برتاؤ کیاہے)

چھوڑو انھیں گرجنے دو،وہ ذرا رجز خوانی کرلیں اور جنگ کا بازار گرم کرلیں ،تب وہ جان لیں گے کہ ہم خود نمائی کے محتاج نہیں ہیں ۔انھوں نے ہمیں بہت پہلے جنگ کے میدان میں دیکھا ہے

اور کارزاروں میں میرے ہاتھ کی کاری ضربوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں ۔

اس وقت وہ مجھے کیسا پاتے ہیں ؟میں وہی علی اور وہی ابوالحسن ہوں جو کل مشرکین کی گنجان صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھتاتھا اور ان کی طاقت کو چورچور کرکے رکھ دیتاتھا اور آج بھی اس قدرت اور اطمینان کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کروں گا اور کسی قسم کا خوف وہراس نہیں کروں گا ۔مجھے اس وعدۂ الٰہی پر ایمان ہے جو اس نے مجھے دیاہے اور اس راہ میں اپنی حقانیت پر یقین رکھتاہوں اور اس مستحکم ایمان میں کسی قسم کے تذبذب سے دوچار نہیں ہوں یہاں تک کہ فرمایا:

خداوندا !تو جانتاہے کہ طلحہ نے میری بیعت توڑدی ہے اور یہ وہی تھا جس نے عثمان کے

____________________

۱)۔''وقد انصف القارہ من راماھا''عربی زبان میں ایک ضرب المثل ہے اور اس کا موضوع یہ ہے کہ قبیلہ قارہہ کے افراد تیر اندازی اور کمان چلانے میں کافی ماہر اور صاحب شہرت تھے۔اس فن میں کوئی ان کاہم پلہ نہ تھا۔لہٰذا جب طلحہ وزبیر نے امام کوجنگ کی دعوت دی ،تو گویا یہ ایسا ہے کہ قبیلۂ قارہ کے تیر اندازوں کو تیر اندازی کی دعوت دی ہے اور انھیں دھمکی دے رہے ہیں ۔اسی بناء پر امام نے اس مثل کو اپنے کلام میں بیان کیاہے۔

۲۳۹

خلاف بغاوت کی اور سر انجام اسے قتل کیا،اسکے بعد بے قصور مجھ پر اسے قتل کرنے کی تہمت لگائی ۔ خداوندا ! اسے خود نمائی کی فرصت نہ دے !

خداوندا !زبیرنے ہماری رشتہ داری سے چشم پوشی کی اور میرے ساتھ قطع رحم کیا اور بیعت توڑدی اور میرے دشمنوں کو میرے خلاف جنگ کرنے پر اکسایا۔خداوندا!جس طرح مناسب ہو آج مجھے اس کے شر سے نجات دے!اس کے بعد آپ ں منبر سے نیچے تشریف لائے۔

جنگ سے پہلے امام کی سفارشیں

حاکم ،ذہبی اور متقی لکھتے ہیں :

علی ں نے جنگ جمل کے دن بلند آواز سے اپنے سپاہیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:

اس سے پہلے کہ وہ جنگ شروع کریں تم کو حق نہیں ہے کہ کسی پر تیر یا نیزہ برساؤیاتلوار سے حملہ کرکے جنگ میں پہل کرو۔بلکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ان سے مہربانی اورملائمت سے پیش آؤ اور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو اور دوستانہ گفتگو کرو۔کیونکہ جو یہاں پر امام کی اطاعت کرکے کامیاب ہوا ،وہ قیامت کے دن بھی کامیاب ہوگا۔

راوی کہتاہے :

دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہوئیں ۔ظہر تک دونوں طرف سے کسی قسم کا اقدام نہ ہوا۔صرف ''جمل''کے خیرخواہ بیچ بیچ میں فریاد بلند کرتے تھے:(یالثارات عثمان) ''عثمان کے خون کا انتقام لینے میں جلدی کرو ۔امیرالمومنین نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے فرمایا:

خداوندا!عثمان کے قاتلوں کو آج نابود کردے!

۲۴۰