ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 25551
ڈاؤنلوڈ: 783


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 25551 / ڈاؤنلوڈ: 783
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

دوسرے راویوں اور مؤلفین نے بھی بیان کیاہے:

جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہوئیں ،امام نے اپنے سپاہیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

خدا کا شکر ہے کہ تم ، میرے پیرو،حق پر ہو۔اس لئے خودداری ،مہربانی اور جوانمردی سے پیش آنا تاکہ انھیں کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے ۔ان کے لئے جنگ شروع کرنے کا کوئی موقع وفرصت فراہم نہ کرنا تاکہ وہ خود جنگ شروع کریں اور یہ تمھاری حقانیت کی ایک دلیل ہوگی۔

جب جنگ شروع ہوگی،تو زخمیوں پر رحم کرنا اور انھیں قتل نہ کرنا۔جب دشمن شکست کھاکر بھاگنے لگے تو فراریوں کاپیچھا نہ کرنا ۔میدان جنگ میں مقتولین کو برہنہ نہ کرنا۔ان کے کان اور ناک نہ کاٹنا اور انھیں مثلہ نہ کرنا۔

جب ان کے شہر ووطن پر قابض ہوجاؤ تو ان کی عصمتیں نہ لوٹنا،حکم کے بغیر کسی گھر میں داخل نہ ہونا اور ان کے مال وثروت پرڈاکا نہ ڈالنا۔

مسعودی نے اس کے بعد امام ں کے بیانات کو یو ں نقل کیاہے :

. ... ان کامال وثروت تم لوگوں پر حرام ہے،مگر وہ چیزیں جو دشمن کے فوجی کیمپ میں جنگی اسلحہ مویشی،غلام اور کنیز کی صورت میں تمھارے ہاتھ آئیں ۔اس کے علاوہ ان کا باقی تمام مال وثروت اسلامی قوانین اور قرآن مجید کے مطابق ان کی میراث ہے اور ان کے وارثوں سے

متعلق ہے۔

کسی کو کسی عورت کے ساتھ تند کلامی کرنے اور اسے اذیت پہنچانے کا حق نہیں ہے، چاہے وہ تمھیں برا بھلا بھی کہے اور تمھاری بے احترامی بھی کرے ،حتیٰ تمھارے مقدسات اور کمانڈروں کو گالیاں بھی دے۔کیونکہ وہ عقل ونفسیات کے لحاظ سے کمزور ہیں اور قابل رحم ہیں ۔جس زمانہ میں ہم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ کفار سے جنگ کررہے تھے ہمیں حکم ملاتھا کہ ان (عورتوں )سے در گزر کریں باوجود اس کے کہ وہ مشرک وکافر تھیں ۔زمانہ قدیم میں اگر کوئی مرد اپنے عصا یا لاٹھی سے کسی عورت کو اذیت پہنچاتاتھا ،تو اس مرد کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو بھی اس ناشائستہ کام کی وجہ سے ملامت ومذمت کا سامنا کرنا پڑتاتھا۔

۲۴۱

جمل کے خیر خواہوں کی طرف سے جنگ کاآغاز

حاکم نے مستدرک میں لکھاہے کہ زبیر نے اپنے حامیوں سے کہا:

حضرت علی ـکے سپاہیوں پر تیروں کی بارش کرو !گویا زبیر اس طرح جنگ شروع کرنے کا اعلان کرنا چاہتا تھا۔

ابن اعثم اور دیگر لوگ روایت کرتے ہیں کہ عائشہ نے کہا:

مجھے مٹھی بھر کنکریاں دے دو!اس کے بعد مٹھی بھر کنکریاں حضرت علی ں کی سپاہ کی طرف پھینکنے کے بعد پوری طاقت کے ساتھ فریاد بلند کی : چہرے سیاہ ہو جائیں !۔

عائشہ کا یہ عمل ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنگ حنین میں مشرکین کے ساتھ کئے گئے عمل کی تقلید تھا عائشہ کے اس کام کا رد عمل یہ ہوا کہ حضرت علی ں کی سپاہ میں ایک مرد عائشہ سے مخاطب ہو کر بولا : یہ تم نہیں تھیں جس نے کنکریاں پھینکیں بلکہ یہ شیطان تھا جس نے کنکریاں پھینکیں ۔(۱)

طبری اور دیگر مورخین نے روایت کی ہے :

حضرت علی ں نے جمل کے دن قرآن مجید کو ہاتھ میں لیا اور اپنے سپاہیوں میں گھوماتے ہوئے فرمایا:

'' ہے کوئی جو اس قرآن مجید کو دشمن کے پاس لے جائے اور انھیں اس پرعمل کرنے کی

____________________

الف )۔ عائشہ کی بات '' شاھت الوجوہ '' تھی اور اس مرد کا جواب : ومارمیت اذرمیت ولٰکن الشیطان رمی تھا ۔داستان اس طرح ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جنگ حنین میں مٹھی بھر کنکریاں مشرکین کی طرف پھینکیں اور فرمایا: '' شاھت الوجوہ'' (رو سیاہ ہو جائو )اور آیہ نازل ہوئی : وما رمیت اذرمیت ولکن اللہ رمی ( اے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم !یہ تم نہیں تھے جس نے کنکریاں پھینکیں بلکہ یہ خدا نے کنکریاں پھینکی ہیں ۔

۲۴۲

دعوت دے چاہے قتل بھی ہو جائے ؟ کوفیوں سے ایک نوجوان سفید قبا پہنے ہوئے آگے بڑھا اور بولا ''میں '' ہو ں امام نے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور اس کی کمسنی کو دیکھ کر اس سے منہ موڑ کر اپنی بات کو پھر سے دہرانے لگے ۔دوبارہ اسی نوجوان نے اس جاں نثاری کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا پھر حضرت علی ـنے قرآن مجید کو اس کے ہاتھ میں دے دیا ۔

نوجوان ،جمل کے خیر خواہ سپاہیوں کی طرف بڑھا اور امام کی فرمائش کے مطابق انھیں قرآن مجید پر عمل کرنے اور اس کے احکام کی پیروی کرنے کی دعوت دی بصرہ کے جنگ افروزوں نے علی کے اس اقدام پر ایک لمحہ کے لئے بھی فکر کرنے کی اپنے آپ کو تکلیف نہیں دی اور بزدلانہ طور پر اس نوجوان پر حملہ کرکے تلوار سے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا ۔جوان نے قرآن مجید کو اپنے بائیں ہاتھ میں اٹھا لیا اور اپنی تبلیغ جاری رکھی ۔اس کا بایاں ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا ۔نوجوان نے ہاتھ کٹے دونوں بازئوں سے قرآن مجید اپنے سینے پر رکھ کر بلند کیا جب کہ اس کے کٹے ہوئے دونوں ہاتھوں سے خون کا فوارہ جاری تھا اور یہ خون قرآن مجید اور اس کی سفید قبا پر بہہ رہا تھا، پھر بھی وہ اپنی تبلیغ میں مصروف تھا کہ سر انجام اسے قتل کردیا گیا۔

طبری نے اسی داستان کو ایک اور روایت کے مطابق حسب ذیل بیان کیا ہے :

'' حضرت علی ـنے اپنے حامیوں سے مخاطب ہو کر کہا: تم میں سے کون شخص آمادہ ہے جو اس قرآن مجید کو ان کے پاس لے جاکر انھیں اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دے ،اگر چہ اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے وہ قرآن مجید کو دوسرے ہاتھ سے بلند کرے اور اگر وہ ہاتھ بھی کاٹا جائے تو قرآن مجید کو اپنے دانتوں سے پکڑ لے ؟!ایک کمسن نوجوان نے اٹھ کر کہا: میں ہوں حضرت علی ـبار بار اپنی بات دہراتے ہوئے اپنے حامیوں میں جستجو کرتے تھے ،لیکن اس نوجوان کے علاوہ کسی نے علی کی بات کا مثبت جواب نہیں دیا ۔ حضرت علی ـنے قرآن مجید اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایا: یہ قرآن مجید انھیں پیش کرنا اور کہنا ،خدا کی کتاب اول سے آخر تک ہمارے اور تمھارے درمیان حَکَم و منصف ہے ۔ایک دوسرے کا خون بہانے کے سلسلے میں خدا کو مد نظر رکھیں اور بلا سبب ایک دوسرے کا خون نہ بہائیں ۔

۲۴۳

نوجوان قرآن مجید کو ہاتھ میں لئے دشمن کی سپاہ کی طرف بڑھا اور ماموریت کے مطابق تبلیغ کرنے لگا ۔جیسے کہ بیان ہوا ،اس کے ہاتھ کاٹے گئے یہاں تک کہ اس نے قرآن مجید کو دانتوں سے بکڑ لیا اور سر انجام اسے قتل کر دیا گیا۔

اس واقعہ کے بعد حضرت علی ـنے کہا: چوں کہ انھوں نے قرآن مجید کا احترام نہیں کیا ،لہٰذا ان کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے ۔

اس نوجوان کی ماں اپنے بیٹے کے سوگ میں اس طرح شیون کرتی تھی :

''خدا وندا !(میرا بیٹا مسلم) ان سے نہ ڈرا اور انھیں کتاب خدا کی طرف دعوت دی ان کی ماں (عائشہ ) کھڑی دیکھ رہی تھی کہ کس طرح وہ سرکشی اور گمراہی میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں اور وہ انھیں اس سے منع نہیں کرتی تھی جب کہ ان کی داڑھی خون سے خضاب ہو رہی تھی''

ابو مخنف نے لکھا ہے :

اس نوجوان پر ماتم کرنے والی خاتون کا نام ام ذریح عبدیہ تھا ۔

ابن اعثم لکھتا ہے :

وہ نوجوان خاندان مجاشع سے تھا اورجس نے اس کے ہاتھ تلوار سے کاٹے وہ عائشہ کے غلاموں میں سے ایک تھا۔

مسعودی نے لکھا ہے :

عمار یاسر دو فوجوں کے درمیان کھڑے ہو کر بولے : اے لوگو!تم نے اپنے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے انصاف نہیں کیا ہے ،کیوں کہ اپنی عورتوں کو اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی زوجہ (عائشہ ) کو میدان کارزار میں کھینچ لائے ہو اور انھیں جنگجوئوں کی تلوار وں اور نیزوں کے درمیان لئے ہوئے ہو!!

مسعودی مزید روایت کرتا ہے :

عائشہ تختوں سے بنی ایک محمل میں بیٹھی تھیں ۔اس محمل کو ٹاٹ اور گائے کی کھال سے ڈھانپا گیا تھا اسے نمدہ کے فرش سے مضبوط کیا گیا تھا۔جنگی ہتھیار وں اور تلواروں کی ضربوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کے اوپر لوہے کی زرہ ڈالی گئی تھی ۔اس طرح یہ محمل ایک مضبوط آہنی قلعہ کے مانند اونٹ پر رکھی گئی تھی ۔عمار جب ان لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے آگے بڑھے تو عائشہ کی محمل کے پاس جاکر ان سے یوں سوال کیا:

تم ہمیں کس چیز کی دعوت دیتی ہو اورہم سے کیا چاہتی ہو؟

۲۴۴

عائشہ نے جواب دیا : عثمان کے خون کا انتقام !

عمار نے کہا:خد ا سر کش کو نابود کرے اور اسے بھی نابود کرے جو ناحق کسی چیز کا طالب ہو!

اس گفتگو کے بعد عمار نے پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر کہا: اے لوگو!تم بہتر جانتے ہو کہ ہم میں سے کن کے ہاتھ عثمان کے خون سے رنگین ہیں ؟

یہاں پر جمل کے خیر خواہوں نے عمار پر تیروں کی بوچھار کردی اسی حالت میں عمار نے عائشہ سے مخاطب ہو کر فی البدیہہ یہ شعر پڑھے :

''فتنہ کی بنیاد تم نے ڈالی اور پہلی بار تم نے ہی عثمان پر شیون و زاری بھی کی لہٰذا طوفان و ہوا تم سے تھے اور بارش بھی تم ہی سے تھی ۔تم نے ہی عثمان کو قتل کرنے کا حکم دیا ہم اسی کو عثمان کا قاتل جانتے ہیں جس نے اس کے قتل کا حکم جاری کیا ہے ''

چوں کہ عمار کی طرف تیربرس رہے تھے ۔وہ مجبور ہوکر اپنے گھوڑے کو موڑ کر امام کے لشکر کی طرف لوٹے اور حضرت علی ـسے مخاطب ہوکر بولے :اے امیرالمومنین !آپ کو کس چیز کا انتظار ہے؟ان لوگوں کے دماغ میں جنگ و خوں ریزی کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے ۔

حضرت علی کی طرف سے جوابی حملہ کا حکم

ابو مخنف اور دوسروں نے لکھا ہے کہ :

جمل کے خیر خواہوں نے حضرت علی ـکے لشکر پر شدید تیر اندازی کی،اس حد تک کہ علی کے سپاہی تنگ آکر کہنے لگے ، ١ اے امیر المومنین !کوئی حکم دیجئے ،دشمنوں کے تیر ہمیں نابود کر رہے ہیں ۔

امام ایک چھوٹے خیمہ میں تھے۔ ایک لاش ان کے پاس لائی گئی اور کہا گیا: یہ فلاں ہے جسے قتل کیا گیا ۔امام نے فرمایا:خداوندا !گواہ رہنا ! اور فرمایا: صبر کا مظاہرہ کرو تا کہ ان کے لئے کوئی عذر و بہانہ باقی نہ رہے۔

اسی دوران عبد اللہ بدیل اپنے بھائی عبد الرحمان بدیل جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں میں سے تھے اور جمل کے خیر خواہوں کے تیروں سے قتل ہوئے تھے کی لاش کو اپنے کندھے پر اٹھا کے لائے اور اس بے جان لاش کو علی کے سامنے رکھ کر بولے:اے امیر المومین ! یہ میرا بھائی ہے ، جو شہید ہوا۔

۲۴۵

علی ـ نے کہا :''اناللہ واناالیہ راجعون ''تب حکم دیا کہ ''ذات الفضول '' نامی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زرہ لائی جائے ،اسے زیب تن کیا اور چونکہ وہ آپ کے شکم تک لٹک رہی تھی لہٰذا اپنے اعزّہ میں سے ایک کو حکم دیا کہ اسے دستار کے ذریعہ درمیان سے باندھ دے ۔اس کے بعد ذوالفقار کو حمائل کیا اور ''عقاب'' نام کے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سیاہ پرچم کو اپنے بیٹے محمد حنفیہ کے ہاتھ میں دیا اور اپنے دو بیٹوں حسن و حسین سے مخاطب ہو کر فرمایا: میں نے پرچم کو اس لئے تمھارے بھائی کے ہاتھ میں دیا ہے اور تم دونوں کو اس سلسلے میں نظر انداز کیا ہے ،کیوں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تمھاری قرابت کی وجہ سے تمھاری حیثیت قابل قدر و معزز ہے ۔(۱)

ابو مخنف لکھتا ہے :

امیر المومنین ـاس آیہ ٔ شریفہ''ام حسبتم ان تدخلوا الجنّة و لما یا تکم مثل الذین خلو ا من قبلکم مستھم الباساء والضراء وزلزلوا.... ''(۲) کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں میں گھوم رہے تھے اور اس کے بعد فرمایا:

خدائے تعالیٰ ہمیں صبر و تحمل عطا فرمائے ،ہمیں کامیابی عنایت کرکے سر بلند فرمائے اور ہمارے ہر کام میں ہمارا یاور ومدد گارہو :

ہم نے امام کی سپاہ اور جمل کے خیر خواہوں کے درمیان جنگ چھڑنے کے اسباب سے متعلق عین مطالب کو بیان کرنے میں اسی مقدار پر اکتفاکی اور باقی مطالب ،جیسے جنگ شروع ہونے

سے پہلے حضرت علی ـاور زبیر کا آمنا سامنا کہ جس کے سبب زبیر کا امام سے دشمنی ترک کرکے میدان سے بھاگنا یا جنگ کے دوران مروان کے ہاتھوں طلحہ کا قتل ہونا وغیرہ سے صرف نظر کیا ہے اور اب صرف جنگ جمل کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ جمل کے بارے میں سیف ابن عمر کی احادیث اور دوسرے راویوں کی روایتوں کے درمیان موازنہ کرکے حق و حقیقت کی جانچ کی جا سکے ۔

____________________

۱)۔کیوں کہ جنگوں میں دشمن کی فوج کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ علمدار کو مغلوب کیا جائے ،امام چاہتے تھے کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نواسوں کو اس خطر ہ سے دور رکھیں ؛

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جنگ کے بعد حضرت نے محمد حنفیہ کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: بیٹے تم میرے لئے دست و بازو کی حیثیت رکھتے ہو اور وہ دونون میری آنکھیں ہیں انسان آنکھوں کا تحفظ کرتا ہے ۔

۲)۔کیا تمھارا خیال ہے کہ تم آسانی سے جنت میں داخل ہو جائو گے جب کہ ابھی تمھارے سامنے سابق امتوں کی مثال پیش نہیں آئی جنھیں جنگ وفقر وفاقہ اور پریشانیوں نے گھیر لیا اور جھٹکے دئے ۔

۲۴۶

جب اونٹ مارا گیا تب جنگ ختم ہوئی

ابو مخنف لکھتا ہے :

''جب امام نے دیکھا کہ عائشہ کے اونٹ کی لگام کے اطراف میں جمل کے خیر خواہوں پر موت کے بادل منڈلا رہے ہیں اور جوں ہی کوئی ہاتھ اونٹ کی لگام تھامتا ہے فورا ًکٹ جاتا ہے اور اس کے اطراف میں بہت سی جانیں جا رہی ہیں تو فرمایا: اشتر اور عمار کو بلائو ؛ جب یہ دونوں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام نے ان سے فرمایا: آگے بڑھ کر اس اونٹ کا کام تمام کرو جب تک یہ اونٹ زندہ ہے جنگ کی آگ نہیں بجھے گی ،کیوں کہ جمل کے خیر خواہوں نے عائشہ کے اونٹ کو اپنا قبلہ بنا رکھا ہے ۔

طبری لکھتا ہے :

علی ـنے فریاد بلند کی !اونٹ کا کام تمام کرو کیوں کہ اگر اونٹ ماراجائے گا تو جنگ ختم ہو جائے گی اور جمل کے خیر خواہ منتشر ہو جائیں گے ۔

ابو مخنف کی ایک دوسری روایت میں آیا ہے :

'' حضرت علی ـنے جب عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگجوئوں کو موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھا تو سمجھ گئے کہ جب تک اونٹ زندہ ہے جنگ کے شعلے نہیں بجھیں گے آپ اپنی ننگی تلوار کو اٹھا کے اونٹ کی طرف بڑھے اور حکم دیا کہ آپ کے حامی بھی ایسا ہی کریں اس طرح وہ جمل کے خیر خواہوں اور اونٹ کی لگام پکڑنے والوں کی طرف بڑھے ۔

اس وقت عائشہ کے اونٹ کی لگام خاندان بنی ضبہ کے افراد کے ہاتھوں میں دست بدست منتقل ہو رہی تھی ۔جو بھی ان میں زمین پر گرتا تھا فورا ًدوسرا آدمی اونٹ کی لگام کو پکڑ لیتا تھا یہاں تک کہ قتل ہو جاتا تھا ۔عائشہ کے اونٹ کے اطراف میں جنگ شدت اختیار کرتی جا رہی تھی اور اونٹ کی لگام پکڑنے والے خاندان بنی ضبہ کے افراد بڑی تیزی سے یکے بعد دیگرے خاک و خون میں غلطاں ہو رہے تھے اور ان کی ایک بڑی تعداد قتل ہو چکی تھی ۔حضترت علی ـاور ان کے حامیوں نے ان کی دفاعی لائن (اونٹ کے محاصرہ) کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور ان کی جگہ پر خود عائشہ کے اونٹ کے قریب پہنچ گئے ۔اسی حالت میں امام نے خاندان نخع کے بجیرنامی ایک شخص سے کہا: اے بجیر !اس اونٹ کا کام تمام کردو !بجیر نے پوری طاقت سے اونٹ کے حلق پر تلوار ماری جس کے سبب اونٹ پہلو کے بھل دھڑام سے گر گیا ۔اس کا سینہ زور سے زمین پر لگا اور اونٹ نے ایسی زور دار چیخ ماری کہ اس روز تک ایسی چیخ نہ سنی گئی تھی ۔

۲۴۷

جب عائشہ کا اونٹ گرکے مر گیا تو جمل کے خیر خواہ اس کے اطراف سے فرار کر گئے اورجنگ ختم ہو گئی ۔امام نے پکار کر کہا :محمل کی رسیاں کاٹ دو !حضرت علی کے حامیوں نے فوری طور پر اونٹ کی پیٹھ پر مضبوطی کے ساتھ باندھی ہوئی محمل کی رسیاں کاٹ دیں اور عائشہ کی محمل کو ہاتھوں پر اٹھا کر زمین پر رکھ دیا ۔

امام کی طرف سے عام معافی

جنگ ختم ہوئی تو حضرت علی ـکے ترجمان نے امام کے حکم سے حسب ذیل اعلان کیا :

''زخمیوں کو صدمہ نہ پہنچائو ،فراریوں کا پیچھا نہ کرو اور انھیں زخمی نہ کرو دشمن کی فوج میں جو بھی ہتھیار زمین پر رکھ دے وہ امان میں ہے ۔ جو اپنے گھر میں رہ کر گھر کا دروازہ بند کرلے وہ بھی امان میں ہے ۔اس کے بعد امام نے سب کو امان دے دی ۔ اس طرح عام معافی کا اعلان ہو گیا اور سبوں کو امام کی حمایت نصیب ہوئی ۔

حضرت علی ـکے حکم سے ،عائشہ کا بھائی محمد بن ابو بکر ،عائشہ کو ان کے کجاوے کے ساتھ ایک طرف لے گیا اور وہاں پر ان کے لئے خصوصی خیمہ نصب کیا ۔اس کے بعد حضرت علی ـعائشہ کے خیمہ کے پیچھے آکے رُکے اور بہت سی باتوں کے ضمن میں عائشہ سے کہا: تم نے لوگوں کو میرے خلاف بغاوت پر اکسایا ،انھیں ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنایا یہاں تک کہ انھوں نے ایک دوسرے کو خاک و خون میں غلطاں کیا ۔

طبری نے امام کی اس مفصل تقریر کو درج نہیں کیا ہے حتیٰ اتنا بھی نہیں لکھا ہے کہ اس میں کیا کیا باتیں بیان ہوئیں ۔(۱)

مسعودی اپنی کتاب مروج الذہب میں لکھتا ہے :

حضرت علی ـنے عائشہ سے فرمایا: کیا پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تمھیں اسی چیز کا حکم دیا تھا؟ کیا انھوں نے تمھیں آرام سے اپنے گھر میں بیٹھنے اور گھر سے باہر قدم نہ رکھنے کو نہیں کہا تھا؟ خدا کی قسم جنھوں نے تمھیں میدان جنگ میں کھینچا اور اپنی عورتوں کو

____________________

۱)۔ جب کہ یہی طبری جھوٹے سیف کے عجیب و غریب افسانے درج کرتے وقت ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ اس کا راز کیا ہے ؟

۲۴۸

پردے میں اپنے گھروں میں محفوظ رکھا ، انھوں نے تم پرظلم و ستم کیا ہے !

طبری نے لکھا ہے کہ

عائشہ نے امام کے جواب میں کہا :

اے فرزند ابوطالب ـ!اب جب کہ جنگ کا خاتمہ آپ کے حق میں ہو گیا ہے اور آپ فتح پا چکے ہیں تو اب ماضی سے درگزر کریں ۔آج آپ نے اپنی قوم کے ساتھ کیا اچھا برتائو کیا !

طبری نے مزید روایت کی ہے :

جب جنگ ختم ہوئی تو عمار یاسر نے عائشہ سے مخاطب ہو کر کہا:

اے ام المومنین !تمھارا کردار تمھیں کی گئی وصیت سے کتنا فاصلہ رکھتا ہے ؟

عائشہ نے عمار یاسر کی بات ان سنی کرتے ہوئے سوال کیا : کیا تم ابو الیقظان ہو؟

عمار نے جواب دیا جی ہاں ،

عائشہ نے کہا: خدا کی قسم تم ہر وقت حق بات کہتے ہو ۔

عمار نے جواب میں کہا : شکر ہو اس خدا کا جس نے تمھاری زبان پر میرے حق میں یہ بات جاری کی !

جنگ جمل کے بارے میں روایات سیف کی سند کی جانچ:

جہاں پر سیف ''فتنہ ''(۱) کی داستان کے بارے میں بات کرتاہے وہاں اس کے راوی محمد اور مستنیر ہیں اور گزشتہ بحثوں میں معلوم ہو چکا ہے کہ یہ دونوں راوی سیف کے ذہن کی تخلیق

اور جعلی ہیں اور ان کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں ہے ۔

____________________

(۱)مورخین نے عثمان کے قتل اور جنگ جمل کی داستان کو فتنہ کے نام سے یاد کیا ہے۔

۲۴۹

اس کے دیگر راوی عبارت ہیں : قیس بن یزید نخعی ،اس سے تین روایت ،جریر بن اثر س ، اس سے دو روایت ،صصعہ یا صصعۂ مزنی اور مخلد بن کثیر ،ان دونوں سے ایک ایک روایت تاریخ طبری میں درج ہیں ۔ہم نے ان چاروں راویوں کے نام سیف کی احادیث کے علاوہ کہیں نہیں پائے اس لئے وہ بھی سیف کے جعلی راوی محسوب ہوتے ہیں ۔

اس کے علاوہ قبیلہ بنی ضبہ سے'' ایک بوڑھا ''کے نام سے ایک راوی اور بنی اسد سے ''ایک مرد ''نام سے ایک اور راوی کا ذکر کرتا ہے کہ ہمیں معلوم نہ ہو سکا کہ قبیلہ ضبہ اور بنی اسد کے ان دو افراد کا اس نے کیا نام تصور کیاہے تاکہ ہم راویوں کی فہرست طبقات میں ان کو بھی ڈھونڈتے ۔

سیف کی باتوں کا دوسروں سے موازنہ:

سیف بن عمر تمیمی کی روایتیں اپنے افسانوی سورما قعقاع بن عمرو تمیمی کے بارے میں اتنے معجزہ نما افسانے ،کارنامے اور ماموریتیں عثمان کے زمانے کی بغاوتوں کے بعد تک مورخین کے اقوال کے خلاف ہیں ۔

سیف کہتا ہے کہ کوفہ کے لوگوں کے حضرت علی ں کی حمایت اور مدد کے لئے بصرہ کی طرف روانہ ہونے کا سبب قعقاع بنا جب کہ دوسرے مورخین معتقد ہیں کہ کوفی جنگجو ئوں کی روانگی حسن ابن علی ،عمار یاسر اور مالک اشتر کے ذریعہ انجام پائی ہے ۔

سیف کہتا ہے کہ صلح و آشتی کے منصوبہ کے سلسلے میں امام نے قعقاع کو اپنے ایلچی کے طور پر جمل کے خیر خواہوں کے پاس بھیجا جب کہ یہ ماموریت ابن عباس اور ابن صوحان نے انجام دی ہے

سیف کا دعویٰ ہے کہ جمل کے خیر خواہوں نے صلح و آشتی کی تجویز کو قبول کیا ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جمل کے سرداروں اورخیر خواہوں نے امام کے صلح کے پیغام اور نصیحتوں کو پوری طاقت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور امام سے جنگ کرنے پر مصر رہے اور انھیں جنگ کی دھمکی دیتے رہے ۔

۲۵۰

سیف تنہا راوی ہے جو یہ کہتا ہے کہ جنگ جمل کی شب عبداللہ ابن سبا کی صدارت میں سبائیوں کے سردار وں کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی اور ابن سبا نے ایک دور اندیش قائد کی حیثیت سے ضروری ہدایت حاضرین کو دیں اور یاد دہانی کرائی کہ ان کا شیطانی منصوبہ نقش بر آب ہو گیا ہے اور جو دو فوجین جنگ و پیکار کے لئے صف آرا ہو چکی تھیں ،صبح ہوتے ہی ایک دوسرے سے صلح و آشتی کا ہاتھ ملانے والی ہیں ۔ابن سبا اپنے جیسے شیطان صفت یمانی سردار وں سے اس کا کوئی حل تلاش کرنے کو کہتا ہے سر انجام اپنی شیطانی تجویز کو سامنے رکھتا ہے کہ سبائیوں کو چاہئے کہ اس سے قبل کہ دونوں فوجوں کے سردار آگاہ ہوں ،دونوں سپاہوں کی صفوں میں نفوذ کر کے جنگ کے شعلے بھڑکا دیں ۔ جلسہ کے حاضرین اس نظریہ کو پسند کرکے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے منتشر ہو جاتے ہیں ۔

سیف نے اپنی چالاکی سے سبائیوں کے اس اجلاس کو اسی صور ت میں منعقد کیا ہے جیسا کفار قریش نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے کے سلسلے میں ''دارالندوہ'' میں اجلاس منعقد کیا تھا ۔اس اجلاس میں بھی شیخ نجدی ( جس کے روپ میں شیطان آیا تھا ) ''دارالندوہ '' کے ہر ایک رکن کے نظریات سننے کے بعد انھیں مسترد کرکے حاضرین پر اپنا نظریہ مسلط کرتا ہے ۔

مذکورہ دو اجلاس کے درمیان جو دو مختلف زمانوں میں واقع ہوئے جو فرق نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ شیخ نجدی کی قیادت میں ''دار الندوہ '' کا اجلاس ناکامی سے دو چار ہوتا ہے اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچ جاتی ہے ،جب کہ عبداللہ ابن سبا کی قیادت میں منعقد ہوئے اس جلسہ کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے اور دو مضری سپاہ کے قائدین جیسے ،امیر المومنین ـ،عائشہ ،طلحہ و زبیر کی بے خبری اور ان کی مرضی کے خلاف رات کی تاریکی میں دو لشکروں کو آپس میں ٹکرا کر اسلامی معاشرے میں برادر کشی اور اختلاف و افتراق پیدا کرنے والی جنگ کے شعلے بھڑکا دئے جاتے ہیں !

۲۵۱

اس داستان کو بڑی مہارت سے زمان و مکان کے اقتضا کے مطابق مرتب کئے جانے کے اس منصوبہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس تباہ کن اور رونگٹے کھڑے کردینے والی جنگ کے تمام گناہ اور ذمہ داریاں یمانی سبائیوں کے قائد عبد اللہ ابن سبا کی گردن پر ڈال دی جاتی ہیں اور حقیقت میں اس جنگ کے تباہ کن شعلے بھڑکانے والے اصلی مجرم '' مضری سردار عائشہ طلحہ و زبیر کے دامن کو اس الزام سے پاک کر دیا جاتا ہے تاکہ قحطانی یمانی قبائل کے چہروں پر تباہی مچانے والی اس بد ترین رسوائی کا داغ رہتی دنیا تک باقی رہے ۔یہ سب سے پہلا اور واضح ترین نتیجہ ہے جو سیف کو اس قسم کا افسانہ گڑھنے سے حاصل ہوتا ہے اور اس طرح وہ خاندانی تعصبات کی پیاس کو اپنی مرضی کے مطابق بجھا تا ہے ۔

دوسری جانب ایسے افسانوں کی اس زمانے میں مکمل حمایت اور تائید کے نتیجہ میں سیف حقائق میں تحریف کرکے تاریخ اسلام کو اپنے ہم عقیدہ مانویوں کے ذوق کے مطابق بدل دیتا ہے اور اسلامی معاشرہ میں نظریات اور عقاید کے اختلافات ایجاد کرکے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خون کے پیاسا بنادیتا ہے اور زندیقیوں کی آرزوکے مطابق اسلام کی بنیادپر کاری ضرب لگا کر اس کو کمزور کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔

جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیف کے بیان کے مطابق جمل کے خیر خواہوں کی صلح و آشتی کے لئے موافقت کے بر عکس امام مسلم مجاشعی نام کے ایک نوجوان کے ہاتھ میں قرآن مجید دے کر جمل کے خیر خواہوں کی طرف بھیجتے ہیں تاکہ انھیں قرآن اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت دے لیکن جمل کے خیر خواہ جواب میں اس نوجوان کے دونوں ہاتھ کاٹ کر اسے قتل کر ڈالتے ہیں ۔

اور جو کچھ سیف نے مالک اشتر نخعی یمانی کے جنگ سے دوری اختیار کرنے کے بارے میں لکھا ہے تو مالک اشتر کی شہرۂ آفاق شجاعت و دلاوری کے پیش نظر اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔

سیف نے لکھا ہے کہ حقیقت میں قعقاع بن عمرو نے عائشہ کے اونٹ کو مار ڈالنے کا حکم جاری کرکے جنگ کا خاتمہ کیا جب کہ یہ حکم امام کی طرف سے جاری ہوا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے اپنے حامیوں کے ہمراہ خود اقدام کیاہے ۔

۲۵۲

سیف لکھتا ہے کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے قعقاع بن عمرو نے عام معافی کا اعلان کیا اور کہا ''تم سب امان میں ہو'' جب کہ دیکھتے ہیں کہ یہ اعلان امام کے ترجمان کے ذریعہ امام کے حکم سے انجام پایا ہے ۔فرض کریں اگر قعقاع نام کا کوئی آدمی موجود بھی ہوتا تو امام کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت و مجال تھی کہ خود ایسا حکم جاری کرتا ؟!

اس کے علاوہ سیف مدعی ہے کہ جنگ کے خاتمے پر قعقاع اور چند دیگر افراد نے عائشہ کے کجاوے کو اونٹ کی پیٹھ سے جدا کرکے ایک گوشے میں رکھا ،جب کہ امام کے حکم سے عائشہ کے بھائی محمد ابن ابوبکر نے یہ کام انجام دیاہے ۔

آخر میں سیف نے امام اوراسی طرح عائشہ سے منسوب کچھ بیانات ذکر کئے ہیں کہ یہ سب باتیں ان حقائق و مطالب کے بر عکس ہیں جنھیں تمام مورخین نے مختلف طریقوں سے درج کیا ہے ۔

داستان جمل کے نتائج

سیف کی روایات میں ،عثمان کے زمانے کے بعد رونما ہوئی بغاوتوں اور شورشوں کے شعلے کبجھانے میں نمایاں اور قابل تحسین کام انجام دینے کا سحرا افسانوی سورما قعقاع بن عمر وتمیمی کے سر ہی باندھا گیا ہے اور کسی کواس میں شریک نہیں کیا گیا ہے ۔

کیوں کہ سیف کی روایتوں کے مطابق :

یہ قعقاع ہے جو سبائی شورشیوں کو مسجد کوفہ میں جمع ہونے سے منع کرتا ہے اور اس روز ان کے اور کوفہ کے گونر کے درمیان بھڑکنے والے فتنہ کے شعلوں کو بجھاتاہے ۔

یہ وہی شخص ہے جو ایک فوج کو اپنی قیادت میں لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوتا ہے تاکہ محاصرہ میں پھنسے خلیفہ عثمان بن عفان کو باغیوں اور تخریب کاروں سے نجات دلائے ،لیکن جب راستے میں عثمان کے قتل ہونے کی خبر سنتا ہے تو کوفہ واپس لوٹنے پر مجبور ہوتا ہے ۔

یہ قعقاع ہی تھا جو لوگوں اور کوفہ کے گورنر کے درمیان حکمیت کا رول ادا کرتا ہے اور حکمیت میں اس کی بات مؤثر ثابت ہوتی ہے ،وہ حکم دیتا ہے کہ امام کی مدد کے لئے لوگ ان کے فوجی کیمپ کی طرف روانہ ہو جائیں اور لوگ بھی اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ۔

۲۵۳

اور یہی قعقاع ہے کہ امام اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے حکم دیتے ہیں کہ امام کے ایلچی کی حیثیت سے جمل کے خیر خواہوں اور امام کے درمیان صلح و آشتی کی کوشش کرے اور اس کی سرگرمیاں مطلوبہ نتیجہ تک پہنچتی ہیں اور دونوں گروہوں کے درمیان صلح کے مقدمات طے پاتے ہیں کہ اچانک عبداللہ ابن سبا یمانی کی شیطنتوں اور دخل اندازی سے تمام کوشیشی نقش بر آب ہو جاتی ہیں اور قعقاع کی فہم و فراست سے خاموش ہونے والی جنگ کی آگ سبائیوں کی شازشوں کے نتیجہ میں انتہائی تباہ کن صورت میں بھڑک اٹھتی ہے اور انسانوں کی ایک بڑی تعداد لقمۂ اجل بنادیتی ہے ۔

یہ وہی قعقاع تھا جس نے اونٹ کو مارڈالنے کا حکم جاری کرکے جنگ کو خاتمہ بخشا۔

یہ وہی قعقاع تھا جس نے جنگ کے آخر میں ''تم سب امان میں ہو '' کا حکم جاری کرکے جمل کے سپاہیوں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اورجمل کے پریشان حال جنگجوئوں کو بد ترین حالات و نتائج سے نجات دلائی ۔

آخر میں یہ قعقاع ہی ہے جو عائشہ کی محمل کو اٹھا کر اسے زمین پر رکھتا ہے ۔

جی ہاں !ان سب افتخارات اور سر بلندیوں کا مالک وہی ہے ،یعنی قعقاع بن عمرو ،ناقابل شکست پہلوان،امت کا محب ، مسلمانوں کا ہمدرد ، ایک قابل اطاعت سپہ سالار اور خاندان تمیم کا با اثر قائد جو خاندان تمیم اورمضر کے تاج میں ستارے کی طرح چمکتا ہے اور ان تمام فخر و مباہات کا مالک ہے

اس کے مقابلے میں جو تمام برائیاں ، شور شیں ، فتنے، تخریب کاریاں ،مصیبت و بلائیں اور بد بختیاں اسلامی معاشرے کو در پیش آئی ہیں وہ سب کی سب عبد اللہ ابن سبا یہودی یمانی کے ہیرو سبائیوں کی وجہ سے تھیں ۔ اس لئے تمام نفرین و ملامت کے مستحق سبائی اور یمانی ہیں ۔

۲۵۴

سیف ابن عمر تمیمی نے اس تمہید سازی، عجیب و غریب افسانے گڑھ کر ، تاریخ کے سنوں میں تبدیلی کرکے، حکام کے خطوط میں تغیر دے کر، جنگیں اور میدان جنگ جعل کرکے اور خاص کر سبائیوں اور ابن سبا کے افسانے کے منصوبے کے ذریعہ اپنا شیطانی مقصد حاصل کرنا چاہا ہے اور سیف کی خوش قسمتی سے امام المؤرخین ابو جعفر جریر طبری کی مہربانی اور خصوصی توجہ سے جو اہمیت سیف کے افسانوں کو ملی ہے اس سے سیف اپنے ناپاک عزائم میں اچھی طرح کامیاب ہوا ہے، کیونکہ بارہ صدیوں سے تاریخ اسلام کے حقائق سیف کے ان تخیلاتی افسانوں کے بادلوں کے پیچھے کھوگئے ہیں ۔

آخر میں کیا یہ کہنا بہتر نہیں کہ سیف خاندانی تعصب کا بہانہ بناکر اس کی آڑ میں خود اپنے دینی اعتقادات کے تحت اسلام کو کمزور کرکے اسے نابود کرنے کے در پے تھا۔کیا سیف کو زندیق اور مانوی مذہب کا پیرو ذکر نہیں کیا گیا ہے؟

قعقاع کے کام کا خاتمہ

یہاں تک ،سیف بن عمر کی طرف سے اس کے ناقابل شکست افسانوی سور ما قعقاع بن عمرو کے سلسلے میں اس کی شجاعتوں ،رجز خوانیوں ، رزمیہ اشعار اور تعجب خیز کارناموں کے بارے میں ہمیں جو کچھ ملاہے، وہ اختتام کو پہنچتا ہے۔

جنگ جمل کے بعدسے اس وقت تک قعقاع کا کہیں نام نہیں لیا جاتا ہے، یہاں تک کہ طبری دوبارہ سیف سے نقل کرتے ہوئے جنگ صفین کی جنگ جمل سے شباہت کے بارے میں قعقاع ابن عمر و سے یوں روایت کرتا ہے:

میں نے دنیا میں کسی چیز کو صفین اور جمل کی دوجنگوں جیسا شبیہ نہیں دیکھا۔ کیونکہ اس جنگ میں دوفوجیں اس قدر ایک دوسرے کی نزدیک آچکی تھیں کہ ہم نے مجبور ہو کر اپنے نیزوں کے ساتھ ٹیک لگائی اور اپنے دانتوں سے ایک دوسرے سے جنگ کی اس طرح روبرو ہونا اور نیزوں کا زمین میں نصب ہونا اس قدر گنجان اور نزدیک تھا کہ اگر لوگ نیزوں پر قدم رکھ کر چلنا چاہتے تو یہ ممکن تھا!!

سیف نے صفین کے بارے میں یہ عجیب و غریب توصیف کرکے اپنے افسانوی سورما قعقاع کو اس میں شریک قرار دیا ہے کیونکہ یہ قعقاع ہے جس نے جنگ کو نزدیک سے دیکھا ہے اور اس میں شرکت کی ہے.

۲۵۵

اس روایت کے علاوہ کوئی اور روایت سیف سے نقل نہیں ہوئی ہے جو اس بات کی دلیل ہو کہ قعقاع نے صفین یا صفین کے بعد کسی جنگ میں شرکت کی ہو۔

قعقاع کے بارے میں سیف کے ذریعہ جو آخری روایت ہم تک پہنچی ہے وہ ایک ایسی روایت ہے جسے طبری نے ١١ ھکے حوادث کے ضمن میں بیان کیا ہے اور وہ حسب ذیل ہے:

معاویہ نے (عام الجماعة) سال ''اتحاد و یکجہتی''جس سال امام حسن ں اور معاویہ نے صلح کی کے بعد علی کے دوستوں اور طرفداروں کو ایک ایک کرکے کوفہ سے جلاوطن کیا اور ان کی جگہوں پر اپنے دوستوں اور طرفداروں کو آباد کیا۔انھیں مختلف شہروں میں ''جلاوطن ''ہونے والوں کے نام سے یاد کیا جاتاہے.کوفہ سے جلاوطن ہونے والوں میں سے ایک قعقاع بن عمرو بھی تھا کہ اسے فلسطین کے شہر ایلیا جلاوطن کیا گیا اور اس کی جگہ پر خاندان تغلب کے افراد من جملہ سجاح نامی ایک شخص کو لاکر قعقاع اور بنی عقفان سے مربوط اس کے دیگر رشتہ داروں کے محلے میں آباد کیا گیا۔

اسلامی اسناد میں قعقاع کانام

جو کچھ ہم نے یہاں تک قعقاع بن عمرو کے بارے میں بیان کیا، ان سب نے مل جل کر نوبت یہاں تک پہنچائی ہے کہ ابو جعفر محمد بن حسن ملقب بہ شیخ طوسی(وفات ٤٦٠ھ )بھی علم رجال کی اپنی کتاب میں دوجگہوں پر قعقاع کو امیر المؤمنین کے صحابی کے طور پر درج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :''اس کانام قعقاع تھا''.اور دوسری جگہ پر لکھتے ہیں :''قعقاع بن عمیر تیمی''۔ ان دو جملوں کے علاوہ اس سلسلے میں کسی قسم کی تشریح و تفسیر نہیں لکھی ہے۔

شیخ طوسی کے بعد جن علماء نے ان سے اس بات کو نقل کرکے اپنی کتابوں م میں درج کیاہے، حسب ذیل ہیں :

اردبیلی(وفات ١١٠١ھ )نے کتاب ''جامع الروات''میں ، قہپائی نے ''مجمع الرجال''میں جس کی تألیف ١٠١٦ھ میں مکمل ہوئی ہے اور مامقانی نے کتاب ''تنقیح المقال '' میں شیخ طوسی کی کتاب رجال کا حوالہ دیکر قعقاع کانام لیا ہے ۔

۲۵۶

مامقانی لکھتے ہیں :

قعقاع شیخ(رض) نے اپنی رجال کی کتاب میں ''اصحاب علی ''کے باب میں دو جگہوں پر اس کا نام لیا ہے۔ ایک جگہ پر صرف اس کا نام لیا ہے اور دوسری جگہ پر اس کے باپ اور خاندان کا نام بھی ذکر کیا ہے۔لیکن اس کے حالات کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں کیا ہے۔ شیخ نے قعقاع کے باپ کا نام عمیر لکھا ہے جبکہ عبد البر اور ابن اثیر نے اس کا نام عمر لکھا ہے۔ بعید نہیں ہے کہ پہ پیغام صحیح تر ہو۔ اسی طرح ''اسد الغابہ'' میں جنگِ قادسیہ میں ایرانیوں کے خلاف پیکار کے دوران قعقاع کی شجاعتوں اور نمایاں کارناموں کے پیش نظر اسے روئے زمین کا شجاع ترین اور بے مثال پہلوان بتایاگیاہے۔ اس کے علاوہ اس میں آیا ہے کہ قعقاع نے جنگ جمل اور دیگر جنگوں میں علی کے ہمراہ شرکت کی ۔طلحہ و زبیر کے ساتھ اس نے اتنی بہتر گفتگو کی کہ اس کے سبب لوگ آپس میں صلح و آشتی کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ اور یہ وہی شخص ہے جس کے

بارے میں ابوبکر نے کہا ہے:''لشکر میں قعقاع کی آواز ایک ہزار مردوں کی آواز سے بڑھکر ہے۔'' !

لفظ ''قعقاع'' کی تشریح میں صاحب ''قاموس الرجال'' نے مامقانی کی اس سلسلے میں درج کی گئی تمام باتوں کو ذکر کرتے ہوئے لکھاہے:

ظاہرا ًشیخ طوسی کا اپنی کتاب رجال میں مقصود پہلا قعقاع ، یعنی قعقاع بن ثور ہے کہ ابن ابی الحدید نے اس کے بارے میں کہا ہے: علی علیہ السلام نے اسے ''لشکر'' کی سرداری تفویض کی. اس نے ایک عورت کو ایک لاکھ درہم مہر دیدی اور علی کی بازپرسی کے ڈرسے معاویہ سے جاملا۔

۲۵۷

گزشتہ فصلوں کا خلاصہ

تخیل سیف القعقاع بن عمرو تمیماً

سیف نے اپنے خیالی سورما قعقاع کو عمرو کا بیٹا اور اپنے خاندان تمیم سے قرار دیا ہے ۔

(مولف)

قعقاع کا شجرۂ نسب اور منصب

سیف نے اپنے خیال میں قعقاع کو عمرو کا بیٹا ،مالک تصویر کا نواسہ اور اپنے قبیلہ تمیم سے تعلق رکھنے والا بتایا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی ماں حنظلیہ تھی ،اس کے ماموں خاندان بارق سے تھے ۔ اس کی بیوی ہنیدہ خاندان ہلال نخع سے تھی ۔

سیف کہتا ہے کہ قعقاع رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے تھا اور اس نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے احادیث روایت کی ہیں ۔وہ سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود تھا اور اس نے وہاں پر گزرے حالات کی اطلاع دی ہے ۔

ملاحظہ ہو اس کی جنگی سرگرمیاں :

ابوبکر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں

قعقاع ،قبیلہ ہوران کے خلاف حملہ میں ابوبکر کے حکم سے منظم کئے گئے ایک لشکر میں شرکت کرتا ہے کہ قبیلہ کا سردار علقمہ اس کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوتا ہے اور قعقاع علقمہ کے اہل خانہ کو اسیر بنا لیتا ہے۔

فتوح کی جنگوں میں ابوبکر ،قعقاع کو سپہ سالار اعظم خالد بن ولید کی مدد طلب کرنے پر عراق کے علاقوں میں جنگ میں شرکت کرنے کے لئے مامور کرتے ہیں ،جب ابوبکر پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ خالد نے آپ سے ایک لشکر کی مدد چاہی تھی اور آپ صرف ایک آدمی کو اس کی مدد کے لئے بھیج رہے ہیں ؟ !تو ابوبکر جواب میں کہتے ہیں :جس سپاہ میں اس جیسا پہلوان موجود ہو وہ ہرگز شکست سے دو چار نہیں ہوگی !۔

۲۵۸

قعقاع جنگ ابلہ میں شرکت کرتا ہے ۔جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کی سپاہ کا کمانڈر ، خالد سے مقابلہ کرنے کے لئے میدان میں آیا ہے اور خالد کو فریب دینے کا نقشہ کھینچ رہا ہے تو قعقاع تن تنہا دشمن کی فوج پر حملہ کرکے دشمن کی ریشہ دوانیوں کو نقش بر آب کرکے رکھ دیتا ہے ۔

اس کے بعد قعقاع خالد بن ولید کے ساتھ المذار ،الثنی ،الولجہ اور الیس کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے ۔

جنگ الیس میں خالد بن ولید اپنی قسم پوری کرنے کے لئے تین دن رات جنگی اسیروں کے سر تن سے جدا کرتا ہے تاکہ ان کے خون سے ایک بہتا ہوا دریا وجود میں لائے !لیکن خون زمین پر جاری نہیں ہوتا تب قعقاع اور اس کے ہم خیال خالد کی مدد کرنے کے لئے آگے بڑھتے ہیں اور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ خون پر پانی جاری کردے ۔اس طرح خالد کی قسم پوری ہوتی ہے اور تین دن رات تک خون کا دریا بہتا ہے جس کے نتیجہ میں اس دریا پر موجود پن چکیاں چلتی ہیں اور خالد کی فوج کے لئے آٹا مہیا ہوتا ہے ۔

حیرہ کے فتح کے بعد خالد بن ولید ،قعقاع کو سرحدی علاقوں کی کمانڈ اور حکومت سونپتا ہے اور قعقاع ،خالد کی طرف سے خراج ادا کرنے والوں کو دی جانے والی رسید پر دستخط کرتا ہے جب خالد عیاض کی مدد کے لئے حیرہ سے باہر جاتا ہے تو قعقاع کو اپنی جگہ پر جانشین مقرر کرکے حیرہ کی حکومت اسے سونپتا ہے ۔

قعقاع حصید کی جنگ میں سپہ سالار کی حیثیت سے عہدہ سنبھالتا ہے اور ایرانی فوج کے سپہ سالار روز مہر کو موت کے گھاٹ اتارتا ہے اور فوج کے دوسرے سردار وں کے ہمراہ مصیخ بنی البرشاء اور فراض کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے ۔اسی آخری جنگ کے خاتمہ پر خالد بن ولید حکم دیتا ہے کہ فراری دشمنوں کو تہہ تیغ کیا جائے ۔اس طرح میدان جنگ میں قتل کئے گئے اور فراری مقتولین کی کل تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔

اس کے بعد خلیفہ ابوبکر خالد بن ولید کو حکم دیتا ہے کہ عراق کی جنگ کو ناتمام چھوڑکر شام کی طرف روانہ ہو جائے ۔خالد گمان کرتا ہے کہ عمر نے اس کے ساتھ حسد کے پیش نظر ابوبکر کو ایسا کرنے پر مجبور کیا ہوگا ۔قعقاع فوراً خالد کو نصیحت کرتا ہے اور عمر کے بارے میں اس کی بد ظنی کو حسن ظن میں تبدیل کر دیتا ہے ۔

۲۵۹

قعقاع خالد کی سپاہ کے ساتھ عراق سے شام کی طرف روانہ ہوتا ہے اور اس کے ہمراہ مصیخ بہراء ،مرج الصفر اور شام کے ابتدائی شہر قنات عراقی فوجیوں کے ہاتھوں فتح ہونے والاپہلا شہر کی جنگوں میں شرکت کرتا ہے اور اس کے بعد واقوصہ کی جنگ میں شرکت کرتا ہے ۔

قعقاع ان تمام جنگوں کی مناسبت سے شعر ،رزم نامے اور رجز کے ذریعہ ادبیات عرب کے خزانوں کو پُر کرتا ہے ۔

یرموک کی جنگ میں خالد اسے عراقی سپاہ کی کمانڈ سونپتا ہے اور اسے حملہ کرنے کا حکم دیتا ہے قعقاع حکم کی تعمیل کرتا ہے اور چند اشعار بھی کہتا ہے ۔جنگ کے خاتمے پر جنگ واقوصہ میں رومیوں کے مقتولین کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچتی ہے ۔

دمشق کی جنگ میں قعقاع اور ایک دوسرا پہلوان قلعۂ دمشق کے برج پر کمندیں ڈال کر دیوار پر چڑھتے ہیں اور دوسروں کی کمندوں کو برج کے ساتھ مضبوطی سے باندھتے ہیں اور اس طرح قلعہ کی دیوار سے اوپر چڑھ کر قلعہ کے محافظوں سے نبرد آزما ہونے کے بعد قلعہ کا دروازہ اسلامی فوج کے لئے کھولنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور شہر پر قبضہ کر لیتے ہیں ۔قعقاع نے اس مناسبت سے بھی چند اشعار کہے ہیں ۔

عمر کے زمانے میں قعقاع کی شجاعتیں

اس کے بعد قعقاع جنگ فحل میں شرکت کرتا ہے ،جس میں اسّی ہزار رومی مارے جاتے ہیں ۔ وہ اس سلسلے میں دولافانی رزم نامے کہتا ہے اس کے بعد ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے شام سے عراق کی طرف روانہ ہوتا ہے تاکہ اسلامی فوج کے سپہ سالارسعد وقاص کی مدد کرے اور جنگ قادسیہ میں شرکت کرے.

۲۶۰