ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 23671
ڈاؤنلوڈ: 767


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 23671 / ڈاؤنلوڈ: 767
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

ایک اور حدیث اس نے مقدام ابن ابی مقدام اور اس نے اپنے باپ سے اور اس نے کرب ابن ابی کرب کے ذریعہ روایت کی ہے ۔علمائے رجال نے شیوخ مقدام کے ضمن میں ان کے باپ اور کرب کا کوئی نام نہیں لیا ہے ۔یعنی کسی روایت میں مقدام نے اپنے باپ یا کرب سے کوئی حدیث نقل نہیں کی ہے ١٣ اور یہ تنہا سیف ہے جس نے اپنی حدیث کے لئے ایسی سندجعل کی ہے اس کے علاوہ سیف بن عمر نے اپنے راویوں کے طور پر بعض دیگر نام لئے ہیں کہ سیف کے سابقہ ریکارڈ کے پیش نظر ہم نہیں چاہتے کہ سیف کے جھوٹ اور افسانوی گناہ ایسے اشخاص کے کندھوں پر ڈالیں ۔

جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ سیف تنہا شخص ہے جس نے ایسی احادیث ان راویوں کی زبانی نقل کی ہیں ۔بے شک سیف ایک جھوٹا اور افسانہ نگار شخص ہے ۔

جن لوگوں نے عاصم کے افسانہ کو سیف سے نقل کیا ہے

ہم نے قعقاع کے افسانہ کو سیف ابن عمر تمیمی کی تقریبا ستّر روایات میں اور اس کے بھائی عاصم کے افسانہ کو سیف کی چالیس سے زاید روایات میں بیان کیا ہے ۔

طبری نے ان دو بھائیوں کے بارے میں احادیث کے ایک بڑے حصے کو سیف سے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور اس کے بعد والے مورخین جیسے : ابن اثیر ،ابن کثیر ،ابن خلدون ،ابو الفرج نے اغانی میں اور ابن عبدون نے شرح القصیدہ میں ان ہی مطالب کو طبری سے نقل کیاہے ۔اس کے علاوہ '' اسد الغابہ'' ''استیعاب'' ''التجرید '' اور '' الاصابہ'' جیسی کتاب کے مولفین نے بھی ان مطالب کو براہ راست سیف یا طبری سے نقل کرکے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

ابن عساکر ،حموی اور حمیری نے ''الجرح والتعدیل '' میں تمام مطالب بلا واسطہ سیف سے نقل کئے ہیں ۔

مذکورہ اور دسیوں دیگر مصادر نے خاندان تمیم کے ناقابل شکست دو افسانوی سورما قعقاع اور عاصم کے بارے میں ان مطالب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ سیف ابن عمر تمیمی سے لیا ہے ۔

۳۴۱

سیف کی احادیث سے استناد نہ کرنے والے مورخین

مذکورہ مصادر کے مقابلہ میں ایسے مصادر بھی پائے جاتے ہیں ،جنھوں نے فتوحات اور ارتدادکی جنگوں کے بارے میں وضاحت کی ہے یا اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سوانح لکھی ہیں ،لیکن سیف کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا ہے اور سیف کے ان دو جعلی اور افسانوی بھائیوں ،قعقاع اور عاصم کا نام و نشان تک ان کی تحریروں میں نہیں پایا جاتا ۔یہ مصادر حسب ذیل ہیں :

طبقات ابن سعد میں (جس حصہ میں کوفہ جانے والے اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے بعد جو تابعین کوفہ میں ساکن ہوئے ہیں ،کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے )نہ ا ن دو تمیمی بھائیوں کا کہیں نام ملتاہے اور نہ عمرو ابن عاصم کو تابعین میں شمار کیا گیا ہے اور نہ اس کتاب کے دیگر حصوں میں ان کا کوئی ذکر ہے ۔

اس کے علاوہ بلاذری کی کتاب ''فتوح البلدان ''اور شیخ مفید کی کتاب ''جمل ''میں بھی سیف کے جعل کردہ ان دو تمیمی بھائیوں کا کسی صورت میں کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب طبری اور ابن عساکر نے باوجود اس کے کہ ''فتوح ''اور ''ارتداد''کے سلسلہ میں ان دو افسانوی بھائیوں کے بارے میں بہت سارے مطالب سیف بن عمر تمیمی سے نقل کئے ہیں ، لیکن حسب ذیل راویوں :

١۔ابن شہاب زہری وفات ١٢٤ ھ

٢ ۔موسی بن عقبہ وفات ١٤١ ھ

٣۔محمد بن اسحاق وفات ١٥٢ ھ

٤۔ابو مخنف لوط بن یحییٰ وفات ١٥٧ ھ

٥۔محمد بن سائب کلبی وفات ١٤٦ ھ

٦۔ھشام بن محمد بن سائب وفات ٢٠٦ ھ

٧۔محمد بن عمر الواقدی وفات ٢٠٧ ھ

اور

۳۴۲

٨۔زبیر بن بکار وفات ٢٥٧ ھ

نیزان کے علاوہ دسیوں دیگر راویوں سے بھی مطالب نقل کرکے اپنی کتابوں میں ثبت کئے ہیں ۔ ان احادیث میں سے کسی ایک میں بھی ان دوتمیمی افسانوی سور مائو ں ،قعقاع اور عاصم کے نام نہیں پائے جاتے ۔

ابن عساکر نے بھی اپنی تاریخ کے پہلے حصہ میں خالد بن ولید کے یمامہ سے عراق اور عراق سے شام اور فتوح شام کی طرف عزیمت کے بارے میں ساٹھ روایات میں مذکورہ بالا راویوں سے نقل کیا ہے اور انھوں نے بھی ان ہی واقعات کو نقل کیا ہے ،جس کی تشریح سیف نے کی ہے ۔لیکن ان دو افسانوی تمیمی سور مائوں کا کسی ایک حدیث میں ذکر نہیں پایا جاتا اور ان کی شجاعتوں اور حیرت انگیز کارناموں کا کہیں اشارہ تک نہیں ملتا ۔

طبری نے بھی فتوح اور ارتداد کی جنگوں میں ١٣ ھسے ٣٢ ھکے حوادث اور واقعات کے ضمن میں پچاس سے زیادہ روایات مذکورہ طریقہ سے ان ہی راویوں سے بیان کی ہیں جن کے بارے میں اوپر اشارہ ہوا ۔اس کے علاوہ خلافت عثمان کے زمانے کے حوادث و واقعات کو بھی پچاس سے زیادہ روایات اور جنگ جمل کے بارے میں انتالیس روایات مذکورہ راویوں سے نقل کی ہیں اور ان ہی حوادث و واقعات کی تشریح کی ہے جن کی سیف نے وضاحت کرتے ہوئے خاندان تمیم کے دو افسانوی بہادر بھائیوں کا ذکر کیا ہے ،لیکن ان میں سے ایک روایت میں بھی ان دو بھائیوں کا کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ،ان کے حیرت انگیز کارناموں کا تذکرہ تو دور کی بات ہے ۔

اس کے علاوہ کتاب انساب میں بھی ان دو تمیمی بھائیوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا اور اس کتاب میں سیف ابن عمرتمیمی زندیق ،جھوٹے اور افسانہ ساز کی باتوں کو کسی قدر و منزلت کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا گیا ہے ۔

یہ تھے سیف کے خیالی اور جعلی صحابیوں کے دو نمونے جنھیں اس نے اپنی خیالی قدرت سے خلق کرکے اپنے خاندان تمیم کے سور مائوں کے عنوان سے پہچنوایا ہے ۔انشاء اللہ ہم اس کے دیگر جعلی اصحاب کے بارے میں اس کتاب کی اگلی جلدوں میں بحث و تحقیق کریں گے ۔

واللّٰه ولی التوفیق

۳۴۳

فہرستیں :

٭ کتاب کے اسناد

٭ اس کتاب میں مذکور شخصیتوں کے نام

٭ اس کتاب میں مذکور قبیلوں کے نام

٭ اس کتاب میں مذکور مقامات کے نام

٭ اس کتاب میں ذکر شدہ سیف کے افسانوی دنوں کے نام

۳۴۴

کتاب کے اسناد

مباحث کے حوالے :

١۔ ''عبد اللہ بن سبا'' ،''سیف بن عمر'' کے حالات سے مربوط فصل۔

٢۔''تاریخ طبری'' ،طبع یورپ ٢٦٨١١ وطبع مصر ٢٦٣٤

زندیق وزندیقان :

١۔ ''مروج الذہب'' حاشیہ ''ابن اثیر'' میں ٨٤٢و ١١٦ عبارتوں میں تغیر کے ساتھ۔

٢۔ Browne, vo ٭ ,۱,P,۱۶۰

٣۔''دائرة المعارف الاسلامیة'' انگریزی ١ ٤٤٥

٤۔ ''الطبری'' طبع یورپ ٣ ٥٨٨ موسیٰ عباسی کے زمانے کے حوادث میں اور '' ابن اثیر ''میں ۔

٥۔ ''الطبری'' ،طبع یورپ ٣ ٥٤٩۔٥٥١اور طبع مصر ١٤١٠ ١٦٩ھ کے حوادث میں اور ''ابن اثیر'' ٢٩٦۔

٦۔ ''الطبری'' ،طبع یورپ ٤٩٩٣

٧۔ ''الطبری'' طبع یورپ ٣ ٥٢٢

٨۔''مروج الذہب'' ،''ابن اثیر'' کے حاشیہ میں ٧٩۔٩ مأمون کے مختصر حالات کے بیان میں ۔

مانی اور اس کا دین :

٩۔ ''مانی و دین او'' ٥و٦

١٠۔''الفہرست'' ٤٥٨ اور ''مانی ودین او '' ٧و ٢٩۔٣٧۔

۳۴۵

مانی کا دین

١١۔ ''مانی ودین او'' عبد الکریم شہرستانی سے منقول مانیوں کے ایک سردار ابن سعید کے بقول

١٢۔'' الفہرست'' ٤٥٦۔٤٦٤ اور '' مانی ودین او'' ٢٧۔٥٤۔

انبیاء کے بارے میں مانی کانظریہ :

١٣۔ '' الفہرست'' ٤٥٧ اور '' مانی ودین او'' ٥٧و ٥٨

١٤۔'' مانی ودین او'' ٢٢۔

مانی کی شریعت:

١٥۔'' الفہرست'' ٤٦٥ و٤٦٦ اور '' مانی ودین او'' ٤٩۔٥٤

مانی اور اس کے دین کاخاتمہ:

١٦ ۔'' مانی ودین او''١۔١٦و٥٨

١٧۔'' مانی ودین او'' ١٨۔٢٠

١٨۔'' الفہرست'' ٤٧٢،'' الاغانی ''١٣١٦،'' ابن اثیر ''طبع یورپ ٣٢٩٥

١٩۔'' الفہرست''٤٧٢

مانیوں کی سرگرمیاں :

٢٠۔'' الفہرست'' ٤٧١۔٤٧٤اور '' مروج الذہب''زمانہ قاہر عباسی کے حوادث کے بیان میں ۔

۳۴۶

عبد اللہ بن مقفّع:

٢١۔'' ابن خلکان'' ٤١٣١

عبد الکریم ابن ابی العوجائ:

٢٢۔ '' طبری'' اور '' ابن اثیر'' میں ١٥٥ھ کے حوادث کے ضمن میں آیاہے وہ کہ معن بن زائدہ کا ماموں تھا۔صاحب '' لسان المیزان '' نے اس کے حالات کے بارے میں ٥٢٤ اور صالح کی شرح حالات میں ١٧٣٣ میں لکھاہے کہ وہ پہلے بصرہ میں زندگی بسر کرتاتھا۔

٢٣۔ '' بحار الانوار '' ١١٢ '' احتجاج'' سے نقل کرتے ہوئے کہ یہاں پر مختصر بیان ہواہے ۔

٢٤۔ '' بحار الانوار'' ٣ ١٩٩ اور ١٤١٤۔

٢٥۔ '' بحار الانوار'' ١٤٢۔١٥ ایک مفصل روایت نقل کی گئی ہے کہ اس میں '' عالم '' سے مقصود حضرت امام صادق ـ ہیں ۔

٢٦۔'' بحار الانوار ''١٣٧١١

٢٧۔'' بحار الانوار ''١٨٤ توحید کے موضوع پر ایک مفصل حدیث ہے جسے حضرت امام صادق ـ نے تین دن کے اندر مفضل بن عمر کو املاء فرمایاہے۔

٢٨۔'' لسان المیزان''٥٢٤۔

٢٩۔'' طبری ''طبع یورپ ٣٧٦٣،'' ابن اثیر''٣٦،'' ابن کثیر''١١٣١٠، '' میزان الاعتدال''ذہبی طبع دار الکتب العربیہ تحقیق علی محمد البجادی ٦٤٤٢،'' لسان المیزان ''نے اسی کے حالات تفصیل سے ذکر کئے ہیں ۔

۳۴۷

مطیع بن ایاس:

٣٠۔'' اغانی'' ٩٩١٢

٣١۔'' اغانی'' ٨٦١٢

٣٢۔'' اغانی'' ٨١١٢

٣٣۔'' اغانی'' ٨١١٢

٣٤۔'' اغانی'' ٩٩١٢۔١٠١

٣٥۔'' اغانی'' ٩٤١٢

٣٦۔'' اغانی'' ١٠٠١٢

٣٧۔'' اغانی'' ٩٦١٢

٣٨۔'' اغانی'' ٨٦١٢

٣٩۔'' اغانی'' ٨٧١٢ و ''الدیارات''شابشتی ١٦٠۔١٦٢

٤٠۔'' اغانی'' ٨٧١٢

٤١۔'' اغانی'' ١٠٥١٢

٤٢۔'' اغانی'' ٨٥١٢

٤٣۔''تاریخ بغداد'' خطیب ٢٢٥١٣

٤٤۔''اغانی'' ٩٦١٢

٤٥۔''اغانی' ٩٨١٢

٤٦۔''الفہرست'' ٤٦٧و٤٦٨

٤٧۔فصل شریعت مانی۔اسی کتاب میں

٤٨۔''اغانی'' ٨٥١٢

٤٩۔''تہذیب''ابن عساکر ١١٢۔١٢ اور ''الموضوعات'' ابن جوزی ٣٨١

۳۴۸

نزاریوں اور یمانیوں کے درمیان خاندانی تعصبات :

١۔ ''طبری '' ١٥٢٦١،''اغالی'' ١٢٤، از زہری و ۔ل۔م (بیض)

٢۔'' امتاع الاسماع'' مقریزی ٢١٠۔٢١٢ ،اوردیوان حسان

٣۔''طبری ''سقیفہ کی داستان میں ١٨٣٨١و ١٩٤٩

٤۔کتاب '' سقیفہ '' کا قلمی نسخہ از مولف جس میں اس واقعہ کے مفصل اسناد پیش کئے گئے ہیں

٥۔ '' التنبیہ والاشراف '' مسعودی طبع ١٣٥٧ھ،دارالصاوی مصر ٩٤۔٩٥

٦۔ مذکورہ سند ٢٨٠۔٢٨١

٧۔ '' طبری '' ١٧٨١٢قصیدہ کے الفاظ میں تھوڑے فرق کے ساتھ ،مسعوی سے منقول ''ابن اثیر '' ١٠٤٥

٨۔'' مروج الذہب '' ''ابن اثیر'' کے حاشیہ میں ١٨٠٧و١٨١

نزاریوں کی حمایت میں سیف کا تعصب:

٩۔ قعقاع ،ابی بجید و ابی مفز ز،سیف کے افسانوں کے سورمائوں کی روئیداد اسی کتا ب کی اگلی فصلوں میں

١٠۔ '' طبری '' طبع یورپ ٣٢٦٤١۔ ٣٢٦٥ اور طبع مصر ١٤٤٤،داستان جنگ قادسیہ ١٤ھ میں '' ابن کثیر '' ٤٧٧

١١۔'' عبداللہ ابن سبا '' طبع دارالکتب بیروت ٧٧ ( سقیفہ کے بارے میں سیف کی ساتویں حدیث )اور ١٢٤ ( خالد بن سعید اموی کے بارے میں )

١٢۔ابو موسیٰ کی معزولی کے بارے میں سیف کی روایت کا ''طبری '' ٢٨٩٩١ اور اسی کتاب میں دوسروں کی روایت سے ٢٨٢٨١۔٢٨٣١ میں اور '' استیعاب'' میں شبل کے حالات میں موازنہ کیا جا سکتا ہے ۔

۳۴۹

سیف سے روایت نقل کرنے والی کتابیں :

١۔ روئیداد '' عبید بن صخر بن لوذان'' اسی کتاب '' ١٥٠جعلی اصحاب '' کے طبع اول میں

٢۔'' اسد الغابہ '' ۔'' الاصابہ'' اور سیوطی کی ''اللئالی المصنوعہ''کے باب مناقب سائر الصحابہ ٤٢٧۔٤٢٨ ،میں عاصم کے بیٹے قریمہ و عدس کی روئیداد۔

٣۔'' عبیدبن صخر '' کی روئیداد ،اسی کتاب کی پہلی طبع میں اور ''الاصابة '' میں قعقاع کے حالات کی وضاحت ۔

٤۔''اسد الغابہ''اور ''الاصابہ '' میں ''منجاب بن راشد'' اور کبیس بن ہوذہ'' کے حالات

٥۔'' الاصابہ ''میں '' کبیس بن ہوذہ'' کے حالات

٦۔ ''اسد الغابہ'' میں '' کبیس بن ہوذہ ''کے حالات۔

٧۔ ''قعقاع '' کے حالات اسی کتاب '' جعلی اصحاب'' میں ۔

٨۔ اسی کتاب میں '' عبید بن صخر بن لوذان'' کے حالات ۔

٩۔ '' الاصابہ '' اور اسی کتاب میں ''اط''اور ''عبد بن فدکی'' کے حالات زندگی ۔

١٠۔'' اسد الغابہ'' میں ''حارث بن حکیم ضبی'' اور ''عبد اللہ بن حکیم '' کے حالات۔

١١۔'' اسد الغابہ'' اور اسی کتاب میں '' قعقاع '' کے حالات۔

١٢۔''التجرید ''میں ''قعقاع''اور'' عبد اللہ بن عبد اللہ بن عتبان''کے حالات۔

١٣۔اسی کتاب کی (١٥٠ جعلی اصحا۲) تمام داستانیں ۔

١٤۔''اسد الغابہ ''اور ''الاصابہ'' میں ''عبد اللہ بن المعتم ''کی داستان۔

١٥۔''اسد الغابہ ''اور ''الاصابہ'' میں ''عبد اللہ بن عتبان ''کے حالات۔

١٦۔کتاب ''تاریخ جرجان''٤۔٢٧٨ فاتحین شہر گرگان کے باب میں ۔

١٧۔ابو نعیم کی ''تاریخ اصبہان'' اصفہان جانے والے اصحاب کی روئیداد کی فصل میں ۔

١٨۔''تاریخ بغداد''''عتبہ بن غزوان''کے حالات ١٥٥١ اور بشیر بن الخصاصیہ کے حالات ١٩٥١۔

١٩۔'' تاریخ دمشق''کتب خانہ ظاہریہ دمشق میں موجود قلمی نسخہ میں '' قعقاع''کی روئیداد۔

۳۵۰

٢٠۔'' التہذیب''میں '' قعقاع''کے حالات ۔

٢١۔'' الاصابہ''اور اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحا۲) میں '' نافع الاسود''اور '' عبداللہ بن المنذر''کے حالات۔

٢٢۔'' الاصابہ''اور اسی کتاب کا آخری شخص '' عبد اللہ بن صفوان''اور '' اسود بن قطبہ''کی زندگی کے حالات۔

٢٣۔اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحا۲)طبع اول میں '' خزیمہ غیر ذی الشہادتین''کی روئیداد

٢٤۔دارالکتب مصر میں موجود '' الاکمال''کے قلمی نسخہ ج١،ورق ١١١(۲) ٤٠(۲) '' جاریہ ابن عبد اللہ ''اور'' ابی بجید''کے حالات۔

٢٥۔'' الاصابہ ''میں '' حزیمة بن عاصم''کے حالات اور اسی کتاب میں '' عمرو بن الخفاجی '' کی روئیداد۔

٢٦۔'' اسد الغابہ''میں '' عدس بن عاصم ''کے حالات ۔

٢٧۔'' جمہرة انساب العرب''١٩٩ اور اسی کتاب میں '' حارث بن ابی ھالہ ''کی زندگی کے حالات۔

٢٨اور ٣٠۔'' الانساب''میں '' الاقفانی ''کی زندگی کے حالات اور اسی کتاب میں '' حرملہ '' کے حالات۔

٢٩۔ابن قدامہ مقدسی کی '' الاستبصار''٣٣٨۔

٣١۔'' الجرح والتعدیل''طبع حیدر آباد ١٣٧١ھ میں '' قعقاع''اور '' زبیر بن ابی ھالہ''کے حالات ۔

٣٢۔'' میزان الاعتدال''میں '' عمرو بن ریان ''٢٦٠٣ اور '' مبشر بن فضیل ''٤٣٤٣ کے حالات۔

٣٣۔'' لسان المیزان ''میں ١٢٢٣ '' سہل بن یوسف''،'' عمرو بن ریان''٣٤٦٤ اور '' مبشر بن فضیل''١٣٥ کے حالات۔

٣٤۔ابن فقیہ کی کتاب '' مختصر البلدان''١٣٩۔

٣٥۔٣٦۔٣٧۔کتاب '' عبد اللہ بن سبا''فصل '' شہر ہای جعلی سیف''۔

٣٨۔اسی کتاب (١٥٠جعلی اصحا۲)میں '' 'عاصم 'اور'' قعقاع''کے حالات ۔

٣٩و٤١۔اسی کتاب کے مقدماتی بحثوں کی ابتدائی بحث۔

٤٠۔'' نضربن مزاحم ''کی کتاب '' صفین ''٥۔٦۔٩۔١٠۔٥٣٣.

٤٢۔کتاب'' عبد اللہ بن سبا''فصل'' افسانہ سبا کی پیدائش کی بنیاد ''۔

٤٣۔'' ابن خیاط''کی '' تاریخ خلیفہ''طبع اول نجف١٣٨٦ھ ١٠٧۔١٠٨.

۳۵۱

٤٤۔'' فتوح البلدان ''طبع ١٩٥٨ھ دارالنشر للجامعین بیروت ٣٥٤و٤٣١

٤٥۔٤٩۔(اسی فہرست کا) مأخذ نمبر ٤٢۔

٥٠۔سیوطی کی '' تاریخ الخلفائ''٩٧۔

٥١۔٥٢۔٥٤۔٥٦۔٦٠۔٦١۔اسی کتاب (١٥٠ جعلی اصحاب )کی فصل '' لیلة الھریر''میں '' قعقاع ''کی سوانح ۔

٥٣۔٦٣۔اسی کتاب میں '' زبیر بن ابی ہالہ''کی زندگی کے حالات۔

٥٥۔اسی کتاب کی فصل '' یوم الجراثیم ''میں '' عاصم ''کے حالات۔

٥٧۔'' الخاقانی''کی تحقیق '' نہایة الارب''طبع بغداد ١٣٧٨ھ ٤٢٥۔

٥٨۔'' اغانی''٥٥١٥و٥٦۔

٥٩۔ابن بدرون کی '' شرح قصیدہ ''طبع سعادہ ،قاہرہ ١٣٤٠ھ ١٤٢و١٤٤۔

٦٢۔'' ترمذی ''طبع دار الصاوی،مصر ١٣٥٢ھ ٢٤٥١٣ اور '' ذہبی''کی '' میزان الاعتدال '' ٢ ٢٥٦میں '' سیف''کے حالات ۔

٦٤۔ابن'' حجر''کی '' فتح الباری''٥٨٨۔

٦٥۔'' کنزالعمال''٣٢٣١١اور ٦٩١٥و٢٣٣۔

٦٦۔'' عقیلی''میں '' عمروبن ریان''کے حالات۔

٦٧۔ابن '' جوزی''کی '' الموضوعات''۔

٦٨۔'' اللئالی المصنوعہ''باب '' مناقب سائر الصحابة''٤٢٧و ٤٢٨۔

۳۵۲

روایات سیف کی اشاعت کے اسباب:

١۔''عبد اللہ بن سبا''طبع بیروت ١٥٩۔١٦٣

٢۔'' ذہبی''کی '' النبلائ''١٩٢ اور '' طبقات ابن سعد''٣٦٢٤

٣۔'' عبد اللہ ابن سبا''طبع قاہرہ ١٥٢ فصل '' حوادث وواقعات کے سال میں تحریف''

٤۔'' طبری''٢٢٢٢١و٢٩٤٤و٣١٦٣ از عبد الرحمن بن ملجم

٥۔'' طبری''٢٧٠٢١

٦۔'' عبد اللہ ابن سبا''طبع بیروت ،فصل '' سیف کی زندگی کے حالات ''سیف کے بارے میں علماء کے نظریات

قعقاع بن عمرو

١۔ یہاں پرہم نے کتاب ''الاستیعاب'' طبع حیدر آباد ١٣٣٦ھ پر اعتماد کیاہے۔

٢۔'' ظاہریہ ''لائبریری دمشق کاقلمی نسخہ جس کی فوٹو کاپی ہمارے پاس موجود ہے۔

٣۔ استاد ابراہیم واعظ کی '' خریجو مدرسہ محمد''

٤۔مجلہ'' المسلمون ''شمارہ ٤و٥سال ہفتم اور محمود شیت خطاب کی '' قادة الفتوح''

اس کاشجرۂ نسب :

١۔ '' طبری ''طبع یورپ ١٩٢٠١ اس سند کے ساتھ :''عن سیف عن الصعب بن عطیہ بن بلال عن ابیہ''

٢۔'' طبری ''٣١٥٦١و٣١٥٨تا ٣١٦٤ اس سند کے ساتھ '' عن سیف عن محمد وطلحہ باسنادھا''

٣۔'' طبری ''٢٤٣٧١ اس سند کے ساتھ:'' عن سیف عن ابی عمرو دثار عن ابی عثمان النھدی''

٤۔ '' طبری''٢٣٦٣١ اس سند کے ساتھ:'' عن سیف عن محمد والمھلب و الطلحہ قالوا''

۳۵۳

قعقاع رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی:

١۔ '' طبری''٣١٥٦١ اور '' تاریخ ابن عساکر ''سیف سے نقل '' قعقاع''کے حالات میں ۔

٢۔'' الاصابہ''٢٣٠٣ میں '' قعقاع''کے حالات کی تشریح ۔

قعقاع سے منقول ایک حدیث:

١۔ ابن حجر کی '' الاصابہ ''اور الرازی کی '' الجرح والتعدیل''١٣٦٢٣ میں '' قعقاع''کے حالات میں ۔

سند کی تحقیقات:

١۔سیف کی روایتیں '' صعب''سے'' تاریخ طبری''١٩٦٢١ میں ،'' سہم بن منجاب ''اور '' صعب''نیز اس کے باپ سے ١٩٠٨١و١٩٢١و٣١٩٥،اور ٣٢٠٦۔٣٢١٠میں چار روایتیں ہیں ۔اور ''اسد الغابہ ''١٣٨٣و ١٤٥و١٦٧ اور '' الاصابہ ''٣٠٦ میں آئی ہیں اور '' الاستیعاب''میں عبد اللہ بن حارث کے حالات میں اس کی سند بھی روایت ہوئی ہے اور محمد بن عبد اللہ سے سیف کی روایتیں '' طبری''٢٠٢٥١۔٣٢٥٥ میں ١٢ تا ٣٦ ھ کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں ۔اور '' مھلب بن عقبہ ''سے سیف کی روایتیں '' طبری ''٢٠٢٣١۔٢٧١٠ میں ٢ ١ ھ سے ٢٣ھ کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں ۔

ابوبکر کے زمانہ میں :

١۔ اس روایت کو '' طبری''طبع یورپ ١٨٩٩١ نے '' السری ''سے'' سیف ''سے '' سہل ''اور '' عبد اللہ ''سے نقل کیاہے اور ابوالفرج اصفہانی نے '' الاغانی ''٥٥١٥ طبع ساسی میں طبری سے روایت کرکے لکھاہے:روایت کی ہے ہم سے '' محمد بن جریر طبری''نے '' السری''سے اور اس نے '' شعیب ''سے اور اس نے '' سیف بن عمر''سے اور '' ابن حجر''نے اسے '' علقمہ ''کے حالات میں '' الاصابہ'' ٤٩٧٢ نمبر ٥٦٧٧میں بیان کرتے ہوئے لکھاہے: '' سیف نے فتوح میں یوں کہاہے''اور ابن '' اثیر''نے '' الکامل''١٣٣ میں اسے مختصر طور پر ذکر کیاہے۔

٢۔''ابوالفرج اصفہانی'' نے '' الاغانی '' ٥٥١٥میں '' عامر '' کے حالات میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہتا ہے : '' مدائنی '' نے اس طرح نقل کیا ہے ۔

۳۵۴

سند کی پڑتال:

١۔''طبری '' ١٨٤٤١ ۔٣١٢٠میں ''سہل ''سے ''سیف'' کی رواتیں ١١ھ سے ٣٦ھ تک کے حوادث کے ضمن میں نقل ہوئی ہیں اور تاریخ طبری ١٧٥٠١۔٣٠٩٥ میں عبداللہ سے نقل کی گئی سیف کی روایتیں سنہ ١٠،١١،١٣،١٦،١٧،٣٥،اور٣٧ہجری کے حوادث کے ضمن میں پراکندہ صورت میں پائی جاتی ہیں ۔

قعقاععراق کی جنگ میں :

١۔''طبری '' ٢٠١٦١ و ٢٠٢٠تا ٢٠٢٦ ، '' ابن اثیر '' ١٤٨٢۔ ١٤٩، '' ابن خلدون '' ٢٩٥٢ و٢٩٦ ،'' تاریخ الاسلام الکبیر '' ذہبی ٣٧٤١،اور '' ابن کثیر '' ٣٤٢٦

٢۔''طبری '' ٢٣٧٧١۔ ٢٣٨٩

سند کی پڑتال:

١۔ ''طبری '' ٢٠٢٤١و٢٠٧٦و٣١٥١،اور روایت عبدالرحمن ٢٠٢١١۔٢١١٠،اور حنظلہ ٢٠٢٥۔٢٠٢٦ ۔زیاد بن حنظلہ کی روئیداد بعد میں بیان ہوگی۔

قعقاعحیرہ کی جنگوں میں :

١۔''طبری '' ٢٠٢٦١۔ ٢٠٣٦،'' ابن اثیر '' ١٤٨٢۔١٤٩،ابن کثیر ٣٤٤٦۔٣٤٦، اور'' ابن خلدون'' ٢٩٧٢۔٢٩٨

٢۔''طبری '' ٢٠٤٦١۔٢٠٤٧

٣۔ بلاذری '' فتوح البلدان'' ٣٥٣و٤٧٨ میں ۔

٤۔بلاذری '' فتوح البلدان''٣٣٩و٣٤٢۔

٥۔'' ابن درید '' کی '' الاشتقاق'' اور '' ابن حزم '' کی '' الجمہرہ '' ٢٩٥۔

۳۵۵

سند کی جانچ و پڑتال:

١۔ ''طبری '' ٢٠٢٦١و٢٤٩٥میں '' زیاد بن سرجس'' سے ''سیف '' کی روایت ١٢سے١٧ھ تک کے حوادث کے ضمن میں ذکر ہوئی ہیں اور '' ابو عثمان النھدی عبدالرحمن بن مل ،'' طبری ٢٤٨١٣ و ٢٥٤٧ میں اور '' ابو عثمان یزید بن اسید '' سیف کے جعلی صحابی ہیں ۔فہرست طبری ٣٧٨ ۔کہ یہ لوگ ''محمد بن طلحہ '' کے ہمراہ تین افراد ہوتے ہیں ،فہرست طبری ٥١٦ میں ذکر ہوئے ہیں ۔

قعقاعحیرہ کے حوادث کے بعد :

١۔ ''طبری '' ٢٠٤٩١و٢٠٥٥،'' ابن اثیر '' ١٥٠٢،'' ابن کثیر ٣٤٨٦۔ابن خلدون ٢٩٩٢ حیدرآبادی '' مجموعة الوثائق السیاسیہ '' مکتوبات نمبر ٢٩٣و ٣٠١ اور ٣٤٠ میں ۔

٢۔ ''طبری '' ٢٠١٦١و٢٠١٨میں کلبی سے اور '' ابی مخنف '' سے اور '' ابن اسحاق '' سے اور بلاذری نے فتوح البلدان ٣٤٢ اور معجم البلدان میں '' بانقیائ'' کے حالات میں ۔

سند کی پڑتال:

١۔روایت غصن '' طبری''١٩٧٧١۔٢٩٨٠میں سنہ ١١و١٢و١٤و٢٢و٣٠و٣٤ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور ابن مکنف سے ٢٠٥٠١ میں اور بنی کنانہ کے ایک مرد سے ٢٠٣٩١۔٢٨٩٠ میں سنہ ١٢۔٣٢ ہجری کے حوادث کے ضمن میں ۔

حدیث المصینح کی سند:

١۔ '' طبری''٢٠٧٤١ میں '' بنی سعد سے ایک مرد''نقل ہواہے۔

۳۵۶

خالد کی شام کی شام کی جانب روانگی کی داستان:

١۔ '' ابن عساکر''٤٤٧١ اور ٤٤٦ میں مختصر طور سے ذکر ہے۔

٢۔ '' طبری''٢٠٧٠١ اور ٢٠٧٦ اور ٢٠٨٥۔

٣۔ '' ابن عساکر''٤٦٤١۔

٤۔ عراق میں خالد کی فتوحات کے بارے میں جو نقل ہواہے: '' طبری''٢٠٢٠١ ۔٢٠٧٧ '' ابن اثیر''١٤٧٢۔١٥٣، '' ابن کثیر''٦ ٣٤٢۔٣٥٢، '' ابن خلدون''٢٩٥٢۔٣٠٣، '' بلاذری''، '' فتوح البلدان''کے باب '' فتوح السواد میں ''٣٣٧۔٣٥٠ اور دینوری کے'' اخبار الطوال''١١١۔١١٢

٥۔مؤرخین کے روایات میں اختلافات کو '' ابن عساکر''نے ٤٤٧١ ۔٤٧٠،طبری نے ٢١١٠١۔٢١٢٧اور ابن اثیر نے ٣١٢٢۔٤میں ذکر کیاہے۔

سند کی پڑتال:

١۔'' طبری''٢١١٣١۔٢٤٦٠میں '' عبید اللہ بن محفز''سنہ ١٣اور ١٦ہجری کے حوادث کے ضمن میں آیاہے اور '' ابن عساکر ''٤٦٦١میں '' عبد اللہ''اور وہ جس نے اس کے لئے '' بکر بن وائل ''سے روایت نقل کی ہے '' طبری''٢١١٣١اور ابن عساکر ٤٦٦١۔

شام کی جنگوں میں :

١۔ '' طبری ''٢٠٩٣١۔٢٠٩٧،ابن عساکر ٥٤١اور قعقاع کے حالات میں نیز ابن کثیر ٧٧۔١٦ ،داستان یرموک ابن اثیر وابن خلدون اور فتوح البلدان ١٥٧و١٨٤ اور ''عبد اللہ ابن سبا'' کی فصل ''حوادث کے سنوں میں سیف کی تحریف''ملاحظہ فرمائیے۔

سند کی تحقیق:

١۔ روایت '' ابو عثمان یزید'''' طبری ''٢٠٨٤١۔٢٥٨٦ سنہ ١٣ اور ١٨ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور تاریخ ابن عساکر ٤٨٤١۔٥٤٦ میں آئی ہے ۔

۳۵۷

فتح دمشق:

١۔طبری ٢١٥٠١۔٢١٥٦،ابن عساکر ٥١٥١۔٥١٨،اور قعقاع کے حالات میں سیف کے اشعار نقل ہوئے ہیں ،فتوح البلدان ١٦٥،ابن اثیر ،ابن کثیر اور ابن خلدون نے انھیں طبری سے نقل کیاہے۔

سند کی تحقیق:

١۔ '' طبری''٢٠٨٤١۔٢٨٢٢میں سنہ ١٣۔١٨ ہجری کے حوادث کے ضمن میں اور تاریخ ابن عساکر ٤٨٤١۔٥٤٥میں '' خالد''و'' عبادہ''سے سیف کی روایتیں ۔

فحل کی جنگ:

١۔ طبری ٥٩٤۔٦٠،ابن عساکر ٤٨٥١۔٤٨٨و٥٣٥اور '' فتوح البلدان''بلاذری ١٥٨

٢۔طبری ٢١٥٤١ سنہ ١٣ ہجری کے حوادث کے ضمن میں وطبع مصر ١٢٠٤،تاریخ ابن عساکر ٥١٧١،ابن کثیر ٢٥٧اور کتاب عبد اللہ ابن سبا کی فصل '' حوادث کے سالوں میں تحریف''کے ذیل میں ۔

عراق میں دوبارہ جنگیں ۔قادسیہ:

١۔ طبری ٢٣٠٥١۔٣٣٢٧ اور طبع مصر ١٢٠٤ ۔١٢٨ ١٤ھ کے حوادث۔

٢۔'' شرح قصیدہ ابن عبدون ''طبع لیدن ١٤٤۔١٤٦۔

٣۔'' نہایة الارب''تحقیق علی الخاقانی ٤٢٥اور تاج العروس ٦٣٧١۔

٤۔ طبری ٢٣٢٧١۔٢٣٣٣

٥۔ طبری ٢٣٠٥١۔٢٣٣٨ اور طبع مصر ١٢٠٤۔١٣٣، نیز '' ابن عساکر ''قعقاع کے حالات ٥١٧١،شرح قصیدہ ابن عبدون،ابن کلبی کی '' انساب الخلیل'' ،'''قاموس'' فیروزہ آبادی ، ''لسان العرب'' ابن منظور،'' نہایة الارب'' قلقشندی اور ابن کثیر ٤٥٧۔

٦۔ '' ابن اثیر '' ٣٤٥٢۔٣٧٧، ابن کثیر ٣٥٧۔٤٧، ابن خلدون٣٠٨٢و٣١٥اور ''روضة الصفا'' ٦٨٢٢۔٦٨٥

۳۵۸

سند کی تحقیق:

١۔روایت عمرو '' طبری'' ٢٢٩٥١۔٢٤٩٨میں آئی ہے اور اس کے حالات '' میزان الاعتدال'' ٢٦٠٣،اور لسان المیزان ٣٤٦٤میں سنہ ١٤و ١٧ ہجری کے حوادث کے ضمن میں آئے ہیں ۔حمید نے ''طبری '' ٢٣٢٩١میں ،جحذب و عصمة نے طبری ٢٣٢١١میں اور ابن محراق جو قبیلہ طی کے ایک مرد سے نقل کرتا ہے ،نے طبری ٢٣١٢١میں روایت کی ہے ۔

جنگ کے بعد کے حوادث:

١۔طبری ٢٣٥٧١۔٢٣٦٤اور طبع مصر ١٣٦٤۔١٤٣،اور'' قعقاع ''کے حالات ''الاصابہ'' و '' فتح البلدان '' میں اور '' الاخبار الطوال '' فتح قادسیہ۔

فتح مدائن اور جنگی غنائم:

١۔ '' طبری '' ٢٤٣٤١۔٢٤٣٦،اور ٢٤٤٧۔٢٤٤٩و ابن اثیر ٣٩٥٢۔٤٠٤،ابن کثیر ٦١٧۔٦٨،ابن خلدون ٣٢٨٢۔٣٣٠،'' الروض '' ورق ٢٢٨٢سے مدائن کی روئیداد۔

سند کی تحقیق :

١۔ان کی روایت طبری میں اس طرح نقل ہوئی ہے : '' بنی الحارث '' سے ایک مرد اور ''عصمة '' ٢٤٤٨١و مرد گمنام ٢٤٣٥١و الرفیل اور اس کابیٹا ٢٢٤٩١۔٢٤٤٥ سنہ ١٤،١٥ و ١٦ہجری کے واقعات میں اور النضر ٢١٧١١۔٢٤٤٥ ،سنہ ١٣،١٤و١٦ہجری کے واقعات میں ۔

جلولاء میں :

١۔''طبری ''٢٤٥٦١۔٢٤٧٤اور طبع مصر ١٧٩٤ و١٨٦و١٩١ و١٩٤،''اخبار الطوال '' ١٢٧۔ ١٢٩،'' فتوح البلدان'' ٣٦٨۔٤٢٣،'' معجم البلدان'' ،ابن اثیر ٤٠٤٢۔٧٠٠'' ابن کثیر '' ٦٩٧، ''ابن خلدون'' ٣٣١٢۔٣٣٢،اور '' روضة الصفا'' ٦٨٩٢۔

۳۵۹

سند کی تحقیق:

١۔''طبری میں حدیث '' حماد'' ٢٤٦٣١۔٣٢١٤و '' بطان'' ٢٤٥٨١و عبداللہ ٢١١٣١۔ ٢٤٦٠سنہ ١٣۔١٦ہجری کے حوادث اور '' المستنیر'' ١٧٩٥١۔ ٣٠٣٤سنہ ١١۔٣٤ہجری کے حوادث میں ۔

شام کی دوبارہ جنگوں میں :

١۔''طبری '' طبع مصر ١٩٥٤ و١٩٧،قعقاع کے حالات ابن ''عساکر '' اور '' الاصابہ'' میں ، ابن اثیر ٤١٣٢،ابن کثیر ٧٥٧،اور ابن خلدون ٣٣٨٢۔

نہاوند میں :

١۔ ''طبری '' طبع مصر ٢٣١٤۔٢٤٥طبع یورپ ٢٥٩٦١۔٢٦٣٤،الاخبار الطوال ١٣٣۔ ١٣٧، بلاذری ٤٢٤۔٤٣٣، '' الوثائق السیاسیہ'' مکتوب نمبر ٣٣٢، معجم البلدان میں '' ثنیة الرکاب '' ''ماہان''''وایہ خرد''اور نہاوند کی روداد ،'' ابن اثیر ''٤٣،'' ابن کثیر ''١٠٥٧۔١١٠،'' ابن خلدون'' ٣٥٠٢ ''ابن کثیر '' اس باب کی ابتداء میں لکھتا ہے جو کچھ اس نے سیف سے نقل کیا ہے '' طبری '' سے لیا ہے ۔

سند کی تحقیق :

١۔ ان کی روایات '' طبری '' ٢٥٠٥١و٢٦٣١میں ہیں ۔

بحث کا خلاصہ :

١۔'' طبری '' ٢٩٢٨١۔٢٩٣٠و٢٩٣٦و٢٩٥٠،اور طبع مصر ٩٢٥۔٩٣و ٩٦و١٠١۔

۳۶۰