ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 27711
ڈاؤنلوڈ: 843


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27711 / ڈاؤنلوڈ: 843
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

امام صادق ں سے ملاقات کی ۔حضرت نے اس سے پوچھا:''کون سی چیز تمھارے یہاں آنے کاسبب بنی ہے؟''

اس نے جواب میں کہا:''عادت اور ہم وطنوں کی پیروی ،تاکہ لوگوں کی دیوانگی،سر منڈوانے اور پتھر مارنے سے عبرت حاصل کروں ''۔

حضرت نے فرمایا:''کیا ابھی تک گمراہی اور بغاوت پر باقی ہو؟!''

ابن ابی العوجا امام سے کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھا ،حضرت نے اپنی ردا کو اس کے ہاتھ سے کھینچتے ہوئے فرمایا:''لاٰجِدٰالَ فِی الْحَجِّ ''(۱) (حج میں جھگڑا ممنوع ہے)۔

اس کے بعد فرمایا:''اگر وہ بات صحیح ہو جوتم کہتے ہو جب کہ ہرگز ایسا نہیں ہے تو ہم دونوں آخرت میں یکساں ہوں گے ۔لیکن اگر وہ صحیح ہو جو ہم کہتے ہیں جب کہ بیشک یہی صحیح ہے تو ہم آخرت میں کامیاب ہوں گے اور تم ہلاک ونابود ہوگے''۔ ٢٥

ایک اور روایت میں یوں آیا ہے:ایک دفعہ ابن ابی العوجا اور اس کے تین ساتھیوں نے مکہ میں آپس میں ایک منصوبہ بنایا کہ قرآن مجید کی مخالفت کریں ۔ہر ایک نے قرآن مجید کے ایک حصہ کی ذمہ داری لے لی کہ اس کے مثل عبارت بنائیں گے۔

دوسرے سال چاروں آدمی مقام ابراہیم کے پاس جمع ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہاکہ''جب میں قرآن مجید کی اس آیت پر پہنچا ،جہاں کہاگیاہے: ی( ٰا أَرْضُ ابْلِعِی مٰائَکِ وَیٰا سَمٰائُ أَقْلِعِی وَغِیضَ الْمٰائُ وَقَضَی الْاَمْرُ ) (۲) ''اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اور اے آسمان اپنے پانی کو روک لے اور پانی زمین میں

____________________

۱)۔ بقرہ ١٩٧

۲)۔ ہود٤٤

۶۱

جذب ہو گیااور خدا کا حکم انجام پاگیا''تومیں نے دیکھا کہ یہ ایسا کلام نہیں ہے جس سے مقابلہ کیا جاسکے ، لہٰذا میں نے قرآن سے مقابلہ کرنے کاارادہ ترک کردیا''

دوسرے نے کہا:جب میں اس آیت پر پہنچا: ''( فَلَمّٰا اسْتَیْئَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِیّٰاً'' ) (۱) ''پس جب وہ لوگ اس سے مایوس ہوگئے تو اسے چھوڑکر چلے گئے '' تو میں قرآن سے مقابلہ کرنے سے ناامید ہوا۔

وہ یہ باتیں اسرار کے طور پر چپکے چپکے ایک دوسرے سے کررہے تھے کہ اسی اثناء میں حضرت امام صادق ں نے ان کے نزدیک سے گزرتے ہوئے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:

( ''قُلْ لَئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلیٰ أَنْ یَأْتُوا بِمِثْلِ هٰذٰا الْقُرْآنِ لاٰیَأْتُونَ بِمِثْلِهِ ) ''(۲) ''آپ کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہوجائیں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں تو بھی نہیں لاسکتے''

انہوں نے سر اٹھاکے حضرت کو دیکھا اور قرآن مجید کی آیت میں حضرت کی زبانی اپنے اسرار فاش ہوتے دیکھ کر انتہائی تعجب وحیرت میں پڑگئے۔ ٢٦

مفضل بن عمر کہتاہے :''میں نے مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں ایک شخص کو ابن ابی العوجا سے یہ کہتے ہوئے سنا :''عقلمندوں نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے ان کی دعوت قبول کی،اور اذان میں ان کا نام خدا کے نام کے ساتھ قرار پایاہے''۔ابن ابی العوجاء نے جواب میں کہا:''محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں بات کو مختصر کرو،میری عقل ان کے بارے میں پریشان ہے ۔اور ایسی کسی اصل کو بیان کرو جسے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لائے ہوں '' ٢٧

____________________

۱)۔یوسف ٨٠

۲)۔بنی اسرائیل٨٨

۶۲

ابن ابی العوجاء کی گفتگو اور مناظروں کے یہ چند نمونے تھے ۔

اس کی زندگی کے حالات کے بارے میں کتاب ''لسان المیزان''میں آیاہے: ٢٨

''وہ بصرہ کارہنے والاتھا۔دوگانہ پرستی کے عقیدہ سے دوچار ہوا۔بوڑھوں اور جوانوں کو دھوکہ دے کر گمراہ کرتاتھا۔اس لئے عمرو بن عبید نے اسے دھمکایا وہ ان دھمکیوں کی وجہ سے کوفہ کی طرف بھاگ گیا۔کوفہ کے گورنر محمد سلیمان نے اسے پکڑکر قتل کرڈالا اور اس کے جسد کو سولی پر لٹکادیا''۔

اس کی گرفتاری اور قتل کے واقعہ کو طبری نے ١٥٥ہجری کے حوادث کے طور پر یوں بیان کیاہے:

''کوفہ کے گورنر محمد بن سلیمان نے عبد الکریم بن ابی العوجاء کو زندیقی ہونے کے الزام میں گرفتار کرکے زندان میں ڈال دیا ۔بہت سے لوگوں نے منصور کے پاس جا کر اس کی شفاعت کی ،جس نے بھی اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھایا اور بات کی وہ خود زندیقی ہونے کا ملزم ٹھہرا ۔منصور نے مجبور ہوکر کوفہ کے گورنر کو لکھا کہ خلیفہ کا قطعی حکم صادر ہونے تک ابن ابی العوجاء کے ساتھ کچھ نہ کرے اور اس کے معاملہ میں دخل نہ دے ،ایسا لگتا ہے کہ ابن ابی العوجاء اپنے طرفداروں کے اقدامات سے با خبر تھا لہٰذا اس نے خلیفہ کے خط کے پہنچنے سے پہلے گورنر سے تین دن کی مہلت مانگی اور ایک لاکھ دینار بطور رشوت دینے کا وعدہ بھی کیا ۔ جب یہ درخواست اور تجویز گورنر کو ملی تو اس نے خلیفہ کا خط پہچنے سے پہلے ہی اس کے قتل کا حکم دے دیا جب ابن ابی العوجاء کو اپنی موت کے بارے میں یقین ہو گیا تو اس نے کہا : خدا کی قسم تم مجھے قتل کر رہے ہو لیکن جان لو کہ میں نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں اور انھیں تمھارے درمیان منتشر کر دیا ہے اور ان کے ذریعہ حلال کو حرام ،اور حرام کو حلال کر دیا ہے ۔خدا کی قسم میں نے تم لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ جس دن روزہ رکھتے تھے افطار کرو اور جس دن افطار کرتے تھے روزہ رکھو''٢٩

۶۳

کاش !مجھے معلوم ہوتا کہ جن احادیث کو اس زندیق نے جعل کیا ہے ،کون سی احادیث ہیں ، ان کی روئیداد کیا ہے اور وہ کن کتابوں میں درج کی گئی ہیں ۔اگر اس زندیق نے اپنی زندگی سے نا امید ہوتے وقت اعتراف کیا ہے ،کہ اس نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں جن کے ذریعہ اس نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کیا ہے ،تو دیگر غیر معروف زندیقیوں کے ذریعہ جعل اور مکتب خلفاء کی مورد اعتماد کتابوں میں درج ہونے والی احادیث کی تعداد کتنی ہوگی؟

٣۔مطیع ابن ایاس

ابو سلمی مطیع ابن ایاس(۱) اموی اور عباسی دور کے شعراء میں سے تھا ۔وہ کوفہ میں پیدا ہوا تھا اور وہیں پرورش پائی تھی۔مطیع ایک ظریف طبع، بد فطرت اور بے حیا شاعرتھا۔ وہ اپنے اشعار میں اپنے باپ کو بے حیائی کے ساتھ بر ابھلا کہہ کر اس کا مضحکہ اڑاتا تھا ، اس لئے اس کے باپ نے اسے ملعون اور عاق کر دیا تھا۔٣٠

مطیع نے اپنی شہرت کے آغاز میں اموی خلیفہ عمر ابن یزید ابن عبد الملک کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی مدح سرائی کی اور اپنے آپ کو اس کے ہاں معزز بناکر دس ہزار درہم کا انعام حاصل کیا.عمر نے اس کا تعارف اپنے بھائی ولید بن عبد الملک سے کرایا۔مطیع نے ولید کے حضوراس کی مدح میں تین شعر پڑھ کر سنائے اور ولید وجد میں آگیا اور اس کی پاداش میں اس نے مطیع کو ایک ہفتہ تک

____________________

۱)۔اس کا باپ ابو قراعہ ،ایاس بن سلمی کنانی ،فلسطین کا رہنے والاتھا ،عبدالملک ابن مروان نے ابو قراعہ کو چند لوگوں کے ہمراہ حجاج بن یوسف ثقفی کی مدد کے لئے کوفہ بھیجا ۔ابو قراعہ نے کوفہ میں ہی رہائش اختیار کی اور وہاں پر ام مطیع سے شادی کی ( ملاحظہ ہو '' اغانی'' ج١٢ص٨٦ ؛اور تاریخ بغداد تالیف خطیب ج٣ص٢٢٣و٢٢٤)

۶۴

اپنی می نوشی کی محفل میں اپنا ہم نشین بنایا.اس کے بعد اس کے لئے بیت المال سے ایک دائمی وظیفہ مقرر کیا. اس طرح اموی خلافت کے دربار میں مطیع نے راہ پائی اور حکومت کے ارکان اور اہل کاروں کا ہمدم بن گیا۔

مطیع،یحییٰ بن زیاد حارثی،(۱) ابن مقفّع اور والبہ آپس میں جگری دوست تھے اور دوسرے سے جدا نہیں ہوتے تھے حتیٰ وہ ایک دوسرے کی ہر قسم کی خواہش کو پوری کرنے میں کسی قسم کی دریغ نہیں کرتے تھے۔اور ان سب پر مانوی مذہب کے پیرو کار اور زندیقی ہونے کا الزام تھا۔ ٣١

بنی امیہ کے خاتمہ اور عباسی خلافت کے آغاز میں مطیع، عبد اللہ ابن معاویہ(۲) سے جاملا۔ اس وقت عبد اللہ ایران کے مغربی علاقوں کا حاکم تھا، مطیع اس کا ہمدم اور ہم نشین بن گیا۔عبد اللہ اور اس کی پولیس کے افسر جو ایک دہریہ اور منکر خدا تھا کے ساتھ مطیع کی اس ہم نشینی اور دوستی کے بہت سے قصے موجود ہیں ۔

عباسیوں کی حکومت میں مطیع ، پہلے منصور کے بیٹے جعفر کا ہم نشین بنا. چونکہ منصور نے اپنے بھائی مہدی کی جانشینی کے لئے لوگوں سے بیعت لے لی تھے. اس لئے جعفر اپنے باپ سے ناراض تھا. جشن بیعت کے دن بہت سے مقررین اور شعرا نے اپنے بیانات اور اشعار پڑھ کے داد سخن حاصل کی. مطیع بھی اس محفل میں حاضر تھا، اس نے بھی اس مناسبت سے شعر پڑھے، اپنے اشعار کے اختتام پر مطیع نے منصور کی طرف رخ کرکے کہا: اے امیر المومنین ! فلاں نے فلاں سے ....ہمارے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''مہدی موعود، محمد ابن عبد اللہ ہے کہ اس کی والدہ ہم میں نہیں ہے، وہ روی زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری

____________________

۱): کہا جاتا ہے کہ یحییٰ ، عباسیوں کے پہلے خلیفہ ابو العباس سفاح کا ماموں زاد بھائی تھا۔ یحییٰ ایک بد کار اور بیہودہ شاعر تھا۔

۲): عبد اللہ بن معاویہ ، جعفر ابن ابیطالب کا بیٹا تھا جو اصفہان ، قم، نہاوند اور ایران کے دیگر مغربی شہروں کا حاکم تھا۔ وہ اور اس کی پولیس کا افسر ، قیس بن عیلان ،لوگوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے تھے (اغانی،ج١٢،ص٧٥۔٨٥)

۶۵

ہوگی، اور یہ آپ کا بھائی عباس بن محمد بھی اس بات کا گواہ ہے''.(۱) اس کے فورا بعد عباس کی طرف رخ کرکے کہا: ''میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم نے بھی یہ بات نہیں سنی ہے؟'' عباس نے منصور کے ڈر سے ہاں کہہ دی اس تقریر کے بعد منصور نے لوگوں کو حکم دیا کہ مہدی کی بیعت کریں ۔ جب محفل بر خواست ہوئی تو عباس نے کہا: ''دیکھا تم لوگوں نے کہ اس زندیق نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جھوٹ اور تہمت باندھی اور صرف اسی پر اکتفا نہین کی بلکہ مجھے بھی گواہی دینے پر مجبور کیا، میں نے ڈرکے مارے گواہی دیدی اور جانتا ہوں جس کسی نے میری گواہی سنی ہوگی ، وہ مجھے جھوٹا سمجھے گا''۔ جب یہ خبر جعفر کو پہنچی تو وہ آگ بگولا ہوگیا. جعفر ایک بے شرم اور شراب خوار شخص تھا۔ ٣٢

چونکہ مطیع کا زندیقی ہونا زبان زد خاص و عام تھا، اس لئے عباسی خلیفہ منصوریہ پسند نہیں کرتاکہ اس کا بیٹاجعفر ، مطیع کا ہمدم اور ہم نشین بنے.لہٰذا ایک دن منصور نے مطیع کو اپنے پاس بلاکر اس سے کہا : کیا تم اس پر تلے ہو کہ اپنی ہم نشینی سے جعفر کو فاسد اور بد کار بناؤاور اسے اپنے مذہب ، یعنی زندیقیت کی تعلیم دو؟! ''

مطیع نے جواب میں کہا: ''نہیں ، خلیفہ !ایسا نہیں ہے.آپ کا فرزند ، جعفر اپنے زعم میں جنیوں کی بیٹی کا عاشق ہوگیا ہے۔ اس لئے اس سے شادی کرنے کے لئے اصرار کر رہا ہے اور اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے تعویض نویسوں اور رمّالوں کو اپنے گرد جمع کر رکھا ہے اور وہ بھی اس اہم مسئلہ کے لئے سخت کوشش میں ہیں ، اس حساب سے جعفر کے ذہن میں کفر و دین، مذاق و سنجیدگی جیسی چیزوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں رہ گئی ہے کہ میں اسے فاسد بناؤں ''

منصور چند لمحوں کے لئے سوچ میں ڈوب گیا، اس کے بعد بولا:'' اگر یہ بات سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو تو جتنی جلد ہو سکے اس کے پاس واپس جائو اور اپنی ہو شیاری ،نگرانی ،اور ہم نشینی سے جعفر کو

____________________

۲):اس طرح مطیع نے ایک حدیث جعل کی تا کہ ثابت کرے کہ منصور عباسی کا بیٹا محمد ، وہی اسلام کا مہدی موعود ہے.

۶۶

اس سے روکو''٣٣

حماد عجرد اور اس کی معشوقہ نیز یحیٰ بن زیاد اور اس کی معشوقہ کے ساتھ مطیع کی بہت سی داستانیں مشہور ہیں اس کے اکثر اشعار گانے والی عورتوں کے بارے میں ہیں ٣٤ ان میں سے وہ ''جوہر'' نام کی ایک مغنیہ کے بارے میں کہتا ہے:

''نہیں !خدا کی قسم مھدی کو ن ہے وہ تو تیرے ہوتے ہوئے مسند خلافت پر بیٹھے ؟ اگر تو چاہے تو منصور کے بیٹے کو خلافت سے اتار نا تیرے لئے آسان ہے ''

جب مطیع کا یہ شعر خلیفہ عباسی مھدی کو سنایا گیا ،تو اس نے ہنس کر کہا: ''خدا اس پر لعنت کرے ! جتنی جلد ممکن ہو سکے ان دونوں کو آپس میں ملا دو ،اس سے پہلے کہ یہ فاحشہ مجھے تخت خلافت سے اتاردے ''٣٥

کتاب ''اغانی'' کے مؤلف نے مطیع کی بیہودگیوں اور بے حیائیوں کی بہت ساری داستانیں نقل کی ہیں من جملہ یہ کہ :

'' ایک دفعہ یحیٰ،(۱) مطیع اور ان کے دوسرے دوست ایک جگہ جمع ہو کر مسلسل چند روز تک شراب نوشی میں مشغول رہے ۔ایک رات یحیٰ نے اپنے دوستوں سے کہا: افسوس ہو تم پر !ہم نے تین دن سے نماز نہیں پڑھی ہے اٹھو تماز پڑھیں ،مطیع نے محفل میں حاضر مغنیہ سے کہا تو سامنے کھڑی ہو جااور ہماری امامت کر ،یہ عورت صرف ایک نازک باریک اور خوشبو دار اندرونی لباس پہنے ہوئے تھی اور نیچے شلوار بھی نہیں پہنے تھی ان کے سامنے امامت کے لئے کھڑی ہو گئی اور جب وہ سجدے میں گئی ...مطیع نے نماز کو توڑ کر بے حیائی سے بھر پور چند شعر پڑھے ،جن کو سن کر سبوں نے اپنی نماز

____________________

۱)۔یحیٰ بن زیاد حارثی منصور کا ماموں تھا اور بنی الحرث بن کعب میں سے تھا ،اغانی ١٤٥١١۔اور مھدی کی سفارش پر منصور نے اسے اہواز کے علاقوں کا گورنر منصوب کیا تھا۔اغانی ٨٨١٣

۶۷

توڑ دی اور ہنستے ہوئے پھر سے شراب پینے میں مشغول ہو گئے'' ٣٦

مطیع نے ایک تاجر جو کوفہ میں اس کا دوست بن گیا تھا کو فاسد اور گمراہ بنا دیا تھا ۔ ایک دن یہ تاجر مطیع سے ملا اور مطیع نے اس سے کہا : اس کا دستر خوان شراب اور مختلف کھانوں سے پر اور آمادہ ہے اس کے بعد اسے دعوت دی کہ ان کی محفل میں شرکت کرے اس شرط پر کہ خدا کے فرشتوں کو پرا بھلا کہے !چوں کہ اس تاجر کے دل میں تھو.ڑی سی دینداری موجود تھی اس لئے اس نے جواب میں کہا : خدا تم لوگوں کو اس عیش و عشرت سے محروم کرے !تم نے مجھے ذلت و رسوائی میں پھنسا دیا ہے ۔یہ کہہ کر یہ تاجر مطیع سے دور ہو گیا راستے میں حماد سے اس کی ملاقات ہوئی تاجر نے مطیع کی داستان اسے سنادی ۔حماد نے جواب میں کہا: مطیع نے اچھا کام نہیں کیا ہے جس کا مطیع نے تجھ سے وعدہ کیا تھا میں اس سے دوبرابر نعمتوں سے مالا مال دسترخوان سجا کر تجھے دعوت دیتا ہوں لیکن اس شرط

پر کہ خدا کے پیغمبروں کو دشنام دو کیوں کہ فرشتوں کا کوئی قصور نہیں ہے کہ ہم انھیں دشنام دیں بلکہ یہ پیغمبر ہیں جنھوں نے ہمیں مشکل اور سخت کام پر مجبور کیا ہے !تاجر اس پر بھی برہم ہوا اور اس پر نفرین کر

۶۸

کے چلا گیا اور یحیٰ بن زیاد کے پاس پہنچا اس سے بھی وہی کچھ سناجو مطیع اور حماد سے سنا تھا اس لئے تاجر نے اس پر بھی لعنت بھیجی ۔

بالآخر تینوں افراد نے اس تاجر کو کسی قید وشرط کے بغیر اپنی شراب نوشی کی بزم میں کھینچ لیا سب ایک ساتھ بیٹھے ۔شراب پینے میں مشغول ہوئے ۔تاجر نے ظہر وعصر کی نماز پڑھی جب تاجر پر شراب نے پورا اثر کرلیا تو مطیع نے اس سے کہا :فرشتوں کو گالیاں دو ورنہ ہماری بزم سے چلے جاؤ تاجر نے قبول کیا اور فرشتوں کو گالیا دیں ،پھر یحیٰ نے اس سے کہا: پیغمبروں کو گالیاں دو ورنہ یہاں سے چلے جائو اس نے اطاعت کرتے ہوئے پیغمبروں کو بھی گالیاں دیں ۔اس کے بعد اس سے کہا گیا کہ:اب تمھیں نماز بھی چھوڑنا پڑے گی ورنہ یہاں سے چلے جانا پڑے گا ۔تاجر نے جواب میں کہا : اے حرام زادو !اب میں نماز بھی نہیں پڑھوں گا اور یہاں سے بھی نہیں جائوں گا اس کے بعد جو کچھ اس سے کہا گیا اس نے اسے انجام دیا۔٣٧

ایک دن مطیع نے یحیٰ کو خط لکھا اور اسے دعوت دی کہ اس کی بزم شراب نوشی میں شرکت کرے ۔کہتے ہیں کہ اس روز عرفہ تھا وہ لوگ روز عرفہ اور شب عید صبح ہونے تک شراب پینے میں مشغول رہے ،اور عید قربان کے دن مطیع نے حسب ذیل (مضمون )اشعار پڑھے :

۶۹

'' ہم نے عید قربان کی شب مئے نوشی میں گزاری جب کہ ہمارا ساقی یزید تھا ۔ہم نشینوں اور ہم پیالوں نے آپس میں جنسی فعل انجام دیا اور ایک دوسرے پر اکتفا کی اور...وہ ایک دوسرے کے لئے مشک وعود جیسی خوشبو تھے ''(۱)

بے شرمی اور بے حیائی کے یہ اشعار لوگوں میں منتشر ہوئے اور آخر کار سینہ بہ سینہ عباسی خلیفہ مہدی تک پہنچے ،لیکن اس نے کسی قسم کا رد عمل نہیں دکھایا۔

اسی طرح اس نے درج ذیل اشعار (مضمون ) کے ذریعہ عوف بن زیاد کو اپنی مئے گساری کی بزم میں دعوت دی ہے : اگر فساد و بد کاری چاہتے ہو تو ہمای بزم میں موجود ہے ...''٣٨

ایک سال مطیع اور یحیٰ نے حج پر جانے کا ارادہ کیا اور کاروان کے ساتھ نکلے راستہ میں زرارہ کے کلیسا کے پاس پہنچے تو اپنا ساز و سامان کا روان کے ساتھ آگے بھیج دیا اور خود شراب نوشی کے لئے کلیسا میں داخل ہو گئے تاکہ دوسرے دن کاروان اوراپنے سازوسامان سے جا ملیں گے لیکن وہ مئے

نوشی میں اتنے مست ہوئے کہ ہوش آنے پر پتا چلا کہ حجاج مکہ سے واپس آرہے ہیں !اس لئے حاجیوں کی طرح اپنے سرمنڈواکر اونٹوں پر سوار ہو کر کاروان کے ہمراہ اپنے شہر کی طرف لوٹے۔

اس قضیہ سے متعلق مطیع نے یہ اشعار کہے ہیں :

''تم نے نہیں دیکھا : میں اور یحییٰ حج پر گئے ،وہ حج جس کی انجام دہی بہترین تجارت

____________________

۱)۔ہم نے مطیع سے انتہائی نفرت کے باوجود ان مطالب کا اس لئے ذکر کیا ہے کہ ان چیزوں کو واضح کئے بغیر سیف کے ماحول اور اس کی سرگرمیوں کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔

۷۰

ہے ہم خیر و نیکی کے لئے گھر سے نکلے ،راستہ میں زرارہ کے کلیسا کی طرف سے ہمارا گزر ہوا ۔لوگ حج سے مستفید ہوکر لوٹے اور ہم گناہ و زیان سے لدے ہوئے پلٹے''٣٩

اس کے علاوہ کتاب ''دیرہا'' تالیف الشابشتی ،میں مطیع سے مربوط چند اشعار حسب ذیل (مضمون کے) نقل کئے گئے ہیں :

'' ہم اس میخانے میں پادریوں کے ہم نشین اورمئے خواروں کے رقیب تھے اور زُنار میں بندھا ہوا آہو کا بچہ (کسی نوخیز لڑکے یا لڑکی سے متعلق استعارہ ہے ) ....میں نے اس بزم کے کچھ حالات تم سے کھل کر بیان کئے اور کچھ پردے میں بیان کئے!''

کہتے ہیں کہ مطیع قوم لوط کی بیماری میں مبتلا تھا ،ایک دفعہ اس کے چند رشتہ دار اس کے پاس آئے اور اسے اس نا شائشتہ اور غیر انسانی حرکت پر ملامت کرتے ہوئے کہا: حیف ہو تم پر !کہ قبیلہ میں اس قدر مقام و منزلت اور ادبی میدان میں اس قدر کمال کے حامل ہونے کے باوجود خود کو اس شرمناک اور ناپاک کام میں آلودہ کر رکھا ہے؟! اس نے ان کے جواب میں کہا: تم لوگ بھی ایک بار امتحان کرکے دیکھ لو!پھر اگر تمھارا کہنا صحیح ہو تو خود اس کام سے اجتناب کرکے ثابت کرو!! انھوں نے اس سے نفرت کا اظہار کیا اس کے بعد اس سے منہ موڑ تے ہوئے کہا: لعنت ہو تیرے اس کام، عذر و بہانہ اور ناپاک پیش کش پر ۔(۱) ٤٠

مطیع ،بستر مرگ پر

ہادی عباسی کی خلافت کے تیسرے مہینے میں مطیع فوت ہوگیا اس کے معالج نے بستر مرگ

____________________

۱)۔مطیع کی ان بدکاریوں کے بارے میں اگر مزید تفصیلات معلوم کرنا ہو تو کتاب اغانی ٨٥١٢ ملاحظہ فرمائیں ۔اظہار نفرت کے باوجود ہم ان مطالب کا اس لئے ذکر کرتے ہیں کہ اس قسم کی بدکاریوں سے پردہ اٹھائے بغیر سیف کے زمانہ اورحالات کا ادراک کرنا ممکن نہیں ہے ۔

۷۱

پر اس سے سوال کیا کہ تمھیں کس چیز کی آرزو ہے ؟ اس نے جواب میں کہا : چاہتا ہوں کہ نہ مروں ۔٤١

مطیع کے پسماندگان میں ایک بیٹی باقی تھی ۔چند زندیقیوں کے ہمراہ اسے ہارون رشید کے پاس لایا گیا ، اس نے زندیقیوں کی کتاب پڑھ کر اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا : یہی وہ دین ہے جس کی مجھے میرے باپ نے تعلیم دی ہے اور میں نے اس سے منھ موڑ لیا ہے ۔اس کی توبہ قبول کر لی گئی اور اسے گھر بھیج دیا گیا۔٤٢

یہ شاعر اس قدر بے شرمی ،بے حیائی اور بدکاری کے باوجود اموی اورعباسی خلفاء اور ان کے جانشینوں کے مصاحبین اور ہم نشینوں میں شمار ہوتا تھا !خطیب بغدادی اس کی زندگی کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے : مطیع خلیفۂ عباسی منصور اور اس کے بعد مھدی کے مصاحبین میں سے تھا۔٤٣

کتاب اغانی میں درج ہے کہ مھدی ،مطیع سے اس بات پر بہت راضی اور شکر گزار تھا کہ اس زمانے کے تمام خطیبوں اور شعراء میں وہ تنہا شخص تھا جس نے اس کے بھائی منصور کے سامنے ایک جھوٹی اور جعلی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مھدی وہی مھدی موعود ہے ۔

اس کے علاوہ لکھا گیا ہے کہ منصور کی پولیس کے افسر نے اسے رپورٹ دی کہ مطیع پر زندیقی ہونے کا الزام ہے اور خلیفہ کے بیٹے جعفر اور خاندان خلافت کے چند دیگر افراد کے ساتھ اس کی رفت و آمد ہے اور بعید نہیں ہے کہ وہ انھیں گمراہ کر دے ۔منصور کے ولی عہد مھدی نے خلیفہ کے پاس مطیع کی شفاعت کی اور کہا : وہ زندیقی نہیں ہے بلکہ بدکردار ہے ،منصور نے کہا: پس اسے بلا کر حکم دو کہ ان ناشائستہ حرکتوں اور بدکاریوں سے باز آجائے۔

۷۲

جب مطیع مھدی کے پاس حاضر ہوا ،مھدی نے اس سے کہا: اگر میں نہ ہوتا اور تمھارے حق میں گواہی نہ دیتا کہ تم زندیقی نہیں ہو تو تمھاری گردن جلاد کی تلوار کے نیچے ہوتی اس جلسہ کے اختتام پر مھدی کے حکم سے انعام کے طور پر سونے کے دو سو دینار مطیع کو دئے گئے ۔اس کے علاوہ مھدی نے بصرہ کے گورنر کو لکھا کہ مطیع کو کسی عہدہ پر مقرر کرے گورنر نے بصرہ کے زکوٰة کے مسئول کو بر طرف کرکے اس جگہ پر مطیع کو مامور کیا۔٤٤

کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی کام یا کسی چیز کے سلسلے میں مھدی مطیع سے ناراض ہوا اور اس کی سر زنش کی ۔مطیع نے جواب میں کہا : جو کچھ میرے بارے میں تمھیں معلوم ہوا ہے اگر وہ صحیح ہو تو میرا عذر ،میری مدد نہیں کرے گا اور اگر جھوٹ اور حقیقت کے خلاف ہو تو یہ بیہودہ گوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی یہ بات مھدی کے ذوق کو بہت پسند آئی اور اس نے کہا: اس طرز سے بات کرنے پر میں نے تجھے بخش دیا اور تیرے اسرار کو فاش نہیں کروں گا۔٤٥

زندیقیوں کے مطابق ضبط نفس اور ترک دنیا اور مطیع کی بے شرمی اور بے حیائی پر مبنی رفتار و کردار کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے ،بلکہ مطیع کو عصر منصور کے مانویوں کے فرقۂ مقلاصیان سے جاننا مناسب اور بجا ہوگا ،کہ ابن ندیم اس فرقہ کے حالات کے بارے میں لکھتا ہے :وہ اس مذہب کے پیرئوں اور دین مانی کی طرف تازہ مائل ہونے والوں کو اس بات کی اجازت دیتے تھے کہ ہر وہ کام انجام دیں جس کی مذہب ہر گز اجازت نہیں دیتا اور اسی گروہ کے لوگ سرمایہ داروں اور حکام وقت کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے ۔٤٦

شائد مطیع زندیق اور اس جیسے دیگر بے شرم و بے حیا افراد مانی کی مقرر کردہ شریعت کی حد سے تجاوز کر گئے ہوں ،کیوں کہ اس نے معین کیا ہے کہ : جو بھی مانی کے دین میں آنا چاہتا ہو ،اسے شہوت ،گوشت ،شراب اور ازدواج سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو آزمانا چاہئے ...اگر اس دین کو قبول کرنے کے اس امتحان میں پاس ہو سکا تو ٹھیک ،ورنہ اگر صرف مانی کے دین کو پسند کرتا ہو اور تمام مذکورہ چیزوں کو ترک نہ کر سکے ،تو مانی کی مقرر کردہ عبادت کی طرف مائل ہو اور صدیقین سے محبت کرکے مانی کے دین میں داخل ہونے کی آمادگی کا موقع اپنے لئے محفوظ رکھ سکتا ہے ۔٤٧

۷۳

شائد یہ لوگ ،مانی کی طرف سے دی گئی اس دینی اجازت یا چھوٹ کی حد سے گزر کر انسانیت سے گر گئے اور بے شرمی و بے حیائی کے گڑھے میں جا گرے ہیں ۔

مطیع کی زندگی کے حالات پر تحقیق و مطالعہ کے دوران ایک ایسی بات ہمارے سامنے آئی جو اس کے زندیقی ہونے کی سب سے واضح دلیل ہے اور وہ داستان حسب ذیل ہے :

''مطیع کے پسماندگان میں صرف ایک بیٹی بچی تھی ۔ اسے چند زندیقیوں کے ہمراہ ہارون رشید کے پاس لایا گیا ۔مطیع کی بیٹی نے زندیقیوں کی کتاب پڑھ کر اپنے زندیقہ ہونے کا اعتراف کیا اور کہا: یہ وہی دین ہے جس کی مجھے میرے باپ نے تعلیم دی ہے ''

خلاصہ

مذکورہ بالاتین افراد اور ان کی رفتاروکردار ،زندیقیوں اور مانی کے پیرؤں کانمونہ تھا،جو سیف بن عمر کے زمانے میں مانویوں کی سرگرمیوں اور ان کے پھلنے پھولنے کا بہترین نقشہ پیش کرتا ہے ۔

ان میں کا پہلا شخص (عبداللہ بن مقفع )مانو یو ں کی کتابو ں کا ترجمہ کرکے مسلمانوں میں شائع کرتا ہے۔

دوسرا آد می (ابن ابی العوجائ)جو مستعد اور تیز طرار ہے.ہر جگہ حاضر نظر آتا ہے ،کبھی مکہ میں امام جعفر صادق کے ساتھ فلسفہ حج پر مناظرہ کرتا ہوا اور حاجیوں کے عقل وشعورپر مذاق اڑاتا نظر آتاہے اور کبھی مدینہ منورہ میں مسجد النبی میںصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خداکی توہین کرتا ہوا نظر آتا ہے اور کبھی بصرہ میں نوجوانوں کے پیچھے پڑجاتا ہے تاکہ انھیں گمراہ کرے ۔اس طرح وہ ہر جگہ مسلمانوں کے عقائد کو خراب کرنے اور تفرقہ اندازی اور ان کے افکار میں شک وشبہہ پیدا کرنے کی انتھک کوششوں میں مصروف دیکھائی دیتا ہے ۔

۷۴

تیسرا شخص (مطیع بن ایاس ) انتہائی کوشش کرتاہے کہ لاابالی ،بے شرمی وبے حیائی ،فسق و فجور اور بد کاری کواسلامی معاشرہ میں پھیلا کر لوگوں کوتمام اخلاقی وانسانی قوانین پائمال کرنے کی ترغیب دے ۔ان تمام حیوانی صفات کے باوجود عباسی خلیفہ مہدی اس بدکردار کی صرف اس لئے ستائش ،حمایت اور مدد کرتا ہے کہ اس نے اس کی بیعت کے سلسلے میں ایک حدیث جعل کی تھی۔

اس نے اور اس کے دیگر دوساتھیوں نے علم و آگاہی کے ساتھ مسلمانوں کے اجتماعی نظام کی بنیادوں میں جان بوجھ کر دراڑ اور تزلزل پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھانہیں رکھا۔بالآخر وہ بصرہ میں اپنے لئے قافیہ تنگ ہوتے دیکھ کر کوفہ کی طرف بھاگ جاتا ہے اور وہاں پر بھی بد کرداریوں کے وجہ سے گرفتار ہوکر زندان میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے بعد سزائے موت سے دوچار ہوتا ہے ۔

ان حالات میں وہ تمام لوگ جو اس کی شفاعت کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہیں زندیقی عقیدہ رکھنے کے متہم تھے اور انہو ں نے خلیفہ کو مجبور کیا تا کہ وہ کوفہ کے گورنر کے نام اس کو قتل کرنے سے ہاتھ روکنے کا حکم جاری کرے ،اور خلیفہ نے مجبور ہوکر ایسا ہی کیا۔لیکن خلیفہ کے اس حکم کے بصرہ پہنچنے سے پہلے ہی اسے کیفر کردار تک پہنچادیا جاتاہے ۔جب وہ اپنے سر پر موت کی تلوار منڈ لاتے ہوے دیکھتا ہے اور اسے یقین ہو جا تا ہے کہ اب مرنا ہی ہے تو اس وقت اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس نے چار ہزار ایسی احادیث جعل کی ہیں جن کے ذریعہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرکے رکھدیا ہے اور اس طرح لوگوں کو روزہ رکھنے کے دن افطار کرنے اور افطار کرنے کے دن روزہ رکھنے پر مجبور کردیا ہے

۷۵

٤۔سیف بن عمر سب سے خطرناک زندیق

حدیث جعل کرنے والے زندیقیوں کی تعداد صرف اتنی ہی نہیں ہے ، جن کا ہم نے ذکر کیا بلکہ جو زندیقی اس کام میں سرگرم عمل تھے ،وہ ان سے کہیں زیادہ ہیں ۔ابن جوزی اپنی کتاب ''الموضوعا ت ''میں لکھتا ہے :

''زندیقی دین اسلام کو خراب اور مسخ کرنے کے در پے تھے اور کوشش میں تھے کہ خدا کے بندوں کے دلوں مین شک و شبہہ پیدا کریں ۔لہٰذا انہوں نے دین کو اپنے ہاتھوں کا کھلونا بنالیا تھا۔''

اس کے بعد ابن ابی العوجاکی داستان بیان کرتے ہوے آخر میں عباسی خلیفہ مہدی کی زبانی یوں نقل کرتا ہے کہ:

''ایک زندیق نے میرے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں جو لوگوں میں ہاتھوں ہاتھ پھیل گئی ہیں ۔''

ان ہی زندیقیوں میں سے ایک ،شیخ کی کتاب کواٹھا کے چوری چھپے اس میں موجود احادیث میں تصرف کرکے قلمی خیانت کرتا تھا۔شیخ ان تصرف شدہ احادیث کو۔اس خیال سے کہ صحیح اور درست ہیں شاگردوں میں بیان کرتا تھا ۔اس کے علاوہ حماد ابن زید سے بھی روایت ہے کہ : زندیقیوں نے چار ہزار احادیث جعل کی ہیں ۔

یہ قلمی خیانت سرکاری اور دربار خلافت کی مورد اعتبار کتابوں میں انجام پائی ہے ۔ہم آج تک نہیں جانتے کہ یہ احادیث کیا تھیں اور ان کا کیا ہو ا یہ دربار خلافت کی سرکاری کتابوں میں جو قلمی خیانت ہوئی ہے وہ کس قسم کی ہے !!البتہ سیف جس پر زندیق ہونے کا الزام تھا صرف اس کے بارے میں معلوم ہو سکا کہ اس نے بھی ہزاروں احادیث جعل کی ہیں ،ان پر کسی حد تک دست رس ہونے کے باوجود ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی کل تعداد کتنی ہے جب کہ سیکڑوں برس سے یہ احادیث تاریخ اسلام کے مؤثق مصادر و ماخذ کا حصہ شمار ہوتی آئی ہیں ۔

۷۶

سیف نے ان احادیث کو جعل کرکے تاریخ اسلام کو اپنے راستے سے منحرف کرنے اور جھوٹ کو حقیقت کے طور پرپیش کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ۔

اگر ابن ابی العوجاء نے صرف چار ہزار احادیث جعل کرکے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا ہے ،تو سیف بھی اس سلسلے میں اس سے پیچھے نہیں ہے بلکہ اس نے ہزاروں کی تعداد میں احادیث جعل کی ہیں جن میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مومن ترین صحابیوں کو ذلیل ،کمینہ اور بے شرم و بے حیا بنا کر پیش کیا گیا ہے اور اس کے مقابلہ میں ظاہری طور پر اسلام لانے والوں اور بد ترین کذابوں کا تعارف متقی، پرہیز گار اور دیندار کے طورپر کرایا گیا ہے وہ اسلام کی تاریخ میں توہمات سے بھرے افسانے درج کرنے میں کامیاب رہا ہے تاکہ ان کے ذریعہ حقائق کو الٹا پیش کرکے مسلمانوں کے عقائد اور غیر مسلموں کے افکار پر اسلام کے بارے میں منفی اثرات ڈالے ۔

اسلامی عقائد کو مخدوش کرنے کے سلسلے میں سیف اپنے مذکورہ زندیقی دوستوں کے قدم بقدم چلتا نظر آتا ہے جہاں مطیع نے حدیث جعل کرکے عباسی خلیفہ مھدی کی حمایت حاصل کی ،وہاں سیف نے بھی خلفاء اور وقت کے خود سر حکام کی حمایت اور پشت پناہی حاصل کرنے کے لئے ان کی تائید میں اور ان کے مخالفین کو کچلنے کے لئے احادیث جعل کیں ،تاکہ ان کی حمایت و حفا ظت کے تحت اپنی جھوٹی اور جعلی حدیث رائج کرسکے اور ان کے رواج کا سلسلہ آج تک جاری ہے !

سیف کے افکار و کردار پر زندقہ کا خاص اثر ہونے کے علاوہ وہ ہر ممکن طریقہ سے اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلا ہوا تھا ،خاندانی اور قبیلہ ای تعصبات بھی اس کے احادیث جعل کرنے میں مؤثر تھے یہ آئندہ کے صفحات میں معلوم ہوگا کہ وہ کس قدر شدید طور پر ان خاندانی تعصبات اور طرفداریوں کے اثر میں تھا ایک ایسے قبیلہ کا تعصب کہ خلفاء راشدین سے لے کر بنی امیہ اور بنی عباس تک تمام حکام وقت اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور سیف نے اپنی جعل کردہ روایتوں کو رواج دینے کے لئے اسی تعصب کی طاقت سے بھر پور استفادہ کیا ہے ۔

سیف اور اس کے ہمعصر لوگوں پر اس قبیلہ ای تعصب کے اثرات کو بخوبی جاننے کے لئے ہم اگلے صفحات میں اس موضوع پر الگ سے ایک فصل میں قدرے تفصیل سے بحث و تحقیق کرنے پر مجبور ہیں ۔

۷۷

یمانی اور نزاری قبیلوں کے درمیان شدیدخاندانی تعصبات

واهج نزارا ًو افرجلد تها واکشف الستر عن مثالبها

اٹھو!اور نزاریوں کو دشنام دو ان کی چمڑی اتار لو اور ان کے عیب فاش کردو!

(یمانی شاعر)

وهتک الستر عن ذو ی یمن اولا د قحطان غیر ها ئبها

اٹھو !اور یمانیوں کی آبرو لوٹ لو اور قحطان کی اولاد سے ہرگز نہ ڈرو!

(نزاری شاعر)

تعصب کی بنیاد اور اس کی علامتیں

یمنی ،یعنی عربستان کے جنوب میں رہنے والے قبیلے ،قحطان ،وازد اور سبا کے نام سے مشہور تھے اور جزیرہ ٔ نمائے عرب کے شمال میں آباد قبیلے ،مضر ،نزاد ،معد اور قیس(۱) کے نام سے معروف تھے اور قریش ان ہی میں سے ایک قبیلہ تھا۔ آغاز اسلام سے اور خاص کر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت اور یمانی اور نزار ی خاندانوں کے وہاں جمع ہونے کے بعد سے ہی ان کے افراد کے درمیان فخر و بر تری کے تصادم اور ٹکرائو نظر آتے ہیں ۔

اس تاریخ سے پہلے ، مدینہ میں اوس وخزرج نام کے دو قبیلے سکونت کرتے تھے۔یہ دونوں قبیلے ثعلبہ ابن کہلان سبائی یمانی قحطانی کی نسل سے تھے ۔ان دو خاندان کے درمیان سالہا سال جنگ وجدل ،قتل وغارت،خون ریزی اور برادر کشی کاسلسلہ جاری تھا اور وہ ایک لمحہ بھی ایک دوسرے کی دشمنی سے غافل نہیں رہتے تھے ۔پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد ان دونوں قبیلوں کے درمیان صلح وصفائی کرائی اور چونکہ یہ سب لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت اور مدد کرتے تھے،اس لئے انہوں نے انصار کالقب پایا۔

____________________

۱)۔ان قبائل کے شجرۂ نسب کے بارے میں کتاب '' جمھرہ نساب العرب''٣١٠۔٣١١،اورکتاب اللباب سمعانی ملاحظہ فرمائیں

۷۸

شمالی علاقوں کے نزاری قبیلہ سے تعلق رکھنے والے کئی گروہ جو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ مدینہ ہجرت کر کے آئے تھے وہ مہاجر کہلائے ۔اسلام نے مہاجر وانصار کو آپس میں ملایا اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی ان دو قبیلوں کے افراد کے درمیان عقد اخوت اور بھائی چارے کے بندھن باندھے۔

تعصب کی پہلی علامت

دونوں قبیلے ایک مدت تک اطمینان وآرام کے ساتھ ایک دوسرے کااحترام کرتے ہوئے آپس میں زندگی بسر کررہے تھے۔یہاں تک کہ بنی المصطلق کی جنگ پیش آئی اور اس کے ساتھ ہی نزاریوں اور یمانیوں کے درمیان خاندانی تعصبات ،خود پرستی اور خود ستائی کا آغاز ہوا۔

مسئلہ یہ تھا کہ اس جنگ میں جب پانی لانے پر معین افراد ،مریسیع(۱) کے پانی کے منبع پر پہنچے، تو جھجاہ بن مسعور(۲) ،جو عمر کے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے تھا،پانی پر پہنچنے میں سبقت لینے کی غرض سے دھکّم دھکاّ کرتے ہوئے سنان بن وبر جہنی جو قبیلہ خزرج کا طرفدار تھا سے جھگڑپڑے اور نوبت لڑائی تک پہنچ گئی ۔جھجاہ نے چیختے پکارتے بلند آواز میں مہاجرین کے حق میں نعرے لگائے اور ان سے مدد طلب کی ۔سنان نے بھی انصار کے حق میں نعرے بلند کئے اور ان سے امداد کی درخواست کی۔منافقین کا سردار وسرغنہ،عبد اللہ بن ابی سلول خزرجی،یہ ماجرا دیکھ کر مشتعل ہوا موقع کوغنیمت جان کر وہاں پر موجود اپنے قبیلے کے چند افرادکی طرف رخ کرکے کہنے لگا :''آخر کار انہوں نے اپنا کام کرہی دیا وہ ہم پر دھونس بھی جماتے ہوئے ہم پر اپنے ہی وطن میں بالادستی دکھاتے ہیں ۔خدا کی قسم !ان بے سہارا قریش کے ساتھ ہماری داستان آستین کا سانپ پالنے کے مانند ہے خدا کی قسم !اگر ہم مدینہ لوٹے تو شریف وباعزت لوگ کمینوں اور ذلیل افراد کو اپنے شہر سے باہر نکال دیں گے''۔پھر اپنے طرفداروں کی طرف رخ کرکے کہا:''یہ مصیبت تم لوگوں نے خود اپنے اوپر مسلط کی ہے۔اپنے شہر کو ان کے اختیار میں دیدیاہے اور اپنے مال ومنال کو ان کے درمیان برادرانہ طور پر تقسیم کیاہے اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے!خدا کی قسم !اگر تم اپنا مال ومنال انھیں بخشنے سے گریز

____________________

۱)۔مدینہ سے ایک دن کی مسافت پر ایک پانی کا سرچشمہ تھا جس کے گرد قبیلہ خزاعہ کے کچھ لوگ زندگی بسر کرتے تھے وہ بنی مصطلق کے نام سے مشہور تھے۔غزوہ بنی مصطلق سنہ ٥یا ٦ ہجری میں واقع ہواہے ۔کتاب ''امتاع الاسماع''ص١٩٥ ملاحظہ ہو۔

۲)۔جھجاہ قبیلہ غفار سے تھا اور اس دن عمر کے پاس بعنوان مزدور کام کررہاتھا ،اسی لئے اس نے مہاجرین سے مدد طلب کی ہے۔ جھجاہ عثمان کے قتل کے بعد فوت ہواہے ۔کتاب ''اسدالغابہ '' ٣٠٩١ ملاحظہ ہو۔

۷۹

کروگے تو یہ لوگ خود بخود تمھارے وطن سے کہیں اور جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

ان باتوں کے بارے میں پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اطلاع دی گئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اجازت طلب کی گئی تاکہ عبد اللہ کو قتل کرڈالاجائے۔لیکن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے موافقت نہیں کی بلکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نرمی ،مہربانی اوحکمت عملی سے مسئلہ کو بخوبی حل کیا۔تدبیر کے طور پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فوراً لشکر کو کوچ کرنے کاحکم دیا۔اس دن سپاہی دن رات مسلسل ومتواتر چلتے رہے ۔دوسرے دن جب صبح ہوئی اور سورج چڑھا تو گرمی کی شدت بڑھنے لگی اور سپاہیوں کا گرمی سے دم گھٹنے لگا،قریب تھا کہ سب کے سب تلف ہوجائیں ۔اس وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رُکنے اور آرام کرنے کاحکم دیا۔ سپاہی اتنے تھک چکے تھے کہ سواری سے اترتے ہی لیٹے اور بے حال ہو کر سوگئے ،اس طرح کسی میں یہ ہمت ہی باقی نہ رہی تھی کہ غرور وتکبر سے بیہودہ گوئی کرے ،اسی وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سورۂ منافقون نازل ہوا جس کی آٹھویں آیت میں فرماتاہے :

( ''یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَجَعْنَا اِلٰی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِه وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ'' ) (منافقون٨)

''یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم صاحبان عزت ،ان ذلیل افراد کو نکال باہر کریں گے،حالانکہ ساری عزت اللہ ،رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صاحبان ایمان

۸۰