ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۱

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 416

 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 416
مشاہدے: 26702
ڈاؤنلوڈ: 818


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 416 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 26702 / ڈاؤنلوڈ: 818
سائز سائز سائز
 ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 1

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: ایک سو پچاس جعلی اصحاب(پہلی جلد)

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٦ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

ISBN:۹۶۴-۵۲۹-۰۴۸-۱ www.ah ٭ -u ٭ -bayt.org

Info@ah ٭ -u ٭ -bayt.org

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، علامہ سید مرتضیٰ عسکری کی گرانقدر کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب کو مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

پہلا حصہ :

* جیمس رابسن کا مختصر تعارف

* شہرۂ آفاق مستشرق ،ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ

* مقدمۂ مؤلف

۷

جیمس رابسن کا مختصر تعارف:

پیدائش: ١٨٩٠ ء

تعلیمی قابلیت:ادبیات عربی وا لٰہیات میں پی،ایچ ، ڈی گلاسکویونیورسٹی میں عربی زبان کے تحقیقی شعبے کے صدر، گلاسکویونیورسٹی کی انجمن شرق شناسی کے سیکریٹری ، منچسٹریونیورسٹی کے عربی شعبے کے پروفیسر،کیمبرج،ملبورن ، اڈمبورن ، سینٹ انڈرسن اور لندن یونیوسٹیوں کے ڈاکٹریٹ کلاسوں کے ممتحن۔

تألیفات: ''اسلامی تمدن کا دوسرے ادیان سے موازنہ''

''علم حدیث پر مقدمہ'' ،''مشکاة المصابیح'' کا چار جلدوں میں ترجمہ و حاشیہ کے علاوہ آپ بہت سے مقالات اور آثار کے مؤلف ہیں ۔(۱)

____________________

١)۔کتاب '' who is who '' طبع سال ١٩٧٤ئ

۸

کتاب ''عبداللّٰہ ابن سبا '' اور کتاب '' خمسون و مائة صحابی مختلق '' کے بارے میں شہرۂ آفاق مستشرق

ڈاکٹر جیمس رابسن کا نظریہ

مولف کے نام ڈاکٹر جیمس کے خط کا ترجمہ

جناب محترم سید مرتضیٰ عسکری صاحب

گزشتہ اگست کے وسط میں آپ کی تالیف کردہ دو کتابیں '' عبداللہ ابن سبا و اساطیر اخریٰ'' اور '' خمسون و مائة صحابی مختلق''موصول ہوئیں ۔میں نے انہی دنوں آپ کے نام ایک خط میں لکھا ہے کہ میں ایک ضعیف العمر شخص ہوں اور صحت مند بھی نہیں ہوں ۔اس لئے مجھے ان کتابوں کے مطالعہ کے لئے کافی وقت کی ضرورت ہے ۔ان کتابوں کے مطالعہ پر توقع سے زیادہ وقت صرف ہو ا ۔میں نے کتابوں کو انتہائی دلچسپی سے دو بار پڑھ لیا۔ جی تو یہ چاہتا تھا کہ اس سلسلے میں ایک مفصل شرح لکھوں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس وقت اس خط کے ذریعہ ان دو کتابوں کے بارے میں آپ کی تحقیقی روش اور عالمانہ دقت و باریک بینی کی ستائش کروں ۔ اس پیری میں اطمینان کے ساتھ امید نہیں ہے کہ مستقل میں ایک مفصل شرح لکھ سکوں ،کیوں کہ ممکن ہے میرا بڑھاپا اس مختصر خط کے لکھنے میں بھی رکاوٹ کا سبب بنے ۔اس لئے اس خط کے لکھنے میں مزید تأخیر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔

پہلی کتاب میں '' عبداللہ ابن سبا اور سبائیوں کی داستان'' کے بارے میں کی گئی تحقیق اور جزئیات مجھے بہت پسند آئے ،کیوں کہ اس میں مشرق و مغرب کے قدیم و جدید مولفین اور ان کے استناد شدہ مأخذ کے بارے میں قابل قدر بحث کرکے موضوع کی بخوبی تشریح کی گئی ہے ۔ صفحہ ٥٧پر دیا گیا خاکہ انتہائی مفید ہے یہ خاکہ ''سیف '' کی روایات اور احادیث کے اصلی منابع کی بخوبی نشاندہی کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اس کے بعد کے مصنفوں نے کس طرح ان منابع میں سے کسی ایک یاسب پر استناد کیا ہے۔

۹

اس کے بعدبعض ایسے علماء کی فہرست درج کی گئی ہے کہ جنھوں نے ابو دائود وفات ٢٧٥ ھ (کتاب میں غلطی سے ٣١٦ھ لکھا گیا ہے) سے ابن حجر وفات ٨٥٢ھ کے زمانہ تک سیف کی روایتوں کی حیثیت کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا ہے ۔ان سب لوگوں نے سیف کی تنقید کی ہے اور اس کے بارے میں ''ضعیف''، ''اس کی روایتیں متروک ہیں '' ،''ناچیز ''،''جھوٹا ''، ''احتمالاً وہ زندیق ہے '' ،جیسے جملے استعمال کئے ہیں ۔یہ سب علماء سیف کی روایتوں کے ،ناقابل اعتماد، حتیٰ جعلی ہونے پر اتفاق نظر رکھتے ہیں .یہ ایک قوی اور مطمئن کردینے والی بحث ہے حدیث کے راویوں کے بارے میں علماء کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے ، میں اس بات کی طرف متوجہ ہوا ہوں کہ سب کے سب ایک راوی کی تقویت یا تضعیف پر اتفاق نظر نہیں رکھتے.لیکن سیف کے بارے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے۔اور یہ امر انسان کو تعجب اور حیرت میں ڈالتا ہے کہ اس کے باوجود اس طرح بعد والے مؤلفین نے آسانی کے ساتھ اس (سیف) کی روایتوں کو قبول کیا ہے ؟ ! !

میں یہاں پرطبری کے بارے میں کچھ اظہار نظر کرنا چاہتا ہوں ،جس نے سیف کی روایتوں کو نقل کرنے میں کسی قسم کی تردید نہیں کی ہے۔عصر جدید کی تاریخ نویسی کے اسلوب کے مطابق تاریخ طبری ایک تاریخی اثر شمار نہین ہوتا،کیونکہ ، ایسا لگتا ہے کہ اس کا اصل مقصد اس کی دست رس میں آنے والی تمام روایتوں کو تحریر میں لانا تھا،بجائے اس کے کہ ان کی قدر و قیمت اور اعتبار کے بارے میں وہ کسی قسم کا اظہار نظر بھی کرے۔لہٰذا ایک انسان آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس کی بعض روایتیں اس کی اپنی ہی نقل کردہ دوسری روایتوں سے زیادہ ضعیف ہیں .شائد اس کو آج کل کے زمانے میں ناقابل قبول اسلوب کے استعمال کی بناپر معذور قرار دے دیں .کم از کم اس نے دوسروں کو بہت سی معلومات بہم پہنچائی ہیں ۔آپ جیسے باریک بین دانشور اور علماء ،جعلی روایتوں کے درمیان سے صحیح (ومعتبر) روایتوں کی تشخیص دے سکتے ہیں

۱۰

سیف کی ذکر کردہ روایتوں کے بارے میں آپ کی تحقیق (و بحث) کا طرز انتہائی دلچسپ اور مؤثر ہے.آپ نے پہلے سیف کی روایتوں کو بیان کیا ہے اور اس کے بعد ان روایتوں کا ذکر کیا ہے جو دوسروں سے نقل ہوئی ہیں ۔پھر ان دو قسم کی روایتوں کی آپس میں تطبیق اور موازنہ کیا ہے۔ ان روایات اوران کی بیان شدہ اسناد کے بارے میں اس دقیق اور صحیح موازنہ نے واضح کردیا ہے کہ سیف نے زیادہ تر نامعلوم (مجہول الہویہ) راویوں سے روایتیں نقل کی ہیں ۔اس سے خود یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے مؤلفین نے ان راویوں میں سے کسی ایک کا نام کیوں ذکر نہیں کیاہے ؟اور اس طرح انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ سیف نے خود ان راویوں کو جعل کیا ہے ۔(سیف کے بارے میں ) یہ واقعی (قوی) الزام ایک قابل قبول منطقی نتیجہ ہے ، جو سیف (کی روایتوں ) کا دوسروں

(کی روایتوں ) سے موازنہ کرنے پر حاصل ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ بحث و گفتگو کے ضمن میں بیان ہوا ہے کہ سیف نے معجزنما اتفاقات بیان کئے ہیں ، جنھیں قبول نہیں کیا جاسکتا،جیسے : صحراؤں کی ریت کا مسلمانوں کے لئے پانی میں تبدیل ہوجانا یا سمندر کا ریگستانوں میں تبدیل ہوجانا یا گائے کے ریوڑ کا گفتگو کرنا اور مسلمانوں کے لشکر کو اپنی مخفی گاہ کے بارے میں خبر دینا اور اسی طرح کے دوسرے مطالب ۔سیف کے زمانے میں ایسی (جعلی) داستانوں کو تاریخی واقعات کے طور پر دوسروں کے لئے نقل کردینا ممکن تھا،لیکن آج کل تحقیق و تجسس کرنے والے محققین کے لئے ایسی داستانیں ناقابل قبول ہیں ۔بعض اطمینان بخش بحث وگفتگو بھی (اس کتاب میں ) زیر غور قرار پائی ہے جو ''ابن سبأاور سبائیوں ''کے بارہ میں سیف کی روایات کو مکمل طور سے (جعلی اور) غیر قابل اطمینان ثابت کرتی ہے، یقین نہیں آتا۔

۱۱

مؤلف نے اس کتاب میں اشارہ کیا ہے کہ بعض مستشرقین کی اطلاعات سیف کی روایتوں پر مبنی ہیں .مثال کے طور پر مسلمانوں کی ابتدائی جنگوں میں بہت سے لوگوں کے قتل ہونے کی خبر اور یہ اعتقاد کہ ابن سبأ نام کا ایک گمنام یہودی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کے اعتقادات میں نفوذ پیدا کرکے لوگوں کو عثمان کے خلاف شورش پر اکسانے کا اصلی محرّک ہوا اور وہی عثمان کے قتل کاسبب بھی بنا ، (اسی طرح) وہ علی اور طلحہ و زبیر کے درمیان جنگ کے شعلے بڑھکانے میں بھی کامیاب ہوا ۔بعض امور میں ممکن ہے یہ صحیح ہو،لیکن تمام مواقع پر ہرگز یہ حقیقت نہیں ہوسکتی۔یہ (بات) عبد اللہ ابن سبا کے بارے میں دائرة المعارف اسلامی کے طبع اول اور دوم میں شائع ہوئے چند مقالات میں واضح طور پر ذکر ہوئی ہے۔سیف نے قبیلہ تمیم سے سور ماؤں کو جعل کرنے میں کافی وقت صرف کیا ہے ،یہ قبیلہ سیف کا خاندان تھا،لیکن سر و یلیم مویر بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ مرتدوں کی جنگوں کے دوران کس طرح قبیلہ تمیم نے خلیفہ ٔاول کے لشکر کے سامنے ہتھیار ڈالدئے تھے۔یہاں پر سرٹامس آرنالڈ کے بیان کی طرف بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے جو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہین کہ اسلام کے ابتدائی فتوحات زیادہ تر دینی عقائد کے پھلاؤ کے بجائے اسلامی حکومت کو وسعت دینے کے لئے تھے۔

۱۲

دوسری کتاب (خمسون و مائة صحابی مختلق) میں اس نکتہ کی طرف توجہ دی گئی ہے کہ سیف کا وجود دوسری صدی ہجری کی پہلی چوتھائی میں تھا اور وہ قبائل ''مضر'' میں ''تمیم'' نامی ایک قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور کوفہ کا رہنے والاتھا ، یہ مطلب انسان کو سیف کی داستانیں گھڑنے میں اس کے خوہشات اور اسباب وعوامل کا مطالعہ کرنے میں مدد کردیتا ہے.اس کتاب میں ''زنادقہ ''اور ''مانی''کے پیرؤں کے بارے میں بھی بحث ہوئی ہے،چونکہ اُس معاشرے میں خاندانی تعصب کا سلسلہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ سے عباسیوں تک جاری رہاہے اور اس تعصب کی وجہ سے سیف شمالی قبائل کی تعریفیں کرتا ہے اور ان سے بہادر اور شعراء جعل کرتاہے، جنہوں نے اس قبیلہ کے سور ماؤں کے بارے میں شعر کہے ہیں ، اس نے قبیلہ ''تمیم''سے پیغمبر کے کچھ اصحاب جعل کئے ہیں اور غزوات اور جنگوں کی داستانیں گڑھی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اور اپنے جعلی سورماؤں کی بہادری جتلا نے کے لئے لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے اور بہت سے افراد اسیر بنانے کا ذکر کیا ہے ۔ جو اشعار اس نے اپنے سور ماؤں سے منسوب کئے ہیں وہ قبائل ''مضر ''پھر قبیلہ ''تمیم'' اور '' بنی عمرو''کی ستائش و مدح سے مربوط ہیں ،کہ سیف اسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے(۱) ۔سیف نے قبیلہ'' مضر '' کے بعض لوگوں کو ان جنگوں کے اصلی ہیرو کے عنوان سے پیش کیا ہے ،جن کے حقیقی رہبر دوسرے قبیلوں کے بہادر تھے۔ بعض موارد میں (سیف نے ) اس وقت کے معاشرے میں موجود افراد کو بہادروں کے طور پر پیش کیا ہے اور بعض دیگر موارد میں کچھ اور (جعلی) رہبر وں کا نام لیا ہے جو اس کے (اپنے ) تخیل کی ایجاد ہیں ۔ یہ موضوع بھی مورد بحث قرار پایا ہے کہ سیف کی جھوٹی روایات کا( مقصد ) ایک طرف عام لوگوں (مسلمانوں ) کے افکار میں تشویش پیدا کرکے ان کے اعتقادات میں تبدیلیاں لانا تھا اور دوسری طرف (مسلمانوں کے لئے ) غیر مسلمین میں ایک غلط تصور ایجاد کرنا تھا ۔سیف سند جعل کرنے اور جھوٹی خبر یں گڑھنے میں ایسی مہارت رکھتا تھا کہ اس کی جعلی روایتیں (بعض افراد کے نزدیک ) ایک حقیقی تاریخ کے عنوان سے مورد قبول قرار پائی ہیں ۔

یہ سیف کی خطائوں کا یک خلاصہ ہے ،جس کی وجہ سے وہ مجرم قرار پایا ہے ۔''مؤلف'' نے کتاب کے اصلی حصہ میں ٢٣اشخاص (جعلی اصحاب ) کے بارے میں مفصل بحث کی ہے اور سیف کی روایتوں کے چند نمونے پیش کرکے واضح طور پرثابت کیا ہے کہ سیف کی رواتیں کس طرح بنیادی منابع اور موثق اسناد کے ساتھ زبردست تضاد رکھتی ہیں ۔ روایت جعل کرنے میں ہی نہیں بلکہ

____________________

۱ ۔سیف کا نسب قبیلہ تمیم کے ایک خاندان ''بنی عمرو'' تک پہنچتاہے ۔

۱۳

ایسے راویوں کے نام ذکر کرنے میں بھی یہ فرق صاف نظر آتا ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ۔

یہ کتاب انتہائی دقت و مہارت کے ساتھ لکھی گئی ہے اور اس میں سیف (کی روایتوں ) کے قابل اعتماد ہونے کے خلاف انتہائی اطمینان بخش بحث کی گئی ہے۔ جب کہ بعض معروف مولفین نے بھی سیف کی روایتوں کو اپنی تالیفات میں نقل کیا ہے ،اس کے علاوہ سیف کی دو کتابیں (فتوح و جمل) پر بھی بحث کی گئی ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ ان کے مطالب اور اس کے بعد والے مولفین کی تالیفات (جنھوں نے ان مطالب پر تکیہ کیا ہے) بھروسہ کے قابل نہیں ہیں ۔

یہ (کتاب )ایک انتہائی محکم اور فیصلہ کن تحقیق ہے ،جو بڑی دقت ،دور اندیشی ،اور تنقید کی عالی کیفیت پر انجام پائی ہے ۔مجھے اس بات پر انتہائی خوشی ہے کہ ان بحثوں کے مطالعہ کے لئے کافی وقت نکال سکا ۔یہ بحثیں میرے لئے مکمل طور پر قابل قبول اور اطمینان بخش ہیں ،اور مطمئن ہوں کہ جو لوگ ان کتابوں کا کھلے ذہن سے مطالعہ کریں گے وہ ان میں موجودتنقید ی توانائی کی ستائش کریں گے ۔

کتابیں ارسال کرنے پر آپ کا انتہائی شکر گزار ہوں اور معذرت چاہتا ہوں کہ پیری اور دیگر ناتوانیوں کی وجہ سے جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی ۔

آپ کا عقیدت مند

جیمس رابسن

پتہ : جیمس رابسن ۔ ۱۷ووڈ لینڈزڈرایو ۔گلاسکو ، Q.E۹,۴G انگلستا ن

۱۴

مقدمہ مؤلف

بسم اللّٰه الرَّحمٰن الرَّحیم

اسلام کی چودھویں صدی اختتام کو پہنچنے والی ہے ،زمانے کے اس قدر طولانی فاصلہ نے اسلام کی صحیح شکل پہچاننے کے کام کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے ۔حقیر نے گزشتہ چالیس برسوں سے زیادہ عرصہ کے دوران معرفت کی اس راہ میں حتی المقدور تلاش و کوشش کی ہے تاکہ شائد اسلام کو اس کی اصلی صورت میں پایا جائے جس صورت میں وہ چودہ سو سال پہلے تھا چوں کہ اسلام کو پہچاننے کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا اور نہ ہے کہ اس سلسلے میں قرآن مجید ،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث کی طرف رجوع کیا جائے ۔لہٰذا ہم ابتدا میں قرآن کی درج ذیل آیۂ شریفہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ہیں :

( هُوَ الَّذِی أَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰابَ مِنْهُ آیٰت مُحْکَمٰت هُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَ أُخَرُ مُتَشٰبِهٰت فَأَمّا الَّذینَ فِی قُلُوبِهِمْ زَیْغ فَیَتَّبِعُونَ مٰا تَشٰبَهَ مِنْهُ ابْتِغٰائَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغٰائَ تَأویلِه وَمٰا یَعْلَمُ تَأوِیلَهُ اِلَّا اللَّهُ وَ الرّٰاسِخُونَ فِی العِلْمِ ) (۱)

____________________

۱)۔ آل عمران ٧

۱۵

''وہ جس نے آپ پر وہ کتاب نازل کی ہے جس میں کچھ آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں (وہ حصہ جو واضح وروشن نہیں ہے )۔اب جن کے دلوں میں کجی ہے وہ ان ہی متشابہات کے پیچھے لگ جاتے ہیں تا کہ فتنہ بر پاکریں اور من مانی تاویلیں کریں حالانکہ اس کی تاویل کا علم خدا کواور انھیں ہے جو علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں ''۔

قرآن کریم کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتاہے،قرآن مجید میں بعض آیات متشابہ ہیں جو فتنہ انگیزوں کے لئے بہانہ ہیں اور ان کی تاویل خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔دوسری طرف خدائے تعالیٰ قرآن مجید کی تاویل کے طریقہ کو درج ذیل آیت میں معین فرماتاہے :

( ''وَأَنْزَلْنٰا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مٰانُزِّلَ اِلَیْهِمْ '' ) (۱)

''اور ہم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف بھی ذکر(قرآن)کونازل کیاہے تاکہ جو کچھ لوگوں کے لئے نازل کیاگیاہے اسے ان سے بیان اور ان پر واضح کردیں ''

خدائے تعالیٰ اس آیہ شریفہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے فرماتاہے :ہم نے ذکر قرآن مجید کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل کیاتاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وہ سب کچھ لوگوں سے بیان کردیں جو قرآن مجید میں ان کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔لہٰذا قرآن مجید کی تفسیر جس کی بعض آیات متشابہ ہیں فقط پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ ہونی چاہئے اور قرآن مجید کی تفسیر کو سیکھنے کا طریقہ ہمیشہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث اور بعض اوقات آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سیرت ہے ،کیونکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی کبھی اپنے عمل وکردار سے قرآن مجید کی تفسیر فرماتے تھے ،جیسے :یومیہ نماز کے بارے میں قرآن مجید نے حکم فرمایاہے اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے اپنے عمل کے ذریعہ لوگوں کو سکھایا ،پس آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یومیہ نماز اُن آیات کی تفسیر ہے جو قرآن مجید

____________________

۱)۔نحل٤٤

۱۶

میں نماز کے بارے میں بیان ہوئی ہیں ۔(۱) اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی معرفت حاصل کرنے کے لئے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حدیث اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی صحیح سیرت جس کا مجموعہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنت ہے کی طرف رجوع کرنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ہے اور رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی سنّت تک دست رسی کا راستہ بھی اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب پر منحصر ہے.ان دوراستوں کے علاوہ سنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تک پہنچنا محال ہے.ان دو اسناد کے بارے میں بھی قرآن مجید فرماتاہے:

( وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنٰفِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِینَةِ مَرَدُوا عَلَی النِّفٰاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ) (۲)

''اور تمہارے اطراف کے علاقہ کے لوگوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں .تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں ۔''

ان منافقین کو جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں مدینہ میں تھے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ سب پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں(۳) میں سے تھے ۔حقیر نے ان صحابیوں میں سے مؤمن و منافق کی پہچان کرنے کی غرض سے ان کی زندگی کے سلسلے میں تحقیق شروع کی ہے ، خواہ وہ

____________________

۱)۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مشہور و معروف حدیث جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:صَلُّوا کَمٰا رَئَیتُمُونی أُصَلِّی (جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو ، اس طرح نماز پڑھو۔

۲)۔توبہ ١٠١

۳)۔ صحابی کے بارے میں جمہور کی تعریف ملاحظہ ہو:الصّحابی من لقٰی النّبی مومناً به و مات علی الاسلام، فیدخل فی من لقیه من طالت مجالسته له او قصرت، و من روی عنه اولم یرو، و من غزامعه اولم یغز، ومن رء اه رویة ولو لم یره لعارض کالعمی (و انه لم یبق بمکة ولا الطائف احد فی سنه عشر الا اسلم و شهد مع النبی حجة الوداع، و انه لم یبق فی الاوس والخزرج احد فی آخر عهد النبی الادخل فی الاسلام و ما مات النبی و واحد منهم یظهر الکفر) ملاحظہ ہو ابن حجر کی کتاب ''الاصابہ فی معرفة الصحابہ'' جلد اول کا مقدمہ ص١٣ اور ١٦۔

۱۷

تفسیر قرآن ، اسلامی احکام اور دیگر علوم اور معارف اسلامی کے سلسلے میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث ، فرمائشات اور سیرت بیان کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں !

چونکہ اہل بیت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی زندگی کے بارے میں معرفت حاصل کرنا حقیقت میں اسلام کی معرفت ہے،اس لئے ہم نے ان دونوں کی زندگی پر تحقیقات شروع کی۔ ان کی نجی زندگی ، باہمی میل ملاپ، تازہ مسلمانوں سے سلوک ، غیر مسلم اقوام سے تعلقات ، فتوحات اور ان کے ذریعہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے روایتیں نقل کرنے کے موضوعات کو مورد بحث و تحقیقات قرار دیا اور دسیوں سال کے مطالعہ اور تحقیق کے نتیجہ میں میرے سامنے حیرت انگیز مطالب واضح ہوئے ۔معلوم ہواکہ سیرت ،تاریخ اور حدیث کی روایتوں میں اس قدر غلط بیانی اور خلط ملط کی گئی ہے جس کی کوئی حد نہیں ۔ قاتل کو مقتول، ظالم کو مظلوم، رات کو دن اور دن کو رات دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ہے ۔ مقدس اور پارسا ترین صحابی ، جیسے ،ابوذر،عمار ،حجر ابن عدی کا بدکار ،احمق ، ساز شی اور تخریب کار کے طور پر تعارف کرایا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں معاویہ ، مروان بن حکم ،ابوسفیان اور زیاد جیسے افراد کو پاک دامن، بے گناہ اور خدا پرست کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث و سیرت کے بارے میں اس قدر جھوٹی اور بیہودہ حدیثیں اور افسانے گھڑے گئے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے صحیح اسلام کا اندازہ لگانا ناممکن بن گیا ہے۔یہی جعلی اور جھوٹی احادیث ، اسلام کے چہرے پر بدنما داغ بن گئی ہیں ۔ملاحظہ ہو ایک مثال:

۱۸

حضرت عائشہ سے ایک روایت:

تیمم سے مربوط آیت کی شان نزول کے بارے میں صحیح بخاری ، صحیح مسلم، سنن نسائی ، موطاء مالک ، مسند احمد، ابوعوانہ ، تفسیر طبری اور دیگر موثق و معتبر کتابوں میں ام المؤمنین عائشہ سے اس طرح روایت ہوئی ہے:

عائشہ نے کہا:پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مسافرتوں میں سے ایک سفر میں ہم مدینہ سے باہر آئے اور مقام ''بیدائ'' یا ''ذات الجیش''پہنچے۔(حموی نے دونوں مقام کی تشریح میں کہا ہے کہ یہ مدینہ کے نزدیک ایک جگہ ہے ، جہاں پر پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غزوۂ بنی المصطلق سے واپسی پر عائشہ کے گلے کے ہار کو ڈھونڈنے کے لئے اپنے لشکر کے ساتھ پڑاؤڈالا تھا)عائشہ نے کہا:

وہاں پر میرے گلے کا ہار گرکر گم ہوگیا تھا۔ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی تلاش کے لئے وہاں رُکے اور لشکر نے بھی پڑاؤڈالا۔ اس سر زمین پر پانی نہ تھا اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں تھا ۔ صبح ہوئی ، پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میری آغوش میں سر رکھے سوئے ہوئے تھے !!ابوبکر آئے اور مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور تمام لشکر کو تم نے یہاں پر اسیر کر رکھا ہے، نہ لوگوں کے پاس پانی ہے اور نہ یہاں پر پانی ملنے کا امکان ہے...ابوبکر نے جی بھر کے مجھ سے تلخ کلامی کی، اور جو منہ میں آیا مجھے کہا اور اپنے ہاتھ اور انگلیوں سے میرے پہلو میں چٹکی لیتے تھے،میری آغوش میں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سرتھا، اس لئے میں ہل نہیں سکتی تھی۔!!

اس وقت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نیند سے بیدار ہوئے،پانی موجود نہیں تھا.خدائے تعالیٰ نے آیۂ تیمم نازل فرمایا۔اسید بن حضیر انصاری نے کہا: یہ آپ خاندان ابوبکر کی پہلی خیر و برکت نہیں ہے جو ہمیں نصیب ہورہی ہے.یعنی اس سے پہلے بھی ، خاندان ابوبکر ، کی خیر و برکت ہمیں نصیب ہوتی رہی ہے.میرے والد ، ابوبکر نے کہا: خدا کی قسم ! مجھے معلوم نہیں تھا میری بیٹی ! کہ تم کس قدر خیر و برکت سے مالامال ہو! اس وقت جو تم یہاں پر مسلمانون کے رُکنے کا سبب بنی تو خدائے تعالیٰ نے تیری وجہ سے ان پر کس قدر برکت نازل کی اور ان کے کام میں آسانی عنایت فرمائی !

صحیح بخاری کی روایت اور دوسروں کی روایتوں کے مطابق، عائشہ نے کہا: آخر کار جب میرے اونٹ کو اپنی جگہ سے اٹھایا گیا ، تومیرے گلے کا ہار اس کے نیچے مل گیا۔

ہم نے اس حدیث پر کتاب ''احادیث عائشہ'' میں تفصیل سے بحث و تحقیق کی ہے، اس لئے یہاں پر اس کے صرف ایک حصہ پر بحث کرتے ہیں ۔(۱)

____________________

۱)۔ملاحظہ ہو مؤلف کی کتاب ''احادیث شیعہ ''حصہ دوم فصل ''المسابقة والتیمم والافک''۔

۱۹

عائشہ کی روایت پر تحقیق:

اولاً ، کہاگیا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غزوہ ٔبنی مصطلق سے واپسی پر رونما ہوا ہے،

یعنی جنگ ِاحزاب جوجنگ خندق کے نام سے مشہور ہے کے بعد یہ جنگ (غزوہ بنی المصطلق )

٦ ھ میں واقع ہوئی ہے ۔اس غزوہ میں مہاجر وانصار کے درمیان کنویں سے پانی کھینچنے کے مسئلہ پر اختلاف رونما ہوا اور نزدیک تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں ،اس لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لشکر کوبے موقع کوچ کرنے کاحکم دیا تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اصحاب کے درمیان اس احتمالی ٹکراؤ کو روک سکیں ۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس سفر میں کسی جگہ پڑاؤ نہیں ڈالتے تھے ،مگر یہ کہ نماز کے وقت،اور نمازادا کرنے کے وقت سے زیادہ نہیں رکتے تھے اس طرح رات گئے تک سفر کرتے تھے اور جب رات کے آخری حصہ میں کہیں رکتے تھے تو اصحاب تھکاوٹ سے نڈھال ہوکر سوجاتے تھے ۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لشکر کی اس غزوہ سے واپسی کے دوران ایسی حالت تھی کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے ممکن نہیں تھا کہ بلا سوچے سمجھے صرف عائشہ کے گلے کے ہار کے لئے ،کہیں رات بھر کے لئے عائشہ کی روایت میں بیان شدہ صورت میں پڑاؤ ڈالتے ۔

اس کے علاوہ دوسری ایسی روایتیں بھی موجود ہیں جن میں اس آیت کی شان نزول ،ام المؤمنین کی بیان کردہ شأن نزول کے برخلاف ہے ۔ہم یہاں پر ان روایتوں کے بیان سے صرف نظر کرتے ہوئے اس سلسلے میں صرف قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں :

۲۰