ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۲

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 371

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 371
مشاہدے: 18476
ڈاؤنلوڈ: 701


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18476 / ڈاؤنلوڈ: 701
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 2

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب : ایک سو پچاس جعلی اصحاب(دوسری جلد)

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، علامہ سید مرتضیٰ عسکری کی گرانقدر کتاب ایک سو پچاس جعلی اصحاب کو مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

تمہید :

* ایک ذمہ دار دانشور کے خطوط

* ایک جامع خلاصہ

* مقدمۂ مولف

۷

ایک ذمہ دار دانشورکے خطوط:

عام اسلام کے خیر خواہ علماء اور دانشوروں نے ہماری تالیفات کے سلسلہ میں کئی شفقت بھرے خطوط لکھے ہیں ان میں سے ایک حلب (شام) کے دنیائے علم و دانش کے شہرت یافتہ عالم ، مرحوم شیخ محمدسعید دحدوح ہیں ۔یہاں پر ہم یاد گار کے طور پر مرحوم کے دو خطوط کا ترجمہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم نے اپنا دوسرا خط ہماری کتاب ''١٥٠جعلی اصحاب '' کی پہلی جلد حاصل کرنے کے بعد ہمیں ارسال کیا تھا۔

(مؤلف)

۸

پہلا خط:

بسمه تعالٰی و له الحمد ،وصلاته و سلامه علی سید نا محمد وعلی آله

میرے دینی بھائی اور ایمانی دوست حجة الاسلام جناب مرتضیٰ عسکری صاحب :

سلام علیکم و رحمة الله و برکاته

آپ کی اتنی محبت و مہربانیاں ،تحقیق و نیک کاموں میں انتھک کوششیں اور سچ اور جھوٹ کو جدا کرکے حقائق کو واضح کرنے کی آپ کی یہ ہمت و ثابت قدمی قابل ستائش ہے ۔

جو امر مجھے آپ سے آپ کی کتابیں اور تالیفات کی درخواست کرنے کا سبب بنا ،وہ حقائق کو پانے کی میری شدید طلب ،صحیح مطالب کی تلاش و جستجو کی نہ بجھنے والی پیاس ، آزاد فکر و اندیشہ کے نتائج کو جاننے کی بے انتہا چاہت اور محققین کے نظریات کو جاننے کی میری انتہائی دلچسپی ہے ،تاکہ اختلافی مسائل کے سلسلے میں ایسے محکم و قوی دلائل و برہان کو پا سکوں جن میں کسی قسم کی چوں و چرا کی گنجائش نہ ہو۔

خدا ئے تعالیٰ آپ کو اجر و ثواب عنایت فرمائے،گزشتہ کئی مہینوں سے میرے ساتھ روا رکھے لطف و محبت کے سلوک کے ضمن میں آپ نے اظہار فرمایا ہے کہ میری مطلوبہ کتاب کے علاوہ تازہ تالیف کی گئی کتاب بھی پوسٹ کرنے کے لئے میں اپنا پتا بھیج دوں (تاکہ اس کے پہنچنے کا اطمینان حاصل ہو سکے ) مہر بانی کرکے اسے میرے درج ذیل پتہ پر ارسال فرمائیں ۔

...میں آپ کی ان محنتوں اور زحمتوں کے لئے پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں اور رحمتوں سے مالا مال دن اور راتوں والے مبارک رمضان کی آمد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں

اپنے چاہنے والے اور بھائی کا سلام و درود قبول فرمایئے۔

محمد سعید دحدوح

سوریہ ۔حلب النوحیہ ،الزقاق المصبنہ

٢٠ شعبان ١٣٩٤ھ مطابق ١٨ستمبر ١٩٧٤ ع

۹

دوسرا خط :

بسم اللّٰه الرّحمٰن الرّحیم

بسمه تعالی و له الحمد ،وصلاته و سلامه علی سید نا محمد وعلی آله و من اتبع هداه

میرے دینی بھائی اور ایمانی دوست جناب سید مرتضیٰ عسکری صاحب :

سلام علیکم و رحمة الله و برکاته

کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی تعریف ،تجلیل اور شکر گزاری میں کن الفاظ اور جملات کا سہارا لوں تاکہ جہل و نادانی کی تاریکی سے حقائق کو نکال کر حق و حقیقت کے متلاشیوں کے حوالے کرنے میں آپ کی انتھک کوششوں کے حق کی ادائی ہو سکے ،اور عصر حاضر و مستقبل کی نسلوں کے لئے صدیوں تک مسلم اور ناقابل انکار حقائق کے طور پر قبول کئے گئے مطالب سے پردہ اٹھا کر حقائق کا انکشاف کرنے کی آپ کی قابل تحسین مجاہد توں اور کوششوں کی قدر دانی ہوسکے۔

ہمارے متقدمین علماء نے سیف کی یوں تعریف کی ہے:

''سیف سبوں کے نزدیک ناقابل اعتبار ہے اور اس کی باتیں بے بھروسہ ہیں ۔''

اور ابن حبان کہتا ہے: سیف پر زندیقیت کا الزام ہے ۔

وہ مزید کہتا ہے :

''اس کی باتیں جھوٹی ہیں ۔''

اس کے باوجود ان میں سے کسی نے یہ جرأت نہیں کی ہے کہ اس کے جھوٹے چہرے سے پردہ چاک کرکے لوگوں میں یہ اعلان کرے کہ اس کی داستانیں افسانوی ہیں اور اس طرح اس کی تخیلاتی مخلوق کی نشاندھی کرے۔ آخر کار آپ جیسے محقق اور ماہر شخص نے آکر عصر حاضر اور آئندہ نسلوں کے لئے اس معنی خیز ضرب المثل کو ثابت کرکے دکھا دیا کہ:''کم ترک الاول للآخر'' ''اسلاف نے آنے والی نسلوں کے لئے کتنے اہم کام چھوڑ رکھے اور ابو العلاء معری کی یہ بات آپ کے حق میں صادق آتی ہے:وانیّ ''لآت بما لم تستطعہ الاوائل'' میں ایک ایسا کام انجام دونگا جسے اسلاف انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے تھے!''

بے شک ، آپ نے اس ناہموار راہ کو ہموار بنادیا ہے اور اپنے ہاتھوں سے جلائے ہوئے چراغ سے اس راہ کو روشن و منور کردیا ہے اور ایسے متعدد دلائل اور راہنمائیاں فراہم کی ہیں جن سے حق و حقیقت کے متلاشیوں کے لئے اس جھوٹ کو پہچاننے میں مدد ملے گی، جسے لوگ صدیوں سے حقیقت

۱۰

سمجھ بیٹھے تھے اور اس کے عادی ہو چکے تھے، اب آئندہ نسلیں اس بارے میں وسیع النظری ، کے ساتھ حقائق سے آشنا ہوکر بحث و مباحثہ کریں گی۔

یہاں پر میرا یہ کہنا مناسب ہوگا کہ:

''اسلاف کی بزرگی و احترام اپنی جگہ محفوظ و مسلم ہے۔''

ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ ایک پڑھا لکھا اور محقق شخص ، جس نے قاہرہ کی الازہر یونیورسٹی سے علم حدیث میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے، نے محمد بن عثمان ذہبی کی کتاب ''المغنی فی الضعفاء '' جس میں سیف کو زندیق کہا گیا ہے پر ایک مقدمہ کے ضمن میں لکھا ہے :

''سیف کے زندیقی ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے، بلکہ دستیاب اخبار و روایات اس کے برعکس مطالب کو ثابت کرتے ہیں ۔''

گویا ڈاکٹر صاحب کی نظر میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور صدر اسلام کی فتوحات کے مجاہدین پر چھوٹے الزامات لگانا اور ان پر ظلم و دہشتگردی کی تہمتیں لگانا کوئی ناروا کام نہیں ہے!!

خدا کے حضور آپ کا یہ کام محترم و معزز قرار پائے! اور پروردگار آپ کے اس اہم کام اور آپ کے نتیجہ خیز افکار و نظریات پر مبنی دیگر تحقیقاتی کاموں کو سہل و آسان فرمائے اور ہم عنقریب دیکھیں کہ علم و دانش کی موجودہ دنیا کا ہر محقق آپ کی گراں قدر اور قابل تحسین زحمتوں کے سامنے سر تسلیم خم کر کے آپ کی شب و روز کی انتہک جدو جہد کی قدر کرے گا۔

درود و سلام ہو ان بلند ہمت افراد پر جنہوں نے آپ کی اس گراں قدر تالیف کی اشاعت میں آپ کا تعاون کرکے ہمیں اس قیمتی تحفے سے نوازا ہے ۔

اُمید ہے اپنی اس تالیف کی باقی جلدیں بھی چھپتے ہی مجھے ارسال کرکے مشکور فرمائیں گے...

اپنے اس عزیز بھائی کا سلام قبول فرمائیے۔

دستخط

محمد سعید دحدوح

٢٧شوال ١٣٩٤ھ ۔١٩٧٤١١١١ئ

۱۱

ایک جامع خلاصہ

چونکہ اس قسم کے علمی مباحث کی گزشتہ بحثوں کا ایک جائزہ لینا قارئین کرام کو مطالب کے سمجھنے اور ہمارے مقصد کو درک کرنے میں مدد دے گا ،اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ یہاں پر لبنان کے معاصر مفکر و دانشور اور قابل قدر استاد جناب رشاد دارغوث کا وہ خلاصہ پیش کریں جو انھوں نے اس کتاب کی پہلی جلد کی ایک مفید و اہم بحث کے ضمن میں تحریر فرمایا ہے:

کتاب کی شکل و صورت

'' اصول دین کا لج '' بغداد کے پر نسپل جناب استاد عسکری کی کتاب ''١٥٠جعلی اصحاب'' ، شکل و صورت ، مطالب اور موضوع کے لحاظ سے انتہائی گراں بہا و دلکش علمی کتابوں میں سے ایک ہے ،جو ابھی کچھ دنوں پہلے دنیائے علم و دانش میں منظر عام پر آئی ہے ۔مذکورہ کتاب بغداد کے ''اصول دین کالج '' کے پرنسپل جناب مرتضی عسکری کی تالیف ہے اور یہ کتاب بیروت کے ''درارالکتاب پبلیشنز'' کی طرف سے ٤٢٠صفحات پر مشتمل درجہ ذیل صورت میں شائع ہوئی ہے :

اس کے ٧٠ صفحات مختلف فہرستوں پر مشتمل ہیں ۔ان فہرستوں کے مطالعہ سے کتاب میں موجود مختلف مطالب کاآسانی کے ساتھ اندازہ کیاجاسکتاہے ۔جن مصادر واسناد پر کتاب میں تکیہ کیا گیا ہے اوران سے استناد کیاگیاہے وہ اس فہرست میں مشخص کئے گئے ہیں ۔اس طرح اس کتاب میں ذکرکئے گئے قبائل وخاندان کے نام ،معروف حکومتوں کے نام ،ہرمذہب کے پیروؤں اور ہر گروہ کے طرفداروں کے نام حدیث کے راویوں ،شعراء ،مؤلفین نیز،قرآن مجید کی آیات ،پیغمبر اسلام کی احادیث،دلیل وشواہد کے طور پرپیش کئے گئے اشعار ،شہروں کے نام،گاؤں کے نام ،جغرافیائی مقامات اور ممالک ،تاریخی واقعات ،خطوط،عہدناموں اور فرمان ناموں کو اس کتاب میں علمی روش کے تحت اپنی اپنی جگہ پر حروف تہجی کی ترتیب سے منظم اور مرتب فہرست کی صورت میں پیش کیا گیا ہے

۱۲

کتاب کے مطالب

یہ کتاب سیف بن عمر تمیمی کے گڑھے ہوئے ''١٥٠ جعلی اصحاب'' میں سے ٣٩(۱) جعلی اصحاب کے تعارف پر مشتمل ہے،جنھیں سیف نے ذاتی طور پر جعل کرکے ان کے خیالی وجود کو واقعی صورت میں پیش کیاہے ،ان سے حدیث روایت کی ہے اور عظیم تاریخی واقعات کو جو کہ حقیقت میں وجود ہی نہیں رکھتے ،ان سے منسوب کیاہے۔

مؤلف محترم اس تلخ حقیقت تک پہنچنے کے لئے سیف کی زندگی کے مطالعہ کے دوران اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ :سیف پر جھوٹ بولنے اور حدیث گڑھنے میں شہرت رکھنے کے علاوہ زندیقی ہونے کا بھی الزام تھا۔لیکن ہمارے گزشتہ مصنفین اور مؤلفین نے صرف اس لئے کہ اس نے

''الفتوح الکبیرة'' و''الجمل ومسیرعلی وعائشہ'' نام کی دوکتابیں تالیف کی ہیں ،سیف کونہ صرف ایک نامور واقعہ نگار جاناہے بلکہ اس کی روایتوں اور باتوں کو صدر اسلام کے مہمترین تاریخی اسناد کے طور پر پہچانا ہے۔

____________________

(۱) طبع اول ان ٣٩ صحابیوں میں سے ٢١ افراد خاندان تمیمی کے ذکر ہوئے تھے لیکن دوسری طبع میں ان کی تعداد ٢٣ تک بڑھ گئی ہے۔

۱۳

زندیقیوں کا مسئلہ

اس کے بعد مؤلف ،''زندیق'' اور ''زندیقیت'' کے عام معنی کی تشریح کرتے ہیں پھر اس کے اصلی معنی ومفہوم پر بحث کرتے ہیں اور سیف بن عمر کے زمانے کے چند نامور زندیقیوں جیسے ''ابن مقفع،ابن ابی العوجاء اور مطیع بن ایاس'' کا ذکر کرتاہے۔اور اس سلسلے میں ایک مفصل بحث کے بعد نتیجہ حاصل کرتاہے کہ اس زمانے میں زندیقیت نے ان لوگوں کے درمیان پوری طرح رواج پالیاتھا جو دین مانی اور مانوی گری سے دلوں میں ایمان پیدا کئے بغیر اسلام کی طرف مائل ہوئے تھے ۔اس کے بعد لکھتے ہیں :

''یہ زندیقیوں کے چند نمونے تھے ،جن کا عمل وکردار سیف کے زمانے کے مانویوں کی سرگرمیوں کا مظہر ہے۔ ان میں سے ایک شخص زندیقیوں کی کتابوں کا ترجمہ کرتاہے اور مسلمان معاشرے میں انھیں رائج کرتاہے ۔ دوسرا ،بے باکی اور بے شرمی وبے حیا ئی ،اور کھلم کھلا فسق وفجور ،بد کاری ،بد اخلاقی اور غیر انسانی عادات کا نمونہ ہے اور ان افعال کو مسلمان نوجوانوں میں پھیلاتاہے،اور تیسرا اپنے دو پیشرؤں سے زیادہ سرگرمی ،پشتکار کے ساتھ ہر شہر ودیہات میں ایک عجیب ثابت قدمی سے مسلمانوں کے ایمان وعقائد میں شک وشبہہ اور تشویش پھیلانے میں سرگرم ہو تاہے اور فتنوں وبغاوتوں کو برپاکرنے اور لوگوں کے اسلامی اعتقادات کو سست کرنے کی سر توڑ کوشش کرتاہے اور اپنے دو پیشرو ساتھیوں کی طرح زندیقیوں کے عقائد وافکار کی ترویج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتاہے حتی جلاد کی تلوار کے نیچے بھی مسلمانوں میں شک وشبہہ پیدا کرنے سے گریز نہیں کرتاہے اور اعتراف کرتاہے کہ اس نے اکیلے ہی چار ہزار احادیث جعل کی ہیں اور انھیں لوگوں میں اس طرح رائج کردیا ہے کہ حلال کوحرام اور حرام کو حلال کردیاہے !!اگر اس شخص ابن ابی العوجاء نے اکے لئے ہی چار ہزار جھوٹی حدیث جعل کی ہیں ....تو سیف نے ہزار ہا ایسی احادیث جعل ہیں جن میں

۱۴

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاک ترین اور با ایمان ترین صحابیوں کو پست ،کمینہ اور بے دین ثابت کرکے ان کے مقابلے میں ظاہری اسلام لانے والوں اور جھوٹ بول کر اسلام کا اظہار کرنے والوں کو پاک دامن ،دین دار اور قابل احترام بناکر پیش کیاہے!اس طرح دنیائے علم وتحقیق کو حق و حقیقت کے خلاف ان دو موضوعوں کے مد مقابل حیرانی و پریشانی سے دوچار کردیاہے۔

وہ اسلام میں خرافات سے بھرے ہوئے افسانے وارد کرنے میں کامیاب ہواہے تا کہ مسلم حقائق کو شک وشبہات کے پردے کے پیچھے مخفی کردے اس طرح وہ مسلمانوں کے عقائد وافکار پر بُرا اور ناپسند اثر ڈالنے اور اس دین الٰہی کے بارے میں غیروں کے افکار کو دھندلا اور مکدر بنانے میں کامیاب ہواہے''

جذبات کو بھڑکانا

سیف کی خراب کاریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے جاہلیت کے تعصب کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ قبائل نزار جو زر وزور اور اقتدار وقانون کے مالک تھے اور خلفائے راشدین نیز اموی اور عباسی خلفاء سب کے سب اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے کے بارے میں اپنے تعجب خیز تعصباتی لگاؤکا اظہار کرتاہے ،یہاں پر محترم ودانشور مولف قبائل نزار ومضر اور قبائل قیس ویمانی کے درمیان اسلام سے پہلے کے خشک خاندانی تعصبات اور اپنے تئیں فخرو مباہات کے اظہار نیز دوسرے قبائل کے خلاف دشنام ،توہین اور برا بھلا کہنے اور اسلام کے سائے میں بھی اس تعصب و دشمنی کے استمرار کے سلسلے میں تشریح کرتے ہوئے لکھاہے :

۱۵

''پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ ہجرت فرمائی ،وہاں پر اوس وخزرج نامی دو قبیلے رہتے تھے ، دونوں قبیلے یمانی تھے۔آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ہجرت کرنے والے جنھوں نے ''مہاجر'' کالقب پایاتھا قبیلہ مضر سے تعلق رکھتے تھے۔یہ دو دشمن قبیلے جو آپس میں دیرینہ دشمنی رکھتے تھے ،شہر مدینہ میں اپنی باہم زندگی کے دوران دو بار ایک دوسرے کے مقابلے میں ایسے قرار پائے کہ قریب تھا جنگ کے شعلے بھڑک اٹھیں ۔ پہلی بار رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ذاتی طور پر مداخلت فرمائی اور ان بھڑکنے والے شعلوں کو جو خاندانوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے تھے،اپنی تدبیر،حکمت عملی اور اسلام کی طاقت سے بجھادیا۔دوسری بار جب پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اس خاندانی جذبات اور جاہلیت کے تعصبات نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خلافت کے مسئلے پر پھر سے سر اٹھایا تو حالات ایسے رونما ہوئے کہ نزدیک تھا خوں ریزی برپا ہو جائے اور تازہ قائم ہوا اسلام نابود ہوجائے ۔یہاں پر خاندانی تعصب ودشمنی کے شعلے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد حضرت علی ـکی فہم وفراست کے نتیجہ میں بجھ گئے''

محترم مؤلف نے بہترین انداز میں تشریح کی ہے کہ بنیادی طور پر تعصب مردود ومنفور اور قابل نفرت ہے اور دنیائے شعرو ادب کے لئے افراط وزیادتی کا سبب ہے لیکن سیف ان میں سے کسی ایک کی طرف توجہ کئے بغیر جو کچھ انجام دیتاہے اپنے تعصب کے بنا پر انجام دیتاتھا۔اسی لئے اس نے شعراء کی ایک جماعت کو خلق کیاہے تاکہ وہ اپنے اشعار کے ذریعہ قبیلہ مضر،خاص کر خاندان تمیم کے لئے سیف کے جعل کردہ فخرومباہات کا تحفظ کریں ۔اس کے علاوہ اپنے خاندان ''تمیم ومضر'' سے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے اصحاب جعل کئے ہیں اور ان کے بارے میں ثابت کیاہے کہ وہ اسلام کو قبول کرنے میں پیش قدم ہونے کی وجہ سے صاحب فضیلت واعتبار ہیں ۔مزید یہ کہ خاندان مضر سے ایک گروہ کو فوج کے سپہ سالار اور حدیث کے راویوں کے طور پر جعل کیاہے ۔اس نے قبیلہ مضر اور اپنے خاندان تمیم کے بارے میں اس قدر فضیلت وبرتری پر ہی اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے اپنے تعصب اور احساس برتری کی بناء پر اپنے قبیلہ کے افتخارات کو محکم وپائیدار کرنے کے لئے جنوں سے بھی کام لیا ہے اور ایسے جنات تخلیق کئے ہیں جو تمیم اور مضر کے خاندان کے بہادروں اور دلاوروں کی فضیلتوں کے اشعار کو فضا میں گاتے ہیں تاکہ دنیا والوں کے کانوں تک ان کی فضیلتوں کو پہنچادیں ! اس کے علاوہ اس نے اپنے خاندان مضر سے باہر بھی چند افراد خلق کئے ہیں جو اس کے قبیلے کے خیر خواہ ،طرفدار کی حیثیت سے خاندان تمیم اور مضر کانام روشن کرنے کے لئے ان کے پرچم تلے جنگوں میں شرکت کرتے ہیں تاکہ خاندان تمیم ومضر کے فضل وشرف سے دوسرے درجے کی فضیلت کے مالک بن جائیں ۔

۱۶

علم ولغت کے مصادر میں سیف کا رول

اس طرح ،سیف کی تخلیق کی بناء پر جھوٹے اور افسانوی اصحاب اور تابعین کی ایک بڑی جماعت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب وتابعین کی صف میں شامل ہوجاتی ہے اور یہ لوگ تاریخ اسلا م میں اپنے لئے ایک مقام بنالیتے ہیں !!سرانجام مولف محترم ثابت کرتے ہیں کہ سیف کے اس جھوٹ ،افسانوں ،حقائق میں ترمیم اور مجاز کے منحوس سائے بعد میں اصحاب وتابعین کے حالات کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں پر وسیع پیمانے پر نظر آتے ہیں اور ان میں سیف کے جعل کردہ اصحاب وتابعین مخصوص مقام پر دکھائی دیتے ہیں ،جیسے:

بغوی (وفات ٣١٧ھ )کی ''معجم الصحابہ''

ابن اثیر (وفات ٦٣٠ھ)کی '' اسد الغابہ''

ابن حجر (وفات ٨٥٢ھ) کی '' الاصابہ''

ان کے علاوہ حالات زندگی بیان کرنے والے اور بہت سے مأخذ بھی ہیں ان ہی مقاصد کو فتوحات سے مربوط فوجی سرداروں کے حالات کی تشریح کرنے والی کتابوں میں مد نظر رکھا گیا ہے ، جیسے:

''طبقات ابوزکریا'' (وفات ٣٣٤ھ )

''تاریخ دمشق '' ابن عساکر (وفات ٥٧١ھ)

اور دوسری کتابیں ۔

اس حد تک کہ سیف کے جعل کردہ اس قسم کے افسانوی پہلوانوں کے خاندان اور شہرت ، مقامات اور جھوٹے و فرضی کیمپوں کے بارے میں ابہام و اشکالات کو دور کرنے کے لئے مجبور ا کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان پر شرح و تفسیر یں بھی لکھی گئی ہیں یہ افسانے اور جھوٹ ،کا بوس بن کر تاریخ کی گراں سنگ اور معتبر کتابوں ،جیسے : تاریخ طبری ،ابن اثیر ،ذہبی ،ابن کثیر اور ابن خلدون پر چھا گئے ہیں ۔حتیٰ ادب کی کتابیں ،جیسے : اصفہانی کی '' اغانی'' لغت کی کتابیں ،جیسے '' لسان العرب '' ابن منظور اور حدیث کی کتابیں جیسے : ''صحیح ترمذی '' بھی سیف کے تصرف اور اس کے جھوٹ اور افسانوں کے نفوذ سے محفوظ نہیں رہی ہیں ۔

۱۷

خلاصہ:

یہ کہ استاد عسکری نے اپنی کتاب کی اس جلد میں ١٥٠جھوٹے اصحاب میں ٣٩ ،اصحاب (جو برسوں اور صدیوں تک حقیقت اور عینی وجود کے پردے کے پیچھے خود کو مخفی کئے ہوئے تھے اور ان کا وجود ناقابل انکار بن چکا تھا ) کی شناسائی کرکے انھیں تشت از بام کیا ہے ۔ان افسانوی اصحاب میں سے بیس اصحاب خاندان تمیم یعنی سیف کے اقربا ہیں اور مولف نے ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک الگ فصل مخصوص کی ہے ۔اور دقت نظر اور علمی روش کے تحت ان کے بارے میں بحث و تحقیق کی ہے اس کے بعد ان کے بارے میں سیف اور دیگر مورخین کے نظریات کا موازنہ کرکے قطعی اور ناقابل انکار دلائل کے ذریعہ ان میں سے ہر ایک کا افسانوی ،خیالی،و فرضی ہونا ثابت کیا ہے ۔

ہمار ا اعتقاد یہ ہے کہ اس قسم کی موضوعی تحقیق و بحث جو صرف علمی پہلو کی حامل ہے ،اس پر خطر اور نشیب و فراز والی راہ میں جس کا آغاز ،استاد عسکری نے اپنی تحقیق اور اس کتاب کے ذریعہ کیا ہے ،علماے دین اور حقائق کے متلاشیوں کی ہمت و کوشش سے جو اس سلسلے میں دوسروں سے زیادہ سرگرمی دکھانے کے مستحق ہیں گراں قیمت اسلامی آثار کو آلودگیوں سے نہ صرف اعتقادی لحاظ سے بلکہ ہر دو لحاظ سے ،یعنی فقہی و دینی لحاظ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے کہ ممکن ہے کہ ان موارد کے پیچھے جھوٹ یا دخل و تصرف دونوں کے کتنے ہی چہرے پوشیدہ اور مخفی ہوں ۔

اس قسم کے حقائق کو رائج اور ایسی سرگرمیوں کا آغاز کرکے استاد عسکری نے اپنی ثمربخش اور نتیجہ خیز کو ششوں کو دنیائے علم و دانش خاص کر عالم اسلام جو تہذیب و تمدن اور دنیا و آخرت کی بھلائی کو وجودمیں لانے والی عظیم طاقت ہے کی خدمت میں پیش کیا ہے ۔

رشاد دار غوث

۱۸

مقدمۂ مؤلف

اس کتاب کی پہلی جلد ١٣٨٧ھ میں پہلی بار چھپ کر منظر عام پر آگئی ،لیکن اس میں درج کئے گئے اشعار کے بارے میں تحقیق کرنے کی فرصت پیدا نہ ہو سکی ۔اس کا سبب یہ تھا کہ میں نے مذکورہ اشعار کو بد خط قلمی نسخوں سے نقل کیا تھا کہ غالبا الفاظ اور عبارتوں کے لحاظ سے ان میں بہت سی غلطیاں موجود تھیں ۔

کتاب کی طباعت میں یہ عجلت اور اشعار کے بارے میں عدم تحقیق و دقت اس لئے تھی کہ بغداد میں(۱) '' اصول دین کالج '' کی جو بنیاد ہم نے ڈالی تھی ،انہی دنوں اس کی عملی سرگرمیاں شروع ہو چکی تھیں ،اس لئے ہم مجبور تھے کہ ایک علمی کتاب شائع کرکے دیگر اداروں ،کالجوں اور یونیور سٹیوں میں اس کا تعارف کرائیں ۔

اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ کتاب کو اس صورت میں کالج کی مطبوعات میں سے ایک

____________________

۱۔'' اصول دین قومی کالج '' کی بنیاد ١٣٧٤ھ کو بغداد میں ڈالی گئی ۔طالب علموں کو اس کا لج سے علوم قرآن ، حدیث، عربی، ادبیات میں گریجویش کی ڈگری دی جاتی تھی ۔ہم ان دنوں اس کوشش میں تھے کہ اس کالج کے پہلے گروپ کے فارغ التحصیل ہونے سے پہلے ہی اس کی اسناد کوبغداد یونیورسٹی اور دنیا کی دوسری یونیورسٹیوں سے رجسڑیشن کرائیں ۔

۱۹

کتاب کے طور پر شائع کرکے منظر عام پر لائیں ۔شعر و شاعری حتیٰ حوادث و واقعات ،جو ایسی رجز خوانیوں اور رزم ناموں کو وجود میں لانے کا سبب بنے تھے ،کے جعلی ثابت ہونے کے بعدان کی عبارتوں اور اشعار کے تلفظ کے بارے میں تحقیق نہ فقط غیر ضروری تھی بلکہ اس سے کتاب کے بنیادی مقصد اور اس کے علمی مطالب کوکوئی ضرر نہیں پہنچتاتھا۔

اس کے علاوہ طے یہ پا یاتھا کہ اس کتاب کی پہلی جلد ،خاندان تمیم سے مربوط جعلی اصحاب سے مخصوص ہو۔لیکن ہم نے دروغ بافی کے تنوع اور غیر تمیمی صحابیوں کی تخلیق ثابت کرنے کے لئے یہ مناسب سمجھاکہ کتاب کی آخر میں چند غیر تمیمی افسانوی اصحاب کابھی اضافہ کریں اس طرح اس کتاب کی پہلی جلد (عربی میں )بیروت سے شائع ہوئی۔

اس کتاب کی طباعت کے فوراًبعد اس کاپرجوش استقبال کیاگیا،حتیٰ بعض ناشروں نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کتاب کو دوبارہ آفسٹ پرنٹنگ میں چھاپنے کی اجازت دیدوں ۔میں نے اپنے گزشتہ تجربہ کے پیش نظر انھین اس چیز کی اجازت نہیں دی لیکن میری عدم موافقت کے باوجود یہ کتاب دوبارہ چھاپی گئی اور اس کے ہزاروں نسخے چاہنے والوں تک پہنچے ۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں ان دنوں زیر بحث اشعار کی تحقیق و تصحیح میں لگا ہوا تھا۔ اس کام سے فراغت پانے کے بعد میں نے اس کتاب کی آخر سے دو غیر تمیمی اصحاب کو حذف کرکے ان کی جگہ پر سیف کے دو دیگر جعلی تمیمی اصحاب کی زندگی کے حالات کا اضافہ کرکے اس کی دوبارہ طباعت کا اقدام کیا ۔اس طرح حقیقت میں اب کہا جاسکتا ہے کہ کتاب ''جعلی اصحاب'' کی پہلی جلد مکمل اور تصحیح شدہ صورت میں ١٣٨٩ھ میں بعداد سے شائع ہو ئی ہے ۔

خدائے تبارک و تعالیٰ اس کام کو جاری رکھنے اور ان عملی مباحث کو مکمل کرنے میں میری مدد فرمائے!۔

مرتضیٰ عسکری

۲۰