ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۲

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 371

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 371
مشاہدے: 13792
ڈاؤنلوڈ: 623


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 13792 / ڈاؤنلوڈ: 623
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 2

مؤلف:
اردو

پانچواں حصہ خاندان تمیم سے

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جعلی کارندے و صحابی رسول خدا کے چھ کارندے :

* ١٣۔سعیر بن خفاف تمیمی

* ١٤۔عوف بن علاء جشمی تمیمی

* ١٥۔اوس بن جذیمہ تمیمی

* ١٦۔سہل بن منجاب تمیمی

* ٧١۔وکیع بن مالک تمیمی

* ١٨۔حصین بن نیار حنظلی تمیمی

مزید دو صحابی

* ١٩۔زرّ بن عبد اللہ فقیمی

* ٢٠۔اسود بن ربیعہ حنظلی

۲۰۱

رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا کے چھ جعلی کارندے

چار روایتیں

پہلی روایت

طبری نے سیف بن عمر تمیمی سے اور اس نے صعب عطیہ سے اور اس نے اپنے باپ سے یوں روایت کی ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت تمیم کے مختلف قبائل میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے حسب ذیل تھے :

١۔ زبر قان بن بدر : قبائل رباب ، عوف اور ابناء کے لئے ۔

٢۔ قیس بن عاصم : قبائل مقاعس اور بطون کے لئے ۔

قبیلہ بنی عمرو تمیمی کے لئے حسب ذیل دو آدمی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے تھے :

٣۔ صفوان بن صفوان : قبیلہ بھدی کے لئے ۔

٤۔ سبرة بن عمرو : قبیلہ خضم کے لئے

قبیلہ حنظلہ کے لئے بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے درجہ ذیل دو آدی مامور تھے ۔

٥۔ وکیع بن مالک : قبیلہ بنی مالک کے لئے ۔

٦۔ مالک بن نویرہ : قبیلہ بنی یر بوع کے لئے ۔

اس کے بعد طبری اس حدیث کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے اس طرح اضافہ کرتا ہے :

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کی خبر تمیم کے قبائل میں پہنچی تو صفوان بن صفوان اپنے اور سبرہ کے جمع کئے گئے صدقات کی رقومات کو ابوبکر کے پاس مدینہ لے گیا اور سبرہ وہیں پر رہا ۔

لیکن قیس نے جو کچھ جمع کیا تھا اسے قبائل مقاعس و بطون کے ادا کرنے والے اصلی افراد کو واپس کر دیا اور ابو بکر کو کچھ نہیں بھیجا ۔

۲۰۲

زبرقان نے قیس کے برعکس قبائل رباب ، عوف اور ابناء سے جمع کی گئی اپنی رقومات مدینہ میں ابو بکر کی خدمت میں پیش کیں ۔ چوں کہ اس کی پہلے ہی سے قیس کے ساتھ رقابت تھی اس لئے قیس کی رقومات ادا کرنے سے پہلو تہی کو بہانہ قرار دے کر ایک شعر کے ذریعہ اس کی ہجو گوئی کی اور اس ضمن میں کہا:

میں نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانت کو پہنچادیا لیکن بعض کا رندوں نے ایک اونٹ بھی نہیں دیا ! سیف کہتا ہے :

رسول خد کی وفات کے بعد قبائل تمیم کے مختلف خاندانوں میں اسلام پر باقی رہنے اور ارتداد کے مسئلہ پر اختلافات رو نما ہوئے ۔ ان میں سے بعض اسلام پر ثابت قدم رہے ۔لیکن بعض شک و شبہ سے دو چار ہو کر سر انجام دین اسلام اور اس کے قوانین سے نا فرمانی کرکے مرتد ہوئے اور اس کے نتیجہ میں مختلف گروہ ایک دوسرے سے متخاصم ہو کر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے اس طرح :

قبائل عوف و ابناء نے خاندان بنی حشم کے ۔

٧۔ '' عوف بن بلاد'' کی قیادت میں قبائل بطون سے جنگ کی جن کی قیادت

٨۔ سعیر بن خفاف کر رہا تھا ۔

قبائل رباب قبیلہ مقاس سے ، خضم مالک سے اوربہدی ، یربوع سے لڑ رہے تھے قبائل

رباب اور بہدی میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نمائندہ

٩۔ حصین بن نیار حنظلی تھا کہ قبیلہ رباب کے افراد بھی اس کی حمایت کرتے تھے ۔حصین بن

نیاران افراد میں سے تھا جو اسلام پر ثابت قدم تھے قبیلہ ضبہ کا قائد

١٠۔ عبد اللہ بن صفوان تھا۔

اور قبیلہ عبد مناة کی قیادت

١١۔ عصمة بن عبیر کے ہاتھ میں تھی ۔

۲۰۳

سیف کہتا ہے :

اسی پکڑ دھکڑ کے دوران جب تمیم کے مختلف قبائل کے مسلمان و مرتد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے تھے تو ، پیغمبر ی کا دعوی کرنے والی خاتون ''سجاح'' تمیمی نے فرصت کو غنیمت سمجھ کر ان پر حملہ کیا ۔

تمیم کے مختلف قبائل کے درمیان لڑائی جھگڑے اور ان کی بیچارگی کو عفیف بن منذ رتمیمی اس طرح یاد کرتا ہے :

جب خبریں پھیلیں ، کیا تم نے یہ خبر نہیں سنی کہ تمیم کے مختلف قبیلوں پر

کیا مصیبت آن پڑی ؟!

طبری اسی روایت کے ضمن میں سیف سے نقل کرتے یوں لکھتا ہے :

پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی خاتون '' سجاح '' جو ابوبکر سے جنگ کرنا چاہتی تھی نے مالک نویرہ کے نام ایک خط لکھا اور اسے اپنے جنگ سے منصرف ہونے کے ارادے سے آگاہ کا مالک نے ''سجاح '' کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے ابوبکر سے جنگ نہ کرنے کے اس فیصلے کے مقابلے میں اسے تمیم کے منتشر قبیلوں پر حملہ کرنے کی ترغیب دی '' سجاح '' نے مالک کی تجویز کو قبول کرتے ہوئے تمیم کے قبیلوں پر چڑھائی کی اور لڑائی جھگڑوں ، قتل و غارت اور اسارت کے بعد سر انجام ان کے درمیان صلح ہوئی ۔ جن معروف اشخصیتوں نے '' سجاح '' سے دوستی اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا ان میں وکیع بن مالک بھی تھا ۔

سیف داستان کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

قبائل تمیم سے عہد و پیمان طے پانے کے بعد '' سجاح '' نے مملکت نباج کی طرف رخ کیا ، لیکن اسی دوران بنی عمرو تمیم کے اوس بن خذیمہ نے اپنے ماتحت افراد کے ہمراہ ''سجاح '' اور اس کے پیرئوں پر حملہ کرکے ان میں سے بعض افراد کو اسیر بنا دیا ۔

'' سجاح '' نے مجبور ہو کر اوس سے صلح کی اور طے پایا کہ '' سجاح '' اپنے ساتھیوں کو اوس کی اسارت سے آزاد کرانے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ فورا ًاوس کی سرزمین سے نکل جائے ۔

۲۰۴

دوسری روایت

طبری نے دوسرے روایت میں اسی پہلی روایت کی سند سے بحرین کے باشندوں کے ارتداد کی داستان کو سیف بن عمر سے نقل کرتے ہوئے یوں بیان کیا ہے ۔ ٢

'' وکیع بن مالک '' اور '' عمر و عاص '' کی آپس میں رقابت تھی اور ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے تھے

تیسری روایت

طبری تیسری روایت میں داستان'' بطاح '' کو پہلی اور دوسری روایتوں کے اسناد سے سیف سے نقل کرکے اس طرح لکھتا ہے : ٣

'' سر انجام وکیع کو اپنی برائی کا احساس ہوا اوراچھی طرح دوبارہ اسلام کی طرف پلٹ آیا اور اپنے گزشتہ اعمال کی تلافی کے طور خاندان بنی حنظلہ اور یربوع سے جمع کی گئی صدقہ کی رقومات کو ابوبکر کے نمائندہ خالد بن ولید کی خدمت میں پیش کیا ، جو ان دنوں خلیفہ کی طرف سے قبیلہ تمیم کی بغاوتوں کو کچلنے کے لئے ماموریت پر تھا ۔

اس ملاقات کے دوران خالد نے اپنی گفتگو کے ضمن میں وکیع سے پوچھا:

تم نے کیوں مرتد وں کی دوستی اختیار کرکے ان کا ساتھ دیا ؟

وکیع نے جواب دیا :

'' بنی ضبہ '' کے چند افراد کی گردن پر ہمارا خون تھا ۔ میں بھی انتقام لینے کے لئے فرصت کی تلاش میں تھا ۔ جب میں نے دیکھا کہ بنی تمیم کے قبائل ایک دوسرے کے پیچھے پڑ ے ہیں تو انتقام لینے کے لئے اس فرصت کو غنیمت سمجھا۔

وکیع نے ایک شعر میں اپنے اس اقدام کی توجیہ یوں کی ہے :

تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں دین سے خارج ہو کر صدقہ دینے میں رکاوٹ بنا ہوں ! بلکہ حقیقت میں وہی معروف شخص ہوں جس کی شہرت زبان زد خاص

۲۰۵

و عام تھی ۔

میں نے قبیلہ بنی مالک کی حمایت کی اور ایک مدت تک توقف کیا تاکہ میری آنکھیں کھل جائیں ۔

چوں کہ خالد بن ولید نے ہم پر حملہ کیا اورڈرایا ،اس لئے امانتیں اس کے پاس پہنچنے لگیں ۔

چوتھی روایت

طبری نے چوتھی روایت میں مالک بن نویرہ کے قتل کی داستان اپنی مذکورہ اسناد کے مطابق سیف بن عمر سے نقل کرکے اس طرح بیان کی ہے ۔ ٤

جب خالد بن ولید سر زمین بطاح میں داخل ہوا تو اس نے اپنے افراد کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اور ہر گروہ کو ایک شخص کی قیادت میں مختلف ماموریتوں پر روانہ کیا تاکہ تمیم کے مختلف قبیلوں کے اندر داخل ہو کر گھوم پھر یں اور انھیں ہتھیار ڈالنے کی دعوت دیں ۔ اگر کسی نے نا فرمانی کرکے ان کا مثبت جواب نہ دیا تو اسے قیدی بنا کر خالد بن ولید کے پاس لے آئیں تاکہ وہ ان کے بارے میں خود فیصلہ کرے ۔

خالد کے گشتی سواروں نے اس ماموریت کو انجام دینے کے دوران مالک بن نویرہ ،اور اس کے خاندان کے چند افراد کو پکڑکر قیدی بنالیا ۔لیکن خالد کے ماموروں کے در میاں اس مسئلہ میں اختلاف ہوا کہ کیا مالک اور اس کے ساتھیوں نے اذان کے ساتھ نماز پڑھی یا اذان کے بغیر ۔اسی وجہ سے خالد بن ولید نے اسے جیل میں ڈالنے کا حکم دیا ۔

اتفاق سے اس رات کو کڑاکے کی سردی تھی اور تیز آندھی بھی چل رہی تھی ۔نا قابل برداشت ٹھنڈک تھی اور یہ سردی رات بھر لمحہ بہ لمحہ شدیدتر ہوتی جاتی تھی ۔

خالد بن ولید نے اسیروں کی بہبودی اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے حکم دیا کہ اس کا منادی فوجیوں میں اعلان کرے :

''ادفئوااسراکم ''''اپنے اسیروں کو گرم حالت میں رکھو !''

۲۰۶

سیف کہتا ہے کہ کنانہ کے لوگوں کے ہاں یہ جملہ ''دثروا الرجل فادفئو ''یعنی مرد کو ڈھانپو اور اسے گرم گرم رکھو ''سر تن سے جدا کرنے کا معنی دیتا ہے!اس لئے خالد بن ولید کے جنگجو سپہ سالار کا حکم سننے کے بعد فوری طور پر اسے عملی جامہ پہنا نے کی فکر میں لگ گئے، کیونکہ وہ اس اعلان سے یہ تصور کر رہے تھے کہ خالد بن ولید نے اسیروں کو قتل کرنے کا حکم جاری کیاہے !لہٰذا ''ضرار بن ازور'' نے اٹھ کر مالک بن نویرہ کا سر تن سے جدا کردیااور دوسرے لوگوں نے بھی مالک کے دیگر ساتھوں کو قتل کرڈالا۔

خالد بن ولید نے جب اسیروں کی فریاد و زاری کی آوازیں سنیں ، اپنے خیمے سے نکل کر دوڑتے ہوئے وہاں پہنچا لیکن اس وقت دیر ہوچکی تھی اور مالک اور اس کے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے تھے، یہ منظر دیکھ کر خالد بن ولید نے کہا:

جب خدائے تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی کام انجام پائے تو وہ کام انجام پاتا ہے۔

سیف روایت کے آخر میں کہتا ہے:

خالد کے سپاہیوں نے مقتولوں کے سروں کو منجملہ مالک نویرہ کے سر کو ایک دیگ میں ڈالکر اس کے نیچے آگ لگادی!!

لیکن، پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ''سجاح'' کی باقی داستان تاریخ طبری میں سیف سے نقل کرکے اس طرح درج کی گئے ہے:

پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ''سجاح'' اپنے مریدوں کے ہمراہ یمامہ کی طرف روانہ ہوئی اور اس کی خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ۔ جب یہ خبر پیغمبری کا دعویٰ کرنے والے دوسرے شخص ''مسیلمہ'' کو پہنچی تو وہ بہت ڈرگیا اور حفظ ماتقدم کے طور پر متوقع حوادث کے بارے میں تدبیر کی فکر میں لگ گیا۔ اس کے بعد اس نے ''سجاح'' کو کچھ تحفے بھیجے اور اس سے امان کی درخواست کی تا کہ اس کی ملاقات کے لئے آئے ۔''سجاح'' نے مسیلمہ کو امان دی اور ملاقات کی اجازت بھی ۔

مسیلمہ قبیلہ بنی حنیفہ کے اپنے چالیس مریدوں کے ہمراہ ''سجا ح'' کی خدمت میں حاضر ہوا۔

سیف کہتا ہے کہ ''سجاح'' عیسائی تھی۔پھر داستان کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:

پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی ان دو شخصیتوں نے آپس میں گفتگو کی اور گفتگو کے دوران مسیلمہ نے ''سجاح'' سے کہا:

دنیا کی نصف دولت ہماری ہے ، اگر قریش انصاف پسند ہوتے تو باقی نصف ان کی تھی۔ اب جب کہ قریش نے انصاف کی راہ اختیار نہیں کی ہے تو خدائے تعالیٰ نے وہ حصہ قریش سے چھین کر تمھیں عنایت کیاہے!!

۲۰۷

''سجاح'' کو مسیلمہ کی تقسیم پسند آئی اور اسے قبول کیا اور اس کے ساتھ اس شرط پر جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا کہ مسیلمہ ہر سال یمامہ کی پیدا وار کا نصف خراج کے طور پر ''سجاح'' کو دے ۔ اس کے علاوہ طے پایا کہ اگلے سال کے خراج کا نصف بھی پیشگی کے طور پر اسی سال ادا کیا جائے۔

اس قسم کے سخت اور مشکل شرط کو قبول کرنے پر مسیلمہ مجبور ہوا اور طے پایا کہ سجاح اگلے سال کا نصف خراج ساتھ لے کر لوٹے اور اپنی طرف سے ایک نمایندہ کو یمامہ میں رکھے تا کہ وہ اگلے سال خراج کا دوسرا حصہ وصول کرے ۔

''سجاح'' نے ایسا ہی کیا اور مسیلمہ سے خراج کا نصف حصہ وصول کرکے اپنی طرف سے وہاں پر ایک نمایندہ مقرر کرکے بین النہرین کی طرف روانہ ہوئی ۔

ابن اثیر نے بھی جہاں پر تمیم اور ''سجاح'' کی بات کرتا ہے یہی مطالب طبری سے نقل کئے ہیں ۔ اس موضوع پر ابن اثیر کی گفتگو کا آغاز یوں ہو تا ہے:(٥)

قبائل تمیم میں ، ان ہی قبائل میں سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے جن کا رندوں کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے مأموریت دی گئی تھی وہ حسب ذیل تھے:

''زبر قان بن بدر، سہل بن منجاب، قیس بن عاصم، صفوان بن صفوان، سبرة بن عمرو، وکیع بن مالک اور مالک بن نویرہ''

جب پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کی خبر اس علاقے میں پہنچی تو ''صفوان بن صفوان'' نے قبیلہ بنی عمر سے وصول کئے گئے صدقات پر مشتمل رقومات....... (تا آخر روایت ِسیف)

۲۰۸

مالک بن نویرہ کی داستان کو ابن اثیر نے بھی سیف سے روایت کرکے طبری کی کتاب سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔

ابن کثیر نے بھی ''سجاح'' اور قبائل تمیم اور مالک نویرہ کی داستان کو سیف کی اسی روایت کے مطابق طبری سے نقل کرکے درج کیا ہے ۔(٦)

ابن خلدون بھی ''وکیع بن مالک ''کے بارے میں گفتگو کرتے وقت تاریخ طبری سے سیف کی اسی روایت کو نقل کرتا ہے۔

یاقوت حموی نے بھی لفظ ''بطاح'' کی تشریح میں بلاواسطہ سیف کی روایت ، خاص کر اس کی تیسری روایت سے استفادہ کیا ہے اور اس کے شاہد کے طور پر وکیع کا شعر بھی پیش کیا ہے۔

سیف کی ان ہی مذکورہ روایات سے استفادہ کر کے ابن اثیر ، ذہبی ،ابن فتحون اورابن حجر نے سیف کے چھ جعلی اصحاب جن کے نام اوپر بیان ہوئے کے حالات زندگی اپنی کتابوں میں درج کئے ہیں ۔ ان جعلی صحابیوں میں سے ہر ایک کے بارے میں مذکورہ علماء کی باتوں کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں :

۲۰۹

١٣۔ سعیر بن خفاف

ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اسے ''سعیر بن خفاف تمیمی'' بتایا ہے ، جب کہ تاریخ میں طبری میں سیف کی تاکید کی بناء پر ''سعر بن خفاف تمیمی '' ذکر ہوا ہے ۔ ابن حجر نے سیف کے اس جعلی صحابی کے بارے میں اس طرح لکھا ہے:

سیف بن عمر نے اپنی کتاب ''فتوح'' میں لکھا ہے''سعیر بن خفاف'' ، قبائل تمیم کے ایک قبیلہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ تھا ۔ ابوبکر نے بھی اسے اپنے عہدے پر برقرار رکھا ۔ (٧)(ز)

یہ امر پہلے ہی واضح ہو چکا ہے کہ ابن حجر کی تحریروں میں حرف ''ز'' اس بات کی علامت ہے کہ یہ مطلب اصحاب کی سوانح لکھنے والے دوسرے مؤلفین کے مطالب کے علاوہ اور اس کا اپنا اضافہ کیا ہوا مطلب ہے۔

١٤۔عوف بن علاء جشمی

ابن حجر نے اس کا نام ''عوف بن خالد جشمی''ذکر کیا ہے، لیکن تاریخ طبری میں سیف کی روایت کے مطابق اس کا نام''عوف بن علاء بن خالد جشمی'' لکھاہے۔

ابن حجر نے اپنی کتا ب ''الاصابہ'' میں اس کی سوانح اس طرح بیان کی ہے:

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح'' مین لکھا ہے کہ عوف اُن کارندوں میں سے ہے، جنھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد اس عہدے پر فائز کیا گیا ہے اور وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تھا ۔ ابن فتحون نے بھی عوف کا نام ان صحابیوں کے عنوان میں ذکر کیا ہے جو صحابیوں کی سوانح لکھنے والوں کے درج کرنے سے رہ گئے ہیں ۔ (٨)

ہم نے عوف کے بارے میں سیف بن عمر اور دوسروں سے مذکورہ روایت کے علاوہ کوئی خبروایت اور نہ پائی اور نہ ہی اس جعلی صحابی کی جنگوں میں شرکت اور شجاعتوں کے بارے میں کوئی مطلب نہیں پایا، جب کہ سیف اپنے قبیلۂ مضر ، خاص کر تمیم کے افسانوی دلاوروں کے بارے میں اکثر و بیشتر شجاعتیں اور بہادریاں دکھلاتا ہے ۔

۲۱۰

١٥۔اوس بن جذیمہ

ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اسے ''اوس بن جذیمہ'' ہجیمی کے نام سے یاد کیا ہے جب کہ تاریخ طبری میں سیف کی روایت کے مطابق ''اوس بن خزیمہ ہجیمی'' ذکر ہوا ہے اور ہجیمی بنی عمرو کا ایک قبیلہ ہے۔ اسی طرح یہ نام بصرہ میں موجود ہجیمیان کے ایک محلہ سے بھی مطابقت رکھتا ہے ۔ (٩)۔

ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں اوس کی سوانح کے بارے میں یوں ذکر کیا ہے:

سیف اور طبری دونوں نے بیان کیا ہے کہ اوس نے رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دیدار کیا ہے اور قبیلہ بنی تمیم کے افراد کے مرتد ہوتے وقت بدستور اسلام پر ثابت قدم رہاہے ۔ ''سجاح'' پیغمبری کا دعویٰ کرنے کے وقت اوس نے اپنے خاندان کے ایک گروہ کے ساتھ ''سجاح'' کے سپاہیوں پر چڑھائی کی. اس طرح سیف کے اس خیالی سورما اور جعلی صحابی کے نام سے سیف کے خاندان، بنی عمرو تمیمی کے افتخارات میں اضافہ ہوتاہے۔

١٦۔سہل بن منجاب

ابن اثیر نے اپنی کتاب ''اسد الغابہ'' میں لکھا ہے:

جب تمیم کے مختلف قبائل نے اسلام قبول کیا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان قبیلوں میں ان کے ہی چند افراد کو اپنے کارندوں کی حیثیت سے ذمہ داری سونپی ۔ قبیلہ کے صدقات کو جمع کرنے کی مأموریت ''سہل بن منجاب'' کو دی ۔ جیسا کہ طبری نے ذکر کیا ہے کہ قیس بن عاصم، سہل بن منجاب ، مالک نویرہ ، زبرقان بدر اور صفوان و غیر ہ قبائل تمیم میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے تھے۔

ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں لکھا ہے:

طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''سہل بن منجاب'' ان کارندوں میں سے تھا جنھیں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبائل بنی تمیم میں صدقات جمع کرنے پر مأمور فرمایا تھا۔ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات تک سہل اس عہد ے پر باقی تھا۔

ذہبی نے اپنی کتاب ''تجرید'' میں لکھا ہے:

کہا جاتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''سہل کو صدقات جمع کرنے کے لئے مأمور فرمایا تھا۔ (١٠)

۲۱۱

اس مطلب پر ایک تحقیقی نظر:

ہم ، ابن اثیر کی کتاب ''اسد الغابہ '' پر ایک بار پھر نظر ڈالتے ہیں ۔ وہ لکھتا ہے:

تمیم کے مختلف قبائل کے اسلام قبول کرنے کے بعد پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان ہی قبائل میں سے ان کے لئے چند کارندوں کو معین فرما کر مختلف قبائل میں ان کو مأموریت دی ۔ جیسے ''قیس بن عاصم'' ، ''سہل '' اور ''مالک''

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے تمیمیوں کو مأموریت دینے کی حدیث طبری کے متعدد نسخوں میں حسب ذیل صورت میں من و عن درج ہوئی ہے:

تمیمیوں کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی زندگی میں اپنے چند کارندوں کو معین فرمایا تھا، جن میں سے زبرقان بن بدر کو قبیلۂ رباب ، عوف اور بناء کے لئے مأمور فرمایا تھا۔ جیسا کہ ''سری '' نے ''شعیب ''سے اس نے ''سیف سے اس نے صعب بن عطیہ سے ، اس نے اپنے باپ اور سہم بن منجاب سے روایت کی ہے کہ ''قیس بن عاصم '' قبیلہ ٔمقاعس اور بطون پر مأمور تھا۔

طبری کے بیان سے یوں لگتا ہے کہ ''صعب بن عطیہ '' نے دو آدمیوں سے نقلِ قول کیا ہے کہ جن میں ایک اس کا باپ عطیہ اور دوسرا سہم بن منجاب ہے ۔ لہٰذا منجاب اس حدیث میں خود راوی ہے نہ صحابی!

گویا ان دو معروف دانشو روں ، ابن اثیر و ابن حجر نے طبری کی بات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ صعب نے صرف اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ مقاعس اور بطون کے قبائل پر ''قیس بن عاصم '' اور سہم من منجاب '' نامی دو شخص تمیمیوں کے صدقات جمع کرنے پر مأمور کئے گئے تھے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ان دو دانشوروں کو ہاتھوں میں طبری کے جو نسخے تھے ، ان میں ''سہم بن منجاب ''کا نام ''سہل بن منجاب '' لکھا گیا ہو. اس بناء پر ان دو دانشو روں نے اسی نام کو صحیح قرار دیکر ''سہل بن منجاب'' کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی کے طور پر درج کر کے تشریح کی ہے۔

۲۱۲

١٧۔ وکیع بن مالک

سیف نے اسے ''وکیع بن مالک تمیمی '' خیا ل کیا ہے اور اس کے نسب کو ''حنظلہ بن مالک '' تک پہنچا یا ہے جو قبائل تمیم کا ایک قبیلہ ہے ۔ (١١)

ذہبی نے اپنی کتاب ''تجرید '' میں وکیع کا تعارف اس طرح کیا ہے:

سیف بن عمر تمیمی لکھتا ہے کہ وکیع بن مالک اور مالک نویرہ ایک ساتھ قبیلہ بنی حنظلہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے تھے۔

ابن حجر بھی اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں لکھتا ہے:

سیف نے نقل کیا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''وکیع بن مالک '' کو ''مالک نویرہ'' کے ہمراہ بنی حنظلہ اور بنی یربوع کے صدقات جمع کرنے پر مأمور فرمایا ، اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات تک آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے اس عہدے پر باقی تھے۔ تاریخ طبری میں ملتاہے کہ وکیع نے سجاح کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ، لیکن جب سجاح اپنے خاندان سمیت نابود ہوئی تو وکیع اپنی مأموریت کے علاقے میں صدقات کے طور پر جمع کی گئی رقومات کو اپنے ساتھ لے کر خالد بن ولید کے پاس گیا اور عذر خواہی کے ساتھ اپنا قرض چکا دیا اور معافی مانگ کر احسن طریقے پر پھر سے اسلام کی طرف پلٹ آیا۔

سیف نے مزید کہا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''وکیع دارمی'' کو ''صلصل'' کے ہمراہ عمرو کی مدد کے لئے بھیجا تا کہ وہ مرتدوں پر حملہ کریں ۔

ابن حجر کی تحریر سے واضح ہو تا ہے کہ یہ دانشور ''وکیع دارمی'' کی خبر کو دومنابع ، یعنی سیف کی کتاب سے اور طبری کی تاریخ سے نقل کرتا ہے اور قبائل تمیم میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں کے موضوع ، تمیمیوں کے مرتد ہونے کی خبر اور عمر و عاص کی مدد کے لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے صلصل کے ہمراہ وکیع کی مأموریت کا ذکر کر تا ہے۔

۲۱۳

انشاء اللہ اپنی جگہ پر اس کو تفصیل سے بیان کریں گے۔

اس طرح ابن حجر نے ، اپنی کتاب ''الاصابہ'' میں ''وکیع '' کا کوئی شعر نقل نہیں کیاہے جب کہ طبری و حموی نے اپنی کتابوں میں وکیع کے اشعار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

اسی طرح اس تمیمی دارمی یعنی ''وکیع بن مالک ''کا اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فہرست میں قرار پانا، اس کے اشعار اور رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے کارندہ کی حیثیت سے اس کی مخصوص مأموریت خاندان تمیم کے افتخارات میں درج ہوئے ہیں ۔

١٨۔ حصین بن نیار حنظلی

سیف نے ''حصین بن نیار حنظلی '' کو بنی حنظلہ سے تصور کیا ہے۔

ابن حجر نے اپنی کتاب ''الاصابہ '' میں حصین کے بارے میں یوں لکھا ہے:

سیف بن عمر ، اور اسی طرح طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ حصین بن نیار رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں میں شمار ہوتا تھا۔ ابن فتحون ١ نے بھی حصین کے حالات کے بارے میں سوانح نویسوں سے یہی سمجھا ہے۔

ابن حجر کہتا ہے کہ : سیف اور طبری نے کہا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ اس دانشور نے حصین بن نیار کے بارے میں ان مطالب کو ان دو منابع سے نقل کیا ہے۔

ابن حجر نے حصین کی زندگی کے حالات لکھتے ہوئے صرف اسی پر اکتفاء کی ہے کہ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ تھا۔اس کے علاوہ جو دوسری داستانیں طبری نے سیف سے نقل کرکے اس کے بارے

____________________

١)۔ابوبکر، محمد بن خلف بن سلیمان بن فتحون اندلسی، ملقب بہ ''ابن فتحون'' پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کا ایک دانشور ہے۔ اس کی تألیفات میں سے دو بڑی جلدوں پر مشتمل کتاب ''التذییل ''ہے ۔ اس کتاب میں اس نے ''عبد البر'' کی کتاب ''استیعاب'' کی تشریح و تفسیر لکھی ہے۔ ابن فتحون نے ٥١٩ھ میں اندلس کے شہر مرسیہ میں وفات پائی ۔

۲۱۴

میں ١٤ ھ کے حوادث کے ضمن ذکر کی ہیں قادسیہ کی جنگ میں شرکت اور ہراول دستے کی کمانڈ و غیرہ کو بیان نہیں کیا ہے ۔

اس کے علاوہ ابن حجر نے حموی کی ''معجم البلدان '' میں لفظ ''دلوث '' کے سلسلے میں بیان کی گئی خبر کے بارے میں یوں لکھا ہے :

سیف بن عمر نے ''عبد القیس '' نامی ایک مرد ملقب بہ ''صحار '' سے نقل کر کے کہا ہے کہ میں نے شہر اہواز کے اطراف میں ''ہرمزان'' سے جنگ میں شرکت کرنے والے شخص ''ہرم بن حیاں '' سے ملاقات کی۔ جنگ کا علاقہ ''دلوث '' اور دجیل کے درمیان تھا۔۔۔(یہاں تک کہتا ہے:)

اس منطقہ کو دوسری جگہ پر ''دلث '' پڑھا جاتا تھا ۔ اور حصین بن نیار حنظلی نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :

کیا اسے خبر ملی کہ ''مناذر'' کے باشندوں نے ہمارے دل میں لگی آگ کو بجھادیا؟

دلوث سے آگے ہماری فوج کے ایک گروہ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں چکا چوند ھ ہوگئیں ۔

اس مطلب کو عبد المؤمن نے حموی سے نقل کر کے اپنی کتاب ''مراصد الاطلاع ''میں درج کیا ہے۔

ابن حجر نے بھی لفظ ''مناذر'' کے بارے میں حموی کی بات پر توجہ نہیں کی ہے جب کہ وہ اپنی معجم میں لکھتا ہے :

اہل علم کا عقیدہ ہے کہ ١٨ھ میں عتبہ نے اپنی سپاہ کے سلمی و حرملہ نام کے دو سرداروں کو مأموریت دی۔۔۔(یہاں تک لکھتا ہے:)

سر انجام مناذر و تیری کو فتح کیا گیا ۔ اس فتح کی داستان طولانی ہے۔

حصین بن نیار نے اس سلسلے میں یہ اشعار کہے ہیں :

کیا وہ آگاہ ہوا کہ مناذر کے باشندوں نے ہمارے دل میں لگی آگ کو بجھادیا ؟

۲۱۵

انھوں نے ''دلوث''کے مقام سے آگے ہماری دفوج کی ایک بٹیلین کو دیکھا اور ان کی آنکھیں چکا چوندھ رہ گئیں ۔

ہم نے ان کو نخلستانوں اور دریا ئے دجیل کے درمیان موت کے گھاٹ اتار دیااورانھیں نابود کرکے رکھ دیا ۔

جب تک ہمارے گھوڑوں کے سموں نے انھیں خاک میں ملا کر دفن نہیں کیا ، وہ وہیں پڑے رہے ۔

طبری نے یہ آخری داستان نقل کرکے اس کو مفصل طور پر تشریح وتفسیر کے ساتھ درج کیا ہے۔ لیکن اپنی عادت کے مطابق اس سے مربوط رجز خوانیوں اور اشعار کو حذف کیا ہے ۔(١٢)

اس طرح ان علماء نے سیف کی احادیث پر اعتماد کرکے اس کے خیالات کی مخلوق ، یعنی خاندان تمیم کے ان چھ افراد کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب اور کارندوں کی فہرست میں قرار دے کر رجال اور پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں سے مربوط اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

اب ہم سیف کی احادیث میں ان سے مربوط مطالب کو ذکر کرنے کے بعد سب سے پہلے سیف کی احادیث کے اسناد کی تحقیق کرتے ہیں اور اس کے بعد اس کے افسانوں کا تاریخ کے مسلم حقائق کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں :

اسناد کی تحقیق

سیف کی پہلی حدیث میں خاندان تمیم میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں کے بارے میں بحث ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ مذکورہ قبائل میں افراد کے مرتد ہونے ، مالک نویرہ کی داستان اور پیغمبری کا دعویٰ کرنے والی خاتون '' سجاح '' کی داستان پر بحث ہوئی ہے ۔

دوسری حدیث میں بحرین میں ارتداد اور سیف کے جعلی صحابی وکیع بن مالک کے بارے میں بحث ہوئی ہے

تیسری حدیث میں بطاح ، وکیع او ر مالک نویرہ کی داستان کے ایک حصہ کا موضوع زیر بحث قرار پایا ہے

سیف نے مذکورہ تین احادیث کو صعب بن عطیہ بن بلال اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے اس میں باپ بیٹے ایک دوسرے کے راوی ہیں ہم نے گزشتہ مباحث میں بیان کیا ، چوں کہ ان کو سیف کے علاو ہ کہیں اور نہیں پایا جا سکتا ہے ، لہٰذا ان کو ہم نے سیف کی مخلوق کی حیثیت سے جعلی راوی کے طور پر پہچان لیا ہے ۔

۲۱۶

چوتھی حدیث ، جو مالک نویرہ کی بقیہ داستان پر مشتمل ہے ،کی سند کے طور پر سیف نے خزیمہ بن شجرہ عقفانی کا ذکر کیا ہے۔ علماے رجال اور نسب شناسوں نے اس کی سوانح کو سیف کی احادیث سے نقل کیا ہے !! دوسرا عثمان بن سوید ہے جس کے نام کو ہم نے سیف کے علاوہ کہیں اور نہ پایا۔

لیکن جہاں پر سیف حصین بن نیار کی بات کرتا ہے اس کی سند کے طور پر چند مجہول الھویہ افراد کا ذکر کرتا ہے !یہ ہے سیف کی احادیث کے اسناد کی حالت ہے !!

تاریخی حقائق

سیف کے افسانوں کا موازنہ کرنے کے لئے ہم ان منابع کی طرف رجوع کرتے ہیں جنھوں نے سیف کی روایت کو نقل نہیں کیا ہے ۔ اس سلسلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ابن ہشام اور طبری نے ابن اسحاق سے نقل کر کے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں کے موضوع کے بارے میں اس طرح بیان کیا ہے: ۔ (١٣)

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گورنر ون اور عاملوں کو اسلامی ممالک کے قلمرو میں حسب ذیل ترتیب سے معین فرمایا :

١۔مہاجربن ابی امیہ کو صنعاء ، بھیجااور وہ اسود کی طرف سے اس کے خلاف بغاوت تک وہاں پر اسی عہدے پر فائز تھا ۔

٢۔زیاد بن لبید جس نے بنی بیاضہ کے ساتھ برادری کا معاہدہ کیا تھا کو حضرموت بھیجا اور وہاں کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی

اسے سونپی ۔

٣۔ عدی بن حاتم کو قبائل طے وبنی اسد کے لئے اپنا کا رندہ مقر فرمایا اور اس علاقے کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی ۔

۲۱۷

٤۔مالک بن نویرہ کو بنی حنظلہ کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری دی ۔

٥۔زبر قان بن بدر کو بنی اسد کے ایک علاقہ کی ذمہ داری دی ۔

٦۔قیس بن عاصم کو بنی اسد کے ایک دوسرے علاقہ کا کارندہ مقرر فرمایا اور اس علاقہ کے صدقات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی اسے سونپی ۔

٧۔علاء بن حضر ی کوبحرین کی حکومت سونپی ۔

٨۔حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو صدقات جمع کرنے کے علاوہ نجران کے عیسائیوں سے جزیہ وصول کر کے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچانے پر مأمور فرمایا ۔ چوں کہ اس سال ١٠ھ میں جب ذیقعدہ کا مہینہ آیا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فریضہ حج انجام دینے کے لئے عزیمت فرمائی....

اس کے بعد طبری اور ابن ہشام نے حضرت علی علیہ السلام کی نجران سے واپسی ، ان کا

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملحق ہو کر فریضہ حج کے لئے جانا ، پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مکہ سے مدینہ کی طرف واپسی اور اواخر صفر میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے واقعات کو سلسلہ وار لکھا ہے ۔

اس حدیث کے مطابق تمیم کے مختلف قبائل میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حسب ذیل تین گماشتے مقرر ہوئے تھے ۔

مالک نویرہ

قیس بن عاصم اور

زبرقان بن بدر

اور سیف نے ان میں اپنی طرف سے مزید آٹھ افراد کا اضافہ کرکے ان کی تعداد گیارہ افراد تک بڑھا دی ہے !

تمیم کے مختلف قبائل کے مرتد ہونے کے موضوع کو ہم نے کسی ایسے معتبر مورخ کے ہاں نہیں پایا جس نے سیف سے روایت نقل نہ کی ہو صرف مالک نویرہ کی داستان اور خالد بن ولید کے ہاتھوں اس کی دلخراش موت کے بارے میں پایا ، جسے طبری ،ابوا لفرج اصفہانی اور وثیمہ وغیرہ جیسے معروف دانشوروں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ ہم نے اس داستان کو طبری کی تاریخ سے حاصل کیا ہے ۔

۲۱۸

مالک نویرہ کی داستان

طبری عبد الرحمن بن ابی بکر سے نقل کرکے مالک کی موت کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے : (١٤)

جب خالد سر زمین بطاح میں پہنچا تو اس نے ضراربن ازور کو ایک گروہ کی قیادت سونپ کر جس میں ابو قتادہ اور حارث بن ربعی بھی موجود تھے اس علاقہ کے ایک حصے کے باغیوں اور مرتدوں کی شناسائی کے ئے مامور کیا ۔

ابو قتادہ خود اس ماموریت میں شریک تھا ۔ چوں کہ اس نے خالد کے پاس مالک کے مسلمان ہونے کی شہادت دی تھی ، اور خالد نے اس کی شہادت قبول نہیں کی تھی ، اس لئے اس نے قسم کھائی کہ زندگی بھر خالد کے پرچم تلے کسی بھی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا ۔ ابو قتادہ نے مالک کی داستان کی یوں تعریف کی ہے :

ہم رات کے وقت قبیلہ ٔمالک کے پاس پہنچے اور انھیں زیر نظر قرار دیا ۔ لیکن جب انھوں نے ہمیں اس حالت میں اپنے نزدیک دیکھا تو ڈر گئے اور اسلحہ ہاتھ میں لے لیا ہم نے یہ دیکھ کر ان سے مخاطب ہوکر کہا:

ہم سب مسلمان ہیں !

انھوں نے کہا

ہم بھی مسلمان ہیں :

ہم نے کہا:

پس تم لوگوں نے کیوں اسلحہ ہاتھ میں لے لیا ہے ؟!

انھوں نے جواب دیا :

تم کیوں مسلح ہو؟

ہم نے کہا:

ہم اسلام کے سپاہی ہیں ۔اگرتم لوگ سچ کہتے ہو تو اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دو !

انھوں نے ہماری تجویز قبول کرتے ہوئے اسلحہ کو زمین پر رکھ دیا اس کے بعد ہم نماز کے لئے اٹھے اور وہ بھی نماز کے لئے اٹھے اور

۲۱۹

گویا خالد اور مالک کے درمیاں ہوئی گفتگو خالد کے لئے مالک کو قتل کرنے کی سند بن گئی تھی،کیوں کہ جب مالک نویرہ کو پکڑ کے خالد کے سامنے حاضر کیا گیا تو اس نے اپنی گفتگو کے ضمن میں خالد سے کہا:

میں یہ گمان نہیں کرتا کہ تمھارے پیشوا پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایسی ویسی کوئی بات کہی ہو !!

خالد نے جواب میں کہا:

کیا تم اسے اپنا پیشوا نہیں جانتا ؟ اس کے بعد حکم دیا کہ اس کا اور اس کے ساتھیوں کا سر تن جدا کردیں !! پھر حکم دیا کہ تن سے جد ا کئے گئے سروں کو دیگ میں ڈال کرجلتی آگ پر رکھ دیں ۔

خالد پر عمر کا غضب ناک ہونا

ٍٍ جب مالک نویرہ کے قتل کی خبر سے عمر ابن خطاب آگاہ ہوا تو اس نے اس موضوع پر ابو بکر سے بات کرتے ہوئے اس سے کہا:

اس دشمن خدا خالد ولید نے ایک بے گناہ مسلمان کا قتل کیا ہے اور ایک وحشی کی طرح اس کی بیوی کی عصمت دری کی ہے ۔

جب خالد مدینہ لوٹا ۔سیدھے مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں چلا گیا ۔ اس وقت اس کے تن پر ایک ایسی قبا تھی جس پر لوہے کے اسلحہ کی علامت کے طور پر زنگ کے دھبے لگے ہوئے تھے ، سر پر جنگجوئوں کی طرح ایسا عمامہ باندھا تھا جس کی تہوں میں چند تیر رکھے گئے تھے ۔ جوں ہی عمر نے خالد کو دیکھا ، غضبناک حالت میں اپنی جگہ سے اٹھ کر زور سے اس کے عمامہ سے تیروں کوکھینچے کر نکالا اور انھیں غصے میں توڑ ڈالا اور بلندآوازسے اس سے مخاطب ہو کر کہا:

مکاری اور ریا کاری سے ایک مسلمان کو قتل کر کے ایک حیوان کے مانند اس کی بیوی کی عصمت لوٹتے ہو ؟! خدا کی قسم اس جرم میں تجھے سنگار کروں گا !!...

ہم نے اس مطلب کو طبری سے نقل کیا ہے ۔

۲۲۰