ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب17%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 126912 / ڈاؤنلوڈ: 4228
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب : ایک سو پچاس جعلی اصحاب(جلدسوم )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

عراق کے ایک نامور مصنف استاد جعفر الخلیلی کا مقالہ

استاد جعفر الخلیلی ، ادبیات عرب کے نامور داستان نویسوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ کئی روزناموں ، من جملہ '' الراعی'' اور '' الھاتف'' کے مالک ہیں ۔ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ جن میں نمونہ کے طور پر '' ھکذا عرفتھم'' اور '' فی قری الجن'' قابل ذکر ہیں ۔ جناب جعفر الخلیلی ، مقدس مقامات کی تاریخ اور دیگر علمی و ادبی آثار کے سلسلے میں تسیس کئے گئے '' ُموسوعہ العتبات المقدسہ'' نام کے ایک عظیم کمپلیکس کو بھی چلاتے ہیں ۔

استاد محترم نے اپنے ایک رسالہ میں کتاب '' ایک سو پچاس جعلی اصحاب '' کے بارے میں یوں اظہار نظر کیا:

''١٥٠ جعلی اصحاب'' نامی کتاب، اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ، جس میں ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے ٣٩ ایسے اصحاب کی زندگی کے حالات درج ہیں ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ، بلکہ انہیں ایک شخص نے خلق کرکے صحابی کا لباس ان کے زیب تن کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کسی نہ کسی موضوع پر کوئی حدیث گھڑ کر ان سے نسبت دی ہے۔ اس شخص نے اپنے چند خیالی راویوں کے ذریعہ ان افسانوی اصحاب کو حقیقت کا روپ بخشنے کی کوشش کی ہے

یہ قصہ گو ، نسب شناسوں اور محققوں کی نظر میں زندیقی ، فریب کار اور احادیث میں دخل و تصرف کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے اس کے بارے میں سادہ اور مختصر طور پر یوں کہا گیا ہے:

'' اس کی روایتوں کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور وہ ناقابل اعتبار ہیں '' ۔

یہ کتاب عظیم دانشور ، انتھک محقق اور اصول دین کالج بغداد کے پرنسپل سید مرتضی عسکری کی تخلیق اور تلیف ہے جو علمی اور دینی پیشوا کی حیثیت سے کاظمین اور بغداد جیسے دو بڑے شہروں کے اکثر باشندوں میں مقبول عام ہیں ۔

۷

جناب عسکری علمی مقام ومنزلت کے علاوہ ایک ایسی خصوصیت کے مالک ہیں جو دوسرے مصنفین اور محققین میں بہت کم پائی جاتی ہے اور وہ ہے ان کا عجیب اور انوکھے علمی موضوعات کا انتخاب کرنا ، ان پر تسلط اور بحث و تحقیق کا قارئین پر اثر ڈالنا جو انھیں حیرت میں ڈال کر ان کو داد دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔

استاد جب اس قسم کے موضوع پر بحث و تحقیقی کرنے بیٹھتے ہیں تو ایسے مسلط اور مسلح نظر آتے ہیں کہ کسی قسم کی کمی محسوس ہی نہیں کرتے جس کیلئے انھیں دوڑ بھاگ کرنے کی ضرورت ہو وہ کبھی بھی خاص علمی وا ستدلالی بحث سے ہٹ کر جذبات اور احساسات سے کام نہیں لیتے۔

یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ تاریخ کے اہم اورتاریک زاویوں کی علمی بحث و تحقیق کے دوران اس کے اختتام تک اپنے جذبات اور نفسانی خواہشات پر قابو پاسکے ۔ کیونکہ اکثر محققین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ تاریخ کو من پسند صورت میں لکھیں اور تمنّا رکھتے ہیں کہ تاریخی ان دلی خواہشات کے مطابق ہوں !!

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حقیقت میں اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات کا گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو صرف علمی بحث و تحقیقی کیلئے وقف کرنے والے علمااور محققین بہت کم ہوتے ہیں ۔ ایسے علماء اور محققین گنے چنے ہی نظر آتے ہیں جو اپنے قلم کو اپنی نفسانی خواہشات ، ذاتی اور مذہبی جذبات اور کسی خاص گروہ کی طرفداری سے بالا تر رہ کو وقائع کو ثابت کرتے وقت صرف محسوس اور مستند علمی حقیقتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے منطقی ، معقول اور قابل قبول امور کی پیروی کرسکتے ہیں ۔

ایسے حالات میں جب کہ علماء اور محققین ایسے بنیادی موضوعات کی طرف کم توجہ دیتے ہیں ، استاد عسکری نے اس قسم کی بحث و تحقیق کا بیڑا اٹھایا ہے ، جس کے نتیجہ میں حدیث و تاریخ کی بحثوں پر مشتمل اپنی گراں بہا علمی کتاب '' عبد اللہ ابن سب'' تالیف فرماکر ہمارے اختیار میں قرار دی ہے :

استاد محترم نے اس کتاب میں سیف ابن عمر تمیمی کی زندگی کے حالات ، اس کے اور اس کی احادیث کے بارے میں محدثین اور ثقات کے نظریات ، علماء اور محدثین کی نظر میں سیف کی احادیث اور افسانوں کی قدر و قیمت ، سر انجام اس کو زندیقی اور جھوٹی احادیث گھڑنے کا مجرم ٹھہرانے کے سلسلے میں اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے۔

۸

اس بارے میں مفصل بحث کے بعد استاد اسی نقل شدہ روایات کے ذریعہ سے '' عبدا للہ ابن سب'' کی شخصیت پر بحث و تحقیق کرتے ہیں اور اس جستجو میں صحیح علمی روش کے مطابق '' عبد اللہ ابن سبا'' کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل ہوئی تمام احادیث اور روایتوں کی تحقیق کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مؤرخین کی تمام تائیدات اور وضاحتوں ، خاص کر ابو جعفر محمدبن جریر طبری نے جو کچھ نصوص اور وضاحتوں کی صورت میں '' عبدا للہ ابن سب'' کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ،اس سے ا ستفادہ کرتے ہوئے سیف کے تمام افسانوں کو منعکس کرکے ثابت کردیتا ہے کہ اس شخص ( عبد اللہ بن سب) سے مربوط روایات کا سرچشمہ صرف سیف بن عمر کے افسانے ہیں ، اس کے علاوہ کسی اور مصدر و مآخذ میں ان کا ذکر نہیں ہوا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بعض علماے متقدمین ، '' عبد اللہ بن سب'' کے خیالی شخصیت ہونے اور سیف بن عمر تمیمی کے ذریعہ اس کی زبانی جھوٹی احادیث جاری کرانے کے بارے میں متوجہ ہوئے تھے۔

متاخرین اور عصر حاضر کے علماء میں سے ، عرب دنیا کے بے مثال ادیب و مصنف ڈاکٹر طہ حسین نے بھی '' عبد اللہ ابن سبا'' کے ایک افسانوی اور خیالی شخصیت ہونے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے متقدمین اور متاخرین میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہیں تھا جو سیف بن عمر جیسے افسانہ ساز اور جھوٹے آدمی کے حالات اور ا س کی شخصیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی زحمت اٹھاتا ، حقیقت میں سیف بن عمر ایک ایسا شخص تھا جس نے بڑی آسانی کے ساتھ اسلامی تاریخ میں کئی دلاور اور سورما خلق کئے اور ان کی زبان پر اپنی من پسند احادیث ، اشعار اور رجز خوانیاں جاری کرکے اپنے اغراض و مقاصد کو ان سے نسبت دی ہے ۔ جبکہ وہ خود جھوٹ ، افسانے سازی ، دلاوریاں جعل کرنے اور زندیقی و گمراہی میں معروف تھا۔

جناب عسکری پہلے محقق ہیں جنھوں نے '' ابن سبا'' کی روایت کے سلسلے میں جستجو کرنے کیلئے قدم اٹھایا اور سیف کے ذریعہ سے اس کو خلق کرنے کی کیفیت قارئین کے اختیار میں دی ، اس طرح کسی کیلئے حتی علمی تحقیق سے دور کا بھی واسطہ نہ رکھنے والوں کیلئے بھی چون و چرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔

۹

سیف کے افسانوں اور اس کے جھوٹ کی تحقیق کے دوران جناب عسکری کی نظر چند مشکوک احادیث و روایات پر پڑتی ہے ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس (سیف) نے ان مشکوک روایتوں کو بعض نامور صحابیوں سے نسب دی ہے ۔

یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا کہ استاد نے '' عبد اللہ بن سب'' کی بحث و تحقیق کو ادھورا چھوڑ کر ان مشکوک روایتوں اور ان کے راویوں کے بارے میں تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔

استاد نے اس قسم کی احادیث کی روایت کرنے والے اصحاب کو پہچاننے کیلئے تاریخ کے صفحات میں مسلسل پانچ سال تک انتھک جستجو اور تلاش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ :

١۔ سیف بن عمر کے ١٥٠ ایسے راویوں کا جعلی ہونا آشکار ہوا ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا اور سیف نے انھیں حقیقی ، مسلم اور ناقابل انکار اصحاب کی حیثیت سے پیش کرکے ان سے روایتیں بھی نقل کی ہیں ۔

٢۔ سیف کی روایت کی گئی زیادہ تر احادیث بے بنیاد ہیں اور صرف سیف کے تخیل کی پیدائش ہیں اور اسی کی زبان پر جاری ہوئی ہیں ۔

٣۔ اس کی بعض احادیث کسی حد تک حقیقی تھیں لیکن سیف نے خاندانی تعصب اور زندیقی ہونے کے ملزم ٹھہرائے جانے کے پیش نظر ان احادیث کو اپنے من پسند بنانے کیلئے ان میں تحریف اور تصرف کرکے ان کاحلیہ ہی بگاڑ کے رکھدیا ہے اور اس طرح ان احادیث کی اصل کے ساتھ کوئی شباہت ہی باقی نہیں رہی ہے بلکہ بالکل جھوٹی احادیث بن کر سامنے آگئی ہیں ۔

٤۔ بہت سی جگہوں پر مشاہدہ ہوتا ہے کہ سیف اپنی حدیث کو شروع میں ایک نامور اور حقیقی راوی یا محدث سے نقل کرتا ہے لیکن آخر میں راویوں کے سلسلہ کو اپنے کسی جعلی صحابی تک پہنچاتا ہے اس طرح انسان ابتداء میں سوچتاہے کہ یہ روایت صحیح اور بے عیب ہے لہذا تصور کرتا ہے کہ حدیث کے راویوں کی دوسری کڑیاں بھی صحیح ہوں گی جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی چالاک اور باہوش مؤرخ ایسی احادیث پر دقت سے نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی احادیث کو جھوٹ اور بے بنیاد طور پر ایسے نامور راویوں سے نسبت دے کر انھیں ان کی زبان پر جاری کیا گیا ہے ۔ سیف نے خاص طور پر یہ کام کیا ہے تا کہ یہ دکھائے کہ یہ روایت اس سے نقل کی گئی ہے ، جبکہ نامور راویوں سے منقول اس قسم کے مطالب سیف بن عمر تمیمی کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملتے۔

۱۰

بہر حال ، مشکلات کے باوجود ، استاد نے اس وسیع علمی اور تحقیقی کام کی انجام دہی کیلئے مصمم عزم و ارادہ کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھا ہے جبکہ اس قسم کی علمی بحث و تحقیق کی راہ میں موجود مشکلات اور رکاوٹوں کے پیش نظر ایسے کام کو انجام دینا ایک گروہ کیلئے مشکل اور ناقابل برداشت ہوتا ہے ، ایک شخص کی بات ہی نہیں ! ہاں ان تمام مشکلات و موانع کے باوجود انہوں نے اس کام کو بہت ہی اچھی طرح انجام دیا ہے ۔

اس گراں بہا کتاب میں انتہائی باریک بینی کا لحاظ رکھنے کے علاوہ دیگر خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں سیف کی ہر خیالی شخصیت کے بارے میں الگ الگ باب میں مفصل بحث کی گئی ہے اس کے خیالی اماکن اور جگہوں کے بارے میں بھی تحقیق کی گئی ہے اس کے علاوہ ہر ایک فصل و بحث کے آخر میں اس سے متعلق مصادر اور مآخذ کو منظم و مرتب کرکے درج کیا گیا ہے تا کہ قارئینکو اس کتاب کے علاوہ کہیں اور مراجعہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے اس طرح اس کتاب میں سیف کے جعل کئے گئے اصحاب ، ان سے نسبت دی گئی احادیث اور ان کی زبانی جاری کئے گئے اشعار و دلاوریوں جیسے مطالب کی وجہ سے پیدا شدہ شک و شبہات دور ہوجائیں ۔

مؤلف محترم نے کتاب کے اس حصہ میں سیف بن عمر تمیمی کے بلا واسطہ خلق کئے گئے ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے مندرجہ ذیل اصحاب کے حالات پر بحث و تحقیق کی ہے:

١۔ قعقاع بن عمرو بن مالک تمیمی

٢۔ عاصم بن عمرو بن مالک تمیمی

٣۔ اسود بن قطبہ بن مالک تمیمی

٤۔ ابو مفزر تمیمی۔

٥۔ نافع بن اسود بن قطبہ تمیمی ۔

٦۔ عفیف بن منذر تمیمی۔

٧۔ زیاد بن حنظلہ تمیمی۔

٨۔ حرملہ بن مریطہ تمیمی۔

٩۔ حرمہ بن سلمی ، تمیمی۔

۱۱

١٠۔ ربیع بن مطر بن ثلح تمیمی۔

١١۔ ربعی بن افکل تمیمی۔

١٢۔ اطّ بن ابی اطّ تمیمی۔

١٣۔ سعیر بن خفاف تمیمی۔

١٤۔ عوف بن علاء جشمی تمیمی۔

١٥۔ اوس بن جذیمہ تمیمی۔

١٦۔ سہل بن منجاب تمیمی۔

١٧۔ وکیع بن مالک تمیمی۔

١٨۔ حصین بن نیار حنظلی تمیمی۔

١٩۔ حارث بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٠۔ زبیر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢١۔ طاہر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٢۔ عبید بن صخر بن لوذان سلمی۔

٢٣۔ عکاشہ بن ثور، غوثی۔

٢٤۔ عبد اللہ بن ثور غوثی۔

٢٥۔ عمرو بن حکم قضاعی۔

٢٦۔ امرؤ القیسں ، کلبی۔

٢٧۔ وبرة بن یحنس ، خزاعی۔

٢٨۔ اقرع بن عبدا للہ حمیری۔

٢٩۔ صلصل بن شرحبیل۔

٣٠۔ عمرو بن محجوب، عامری۔

۱۲

٣١۔ عمر بن خفاجی ، عامری۔

٣٢ ۔عوف ورکانی۔

٣٣۔ عویف زرقانی۔

٣٤۔ قضاعی بن عمرو۔

٣٥۔ خزیمہ بن ثابت انصاری

٣٦۔ بشیر بن کعب

معزز مصنف نے اس کتاب کے مقدمہ میں ان عوامل پر مفصل روشنی ڈالی ہے ، جن کے سبب قدیم زمانے سے آج تک مصنفین اور مؤرخین نے خلافِ حقیقت اور جھوٹ پر مبنی ان مطالب کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بنیادی اسباب کے طور پر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور وقت کے حکام اور طاقتور طبقہ کی مصلحتوں کے موافق عمل کرنا بیان کیا گیا ہے ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے اور پہلی صدی ہجری میں نیز اس کے بعد بھی مختلف معاشروں پر خاندانی تعصبات کی زبردست حکمرانی تھی ۔ اس کے پیش نظر ہم آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ سیف بن عمر تمیمی نے کیوں اپنے جعلی اصحاب میں سے زیادہ تر گروہوں کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ؟!

اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سب سے پہلے حامی و مددگار کو قبیلۂ تمیم سے کیوں خلق کیا ؟ جب کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ترین رشتہ دار جیسے ابو طالب بنی ہاشم سے دوسرے اعزہ موجود تھے!۔

سیف نے اسلام کے پہلے شہید کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ کو تمیمی جعل کیا ہے ۔ حتی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ صرف ایک تمیمی پروردہ کی تخلیق پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو اور منہ بولے بیٹے بھی تمیم سے خلق کئے ہیں ۔ !!

۱۳

یہ وہ مطالب ہیں جن کے بارے میں مصنف محترم نے اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے یہ وہ موضوعات ہیں جو ہمارے علماء و محققین کی طرف سے توجہ ، تحقیق، جستجو، احادیث کی چھان بین اور جانچ پڑتال نہ کرنے کے سبب صدیوں تک دانشوروں سے پوشیدہ رہے ہیں ۔

اہم مسئلہ زندیقی ہے ، جس کا سیف ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ چیز اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے بلکہ مجبور کرتی ہے کہ اپنے عقائد و افکار پر اسلام کا لبادہ ڈال کر اپنے ناپاک عزائم پر عمل کرسکے۔ اس طرح اسلام کی صحیح تاریخ میں شک و شبہہ ایجاد کرکے رخنہ اندازی کرے ۔ چونکہ سیف تخیلات پر ید طولیٰ رکھتا تھا۔ اس لئے وہ اپنے عقائد و افکار کو آسانی کے ساتھ متعدد احادیث اور روایتوں کی صورت میں پیش کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ان روایتوں کو اس نے ایک دوسرے پر ناظر کی صورت میں جعل کیا ہے ان روایتوں میں سے بعض کو اس نے خیالی راویوں سے نقل کیا ہے اور بعض کو مشہور و معروف راویوں سے نسبت دی ہے اس طرح اپنے افکار و عقائد پر مبنی مطالبات و خواہشات کو ان کی زبانی بیان کرتا ہے ، اس نے یہ روایتیں ایسے راویوں سے منسوب کی ہیں جو سالہا سال پہلے اس دنیا سے چل بسے ہیں اور زندہ نہیں ہیں جو اپنے بارے میں لگائی گئی تہمتوں کی تردید کرسکیں یا ان سے منسوب کی گئی روایتوں سے انکار کریں ۔

اس کتاب نے علمی تحقیق میں ایک نیا باب کھولا ہے تعصب و جذبات سے بالاتر رہ کر تاریخ نویسی ، تاریخ کے صفحات سے ملاوٹ ، جھوٹ اور توہمات کو پاک کرنے اور حدیث و روایات کو علم کی کسوٹی پر پرکھنے میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتا ب ہے جس نے عام طور پر معجزانہ اور حیرت انگیز حد تک اثرات ڈالے ہیں ۔

آخر میں اس محنت کش اور انتھک جستجو کرنے والے مصنف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مقدس مقصد تک پہنچنے کیلئے تن تنہا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو حقیقت میں منتخب ماہروں ، دانشوروں اور علم و ادب کے محققوں کی ایک ٹیم کا اجتماعی کام ہے۔

بغداد ، جعفر الخلیلی

۱۴

پہلا حصہ :

تحریف

*قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں ۔

*گزشہ ادیان میں تحریف کا مسئلہ۔

*سنت میں تحریف کے سلسلہ میں متقدمین کی تقلید۔

*آسمانی کتابوں میں گزشتہ امتون کی تحریفیں ۔

*توریت میں تحریف کے چند ثبوت

*قرآن مجید ایک لافانی معجزہ

*قرآن مجید میں تحریف کرنے کی ایک ناکام کوشش

*اسلامی مصادر کی تحقیق ضروری ہے۔

۱۵

قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں

تمام اصول ، عقائد ، احکام اور دوسرے معارف و اسلامی علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ ان کی تشریح و تفسیر اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتار و رفتار میں مشخص ہوا ہے ، جسے حدیث و سیرتِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہا جاتا ہے ۔ اسی لئے خدائے تعالیٰ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے مانند قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

( اَ طِیعُو الله و َ رَ سُولَهُ ) ١

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کو اپنے احکام کی نافرمانی جانتے ہوئے فرماتا ہے :

( وَ مَنْ یَعْصِ الله و َ رَ سُولَهُ فَاِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّم) ٢

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کیلئے جہنم ہے۔

____________________

١۔ انفال ١، آل عمران ١٣٢، نساء ٥٩ انفال ٢٠، ٤٦، نور ٥٤م محمد٣٢. مجادلہ ١٣، تغابن ١٢ ، نور ٥٦، آل عمران ٥٠، شعراء ١٠٨، ١١٠، ١٢٦، ١٣١،١٤٤، ١٥٠، ١٦٣، زخرف١٦٣، مریم ٢ ، نساء ٦٤۔

٢۔ جن ٢٢، نساء ٤٢، ہود٥٩،حاقہ ١٠، شعراء ٢١٦، نوح ٢١، نساء ١٤، احزاب ٣٦ مجادلہ ٨و ٩ ۔

۱۶

خدا اور اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے وضع کئے گئے احکام و فرامین کے مقابلہ میں مؤمنین کے اختیارات کو سلب کرتے ہوئے فرماتا ہے :

(وَ مَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُولُهُ َمْراً اَنْ یَکُونَ لَهُم الْخَیَرَةُ منْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ یَعْصِ اللهَ وَ رَ سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُبِیناً) ١

اور کسی مؤمن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔

خدائے تعالی نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی گفتار و رفتار میں اپنی حجت قرار دیکر انھیں امت کا پیشوا مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں ۔ جیسا کہ فرماتا ہے :

(فَآمِنُوا بِاﷲِ وَ رَسُولِهِ النَّبِیِّ الْاُُمِّیِّ الَّذِی یُوْمِنُ بِاﷲِ وَ کَلِمَاتِهِ وَ تَبِعُوهُ ) ٢

لہذا اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لے آؤ جو اﷲ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کا اتباع کرو...

دوسری جگہ فرماتا ہے:

إ نْ کُنْتمُ تُحِبُّونَ اﷲَ فَاتَّبِعُونِی )

____________________

١۔احزاب ٣٦

٢۔ اعراف ١٥٨ ،اس سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات موجودہیں ۔

۱۷

کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ ١

اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے :

(لَقَد کَانَ لَکُمْ فِی رَ سُولِ اﷲِ اُسْوَة حَسَنَة)

بے شک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تم لوگوں کیلئے بہترین نمونۂ عمل ہیں ۔ ٢

یہ اور اس کے علاوہ بھی اس موضوع کے بارے میں خدا کے ارشادات موجود ہیں ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس سلسلے میں چند فرمائشیں بیان کیہیں ، جن میں سے بعض مکتبِ خلفاء کی حسب ذیل صحیح اور معتبر کتابوں میں درج ہوئی ہیں :

١۔'' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ''مسند'' احمد اور اسی طرح سنن ابو داؤد میں ''کتاب السنة کے ''باب لزوم السنة'' میں یوں آیا ہے:

'' مقدام بن معدی کرب ٣ نے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

'' جان لو کہ مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے اور اس کے ہمراہ اس کے ہم پایہ سنت بھی ہوشیا ررہو عنقریب ایک شکم سیر مرد تخت سے ٹیک لگائے ہوئے کہے : صرف قرآن

____________________

١۔ آل عمران ٣١

٢۔ احزاب ٢١

٣۔مقدام معدی کرب کندی ، کندہ کے دوسرے نمائندوں کے ہمراہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے مقدام نے رسول خدا سے ٤٧ احادیث نقل کی ہیں کہ ان سب کو مسلم کے علاوہ تمام صحاح اور سنن میں نقل کیا گیا ہے مقدام نے شام میں ٨٧ ھ میں ٩١ سال کی عمر میں وفات پائی۔''اسد الغابہ ''(٤ ٤١١)، ''جوامع السیرة '' (ص ٢٨٠) ،'' تقریب التہذیب ''(٢ ٢٧٢)

۱۸

لے لو جو کچھ اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو کچھ بھی اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو''

''سنن'' ،ترمذی میں مذکورہ حدیث میں یوں اضافہ ہوا ہے:

''جبکہ بے شک جس چیز کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حرام قرار دیا ہے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے''

'' سنن'' ابن ماجہ میں مذکورہ حدیث کے آخرمیں آیا ہے :

'' خدا کی طرف سے حرام قرار دینے کی طرح ہے''

''مسند'' احمد حنبل میں مقدام معدی کرب سے روایت نقل ہوئی ہے کہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خیبر کی جنگ میں بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: وہ وقت دور نہیں جب تم میں سے ایک شخص میری باتوں کی تردید کرنے پر آتر آئے گا اور جب میری حدیث اسے سنائی جائے گی تو وہ آرام سے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا ہوا کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب موجود ہے جس چیز کو اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو گے اور جس چیز کو حرام پائیں گے اسے حرام جانو ۔

ہوشیاررہو ! جس چیز کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حرام قرار دیا ے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔

٢۔ '' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد حنبل اور '' سنن '' ابو داؤد میں '' عبیدا ﷲ بن ابی رافع '' ۱

____________________

١۔عبید اللہ ابو رافع ابن ''ابو رافع ''پیغمبر خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آزا دکیا ہواہے ۔عبیدا للہ کے ذمہ امیر المؤمنین کے دیوان کی کتابت تھی ۔وہ محدثین کے تیسرے طبقہ کے ثقات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی حدیثوں کو احادیث کی کتابیں لکھنے والے تمام مؤلفین نے نقل کیاہے '' تقریب التہذیب '' (١ ٥٣٢ ) نمبر ١٤٤١

۱۹

اپنے باپ سے نقل کرکے کہتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ہوشیار رہو ! میں تم میں سے اس شخص کو اپنے مسند پر خوشحال تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا نہ دیکھوں کہ جس کے سامنے میرا وہ فرمان سنایا جائے کہجس میں میں نے کسی کا م کے انجام دینے یا اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ، اور وہ جواب میں کہے: نہیں جانتا! میں جو کچھ خدا کی کتا ب میں پاؤں گا اسی پر عمل کروں گا !!

'' مسند '' احمد میں مذکورہ حدیث کا آخری جملہ یوں آیا ہے :

'' میں نے اسے خدا کی کتاب میں نہیں پایا ہے''

٣۔ '' سنن'' ابو داؤد ، کتاب خراج کے باب تعشیر اہل ذمہ '' میں '' عرباض بن ساریہ '' ١ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا :

ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ خیبر میں پہنچے ، اس وقت میں کہ چند اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھے ، خیبر کے باشندوں کا رئیس ، جو ایک بد اخلاق شخض تھا ، آگے بڑھا اور گستاخانہ انداز میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہنے لگا :

اے محمد ! کیایہ صحیح ہے کہ تم ہمارے مویشیوں کو مار ڈالو ، ہمارے میوؤں کو کھاوجاؤ اور ہماری عورتوں کو اذیت پہنچاؤگے ؟!

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس موضوع سے سخت غصہ میں آئے اور '' عبدا لرحمان عوف '' سے مخاطب ہوکر فرمایا:

____________________

١۔ ابو نجیح ، عرباض بن ساریۂ سلمی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٣١ حدیثیں روایت کی ہیں ااور '' بخاری و مسلم کے علاوہ '' صاحبان صحاح نے ان حدیثوں کو نقل کیا ہے۔ عرباض ٧٥ ھ میں یا ابن زبیر کے فتنہ کے وقت میں اس دنیا سے چل بسا ۔ '' اسد الغابة (٣ ٣٩٩) '' جوامع السیرہ '' ص ٢٨١ اور '' تقریب التہذیب ( ٢ ١٧)

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

ہے ہم نے سنا ہے کہ ایک دین اسلام اور ایک مذہب شیعہ نام کا پایا جاتا ہے اور ہم نے اس کو قبول کیا ہے؛ لیکن کیا ہم نے حقیقت میں کبھی اس بات پر غور کیا اور سوچا کہ اس کی عقلی دلیل کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں نے اجتماعی اسباب اور عوامل سے متاثر ہو کر شیعہ مذہب کو قبول کیا ہے؛ اور اصلاً ان لوگوں نے اس سلسلہ میں کوئی تحقیق اور جستجو نہیں کی ہے اور نہ اس کی کوئی دلیل تلاش کی ہے ؛ہاں مجلس ،اسکول اور مدرسے میں کبھی اس سلسلے میں کچھ پڑھا اور سنا ہے لیکن خود سے اپنے اندر ابتدائی طور پر یہ جذبہ اور خواہش نہیں ہوئی کہ اس بارے میں جاکر تحقیق اور جستجو کریں ، اگر ہے بھی تو بہت کم لوگوں میں ۔اکثر لوگ جذبات اور احساسات سے متاثر ہوکر یا مادی اور معنوی جذبوں کے تحت حرکت کرتے ہیں منطق اور دلیل کے ساتھ بہت کم لوگ متوجہ ہوتے ہیں ؛ عام انسانوں کے اندر جو چیز اصلی محرّک ہے وہ فائدہ یا نقصان اور خوف یاامیدہے وہی چیز جو کہ اسلامی تہذیب میں خوف ورجا کے نام سے پائی جاتی ہے یعنی انسان کسی چیز سے خوف رکھتا ہے یا اس چیز میں اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہیتو وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا یہ کہ اس چیز میں دولت ، بلندی اور شہرت تو اس کی طرف قدم بڑھاتا ہے یا پھر یہ کہ بھوک ، بیکاری، تازیانہ، قید خانہ اور سزا کے خوف کی وجہ سے مجبور ہو کر اس کام کو کرتا ہے،

۱۸۱

یہ مثل بہت مشہور ہے کہ انسان خوف و امید کی وجہ سے زندہ ہے ؛عام طور سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر سبق اور درس پڑھے گا تو اس کی وجہ سے دوستوں اور ساتھیوں سے پیچھے نہیں رہ جائے گا یا تعلیم اس لئے حاصل کرتا ہے کہ اس کے بعد کوئی مفید کام کرے گا اور پیسہ وغیرہ کما سکے گا یا اس لئے کہ سبق پڑھ کر ماں باپ کی ڈانٹ پھٹکار اور دوسروں کے طعنہ سے محفوظ رہے گا کیونکہ اکثر لوگ ایسے ہی ہیں ،لہذٰا جیسا کہ آیہ کریمہ میں ہے کہ پہلے حکمت کا لفظ ہے اور اس کے بعد موعظہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے '( 'ادع الیٰ سبیل ربّک با لحکمة و الموعظةالحسنة''یعنی ) برہان و دلیل کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر اس کام کو انجام دو گے اور کرو گے تو اس سے یہ فائدہ حاصل ہو گا اور اگر اس کام کو نہیں کروگے تو یہ نقصان ہو گا یا اس کے بر عکس اگر اس کام کو کروگے تویہ نقصان ہوگا اور اس کو چھوڑ دو گے تو تم کو یہ فائدہ ہوگا ۔

اگر قرآن کریم میں انبیاء کے اوصاف کا ہم غور سے مطالعہ کریں تو ان کی صفتوں میں بہت سی جگہوں پر مبشر اور منذر کالفظ آیا ہے کہ انبیاء بشارت اور انذار کے لئے آئے ہیں ، خدا وند عالم قرآن کریم میں فرماتا ہے( وما نرسل المرسلین الاّ مبشرین و منذرین ) ( ۱ ) ہم نے پیامبروں کو صرف مبشر اور منذر بنا کر بھیجا ہے یعنی وہ صرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں ۔

انبیاء نے دعوت اور تبلیغ کے مرحلے میں صرف برہان و دلیل (حکمت )پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وہ ،جس کو میں نے پہلے بیان کیا او ر شروع میں مختصر طور سے اس کی

____________________

(۱) سورہ انعام آیہ ۴۸.

۱۸۲

وضاحت کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں سے یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہماری باتوں کو تم لوگ قبول کرو گے اور ان پر عمل کرو گے تو اس کے بدلے تمھارے حصّہ بے پناہ نعمتیں اور ہمیشہ رہنے والی بہشت آئے گی اور اگر تم نے ہماری باتوں کو قبول نہیں کیا اور مخالفت کی تو جہنم اور اس کا عذاب تمھارا منتظر رہے گا ؛اب اس جگہ پر لوگ مواقفت یا مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

اس کی تاثیر اس وقت زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے جب اس کے عملی نمونے یا وہ واقعے جو کہ پہلے زمانے میں ہو چکے ہیں ان کے کانوں تک پہونچتے ہیں ؛ اسی لئے آپ قرآن مجید میں دیکھیں گے کہ پچھلی امتوں کے واقعات اور جو عذاب ان پر نازل ہوئے ہیں ان کا تذکرہ ہے اور اس بات سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ہرگز تم بھی ایسا کام نہ کرنا ورنہ تمھارا حشر بھی ویسا ہی ہوگا ؛اس جگہ انسان کے ضمیر کے اندر ایک بیچینی اوراضطرابی کیفیت اور تحریک پیدا ہوتی ہے؛ البتہ نفع اور فائدہ کی امیداورنقصان کے خوف ،ان دونوں میں نقصان کا خوف انسان کوکام پر زیادہ ابھارتاہے ؛ یعنی اگر کچھ حد تک دنیاوی اور مادی نعمتوں کو حاصل کر لیتے ہیں اور پھر ا س سے کہا جائے اگر ایسی کوشش اور ز حمت کرو گے تو دولت و نعمت اور شہرت اس سے زیادہ حاصل ہو گی؛ممکن ہے کہ اگر وہ جذبہ و حوصلہ نہ رکھتا ہو تو یہی کہے گا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہی کافی ہے ؛لیکن اگر اس سے کہا جائے کہ اگر کوشش نہیں کروگے تو تمھاری دولت اور ثروت کم ہو جائے گی اور رتبہ کم ہو جائے گا ؛چونکہ نقصان کا خوف ہے تو وہ کوشش کرتا ہے کہ نقصان نہ ہونے پائے، اور شاید اسی لئے قران کریم میں بشارت اور انذار ساتھ ساتھ ذکرہوئے ہیں لیکن پھر بھی انذار سے متعلق زیادہ تاکید ہے ، خدا وندتباک وتعا لیٰ کا ارشادہوتا ہے:( و ان من امّةٍ الّاخلا فیها نذیر ) ( ۱ ) یعنی کوئی امت ایسی نہیں گذری ہے جس میں نذیر ( ڈرانے والے )نہ ہوںاسی وجہ سے دعوت و تبلیغ کے آغاز میں جاذبہ اور دافعہ دونوں ایک ساتھ ہونے چاہئیں کیونکہ اس میں حکمت اور استدلال بھی ے اور جنت کا وعدہ اور جہنم سے ڈرانا بھی ہے اور جہنم کے سلسلے میں جو روایات ہیں ان میں دلچسپ اور نہایت ہی وحشتناک طریقے سے ڈرانے والے کے وصف کو بیان کیا گیا ہے ۔

____________________

(۱) سورہ فاطر : آیہ ۲۴۔

۱۸۳

(ب) موعظہ حسنہ ]نیک اور درست[ ہونا چاہئے

جو نکتہ یہاں پایا جاتا ہے وہ یہ کہ جب حکمت کے بعد موعظہ کا موقع آئے تو موعظہ حسنہ ہو نا چاہئے یعنی اگر چہ موعظہ بشارت اور انذار دونوں پر مشتمل ہوتاہے اور اس کے معانی و مطالب اچھے نہیں لگتے لیکن اسکے بیان کی کیفیت اوراندازاچھا اور دلپذیر ہونا چاہئے یہاں تک کہ اگر انذار کا مخاطب فرعون جیسا گمراہ انسان بھی کیوں نہ ہو ؟بھی خداوند عالم موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون سے کہتا ہے:( اذهباالیٰ فرعون انه طغیٰ وقولاله قولا لینا ) ۔۔( ۱ ) فرعون کی طرف جائو اس نے سرکشی کی ہے اس سے نرم لہجہ میں گفتگو کرو ،شاید کہ وہ قبول کرے یا خوف ا ختیار کرلے ،یعنی فرعون سرکش ہے پھر بھی تمہارے ا لفاظ اور ڈرانے کاطریقہ ایسا ہو کہوہ ڈر جائے؛ لیکن ڈرائیں تو اپنے الفاظ کونرمی اور ملائمت کے ساتھ بیان کروپہلے سختی اورخشونت کے ساتھ اسکے سامنے نہ جائو۔ دعوت اور تبلیغ کے وقت اگر شروع ہی میں چیخ اور تند کلامی سے اسکو متوجہ کروگے تو وہ اصلاًتوجہ نہیں کرے گا کہ تم کیا کہہ رہے ہو لیکن اگر اس دافعہ والے الفاظ اور اسکے مطلب کو نرمی اورخوش اخلاقی کے ساتھ کہو گے تو ممکن ہے تمھاری بات اس پر اثر کرے ۔

____________________

(۱) سورہ طٰہ : آیہ۴۲ الیٰ ۴۴۔

۱۸۴

(ج)مناظرہ

اس آیہ شریف میں موعظہ کے بعد مجادلہ کو بیان کیا گیا ہے( ادع الیٰ سبیل ربک بالحکمة والموعظةالحسنة وجادلهم بالتی هی احسن ) ( ۱ ) یعنی اچھی نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو اپنے پروردگار کی طرف بلائو اور ان سے بہترین طریقہ سے مجادلہ کرو اس لئے کہ ان کی ہدایت کی طرف راہنمائی کرو تو اچھی طرح سے بحث ومناظڑہ کرو ،مناظرہ کے موقع پر اگر سامنے والا مغلوب بھی ہوجائے اور اسے علمی حیثیت سے شکست دیدو لیکن پھر بھی انصاف وعدالت اور ادب سے باہر نہ نکلو اسکو شکست دینے کے لئے مغالطہ کا سہارا نہ لواس بات کی کوشش کرو کہ اسکو قانع اور مطمئن کردو تاکہ حقیقت اسکو معلوم ہوجائے ؛ساری کوشش اس بات میں صرف نہ کرو کہ چاہے جیسے بھی ممکن ہو ہر قیمت پر اسکو میدان مناظرہ سے خارج کر دو۔

____________________

(۱) سورہ نحل : آیہ ۱۲۵۔

۱۸۵

دعوت وتبلیغ میں دافعہ کے استفادہ نہ کرنے کی وجہ

لہٰذایہ کہا جاسکتاہے کہ دعوت و تبلیغ کے ہر مرحلہ حکمت ،موعظہ ، مجادلہ میں سے کسی میں بھی خشونت ودشمنی اور دافعہ مناسب نہیں ہے اگرچہ مجموعہ کلام و گفتگومین ممکن ہے کہ بات جہنم، اسکی آگ اور عذاب سے متعلق ہو ،لیکن گفتگو کا اندازایسا دلپذیر اور شیرین ہو کہ سامنے والا اس کو سننے اوراس پر غوروفکر کرنے پر آمادہ ہوجائے جب آپ اس انداز سے بات کریں گے کہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہو جائے تو وہ اس کے متعلق فکر کرے گا اور خود سے یہ کہے گاکہ اگر یہ جہنم اور عذاب واقعاً صحیح ہیں تو میں ہمیشہ کے لئے اس عذاب میں گرفتارہو جائوںگا پس بہتر یہ ہے کہ تحقیق اور جستجو کی جائے اور حقیقت ماجرا سے آگاہی حاصل کی جائے، خاص طور سے جب اس طرف متوجہ ہو کہ نفع اور نقصان کی تعیین میں صرف احتمال کی مقدار کافی نہیں ہے احتمال کا نتیجہ ، محتمل (جس چیز کا احتمال ہو )میں ہے کیونکہ محتمل ہی آخری نتیجہ کو مشخّص و معےّن کرتا ہے یعنی ممکن ہے کہ احتمال کے مواقع اور مواردمیں اگرچہ نفع یا نقصان کا احتمال بہت کم ہولیکن اگر محتمل قوی ہے تو وہ ہمارے لئے حرکت کا سبب ہوگا مثلاًاگر پانچ سال کا بچہ آپ سے کہے کہ اس سیڑھی پر جس سے آپ اوپر جارہے ہیں ایک بجلی کا تارٹوٹ گیا ہے احتیاط سے کام لیجئے گا آپکا پیر اس پرنہ پڑے، یہاں پرمسئلہ،احتمال کے اعتبار سے بہت کمزور ہے کیونکہ پانچ سال کا بچہ کیسے بجلی کے تار کو پہچان سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے ٹیلی فون کا تار یا رسّی تا اور کوئی دوسری چیز ہو، اسے کہاں سے معلوم کہ تارمیں بجلی ہے ؟شاید کوئی ایک تار ہے جو ایسے ہی سڑھیوں پر پڑا ہو ،خلاصہ یہ کہ یہ پانچ سال کے بچے کی بات کوئی خاص احتمال آپ کی نظر میں پیدا نہیں کرتی لیکن پھر بھی یہ مسئلہ موت اور زندگی سے متعلق ہے بجلی سے کوئی مذاق نہیں کرسکتا ، لہذااگرچہ احتمال بہت ضعیف اور کم ہے لیکن محتمل بہت قوی ہے، آپ سیڑھی سے اوپر جانے میں بہت محتاط اور ہوشیار رہیں گے، اگر تار مل جائے تو بہت ہی احتیاط کے ساتھ اس سے بچ کر وہاں سے گذریں گے ۔

۱۸۶

ہماری بحث میں بھی محتمل بہت مضبوط اور قوی ہے یہ مسئلہ موت اور زندگی سے بھی بڑھ کر ہے، مسئلہ عذاب اورجہنم میں ہمیشہ رہنے کا ہے وہ عذاب اور جہنم جس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے اگر اسی آگ اور جہنم کو نرم وآسان زبان، دردمند احساس اور مخلصانہ اندازکے ساتھ بیان کیا جائے تو اس بات کا احتمال زیادہ ہے کہ میری بات کو سنیں گے بلکہ اس سے متا ثر بھی ہوں گے۔

انسان کے شخصی اور خصوصی افعال کے سلسلے میں اسلام کا طرزعمل

لیکن اگر دعوت وتبلیغ کے مرحلہ سے آگے بڑھ کر قوم ،معاشرہ اور عوام کے عمل نیز معاشرہ پر اس کے اثر کے متعلق بحث ہوتو بات جدا ہوگی اور مسئلہ یہاں پر فرق کرتا ہے ،کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک پوشیدہ کام ہے اور اس کا فائدہ یا نقصان پوری طرح سے ایک خاص شخص سے مربوط ہے اور اس کا اثر سماج اورمعاشرہ پر کچھ بھی نہیں ہے مثلاً ایک انسان نماز شب پڑھنے کے لئے آدھی رات کو بستر سے اٹھتا ہے اور بغیر کسی کو اطلاع دئیے ہوئے نمازمیں مشغول ہو جاتاہے، یا العیاذ باللہ ایک بوتل شراب نکال کر گھر کے کسی گوشہ میں چھپ کرپینا شروع کر دیتاہے، ان جیسے موارد میں جاذبہ سے استفادہ کرنابہت اچھا ہے یعنی اس کے لئے نماز شب کے فوائد کو بیان کیا جائے تا کہ اس کے اندر حوصلہ اور جذبہ پیدا ہو اور وہ نماز شب پڑھے ، یامخلصانہ اور دوستانہ طریقے نیز اچھے اور نرم لہجے میں شراب کے نقصانات کو اس کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ وہ اس برے کام سے باز آجائے ،لیکن اسلام میں ایسے مسائل ( جو کہ پوری طرح ایک خاص فرد سے مربوط ہوں ) میں طاقت و قوت اور سختی و عناد کے ساتھ منع کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ،یہاں تک کہ اگر آپ کسی شخص کے ایسے کام سے مطلع ہوتے ہیں تو آپ کو یہ حق نہیں ہے کہ اس بات کو اس کے سامنے بیان کریں اور کہیں کہ ہاں میں نے تم کو یہ برا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر کیسے صحیح ہے کہ آپ اس کے غلط کام کو دوسرے کے سامنے بیان کریں ؟

۱۸۷

یہ مومن کا راز ہے اس کو چھپانا چاہئے اور کوئی بھی اس کو ظاہر کرنے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی انسان تنہائی میں گناہ کرنے میں مصروف تھا اور آپ نے اس کو دیکھ لیا اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس سے یہ کہیں کہ میں نے تم کو یہ برا کام کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے تو ممکن ہے آپ کا یہی کہنا اس بات کا سبب ہو کہ وہ فکر کرے اب تو میرا گناہ عام ہو ہی چکا ہے چھپا کر کروں یا ظاہری طور،پراب کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ،اس کے بعد کھل کر گناہ کروں گاکیونکہ گناہ تو ظاہر ہو چکا ہے لہذٰا ایسے گناہ کو ظاہرکرنااسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے ؛پھر کیا حق بنتا ہے کہ جبری اور قہری طور پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے ؟ہا ںاگر ایک ایسے بالواسطہ طور پر کہ وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ آپ اس کے برے کام سے واقف ہو گئے ہیں تو ایسی جگہ پر ممکن ہے اس کو نصیحت کی جائے، تا کہ وہ اس برے کام سے باز آجائے، توپھر ایسا کرناصحیح ہے۔

اجتماعی افعال کے ساتھ اسلام کا برتائو

بہت سے اعمال ایسے پائے جاتے ہیں کہ اس کا نفع یا نقصان ایک شخص سے کر پورے معاشرہ پر پڑتا ہے البتہ یہ تاثیر کبھی بلا واسطہ (ڈائریکٹ)ہوتی ہے اور کبھی بالواسطہ ہوتی ہے،بلا واسطہ تاثیر اس طرح کہ مثلاً کسی کو مارا پیٹا جا رہا ہو یا اس پر ظلم ہو رہا ہو؛ معاشرہ پر لوگوں کے عمل کی بالواسطہ تاثیر کے مصداق اور اس کے دائرہ کے متعلق اختلاف رائے کا ہونا ممکن ہے لیکن جو چیز مسلّم ہے اور اس میں کوئی بھی شک نہیں ہے وہ یہ کہ اگر چہ اس عمل کا اثر ظاہراً بعض جگہوں پرمعاشرہ کے تمام افراد پر نہ پڑتا ہو لیکن غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے مثلاً برے کام کو اگر کوئی لوگوں کے سامنے انجام دے، تو یہ ایک بالواسطہ طور پر سکھانے کا طریقہ ہے اور یہ اس بات کا سبب بنتا ہے کہ دھیرے دھیرے اس کا برا ہونا ختم ہو جاتا ہے، اگر ماں اور باپ بچوں کے سامنے جھوٹ بولیں تو گویا یہ بالواسطہ طور پر ان کو سکھاتے ہیں کہ جھوٹ بولنا کوئی قباحت نہیں رکھتا ہے اسی بالواسطہ تاثیر کی وجہ سے( جوکہ معاشرہ پر پڑتی ہے) اسلام نے تجاہر بہ فسق یعنی علی الاعلان گناہ کرنے کو منع کیا ہے اور بعض افعال کے متعلق یہ کہا ہے کہ اسکو علانیہ لوگوں کے سامنے انجام نہیں دے سکتے؛ یعنی اگر ایسے اعمال کو کسی نے تنہائی مین چھپ کر انجام دیا ہے تو صرف گناہ کیا ہے؛ لیکن حقوقی طور پراس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے اور حکومت اسلامی بھی اسکو کچھ کہنے والی نہیں ہے؛ لیکن اگر اسی عمل کو وہ لوگوں کے سامنے کھل کر انجام دیتا ہے تو وہ مجرم شمار کیا جائیگا اور اسکو سزا ہو گی ۔

۱۸۸

بہر حال وہ اعمال جو کہ اجتماعی تاثیر رکھتے ہیں اور انکے انجام دینے سے لوگوں کے حقوق پر تجاوز ہوتا ہے انکی نسبت اگر انکی تاثیر بلا واسطہ ہوتی ہے تو اس صورت میں دنیا کے تمام عقلاء کہتے ہیں کہ ایک اجتماعی قوت یعنی حکومت تا کہ ان غلط کاموں کو جن کو دوسرے کے حقوق پر تجاوز کہا جاتا ہے، روک سکے ،یہ مطلب اسلام اور دین الہیٰ سے مخصوص نہیں ہے۔ ان موارد کے علاوہ اگر کسی جگہ کوئی عمل سماج کے لئے معنوی ضرر کا باعث ہو تو اسلام نے حکومت کو اجازت دی ہے بلکہ اس کو مکلف کیا ہے کہ اس میں دخل دے اور اس کام کو روکے؛ اور اسلام کا یہ کام ایک بنیادی اور جدا گانہ حیثیت رکھتا ہے بر خلاف دوسرے نظاموں جو کہ ڈموکراسی اورلیبرل نظام پر قائم ہیں جمہوری اور لیبرل نظام حکومت میں مثلاً اگر کوئی نیم عریاں یا نا مناسب لباس پہن کر سڑک پر آتا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ اس انسان کی خاص رفتارہے اور اس کا ذاتی معاملہ ہے اوراس کو کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا ، اس میں وہ پوری طرح سے آزاد ہے ؛لیکن اسلام نے اس عمل سے منع کیا ہے اس نے کہا کہ یہ عمل معنوی و تربیتی اعتبار سے تباہ کن اثرات کا حامل ہے ،اگر کوئی شخص ایسے عمل انجام دیتا ہے تو اسلام نے اس کو خطا کار کہا ہے اور اس کے ساتھ مجرم کے عنوان سے سلوک کرنے کا حکم دیا ہے ۔

جزائی اورکیفری قوانین، اجتماعی نظم قائم کرنے کا سبب

وہ اعمال جو کہ اجتماعی خرابیاں رکھتے ہیں اور دوسروںکے حقوق کی پامالی کا سبب بنتے ہیں ان کو ہر حالت میں روکا جانا چاہئے اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور ظاہر سی بات یہ ہے کہ حکومت ان کاموں کو انجام دینے کے لئے قانون بنانے کی محتاج ہے وہ قوانین جو کہ ایک معاشرہ اور سماج میں ہوتے ہیں ، ا ن کی دو قسم ہے: (۱) مدنی قانون (۲) جزائی قانون

۱۸۹

مدنی قانون (مدنی حقوق )

لوگوں کے حقوق اور ان کی آزادیوں کو بیان کرتا ہے جیسے تجارت،شادی بیاہ،طلاق،میراث اور ان جیسے قانون ۔

جزائی قانون(کیفری قانون)

اس حکم کو بیان کرتا ہے جو مدنی قانون کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتا ہے یعنی جب مدنی قانون نے لوگوں کی آزادی اور حقوق کو بیان کر دیا ؛اگر کوئی شخص اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو جزائی قانون اس کی سزا کو بیان کرتا ہے اور تمام حکومتوں کا ایک اہم قا نون یہی جزائی قانون ہے ؛حکومت اس قانون کو بناتی ہے اور اس کو لاگو بھی کرتی ہے؛ اس کی اصل وجہ اجتماعی نظم کو برقرار رکھنا اور اس کو جاری رکھنا ہے اور وہ سب اسی جزائی قانون سے مربوط ہے؛ اگر حکومت صرف مدنی قانون کے بنانے پر اکتفا کرے اور صرف لوگوں کے حقوق کو بیان کرے اور جب لوگ اس قانون کی خلاف ورزی کریں،ان کے لئے کوئی قانون نہ ہو تو ہم بہت سے مواقع اس مدنی قانون کی مخالفت اور خلاف ورزی کا مشاہدہ کریں گے ۔ہم خود اپنی آنکھوں سے اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ اگرراہنما پولیس وغیرہ اور جرما نہ نہ ہو تو بہت کم ہی لوگ لال بتیّ،ممنوعہ جگہ پر گاڑیوںکا پارک کرنا ، یک طرفہ راستے سے نہ گذرنا ان سب قوانین کی رعایت کوئی بھی نہیں کرے گا، جو چیز چوروں اور قاتلوںکو ان کے کام سے خوف زدہ کرتی ہے زندان اور قتل کا ڈر ہے اگر یہ ڈر نہ ہو تو لوگوں کے مال و دولت کو آرام سے لوٹ لیں اور ان لوگوں کو قتل کردیں ،بس اسی وجہ سے حکومتوں کا ایک سب سے اہم اور بنیادی کام جزائی قانون کا بنانا اور اس کو جاری کرنا ہے اس قانون کے بغیر اجتماعی نظم اور حکومت کا نظم و نسق کوئی معنی نہیں رکھتا ہے ۔

۱۹۰

دافعہ، جزائی قوانین کی فطری ماہیت ہے

یہ فطری بات ہے کہ جزائی قانون کے لاگو ہونے کے لئے دافعہ کا ہونا ضروری ہے ؛کیونکہ کوئی بھی قید،کوڑے اور جرمانے سے خوش نہیں ہوتا ہے اور یہ سب کام سخت اور درشت ہیں چاہے یہ سب مسکراہٹ اور کشادہ روئی کے ساتھ انجام دیئے جائیں؛ اگر کوئی انسان غلط کام کئے ہو اس سے بہت ہی ادب اور مسکراہٹ کے ساتھ کہا جائے مہربانی کرکے پندرہ سال اس قید خانہ میں محبوس ہوجایئے؛ یا یہ کہیں کہ ذرا مہربانی کرکے اپنے جسم سے کپڑے کو ہٹایئے تاکہ اس جسم پر سو کوڑے لگائے جائیں، یا یہ کہا جائے مہربانی کر کے اپنی گردن کو آگے بڑھائیے تا کہ اس کو کاٹا جائے تویہ مسکراہٹ اور احترام کسی چیز کو نہیں بدلے گا اور جن کاموں میں ذاتی طور پر خشونت اور نفرت موجود ہے ان کے اثر کو نہیں بدلے گا ؛کس کو یہ آرزو ہے کہ پندرہ سال بیوی،بچے اور دوستوں سے دور قید خانوں میں جاکر زندگی بسر کرے؟ اگر ایک پولیس افسربہت ہی اچھے اخلاق،نہایت ادب اور عزت و احترام کے ساتھ ہم کو صرف لال بتی سے گذرنے کی وجہ سے نا قابل معافی پانچ ہزارروپئے کا جر مانہ کر دے تو ہم اس بات پر ناخوش ہوتے ہیں ؛ اگر چہ ہم زبان سے کچھ نہ کہیں لیکن دل ہی دل میں ضرور اس کو برا بھلا کہیں گے اب اگرجرمانہ پانچ لاکھ روپئے ہو یا قید خانہ کی سزا ،کوڑے اور جسمی اذیت کے ساتھ ہو تو ایسی جگہوں پر دافعہ کا پایا جانا لازمی ہے؛ بہر حال کوئی بھی انسان جزائی قوانین میں خشونت اور ذاتی دافعہ کا انکارنہیں کر سکتا ہے اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی عرض کیا ان جیسے قوانین کے بغیر حکومت کا ہونا بھی ناممکن ہے؛ لہذٰاساری حکومتیں لازمی اورفطری طور پر دافعہ اور خشونت رکھتی ہیں ۔

۱۹۱

البتہ ممکن ہے یہ کہا جائے کہ عرف عام میں خشونت کا اطلاق اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں جسمانی اذیت اور تکلیف ہو مثلاً کسی کا ہاتھ کاٹا جائے؛ یا کسی کو مارا جائے لیکن پھر بھی ہر حال میں جہاں جرمانہ، قید خانہ اور اس جیسی سزائیں ہیں ،اگروہاں خشونت کا اطلاق نہ ہوتا ہو تو کم سے کم تھوڑا بہت دافعہ ضرورپایا جاتا ہے اور اکثر لوگ اپنے متعلق اس طرح کی سزائوں سے راضی اور خوش نہیں ہوتے ہیں ؛ لہذٰا حکومت، جزائی قانون کے بغیر ممکن نہیں ہے اور جزائی قوانین ہمیشہ خشونت اور دافعہ کا پہلواپنے دامن میں رکھتے ہیں ۔ اور حکومت بغیر دافعہ کی طاقت کے ،صرف قوت جاذبہ رکھتی ہو ایسا نہیں ہو سکتا ہے اور بغیر اس کے حکومت بیکار ہے، کیونکہ حکومت کا ایک اصلی اور اہم مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی انسان قانون کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو اس کو زبر دستی اس کام کے لئے مجبور کیا جائے، تاکہ وہ قانون پر عمل کرے؛ البتہ یہ زبر دستی اور سختی بہت سے مراحل اور مراتب رکھتی ہے کبھی جر مانہ ہے ،کبھی قید خانہ، کبھی جلا وطنی اور کبھی کو ڑے مارنا ہے اور سب سے آخری حد قتل اور پھانسی ہے۔

۱۹۲

عمل کے شخصی اور اجتماعی پہلو کے درمیان فرق پر توجہ

اس بنا پر دافعہ اس جگہ فائدہ مند ہے جہاں پر اجتماعی قوانین کی مخالفت پیش آتی ہو اور جب تک کوئی برا کام شخصی، فردی اورخصوصی پہلورکھتا ہو اور اس میں کوئی بھی اجتماعی پہلو نہ پایا جاتا ہو، حکومت کو سزا دینے یا دافعہ کا کوئی حق حاصل نہیں ہے؛ البتہ اس بات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی شخص اکیلے میں گناہ انجام دے رہا ہے اور وہ یہ چاہتا ہو کہ کوئی بھی اس کے گناہ سے واقف نہ ہو اوریہ حقوق مدنی قانون کے اعتبار سے بھی مجرم ہے اگر کسی صورت سے یہ گناہ قاضی کے نزدیک عدالت میں ثابت ہو جائے تواس انسان پر اسلامی دستور کے مطابق سزا اور حد جاری ہوگی ؛اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر چہ اس نے یہ گناہ تنہائی میں انجام دیا ہے اور اس نے اس بات کی کوشش کی کہ کوئی اس کے گناہ سے مطلع نہ ہو؛ لیکن چونکہ کسی طریقے سے لوگ اس کے اس گناہ سے واقف ہو گئے ہیں اور یہ بات عام ہو گئی ہے اور اس صورت میں اس گناہ نے اجتماعی رخ اختیار کر لیا ہے تواس لحاظ سے کہ ممکن ہے اس کے اجتماعی اثرات تباہ کن ہوں،اس وجہ سے اس پر سزا ہوگی ؛یہاں تک کہ اگر ایک انسان بھی اس کے اس غلط کام سے واقف ہوگیا ،اس وقت بھی اس پر( اشاعہ فاحشہ )برے عمل کو پھیلانے کا عنوان صدق کر رہا ہے جوکہ اسلامی قانون کے مطابق حرام اور ممنوع ہے ؛ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے( ان الّذین یحبّون ان تشیع الفاحشة فی الّذین آمنوا لهم عذاب الیم فی الدّنیا والآخرة'' ) ( ۱ ) جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں کے درمیان برے کام کو پھیلائیں ؛ان کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہوں پر سخت دردناک عذاب ہے ۔

____________________

(۱) سورہ نور : آیہ ۱۹۔

۱۹۳

غیراسلامی ممالک اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ اسلام کابرتائو

وہ لوگ جو کہ اسلامی ممالک اور اس کی حدوں سے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے متعلق جاذبہ اور دافعہ کا کیا حکم ہے، یہ ایک تفصیلی اور تفصیلی بحث ہے جس کے لئے بہت زیادہ وقت چاہئے؛ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، چونکہ آئیندہ جلسے سے ایک نئی بحث شروع کرنے کا ارادہ ہے، لہذٰا اس بحث کو مکمل کرنے کے لئے یہاں پر مختصر طور پر] جو اس بحث سے مربوط ہے[ اس کو پیش کیا جا رہا ہے۔

جو لوگ اسلامی مملکت کے باہر زندگی بسر کر رہے ہیں وہ دو حال سے خالی نہیں ہیں ؛ یا وہ لوگ ہیں جو کہ اسلام کے خلاف سازش اور تخریب کرتے ہیں اور اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کی چال چلتے رہتے ہیں ؛یا ایسے نہیں ہیں ؛دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ایسے لوگ ہیں جو کہ اسلامی ممالک اور وہاںکے لوگوں سے دشمنی رکھتے ہیں اور ان کے لئے اذیت کا سبب بنتے ہیں یا ایسے لوگ نہیں ہیں ۔ اگر باہری ممالک کے لوگ مسلمانوں کی اذیت اور ان کو کمزور اورنابودکرنے ارادہ نہ رکھتے ہوں تو اس صورت میں مسلمان ان کے خلاف کو ئی بھی تجاوز کا حق نہیں رکھتے ہیں

۱۹۴

اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کے ساتھ عدل و احسان کا برتائو رکھیں ،قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:( لا ینهاکم اللّه عن الّذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم'' ) ( ۱ ) وہ تمھیں ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو ، جب تک وہ لوگ تم سے دشمنی اختیار نہ کریں اور تمھارے خلاف سازش نہ رچیں؛ تم کو چاہئے کہ ان کے ساتھ احسان کرو ؛یہاں تک کہ اپنے ملک میں رہنے والے افراد سے بھی زیادہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو، تا کہ وہ اسلام کی طرف مائل ہوں۔ ان جگہوں میں جہاں زکواة خرچ کی جاسکتی ہے ان میں ایک وہ جگہ بھی ہے کہ اصطلاح میں جس کومولّفة القلوبکہا جاتا ہے یعنی وہ کفار جو کہ اسلامی ملک کے اطراف میں رہتے ہیں ؛ صرف اس لئے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں اور اسلام کی دوستی اور محبت داخل ہو زکواة کے مد سے ان کو ہدیہ وغیرہ دیاجائے لہذٰا کفار کے اس گروہ کی بہ نسبت نہ صرف یہ کہ خشونت اور دافعہ نہ رکھنے کا حکم ہے؛ بلکہ انکے متعلق جاذبہ بھی اختیار کرنا چاہئے۔

لیکن وہ لوگ جو کہ مسلمان اور اسلام کے خلاف دشمنی اور سازش اختیار کرتے ہیں ؛ ان کے ساتھ تو خدا وند عالم نے فیصلہ کن انداز اختیار کرنے کا حکم دیا ہے،

____________________

(۱) سورہ ممتحنہ: آیہ ۸۔

۱۹۵

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:( انّما ینهاکم الله عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم وظاهروا علیٰ اخراجکم ان تولوهم ) ( ۱ ) وہ تمھیں صرف ان لوگوںکی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے اور تمھیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمھارے نکالنے پر دشمنوں سے مدد کی ہے۔

پہلے گروہ کے لئے جاذبہ رکھو، لیکن یہ گروہ کہ جو اسلام اور مسلمان کے دشمن ہیں ان کے ساتھ پوری طرح سے دافعہ رکھو، ان کی زندگی کو قید کیے رہو اور ان کوہلنے کی مہلت نہ دو اس بات کی پھر تاکید کروں گا کہ دافعہ کا سہارا فقط ان کے لئے استعمال کر لینا چاہئے جو لوگ کھلے طور اور عام طریقے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرتے ہیں اور اس گروہ کے علاوہ کسی کے متعلق ایسا حکم نہیں ہے؛ یہاں تک کہ قران میں حکم ہے کہ جنگ کا عالم ہو اور کفار کا لشکر ایک طرف اور مسلمانوں کا لشکردوسری جانب اوراگرجنگ بھی ہو رہی ہو؛ اگر مشرکین میں سے کوئی ایک شخص سفید پرچم اٹھائے]جو کہ صلح اور جنگ بندی کی نشانی ہے [ یا کسی طرح بھی آپ تک پیغام پہونچائے کہ میں ایک علمی سوال کرنا چاہتا ہوں اور یہ بات میرے نزدیک ظاہر نہیں ہو پارہی ہے کہ اسلام حق ہے یا نہیں اور میری آپ سے جنگ حق اور صحیح ہے یا غلط ہے ؟اسلام یہاں پر کہتا ہے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ اس شخص کوحفاظت کے ساتھ اسلامی کیمپ میں لایا

____________________

(۱) سورہ ممتحنہ: آیہ ۹۔

۱۹۶

جائے، اور وہاں بیٹھا کر اس کے سوال کا جواب دیا جائے اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ دلیل وبرہان سے اس کو مطمئن کیا جائے اور اس کے بعدبھی اگر وہ واپس ہونا چاہے تو اس کو اسی طرح پوری حفاظت کے ساتھ بغیر کسی اذیت کے اس کی پہلی جگہ جو کہ اسلامی لشکر کی پہونچ سے باہر ہو وہاں تک پہونچا دیا جائے؛ پھراگر وہاں اس نے جنگ کا ارادہ کیا تواس کے ساتھ جنگ کی جائے؛ ورنہ اس کوچھوڑ دیں اور وہ جہاں جانا چاہے وہاں چلا جائے، قرآن مجید میں خدا وند عالم ارشاد فرماتا ہے( و ان احد من المشرکین استجارک فا جره حتیٰ یسمع کلام الله ثم ّابلغه ما منه ) ( ۱ ) اگر مشرکوں میں سے کوئی تم سے پناہ کا طلب گار ہوتو اس کو پناہ دے دو تا کہ وہ خدا کے کلام کو سنے؛پھر اس کے بعد اس کو امن کی جگہ پر واپس کردو ۔آپ دنیا کے کسی حقوقی نظام میں ایسی چیزوں کا سراغ اور نشان رکھتے ہیں ؟اسلام یہ کہتا ہے مسلمان طالب علم تو اپنی جگہ اگر کوئی دشمن کافر کہ جس کے ہاتھ میں تلوارہے اور وہ تم سے جنگ کر رہا ہے اوراسی جنگ کی حالت میں وہ تم سے کوئی سوال کرنا چاہتا ہے تو اسلام کا حکم یہ ہے کہ تم اس کا جواب دو ۔ہم ایسے مکتب و مذہب کے پیرو ہیں ۔کون کہتا ہے کہ اسلام اور اس کا نظام حکومت سوالوں کے جواب نہیں دیتااور سوال کا جواب تلوار سے دیتا ہے ؟ وہ اسلام جو کہ کافر( اس حال میں بھی کہ تلوار اس کے ہاتھ میں ہو اور جنگ کاعالم ہو)

____________________

(۱) سورہ توبہ آیہ ۶.

۱۹۷

کے ساتھ اس طرح کے سلوک کا حکم دیتا ہے وہ خودمسلمانوں کے درمیان آپس میں اس کے برخلاف کیسے دستور اور حکم دے گا؟

اسلام کی پہلی سیاست یہ ہے کہ وہ پہلے دلیل ،موعظہ اور جدال احسن کا حکم دیتا ہے ؛لیکن اگر بات دشمنی اور تخریب تک پہونچ جائے اور اس بحث کا کوئی علمی جواب نہ ہو اور وہ لوگ اسلام اور اس حکومت کے خلاف سازش میں لگے ہوں اور اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوں تو ان کے مقابلہ میں سوئی برابر بھی نہیں جھکنا چاہئے اور ان پر ذرہ برابر بھی رحم و کرم نہیں کرنا چاہئے، بلکہ ان کا پوری سختی اور فیصلہ کن انداز میں سامنا کرنا چاہئے ۔

قوت دافعہ یا سختی کے استعمال کے سلسلے میں اسلام کا نظریہ

لہٰذااسلام صرف دو جگہوں پر خشونت کو اختیار کرنے اورقوت دافعہ کا سہارا لینے کا حکم دیتا ہے۔ پہلی وہ جگہ جہاں مسلمان یا غیر مسلمان اسلامی معاشرہ میں دوسرے کے حقوق غصب کررہے ہوں اور کسی بندئہ خدا پر ظلم و ستم ہوتا ہو یا کسی کے ساتھ خیانت کی جارہی ہو دوسری وہ جگہ جہاں اسلامی مملکت کے باہراسلام اور اسلامی ملکوں کے خلاف دشمنی کی جا رہی ہو۔اور سازش رچی جارہی ہو۔ البتہ ان سزائوں کی حد اور حدود کیا ہیں ،اورکتنے اور کیسے ہیں ؟ جوکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں یا دوسرے کے حقوق کو غصب کرنے والوں کے متعلق ہوتی ہیں ، عقل بہت سی جگہوں پر ان کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یہ سزا ئیں براہ راست خود خدا وند عالم کی طرف سے اور صاحب شریعت کی طرف سے معین ہوئی ہیں ، لیکن سزا جو بھی ہو جب سزا معین ہو جائے تویہ سزا پوری سختی کیخلاف ورزی کرنے والوں کے متعلق جاری کرنا چاہئے۔ جو لوگ غلط اور برے کام انجام دیتے ہیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( الزانية والزانی فا جلدوا کل واحد منهما مائة جلدة ولا تاخذکم بهما را فة فی دین الله ان کنتم تومنون بالله والیوم الآخر )

۱۹۸

( ولیشهد عذابهماطائفة من المومنین' ) ( ۱ ) زنا کرنے والے مرد اور عورت کو سو سو تازیانے مارو؛ اگر تم خدا اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو تو احکام الہیٰ میں ان کے ساتھ کوئی نرمی نہ کرو؛ اور جس وقت ان کو یہ سزا دو تو مومنین کا گروہ گواہ کے طور پر وہاں حاضر رہے ایسا خلاف اور غلط کام کرنے والے کے ساتھ جتنی بھی سختی ممکن ہو سکے اسے انجام دیاجائے اور کوئی بھی مسلمان جو واقعی طورسے خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو ذرہ برابر بھی اس کواس خطا کار پر رحم اور مہربانی نہیں کرنی چاہئے ، اس سزاکی شدّت و سختی اس وقت اور زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ یہ کوڑے لوگوں کے سامنے مارے جائیں اور عوام ان دونوںکی سزا پر گواہ ہوں تو یہ بات فطری ہے کہ اس کڑی اور سخت سزا کے برداشت کے ساتھ ساتھ وہ بے آبرو بھی ہوجاتے ہیں لہذا ان کو اس طرح سے سزا دی جائے کہ کوئی دوسرا شخص اس طرح کے کام کی جرائت نہ کر سکے ۔

____________________

(۱) سورہ نور آیہ ۲.

۱۹۹

اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی بحث کا خلاصہ

اس حصّہ کی بحث کا نتیجہ اور خلاصہ یہ ہوا کہ اسلام میں جاذبہ اور دافعہ کی حدیہ ہے کہ اگر کسی کے حق پر اسلامی معاشرہ میں چاہے وہ مادی حق ہو یا معنوی ،بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقے سے تجاوز کیا جائے یا اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہ کر اسلام اور اسلامی حکومت کے خلاف سازش ہو؛ تو ان دو صورتوں میں ایسا کرنے والے کے ساتھ خشونت اور سختی کرنی چاہئے ،اس کے علاوہ بقیہ جگہوں پر صرف جاذبی رخ اختیار کرنا چاہئے یا پھر نرم لہجہ اور رفتار کے ساتھ جس قدر کم سے کم امکان ہو جاذبہ کے ساتھ دافعہ کی قوت کو استعمال کرنا چاہئے ؛جس جگہ دافعہ اور خشونت کی اجازت ہے اس کی حد اور اس کے طریقہ کو بہت سی جگہوں پر خدا وند عالم نے خود براہ راست معین فرما دیا ہے یا ایک کلی قانون کو اس نے بتا دیا ہے( کہ اسی قانون کے تحت سزا دی جانی چاہئے )لہذا کسی بھی حال میں خشونت کو اختیار کرتے وقت ان حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:( تلک حدود الله فلا تعتدوها ومن یتعدّ حدود الله فاو لٰئک هم الظالمون'' ) ( ۱ ) یہ احکام اللہ کے حدود ہیں

____________________

(۱) سورہ بقرہ آیہ ۲۲۹

۲۰۰

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296

297

298

299

300

301

302

303

304

305

306

307

308

309

310

311

312

313

314

315

316

317

318

319

320

321

322

323

324

325

326

327

328

329