ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 329
مشاہدے: 15186
ڈاؤنلوڈ: 818


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15186 / ڈاؤنلوڈ: 818
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 3

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب : ایک سو پچاس جعلی اصحاب(جلدسوم )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

۳

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۵

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

عراق کے ایک نامور مصنف استاد جعفر الخلیلی کا مقالہ

استاد جعفر الخلیلی ، ادبیات عرب کے نامور داستان نویسوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ کئی روزناموں ، من جملہ '' الراعی'' اور '' الھاتف'' کے مالک ہیں ۔ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ جن میں نمونہ کے طور پر '' ھکذا عرفتھم'' اور '' فی قری الجن'' قابل ذکر ہیں ۔ جناب جعفر الخلیلی ، مقدس مقامات کی تاریخ اور دیگر علمی و ادبی آثار کے سلسلے میں تسیس کئے گئے '' ُموسوعہ العتبات المقدسہ'' نام کے ایک عظیم کمپلیکس کو بھی چلاتے ہیں ۔

استاد محترم نے اپنے ایک رسالہ میں کتاب '' ایک سو پچاس جعلی اصحاب '' کے بارے میں یوں اظہار نظر کیا:

''١٥٠ جعلی اصحاب'' نامی کتاب، اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ، جس میں ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے ٣٩ ایسے اصحاب کی زندگی کے حالات درج ہیں ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں تھا ، بلکہ انہیں ایک شخص نے خلق کرکے صحابی کا لباس ان کے زیب تن کیا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کسی نہ کسی موضوع پر کوئی حدیث گھڑ کر ان سے نسبت دی ہے۔ اس شخص نے اپنے چند خیالی راویوں کے ذریعہ ان افسانوی اصحاب کو حقیقت کا روپ بخشنے کی کوشش کی ہے

یہ قصہ گو ، نسب شناسوں اور محققوں کی نظر میں زندیقی ، فریب کار اور احادیث میں دخل و تصرف کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا ہے اس کے بارے میں سادہ اور مختصر طور پر یوں کہا گیا ہے:

'' اس کی روایتوں کی کوئی ساکھ نہیں ہے اور وہ ناقابل اعتبار ہیں '' ۔

یہ کتاب عظیم دانشور ، انتھک محقق اور اصول دین کالج بغداد کے پرنسپل سید مرتضی عسکری کی تخلیق اور تلیف ہے جو علمی اور دینی پیشوا کی حیثیت سے کاظمین اور بغداد جیسے دو بڑے شہروں کے اکثر باشندوں میں مقبول عام ہیں ۔

۷

جناب عسکری علمی مقام ومنزلت کے علاوہ ایک ایسی خصوصیت کے مالک ہیں جو دوسرے مصنفین اور محققین میں بہت کم پائی جاتی ہے اور وہ ہے ان کا عجیب اور انوکھے علمی موضوعات کا انتخاب کرنا ، ان پر تسلط اور بحث و تحقیق کا قارئین پر اثر ڈالنا جو انھیں حیرت میں ڈال کر ان کو داد دینے پر مجبور کرتے ہیں ۔

استاد جب اس قسم کے موضوع پر بحث و تحقیقی کرنے بیٹھتے ہیں تو ایسے مسلط اور مسلح نظر آتے ہیں کہ کسی قسم کی کمی محسوس ہی نہیں کرتے جس کیلئے انھیں دوڑ بھاگ کرنے کی ضرورت ہو وہ کبھی بھی خاص علمی وا ستدلالی بحث سے ہٹ کر جذبات اور احساسات سے کام نہیں لیتے۔

یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ تاریخ کے اہم اورتاریک زاویوں کی علمی بحث و تحقیق کے دوران اس کے اختتام تک اپنے جذبات اور نفسانی خواہشات پر قابو پاسکے ۔ کیونکہ اکثر محققین ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ تاریخ کو من پسند صورت میں لکھیں اور تمنّا رکھتے ہیں کہ تاریخی ان دلی خواہشات کے مطابق ہوں !!

ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ حقیقت میں اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات کا گلا گھونٹ کر اپنے آپ کو صرف علمی بحث و تحقیقی کیلئے وقف کرنے والے علمااور محققین بہت کم ہوتے ہیں ۔ ایسے علماء اور محققین گنے چنے ہی نظر آتے ہیں جو اپنے قلم کو اپنی نفسانی خواہشات ، ذاتی اور مذہبی جذبات اور کسی خاص گروہ کی طرفداری سے بالا تر رہ کو وقائع کو ثابت کرتے وقت صرف محسوس اور مستند علمی حقیقتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے منطقی ، معقول اور قابل قبول امور کی پیروی کرسکتے ہیں ۔

ایسے حالات میں جب کہ علماء اور محققین ایسے بنیادی موضوعات کی طرف کم توجہ دیتے ہیں ، استاد عسکری نے اس قسم کی بحث و تحقیق کا بیڑا اٹھایا ہے ، جس کے نتیجہ میں حدیث و تاریخ کی بحثوں پر مشتمل اپنی گراں بہا علمی کتاب '' عبد اللہ ابن سب'' تالیف فرماکر ہمارے اختیار میں قرار دی ہے :

استاد محترم نے اس کتاب میں سیف ابن عمر تمیمی کی زندگی کے حالات ، اس کے اور اس کی احادیث کے بارے میں محدثین اور ثقات کے نظریات ، علماء اور محدثین کی نظر میں سیف کی احادیث اور افسانوں کی قدر و قیمت ، سر انجام اس کو زندیقی اور جھوٹی احادیث گھڑنے کا مجرم ٹھہرانے کے سلسلے میں اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے۔

۸

اس بارے میں مفصل بحث کے بعد استاد اسی نقل شدہ روایات کے ذریعہ سے '' عبدا للہ ابن سب'' کی شخصیت پر بحث و تحقیق کرتے ہیں اور اس جستجو میں صحیح علمی روش کے مطابق '' عبد اللہ ابن سبا'' کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل ہوئی تمام احادیث اور روایتوں کی تحقیق کرتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مؤرخین کی تمام تائیدات اور وضاحتوں ، خاص کر ابو جعفر محمدبن جریر طبری نے جو کچھ نصوص اور وضاحتوں کی صورت میں '' عبدا للہ ابن سب'' کے بارے میں جو کچھ کہا ہے ،اس سے ا ستفادہ کرتے ہوئے سیف کے تمام افسانوں کو منعکس کرکے ثابت کردیتا ہے کہ اس شخص ( عبد اللہ بن سب) سے مربوط روایات کا سرچشمہ صرف سیف بن عمر کے افسانے ہیں ، اس کے علاوہ کسی اور مصدر و مآخذ میں ان کا ذکر نہیں ہوا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے بعض علماے متقدمین ، '' عبد اللہ بن سب'' کے خیالی شخصیت ہونے اور سیف بن عمر تمیمی کے ذریعہ اس کی زبانی جھوٹی احادیث جاری کرانے کے بارے میں متوجہ ہوئے تھے۔

متاخرین اور عصر حاضر کے علماء میں سے ، عرب دنیا کے بے مثال ادیب و مصنف ڈاکٹر طہ حسین نے بھی '' عبد اللہ ابن سبا'' کے ایک افسانوی اور خیالی شخصیت ہونے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔ لیکن ہمارے متقدمین اور متاخرین میں سے کوئی بھی اس حالت میں نہیں تھا جو سیف بن عمر جیسے افسانہ ساز اور جھوٹے آدمی کے حالات اور ا س کی شخصیت کے بارے میں تحقیق کرنے کی زحمت اٹھاتا ، حقیقت میں سیف بن عمر ایک ایسا شخص تھا جس نے بڑی آسانی کے ساتھ اسلامی تاریخ میں کئی دلاور اور سورما خلق کئے اور ان کی زبان پر اپنی من پسند احادیث ، اشعار اور رجز خوانیاں جاری کرکے اپنے اغراض و مقاصد کو ان سے نسبت دی ہے ۔ جبکہ وہ خود جھوٹ ، افسانے سازی ، دلاوریاں جعل کرنے اور زندیقی و گمراہی میں معروف تھا۔

جناب عسکری پہلے محقق ہیں جنھوں نے '' ابن سبا'' کی روایت کے سلسلے میں جستجو کرنے کیلئے قدم اٹھایا اور سیف کے ذریعہ سے اس کو خلق کرنے کی کیفیت قارئین کے اختیار میں دی ، اس طرح کسی کیلئے حتی علمی تحقیق سے دور کا بھی واسطہ نہ رکھنے والوں کیلئے بھی چون و چرا کی کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔

۹

سیف کے افسانوں اور اس کے جھوٹ کی تحقیق کے دوران جناب عسکری کی نظر چند مشکوک احادیث و روایات پر پڑتی ہے ، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس (سیف) نے ان مشکوک روایتوں کو بعض نامور صحابیوں سے نسب دی ہے ۔

یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا کہ استاد نے '' عبد اللہ بن سب'' کی بحث و تحقیق کو ادھورا چھوڑ کر ان مشکوک روایتوں اور ان کے راویوں کے بارے میں تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا۔

استاد نے اس قسم کی احادیث کی روایت کرنے والے اصحاب کو پہچاننے کیلئے تاریخ کے صفحات میں مسلسل پانچ سال تک انتھک جستجو اور تلاش کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ :

١۔ سیف بن عمر کے ١٥٠ ایسے راویوں کا جعلی ہونا آشکار ہوا ، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا اور سیف نے انھیں حقیقی ، مسلم اور ناقابل انکار اصحاب کی حیثیت سے پیش کرکے ان سے روایتیں بھی نقل کی ہیں ۔

٢۔ سیف کی روایت کی گئی زیادہ تر احادیث بے بنیاد ہیں اور صرف سیف کے تخیل کی پیدائش ہیں اور اسی کی زبان پر جاری ہوئی ہیں ۔

٣۔ اس کی بعض احادیث کسی حد تک حقیقی تھیں لیکن سیف نے خاندانی تعصب اور زندیقی ہونے کے ملزم ٹھہرائے جانے کے پیش نظر ان احادیث کو اپنے من پسند بنانے کیلئے ان میں تحریف اور تصرف کرکے ان کاحلیہ ہی بگاڑ کے رکھدیا ہے اور اس طرح ان احادیث کی اصل کے ساتھ کوئی شباہت ہی باقی نہیں رہی ہے بلکہ بالکل جھوٹی احادیث بن کر سامنے آگئی ہیں ۔

٤۔ بہت سی جگہوں پر مشاہدہ ہوتا ہے کہ سیف اپنی حدیث کو شروع میں ایک نامور اور حقیقی راوی یا محدث سے نقل کرتا ہے لیکن آخر میں راویوں کے سلسلہ کو اپنے کسی جعلی صحابی تک پہنچاتا ہے اس طرح انسان ابتداء میں سوچتاہے کہ یہ روایت صحیح اور بے عیب ہے لہذا تصور کرتا ہے کہ حدیث کے راویوں کی دوسری کڑیاں بھی صحیح ہوں گی جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا بلکہ اگر کوئی چالاک اور باہوش مؤرخ ایسی احادیث پر دقت سے نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس قسم کی احادیث کو جھوٹ اور بے بنیاد طور پر ایسے نامور راویوں سے نسبت دے کر انھیں ان کی زبان پر جاری کیا گیا ہے ۔ سیف نے خاص طور پر یہ کام کیا ہے تا کہ یہ دکھائے کہ یہ روایت اس سے نقل کی گئی ہے ، جبکہ نامور راویوں سے منقول اس قسم کے مطالب سیف بن عمر تمیمی کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملتے۔

۱۰

بہر حال ، مشکلات کے باوجود ، استاد نے اس وسیع علمی اور تحقیقی کام کی انجام دہی کیلئے مصمم عزم و ارادہ کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھا ہے جبکہ اس قسم کی علمی بحث و تحقیق کی راہ میں موجود مشکلات اور رکاوٹوں کے پیش نظر ایسے کام کو انجام دینا ایک گروہ کیلئے مشکل اور ناقابل برداشت ہوتا ہے ، ایک شخص کی بات ہی نہیں ! ہاں ان تمام مشکلات و موانع کے باوجود انہوں نے اس کام کو بہت ہی اچھی طرح انجام دیا ہے ۔

اس گراں بہا کتاب میں انتہائی باریک بینی کا لحاظ رکھنے کے علاوہ دیگر خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس میں سیف کی ہر خیالی شخصیت کے بارے میں الگ الگ باب میں مفصل بحث کی گئی ہے اس کے خیالی اماکن اور جگہوں کے بارے میں بھی تحقیق کی گئی ہے اس کے علاوہ ہر ایک فصل و بحث کے آخر میں اس سے متعلق مصادر اور مآخذ کو منظم و مرتب کرکے درج کیا گیا ہے تا کہ قارئینکو اس کتاب کے علاوہ کہیں اور مراجعہ کرنے کی ضرورت نہ پڑے اس طرح اس کتاب میں سیف کے جعل کئے گئے اصحاب ، ان سے نسبت دی گئی احادیث اور ان کی زبانی جاری کئے گئے اشعار و دلاوریوں جیسے مطالب کی وجہ سے پیدا شدہ شک و شبہات دور ہوجائیں ۔

مؤلف محترم نے کتاب کے اس حصہ میں سیف بن عمر تمیمی کے بلا واسطہ خلق کئے گئے ١٥٠ جعلی اصحاب میں سے مندرجہ ذیل اصحاب کے حالات پر بحث و تحقیق کی ہے:

١۔ قعقاع بن عمرو بن مالک تمیمی

٢۔ عاصم بن عمرو بن مالک تمیمی

٣۔ اسود بن قطبہ بن مالک تمیمی

٤۔ ابو مفزر تمیمی۔

٥۔ نافع بن اسود بن قطبہ تمیمی ۔

٦۔ عفیف بن منذر تمیمی۔

٧۔ زیاد بن حنظلہ تمیمی۔

٨۔ حرملہ بن مریطہ تمیمی۔

٩۔ حرمہ بن سلمی ، تمیمی۔

۱۱

١٠۔ ربیع بن مطر بن ثلح تمیمی۔

١١۔ ربعی بن افکل تمیمی۔

١٢۔ اطّ بن ابی اطّ تمیمی۔

١٣۔ سعیر بن خفاف تمیمی۔

١٤۔ عوف بن علاء جشمی تمیمی۔

١٥۔ اوس بن جذیمہ تمیمی۔

١٦۔ سہل بن منجاب تمیمی۔

١٧۔ وکیع بن مالک تمیمی۔

١٨۔ حصین بن نیار حنظلی تمیمی۔

١٩۔ حارث بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٠۔ زبیر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢١۔ طاہر بن ابی ہالہ تمیمی۔

٢٢۔ عبید بن صخر بن لوذان سلمی۔

٢٣۔ عکاشہ بن ثور، غوثی۔

٢٤۔ عبد اللہ بن ثور غوثی۔

٢٥۔ عمرو بن حکم قضاعی۔

٢٦۔ امرؤ القیسں ، کلبی۔

٢٧۔ وبرة بن یحنس ، خزاعی۔

٢٨۔ اقرع بن عبدا للہ حمیری۔

٢٩۔ صلصل بن شرحبیل۔

٣٠۔ عمرو بن محجوب، عامری۔

۱۲

٣١۔ عمر بن خفاجی ، عامری۔

٣٢ ۔عوف ورکانی۔

٣٣۔ عویف زرقانی۔

٣٤۔ قضاعی بن عمرو۔

٣٥۔ خزیمہ بن ثابت انصاری

٣٦۔ بشیر بن کعب

معزز مصنف نے اس کتاب کے مقدمہ میں ان عوامل پر مفصل روشنی ڈالی ہے ، جن کے سبب قدیم زمانے سے آج تک مصنفین اور مؤرخین نے خلافِ حقیقت اور جھوٹ پر مبنی ان مطالب کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بنیادی اسباب کے طور پر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا اور وقت کے حکام اور طاقتور طبقہ کی مصلحتوں کے موافق عمل کرنا بیان کیا گیا ہے ۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اسلام سے پہلے اور پہلی صدی ہجری میں نیز اس کے بعد بھی مختلف معاشروں پر خاندانی تعصبات کی زبردست حکمرانی تھی ۔ اس کے پیش نظر ہم آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ سیف بن عمر تمیمی نے کیوں اپنے جعلی اصحاب میں سے زیادہ تر گروہوں کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ؟!

اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سب سے پہلے حامی و مددگار کو قبیلۂ تمیم سے کیوں خلق کیا ؟ جب کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک ترین رشتہ دار جیسے ابو طالب بنی ہاشم سے دوسرے اعزہ موجود تھے!۔

سیف نے اسلام کے پہلے شہید کو قبیلۂ تمیم سے خلق کیا ہے ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ کو تمیمی جعل کیا ہے ۔ حتی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پروردہ صرف ایک تمیمی پروردہ کی تخلیق پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ اس نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے دو اور منہ بولے بیٹے بھی تمیم سے خلق کئے ہیں ۔ !!

۱۳

یہ وہ مطالب ہیں جن کے بارے میں مصنف محترم نے اس کتاب میں مفصل بحث و تحقیق کی ہے یہ وہ موضوعات ہیں جو ہمارے علماء و محققین کی طرف سے توجہ ، تحقیق، جستجو، احادیث کی چھان بین اور جانچ پڑتال نہ کرنے کے سبب صدیوں تک دانشوروں سے پوشیدہ رہے ہیں ۔

اہم مسئلہ زندیقی ہے ، جس کا سیف ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ چیز اسے اس بات کی اجازت دیتی ہے بلکہ مجبور کرتی ہے کہ اپنے عقائد و افکار پر اسلام کا لبادہ ڈال کر اپنے ناپاک عزائم پر عمل کرسکے۔ اس طرح اسلام کی صحیح تاریخ میں شک و شبہہ ایجاد کرکے رخنہ اندازی کرے ۔ چونکہ سیف تخیلات پر ید طولیٰ رکھتا تھا۔ اس لئے وہ اپنے عقائد و افکار کو آسانی کے ساتھ متعدد احادیث اور روایتوں کی صورت میں پیش کرنے میں کامیاب ہوا ہے ۔ ان روایتوں کو اس نے ایک دوسرے پر ناظر کی صورت میں جعل کیا ہے ان روایتوں میں سے بعض کو اس نے خیالی راویوں سے نقل کیا ہے اور بعض کو مشہور و معروف راویوں سے نسبت دی ہے اس طرح اپنے افکار و عقائد پر مبنی مطالبات و خواہشات کو ان کی زبانی بیان کرتا ہے ، اس نے یہ روایتیں ایسے راویوں سے منسوب کی ہیں جو سالہا سال پہلے اس دنیا سے چل بسے ہیں اور زندہ نہیں ہیں جو اپنے بارے میں لگائی گئی تہمتوں کی تردید کرسکیں یا ان سے منسوب کی گئی روایتوں سے انکار کریں ۔

اس کتاب نے علمی تحقیق میں ایک نیا باب کھولا ہے تعصب و جذبات سے بالاتر رہ کر تاریخ نویسی ، تاریخ کے صفحات سے ملاوٹ ، جھوٹ اور توہمات کو پاک کرنے اور حدیث و روایات کو علم کی کسوٹی پر پرکھنے میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتا ب ہے جس نے عام طور پر معجزانہ اور حیرت انگیز حد تک اثرات ڈالے ہیں ۔

آخر میں اس محنت کش اور انتھک جستجو کرنے والے مصنف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے مقدس مقصد تک پہنچنے کیلئے تن تنہا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جو حقیقت میں منتخب ماہروں ، دانشوروں اور علم و ادب کے محققوں کی ایک ٹیم کا اجتماعی کام ہے۔

بغداد ، جعفر الخلیلی

۱۴

پہلا حصہ :

تحریف

*قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں ۔

*گزشہ ادیان میں تحریف کا مسئلہ۔

*سنت میں تحریف کے سلسلہ میں متقدمین کی تقلید۔

*آسمانی کتابوں میں گزشتہ امتون کی تحریفیں ۔

*توریت میں تحریف کے چند ثبوت

*قرآن مجید ایک لافانی معجزہ

*قرآن مجید میں تحریف کرنے کی ایک ناکام کوشش

*اسلامی مصادر کی تحقیق ضروری ہے۔

۱۵

قرآن و سنت ایک دوسرے کے متمم ہیں

تمام اصول ، عقائد ، احکام اور دوسرے معارف و اسلامی علوم کا سرچشمہ قرآن مجید ہے۔ ان کی تشریح و تفسیر اور ان پر عمل کرنے کا طریقہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گفتار و رفتار میں مشخص ہوا ہے ، جسے حدیث و سیرتِ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہا جاتا ہے ۔ اسی لئے خدائے تعالیٰ نے اپنے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے مانند قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

( اَ طِیعُو الله و َ رَ سُولَهُ ) ١

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کو اپنے احکام کی نافرمانی جانتے ہوئے فرماتا ہے :

( وَ مَنْ یَعْصِ الله و َ رَ سُولَهُ فَاِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّم) ٢

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اس کیلئے جہنم ہے۔

____________________

١۔ انفال ١، آل عمران ١٣٢، نساء ٥٩ انفال ٢٠، ٤٦، نور ٥٤م محمد٣٢. مجادلہ ١٣، تغابن ١٢ ، نور ٥٦، آل عمران ٥٠، شعراء ١٠٨، ١١٠، ١٢٦، ١٣١،١٤٤، ١٥٠، ١٦٣، زخرف١٦٣، مریم ٢ ، نساء ٦٤۔

٢۔ جن ٢٢، نساء ٤٢، ہود٥٩،حاقہ ١٠، شعراء ٢١٦، نوح ٢١، نساء ١٤، احزاب ٣٦ مجادلہ ٨و ٩ ۔

۱۶

خدا اور اس کے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے وضع کئے گئے احکام و فرامین کے مقابلہ میں مؤمنین کے اختیارات کو سلب کرتے ہوئے فرماتا ہے :

(وَ مَا کَانَ لِمُوْمِنٍ وَ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَی اﷲُ وَ رَسُولُهُ َمْراً اَنْ یَکُونَ لَهُم الْخَیَرَةُ منْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ یَعْصِ اللهَ وَ رَ سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالاً مُبِیناً) ١

اور کسی مؤمن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔

خدائے تعالی نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی گفتار و رفتار میں اپنی حجت قرار دیکر انھیں امت کا پیشوا مقرر فرمایا ہے تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں ۔ جیسا کہ فرماتا ہے :

(فَآمِنُوا بِاﷲِ وَ رَسُولِهِ النَّبِیِّ الْاُُمِّیِّ الَّذِی یُوْمِنُ بِاﷲِ وَ کَلِمَاتِهِ وَ تَبِعُوهُ ) ٢

لہذا اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان لے آؤ جو اﷲ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کا اتباع کرو...

دوسری جگہ فرماتا ہے:

إ نْ کُنْتمُ تُحِبُّونَ اﷲَ فَاتَّبِعُونِی )

____________________

١۔احزاب ٣٦

٢۔ اعراف ١٥٨ ،اس سلسلہ میں قرآن مجید میں بہت سی آیات موجودہیں ۔

۱۷

کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔ ١

اور دوسرے مقام پر فرماتا ہے :

(لَقَد کَانَ لَکُمْ فِی رَ سُولِ اﷲِ اُسْوَة حَسَنَة)

بے شک پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا تم لوگوں کیلئے بہترین نمونۂ عمل ہیں ۔ ٢

یہ اور اس کے علاوہ بھی اس موضوع کے بارے میں خدا کے ارشادات موجود ہیں ۔ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بھی اس سلسلے میں چند فرمائشیں بیان کیہیں ، جن میں سے بعض مکتبِ خلفاء کی حسب ذیل صحیح اور معتبر کتابوں میں درج ہوئی ہیں :

١۔'' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ، ''مسند'' احمد اور اسی طرح سنن ابو داؤد میں ''کتاب السنة کے ''باب لزوم السنة'' میں یوں آیا ہے:

'' مقدام بن معدی کرب ٣ نے روایت کی ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :

'' جان لو کہ مجھ پر قرآن نازل ہوا ہے اور اس کے ہمراہ اس کے ہم پایہ سنت بھی ہوشیا ررہو عنقریب ایک شکم سیر مرد تخت سے ٹیک لگائے ہوئے کہے : صرف قرآن

____________________

١۔ آل عمران ٣١

٢۔ احزاب ٢١

٣۔مقدام معدی کرب کندی ، کندہ کے دوسرے نمائندوں کے ہمراہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچا ہے مقدام نے رسول خدا سے ٤٧ احادیث نقل کی ہیں کہ ان سب کو مسلم کے علاوہ تمام صحاح اور سنن میں نقل کیا گیا ہے مقدام نے شام میں ٨٧ ھ میں ٩١ سال کی عمر میں وفات پائی۔''اسد الغابہ ''(٤ ٤١١)، ''جوامع السیرة '' (ص ٢٨٠) ،'' تقریب التہذیب ''(٢ ٢٧٢)

۱۸

لے لو جو کچھ اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو اور جو کچھ بھی اس میں حرام پاؤ اسے حرام سمجھو''

''سنن'' ،ترمذی میں مذکورہ حدیث میں یوں اضافہ ہوا ہے:

''جبکہ بے شک جس چیز کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا نے حرام قرار دیا ہے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے''

'' سنن'' ابن ماجہ میں مذکورہ حدیث کے آخرمیں آیا ہے :

'' خدا کی طرف سے حرام قرار دینے کی طرح ہے''

''مسند'' احمد حنبل میں مقدام معدی کرب سے روایت نقل ہوئی ہے کہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خیبر کی جنگ میں بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: وہ وقت دور نہیں جب تم میں سے ایک شخص میری باتوں کی تردید کرنے پر آتر آئے گا اور جب میری حدیث اسے سنائی جائے گی تو وہ آرام سے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھا ہوا کہے گا : ہمارے اور تمہارے درمیان خدا کی کتاب موجود ہے جس چیز کو اس میں حلال پاؤ اسے حلال جانو گے اور جس چیز کو حرام پائیں گے اسے حرام جانو ۔

ہوشیاررہو ! جس چیز کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حرام قرار دیا ے گویا اسے خدا نے حرام قرار دیا ہے ۔

٢۔ '' سنن'' ترمذی ، ابن ماجہ ، مسند احمد حنبل اور '' سنن '' ابو داؤد میں '' عبیدا ﷲ بن ابی رافع '' ۱

____________________

١۔عبید اللہ ابو رافع ابن ''ابو رافع ''پیغمبر خدا صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آزا دکیا ہواہے ۔عبیدا للہ کے ذمہ امیر المؤمنین کے دیوان کی کتابت تھی ۔وہ محدثین کے تیسرے طبقہ کے ثقات میں شمار ہوتا ہے اور اس کی حدیثوں کو احادیث کی کتابیں لکھنے والے تمام مؤلفین نے نقل کیاہے '' تقریب التہذیب '' (١ ٥٣٢ ) نمبر ١٤٤١

۱۹

اپنے باپ سے نقل کرکے کہتا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

ہوشیار رہو ! میں تم میں سے اس شخص کو اپنے مسند پر خوشحال تکیہ لگا کر بیٹھا ہوا نہ دیکھوں کہ جس کے سامنے میرا وہ فرمان سنایا جائے کہجس میں میں نے کسی کا م کے انجام دینے یا اسے ترک کرنے کا حکم دیا ہو ، اور وہ جواب میں کہے: نہیں جانتا! میں جو کچھ خدا کی کتا ب میں پاؤں گا اسی پر عمل کروں گا !!

'' مسند '' احمد میں مذکورہ حدیث کا آخری جملہ یوں آیا ہے :

'' میں نے اسے خدا کی کتاب میں نہیں پایا ہے''

٣۔ '' سنن'' ابو داؤد ، کتاب خراج کے باب تعشیر اہل ذمہ '' میں '' عرباض بن ساریہ '' ١ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا :

ہم پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ خیبر میں پہنچے ، اس وقت میں کہ چند اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ تھے ، خیبر کے باشندوں کا رئیس ، جو ایک بد اخلاق شخض تھا ، آگے بڑھا اور گستاخانہ انداز میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہنے لگا :

اے محمد ! کیایہ صحیح ہے کہ تم ہمارے مویشیوں کو مار ڈالو ، ہمارے میوؤں کو کھاوجاؤ اور ہماری عورتوں کو اذیت پہنچاؤگے ؟!

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس موضوع سے سخت غصہ میں آئے اور '' عبدا لرحمان عوف '' سے مخاطب ہوکر فرمایا:

____________________

١۔ ابو نجیح ، عرباض بن ساریۂ سلمی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ٣١ حدیثیں روایت کی ہیں ااور '' بخاری و مسلم کے علاوہ '' صاحبان صحاح نے ان حدیثوں کو نقل کیا ہے۔ عرباض ٧٥ ھ میں یا ابن زبیر کے فتنہ کے وقت میں اس دنیا سے چل بسا ۔ '' اسد الغابة (٣ ٣٩٩) '' جوامع السیرہ '' ص ٢٨١ اور '' تقریب التہذیب ( ٢ ١٧)

۲۰