ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 329
مشاہدے: 18441
ڈاؤنلوڈ: 911


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18441 / ڈاؤنلوڈ: 911
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 3

مؤلف:
اردو

چوالیسواں جعلی صحابی قحیف بن سلیک ہالکی

قحیف ، طلیحہ سے جنگ میں

گزشتہ داستانوں کے ضمن میں ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں یوں لکھا ہے :

قحیف بن سلیک ہالکی ، بنی اسد کے ایک قبیلہ '' بنی ہالک '' ''ہ'' کے ساتھ بنی اسد کے خاندان سے ہے ۔

قحیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں اسلام قبول کیا ہے ۔ اس کے بعد اس نے ضرار بن ازور ، قضاعی بن عمرو اور سنان بن ابی سنان کے ہمراہ طلیحہ اسدی سے جنگ میں شرکت کی ہے اور پیکار کے دوران اس نے طلیحہ پر ایک مہلک اور کاری ضرب لگائی جس کے نتیجہ میں وہ زمین پر ڈھیر ہوکر بیہوش ہوگیا اسی اثناء میں طلیحہ کے حامی آ پہنچے اورقحیف کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔

کچھ دیر کے بعد طلیحہ ہوش میں آگیا اور اپنا معالجہ کیا ، صحت یاب ہونے کے بعد یہ افواہ پھیلادی کہ اس پر کوئی اسلحہ اثر نہیں کرسکتا۔ اس طرح اس نے لوگوں کو تعجب میں ڈالدیا ۔

ابن حجر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے لکھتا ہے :

البتہ ان مطالب کو سیف بن عمر نے قحیف بن سلیک کے بارے میں اپنی کتاب ''فتوح '' میں بدر بن حرث' اس نے عثمان بن قطبہ سے اور اس نے بنی اسد کے ذریعہ نقل کیا ہے ان کا باپ بھی ان میں سے تھا !!(ز)

اس داستان کے راویوں کے بارے میں ایک بحث

سیف نے روایت کے راوی کے طور پر '' بدر بن حارث '' کا تعارف کرایا ہے ۔ بدر کے باپ حارث کا نام غلط ہے ، اور صحیح '' بدر بن خلیل'' ہے جو سیف کے جعلی روایوں میں سے ایک تھا ، سیف نے اپنے اکثر افسانے اور جھوٹ اسی سے نقل کئے ہیں ۔

اور اگر غلطی سرزد نہ ہوئی ہو اور وہی '' بدر بن حارث '' ہو تو اس نام کو سیف کے دوسرے جعلی راویوں کی فہرست میں قرار دینا چاہئے۔

۱۶۱

قحیف کی داستان کی تحقیق

سیف بن عمر کے زمانہ میں یمن میں قحیف نامی ایک نامور شاعر تھا ، ابن اثیر نے اپنی تاریخ کی کتاب '' کامل '' میں ١٢٤ ھ کے حوادث کے ضمن میں اس کا نام لیا ہے ۔ ہمیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کیا سیف نے اپنے جعلی قحیف کو شاعر قحیف کا ہم نام خلق کیا ہے ، یعنی وہی کام کیا ہے جو اس نے ''خزیمہ بن ثابت '' سماک بن خرشہ اور جریر بن عبد اللہ کے بارے میں انجام دیا ہے یایوں ہی اچانک یہ نام اس کے ذہن میں آیا اور اس نے اپنے خلق کردہ صحابی کا نام یہی رکھا ہے اور اسی پر افسانہ گڑھ لیا ہے ۔

موضوع جو بھی ہو کوئی فرق نہیں ، ہم نے خاص طور سے اس موضوع کے بارے میں اس لئے اشارہ کیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابن اثیر کی تاریخ کی طرف رجوع کرکے یہ خیال کرے کہ سیف جعل کردہ شخصحقیقت میں تاریخ میں موجود ہے ۔

لیکن سیف نے ضرار بن ازور کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے ایلچی کے طور پر عوف ورکانی اور قضاعی بن عمرو کے پاس بھیجنے کا جوذکر کیا ہے اور ان دونوں نمائندوں کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسود کے ساتھ جنگ کرنے کی مموریت دی کہ اسے قتل کر ڈالیں ،یہ سب کا سب جعل اور جھوٹ ہے اور ہم نے اس سلسلے میں اپنی کتاب '' عبد اللہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں مکمل تفصیل لکھی ہے ۔

مصادر و مآخذ

قضاعی بن عمرو کی داستان :

١۔ تاریخ طبری ( ١ ١٧٩٨ ، (١٧٩٩، ١٨٩٣ اور ٢٤٦٥)

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٤ ٢٠٥)

٣۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٣ ٢٢٧)

٤۔ ابن سعد کی ''طبقات'' (١ ٢٣٢)

۱۶۲

قضاعی بن عامر کی داستان

١۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' (٤ ٢٠٥)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' (٣ ٢٧٧) نمبر : ٧١١٧

قحیف بن سلیک کی داستان

١۔ ابن حجر کی اصابہ ( ٣ ٢٥٦ )نمبر : ٧٢٨١

ہالک بن عمرو کا نسب

١۔ اللباب (٣ ٢٨٣)

٢۔ ابن حزم کی جمہرہ ( ص١٩٠ ۔ ١٩٢)

شاعر قحیف کی داستان

١۔ ابن اثیر کی '' تاریخ کامل'' طبع دار صادء (٥ ٣٠٠)

۱۶۳

پینتالیسواں جعلی صحابی عمرو بن حکم قضاعی

عمرو کا نسب

ابن اثیر کی کتاب '' اللباب فی تھذیب الانساب'' میں یوں آیا ہے:

قضاعہ ایک بڑی قوم ہے جو متعدد قبائل پر مشتمل ہے اس میں شامل قبیلوں میں '' قبیلۂ کلب ، قبیلہ بلی اور قبیلۂ و جہینہ وغیرہ قابل ذکر ہیں '' قینی '' بھی '' قین '' کی طرف نسبت ہے جو خود قضاعہ کا ایک قبیلہ ہے ، یہ نعمان بن جسر کا پوتا اور قضاعہ کی اولاد میں سے ہے جو '' قین '' کے نام سے معروف تھا۔

عمرو بن حکم کی داستان کا سرچشمہ

طبری اور ابن عساکر کی '' تاریخوں '' میں ہم پڑھتے ہیں :

سیف بن عمر نے ابو عمرو سے اور اس نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت قضاعہ کے مختلف قبائل میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندے اور گماشتے حسب ذیل تھے :

١۔ خاندان بنی عبدا للہ سے امرؤ القیس ، قبیلۂ کلب میں ۔

٢۔ عمرو بن حکم ، قبیلۂ قین میں ۔

٣۔ معاویہ بن فلان وائلی قبیلہ '' سعدھذیم '' میں ۔

قبیلہ کلب سے ودیعۂ کلبی اپنے ہمفکروں اور دوست و احباب کی ایک جماعت کے ساتھ مرتد ہوکر دین اسلام سے منحرف ہوگیا تھا ۔لیکن '' امرؤ القیس'' بدستور اسلام کا وفادار رہ کر اسلام پر باقی رہا۔

زمیل بن قطبہ قینی بھی قبیلۂ ''بنی قین ''سے اپنے دوستوں کے گروہ کے ساتھ مرتد ہوا لیکن رسول خدا کا کارندہ عمرو بن حکم بدستور مسلمان رہا۔

۱۶۴

معاویہ بن فلان وائلی بھی قبیلۂ ''سعد ھذیم '' کے اپنے چند ہمفکروں کے ساتھ دین اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہو۔

مذکورہ لوگوں کے مرتد ہونے کے بعد ابوبکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسین کی بیٹی سیکنہ کے نانا '' امرؤ القیس'' کو خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ ودیعہ اور اس کے دوستوں کا مقابلہ کرکے ان کی بغاوت کو کچل ڈالے۔

ایک دوسرے خط کے ذریعہ عمرو بن حکم قضاعی اور معاویۂ عذری کو حکم دیا کہ ایک دوسرے کی مدد سے '' زمیل'' اور اس کے ساتھیوں کی شورش کو سرکوب کریں ۔

جب اسامہ بن زید ، خلیفہ کے حکم پر شام کی جنگ سے واپسی پر قبائل قضاعہ کے مرکز میں پہنچا تو اس نے اپنی فوج کے مختلف دستوں کو مختلف قبائل میں متفرق کرکے انھیں حکم دیا کہ اسلام پر پابند لوگوں کو منظم کرکے قبیلۂ کے مرتدوں کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں ۔

اسامہ کے اس اقدام پر قضاعہ کے مختلف قبیلوں کے مرتدوں نے اپنے خاندان سے فرار کرکے '' دومة الجندل '' میں اجتماع کیا اور '' ودعیۂ کلبی'' کی حمایت پر اتر آئے اور اس طرح اس کی ہمت افزائی ہوئی ۔

اسامہ کے سوار اپنی ڈیوٹی انجام دے کر واپس پلٹے تو اسامہ نے ان کے ہمراہ بے خبر اور اچانک مرتدوں کے جمع ہونے کی جگہ (حمقتین ) پر حملہ کیا اور قضاعہ کے مختلف قبائل جیسے قبیلۂ ''جذام ''' کے بنی ضعیف'' قبیلۂ '' بنی لخم'' کے '' خلیل'' اور ان کے دیگر حامیوں پر ٹوٹ پڑے اور انھیں بڑی بے رحمی کے ساتھ تہ تیغ کیا اور مرتدوں کے گروہ کا '' آبل'' تک پیچھا کیا ۔ اس علاقہ کو ان کے ناپاک و جود سے پاک کیا اور کافی مقدار میں جنگی غنائم لے کر فاتح کی صورت میں واپس لوٹا۔

سیف کی اسی ایک روایت سے استفادہ کرتے ہوئے مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دو صحابی اور کارندوں کا انکشاف کیا ہے.ان علماء میں سے ابو عمر ، ابن عبد البر اپنی کتاب ''استیعاب'' میں لکھتا ہے :

عمرو بن حکم قضاعی قینی ، ایک ایسا صحابی ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے گماشتہ اور کارندے کے طور پر قبیلۂ '' قین '' میں منصوب فرمایا ہے ۔۔ میں ابن عبد البر ۔۔ اس سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ۔

جب قبائل قضاعہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض کارندے مرتد ہوئے ، تو عمرو بن حکم اور امرؤ القیس بن اصبغ ان کارندوں میں سے تھے جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور مرتد نہیں ہوئے ( ابن عبد البر کی بات کا خاتمہ)

۱۶۵

ابن اثیر نے بھی استیعاب کی مذکورہ روایت کوعین عبارت کے ساتھ اپنی کتاب '' اسد الغابہ'' میں نقل کیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ دو علما۔۔ ابن عبدا لبر اور ابن اثیر ۔۔ نے مذکورہ خبر کے مآخذ کو اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ '' میں زیر بحث روایت کے مآخذ کے بارے میں یوں رقمطراز ہے :

عمروبن حکم قضاعی '' قینی'' : سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح '' میں حفص بن میسرہ کے قول کو یزید بن اسلم سے نقل کرکے لکھا ہے کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عمروبن حکم کو اپنے عامل و کارگزار کے طور پر قبیلۂ قین میں منصوب فرمایا ' لیکن جس وقت قبائل قضاعہ کے بعض افراد مرتد ہوگئے ، تو عمرو بن حکم اور امرؤ القیس بن اصبغ ، ان کارندوں میں سے تھے جو بدستور ( داستان کی آخر تک)

ان روایتوں کے علاوہ ، ابن حجر نے ایک اور روایت سیف سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کی ہے اور اس میں اسی خبر کی تکرار ہوئی ہے ، لیکن طبری اسے اپنی تاریخ میں نہیں لایا ہے ۔ اور سیف کا یہ کام ہمارے لئے نیا نہیں ہے ، کیونکہ اس کی روش ایسی ہے کہ ایک خبر کو متعدد اور مختلف روایتوں میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مؤید ہوں تا کہ روایتوں کی زیادہ تعدادکے ذریعہ اس کے جعلی ہونے کی پردہ پوشی ہوجائے۔

۱۶۶

چھیالیسواں جعلی صحابی '' بنی عبداللہ '' سے امرؤ القیس

علماء کے ذریعہ امرؤ القیس کا تعارف

مکتب خلفاء کے پیرو علماء نے سیف کی اسی روایت سے استفادہ کرکے بنی عبد اللہ سے ''امرؤ القیس بن اصبغ '' نامی ایک صحابی ، عامل اور کارندے کے وجود پر یقین کرکے اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔

ابو عمر ، ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں '' امرؤ القیس '' کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے یوں لکھا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ ، بنی عبد اللہ بن کلب بن وبرہ وہ صحابی ہے جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبائل قضاعہ کے قبیلۂ '' کلب'' میں اپنے عامل و کارندے کے عنوان سے منصوب فرمایا ہے ۔ قبائل قضاعہ کے بعض افراد کے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہونے کے بعد امرؤ القیس بدستور اسلام پر پابند رہا ہے ۔

میرے خیال میں ۔۔ البتہ خدا بہتر جانتا ہے ۔۔ یہ امرؤ القیس ابو سلمہ بن عبد الرحمان بن عوف کا ماموں ہوگا ، کیونکہ ابو سلمہ کی والدہ ، جس کا نام '' تماضر '' تھا '' اصبغ بن ثعلبہ بن ضمضم کلبی کی بیٹی تھی ۔ اور خود اصبغ اپنے قبیلہ کا سردار تھا ( ابن عبد البر کی بات کا خاتمہ)

مذکورہ روایت کو کتاب '' الجمع بین الاستیعاب و معرفة الصحابہ'' کے مصنف نے کسی کمی بیشی کے بغیر امرؤ القیس کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت اپنی کتاب میں بیان کیا ہے ۔

ابن اثیر نے بھی اپنی کتاب '' اسد الغابہ '' میں اسی خبر کو بعینہ نقل کیا ہے اور '' بنی عبد الدار '' کا نسب بھی اس میں اضافہ کیاہے ۔ ابن اثیر کہتا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی بنی عبد اللہ بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ بن زید اللات بن رفیدة بن ثور بن وبرہ ایک صحابی ہے جسے رسول خدا نے بعنوان ( عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں ذکر ہوئی داستان کے آخر تک ) پھر وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے :

البتہ ان مطالب کو ابو عمر ابن عبدا لبر نے بیان کیا ہے اور وہ تنہا شخص ہے جس نے ایسے مطالب ذکر کئے ہیں ۔

ذہبی نے بھی اپنی کتاب '' تجرید'' میں امرؤ القیس کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے :

کہتے ہیں کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسے قبیلۂ کلب پر ممور فرمایا تھا۔ صرف ابن عبد البر نے اس کے سلسلہ میں یہ بات کہی ہے ۔

۱۶۷

اس طرح ان تین علما۔۔ ابن عبد البر ، ابن اثیر اور ذہبی ۔۔ نے امرؤ القیس کے حالات پر اپنی کتابوں میں روشنی ڈالیہے ۔ لیکن اپنی روایت کے مآخذ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

لیکن ابن حجر اپنی کتاب '' اصابہ' میں ابن عبد البر کی روایت کو صراحت کے ساتھ اس کا نام لے کر لیکن خلاصہ کے طور پر نقل کرکے آخر میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے کہ امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ میں سے تھا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے وقت آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتہ و کارندہ کی حیثیت سے قبائل بنی قضاعہ کے قبیلہ ٔ کلب میں ممور تھا اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد مرتد نہیں ہوا ۔ سیف نے اپنی کتاب میں دوسری جگہوں پر بھی امرو القیس کا نام لیا ہے ( ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

عمرو اور امرؤ القیس کے بارے میں ا یک بحث

اس روایت میں دو جگہوں پر ایک محقق کیلئے مطلب پیچیدہ اور مبہم ہے پہلے یہ کہ ابو عمر ، ابن عبد البر نے ، عمرو بن حکم قضاعی کے حالات پر روشنی ڈالتے وقت ، سیف بن عمر کی بات کو اس کے بارے میں مختصر ذکر کرکے فقط اس پر اکتفا کی ہے کہ:

وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کارندہ تھا ، ارتداد کے مسئلہ میں اسلام پر باقی رہا ہے ۔ ( آخر میں تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے ): میں اس سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہوں ۔

ابن اثیر نے بھی کتا ب'' اسد الغابہ '' میں ابن عبد البر کی پیروی کرتے ہوئے اس میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے ۔ لیکن ابن حجر نے ان دوعلماء کی روایت کے مآخذ سے پردہ اٹھا کر انہیں بیان کیا ہے ۔جس نے محققین کے کام کو آسان بنادیا ہے ۔

اور اس کی پیچیدگی کا سبب نہیں بنا ہے لیکن امرؤ القیس کے حالات کی تشریح کے بارے میں یہ مسئلہ بر عکس ہوا ہے ، کیونکہ اس صحابی کے حالات کی تشریح میں اس سے بیشتر بیان کیا گیا ہے جوکچھ سیف بن عمر نے اس کے بارے میں کہا ہے ۔

ملاحظہ فرمائیے :

سیف کی روایت میں امرؤ القیس کا یوں تعارف کیا گیا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ ، بنی عبد اللہ سے ہے۔

۱۶۸

لیکن یہی سادہ تعارف ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں اس طرح آیا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ بن وبرہ سے ہے!

آخر میں ابن اثیر اس نسبی تعارف میں اضافہ کرکے کہتا ہے :

امرؤ القیس بن اصبغ کلبی ، بنی عبد اللہ بن کنانة بن بکر تا ابن کلب بن وبرہ !!!

یہی امر سبب بنتا ہے کہ انسان یہ گمان کرے کہ کیا ابن اثیر امرؤ القیس کے نسب کو کلب بن وبرہ تک جانتا تھا اور اسے مکمل طور پر پہچانتا تھا جو اس طرح یقین اور قطعی صورت میں اس کا سب بیان کررہا ہے ؟ لیکن جب ابن اثیر اپنی بات کے خاتمہ تک پہنچتا ہے تو اس طرح کہتا ہے :

البتہ یہ ابو عمر ، ابن عبد البر کا کہنا اور وہ تنہا شخص ہے جس نے امرؤ القیس کے بارے میں اس طرح کی بات کہی ہے ۔

اس طرح حقیقت سامنے آجاتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ ابن اثیر نے بنی عبد اللہ کے سلسلہ نسب کو ''کلب بن وبرہ''تک پہنچا یا ہے نہ کہ سیف کے خیالات کی تخلیق '' امرؤ القیس '' کے نسب ۔

امرؤ القیس عدی کی جگہ امرؤ القیس اصبغ کی جانشینی

دوسری جگہ یہ کہ سیف نے اپنی مخلوق امرؤ القیس کو '' اصبغ '' کے بیٹے کے طور پر پیش کیا ہے اور یہ اصبغ '' اصبغ کلبی '' کا ہم نام ہے جو '' دومة الجندل '' میں رئیس قبیلہ تھا اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عبد الرحمان عوف کو اسلام کے سپاہیوں کے ایک گروہ کے ہمراہ اس کے پاس بھیجا تھا۔

اس ملاقات کے دوران عبد الرحمان نے '' اصبغ'' کی بیٹی '' تماضر'' سے عقد کرکے اسے اپنی بیوی بنالیا اور اس نے ایک بیٹے ''' ابو سلمہ '' کو جنم دیا ہے ۔

۱۶۹

ابن عبد البر اصبغ کے نام میں اس ہم نامی کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور تصور کیا ہے کہ جس اصبغ کا سیف نے نام لیا ہے وہ وہی اصبغ ہونا چاہئے جو دومة الجندل میں قبیلۂ کلب کا سردار تھا اور اس نے یہیں سے یہ خیال کیا ہے کہ سیف کا امرؤ القیس '' تماضر'' کا بھائی اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان عوف کا ماموں ہے ۔ جبکہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ '' تماضر '' کے باپ کے '' امرؤ القیس'' نامی کوئی بیٹا تھا۔

اس طرح ابن عبد البر اس امر سے بھی غافل تھا کہ سیف بن عمر نے اپنی داستان کے ہیرو ''امرو القیس '' کو امام حسین کی بیٹی سکینہ کے جد کے طور پر خلق کیا ہے ۔ جبکہ سکینہ بنت امام حسین کا جدِ مادری امرؤ القیس بن عدی ہے نہ اصبغ !! اور یہ امرؤ القیس بن عدی بھی خلافت عمر کے زمانے میں اسلام لایا ہے ، نہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات میں اور یہ کسی صورت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا گماشتہ اورکارندہ نہیں تھا ١ اس بنا پر جس امرؤ القیس کو سیف نے خلق کیا ہے وہ اس اصبغ کا بیٹا نہیں تھا ، جو دومة الجندل میں سردار قبیلہ تھا اور نہ سکینہ کا نانا تھا اور نہ ہی ابو سلمہ بن عبد الرحمان عوف کا ماموں تھا بلکہ یہ صرف ایک نام تھا ان ناموں کی فہرست میں جنھیں سیف نے اپنے افکار کے نفاذ کیلئے خلق کیا ہے اور اپنے افسانوں میں اس کیلئے کردار معین کیا ہے تا کہ آسانی کے ساتھ تاریخ اسلام کو ذلیل و خوار کرے اور محققین کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کرے ۔

بے شک سیف اس قسم کے دو ہمنام دلاوروں کو خلق کرکے اور انھیں تاریخ کے حقیقی چہرے کے طور پر دکھا کر علماء کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے اسی طرح اپنے افسانوں کو خلق کرنے میں ، '' ابو دجانہ ، سماک بن خرشہ ، جریر بن عبد اللہ اور سبائیان '' جیسے اسلام کے واقعی چہروں کا نام لیا ہے اور تاریخ میں دخل و تصرف کرکے حقیقتوں کو تحریف کرنے کے بعد علماء و اور محقیقین کیلئے پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا کی ہیں ۔

یہاں پر یہ سؤال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حقیقت میں سیف کے زندیقی ہونے کی نسبت صحیح نہ ہوتی تو کون سی چیز اس کیلئے اسلام کے ساتھ اتنی دشمنی کرنے کا سبب بنتی اور وہ تاریخ اسلام کو ذلیل کرنے پر اتر آتا ؟!!

____________________

١ امرؤ القیس بن عدی کے اسلام قبول کرنے کے طریقہ کے بارے میں '' اسلام کی جنگوں کے سپہ سالار '' کی فصل میں ذکر ہوگا''

۱۷۰

تاریخ کی مسلم حقیقتیں

موضوع کی حقیقت کی تحقیق کرنے کیلئے گزشتہ بحث پر ایک مختصر نظر ڈالنا بے فائدہ نہ ہوگا۔

سیف نے اپنی خلق کی گئی روایتوں اور افسانوں میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے چند ایسے کارندے اور گماشتے جعل کئے ہیں جن کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قضاعہ کیلئے ممور فرمایا تھا ۔ اس سلسلے میں کہا ہے کہ ان کارندوں میں سے بعض رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہوگئے اور اس واقعہ کی وجہ سے خلیفہ ابو بکر نے مجبور ہو کر ان لوگوں میں دین اسلام پر ثابت قدم رہنے والے افراد کو حکم دیا ہے کہ وہ مرتدوں سے جنگ کریں اور انھیں پھیلنے سے روکیں ۔ جب اس دوران اسامہ موتہ کی جنگ سے واپس آتا ہے ۔ جیسا کہ سیف نے اس مطلب کو ایک دوسری روایت میں بیان کیا ہے ۔۔ تو ابو بکر اسے قضاعہ کے مرتدوں کی سرکوبی کیلئے ممور فرماتے ہیں ۔ اسامہ نے بھی مرتدوں کا '' حمقتین '' سیف نے ایک دوسری روایت میں اس جگہ کو شام کی سرحدوں کے عنوان سے پیش کیا ہے تک پیچھا کرتا ہے ان میں سے بہت سے گروہوں کا قتل عام کرکے کافی مقدار میں غنائم حاصل کرکے واپس لوٹتا ہے ۔

سیف نے اس روایت میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے قضاعہ کے مختلف قبائل میں چند گماشتے اور کارندے خلق کئے ہیں ۔ جس کی تفصیل ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تمیمی کارندے اور حاکم'' کے عنوان سے بیان کرکے اس کے آخر میں سیرت لکھنے والوں کے امام و پیشوا ابو اسحق کا یہ قول نقل کیا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلام کی قلمرو میں موجود سرزمینوں میں اپنے گورنر اور گماشتے حسب ذیل منصوب فرمائے

ہم نے ابو اسحق کا مذکورہ بیان اس لئے نقل کیا ہے تا کہ تاریخ کے مسلم حقائق کے مقابلے میں سیف کی روایتوں کا افسانہ ہونا اور ان کی قدر و منزلت واضح ہوجائے ۔

یہاں پر بھی ہم ایک دوسرے دانشور اور تاریخ نویس '' خلیفہ بن خیاط '' کے بیانات نقل کرتے ہیں جنھیں انہوں نے اپنی تاریخ میں '' رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کے نام '' کے عنوان سے ایک الگ فصل میں درج کیا ہے ، تا کہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں سے مربوط بحث مکمل ہوجائے۔

۱۷۱

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی کارگزار

ابن خیاط لکھتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ابن ام مکتوم '' کو مختلف غزوات اور دیگر مواقع پر مدینہ منورہ میں تیرہ بار ١اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے:

١۔٣ ،' ابواء '' ، '' بواط'' اور ذی العشیرہ '' کے غزوات میں ۔

٤۔ '' کُرزَبن جابر '' نامی ایک باغی سے نبرد آزما ہونے کیلئے '' جہینہ '' پر حملہ کے دوران ۔

٥۔ جب جنگ بدر کے سلسلے میں باہر تشریف لے جارہے تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد'' ابن

____________________

١۔ ابن خیاط کی روایت ابن مکتوم کی ١٣ بار جانشینی کی حاکی ہے جبکہ اس دانشور نے صرف ١٢ موارد ذکر کئے ہیں

۱۷۲

ام مکتوم'' کو اس عہدہ سے برطرف کرکے ان کی جگہ '' ابو لبابہ ''کو منصوب فرمایا:

٦۔١٢ ۔ '' سویق'' ، '' غطفان '' ا، '' احد '' ، '' حمراء الاسد'' ، بحران '' '' ذات الرقاع '' اور آخر میں حجة الوداع میں ۔

درج ذیل اصحاب کو بھی دوسرے غزوات میں مدینہ منورہ میں اپنی جگہ جانشین مقرر فرمایا ہے :

____________________

١۔ '' ابو رہم غفاری '' اور کلثوم بن حصین '' کو اس وقت جب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ''مکہ '' ''حنین'' اور ''طائف'' عزیمت فرمائی۔

۱۷۳

۔ محمد بن مسلمہ '' کو غزوۂ '' قرقرة الکدر '' میں ۔

۔ '' نمیلة بن عبد اللہ اللیثی '' کو غزوۂ '' بنی المصطلق ''میں ۔

۔ بنی دئل سے '' عویف بن الاضبط '' کو غزوۂ حدیبیہ میں ۔

۔ دوبارہ '' ابورہم غفاری '' کوغزوۂ '' خیبر '' اور '' عمرة القضاء میں ''

۔ '' سباع بن عرفطۂ غفاری '' کو غزوۂ '' تبوک '' میں ۔

۔ '' غالب بن عبدا للہ اللیثی '' کو ایک دوسرے غزوہ میں ۔

۔ مندجہ ذیل اصحاب کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حسب ذیل علاقوں کی حکومت اور ولایت سونپی ہے :

۔ عتاب بن اسید ' کو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مکہ سے اپنی واپسی کے وقت مکہ میں اپنے جانشین و حاکم کے عنوان سے منصوب فرمایا ۔ ابو بکر کی وفات تک ' عتاب ' اس عہدہ پر برقرار تھا ۔

۔ ' عثمان بن ابو العاص ثقفی '' کو طائف پر ۔

۔ '' سالم بن معتب '' کو ثقیف کے ہم پیمانوں پر۔

۔ ایک اور صحابی کو '' بنی مالک '' پر۔

۔ عمروبن سعید '' کو '' خیبر''،' 'وادی القری ، '' تیما'' اور '' تبوک '' کے عرب نشین قصبوں پر ۔

۔ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات تک '' عمرو '' وہاں پر حکومت کرتا رہا۔

۔ '' حکم بن سعید بن عاص '' کو مدینہ کے بازار کے امور میں اپنا مؤکل منصوب فرمایا ۔

یمن کے علاقہ کو مختلف حصوں میں تقسیم فرماکر ہر ایک حصہ پر اپنے درج ذیل اصحاب میں سے کسی ایک کو منصوب فرمایا:

۔ '' خالد بن سعید بن عاص کو ''یمن کے صنعا ''پر ۔

۔ '' مہاجربن امیہ '' کو '' کندہ '' او ر'' صدف '' پر ۔

۔ '' زیاد بن لبید انصاری بیاضی '' کو حضرموت پر ۔

۔ معاذ بن جبل '' کو''جند'' پر ، اس کے علاوہ معاذ کے فرائض میں علاقہ کے دعاوی ( جھگڑوں ) کا فیصلہ کرنا: قوانین اسلام کی تربیت اور لوگوں کو قرآن مجید سکھانا بھی شامل تھا۔

۱۷۴

۔ ابو موسی اشعری کو '' زبید '' ، ''رمع ''''عدن'' او ر''ساحل ''(بندر) پر ممور فرمایا اور حکم دیا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں اور گماشتوں کے ذریعہ حاصل شدہ صدقات وغیرہ کو معاذ بن جبل ان سے وصول کرے گا۔

'' عمرو بن حزم'' کو '' بلحارث بن کعب'' کے قبائل پر ۔

''ابو سفیان بن حرب '' کو نجران پر ۔

۔'' علی بن ابیطالب '' کو حکم دیا کہ علاقہ نجران کے صدقات کو جمع کرے ں ۔

امام نے بھی جمع کی گئیں رقومات کو حجة الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔

۔ سعید بن قشب ازدی ''بنی امیہ کے ہم پیمان کو '' جرش'' اور اس کے سمندری علاقوں پر ۔

۔ '' علاء بن حضرمی'' کو بحرین میں اس کے بعد اسے وہاں سے معزول کرکے اس کی جگہ ''ابان بن سعید '' کو منصوب فرمایا ۔ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات کے آخری تک '' ابان '' بحرین اور اسکے سمندوری علاقوں پر حکومت کرتا رہا۔

۔ عمروبن عاص '' کو سرزمین عمان کیلئے منتخب فرمایا اور وہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زندگی کے آخر تک وہاں حکومت کرتا تھا ۔ اس کے علاوہ کہتے ہیں کہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے '' ابو زید انصاری '' کو عمان کی حکومت پر منصوب فرمایا تھا

بنی عامر بن لوئی سے ایک فرد''سلیط بن سلیط '' کو یمامہ پر منصوب فرمایا یمامہ کے باشندوں نے جب اسلام قبول کیا تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے مال و منال میں ہاتھ نہیں لگایا اور اسے بدستور ان کے ہی اختیار میں رکھا ( ابن خیاط کی بات کا خاتمہ )

جیسا کہ ملاحظہ فرمایا کہ اس نامور عالم نے ان تمام افراد کانام لیا ہے جنہوں نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پوری حیات میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں ، گماشتوں یا علاقوں کے حاکم کے طور پر ذمہ داری سنبھالی تھی ۔ اور اس سلسلے میں ایک فرد کو بھی لکھے بغیرنہیں چھوڑا ہے حتی اس نے '' ابوزید انصاری'' کی عمان پر حکومت کی ضعیف روایت سے بھی چشم پوشی نہیں کی ہے ۔ اور اس علاقہ پر اس کی حکومت کے بارے میں '' کہتے ہیں ...''' کی عبار ت لائی ہے ۔ لیکن اس لمبی چوڑی فہرست میں کہیں بھی سیف کے جعل کردہ افراد میں سے کسی ایک کا نام نہیں ملتا ۔

۱۷۵

اس افسانہ سے سیف کے نتائج

سیف نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بہت سے کارندوں کا نام لیا ہے کہ نہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انھیں دیکھا ہے اور نہ ہی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب نے ۔

سیف نے اپنے ان خلق کئے گئے بعض چہروں کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گماشتوں اور کارندوں کے عنوان سے پیش کیا ہے کہ ہم نے اس کتاب کی دوسری جلد میں ان میں سے چھ افراد کو حسب ذیل پیش کیا ہے۔

١۔ سعیر بن خفاف تمیمی

٢۔ عوف بن علاء بن خالد بن جشمی

٣۔ اوس بن جذیمہ، ہجیمی

٤۔ سہل بن منجاب ، تمیمی

٥۔ وکیع بن مالک ، تمیمی

٦۔ حصین بن نیار ، حنظلی

مذکورہ افراد کے بارے میں ہم نے ہر ایک کی تفصیل سے وضاحت کی ہے ۔

یہاں بھی ہم سیف کے خلق کئے گئے درج ذیل ایسے کارندوں اور گماشتوں سے روبرو ہوتے ہیں ، جنہیں سیف کے بقول پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قضاعہ میں ممور فرمایا تھا :

٧۔ عمرو بن حکم ، قضاعی

٨ ۔امرؤ القیس بن اصبغ

ہم نے دیکھا کہ ابن اسحاق نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان تمام گماشتوں اور کارندوں کا نام لیا ہے جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے سال تک، مموریت پر تھے اور اسی طرح خلیفہ بن خیاط نے ان تمام افراد کا نام لیا ہے جو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پوری زندگی میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے مدینہ منورہ میں کسی نہ کسی قسم کی مموریت انجام دی چکے ہیں ۔ لیکن ان مذکورہ لمبی چوڑی فہرستوں میں سیف کے خلق کئے گئے گماشتوں اور کارندوں کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ۔ کیونکہ یہ صرف سیف بن عمر ہے جس نے ان کارندوں اور قبائل قضاعہ کے مرتد ہونے کا افسانہ گڑھ لیا ہے ۔

۱۷۶

یہ سیف بن عمر ہے جو کہتا ہے کہ خلیفہ ابو بکر نے ابتدا میں مرتدوں سے سیاسی طور پر برتاؤ کیا تا کہ ان کی سرکشی کو مسالمت آمیزطریقے سے خاتمہ بخشے لیکن جب ا س طرح کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا تو مجبور ہو کر ان کی بغاوت اور سرکشی کو کچلنے کیلئے اسامہ اور اس کے لشکر کو روانہ کیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت کے بغیر ان کی خوب گوشمالی کرے ۔ نتیجہ کے طور پر اسامہ نے تابڑتوڑ حملوں کے ذریعہ قضاعہ کے مرتدوں کا '' حمقتین '' تک پیچھا کیا اور انہیں بھگا کر علاقہ کو ان کے وجود سے پاک کردیا!

آخر میں یہی مکتب خلفاء کے پیرو علماء ہیں جنہوں نے سیف کی روایات اور افسانوں سے استفادہ کرکے اس کے خیالی کرداروں کو حقیقت کا لبادہ پہنایا ہے اور ان کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سیف کے جعل کردہ مقامات جیسے '' حمقتین '' کی بھی تشریح کرکے انھیں اپنی جغرافیہ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

سیف کی انہی روایتوں سے یہ افواہ پھیلی ہے کہ اسلام تلوار اور خون کی ہولی کھیل کر پھیلا ہے نہ کہ فطری طور پر اور اپنی خصوصیت کی وجہ سے !! ہم نے اس موضو ع کو اپنی کتاب '' عبدا للہ بن سبا '' کی دوسری جلد میں ثابت کیا ہے ۔

سر انجام سیف کے تمام جھوٹ سے زیادہ تکلیف دہ وہ جھوٹ ہے جسے اس نے آخر میں خلق کرکے یہ کہا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعض گماشتے اور کارندے اسلام سے منہ موڑ کر مرتد ہوگئے اور باقی بچے ثابت قدم لوگوں نے ان سے جنگ کی ہے !

اس بات سے پتا چلتا ہے کہ اسلام نے اس کے پیرؤں کے دلوں پر ہی نہیں بلکہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کارندوں اور خصوصی گماشتوں کے دلوں پر بھی اثر نہیں کیا تھا جبھی انہوں نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے بعد دین سے منحرف ہوکر ارتداد کا راستہ اختیار کیاکر لیا تھا، اس طرح سیف نے ثابت کیا ہے کہ اسلام تلوار کی ضرب سے پھیلا ہے نہ کہ کسی اور طریقے سے۔

۱۷۷

اس افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما

ان تمام افسانوں کو سیف بن عمر نے اکیلے ہی خلق کیا ہے اور درج ذیل علماء نے اپنی معتبر اور گراں قدر کتابوں میں ان کی اشاعت کی ہے :

١۔ امام المؤرخین '' محمد بن جریر طبری'' نے اپنی تاریخ کبیر میں ، مآخذ کے ذکر کے ساتھ

٢۔ ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں ،سند کے ساتھ۔

٣۔ ابو عمر ابن عبد البر نے استیعاب میں سند کے بغیر ۔

٤۔ یاقوت حموی نے ''شرح بر حمقتین'' کے عنوان سے کتاب ''معجم البلدان ''میں سند کے ساتھ۔

٥۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب '' کامل '' میں طبری سے نقل کرکے ۔

٦۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ''اسد الغابہ ''میں عبدا لبر کی استیعاب سے ۔

٧۔ کتاب ''الجمع بین الاستیعاب ''و ''معرفة الصحابہ ''کے مصنف نے عبد البر کی استیعاب سے۔

٨۔ ذہبی نے کتاب '' تجرید '' میں ابن اثیر کی اسد الغابہ سے نقل کرکے ۔

٩۔ ابن حجر نے اپنی کتاب '' اصابہ '' میں کتاب فتوح سے نقل کرکے۔

یہ سب سیف بن عمر تمیمی کی جھوٹی اور جعلی روایتوں کی برکت سے ہے جو زندیقی ہونے کا ملزم بھی ٹھہرایا گیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

قضاعہ کے نسب کے بارے میں مادۂ '' القضاعی '' و القینی '' کتاب اللباب (٢ ٢٦٥) اور (٣ ١٨ ) ملاحظہ ہو۔

عمرو بن حکم قضائی کی داستان :

١۔ تاریخ طبری (١ ١٨٧٢)

٢۔ تاریخ ابن عساکر (١ ٤٣٢)

٣۔ ابن عبد البر کی استیعاب طبع حیدر آباد دکن ( ٢ ٤٤٣) نمبر : ١٩٣٣

۱۷۸

٤۔ الجمع بن الاستیعاب و معرفة الصحابہ قلمی نسخہ ، کتابخانہ ظاہریہ ص ١٩ نئے سطرے سکینہ بنت امام حسین کے جد کی داستان

١۔ ''اغانی ''اصفہانی ( ١٤ ١٥٧)

٢۔کتاب '' شذرات الذہب '' ( ١ ١٥٤)

رسول خدا کے گماشتوں اور کارندوں کے نام اور ان کا تعارف

١۔ خلیفہ بن خیاط کی تاریخ ( ١ ٦١ ۔ ٦٢)

سیف کے خیالی اماکن حموی کی '' معجم البلدان '' میں لفظ '' حمقتین ''اور آبل کے تحت ۔

۱۷۹

چھٹا حصہ

ہم نام اصحاب

* خزیمہ بن ثابت انصاری ( ذو الشہادتین کے علاوہ )

*سماک بن خرشہ انصاری ( ابو دجانہ کے علاوہ )

۱۸۰