ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 329
مشاہدے: 22544
ڈاؤنلوڈ: 1011


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22544 / ڈاؤنلوڈ: 1011
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 3

مؤلف:
اردو

سینتالیسواں جعلی صحابی

خزیمہ بن ثابت ، غیر ذی شہادتین

اپنے افسانوں میں کلیدی رول ادا کرنے والوں کو خلق کرنے میں سیف کا ایک خاص طریقہ یہ ہے کہ اپنے خلق کردہ بعض اصحاب کو ایسے صحابیوں کے ہم نام خلق کرتا ہے جو حقیقت میں وجود رکھتے تھے اور صاحب شہرت بھی تھے اس کے بعد وہ اپنے خلق کئے ہوئے ایسے اصحاب کیلئے افسانے اور کارنامے گڑھ لیتا ہے اور تاریخ اسلام میں ان کے کاندھے پر ایسی ذمہ داریاں ڈالتا ہے ، جس سے مؤرخین و محققین اور پریشانیوں سے دوچار ہوتے ہیں ۔

یہاں ایک حقیقی تاریخی شخصیت جو سیف کا مورد توجہ قرار پایا ہے اور جس کا اس نے ہم نام خلق کیا ہے ، '' خزیمہ بن ثابت انصاری '' ہے۔

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں انصار میں سے قبیلۂ '' اوس '' میں '' خزیمہ بن ثابت '' نام کا ایک شخص تھا جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ جنگ بدر اور اس کے بعد کی جنگوں میں یا جنگ احد اور اس کے بعد کی جنگوں میں شرکت کی ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کیا ہے ۔

خزیمہ کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے '' ذی الشہادتین '' کا لقب ملا تھا اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے تھا۔ اس افتخار کو پانے کی داستان ، جسے تمام تاریخ نویسوں نے درج کیاہے حسب ذیل ہے :

ذو الشہادتین ، ایک قابل افتخار لقب

ایک دن رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سواء بن قیس محاربی نام کے ایک بدو عرب سے ایک گھوڑا خریدا ۔ چونکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے ، اس لئے اعرابی سے فرمایا کہ پیسے وصول کرنے کیلئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ساتھ آئے ۔ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تیزی سے قدم بڑھارہے تھے ، اسلئے اعرابی پیچھے رہ گیا، اسی اثناء میں چندا فراد جو اس اعرابی کے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ کئے گئے معاملہ سے آگاہ نہ تھے اعرابی کے پاس پہنچ کر گھوڑے کی قیمت کے بارے میں مول تول کرنے لگے ۔ آخر ان میں سے ایک شخص نے زیادہ پیسے دینے کی تجویز دی ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس اعرابی سے کچھ آگے بڑھ چکے تھے ۔ اسی لئے اس ماجرا سے بے خبر تھے ۔ اس کے بعد اعرابی نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر فریاد بلند کی :

۱۸۱

اگر اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہو تو خرید لو ، ورنہ میں اسے پیچ دوں گا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکے اور فرمایا : کیا میں نے اسے تجھ سے نہیں خریدا ہے ؟

سواء نے جواب دیا : نہیں ، خدا کی قسم میں نے اسے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فروخت نہیں کیا ہے !

پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا : میں نے اسے تجھ سے خریدلیا ہے اور معاملہ طے پاچکا ہے

لوگ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس بدو عرب کے ارد گرد جمع ہوئے اور ان کی باتوں کو سن رہے تھے۔

اسی اثناء سواء نے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مخاطب ہوکر کہا : گواہ لائیں کہ میں نے اس گھوڑے کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ بیچا ہے !

جو بھی مسلمان وہاں سے گزرہا تھا اور اس موضوع سے آگاہ ہوتا تھا ، اس اعرابی سے کہتا تھا کہ لعنت ہو تم پر! پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔

اسی اثناء میں ' ' خزیمہ بن ثابت '' وہاں پہنچے اور اعرابی کے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ اختلاف سے آگاہ ہوئے ، اور اس نے سناکہ سواء پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے گواہ طلب کررہا ہے اور کہتا ہے :

گواہ لائیں کہ میں نے اس گھوڑے کو آپ کے ہاتھ بیچا ہے :

خزیمہ نے فوراً کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے اس گھوڑے کو بیچ دیا ہے !

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خزیمہ سے مخاطب ہوکر فرمایا : جس معاملے میں حاضر نہ تھے اس کی گواہی کیوں دی؟

خزیمہ نے جواب دیا : جس دین کو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم لائے ہیں میں نے اسے قبول کرکے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سچ بولنے والا جانا ہے اور جانتا ہوں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سچ کے بغیر کوئی بات نہیں کرتے !

ایک اور روایت میں خزیمہ کا جواب یوں بیان ہوا ہے: میں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بات آسمانوں کے بارے میں جو تمام بشریت کی دست رس سے دور ہے سنی اور اسے قبول کیا ہے، تو کیا اس موضوع کے بارے میں آاپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تصدیق نہ کروں اور اس کے صحیح اور سچ ہونے کی گواہی نہ دوں ؟

۱۸۲

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:'' آج کے بعد ہر مسئلہ میں خزیمہ کی گواہ دو گواہی کے برابر ہے '' یہی امر سبب بنا کہ اس تاریخ کے بعد خزیمہ '' ذی الشہادتین'' کے نام سے معروف و مشہور ہوئے اور وہ تنہا شخض تھے جن کی گواہی دو مردوں کے برابر شمار ہوتی تھی۔

یہ سلسلہ تب تک جاری رہا کہ خلیفہ عمر نے قرآن مجید کو اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا ، جو تب تک پراکندہ اوراق ، تختیوں اور کھجور کے درختوں کی چھال پر لکھا ہوا تھا ، اور حکم دیا کہ اصحاب میں سے جس کسی نے بھی جتنی مقدار میں قرآن مجید کو پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سن کر حفظ کیا ہو اسے لے آئے اور اس سلسلے میں احتیاط کی جاتی تھی اور خلیفہ کسی آیت کو تب تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک دومرد اس کے صحیح ہونے کی شہادت نہ دیتے اس موقع پر خزیمہ بن ثابت آیۂ

(وَمِن َ الُموْ مِنِینَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اﷲعَلَیهِْ ....)

لے کر آئے، اور خلیفہ نے اس کی گواہی پر اکتفا کرکے کہا: تیرے علاوہ کسی اور کی گواہی نہیں چاہتا ہوں ۔

خزیمہ کی '' ذو الشہادتین '' کے نام سے شہرت قبیلہ '' اوس'' کیلئے فخر و مباہات کا سبب بنی، حتی جب قبیلۂ '' اوس'' و '' خزرج '' اپنے اپنے افتخارات گننے پر آتے تھے تو '' اوس'' سر بلندی سے ادعا کرتے تھے کہ ''... اور خزیمہ ہم میں سے ہے جس کی گواہی کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے ''

خزیمۂ '' ذو الشہادتین'' نے ٣٧ ھ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے پرچم تلے صفین کی جنگ میں شرکت کی اور اسی جنگ میں شہید ہوئے ۔ تاریخ نویسوں نے ان کی شہادت کے بارے میں یون بیان کیا ہے:

خزیمہ نے علی کے ہمراہ جمل اور صفین کی جنگوں میں مسلح ہوکر شرکت کی اور صفین کی جنگ میں کہتے تھے : میں عمار کے قتل ہونے تک نہیں لڑوں گا۔ میں منتظر دیکھ رہا ہوں کہ عمار کو کون قتل کرتا ہے ، کیونکہ میں نے خود رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سنا ہے کہ فرماتے تھے : عمار کو باغی اور سرکشوں کا ایک گروہ قتل کر ڈالے گا۔

اور جب عمار اسی جنگِ صفین میں معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے تو خزیمہ نے کہا: میں نے گمراہوں کو مکمل طور سے پہچان لیا ۔اس کے بعد میدان جنگ میں قدم رکھ کر تب تک امام کی صف میں لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔

۱۸۳

خزیمۂ '' غیر ذی الشہادتین'' کو خلق کرنے میں سیف کا مقصد

'' خزیمہ بن ثابت ذی الشہادتین '' کے معاویہ کا سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہونا خاندان بنی امیہ کیلئے دو جہت سے بری اور معنوی شکست تھی ۔ ایک تو یہ کہ انہیں اس حالت میں قتل کیا گیا کہ وہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف سے '' ذو الشہادتین ''' کا لقب پاچکے تھے اور یہ ان کے لئے ایک بڑا افتخار تھا اور وہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے اور قبیلۂ اوس کیلئے فخر و مباہات کا سبب تھے، دوسری جانب آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گواہی کہ عمار ایک دین سے منحرف اور سرکش گروہ کے ہاتھوں قتل کئے جائیں گے ، خود خزیمہ کی طرف سے ایک اور گواہی تھی کہ معاویہ اور اس کے حامی دین اسلام سے منحرف ہوکر سرکش و گمراہ ہوئے تھے اور حق امیر المؤمنین علیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھا۔

سیف جو کہ خاندان بنی امیہ کی طرفداری میں عمار جیسوں کو رسوا و بدنام کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا ہے' ان کے خلاف جھوٹ کے پلندے گڑھتاہے ، تو کیا وہ عمار کی اس فضیلت و منقبت کے مقابلے میں آرام سے بیٹھ سکتا ہے ؟

وہ کیسے اس دوہری معنوی شکست رسوائی کے مقابلے میں خاموش بیٹھ سکتا ہے؟

جو معاویہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں عمار یاسر کے قتل ہونے اور خزیمہ بن ثابت کی گواہی کی وجہ سے خاندان بنی امیہ کو اٹھانی پڑی ہے جبکہ اس نے ہر قیمت پر بنی امیہ کا دفاع کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کاروائی انجام دینے سے گریز نہیں کرتا ؟!

سیف ، جس نے بنی امیہ کی قصیدہ خوانی اور مداحی کیلئے اپنے آپ کو وقف کر دیا ہے ، ہر گز خاندان بنی امیہ کیلئے ایسے نازک اور رسوا کن موقع پر خاموش نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔ لہذا وہ مجبور ہوکر اس مسئلہ کے معالجہ کیلئے قدم اٹھاتا ہے اور تاریخ میں دخل و تصرف کرکے ایک اور صحابی خلق کرتا ہے ، اور موضوع کی اصل حقیقت کو بدل دیتا ہے اس طرح اپنے خیال میں بنی امیہ کے دامن میں لگے ننگ و رسوائی کے داغ کو پاک کرتا ہے ۔

۱۸۴

وہ اس سلسلے میں ایک صحابی کو خلق کرکے اس کا نام خزیمہ بن ثابت رکھتا ہے تا کہ اسے اصلی خزیمۂ ذو الشہادتین کی جگہ پر قرار دے اور اسے صفین کی جنگ کے دوران بنی امیہ کے سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوتے دکھا کراصلی خزیمۂ کی شہادت اور معاویہ اور اس کے حامیوں کی سر کشی کے بارے میں کوئی گواہ باقی نہ رکھے۔

اس بناوٹی خزیمہ کی داستان کو امام المؤرخیں طبری نے سیف بن عمر سے ، اس نے محمد سے اور اس نے طلحہ سے نقل کرکے یوں درج کیا ہے :

١۔ امیر المؤمنین علی نے جب اپنے بارے میں مدینہ کے باشندوں کے عدم میلان کا احساس کیا توآپ نے ان کے سرداروں اور معروف شخصیتوں کو بلایا اور ایک تقریر کے دوران ان سے مددکرنے کو کہا۔

سیف کہتا ہے : حضاّر میں سے دو معروف شخصیتیں '' ابو الھیثم بن تیہان '' بدری جنگ بدر میں شرکت کرنے والا صحابی اور '' خزیمہ بن ثابت '' اپنی جگہ سے اور امام کی حمایت اور مدد کا اعلان کیا ۔

سیف بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

یہ خزیمہ ، '' خزیمہ ذو الشہادتین '' کے علاوہ ہے کیونکہ '' ذو الشہادتین '' عثمان کی خلافت کے زمانہ میں فوت ہوچکا تھا !!

٢۔ اس کے بعد طبری نے ایک دوسری روایت میں سیف سے ، اس نے محمد سے نقل کیا ہے کہ ۔۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا لقب '' عرزمی '' تھا اس نے عبیدا ﷲ سے اس نے حکم بن عتیبہ سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

حکم بن عتیبہ سے پوچھا گیا : کیا خزیمہ ذو الشہادتین نے جمل کی جنگ میں شرکت کی ہے؟

حکم نے جواب دیا: نہیں ، جس نے جنگِ جمل میں شرکت کی ہے وہ ذو الشہادتین نہیں تھا بلکہ انصار میں سے ایک اور خزیمہ تھا چونکہ ذو الشہادتین عثمان کی خلافت کے دوران فوت ہوچکا تھا !!

سیف ان دو روایتوں کو '' شعبی'' کی دو دوسری جعلی روایتوں سے تقویت بخشتا ہے تا کہ بہر صورت اپنی اس بات کو ثابت کرے کہ خزیمہ ذو الشہادتین خلافت عثمان کے زمانہ میں فوت ہوچکے تھے ۔ توجہ فرمائیے:

۱۸۵

٣۔ سیف بن عمر نے مجالد کے اس قول سے لکھا کو کہ شعبی نے کہا:

قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، جمل کی جنگ میں صرف چھ یا سات افراد ایسے تھے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔

٤۔ سیف ، دوسری روایت میں عمرو بن محمد سے نقل کرکے کہتا ہے کہ شعبی نے کہا ہے کہ :

قسم اس خدا کی جس کے سوا کوئی خد ا نہیں ہے ، جنگِ جمل میں اصحاب بدر میں سے صرف چھ افراد نے شرکت کی ہے۔

میں سیف بن عمرنے عمرو سے کہا : جمل کی جنگ میں اصحاب بدر کی شرکت کرنے والوں کی تعداد کے بارے میں تمہاری اور ''مجادلہ '' کی بات میں اختلاف ہے ؟ عمرو نے جواب میں کہا:نہیں ، ایسا نہیں ہے ، ہمارا آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ، مگر یہ کہ خود شعبی اس امر شک کرتا تھا کہ ابو ایوب انصاری نے اس جنگ میں شرکت کی ہے یا نہیں اس نے شک کیاہے کہ کیا جب ام سلمہ نے اسے جنگ صفین کے بعد امام کی خدمت میں بھیجا ، تو ابو ایوب انصاری امام کی خدمت میں پہنچا ہے یا نہیں ، کیونکہ جب ابو ایوب انصاری امام کی خدمت میں پہنچا تو اس وقت امام نے نہروان میں قدم رکھا تھا ۔

آخر میں سیف پانچویں روایت کے مطابق ،معاویہ سے جنگ کرنے میں لوگوں کے میلان کے سلسلے میں اپنے جعلی صحابی زیاد بن حنظلہ کے افسانے میں اپنی گزشتہ بات کی تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے :

٥۔ جب زیاد نے معاویہ سے جنگ کے بارے میں لوگوں کے عدم میلان کا مشاہد کیا تو امام کو بے یار و یاور دیکھ کر ، آپ کی خدمت میں پہنچ کر کہا:

اگر لوگ آپ کی مدد کرنے کامیلان نہیں رکھتے ، ہم خوشیکے ساتھ آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے سامنے دشمنوں سے جنگ کریں گے ۔

۱۸۶

افسانہ کے مآخذ اور راوی

سیف نے اپنی پہلی روایت کو محمد اور طلحہ سے نقل کیا ہے ۔ سیف کے ان دونوں راویوں محمد و طلحہنے کیسے اور کہاں پر ایک ساتھ بیٹھ کر بات کی ہے ،یہ خود ایک الگ موضوع ہے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے کہا ہے کہ سیف نے اس محمد کو '' محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ '' خلق کیا ہے جبکہ طلحہ ، طلحہ بن اعلم حنفی ہے او روہ ایک حقیقی شخصیت ہے ، جو ''رے ''کے '' حبان '' نامی گاؤں کا رہنے والاتھا اور ایک مشہور و معروف راوی تھا ۔ سیف عراق کے شہر کوفہ میں زندگی بسرکرتا تھا ، معلوم نہیں اس نے ''حبان '' میں رہنے والے طلحہ سے کیسے ملاقات کی یا پھر اسے دیکھے بغیر اپنی روایت اس کی زبانی گڑھ لی ہے؟!

دوسری روایت کو سیف نے محمد بن عبید اﷲ بن ابی سلیمان ، معروف بہ عرزمی سے ، اس نے اپنے باپ سے اس نے حکم بن عتیبہ سینقل کیا ۔

عرزمی کو علم حدیث کے علماء اور دانشوروں نے ضعیف جانا ہے اور اس کی روایتوں کو قبول نہیں کرتے۔ کیا معلوم شاید اسے ضعیف جاننے اور اس پر اعتماد نہ کرنے کا سبب یہ ہو کہ سیف نے اپنے جھوٹ اس سے نقل کئے ہیں !

لیکن حکم ، علما، حکم نام کے دو اشخاص کو جانتے ہیں ۔ ان میں سے ایک کوفہ کا قاضی تھا اور دوسرا مشہور و معروف راوی تھا ۔ لیکن بات یہ ہے کہ کیا سیف نے انھیں دیکھا ہے۔ ان کی روایتیں سنی ہیں اور پھر ان کی زبانی جھوٹ کہلوایا ہے ، یا یہ کہ بن دیکھے 'سنے ان کی زبان سے جھوٹ جاری کیا ہے ؟!

بہر صورت ، سیف نے انھیں دیکھا ہو یا نہیں ، ان کی باتیں سنی ہوں یا نہیں ، موضوع کی ماہیت پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، کیونکہ ہم ہرگز سیف کے جھوٹ کے گناہوں کو ایسے راویوں کی گردن پر نہیں ڈالتے ، جبکہ سیف تنہا شخص ہے جس نے ایسی روایتیں ایسے اشخاص سے نقل کی ہیں ۔

سیف نے اپنی پانچویں روایت کو عبد اللہ بن سعید بن ثابت سے نقل کرکے '' ایک شخص'' کے بقول بیان کیاہے جبکہ عبد اللہ بن سعید بن ثابت سیف کے مخلوق راویوں میں سے ہے اور ہم نے اس موضوع کی وضاحت گزشتہ بحثوں میں کی ہے ۔ لیکن وہ گمنام '' مرد'' کون ہے جس سے عبد اللہ نے روایت سنی ہے اور سیف نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ؟ تا کہ ہم اس کو پہچانتے ؟!

۱۸۷

سیف کے افسانے اور تاریخی حقائق

سیف نے مذکورہ پنجگانہ روایتوں میں یہ ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کی ہے کہ مدینہ کے باشندوں ، خاص کر مہاجر و انصار نے امام کی سپاہ میں شامل ہونے سے انکار اور جمل و صفین کی جنگوں میں امام کے پرچم تلے لڑنے سے بے دلی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں اپنے جھوٹ پر تکیہ کرکے قسم کھاتا ہے کہ بدر کے مجاہدوں میں سے چھ یا سات افراد سے زیادہ صفین و جمل کی جنگوں میں امامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت میں شامل نہیں ہوئے ہیں ۔

تعجب کی بات ہے کہ سیف ریا کاری اور مکروفریب سے اپنے جھوٹ کو چھپانے کیلئے امام علی کی جنگوں میں بدر کے مجاہدوں کی شرکت کو چھ یا سات افراد میں محدود کر دیتا ہے اور اپنی چوتھی جعلی روایت میں ابو ایوب انصاری کی داستان کو گڑھ کر اس اختلاف کی توجیہ کرتا ہے !

یہاں پر ہم حقائق کا انکشاف کرنے کیلئے سیف کی روایتوں اور اس کی داستانوں کو دوسروں کے بیان کردہ تاریخی وقائع اور جنگِ جمل و صفین میں ا میر المؤمنین امام علی کے ساتھ رسول خدا کے صحابیوں کے حالات پر حسب ذیل بحث و تحقیق کرنے پر مجبور ہیں :

١۔ بیعت کے موقع پر امامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں خزیمہ اور دیگر اصحاب کا نظریہ

اس سلسلے میں '' یعقوبی '' اپنی تاریخ میں یوں لکھتا ہے :

جب علی کی بیعت کی گئی ، انصار میں سے چند افراد نے اٹھ کر تقریر یں کیں اس کے بعد خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین اٹھے اوریوں بولے :

اے امیر المؤمنین ! آپ کے علاوہ کوئی ہم پر حکومت کی شائستگی نہیں رکھتا اور ہم آپ کے علاوہ کسی کی اطاعت نہیں کریں گے اگر ہمارے ضمیر آپ کے بارے میں انصاف پر مبنی فیصلہ سنادیں تو آپ سب سے پہلے ایمان لائے ہیں اور سب سے زیادہ خدا کا عرفان رکھنے والے ہیں اور تمام مؤمنین میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نزدیک تر ہیں ، جو کچھ سب لوگوں کے پاس ہے آپ اکیلے اس کے مالک ہیں اور جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے دوسرے محروم ہیں

۱۸۸

٢۔ جمل کی جنگ میں خزیمہ اورمدینہ کے باشندوں کا نظریہ :

'' ابن اعثم '' اپنی کتاب '' فتوح '' میں لکھتا ہے :

جب امام علی علیہ السلام عائشہ کے مکہ سے بصرہ کی طرف روانگی سے آگاہ ہوئے تو آپ نے اپنے دوست و احباب کو جمع کرکے ان سے یوں خطاب کیا :

اے لوگو! خدائے تبارک و تعالی نے تمہارے درمیان ایک قرآن ناطق بھیجا ہے جو بھی قرآن مجید سے منہ موڑے اور اسے چھوڑ دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا ۔ بدعت اور مشتبہ چیزیں نابودی اور ہلاکت کے اسباب ہیں اور اس سے کوئی بچ نہیں سکتا مگر خدائے تعالیٰ اسے لغزشوں سے بچاے حکومت الہی کا دامن پکڑلو اور اس کے ماتحت رہو وہ تمہاری نجات و سربلندی کا سبب ہے اس لئے پر اس خدائی حکومت کی اطاعت کرو ۔ اپنے آپ کو اس گروہ سے لڑنے کیلئے آمادہ کرلو جو تمہاری یکجہتی و اتحاد پر نظر جمائے ہے اور تم لوگوں میں اختلاف و افتراق ڈالنا چاہتا ہے اپنے آپ کو آمادہ کرلوتا کہ خدئے تعالی ٰ تمہارے ہاتھوں ان گمراہوں کی اصلاح فرمائے ۔ اور یہ جان لوکہ طلحہ و زیبر نے ایک دوسرے کی مدد کرکے ارادہ کیا ہے کہ میرے رشتہ داروں کو میرے خلاف اکسائیں اور لوگوں کو میری مخالفت پرمجبور کریں ۔ میں ان کی طرف روانہ ہورہا ہوں تا کہ ان سے جنگ کروں یہاں تک کہ خدائے تعالی ہمارے درمیان فیصلہ کردے ۔

والسلام

لوگوں نے بھی اپنی آمادگی کا اعلان کیا

٣۔ خزیمہ جمل کی جنگ میں

''مسعودی '' نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ امیر المؤمنین نے جنگ ِ جمل میں پر چم اپنے بیٹے محمد کے ہاتھ میں دیا اور احکم دیا کہ حملہ کرتے ہوئے آگے بڑے ۔

محمد نے اپنے حملوں میں متوقع جرت و شجاعت نہیں دکھائی ، اس لئے امام ان کے نزدیک تشریف لے گئے اور پرچم کو ان سے لے کر خود دشمن کے قلب پر حملہ کیا ۔

۱۸۹

اس کے بعد اضافہ کرتے ہوئے مسعودی لکھتا ہے :

خزیمہ بن ثابت انصاری ذوالشہادتین امام کی خدمت میں حاضر ہو کر بولے اے امیر المؤمنین ! محمد کی شرمندگی کا سبب نہ بنئے ، پرچم کو اسے سونپئے ۔ امام نے محمد کو بلا کر دوبارہ جنگ کا پرچم ان کے ہاتھ میں دیا۔

٤۔ جنگ جمل میں بدر کے مجاہدوں اور دوسرے اصحاب کی موجودگی:

'' ذہبی '' نے '' سعید بن جبیر '' سے نقل کرکے لکھا ہے جنگ جمل میں آٹھ سو افراد انصار میں سے اور سات سو ایسے اصحاب امام کی خدمت میں سرگرمعمل تھے جنہوں نے بیعت رضوان کو درک کیا تھا۔

اور '' سدی '' سے نقل کرکے مزید لکھتا ہے :

جنگ جمل میں امیر المؤمنین کے ہمراہ ایک سو تیس بدریوں نے شرکت کی ہے ۔

٥۔ صفین کی جنگ کے بارے میں اصحاب کا نظریہ :

'' نصر بن مزاحم '' نے اپنی کتاب '' صفین '' میں لکھا ہے:

جب علی علیہ السلام شام کی طرف عازم ہوئے تا کہ وہاں کے لوگوں سے نبرد آزما ہوں ، اپنے حامی مہاجر و انصار کو بلایا ۔ جب وہ حاضر ہوئے تو آپ نے کھڑے ہوکر خدا کی حمد و ثنا بجالانے کے بعدفرمایا:

آپ لوگ عقلمند ، متواضع ،سنجیدہ ، حق گو اور صحیح کردار کے مالک ہیں اب جبکہ ہم اپنے مشترک دشمن پر حملہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ، ہمیں اپنی آراء اور نظریات سے آگاہ کرئے ۔

امام کی تقریر کے بعد ابو وقاص کا پوتا '' ہاشم بن عتبہ '' اپنی جگہ سے اٹھا اور بہترین صورت میں حمد و ثنا الٰہی بجا لا کر بولا:

۱۹۰

اما بعد ، اے امیر المؤمنین ! میں ان لوگوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں یہ آپ کے اور آپ کے حامیوں کے سخت دشمن ہیں اور مال و دنیا پرست ہیں وہ آپ سے جنگ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے یہ ایسے دنیا پرست ہیں جو کسی بھی قیمت حاصل کی گئی چیزوں سے چشم پوشی نہیں کرتے اور اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہاتھ میں نہیں رکھتے ۔ یہ لوگ نادانوں کو عثمان بن عفان کی خونخواہی کے عنوان سے فریب دیتے ہیں ۔ یہ جھوٹ بولتے ہیں ان کے خون کا انتقام لینا نہیں چاہتے بلکہ اس بہانے سے طاقت و دولت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔

ہمارے ساتھ ان پر حملہ کیجئے ۔ اگر حق کو قبول کیا تو اس صورت میں گمراہی سے نجات پائیں گے اور اگر اختلاف و افتراق کے علاوہ کسی اور راستہ کو اختیار نہ کیا کہ گمان ہے ایسا ہی کریں گے ۔اور خدا کی قسم میں یہ تصور نہیں کرتا کہ وہ آپ کی بیعت کریں گے کیونکہ ان پر ایک ایسا شخص حکومت کرتا ہے جس کے ہر حکم کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور ان کیلئے اس کی نافرمانی کرنا محال ہے !

ہاشم بن عتبہ کے بعد '' عمار یاسر '' اپنی جگہ سے اٹھ کرخدائے تعالیٰ کی حمدو ثنا بجالانے کے بعد بولے :

اے امیر المؤمنین ! اگر ہو سکے تو ایک دن بھی نہ ٹھہرئے اور اس کام کو انجام دیجئے ۔ اس سے پہلے کہ ان بد کرداروں کے فتنہ کی آگ کے شعلے بھڑک اٹھیں اور وہ راستوں ، گزرگاہوں کو بند کرکے تفرقہ و اختلاف ڈالنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ ان پر حملہ کیجئے اور انھیں راہ حق کی طرف ہدایت فرمائیے اگر انہوں نے قبول کیاتو خوشبخت ہوجائیں گے اور اگر ہمارے ساتھ جنگ کرنے کے علاوہ کسی اور راستہ کو اختیار نہ کیاتو ایسی صورت میں ، خدا کی قسم ان کا خون بہانا اور ان سے جنگ کرنا خدائے تعالیٰ کی خوشنودی اور تقرب حاصل کرنے کا سبب ہوگا جو پروردگار کا ہم پر لطف و کرم ہوگا۔

جب عمار یاسر اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو پھر ''قیس بن سعد بن عبادہ'' اپنی جگہ سے اٹھے اور خدا کی حمد و ثنا بجالانے کے بعد بولے :

اے امیر المؤمنین ! آمادہ ہوجائے اور ہمارے ساتھ مشترک دشمن پر حملہ کرنے کیلئے باہر آنے میں کوتاہی اور تاخیر نہ فرمائیے خد اکی قسم میں ان سے جنگ کرنے میں اس سے زیادہ مائل ہوں کہ راہ کی خدا میں ترکوں اور رومیوں سے جہاد کروں کیونکہ دین الہٰی کی نسبت ان کی گستاخی حد سے گزر چکی ہے اور انہوں نے خدا کے نیک بندوں اور مہاجر ، انصار اور صالح تابعین میں محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ناصر و یاور کو ذلیل و خوار کرکے رکھدیا ہے ۔

۱۹۱

یہ جب کسی کو غصہ کرکے اسے پکڑ لیتے ہیں تو اسے جیل میں ڈال دیتے ہیں یا اسے کوڑے مارتے ہیں اور اس کا بائیکاٹ کرتے ہیں یا شہر و وطن سے جلا وطن کر دیتے ہیں ہمارے مال ومنال کو اپنے لئے حلال جانتے ہیں اور ہمارے ساتھ اپنے غلاموں جیسا سلوک کرتے ہیں ۔

اس کے بعد '' نصر '' لکھتا ہے :

جب '' قیس'' اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تو انصار کے بزرگوں میں سے خزیمہ بن ثابت و ابو ایوب انصاری '' اور دیگر لوگوں نے قیس کی ملامت کرتے ہوئے کہا:

تم نے کیوں انصار کے بڑے بوڑھوں کا احترام نہیں کیا اور ان سے پہلے بول اٹھے ؟

قیس نے جواب دیا ؛ مجھے آپ لوگوں کی برتری اور بزرگی کا اعتراف ہے لیکن میرے سینہ میں بھی وہی غصہ و نفرت موجزن ہے جو '' احزاب '' کی یاد کرکے آپ لوگوں کے سینہ میں موجزن ہوتی ہے اس لئے میں صبر نہ کرسکا ۔

یہاں پر انصار کے بزرگوں نے آپس میں طے کیا کہ ایک شخص اٹھے اور انصار کی جماعت کی طرف سے امیر المؤمنین کے جواب کے طور پر کچھ بولے۔ لہذا '' سہل بن حنیف '' کو انتخاب کیا گیا اور ان سے کہا گیا؛ اے سہل ! کھڑے ہوجاؤ اور ہماری طرف سے بات کرو ! سہل اٹھے اور خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں حمد و ثنا بجالانے کے بعد بولے:

اے امیر المؤمنین آپ جس کے ساتھ مہربانی کریں گے ، ہم بھی مہربانی کریں گے اور جس سے جنگ کریں گے ، ہم بھی اس سے لڑیں گے ۔ آپ جو فکر کریں گے ہماری فکر بھی وہی ہے کیوں کہ ہم آپ کے دائیں بازو کے مانند آپ کے اختیار میں ہیں ۔

لیکن ہماری تجویز یہ ہے کہ کوفہ کے باشندوں کے سرداروں کو اس موضوع سے مطلع فرمائیے کیونکہ وہ اس دیار کے باشندے ہیں ۔ انھیں حکم دیجئے تا کہ وہ بھی دشمن کی طرف روانہ ہوں ۔ ان کو فضل ورحمت خدا سے جو اِنہیں عنایت ہوئی ہے ، آگاہ فرمائیے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں اگر آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے تو آپ اپنے مقصد مقصد میں کامیاب ہوں گے ورنہ ہم لوگ تو آپ کے بارے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتے ، جب بھی ہمیں بلائیں گے جان ہتھیلی پر لے کر حاضر ہیں اور جو بھی حکم دیں گے سر آنکھوں پر لیں گے یعقوبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ صفین کی جنگ میں امیر المؤمنین کے ہمراہ ستر افراد بدری ، شجرہ میں بیعت کرنے والوں میں سے سات سو افراد کے علاوہ چار سو دوسرے مہاجر و انصار بھی موجودتھے ۔

۱۹۲

مسعودی نے بھی لکھا ہے کہ :

صفین کی جنگ میں عراق کے باشندوں میں سے پچیس ہزار افراد قتل ہوئے جن میں پچیس بدری بھی دکھائی دیتے تھے۔

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ امیر المؤمنین کی جنگوں کے بارے میں اصحاب کے نظریات اور پالیسی کا ایک نمونہ تھا ۔ اب ہم '' خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین '' کے صفین کی جنگ میں قتل ہونے کی روداد بیان کرتے ہیں ۔

'' ابن سعد '' اپنی کتاب ''طبقات '' میں '' ذو الشہادتین '' کی زندگی کے حالات کی تشریح میں لکھتا ہے :

جس وقت عمار یاسر صفین کی جنگ میں قتل ہوئے ، خزیمہ بن ثابت اپنے خیمہ میں چلے گئے ، غسل کیا اور جنگی لباس زیب تن کیا، اس پر پانی چھڑکنے کے بعد باہر آئے او رمیدان جنگ میں جاکر اس قدر جنگ کی کہ آخر شہید ہوگئے ۔

'' خطیب بغدادی'' ١ نے بھی اپنی کتاب '' موضح '' میں '' عبد الرحمان بن ابی لیلی '' سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

میں جنگ صفین میں حاضر تھا ۔ میدان کارزار میں میری ایک ایسے شخص کے ساتھ مڈ بھیڑ ہوئی جو اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھا ، اس کی داڑھی کے بال چہرے پر لگائے نقاب سے نیچے کی طرف باہر آئے تھے۔ وہ پوری طاقت کے ساتھ لڑرہا تھا اور

____________________

١- حافظ حدیث ، ابو بکر احمد بن علی ملقب بہ خطیب بغدادی ( وفات ٤٦٣ھ ) اس کی تالیفات میں سے ایک '' موضح اوھام الجمع و التفریق' ہے کہ ہم نے اس کتاب کی جلد' ٤' صفحہ: ٢٧٧ طبع حیدر آباد دکن ١٣٨٧ھ کی طرف رجوع کیا ہے۔

۱۹۳

دائیں بائیں تلوار چلارہا تھا اور حملہ کررہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس کے نزدیک پہنچا کر کہا :

اے بوڑھے آدمی ! تم جوانوں کے ساتھ اس طرح بلاخوف لڑرہے ہو اور دائیں بائیں تلوار چلا رہے ہو ؟

اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا کر کہا ؛ میں '' خزیمہ بن ثابت انصاری'' ہوں ، میں نے خود رسول خدا سے سنا ے کہ وہ فرماتے تھے : علی کے ہمراہ لڑنا اور اس کے دشمنون سے جنگ کرنا۔

' 'نصر بن مزاحم'' اپنی کتاب '' صفین '' میں اس جنگ کی رجز خوانیوں کے ضمن میں لکھتا ہے :

'' خزیمہ بن ثابت '' صفین کی جنگ میں معاویہ کی سپاہ پر حملہ کرتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہے تھے :

جنگ شروع ہوئے دو دن گزر گئے ، یہ تیسرا دن ہے ، پیاس کی شدت سے جنگجووں کی زبانیں منہ سے باہر نکل آئی ہیں ۔

آج وہی دن ہے کہ جس دن تلاش وکوشش کرنے والے کو بخوبی معلوم ہوگا کہ امام کے ساتھ عہد و پیمان توڑنے والے کس قدر زندہ رہنے کی امید رکھتے ہیں ؟!

جبکہ یہ لوگ اپنے اسلاف کی میراث لینے والے اور آئندہ کیلئے وراثت چھوڑنے والے ہیں ، یہ علی ہیں جو بھی ان کی اطاعت نہ کرے ، '' ناکثین '' میں سے ہے اور پروردگار کے ہاں گناہگار ہے ۔

اس کے علاوہ جمعرات کے دن کی دلاوریوں اور رجز خوانیوں کے عنوان سے لکھتا ہے : اسی دن ''خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین'' قتل ہوئے ، اور خزیمہ کی بیٹی '' ضبیعہ '' اپنے باپ کی لاش پر یوں نوحہ خوانی کررہی تھی:

اے میری آنکھوں ! '' احزاب ''کے ہاتھوں مقتول اور فرات کے کنارے خاک پر پڑی ہوئی خزیمہ کی لاش ' پر آنسوؤں کے دریا بہاؤ:

انہوں نے ذو الشہادتین کو بے گناہ اور مظلوم قتل کیا ہے' خدا ان سے اس کا انتقام لے ۔

اسے جوانمردوں کے ایک گروہ کے ساتھ مارا گیا ، جو حق کی آواز پر لبیک کہہ کر آگے بڑھے تھے اور ہرگز آرام سے نہیں بیٹھے تھے۔

یہ لوگ اپنے کامیاب و فریاد رس مولا امام علی کی مدد میں اٹھے تھے اور موت کے لمحہ تک اپنے مولا کی مدد سے دست بردار نہیں ہوئے ۔

۱۹۴

خدائے تعالیٰ '' خزیمہ'' کے قاتلوں پر لعنت فرمائے اور دنیا و آخرت میں ذلیل و خوار کرے ۔

نصر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

امام علی نے صفین کی جنگ سے واپسی پر اپنے ایک خطبہ میں کوفیوں کی معاویہ سے جنگ میں شرکت پر تجلیل کرتے ہوئے بے انتہا حزن و ملال کے ساتھ خزیمہ ذو الشہادتین کو یاد کرتے ہوئے فرمایا:

میرے بھائی ، جن کا خون صفین کے میدان میں زمین پر جاری ہوا ، چونکہ آج وہ زندہ نہیں ہیں جو غم و اندوہ کے عالم کا مشاہدہ کرتے ! ان کو کیا نقصان پہنچا ؟ خدا کی قسم انہوں نے اس خدا کا دیدار کیا جس نے انہیں جزا دی ہے اور انھیں تمام خوف و ہراس سے آزاد کرکے امن کی جگہ پر قرار دیا ہے ۔

کہاں ہیں میرے وہ بھائی جنہوں نے حق کی راہ میں قدم رکھا اور حق کے راستے کا انتخاب کیا؟

کہاں ہے عمار ، کہاں ہے ابن تیہان ١ اور کہاں ہے ذو الشہادتین ؟!

جو کچھ ہم نے یہاں تک بیان کیا وہ امام علی کی جنگوں کے بارے میں مہاجریں و انصار خاص کر خزیمتہ بن ثابت ذو الشہادتین نقطہ نظر کا اظہار تھا ٢

ان حقائق کے باوجود سیف آخر میں تحریف کرتا ہے او وقائع میں دخل و تصرف کے ذریعہ افسانوی کردار خلق کرتا ہے اور اس طرح تاریخ اسلام کو مشکوک کرکے اس کے اعتبار' استحکام اور قدر و منزلت کو گرادیتا ہے ۔

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث

گزشتہ پانچوں روایتوں میں سیف نے تاریخی حقائق میں تحریف کرکے علماء اور محققین کو

____________________

١۔ ابن تیہان ، ابو الہیثم ، مالک بن تیہان انصاری قبیلۂ اوس میں سے ہیں ۔ ابن تیہان نے بیعت عقبہ کو درک کیا ہے اور جنگِ بدر کے علاوہ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دوسری جنگوں میں بھی شرکت کی ہے ۔ ابن تیہان صفین کی جنگ میں امام علی کی حمایت میں لڑے اور اس میں شہید ہوئے۔ (اسد الغابہ ج ٥ ٣١٨) ، خطبہ نمبر ١٨٣ ، نوف بکالی کی روایت کے مطابق اور ' ' شرح نہج البلاغہ '' ابن ابی الحدید معتزلی (١٠.٩٩) ۔

٢۔ کوئی یہ گمان نہ کرے کہ فضائل و مناقب امام علی بیان کرنے میں ہماری دلچسپی کا مقصد یہ ہے کہ ہم انصار کے نظریات اور امام کے بارے میں ان کی پالیسی کو بیان کرکے بحث کو طولانی بنارہے ہیں ۔حقیقت میں ہم مجبور تھے تا کہ سیف کی شیطنتوں ، فضائل امام کو پوشیدہ رکھنے ، امام کے ساتھ اس کی دشمنی کی بنا پر وقائع میں تحریف کرنے اور بنی امیہ کے ساتھ اس کی ہمدردیوں سے پردہ اٹھائیں ۔ اسی طرح ہم نے بعد میں ذکر ہونے والے صحابی کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مشہور صحابی جیسے '' ابو دجانہ '' کے امام کی جنگوں میں شرکت کرنے کے مسئلہ کو جس کا سیف مدعی ہے قبول نہیں کیا ہے اور اسے رد کیا ہے۔

۱۹۵

گمراہی اور پریشانی سے دوچار کیا ہے ۔ اس نے تاریخ میں تصرف کرکے ' خزیمہ بن ثابت '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ افسانہ کا اس میں اضافہ کیا ہے اور اس طرح آئندہ نسلوں کے تاریخی حقائق سے منحرف ہونے کے اسباب مہیا کئے ہیں ۔

سیف بن عمر تمیمی کے بعد اسلام کے علماء و محققین کی باری آتی ہے ۔ اس سلسلہ میں مکتبِ خلفاء کے پیرو علماء نے کمر ہمت باندھ کر سیف کی افسانوی داستانوں جھوٹ کے پلندوں اور تخلیقات کو مسلم اور ناقابل انکار حقائق کے عنوان سے حدیث، تاریخ ، ادب اور صحابہ کی تشریح میں لکھی گئی اپنی معتبر اور گراں قدر کتابوں میں نقل کیا ہے اور اپنے اس عمل سے سیف کے افسانوں کو حقیقت کا لبادہ اوڑھا کر معتبر مصادر و مآخذمیں داخل کیا ہے اس سلسلے میں خطیب بغدادی جیسے دانشور کی بات قابل غور ہے ۔

خطیب بغدادی اپنی کتاب '' موضح '' میں '' خزیمہ بن ثابت انصاری '' ''غیر ذو الشہادتین '' کے بارے میں لکھتا ہے :

علماء نے اس خزیمہ کا نام سیف کی احادیث سے استفادہ کرکے لکھا ہے منجملہ یہ کہ

یہاں پر سیف کی پہلی اور دوسری روایت کو نقل کرنے کے بعد اپنا نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے :

بے شک اس سلسلے میں سیف کی روایت غلط اور بے موقع ہے کیونکہ '' خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین '' نے امام علی کے ساتھ صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے اس مطلب کو سیرت لکھنے والے تمام محققین نے ذکر کیا ہے اور اس پر اتفاقِ نظر رکھتے ہیں جب سیف کی بات سبھی علماء کے نقطۂ نظر اور ان کے بیان کے خلاف ہے تو یہ حجت اور اعتبار سے بھی خالی ہے !

مذکورہ مطالب کو لکھنے کے بعد خطیب نے چند ایسی روایات نقل کی ہیں جو اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ ''خزیمہ ٔ ذو الشہادتین '' نے صفین کی جنگ میں امام علیہ السلام کی ہمراہی میں شرکت کی ہے اور اسی جنگ میں شہید ہوئے ہیں ' اس کے بعد لکھتا ہے :

اصحاب میں اس '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ کوئی اور نہ تھا جس کا نام ''خزیمہ '' ہو اور اس کے باپ کا نام ''ثابت '' ہو اور خدا بہتر جانتا ہے ۔

۱۹۶

ابن حجر جیسے عالم نے '' خزیمہ بن ثابت '' کے سلسلے میں د و شرحیں لکھی ہیں ان میں سے ایک ''خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین '' کے عنوان سے جو ایک مشہور و معروف صحابی تھے ۔ اور دوسری سیف کے جعلی خزیمہ کے عنوان سے ۔ابن حجر سیف کے اس جعلی خزیمہ کے بارے میں لکھتا ہے :

اور دوسرا خزیمہ بن ثابت انصاری ہے ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں '' حکم بن عتیبہ '' سے نقل کرکے لکھاہے .....( دوسری روایت کے آخر تک )

اس کے بعد ابن حجر اضافہ کرکے لکھتا ہے :

اس روایت کو سیف بن عمر نے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے لیکن خطیب بغدادی نے اسے مردود جانا ہے اور کہتا ہے

اور خطیب بغدادی کے بیانات خلاصہ بیان کرنے کے بعد اپنے نقطۂ نظر کو یوں بیان کرتا ہے :

میں ابن حجر کہتا ہوں کہ سیف کا کوئی گناہ نہیں ہے ، بلکہ یہ غلط بیانی اور آفت اس کے راوی '' عزرمی '' کی ہے جس نے اس قسم کی جھوٹی اور ناحق روایت بیان کی ہے ! جی ہاں سیف نے ''جمل '' کی داستان میں لکھا ہے کہ علی نے مدینہ میں تقریر کی اور کہا..... ( گزشتہ پہلی روایت کے آخر تک)

ابن ابی الحدید معتزلی نے اسی سلسلہ میں جو کچھ بیان کیا ہے ہم یہاں پر اسے نقل کرتے ہیں ، وہ لکھتا ہے :

''ابو حیان توحیدی '' ١ نے اپنی کتاب '' بصائر '' میں لکھا ہے کہ خزیمہ بن ثابت جس نے امام علی علیہ السلام کے ہمراہ صفین کی جنگ میں شرکت تھی اور اسی جنگ میں شہید ہو ا تھا ، حقیقت میں خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین نہیں تھا بلکہ انصار میں سے کوئی اور تھا ، جس کا نام بھی خزیمہ بن ثابت تھا ' جبکہ یہ دعویٰ مکمل طورپر غلط اور خطا ہے ، کیونکہ حدیث و انساب کی تمام کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ اصحاب ، انصار، اور غیر انصار میں '' ذو الشہادتین '' کے علاوہ کسی اور کا نام '' خزیمہ بن ثابت '' نہیں تھا ۔ در حقیقت ہوا و ہوس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے ! یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ تاریخ کبیر کے مصنف طبری نے ابو حیان سے پہلے یہی مطالب لکھے ہیں اور ابو حیان نے اپنی غلط بات کو طبری کی کتاب سے نقل کیا ہے ! جبکہ وہ تمام کتابیں جو اصحاب کے ناموں کے بارے میں لکھی گئی طبری اور ابو حیان کی باتوں کے خلاف ثابت کرتی ہیں

____________________

v ١۔ ابو حیان توحیدی ، اس کا نام علی بن محمد توحیدی ہے جس نے چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں وفات پائی ہے۔ اس کی تالیفات میں سے ایک کتاب '' بصائر القدماء و بشائر الحکما'' ہے ۔

۱۹۷

اس کے علاوہ کیاضرورت ہے کہ '' خزیمہ ، ابن تیہان عمار ...' جیسوں کے ہوتے ہوئے ۔ امیرالمؤمنین کے حامیوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کریں ، کیونکہ اگر لوگ امام کے سلسلہ میں انصاف سے کام لیں اور تعصب کی عینک کو اپنی آنکھوں سے اتار کر صحیح معنوں میں امام کے بارے میں تو انہیں معلوم ہوگا کہ اگر پوری دنیا بھی آپ کی مخالفت کرکے دشمنی پر اتر آئے اور آپ کے خلاف تلوار کھینچ لے اور امام تن تنہا ہوں ، تو بھی حق علی کے ساتھ ہوگا اور یہ سب لوگ باطل اور ظالم ہوں گے ( ابن ابی الحدید کی بات کا خاتمہ)

ابن ابی الحدید اس امر میں حق پر ہے ۔ وہ ''' خزیمہ ٔ غیر ذو الشہادتین '' کو خلق کرنے کے سبب کے بارے میں کہتا ہے :

'' ہواوہوس کی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے ''

لیکن جو وہ ایک بار ابو حیان کو اور دوسری بار '' طبری '' کو ملزم ٹھہراتا ہے تو ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔

اسی طرح ہم ابن حجر کی اس بات سے بھی اتفاق نظر نہیں رکھتے ہیں جو وہ کہتا ہے کہ یہ تمام مشکلات اور آفتیں '' عرزمی '' سے پیدا ہوئی ہیں ۔ جبکہ '' عرزمی'' کا کوئی قصور و گناہ نہیں ہے اور ان تمام آفتوں کا سرچشمہ سیف بن عمر تمیمی ہے یہ وہی ہے جس نے '' خزیمہ غیر ذو الشہادتین '' کے بارے میں دو روایتیں گڑھی ہیں اور انھیں '' حکم '' '' عرزمی '' ، ''محمد '' اور '' طلحہ'' سے نسبت دی ہے !

۱۹۸

سیف تنہا شخص ہے جس نے خزیمہ '' غیر ذوالشہادتین '' کے چہرے کا خا کہ کھینچا ہے اور اسے ایک رول سونپا ہے ۔

سیف تنہا شخص ہے جس نے خزیمہ کا افسانہ اور دیگر افسانے خلق کئے ہیں اور بڑی مہارت سے انھیں تاریخ اسلام کے صفحات میں درج کرایا ہے اور اس طرح علماء اور محققوں کو حیرت اور پریشانی سے دوچار کیا ہے ورنہ سیف کے جھوٹ سے بے خبر بے چارے مشہور راویوں کا کیا قصور اور گناہ ہے ؟!

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہم نے سیف کی اس جعلی مخلوق کو آسانی سے دریافت نہیں کیا بلکہ اس سلسلے میں بحث و تحقیق میں کافی وقت لگا ہے اور اس پر ہماری ایک عمر صرف ہوئی ہے اور انتھک اور بے وقفہ تلاش اور کوشش کا نتیجہ ہے کیونکہ اس کی اس قسم کی تخلیق ایسی نہیں ہے کہ مثال کے طور پر سیف نے ایک نام کا انتخاب کیا اور اس نام کیلئے ایک افسانہ گڑھ کر اسے اپنے دوسرے افسانوں کی طرح تاریخ اسلام میں درج کرایا ہواور اس طرح اس کے افسانوں سے حقائق کو آسانی کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو ۔ بلکہ اس کے بر عکس سیف نے اس قسم کی اپنی تخلیقات اور اپنے افسانوں میں کردار اور رول ادا کرنے والوں کو ایسے چہروں کے ہم نام خلق کیا ہے جو تاریخ میں حقیقتاً موجود تھے اور اتفاق سے مقام و منزلت اور عمومی احترام کے بھی مالک تھے اور یہی امر سبب بنا کہ بعض اوقات ہم دوراہے پر کھڑے ہو کر حیرت اور پریشانی سے دوچار ہوتے رہے ہیں ایسی صورت میں ہم موضوع کی حقیقت تک پہنچنے کیلئے مجبور ہوتے تھے کہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لائیں ا ور مقصد حاصل ہونے تک آرام سے نہیں بیٹھتے تھے ۔

۱۹۹

بحث کا نتیجہ

سیف نے خزیمہ بن ثابت انصاری غیر ذو الشہادتین کو خلق کرکے اس کا نام دو روایتوں میں لیا ہے اور ان دونوں روایتوں میں سے ہر ایک کیلئے بعض راوی بھی پیش کئے ہیں جس کسی نے بھی ، جیسے طبری ، ابن عساکر اور ابن حجر خزیمۂ غیر ذو الشہادتین کی داستان نقل کی ہے یا اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے روایت کوسیف بن عمر سے نقل کیاہے نہ کہ کسی اور سے اور اس کے بعد دوسرے علماء جیسے '' توحیدی ، ابن اثیر ، ان کثیر اورابن خلدون وغیرہ '' نے خزیمہ غیر ذو الشہادتین کا نام لیتے وقت بلا واسطہ یا با واسطہ روایت کو طبری سے نقل کیا ہے لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب آفتیں صرف و صرف سیف کی وجہ سے ہیں !! ' '

سیف نے اپنی تمام افسانوی شخصیتوں کو دوسری صدی ہجری میں اپنے خاندانی تعصبات ، قدرت اور دولتمندوں کی حمایت ، خاندان بنی امیہ و مضر ( اس کے اپنے خاندان ) کی نوکری اور مداحی و ستائش کی بنیاد پر خلق کیا ہے تا کہ اس طرح اپنے رقیب اور دیرینہ دشمن قبائل جیسے یمانی اور قحطانیوں پر کیچڑ اچھال کر اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے ۔ ابھی یہ سکہ کا ایک ہی رخ ہے !

سیف کا پیغمبر خدا کے اصحاب کے نام پر اپنے ہیرؤں کی تخلیق اور ایسے افسانے گڑھنے میں اس کا مذہبی تعصب یعنی زندیقی ہونا بھی کارفرما تھا تاکہ اسلام سے عناد و دشمنی جیساکہ بعض نے اسے اس کا ملزم ٹھہرایا ہے کی بناء پر اسلامی عقائد میں شک و شبہ ایجاد کرے اور علماء کو حقائق سے منحرف کرے ، ان کی تحقیق کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے اور اس طرح اسلام کا چہرہ مکمل طور پر مسخ کرکے دنیا والوں کے سامنے پیش کرے۔

۲۰۰