ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 329
مشاہدے: 18435
ڈاؤنلوڈ: 911


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18435 / ڈاؤنلوڈ: 911
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 3

مؤلف:
اردو

سیف نے اس سلسلہ میں اپنے افسانوں کو ایسی مہارت اور چابکدستی سے اسلام کی تاریخ میں داخل کیا ہے اور انھیں حقیقی روپ بخشا ہے کہ انسان ابتدا میں تصورکرتا ہے کہ حقیقت میں یہ تاریخ کے واقعی چہرے تھے اور ان میں سے ہر ایک اہم رول ادا کرتا تھا !! یہی امر سبب بنا ہے کہ جعلی سورماؤں کے نام قابل احترام کتابوں اور رجال اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے حالات پر مشتمل کتابوں میں حقیقی وجود کے طور پر پیغمبر خدا کے دوسرے اصحاب کی فہرست میں قرار پاگئے !! لیکن آج جب کہ علم و تحقیق کی روشنی چاروں طرف پھیلی ہے ، ان افسانوں کے تاریخ اسلام میں داخل ہونے کے بارہ صدیوں کے بعد جب ہم نے چاہا کہ ان تمام فریب کاریوں اور جھوٹ سے پردہ اٹھائیں اور تاریخ اسلام کے حقائق کو واقعی صورت میں اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں پیش کریں تو ہمارے بعض عزیزوں نے ہم سے منہ موڑ کر ہم پر ناک بھوں چڑھانا شروع کیا، بعض بزرگوں نے ہماری نسبت غصہ و نفرت کا اظہا رکیا، حتی یہی رد عمل سبب بنا کہ اس کتاب کا ایک حصہ شائع کرنے پر پابندی لگادی گئی خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم اس حصہ کو شائع کرنے میں کب کامیاب ہوجاں گے ١

____________________

١۔اس سلسلہ میں مجلۂ '' الازہر '' قاہرہ جلد ٣٢ ( شمارہ ،١٠،صفحہ نمبر ١١٥٠ ، اور جلد ٣٣ شمارہ ٦ (صفحات ٧٦٠ ۔ ٧٦١ ) ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مجلہ راہنمائے کتاب طبع تہران سال چہارم شمارہ ٧ ص ٦٩٦ و شمارہ ٨ ، ص ٨٠٠ و شمارہ ٩ ص ٨٩٤ ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔)

۲۰۱

مصادر و مآخذ

خزیمۂ ذو الشہادتین کا نسب:

١۔ ابن حزم کی '' جمہرہ '' ص ٣٢٤۔

٢۔ ابن درید کی '' اشتقاق'' ص ٤٤٧۔

٣۔ طبری کی '' ذیل المذیل '' ( ٣ ٢٤٠٠۔

٤۔ ''معرفة الصحابہ '' مستدرک حاکم تیسری جلد۔

گھوڑا خریدنے اور خزیمہ کو ذو الشہادتین کا لقب ملنے کی داستان

١۔ '' مسند'' احمد بن حنبل (٥ ٢١٥)

٢۔ ابن سعد کی '' طبقات '' (٤ ٣٧٨ ۔ ٣٧٩)

٣۔ '' اسد الغابہ '' ابن اثیر ، خزیمہ کے حالات ( ٢ ١١٤) سواء یا سواد کے حالات ( ٢ ٣٧٣ ۔ ٣٧٤)

٤۔ ابن عساکر کی '' تہذیب '' خزیمہ کے حالات ( ٥ ١٣٣)

خلیفہ عمر کا قرآن مجید کو جمع کرنا اور قبیلۂ اوس کا خزیمہ پر افتخار کرنا۔

١۔ '' تاریخ ابن عساکر '' اور اس کی '' تہذیب '' ( ٥ ١٣٣)

٢۔ احمد بن حنبل کی ''مسند '' ( ٥ ١٨٩)

٣۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ١ ٤٢٥)

٤۔ صحیح بخاری باب جمع القرآن ( ٣ ١٥٠ و ١١٧٣) تفسیر سورۂ احزاب

٥۔ خطیب بغدادی کی '' موضح '' ( ١ ٢٧٦)

۲۰۲

امام کی جنگوں میں خزیمہ کی شرکت

١۔ ابن سعد کی '' طبقات '' عمار کے حالات ( ٣ ٣٥٩)

٢۔ بلاذری کی '' انساب الاشراف '' ( ١ ١٧٠)

٣۔ ابن عبدا لربر کی '' استیعاب '' ( ١ ١٥٧)

٤۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' میں خزیمہ کے حالات ( ٢ ١١٤)اسی طرح ابن عساکر کی تاریخ

٥۔ احمد بن حنبل کی '' مسند'' ( ٥ ٢١٤)

٦۔ طبری کی '' ذیل المذیل '' عمار یاسر کے حالات ( ٣ ٣١٦)

٧۔ خطیب بغدادی کی ''موضح '' ( ١ ٢٧٧)

عمار یاسر کے بارے میں سیف کے جھوٹ:

١۔ خلیفہ عمر کی طرف سے عمار یاسر کے کوفہ میں گورنر کی حیثیت سے منصوب کئے جانے کے سلسلے میں واقدی کی روایت اور تاریخ طبری ( ١ ٢٦٤٥) میں سیف کے ذریعہ عمار یاسر کے معزول کئے جانے سے متعلق روایت کا موازنہ کیجئے۔

٢۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٦٧٢ ۔ ٢٦٧٨)

زیاد بن حنظلہ ،امام علی علیہ السلام اور سیف کی پانچ روایتیں

١۔ تاریخ طبری ( ١ ٣٠٩٥ ۔ ٣٠٩٦) میں پانچوں روایتیں یکے بعد دیگرے درج ہوئی ہیں ۔

٢۔ خطیب بغدادی کی ''موضح '' ( ١ ٢٧٥۔ ٢٧٦) اس نے پہلی دو روایتوں کو درج کیا ہیں ۔

٣۔ ابن عساکرنے اپنی '' تاریخ '' جس کا قلمی نسخہ دمشق کی '' ظاہریہ لائبریری میں موجود ہے ۔ نمبر : ٣٣٧٠ جلد ٥ ص ٣٠٢ و ٣٠٣ اس نے دوسری روایت کو سیف سے نقل کرکے ذکر کیا ہے ۔

۲۰۳

سیف کی روایتوں کی پڑتال

١۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٢٠٨ و ٢١١١)

٢۔ '' الجرح و التعدیل '' ٢ ق ( ١ ٤٨٢)

٣۔ ابن عساکر کی '' تہذیب '' ( ٩ ٣٢٢)

٤۔ ''میزان الاعتدال '' ( ١ ٥٧٧)

امام کے بارے میں خزیمہ اور دوسرے اصحاب کا نقطہ نظر

١۔ تاریخ یعقوبی ( ٢ ١٧٨ ۔ ١٧٩)

٢۔ اعثم کی '' فتوح '' ( ٢ ٢٨٩)

٣۔ مسعودی کی '' مروج الذہب '' ( ٢ ٣٦٦ ۔ ٣٦٧)

امام کی جنگوں میں مجاہدین بدر اور دوسرے اصحاب کی موجودگی

١۔ذہبی کی '' تاریخ اسلام '' ( ٢ ١٧١)

٢۔ خلیفہ بن خیاط کی '' تاریخ '' ( ١ ١٦٤)

٣۔ نصر بن مزاحم کی کتاب '' صفین ' ( ٩٢ ۔ ٩٤)

٤۔ تاریخ یعقوبی ( ٢ ١٨٨)

٥۔ مسعودی کی '' مروج الذہب '' ( ٢ ٣٩٤)

۲۰۴

خزیمہ ذو الشہادتین کا قتل ہونا :

١۔ ابن سعد کی ''طبقات '' عمار یاسر کے حالات

٢۔ خطیب بغدادی کی موضح ( ١ ٢٧٧)

٣۔ نصر بن مزاحم کی کتاب '' صفیں '' ص ٣٥٨ ، ٣٦٣- ٣٦٦

خزیمہ کے افسانہ پر ایک بحث

١۔ خطیب بغدادی کی '' موضح '' ( ١ ٢٧٥۔ ٢٧٨)

٢۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ١ ٤٢٥ ) ذو الشہادتین کے حالات نمبر : ٢٢٥١ اور'' خزیمہ غیر ذو الشہادتین '' نمبر ٢٢٥٢۔

٣۔ شرح نہج البلاغہ ، تحقیق ابو الفضل ( ١٠ ١٠٩ ۔ ١١٠)

٤۔ ابن اثر کی '' تاریخ کامل'' ( ٣ ٨٤)

٥۔ تاریخ ابن کثیر ( ٧ ٢٣٣)

٦۔ ' ' تاریخ ابن خلدون '' ٢ ٤٠٧ ۔ ٤١٣) اور اسی صفحہ پر تعلیق امیر شکیب ارسلان

٧۔ '' عبد اللہ ابن سبا '' طبع آفسٹ تہران ۔ ١٣٩٣ھ سیف بن عمر کے حالات

۲۰۵

سماک بن خرشہ انصاری ابودجانہ

کتاب کے اس حصہ میں ہم ان تین چہروں کے بارے میں بحث کریں گے جن میں سے ہر ایک کا نام ''سماک بن خرشہ '' تھا۔

ابودجانہ اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار

ابودجانہ ، سماک بن خرشۂ انصاری یا ''سماک بن اوس بن خرشہ ، ابودجانۂ انصاری ساعدی '' ایک شجاع ، دلیر اور ایک مشہور جنگجو شخص تھا ۔

ابو دجانہ نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ بدر کی جنگ میں سرگرم طور پر شرکت کی ہے اور شرک و نفاق کے خلاف اسلام کی دوسری جنگوں میں بھی اس نے تلوار چلائی ہے۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے احد کی جنگ میں ایک تلوار ہاتھ میں لے کر مجاہدین اسلام سے مخاطب ہوکر فرمایا:

کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟

زبیرنے کہا کہ ؛ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا، اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : میں ہوں ۔ لیکن پیغمبر خدا نے میری بات پر توجہ نہ فرمائی ١ اور بدستور اپنی پہلی بات کو دہراتے رہے ۔

'' کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟ ''

اب کی بار '' ابودجانہ سماک بن خرشہ '' اپنی جگہ سے اٹھ کر بولے :

میں اس کا حق ادا کروں گا ، اس کا حق کیا ہے ؟

۲۰۶

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:

اس کا حق یہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کو قتل نہ کرو گے اور کفار سے جنگ میں پیچھے نہ ہٹو گے ۔

زبیر کہتا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار کو ابو دجانہ کے ہاتھ میں دیا۔

طبری نے اسی داستان کو '' ابن اسحاق '' سے نقل کرکے یوں لکھا ہے :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم احد کی جنگ میں ایک تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے اپنے اصحاب کے درمیان پھراتے ہوئے فرما رہے تھے:

کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرے ؟

کچھ لوگ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس کا حق اداکرنے کی آمادگی کا اعلان کیا ، لیکن پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی طرف اعتنا نہ کیا جب ابودجانہ نے اپنی جگہ سے اٹھ کر پوچھا :

اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! تلوار کا حق کیا ہے ؟

____________________

١۔ گویا زبیر کی تجویز کے بارے میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بے اعتنائی کا سرچشمہ یہ تھا کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جانتے تھے کہ وہ اپنی شرط پر وفا نہیں کرے گا اور جمل کی جنگ میں بصرہ میں '' سبابجہ'' کے بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کرے گا۔'' نقش عائشہ در تاریخ اسلام '' جلد ٢ کی طرف رجوع کیا جائے ۔

۲۰۷

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

اسا حق یہ ہے کہ اس سے دشمنون پر اتنا وار کیا جائے کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے ١

ابو دجانہ نے کہا :

میں اس تلوار کا حق ادا کرتا ہوں

اس وقت پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار کو ابودجانہ کے ہاتھ میں دیا۔

ابودجانہ ایک دلیر ، شجاع اور تجربہ کار جنگجور شخص تھے ۔ میدان کارزار میں خودنمائی اور خود ستائی کرتے تھے ۔ سرخ رنگ کا عمامہ سر پر باندھتے تھے ، یہ عمامہ ان کی پہچان تھا ۔ جب بھی ابودجانہ یہ عمامہ سر پر رکھے ہوتے تو لوگ سمجھتے تھے کہ ابودجانہ جنگ کررہے ہیں اور جنگ کا حق ادا رکررہے ہیں ۔

ابو دجانہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تلوار حاصل کرنے کے بعد، دو فوجوں کے درمیان خود ستائی اور خود نمائی کرنے لگے اور اپنے اوپر ناز کرنے لگے ، متکبرانہ قدم اٹھا رہے تھے ۔ جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابودجانہ کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا:

خدائے تعالیٰ اس طرح راہ چلنے پر نفرت کرتا ہے ، سوائے اس مقام کے۔

زبیر کہتا ہے :

اس جنگ میں کوئی پہلوان ابودجانہ کے مقابلے میں آنے کی جرت نہیں کرتا تھا ، جو بھی آگے بڑھتا تھا ابودجانہ کے وار سے ڈھیر ہوجاتا تھا وہ دشمن کی صفوں کو تہس نہس

____________________

١۔ ایسا لگتا ہے کہ جس صحابی کے ہاتھ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تلوار نہیں دی ہے ، اس کا نام احترام میں نہیں لیاگیا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کسی مسلمان کو اس سے قتل نہ کرنے کی شرط میں تحریف کرکے اس کی جگہ یہ کہا ہے کہ دشمنوں پر اتنا وار کیا جائے کہ یہ ٹیڑھی ہوجائے سیرۂ ابن ھشام ، خصوصاً اس کے مقدمہ کی طرف رجوع کیا جائے تا کہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہوجائے ۔

۲۰۸

کرتے تھے اور آگے بڑھتے ہوئے راستے کی ہر رکاوٹ کو تلوار کی ضرب سے دور کرتے تھے حتی ایک پہاڑ کے دامن قریش کی چند خواتین سے اس کی مڈبھیڑ ہوئی جو دف بجاتے ہوئے قریش کے جنگجوؤں کیلئے یوں گارہی تھیں ۔

ہم زہرہ ، یعنی صبح کے تارے کی بیٹیاں ہیں ، اگر میدان کارزار میں پیشروی کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ ہم آغوش ہوجائیں گے۔

ہم تمہارے لئے نرم بستر بچھائیں گے و...

ابو دجانہ نے ان پر حملہ کیا اور تلوار کھینچی تا کہ ان پر ضرب لگائیں اچانک ہاتھ کو روک کروہاں سے واپس لوٹے ۔ زبیر نے اس کی اس حرکت کے بارے میں ان سے سوال کیا ۔ ابودجانہ نے جواب میں کہا:۔

میں رسول خدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تلوار کو اس سے بلند تر سمجھتا ہوں کہ اس سے ایک عورت کو قتل کروں ۔

ایک زمانہ گزرنے کے بعد یمامہ کی جنگ پیش آئی ۔ اسلامی فوج کے دباؤ کی وجہ سے مسیلمہ اور اس کے حامی مجبور ہوکر ایک باغ میں داخل ہوئے اور وہاں پناہ لے کر اور وہیں سے مسلمانوں کی فوج سے لڑتے تھے ۔

مسلمان، مسیلمہ کے سپاہیوں کے دفاعی حملوں کے سبب باغ میں داخل نہیں ہوسکتے تھے ۔ یہاں تک کہ ابودجانہ تن تنہا آگے بڑھے اور دروازے سے باغ کے اندر داخل ہونے لگے جس کے نتیجہ میں ان کا پاؤں ٹوٹ گیا ۔ لیکن اسی حالت میں باغ کے دروازہ پر استقامت کے ساتھ لڑتے رہے اور کفار کو قتل کرتے رہے جب اسلامی فوج پہنچ گئی تو انہوں نے باغ کے اندر حملہ کر کے مسیلمہ اور اس کے جھوٹے دعوؤں کا خاتمہ کیا لیکن ابودجانہ اس گیرودار میں شہید ہوگئے ۔

ابو عمرو ، ابن عبدالبر اور اس کی پیروی کرنے والے دیگر علماء یہاں پر غلط فہمی کا شکار ہوئے ہیں لکھتے ہیں :

کہا جاتا ہے کہ ابودجانہ اس جنگ میں قتل نہیں ہوئے بلکہ زندہ بچ نکلے اور صفین کی جنگ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہمراہ معاویہ سے جنگ میں شرکت کی ہے !

جب کہ صفین کی جنگ میں علی علیہ السلام کے ہمراہ شرکت کرنے والے ابودجانہ سماک بن خرشہ انصاری نہیں تھے بلکہ اس کا ہم نام ایک دوسرا صحابی تھا ۔

اب ہم اس کی تفصیلات بیان کرتے ہیں ۔

۲۰۹

سماک بن خرشۂ جعفی تابعی

نصر بن مزاحم اپنی کتاب '' صفین '' میں لکھتا ہے :

سماک بن خرشہ جو صفین کی جنگ میں علی علیہ السلام کے ایک سوار فوجی کے عنوان سے لڑرہا تھا، حسب ذیل رجز خوانی کرتا ہے: ۔

غسانی فیصلہ کرتے وقت اچھی طرح جانتے تھے کہ ہم میدان کارزار میں اور دشمنوں سے لڑتے وقت آگ کے بھڑکتے شعلوں کے مانند ہیں ۔

اور جواں مردی و عفو و بخشش کے وقت سب میں نمایاں 'بہادروں اور جنگجوؤں کے سردار ہیں ۔

اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ '' سماک بن خرشۂ جعفی '' انصار میں سے نہیں تھا ۔ کیونکہ انصار دو قبیلہ ''اوس '' و '' خزرج'' زید بن کہلان بن سبا کی نسل سے ہیں ۔ ان لوگوں نے رسول خد اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مکہ سے مدینہ ہجرت سے برسوں پہلے مدینہ منورہ میں آکر وہاں پر سکونت اختیار کی تھی ۔

اس لحاظ سے ، جس سماک بن خرشہ نے صفین کی جنگ میں امام علی علیہ السلام کے ہمراہ شرکت کی ہے جعفی جو '' عریب بن زید کہلان '' کی نسل سے '' سعد العشیرہ '' کا بیٹا ہے اس کے اجداد یمن کی ایک آبادی کے رہنے والے تھے اور وہاں پر معروف تھے اس آبادی سے صنعا تقریباً بیالیس فرسخ دور ہے ۔

اس قبیلہ کایمن میں اسی قدر رہنا اس امر کا سبب بنا ہے کہ '' ابن قدامہ '' ( وفات ٦٢٠ھ) نے ان کا شجرۂ نسب کتاب '' استبصار'' میں درج نہیں کہا ہے ۔ استبصار انصار کے شجرۂ نسب سے مربوط مخصوص کتاب ہے ۔

۲۱۰

اڑتالیسواں جعلی صحابی سماک بن خرشۂ انصاری ( غیر از ابودجانہ )

بیوہقحطانی عورتوں کا مقدر

طبری نے قادسیہ ١ کی جنگ کے بعد رونما ہونے والے حوادث اور واقعات کے ضمن میں سیف بن عمر تمیمی سے نقل کرکے کچھ مطالب لکھے ہیں ۔ جن کا ایک حصہ خلاصہ کے طور پر حسب ذیل ہے :

قادسیہ کی جنگ کے نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ اس میں قبیلۂ '' نخع'' کے سات سو جنگجو اور قبیلۂ ''' بجلیہ '' قحطانی یمانی کے ایک ہزار سپاہی کام آئے اور ان کی بیویاں بیوہ ہوگئیں ۔

عرب کے مردوں کی غیرت اس بات کی اجازت نہیں د یتی تھی کہ یہ ایک ہزرار سات سو یمانی عورتیں بیوہ اور بے سرپرست رہیں اور ان کا مستقبل تاریک و مبہم رہے ۔ لہذا جواں مردی کا مظاہرہ کرتیہوئے اٹھے اور انہیں اپنی شرعی اور قانونی بیویاں بنا کر اپنے گھر لے گئے ۔ ان میں سے صرف

____________________

١۔ قادسیہ کوفہ سے پانچ فرسخ کی دوری پر واقع ہے ۔خلافتِ عمر کے زمانے میں ایرانی فوج رستم فرخزاد کی کمانڈ میں اور اعراب ، سعد وقاص کی کمانڈ میں ، اس جگہ پر نبرد آزما ہوئے ۔ یہ خونین جنگ مسلمانوں کی فتح پر ختم ہوئی ۔

۲۱۱

ایک عورت '' اروی'' بنت عامر نخعی رہ گئی !!

'' اروی '' کا مسئلہ اس لئے پیش آیا کہ عرب کے تین معروف سردار ، '' سماک بن خرشہ انصاری '' ( مشہور ابودجانہ کے علاوہ ) ، '' عتبہ بن فرقد لیثی '' اور ' بکیر بن عبدا ﷲ '' نے ایک ساتھ خواستگاری کی تھی ۔ اور '' اروی '' ان نامور عربوں جن میں ہر ایک خاص کمالات و فضائل کا مالک تھا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے میں حیران رہ گئی تھی ۔ بالآخر مجبور ہوکر اپنی بہن ' ' ہنیدہ'' کے ذریعہ اس کے شوہر عرب کے معروف پہلوان اور صحابی بزرگوار '' قعقاع بن عمرتمیمی'' سے اس سلسلے میں مشورہ چاہتی ہے کہ وہ اپنا نظریہ پیش کرے ۔ قعقاع نے بھی فراخدلی سے ایک رباعی کے ذریعہ اپنا نقطۂ نظر اپنی بیوی کی بہن سے مندرجہ ذیل مضمون میں بیان کیا :

اگر مال و منال اور دینار و درہم چاہتی ہو تو سماک انصاری یا فرقد لیثی کا انتخاب کرنا

اگر ایک شجاع مرد ، نیزہ باز ، شہسوار اور ایک بے باک دلاور چاہتی ہو تو بکیر کا انتخاب کرنا ۔

یہ ان کی حالت ہے ۔ اب تم خودسمجھو ! ١

سماک بن خرشہ سپہ سالار کے عہدے پر :

طبری ، سیف سے نقل کرکے ہمدان اور آذر بائیجان کے بارے میں لکھتا ہے :

ہمدان کو ١٨ھ میں نعیم بن مقرن نے فتح کیا ۔ '' دستبی '' کی فوجی چھاؤنیوں کی

____________________

١۔ اسی کتاب کی ج ١ ص ١٩٥ ۔ ١٩٦ ) فارسی ملاحظہ ہو۔

۲۱۲

کمانڈ کوفہ کے بعض معروف سرداروں منجملہ '' سماک بن عبید عبسی '' ، '' سماک بن مخرمہ اسدی '' اور ''سماک بن خرشہ انصاری ''کو سونپی ، دستبی فوجی چھاؤنیاں ایک وسیع علاقے میں پھیلی تھیں اس میں بہت سے گاؤں اور قصبات شامل تھے اور یہ علاقہ ہمدان تاری کے درمیان واقع تھا ۔

یہ پہلے سردار تھے جنہوں نے دستبی کی فتح کے بعد وہاں کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ سنبھالی اور اس کے بعد دیلمیان سے نبرد آزما ہوئے ۔

طبری اس مطلب کے ضمن لکھتا ہے :

دیلمیان ، رے اور آذربائیجان کے باشندے ایک دوسرے سے رابطہ برقرار کرکے مسلمانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے متحد ہوئے اور اعراب سے لڑنے کیلئے ایک بڑی فوج تشکیل دی۔

نعیم نے ایرانی سپاہیوں پر ایک بے رحمانہ حملہ کیا اور ان پر تلوار کھینچی اور ان کے کشتوں کے ایسے پشتے لگادئے کہ اس جنگ میں مرنے والوں کی تعداد گنتی کی حد سے گزر گئی ۔ نعیم نے اس کامیابی کے بعد فتح کی نوید ایک خط کے ذریعہ خلیفہ عمر کو دی۔ اس خط کو '' عروہ '' کے ہاتھ خلیفہ کے پاس بھیجا ۔ عروہ ، فوراً مدینہ پہنچ کر خلیفہ کے دربار میں حاضر ہوا ۔

خلیفہ کی نظر جب عروہ پرپڑی تو اس سے پوچھا :

کیا تم بشیر ١ ہو

____________________

١۔ بشیر یعنی خوشخبری دینے والا۔

۲۱۳

عروہ نے تصور کیا کہ شاید خلیفہ عمر نے غلطی سے اس کے نام کو عروہ کے بجائے بشیر خیال کیا ہے ، اس لئے فوراً بولا۔

نہیں ، میرا نام ''عروہ'' ہے !

عمر نے دوبارہ تکرار کی :

کیا تم بشیر ہو؟

چونکہ اس دفعہ عروہ عمر کے مقصد کو سمجھ گیا تھا ، لہذااطمینان کا سانس لے کر بولا :

جی ہاں ، جی ہاں ، بشیر ہوں ۔

عمر نے پوچھا :

کیا نعیم کی طرف سے آئے ہو؟

عروہ نے جواب دیا :

جی ہاں ، میں نعیم کا ایلچی ہوں ، اس کے بعد فتح کی نوید پر مشتمل خط عمر کے ہاتھ میں دیدیا اور اسے روداد سے آگاہ کیا ۔

سیف کہتا ہے :

اسی وقت کوفہ کے لوگوں کے نمائندے جو غنائم جنگی کا پانچواں حصہ اپنے ساتھ لائے تھے' انہوں نے وہ سب عمر کے حضور پیش کیا ۔ عمر نے ان میں سے ہر ایک کا نام پوچھا ، انہوں نے خلیفہ کی خدمت میں عرض کیا : '' سماک اور سماک اور سماک '' ، عمر نے ایک تبسم کے بعد فرمایا ؛ خدا تمہاری تعداد بڑھادے ! کتنے سماک ہیں ! خداوندا ! ان کے ذریعہ اسلام کا سر بلند فرما!

اور انھیں بھی اسلام کی تائید فرما!

اس کے بعد خلیفہ نے نعیم کے نام ایک خط لکھا اور اسے حکم دیا کہ '' سماک بن خرشہ ٔ انصاری '' (غیراز ابودجانہ ) کو بکیر بن عبدا للہ کی مدد کیلئے ممور کرے ۔ نعیم نے اطاعت کی اور سماک بکیر کی مدد کیلے آذر بائیجان روانہ ہوگیا۔

سیف کہتا ہے :

سماک بن خرشہ ( غیراز ابودجانہ ) اور عتبہ بن فرقد لیثی عربوں میں دولتمند شمار ہوتے تھے ۔

۲۱۴

سماک، عراق کا گورنر

طبری نے سیف کے افسانہ کا یہ حصہ اپنی تاریخ میں یوں بیان کیا ہے : بکیر نے اپنے عہدے سے استعفا دیا۔ جس کے نتیجہ میں اس کی حکومت کے علاقہ '' سماک بن خرشہ انصاری '' اور ''عتبہ بن فرقد لیثی '' میں تقسیم ہوا ۔ عتبہ نے آذربائیجان کے باشندوں سے صلح کی اور عہد نامہ لکھا اور ''سماک بن خرشۂ انصاری '' نے اس کی تائید کی ہے اور اس پر دستخط کئے ہیں ۔

آخر میں جہاں سیف خلیفہ عثمان کے گماشتوں اور کارندوں کی تعداد اور نام بیان کرتا ہے وہاں سماک بن خرشہ انصاری اور ایک دوسرے شخص کا عثمان کی وفات کے سال عراق کے شہروں کے حکام کے طور پر نام لیا ہے ۔

سماک انصاری ( غیراز ابودجانہ ) کی داستان جو طبری کی روایتوں میں بیان ہوئی ہے یہی تھی جسے ہم نے نقل کیا۔ ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون نے بھی اسی کو طبری سے نقل کرکے اپنی تاریخوں میں درج کیاہے ۔

افسانۂ سماک کے راوی

گزشتہ روایتوں میں سیف ، سماک بن خرشہ انصاری ( غیر ازابودجانہ ) کے بارے میں اپنے راویوں کا یوں تعارف کرتا ہے :

١۔ محمد ، کہ اس کے خیال میں یہ محمد بن عبد اللہ بن سواد نویرہ ہے اور یہ سیف کی اپنی تخلیق ہے ۔

٢۔ مھلب ، اسے مھلب بن عقبۂ اسدی کہتے ہیں یہ بھی سیف کے خیالات کی تخلیق ہے ۔

٣۔ لیکن، ' طلحہ ' ، '' عمرو'' ، ''سعید ''اور ''عطیہ ''چونکہ یہ بے نام و نشان تھے ، ان کے باپ کا نام یا لقب ذکر نہیں کیا گیا ہے جس سے ان کی پہچان کی جاسکے ، مثلاً یہ '' طلحہ '' کون ہے ؟ کیا اس سے مراد ''طلحہ بن عبد الرحمان '' ہے یا طلحہ بن اعلم ؟

پہلا تو اس کے جعلی راویوں میں سے ہے اور دوسرا ایک معروف راوی ہے ، اگر چہ بعض اوقات سیف اس کی زبان جھوٹ نقل کرتا ہے اور ہم بھی سیف کے جھوٹ کے گناہوں کو ایسے راویوں کی گردن پر نہیں ڈالتے ۔

یہ عمرو بھی کیا وہی ہے جو کوفہ و بصرہ کے نحویوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے اور وہ اس کی زید سے پٹائی کراتے ہیں یا کوئی اور ہے ؟

سعید اور عطیہ کون ہیں ؟ ان میں سے کسی کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہے جو ہم ان کے بارے میں تحقیق کرسکیں ۔

۲۱۵

تاریخی حقائق اور سیف کے افسانے

سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے ایک ہزار سات سو '' نخعی اور بجلیہ '' یمانی قحطانی عورتوں کے اچانک بیوہ ہونے کی خبر دی ہے اور اسے ایک اہم مسئلہ کے طو پر پیش کیا ہے اور اس مشکل کے حل کیلئے جزیرہ نمائے عرب کے شمالی علاقوں کے غیر متمدن عرب جوان مردانہ آگے بڑھتے ہیں اور ان بے سرپرست اور بیوہ عورتوں کو جن کے قحطانی مرد ( جنگ میں کام آئے تھے) اپنی حمایت میں لے کر ان سے شادیاں کر لیتے ہیں اور عنایت و بزرگواری دکھاتے ہی !!

وہ تنہا شخص ہے جس نے عامر ہلالیہ کی بیٹیوں '' اروی'' اور '' ہنیدہ'' کا مسئلہ اور اروی کیلئے شوہر کے انتخاب میں ' ' قعقاع'' کے اشعار خلق کئے ہیں ۔

ہمدان اور دستبی کی فتح کیلئے عروہ کی مموریت

اور ، ہمدان ، دستبی ، رے اور آذربائیجان کی فتح کے موضوع کے بارے میں جو کچھ دوسروں نے بیان کیا ہے وہ سب سیف کے قصوں اور افسانوں کے بر عکس ہے ، مثلاً بلاذری اپنی کتاب '' فتوح البلدان ''میں لکھتا ہے :

نہاوند کی جنگ کے دو مہینہ بعد، وقت کے خلیفہ عمربن خطاب نے عمار یاسر کے نام کوفہ ایک خط بھیجا اور ا سمیں حکم دیا کہ ''عروہ بن زید خیل طائی '' کو آٹھ ہزار سپاہیوں کے ہمراہ ''' رے'' اور '' دستبی '' کے شہروں کو تسخیر کرنے کیلئے ممور کرے۔

عروہ نے اطاعت کی اور سپاہیوں کے ہمراہ اپنی مموریت کی طرف روانہ ہوا '' رے '' اور دیلمان '' کے باشندے بھی آپس میں متحد ہو کر عرب سپاہیوں کا مقابلہ کرنے لئے مسلح ہوکر پوری طرح آمادہ ہوئے ، لیکن دونوں فوجوں کے درمیان ایک گھمسان کی جنگ کے بعد سر انجام عروہ نے فتح حاصل کی اور ان میں سے ایک گروہ کو تہہ تیغ کرکے رکھدیا ان کے مال و منال پر قبضہ کر لیا اور پوری طاقت کے ساتھ علاقہ پر مسلط ہو گیا۔

۲۱۶

عروہ خلیفہ کی خدمت میں

علاقہ پر مکمل تسلط جمانے کے بعد عروہ اپنے بھائی ''حنظلہ بن زید '' کو اپنا جانشین مقرر کرکے عمار یاسر کی خدمت میں پہنچ گیا ور ان سے اجازت چاہی کہ اس فتح کی نوید لیکر وہ خود خلیفۂ عمر کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہے ۔

عروہ نے ماضی قریب میں جنگ '' جسر '' میں مسلمانوں کی درد ناک اور خفت بارشکست کی خبر خلیفہ کہ خدمت میں پہنچائی تھی لہذا چاہتا تھا کہ ''دیلم ''اور''رے ''کی مستحکم اور قدرتمند فوج پر اپنی فتح و کامیابی کی نوید خلیفۂ عمر کی خدمت میں پہنچاکر اس کی تلافی کرے۔

عمار نے عروہ کی درخواست منظور کی عروہ بڑی تیزی سے مدینہ پہنچا اور خلیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔

جوں ہی خلیفہ کی نظر عروہ پر پڑی تو ایک دم گزشتہ تلخ یادیں ، جسر کی جنگ میں شکست ، اس میں نامور عرب پہلوانوں کا قتل ہونا اس کے ذہن میں تازہ ہوگیا اور عروہ کی پہنچنے کو فال بد تصور کرکے بے اختیار بولے :

انا ﷲ و انا الیہ راجعون

عروہ نے مسئلہ کو سجمھ کر فوراً کہا:

نہیں نہیں اب کی بار خدا کا شکر بجالائیے کہ اس نے ہمیں دشمنوں پر فتح و کامیابی عنایت فرمائی اس کے بعد ایک ایک کرکے کامیابیوں کو گننے لگا ۔ جب عمر کو اس طرف سے اطمینان حاصل ہوا تو عروہ سے پوچھا ۔

کیوں خود وہاں نہ رہے ؟ کیوں کسی دوسری کو میرے پاس نہیں بھیجا ؟

عروہ نے جواب دیا :

میں نے اپنے بھائی کو اپنی جگہ پر رکھا ہے اور اس نوید کو خود آپ کی خدمت میں پہنچانا چاہتا تھا۔ عمر خوشحال ہوئے اور اسے '' بشیر '' خطاب کیا ۔

۲۱۷

بلاذری اس میں اضافہ کرکے لکھتا ہے :

عروہ کی فتح ، دیلمیان کی قطعی شکست کا سبب بنی ، کیونکہ جب عروہ خلیفہ کی خدمت سے پلٹا تو اس نے ''سلمہ بن عمرو'' اور '' ضرار بن ضبی '' کو سپہ سالار کا عہدہ دیا ۔ ضرار نے '' دستبی '' اور ' رے '' کے باشندوں کے ساتھ صلح کی۔

فتح ہمدان کو خلیفہ بن خیاط نے خلاصہ کے طورپر لیکن بلاذری نے اسے مفصل ذکر کیا ہے ہم اس کے ایک حصہ کو یہاں پر ذکر کرتے ہیں :

بلاذری لکھتا ہے :

٢٣ھ کے اواخر میں '' مغیرہ بن شعبہ'' نے جریر بن عبدا للہ بجلی کو ہمدان کی فتح پر ممور کیا ۔ جریر نے '' صلح نہاوند '' کے مانند ہمدان پر صلح کے ذریعہ قبضہ جمایا اور اس علاقہ کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرلیا۔

طبری نے ابو معشر اور واقدی سے نقل کر کے آذربائیجان کی فتح کے بارے میں یوں لکھا ہے :

آذربائیجان ٢٢ھ میں فتح ہوا ا ور ' مغیرہ بن شعبہ '' وہاں کا حاکم بنا ۔

بلاذری نے بھی اسی مطلب کو اپنی کتاب '' فتوح البلدان '' میں ایک دوسری روایت کے مطابق لکھا ہے :

آذربائیجان کو '' حذیفة بن یمان '' نے اس زمانے میں فتح کیاہے جب کوفہ پر مغیرہ حکومت کرتا تھا۔

یاقوت حموی نے بھی انہی مطالب کو اپنی کتاب '' معجم البلدان '' میں لفظ ''ہمدان'' ، '' رے'' اور ''دستبی'' کے تحت لکھا ہے اور خلیفہ بن خیاط نے بھی انہی مطالب کا انتخاب کیا ہے ۔

بلاذری نے '' رے'' ، '' قزوین '' اور '' دستبی'' کے بارے میں لکھا ہے :

مغیرہ بن شعبہ نے '' کثیربن شہاب '' نامی ایک صحابی کو '' رے'' ، '' قزوین '' اور '' دستبی'' کے علاقوں پر حاکم مقرر کیا اور ہمدان کی مسؤلیت بھی سونپی لیکن اسی دوران ''رے'' کے باشندوں نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کیا ۔ نتیجہ کے طور میں کثیر ان سے نبرد آزما ہوا اور اس قدر جنگ کی کہ وہ مجبور ہوکر دوبارہ اطاعت کرنے پر آمادہ ہوئے۔

جب سعد بن ابی وقاص دوسری بار کوفہ کا حاکم مقرر ہوا تو اس نے بنی عامر بن لوی سے '' علاء بن وہب '' کو ہمدان کا گورنر مقرر کیا اور اس کی حکمرانی کا فرمان جاری کیا ۔ لیکن ہمدان کے لوگوں نے ایک مناسب فرصت میں علاء کے خلاف بغاوت کرکے اسے حکومت سے ہٹادیا علاء نے بھی ان سے جنگ کی اور ان پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ پھر سر تسلیم خم کرکے اس کی اطاعت کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

۲۱۸

تحقیق کا نتیجہ

١۔ جیساکہ ہم نے دیکھا کہ سیف بن عمر کے علاوہ دوسرے تاریخ نویسوں نے ان فتوحات کا زمانہ ٢٢ھ سے ٢٤ ھ تک ذکر کیا ہے ۔

٢۔ پہلا عرب سردار جس نے دیلمیوں سے جنگ کی اور انھیں شکست دی ، عروہ بن زید خیل طائی تھا ۔اس نے خود خلیفہ عمر کی خدمت میں پہنچ کر اس جنگ میں اپنی فتحیابی کی نوید انھیں پہنچادی ہے۔

٣۔ جس سردار نے '' رے'' اور '' دستبی '' کے باشندوں سے صلح کی ، وہ ضرار بن ضبی تھا۔

٤۔ کوفہ پر ''مغیرہ بن شعبہ '' کی حکومت کے دوران '' رے'' اور ''ہمدان '' کے شہر دوبارہ فتح کئے گئے اور جریر بن عبدا للہ' ہمدان کو دوبارہ فتح کرنے کیلئے مغیرہ کی طرف سے مقرر ہوا اس نے ہمدان کو فتح کرنے کے بعد اس علاقے کی زمینوں پر زبردستی قبضہ جمالیا۔

٥۔ پھر مغیرہ کی کوفہ پر حکومت کے دوران '' کثیر بن شہاب'' اس کی طرف سے ''رے'' ، ''ہمدان'' اور ''دستبی ''کا گورنر مقرر ہوا اور اس نے ''رے ''کے باشندوں کی بغاوت اپنے بے رحمانہ قتل عام کے ذریعہ کچل کر رکھ دی۔

٦۔ آذربائیجان بھی کوفہ پر مغیرہ کی حکومت کے دوران ''حذیفہ بن یمان '' کے ہاتھوں فتح ہوا ہے ۔

لیکن ان تمام مسلم تاریخی حقائق کے مقابلے میں سیف بن عمر تمیمی ان سارے فتوحات کا واقع ہونا ١٨ھ میں بیان کرتا ہے اور ''رے ، ہمدان اور دستبی '' کی فتح کو '' نعیم بن مقرن '' کے ذریعہ بتاتا ہے ۔

سیف کہتا ہے جو نمائندے نعیم بن مقرن کی طرف سے جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو لے کر خلیفہ عمر کے پاس گئے تھے وہ '' سماک اور سماک اور سماک '' تھے اور اسکے بعد عمر کی ان کے ساتھ گفتگو کو بھی درج کیا ہے ۔

سیف نے '' عروہ بن زید خیل طائی''' کی خبر کو تحریف کیاہے عروہ خود سپہ سالار کی حیثیت سے دیلمیوں کے ساتھ جنگ میں ا پنی فتح کی نوید کو عمر کے پاس لے گیا تھا۔ لیکن سیف اس میں تحریف کرکے اس خبر کو ایک معمولی قاصد کے ذریعہ بھیجتا ہے اور عمر کے ساتھ اس کی گفتگو کو اپنی پسند کے مطابق تغیر دیتا ہے ۔

۲۱۹

سیف نے آذربائیجان کی فتح کو بھی ١٨ ھ میں لکھا ہے اور اس مموریت کے سپہ سالار ''بکیر بن عبدا للہ '' کے بعد '' عتبہ بن فرقد لیثی '' کو یہ ذمہ داری سونپی ہے اور اس کے صلح نامہ پر سماک بن خرشہسے گواہ کے طور پر دستخط کرائے ہیں ۔

سیف بن عمر تنہا شخص ہے جس نے اس قسم کی خبروں کی روایت کی ہے یہ وہی ہے جس نے تاریخی واقعات میں تحریف کی ہے اور یہ وہی ہے جس نے اصحاب اور غیر اصحاب میں سے اپنے افسانوی اداکار خلق کرکے علماء کیلئے پریشانی اور تاریخی حقائق سے انحراف کا سبب فراہم کیا ہے ۔

اسلامی مصادر میں سیف کے افسانے

ابن حجر نے سیف کی روایتوں پر اعتماد کیاہے اور ان سے استفادہ کرکے سیف کے خلق کردہ سماک بن خرشہ کیلئے اپنی معتبر کتاب میں خصوصی جگہ معین کرکے اس کی تشریح میں لکھتا ہے :

اور ایک دوسرا سماک بن خرشۂ انصاری ہے جو ابو دجانہ کے علاوہ ہے سیف نے اپنی کتاب فتوح میں لکھا ہے کہ سماک بن مخرمۂ اسدی ، سماک بن عبید عبسی اور سماک بن خرشہ انصاری غیراز ابودجانہ ''پہلے افراد تھے جنہوں نے دستبی کی فوجی چھاونیوں کی کمانڈ سنبھالی تھی جنگی غنائم کے پانچویں حصہ کو لے کر خلیفہ عمر کی خدمت میں مدینہ آنے والے نمائندوں کے ہمراہ یہ تین اشخاص بھی تھے اور انہوں نے خلیفہ کے ہاں پہنچ کر اپنا تعارف کرایا ۔ عمر نے ان کے حق میں دعا کی اور کہا خداوندا! انھیں برکت عطا کر اور اسلام کو ان کے ذریعہ سربلند فرما!

اسی طرح سیف نے لکھا ہے کہ سماک بن خرشہ نے قادسیہ کی جنگ میں شرکت کی ہے

ابن فتحون بھی لکھا ہے : کہ

ابن عبد البر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو دجانہ نے صفین کی جنگ میں شرکت کی ہے جبکہ ابودجانہ صفین کی جنگ میں موجود ہی نہیں تھا ممکن ہے ابن عبد البر نے اس کا نام اس سماک کے بجائے غلطی سے لے لیا ہو !!

۲۲۰