ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۳

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 329

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 329
مشاہدے: 18438
ڈاؤنلوڈ: 911


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 329 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 18438 / ڈاؤنلوڈ: 911
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 3

مؤلف:
اردو

میں ابن حجرنے اس لئے ان کا نام اپنی کتاب کے اس حصہ میں لکھا ہے اور اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ فتوح ( وہ جنگیں جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد انصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کی حیات میں واقع ہوئی ہیں ) میں صحابی کے علاوہ ہرگز کسی کو سپہ سالاری کا عہدہ نہیں سونپتے تھے۔

ابن مسکویہ نے بھی کہا ہے کہ سماک بن خرشہ غیراز ابودجانہ کا نام شہر رے کی فتح میں لیا گیا ہے (ز) ( ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اسی طرح ابن حجر نے سیف کی انہی روایتوں پر اعتماد کرتے ہوئے سماک بن عبید عبسی کو اصحابِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں شمار کیا ہے اور اس کے حالات پر الگ سے شرح لکھی ہے وہ اس کے ضمن میں لکھتا ہے :

اس کا نام گزشتہ شرح میں آیا ہے ...ہمدان کی فتح میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا ہے

سماک بن مخرمہ بھی اس فیض و برکت سے محروم نہیں رہا ہے ابن حجر اور دوسروں نے سیف کی روایتوں پر اسی گزشتہ اعتماد کی بناء پر سماک بن مخرمہ کو بھی رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے قبول کیا ہے اور اپنی کتابوں میں اس کیلئے الگ سے شرح لکھی ہے ۔

اس طرح ابن حجر نے ان تین افراد کو سیف کے کہنے کے مطابق کہ سپہ سالار تھے اسی وجہ سے ، اپنی کتاب کے پہلے حصہ میں درج کیا ہے اور خصوصی طور پر اس دلیل کی صراحت کی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے لکھتا ہے :

میں نے اس لئے ان کو اپنی کتاب کے اس حصہ میں درج کیا ہے کہ اس سے پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ وہ '' جنگوں '' میں صحابی کے علاوہ کسی کو کسی صورت میں سپہ سالار کے عہدہ پر مقرر نہیں کرتے تھے ۔

اس لحاظ سے ، ابن حجر کی نظر میں سیف کے ان تین جعلی صحابیوں کے اصحاب ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے ، کیونکہ وہ سپہ سالاری کے عہدہ دار تھے !!١

ابن حجر ، سیف کی مخلوق سماک کے بارے میں اپنی بات کو حرف '' ز'' پر خاتمہ بخشتا ہے تا کہ یہ دکھائے کہ اس نے اس صحابی کے حالات کی تشریح میں دیگر تذکرہ نویسوں کی نسبت اضافہ کیاہے۔

۲۲۱

ابن عبد البر نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور '' سماک بن مخرمۂ اسدی'' کے حالات کی تشریح کرتے ہوئے لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے نقل کیا ہے کہ ' ' سماک بن مخرمۂ اسدی '' ، '' سماک بن عبید عبسی'' اور '' سماک بن خرشہ انصاری''' ( غیر از ابو دجانہ ) وہ پہلے عرب سردار تھے جنہوں نے '' دستبی '' کی فوجی چھاؤنیوں کی کمانڈ سنبھالی ہے ۔

ابن اثیر نے کتاب ' اسد الغابہ '' میں اور ذہبی نے اپنی '' تجرید'' میں ان مطالب کو نقل کرنے میں ابن عبد البر کی تقلید کی ہے ۔

جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ کتاب '' اصابہ '' میں ابن حجر کے کہنے کے مطابق '' ابن مسکویہ '' نے بھی تینوں سماک کے بارے میں یہی مطالب لکھے ہیں ۔

ابن ماکولا اپنی کتاب '' اکمال'' میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے نقل کیاہے کہ سماک بن خرشہ انصاری غیر از ابودجانہ ، سماک بن مخرمۂ اسدی اور سماک بن عبید عبسی ، عمر کی خدمت میں پہنچے ہیں ۔ یہ وہ پہلے عرب سردار ہیں جنہوں نے دیلمیوں سے جنگ کی ہے ۔

طبری نے بھی مذکورہ روایت کو سیف سے نقل کرکے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے ، اور ابن اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلدون اور دوسرے تاریخ نویسوں نے بھی طبری کی تقلید کرتے ہوئے سیف کے انہیں مطالب کو اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

انہی روایتوں کی وجہ سے ابن فتحون غلط فہمی کا شکار ہوا ہے اور ایسا خیال کیا ہے کہ جس سماک نے امیر المؤمنین علی کے ہمراہ جنگ صفین میں شرکت کی ہے وہ وہی سیف کا جعل کردہ سماک ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ صفین کی جنگ میں شرکت کرنے والا سماک '' جعفی'' جو اور انصار میں سے نہیں تھا۔

تاریخی حوادث کے سالوں میں تبدیلی ، وقائع و رودادوں میں تحریف ، کرداروں کی تخلیق ، قصے اور افسانے گڑھنا اور انہیں تاریخ کی اہم اور فیصلہ کن رودادوں کی جگہ پیش کرناسب کے سب سیف اور اس کی روایات کی خصوصیات ہیں تا کہ مسلمانوں کیلئے تشویش اور پریشانی فراہم کرکے انھیں تاریخی حقائق تک پہنچنیسے روکے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ سیف اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوا ہے۔ گزشتہ بارہ صدیوں سے زیادہ زمانہ گزر چکا ہے اور اس پورے زمانے میں اس کے تمام افسانے اور جعل کئے گئے مطالب معتبر اسلامی مصادر و مآخذ میں درج ہوچکے ہیں جس کے نتیجہ میں آج عالم اسلام کے علماء و محققین تشویش اور پریشانی سے دوچار ہیں ۔

۲۲۲

سیف کے ہم نام اصحاب کا ایک گروہ

اس بحث میں ہم سیف کے دو جعلی اصحاب کے حالات کی تشریح کریں گے جن کے نام رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی دو اصحاب کے مشابہ ہیں ۔ سیف نے ان دو ناموں کا انتخاب کرکے ان کیلئے داستان گڑھ کر اسلام کی تاریخ میں درج کرائی ہے ہم ان کے بارے میں حسبِ ذیل وضاحت کرتے ہیں :

١۔ خزیمہ بن ثابت انصاری ( غیر از ذو الشہادتین ) سیف نے '' خزیمہ بن ثابت انصاری ذو الشہادتین '' کے ہم نام جعل کیاہے اور اس کے لئے الگ سے ایک داستان گڑھ لی ہے ۔

٢۔ سماک بن خرشۂ انصاری ( غیراز ابودجانہ کہ سیف نے اسے '' سماک بن خرشۂ انصاری ابودجانہ کے ہم نام جعل کیا ہے ۔ گزشتہ شرح کے مطابق اس کیلئے بھی الگ سے ایک داستان گڑھی ہے۔

سیف نے صرف ان دو اصحاب کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے واقعی اصحاب کے ہم نام خلق کرنے پر اکتفاء نہیں کی ہے بلکہ ہم نے دیکھا اور مزید دیکھیں گے کہ اس نے اصحاب اور معروف شخصیتوں کے ہم نام حسبِ ذیل کردار بھی خلق کئے ہیں :

٣۔ زر بن عبدا للہ بن کلیب فقیمی کو ''زر بن عبد اللہ کلیب فقیمی شاعر '' کے ہم نام خلق کیا ہے کہ جو جاہلیت کے زمانے سے تعلق رکھتا تھا۔

٤۔ جریر بن عبد اللہ حمیری کو '' جریر بن عبد اللہ بجلی '' کے ہم نام خلق کیاہے اور جریر بن عبد اللہ بجلی کے بعض کارناموں کو بھی اس سے نسبت دی ہے ۔

٥۔ وبرة بن یحنس خزاعی کو '' وبر بن یحنس کلبی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٦۔ حارث بن یزید عامری کو بنی لوئی کے '' حارث بن یزید عامری قرشی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٧۔ حارث بن مرۂ جہنی کو '' حارث بن مرۂ عبدی یا فقعسی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

٨۔ بشیر بن کعب حمیری کو '' بشیر بن کعب عدوی '' کے ہم نام خلق کیا ہے ۔

۲۲۳

جب کہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ سیف نے صرف کردار ادا کرنے والے ، انسان اور صحابیوں کے نام پر ہی افراد خلق کرنے پر اکتفا نہیں کیے ہیں بلکہ اس نے ایسے مقامات بھی خلق کی جو کرۂ ارض پر موجود دوسری جگہوں کے ہم نام ہیں ، جیسے '' جعرانہ '' و نعمان '' جو حجاز میں واقع تھے اور سیف نے ان کے ہم نام اپنی جعلی روایتوں اور اخبار کے ذریعہ انھیں عراق میں خلق کیا ہے ۔ یاقوت حموی نے سیف کی باتوں پر اعتماد کرکے ان مقامات کا نام اور ان کی تشریح اپنی کتاب ' ' معجم البلدان '' میں درج کی ہے۔

افسانۂ سماک کو نقل کرنے والے راوی اور علما

سیف نے اپنے سماک بن خرشہ کے افسانہ کو درج ذیل روایوں سے نقل کیا ہے ۔

١۔ ٢ - محمد اور مھلب جو اس کے جعلی راوی ہیں ۔

٣ تا ٦- طلحہ ، عمرو ، سعید و عطیہ کو ذکر کیا ہے جو مجہول ہیں اور ہمیں معلوم نہ ہوسکا یہ کون ہیں تا کہ ان کی پہچان کرتے۔

جن علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس کے افسانوں کو نقل کرکے '' افسانہ سماک '' کی اشاعت میں مدد کی ہے ، حسب ذیل ہیں :

١۔ امام المؤرخین محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں ۔

٢۔ ابو عمر ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں سماک بن مخرمہ کے حالات کی تشریح میں ۔

٣۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب ' ' اسدا الغابہ'' میں '' سماک بن مخرمہ '' کے حالات کی تشریح میں ۔

٤۔ ابن عبد البر نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں سماک بن خرشہ کے حالات کی تشریح میں ۔

٥۔ ابن فتحون نے استیعاب کے حاشیہ پر لکھا ہے ۔

٦۔ ابن مسکویہ نے ابن حجر کی '' اصابہ '' کے مطابق ۔

٧۔ اب ماکولا نے اپنی کتاب '' اکمال '' میں

٨۔ ابن اثیر نے اپنی تاریخ میں ۔

٩۔ ابن کثیر نے اپنی تاریخ میں

۲۲۴

١٠۔ ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں ۔

١١۔ امیر شکیب نے ابن خلدون کی تاریخ پر لکھی گئی تعلیق میں جسے گزشتہ علماء سے نقل کیا ہے ۔

١٢۔ سید شرف الدین نے اپنی کتاب فصول المہمہ میں شیعوں کے نام کے ذکر میں حرف سین کے ذیل میں لکھا ہے :

'' اور سماک بن خرشہ بظاہریہ ابودجانہ کے علاوہ ہے ۔

مصادر و مآخذ

ابودجانہ انصاری کا شجرۂ نسب :

١۔ ابن حزم کی '' جمہرہ '' ص ٣٦٦۔

٢۔ استبصار ص ١٠١

ابو دجانہ کے حالات میں پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اصلی شرط:

١۔ استیعاب ، طبع حیدر آباد (٢ ٥٦٦ ) نمبر : ٢٤٥١اور (٢ ٦٤٣) نمبر : ١١٠

٢۔ذہبی کی تاریخ اسلام (١ ٣٧١) پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زبیر کو تلوار دینے میں پرہیز کرنا ان دو مصادر میں آیا ہے ۔

٣۔ تاریخ طبری ( ١ ١٣٩٧) زبیر کی روایت ، ابن اسحاق کی روایت کو اس کے بعد ذکر کیا ہے۔

٤۔ اس کے علاوہ '' سیرۂ ابن ہشام '' ( ٣ ١٢۔١١)

سماک بن خرشہ جعفی

١۔ نصر مزاحم کی '' کتاب صفین '' طبع اول مصر ( ٤٢٦)

٢۔ ابن حزم کی جمہرہ ص ٢٣٢ ۔ ٣٦٦ ، انصار کے نسب کے بارے میں جعفی کا نسب اسی ماخذ ٤٠٩ ، ٤١٠ میں

٣۔ حموی کی '' معجم البلدان '' مادۂ '' جعفی '' میں

٤۔ ابن درید کی '' استقاق '' (ص ٢٠٦ )

٥۔ ابن اثیر کی لسان العرب ( ٩ ٢٧از و اللباب )

۲۲۵

سیف کا سماک بن خرشہ غیر از ابودجانہ

١۔ '' تاریخ طبری ''' جنگ قادسیہ کے بعد واقع ہونے والے حوادث ( ١ ٢٣٦٣ ، ٢٣٦٤)

٢۔ تاریخ طبری ، ہمدان اور آذربائیجان کی فتح ( ١ ٢٦٥٠۔ ٦٣ ٢٦)

٣۔ تاریخ طبری ، سماک کی عراق پر حکومت (١ ٣٠٥٨)

٤۔ تاریخ ابن اثیر (٣ ١٠ -١١ و ٧٢)

٥۔ تاریخ ابن کثیر ( ٧ ١٢١۔ ١٢٢)

٦۔ تاریخ ابن خلدون ( ٢ ٣٥٤ ، و ٤٠٢)

٧۔ تاریخ ابن خلدون پر امیر شکیب کی تعلیق ( ٢ ٣٥٤)

٨۔ ابن ماکولا کی کتاب '' اکمال '' ( ٤ ٣٥٠)

٩۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٢ ٧٥) نمبر : ٣٤٦٥ سماک بن خرشہ غیر ازابودجانہ کے حالات کی شرح میں ۔

١٠۔ سید شرف الدین کی فصول المہمہ ١٨٢۔

ہمدان اور آذربائیجان کی فتح کی خبر ، سیف کے علاوہ دوسروں کی روایت میں ۔

١۔ تاریخ خلیفہ بن خیاط (٢ ١٢٤) ٢٢ھ کے حوادث کے ضمن میں ۔

٢۔ تاریخ طبری ٢٢ھ کے حوادث ( ١ ٢٦٤٧)

٣۔ بلاذری کی '' فتوح البلدان '' ص ٤٠٠۔

داستان عروہ ، فتح رے اور اس کے حکام :

١۔ بلاذری کی '' فتوح البلدان '' ص ٣٨٩ -٣٩٣ اور کثیر بن شہاب کی خبر اسی کے ص ٣٧٨ پر

۲۲۶

سماک بن عبید کے حالات

١۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ٢ ٧٦) نمبر : ٣٤٦٧

٢۔ تاریخ طبری اس کے بارے میں سیف کی روایت ( ١ ٢٦٣١) یاقوت حموی نے اس روایت کی طرف اشارہ کیاہے ۔

٣۔تاریخ طبری ( ١ ٢٦٥٠ ۔ ٢٦٥١ و ٢٦٦٠) سیف کے علاوہ دوسروں کی روایات (٢ ٣٩ ۔ ٤٢ ، ٤٥ و ٥٧)

سماک بن مخرمہ کے حالات

١۔ '' استیعاب '' طبع حیدرآباد ( ٢ ٥٦٧) نمبر : ٢٤٥٣

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ٢ ٣٥٣)

٣۔ ذہبی کی تجرید (١ ٢٤٦) نمبر: ٢٤٠٣۔

٤۔ ''اغانی'' طبع ساسی ١٠ ٨٠ سماک مخرمہ کے اخبار

٥۔ یاقوت حموی کی معجم البلدان لفظ '' مسجد سماک '' میں ۔

٦۔ تاریخ طبری( ١ ٢٦٥٠۔ ٢٦٥١ ، ٢٦٥٣ ، ٢٦٥٦ و ٢٦٥٩ -٢٦٦٠) سماک بن مخرمہ کے بارے میں سیف کی روایات ۔

۲۲۷

ساتواں حصہ

گروہ انصار میں سے چند اصحاب

*ابوبصیرہ

*حاجب بن زید

*سہل بن مالک

*اسعد بن یربوع

*ام زمل ، سلمی بنت حذیفہ

۲۲۸

انچاسواں جعلی صحابی ابو بصیرۂانصاری

ابن عبد البر اپنی کتاب '' استیعاب '' میں ابو بصیرہ کے تعارف میں لکھتا ہے :

سیف بن عمر نے جنگِ یمامہ مسیلمہ کذاب سے جنگ میں شرکت کرنیو الے انصار کے ایک گروہ کے نام کے ضمن میں ابو بصیرہ کا نام لیا ہے اور کہا ہے خدا سے رحمت نازل کرے اس کے علاوہ اس کے بارے میں ایک داستان بھی نقل کی ہے ۔

دوسرے علماء جیسے ، ابن اثیر نے کتاب اسد الغابہ میں ، ابن حجر نے '' اصابہ'' میں اور ذہبی نے کتاب '' تجرید'' میں ابو بصیرہ کے بارے میں ابن عبد البر کی عین عبارت '' استیعاب '' سے نقل کی ہے اور اس میں کس قسم کا اضافہ نہیں کیاہے ۔

مقدسی نے بھی ابو بصیرہ کے حالات کی تشریح میں صرف یہ کہنے پر اکتفا کی ہے کہ سیف نے اس کا نام یمامہ کی جنگ میں شرکت کرنے والوں میں ذکر کیا ہے ۔

'' ابن ماکولا نے بھی ابو بصیرہ کے حالات کی تشریح میں لکھا ہے کہ سیف بن عمر کہتا ہے کہ اس نے بنی حنیفہ کی جنگ ( وہی جنگ یمامہ ) میں شرکت کی ہے ۔

لیکن جس خبر کی طرف ابن عبد البر نے اشارہ کیا تھا ۔ امام المؤرخین طبری نے اپنی تاریخ میں سیف بن عمر سے اس نے'' ضحاک بن یربوع '' سے اور اس نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ ہم پیش کرتے ہیں :

سر انجام مسیلمہ کے حامی مقابلہ کی تاب نہ لاکر اسلام کے سپاہیوں کے ہاتھوں شکست کھائی۔ اور مسیلمہ مارا گیا اور اس کے حامی تتر بتر ہوگئے اس طرح ان کے بلوہ اور فتنہ کا خاتمہ ہوا۔

ان میں بنی عامر سے ایک شخص موجود تھا ، جسے '' اغلب '' کہتے تھے ١ '' اغلب '' وقت کا غنڈہ ترین شخص شمار کیا جاتا تھا ۔ ہٹا کٹا دکھائی دیتا تھا۔

جب مسیلمہ کی فوج تہس نہس ہوگئی اور اس کے حامی بھاگ کھڑے ہوئے تو، '' اغلب'' جان بچانے کے مارے اپنے آپ کو مردہ جیسا بناکر لاشوں میں گرادیا ۔ اس فتح کے بعد مسلمان دشمن کی لاشوں کا مشاہدہ کر رہے تھے ، اسی اثناء ان کی نظر ایک موٹے انسان اور غنڈہ '' اغلب '' پر پڑی ۔ لوگوں نے ابو بصیرہ سے مُخاطب ہوکر کہا :

تم مدعی ہو کہ تمہاری تلوار بہت تیز ہے اگر واقعاً ایسا ہے تو یہ '' اغلب '' کا مردہ جو زمین پر پڑا ہے،اس کی گردن کاٹ کر دکھاؤ!

ابو بصیر نے تلوار میان سے کھینچ لی اور آگے بڑھا تا کہ اپنے بازؤں کی قدرت اور تلوار کی

____________________

١۔سیف نے اس '' اغلب '' کو قبیلہ ٔ بکر بن وائل کے بنی عامر بن حنیفہ سے خلق کیا ہے اور اس کے بارے میں دکھایا گیا اس کا تعصب واضح ہے ، کتاب '' قبائل العرب ' ' کی طرف رجوع کیا جائے ۔

۲۲۹

تیزی کا مظاہرہ کرے جب '' اغلب '' نے موت کے سائے اپنے سر پر منڈلاتے دیکھے تو اچانک اٹھ کر ابو بصیر پر جھپٹ پڑا اس کے بعد جان چھڑا کر تیزی سے بھاگ نکلا۔

ابو بصیرہ جو ایک لمحہ کیئے چونک گیا تھا ، اغلب کے پیچھے دوڑتے غیر ارادی طور پر فریاد بلند کررہا تھا: '' میں ابو بصیرہ انصاری ہوں '' لیکن اغلب جو کافی آگے بڑھ چکا تھا ، ابو بصیرہ کے جواب میں چیختے ہوئے بولا : اپنے کافر بھائی کے دوڑنے کو کیسا پایا ؟ اور اسی حالت میں نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔

افسانۂ ابو بصیرہ کے مآخذ

سیف بن عمر نے اس افسانہ کے راوی کے طور پر '' ضحاک بن یربوع '' کو اپنے باپ سے نقل کرتے ہوئے پیش کیا ہے ۔

طبری نے سیف کے ذریعہ اسی ضحاک سے چار روایتیں اور ابن حجر نے '' اقرع '' کے حالات کی تشریح میں سیف سے نقل کرکے اس سے صرف ایک روایت نقل کی ہے ۔

ہم نے اس ضحاک کا کسی اسلامی ماخذ یا مصدر میں کوئی نام و نشان نہیں دیکھا صرف '' میزان الاعتدال '' اور '' لسان المیزان '' میں ضحاک کے حالات کی تشریح میں لکھا گیا ہے : کہ '' اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ''۔ ازدی کی بات سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات سے غافل تھا کہ ان تمام فتنوں کا سرچشمہ سیف بن عمر ہے جس نے اس قسم کی جھوٹی روایت کو بیچارہ '' ضحاک'' کی زبان پر جاری کیا ہے ورنہ '' ضحاک بن یربوع''' نام کے کسی شخص کے بالفرض وجود کی صورت میں بھی وہ قصوروار نہیں ہے۔

چونکہ ہمیں معتبر منابع میں '' ضحاک '' نام کے کسی راوی کا نام نہیں ملا، اسلئے ہم اسے راویوں کی فہرست سے حذف کرتے ہوئے سیف کا خلق کردہ صحابی جانتے ہیں ۔

۲۳۰

افسانۂ ابو بصیرہ کا نتیجہ

١۔ انصار میں سے ایک صحابی کی تخلیق جس نے یمامہ کی جنگ میں شرکت کی ہے ۔

٢۔ یمانی قحطانیوں کی رسوائی ، سیف ان کو اتنا بے لیاقت دکھاتا ہے کہ ایک عدنانی شخص جس نے ڈر کے مارے اپنے آپ کو مردہ جیسا بنا دیا تھا اور ان کے چنگل میں ہونے کے باوجود ، ان کی بے لیاقتی کی وجہ سے بھاگنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔

٣۔ ابو بصیرہ قحطانی کی ناتوانی دکھلانا جو مکررکہہ رہا تھا ، '' میں ابو بصیرہ انصاری ہوں '' اور وہ عدنانی جواب دیتا تھا '' اپنے کافر بھائی کے دوڑنے کو کیسا پارہے ہو؟!!

٤۔ ضحاک بن یربوع اور یربوع جیسے راوی خلق کرنا۔

مصادر و مآخذ

ابو بصیرہ کے حالات

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' (٢ ٦٣٠) نمبر : ٥٠

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ'' (٥ ١٥٠)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید' '( ٢ ١٦٣)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ'' ( ٤ ٢٢) نمبر : ١٤٣

٥۔ تاریخ طبری (١ ١٩٥٠)

٦۔ مقدسی کی کتاب '' استبصار'' ( ص ٣٣٨)

٧۔ ابن ماکولا کی کتاب '' اکمال '' ( ١ ٣٢٨)

ضحاک بن یربوع کے حالات

١۔ میزان الاعتدال ( ٢ ٣٢٧)

٢۔ ابن حجر کی '' لسان المیزان '' (٣ ٢٠١)

مراجع :

١۔ رضا کحالہ کی قبائل العرب ( ٢ ٧٠٦)

۲۳۱

پچاسواں جعلی صحابی حاجب بن زید یا یزید انصاری اشہلی

ابن عبد البر کی کتاب '' استیعاب '' میں حاجب کا یوں تعارف کیا گیا ہے :

حاجب '' بنی عبد الاشہل '' میں سے تھا ۔ اس کے علاوہ کہا گیا ہے کہ وہ '' بنی زعواراء بن جشم '' کی نسل سے عبدا لاشہل جشم کا بھائی اور '' اوسی'' تھا جو یمامہ کی جنگ میں قتل ہوا ہے ۔

حاجب قبیلۂ '' اَزْد'' کے ''شَنَوْئَ'' کا ہم پیمان تھا ۔ '' خدا اس سے راضی ہو '' ( عبد البر کی بات کا خاتمہ)

بالکل انہی باتوں کو ابن اثیر جیسے عالم نے کتاب '' اسد الغابہ '' میں اور ذہبی نے ''تجرید '' میں کسی کمی و بیشی کے بغیر درج کیا ہے ۔

ابن حجر نے بھی ایسا ہی ظاہر کیا ہے ، لیکن آخر میں حسب ذیل اضافہ کیا ہے:

سیف نے طائفہ '' بنی الاشہل '' کے جنگ یمامہ میں قتل ہوئے افراد کی فہرست میں ''حاجب '' کا نام بھی لیا ہے ۔ یہ افراد ہیں اور حاجب بن زید ۔ اس کے علاوہ اس میں کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا ہے ۔

ہم نے اس نام کو تلاش کرنے کیلئے موجود تمام تاریخ اور انساب کے معتبر مصادر میں زبردست جستجو و تلاش کی لیکن تاریخ طبری کے علاوہ کہیں اور اس کا سراغ نہ مل سکا۔

لیکن طبری قادسیہ کی جنگ کے اخبار کے ضمن میں سیف سے نقل کرکے لکھتا ہے : قادسیہ کی جنگ میں قتل ہونے والوں میں سے ایک اور شخص حاجب بن زید تھا

ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ قادسیہ کی جنگ میں خاک و خون میں غلطاں ہونے والے اس حاجب بن زید سے سیف کی مراد وہی حاجب ہے جو یمامہ کی جنگ میں مارا گیا ہے ، یا یہ کہ اسے دوشخص شمار کیا ہے۔

دوسرے الفاظ میں ، وہ بھول گیا ہے کہ اس حاجب کو اس نے دس سال پہلے یمامہ کی جنگ میں موت کے گھاٹ اتاردیا ہے ، یا یہ کہ اس نے دو اشخاص کو ہم نام خلق کیا ہے ان میں سے ایک ''حاجب بن زید '' ہے جسے یمامہ کی جنگ میں مروا دیا ہے اور دوسرا ''حاجب بن زید '' وہ ہے سجے قادسیہ کی جنگ میں قتل کروایاہے ؟!!

۲۳۲

بہر حال خواہ سیف نے فراموش کیا ہو یا نہ کیا ہو، ہمارے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہم نے اس حاجب بن زید کو سیف بن عمر اور اس کی روایات کی اشاعت کرنے والے علماء کے علاوہ تاریخ ، ادب ، انساب اور حدیث کے کسی منبع اور مصدر میں نہیں پایا ۔ اس لحاظ سے اس کو سیف کے خیالات کی مخلوق سمجھتے ہیں ۔

ضمناً سیف نے جو داستان اس حاجب کے لئے گڑھی ہے اس میں اس کا وہی مقصد ہے یمانی قحطانی ان چیزوں سے موصوف ہوں ، کیونکہ سیف کے نقطہ نظر میں جنگی کمالات' کامیابیاں ، میدان کارزار سے صحیح و سالم نکلنا اور دیگر افتخارات غرض جو بھی برتری و سربلندی کا باعث ہو وہ تمیم ،مضر اور قبیلۂ عدنان کے افراد سے مخصوص ہے کسی دوسرے کو اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ کسی یمانی قحطانی کوکوئی حق نہیں پہنچتا ہے کہ اس قسم کے افتخارات اور کامیابیوں کے مالک ہوں ، مگر یہ کہ خاندان مضر کے سرداروں کے زیر فرمان خاک و خون میں غلطان ہوں اور یہ لیاقت پائیں کہ ان کے رکاب میں شہید ہونے والے شمار ہوجائیں !!!

لیکن،سیف نے اس حاجب کیلئے جو نسب گڑھا ہے وہ ''بنی اشہل'' ہے اور'' بنی اشہل '' و '' جشم'' اوس سے حارث بن خزرج کے بیٹے ہیں ، اور '' ازدشنوئ'' یعنی قبائل ''ازد'' کے وہ افراد جو ''شنوئ'' میں ساکن تھے۔ یہ ازد میں سے ایک قبیلہ ہے سکونت کے لحاظ سے وہ ''شنوء '' کے باشندے تھے (جو یمن کے اطراف میں واقع ہے ۔) یہ لوگ اس جگہ سے منسوب ہوئے ہیں اور تینوں قبیلے یمانی قحطانی ہیں ۔

مصادر و مآخذ

حاجب بن زید کے بارے میں درج ذیل مصادر و مآخذ کی طرف رجوع کیا جائے :

١۔ ابن عبد البر کی '' استیعاب '' ( ١ ١٣٨) نمبر : ٥٧٣

٢۔ ابن اثیر کی '' اسد الغابہ '' ( ١ ٣١٥)

٣۔ ذہبی کی '' تجرید '' ( ١ ١٠١)

٤۔ ابن حجر کی '' اصابہ '' ( ١ ٢٧٢) نمبر :١٣٦٠

٥۔ تاریخ طبری ( ١ ٢٣١٧ ) اور ( ١ ٢٣١٩)

٦۔ تاریخ ابن اثیر ( ٢ ٣٧٠)

٧۔ ابن حزم کی ''جمہرہ انساب العرب '' ( ٣١٩ ۔ ٣٢٠)

٨۔ قبائل العرب ( ١ ١٥٥) اور ٢ ٣٧٤ ) اور (٢ ٧٢٢)

۲۳۳

اکاونواں جعلی صحابی سہل بن مالک انصاری

سہل ، کعب بن مالک کا ایک بھائی

اس جعلی صحابی کے حالات کی تشریح میں ابن حجر کی کتاب '' اصابہ'' میں یوں آیا ہے :

'' سہل بن مالک بن ابی کعب ١ بن قین '' انصاری رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معروف شاعر '' کعب بن مالک ' کا بھائی ہے ۔

ابن حبان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سہل کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں شمار ہوتا ہے ۔

سیف بن عمر نے ابو ہمام' سہل بن یوسف بن سہل ٢ بن مالک سے نقل کیا ہے اور اس نے اپنے باپ سے اور اپنے جد سے روایت کی ہے:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حجة الوداع سے مدینہ واپس آنے کے بعد منبر پر تشریف لے جا کر فرمایا:

اے لوگو! ابو بکر نے کبھی بھی میرا دل نہیں دکھایا ہے اور

____________________

١۔ ابو کعب کا نام عمرو تھا ۔

٢۔سہل بن مالک کا نام ہمارے پاس موجود اصابہ کے نسخہ میں نہیں آیا ہے لیکن ابن حجر کی '' لسان المیزان '' میں درج کی گئی روایت کی سند میں ذکر ہوا ہے ۔

۲۳۴

ابن حجر نے علمِ رجال میں لکھی گئی اپنی کتاب ' ' لسان المیزان '' میں لکھا ہے کعب بن مالک کے بھائی ، سہل بن یوسف بن سہل بن مالک نے اپنے باپ سے اااس نے اپنے جد سے یوں روایت کی ہے۔

جب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع سے واپس مدینہ لوٹے تو منبر پر تشریف لے جا کر بارگاہ الٰہی میں حمد و ثناء فرمایا:

اے لوگو! میں ابو بکر عمر اور عثمان سے راضی ہوں اے لوگو ! اپنی زبانیں مسلمان کو برا بھلا کہنے سے روک لو ، جب ان میں سے کوئی اس دنیا سے چلا جائے تو اس کے بارے میں خوبی کے سوا کچھ نہ کہنا ! ابن حجر نے مذکورہ بالا مطالب بیان کرنے کے بعد لکھا ہے :

سیف بن عمر نے اس حدیث کو اسی صورت میں سہل بن یوسف سے نقل کرکے اپنی کتاب '' فتوح'' میں لکھا ہے ۔

سہل اور اس کے نسب پر ایک بحث

سیف نے اس روایت کو ایک ایسے راوی کی زبانی نقل کیا ہے جس کا نام اس نے '' ابوہمام سہل'' رکھا ہے اس نے اپنے باپ یوسف سے اور اس نے اپنے جد سہل بن مالک سے روایت کی ہے اور سہل کا تعارف رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر کعب بن مالک کے بھائی کے عنوان سے کہا ہے ۔ یعنی سیف نے کعب بن مالک انصاری کے نام پر ایک معروف صحابی اور حقیقت میں وجود رکھنے والے پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر کیلئے ایک بھائی خلق کیا ہے اور اس نام '' سہل بن مالک '' رکھا ہے اس طرح اس نے بالکل وہی کام انجام دیا ہے جو اس سے پہلے '' طاہر ، حارث اور زبیر '' ابو ہالہ ١ کو خلق کرنے میں انجام دیا تھا اور تینوں کو ابو ہالہ اور ام المؤمنین خدیجہ کے بیٹے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے منہ بولے بیٹے اور پروردہ کی حیثیت سے خلق کیا تھا یا مشہور ایرانی سردار ہرمزان کیلئے '' قماذبان '' ٢ نام کا ایک بیٹا خلق کیا تھا' وغیرہ وغیرہ

لیکن بات یہ ہے کہ '' کعب بن مالک '' کا حقیقت میں سہل بن مالک انصاری نام کا نہ کوئی بھائی تھا ، نہ '' یوسف'' نام کا اس کا کوئی بھتیجا تھا اور نہ اس کے بھائی کا سہل نام کا کوئی پوتا تھا !

۲۳۵

سہل بن یوسف ، سیف کا ایک راوی

جو کچھ ہم نے بیان کیا ، اس کے علاوہ طبری نے سیف سے نقل کرکے سہل بن یوسف کی انتالیس یا چالیس روایتیں اپنی تاریخ کبیر میں درج کی ہیں جن میں سے چار روایتیں سہل کے باپ یعنی '' یوسف '' سے نقل ہوئی ہیں کہ ان میں سے ایک میں سہل کا نسب یوں ذکر ہوا ہے : '' سہل بن یوسف سلمی'' ۔

دوسرے مصنفین اور علماء جنہوں نے اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ، ''عبید بن صخر ، اور معاذ بن جبل '' کیلئے لکھے گئے حالات کی تشریح میں سیف بن عمر سے نقل کرکے سہل بن یوسف بن سہل کی چھ روایتیں عبید بن صخر سے اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں ۔

____________________

١۔ اسی کتاب کی دوسری جلد ملاحظہ ہو۔

٢۔ کتاب عبدا للہ بن سبا جلد ١ ملاحظہ ہو۔

۲۳۶

آخر کی روایتوں میں سے ایک روایت میں سہل بن یوسف کا تعارف یوں کیا گیا ہے : '' سہل بن یوسف بن سہل انصاری''

اس تحقیق کا نتیجہ

مجموعی طور پر جو کچھ گزرا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف نے سہل کے خاندان کو اپنے خیال میں یوں خلق کیا ہے : '' ابوہمام ، سہل بن یوسف بن سہل بن مالک انصاری سلمی '' اور '' دادا '' سہل کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شاعر صحابی کعب بن مالک انصاری کے بھائی کی حیثیت سے خلق کیا ہے یہی سبب بناہے کہ کتاب '' اصابہ '' کے مصنف ابن حجر نے سہل کو خاندان کعب کے نسب سے منسلک کرکے لکھا ہے : '' سہل بن مالک بن ابی کعب بن قین '' ، ابن حجر نے اس نسبت کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے جب کہ سہل کے خالق سیف بن عمر نے ایسا دعویٰ نہیں کیا اور اپنی مخلوق کو '' قین '' سے منسلک نہیں کیا ہے!! ١

قلمی سرقت

سیف نے مذکورہ روایت کو اپنی کتاب '' فتوح '' جو دوسری صدی کی پہلی چوتھائی میں تالیف ہوئی ہے میں بڑی آب و تاب کے ساتھ درج کیا ہے اور اپنے خاندانی تعصب و قبیلہ ٔ مضر خاص طور سے وقت کے حکام و دلتمندوں کے بارے میں منقبت و مداحی کی ایسی روایت درج کرکے ثابت کیا ہے ۔

____________________

١۔ جہاں تک سیف کی رواتیوں سے استفادہ ہوتا ہے ۔

۲۳۷

زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ تیسری صدی ھجری کا '' خالد بن عمرو اموی کوفی ''آپہنچا اور ایک ادبی اور قلمی چوری کا مرتکب ہوتا ہے وہ سیف کی عین روایت کو اس کی کتاب سے نقل کرکے اپنی کتاب میں درج کرتا ہے اور اس میں سیف اور اس کی کتاب کا کہیں نام نہیں لیتا گویا اس نے کسی واسطہ کے بغیرخود اس روایت کو سنا ہے ۔

خالد کا یہ کام اس بات کا سبب بناکہ اس کے بعد آنے والے علماء نے اسی روایت کو خالد کی کتاب سے لے کرکے گمان کیاہے کہ خالد تنہا شخص ہے جس نے ایسی روایت اپنی کتاب میں نقل کی ہے اس مطلب کی طرف توجہ نہیں کی ہے کہ خالد سے تقریباً ایک صدی پہلے یہی روایت سیف بن عمر نام کے شخص کے ذہن میں پیدا ہوچکی ہے اور اس نے اسے اپنی کتاب فتوح میں درج کیا ہے ١

سہل کے افسانہ کی اشاعت کرنے والے علما

خالد کا یہ کام اس امر کا سبب بنا کہ مندرجہ ذیل علماء نے یہ گمان کیاہے کہ خالد بن عمرو اس روایت کو نقل کرنے والا وہ تنہا شخص ہے :

١۔ دار قطنی ( وفات ٣٨٥ھ) جو یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرنے میں خالد اکیلا ہے ۔

٢۔ ابن مندہ ( وفات ٣٩٩ھ ) نے کتاب '' اسماء الصحابہ '' میں لکھا ہے کہ :

یہ ایک تعجب خیز روایت ہے جسے میں نے اس راوی کے علاوہ کہیں نہیں پایا ہے ۔

____________________

١۔ کتاب '' روات مختلقون '' سلسلۂ روات کی بحث میں '' سہل بن یوسف بن سہل'' کے نام میں ملاحظہ ہو۔

۲۳۸

یعنی خالد بن عمرو کے علاوہ کسی دوسرے نے یہ روایت بیان نہیں کی ہے

٣۔ ابن عبدا لبر ( وفات ٤٦٣ھ) نے اپنی کتاب '' استیعاب '' میں لکھا ہے :

اس سہل بن مالک کی روایت کو صرف خالد بن عمرو نے نقل کیا ہے ١

بعضعلماء نے بھی مذکورہ روایت کو خالد کی کتاب سے نقل کیا ہے لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ خالد اس روایت کو نقل کرنے والا تنہا شخص ہے ، جیسے :

١۔ ابنوسی '' ( وفات ٥٠٥ھ ) نے اپنی کتاب فوائد میں ٢

ان میں سے بعض کی کتابوں میں کچھ راویوں کے نام لکھنے سے رہ گئے ہیں ، جیسے :

١۔ طبرانی ( وفات ٣٦٠ھ) نے کتاب '' المعجم الکبیر عن الصحابہ الکرام '' میں ۔

بعض نے مذکورہ روایت کو ارسال مرسل کی صورت میں یعنی راویوں اور واسطوں کا نام ذکر کئے بغیر درج کیا ہے ، جیسے:

____________________

١۔ '' ابن شاہین '' ( وفات ٣٨٥ھ )

۲۳۹

٢۔ ابو نعیم '' ( وفات ٤٣٠ ھ ) کتاب '' معرفة الصحابہ '' میں ۔

بعض نے اپنے سے پہلے علماء جن کا ذکر اوپر آیا سے نقل کیا ہے ۔ جیسے:

١۔ ضیاء مقدسی ( وفات ٦٤٣ ھ ) نے کتاب المختارہ میں طبرانی کی بات کوقبول کیا ہے اور اس سے متاثر ہوا ہے۔

____________________

١۔سہل بن مالک کے حالات کی تشریح کتاب '' اصابہ'' اور '' کنز العمال '' باب سوم ، کتاب فضائل فصل دوم کے آخر میں ( ١٢ ١٥٥) اور تیسری فصل سوم کے آخر میں ( ١٢ ٢٣٩ ) ملاحظہ ہو۔

٢۔سہل بن مالک ( دادا ) کے حالات کی تشریح میں کتاب '' استیعاب ''ملاحظہ ہو ۔

۲۴۰