ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۴

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 273

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 273
مشاہدے: 15727
ڈاؤنلوڈ: 740


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 273 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15727 / ڈاؤنلوڈ: 740
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 4

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: ایک سو پچاس جعلی اصحاب( جلدچہارم )

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری

مترجم: سید قلبی حسین رضوی

اصلاح ونظر ثانی: سید احتشام عباس زیدی

پیش کش : معاونت فرہنگی، ادارہ ترجمہ

کمپوزنگ: محمد جواد یعقوبی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد: ٣٠٠٠

مطبع : لیلیٰ

۳

قال رسول اﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں :(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں ''۔

____________________

( صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ج٣، ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥، اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. وغیرہ)

۴

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پرنمودار ہوتاہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ ونکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کا فور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کاسورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کی تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھی، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عر صے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماندپڑگئیں ، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہب عقل و آگہی ہے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۵

اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام او ر ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کے بے توجہی اورناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کاشکار ہوکراپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکارو نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگیں تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن او رمکتب اہل بیت علیہ السلام کی طرف اٹھی او رگڑی ہوئی ہیں ، دشمنان اسلام اس فکر و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اوردوستداران اسلام سے اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ، یہ زمانہ عملی اور فکری مقابلے کازمانہ ہے اورجو مکتب بھی تبلیغ او رنشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیاتک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کو نسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایاہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر اندازسے اپنا فریضہ ادا کرے، تا کہ موجود دنیا ئے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف وشفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق وانسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواراں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۶

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققیں ومصنفیں کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفیں و مترجمیں کا ادنی خدمتگار تصور کرتے ہیں ، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علامہ سید مرتضی عسکری کی گرانقدر کتاب ''ایک سو پچاس جعلی اصحاب'' کو فاضل جلیل مولانا سید قلبی حسین رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں او رمعاونیں کا بھی صمیم قلب سے شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنی جہاد رضائے مولی کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۷

کتاب ١٥٠ جعلی اصحاب کے سلسلہ میں دل کو ہلا دینے والی ایک تاریخی بحث

زیر نظر مقالہ ، دانشمند محترم جناب ''ہادی علوی'' کا اس کتاب کے سلسلہ میں تجزیہ ہے ، جو ٢٦ اگست ١٩٦٨ ء کو بغداد کے ایک روزنامہ ''تاخی'' اور مجلہ '' رسالة الاسلام '' کے شمار ٩ اور ١٠ میں جمادی الاول ١٣٨٨ ھ کو شائع ہوا ہے۔ جسے ہم نے اس کتاب کے مقدمہ کے طور پر درج کرنا بجا اور مناسب سمجھا ہے۔

تاریخ ، ایک وسیع کھیت کے مانند ہے ، جس پر ہر قسم کے بیج بوئے جاسکتے ہیں دیگر چیزوں کے مقابلہ میں اس پر زیادہ قسم کے بیج بوئے جاسکے ہیں ۔ دیگر چیزوں کے مقابلہ میں اس پر زیادہ قلم فرسائی کی جاسکتی ہے ۔

شاید تاریخ لکھنے والوں کی اس لئے کثرت ہے کہ اس پر قلم اٹھا نا آسان ہے ۔ یا اس علم کے تحت تاریخی رودادوں اور مو ضوعات کی اہمیت یا ہمارے زمانے میں یا مستقبل میں اس کے اثرات کی اہمیت اس کی کثرت و فراوانی کا باعث بنی ہے ۔

بہر حال تاریخ ، سادہ و آسان نہیں ہے ۔ لیکن اس وقت آسان بن جاتی ہے کہ جب لکھنے والا اس حالت میں ہو کہ اس سے داستان گڑھ لے اور اس داستان کے ذریعہ آرام طلب اور اپنے آپ سے بے خبر لوگوں کو سردیوں کی طوفانی راتوں میں اپنی میٹھی زبان سے گرم کر کے انہیں عیش و طرب میں مشغول کرے ۔

اگر ہم تاریخ پر علمی نقطۂ نظر سے نگاہ ڈالیں اور اس کے سنجیدہ مسائل کو سمجھنے کے لئے عاقلانہ کوشش کریں ، تو محسوس کریں گے کہ تاریخ اتنی آسان وسادہ نہیں ہے جتنا عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ مگر اسی مقدار تک کہ ہم آسانی کے ساتھ اس میں تحقیق کریں اور اس کے منابع و مآخذکو پیدا کر کے ضروری تلاش و جستجوں کرکے نتیجہ تک پہنچیں ۔ یہ تین چیز یعنی تحقیق ، بحث اور نتیجہ حاصل کرنا ۔ ہر علم کی بنیاد ہے اور ان چیزوں کو حاصل کرنااغلب محنت و تکلیف کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

واضح ہے کہ تاریخی تحقیق کی قدروقیمت ، اس سلسلے میں انجام دی جانے والی تلاش و جستجوپر منحصر ہے ۔ لیکن یہ تلاش و کوشش بے لوث اور اخلاص پر مبنی ہونی چاہئے اور مورد بحث موضوع بھی مشخص اور یکساں طرز پر ہونا چاہئے ۔

۸

ان واضع روشن اور سادہ حقائق کے پیش نظر ہم آسانی کے ساتھ کہہ سکتے ہیں ۔کہ کتاب ''١٥٠ جعلی اصحاب ''قابل احترام کتابوں میں سے ایک ہے ۔ کیونکہ اس کتاب میں زیر بحث موضوعات کے انتخاب میں جس دقت ا ور باریک بینی کا خیال رکھا گیا ہے وہ طولانی اور عمیق کوششوں کا مظہر ہے ۔ اس میں انتہائی صبر و شکیبائی سے کام لیا گیاہے اور یہی تمام علمی بحث و تحقیق کا مقصد ہے۔

اس کے با وجود کہ اس کتاب نے اپنے اصلی مقصد کو صیغہ راز میں رکھا ہے ۔ ،لیکن اس کا موضوعبحث، تحقیق کرنے والے تمام لوگوں خواہ عرب ہوں یامستشرقین کے لئے ایک گراں قیمت و مستند علمی مآخذ و منبع ہے۔

اس کتاب کے مصنف جناب ''سید مرتضیٰ عسکری ''بغداد کے معروف علماء میں سے ہیں ۔ موصوف نے جو بحث اس کتاب میں شروع کی ہے ، حقیقت میں ان کی اس بحث کا سلسلہ ہے جو انہوں نے اپنی دوسری کتاب "عبداﷲ بن سبا"میں ذکر کیا ہے۔

مولف نے ان دو کتابوں میں "سیف بن عمر"نامی ایک مورّخ کا نام لیا ہے جس نے بنی امیّہ اور بنی عباس کی حکومت کو درک کیا ہے ۔ اس زمانے میں جب عالم اسلام میں کتابیں لکھنے کا رواج تھا،اس مورّخ نے بھی اسلام کی فتوحات اور لشکر کشیوں پر روشنی ڈالی ہے۔

اگرچہ سیف کی کتاب "فتوح" مفقود ہوگئی ہے اور اس وقت موجود نہیں ہے ۔لیکن اس میں لکھی گئی روایتیں اور تاریخی وقائع و روداد پوری کی پوری ان مشہور ،معروف اور معتبر منابع میں درج ہیں ،جنہوں نے سیف کی بات پر اعتبار کیا ہے اوران میں سب سے پیش قدم ''تاریخ طبری'' ہے۔

جناب عسکری نے اس بحث و تحقیق میں ثابت کیا ہے کہ سیف بن عمر، ایک جھو ٹ بولنے والا اور جھوٹ گڑھنے والا مورّخ تھا اور اس نے حوادث اور رودادوں کو اپنی خیالی دنیا میں خلق کیا ہے اور انھیں صحیح اور معقول دکھانے کے لئے ایک سلسلہ وار اغراض و مقاصد سے استفادہ کیا ہے جن کا اصل موضوع جس کی بناء پر اس قسم کی روداد تحریر کی گئی ہیں سے کوئی ربط نظر نہیں آتاہے ۔ ان علل و عوامل میں سے بعض حسب ذیل ہیں ۔

۹

١۔اموی حکام کی مصلحتوں کا تحفظ :

سیف نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسی حکومت کے دامن میں گزار اہے۔ اس کی داستانوں اور اس کی روایتوں میں بنی امیہ کی طرفداری اور ان کی مصلحتوں کا تحفظ واضع طور پر دکھائی دیتا ہے۔

٢۔قبیلۂ تمیم کے منافع کی رعایت :

سیف نے اس سلسلہ میں تعصب کا کمال دکھایاہے۔

اس نے اس تعصب کو سیف نے قبیلۂ تمیم کے نامدار اور معروف سرداروں اور بہادروں کی اسلام کی فتوحات میں دلاور یوں اور شجاعتوں کے کارناموں کی تشریح کرتے ہوئے منعکس کیا ہے۔

جناب عسکری کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ سب داستانیں سیف کے افسانے اور اس کے خیال کی تخلیق ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔

٣۔ اسلام کی تاریخ میں شبہہ ایجاد کرکے اس میں رخنہ ڈالنا :

مؤلف محترم نے اسے سیف کی زند یقیت کا نتیجہجانا ہے ۔

سیف نے اپنی داستانوں میں بہت سے چہروں کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کے طور پر خلق کیا ہے ۔ جنا ب عسکری کے شمار کے مطابق اس کے جعلی صحابیوں کی تعداد ١٥٠ تک پہنچی ہے ۔

اس کے علاوہ سیف نے اپنی داستانوں کے لئے راویوں کے طور پر بعض چہرے ، اماکن اور بہت سی جغرافیائی جگہیں خلق کی ہیں ۔ ان کا ، نہ صرف جغرافیہ کے نقشہ میں کوئی سراغ نہیں ملتا ہے بلکہ سرے سے گیتی پر ان کا وجود نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے بے شمار حوادث ،روداد اور وقائع بھی خلق کئے ہیں ۔

دانشمند محترم کی اس کتاب میں سیف بن عمر کے ٣٩ جعلی اصحاب اور خیالی پہلو انوں کے بارے میں مفصل بحث ، تحقیق و تجزیہ کیا گیا ہے۔ جناب عسکری کا پکا اعتقاد ہے کہ اس قسم کی وقائع میں ایسے چہروں کا ہرگز وجود نہیں تھا۔

۱۰

جناب عسکری کی یہ تحقیق درج ذیل نکات پر مشتمل ہے :

١۔سیف بن عمر اس قسم کی روایتوں کا تنہا مصدر و ماخذ ہے طبری نے ان روایتوں کو اس سے نقل کیا ہے اور اس کے بعد ابن "ابن " اثیر ، ابن کثیر اور ابن خلد وں نے ان ہی روایتوں کو طبری سے نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

طبری کے علاوہ چند گنے چنے مؤرخین کے پاس بھی سیف کی کتاب "فتوح "کے نسخے موجود تھے اور انہوں نے ان سے روایتیں کی ہیں ۔

لیکن جن مصادر میں سیف کی روایتوں پر اعتنا نہیں کیا گیا ہے اور ان سے مطلب نقل نہیں کیا گیا ہے ، ان میں اس کی یہ داستانیں ،دلاوریاں اور جعلی سورما وغیرہ دکھائی نہیں دیتے ۔ ان میں سیرت پر لکھی گئی کتابوں کے علاوہ بلا ذری کی تالیفات میں سیف کی داستانیں ،اس کے خلق کئے گئے پہلوان اور وقائع دکھائی نہیں دیتے ، بلکہ ان میں اس کی تحریف شدہ ، روایتیں ، وقائع اور تاریخی رودادیں دوسری صورت میں درج ہوئی ہیں ، جو سیف کی روایتوں کے بالکل مختلف ہیں ۔

طبری نے بھی تاریخی واقعات نقل کرنے میں صرف سیف کی روایتوں پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس نے دوسرے منابع سے ایسی روایتیں ، بھی نقل کی ہیں جو سیف کی روایتوں سے تناقض اور اختلاف رکھتی ہیں ۔

٢۔سیف نے اپنی روایتوں میں جن مآخذ کا سہارا لیا ہے ، وہ بذات خود اس کی روایتوں کے جعلی ہونے کی دلیل ہے ، کیونکہ جناب عسکری نے سیف کے راویوں کے بارے میں بحث و تحقیق کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے اکثر کا نام علم رجال کی کتابوں میں موجود نہیں ہے، یہی امران کے یقین کا سبب بنا ہے کہ اس قسم کے راوی سیف کے خیالات کی مخلوق ہیں اور حقیقت میں وجود نہیں رکھتے ہیں ۔

۱۱

٣۔ سیف کی اکثر جنگیں اور فتوحات ، تو ہمات اور خلاف معمول روداد وں پر مشتمل ہیں ۔ جیسے بعض جنگوں میں حیوانوں کا خاندان تمیم کے بعض سپہ سالاروں کے ساتھ فصیح عربی میں گفتگو کرنا ! واضح ہے کہ اس قسم کے مطالب علم ومنطق کی کسوٹی پر نہیں اترتے ، خواہ انہیں سیف نے کہا ہو یا کسی اور نے(۱)

ہم دیکھتے ہیں کہ سیف تعجب انگریز مطالب کو پیش کرتا ہے اور انہیں بڑی مہارت کے ساتھ آپس میں جوڑ تا ہے اور خلاف توقع نتیجہ حاصل کرتا ہے ۔ مثلاً ایک مضبو ط اور مستحکم قلعہ جو مسلسل دو سال تک

مسلمانوں کے کئی حملے اس کو فتح کرنے میں ناکام ہوئے تھے ، کسی فوجی حکمت عملی کے ذریعہ تسخیر کئے بغیر سیف نے دکھایا ہے کہ وہ قلعہ ایک دم اور مختصر وقت میں مسلمانوں کے ہاتھوں ایسے تسخیر ہوا کہ تمام لوگ ،حتی مسلمان سپاہی بھی حیرت اور تعجب میں پڑ گئے۔

یا یہ کہ سیف کہتا ہے ، ایک فوج میدان کا رزار کے فاتحوں کے مقابلے میں آخری لمحہ تک پائداری اور استقامت سے لڑی ۔ اپنے دشمن کے حملوں کو شجاعت کے ساتھ پسپا کیا ۔ اپنے مورچوں کا

____________________

١۔انبیائے کرام کے معجزات اس سے مستثنی ہیں ۔

۱۲

پوری طاقت کے ساتھ دفاع کیا۔ اور ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے، لیکن ، اچانک اسلام کے سپاہیوں کے ایک فوری حملے کے مقابلہ میں تاب نہ لاکر اپنی پائداری کو ہاتھ سے کھو بیٹھتی ہے اور اس کا شیرازہ بکھر جاتاہے !!

سیف کے نقطہ نظر کے مطابق جنگوں اور فتوحات میں مسلمانوں نے جو اکثر کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اسی قسم کے اتفاقات اور معجزات کی مرہوں منت ہیں ، جو جنگ کے دوران یا اس سے قبل واقع ہوئے تھے !

حوادث اور وقائع کے بارے میں اس قسم کے بیانات تاریخ لکھنے والوں کے لئے سیف کے جھوٹ اور جعلی روایتوں سے پردہ اٹھاتے ہیں اور ہر قسم کے تعصب سے بالا تر علم ومنطق کے ذریعہ سیف کو اپنیسرزنش کا نشانہ بناتے ہیں ۔

یہاں پر استاد عسکری کے لئے یہ امر ممکن بن جاتا ہے وہ زیر بحث موضوع کے بارے میں منابع و مصادر میں ضروری جانچ پڑتال اور تلاش و کوششوں کے بعد اس خطرناک تاریخ نویس پر آخری اور کاری ضرب لگائیں اور پوری مہارت اور حکمت عملی کے ساتھحیرت انگزیزطور سے سیف کی جعلی روایتوں کو دوسرے منابع سے جدا کر کے اسلامی تاریخ کے منابع کو اس دروغ گو سے آزاد کرانے میں کامیا ب ہو جائیں ۔

یہاں پر ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ، یہ کیسے ممکن ہو سکا ہے کہ سیف کے یہ کارنامے گزشتہ مورخین کے لئے پوشیدہ رہے ہوں ؟

۱۳

ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ: ایسا نہیں تھا کہ اس کام کے بارے میں گزشتہ مؤرخین بے خبر ہوں !خود طبری نے، جس نے دوسرے تاریخ نویسوں کی نسبت سیف کی کتاب پر زیادہ اعتماد کیاہے ،پوری طرح اس کی روایتوں ،جیسے " واقدی یا اپنے اسناد کے ذریعہ سیف کی روایتوں کی تردید کی ہے ۔ دوسرے مؤرخین اور سیرت لکھنے والوں نے بھی سیف کی کسی روایت کو نقل نہیں کیا ہے ، جیسے :

بلاذری ،جو اسلامی فتوحات کے بارے میں مطلق طور پر سب سے بڑا مؤرخ سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح یعقوبی، مسعودی اور دیگر لوگوں نے بھی سیف کی روایتوں کو کہیں سے بھی نقل کر کے اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے ۔

راوی شناس اور علم درایت کے ماہر بھی سیف کی ان کارستانیوں سے بے خبر نہیں رہے ہیں ۔ ان میں سے بعض نے واضح طور سے اس پر حملے کر کے اسے جھوٹ بولنے اور احادیث گڑھنے کا ملزم ٹھہرایا ہے۔

لیکن ان لوگوں کے لئے بھی اس حد تک تاریخی اہمیت اور احترام کے ، مالک ہونے کے باوجود اس کام کو اس طرح انجام تک پہنچانا ممکن نہیں تھا ، جس طرح جناب عسکری نے اسے انجام تک پہنچایا ہے ۔

مقالہ کے آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مؤلف محترم نے اصطلاح " افسانہ " (اسطورہ)کو پوری کتاب میں کافی جگہوں پر استعمال کیا ہے اور سیف کی بے بنیاد روایتوں کے لئے اس اصطلاح کا استعمال کیا ہے جبکہ میری نظر میں اس قسم کے مطلب کے لئے ایسی اصطلاح کا استعمال کرنے میں خاص توجہ اور کافی دقت کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ" افسانہ "ایسالفظ ہے جو آج کی دنیا کی علمی بحثوں میں گزشتہ زمانے کی بڑی جنگوں کے بارے میں استعمال ہوتا ہے ، کیوں کہ ان جنگوں کے واقع ہونے اوران کی سنسنی خیز رودادوں

۱۴

میں پریوں اور خدائوں کا براہ راست دخل ہوتا تھا ، جیسے بابلیوں اور یونا نیوں کے افسانے ، جنھیں انگریزی میں " متھ" (۱)کہاجاتا ہے ۔

ایک دوسری اصطلاح بھی انگیریزی میں "لبجنڈ " (۲) نام کی موجود ہے جو غیر عادی اور نا قابل یقین رودادوں کے لئے مخصوص ہے ۔ البتہ ایسی داستانوں میں پریوں اور خداوئں کی مداخلت کی بات

نہیں ہے ۔ اس قسم کی داستانوں کے نمونے " قدیسیں " اور اولیا ء وغیرہکی معجزاتی داستانوں میں پائے جاتے ہیں ، اور عرب محققین ابھی تک اس اصطلاح کے نعم البدل کے بارے میں کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے ہیں ۔ لیکن میں ترجیح دیتا ہوں کہ اس سلسلہ میں بجائے افسانہ "خرافہ"کی اصطلاح سے استفادہ کیا جائے تاکہ ان دو لفظوں کے اصلی معنیٰ ،جیسے کہ انگریز زبان میں اس کے لئے مشخص ہوئے ہیں محفوظ رہیں ۔

جب ہم سیف بن عمر کی تخلیقوں کو دیکھتے ہیں تو پاتیہیں کہ ان میں بڑی داستانوں اور خداوئں اور پریوں کی جنگوں کا رنگ و روپ نہیں پایا جاتا ہے،بلکہ یہ داستانیں بھاری اور آرام صورت میں ایک منظم تاریخی راستہ پر آگے بڈھتی نظر آتی ہیں اور اس لحاظ سے اس کی کتاب "فتوح" اسلوب اور روش کے مطابق تاریخ کی دوسری کتابوں سے مختلف نہیں ہے۔ اس لئے یہ صحیح نہیں ہے کہ اس کی روایتوں کو "افسانہ "کہا جائے کیونکہ جو حوادث اور بے شمار غیر معمولی واقعات سیف کی روایتوں میں ذکر ہوئے ہیں وہ ''افسانہ'' اور متھ خرافہ"یا انگریزی میں "لجنڈ( Legend ) "کے مفہوم سے نزدیک تر ہے۔

____________________

١۔ Myth

٢۔ Legend

۱۵

دوسری جانب سیف کی تمام روایات اور اخبار ، معجزات اور غیر عادی کارناموں پر مشمل نہیں ہیں ، بلکہ اس کے دوسرے جھوٹ بھی ایسی چیزوں پر مشتمل نہیں ہیں ۔

قدیم زمانے کے لوگوں نے بھی جھوٹی خبر کے لئے متعدد نام رکھے ہیں یہ نام کثرت استعمال کی وجہ سے اصطلاح کی صورت اختیار کر گئے ہیں ، جیسے : موضوع ومنحول یعنی ''جعلی اور بے بنیاد ''۔ لیکن میں اپنے آپ میں یہ صلاحیت محسوس نہیں کرتا کہ یہاں پر کسی خاص لفظ کو اس کی جگہ پر تجویز کروں البتہ اس مختصر فرصت میں جو کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے ایسے مباحث میں اصطلاحات استعمال کر نے میں کافی دقت اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ استاد محترم و ارجمندجناب سید مرتضیٰ عسکری ، خاص اور مناسب الفاظ کو اپنے علمی مباحث میں استعمال کرنے کے سلسلے میں دوسروں سے دانا اور آگاہ تر ہیں ۔

____________________

نوٹ : اس مقالہ کے بعض مطالب کے سلسلے میں مؤلف کا جواب اور نقطۂ نظر اسی کتاب کے آخر میں ملا حظ فرمائیں ۔

۱۶

اصحاب کو پہچاننے کا ایک طریقہ

سپہ سالاری

کتاب کے اس حصہ میں ہم سیف کے ایسے جعلی اصحاب کے حالات پر روشنی ڈالیں گے جنہیں مکتبِ خلفاء کے علماء نے صرف اس بناء پر کہ سیف نے اسلام کی فتوحات میں سردار اور سپہ سالار کی حیثیت سے ان کا نام لیا ہے ، انہیں پیغمبرخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حقیقی اصحاب قرار دیکر ان کے حالات پر روشنی ڈالی ہے اور انہیں اس عنوان سے درج کیاہے ۔

ابن "ابن " حجر اپنی کتاب " اصابہ " کے مقدمہ میں " صحابی کی تعریف" میں یوں لکھتے ہیں :

جو کچھ ہمیں صحابی کی پہچان کے سلسلے میں اپنے اسلاف سے مختصر اور یہاں وہاں سے ہاتھ آیا ہے ، اگر چہ وہ یقینی اور واضح نص نہیں ہے ، پھر بھی وہ مطلب ہے جسے " ابن "ابن " ابی شیبہ "(۱) نے ایک ناقابل اعتراض مآ خد سے نقل کر کے اپنی کتاب

____________________

١۔ ابوبکر ، عبداﷲ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان بن ابی شیبہ کوفی عبنسی (وفات ٢٣٥ھ)ہے ۔ انکی تصنیفات میں سے صرف تین حصے حیدر آباد دکن میں شائع ہوئے ہیں ۔

۱۷

''مصنف'' میں یوں درج ہے : صدر اسلام کے جنگوں میں رسم یہ تھی کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے طور پر منتخب نہیں کرتے تھے۔

یہ عالم ابن حجر اپنی کتاب کے دوسرے حصہ میں '' صحابی کو پہچاننے کا ایک راستہ'' کے عنوان کے تحت لکھتا ہے :

ایک قاعدہ موجود ہے جس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کا صحابی ہونا ثابت ہوتا ہے۔یہ قاعدہ تین علا متوں پر مشتمل ہے۔ ان تین علامتوں میں سے کسی ایک کی موجودگی کسی فرد میں موجود گی اس امر کے لئے کافی ہے کہ اس شخص پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی ہونے کا حکم لگایا جائے۔

ان میں پہلی علامت یہ ہے جسے ابن "ابن " ابی شیبہ نے ایک ناقابل اعتراض منبع سے نقل کر کے اپنی کتاب میں لکھاہے :

صدراسلام کے جنگوں میں رسم یہ تھی کہ صحابی کے علاوہ کسی اور کو سپہ سالار کے طور پر منتخب نہیں کیا جاتا تھا۔

اس کے بعد ابن "ابن " حجر اپنی بات کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے لکھتے ہیں :

اگر کوئی شخص اسلام کی جنگجوں اور فتوحات کی رودادوں اور روایتوں کی تحقیق اور جستجو کرے تو اسے اس قسم کے اصحاب کی بڑی تعداد ملے گی جن کا ہم نے اپنی کتاب کے ابتدائی حصہ میں ذکر کیا ہے ۔ (ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

ہم نے ابن "ابن " حجر کی اس روایت کے بارے تحقیق اور جستجو کرنے کا اراد کیا جسے اس نے ابن ابی شیبہ سے نقل کیا ہے اور ابن حجر اور اس کے ہم فکروں نے اس روایت کو صحابی کی پہچان کے لئے قطعی دلیل قرار دیکر اصحاب کے حالت پر تشریح و تفسیریں لکھی ہیں ، لیکن اس راستہ میں تمام تلاش و کوششوں کے باوجود اس روایت کے مصدر و مآخذکے طور پر سیف کے علاوہ کسی کو نہیں پایا ۔ اسی طرح تاریخ طبری اور تاریخ ابن عسا کرنے بھی یہی مطلب لکھا ہے ۔ یہ علماء سیف سے نقل کر کے لکھتے ہیں :

۱۸

١۔ جنگوں میں افسر اور سپہ سالارا صحاب میں سے منتخب ہوتے تھے ، مگر یہ کہ ان میں سے کوئی موجود نہ ہوتا ۔

٢ ۔طبری ایک اور روایت کے مطابق سیف سے نقل کرتا ہے :

''عمر بن محمد ''نے ''شعبی'' سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:

انہی دنوں ، جب خلیفہ ابوبکر نے ''خالد بن ولید و عیاض بن غنم '' کو ماموریت پر عراق بھیجا تھاتو انھیں لکھا تھا :

جن لوگوں نے مرتدوں سے جنگ کی اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اسلام پر باقی رہے، ان کی ایک فوج تشکیل دو۔اس فوج میں اور تمہارے ہمراہ کسی بھی مرتد کو جنگ میں شرکت نے کاتب تک حق نہیں ہے جب تک میرا حکم پہنچے۔

اس کے بعد شعبی اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے :

ابوبکر کی خلا فت کے زمانہ میں کسی مرتد نے جنگجوں میں شرکت نہیں کی ۔

٣۔مزید طبری سیف سے نقل کر کے اسی مأخذکے مطابق لکھتا ہے:

خلیفہ ابوبکر جب تک زندہ تھے ، کسی بھی جنگ میں مرتدوں سے مدد طلب نہیں کی ۔ لیکن خلیفہ عمر ان سے مدد لیتے تھے ، مگر ، انھیں کبھی سپہ سالار نہیں بناتے تھے ، مگر ایک مختصر تعداد کو یہ عہدہ سونپا ہے جن کی تعداد دس افراد یا اس سے کم تر تھی ۔ وہ صحابی کو سپہ سالا ر کے عہدہ پر انتخاب کرنے میں کبھی غفلت نہیں کرتے تھے ۔

۱۹

٤۔ اس نے ایک اور روایت میں سیف سے نقل کر کے لکھا ہے :

سب کہتے ہیں کہ ابو بکر نے ارتداد کے جنگوں ،عراق پر لشکر کشی اور ایرانیوں سے جنگ میں مرتدوں کے گروہ سے مدد طلب نہیں کی ہے۔ وہ مرتدوں سے سپاہی کی حیثیت سے تو کام لیتے تھے لیکن ان میں سے کسی ایک کو امیر یا سپہ سالارمنتخب نہیں کرتے تھے ۔ سیف نے اس مطلب کو متعدد روایتوں میں بیان کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی زبردست کوشش کی ہے کہ ابوبکر اور عمر کی خلافت کے زمانہ میں اسلام کے سپاہیوں کی کمانڈ ہمیشہ صحابی کے ہاتھ میں ہوتی تھی اور صحابی کے علاوہ کسی کو یہ عہدہ نہیں سونپا جاتاتھا ۔ لیکن یہ تمام حالات سیف کی مذکورہ روایتوں کے باوجود خلیفہ عمر کی طرف سے ''اِمرؤ القیس'' کی ''قضاعہ'' (۱)کے مسلمان پر حکومت جس نے اس سے پہلے ایک رکعت نماز بھی نہیں پڑھی تھی کے ساتھ واضع تناقص رکھتے ہیں ۔ درج ذیل داستان ملا حظہ فرمائیے:

ابوالفرج اصفہانی اپنی کتاب ''اغانی '' میں یوں لکھتے ہیں :

''اِمرؤ القیس '' نے عمر کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا ۔اور اس سے پہلے کہ اس

____________________

١۔ قضاعہ '' حیدان ، بہراء ، بلی اور جہینہ '' وغیرہ قبائل پر مشمل ایک بڑے قبائل کا مجموعہ ہے ۔ ابن "ابن " حزم نے اپنی کتاب انساب (٤٤٠۔۔٤٦٠) میں اس کی تشریح کی ہے ۔ اس کا مرکز پہلے ''شجر'' اس کے بعد ''نجران ''اور اس کے بعد شام میں تھا ۔ اس قبیلہ کی سرزمینوں کی حدود وسیع تھیں اور یہ شام ، عراق اور حجاز تک پہلی ہوئی تھی ۔ معجم القبائل العربیہ۔ لفظ قضاعہ (٢/٩٥٧) ملاحظہ ہو

۲۰