ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۴

ایک سو پچاس جعلی اصحاب0%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 273

ایک سو پچاس جعلی اصحاب

مؤلف: علامہ سید مرتضیٰ عسکری
زمرہ جات:

صفحے: 273
مشاہدے: 27207
ڈاؤنلوڈ: 986


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 273 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 27207 / ڈاؤنلوڈ: 986
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد 4

مؤلف:
اردو

حارث بن یزید عامری کا افسانہ :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٤٧٩)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' (٤/٨١۔٨٢)

٣۔ ''اصابہ '' ابن حجر (١/٢٩٥)

''ھیت'' اور ''قرقیسیا'' کی فتح ،حقیقی فاتحوں کے ہاتھوں :

١۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٥،٢٠٧۔٢٠٩،٢١٢)

٢۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ '' ھیت ''

عمر بن مالک بن عقبہ کے حالات :

١۔''اسدالعابہ'' ابن اثیر (٤/٨١۔٨٢)

عمر بن مالک بن عتبہ کے حالات:

١۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٤/٨١)

٢۔''اصابہ '' ابن حجر (٢/٥١٤)

عیاش بن ابی ربیعہ کے حالات:

١۔''استیعاب'' ابن عبدالبر ( ٢/٤٩٥) نمبر :٢٠٦٧

عمر بن عتبہ بن نوفل کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٨٢)

بنی زہرہ کانسب:

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (١٢٨۔١٣٥)

٢۔''نسب قریش '' (٢٦١۔٢٦٥)

ہم نے ان دو مصادر میں عمر بن مالک بن عتبہ یا عقبہ نام کا کوئی شخص نہیں پایا۔

۱۰۱

تیسرا حصہّ:

مختلف قبائل سے چند اصحاب

٦٧۔ عبداﷲبن حفص قرشی۔

٦٨۔ ابو حبیش عامری کلابی ۔

٦٩۔حارث بن مرہ جہنی۔

۱۰۲

٦٧ واں جعلی صحابی عبداﷲبن حفص قرشی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

عبداﷲ بن حفص بن غانم قرشی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب اورطبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم عبداﷲ بن حفص کے ہاتھ میں تھا اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوا ہے(ز)

ابن حجر کی مورد استتناد روایت '' تاریخ طبری '' میں سیف بن عمر سے( مبشرین فضیل اور سالم بن عبداﷲ) سے یوں نقل ہوئی ہے :

''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم پہلے ''عبداﷲ بن حفص بن غانم '' کے ہاتھ میں تھا جو قتل ہو گیا اس کے بعد یہ پرچم ابوحذیفہ کے آ زاد کئے گئے غلام ''سالم ''کے ہاتھ میں دیدیا گیا ۔

انہی مطالب کو ابن اثیر نے طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے ۔ ان کے علاوہ کسی اور مصدر میں عبداﷲ حفص کا نام دکھا ئی نہیں دیتا ہے:

حقیقت کیا ہے؟

بلا ذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان '' میں ،ذہبی نے ''تاریخ اسلام '' میں اورابن کثیر نے اپنی ''تاریخ ''میں لکھا ہے کہ ''یمامہ ''کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم ابو حذیفہ کے آزاد کئے ہوئے غلام ''سالم '' کے ہاتھ میں تھا ۔ مزید کسی اورکے نام کا ذکر تک نہیں کیاہے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے مصدر میں جس نے سیف روایت نقل نہ کی ہو عبداﷲ حفص کانام اور یمامہ کی جنگ میں اس کی شرکت کا اشارہ تک نہیں ملتا ہے ۔

۱۰۳

لیکن ابن حجر نے ''تاریخ طبری ''اور سیف کی کتاب ''فتوح '' کی طرف رجوع کر کے ''عبداﷲ حفص '' کے وجود پر یقین کر کے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تصور کیا ہے اور اس کے حالات کی اپنی کتاب ''اصابہ ''کے پہلے حصہ میں تشریح کی ہے ۔

علامہ ابن حجر نے مجبوری کے عالم میں اپنے اس تصور کے بارے میں اس دلیل پر تکیہ کیا ہے کہ ان دو بزرگواروں یعنی ''طبری ''اور سیف نے کہا ہے کہ '' یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پر چم ''عبداﷲ حفص ''کے ہاتھوں میں تھا۔

چونکہ ''عبداﷲ اور دوسرے مہاجرین ''قرشی ''تھے ، اس لئے اس نے ایسا سمجھا ہے کہ قرشیوں کہ رسم یہ تھی کہ جنگوں میں اپنے پرچم کو قرشی کے علاوہ کسی اورکے ہاتھ میں نہیں دیتے تھے !

ابن حجر نے عبداﷲ کے حالات بیان کرتے ہوئے آخر میں علامت (ز) لکھی ہے تاکہ اس کا اشارہ کرے کہ اس صحابی کے حالات پر روشنی ڈالنے میں اس نے دوسرے مصنفین کے مقابلے میں اصحاب کے حالات بیان کرنے میں اضافہ کیاہے !

عبداﷲحفص کے افسانہ کے راوی :

سیف نے اس افسانہ کے راوی کے طور پر ''مبشربن فضیل '' کا نام لیاہے ،اور طبری نے سیف کی پندرہ روایات اس راوی سے نقل کی ہیں ۔

ابن حجر اپنی دوسری کتاب ''لسان المیزان ''، جو راویوں کی پہنچان سے مخصوص ہے ،میں لکھتا ہے :

مبشربن فضیل سیف بن عمر کے فستائخ میں اوراس کی روایت کا ماخذ ہے ۔

لیکن علامہ ابن حجرکے نقطہ نظر کے بر خلاف ہم یہ کہتے ہیں کہ ''مبشربن فضیل ''اس قدر گمنام و مجہول نہیں ہے بلکہ وہ سیف کے خیالی اور فرضی راویوں کی ایک طولانی صف میں کھڑا اس انتظار میں ہے کہ سیف کس افسانے کو اس کی زبان سے جاری کر تا ہے !!

۱۰۴

عبداﷲ کے افسانہ کانتیجہ:

١۔سیف نے اس افسانہ میں ایک قرشی و مہاجر صحابی کو خلق کیا ہے تاکہ مہاجرین کے پرچم کو یمامہ کی جنگ میں اس کے ہاتھ میں تھمائے اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوکر تمیمیوں کے افتخارات کی تعداد کو بھی بڑھادے ۔

٢۔ سیف نے عبداﷲ حفص کو اکیلے ہی خلق کیا ہے تاکہ طبری اس سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کرے ۔ سرانجام ابن حجر نے ''عبداﷲحفص '' نامی ایک قرشی صحابی کو پانے میں سیف کی کتاب ''فتوح '' اور ''تاریخ طبری '' کو اپنے لئے ایک معتبر اور قابل اعتماد راہنما قرار دیا ہے، اور اپنے اس مطلب کے آخر پر علامت (ز) لکھ کر مشخص کرتا ہے کہ اس نے اس صحابی کے حالات دوسرے تذکرہ نویسوں پراضافہ کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

عبداﷲ حفص کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٢٨٢) حصہ اول نمبر : ٤٦٣٠

٢۔ ''تاریخ طبری '' (١/١٩٤٥)

٣۔ تاریخ ابن اثیر( ٢/٢٧٦)

جنگ '' یمامہ '' میں مہاجرین کاحقیقی پر چمدار:

١۔''فتوح البلدان'' بلاذری

٢۔''تاریخ اسلام'' ذہبی

٣۔تاریخ ابن کثیر (٦/٣٢٦)

۱۰۵

مبشر بن فضیل کے حالات:

١۔ ''لسان المیزان'' ابن حجر(٥/١٣)

٦٨واں جعلی صحابی ابو حبیش

اس صحابی کے بارے میں ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں یوں آیا ہے :

ابوحبیش بن ذی ا للّحیہ عامری کلابی :

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ خالدبن ولید جب عراق میں داخل ہونے کے بعد معروف صحابیوں کو مختلف علاقوں کے حکمران کے طورپر منتخب کر رہا تھا ، تو اس نے ابو حبیش کو ''ہوازن'' کے لئے مأمور کیااوروہاں کی حکومت اسے سونپی ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی ''استئعئیاب '' سے دریافت کیاہے ۔

ابو حبیش کا نسب

سیف نے اس صحابی کو قبائل مضر کے بنی عامر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر'' سے خلق کیا ہے

ابن حزم نے اس طائفہ کے نسب کو اپنی کتاب ''جمھرہ انساب '' میں درج کیا ہے ۔لیکن اس میں سیف کے اس دلاور صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا!

لیکن ''ذولحیہ کلابی '' کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کانا م ''شُریح بن عامر '' تھا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کانام ''ضحاک بن قیس '' تھا ۔ اس سے روایت نقل کی گئی ہے کہ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا:

۱۰۶

کیا انجام دئے گئے کام کو دوبارہ شروع کریں ؟رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

ہر شخص ایک کام کے لئے خلق ہوا ہے!

بغوی نے کہا ہے :

میں اس حدیث کے علاوہ اس سے کسی اورچیز کے بارے میں مطلع نہیں ہوں !

علماء نے صرف اسی ایک روایت پر اعتماد کر کے ''ذولحیہ ''کو بھی صحابی جان کر اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے

ہم نہیں جانتے ہیں کہ '' ذو لحیہ '' کی انکشاف کی گئی یہ حدیث ۔جس پر استناد کر کے اس کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔کس قدر صحیح اورقابل اعتبار ہے !! لیکن بالفرض اس حدیث کے صحیح ہونے اور ''ذولحیہ ''نام کے کسی شخص کے حقیقی طور پر موجود ہونے کی صورت میں بھی کیا سیف اس حدیث اوراس نام کے کسی شخص سے روبرو ہوا ہے اور ابوحبیش کو اس سے جوڑا ہے؟ یہ ایسا مسئلہ ہے اور ابھی تک معلوم نہ ہو سکا ۔(۱)

____________________

١۔ ''ذولحیہ '' نام کے شخص کے صحیح اور موجود ہونے کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کے لئے دسیوں مصادر پر اسلام میں چھان بین کرنیکی ضرورت ہے جو اسوقت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے ۔

۱۰۷

ابو حبیش کی حدیث پر ایک بحث:

ہم نے ''تاریخ طبری '' میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو اس پر دلالت کرتی ہو کہ خالد بن ولید نے ابوحبیش نامی کسی شخص کو ''ہوازان '' کی مأموریت سونپی ہو ۔لیکن جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل کر کے ذکر کیا ہے کہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دوسرے ایلچیوں کے ضمن میں '' نعیم بن مسعود اشجعی''کو ''ابن ذولحیہ ''اور ''ابن مشیمصۂ جُبیری '' کے پاس بھیجا اورانھیں پیغمبری کے مدعی''اسودعنسی'' سے جنگ کر کے اسے کچل دینے کی ترغیب دی ہے ۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ ''ابن ذولحیہ '' وہی زیربحث '' ابو حبیش ہے یا یہ کہ سیف نے اس نام کے دوشخص خلق کئے ہیں ۔

اور یہ بھی معلوم نہیں کہ سیف نے ابوحبیش کے نام کو '' ابو حبیش بن مطلّب قرشی ''سے لیا ہے یا نہیں ۔بلاذری نے جو ''انساب الاشراف'' میں کہا ہے اس کے مطابق اسی ابو حبیش بن مطّلب کے بیٹے ''سائب '' نے ابو سفیان کی بیٹی ''جویریہّ '' سے شادی کی ہے ۔ یایہ کہ یوں ہی سیف کے ذہن میں ایسا نام آیا ہے اور اس نے اسے اپنے جعلی صحابی کے لئے منتخب کیا ہے ۔

لیکن یہ واضح ہے کہ ''جبیش بن دلجہ قینی '' جس کا نام تاریخ طبری اور تاریخ یعقوبی میں آیا ہے سیف کے جعلی ''ابو حبیش عامری کلابی ''سے جدا ہے ۔کیونکہ دیگر بہت سے اختلافات اختلاف پہلا ''بنی قضاعہ ''سے ہے اور دوسرا (جعلی )''عامری کلابی '' ہے ۔

مصادرو مآخذ

ذولحیہُ کلابی کے حالات:

١۔''اصابٔہ'' ابن حجر (١/٤٧٥)

٢۔''استیعاب ابن '' عبدالبر ''اصابہ '' کے حاشیہ پر ( ١/٤٧٦) کہ اسے بصرہ کا باشندہ جاناہے ۔

٣۔''تاریخ بخاری'' (١/٢٦٥) ۔حصہ اول نمبر : ٩٠٩

٤۔''تقریب التہذیب '' ( ١/٢٣٨) ۔ اس میں آیا ہے کہ ''ابو داؤد ''نے اس کی حدیث کو ''قدر ''میں درج کیا ہے ۔

٥۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٢/١٤٤)

۱۰۸

ذولحیہ کا نسب:

١۔''جمہرۂ انساب'' ابن حزم (٢٨٢)

٢۔''تاریخ طبری'' (ا/١٧٩٩)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (٤/٣٦) نمبر:٢١٢

٤۔''انساب الاشراف'' بلاذری (١/٤٤٠)

حبیش بن دلجہ ٔ قینی کے حالات:

١۔تاریخ طبری (٢/٥٧٨ و ٥٧٩ و ٦٤٢)

٢۔ تاریخ یعقوبی طبع ''دارصادر'' (٢٥١۔ ٢٥٢)

ذولحیہ کلابی'شریح بن عامر یا ضحاک بن قیس کے حالات:

١۔''تہذیب التہذیب'' (٣/٢٢٣) شرح حال : ٤٢٦

٢۔حدیث ذولحیہ تاریخ بخاری میں ذکر ہوئی ہے ۔

۱۰۹

٦٩واں جعلی صحابی حارث بن مرّہ

ابن حجر نے اس صحابی کا یوں تعارف کرایاہے :

حارث بن مرّہ جہنی:

سیف بن عمرنے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہاہے کہ خالد بن ولید ابوبکرکی خلافت کے زمانے میں جب خلیفہ کے حکم سے عراق پر لشکر کسی کی تیاری کر رہا تھا ، ''تو اس نے حارث بن مرّ، جو ایک دلاور صحابی شمار ہوتا تھا ، کو اپنی فوج کے قضاعیان کے دستے کی سپہ سالاری سونپی ۔

سیف نے '' ارطاة بن ابی ارطاة نخعی '' سے اس نے ''حارث بن مرہ'' سے اور اس نے ''ابو مسعود ''سے بھی ایک روایت نقل ہے ۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کا نسب :

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو ''جہنی '' مشہور کیا ہے اور یہ قبائل قضا عہ کے '' جہنیہ ''

سے ایک نسبت ہے ۔

ابن حزم نے اپنی کتاب ''انساب ''میں ''جہنیہ ''نام کے بعض اہم شخصیات کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔ لیکن سیف کے اس دلاور اور بلند مرتبہ صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ۔

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو قضا عہ میں ایک بلند مقام دلانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے ہیں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث کی بھی اس سے نسبت دی ہے کہ ہم نے ایسے مطالب صرف ابن حجر کی ''اصابہ ''میں دیکھے ۔

۱۱۰

''حارث بن مرہ ''کی روایت ان روایتوں میں سے ہے کہ طبری نے اسے سیف کی کتاب سے اپنی کتاب میں درج کرنے سے پرہیز کیا ہے، اور سیف کی روایت کا مصدر و مأ خذ معلوم نہیں ہے کہ ہم اس کی تحقیق کرتے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف نے اپنے افسانوی صحابی کانام یا ''حارث بن مرة عبدی''سے لیا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اسے صفین کی جنگ میں اپنی پیدل فوج کے میسرہکے دستے کاکمانڈر مقرر فرمایا تھا اور وہ ٤٦ھ میں سرزمین ''قیقان ''میں قتل ہوا ہے، اور یا یہ کہ ''حارث بن مرہ فقعسی '' سے لیاہے کہ امام علیہ السلام نے اسے خبر لانے کے لئے خوارجکے درمیان بھیجا تھا اور خوارج نے اسے قتل کر ڈ الا(۱)

پہلی صورت میں عبدی ربیعة بن نزارکے عبدالقیس'' سے ایک نسبت ہے ۔

اور دوسری صورت میں فقعسی' اسد بن خزیمہ کے پوتے (فقعس بن دودان) کی طرف نسبت ہے۔

لیکن سیف نے اپنے صحابی کو قبائل قفعاعہ کے (جہینہ) سے جعل کیا ہے اور اسے ان لوگوں پر حاکم بنایا ہے۔ پس یہ حارث نہ عبدی ہے نہ فقعسی بلکہ صرف سیف کی خیالی مخلوق ہے اور اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔

____________________

١) طبری نے اپنی تاریخ (١/٣٣٧٥) اور مسعودی نے ''مروج الذھب '' (٢/٤٠٤) میں لکھا ہے : خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والا حارث ،عبدی ہے ،فقعسی نہیں ہے ۔ دونوں سے زبردست غلطی ہوئی ہے ۔کیونکہ خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والافقعسی تھا ۔

۱۱۱

مصادر و مأخذ

حارث بن مرۂ جہنی کے حالات :

١۔ ''اصابۂ بن حجر (١/٢٩٠)

خاندان جہینہ کانسب :

١۔ ''جمہرۂ انساب '' ابن حزم (٤٤٤۔٤٤٥)

حارث بن مرہ عبدی کی داستان اور صفین کی جنگ میں اس کی شرکت :

١۔ کتاب ''صفین '' نصرمزاحم (٢٠٥)

٢۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٧١)

٣۔ ''تاریخ '' خلیفہ بن خیاّط (ا/ا١٣) کہ اس کے ہندوستان کی جنگ میں شرکت کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔

٤۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ ''قیقان '' (٥٣١ )

٥۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٧)

حارث بن مرۂ فقعسی کی داستان :

١۔ ''اخبار الطوال '' دینوری (٢٠٧)

۱۱۲

چوتھا حصہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصر ہونے کے سبب اصحاب

اس گروہ میں سیف کے خیالی کردار حسب ذیل ہیں :

٧٠۔قر قرہ یا قرفتہ بن زاہر تیممی وائلی

٧١۔ نائل بن جعشم ،ابو نباتہ تیمی اعرجی

٧٢۔ سعد بن عمیلہ فزاری

٧٣۔ قریب بن ظفر عبدی

٧٤۔ عامر بن عبدالاسد ، یا عبدالاسود

۱۱۳

سترواں جعلی صحابی قرقرہ یا قرفتہ بن زاہر

اصحاب کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالنے والی کتابوں میں ہمیں ایسے چہرے بھی ملتے ہیں ، جنھیں مصنف نے صرف اس سبب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے صحابیوں میں شامل کیا ہے کہ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمعصر تھے ۔ ان کے بارے میں ''لہ اِدراکُ'' کی قید لگا کر ان کے حالات لکھے گئے ہیں !

کتاب کے اس حصہ میں ہم سیف کے اس قسم کے جعلی اصحاب کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور نمونہ کے طور پر ایسے چند اصحاب کا تعارف کرتے ہیں

مذکورہ صحابی کے حالات کی تشریح میں ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں یوں لکھا ہے :

وہ ان اشخاص میں سے ہے جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔

سیف بن عمر اور طبری نے اسے من جملہ ان افراد میں شمار کیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے اسے ''رستم فرخ زاد ''کی خواہش کے مطابق ا س سے مذاکرہ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استیعاب ''سے درک کیا ہے۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کو ''تیمی پہنچوایاہے ،جبکہ سیف کی روایت کے مطابق ''تاریخ طبری ''میں ''تیمی وائلی '' اور طبری کے بعض نسخوں میں ''وابلی '' لکھا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب قبائل میں بہت سے ایسے خاندان اور گروہ پائے جاتے ہیں جنھیں ''تیمی ''اور ''وائلی ''شہرت حاصل ہے ،البتہ ہم نہ سمجھ سکے کہ سیف نے اپنے اس صحابی کو ان میں سے کس قبیلہ سے خلق کیا ہے ۔

اگر سیف نے ''قر قرہ '' کو قبیلہ ''والبی'' سے بھی خلق کیا ہوگا تووہ بھی ''بنی اسد کے والبہ بن حارث ''کی اولاد ہیں ۔ اس صورت میں یہ احتمال ممکن ہے کہ لفظ تیمی اس کی کتاب کے نسخہ برداروں کے ذریعہ غلطی سے لکھ دیا گیا ہے۔

۱۱۴

سعد وقاص کی مجلس ِ مشاورت:

طبری نے قادسیہ کی جنگ کے وقائع اور اتفاقات کے ضمن میں لکھا ہے :

سعد وقاص نے مندرجہ ذیل افراد کو جو سب زیرک اور دانا عرب تھے کو سپہ سالار اعظم کے خیمہ میں جمع ہونے کا حکم دیا :

١۔ مغیرة بن شعبہ

٢۔بسر ابن ابی رُھم

٣۔ عرفجتہ بن ہر ثمہ

٤۔حذیفتہ بن محصن

٥۔ربعی بن عامر

٦۔قرفتہ بن زاہر تیمی وائلی

٧۔مذعور بن عدی عَجَلی

٨۔مضارب بن یزید عجلی

٩۔معبد بن مرّہ عجلی ۔

جب سب لوگ کمانڈر انچیف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سعد نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو ان ایرانیوں کے پاس بھیجوں ۔تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

سب نے جواب دیا :

ہم صرف آپ کے حکم کی اطاعت کریں گے اور اس سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جس میں آپ کا واضح حکم موجود نہ ہوتواس صورت میں جس چیز کو شائستہ ترین تشخیص دیں گے ،اسی پر عمل کریں گے ۔سیف کہتا ہے اس دوران ربعی نے اپنا نقطئہ نظر یوں بیان کیا :

اگر ہم اجتماعی طور پر ان کے پاس جائیں گے تو وہ خیال کریں گے کہ ہم نے انھیں قابل قدر اور معززجانا ہے ۔لہذا یہ ہے کہ ہر بار ہم میں صرف ایک شخص ان کے پاس جائے اورکوئی دوسرا اس کے ساتھ نہ ہو۔

۱۱۵

سعد نے اس نظر یہ کو قبول کیا اور ربعی کو پہلے قاصد کے عنوان سے منتخب کیا۔

سپہ سالار اعظم کے حکم کی تعمیل ،میں سعد کے پہلے سفیر کے عنوان سے ر بعی نے ''رستم فر خ زاد'' کے خیمہ کا رخ کیا اور ....(یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

جب رستم کمانڈر انچیف کے خیمہ میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا ، تو ربعی نے سوار حالت میں اپنے گھوڑے کو کمانڈر انچیف کے خیمہ میں بچھے ہوئے قالینوں پر دوڑایا اور کچھ چلنے کے بعد دو پشتی کو اٹھا کرگھوڑے کی لگام کو مضبوطی کے ساتھ ان سے باندھا۔

اس کے بعد نیزے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے اور اس کی نوک کو فرش اور تکیوں چبھوتے ہوئے اور ان میں سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔

اس طرح چلتے ہوئے کوئی قالین یا تکیہ ربعی کے نیز کی نوک کی ضرب سے نہ بچ سکا جو کچھ راستے میں آتا اسے پھاڑتے اور سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوا ایرانیوں کے کمانڈر انچیف رستم کے تخت کے نزدیک پہنچا ۔ وہاں پر محافظوں نے مزاحمت کی تو وہ بھی وہیں پر زمین پر بیٹھ گیا اور نیزہ کو زور سے فرش پر مار کے نصب کیا اور...... (یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

دو سر ے دن ایرانیوں نے سعد کو پیغا م بھیجا کہ اسی کل والے شخض کو ان کے پا س بھیجے۔لیکن سعد نے اس بار حز یفہ بن محصن کو بھیجا۔حذ یفہ کے خیمہ میں جا تے وقت موبمو ربعی کی ر فتار کی تکرار کی۔ تیسرے دن ایرانیوں نے سعد سے کہا کہ کسی اور کو بھیجے۔ اس بار سعد نے ''مغیرة بن شعبہ '' کو بھیجا ۔۔۔(داستان کے آخرتک)!

بے شک طبری نے بڑی تکلیف اٹھا کر سیف کے حق میں انتہا ئی عقیدت دکھائی ہے اورسیف کی دوروایتوں میں ذکر ہوئی اس سراپا مضحکہ اور مذاق پر مبنی داستان کو اپنی کتاب ۔تاریخ کبیر کے آٹھ صفحوں پر درج کیا ہے ! جبکہ اس افسانہ سے پہلے اسی موضوع کی ایک دوسری نقل کر کے اپنی کتاب کے دو صفحوں کو زینت بخشی ہے !!

۱۱۶

سفیروں کی داستان کے راویوں کی پڑتال :

سیف نے اپنی داستان کے راویوں کے طور پر مندرذیل ناموں کا ذکر کیاہے :

١۔نضر نے رفیل سے یعنی سیف کے ایک جعلی راوی نے سیف کے ہی دوسرے جعلی راوی سے !

٢۔ محمد ،یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٣۔زیاد یازیاد بن سرجس احمری ۔اس سے پہلے ہم نے بارہا کہاہے کہ یہ سیف کی خیالی راوی ہیں

٤۔ چند دوسرے نامعلوم اور بے نام افراد

سفیروں کی حقیقی داستان:

ابن اسحاق اور طبری نے بھی اپنی تاریخ میں سعد وقاص کے رستم فرخ زاد کے پاس سفیر بھیجنے کی روایت کو یوں بیان کیا ہے :

جب رستم نے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ مسلمانوں کے مقابلے میں پہنچ کر خیمے لگادئے ' توسعدوقاص کو ایک پیغام بھیجا اور اس سے تقاضا کیا کہ کسی تجربہ کار اوردانا شخص کو اس کے پاس بھیجے تاکہ وہ اس سے گفتگو کرے ۔رستم کے درخواست کے جواب میں ''مغیرة بن شعبہ ''کا انتخاب کیا گیا اور اسے رستم سے ملاقات کرنے پر مأ مور کیا گیا....

داستان کے آخر تک جو مفصل ہے ، اس میں کہیں اس بیہودہ رفتار کا ذکر نہیں ہے ۔

یہ داستان تقریباً اسی مضمون میں بلاذری کی ''فتوح البلدان''اور دینوری کی ''اخبار الطوال''

میں بھی درج ہوئی ہے ۔

۱۱۷

بحث کا نتیجہ:

سیف تنہا شخص ہے جس نے نو ہوشیار اور عقلمندعربوں کے ساتھ سعدوقاص کے مشاورتی جلسہ جن میں اس نے اپنے قرقرة یا قرفئہ کو بھی شامل کیا تھا ،کی روایت نقل کی ہے ۔

وہ تنہا شخص ہے جس نے ان مشیروں میں سے تین اشخاص کی رستم سے گفتگو کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک کو ''مغیرة بن شعبہ '' شمار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سعد کے سفیروں پر بیہودہ اور غیر عاقلانہ رفتار کی تہمت لگاتا ہے ! سیف تنہا شخص ہے جس نے اس داستان کو آب و تاب کے ساتھ بیان کر کے ایسے راویوں کے ذریعہاسکی تشریح کی ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ اورسرانجام طبری جیسے تاریخ لکھنے والے علماء نے اسے من وعن اپنی معتبر و گراں قدر تاریخ کی کتاب میں سیف سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

جب ابن حجر کی باری آتی ہے تو وہ بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے اس کے'' قر قرہ'' کورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔

اور عبارت ''لہ ادراکُ'' کی قید لگا کر اس کا صحابی ہونا ثابت کرتا ہے اور اپنے کلام کے آخر میں حرف ''ز''درج کر کے اعلان کر تا ہے کہ اس صحابی کے حالات کی تشریح کر کے اس نے دوسرے تذکرہ نگاروں پر اضافہ کیاہے ۔

دوسری طرف سے یعقوبی (۱) ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے علماء نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کرکے خلا صہ کے طور پر اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

____________________

١۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یعقوبی نے اس داستان کا خلاصہ بلاواسطہ سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح سے نقل کیا ہو۔

۱۱۸

مصادر و مآ خذ

قر قرہ بن زاہر کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٢٥٧) نمبر: ٧٢٨٤

''والبی ''کا نسب:

١۔جمہرہ''انساب'' ابن حزم (١٩٤)

٢۔''نہایتہ الارب'' قلقشندی (٤٠٣)

سعد وقاص کے سفیروں کے بارے میں سیف کی روایت:

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٦٩۔٢٢٧٧)

٢۔''تاریخ ابن اثیر''(٢/٣٥٧۔٣٦٠)

٣۔''تاریخ ابن کثیر '' (٧/٣٩۔٤٠)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٣٢١٢۔٣٢٢)

٥۔''تاریخ یعقوبی '' (٢/١٤٤)

حقیقی داستان اور ''مغیرة بن شعبہ '' کاسعد کے سفیر کی حیثیت سے جانا :

١۔''تاریخ طبری '' ( ١/٢٣٥١)

٢۔''فتوح البلدان '' بلاذری (٣٥١)

٣۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٢٠)

۱۱۹

٧١واں جعلی صحابی ابوُنُبا تہ نائل

یہ صحابی ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' کے اس حصہ میں درج میں کیا گیا ہے جو ''مخضرمین '' سے مخصوص ہے ۔

مخضرمین '' ان اصحاب کو کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ عصر جاہلیت میں دوسرا آدھا حصہ عصرِ رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوراسلام کے دامن میں گزاراہو۔

ابن حجر نے اس صحابی کو یوں پہچنوایا ہے :

ابو نباتہ نائل اعرجی :

کتاب ''فتوح'' میں سیف کے کہنے کے مطابق اس صحابی نے عصرِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درک کیا ہے اور عراق کی جنگ میں براہ راست شرکت کی ہے ۔

نائل نے ایرانی پہلوان شہر یار کے ساتھ دست بدست لڑائی میں اس پر غلبہ پایا اوراسے موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس کا قیمتی لباس اور دست بند غنیمت کے طور پر لے لئے۔

نائل پہلا عربی شہسوار ہے جس نے ہاتھ میں دست بند پہنا ہے !

(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف بن عمر نے اپنے اس صحابی کو ''اعرجی ''خلق کیا ہے ۔

کہ یہ ،''اعرج ،حارث بن کعب بن سعد بن زید مناةبن تمیم '' سے نسبت ہے ۔

لہذا معلوم ہوا کہ یہ دلیرسوار ، شہر یا ر کو مارنے والا عرب ،ایرانی دلاوروں کے لباس اور قیمتی دست بند کوغنیمت میں لینے والا سردار اور شجاع تمیمی اورسیف کا ہم قبیلہ ہے !

۱۲۰