ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۴

ایک سو پچاس جعلی اصحاب21%

ایک سو پچاس جعلی اصحاب مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 273

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 273 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 123633 / ڈاؤنلوڈ: 4389
سائز سائز سائز
ایک سو پچاس جعلی اصحاب

ایک سو پچاس جعلی اصحاب جلد ۴

مؤلف:
اردو

1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

حارث بن یزید عامری کا افسانہ :

١۔ ''تاریخ طبری '' (١/٢٤٧٩)

٢۔''تاریخ ابن اثیر'' (٤/٨١۔٨٢)

٣۔ ''اصابہ '' ابن حجر (١/٢٩٥)

''ھیت'' اور ''قرقیسیا'' کی فتح ،حقیقی فاتحوں کے ہاتھوں :

١۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٥،٢٠٧۔٢٠٩،٢١٢)

٢۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ '' ھیت ''

عمر بن مالک بن عقبہ کے حالات :

١۔''اسدالعابہ'' ابن اثیر (٤/٨١۔٨٢)

عمر بن مالک بن عتبہ کے حالات:

١۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٤/٨١)

٢۔''اصابہ '' ابن حجر (٢/٥١٤)

عیاش بن ابی ربیعہ کے حالات:

١۔''استیعاب'' ابن عبدالبر ( ٢/٤٩٥) نمبر :٢٠٦٧

عمر بن عتبہ بن نوفل کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٨٢)

بنی زہرہ کانسب:

١۔''جمہرہ انساب '' ابن حزم (١٢٨۔١٣٥)

٢۔''نسب قریش '' (٢٦١۔٢٦٥)

ہم نے ان دو مصادر میں عمر بن مالک بن عتبہ یا عقبہ نام کا کوئی شخص نہیں پایا۔

۱۰۱

تیسرا حصہّ:

مختلف قبائل سے چند اصحاب

٦٧۔ عبداﷲبن حفص قرشی۔

٦٨۔ ابو حبیش عامری کلابی ۔

٦٩۔حارث بن مرہ جہنی۔

۱۰۲

٦٧ واں جعلی صحابی عبداﷲبن حفص قرشی

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کا یوں تعارف کرایا ہے :

عبداﷲ بن حفص بن غانم قرشی :

سیف بن عمر نے اپنی کتاب اورطبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم عبداﷲ بن حفص کے ہاتھ میں تھا اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوا ہے(ز)

ابن حجر کی مورد استتناد روایت '' تاریخ طبری '' میں سیف بن عمر سے( مبشرین فضیل اور سالم بن عبداﷲ) سے یوں نقل ہوئی ہے :

''یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم پہلے ''عبداﷲ بن حفص بن غانم '' کے ہاتھ میں تھا جو قتل ہو گیا اس کے بعد یہ پرچم ابوحذیفہ کے آ زاد کئے گئے غلام ''سالم ''کے ہاتھ میں دیدیا گیا ۔

انہی مطالب کو ابن اثیر نے طبری سے نقل کر کے اپنی تاریخ میں ثبت کیا ہے ۔ ان کے علاوہ کسی اور مصدر میں عبداﷲ حفص کا نام دکھا ئی نہیں دیتا ہے:

حقیقت کیا ہے؟

بلا ذری نے اپنی کتاب ''فتوح البلدان '' میں ،ذہبی نے ''تاریخ اسلام '' میں اورابن کثیر نے اپنی ''تاریخ ''میں لکھا ہے کہ ''یمامہ ''کی جنگ میں مہاجرین کا پرچم ابو حذیفہ کے آزاد کئے ہوئے غلام ''سالم '' کے ہاتھ میں تھا ۔ مزید کسی اورکے نام کا ذکر تک نہیں کیاہے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی ایسے مصدر میں جس نے سیف روایت نقل نہ کی ہو عبداﷲ حفص کانام اور یمامہ کی جنگ میں اس کی شرکت کا اشارہ تک نہیں ملتا ہے ۔

۱۰۳

لیکن ابن حجر نے ''تاریخ طبری ''اور سیف کی کتاب ''فتوح '' کی طرف رجوع کر کے ''عبداﷲ حفص '' کے وجود پر یقین کر کے اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا صحابی تصور کیا ہے اور اس کے حالات کی اپنی کتاب ''اصابہ ''کے پہلے حصہ میں تشریح کی ہے ۔

علامہ ابن حجر نے مجبوری کے عالم میں اپنے اس تصور کے بارے میں اس دلیل پر تکیہ کیا ہے کہ ان دو بزرگواروں یعنی ''طبری ''اور سیف نے کہا ہے کہ '' یمامہ '' کی جنگ میں مہاجرین کا پر چم ''عبداﷲ حفص ''کے ہاتھوں میں تھا۔

چونکہ ''عبداﷲ اور دوسرے مہاجرین ''قرشی ''تھے ، اس لئے اس نے ایسا سمجھا ہے کہ قرشیوں کہ رسم یہ تھی کہ جنگوں میں اپنے پرچم کو قرشی کے علاوہ کسی اورکے ہاتھ میں نہیں دیتے تھے !

ابن حجر نے عبداﷲ کے حالات بیان کرتے ہوئے آخر میں علامت (ز) لکھی ہے تاکہ اس کا اشارہ کرے کہ اس صحابی کے حالات پر روشنی ڈالنے میں اس نے دوسرے مصنفین کے مقابلے میں اصحاب کے حالات بیان کرنے میں اضافہ کیاہے !

عبداﷲحفص کے افسانہ کے راوی :

سیف نے اس افسانہ کے راوی کے طور پر ''مبشربن فضیل '' کا نام لیاہے ،اور طبری نے سیف کی پندرہ روایات اس راوی سے نقل کی ہیں ۔

ابن حجر اپنی دوسری کتاب ''لسان المیزان ''، جو راویوں کی پہنچان سے مخصوص ہے ،میں لکھتا ہے :

مبشربن فضیل سیف بن عمر کے فستائخ میں اوراس کی روایت کا ماخذ ہے ۔

لیکن علامہ ابن حجرکے نقطہ نظر کے بر خلاف ہم یہ کہتے ہیں کہ ''مبشربن فضیل ''اس قدر گمنام و مجہول نہیں ہے بلکہ وہ سیف کے خیالی اور فرضی راویوں کی ایک طولانی صف میں کھڑا اس انتظار میں ہے کہ سیف کس افسانے کو اس کی زبان سے جاری کر تا ہے !!

۱۰۴

عبداﷲ کے افسانہ کانتیجہ:

١۔سیف نے اس افسانہ میں ایک قرشی و مہاجر صحابی کو خلق کیا ہے تاکہ مہاجرین کے پرچم کو یمامہ کی جنگ میں اس کے ہاتھ میں تھمائے اور وہ اسی جنگ میں قتل ہوکر تمیمیوں کے افتخارات کی تعداد کو بھی بڑھادے ۔

٢۔ سیف نے عبداﷲ حفص کو اکیلے ہی خلق کیا ہے تاکہ طبری اس سے نقل کر کے اپنی کتاب میں درج کرے ۔ سرانجام ابن حجر نے ''عبداﷲحفص '' نامی ایک قرشی صحابی کو پانے میں سیف کی کتاب ''فتوح '' اور ''تاریخ طبری '' کو اپنے لئے ایک معتبر اور قابل اعتماد راہنما قرار دیا ہے، اور اپنے اس مطلب کے آخر پر علامت (ز) لکھ کر مشخص کرتا ہے کہ اس نے اس صحابی کے حالات دوسرے تذکرہ نویسوں پراضافہ کیا ہے ۔

مصادر و مآخذ

عبداﷲ حفص کے حالات:

١۔ ''اصابہ '' ابن حجر (٢/٢٨٢) حصہ اول نمبر : ٤٦٣٠

٢۔ ''تاریخ طبری '' (١/١٩٤٥)

٣۔ تاریخ ابن اثیر( ٢/٢٧٦)

جنگ '' یمامہ '' میں مہاجرین کاحقیقی پر چمدار:

١۔''فتوح البلدان'' بلاذری

٢۔''تاریخ اسلام'' ذہبی

٣۔تاریخ ابن کثیر (٦/٣٢٦)

۱۰۵

مبشر بن فضیل کے حالات:

١۔ ''لسان المیزان'' ابن حجر(٥/١٣)

٦٨واں جعلی صحابی ابو حبیش

اس صحابی کے بارے میں ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' میں یوں آیا ہے :

ابوحبیش بن ذی ا للّحیہ عامری کلابی :

سیف نے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہا ہے کہ خالدبن ولید جب عراق میں داخل ہونے کے بعد معروف صحابیوں کو مختلف علاقوں کے حکمران کے طورپر منتخب کر رہا تھا ، تو اس نے ابو حبیش کو ''ہوازن'' کے لئے مأمور کیااوروہاں کی حکومت اسے سونپی ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی ''استئعئیاب '' سے دریافت کیاہے ۔

ابو حبیش کا نسب

سیف نے اس صحابی کو قبائل مضر کے بنی عامر بن کلاب بن ربیعہ بن عامر'' سے خلق کیا ہے

ابن حزم نے اس طائفہ کے نسب کو اپنی کتاب ''جمھرہ انساب '' میں درج کیا ہے ۔لیکن اس میں سیف کے اس دلاور صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا!

لیکن ''ذولحیہ کلابی '' کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کانا م ''شُریح بن عامر '' تھا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کانام ''ضحاک بن قیس '' تھا ۔ اس سے روایت نقل کی گئی ہے کہ اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پوچھا:

۱۰۶

کیا انجام دئے گئے کام کو دوبارہ شروع کریں ؟رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:

ہر شخص ایک کام کے لئے خلق ہوا ہے!

بغوی نے کہا ہے :

میں اس حدیث کے علاوہ اس سے کسی اورچیز کے بارے میں مطلع نہیں ہوں !

علماء نے صرف اسی ایک روایت پر اعتماد کر کے ''ذولحیہ ''کو بھی صحابی جان کر اس کے حالات پر روشنی ڈالی ہے

ہم نہیں جانتے ہیں کہ '' ذو لحیہ '' کی انکشاف کی گئی یہ حدیث ۔جس پر استناد کر کے اس کے حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔کس قدر صحیح اورقابل اعتبار ہے !! لیکن بالفرض اس حدیث کے صحیح ہونے اور ''ذولحیہ ''نام کے کسی شخص کے حقیقی طور پر موجود ہونے کی صورت میں بھی کیا سیف اس حدیث اوراس نام کے کسی شخص سے روبرو ہوا ہے اور ابوحبیش کو اس سے جوڑا ہے؟ یہ ایسا مسئلہ ہے اور ابھی تک معلوم نہ ہو سکا ۔(۱)

____________________

١۔ ''ذولحیہ '' نام کے شخص کے صحیح اور موجود ہونے کے بارے میں بحث و تحقیق کرنے کے لئے دسیوں مصادر پر اسلام میں چھان بین کرنیکی ضرورت ہے جو اسوقت ہمارے لئے ممکن نہیں ہے ۔

۱۰۷

ابو حبیش کی حدیث پر ایک بحث:

ہم نے ''تاریخ طبری '' میں کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو اس پر دلالت کرتی ہو کہ خالد بن ولید نے ابوحبیش نامی کسی شخص کو ''ہوازان '' کی مأموریت سونپی ہو ۔لیکن جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ایلچیوں کے بارے میں سیف بن عمر سے نقل کر کے ذکر کیا ہے کہ:

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دوسرے ایلچیوں کے ضمن میں '' نعیم بن مسعود اشجعی''کو ''ابن ذولحیہ ''اور ''ابن مشیمصۂ جُبیری '' کے پاس بھیجا اورانھیں پیغمبری کے مدعی''اسودعنسی'' سے جنگ کر کے اسے کچل دینے کی ترغیب دی ہے ۔

ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ ''ابن ذولحیہ '' وہی زیربحث '' ابو حبیش ہے یا یہ کہ سیف نے اس نام کے دوشخص خلق کئے ہیں ۔

اور یہ بھی معلوم نہیں کہ سیف نے ابوحبیش کے نام کو '' ابو حبیش بن مطلّب قرشی ''سے لیا ہے یا نہیں ۔بلاذری نے جو ''انساب الاشراف'' میں کہا ہے اس کے مطابق اسی ابو حبیش بن مطّلب کے بیٹے ''سائب '' نے ابو سفیان کی بیٹی ''جویریہّ '' سے شادی کی ہے ۔ یایہ کہ یوں ہی سیف کے ذہن میں ایسا نام آیا ہے اور اس نے اسے اپنے جعلی صحابی کے لئے منتخب کیا ہے ۔

لیکن یہ واضح ہے کہ ''جبیش بن دلجہ قینی '' جس کا نام تاریخ طبری اور تاریخ یعقوبی میں آیا ہے سیف کے جعلی ''ابو حبیش عامری کلابی ''سے جدا ہے ۔کیونکہ دیگر بہت سے اختلافات اختلاف پہلا ''بنی قضاعہ ''سے ہے اور دوسرا (جعلی )''عامری کلابی '' ہے ۔

مصادرو مآخذ

ذولحیہُ کلابی کے حالات:

١۔''اصابٔہ'' ابن حجر (١/٤٧٥)

٢۔''استیعاب ابن '' عبدالبر ''اصابہ '' کے حاشیہ پر ( ١/٤٧٦) کہ اسے بصرہ کا باشندہ جاناہے ۔

٣۔''تاریخ بخاری'' (١/٢٦٥) ۔حصہ اول نمبر : ٩٠٩

٤۔''تقریب التہذیب '' ( ١/٢٣٨) ۔ اس میں آیا ہے کہ ''ابو داؤد ''نے اس کی حدیث کو ''قدر ''میں درج کیا ہے ۔

٥۔''اسدالغابہ '' ابن اثیر (٢/١٤٤)

۱۰۸

ذولحیہ کا نسب:

١۔''جمہرۂ انساب'' ابن حزم (٢٨٢)

٢۔''تاریخ طبری'' (ا/١٧٩٩)

٣۔''اصابہ '' ابن حجر (٤/٣٦) نمبر:٢١٢

٤۔''انساب الاشراف'' بلاذری (١/٤٤٠)

حبیش بن دلجہ ٔ قینی کے حالات:

١۔تاریخ طبری (٢/٥٧٨ و ٥٧٩ و ٦٤٢)

٢۔ تاریخ یعقوبی طبع ''دارصادر'' (٢٥١۔ ٢٥٢)

ذولحیہ کلابی'شریح بن عامر یا ضحاک بن قیس کے حالات:

١۔''تہذیب التہذیب'' (٣/٢٢٣) شرح حال : ٤٢٦

٢۔حدیث ذولحیہ تاریخ بخاری میں ذکر ہوئی ہے ۔

۱۰۹

٦٩واں جعلی صحابی حارث بن مرّہ

ابن حجر نے اس صحابی کا یوں تعارف کرایاہے :

حارث بن مرّہ جہنی:

سیف بن عمرنے اپنی کتاب ''فتوح '' میں اس کا نام لیا ہے اور کہاہے کہ خالد بن ولید ابوبکرکی خلافت کے زمانے میں جب خلیفہ کے حکم سے عراق پر لشکر کسی کی تیاری کر رہا تھا ، ''تو اس نے حارث بن مرّ، جو ایک دلاور صحابی شمار ہوتا تھا ، کو اپنی فوج کے قضاعیان کے دستے کی سپہ سالاری سونپی ۔

سیف نے '' ارطاة بن ابی ارطاة نخعی '' سے اس نے ''حارث بن مرہ'' سے اور اس نے ''ابو مسعود ''سے بھی ایک روایت نقل ہے ۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

اس صحابی کا نسب :

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو ''جہنی '' مشہور کیا ہے اور یہ قبائل قضا عہ کے '' جہنیہ ''

سے ایک نسبت ہے ۔

ابن حزم نے اپنی کتاب ''انساب ''میں ''جہنیہ ''نام کے بعض اہم شخصیات کے حالات پر روشنی ڈالی ہے ۔ لیکن سیف کے اس دلاور اور بلند مرتبہ صحابی کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا ۔

سیف نے اپنے اس جعلی صحابی کو قضا عہ میں ایک بلند مقام دلانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے ہیں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث کی بھی اس سے نسبت دی ہے کہ ہم نے ایسے مطالب صرف ابن حجر کی ''اصابہ ''میں دیکھے ۔

۱۱۰

''حارث بن مرہ ''کی روایت ان روایتوں میں سے ہے کہ طبری نے اسے سیف کی کتاب سے اپنی کتاب میں درج کرنے سے پرہیز کیا ہے، اور سیف کی روایت کا مصدر و مأ خذ معلوم نہیں ہے کہ ہم اس کی تحقیق کرتے ۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیف نے اپنے افسانوی صحابی کانام یا ''حارث بن مرة عبدی''سے لیا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اسے صفین کی جنگ میں اپنی پیدل فوج کے میسرہکے دستے کاکمانڈر مقرر فرمایا تھا اور وہ ٤٦ھ میں سرزمین ''قیقان ''میں قتل ہوا ہے، اور یا یہ کہ ''حارث بن مرہ فقعسی '' سے لیاہے کہ امام علیہ السلام نے اسے خبر لانے کے لئے خوارجکے درمیان بھیجا تھا اور خوارج نے اسے قتل کر ڈ الا(۱)

پہلی صورت میں عبدی ربیعة بن نزارکے عبدالقیس'' سے ایک نسبت ہے ۔

اور دوسری صورت میں فقعسی' اسد بن خزیمہ کے پوتے (فقعس بن دودان) کی طرف نسبت ہے۔

لیکن سیف نے اپنے صحابی کو قبائل قفعاعہ کے (جہینہ) سے جعل کیا ہے اور اسے ان لوگوں پر حاکم بنایا ہے۔ پس یہ حارث نہ عبدی ہے نہ فقعسی بلکہ صرف سیف کی خیالی مخلوق ہے اور اس کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔

____________________

١) طبری نے اپنی تاریخ (١/٣٣٧٥) اور مسعودی نے ''مروج الذھب '' (٢/٤٠٤) میں لکھا ہے : خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والا حارث ،عبدی ہے ،فقعسی نہیں ہے ۔ دونوں سے زبردست غلطی ہوئی ہے ۔کیونکہ خوارج کے ہاتھوں ماراجانے والافقعسی تھا ۔

۱۱۱

مصادر و مأخذ

حارث بن مرۂ جہنی کے حالات :

١۔ ''اصابۂ بن حجر (١/٢٩٠)

خاندان جہینہ کانسب :

١۔ ''جمہرۂ انساب '' ابن حزم (٤٤٤۔٤٤٥)

حارث بن مرہ عبدی کی داستان اور صفین کی جنگ میں اس کی شرکت :

١۔ کتاب ''صفین '' نصرمزاحم (٢٠٥)

٢۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٧١)

٣۔ ''تاریخ '' خلیفہ بن خیاّط (ا/ا١٣) کہ اس کے ہندوستان کی جنگ میں شرکت کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔

٤۔ ''معجم البلدان '' حموی لفظ ''قیقان '' (٥٣١ )

٥۔ ''فتوح البلدان '' بلاذری (٢٠٧)

حارث بن مرۂ فقعسی کی داستان :

١۔ ''اخبار الطوال '' دینوری (٢٠٧)

۱۱۲

چوتھا حصہ :

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہم عصر ہونے کے سبب اصحاب

اس گروہ میں سیف کے خیالی کردار حسب ذیل ہیں :

٧٠۔قر قرہ یا قرفتہ بن زاہر تیممی وائلی

٧١۔ نائل بن جعشم ،ابو نباتہ تیمی اعرجی

٧٢۔ سعد بن عمیلہ فزاری

٧٣۔ قریب بن ظفر عبدی

٧٤۔ عامر بن عبدالاسد ، یا عبدالاسود

۱۱۳

سترواں جعلی صحابی قرقرہ یا قرفتہ بن زاہر

اصحاب کی زندگی کے حالات پر روشنی ڈالنے والی کتابوں میں ہمیں ایسے چہرے بھی ملتے ہیں ، جنھیں مصنف نے صرف اس سبب سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے صحابیوں میں شامل کیا ہے کہ وہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمعصر تھے ۔ ان کے بارے میں ''لہ اِدراکُ'' کی قید لگا کر ان کے حالات لکھے گئے ہیں !

کتاب کے اس حصہ میں ہم سیف کے اس قسم کے جعلی اصحاب کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور نمونہ کے طور پر ایسے چند اصحاب کا تعارف کرتے ہیں

مذکورہ صحابی کے حالات کی تشریح میں ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں یوں لکھا ہے :

وہ ان اشخاص میں سے ہے جس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا زمانہ درک کیا ہے ۔

سیف بن عمر اور طبری نے اسے من جملہ ان افراد میں شمار کیا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے اسے ''رستم فرخ زاد ''کی خواہش کے مطابق ا س سے مذاکرہ کرنے کے لئے بھیجا تھا ۔

ابن فتحون نے اس صحابی کو ابن عبدالبر کی کتاب ''استیعاب ''سے درک کیا ہے۔(ز) (ابن حجر کی بات کا خاتمہ )

ابن حجر نے اپنی کتاب ''اصابہ ''میں اس صحابی کو ''تیمی پہنچوایاہے ،جبکہ سیف کی روایت کے مطابق ''تاریخ طبری ''میں ''تیمی وائلی '' اور طبری کے بعض نسخوں میں ''وابلی '' لکھا گیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عرب قبائل میں بہت سے ایسے خاندان اور گروہ پائے جاتے ہیں جنھیں ''تیمی ''اور ''وائلی ''شہرت حاصل ہے ،البتہ ہم نہ سمجھ سکے کہ سیف نے اپنے اس صحابی کو ان میں سے کس قبیلہ سے خلق کیا ہے ۔

اگر سیف نے ''قر قرہ '' کو قبیلہ ''والبی'' سے بھی خلق کیا ہوگا تووہ بھی ''بنی اسد کے والبہ بن حارث ''کی اولاد ہیں ۔ اس صورت میں یہ احتمال ممکن ہے کہ لفظ تیمی اس کی کتاب کے نسخہ برداروں کے ذریعہ غلطی سے لکھ دیا گیا ہے۔

۱۱۴

سعد وقاص کی مجلس ِ مشاورت:

طبری نے قادسیہ کی جنگ کے وقائع اور اتفاقات کے ضمن میں لکھا ہے :

سعد وقاص نے مندرجہ ذیل افراد کو جو سب زیرک اور دانا عرب تھے کو سپہ سالار اعظم کے خیمہ میں جمع ہونے کا حکم دیا :

١۔ مغیرة بن شعبہ

٢۔بسر ابن ابی رُھم

٣۔ عرفجتہ بن ہر ثمہ

٤۔حذیفتہ بن محصن

٥۔ربعی بن عامر

٦۔قرفتہ بن زاہر تیمی وائلی

٧۔مذعور بن عدی عَجَلی

٨۔مضارب بن یزید عجلی

٩۔معبد بن مرّہ عجلی ۔

جب سب لوگ کمانڈر انچیف کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سعد نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو ان ایرانیوں کے پاس بھیجوں ۔تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟

سب نے جواب دیا :

ہم صرف آپ کے حکم کی اطاعت کریں گے اور اس سے آگے نہیں بڑھیں گے ۔ اگر کوئی ایسا مسئلہ پیش آئے جس میں آپ کا واضح حکم موجود نہ ہوتواس صورت میں جس چیز کو شائستہ ترین تشخیص دیں گے ،اسی پر عمل کریں گے ۔سیف کہتا ہے اس دوران ربعی نے اپنا نقطئہ نظر یوں بیان کیا :

اگر ہم اجتماعی طور پر ان کے پاس جائیں گے تو وہ خیال کریں گے کہ ہم نے انھیں قابل قدر اور معززجانا ہے ۔لہذا یہ ہے کہ ہر بار ہم میں صرف ایک شخص ان کے پاس جائے اورکوئی دوسرا اس کے ساتھ نہ ہو۔

۱۱۵

سعد نے اس نظر یہ کو قبول کیا اور ربعی کو پہلے قاصد کے عنوان سے منتخب کیا۔

سپہ سالار اعظم کے حکم کی تعمیل ،میں سعد کے پہلے سفیر کے عنوان سے ر بعی نے ''رستم فر خ زاد'' کے خیمہ کا رخ کیا اور ....(یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

جب رستم کمانڈر انچیف کے خیمہ میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ گیا ، تو ربعی نے سوار حالت میں اپنے گھوڑے کو کمانڈر انچیف کے خیمہ میں بچھے ہوئے قالینوں پر دوڑایا اور کچھ چلنے کے بعد دو پشتی کو اٹھا کرگھوڑے کی لگام کو مضبوطی کے ساتھ ان سے باندھا۔

اس کے بعد نیزے کو ہاتھ سے دباتے ہوئے اور اس کی نوک کو فرش اور تکیوں چبھوتے ہوئے اور ان میں سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔

اس طرح چلتے ہوئے کوئی قالین یا تکیہ ربعی کے نیز کی نوک کی ضرب سے نہ بچ سکا جو کچھ راستے میں آتا اسے پھاڑتے اور سوراخ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوا ایرانیوں کے کمانڈر انچیف رستم کے تخت کے نزدیک پہنچا ۔ وہاں پر محافظوں نے مزاحمت کی تو وہ بھی وہیں پر زمین پر بیٹھ گیا اور نیزہ کو زور سے فرش پر مار کے نصب کیا اور...... (یہاں تک کہ وہ کہتا ہے :)

دو سر ے دن ایرانیوں نے سعد کو پیغا م بھیجا کہ اسی کل والے شخض کو ان کے پا س بھیجے۔لیکن سعد نے اس بار حز یفہ بن محصن کو بھیجا۔حذ یفہ کے خیمہ میں جا تے وقت موبمو ربعی کی ر فتار کی تکرار کی۔ تیسرے دن ایرانیوں نے سعد سے کہا کہ کسی اور کو بھیجے۔ اس بار سعد نے ''مغیرة بن شعبہ '' کو بھیجا ۔۔۔(داستان کے آخرتک)!

بے شک طبری نے بڑی تکلیف اٹھا کر سیف کے حق میں انتہا ئی عقیدت دکھائی ہے اورسیف کی دوروایتوں میں ذکر ہوئی اس سراپا مضحکہ اور مذاق پر مبنی داستان کو اپنی کتاب ۔تاریخ کبیر کے آٹھ صفحوں پر درج کیا ہے ! جبکہ اس افسانہ سے پہلے اسی موضوع کی ایک دوسری نقل کر کے اپنی کتاب کے دو صفحوں کو زینت بخشی ہے !!

۱۱۶

سفیروں کی داستان کے راویوں کی پڑتال :

سیف نے اپنی داستان کے راویوں کے طور پر مندرذیل ناموں کا ذکر کیاہے :

١۔نضر نے رفیل سے یعنی سیف کے ایک جعلی راوی نے سیف کے ہی دوسرے جعلی راوی سے !

٢۔ محمد ،یا محمد بن عبداﷲ بن سواد نویرہ ۔

٣۔زیاد یازیاد بن سرجس احمری ۔اس سے پہلے ہم نے بارہا کہاہے کہ یہ سیف کی خیالی راوی ہیں

٤۔ چند دوسرے نامعلوم اور بے نام افراد

سفیروں کی حقیقی داستان:

ابن اسحاق اور طبری نے بھی اپنی تاریخ میں سعد وقاص کے رستم فرخ زاد کے پاس سفیر بھیجنے کی روایت کو یوں بیان کیا ہے :

جب رستم نے اپنے سپاہیوں کے ہمراہ مسلمانوں کے مقابلے میں پہنچ کر خیمے لگادئے ' توسعدوقاص کو ایک پیغام بھیجا اور اس سے تقاضا کیا کہ کسی تجربہ کار اوردانا شخص کو اس کے پاس بھیجے تاکہ وہ اس سے گفتگو کرے ۔رستم کے درخواست کے جواب میں ''مغیرة بن شعبہ ''کا انتخاب کیا گیا اور اسے رستم سے ملاقات کرنے پر مأ مور کیا گیا....

داستان کے آخر تک جو مفصل ہے ، اس میں کہیں اس بیہودہ رفتار کا ذکر نہیں ہے ۔

یہ داستان تقریباً اسی مضمون میں بلاذری کی ''فتوح البلدان''اور دینوری کی ''اخبار الطوال''

میں بھی درج ہوئی ہے ۔

۱۱۷

بحث کا نتیجہ:

سیف تنہا شخص ہے جس نے نو ہوشیار اور عقلمندعربوں کے ساتھ سعدوقاص کے مشاورتی جلسہ جن میں اس نے اپنے قرقرة یا قرفئہ کو بھی شامل کیا تھا ،کی روایت نقل کی ہے ۔

وہ تنہا شخص ہے جس نے ان مشیروں میں سے تین اشخاص کی رستم سے گفتگو کا ذکر کیا ہے ، جن میں سے ایک کو ''مغیرة بن شعبہ '' شمار کیا ہے ۔ اس کے علاوہ سعد کے سفیروں پر بیہودہ اور غیر عاقلانہ رفتار کی تہمت لگاتا ہے ! سیف تنہا شخص ہے جس نے اس داستان کو آب و تاب کے ساتھ بیان کر کے ایسے راویوں کے ذریعہاسکی تشریح کی ہے جن کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔ اورسرانجام طبری جیسے تاریخ لکھنے والے علماء نے اسے من وعن اپنی معتبر و گراں قدر تاریخ کی کتاب میں سیف سے نقل کر کے درج کیا ہے ۔

جب ابن حجر کی باری آتی ہے تو وہ بھی سیف کی روایتوں پر اعتماد کر کے اس کے'' قر قرہ'' کورسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابیوں کی فہرست میں قرار دیتا ہے ۔

اور عبارت ''لہ ادراکُ'' کی قید لگا کر اس کا صحابی ہونا ثابت کرتا ہے اور اپنے کلام کے آخر میں حرف ''ز''درج کر کے اعلان کر تا ہے کہ اس صحابی کے حالات کی تشریح کر کے اس نے دوسرے تذکرہ نگاروں پر اضافہ کیاہے ۔

دوسری طرف سے یعقوبی (۱) ابن کثیر اور ابن خلدون جیسے علماء نے بھی اس داستان کو طبری سے نقل کرکے خلا صہ کے طور پر اپنی تاریخ کی کتابوں میں درج کیا ہے ۔

____________________

١۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یعقوبی نے اس داستان کا خلاصہ بلاواسطہ سیف بن عمر کی کتاب ''فتوح سے نقل کیا ہو۔

۱۱۸

مصادر و مآ خذ

قر قرہ بن زاہر کے حالات:

١۔''اصابہ '' ابن حجر (٣/٢٥٧) نمبر: ٧٢٨٤

''والبی ''کا نسب:

١۔جمہرہ''انساب'' ابن حزم (١٩٤)

٢۔''نہایتہ الارب'' قلقشندی (٤٠٣)

سعد وقاص کے سفیروں کے بارے میں سیف کی روایت:

١۔''تاریخ طبری '' (١/٢٢٦٩۔٢٢٧٧)

٢۔''تاریخ ابن اثیر''(٢/٣٥٧۔٣٦٠)

٣۔''تاریخ ابن کثیر '' (٧/٣٩۔٤٠)

٤۔''تاریخ ابن خلدون'' (٣٢١٢۔٣٢٢)

٥۔''تاریخ یعقوبی '' (٢/١٤٤)

حقیقی داستان اور ''مغیرة بن شعبہ '' کاسعد کے سفیر کی حیثیت سے جانا :

١۔''تاریخ طبری '' ( ١/٢٣٥١)

٢۔''فتوح البلدان '' بلاذری (٣٥١)

٣۔''اخبار الطوال'' دینوری (١٢٠)

۱۱۹

٧١واں جعلی صحابی ابوُنُبا تہ نائل

یہ صحابی ابن حجر کی کتاب ''اصابہ '' کے اس حصہ میں درج میں کیا گیا ہے جو ''مخضرمین '' سے مخصوص ہے ۔

مخضرمین '' ان اصحاب کو کہا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا آدھا حصہ عصر جاہلیت میں دوسرا آدھا حصہ عصرِ رسول اﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اوراسلام کے دامن میں گزاراہو۔

ابن حجر نے اس صحابی کو یوں پہچنوایا ہے :

ابو نباتہ نائل اعرجی :

کتاب ''فتوح'' میں سیف کے کہنے کے مطابق اس صحابی نے عصرِ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو درک کیا ہے اور عراق کی جنگ میں براہ راست شرکت کی ہے ۔

نائل نے ایرانی پہلوان شہر یار کے ساتھ دست بدست لڑائی میں اس پر غلبہ پایا اوراسے موت کے گھاٹ اتاردیا اور اس کا قیمتی لباس اور دست بند غنیمت کے طور پر لے لئے۔

نائل پہلا عربی شہسوار ہے جس نے ہاتھ میں دست بند پہنا ہے !

(ابن حجر کی بات کا خاتمہ)

اس تشریح سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیف بن عمر نے اپنے اس صحابی کو ''اعرجی ''خلق کیا ہے ۔

کہ یہ ،''اعرج ،حارث بن کعب بن سعد بن زید مناةبن تمیم '' سے نسبت ہے ۔

لہذا معلوم ہوا کہ یہ دلیرسوار ، شہر یا ر کو مارنے والا عرب ،ایرانی دلاوروں کے لباس اور قیمتی دست بند کوغنیمت میں لینے والا سردار اور شجاع تمیمی اورسیف کا ہم قبیلہ ہے !

۱۲۰

تیسرا سبق

وضوء

جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اسے نماز سے پہلے اس ترتیب سے وضوء کرنا چاہیئے پہلے دونوں ہاتھوں کو ایک یا دو دفعہ دھوئے _ پھر تین مرتبہ کلی کرے پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے اور صاف کرے _ پھر وضو کی نیت اس طرح کرے _ :

وضو کرتا ہوں _ یا کرتی ہوں_ واسطے دور ہونے حدث کے اور مباح ہونے نماز کے واجب قربةً الی اللہ '' نیت کے فوراً بعد اس ترتیب سے وضو کرے _

۱_ منہ کو پیشانی کے بال سے ٹھوڑی تک اوپر سے نیچے کی طرف دھوئے _

۲_ دائیں ہاتھ کو کہنی سے انگلیوں کے سرے تک اوپر سے نیچے تک دھوئے _

۳_ بائیں ہاتھ کو بھی کہنی سے انگلیوں کے سرے تک اوپر سے نیچے تک دھوئے _

۴_ دائیں ہاتھ کی تری سے سرکے اگلے حصّہ پر اوپر سے نیچے کی طرف مسح کرے _

۵_ دائیں ہاتھ کی تری سے دائیں پاؤں کے اوپر انگلیوں کے سرے سے پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے _

۶_ بائیں ہاتھ کی تری سے بائیں پاؤں کے اوپر انگلیوں کے سرے سے پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے _

ماں باپ یا استاد کے سامنے وضو کرو اور ان سے پوچھ کہ کیا میرا وضو درست ہے _

۱۲۱

چوتھا سبق:

نماز پڑھیں

ہم کو نماز پڑھنی چاہئے تا کہ اپنے مہربان خدا سے نماز میں باتین کریں _ نماز دین کا ستون ہے _ ہمارے پیغمبر (ص) فرماتے ہیں : جو شخص نماز کو سبک سمجھے اور اس کے بارے میں سستی اور کوتاہی کرے وہ میرے پیروکاروں میں سے نہیں ہے _ اسلام ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد کو نماز سکھائیں اور سات سال کی عمر میں انہیں نماز پڑھنے کی عادت ڈالیں اور اولاد کو ہمیشہ نماز پڑھنے کی یاددہانی کرتے رہیں اور ان سے نماز پڑھنے کے لئے کہتے رہیں _ جو لڑکے اور لڑکیاں بالغ ہوچکے ہیں انہیں لازمی طور پر نماز پڑھنی چاہیے اور اگر نماز نہیں پڑھتے ہیں تو اللہ کے نافرمان اور گناہگار ہوں گے

سوالات

۱_ ہم نماز میں کس سے کلام کرتے ہیں ؟

۲_ ہمارے پیغمبر (ص) نے ان لوگوں کے حق میں جو نماز میں سستی کرتے ہیں کیا فرمایا ہے ؟

۳_ سات سال کے بچّوں کے بارے میں ماں باپ کا کیا وظیفہ ہے ؟

۴_ کون تمہیں نماز سکھاتا ہے ؟

۵_ نماز دین کا ستون ہے کا کیا مطلب ہے ؟

۱۲۲

پانچواں سبق

نماز آخرت کیلئے بہترین توشہ ہے

نماز بہترین عبادت ہے _ نماز ہمیں خدا سے نزدیک کرتی ہے اور آخرت کیلئے یہ بہترین توشہ ہے _ اگر صحیح نماز پڑھیں تو ہم آخرت میں خوش بخت اور سعادتمند ہوں گے _

حضرت محمد مصطفی (ص) فرماتے ہیں : میں دنیا میں نماز پڑھنے کو دوست رکھتا ہوں ، میرے دل کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے _ نیز آپ(ع) نے فرمایا نماز ایک پاکیزہ چشمے کے مانند ہے کہ نمازی ہر روز پانچ دفعہ اپنے آپ کو اس میں دھوتا ہے _ ہم نماز میں اللہ تعالی کے ساتھ ہم کلام ہوتے ہیں اور ہمارا دل اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے _ جو شخص نماز نہیں پڑھتا خدا اور اس کا رسول (ص) اسے دوست نہیں رکھتا

پیغمبر اسلام (ص) فرماتے تھے میں واجب نماز نہ پڑھنے والے سے بیزار ہوں _ خدا نماز پڑھنے والوں کو دوست رکھتا ہے بالخصوص اس بچّے کو جو بچپن سے نماز پڑھتا ہے زیادہ دوست رکھتا ہے _

ہر مسلمان دن رات میں پانچ وقت نماز پڑھے

۱_ نماز صبح دو رکعت

۲_ نماز ظہر چار رکعت

۳_ نماز عصر چار رکعت

۴_ نماز مغرب تین رکعت

۵_ نماز عشاء چار رکعت

۱۲۳

جواب دیجئے

۱_ حضرت محمد مصطفی (ص) نے نماز کے بارے میں کیا فرمایا ہے ؟

۲_ کیا کریں کہ آخرت میں سعادتمند ہوں ؟

۳_ ہر مسلمان دن رات میں کتنی دفعہ نماز پڑھتا ہے اور ہرایک کیلئے کتنی رکعت ہیں؟

۴_ جو شخص نماز نہیں پڑھتا اس کے لئے پیغمبر (ص) نے کیا فرما یا ہے ؟

۶_ کیا تم بھی انہیں میں سے ہو کہ جسے خدا بہت دوست رکھتا ہے اور کیوں؟

۱۲۴

چھٹا سبق

طریقہ نماز

اس ترتیب سے نماز پڑھیں

۱_ قبلہ کی طرف منہ کرکے کھڑے ہوں اور نیت کریں یعنی قصد کریں کہ کون نماز پڑھنا چاہتے ہیں _ مثلاً قصد کریں کہ چار رکعت نماز ظہر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے پڑھتا ہوں _

۲_ نیت کرنے کے بعد اللہ اکبر کہیں اور اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اوپر لے جائیں _

۳_ تکبیر کہنے کے بعد سورہ الحمد اس طرح پڑھیں

( بسم الله الرحمن الرحیمی : الحمد لله ربّ العالمین _ الرّحمن الرّحمین _ مالک یوم الدین_ ايّاک نعبد و ايّاک نستعین_ اهدنا الصّراط المستقیم_ صراط الذین انعمت علیهم_ غیر المغضوب علیهم و لا الضّالین)

۴_ سورہ الحمد پڑھنے کے بعد قرآن مجید کا ایک پورا سورہ پڑھیں مثلاً سورہ توحید پڑھیں:

( بسم الله الرّحمن الرّحیم _ قل هو الله احد _ اللّه الصمد_ لم یلد و لم یولد _ و لم یکن له کفواً احد _)

۵_ اس کے بعد رکوع میں جائیں اور اس قدر جھکیں کہ ہاتھ زانو تک پہنچ جائے اور اس وقت پڑھیں

۱۲۵

سبحان ربّی العظیم و بحمده

۶_ اس کے بعد رکوع سر اٹھائیں اور سیدھے کھڑے ہو کر کہیں :

سمع الله لمن حمده

اس کے بعد سجدے میں جائیں _ یعنی اپنی پیشانی مٹی یا پتھر یا لکڑی پر رکھیں اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھے زمین پر رکھیں اور پڑھیں:

سبحان ربّی الاعلی و بحمده

اس کے بعد سجدے سے سر اٹھاکر بیٹھ جائیں اور پڑھیں:

استغفر الله ربّی و اتوب الیه

پھر دوبارہ پہلے کی طرح سجدے میں جائیں اور وہی پڑھیں جو پہلے سجدے میں پڑھا تھا اور اس کے بعد سجدے سے اٹھا کر بیٹھ جائیں اس کے بعد پھر دوسری رکعت پڑھنے کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اٹھتے وقت یہ پڑھتے جائیں:

بحول الله و قوته اقوم و اقعد

پہلی رکعت کی طرح پڑھیں_

۷_ دوسری رکعت میں سورہ الحمد اور ایک سورہ پڑھنے کے بعد قنوت پڑھیں _ یعنی دونوں ہاتھوں کو منہ کے سامنے اٹھا کر دعا پڑھیں اور مثلاً یوں کہیں :

ربّنا اتنا فی الدنیا حسنةً و فی الآخرة حسنةً وقنا عذاب الناّر _

۱۲۶

اس کے بعد رکوع میں جائیں اور اس کے بعد سجدے میں جائیں اور انہیں پہلی رکعت کی طرح بجالائیں

۸_ جب دو سجدے کر چکیں تو دو زانو بیٹھ جائیں اور تشہد پڑھیں :

الحمد لله _ اشهد ان لا اله الاّ الله وحده لا شریک له و اشهد انّ محمد اً عبده و رسوله _ اللهم صلّ علی محمد و آل محمد

۹_ تشہد سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہوجائیں اور تیسری رکعت بجالائیں تیسری رکعت میں سورہ الحمد کی جگہ تین مرتبہ پڑھیں :

سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله والله اکبر

اس کے بعد دوسری رکعت کی طرح رکوع اور سجود کریں اور اس کے بعد پھر چوتھی رکعت کے لئے کھڑے ہوجائیں اور اسے تیسری رکعت کی طرح بجالائیں _

۱۰_ چوتھی رکعت کے دو سجدے بجالانے کے بعد بیٹھ کر تشہد پڑھیں اور اس کے بعد یوں سلام پڑھیں:

السّلام علیک ايّها النبی و رحمة الله و برکاته

السلام علینا و علی عباد الله الصالحین

السلام علیکم ورحمة الله و برکاته

یہاں ہماری ظہر کی نمازتمام ہوگئی

۱۲۷

اوقات نماز

صبح کی نماز کا وقت صبح صادق سے سورج نکلتے تک ہے نماز ظہر اور عصر کا وقت زوال شمس سے آفتاب کے غروب ہونے تک ہے _

مغرب اور عشاء کا وقت غروب شرعی شمس سے آدھی رات یعنی تقریباً سوا گیارہ بجے رات تک ہے _

یادرکھئے کہ

۱_ عصر اور عشاء کی نماز کو ظہر کی نماز کی طرح پڑھیں لیکن نیت کریں کہ مثلاً عصر کی یا عشاء کی نماز پڑھتا ہوں ...:

۲_ مغرب کی نماز تین رکعت ہے تیسری رکعت میں تشہد اور سلام پڑھیں _

۳_ صبح کی نماز دو رکعت ہے دوسری رکعت میں تشہد کے بعد سلام پڑھیں _

۱۲۸

ساتواں سبق

نماز پر شکوہ _ نمازجمعہ

نماز ایمان کی اعلی ترین کو نپل اور روح انسانی کا اوج ہے _ جو نماز نہیں پڑھتا وہ ایمان اور انسانیت کے بلند مقام سے بے بہرہ ہے _ نماز میں قبلہ روکھڑے ہوتے ہیں اور خدائے مہربان کے ساتھ کلام کرتے ہیں _ پیغمبر اسلام(ص) نے نماز قائم کرنے کے لئے تاکید کی ہے کہ مسجد میں جائیں اور اپنی نماز دوسرے نماز یوں کے ساتھ با جماعت ادا کریں تنہا نماز کی نسبت دریا اور قطرہ کی ہے اور ان کے ثواب اور اجر میں بھی یہی نسبت ہے جو مسجد میں با جماعت ادا کی جائے _ جو نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں _ ان میں نماز جمعہ کا خاص مقام ہے کہ جسے لازمی طور سے جماعت کے ساتھ مخصوص مراسم سے ادا کیا جاتا ہے _ کیا آپ نماز جمعہ کے مراسم جانتے ہیں ؟ کیا جانتے ہیں کہ کیوں امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوتا ہے ؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ امام جمعہ کو خطبوں میں کن مطالب کو ذکر کرنا ہے ؟

امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں اس لئے لیتا ہے تا کہ اسلام کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے خلاف اعلان کرے کہ مسلمان کو اسلامی سرزمین کے دفاع کے لئے ہمیشہ آمادہ رہنا چاہیئے _ ہتھیار ہاتھ میں لے کر ہر ساتویں دن مسلمانوں کو یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ نماز کے برپا کرنے کے لائے لازمی طور پر جہاد اور مقابلہ کرنا ہوگا _ امام جمعہ ہتھیار ہاتھ میں لیکر خطبہ پڑھتا ہے تا کہ اعلان کر ے کہ نماز اور جہاد ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں _ اور مسلمانوں کو ہمیشہ ہاتھ میں ہتھیار رکھنا چاہیئےور دشمن

۱۲۹

کی معمولی سے معمولی حرکت پر نگاہ رکھنی چاہیے _ جو امام جمعہ اسلامی معاشرہ کے ولی اور رہبر کی طرف سے معيّن کیا جاتاہے وہ ہاتھ میں ہتھیار لیتا ہے اور لوگوں کی طرف منہ کرکے دو خطبے دیتا ہے اور اجتماعی و سیاسی ضروریات سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے اور ملک کے عمومی حالات کی وضاحت کرنا ہے _ اجتماعی مشکلات اور اس کے مفید حل کے راستوں کی نشاندہی کرتا ہے _ لوگوں کو تقوی _ خداپرستی ایثار اور قربانی و فداکاری کی دعوت دیتا ہے اور انہیں نصیحت کرتا ہے _ نماز یوں کو پرہیزگاری ، سچائی ، دوستی اورایک دوسرے کی مدد کرنے کی طرف رغبت دلاتا ہے _ لوگ نماز کی منظم صفوں میں نظم و ضبط برادری اور اتحاد کی تمرین اور مشق کرتے ہیں _ اور متحد ہوکر دشمن کامقابلہ کرنے کا اظہار کرتے ہیں _ جب نماز جمعہ کے خطبے شروع ہوتے ہیں اور امام جمعہ تقریر کرنا شروع کرتا ہے تو لوگوں پر ضروری ہوجاتاہے کہ وہ خامو ش اور آرام سے بیٹھیں اور نماز جیسی حالت بناکر امام جمعہ کے خطبوں کو غور سے نہیں _

سوالات

۱_ نماز جمعہ کی منظم صفیں کس بات کی نشاندہی کرتی ہیں؟

۲_ امام جمعہ خطبہ دیتے وقت ہاتھ میں ہتھیار کیوں لیکر کھڑا ہوتا ہے ؟

۳_ امام جمعہ کو کون معيّن کرتا ہے ؟

۴_ امام جمعہ نماز جمعہ کے خطبے میں کن مطالب کو بیان کرتا ہے ؟

۵_ نماز جمعہ کے خطبے دیئےانے کے وقت نماز یوں کا فرض کیا ہوتا ہے ؟

۱۳۰

آٹھواں سبق

روزہ

اسلام کی بزرگ ترین عبادات میں سے ایک روزہ بھی ہے

خدا روزا داروں کو دوست رکھتا ہے اور ان کو اچھی جزا دیتا ہے روزہ انسان کی تندرستی اور سلامتی میں مدد کرتا ہے

جو انسان بالغ ہوجاتا ہے اس پر ماہ مرضان کا روزہ رکھنا واجب ہوجاتا ہے اگرروزہ رکھ سکتا ہو اور روزہ نہ رکھے تو اس نے گناہ کیا ہے روزہ دار کو سحری سے لیکر مغرب تک کچھ نہیں کھانا چاہئے

ان جملوں کو مکمل کیجئے

۱_ اسلام کی بزرگ ترین ...ہے

۲_ خدا روزہ داروں ہے

۳_ روزہ انسان کی مدد کرتا ہے

۴_ روزہ دار کو نہیں کھانا چاہیئے

۵_ اگر روزہ رکھ سکتا ہو اور گناہ کیا ہے

۱۳۱

نواں سبق

ایک بے نظیر دولہا

ایک جوان بہادر اور ہدایت یافتہ تھا _ جنگوں میں شریک ہوتا تھا _ ایمان اور عشق کے ساتھ اسلام و قرآن کی حفاظت اور پاسداری کرتا تھا _ اللہ کے راستے میں شہادت کو اپنے لئے بڑا افتخار سمجھتا تھا کہ میدان جنگ میں شہید ہوجانا اس کی دلی تمنا تھی _ یہ تھا حنظلہ جو چاہتا تھا کہ مدینہ کی اس لڑکی سے جو اس سے منسوب تھی شادی کرلے شادی کے مقدمات مہيّا کرلئے گئے تھے _ تمام رشتہ داروں کو شادی کے جشن میں مدعو کیا جا چکا تھا _ اسی دن پیغمبر اکرم (ص) کو مطلع کیا گیا کہ دشمن کی فوج مدینہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور شہر پر حملہ کرنے والی ہے _

پیغمبر (ص) نے یہ خبر بہادر اور مومن مسلمانوں کو بتلائی اور جہاد کا اعلان فرمایا_ اسلام کے سپاہی مقابلہ اور جنگ کے لئے تیار ہوگئے _ جوان محافظ اور پاسداروں نے محبت اور شوق کے جذبے سے ماں باپ کے ہاتھ چومے خداحافظ کہا _ ماؤں نے اپنے کڑیل جوانوں کو جنگ کا لباس پہنایا اور ان کے لئے دعا کی _ چھوٹے بچے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اپنے باپ اور بھائیوں کو الوداع کررہے تھے _

اسلام کی جانباز فوج اللہ اکبر کہتے ہوئے شہر سے میدان احد کی طرف روانہ ہور ہی تھی _ اہل مدینہ اسلام کی بہادر فوج کو شہر کے باہر تک جاکر الوداع کہہ رہے تھے _ حنظلہ پیغمبر اسلام (ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پریشانی و شرمندگی کے عالم میں عرض کیا _ یا رسول اللہ (ص) میں چاہتا ہوں کہ میں بھی میدان احد میں حاضر ہوں اور جہاد

۱۳۲

کروں لیکن میرے ماں باپ اصرار کررہے ہیں کہ میں آج رات مدینہ رہ جاؤں _ کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آج رات مدینہ میں رہ جاؤں اور اپنی شادی میں شرکت کرلوں اور کل میں اسلامی فوج سے جا ملوں گا _ رسول خدا (ص) نے اسے اجازت دے دی کہ وہ مدینہ میں رہ جائے _ مدینہ خالی ہوچکا تھا _ حنظلہ کی شادی کا جشن شروع ہوا لیکن اس میں بہت کم لوگ شریک ہوئے _ حنظلہ تمام رات بیقرار رہا کیونکہ اس کی تمام تر توجہ جنگ کی طرف تھی وہ کبھی اپنے آپ سے کہتا کہ اے حنظلہ تو عروسی میں بیٹھا ہوا ہے لیکن تیرے فوجی بھائی اور دوست میدان جنگ میں مورچے بنارہے ہیں وہ شہادت کے راستے کی کوشش میں ہیں وہ اللہ کا دیدار کریں گے اور بہشت میں جائیں گے اور تو بستر پر آرام کررہا ہے _ شاید حنظلہ اس رات بالکل نہیں سوئے اور برابر اسی فکر میں رہے حنظلہ کی بیوی نئی دلہن کی آنکھ لگ گئی _ اس نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان پھٹ گیا ہے _ اور حنظلہ آسمان کی طرف چلا گیا ہے اور پھر آسمان کا شگاف بند ہوگیا ہے خواب سے بیدار ہوئی _ حنظلہ سحر سے پہلے بستر سے اٹھے اورجنگی لباس پہنا اور میدان احد کی طرف جانے کے لئے تیار ہوئے دلہن نے پر نم آنکھوں سے اس کی طرف نگاہ کی اور خواہش کی کہ وہ اتنی جلدی میدان جنگ میں نہ جائے اور اسے تنہا نہ چھوڑے حنظلہ اپنے آنسو پونچھ کر کہنے لگے اے میری مہربان بیوی _ میں بھی تجھے دوست رکھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ اچھی زندگی بسر کروں لیکن تجھے معلوم ہے کہ پیغمبر (ص) اسلام نے کل جہاد کا اعلان کیا تھا پیغمبر (ص) کے حکم کی اطاعت واجب ہے اور اسلامی مملکت کا دفاع ہر ایک مسلمان کا فرض ہے _ اسلام کے محافظ اور پاسدار اب میدان جنگ میں صبح کے انتظار میں قبلہ رخ بیٹھے ہیں تا کہ نماز ادا کریں اور دشمن پرحملہ کردیں میں بھی ان کی مدد کے لئے جلدی جانا چاہتا ہوں اے مہربان بیوی

۱۳۳

میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان فتح اور نصرت سے لوٹیں گے اور آزادی و عزت کی زندگی بسر کریں گے اگر میں ماراگیا تو میں اپنی امیدوار آرزو کو پہنچا اور تجھے خدا کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ بہترین دوست اور یاور ہے _ دولہا اور دلہن نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا اور دونوں کے پاک آنسو آپس میں ملے اور وہ ایک دوسرے سے جد ا ہوگئے _ حنظلہ نے جنگی آلات اٹھائے اور میدان احد کی طرف روانہ ہوے وہ تنہا تیزی کے ساتھ کھجوروں کے درختوں اور پتھروں سے گذرتے ہوے عین جنگ کے عروج کے وقت اپنے بھائیوں سے جاملے _ امیر لشکر کے حکم کے مطابق جو ذمہ داری ان کے سپرد ہوئی اسے قبول کیا اور دشمن کی فوج پر حملہ آور ہوئے باوجودیکہ وہ تھکے ہوئے دشمن پر سخت حملہ کیا _ چابکدستی اور پھر تی سے تلوار کا وار کرتے اور کڑکتے ہوئے بادل کی طرح حملہ آور ہوتے اور دشمنوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے دشمن کے بہت سے آدمیوں کو جنہم واصل کیا اور بالآخر تھک کر گرگئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہوگئے پیغمبر (ص) نے فرمایا کہ میں فرشتوں کو دیکھ رہا ہوں کو حنظلہ کے جسم پاک کو آسمان کی طرف لے جارہے ہیں اور غسل دے رہے ہیں _ یہ خبر اس کی بیوی کو مدینہ پہنچی

سوالات

۱_ پیغمبر اسلام نے کس جنگ کے لئے اعلان جہاد کیا ؟

۲_ پیغمبر کے اعلان جہاد کے بعد اسلام کے پاسدار کس طرح آمادہ ہوگئے ؟

۳_ حنظلہ پریشانی کی حالت میں پیغمبر (ص) (ص) کی خدمت میں کیوں حاضر ہوئے اور کیا کہا؟

۱۳۴

حنظلہ عروسی کی رات اپنے آپ سے کیا کہا رہے تھے اور ان کے ذہن میں کیسے سوالات آرہے تھے؟

۵_ دلہن نے خواب میں کیا دیکھا؟

۶_ حنظلہ نے چلتے وقت اپنی بیوی سے کیا کہا؟

۷_ حنظلہ کی بیوی نے حنظلہ سے کیا خواہش ظاہر کی؟

۸_ پیغمبر (ص) اسلام نے حنظلہ کے بارے میں کیا فرمایا؟

۱۳۵

چھٹا حصّہ

اخلاق و آداب

۱۳۶

پہلا سبق

والدین سے نیکی کرو

ایک شخص نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا کہ میرا لڑکا اسماعیل مجھ سے بہت اچھائی سے پیش آتا ہے وہ مطیع اور فرمانبردار لڑکا ہے _ ایسا کام کبھی نہیں کرتا جو مجھے گراں گذرے _ اپنے کاموں کو اچھی طرح انجام دیتا ہے امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس سے پہلے بھی اسماعیل کو دوست رکھتا تھا لیکن اب اس سے بھی زیادہ دوست رکھتا ہوں کیونکہ اب یہ معلوم ہوگیا کہ وہ ماں باپ سے اچھا سلوک روارکھتا ہے ہمارے پیغمبر(ص) ان اچھے بچوں سے جو ماں باپ سے بھلائی کرتے تھے _ محبت کرتے تھے اور ان کا احترام کرتے تھے

'' خداوند عالم قرآن میں فرماتا ہے ''

'' اپنے ماں باپ سے نیکی کرو''

سوالات

۱_ امام جعفر صاد ق (ع) نے اسماعیل کے باپ سے کیا کہا؟

۲_ اسماعیل کا عمل کیسا تھا؟

۳_ گھر میں تمہارا عمل کیسا ہے کن کاموں میں تم اپنے ماں باپ کی مدد کرتے ہو؟

۱۳۷

دوسرا سبق

استاد کا مرتبہ

ہمارے پیغمبر حضرت محمدمصطفی (ص) فرماتے ہیں : میں لوگوں کامعلّم اور استاد ہوں _ او ر انکو دینداری کا درس دیتا ہوں _

حضرت علی (ع) نے فرمایا : کہ باپ اور استاد کے احترام کے لئے کھڑے ہوجاؤ _

چوتھے امام حضرت سجاد (ع) نے فرمایا ہے : استاد کے شاگرد پر بہت سے حقوق ہیں : پہلا حق شاگرد کو استاد کا زیادہ احترام کرنا _ دوسرا : اچھی باتوں کی طرف متوجہ ہونا _ تیسرا : اپنی نگاہ ہمیشہ استاد پر رکھنا _ چوتھا : درس یاد رکھنے کے لئے اپنے حواس جمع رکھنا _ پانچواں : کلاس میں اس کے درس کی قدر اور شکریہ ادا کرنا _

ہم آپ (ع) کے اس فرمان کی پیروی کرتے ہیں _ اور اپنے استاد کو دوست رکھتے ہیں اور انکا احترام کرتے ہیں _ اور جانتے ہیں کہ وہ ماں باپ کی طرح ہم پر بہت زیادہ حق رکھتے ہیں _

سوالات

۱_ لکھنا پڑھنا کس نے تمہیں سکھلایا؟

۲_ جن چیزوں کو تم نہیں جانتے کس سے یاد کرتے ہو؟

۳_ انسانوں کے بزرگ ترین استاد کوں ہیں؟

۴_ ہمارے پہلے امام (ع) نے باپ اور استاد کے حق میں کیا فرمایا؟

۵_ ہمارے چوتھے امام(ع) نے استاد کے حقوق کے بارے میں کیا فرمایا؟

۱۳۸

تیسرا سبق

اسلام میں مساوات

ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ (ع) ایک دستر خوان پر اپنے خادموں اور سیاہ غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے میں نے کہا: کاش: آپ (ع) خادموں اور غلاموں کے لئے علیحدہ دستر خوان بچھاتے _ مناسب نہیں کہ آپ (ع) ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں _ امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا_ چپ رہو میں کیوں ان کے لئے علیحدہ دستر خوان بچھاؤں؟ ہمارا خدا ایک ہے ہم سب کے باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ہم سب کی ماں حضرت حوّا ، علیہا السلام ہیں _ ہر ایک کی اچھائی اور برائی اور جزا اس کے کام کی وجہ سے ہوتی ہے _ جب میں ان سیاہ غلاموں اور خادموں کے ساتھ کوئی فرق روا نہیں رکھتا توان کیلئے علیحدہ دستر خواہ کیوں بچھاؤں

سوالات

۱_ امام رضا علیہ السلام کن لوگوں کے ساتھ کھا ناکھارہے تھے ؟

۲_ اس آدمی نے امام رضا علیہ السلام سے کیا کہا؟

۳_ امام رضا علیہ السلام نے اسے کیا جواب دیا ؟

۴_ تم کس سے کہوگے کہ چپ رہو اور کیوں؟

۵_ ہر ایک کی اچھائی اور برائی کا تعلق کس چیز سے ہے ؟

۶_ امام رضا علیہ السلام کے اس کردار کی کس طرح پیروی کریں گے ؟

۱۳۹

چوتھا سبق

بوڑھوں کی مدد

ایک دن امام موسی کاظم (ع) مسجد میں مناجات اورعبادت میں مشغول تھے ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا کہ جس کا عصا گم ہوچکا تھا جس کی وجہ وہ اپنی جگہ سے نہیں اٹھ سکتا تھا آپ(ع) کا دل اس مرد کی حالت پر مغموم ہوا با وجودیکہ آپ (ع) عبادت میں مشغول تھے لیکن اس کے عصا کو اٹھا کر اس بوڑھے آدمی کے ہاتھ میں دیا اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہوگئے _ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا ہے کہ زیادہ عمر والوں اور بوڑھوں کا احترام کرو _ آپ (ع) فرماتے ہیں : کہ بوڑھوں کا احترام کرو جس نے ان کا احترام کیا ہوگیا اس نے خدا کا احترام کیا _

سوالات

۱_ بوڑھا آدمی اپنی جگہ سے کیوں نہیں اٹھ سکتا تھا؟

۲_ امام موسی کاظم (ع) نے اس بوڑھے آدمی کی کس طرح مدد کی ؟

۳_ پیغمبر (ص) بوڑھوں کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

۴_ کیا تم نے کبھی کسی بوڑھے مرد یا عورت کی مدد کی ہے ؟

۵_ بوڑھوں کے احترام سے کس کا احترام ہوتا ہے ؟

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273