• ابتداء
  • پچھلا
  • 18 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1339 / ڈاؤنلوڈ: 596
سائز سائز سائز
وہابیت کے چہرے

وہابیت کے چہرے

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

نام کتاب : وہابیت کے چہرے

مصنف : صائب عبدالحمید

مترجم : شعبۂ ترجمہ

پیشکش: معاونت فرہنگی ادارۂ ترجمہ

ناشر : مجمع جہانی اہلبیت علیہ السلام

طبع اول: ١٤٢٧ ھ ٢٠٠٦ئ

تعداد : ٣٠٠٠

پریس : اعتماد

قال رسول اﷲ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم : ''اِنِّی تَارِک فِیکُم الثَّقلَین، کتابَ اﷲِ، وعِترَتی اَهلَ بیتی ما اِن تَمَسَّکْتُم بِهِما لَن تَضِلُّوا اَبَدًا واِنَّهُما لَنْ یَفتَرِقا حتّیٰ یَرِدا عَلَیَّ الحَوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہلبیت(علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

(صحیح مسلم: ١٢٢٧، سنن دارمی: ٤٣٢٢، مسند احمد: ١٤، ١٧، ٢٦، ٥٩. ٣٦٦٤ و ٣٧١. ١٨٢٥، اور ١٨٩، مستدرک حاکم: ١٠٩٣، ١٤٨، ٥٣٣. و غیرہ)

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچے و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور ،عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے اپنی قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غارحراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اسی لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہلبیت اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرا ت سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہلبیت نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہلبیت کونسل) مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر ا ہلبیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کے فروغ دینے کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہلبیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و ا نسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب(الوہابیة فی صورتہاالحقیقیة) مکتب اہلبیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو فاضل محترم جناب صائب عبدالحمید کی تالیف ہے اور شعبہ ٔترجمہ نے اسے اردو زبان کے ترجمہ سے آراستہ کروایاہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہلبیت علیہم السلام

پہلی فصل

وہابیت اور اس کا بانی

جیسا کہ فرقۂ وہابیت کے نام ہی سے واضح ہے کہ یہ فرقہ محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان نجدی سے منسوب ہے جو ١١١١ھ میں پیداہوئے تھے اور ١٢٠٦ ھ میں انتقال کیا ۔

محمد بن عبد الوہاب نے تھوڑی بہت دینی تعلیم حاصل کی تھی مگر کیونکہ انھیں جھوٹے مدعیان نبوت ،یعنی مسیلمۂ کذّاب، سجاج، اسود عنسی اور طُلَیحۂ اسدی جیسے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کافی دلچسپی تھی اسی بنا پر اپنی تعلیم کے دوران ہی ان کے اندر انحراف اور گمراہی کے آثار اس حد تک نمایاں ہوچکے تھے کہ ان کے والد اور اساتذہ اس خطرہ سے لوگوں کو ہوشیار کرنے پر مجبور ہوگئے اس بارے میں ان حضرات کے یہ الفاظ ملاحظہ فرما ئیے۔

''یہ (محمد بن عبد الوہاب) بہت جلد گمراہ ہونے والا ہے اور جن لوگوں کو خداوند عالم اپنی رحمت سے دور کر کے شقاوت (بدبختی) میں مبتلا کرنا چاہے گاانہیں اس کے ذریعہ گمراہ کردے گا''

١١٤٣ھ میں محمد بن عبد الوہاب نے اپنے نئے مذہب (فرقہ) کی طرف لوگوں کو دعوت دینا شروع کی تو سب سے پہلے ان کے والد اور اساتذہ ہی اس انحراف کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی تمام باتوں کا جواب دیتے رہے اسی لئے انہیں کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ ہوسکا۔

یہاں تک کہ ١١٥٣ھ میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا جس کے بعد انہوں نے دوبارہ سادہ لوح عوام کے درمیان اپنے افکار (وہابیت ) کی تبلیغ شروع کردی، اگرچہ اس بار چند کم مایہ افراد نے موصوف کی پیروی ضرور کی مگر ان کے شہر والوں نے ہی ان کے خلاف ہنگامہ کردیا اور وہ ان کے قتل پر تیار ہوگئے جس کے خوف سے انہیں ''عینیہ'' شہر کی طرف فرار ہونا پڑا ،وہاں پہونچ کر وہ وہاں کے حاکم سے اتنا قریب ہوئے کہ اس کی بہن سے شادی کرلی. اور وہاں بھی اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ جاری رکھی مگر وہاں بھی لوگوں نے ان کا جینا دوبھر کردیا اور بالآخر شہر بدر بھی کردئے گئے وہ وہاں سے نجد کے مشرقی علاقہ ''درعیہ'' (نامی جگہ) کی طرف بھاگے جہاں اس سے پہلے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمۂ کذّاب اور اس جیسے دوسرے باطل فرقوں اورمذاہب نے سر ابھارا تھا۔

شائد یہ اسی سر زمین کا اثر تھا کہ محمد بن عبد الوہاب کے نظریات یہاںپروان چڑھنے لگے اور وہاں کے حاکم محمد بن سعود اور اس کی رعایا نے ان کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا۔

اس شخص کواگرچہ اجتہاد سے کہیں دور کا واسطہ بھی نہیں تھا پھر بھی یہ ہرمسئلہ میں ایک مسلم الثبوت مجتہد کی طرح دخل اندازی کرتا رہتا تھا اور اسے گذشتہ یا اپنے ہم عصر مجتہد ین کے اقوال اور نظریات کی کوئی پرواہ نہ تھی۔

یہ بات ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ خود موصوف کے بھائی شیخ سلیمان بن عبد الوہاب جو اپنے بھائی کو دوسروں سے بہتر جانتے اور پہچانتے تھے یہ الفاظ ان کے ہیں، انہوں نے اپنے بھائی کی گمراہی ،انحراف اور اس کی باطل پر مبنی جھوٹی تبلیغ کے بارے میں ایک کتاب تالیف کی ہے جس میں بہت ہی مختصر اور جامع انداز میں وہابیت اور اس کے موجد کے بارے میں وہ یوں رقمطراز ہیں:

''آج لوگ ایسے آدمی کے ہاتھوں امتحان میں مبتلا ہوگئے ہیں جو کتاب و سنت کی طرف اپنی نسبت دیتا ہے اور انہیں دونوں سے استنباط کا دعویٰ کرتا ہے اور چاہے جو شخص بھی اس کی مخالفت کرلے اسے کوئی پرواہ نہیں ہے وہ اپنے مخالفوں کو کافر سمجھتا ہے جب کہ اس کے اندر اجتہاد کی کوئی ایک علامت بھی موجود نہیں ہے بلکہ خدا کی قسم اس کے اندر اجتہاد کی علامت کا دسواں حصہ بھی موجود نہیں ہے اس کے باوجود اس کی باتیں بعض نا دانوں اور (سادہ لوح عوام) پر اثر انداز ہو رہی ہیں جس کے بعد''انا لله و انا الیه راجعون '' ہی کہا جاسکتاہے۔

مزید تفصیل کے لئے محمود شکری آلوسی کی تالیف تاریخ نجد، شیخ سلیمان بن عبد الوہاب کی کتاب الصواعق الالہٰیہ فی الرد علی الوہابیہ، ص٧،یا فتنۂ وہابیت،ص٥ملاحظہ فرمائیں۔

دوسری فصل

وہابی نظریات کی بنیادیں

وہابیت کی دو بنیادیں ہیں: ظاہری اور باطنی (خفیہ)

ان کا ظاہری دعویٰ تو یہی ہے کہ یہ لوگ کامل اور خالص توحید کے مبلغ اور شرک و بت پرستی کے خلاف جنگ و جہاد کے علمبردار ہیں. اگرچہ ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ تاریخ وہابیت میں اس کا کوئی عملی نمونہ نہیں دکھائی دیتا ۔

وہابیت کا خفیہ کام اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکا کر مغربی استعمار کی خدمت کرناہے اور ان کا یہ خفیہ مقصد ہی ان کی تمام ریشہ دوانیوں کی بنیاد ہے اور وہابیت نے روز اول سے آج تک اپنے اسی منصوبہ پر اپنی پوری طاقت اور دولت صرف کی ہے اور صرف اسی مقصد کے تحت یہ لوگ سادہ لوح عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ''حقیقی توحید اور شرک و بت پرستی سے مقابلہ'' یہ ایک ایسا حسِین اور پرکشش نعرہ ہے جس کے تحت وہابی حضرات خوشی خوشی اکٹھا ہو جاتے ہیں. جب کہ انہیں خود ہی یہ معلوم نہیں رہتا کہ در اصل یہ سب کچھ اس فرقہ کے خفیہ منصوبوں کی تکمیل کے لئے انجام دیا جارہا ہے۔

تاریخ وہابیت سے متعلق تحقیق کرنے والے مورخین اور محققین نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ فرقہ در اصل حکومت برطانیہ کی وزارت مستعمرات کے براہ راست حکم سے وجود میں آیا ہے ۔

مزید تفصیلات کے لئے خیری حماد کی تالیف عمدة الاستعمار سنٹ جون فیلبی یاعبدا ﷲ فیلبی کی تاریخ نجد،اسرائیل کے پہلے صدرہیمز وائز من کی ڈائری ، مسٹر ہمفرے کی نوٹ بک ،یا ڈاکٹر ہمایوں ہمتی کی تالیف'' وہابیت: تنقیدوجائزہ'' ملاحظہ فرمایئے ۔

تیسری فصل

وہابیت کے فکری سر چشمے

وہابی فرقہ کے عقائد دو طرح کے ہیں:

وہ عقائد جن کے بارے میں قرآن یا سنت میں کوئی نص موجود ہے، اس سلسلہ میں وہابیوں کا یہ خیال ہے کہ وہ ایسے عقائد کو براہ راست کتاب و سنت سے حاصل کرتے ہیں اوراس بارے میں کسی مجتہد کی طرف رجوع نہیں کرتے چاہے وہ مجتہد صحابی ہو یا تابعی اوریا کوئی امام ہو۔

دوسرے وہ عقائد جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہیں ہے اس کے لئے وہ اپنے خیال کے مطابق امام احمد بن حنبل اور ابن تیمیہ کے فقہی فتووں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

لیکن ان دونوں ہی مقامات پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ تضاد گوئی کے جال میں پھنس کر رہ گئے، اسی وجہ سے وہ عجیب و غریب حرکتوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر چند نمونے ملاحظہ فرمایئے:

الف: وہابی حضرات نے بعض آیات و روایات کے جو معنی خود سمجھے ہیں وہ اسی پر مصرہیں چاہے وہ اجماع امت کے سراسر خلاف ہی کیوں نہ ہو ں،اسی لئے شیخ محمد عبدہ نے ان کی یہ پہچان بیان کی ہے ''وہابی حضرات ہر تقلید کرنے والے (مقلد) سے زیادہ تنگ نظر اور غصہ ور ہیں اسی لئے جن قواعد و ضوابط پر دین کا دارو مدار ہے یہ ان سے تمسک کئے بغیر جس لفظ سے انہیں جو کچھ سمجھ میں آتا ہے اسی پر عمل کرنے کو واجب سمجھتے ہیں۔ ]الاسلام والنصرانیہ،مؤلفہ محمد عبدہ ،با حاشیہ ٔرشید رضا، ص٩٧، طبع دوم)

ب: وہابی حضرات اگرچہ امام احمد بن حنبل کی پیروی کے مدعی ہیں مگر وہ اپنے ہی امام کے نظریات کے مخالف ہیں. کیونکہ یہ لوگ اپنے مخالف کو کافر سمجھتے ہیں جب کہ امام احمد بن حنبل کے فتووں میں وہابیوں کو اپنے اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ملی ہے بلکہ اس کے برعکس امام احمدبن حنبل کے تمام نظریات ان کے دعووں کے برخلاف نظر آتے ہیں یعنی امام حنبل کسی اہل قبلہ (مسلمان) کو گناہ کبیرہ یا صغیرہ کرنے کی وجہ سے کافر نہیں سمجھتے مگر یہ کہ وہ بے نمازی ہو۔]العقیدة لاحمد بن حنبل، ص ١٢٠[

اسی طرح ابن تیمیہ کے یہاں بھی وہابیوں کے اس عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں ملتی بلکہ ابن تیمیہ سے منقول چیزوں میں تو ان کے بالکل مخالف بات نظر آتی ہے۔

اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کے الفاظ یہ ہیں: ''جو شخص اپنے موافقین سے دوستی رکھے اور اپنے مخالفین کا دشمن ہو اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرے اور جو لوگ فکری یا اجتہادی اعتبار سے اس کے مخالف ہیں (موافق نہیں ہیں) انہیں کافر و فاسق قرار دے اور ان سے جنگ کرنے کو مباح کہے وہ خود اہل تفرقہ و اختلاف ہے۔ ]فتووں کامجموعہ: ابن تیمیہ، ج٣، ص٣٤٩[

اس طرح ابن تیمیہ کے نظریہ کے مطابق وہابی فرقہ، اہل تفرقہ و اختلاف ہے۔

ج: قبروں اور مزاروں کی زیارت کے بارے میں وہابیوں کے عقیدہ کا لازمہ یہ ہے کہ خود امام احمد بن حنبل یا ان کے ہم خیال گذشتہ اور موجودہ تمام علماء بلا استثناء سب ایسے مشرک ہیں جن سے دور رہنا اور انہیں قتل کرنا اور ان کے اموال کو تاراج کر نا واجب ہے جبکہ خود ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے کہ امام احمدبن حنبل نے امام حسین کی قبر کی زیارت اور زائر ین کے لئے کچھ ضروری آداب پر مبنی ایک رسالہ لکھا ہے. مزید یہ کہ ابن تیمیہ نے ہی یہ بھی تحریر کیا ہے کہ:'' امام احمدبن حنبل کے زمانہ میں لوگ امام حسین کی زیارت کے لئے کربلا جاتے تھے''۔ ]کتاب راس الحسین، ابن تیمیہ جو کتاب استشہاد الحسین طبری کے ساتھ طبع ہوئی ہے، ص٢٠٩[

ایک طرف وہابیوں کے عقیدہ کے مطابق قبروں کی زیارت کرنا اور مزارات پر حاضری دینا ایک ایسا شرک ہے جس کے مرتکب ہونے والے کی جان و مال مباح ہے دوسری طرف ابن تیمیہ اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک کچھ آداب کے ساتھ زیا رت کی جا سکتی ہے اب ہر شخص خود فیصلہ کرسکتا ہے کہ ان حضرات نے اپنے اس عقید ہ میں خود امام احمدبن حنبل (جن کو اپنا پیشو ا قرار دیتے ہیں) اور ان کے دورکے علماء کے علاوہ ایسے تمام علماء کو مشرک ،نیزان کے خون (جان) اور مال کو مباح قرار دیا ہے جو قبروں کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور ان کی نظر میں زیارت قبور ایک مستحب عمل تھا۔

بلکہ وہابیوں کے اس عقیدہ کا لازمہ تو یہ ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک پوری امت مسلمہ ہی کافر ہے جس میں صحابۂ کرام بھی شامل ہیں۔

اگر حق یہی ہے تو پھر یہ حضرات کس بنا پر اپنے کو امام احمدبن حنبل یاگذشتہ مسلمانوں سے وابستہ سمجھتے ہیں؟۔

د: اسی طرح شفاعت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعلق وہابیت کا دوسرا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں: ''جو شخص پیغمبر اکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی وفات کے بعد آپ سے شفاعت طلب کرے وہ ایک عظیم شرک کا مرتکب ہوا ہے کیونکہ ایسے شخص نے پیغمبر اکرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کو بت بنا دیا اور اس نے غیر خدا کی عبادت کی ہے'' لہذا یہ حضرات اس کے خون اور مال کو مباح جانتے ہیں۔ ]تطہیر الاعتقاد،: صنعانی، ص٧[

جب کہ صحیح روایات کے ذریعہ یہ ثابت ہے کہ بہت سے صحابہ اور تابعین اس عمل کو انجام دیتے تھے اور ان کی دعا بھی بہت جلد مستجاب ہوتی تھی اور وہ اپنی حاجت حاصل کرلیتے تھے۔

ابن تیمیہ نے اپنی کتاب، الزیارة، ج٧ میں، ص٦ ۔ ١٠١ پر اس بات کو صحیح قرار دیا ہے اور چند سندوں کے ساتھ اسے بالتفصیل بیہقی، طبرانی، ابن ابی دنیا، احمد بن حنبل اور ابن سنی سے نقل کر نے کے علاوہ یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس بات کی دلیل اور برہان موجود ہے اگرچہ وہ اپنے نظریہ کے مطابق اس کی مخالفت پر مصر بھی ہیں لیکن پھر بھی ابن تیمیہ نے مسئلہ شفاعت کو وہابیوں کی طرح شرک اکبر نہیں قرار دیا ہے۔

لہذا وہابیوں کے نظریہ کے مطابق، اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کی پیروی کرنے والے تمام حضرات ایسے مشرک ہیں جو واجب القتل ہیں بلکہ عقیدۂ وہابیت کے مطابق نہ صرف یہ کہ یہی حضرات مشرک ہیں بلکہ اگر کوئی شخص یہ سن لے کہ صحابہ اور ان کے تابعین نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کی تھی اور وہ ان کے اس عمل سے بیزاری کا اظہار نہ کرے اورانھیں کافر نہ سمجھے تو اس کی جان و مال بھی مباح ہے۔

سبحان اللہ!!

وہابیت اپنے اس عقیدہ اور مذہب کے بعد امت مسلمہ میں کس کو مسلمان سمجھتی ہے اوراپنے اسلاف میں کس کی پیرو باقی رہ جاتی ہے؟؟!

چوتھی فصل

صحابہ کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

الف: پہلے یہ ثابت کیا جاچکا ہے کہ وہابی عقائد کے مطابق اکثر صحابہ یا کافر ہیں یامشرک! اور اس میں وہ تمام صحابہ شامل ہیں جو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرتے تھے اور آپ کی قبر مبارک کی زیارت کے لئے جاتے تھے یا اسے جائز سمجھتے تھے، یا دوسروں کو یہ اعمال انجام دیتے ہوئے دیکھتے،مگر بیزاری کا اظہار نہیں کرتے تھے، حتی کہ جو لوگ اس کے جواز کے قائل تھے اوروہ انہیں کافر یا مشرک اور ان کی جان و مال وغیرہ کو حلال نہیں قرار دیتے تھے وہ بھی اسی حکم میں ہیں!!

یہ بات وہابی عقائد کا لازمہ ہے اور ان کا موجودہ نظریہ بھی یہی ہے۔

لیکن یہ لوگ اپنی باتوں کے دوران صحابہ کا جو احترام کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،در حقیقت ان باتوں کے ذریعہ یہ لوگ سادہ لوح عوام کو فریب دیتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے یہ اپنا اصل عقیدہ بیان کرنے سے ڈر تے ہیں لہذا ان کے خوف کی وجہ سے صحابہ کی تکفیر کے مسئلے کو صحیح انداز سے بیان نہیں کرتے ۔

ب: وہابیوں نے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعدزندہ رہ جانے والے صحابہ کو ہی نشانہ نہیں بنایا بلکہ آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کی حیات طیبہ میں آپ کے ساتھ رہنے والے صحابۂ کرام بھی ان کی گستاخیوں سے محفوظ نہ رہ سکے. بانیٔ وہابیت محمد بن عبد الوہاب کے یہ الفاظ ملاحظہ فرمایئے:

''اگر چہ بعض صحابہ آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کی رکاب میں جہاد کرتے تھے، آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، زکوٰة دیتے تھے، روزہ رکھتے تھے اور حج کرتے تھے پھر بھی وہ کافر اور اسلام سے دور تھے''!! ]الرسائل العملیة التسع، مؤلفہ محمد بن عبد الوہاب، رسالۂ کشف الشبہات، ص١٢٠، مطبوعہ ١٩٥٧ئ [

ج: صحابہ کے بارے میں وہابیوں کے اس عقیدہ کی تائید ان چیزوں سے بھی ہوتی ہے جو ان کے علماء اور قلم کاروں نے یزید کی تعریف اور حمایت میں تحریر کیاہے۔ جب کہ تاریخ میں یزید جیسا ،صحابہ کا اور کوئی دشمن نہیں دکھائی دیتا جس نے صحابہ کی جان و مال اور عزت و آبرو کو بالکل حلال کر دیا تھا نیز یزید جیسا اور کوئی ایسا شقی نہیں ہے جس نے تین دن تک اپنے لشکر کے لئے(واقعہ حرّہ میں) مدینہ کے مسلمانوں کی جان و مال اور آبرو ،سب کچھ حلال کردی ہو۔

چنانچہ تین دنوں کے اندر مدینہ میں جو لوگ بھی مارے گئے وہ صحابہ یا ان کے گھر والے ہی تھے اور جن عورتوں اور لڑکیوں کی عزت تاراج کی گئی ان سب کا تعلق بھی صحابہ کے گھرانوں سے ہی تھا. یہی وجہ ہے کہ آئندہ سال مدینہ کی ایک ہزار کنواری لڑکیوں کے یہاں ایسے بچوں کی ولادت ہوئی جن کے باپ کا کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔

واقعہ حرّہ سے پہلے یزید کی سب سے بڑی بربریت کربلا میں سامنے آئی جب اس نے خاندان رسالت و نبوت کی اٹھارہ (١٨) ہستیوں کو تہ تیغ کر ڈالا جن کے درمیان آنحضرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ت کے پیارے نواسے اور آپ کے دل کے چین حضرت امام حسین نیز ان کے بیٹے، بھتیجے اور دوسرے اعزاء و اقرباء حتی کہ٦ مہینے کا شیر خوار بچہ بھی تھا۔

یزید کا ایک بڑا جرم یہ بھی ہے کہ اس نے مکۂ مکرمہ پر حملہ کر کے خانۂ کعبہ میں آگ لگوائی۔

جی ہاں!

وہابی حضرات اسی یزید کے قصیدہ خواں ہیں! اب اس کا راز کیا ہے ؟یہ کون بتائے!۔

ہوسکتا ہے (شاید) صحابہ اور ان کی عورتوں اور بچوں کے اوپر ظلم و تشدد اور ان کے ساتھ اس ناروا سلوک کی بنا پر ہی یہ لوگ یزید کی تعریف کرتے ہوں!!

مزید تعجب یہ کہ! یزید نماز نہیں پڑھتا تھا. اور شراب پیتا تھااور فقہ امام ابو حنیفہ کے مطابق (وہابی حضرات جس پر عمل پیرا ہونے کے مدعی ہیں) انہیں اُس کی صرف اِسی حرکت کی بنا پر اسے کافرقرار دے دینا چاہئے مگر وہ پھر بھی اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسے معذور قرار دیتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے؟ کہ یزید کی ان تمام حرکتوںکو جاننے کے باوجود یہ لوگ اسے کچھ نہیں کہتے؟ بلکہ اس کی تعریف کرتے ہیںمگر جن لوگوں نے قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے شفاعت طلب کرلی یا وہ آپ کی زیارت کی نیت سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر مبارک پر چلے گئے ان کو کافر قرار دیدیا، چاہے وہ بڑے بڑے صحابہ، تابعین یا مجتہدین کرام ہی کیوں نہ ہوں؟۔

کیا یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ یزید نے اصحاب پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خون بہایا، ان کی عزت و آبرو کو تاراج کیا اور ان کی ناموس کو ظالموں کے لئے مباح کر دیا تھا؟!

پانچویں فصل

صفات خدا کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

اللہ تعالیٰ کے صفات کے بارے میں وہابی بالکل مجسِّمہ (جو لوگ خدا کے لئے جسم کے قائل ہیں) جیسا عقیدہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ لوگ خدا کے لئے اعضاء و جوارح کے قائل ہیں جیسے ہاتھ، پیر، آنکھ یا چہرہ وغیرہ.... اس کے علاوہ اس کے لئے اٹھنے بیٹھنے، حرکت کرنے، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے، نیچے یا اوپر آنے،جانے کے بالکل اسی طرح قائل ہیں جو ان الفاظ کے ظاہری معنی سے سمجھ میں آتا ہے!!

خداوند کریم ہمیں ان نادانوں کی گمراہ کن باتوں اور عقائد سے اپنی امان میں رکھے۔ ]ھٰذہ السنیة، رسالۂ چہارم :عبد اللطیف[

اس بارے میں وہابی فرقہ ابن تیمیہ کا پیرو ہے اور یہ درحقیقت ''حشویہ'' کا عقیدہ ہے جو اہل حدیث ہیں اور ان کے پاس اسلامی عقائد اور فقہ و اصول کا کوئی خاص علم نہیں، اسی لئے ان لوگوں کو حدیث کے الفاظ سے جو کچھ سمجھ میں آجاتا ہے یہ اسی کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں' 'واضح رہے کہ حشویہ کا یہ عقیدہ ،یہودیوں کے مجسِّمہ فرقہ کے عقائد سے ماخوذ ہے''۔

اس سے یہ بخوبی ثابت ہو جاتا ہے کہ وہابی ایسے عقائد رکھتے ہیں جن کی تائید کے لئے وہ صحابہ یا تابعین (کے پہلے طبقہ) کے اقوال سے بطور دلیل ایک حرف بھی پیش نہیں کرسکتے پھر بھی ان لوگوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ہمارے تمام اسلاف کا یہی عقیدہ تھا مگر اس کے ثبوت میں کوئی مستحکم اور متقن دلیل پیش کرنے کے بجائے اسے بے سر پیر کی لمبی چوڑی باتوں سے آراستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ان تمام باتوں سے بڑھ کر، وہابیت کو اپنے اس عقیدہ کی دلیل کے لئے اس ایک بات کے علاوہ اور کچھ نہ مل سکا جو ابن تیمیہ کے منھ سے نکلی تھی اور وہ بھی ایسا جھوٹ ہے جو ان کے متعصب اور سادہ لوح پیرؤوں کے علاوہ کسی کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔

ابن تیمیہ نے وہابیت کے اس عقیدہ کی سب سے اہم دلیل اور سند کے بارے میں یہ کہا ہے: '' صحابہ کے درمیان قرآن کی کسی آیتِ صفات کی تاویل کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔''

اس کے بعد تحریر کیا ہے:'' میں نے ان تفسیروں اورحدیثوں کا مطالعہ کیا ہے جو صحابہ سے منقول ہیں اور چھوٹی، بڑی سو سے زائد کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں جن کی صحیح تعداد خدا جانتا ہے لیکن اب تک مجھے کوئی ایسا صحابی نہیں ملا جس نے صفات (خدا) سے متعلق آیات و روایات کی تاویل، اس کے ظاہری معنی کے برخلاف بیان کی ہو۔ ]تفسیر سورۂ نور، ابن تیمیہ، ص١٧٩، ١٧٨[

اسی کتاب میں ابن تیمیہ نے تحریر کیا ہے... ''کہ میں نے اپنی نشستوں (محفلوں) میں یہ بات متعددباربیان کی ہے۔''

لیکن ابن تیمیہ کا یہ بیان بالکل غلط ہے جس کا ثبوت وہ تمام کتابیں ہیں جو صفات خدا سے متعلق آیات کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں خاص طور سے وہ کتابیں جن میں صحابہ کی تفسیر نقل ہوئی ہے اس کے علاوہ خود وہ کتابیں بھی اس کی بہترین سند ہیں جن پر ابن تیمیہ نے زور دیاہے اور یہ کہا ہے: ''ان کتابوںنے صحابہ اور اسلاف کی تفسیروں کو صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے''اور انہیں کتابوں میں ان کی یہ من گڑھت اور جھوٹی باتیں موجود نہیں ہیں جن میں تفسیر طبری، تفسیر ابن عطیہ، تفسیر بغوی سب سے اہم کتابیں ہیں۔ ]مقدمہ فی اصول التفاسیر، از ابن تیمیہ، ص٥١[

ان تمام تفسیروں میں صحابہ سے آیات ِصفات کی تاویل ان کے ظاہری معنی کے برخلاف نقل ہوئی ہے اور تفسیر کا یہ انداز تمام آیات ِصفات میں یکساں طور پر نظر آتا ہے۔

مثال کے طور پر طبری ،ابن عطیہ اور بغوی کے نظریہ کے مطابق آیة الکرسی کی تفسیر ملاحظہ فرمایئے: ان تمام حضرات نے اس سلسلہ میںابن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے کہ''کُرسِیُّہ'' سے علم خدا مراد ہے۔

ابن عطیہ نے اسی تفسیر پر اکتفا کی ہے اور اس بارے میں ابن عباس کے علاوہ بقیہ لوگوں سے جو کچھ بھی نقل ہوا ہے اسے اسرائیلیات اور حشویہ کی روایات قرار دیا ہے جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ]شوکانی نے فتح القدیر، ج١، ص٢٧٢، پر اسے ابن تیمیہ سے نقل کیا ہے[

اسی طرح وہ تمام روایتیں جن میں کلمۂ ''وجہ'' آیا ہے جیسے 'وجہ ربک'اور 'وجہہ'یا 'وجہ اللّٰہ 'کے بارے میں صحابہ سے جو سب سے پہلی چیز نقل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر جگہ سیاق وسباق کے مطابق اس سے ارادہ یا ثواب وغیرہ مراد لیا ہے۔

لہٰذا خدا کے لئے جسم قرار دینے کے بارے میں وہابیوں کے عقیدہ کی صرف ایک دلیل ، وہی تہمت ہے جسے وہ صحابہ کے سر تھوپتے ہیں اور سراسر غلط بیانی سے کام لیتے ہیں ،مشہور کتب تفسیر کی طرف جھوٹی نسبت دیتے ہیں جب کہ اس بارے میں تحقیق کرنا نہایت آسان ہے کیونکہ ہر صاحب علم ان کتابوں کا مطالعہ کر کے صحیح صورتحال کا خود اندازہ کرسکتا ہے۔

مثال کے طور پر تفسیر بغوی ملاحظہ فرمایئے: جس کی تعریف و تمجید کرتے ہوئے ابن تیمیہ نے یہ کہا ہے: ''اس میں جعلی اور گڑھی ہوئی احادیث نقل نہیں ہوئی ہیں ''اب اس تفسیر میں صفات خدا سے متعلق ان آیات کی تفسیر ملاحظہ کیجئے: سورۂ بقرہ، آیت ١١٥ و ٢٢٥ (آیة الکرسی) و ٢٧٢، سورۂ رعد آیت ٢٢،سورۂ قصص آیت ٨٨، سورۂ روم، آیت ٣٨ و ٣٩، سورۂ دہر ، آیت٩ ۔

تفسیر بغوی کامطالعہ کرنے کے بعد آپ کو یہ بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ وہابیوں نے بزرگانِ دین اور اسلاف صالح پر کتنا بڑا بہتان لگایا ہے۔

چھٹی فصل

وہابی اور مسلمان

وہابیوں کی سب سے بڑی بدعت

وہابیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ دنیا میں صرف وہابی ہی اصل موحّد ہیں اور ان کے علاوہ بقیہ تمام مسلمان مشرک ہیں،لہٰذا انہیں یا ان کی اولادوں کو قتل کرنا اور ان کا مال لوٹنا جائز ہے اور ان کے علاقے (ممالک) کفر و شرک کے علاقوں (ممالک) میں شامل ہیں۔

اس فرقہ کا عقیدہ ہے کہ جب تک کوئی مسلمان بھی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کی مسجد یا قبر اور ان کی زیارت کی نیت سے مدینہ جائے گا یا آپ سے شفاعت طلب کرے گا اس کے لئے ''لا الٰه الا اللّٰه'' اور ''محمّد رسول اللّٰه ' 'کی گواہی دینا بے فائدہ ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو مسلمان بھی مذکورہ باتوں کا عقیدہ رکھتا ہے وہ مشرک ہے اور اس کا شرک دور جاہلیت کے مشرکوں، بت پرستوں اور ستارہ پرستوں سے بھی بدتر ہے۔ ]مزید تفصیل کے لئے الرسائل العلمیہ التسع، مؤ لفہ: محمد بن عبد الوہاب ، ص٧٩، یاصنعانی کی تالیف: تطہیر الاعتقاد ص١٢،ا ور ص٣٥، فتح المجید، ص٤٠وص٤١،اور رسالۂ اربع قواعدنیز رسالۂ کشف الشبہا ت ،مؤ لفہ: محمد بن عبد الوہاب یا وہابیوں کی دوسری اہم کتابیں ملاحظہ فرمایئے[

محمدبن عبد الوہاب نے کشف الشبہات نامی رسالہ میں تقریباً ٢٤ بار (اپنے پیرووں کے علاوہ)تمام مسلمانوں کے لئے شرک اور مشرک جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں اور بیس (٢٠) بار انہیں کفار، بت پرست، مرتد، منکرتوحید، دشمن توحید، دشمن خدا اور اسلام کا مدعی کہا ہے اور عبد الوہاب کے پیرووں نے بھی اپنی کتابوں میں یہی سب کچھ تحریر کیا ہے۔

بھلا بتایئے، کیا واقعاً وہابیوں نے یہ عقیدہ اسلاف کے اجماع سے حاصل کیا ہے؟ یا انہوں نے دین میں یہ ایک خطرناک بدعت ایجاد کی ہے؟۔

اس سلسلہ میں ابن حزم نے یہ بنیادی قاعدہ و قانون بیان کیا ہے:

''کبھی بھی کوئی مسلمان ،عقائد سے متعلق کسی مسئلہ میں اپنا نظریہ بیان کر نے سے نہ کافر ہوتا ہے نہ فاسق، اس کے بعد انہوں نے ان بزرگوں کے نام ذکر کئے ہیں جو اس نظریہ کے قائل تھے، یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں:''جہاں تک ہمارے علم میں ہے یہ تمام صحابہ کا قول ہے اور ہمیں اس بارے میں کوئی اختلاف نظر نہیں آتا ہے۔'' ]الفصل، مولفہ: ابن حزم، ج٢، ص٢٤٧، نیز کتاب الیواقیت و الجواہر، مولفہ: شعرانی مبحث ٥٨ ملاحظہ فرمائیں[

ابن تیمیہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ خوارج کے علاوہ کسی شخص نے کسی مسلمان کو کسی گناہ یا اپنی رائے ظاہر کرنے کی وجہ سے کافر نہیں قرار دیا ۔ ] ابن تیمیہ کے فتووں کامجموعہ، ج١٣، ص ٢٠[

لہذا وہابیوںنے اپنی اس بدعت میں خوارج کے علاوہ اور کسی کی پیروی نہیں کی ہے!!