منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)

منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)20%

منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ) مؤلف:
ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 296

منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 296 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 136196 / ڈاؤنلوڈ: 6197
سائز سائز سائز
منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)

منارۂ ہدایت،جلد ١ (سیرت رسول خداۖ)

مؤلف:
ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ: اس کتاب کو الیکٹرانک اور برقی شکل میں ،اسلامی ثقافتی ادارے " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے قارئین کرام کیلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

اس کتاب کی پہلی جلد ڈاؤنلوڈ کرنے کےلئےدرج ذیل لنک پر کلک کیجئے

http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=۳۷۹&preview

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل(ihcf.preach@gmail.com)پر سینڈ کرسکتے ہیں

۱

نام کتاب: منارۂ ہدایت،جلد ۱

(سیرت رسول خدا(ص))

تالیف:

سیدمنذر حکیم ا ور عدی غریباوی

(گروہ تالیف مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام )

ترجمہ: نثار احمد زین پوری

تطبیق اورتصحیح : قمر عباس آل حسن

نظر ثانی : سید محمد جابر جوراسی

پیشکش : ادارہ ترجمہ معاونت فرہنگی ،مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

ناشر : مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

طبع اول : ۱۴۲۹ھ ۲۰۰۸ئ

تعداد: ۳۰۰۰

۲

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافوراور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی(ص) غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔اگرچہ رسول(ص) اسلام کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی،

۳

پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کے سامنے پیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت پر ٹکی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینے کو وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت(ص)و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر(عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۴

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جس کو فاضل جلیل مولانا نثار احمد زین پوری صاحب نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

و السلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۵

عرض مؤلف

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد للّٰه الّذی اعطیٰ کلّ شیئٍ خَلْقَه ثم هدیٰ ثم الصلوٰة و السلام علیٰ من اختارهم هداة لعباده لا سیِّما خاتم الانبیاء و سید الرسل و الاصفیاء ابی القاسم المصطفیٰ محمد و علیٰ آله المیامین النجباء

حمد ہے بس اس اللہ کے لئے جس نے انسان کو عقل و ارادہ جیسی قوت عطا کی ہے، عقل کے ذریعہ وہ حق کا سراغ لگاتا ہے ،اسے دیکھتا ہے اور اسے باطل سے جدا کر لیتا ہے وہ ارادہ کے وسیلہ سے اس چیز کو اختیار کرتا ہے جو اس کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کا باعث اور اس کے حق میں مفید ہوتی ہے ۔

بھلے برے کو پہچاننے والی عقل کو خدا نے اپنی مخلوق پر حجّت قرار دیا ہے اور اپنی ہدایت کے ذریعہ اس کی مدد کی ہے ، اس نے انسان کو وہ چیز سکھائی جس کا اسے علم نہیں تھا اور اس کے مناسب حال، کمال کی طرف اسکی ہدایت کی اور اسے اس غرض ومقصد سے آگاہ کیا جس کے لئے اسے پیدا کیا اور جس کے لئے وہ اس دنیا میں آیا ہے ۔

قرآن مجید نے اپنی صریح آیتوںکے ذریعہ ربّانی ہدایتوں کے مناروں، اس کے آفاق ، اس کے لوازم اور اس کے راستوں کو واضح کیا اور پھر ایک طرف تو ہمارے لئے اس کے علل و اسباب کو بیان کیا اور دوسری طرف اس کے نتائج پرسے پردہ ہٹایا۔

خدا وند عالم کا ارشاد ہے :

( قل انّ الهُدیٰ هو الهُدیٰ ) ( ۱ )

آپ کہہ دیجئے کہ ہدایت، بس اللہ کی ہدایت ہے ۔

( و اللّٰه یهدی من یشاء الیٰ صراط مستقیم ) ( ۲ )

اور خدا جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت کردیتا ہے ۔

___________________

۱۔انعام : ۷۱۔

۲۔ بقرہ: ۲۱۳۔

۶

( واللّٰه یقول الحقّ و هو یهدی السّبیل ) ( ۳ )

اور خدا حق ہی کہتا ہے اور وہی سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا ہے ۔

( و من یعتصم باللّه فقد هدی الیٰ صراط مستقیم ) ( ۴ )

جو خدا سے وابستہ ہو جاتا ہے اسے صراط مستقیم کی ہدایت ہو جاتی ہے ۔

( قل اللّٰه یهدی للحق افمن یهدی الیٰ الحق احقّ ان یتّبع امّن لا یهدی الّا ان یُهدیٰ فما لکم کیف تحکمون ) ( ۵ )

کہدیجئے کہ خدا حق کی ہدایت کرتا ہے سپس جو حق کی طرف ہدایت کرے وہ قابل اتباع ہے یاپھر وہ لائق اتباع ہے کہ جو ہدایت نہیں کرتا ہے ،بلکہ خود محتاجِ ہدایت ہے ؟تمہیں کیا ہو گیا ہے تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟

( و یری الّذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربّک هو الحق و یهدی الیٰ صراط العزیز الحمید ) ( ۶ )

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ اس چیز کوحق سمجھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور وہی عزیز و حمید کے سیدھے راستہ کی ہدایت کرتی ہے ۔

____________________

۳۔ احزاب: ۴۔

۴۔آل عمران: ۲۱ ۔

۵۔یونس: ۳۵۔

۶۔ سبائ: ۶ ۔

۷

( و من اضلّ ممّن اتّبع هواه بغیر هدی من اللّٰه ) ( ۱ )

اور اس سے بڑا گمراہ کون ہوگا جس نے خدا کی ہدایت سے سروکار رکھے بغیربس اپنی خواہش کی پیروی کی۔

ہدایت کا سرچشمہ صرف خدا ہے۔ اس کی ہدایت ، حقیقی ہدایت ہے وہی انسان کو صراط مستقیم اور حق کی راہ پر لگاتا ہے ۔

علم بھی انہیں حقائق کی تائید کرتا ہے اور علماء بھی انہیں کو تسلیم کرتے ہیں۔ بیشک خدا نے انسان کی فطرت میں یہ صفت ودیعت کر دی ہے کہ و ہ کمال و جمال کی طرف بڑھتا رہے ۔ پھر اس کمال کی طرف اس کی راہنمائی کی جو اس کے شایان شان ہے اس کو ایسی نعمتوں سے نوازا جن کے ذریعہ وہ کمال کے راستوں کو پہچان سکتا ہے ۔ اسی لئے فرمایا ہے :( وما خلقتُ الجنَّ و الانسَ الا لیعبدون ) ( ۲ ) میں نے جن و انس کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت کریں۔

واضح ہو کہ عبادت، معرفت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور معرفت و عبادت ہی ایسا راستہ ہے جو معراجِ کمال تک پہنچاتا ہے ۔

انسان کے اندر خدا نے غضب و شہوت جیسی دو طاقتیں رکھی ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعہ کمال کی طرف بڑھے لیکن اس پر غضب و شہوت غالب آسکتی ہے اور ان دونوں سے عشق و ہوس کی آگ بھڑک سکتی ہے اس لئے عقل اور معرفت کے دیگر اسباب کے علاوہ انسان کو ایسی چیز کی ضرورت ہے جو اس کی فکر و نظر کو محفوظ رکھ سکے اس پر خدا کی حجّت تمام ہو جائے اور اس کے لئے نعمت ہدایت کی تکمیل ہو جائے مختصر یہ کہ اس کے پاس ایسے تمام اسباب جمع ہو جائیں کہ جو اسے خیر و سعادت یا شر و بدبختی کا راستہ کامنتخب کرنے کااختیار دیدیں(کہ جس پر چاہے گامزن ہو جائے)۔

اس لئے ہدایت ربّانی کا تقاضاہوا کہ وحی اور خدا کے ان برگزیدہ ہادیوں کے ذریعہ عقل انسان کی مدد کی

____________________

۱۔قصص :۵۰۔

۲۔ذاریات: ۵۶۔

۸

جائے کہ جن کے دوش پر بندوں کی ہدایت کی ذمہ داری ہے اور یہ کام معرفت کی تفصیلوں اور زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہبری ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے ۔

ہدایت ربانیہ کی مشعل آغاز تاریخ ہی سے انبیاء اور ان کے اوصیاء کے ہاتھ میں رہی ہے خدا نے اپنے بندوں کو ، ہادی و حجت، ہدایت کرنے والے مناروں اور نور درخشاںچمکتے نور کے بغیرنہیں چھوڑا ہے جیسا کہ عقلی دلیلوں کی تائید کرتے ہوئے وحی کی نصوص نے بیان کر دیا ہے : زمین حجتِ خدا سے اس لئے خالی نہیں رہ سکتی تاکہ خدا پر لوگوں کی حجّت تمام ہو جائے، بلکہ خدا کی حجّت خلق سے پہلے بھی تھی، خلق کے ساتھ بھی ہے اور خلق کے بعد بھی رہے گی اگر روئے زمین پر دو انسان رہیں گے تو ان میں سے ایک حجّت ہوگا۔ اس چیز کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے کہ جس سے شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی؛ ارشاد ہے:

( انما انت منذر و لکل قوم هاد ) ( ۱ )

آپ تو بس ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ہادی ہے ۔

انبیاء اور ان کے ہدایت یافتہ اور ہدایت کرنے والے اوصیاء نے ہدایتوں کی ذمہ داری اپنے دوش پر لی تھی ان کی صلاحیتوں کاخلاصہ درج ذیل شقوں میں ہوتا ہے:

۱۔ وحی کو مکمل طور سے درک کریں اورپیغامِ رسالت کو گہرائی سے حاصل کریں، رسالت و پیغام کے حصول کے لئے صلاحیت کامل ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ رسولوں کا انتخاب خدا نے اپنے ہاتھ میںرکھا ہے۔ خدا وند عالم قرآن مجید میں فرمایا ہے:

( اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالته ) ( ۲ )

خد ابہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں قرار دے۔

( واللّٰه یجتبی من رسله من یشائ ) ( ۳ )

____________________

۱۔رعد:۷۔

۲۔انعام: ۱۲۴۔

۳۔ آل عمران ۱۷۹ ۔

۹

اور خدا اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے ۔

۲۔ خدائی پیغام کو بندوں تک اور ان موجودات تک پہنچانا جن کی طرف انہیں مبعوث کیا گیا ہے اور صحیح پیغام اسی صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ جب پیغام کو مکمل اور صحیح طریقہ سے حاصل کیاگیا ہو،وہ رسالت اور اسکے تقاضوں سے واقف ہو اور خطا و لغزش سے معصوم و محفوظ ہو۔ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:

( کان النّاس امة واحدة فبعث اللّٰه النبیین مبشّرین و انزل معهم الکتاب بالحق لیحکم بین النّاس فیما اختلفوا فیه ) ( ۱ )

سارے لوگ ایک امت تھے پس خدا نے بشارت دینے والے نبی بھیجے اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ وہ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کریں۔

۳۔الٰہی پیغام کی روشنی میں مومن امت کی تشکیل، اور رہبر و ہادی کی مدد کے لئے امت کو آمادہ کرناتاکہ رسالت کے مقاصد پورے ہو جائیں اور زندگی میں اس کے قوانین نافذ ہو جائیں، اس مشن کو قرآن مجید میں دو عنوان سے یاد کیا گیا ہے''تزکیہ و تعلیم'' خدا وند عالم فرماتا ہے:

( یزکّیهم و یعلّمهم الکتاب و الحکمة ) ( ۲ )

رسول(ص) ان کو پاک کرتا ہے انہیںکتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ۔

تزکیہ یعنی اس کمال کی طرف راہنمائی کرنا جو انسان کے شایان شان ہے، تربیت کے لئے ایسا نمونہ چاہئے کہ جس میں کمال کا ہر عنصر موجود ہو، چنانچہ خدا نے ایسا نمونہ بھی پیش کر دیا:

( لقد کان لکم فی رسول اللّٰه اسوة حسنة ) ( ۳ )

بیشک رسول(ص) میں تمہارے لئے اچھا نمونہ ہے ۔

____________________

۱۔بقرہ: ۲۱۳۔

۲۔ جمعہ: ۲ ۔

۳۔ احزاب:۲۱۔

۱۰

۴۔اور اس پیغام کو اپنی معینہ مدت میں تحریف و تبدیلی اور زمانہ کی دست برد سے محفوظ رہنا چاہئے اس مشن کے لئے بھی نفسانی اور علمی صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی نفسانی و علمی صلاحیت کو عصمت کہتے ہیں۔

۵۔ معنوی رسالت کے مقاصد کی تکمیل اور لوگوں کے نفسوں میں اخلاقی اقدار کے نفوذ و رسوخ کے لئے کام کیا جائے اور یہ ربّانی مسائل کے نفوذ کے ساتھ (خدائی حکم کے نفوذ ہی سے ہو سکتا ہے) یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب معاشرہ میں ایک سیاسی نظام کے تحت دین حنیف کے قوانین نافذ ہوں اور امت کے مسائل و معاملات کو ان قوانین کے مطابق رواج دیاجائے جو خدا نے انسان کے لئے معین کئے ہیں ظاہر ہے کہ ان کے نفاذ کے لئے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو حکیم شجاع ، ثابت قدم، لوگوں کے مزاج اور معاشرہ کے طبقوں سے آشنا، فکری رجحان، سیاسی و سماجی دھارے سے آگاہ، نظم و نسق کے قانون اور زندگی کے طریقوں سے با خبر ہو، ایک عالمی اوردینی حکومت چلانے کے لئے مذکورہ صلاحیتوں کی ضرورت ہے ، چہ جائیکہ عصمت جو کہ ایک نفسانی کیفیت ہے۔ یہ قائد کو کجروی اور ایسا غلط کام کرنے سے باز رکھتی ہے کہ جس کا خود قیادت پر منفی اثر ہوتا ہے اوراس صورت میں امت اپنے رہبر کی اطاعت بھی نہیں کرتی ہے اوریہ چیز رسالت کے اغراض و مقاصد کے منافی ہے۔

گذشتہ انبیاء اور ان کے برگزیدہ اوصیاء دائمی ہدایت کے راستہ پر گامزن ہوئے اور تربیت کی دشوار راہوں کو اختیار کیا اور رسالت کی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے ،الٰہی رسالت کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں انہوں نے ہر اس چیز کی قربانی دی کہ ایک سر فروش اپنے عقیدہ کے لئے جس کی قربانی دے سکتا ہے ، وہ لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے موقف سے نہیں ہٹے اور چشم زدن کے لئے بھی بہانہ سے کام نہیں لیا چنانچہ ان کی صدیوں کی مسلسل کوشش و جانفشانی کے سلسلہ میں خدا نے محمد(ص) بن عبد اللہ کے سر پر ختم نبوت کا تاج رکھا عظیم رسالت اور ہر قسم کی ہدایت کی ذمہ داری ان ہی کے سپرد کر دی اور آپ(ص) سے کار رسالت کی تکمیل کی فرمائش کی چنانچہ آنحضرت (ص) نے اس پر خطر راہ میں حیرت انگیز قدم اٹھائے اور مختصر مدت میں انقلابی دعوت کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور یہ آپ(ص) کی دن رات کی کوشش و جانفشانی کا ثمرہ دو عرصوں کی دین ہے:

۱۱

۱۔ بشر کے سامنے ایک ایسا مشن پیش کیا جو اپنے دامن میں دوام و بقا کی دولت لئے ہوئے تھا۔

۲۔ بشریت کو ایسی چیزوں سے مالا مال کیا جو اسے کجروی و انحراف سے محفوظ رکھیں۔

۳۔ایسی امت کی تشکیل کی جو اسلام پر ایمان رکھتی ہے، رسول(ص) کو اپنا قائد سمجھتی ہے اور شریعت کو اپنا ضابطۂ حیات تسلیم کرتی ہے ۔

۴۔ اسلامی حکومت بنائی،اورایسے سیاسی نظام کی تشکیل کی جو پرچم اسلام کو بلند کئے ہوئے ہے اور آسمانی قانون کو نافذ کرتا ہے ۔

۵۔ ربّانی قیادت کے لئے صاحب حکمت اور ایسا جانا پہچاناانسان پیش کیا جو رسول(ص) کی قیادت میں جلوہ گر ہوا۔

رسالت و مشن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ:

الف۔ ایسی قیادت کا سلسلہ جاری رہے جو رسالت کے احکام نافذ کر سکے اور اسے ان لوگوں سے بچا سکے جو اسے مٹانے کے لئے گھات لگائے بیٹھے ہیں۔

ب۔ صحیح تربیت کا سلسلہ نسلوں تک جاری رہے اس کی ذمہ داری اس شخص پر ہو جو علمی اور نفسانی لحاظ سے انسان کامل ہو جو اخلاق و کردار میں رسول(ص) جیسا نمونہ ہو، جس کی حرکت و سکون میں رسالت کا عکس نظر آئے۔

یہاں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ خدائی منصوبہ تھا ۔ اس نے رسول(ص) پر یہ فرض کیا کہ رسول اپنے اہل بیت میں سے منتخب افراد کو تیار کریں اور ان کے نام اور کردار کو بیان کریں تاکہ وہ حکم خدا سے نبی(ص) کی تحریک اور خدائی ہدایت کی ذمہ داری کو قبول کر لیں رسالت الٰہیہ کو(جس کے لئے خدا نے دوام لکھدیا ہے-) جاہلوں کی تحریف سے اور خیانت کاروں کی دست برد سے بچائیں اور نسلوں کی تربیت اس شریعت کی رو سے کریں جس کی نشانیوں کو بیان کرنے اور ہر زمانہ میں جس کے اسرار و رموز کو واضح کرنے کی ذمہ داری اپنے دوش پرلی ہے یہاں تک کہ خدا انہیں زمین اور اس کی تمام چیزوںکا وارث بنا دے ۔

۱۲

یہ خدائی اور الٰہی منصوبہ رسول(ص) کی اس حدیث سے واضح ہوتا ہے:

''انّی تارک فیکم الثّقلین ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ، کتاب اللّٰه و عترتی و انّهما لن یفترقا حتی یردا علّ الحوض''

میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں اگر تم ان دونوں سے وابستہ رہے تو ہر گز گمراہ نہ ہوگے ایک خدا کی کتاب اور دوسرے میری عترت یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوںگے یہاں تک کہ میرے پاس حوض (کوثر) پر پہنچیں گے۔

امت کی قیادت و رہبری کے لئے نبی(ص) نے حکمِ خدا سے جن لوگوں کا تعارف کرایا تھا ان میں ائمہ اہل بیت سب سے افضل ہیں۔

بیشک اہل بیت میں سے بارہ اماموں نے رسول(ص) کے بعد اسلام کے حقیقی راستہ کی نشاندہی کی ۔ ان کی زندگی کی مکمل تحقیق و مطالعہ سے خالص اسلام کی تحریک کی پوری تصویرسامنے آتی ہے اب اس کے نقوش امت میں گہرے ہو رہے ہیں حالانکہ رسول(ص) کی وفات کے بعد اس کا جوش و ولولہ ماند پڑ گیا تھا۔ ائمہ معصومین نے امت کی روشن فکری اور اس کی طاقت کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی اور شریعت و تحریک اور انقلاب رسول(ص) سے متعلق امت کے اندر بیداری پیدا کی حالانکہ وہ دنیا کی اس روش سے بھی نہیں ہٹے جو امت اور رہبر کے طرز عمل پر حاکم ہے۔

ائمہ معصومین کی پوری حیات اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ لمحہ بھر کے لئے بھی سنتِ رسول(ص) سے جدا نہیں ہوئے اور امت نے بھی ان سے اسی طرح استفادہ کیا جس طرح منارۂ ہدایت سے استفادہ کیا جاتا ہے یا جیسے اس چراغ سے استفادہ کیا جاتا ہے جس کو راستہ چلنے والوں کے لئے سر راہ رکھ دیا جاتا ہے پس وہ خدا اور اس کی رضا کی طرف راہنمائی کرنے والے، اس کے حکم پر ثابت و پابند ، اس کی محبت میں کامل اور اس کی ملاقات کے شوق میں گھلنے والے اور کمالِ انسانی کی چوٹیوں پر پہنچنے کے لئے سبقت لے جانے والے ہیں۔

۱۳

ان کی زندگی جفا کاروں کی جفا سے اورا طاعتِ خدا میں صبر و جہاد سے معمور ہے ۔ احکام خدا کے نفاذ کے سلسلہ میں انہوں نے بے مثال ثابت قدمی اور استقلال کا ثبوت دیا اور پھر ذلت کی زندگی قبول نہ کرتے ہوئے عزت کی موت قبول کر لی یہاں تک کہ ایک عظیم جنگ اور جہاد اکبر کے بعدخدا سے جا ملے۔

مورخین اور صاحبان قلم ان کی زندگی کے تمام پہلوئوں کو بیان نہیں کر سکتے اور یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ہم نے ان کی زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کر لیاہے ظاہر ہے کہ ہماری یہ کاوش بھی ان کی زندگی کے بعض درخشاں پہلوئوں ہی کو پیش کرے گی۔ ہم نے ان کی سیرت و کردار اور موقف کے انہیں گوشوں کو بیان کیا ہے جو مورخین نے تحریر کئے ہیں۔

ہاں ہم نے ان کے منابع و مصادر کا مطالعہ کیا ہے ۔امید ہے کہ خدا اس کے ذریعہ فائدہ پہنچائے گا وہی تو فیق دینے والا ہے۔

اہل بیت کی رسالتی تحریک خاتم النبیین رسول(ص) اسلام محمد بن عبد اللہ سے شروع ہوتی ہے اور خاتم الاوصیاء محمد بن حسن العسکری حضرت مہدی منتظر (خدا ان کے ظہور میں تعجیل کرے اور ان کے عدل سے زمین کو منورکرے)پر منتہی ہوتی ہے۔

یہ کتاب رسول مصطفیٰ حضرت محمد(ص) بن عبد اللہ کی حیات سے مخصوص ہے کہ جنہوں نے اپنی فردی اور اجتماعی زندگی کے ہر موڑ پر اور حالات کی سیاسی و اجتماعی پیچیدگی میں اسلام کے ہر پہلو کو مجسم کر دکھایا اور اسلام کے مثالی اقدار کی بنیادوں کو فکر و عقیدہ کی سطح پر بلند کیا اور اخلاق و کردار کے آفاق پر اونچا کیا۔

ہم یہاں جناب حجة الاسلام و المسلمین سید منذر الحکیم حفظہ اللہ کی زیر نگرانی کام کرنے والی ہیئت تحریریہ اور ان تمام برادران کا شکریہ ادا کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت میں حصہ لیاہے ہم خداوند عالم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس مجموعے کی تکمیل کی توفیق مرحمت فرمائی وہی ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین مددگار ہے ۔

مجمع عالمی اھل البیت علیہم السلام

قم المقدسہ

۱۴

پہلا باب

مقدمہ

سیرت و تاریخ کی تحقیق کے بارے میں قرآن کا نظریہ

پہلی فصل

خاتم النبیین (ص) ایک نظر میں

دوسری فصل

بشارت

تیسری فصل

خاتم النبیین (ص)کے اوصاف

۱۵

مقدمہ

سیرت و تاریخ کی تحقیق کے بارے میں قرآن کا نظریہ

قرآن مجید نے انبیاء کی سیرت کو پیش کرنے پر خاص توجہ دی ہے ان کی سیرت کو پیش کرنے میں قرآن کا اپنا خاص اسلوب ہے ۔

ان برگزیدہ افراد کی سیرت کو پیش کرنے کے لحاظ سے قرآن مجید کا یہ اسلوب کچھ علمی اصولوں پر قائم ہے ۔

قرآن مجید لہجۂ ہدایت میں بات کرتا ہے ، جو انسان کی اس کے شایان شان کمال کی طرف راہنمائی کرتا ہے ، اور تاریخی حوادث کے ایک مجموعہ کے لئے کچھ حقیقت پر مبنی مقاصد کو مد نظر رکھتا ہے ، یہ حوادث فردی و اجتماعی زندگی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ممکن ہے یہ علوم و معارف کے ان دروازوں کے لئے کلید بن جائیں جو انسان کے تکاملی سفر میں کام آتے ہیں۔

ان مقاصد تک پہنچنے کے لئے قرآن مجید نے وسیلے معین کئے ہیں چنانچہ وہ عقل اور صاحبان عقل کو مخاطَب قرار دیتا ہے اور انسان کے سامنے نئے آفاق کھول دیتا ہے،وہ فرماتا ہے:

۱۔( فاقصص القصص لعلهم یتفکرون ) ( ۱ )

آپ قصے بیان کر دیجئے ہو سکتا ہے یہ غور کریں۔

____________________

۱۔اعراف: ۱۷۶ ۔

۱۶

۲۔( لقد کان فی قصصهم عبرة لاولی الالباب ) ( ۱ )

یقینا ان کے قصوں میں صاحبان عقل کے لئے عبرت ہے ۔

بیشک گذشتہ قوموں کی تاریخ اور راہبروں کی سیرت کے بارے میں غور کرکے عبرت حاصل کرنا چاہئے یہی دونوں تاریخ کے بارے میں قرآنی روش کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

واضح رہے کہ سارے مقاصد انہیں دونوں میں محدود نہیں ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی دوسرے مقاصد ہیں جن کی طرف خدا کے اس قول میں اشارہ ہوا ہے:

( ما کان حدیثا یفتریٰ ولکنّ تصدیق الّذی بین یدیه و تفصیل کل شیء و هدی و رحمة لقومٍ یومنون ) ( ۲ )

یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو گڑھ لیا جائے قرآن گذشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اس میں مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے ۔

دوسری جگہ ارشاد ہے :

( وکلاً نقص علیک من انباء الرسل ما نثبت به فواد و جائک فی هذه الحق و موعظة و ذکریٰ للمومنین ) ( ۳ )

ہم آپ سے پہلے رسولوں کے قصے بیان کرتے رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ آپ کے دل کو مضبوط رکھیں، اور ان قصوں میں حق، نصیحت اور مومنین کے لئے عبرت ہے ۔

انبیاء و مرسلین کی خبروں کو پیش کرنے اور ان کے واقعات کو بیان کرنے کے لئے ہر آیت میں چار مقاصد بیان ہوئے ہیں۔

____________________

۱۔ یوسف:۱۱۱۔

۲۔ یوسف:۱۱۱ ۔

۳۔ہود:۱۲۰۔

۱۷

قرآن مجید اپنے منفرد تاریخی اسلوب میں مذکورہ چار اصولوں پر اعتماد کرتا ہے :

۱۔ حق

۲۔ علم

۳۔گردش زمانہ کا ادراک

۴۔ اس پر پورا تسلط

قرآن مجید جن تاریخی مظاہر اور ماضی و حال کے اجتماعی حوادث کو بیان کرتا ہے ان میں شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ قرآن نے ان کو حق اور علم کے ساتھ بیان کیا ہے ، خیال و خرافات کی بنیاد پر نہیں۔

خدا نے اس قول کے ذریعہ ان دونوں اصولوں کی تاکید کی ہے ،( ان هذا لهو القصص الحق... ) ( ۱ )

بیشک یہ برحق قصے ہیں۔

اور سورۂ اعراف کے آغاز میں فرماتا ہے :

( فلنقصّنّ علیهم بعلم وما کنا غائبین ) ( ۲ )

اس آیت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ ہم جن واقعات کو بیان کر رہے ہیں وہ ہمارے سامنے رونما ہوئے ہیں۔

ان تمام باتوں کے علاوہ واقعات کے تجزیہ و تحلیل اور اس سے بر آمد ہونے والے نتیجہ میں قرآن مجید کا ایک علمی نہج ہے ایک طرف تووہ تحقیق و استقراء پر اعتماد کرتا ہے دوسری طرف استدلال کا سہارا لیتا ہے ۔

جب قرآن مجید عام طریقہ سے انبیاء کی حیات کو پیش کرتا ہے تو انہیں ایک صف میں قرار دیتا ہے ، سب کو

____________________

۱۔ آل عمران: ۶۲۔

۲۔ اعراف:۷۔

۱۸

ایک دوسرے کے برابر کھڑا کرتا ہے ، یہ اسلام کی عام روش ہے جیسا کہ خدا وند عالم کا ارشاد ہے:( ان الدّین عند اللّه الاسلام ) ( ۱ )

پھر اولوالعزم انبیاء میں سے ہر ایک کی سیرت کی گہرائی میں جاتا ہے تاکہ ان کی سیرت کے ان پہلوئوں کو بیان کر دے جن میں وہ ایک دوسرے سے جدا ومنفرد ہیں اور ان کو پہلے والوں سے متصل کر دے اور ان کی سیرتوں سے ملحق ان حوادث کو پہچان لے جو حیات انسانی کے ساتھ جاری روش رسالت سے تعلق رکھتے ہیں۔

تاریخی بحث کا فطری یہ خاصہ ہے ، اس میں تحریف ہو جاتی ہے ، کہیں ایہام و چشم پوشی سے کام لیا جاتا ہے کبھی تاریخی حقائق پر پردے ڈال دئے جاتے ہیں یا دھیرے دھیرے حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے اور پھر اتنی واضح ہو جاتی ہے کہ جس سے انسانی معاشرہ تغافل نہیں کر پاتا ہے اور حقائق سے آنکھیں بند کر کے آگے نہیں بڑھ پاتا ہے ۔

سورۂ یوسف کی ۱۱۱ویں آیت میںاسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوا کہ تاریخی حقائق میں مبالغہ آرائی، افتراء اور بغیر علم کے بحث و تحقیق کا امکان ہے ، لیکن جس حق پر، پردہ ڈال دیا گیاہے وہ کسی نہ کسی زمانہ میں ضرور ظاہر ہوگا۔

یہاں سے قرآنی مکتب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حقیقت کے جو یا انسان کو ایسے متعلقہ اسلحہ سے لیس کر دے جو مکمل طریقہ سے حقیقت کا انکشاف کر دے۔

یقینا قرآن نے ایسا محکم و ثابت نظر یہ پیش کیاہے کہ جس سے فکر انسانی کسی بھی صورت میں آگے نہیں بڑھ سکتی اس نظریہ کو محکمات اور امُّ الکتاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہی فکرِ انسانی کے لئے ثابت ،ناقابل تغیراور واضح حقائق ہیں؛ ان میں کسی شک و تردیدشبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔

یہی محکم و ثابت حقائق فکر انسان کے لئے ہمیشہ وسیع زاوئیے اور بنیادی چیزیں پیش کرتے ہیں یہ حقائق ایسی چیزوں پر مشتمل ہیں کہ جو مادہ کی گرفت اور اس کی حد سے باہر ہیں۔ کیونکہ قرآن مبہم اورمتنازعہ پذیر

____________________

۱۔عمران:۱۹۔

۱۹

پذیرچیزوں کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونے کو بھی جائز نہیں سمجھتا ہے ۔

قرآن مجید اپنے ذہین قاریوںکو دو ر استوں کی طرف ہدایت کرتا ہے ایک یہ کہ وہ مبہم اور متنازعہ چیزوں کے بارے میں کیا کرے تاکہ انسان ایسے واضح نتیجہ پر پہنچ جائے جو معیار قرار پائے دوسرے فکر انسانی کے سامنے آنے والی ہر چیز سے نمٹنے کے لئے ایک قاعدہ پیش کرتا ہے یہ اصل و قاعدہ ہر نئی چیز سے نمٹنے کے لئے جداگانہ صورت پیش کرتا ہے اور ذہنِ انسان سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ پیش آنے والی چیز کے لحاظ سے وہ اپنا موقف اختیار کرے۔

خداوند عالم نے اس جانب اشارہ کرنے کے بعد کہ قرآن وہ فرقان ہے جسے اللہ نے اپنے امین رسول(ص) پر نازل فرمایا ہے ۔یہ ارشاد فرمایا ہے:

( هو الّذی انزل علیک الکتاب منه آیات محکمات هن امُّ الکتاب و أُخَرُ متشابهات فامّا الّذین فی قلوبهم زیغ فیتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة و ابتغاء تاویله وما یعلم تاویله اّلا اللّٰه و الرّاسخون فی العلم یقولون آمنا به کل من عند ربنا و ما یذکر الا اولوا الالباب ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هدیتنا و هب لنا من لدنک رحمة انک انت الوهاب ) ( ۱ )

وہ خدا وہی ہے جس نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس کی آیتیں محکم اور واضح ہیں جو اصل کتاب ہے اور کچھ متشابہہ ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ انہیں متشابہات کی پیروی کرتے ہیں تاکہ فتنے بھڑکائیںاور من مانی تاویلیں کریں حالانکہ اس کی تاویل کا علم خدا اور ان لوگوں کو ہے جو علم میں رسوخ رکھتے ہیں وہ تو یہی کہتے ہیں: ہم اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں یہ سب آیتیں تو خدا ہی کی طرف سے آئی ہیں، (لیکن)نصیحت تو صاحبان عقل ہی اخذ کرتے ہیں، پروردگارا ہم سب کو ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوںکو کج نہ ہونے دے اور اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا کر بیشک تو بڑا فیاّض ہے ۔

____________________

۱۔ آل عمران: ۷ و ۸۔

۲۰

21

22

23

24

25

26

27

28

29

30

31

32

33

34

35

36

37

38

39

40

41

42

43

44

45

46

47

48

49

50

51

52

53

54

55

56

57

58

59

60

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

ہونے کے باوجود باقی مباحث کلامی کی بہ نسبت مشکل اور پیچیدہ ہے لہٰذا قیامت کی مباحث میں بہت سے ایسے مسائل بھی ہیں کہ جن کی توضیح اور درک کرنا ہر عام و خاص کی بساط سے باہر ہے کہ انھیں میں سے ایک نامہئ اعمال ہے اگر چہ نامہئ اعمال کا مسئلہ اہم ترین مسئلہ بھی ہے کیونکہ بہت سی روایتیں اور آیات کی روشنی میں معلوم ہوتاہے کہ انسان کے تمام اعمال قیامت کے دن مجسم ہوکر حاضر ہوں گے نیز جن اعضاء و جوارح وہ اعمال انجام دئے گئے وہی اعضاء اسی پر گواہی دیتا ہے لہٰذا اس طرح کی باتیں نامہئ اعمال کے متعلق روایات اور آیات میں زیادہ ہیں اور اعمال کی حقیقت اور کیفیت کو درک کرنا انسان کی قدرت سے باہر ہے اگرچہ محقق ہی کیوں نہ ہو لہٰذا بوعلی سینا کا یہ قول ہے کہ میری تحقیقات معاد جسمانی کو ثابت کرنے سے قاصر رہی۔

لیکن میرا مولا امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے لہٰذا میں سر تسلیم خم کرتا ہوں۔اور نامہئ اعمال کی اتنی اہمیت ہے کہ جنت اور جہنم کا فیصلہ ہی نامہئ اعمال کا نتیجہ ہے گویا مباحث معاد میں نامہئ اعمال کو ہی مرکزیت حاصل ہے لیکن اس کی حقیقت اور ماہیت روشن کرنا اس کتاب کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا مختصر یہ ہے کہ قیامت کے دن نامہئ اعمال یا دائیں ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ نامہئ اعمال جس ہاتھ میں دیا جائے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس سوال کا جواب محققین دے چکے ہیں لیکن پھر بھی ایک اشارہ لازم ہے کہ نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنّتی ہے اور اس کے سارے اعمال قبول ہونے کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ابدی زندگی آباد ہونے پر بھی دلیل ہے اسی طرح نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دینے کا مطلب بھی واضح ہے کہ خدا کی نظر میں اعمال قابل قبول نہ ہونے کی علامت ہے اسی لئے آئمہ معصومین علہیم السلام سے منقول بہت سی دعاؤں میں اس طرح کے جملات مذکور ہیں۔ کہ پالنے والے! روز قیامت میرا نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں لینے کی توفیق دے لہٰذا قیامت کے دن جن لوگوں کا نامہئ اعمال جب دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ لوگ خوش اور ان کے چہرے نور سے منور ہونگے لیکن جن لوگوں کے نامہئ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائیگا وہ خدا سے التجاء کریں گے:

۱۲۱

اے خدا وند کاش میرے نامہئ اعمال پیش نہ کیا جاتا اے کاش آج میرے تمام گناہوں اور برائیوں کو اس طرح میدان میں آشکار نہ کیا جاتا لہٰذا ایسی بڑی مشکل میں مبتلاء ہونے کا سبب ہمارے برے اعمال ہیں چنانچہ اگر انسان روز قیامت ایسے شرمناک اور ہولناک حالات سے نجات کا خواہاں ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب انجام دے لہٰذا روایات میں وارد ہوا ہے اگر آپ نے نماز شب انجام دی تو خدا اس کے عوض میں ان کے نامہئ اعمال دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گانیز حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی شخص رات کے آخری وقت میں خدا کی عبادت اور نماز شب پڑھنے میں مشغول رہے تو خدا اس کے بدلے میں روز قیامت اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں عطا فرمائے گا۔ اسی طرح دوسری روایات بھی آنحضرتؑ سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اگر کوئی شخص رات کے چوتھائی حصے عبادات اور نماز شب انجام دینے میں گزارے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ اسے قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جوار میں جگہ عطا فرمانے کے علاوہ اس کے نامہئ اعمال کو دائیں ہاتھ میں دیگا۔(١)

لہٰذا خلاصہ یہ ہوا کہ نامہئ اعمال کے دائیں ہاتھ میں دئےے جانے، اعمال کے قبول ہونے خدا کی رضایت کے شامل حال ہونے اور جنت میں داخل کیا جانے جاودانی زندگی پانے اور تنگدست لوگوں کے امیر بننے کا سبب نماز شب ہے لہٰذا خدا سے ہماری دعا ہے کہ ہمیں نماز شب انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

٤۔پل صراط سے بامیدی عبور کا سبب

روز قیامت سے مربوط نماز شب کے فوائد میں سے ایک اور فائدہ یہ ہے اگر کوئی شخص نماز شب جیسی بابرکت عبادت کو انجام دے تو قیامت کے دن پل صراط سے بآسانی گذرسکتا ہے لیکن پل صراط خود کیا ہے اور اس کی سختی کے بارے میں شاید قارئین کرام جانتے ہوں روایات سے صراط کی کیفیت اس طرح روشن ہوتی ہے کہ جب قیامت برپا ہوگی تو قیامت کے دن رونما ہونے والی مشکلات

____________________

(١)ثواب الاعمال و عقابہاص١٠٠.

۱۲۲

میں سے ایک مشکل صراط کی صورت میں پیش آئے گی کیونکہ روایت میں صراط کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ بال سے زیادہ باریک ، تلوار سے زیادہ تیز، اور آگ سے زیادہ گرم ہوگا کہ جو خدا نے جہنم کے اوپر خلق کیا ہے تاکہ جنّت میں جانے سے پہلے اس سے عبور کرے کہ ایسے اوصاف کے حامل راستے کو عبور کرنا عام عادی انسانوں کے لئے یقینا بہت سخت اور مشکل امر ہے لیکن ایسے دشوار راہ سے اگر بہ آسانی گذرنا چاہے تو رات کے وقت خدا کی عبادت اور نماز شب انجام دے۔ کیونکہ نماز شب میں خدا نے ایسے فوائد مؤمنین کے لئے مخفی رکھا ہے کہ ہر مشکل امر کا راہ حل نماز شب ہے چنانچہ اس مسئلہ کو حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے اگر کوئی شخص رات کے تین حصے گذر جانے کے بعد نیند کی لذت چھوڑ کر اٹھے اور نماز شب انجام دے تو خداوند قیامت کے دن اس شخص کو مؤمنین کی پہلی صف میں قرار دے گا اور صراط سے عبور کے وقت آسانی، حساب و کتاب میں تخفیف اور کسی مشکل کے بغیر جنّت میں داخل کیا جائے گا۔(١)

پس نماز شب کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ کرنا شاید ہماری قدرت سے خارج ہو اسی لئے بہت سی روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نماز شب دنیا و قبر اور آخرت کے تمام مشکلات کے لئے راہ نجات ہے کہ اس طرح کی اہمیت اور ثواب اسلام میں شاید کسی اور عبادت اور کار خیر کو ذکر نہیں کیا ہے۔ تب ہی تو پورے انبیاء

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠

۱۲۳

اور آئمہ ٪ اور دیگر مؤمنین کی سیرت طیبہ ہمیشہ یہی رہی ہیں کہ رات کے آخری وقت خدا سے راز و نیاز کیا کرتے تھے۔

٥۔جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہوجائیں

روایات اور آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ جنت کے متعدد دروازے ہیں کہ ہر ایک دروازے کا مقام و منزلت دوسروں سے مختلف ہے۔ لہٰذا جنت ایک ایسی جگہ ہے کہ جہاں کسی قسم کا آپس میں ٹکراؤ یا الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ کیونکہ ہر جنّتی کے مراتب اور درجات مختلف ہیں لہٰذا اسی بناء پر ہر ایک طبقے کا جنّت میں داخل ہونے کا الگ دروازہ مخصوص کیا گیا ہے لیکن اس قانون سے ایک گروہ مستثنیٰ ہے کہ وہ طبقہ ایسا خوش نصیب طبقہ ہے جو دنیا میں نماز شب کو انجام دیتا رہا ہے ایسے افراد جنّت کے آٹھ دروازے سے چاہے گذر سکتا ہے کہ اس مطلب کو حضرت علی علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو رات کے اوقات میں سے کوئی ایک وقت نماز میںگذاریں گے تو خداوند کریم اپنے محبوب ترین فرشتوں سے کہا کرتے ہیں میرے اس تہجد گذار بندے سے عام انسان کی طرح تم ملاقات نہ کرو بلکہ اس سے ایک خاص اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ پیش آئیں اور خدا کے ہاں ان کا مقام ومنزلت دیکھ کر فرشتے تعجب کریں گے اور فرشتے انہی افراد سے عر ض کریں گے کہ آپ جنت کے جس دروازے سے چاہیں گذر سکتے ہیں.

۱۲۴

٦۔آتش جہنم سے نجات کا باعث

قیامت کے مسائل میں سے سنگین ترین مسئلہ آتش جہنم ہے اور اسی حوالے سے قرآن و سنت اور انبیاء و آئمہ٪ کی تعلیمات سے یہ ملتا ہے کہ تم لوگ کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کرو کہ جس کا نتیجہ آتش جہنم ہو لیکن جہنم کی آگ کی حقیقت دنیوی آگ کی مانند نہیں ہے اور جس طرح دنیوی آگ کی گرمائش اور جلن قابل تحمل نہیں تو جہنم کی آگ کیسے قابل تحمل ہوسکتی ہے جبکہ جہنم کی آگ کی تپش و جلن دنیوی آگ کی بہ نسبت نوگنا زیادہ ہوگی۔ لہٰذاآتش جہنم کی سختی کا اندازہ اور ان سے پیدا ہونے والے خوف و ہراس کا سبب یہی ہے پس اگر کوئی شخص ایسی آگ سے نجات چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز شب سے مدد مانگے چنانچہ اس مطلب کو حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے یوں ذکر فرمایا ہے کہ ہر وہ شخص جو عبادت الٰہی میں شب بیداری کریں گے تو خداوند اس کو جہنم کی سختیوں سے نجات دیتا ہے اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہے گا۔(١)

اسی طرح قرآن کریم میں جہنم کی آگ کے متعلق متعدد آیات نازل ہوئی ہیں۔ جیسے:

____________________

(١)ثواب الاعمال ص١٠٠.

۱۲۵

( فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِی وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِینَ ) (١)

پس تم اس آگ سے بچو کہ جس کے ایندھن انسان اور پتھر ہوں گی جو کافروں کے لئے خلق کیا ہے۔

نیز فرمایا:

( إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیرًا ) (٢)

بے شک منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا اور تم ان کی حمایت میں کوئی مددگار نہ پاؤگے۔

پس اگر کوئی انسان ایسی آگ سے نجات کا خواہاں ہے تو آج نماز شب انجام دینے کا عزم کریں۔

٧۔آخرت کی زادو راہ نماز شب

یہ امر طبیعی ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ملک یا شہر سے دوسرے شہر یا ملک کی طرف سفر کرنا چاہتا ہے تو سفر کے تمام ضروریات کو سفر سے پہلے مہیا کرتا ہے

____________________

(١)سورہئ بقرۃ آیت ٢٤.

(٢)سورہئ نساء آیت ١٤٥

۱۲۶

تاکہ سفر کے دوران کسی مشکل سے دوچار نہ ہو لیکن یہ بڑی تعجب کی بات ہے کہ انسان اس دنیا میں معمولی سفر شروع کرنے سے پہلے کچھ زادوراہ آمادہ کرتاہے لیکن جب اخروی سفر اور ابدی عالم کی طرف جانے لگتا ہے تو سفر کے ضروریات اور لوازمات سے بالکل غافل ہے جبکہ وہ یہ جانتا بھی ہے کہ یہ سفر کس قدر طولانی ہے اور زادوراہ کس قدر زیادہ ہونا چاہیے پس اگر کوئی شخص عالم آخرت کے سفر کا تصور کرے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ سفر دنیوی سفر سے بہت زیادہ اور طولانی اورمشکل ہے لہٰذا اس سفر کے زادو راہ میں سے ایک نماز شب ہے۔

چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا وہ شخص خوش قسمت ہے جو سردی کے موسم میں رات کے اوقات میں سے کسی خاص وقت میں عالم آخرت کے زادو راہ مہیا کرنے میں گزارے اسی طرح دوسری روایت میں پیغمبر اکر م ؐنے فرمایا:''فان صلاة اللیل تدفع عن اهلها حرا النار لیوم القیامة'' (١)

بے شک روز قیامت نماز شب نمازی کو جہنم کے حرارت سے نجات دیتی ہے پس ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز شب آخرت کے لئے ایک ایسا زخیرہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا اتنی فضیلت اور اہمیت کے باوجود انجام نہ دینا ہماری غفلت وکوتا ہی کا نتیجہ ہے ۔

____________________

(١)کننرالعمال ج ٧.

۱۲۷

٨۔نماز شب آخرت کی خوشی کا باعث اگر انسان دنیا میںخوف خدا میں آنسوبہا ئے تو روزقیامت اس کو کسی چیز کے خوف سے رونا نہیں پڑے گا اسی لئے سکونی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت کی ہے

''قال قال رسول الله (ص)کل عین باکیة یوم القیامه الا ثلاثة اعین عین بکت من خشة الله وعین غضت عن محارم الله وعین باتت ساهرة فی سبیل الله '' (١)

روز قیامت تین آنکھوںکے علاوہ باقی تمام آنکھیں اشک بارہونگی (١)وہ آنکھوں جو خوف خدا کی وجہ سے روتی رہی ہو(٢) وہ آنکھ جو حرام نگاہوں سے اجتناب کرتی رہی ہے (٣) وہ آنکھ جو راہ خدا میں شب بیداری کرتی رہی ہو اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

روز قیامت تمام آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے مگر تین آنکھیں، (١) جو محرمات الٰہی سے پرہیز کرتی رہی دوسری وہ آنکھیں جو رات کی تاریکی میں خوف خدا کے نتیجے میں گریہ وزاری میں رہی ہے تیسری وہ آنکھیں جو اطاعت الہٰی کے خاطر اپنے آپ کو نیند سے محروم کرکے شب بیداری کرتی رہی ہو لہٰذا

____________________

(١) خصال صدوق ص ٩٨

۱۲۸

قرآن کریم میں بھی یوں فرمایا ہے :

( فلیضحکو اقلیلا والیبکواکثیرا )

یعنی زیادہ رویا کرو اور خوشحالی کم کرو۔

اسی طرح تمام انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام کی سیرت بھی یہی رہی ہے کہ وہ آخرت کے خوف سے دنیا میں رویا کرتے تھے اور بہتیرین رونے کا وقت رات کی تاریکی ہے کہ جس وقت نماز شب انجام دیجاتی ہے پس دنیا میں جہنم کی آگ اور عذاب کے خوف میں رونا اور آنسو بہانا اخروی شرمندگی سے نجات کا باعث ہوگا۔

٩۔آخرت کی زینت نماز شب

ہر عالم میں کچھ چیزیں باعث زینت ہوا کرتی ہے لیکن ان کا آپس میں بہت بڑا فرق بھی ہے چنانچہ اس مطلب کو حضرت امام جفرصادق علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان الله عزوجل قال المال والبنون زینة الحیاة الدنیا وان ثمان رکعات التی یصلیها العبد اخراللیل زینة الاخرة ۔''(١)

خدا نے فرمایا کہ اولاد اور دولت دنیوی زندگی کی زینت ہے لیکن آٹھ

____________________

(١) بحار الانوار ج ٨٣

۱۲۹

رکعات نماز جو رات کے آخری وقت میںانجام دی جاتی ہے وہ آخرت کی زینت ہے پس اس روایت سے صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ عالم دنیا میں لوگوں کی نظر میں زینت کا ذریعہ اولاد اور دولت سمجھا جا تا ہے جب کہ عالم آخرت میں باعث زینت نماز شب اور دوسرے اعمال صالحہ ہوں گے چنانچہ خدا نے اسی مذکورہ آیہ شریفہ کے ذیل میں یوں اشارہ فرمایا والباقیات الصالحات لہٰذا نماز شب انجام دینے والے روز قیامت دوسروں سے مزین اور منور نظر آتا ہے

١٠۔جنت میں خصوصی مقام ملنے کا سبب

روایات کی روشنی میں یہ بات مسلم ہے کہ جنت میں ہر جنتی کا مقام ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہے کہ جس طرح دنیا میں ہر ایک کی جگہ اور منزل یکسان نہیں ہے اسی طرح جنت میں بھی سکونت کی جگہ اور دیگر سہولیات کے حوالے سے مختلف ہے لہٰذا اگر کوئی شخص دنیا میں نماز شب کا عادی اور نیک اعمال کے پابند ہوتو روز قیامت جنت میں اس کو ایسے خصوصی قصر دیا جائے گا کہ جو مختلف کمروں پر مشتمل ہونے کے علاوہ اس کی زینت فیروزہ یاقوت اور زبرجد جیسے قیمتی پھتروں سے کی گئی ہے چنانچہ اس مسئلہ کو پیغمبر اکرم)ص(نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''ان فی الجنة غرفا یری ظاهرها من باطنها وباطنها من ظاهر ها یسکنها من امتی من اطاب الکلام واطعم الطعام وافش السلام وادام الصیام وصلی بااللیل والناس ینام ۔''

بے شک جنت میں کچھ اسے قصر بھی تیار کیا گیا ہے کہ جن کے باہر کی زینت اندرسے اور اندر کی زینت باہر سے نظر آئے گی کہ ایسے کمروں میں میری امت میں سے ان لوگوں کی سکونت ہوگی کہ جن کا سلوک دنیاء میں لوگوں کے ساتھ اچھا رہا اور لوگوں کو کھنا کھلایا اور سرعام یعنی کھلم کھلا لوگوں کو سلام کرنے کے عادی رہے ہو اور ہمیشہ روزہ رکھنے کے علاوہ رات کے وقت نماز شب انجام دیتے رہیں جب کہ باقی افراد خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔

۱۳۰

تحلیل وتفسیر:

اگر کوئی شخص دنیا میں نیک گفتاری کا مالک اور سلام کرنے کا عادی اور روزہ رکھنے پر پابند ہو تو خدا اس کے نیکی کا بدلہ روز قیامت ایسا گھر عطا فرمائے گا کہ جن کی خوبصورتی اور زینت کھلم کھلا نظر آئے گی اسی طرح نماز شب کی برکت سے جنت میں نماز شب انجام دینے والے ایسا گھر اور قصر کا مالک ہوگا نیز اگر دنیا میں نماز شب انجام دینے کی توفیق ہوئی ہو تو محشر کے میدان میں حساب وکتاب کے وقت نماز شب ایک بادل کی طرح اس شخص کی پیشانی پرسایہ کئے ہوئے نظر آئے گی چنانچہ پیغمبر اکرم)ص( نے ارشاد فرمایا :

'' صلاةاللیل ظلا فوقه ''

یعنی نماز شب اس کے سرپر سایہ کی طرح نمودار ہوگی وتاجاًعلی راسہ یعنی نماز شب قیامت کے دن ایک تاج کی مانند ظاہر ہوگی نیز فرمایا ولباسا علی بدنہ نماز شب اس کے بدن پر لباس کی مانند ایک پردہ ہے ونورا سعی بین یدیہ اور نماز شب نور بن کر اس کے سامنے روشن ہوجائے گی وسترا بینہ وبین النار اور نماز شب نمازی اور جہنم کے درمیان ایک پردہ ہے وحجۃ بین یدی اللہ تعالی۔

خدا اور نمازی کے درمیان دلیل اور برہان ہوگی، وثقلا فی المیزان اور نامہ اعمال کے سنگین ہونے کا سبب ہے پس خلاصہ نماز شب حساب وکتاب میزان عمل حشرو نشر کے مو قع پر کام آنے والا واحد ذریعہ ہے لہٰذا فراموش نہ کیجئے ۔

۱۳۱

تیسری فصل :

نماز شب سے محروم ہونے کی علت

نماز شب کے اس قدر فضائل وفوائد کے باوجود اسے انجام نہ دینے کی وجہ کیا ہے ؟ کہ اس علت سے بھی آگاہ ہونا مؤمنین کے لئے بہت ضروری ہے کیونکہ جب کسی کام کا عملی جامہ پہنانا چاہتے تو اس کے دو پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئیے تا کہ اس کام سے فائدہ اأٹھایا جاسکے وہ پہلو یہ ہے کہ جن شرائط پروہ کام موقوف ہے ان کو انجام دینا اور ان کے موانع اور رکاوٹوں کو برطرف کرنا کہ یہ دونوں مقدمے تمام افعال میں مسلم ہے اور عقل بھی اس کے انجام دینے کا حکم دیتی ہے اگر چہ ہر فعل کی شرائط اور موانع کی تعریف کے بارے میں علماء اور محققین کے درمیان اختلا ف آراء پائی جاتی ہے لیکن اس طرح کے اختلاف سے شرائط کی ضرورت اور موانع کی برطرفی کے لازم ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لہٰذا نماز شب کی شرائط اور موانع کو مدنظر رکھنا لازم ہے تاکہ نماز شب سے محروم نہ رہ سکے لیکن جو موانع روایات میں ذکر کیا گیا ہے وہ بہت ہی زیادہ ہے کہ جن کا تذکرہ کرنا اس کتابچہ کی گنجائش سے خارج ہے لہٰذا راقم الحروف صرف اشارہ پر اکتفاء کرتا ہے۔

۱۳۲

الف۔ گناہ :

کسی بھی نیک اور اہم کام سے محروم ہونے کے اسباب میں سے ایک گناہ ہے کہ جن کے مرتکب ہونے سے انسان نماز شب جیسے بابرکت کام کو انجام دینے سے محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ اس مطلب کو متعدد روایات میں واضح اور روشن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے حضرت امام علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ جب کسی نے آپ سے دریافت کیا ۔

''لرجل قال له انی حرمت الصلاة بااللیل انت رجل قد قیدتک ذنوبک'' (١)

(یاعلی) میں نماز شب سے محروم ہوجاتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تمہارے گناہوں نے تجھے جھکڑرکھا ہے اسی طرح دوسری روایت میں فرمایا:

''ان الرجل یکذب الکذب یحرم بها صلاة اللیل''

بے شک اگر کوئی شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہو تو وہ اس جھوٹ کی وجہ سے نماز شب سے محروم رہے گا نیز اور ایک روایت میں فرمایا :

''ان الرجل یذنب الذنب فیحرم صلاة اللیل وان العمل

____________________

(١) اصول کافی ج ٣

۱۳۳

السیئی اسرع فی صاحبه من السکین فی اللحم ''

بے شک گناہ کرنے سے انسان نماز شب انجام دینے کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے اور برے کام میں مرتکب ہونے والے افراد میںاس طرح تیزی سے برائی کا اثر ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح چاقو گوشت کو ٹکرے ٹکرے کردیتاہے

تحلیل وتفسیر:

مذکورہ روایتوں سے دومطلب ثابت ہوجاتے ہیں:

١۔گناہ ہر نیک اور اچھے عمل سے محروم ہونے کا سبب ہے۔

٢۔ برے اعمال کا اثر ظاہر ہونے کا طریقہ۔

لہٰذا اگر نماز شب انجام دینے کی خواہش ہو تو گناہ سے اجتناب لازم ہے تاکہ اس کو انجام دینے کی توفیق سے محروم نہ رہے

ب۔نماز شب سے محروم ہونے کا دوسرا سبب

انسان اپنی روز مرہ زندگی میں خداوند کی عطا کردہ نیند جیسی عظیم نعمت سے بہرہ مند ہورہا ہے چاہے مسلمان ہو یا کافر مرد ہویا عورت، نوجوان ہو یا بچے، غریب ہو یا دولت مند جاہل ہو یا عالم ہر انسان اس نعمت سے بہرہ مندہے لیکن اب تک اکیسویں صدی کا انسان نیند کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہے اور محققین نیند کی حقیقت کے بارے میں پریشان ہے لہٰذا مختلف تعبیرات کا اظہار کیا جاتاہے اسی طرح نیند کی اہمیت بھی اس طرح بیان کئے ہیں کہ انسان ایک ہفتہ تک بغیر کھانے پینے کے زندہ رہ سکتا ہے لیکن ایک ہفتہ تک نہ سوئے تو زندہ رہنا ناممکن ہے اس روسے نیند کی حقیقت مبہم اور مجمل نظر آتی ہے لہٰذا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نیند کی دوقسمیں ہیں:١۔ کسی اصول وضوابط کے ساتھ سونا کہ جس کو انسانی خواب سے تعبیر کیا گیاہے۔٢۔ کسی اصول وضوابط کے بغیر سونا کہ جس کو حیوانی نیند سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

۱۳۴

لہٰذا آیات اور روایات کی روسے مسلم ہے کہ نیند ایک نعمت ا لٰہی ہے اگر اس نعمت کو اصول وضوابط کے ساتھ استفادہ کرے تو صحت پر برے اثرات نہ پڑنے کے باوجود شریعت میں ایسی نیند کی مدح بھی کی گئی ہے لیکن اگر اس کے آداب کی رعایت نہ کرے تو صحت پر برا اثر پڑتا ہے اور شریعت میں اس کی مذمت ہے اسی حوالے سے آج کل کے محققین انسان کو ٹائم ٹیبل کے مطابق سونے اور اٹھنے کی سفارش کرتے ہیں تاکہ کثرت سے سونے والوں کو ان کے منفی اثرات سے بچایا جاسکے پس نماز شب سے محروم ہونے والے اسباب میں سے ایک کثرت سے سونا ہے چنانچہ پیغمبر اکرم )ص( کا ارشاد گرامی ہے :

''قالت ام سلمان ابن داود یابنی ایاک وکثرة النوم بااللیل فان کثرة النوم بااللیل تدفع الرجل فقرا یوم القیامه'' (١)

حضرت سلیمان ابن داود کی ماں نے کہا اے بیٹا رات کو زیادہ سونے سے

____________________

(١)بحار ج ٨٧

۱۳۵

اجتناب کرو کیونکہ رات کو زیادہ سونا قیامت کے دن فقرو فاقہ کاباعث بنتا ہے۔

پس اس روایت سے بخوبی روشن ہوتا ہے کہ زیادہ سونا نیک کاموں کے انجام دہی کےلئے رکاوٹ اور محرومیت اخروی کا سبب ہے

ج۔نماز شب سے محروم ہونے کاتیسرا سبب

جب انسان کسی نیک عمل کا موقع ضائع کردیتا ہے تو سب سے پہلے اس کی اپنی فطرت اس کی ملامت کرتی ہے لیکن انسان اتنا غافل ہے کہ اس ملامت فطری سے بچنے کی خاطر تو جیہات سے کام لیتا ہے تاکہ وہ اپنی ایسی عادت کو قائم رکھ سکیں لہٰذا اگر ہم کسی طالب علم سے نماز شب کے بارے میں سوال کرے کہ آپ کیوں اس عظیم نعمت سے استفادہ نہیں کرتے تو فورا جواب دیتا ہے کہ مجھے نیند آتی جس سے نماز شب نہیں پڑھ سکتا اور ایسی نیند صحت کے لئے ضروری بھی ہے لہٰذا ایسے بہانوں میں انسان غرق ہوجاتا ہے پس نماز شب سے محروم ہونے کی ایک علت بہانے اور توجیہات ہے جبکہ نماز شب ادا کرنے کے لئے بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ سے زیادہ وقت کی ضرورت نہیں پڑتی اگر نماز شب کے انجام دینے کے وقت میں نہ سونے سے صحت پر برا اثر پڑتا تو خدا وند بھی اپنے بندوں کو رات کے اس مخصوص وقت میں نماز شب مستحب نہ فرماتے کیونکہ وہی انسان کے حقیقی مصالح اور مفاسد کا علم رکھتا ہے کہ نیند انسان کو صحت مند بنانے کے ضامن نہیں ہے بلکہ نماز شب ہے جو انسانی ترقی اور جسمانی صحت کا ضامن قرار پاتی ہے لہٰذا تحصیل علم اور دنیوی ترقی کے بہترین ذریعہ نماز شب ہے کہ جس کی برکت سے انبیاء اور ائمہ علیہم السلام اور مؤمنین کو قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔

۱۳۶

د۔ پر خوری

شاید اب تک کسی محقق نے اپنی تحقیقات میں شکم پوری اور زیادہ کھانے کے عمل کو اچھے کام سے تعبیر نہ ہو۔

لہٰذا اسلامی تعلیمات میں بھی جب اسی حوالہ سے مطالعہ کیا جائے تو پر خوری مذموم اور نامرغوب نظر آتا ہیں کیونکہ زیادہ کھانے سے انسانی معدہ مختلف قسم کے امراض کا شکار ہو جاتاہے اور اسی طرح پرخوری مادی اور معنوی امور کے لئے مانع بھی بن جاتا ہے لہٰذا پر خوری کا نتیجہ ہے انسان نماز شب جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے چنانچہ اس مطلب کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے یوں ارشاد فرمایا ہے زیادہ غذا کھانے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ کھانا کھانے سے نماز شب سے محروم اور جسم میں مختلف قسم کے امراض اور قلب میں قساوت جیسی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔(١)

ھ۔عجب اور تکبر

عجب اور تکبر دوایسی بیماری ہے جن کی وجہ سے انسان تمام معنویات الہٰی

____________________

(١) غررالحکم ص٨٠.

۱۳۷

سے محروم ہوجاتا ہے لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ چھ ہزار سال عبادت میں مشغول ہونے کے باوجود شیطان تکبر کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ نہ کرنے کے سبب ہمیشہ کے لئے لعنت خدا کا مستحق قرار پایا لہٰذا عجب اور تکبر نماز شب سے محروم ہونے کا ایک ذریعہ ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

''قال رسول الله قال الله عزوجل ان من عبادی المؤمنین لمن یجتهد فی عبادتی فیقوم.... ''(١)

(ترجمہ) پیغمبر اکرم )ص( نے فرمایا کہ خدا نے فرمایا ہے بے شک میرے مؤمن بندوں میں سے کچھ اس طرح میری عبادت کرنے میں مشغول ہیں نیند سے اٹھ کر اپنے آپ کو بستر کی نرمی اور گرمی کی لذتوں سے محروم کرکے میری عبادت کرنے کے خاطر زحمت میں ڈالتے ہیں لیکن میں اس کی آرام کی خاطر اپنی لطف اورمحبت کے ذریعے ان پر نیند کا غلبہ کرتا ہوں تاکہ ایک یادو راتیں نماز شب اور عباد ت سے محروم رہے کہ جس پر وہ پریشان اور اپنی مذمت کرنے لگتا ہے لیکن میں اگر اس طرح نہ کروں بلکہ اس کو اپنی حالت پر چھوڑدیتا تو وہ میری عبادت کرتے کرتے عجب کے مرض کا شکار ہوجاتا کہ عجب ایک ایسا مرض ہے کہ جس سے مؤمن کے اعمال کی ارزش ختم ہونے کے علاوہ اس کی نابودی کا باعث بھی بن جاتا

____________________

(١) اصول کافی

۱۳۸

ہے لہٰذا کئے ہوئے اعمال پر ناز کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ میں تمام عبادت گزار حضرات سے بالاتر اور افضل ہوں جبکہ اس نے میری عبادت کرنے میں افراط وتفریط سے کام لیا ہے پس وہ مجھ سے دور ہے لیکن وہ گمان کرتا ہے کہ ہم خدا کے مقرب بندوں میں سے ہیں ۔

اس روایت میں پیغمبر اکرم )ص( نے کئی مطالب کی طرف اشارہ فرمایا ہے :

١) خدا کی عبادت کر نے میں افراط وتفریط مضرہے۔

٢) اپنی عبادت پر ناز کرنا بربادی ونابودی کا سبب ہے۔

٣) اصول وضوابط کے بغیر عبادت فائدہ مند نہیں ہے۔

لہٰذا تمام عبادات میں اخلاص شرط ہے پس اگر ہم نماز شب اخلاص کے بغیر انجام دے تووہ صحیح تہجد گزار نہیں بن سکتا

۱۳۹

چوتھی فصل:

جاگنے کے عزم پر سونے کا ثواب

گذشتہ بحث میں نیند کے اقسام اور ان کے فوائد کا مختصر ذکر کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ سونے کی دوقسمیں ہیں :

١) انسانی طریقہ پر سونا۔

٢) حیوانی طریقہ پر سونا اور انسانی طریقہ کی نیند خودتین قسموں میں تقسیم ہوتی ہے:

١)اصول وضوابط اور نماز شب کو انجام دینے کے عزم کے بغیر سونا کہ ایسی نیند کو محققین نے صحت بدن کے لئے بھی مضر قراردیا ہے اور اسلام کی نظر میں ایسی نیند پر کوئی ثواب نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اکرم )ص(کی روایت ہے کہ انما الاعمال باالنیۃ تما م کاموں کے دارومدار نیت پر ہے اور مؤمن کی نیت ان کے اعمال سے بہتر ہے۔

٢) دوسری قسم نیند وہ ہے جس میں اصول وضوابط کے ساتھ ساتھ نماز شب کے انجام دینے کی نیت بھی ہوئی ہے جبکہ اس پر نیند کا غلبہ ہونے کی وجہ سے وہ نماز شب ادا نہیں کر سکتا ایسی نیند پر صحت بدن کے لئے مفید ہونے کے علاوہ ثواب بھی دیا جاتاہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم )ص( نے یوں ارشاد فرمایا ہے :

۱۴۰

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180

181

182

183

184

185

186

187

188

189

190

191

192

193

194

195

196

197

198

199

200

201

202

203

204

205

206

207

208

209

210

211

212

213

214

215

216

217

218

219

220

221

222

223

224

225

226

227

228

229

230

231

232

233

234

235

236

237

238

239

240

241

242

243

244

245

246

247

248

249

250

251

252

253

254

255

256

257

258

259

260

261

262

263

264

265

266

267

268

269

270

271

272

273

274

275

276

277

278

279

280

281

282

283

284

285

286

287

288

289

290

291

292

293

294

295

296