منزلت غدیر

منزلت غدیر0%

منزلت غدیر مؤلف:
زمرہ جات: امامت
صفحے: 156

منزلت غدیر

مؤلف: حجة الاسلام والمسلمین محمد دشتی
زمرہ جات:

صفحے: 156
مشاہدے: 1845
ڈاؤنلوڈ: 661

تبصرے:

منزلت غدیر
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 156 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1845 / ڈاؤنلوڈ: 661
سائز سائز سائز
منزلت غدیر

منزلت غدیر

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

منزلت غدیر

حجة الاسلام والمسلمین محمد دشتی

مترجم : ضمیرحسین آف بہاول پور

مجمع جہانی اہل بیت علیھم السلام

۳

قال رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم قال لی جبرئیل قال ﷲ تعالی:

وِلَا یَةُ عَلِی اِبنِ اَبِی طَالِب حِصنِی فَمَن دَخَل حِصنِی اَمِنَ مِن عَذا بی(۱)

( حدیث قدسی)

تر جمہ: علی ابن ابیطالبـ کی ولایت میرا قلعہ ہے جو میرے قلعہ میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے نجات پا گیا۔

____________________

(۱) شواھدالتنزیل، ج۱،ص ۱۷۰، الحاکم الحسکانی:

۴

بسم الل ه الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۵

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

۶

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام محمد دشتی کی گرانقدر کتاب ''منزلت غدیر'' کو فاضل جلیل مولانا ضمیر حسین نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں، اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۷

بسم ﷲالرّحمن الرّحیم

پیش لفظِ مترجِم

تمام تعریفیں ﷲ کے لئے ہیں جس نے اپنی وحدانیّت و یکتائی کے انوار سے ہمارے دلوں کو منوّر فرمایا اور ہمارے سینوںمیں اپنی اور اپنے اطاعت گزار بندوں کی محبّت اور دوستی کے پودے لگاے ٔ ، اور درود و سلام ہواسکی مخلوق میں سب سے اچھے اور اشرف بندے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ا ور ان کے اہلِ بیت (ع) پر مخصوص اس ذات پر جس نے آنحضرت کے چہرۂ انور سے کرب و اندوہ کا غبار صاف کیا جو وصیّوں کے سردار اور متّقیوں کے امام علی ابنِ ابی طالب ہیں اور انکے دشمنوں پر لعنت ابدی ہو۔

اما بعد: تاریخی واقعات و حوادث کی اہمیّت وعظمت کے لحاظ سے ان کی قدرو قیمت کا اندازہ لگانے کا ا یک طریقہ یہ ہے کہ اس واقعہ ٔ کے رموز،اس کے اغراض و مقاصد اور اس واقعۂ میں موجود افراد اور عوامل کی عظمت ورفعت کا اندازہ لگایا جا ئے لہٰذہ جتنا اِ س واقعہ کے اسباب و عوامل کی منزلت عظیم ہو گی اور اِس کے رموز کا مقام اعلےٰ و اشرف ہوگا یہ واقعہ بھی اتنا ہی عظمت و اہمیّت کا حامل اور توجّہ کے قابل ہوگا۔

تاریخِ اِ سلام میں واقعۂ غدیر کے بارے میں یہ کہنا بلا مبالغہ ہوگا کہ وہ مسلمانوںکے سامنے رونما ہونے والے اہم واقعات و حادثات میں سے ایک نہایت اہم واقعہ ہے اسکی اس اہمیّت کا سر چشمہ اسکا موضوع ،اس کے رموز اور افراد کابلند و بالا مرتبہ اور اس کے اغراض و مقاصدکی پاکیزگی اور انکا تقدّس ہے واقعۂ غدیر کاموضوع مسلمانوں پرایسے شخص کو خلیفہ و حاکم مقرّرکرنا ہے جو رسول ﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد اسلام کی با گ ڈورسنبھالے اور اِس واقعۂ کے رمز و محور رسولِ خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جو خلیفہ اور حاکم مقرّر کرنے والے ہیں اور امیرالمومنین ہیں جن کو حاکِم بنایا گیا اِس واقعۂ کے گواہ تمام مسلمان ہیں اور اِس کا محرّک اور دستور دینے والا خدا وندِ متعال ہے چونکہ اسی نے اپنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس امر کے اعلان اور لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ۔

چنانچہ اِرشاد فرمایا :( یٰاأَیُّهَاالْرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسٰلَتَه، لٰخ )

۸

اے رسول جو حکم تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس آچکا ہے اُس کو پہنچاؤ اگر تم نے یہ حکم نہ پہنچایاتو گویا تم نے رسالَت کا کوئی کام انجام نہیں دیا اور ﷲ تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا، اس واقعۂ کے اغراض و مقاصد دینِ خدا کو لہو و لعب اور جھوٹ کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھنا ،احکام خدا کو تحریف و تعطیل سے بچانا ،تمام لوگوں کی ہدایت کا انتظام کرنااورانھیں گمراہی اور رسّہ کشی سے دُ ور رکھنا ہے،اس واقعہ کی عظمت و اہمیت ہی کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ علمائ، مؤرّخین،ادبااور محدّثین نے مذہب و مسلک کے اختلاف کے با وجود اس واقعہ کو بڑے اہتمام سے پیش کیا ہے، اس واقعہ کے ثبوت اور اسکی تصدیق میں اتنی وافر مقدار میںدلیلیں موجود ہیںکہ جن کی وجہ سے تاریخِ اسلامی کا محقّق ، اور اس واقعہ کے مقصد سے آگاہی رکھنے والا انسان آنحضرت کی وفات کے بعد رونما ہونے والے ایسے بہت سے واقعات کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے جن میں غدیر خُم میں کی گیٔ وصیّت سے انحراف کا عنوان پایا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دشمنوںنے،اس واقعہ کے ثبوت مٹانے والوں، منحرف و گمراہ محدثوں، مؤرخوںاور درباری مُلّاؤں نے اِس واقعہ پر پردہ ڈالنے اور نصفُ النّہار کے آفتاب سے زیادہ روشن اِس حقیقت کو دھندلا بنانے اور اِس میںشک و وہم پیدا کرنے کی نا پاک اور نا کام کوشش کی ہے ۔ لہٰذا حق کے متوالوں اور امیرالمومنین کی محبّت و دوستی اور اخلاص کی راہ پر چلنے والوں نے اِس ظالمانہ حملے کا مقابلہ کرنے اور قطعی دلیلوں اور روشن برہانوں کے ذریعے اِ س واقعہ پر ڈالے گۓ شکوک و شبہات کے پردے ہٹانے کا عزمِ بالجزم کیااُنہیں بزرگوں میںسے محقّقِ عصر حجةُالاسلام والمسلِمین محمد دشتی ہیں۔

جنہوںنے اپنی علمی ،فنی تاریخی ،ادبی اوراخلاقی صلاحیتوں کو برُو ئے کار لاتے ہوے ٔاِس کتاب کو تألیف کیا اورحق کے راہیوں کے لئے شمعِ ہدایت روشن کی ،چونکہ میں نے اردو دان طبقہ کے لئے ایسی کتاب کی اشد ضرورت محسوس کی جس کی وجہ سے باوجود نامساعد حالات کے اِس کتاب کے ترجُمہ میں مشغول ہوا،خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے مجھے یہ ہمّت بخشی اور میں اپنے اُردو دان حضرات کے لئے یہ گوہر نایاب ہدیہ کرنے میں کامیاب ہوا مُجھے اُمید ہے کہ یہ کتاب اہلِ حق کے ایمان میں اضافے ،اور حق کے متلاشیوں کے لئے مشعلِ راہ بنے گی۔

۹

ضروری وضاحت:

یہاں پر یہ وضاحت کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک مطلب کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا لہٰذا تحتُ اللّفظی ترجُمہ کو معیار نہیں بنایا بلکہ مؤلّف کے اصل مفہوم کو اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے ،اربابِ قلم سے بصد خلوص گزارش ہے کہ اگر الفاظ و عبارات کی ترکیب و تو جیہ اور انکے معانی ومفاہیم کی ادائیگی میں کویٔ غلطی نظر آ ے تو اُسکی راہنمأ فرمائیں تاکہ آیٔندہ ایڈیشنوں میں اُسکی تصحیح کی جاسکے ۔

آخر میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اِس کتاب کی کتابت ، نشرو اِشاعت میں میری مدد کی اور خدا کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ وہ اِ ن لوگوں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، وہی بہترین ناصر و مددگار ہے ۔

والسّلام

ضمیر حسین

۱۸ ذی الحجہ ۱۴۲۴ھ

۱۰

قال الامام الباقرعلی ه السلام:

لَمْ یُنَادِ بِشَٔيٍ مِثْلَ مَا نُوْدی بِالوِلَایَةِ یَوْمَ الغَدیر

امام باقر ـ فرماتے ہیں کہ کسی بھی حکم کا ایسے اعلان نہیں کیا گیا جیسے غدیر کے دن ولایت کا اعلان کیا گیا ہے ۔

مدینہ سے لے کر مقامِ غدیر تک کے مختصر حالات ( مترجم )

رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت کو تقریباً دس سال گذر رہے تھے کہ ماہ ذیقعدہ کی ایک رات کو حضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز شب سے فارغ ہو کر صحنِ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ امین وحی نازل ہوا اور فرمایا کہ اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداوندِ عالم آپ پر درود و سلام کے بعد فرماتا ہے کہ میں نے کسی بھی رسول کو اس وقت تک اپنی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ انکے دین کو کامل کیا اور انکی حجت کو لوگوں پر تمام کیا پس آپکی رسالت کے دو وظایف آپ پر باقی ہیں ایک حج اور دوسرا وصایت و امامت ۔

اے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداوند عالم آ پ کو حکم دیتا ہے کہ حج بجا لایٔیں اور لو گوں کومناسک حج کی تعلیم دیں جیسے نماز و روزہ سکھایا ہے، اور باقی احکام دین کو بیان کیا ہے، دس ہجری کو پہلی بار حضور ِ اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قانونی طور پر لوگوں کو حج کی دعوت دی اور فرمایا کہ اس مراسم حج میں زیادہ سے زیادہ لوگ شرکت کریں ، اور اس سفر حج کو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجةالوداع کے نام سے یاد فرمایا ،اوراس سفر سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ہدف قوانیں اسلام کے دواہم احکام کو بیان کرنا تھا جو ابھی تک لوگوں کے درمیان کامل اور قانونی طور پر بیان نہیں ہوے ٔ تھے ایک حج اور دوسرا آنحضرت کی وفات کے بعد امامت اور خلافت کا مسئلہ تھا ۔

حکم خداوند عالم کے بعد حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منادی کرنے والوں کو بلایا اور فرمایا کہ مدینہ اور اسکے اطراف میں جا کر منادی کرو اور یہ اطلاع پہنچا دو کہ جو بھی میرے ساتھ مراسم حج کی ادایٔگی کے لئے جانا چاہتا ہے وہ تیّاری کر لے ،یہ اعلان سننے کے بعد مدینہ کے گرد و نواح سے بہت سے لوگ شہرِ مدینہ میں داخل ہونا شروع ہو گۓ تاکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مہاجرین و انصار کے ساتھ فریضۂ حج کے لئے مکّہ کی طرف سفر کریں جب یہ کاروان مکّہ کی طرف چلا تو بہت سے قبائل کے لوگ راستے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سا تھ شریک ہوے اور جب اطراف مکّہ اور دوسرے اسلامی ممالک تک یہ خبر پہنچی تو بہت سے لوگ حج کے لئے آمادہ ہو گۓ تاکہ حج کے جز ئیات حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زبانی سن لیں اور یاد کر لیں ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ بھی اشارہ فرما دیا تھا کہ یہ میری زندگی کا آخری سال ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ مراسم حج میں شرکت کریں ، یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار افراد نے مراسم حج میں شرکت کی جن میں سے اَسّی ہزار افراد وہ تھے جو مدینہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ سفرمیں شامل ہوے ٔ تھے ۔

۱۱

مدینہ سے مکّہ تک :

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس عظیم کاروان نے ۲۵ ذیقعدہ بروز ہفتہ مدینہ سے حرکت کی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے مطابق لوگوں نے لباس احرام ساتھ لیا اور خود رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غسل فرمایا اور دو لباس احرام ساتھ لئے اور احرام باندھنے کے لئے مدینہ کے نزدیک مسجد شجرہ تک آے ٔ اہل بیتِ پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ( حضرت ِ فاطمہ زہرا سلامُ ﷲ ِ علیہا، امامِ حسن ـ، امامِ حسین ـ ) اورآنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تمام بیویاں اس سفر میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ تھیں ۔

احرام باندھنے کے بعد مکّہ کے لئے دس روزہ سفر کا آغاز کیا اور اتوار کے دن صبح ایک جگہ پر قیام فرمایا اور شام تک وہاں ٹھرے نماز مغرب و عشا کے بعد حرکت کی اور مقامِ عِرقُ الظبیة پر پہنچے اور اس کے بعد مقامِ رَ وحائِ پر مختصر قیام کیا اور نماز عصر کے وقت مقامِ منصرف پر پہنچے اور نماز مغرب و عشا کیلئے متعشّیٰ پر قیام کیا اور صبح کی نماز مقامِ اثایة پر ادا کی اور بروز منگل مقامِ عَرج پر پہنچے اور بروز بدھ مقامِ سقیائِ پر پہنچے اور بروز جمعرات مقامِ أَبوائِ پر پہنچے کہ وہاں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مادرِ گرامی حضرت آمنہ علَیہا السَلام کی قبرِ مبارک تھی۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبرِ مادرِ گرامی کی زیارت کی اور جمعہ کے دن مقامِ جحفہُ اور غد یرِ خُم کو عبور کرتے ہوے ٔ بروز ہفتہ مقامِ قُد َید پر پہنچے اور بروز اتوار مقامِ عُسفان پر اور بروز سوموار مقامِ مَرّالظّہران پہنچے اورشام تک وہاں قیام فرمایا اور رات کو مقامِ سَیرَف کی طرف حرکت کی اور اس کے بعد کی منزل مکّۂ معظّمہ تھی دس دن مسافت کے بعد پانچویں ذی الحجہ بروز منگل یہ عظیم کارواں عظمت و جلالت کے ساتھ شہرِ مکّہ میں وارد ہوا ۔

۱۲

جب سفرِ حج کے لئے اعلان کیا گیا تھا اُن دنوں حضرت علی ـ تبلیغِ اسلام اور خُمس و زکٰوة کی رقم وصول کرنے نجران اور یمن گۓ ہوے ٔ تھے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مدینہ سے حرکت کرتے وقت ایک قاصد حضرت امیرُالمؤمنین ـ کے پاس بھیجا اور دستور فرمایا کہ اہالیِ یمن میں سے جو بھی مراسمِ حج میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ان کو اپنی ہمراہی میں لے کر آپ ـ مکہ آجائیں،حضرت َمیرُالمؤمنین

ـ یہ حکم ملتے ہی بارہ ہزار افراد پر مشتمل کاروان لے کر عازمِ مکہ ہوئے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا کاروان مکّہ کے نزدیک پہنچا توحضرت علی ـ بھی یمن سے مکّہ کے نزدیک پہنچے ایک شخص کو اپنا جانشین مقرّر فرمایا اور خود حُضورِ اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی غرض سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوے ٔ اور حالاتِ سفر بیان کئے ۔

رسول گرامیِ اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت خوش ہوے ٔ اور حکم دیا کہ کاروانِ یمن کو مکّہ میں داخل کیا جاے ٔ حضرت امیرالمؤمنین ـ دوبارہ کاروان کے پاس تشریف لے گۓ اور آپـ کا قافلہ آنحضرت

۱۳

صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قافلے کے ساتھ پانچویں ذی الحجة بروز منگل واردِ مکہ ہوا ۔

نویں ذی الحجة کو مراسمِ حج کا آغاز ہوا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عرفات اور مشعر کے بعد دسویں ذی الحجةکے روز منیٰ میں قربانی اور باقی اعمال کو انجام دیا اور طواف اور سعی کے بعد تمام واجبات اور مستحبّاتِ الہی کو لوگوں کے لئے بیان فرمایا اور بارہ ذی الحجہ کو تین دن میں اعمال حج تمام ہوے ٔ ، مراسمِ حج کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دستورِ الٰہی یوں نازل ہوا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نبوّت تمام ہونے والی ہے اسمِ اعظم و آثارِ علم اور میراث انبیاء کو حضر ت علی ابن ا بی طالب ـ کے حوالے کر دیں جو سب سے پہلے مؤمِن ہیں اور میں زمین کو حجّت خدا سے خالی نہیں رہنے دونگا۔

یادگارَنبیاء ،صحف ِ آدم و نوح و ِبراہیم علیٰ نبیِّنا وَعلَیہِمُ السَّلام ، تورات انجیل ، عصایٔ موسیٰ علیٰ نبیِّناوَعلَیہ ِالسّلام انگشترسلَیمان علیٰ، نبیِّناوَعلَیہ ِالسّلام اور باقی تمام انبیاء علیٰ نبیِّنا وَعلَیہِمُ السَّلام کی میراث جن کے خاتمُ الانبیاء حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محافظ تھے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی ـ کو بلایا اور انبیاء مَا سبق کی میراث کو حضرت علی ـ کے سپرد کیاجو آپ ـ کے بعد آنے والے گیارہ َئمّہ تک منتقل ہوتی رہی ۔

سب لوگ اس بات کے منتظر تھے کہ مراسمِ حج کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کچھ مدّت کے لئے مکہ میں قیام فرمائیں گے تا کہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کے لئے آئیں اور اپنے مسائل پوچھیں، لیکن اس کے بر عکس مراسمِ حج تمام ہوتے ہی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے منادی حضرت بلال کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کردیں کہ کل ۱۶ ذی الحجة کو تمام لوگ مکّہ کو ترک کرکے مقامِ غدیر کی طرف حرکت کریں اور وقتِ معیّن پر غدیر خُم پر پہنچ جائیں اور جو نہ پہنچے وہ ملعون ہو گا ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس دستور کے مطابق کوئی بھی حاجی مکّہ میں باقی نہ رہا یہاں تک کہ مکّہ کے۵ہزار حاجی بھی مکّہ کو ترک کر کے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ عازمِ مقامِ غدیر ہو ئے، مکّہ سے نکلتے وقت پہلی آبادی بنام سَیرَف پہنچے اور اسکے بعدمَرّالظہران پہنچے اور اسی طرح بالترتیب عُسفان، قُد یداور جحفہ جو کہ غدیر سے نزدیک ترین مقام ہے ۱۸ذی الحجة سوموار کے دن ظہر کے وقت مقامِ غدیرِ خُم پہنچے تب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا !

'' أیُّ ه اَالنَّاسْ اجِیبُوا دَاعِیَ ﷲ انَا رَسُوْلُ ﷲ''

اے لوگو! خداوند عالم کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو ، میں ﷲ کا پیغام لے کر آیا ہوں ۔

۱۴

بِسْمِ ﷲ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

مقدمۂ مو لِّف

جس دن سے فرشتۂ وحی غدیر خم میں ولایت کی نورا نی آیات لے کرآیااورمسلمانوں نے حضرت علی ـکی بیعت کی اور راہ ِ رِسالت ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیٔ اس وقت سے لے کر آج تک غدیر خم کے متعلق مختلف قسم کے نظریات پیش کئے گۓ ؛ بعض اسلامی گروہوں نے اصلِ غدیر کو قبول کیا مگر اُس کے ہدف کو تبدیل کر دیا،بہت سی کتابیں خُطبۂحجَّةُ الوداع کے نام سے چھاپی گۓں لیکن ولایت و رہبری حضرت علی ـ کی بحث کو حذف کر دیا اور صرف اخلاقیات کو بیان کیا گیا اور یہاں تک کہ فیلمنامۂ محمد رسول ُﷲصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بھی خطبۂ حجّةُ الوداع میں تحریف کی گیٔ اور اس فیلمنامہ میں پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے آخری خطبہ کو اخلاقیات کے بیان سے مخصوص کر دیا گیا ۔

انہوں نے پیغامِ غدیر کو صحیح طور پر نہیں پہچانا اور نہ ہی پہچاننا چاہتے ہیں ، اور بعض دوسر ے غدیر کو شواہد ، اسناد و مدارک کے ساتھ پہچاننے کے با وجود عذر لے کر آئے اور ہوا وہی جو ہونا چاہیے تھا۔

ماجرائے سقیفہ کے بعد اب کچھ نہیں کیا جا سکتا ، حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے اختلافی مساۓل کو نہیں چھیڑا جا سکتا،بعض دوسروں نے سکوت اختیار کیا اور بغیر کسی دلیل و مدرک کے سر دران سقیفہ کی حکومت کو تسلیم کرلیا ، اُن میں حقیقت و واقعیّت کوقبول کرنے کی شہامت و جرأت نہ تھی، صرف ایک گروہ ایسا ہے جس نے واقعۂ غدیرکو کما حقّہ،جس طرح پہچاننا چاہیے تھا اس طر ح پہچانااور سینہ بہ سینہ اب تک اپنی آئندہ نسلوں کو مُنتقل کیا اور وہگروہ کویٔ نہیں سواے ٔ حضرت علی ابن ابی طالب ـکے شیعوں کے کہ جنہوں نے اپنا آئین زندگی ، دین ومذہب اور عقائد، غدیرسے لئے ہیں غدیر شیعوں کا کُل عقیدہ ہے ، غدیر کی بات ان کی روحوں کو جلا بخشتی ہے ،شیعوں کی شادابی کا نام غدیر ہے ، کیوں کہ اِن کی سرشت اور انکے وجود کے خمیر کی سرشت عترت کی باقی ماندہ مٹّی سے بنی ہے۔

''خُلِقُواْمِنْ فَاضِلِ طیِنَتِنَا '' کہ یہ لوگ انکی خوشی میں خوشی مناتے ہیں اور انکے غم میں غمناک ہوتے ہیں۔''یُفَرَ حُوْ نَ بِفَرَ حِنَا وَ یَحْزُنُوْنَ بِحُزْنِنَا'' جس دن سے دست ِمبارک حضرت رسولِ اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غدیر کے اعلیٰ مقام پر دستِ حضرتِ ولی ﷲ کو پکڑا اور بلند کیا ، اور خدا کاپیغام لوگوں تک پہنچایا اب تک بہت سے قصیدے کہے گے ٔ،بہت سی کہانیاں لکھی گۓں ، اوراعتقادی اور کلامی کتابیں لکھی گئیں تا کہ جہاں تک ہو سکے اس زندہ و جاوید واقعہ کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے، اور اس بہتے ہوے ٔ دریا سے بعد میں آنے والی نسلوں کوسیراب کیا جا سکے۔

۱۵

لمحۂ فکریہ:

جو چیز انسان کو مطالعات اورریڈیو ،ٹیلی ویژن،مسجد و ممبر ، عیدِ غدیرکی مناسبت سے برپا ہونے والی محافل جشن میں غدیر جیسے بے مثل واقعہ کے بارے میں سننے کے بعد بھی بے قرار رکھتی ہے وہ بے توجّہی اور دقّت کا فقدان ہے، اور انتہا ئی افسوس کیساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہی سطحی سوچ کی تاریکی ہے جس نے ابھی تک غدیر خم کو اپنے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چھپا رکھا ہے۔

بہت سے قصیدے ،محافل جشن، کتابیں،تقاریر ایسی ہیں کہ جن میں غدیر کا کما حقہ، حق ادا نہیں ہوتا اور آہستہ آہستہ بعض لوگوں کے لئے صرف ایک راسخ عقیدہ کی حیثیت سے رہ گیا ہے کہ روز غدیر اعلانِ ولایت کا دن ہے، '' حضرت امیرُ المومنین ـ کی امامت اور وصایت پہنچا نے کا دن ہے، اور یہ سخن حق ہے کہ جو عاشقان ولایت کی زبان،قلم وفکراورذوق سے صادر ہوتا ہے، لیکن صرف یہی حق نہیں ہے،بلکہ حقیقت اور واقعیّت کاصرف ایک گوشہ ہے،سکّہ کا ایک رُخ ہے،کیونکر سطحی سوچ کے ساتھ فیصلہ کیا جاے ٔ ، کہا جاے ٔ اورلکھا جاے ٔ ؟

جبکہ ہمارا دشمن غدیر کی حقیقت کو چھپانے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے ؛ ہزاروں حیلے اور بہانے تلا ش کرتا ہے کہ کسی طرح غدیر خم کی حقیقت کو اجاگر نہ ہونے دیا جائے اور اس تاریخی حقیقت کو پس پردہ ڈالا جاے ٔ، ایسا کیوں ہے کہ ہمارے مقرّرین غدیر کے عمیق اور گہرے مطالب کو بیان نہیں کرتے ؟ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے مصنِّفین غدیر خم کی اصل حقیقت کو نہیں لکھتے ؟

بعض لا علمی کی وجہ سے اپنے خطاب ، اشعار اور مرثیوں میں غدیر کے دن کو صرف اعلان ولایت کے ساتھ مخصوص کر دیتے ہیں لیکن افسوس کہ بعض جان بوجھ کر غدیر کے دن کو اعلان ولایت کا دن کہتے ہیں ،اور لوگوں نے بھی اس بات پر یقین کر لیا ؛ کیوں کہ ہمارے مسلمان اپنے روحانی پیشواؤں کی اطاعت کرتے اور اپنے عقائد اُن ہی سے لیتے ہیں ، بار بار یہ سُننے کے بعد یقین کر لیا ہے کہ روز غدیر صرف اور صرف پیغامِ ولایت پہنچانے کا دن ہے۔

واقعۂ غدیر میں تحقیق کی ضرورت :

کیا رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آغاز بعثت کے وقت حضرت امیرُالمومنین ـ کی ولایت کا پیغام نہیں پہنچایا۔

کیا بارہا وبارہا مدینہ کے ممبر سے امام علی ـاور انکے گیارہ بیٹوں کی ولایت کولوگوں کے کانوں تک نہیں پہنچایا ؟کیا امام علی ـ اور انکے بعد آنے والے اماموں کے نام آسمانی کتابوں جیسے توریت ، انجیل اور زبور میں نہیں آے ٔ ؟

۱۶

کیا جنگ خیبر ،اُحد اور تبوک کے زمانے میں رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی متعدّد احادیث اس وقت کے تمام اسلامی ممالک میں نہیںپہنچیں تھیں جبکہ امام علی ـ(کا تعارف اپنے) بعد''ولی'' اور ''وصی'' کی حیثیت سے کروایا؟اورحدیث منزلت '' أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزَلَةِ ھاٰرُوْنَ مِنْ مُوْسی'' کیا واقعۂ غدیر سے پہلے بیان نہیں کی گیٔ؟

اگر رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے واقعۂ غدیر سے پہلے اپنی بہت سی تقاریر، احادیث اور روایات کے ذریعے امامِ علی ـ کی ولایت کا اعلان فرمادیا ہے،تو پھر یہ اعلان غدیر سے پہلے ہو چکا تھا، اب دیکھنا یہ ہے کہ غدیر میں کونسی حقیقت آشکار ہو ئی اور بیان کی گئی ؟ و ہ کو نسا ایسا اہم وظیفہ تھا کہ جسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے انجام دیا ؟اور منافقین اور کُفّار کو حسد اور کینہ کس بات پر تھا؟غدیر کے دن ایسا کیا ہوا کہ اُن سے تحمُّل نہ ہو سکا اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قتل کے درپے ہو گۓ؟

اگر مسئلہ صرف '' اعلان ولایت'' کا ہوتا تو اتنے تلخ سیاسی واقعات رونما نہ ہوتے، کیوں کہ مدینہ میں کیٔ بار حضرت علی ـ کی ولایت کا اعلان سن چکے تھے اور اکوئی عتراض نہ کیا !کیونکہ انھیں تو صرف اس زمانے کا انتظار تھا کہ جب رسول گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم درمیان نہ ہوں، غدیر میں ایسا کیا ہو ا کہ عاشقان ِولایت خوش ہوے ٔ اور منافقین نا اُ مید ہو گۓ ؟اور اپنی تمام شیطانی اُ میدوں کو برباد ہوتا ہوا دیکھ رہے تھے یہاں تک کہ تلواریں لے کر تاریکی شب سے فائدہ اُٹھاتے ہوے ٔ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے راستے میں بیٹھ گے ؟ لیکن خدا کو یہ ہر گز منظور نہ تھا کہ ان کے یہ نا پاک ارادے پورے ہوں(اور پیغمبر گرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محفوظ رہے)اس میں شک نہیں کہ ظاہر آیةِ( بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ ِلَیْکَ ) ابلاغِ ولایت سمجھاتی ہے ،مگر دیکھنا یہ ہے کہ( مَا أُنْزِلَ ) کیا ہے؟

۱۷

اسلامی جمہوریۂ ایران کے تبلیغاتی ادارے اور گروہ صحافت سے مجھے امید یہ ہے کہ وہ غدیر کے بارے میں تحقیقی اور شائسة نظر سے سوچیں گے،اور و ہ یہ ہے کہ غدیر روزِ تحقّق ہے بارہ اماموں کی و لایت کا( حضرت امیرُالمومنین ـ سے لیکرحضرت مہدی ـتک ) کہ جس کا ظاہری طور پر اعلان بھی کیا گیا اور حضرت رسولِ خدا نے بیعت بھی لی ،دنیا بھر کے اسلامی ممالک سے آئے ہوئے تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار (۰۰۰ ۱۲۰) حاجیوں نے آپکی بیعت کی اور یہ تاریخ ساز اور اہم واقعہ ہمیشہ ہمیشہ کیلۓ اوراق تاریخ پر ثبت ہوگیا۔

اس حقیقت کے تاریخ میں ثبت ہونے کے ساتھ ، غدیر کے موضوع پر قصیدہ گو ئی (کہ جس کا آغاز حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانے میں ہی ہو گیا تھا ) اور مہاجرین و انصار میں سے ہزاروں سچّے گواہوں کی گواہی کی وجہ سے وہ منافقین جو موقع کی تلاش میں تھے تحمُّل نہ کر سکے یہاں تک کہ حملہ آور ہو گئے ان کے بدنما چہروں سے نقابیں ہٹ گۓں اور تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیئے وہ ذلیل و رسوا ہو گۓ۔

اس کتاب کی تحریر کا ہدف یہ ہے کہ ہمارے اسلامی ملک میں جہاں بھی غدیر کے بارے میں کچھ لکھا جائے یا کہا جائے بات تحقیقی اور مناسب ہو کہ غدیر کا دن حضرت علی ـ کے ساتھ لوگوں کی عمومی بیعت کا دن ہے روز ِ غدیر حضرت علی ـسے لے کرحضرت مہدی ـ تک بارہ ائمہ(ع) کی اثبات ولایت اور تحقق امامت کا دن ہے۔

قُم مؤَسّسۂ تحقیقاتی امیرُالمومنین ـ

مُحمَّد دشتی

۱۸

پہلی فصل

کیا واقعۂ غدیر صرف اعلان ِ دوستی کے لئے تھا؟

پہلی بحث : دوستانہ نظریات

دوسری بحث: حقیقتِ تاریخ کا جواب

تیسری بحث : رسولِ اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی ـ کی دوستی

چوتھی بحث : خطبۂ حجةُ الوداع پر ایک نظر

علماء اہل سنّت نے روزِ غدیر سے لے کر آج تک اس موضوع پر مختلف قسم کے نظریات کا اظہار کیا ہے، بعض نے خاموشی اختیار کی تاکہ اس خاموشی کے ذریعے اس عظیم واقعہ کو بھول اور فراموشی کی وادی میںڈھکیل دیا جائے، اور یہ حَسین یاد لوگوںکے ذ ہنوں سے محوہو جائے ،لیکن ایسا نہ ہو سکا ، بلکہ سینکڑوں عرب شاعروں کے اشعار کی روشنی میں جگمگا تا گیا جیسے عرب کا مشہور شاعر فرزدق رسولِ خد ا اصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں موجود تھا ۔

اس نے ا پنی فنکارانہ شاعری میں نظم کر کے اس عظیم واقعہ کو دنیا والوں تک پہنچا دیا، اور بعض نے حکّامِ وقت کی مدد سے سقیفہ سے اب تک تذکرہ غدیر پر پابندی لگا دی ا س کو جرم شمار کیا جانے لگا !کوڑوں ،زندان اور قتلِ عام کے ذریعے چاہا کہ اس واقعہ کو لوگ فرموش کر ڈالیں۔لیکن اپنی تمام تر کوششوں کی باوجود ناکام رہے ، ولایت کے متوالوں پر ظلم ڈھایا گیا انھیں قتل کیا گیا ،تازیانوں کی زد پررکھا گیا ، جتنا راہ غدیر کو خونی بنا یا گیا اُتنا ہی مقامِ غدیر اُجاگر ہوتا گیا اور آخر کار ان کا خون رنگ لایا اور شفق کی سرخی کے مانند جاوید ہو گیا ۔

حضرت فاطمہ زہرا سلامُ ﷲ ِعلَیہا کی ہمیشہ یہ کوشش رہی بحث و مباحثہ اور مناظرات کے دوران غدیر کے موضوع پر بات کریں ، خود حضرت علی ـ نے غدیر کی حساس سیاسی تبدیلیوںسے ،متعلق گفتگو کی اور میدان غدیر میں حاضر چشم دید گواہوں سے غدیر کے واقعہ کا اعتراف لیا، اور دوسرے ائِمّۂ معصومین اور ولایت کے جانثاروںنے ا س دن سے لے کر آج تک ہمیشہ غدیرِ خُم کو اُجاگر کیا، اور پیامِ غدیر کو آ ئندہ نسلوں تک پہنچایا اب کوئی غدیر میں شک و تردد کا شکار نہیں ہو سکتااور نہ ہی اس کو جھٹلا سکتا ہے ۔

۱۹

۱ ۔ دوستانہ نظریات

بعض ا ہل سنت مصنِّفین جو اس بات کو سمجھتے تھے کہ واقعۂ غدیر سورج کی طرح روشن و منوّر ہے اور جس طرح سورج کو چراغ نہیں دکھایا جاسکتا اُسی طرح اس کا انکار بھی ممکن نہیں ہے اور اگر اِس کو نئے رنگ میں پیش نہیں کیا گیا تو غدیر کی حقیقت بہت سے جوانوں اور حق کے متلاشیوں کو ولایتِ علی ـ کے نور کی طرف لے جائے گی ،تو وہ حیلہ اور مکر سے کام لینے لگے اور حقیقت غدیر میں تحریف کرنے لگے ،اور کہا کہ ! ہاں واقعۂ غدیر صحیح ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن اس دن رسول ِخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اس بات کا اعلان کریں کہ (علی ـ کو دوست رکھتے ہیں) اور یہ جو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: مَنْ کُنْتُ مَوْلٰاہُ فَعَلِیّ مَوْلٰاہُ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ( جو بھی مُجھے دوست رکھتا ہے ضروری ہے کہ علی ـ کو بھی دوست رکھے )۔

اور یہیں سے وہ الفاظ کی ادبی بحث میں داخل ہوئے لفظ ِ '' ولی '' اور '' مولیٰ '' کاایک معنیٰ ( دوستی )اور( دوست رکھنے ) کے ہیں لہذا غدیر کا دن اس لئے نہیں تھا کہ اسلامی دنیا کی امامت اور رہبری کا تذکرہ کیا جائے بلکہ روزِ غدیر علی ـ کی دوستی کے اعلان کا دن تھا۔

اُنہوں نے اس طرح پیغامِ غدیر میں تحریف کر کے بظاہر دوستانہ نظریات کے ذریعہ یہ کوشش کی کہ ا ہلسُنّت جوانوں اور اذہانِ عمومی کو پیغامِ غدیر سے منحرف کیا جائے ،چنانچہ اپنی کتابوں میں اس طرح بیان کیا کہ اہلِسُنّت مدارس کے طالبِ علموں اور عام لوگوں نے اس بات پر یقین کر لیا کہ روزِ غدیر علی ـ کی دوستی کے اعلان کا دن ہے ، پس کوئی غدیر کا انکار نہیں کرتا اور رسولِ خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اُس دن تقریر کی لیکن صرف علی ـ کی اپنے ساتھ دوستی کا اعلان کیا اور اس بات کی تاکید کی کہ مسلمان بھی حضرت علی ـ کو دوست رکھیں۔

۲ ۔ حقیقتِ تاریخ کا جواب:

واقعۂ غدیرکی صحیح تحقیق کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ غدیر خم صرف اعلان دوستی کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔

۱۔واقعۂ روزِغدیر کی تحقیق:

حقیقتِ غدیر تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ یہ ہے کہ غدیر کی تاریخی حقیقت اورواقعیّت میںتحقیق کی جائے ، حجةُالوداع رسولِ گرامی ِ اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا آخری سفرِ حج ہے اس خبرکے پاتے ہی مختلف اسلامی ممالک سے جوق در جوق مسلمان آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں آئے اور بے مثال و کم نظیر تعداد کے ساتھ فرائض حج کو انجام دیا اور اسکے بعد سارے مسلمان شہرِ مکّہ سے خارج ہوئے اور غدیر خُم پر پہنچے کہ جہاں سے اُنہیں اپنے اپنے شہرو دیار کی طرف کوچ کرنا تھا ۔

۲۰