قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت

قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت33%

قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت مؤلف:
زمرہ جات: امامت
صفحے: 180

قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 180 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 42226 / ڈاؤنلوڈ: 3521
سائز سائز سائز
قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت

قرآن کی روشنی میں نظریہ امامت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


1

2

3

4

5

6

7

8

9

10

11

12

13

14

15

16

17

18

19

20

اس بنا پر قرآن نے انسان کی زندگی کی چھوٹی، بڑی تمام مشکلات کو ایک ایک کر کے بیان نہیں کیا ہے۔ بلکہ قرآن نے انسان کی سعادت و تکامل کے بنیادی اور کلی طریقوں کو بیان کیا ہے اور مسلمانوں کے لئے ان کی نشاندہی کردی ہے۔ اس حصہ میں قرآن کے شافی ہونے کے متعلق حضرت علی ـ کا ارشاد ذکر کرتے ہوئے قرآن میں مذکور ان کلی طریقوں میں سے ایک طریقہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں اور نمونہ کے طور پر اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔

قرآن کی کلی راہنمائی کا ایک نمونہ

قرآن کریم فرماتا ہے:(وَ لَو أَنَّ أَهلَ القُریٰ آمَنُوا وَ اتَّقَوا لَفَتَحنَا عَلَیهِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمآئِ وَ الأَرضِ وَ لٰکِن کَذَّبُوا فَأَخَذنَاهُم بِمَا کانُوا یَکسِبُونَ) ۱

یہ آیت ان آیات محکمات میں سے ایک ہے جن میں کسی طرح کا تشابہ نہیں پایا جاتا اور اس کے معنی ایسے صریح و واضح ہیں کہ جس میں کسی طرح کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے، اس طرح کہ اس آیت کے الفاظ اور جملوں سے اس بات کے علاوہ کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آسکتی کہ جس کو ہر اہل زبان او رعربی داں سمجھ سکتا ہے، ان کج فکروں اور ان لوگوں کو چھوڑیئے جو کہ مختلف قرائتوں اور نئے نئے معانی کے قائل ہیں، ممکن ہے وہ

(۱)سورۂ اعراف، آیت۹۶۔

۲۱

کہیں کہ ہم لفظ لیل (شب) سے نہار (دن) اور حجاب سے عریانیت سمجھتے ہیں۔ البتہ یہ یاد دلادیں کہ آئندہ دین کی مختلف قرآئتوں کے متعلق تفصیل سے گفتگو کریں گے۔

یہ آیۂ کریمہ اعتقاد کے کلی قوانین میں سے ایک کو نیز اقتصادی مشکلات کے علاج اور معاشی سختیوں کے برطرف کرنے کے طریقوں کو بیان کرتی ہے۔ آیۂ شریفہ کا ترجمہ یہ ہے: ''اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو یقینا ہم آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے ان کے اوپر کھول دیتے، لیکن ان لوگوں نے تقویٰ اختیار نہ کیا، بلکہ کفر اختیار کیا او رالٰہی نعمتوں کی ناشکری کی، نتیجہ میں مختلف مشکلوں اور بلاؤں میں گرفتار ہوگئے''۔

اس بنا پر قرآن کریم پوری وضاحت کے ساتھ مومنین کی زندگی میں کشائش پیدا ہونے، اقتصادی توسیع، اقتصادی بحرانوں کو دور کرنے اور نعمت نازل ہونے کونیز کلی طور سے آسمان و زمین کی برکتیں نازل ہونے کو ایمان و تقویٰ کا مرہون منت جانتا ہے، اور اسی کے مقابل، الٰہی نعمتوں کی ناشکری کو نعمتوں کے زوال، بلاؤں کے نزول اور مختلف مشکلوں کا سبب بتاتا ہے۔ اور نعمت کے شکر اور اس کی قدر دانی کو نعمت کے اضافہ کا ذریعہ اور نعمت کی ناشکری کو عذاب کا سبب جانتا ہے، قرآن فرماتا ہے:(لَئِنْ شَکَرتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرتُمْ إنّ عَذَابِیْ لَشَدِید) ۱ اگر تم نعمتوں کا شکر بجا لاؤ گے تو میں یقینا تمھارے لئے نعمتوں کو زیادہ کردوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت ہی سخت ہے۔

(۱)سورۂ ابراہیم، آیت ۷۔

۲۲

یہاں پر ایک بہت بڑی الٰہی نعمت کی طرف ہم اشارہ کر رہے ہیں جو قرآن کریم کی پیروی کے نتیجہ میں ایران کی عظیم قوم کو حاصل ہوئی ہے، اور خداوند عزو جل سے دعا کرتے ہیں کہ لوگوں کو اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے اوراسی کی ذات اقدس کی پناہ چاہتے ہیں اس بات سے کہ کہیں ناشکری کے نتیجہ میں یہ عظیم نعمت ہم سے چھن نہ جائے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل میں عطائے الٰہی کی جھلک

ہم سب اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی ـ کی شہادت کے بعد ہم مسلمانوں کی سب سے بڑی تمنا، الٰہی وحی و احکام پر مبنی ایک عادلانہ حکومت قائم کرنے کی رہی ہے۔ صدیوں سے ہمارے بزرگ اور آباء و اجداد ایسی حکومت قائم کرنے کی تمنا دل میں لئے رہے اور ظالم و جابر بادشاہوں اور حاکموں کے زیر تسلط گھٹن کی زندگی گزارتے رہے اور وہ اپنے اجتماعی امور کو نافذ نہیں کرسکتے تھے، ایسی صورت میں ان کو اسلامی حکومت کا وجود فقط دلی ارمان اور ناممکن چیز نظر آتی تھی۔

تیرہ سو سال سے زیادہ گزر جانے کے بعد تاریخ کے اس دور میں ایرانی مسلمانوں کے قرآن کریم پر عمل کرنے نیز امام معصوم ـ کے نائب اور ولی فقیہ کی رہبری کو تسلیم کرنے کے نتیجہ میں خداوند متعال نے اپنی ایک بہت بڑی نعمت یعنی اسلامی حکومت مسلمانوں کو عنایت فرمائی۔ واضح رہے کہ ہم نواقص کی توجیہ نہیں کرنا چاہتے، بلکہ جو بات یہاں قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس مقدس نظام و حکومت کا اصل وجود، الٰہی عطاؤں اور عنایتوں سے اس مقصد کے تحت ہے کہ الٰہی احکام نافذ ہوں اور انھیں عملی جامہ پہنایا جائے۔

۲۳

انقلاب کے بیس سال گزر جانے کے بعد اب جو بات قابل توجہ ہے کہ جس نے دینی و اخلاقی اقدار کے پاسداروں اورنگہبانوں نیز انقلاب کے دلسوز افراد کی تشویش کو دو گنا کردیا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں (خدا نخواستہ) ایسا نہ ہو کہ معاشرہ اپنے ایمان و تقویٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دھیرے دھیرے اس کی دینی و انقلابی قدریں پھیکی پڑ جائیںاور نتیجہ میں اسلام و ایران کے دشمن ثقافتی حملہ اور شبخون مار کے اپنے منصوبوں میں کامیاب ہو جائیں، اور لوگوں کو خصوصاً جوانوں کو دینی و انقلابی اقدار سے جدا کر کے دوبارہ ایران کے مسلمانوں پر تسلط حاصل کرلیں۔

ممکن ہے یہاں یہ سوال کیا جائے کہ تو پھر اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے کہ جس سے ایک طرف معاشرہ کے دینی و اعتقادی اقدار محفوظ رہیں اور نتیجہ میں دشمن اپنے منصوبوں میں ناکام ہوجائے اور دوسری طرف ہم تمام مشکلات پر غالب آجائیں۔

امیر المومنین حضرت علی ـ نہج البلاغہ میں خطبہ کے شروع میں اسی بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور فردی و اجتماعی مشکلات کے حل کا راستہ قرآن کی طرف رجوع اور اس کے احکام پر عمل کرنے کو بتاتے ہیں۔

اجتماعی مشکلات کا حل قرآن کی پیروی میں ہے

اس سلسلہ میں حضرت علی ـ کا کلام، حضرت رسول اسلام کے نہایت ہی قیمتی ارشاد کی ایک دوسری توضیح ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:''اِذَا الْتَبَسَتْ عَلَیکُمُ الْفِتَنُ کَقِطَعِ اللَّیلِ الْمُظْلِمِ فَعَلَیکُمْ بِالْقُرآن'' ۱ یعنی جب بھی اضطراب و

(۱)بحار الانوار، ج۹۲، ص ۱۷۔

۲۴

مشکلات، فتنے اور فسادات، اندھیری رات کے ٹکڑوں کے مانند تم پر چھا جائیں اور ان مشکلات کو حل کرنے میں عاجز ہو جاؤ تو تم پر لازم ہے کہ قرآن کی طرف رجوع کرو اور اس کی نجات بخش ہدایات کو عمل کا معیار قرار دو۔

قرآن کریم کے امید بخش احکام، امید، مشکلات پر غلبہ، نجات و کامیابی، سعادت اور خوشبختی کی روح کو دلوں میں زندہ کرتے ہیں اور انسانوں کو یاس و ناامیدی کے بھنور سے نکال کر نجات دلاتے ہیں۔

واضح ہے کہ ہر کامیابی انسانوں کی خواہش و کوشش کی مرہون منت ہے۔ اس بنا پر اگر ہم چاہیں کہ اسی طرح اپنے استقلال، اپنی آزادی اور اسلامی حکومت کو محفوظ رکھیں اور ہر قسم کی سازش سے خداوند متعال کی پناہ میں رہیں تو اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ خدا اور قرآن کے نجات بخش احکام کی طرف رجوع کریں اور اس ناشکری اور بے حرمتی کے سبب توبہ کریں جو بعض مغرب زدہ افراد کی طرف سے دینی اقدار کو پامال کرنے کے لئے کی گئی ہیں۔

نہایت ہی احمقانہ بات ہے اگر ہم یہ خیال کریں کہ سامراجی طاقتیں کسی چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ میں بھی جو کہ ایران کی مسلمان قوم کے نفع میں ہو اور ان کے استعماری منافع کے خلاف ہو، اسلامی جمہوریۂ ایران کے ارباب حکومت کا ساتھ دیں گی اور یہ بہت بڑی ناشکری ہے کہ ہم نجات و سعادت کے ضامن اور نبی اکرم کے ابدی معجزہ قرآن کریم کو چھوڑدیں اور مشکلات کے حل کے لئے دشمنوں کی طرف دست نیاز بڑھائیں، اور ولایت فقیہ جو کہ انبیاء اور ائمۂ معصومین (ع) کی ولایت ہی کی ایک کڑی ہے، اس کو چھوڑ کر شیاطین اور دشمنان خدا کی ولایت و تسلط کو قبول کریں۔ خدا کی پناہ مانگنی چاہئے اس بات سے کہ کسی دن ایران کی مسلمان قوم، استقلال و آزادی، عزت و امنیت کی عظیم نعمت کی ناشکری کے سبب غضب کا مستحق قرار پائے اور اپنی ذلت و اہانت، اپنے سقوط و انحطاط کا ذریعہ دوبارہ اپنے ہی ہاتھوں سے فراہم کرے۔

۲۵

بہرحال پوری ملت خصوصاً ملک کے ثقافتی امور کے عہدہ داروں اور کارندوں کا فریضہ ہے کہ معاشرہ کے اخلاقی و دینی اعتقادات و اقدار کی حفاظت کریں۔

بعض ایسے لوگ جو کہ دینی علوم و معارف میں زیادہ بصیرت نہیں رکھتے اور سیکولرازم اور اصالت فرد ( Individualism ) کے نظریوں سے متاثر ہیں، حضرت علی ـ کے اس ارشاد کے متعلق (کہ تمھارے تمام درد اور مشکلات کا حل قرآن میں ہے)، ان لوگوں کا تصور یہ ہے کہ اس ارشاد میں درد اور مشکلات سے مراد لوگوں کے انفرادی، معنوی اور اخلاقی درد اور مشکلات ہیں۔ لیکن ہماری نظر میں یہ توضیح صحیح نہیں ہے اس لئے کہ یہاں پر انفرادی و اجتماعی دونوں طرح کے مسائل موضوع بحث ہیں۔ یہ بات کہنا ضروری ہے کہ دین کی سیاست سے جدائی اور نظریۂ سیکولرازم کے بے بنیاد ہونے کے متعلق یہاں پر تفصیل سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود اس بحث کے ضمن میں حضرت علی ـ کے ارشاد کی توضیح بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دین کی سیاست سے جدائی کے نظریہ کا بے بنیاد ہونا اور سیکولرازم کے نظریہ کا باطل ہونا بھی واضح ہو جائے گا۔

۲۶

قرآن کی ہدایات کے مطابق اجتماعی امور کا نظم و نسق

حضرت علی ـ ارشاد فرماتے ہیں:

'' اَلا إنّ فِیهِ عِلمَ مَا یَأتِی وَ الْحَدِیثَ عَنِ الْمَاضِیْ وَ دَوَائَ دَائِکُمْ وَ نَظمَ مَابَینَکُمْ'' ۱

حضرت اس بات کے بیان کے بعد کہ گزشتہ و آئندہ کا علم قرآن میں ہے اور قرآن تمام دردوں کی دوا ہے، یہ نکتہ یاد دلاتے ہیں کہ: ''وَ نَظمَ مَابَینَکُم''تم مسلمانوں کے باہمی امور کی شیرازہ بندی قرآن میں ہے۔ یہ آسمانی کتاب تمھارے اجتماعی روابط کی کیفیت کو بھی معین کرتی ہے۔ یوں تو یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے لیکن یہی مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ضامن ہے، ہم اس کی توضیح پیش کر رہے ہیں لیکن اس سے پہلے ایک چھوٹا سا مقدمہ ذکر کرنا ضروری ہے۔

ہر سیاسی اور اجتماعی نظام کا سب سے بڑا مقصد، اجتماعی نظم اور امنیت کو بحال اور برقرار رکھنا ہے۔ کوئی بھی سیاسی مکتب فکر دنیا میں ایسا نہیں پایا جاسکتا جو اس مقصد کا انکار کرے، بلکہ امنیت کی بحالی اور نظم کی برقراری ہر حکومت کے فرائض میں سرفہرست ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سیاسی و اجتماعی نظم کا برقرار رکھنا علم سیاست کے مقاصد میں سے ہے، جیسا کہ انسانی معاشروں پر حاکم تمام سیاسی نظام کم از کم اپنی تبلیغات اور اپنے نعروں میں اس مقصد کو اپنے حکومتی نظام کے سب سے بڑے مقصد کے عنوان سے بیان کرتے ہیں۔

(۱)نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۷۔

۲۷

اجتماعی زندگی میںمقصد کا اثر

یہاں پر اجتماعی زندگی میں مقصد کے اثر کی طرف توجہ دلا دینا بھی ضروری ہے اس لئے کہ اجتماعی زندگی میں مقصد کی طرف توجہ دیئے بغیر، اجتماعی نظم کے متعلق کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ مقصد ہی ہے جو کہ منطقی طور پر خاص رفتار و گفتار کا موجب و سبب بنتا ہے، انسان اپنی اس خاص رفتار و گفتار کے ذریعہ اجتماعی زندگی میں اس مقصد تک پہنچنا چاہتا ہے۔ مقصد خود، افراد معاشرہ کے نظریات اور مکتب فکر سے پیدا ہوتا ہے، اس طرح کہ ہر معاشرہ فطرت اوّلی کے اعتبار سے اپنے نظریات اور مکتب فکر کے تحت ایک خاص اجتماعی نظم کو پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا سامراجی طاقتیں اپنی استکباری سیاستوں کے تحت کوشش کرتی ہیں کہ دوسری قوموں کو اپنے سامراجی مقاصد کی طرف کھینچ لائیں، ان کو ان کے اصلی مکتب فکر سے دور کردیں اور بیرونی مکتب فکر کو لاد کر ان قوموں کے نظم و تمدن اور مکتب فکر کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔

اس بنا پر یہ دیکھنا چاہئے کہ معاشرہ پر حاکم مکتب فکر کیا نظم پیدا کرتا ہے؟ یہ بات ہے کہ قرآن اور توحیدی مکتب فکر سے پیدا شدہ دینی مکتب فکر ایسے نظم اور ایسی سیاست کا سبب اور نافذ کرنے والا ہوتا ہے کہ جس سے دنیا و آخرت میں انسان کی خلقت کا مقصد حاصل ہو اور وہ سعادت و خوشبختی حاصل کرسکے۔ یعنی جو بات اصالتاً اسلام و قرآن کے پیش نظر ہے، وہ انسان کی سعادت اور اس کا تکامل ہے۔

۲۸

نہایت افسوس ہے کہ بعض روشن فکر اور لیبرل افراد جو ایک طرف مسلمان ہیں اور دوسری طرف اسلام کے سیاسی اور اجتماعی مسائل میں زیادہ بصیرت نہیں رکھتے، نتیجہ میں ان میں دینداری اور دین سے لگاؤ نہیں ہے، اور وہ اس بنیادی نکتہ سے غافل ہیں، چنانچہ جس وقت اجتماعی نظم کی بات کہی جاتی ہے تو ان کے ذہن میں مغربی ڈیموکراسی (عوامی حکومت ) سے حاصل شدہ اجتماعی نظم ابھرتا ہے، اس حال میں کہ مغرب کا وہ اجتماعی نظام اس کے سیکولرازم نظریہ سے پیدا ہوا ہے یہ روشن فکر افراد اپنی ناقص دینی معلومات کے سبب گمان کرتے ہیں کہ اجتماعی امور کے نظام پر مبنی معاشرہ کی ادارت، صرف دین کی سیاست سے جدائی میں ممکن ہے کہ یہ بات خود استعماری مکتب فکر کا نتیجہ ہے اور اس کو سامراجی طاقتوں کی ایک کامیابی سمجھا جاتا ہے تاکہ تیسری دنیا کے ممالک کے روشن فکر افراد کی فکروں کو بے جان کر کے ان کو دینی فکر سے دور کرسکیں اور اپنی سامراجی ثقافت کی ترویج کے عوامل و اسباب میں تبدیل کرسکیں۔

بہرحال توحیدی و اسلامی مکتب فکر میں ہر چیز منجملہ ان کے اجتماعی نظام کی تعیین، خلقت کے ہدف و مقصد کی روشنی میں ہوتی ہے، اور واضح ہے کہ دینی و قرآنی مکتب فکر میں اجتماعی نظام کا ہدف فقط مادی فائدے اور دنیوی منافع ہی کا تحقق نہیں ہے بلکہ دنیوی فائدے کے تحقق کے علاوہ، انسان کے تکامل اور اخروی سعادت پر بھی توجہ دی گئی ہے، اور واضح ہے کہ تعارض (ٹکراؤ) کی صورت میں دنیوی امور پر اخروی سعادت کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔

۲۹

اب ہم اس مقدمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے معاشرہ کے سیاسی و اجتماعی نظام کے تحقق کے متعلق قرآن کے اثر کے بارے میں حضرت علی ـ کے بیان کی طرف واپس آتے ہیں، اور حضرت کے ارشاد پر غور و خوض کرتے ہیں تاکہ ولایت کی راہنمائی میں اجتماعی زندگی میں قرآن کے اثر اور اس کی اہمیت سے زیادہ آگاہ ہوسکیں۔

حضرت علی ـ معجز نما تعبیر کے ساتھ قرآن کے اثر کو معاشرہ کے اجتماعی امور کی تنظیم کے متعلق بیان فرماتے ہیں اور اس کی طرف ہمیں توجہ دلاتے ہیں تاکہ ہم اس سے غفلت نہ برتیں۔

حضرت یہ بیان فرمانے کے بعد کہ قرآن تمھاری مشکلات کو حل کرنے کے لئے بہترین نسخہ ہے، فرماتے ہیں:''وَ نَظْمَ مَابَینَکُمْ'' تمھارے امور اور روابط کا نظم و نسق قرآن میں ہے، یعنی اگر تم مطلوب و معقول نظام کو چاہتے ہو کہ جس کے سایہ میں معاشرہ کے تمام افراد اپنے جائز حقوق حاصل کرسکیں تو تمھارے لئے لازم ہے کہ اپنے امور قرآن کی ہدایات کے مطابق منظم کرو۔

صاحبان علم و دانش پر یہ پوشیدہ نہیں ہے کہ''وَ نَظْمَ مَابَینَکُمْ'' کی تعبیر لوگوں کے اجتماعی روابط و امور پر مشتمل ہے، اگرچہ لوگوں کا فریضہ ہے کہ اپنے شخصی و فردی امور کو بھی قرآن کی ہدایات کی بنیاد پر منظم کریں، لیکن ''وَ نَظمَ مَابَینَکُم'' کی تعبیر لوگوں کے شخصی و فردی امور کے نظم و نسق کو شامل نہیں ہے جیسا کہ اہل زبان پر پوشیدہ نہیںہے، حضرت علی ـ اپنے اس خطبہ میں قرآن کریم کے اجتماعی پہلوؤں کے اثر کو بیان فرما رہے ہیں۔

۳۰

حضرت اس نکتہ کے بیان کے ساتھ کہ تمھارا اجتماعی نظم و نسق قرآن کریم میں ہے، مسلمانوں او راپنے پیروؤں سے فرماتے ہیں کہ تمھیں اپنے سیاسی امور اور اجتماعی روابط کو قرآن کی بنیاد پر قرار دینا چاہئے۔

البتہ یہ بات بھی واضح ہے کہ مذکورہ فرمان اور نصیحتیں جب تک اسلامی نظام کے عہدہ دار اور ذمہ دار افراد کی طرف سے صرف ایسی اخلاقی نصیحتیں سمجھی جائیں کہ جن کا جاری کرنا لازم نہ ہو اور ان کے قلبی ایمان او راعتقاد و یقین میں رچی بسی نہ ہوں، تو اس وقت تک ''یہ آسمانی نسخۂ شافیہ'' ہمارے معاشرہ کے کسی بھی درد کی دوا نہ بنے گا۔

حضرت علی ـ دینی نظام کی سیاست کے کلیدی اور اہم نکات کے بیان کے ساتھ ایسی واقعیتوں اور حقیقتوں کو بیان فرما رہے ہیں کہ جن پر عمل کئے بغیر، عدل و انصاف پر مبنی اس انسانی معاشرہ تک پہنچنا ممکن نہیں ہے جس میں تمام افراد اپنے حقوق اور مطلوب تکامل کو حاصل کرسکیں۔

اس بنا پر سب سے زیادہ اصلی اور کارساز و مفید عامل ، قرآن کریم کی کلی سیاستوں اور اس کے دستور العمل پر، حکومت کے مسئولین اور عہدہ داروں کا ایمان واعتقاد اور یقین رکھنا ہے۔ جب تک وہ لوگ، معاشرہ کی مشکلات کے حل اور افراد کی کامیابی کے سلسلہ میں قرآن اور اس کے ہدایات کے مفید و کارآمد ہونے پر قلبی ایمان اور پختہ اعتقاد نہ رکھیں گے، اس وقت تک نہ صرف عمل میں، قرآن کو اپنا نمونہ قرار نہیں دیں گے، بلکہ قرآن کے علوم و معارف کو سمجھنا بھی نہ چاہیں گے۔

البتہ چونکہ وہ اسلامی ملک اور مسلمان عوام پر حکومت کرتے ہیں، اس لئے ممکن ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لئے ظاہری طور سے اور نعروں کی حد تک، اپنی عوام اور دوسری مسلمان قوموں کے درمیان اپنے کو مسلمان اور اپنی حکومت کو اسلامی حکومت کہیں، جبکہ اس حکومت کا نمونہ جو کہ ان کے لئے اہم بات نہیں ہے،

۳۱

وہ حکومت ہے جو اسلامی قوانین اور قرآنی نمونوں پر استوار ہے لیکن دین اور قرآنی مکتب فکر سے نام نہاد اسلامی حکومتوں کی بیگانگی، خصوصاً معاشرہ کے نظم و نسق اور سیاست کے شعبہ میں، ایسی بات نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے اجنبی اور غیر معروف ہو، اس لئے کہ تمام مسلمان قومیں جانتی ہیں کہ ان کے ممالک کے حکومتی نظام اسلامی نہیں ہیں، اور حکومت کے عہدہ داروں پر حاکم ذہنیت و مکتب فکر، اس ذہنیت اور مکتب فکر سے جو کہ قرآنی مکتب فکر کی بنیاد پر قائم ہیں، کلی طور پر مختلف ہے۔

جو بات انسان کو حیرت و تعجب میں ڈالتی ہے اوراسی کے ساتھ افسوس اور تشویش کا باعث ہے، ہمارے عزیز اسلامی ملک ایران کی موجودہ ثقافتی حالت ہے۔ جس ملک میں ہدایات قرآن اور دینی مکتب فکر کی بنیاد پر اور ولایت فقیہ کی رہبری میں انقلاب آیا اور کامیاب ہوا، نہایت افسوس اور تشویش کی بات ہے کہ بعض ثقافتی عہدہ داروں کے بیانات، ان کے موقف اوران کے افکار کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی اس آسمانی کتاب کی اچھی طرح معرفت نہیں رکھتے اور اس سے اخذ شدہ حکومتی نمونہ کے مفید و کارآمد ہونے کو دوسرے مشرقی اور مغربی نمونوں سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ چنانچہ یہ لوگ مسلسل اسلامی انقلاب کے اصول اور دینی اقدار سے پیچھے ہٹتے جارہے ہیں اور پختہ ایمان اور قلبی اعتقاد نہ رکھنے کے سبب کبھی کبھی اشاروں، کنایوں سے اور کبھی کبھی تصریح کے ساتھ، نہایت بے شرمی سے ایسا اظہار کرتے ہیں کہ قرآن کی حاکمیت اور دینی مکتب فکر پر عمل کا زمانہ حکومت کے میدان میں گزر چکا ہے اور اس دور میں انسانی معاشرہ وحی الٰہی کی احتیاج نہیں رکھتا اور خود تنہا معاشرہ کی ادارت، امنیت کی بحالی اور نظم برقرار رکھنے کے لئے بہتر راستے دکھا سکتا ہے۔

مناسب تھا کہ ہم یہاں پر دنیا میں موجودہ ظالمانہ حکومتی نظام اور ترقی یافتہ نظاموں کے نام پر مختلف اقوام و مذاہب پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ، تاکہ مذکورہ قول کی بے مائگی اور اس کے قائلین کی خود فروشی و بے ایمانی پہلے سے زیادہ برملا ہو جائے، لیکن اصل موضوع سے دور ہونے اور بیان کے طویل ہو جانے کے خوف سے، انسانی نظاموں میں موجود بے عدالتی، انسانوں کے حقوق کی پامالی اور ظلم و جور کے بیان سے گریز کرتے ہیں لہٰذا آپ حضرات ان موضوعات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔

۳۲

بہرحال یہ بات واضح ہے کہ ہدایات قرآن کی بنیاد پر حکومت کی صلاحیت و افادیت، معاشرہ کے درمیان عدل و انصاف اور نظم و نسق کے تحقق میںاس وقت منصّۂ شہود پر ظاہر ہوتی ہے جس وقت کہ حکومت کے عہدہ دار اور کارندے اس پر یقین و اعتقاد رکھیں اور منزل عمل میں قرآن کے احکام و قوانین کو اپنا نصب العین قرار دیں، اس لئے کہ جب تک ایسا نہ ہوگا معاشرہ پر قرآن کی حکومت نہیں ہوگی۔

اس بنا پر معاشرہ میں قرآن کی حاکمیت کے لئے، حکومت کے عہدہ داروں اور کارندوں کا اس آسمانی کتاب پر قلبی یقین و ایمان رکھنا ضروری ہے اسی طرح خود اس بات کے لئے لازم ہے کہ وہ لوگ اس الٰہی نسخۂ شافیہ کی شناخت، نیز الٰہی حکومت اوردین کی احتیاج کا احساس رکھتے ہوں۔ یہ احساس بھی صرف اور صرف اسی صورت میں حاصل ہوگا جبکہ بندگی کی روح پیدا کریں اور خداوند متعال کی حاکمیت کے مقابل کبر و غرور و خود پسندی اوراستکباری روح کو نکال باہر کریں۔ یہ استکباری روح وہی مذموم روح ہے جس نے شیطان کو عالم ملکوت اور بارگاہ خداوندی سے باہر نکال دیا اور اس کی ابدی شقاوت کا باعث بن گئی۔

مناسب ہے کہ یہاں پر ہم حضرت علی ـ کے خطبہ ، پر توجہ دیں کہ جس میں حضرت نے قرآن کریم سے دوری کے برے نتائج کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بیان ان افراد کے لئے ایک تنبیہ اور ٹہوکا ہے جو ایک طرف اپنے کو حضرت علی ـکا پیرو بتاتے ہیں اور دوسری طرف قرآن اور اس سے اخذ شدہ حکومتی نمونہ کو آج کے انسانی معاشرہ کی ادارت کے لئے ناکافی سمجھتے ہیں، نیز حکومتی سیاستوں کو پیش کرنے میں انسان کی ناقص فکری اُپج کو قرآن کی ولائی حکومت پر ترجیح دیتے ہیں۔ امید ہے کہ ایسی ہدایتوں کی روشنی میں ہمارے معاشرہ کے تمام لوگ خصوصاً حکومتی امور کے عہدہ دار اور دستور ساز افراد، پہلے سے زیادہ اسلامی معاشرہ میں قرآن کے محور ہونے کے لزوم پر ایمان پیدا کریں گے اور یہ ہدایات منزل عمل میں بروئے کار لائی جائیں گی۔

۳۳

بے نیازی، قرآن کی پیروی میں

حضرت علی ـ مذکورہ خطبہ میں قرآن کریم کا تعارف شاخص و رہنما کے عنوان سے کراتے ہیں اور فرماتے ہیں: یقین رکھو! قرآن ایسا ناصح ہے جو کہ اپنے پیرووں کے ارشاد میں خیانت نہیں کرتا اور ایسا ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا اور ایسا بولنے والا ہے جو اپنی بات میں جھوٹ نہیں بولتا، کوئی شخص اس قرآن کے ساتھ نہیں بیٹھا اور کسی نے اس میں تدبر و تفکر نہیں کیا مگر یہ کہ جب اس کے پاس سے اٹھا تو اس کی ہدایت و رستگاری میں اضافہ ہی ہوا اور اس کی گمراہی ختم ہوگئی، پھر حضرت فرماتے ہیں:

''وَ اعْلَمُوا أَنَّهُ لَیسَ عَلٰی اَحَدٍ بَعدَ الْقُرآنِ مِن فَاقَةٍ وَ لَا لِأَحَدٍ قَبلَ الْقُرآنِ مِن غِنًی فَاسْتَشفُوهُ مِن اَدْوَائِکُم وَ اسْتَعِینُوا بِهِ عَلٰی لَأوَائِکُم فَإنّ فِیهِ شِفَائً مِن أَکْبَرِ الدَّائِ وَ هُوَ الْکُفْرُ وَ النِّفَاقُ وَ الْغَیُّ وَ الضَّلاَلُ'' ۱

قرآن، اور معاشرہ پر اس کی حاکمیت ہونے کی صورت میں کسی کے لئے کوئی ایسی نیاز و احتیاج باقی نہیں رہ جاتی جو کہ پوری نہ ہو، اس لئے کہ قرآن کریم موحدین کی زندگی کے لئے سب سے زیادہ بلند و عالی، الٰہی دستور العمل ہے اور خداوند متعال نے اس آسمانی کتاب کے پیرؤوں کی دنیا و آخرت کی عزت و کامیابی کی ضمانت لی ہے۔ اس بنا پر جب ہمارا اسلامی معاشرہ قرآن کے حیات بخش احکام و فرامین پر عمل کرے او راس کے وعدوں کی سچائی پر ایمان رکھتے ہوئے اس کو اپنے عمل کا نمونہ قراردے، تو قرآن معاشرہ کی تمام فردی، اجتماعی، مادی اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اسلامی معاشرہ کو ہر چیز اور ہر شخص سے بے نیاز کردیتا ہے۔

اسی کے مقابل، حضرت علی ـ قرآن سے جدائی کے خطرے کو بھی گوش زد فرماتے ہیں اور اس نظریہ کو رد کرتے ہیں کہ اس الٰہی ثقل اکبر، قرآن کے بغیر معاشرہ کی فردی و اجتماعی مشکلات اور ضرورتوں کو برطرف کیا جاسکتا ہے، حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں:''وَ لَا لِأَحَدٍ قَبلَ الْقُرآنِ مِن غِنًی'' کوئی بھی شخص قرآن کے بغیر بے نیاز نہیں

(۱)نہج البلاغہ، خطبہ ۱۷۵۔

۳۴

ہوسکتا اور کبھی بھی معاشرہ قرآن سے مستغنی نہیں ہوسکتا، یعنی عدل و انصاف اور اخلاقی و انسانی اقدار کی بنیاد پر ایک معاشرہ وجود میں لانے کے لئے اگر تمام انسانی علوم اور تجربوں کواستعمال کیا جائے اور تمام افکار و خیالات اکٹھا ہو جائیں، تب بھی قرآن کے بغیر ہرگز صحیح راستہ اور صحیح منزل نہیں پاسکتے، اس لئے کہ بے نیازی کسی شخص کے لئے بھی قرآن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی بنا پر آپ فرماتے ہیں:''فَاسْتَشفُوهُ مِن اَدْوَائِکُم وَ اسْتَعِینُوا بِهِ عَلیٰ لَأوَائِکُم'' اپنی مشکلات اور بیماریوں کا علاج قرآن سے طلب کرو اور سختیوں اور پریشانیوں میں قرآن سے مدد حاصل کرو۔ پھر سب سے بڑی فردی و اجتماعی بیماری یعنی کفر و ضلالت و نفاق کو یاد دلا کر فرماتے ہیں کہ ان مشکلات اور بیماریوں کے علاج کا طریقہ قرآن میں موجود ہے، تمھیں چاہئے کہ قرآن کی طرف رجوع کر کے اپنے درد اور مشکلات کا علاج کرو۔

اس بنا پر بنیادی اصولوں کو قرآن سے لینا چاہئے اور ان کلی اصولوں کی پیروی کر کے نیز تدبر و تفکر اور تجربوں سے استفادہ کر کے مشکلات کے حل کا راستہ پیدا کرنا چاہئے۔ اگر ا س نظریہ کے ساتھ مشکلات کو حل کرنا چاہیں تو ہم یقینا تمام مشکلات پر، تمام شعبوںمیں غلبہ اور قابو پالیں گے، اس لئے کہ یہ الٰہی وعدہ ہے، خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے:(و مَن یَّتقِ اللّٰهَ یَجعَل لَّهُ مَخرَجاً) ۱ جو شخص تقوائے الٰہی اختیار کرتا ہے اوراحکام خدا سے روگردانی نہیں کرتا خداوند متعال اس کے لئے نجات اور مشکلات سے نکلنے کا راستہ فراہم کردیتا ہے۔

(۱)سورۂ طلاق، آیت ۲۔

۳۵

قرآن سب سے بڑی بیماری کی دوا

البتہ ممکن ہے مذکورہ باتیں مغرور انسانوں کے ذوق کے موافق نہ ہوں اور ان لوگوں کواچھی نہ لگیں جو کہ تقوائے الٰہی اور قرآن واہلبیت کے علوم سے بالکل بے بہرہ ہیں نیز بشری علوم کی چند اصطلاحیں جاننے کے سبب اپنے کو خداوندمتعال کے مقابل سمجھتے ہیں، لیکن ہر عقلمند انسان اعتراف کرتا ہے کہ انسان نے جو کچھ اپنی نت نئی علمی ترقیوں کے ساتھ انکشاف اور ایجاد کیا ہے وہ اس کی مجہول و نامعلوم باتوں کے مقابل ایسا ہی ہے جیسے سمندر کے مقابل ایک قطرہ، اور انسانی مدینۂ فاضلہ کا نمونہ پیش کرنے میں تمام غیر الٰہی اخلاقی مکاتب فکر کے نظریات اوردعوے، خدا کے لامحدود علم اور علوم اہلبیت (ع) (جن کا سرچشمہ الٰہی الہامات ہیں)کے مقابلہ میں صفر سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔

بہرحال حضرت علی ـ انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی بیماری کفر و نفاق اور گمراہی کو جانتے ہیں۔ یہی روحی بیماریاں ہیں جو کہ معاشرہ کو مختلف مشکلوں اور پریشانیوں سے دوچار کرتی ہیں اور ان کا علاج بھی قرآن ہی سے حاصل کرنا چاہئے:'' فَإنّ فِیهِ شِفَائً مِن اَکْبَرِ الدَّائِ وَ هُوَ الْکُفْرُ وَ النِّفَاقُ وَ الْغَیُّ وَ الضَّلاَلُ '' سب سے بڑی بیماری سے مراد کفر و نفاق اور ضلالت و گمراہی ہے، اور دوا اور علاج سے مراد قرآن پر ایمان اور اس کی پیروی ہے۔

۳۶

البتہ توجہ رکھنی چاہئے کہ یہ بات (کہ اپنی بیماریوں کی دوا قرآن سے طلب کرو، اس لئے کہ قرآن تمام مشکلات اوربیماریوں کی دوا ہے)، اس کا مفہوم یہ نہیںہے کہ قرآن نے ڈاکٹر کے نسخہ کے مانند تمھارے جسمانی امراض کو بیان کردیا ہے اور ہر ایک مرض سے شفایابی کے لئے ایک دوا کا مشورہ دیا ہے یا اقتصادی و فوجی مشکلات کے باب میں نیز صنعت اور ٹکنالوجی کے شعبوں میں مسائل کے حل کے فارمولوں کو قرآن سے لینا چاہئے، جو شخص دینی معارف سے ذرا سا بھی واقف ہے وہ ہرگز حضرت علی ـ کے اس کلام کی توضیح ا س معنی میں نہیں کرتا، اس لئے کہ جسمانی بیماریوں اور بقیہ تمام مشکلات کا حل اپنے طبیعی وسیلوں کا محتاج ہے، قرآن کریم ان مشکلات کے حل کے لئے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کلی اصولوں کو بیان کرتا ہے اب لوگوں کا فریضہ ہے کہ قرآن کے ان کلی اصولوں کو سر مشق اور نمونہ قرار دیکر نیز عقل، خداداد قوتوں اور انسانی علوم کے تجربوں سے استفادہ کر کے اپنے مشکلات کو حل کریں اور اپنی بیماریوں کا علاج کریں۔

یہاں پر ہم عزیز قارئین کی توجہ دو نکتوں کی طرف مبذول کر رہے ہیں:

پہلا نکتہ٭ یہ ہے کہ طبیعی اور مادی اسباب و علل اگرچہ اپنے معلول اور مسبب کو مستلزم ہیں، لیکن اس نکتہ کی طرف توجہ کرنا بھی ضروری ہے کہ تمام موجودات کی علت العلل خداوند تبارک و تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ اسی نے عالم کے نظام کو علت و معلول کے رابطہ کی بنیاد پر خلق کیا ہے اور وہی ہمیشہ اسباب و علل کو سببیت اور علیت عطا کرتا ہے اور یہ اس کا تکوینی ارادہ ہے اور جب تک یہ تکوینی ارادہ نہ ہوگا اس وقت تک کسی فعل کا براہ راست کوئی اثر نہیں ہوگا۔

۳۷

اس بنا پر تمام دردوں کی دوا اور تمام مشکلات کو دور کرنے کے لئے ہمیں چاہئے کہ بنیادی طور پر خداوند متعال کی طرف توجہ کریں اور چشم امید اسی کی طرف رکھیں، اگرچہ مشکلات کو حل کرنے میں اور بیماری سے شفا حاصل کرنے میں طبیعی اسباب و علل کا بھی سہارا لیں لیکن توحید افعالی کے اقتضاء کی بنا پر شفا اور مشکلات کے حل کو اصل میں اسی سے سمجھنا چاہئے اور اسی سے امید رکھنا چاہئے۔

دوسرا نکتہ٭ یہ ہے کہ مشکلات کے حل اور بیماریوں کے علاج کا راستہ فقط عادی اور طبیعی اسباب و علل میں منحصر نہیں سمجھنا چاہئے، یعنی ایسا نہیںہے کہ مشکلات کے حل میں مادی اور طبیعی اسباب و علل نہ پائے جانے سے یا ان کے مفید و کارآمد نہ ہونے سے مشکل کے حل، بہبودی کے حصول، امراض کی شفا یا انسان کی جائز اور برحق خواہشات کے پورا ہونے کا امکان نہ ہو۔

خداوند متعال نے علّی اور معلولی نظام خلق کرکے اپنے کو غیر طبیعی طریقے سے کوئی شے ایجاد کرنے سے عاجز نہیں کیا ہے، بلکہ سنت الٰہی اس بات پر قائم ہے کہ پہلے مرحلہ میں امور عادی اور طبیعی راستے سے انجام پائیں، لیکن امور کا انجام پذیر ہونا طبیعی طریقہ میں منحصر نہیں ہے بلکہ خاص حالات میں خداوند متعال کچھ امور کو طبیعی راستے کے بغیر بھی خود ایجاد کرتا ہے کہ اس کو بھی سنت الٰہی کہا جاسکتا ہے۔ مرض سے شفا اور بہبودی ممکن ہے طبیعی راستے سے اور ڈاکٹری علاج سے واقع ہو اورممکن ہے کہ خاص شرائط و حالات کے تحت غیر مادی علتوں کے واسطے سے، جیسے ائمۂ معصومین (ع) یا دوسرے اولیاء خدا کی دعا سے حاصل ہو جائے۔ جیسا کہ ممکن ہے محاذ توحید کے مجاہدین مادی وسائل اور اسلحہ نیز طبیعی حالات کے اعتبار سے دشمن کے مقابل (لوگوں کی نظر میں) شکست کھانے والے ہوں، لیکن غیبی امداد اور غیر طبیعی اسباب کے ذریعے فتحیاب ہو جائیں کہ یہ بات بھی الٰہی اسباب و علل میں سے سمجھی جاتی ہے۔

۳۸

قرآن کریم میں ایسے واقعات کے بہت سے نمونے مذکور ہیں جو کہ غیر مادی اور غیر طبیعی اسباب کے راستے سے واقع ہوئے ہیں، مثال کے طور پر نزول باران اگر طبیعی اسباب و عوامل کے راستے سے واقع ہو تو ضروری ہے کہ دریا اور سمندروں کا پانی سورج کی دھوپ اور گرمی کی تپش سے بخار اوربھاپ بن کر بادل کی صورت اختیار کریں، پھر دریا اور خشکی کے درجۂ حرارت کے نتیجے میں ہوا چلنے سے بادل دریاؤں کے اوپر سے زمین کے تمام علاقوں میں منتقل ہو جائیں تاکہ خاص حالات کے تحت بادل میں موجود پانی، بارش کے قطروں، یا برف کے دانوں یا اولوں کی صورت میں زمین پر برسے۔

بارش کی امید اس کے طبیعی اسباب و علل کے بغیر، مادی نظر سے ایک بیجا اور نامعقول امید سمجھی جاتی ہے، لیکن حضرت نوح ـ نزول باران کے لئے طبیعی عوامل کو نظر میں رکھے بغیر اپنی قوم کو خطاب کرکے فرماتے ہیں کہ استغفار اور توبہ کرو تا کہ آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش ہو،(وَ یَا قَومِ اسْتَغفِرُوا رَبَّکُم ثُمَّ تُوبُوالیهِ یُرسِلِ السَّمَائَ عَلَیکُم مِدْرَاراً وَ یَزِدْکُم قُوَّةً ِلٰی قُوَّتِکُمْ وَ لاتَتَوَلَّوْا مُجرِمِینَ) ۱ اے میری قوم والو! اپنے پروردگار سے استغفار کرو پھر اسی کی طرف ،ہمہ تن گوش ہو جاؤ اور اس کی طرف پلٹ آؤ تاکہ خداوند متعال آسمان سے تم پر موسلادھار بارش نازل کرے اور رحمت الٰہی اور بارش کے نزول کے ذریعہ تمھاری موجودہ قوت کو اور قوت دیکر

(۱)سورۂ ہود، آیت ۵۲ ۔

۳۹

زیادہ کردے، پھر فرمایا:(وَ لاتَتَوَلَّوا مُجرِمِینَ)، خبردار! توبہ و استغفار کے بغیر اور اس حال میں کہ تم مجرم و گنہگار ہو خدا سے منھ مت پھیرو او راپنے کو رحمت الٰہی سے محروم مت کرو۔

اگر چہ نزول باران کے طبیعی اسباب و علل اور طبیعت میں جاری تمام علّی و معلولی نظام، سب قدرت الٰہی کے ہاتھ میں ہیںاور اسی کے ارادے سے کام کرتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ طبیعی اسباب و عوامل کو نظر میں رکھے بغیر خداوند متعال فرماتا ہے کہ تم اپنے گناہ سے استغفار کرو اور خدا کی طرف واپس آجاؤ، ہم آسمان سے کہہ دیں گے کہ تم پر موسلادھار برسے۔

ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ خداوند متعال کا مقصود یہ نہیں ہے کہ طبیعی عوامل کے تحقق کے بغیر بارش نازل ہو، بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہم طبیعی عوامل کو پیدا کر کے تم پر بارش برسائیں گے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نظریہ توحیدی مکتب فکر کے موافق نہیں ہے، اس لئے کہ جیسا کہ اس سے پہلے ذکر کیا گیا، ایسا نہیں ہے کہ خداوند متعال نے علّی و معلولی نظام کو خلق کر کے، طبیعی اسباب و علل کے بغیر موجودات کو ایجاد کرنے سے اپنے کو عاجز کر رکھا ہے۔ خداوند متعال موجودات کی ایجاد و خلقت پر اپنی قدرت کے متعلق اس طرح فرماتا ہے:(اِذَا أَرادَ شَیئاً أَن یَّقُولَ لَهُ کُن فَیَکُون) جب بھی خداوند متعال کسی شے سے یہ کہنے کا ارادہ کرتا ہے کہ ہو جا، تو وہ شے فوراً ہوجاتی ہے۔

(۱)سورہ یٰس، آیت ۸۲۔

۴۰

2۔ حدیث ثقلین سے بھی اس احتمال کاغلط اور باطل ہونا واضح ہے کیونکہ اس حدیث کامضمون یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے لوگوں  کواپنے زمانے میں  ہی کتاب الہیٰ سے تمسک کرنے کا حکم دیا ہے اگر فرض کریں  کہ چند آیات ان سے ضائع ہوگئی ہوں  تو اس کتاب مدوّن اور آیات کے مجموعہ سے تمسک ممکن نہیں    رہتا۔

دوسرا احتمال بھی غلط اورباطل ہے کیونکہ جہاں  تحریف عمدی ہوتو وہ بغیر سبب اورانگیزہ کے نہیں    ہوسکتی ، اگرتحریف ان آیات میں  جان بوجھ کرکی گئی ہو جن سے جناب ابوبکر اور عمر کی حکومت اور خلافت کے لئے کوئی ضرر نہیں    پہنچتا تھا تو ایسی آیات میں  تحریف کرنے کا سبب کیاہے ؟ لہذا یہ احتمال بھی صحیح نہیں    ہے ۔ نیز تیسرا احتمال بھی صحیح نہیں    ہے کیونکہ اگر اس طرح تحریف ہوتی تو دوسرے لوگ جو ابوبکر اور عمر کی حکومت اور خلافت کے مخالف ہیں    جن میں  سرفہرست حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت صدیقہ ئ زہرا سلام اللہ علیہا اور دیگر بارہ افراد جو انصار ومہاجرین کے تھے اس مسئلہ کو ابوبکر اورعمر کی خامیوں  اوران پر ہونے والے اعتراضات میں  ذکر کرتے ، ان کے خلاف کے گئے احتجاجات میں  اس کاتذکرہ ہوتا جبکہ ان کے کلمات اور احتجاجات میں  ایسانظر نہیں    آتا، لہذا اس بحث کانتیجہ یہ ہے کہ ابوبکر اور عمر کے دور خلافت میں  تحریف ہونے کا قائل ہونا مردود اور باطل ہے ۔

۴۱

دوسری صورت

عثمان کے دور خلافت میں  تحریف ہوئی ہے ، یہ نظریہ گذشتہ نظریے کی نسبت بہت زیادہ ضعیف اور کمزورہے کیونکہ :

1۔ عثمان کے دور میں  اسلام کی نشر واشاعت اس قدر ہوئی تھی کہ کسی کو قرآن کی کسی آیت کو مٹانا یاکسی آیت کااضافہ کرنا ممکن نہیں    تھا ۔

2۔ اگرعثمان کے دور میں  تحریف ان آیات میں  ہوئی ہو جو اہل بیت عصمت وطہارت علیہم السلام کی ولایت اور خلافت سے مربوط نہیں    ہیں    تو ان میں  تحریف کرنے کاسبب اورہدف قابل تصور نہیں    ہے ، نیز ولایت ائمہ علیہم السلام سے متعلق آیات میں بھی ان کے زمانے میں  تحریف نہ ہونے کایقین ہے ، کیونکہ اگر قرآن کی کوئی آیت صریحاً حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی خلافت اور ولایت ثابت کرنے کے لئے ہوتی تو وہ آیت لوگوں  میں  شائع ہوتی اور عثمان تک خلافت نہ پہنچتی ۔

3۔ اگر عثمان قرآن میں  تحریف کرتا تو عثمان کے مخالفین کے لئے یہ مسئلہ ان کے خلاف قیام کرنے کا بہترین بہانہ اور عذر تھا جبکہ ان کی طرف سے کوئی ایسی چیز احتجاج کی شکل میں  نظر نہیں    آتی ۔

4۔اگر تحریف عثمان کے دور خلافت اور عثمان کے ہاتھوں  ہوئی ہوتی تو حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام عثمان کے بعد مسلمانوں  کاخلیفہ اور حاکم ہونے کی حیثیت سے قرآن کو اسی طرح ترتیب دینا چاہئےے تھاجس طرح پیغمبر اکرم (ص)پرنازل ہوا تھا جبکہ ایسی کوئی بات تاریخ میں  نہیں    ملتی ، پس یہ صورت بھی باطل اور غلط ہے ۔

۴۲

تیسری صورت

قرآن میں  تحریف عثمان کے دور خلافت کے بعد نبی امیہ کے خلفاء یاان کے ایجنٹوں  کے ہاتھوں  ہوئی ہے ۔ یہ ایسی صورت ہے جس کاسابقہ صورتوں  کی طرح کسی محقق یامورخ نے دعویٰ نہیں    کیا ہے ۔ اور چوتھی صورت بھی عقلاً ممکن نہیں    ہے ۔ لہذا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قرآن میں  تحریف ہونے کانظریہ سرے سے ہی غلط اور باطل ہے ،چونکہ عقلی اعتبار سے کوئی چوتھی صورت موجود نہیں    لہذا ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں    کہ عقلی اور تاریخی اعتبار سے تحریف قرآن کامسئلہ باطل اور مردود ہے ۔ یہاں  یہ بھی یادرہے کہ یہ دلیل صرف عقلی حکم سے ثابت نہیں    بلکہ تاریخی تجزیہ بھی ساتھ ہے

دلیل عقلی کا دوسرا بیان

اس بیان کی وضاحت کے لئے دو مقدموں  کی ضرورت ہے :

پہلامقدمہ : شریعت اسلام ادیان الہیٰ میں  سے کامل ترین دین ہے اور لوگوں  کے لئے قیامت تک رہنے والا آئین ہے ۔

دوسرا مقدمہ : ایسے دین اورآئین کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسی دائمی سند اور دستور العمل بھی اس کے ساتھ ہو ، تاکہ لوگ اس کے مطابق عمل کرسکیں ۔

جب ان دو مقدموں  کو ایک دوسرے سے ملائیں  تو نتیجہ نکلتا ہے کہ شارع کو چاہئےے کہ اپنی کتاب کو ہر قسم کی تحریف اور کمی بیشی سے محفوظ رکھے ۔لہذا عقل کی رو سے شارع (اللہ ) پر لازم ہے کہ قرآن کو تحریف جیسی ظلمت سے محفوظ رکھے۔

۴۳

یہ دلیل عقلی بھی شک سے خالی نہیں    ہے کیونکہ عقل قضیہ شرطیہ کے طور پر حکم دیتی ہے کہ قرآن تمام عالم انسانیت کے لئے قیامت تک ان کی زندگی کے تمام مراحل میں  رہنمائی اور ہدایت کے لئے ہے تو تحریف سے محفوظ ہونا چاہئےے لیکن یہ مقدار محل بحث کے لئے مفید نہیں  ہے کیونکہ ہمارا محل بحث تحریف کا واقع ہونایا نہ ہونا ہے اور عقل اس مسئلے میں مستقل طور پر دخالت نہیں  کرسکتی ۔

سیرت اوربناء عقلاء :

بعض علماء نے قرآن کریم میں  تحریف نہ ہونے پر بنا عقلاء اور ان کی سیر ت سے استدلال کیا ہے ا ور اس کی ضاحت یوں  کرتے ہیں    :

'' ہر کتاب میں  لکھی ہوئی بات اور کلام میں  تبدیلی اور تحریف عادت اور فطرت کے خلاف ہے ، پس ایسی تبدیلی اجباری اورغیر عادی ہے ۔ لہذا عقلاء کی سیر ت یہ ہے کہ ایسی تحریف اور تغییر کا اعتنا نہیں    کرتے ۔ اس نظرئےے کی بنا پر قرآن کا تحریف سے محفوظ رہنا ایک امر طبیعی ہے جبکہ تحریف کا احتمال خلاف طبیعت ہے ۔ لہذا یہی اصل اور قانون اوّلیہ کاتقاضا ہے جو بدیہی ہے اورسب کے پاس مسلم ہے ۔ ( 1 )

لیکن یہ دلیل ان کتابوں  کے بارے میں  مفید ہے جن میں  تحریف ہونے کے مختلف انگیزے اور اغراض نہ پائے جاتے ہوں  لیکن قرآن جیسی کتاب میں  کفار او رملحدین کی طرف سے تحریف کے مختلف انگیزے پائے جاتے ہیں    اس میں  تحریف نہ ہونا اس دلیل میں شامل نہیں  ہیں    ۔

...........................

1۔ گفتار آسان در نفی تحریف قرآن ص12

۴۴

بارہواں  مطلب

تحریف کے نہ ہونے پر واضح ترین آیت شریفہ

محققین کے ایک گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ قرآن میں تحریف نہ ہونے پر دلالت کرنے والی آیات میں  سے واضح ترین آیت یہ ہے :

''و انّه لکتاب عزیز لا یاتیه الباطل من بین یدیه و لا من خلفه تنزیل من حکیم حمید'' ( 1 )

''اور یہ قرآن تویقینی ایک عالی مرتبہ کتاب ہے جس میں سامنے یا پیچھے کسی بھی طرف سے باطل نہیں  آسکتا ہے کہ یہ خوبیوں والے حکیم کی طرف سے نازل کی ہوئی کتاب ہے''۔

بعض مفسرین نے دعوا کیا ہے کہ اس آیت شریفہ کے عدم تحریف پر واضح ترین دلیل ہونے پر سارے مفسرین کا اجماع ہے۔ ( 2 )

لہٰذا اس آیت شریفہ سے نفی تحریف پر کئی طریقوں  سے استدلال کیا گیا ہے :

پہلا طریقہ:یہ بات واضح ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب کی صفت کو لفظ عزت سے متصف کیا ہے ۔ عزت کا تصور لغت کے حوالے سے وہاں صحیح ہے جہاں  ہر قسم

..........................

1۔فصلت /41،42

2۔صیانۃ القرآن عن التحریف ص33

۴۵

کی تبدیلی اور کمی بیشی سے تحفظ حاصل ہو۔ ( 1 )

دوسرا طریقہ:اس آیت شریفہ میں ایک طرف سے طبیعت اور باطل کی نفی ہو رہی ہے اور قاعدے کے مطابق ایسے موارد میں  عموم کا فائدہ دیتی ہے دوسرے الفاظ میں یوں  کہا جاسکتا ہے کہ آیت شریفہ قرآن سے ہر قسم کے باطل کی نفی کرتی ہے اور ہر وہ چیز جو خراب یا فاسد ہو یا کچھ حصہ اس سے ضائع ہوا ہو اس کو عربی زبان میں  باطل کہا جاتاہے ۔پس مسلّم اور بدیہی ہے کہ کلمہئ تحریف ،باطل کے مصادیق میں سے واضح ترین مصداق ہے۔

تیسرا طریقہ:اس آیت میں  اللہ نے ''لایاتیہ الباطل ''یعنی ہر قسم کے باطل کی گنجائش قرآن میں نہیں  ہے ۔اس کی علت کو ا س طرح ذکر کیا ہے کہ کیونکہ یہ کتاب ایسی ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو حکیم اور حمید ہے یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ ایسی کتاب جو کسی حکیم و حمید کی طرف سے آئی ہے اس میں  کسی قسم کی تحریف اور تبدیلی کا

آنا حکمت کی صفت کے ساتھ مناسب ہے ۔مرحوم حاجی نوری ( 2 ) نے فرمایا:

''اگرچہ قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی یا تغیر کا قائل ہونا باطل کے مصداق میں سے ایک مصداق ہے لیکن یہاں  آیت شریفہ میں  ہر باطل مراد نہیں  ہے بلکہ ایک خاص

..............................

1۔البیان ص211

2۔فصل الخطاب ص 361

۴۶

باطل مراد ہے جو قرآن میں ظاہری طور پر کچھ احکام اور اخبار میں  تناقض کی وجہ سے حاصل ہوجائے اللہ اس کی نفی کرنا چاہتاہے''۔

بعض محققین نے جناب محدث نوری کو یوں جواب دیا ہے :

''آیت شریفہ میں صرف احکام اور اخبارمیں تناقض کی نفی مراد لینا لفظ عزت کے ساتھ مناسب نہیں    ہے۔ ( 1 ) دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اس صفت کے ذکر کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کتاب ہر قسم کے باطل سے دور اور محفوظ ہے۔

اس جواب کی وضاحت اور تکمےل کی ضرورت ہے ۔ وہ ےہ ہے کہ اس آیت شرےفہ کا ظاہری معنیٰ جو ہر خاص و عام کے ذہن میں  آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اس کتاب کو کسی قید اور محدودیت کے بغیر بطور مطلق ''کتاب عزیز'' فرمایا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آیت شریفہ میں  کلمہ باطل سے صرف تناقض احکام اور اخبار کا ارادہ کرنا صحیح نہیں    ہے کیونکہ اگر کتاب الٰہی صرف تناقض احکام کے حوالہ سے عزیز اور باطل سے مصون ہو تولفظ''عزیز'' کو کسی محدودیت کے بغیر کتاب کی صفت قرار دینا خلاف ظاہر ہے ۔

......................

1۔ البیان ص211

۴۷

اشکالات

لیکن آیت شریفہ پر کئے گئے اعتراضات میں سے اہم ترین اعتراض یہ ہے کہ آیت کے ذکر شدہ معنیٰ اس تفسیر کے مخالف ہیں    جو شیعہ اور سنی کے مفسرین میں سے عظیم ترین مفسرین نے کی ہیں  ۔یعنی اس آیت کی کسی بھی مفسر نے اس طرح تفسیر نہیں    کی ہے کہ جس سے نفی تحریف کا احتمال دیے سکیں  ۔مثال کے طور پر مرحوم شیخ طوسی(رح) نے تفسیر تبیان میں آیت شریفہ کی تفسیر میں پانچ احتمال دیے ہیں  :

الف:لایاتیہ الباطل سے مراد قرآن میں کسی قسم کے شبہہ اور تناقض کی گنجائش نہیں 

ہے بلکہ قرآن خالص حق ہے ۔

ب:قتادہ اور سدّی نے فرمایا ہے :اس آیت شریفہ میں  اللہ تبارک و تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ شیطان قرآن سے حق بات کو مٹانے اور کسی باطل کے اضافہ کرنے پر قادرنہیں    ہے ۔

ج:قرآن سے پہلے اور اس کے بعد اسے باطل کرنے والی کسی چیز کا نہ ہونا مراد ہے۔

د:حسن نے فرمایا :اس آیت سے قرآن کی ابتداء اور آخر میں کسی باطل کی گنجائش نہ ہونا مراد ہے ۔

ہ:قرآن نے گذشتہ اور آیندہ کے حوالے سے جو خبریں دی ہیں    اس میں باطل کی کوئی گنجائش نہیں  ہے ۔

جناب سید مرتضیٰ فرماتے ہیں    :اس آیت کے بارے میں بہترین تفسیر جو کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی کلام یا کوئی کتاب قرآن کی مانند اور مشابہ نہیں  ہو سکتی ہے ،قرآن وہ واحد کتاب ہے جو اپنے بعد کی کتب سے مشابہت نہیں  رکھتی اسی طرح اپنے سے پہلے والی کتب سے متصل بھی نہیں  یعنی قرآن کریم ہر حوالے سے بے مثال اور مستقل کلام ہے ،کسی بھی کلام کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہتر اور برتر ہے ۔

۴۸

اس شبہے کا جواب یوں  دیا جا سکتا ہے ۔

پہلا جواب:مذکورہ تفاسیر اور معانی میں سے کچھ جیسے جناب قتادہ اور سدّی سے نقل کیا گیا ہے ،آیت کے ذریعہ قرآن سے تحریف کی نفی کرنے میں مناسب ہے۔

دوسرا جواب:اگر کسی بھی مفسر نے آیت میں کوئی ایسے معنیٰ کی طرف اشارہ نہ بھی کیا ہو جو نفی تحریف کے اثبات کے لئے مناسب ہو ،پھر بھی آیت کے ذریعہ نفی تحریف پر استدلال کرنا صحیح ہے کیونکہ کسی آیت اور کلام کی تفسیر کرنے کے اصول و ضوابط میں  سے ایک یہ ہے کہ کلام اور آیت کے ظاہری معنیٰ کو مدنظر رکھیں اور آیت کا ظاہر ی معنیٰ کسی شک کے بغیر ہمارے مطلب پر دلالت کرتا ہے اگر ہم غور کریں تو معلوم ہو جاتا ہے کہ مفسرین نے مذکورہ معانی پر کوئی معتبر دلیل ذکر نہیں  کی تھی لہٰذا ان کا ہر نظریہ اور تفسیر قابل قبول نہیں    ہے لیکن اس وقت جب ان کی تفسیر پر معصوم سے منقول کوئی روایت ہو ۔

تیسرا جواب:وہ روایات جو لفظ باطل کی وضاحت اور تفسیر میں  آئی ہیں    وہ آیت شریفہ کو اسی میں  منحصر کرنے کے درپے نہیں  بلکہ آیت کریمہ کے مصادیق کو بیان کرتی ہیں    ۔

۴۹

تیرہواں مطلب

کیا تحریف کے قائل ہونے سے ظواہر کتاب کا حجیت سے ساقط ہونا لازم آتا ہے ؟

کیا تحریف کے قائل ہونے کے بعد ہم کتاب کے ظواہر سے استدلال نہیں  کر سکتے ہیں    ؟یہ سوال اس وقت صحیح ہے اگر تحریف کا دعویٰ کرنے والا علم اجمالی کی رو سے تحریف کا قائل ہو۔

بعضوں  نے کہا ہے کہ'' ایسے مفروضے کی صورت میں جس کسی آیت کی تحریف کا احتمال ہو اسے اہم عقلائی اصل سے وابستگی اختیار کرنی چاہیے جو ''عدم قرینہ '' ہے اور ظاہراً آیت سے استدلال کیا جائے دوسرے الفاظ میں تحریف شدہ کتاب کی حجیت کے لئے ہمیں  معصومین علیہم السلام کی تایید کی ضرورت نہیں  بلکہ ہم  اس عقلائی اصل کی روشنی میں ان کے ظواہر سے استدلال کرسکتے ہیں  ''۔ یہ بیان اور جواب اس صورت میں  صحیح ہے اگر عقلاء کسی کلام میں  قرینہ متصلہ یعنی متکلم کے کلام کےساتھ کوئی قرینہ ہونے کا احتمال دیں  پھر اصل عدم قرینہ سے تمسک اور استدلال کرنے کو صحیح سمجھے جبکہ عقلائی تحقیق کے مطابق جہاں  کہیں  کسی کلام میں  مخاطب اور سامع کوئی قرینہ منفصلہ '' یعنی متکلم کے کلام سے الگ کوئی قرینہ '' ہونے کا احتمال دے وہاں  قرینہ کی نفی کے لئے عقلاء عدم قرینہ سے تمسک کرنا صحیح سمجھتے ہیں    لیکن اگر کسی کلا م میں  قرینہ متصلہ ہونے کا احتمال ہو وہاں  اصل عدم قرینہ سے استدلال کر کے اس احتمال کی نفی کرنا صحیح نہیں    ہے اور مسئلہ تحریف پر علم اجمالی کے بعد احتمال کیا ہے کہ شاید کوئی قرینہ ہے جو تحریف کے نتیجہ میں  حذف کیاگیا ہے

۵۰

لہٰذا تحریف کے بارے میں  علم اجمالی کے مفروضے کی صورت میں  ظواہر کتاب سے تمسک کے لئے حضرات معصومین علیہم السلام کی تایید کے علاوہ اور کوئی چارہ نظر نہیں  آتا اور یہ مطلب حدیث ثقلین کے ظاہر کے خلاف ہے۔

چودہواں  مطلب

تحریف نہ ہونے پر حدیث ثقلین کی دلالت

تحریف کی نفی پر دلالت کرنے والی روایات میں سے اہم ترین روایت حدیث ثقلین ہے جو متواتر ہے ،یعنی اصحاب رسول ؐ میں سے 33 ہزار افراد نے جو عظیم شخصیت کے مالک تھے ،پیغمبر اسلام ؐ سے نقل کیا ہے ۔جیسے حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام ، ابوذر ، عبداللہ بن عباس ،جناب عبداللہ بن عمر ، جناب حذیفہ ،جناب ابو ایوب انصاری ( 1 ) اور اہل سنت کے علماء میں  سے دو سو عظیم علماء نے اپنی کتابوں  میں تحریر کیاہے ۔اس حدیث کا متن اس کی اسناد میں سے ایک متن کے مطابق یوں  ہے: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ''انّی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی و فیه الهدی والنور فتمسکوا بکتاب الله و خذوا به و اهل بیتی ،اذکرکم الله فی اهل بیتی (ثلاث مرّات)''(٢) ''تحقیق میں تمہارے درمیان دوگراں  بہا چیزیں  چھوڑے جا رہا ہوں  ،ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت (اہلبیت)ہے ،اسی میں  ہدایت اور نور ہے ۔پس تم اللہ کی کتاب اور میرے اہلبیت سے تمسک رکھو ،میرے اہلبیت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں  ''۔(یہ جملہ تین دفعہ فرمایا) اس حدیث سے قرآن کریم میں تحریف نہ ہونے پر دو طریقوں  سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔

........................

1۔آلاء الرحمن ص44

2۔سنن دارمی ج2ص431

۵۱

پہلا طریقہ

پہلا طریقہ چھ نکات پر مشتمل ہے :

الف:یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ ہم قیامت تک کتاب سے تمسک رکھ سکتے ہیں 

ب:اس کتاب میں  تحریف ہونے کا لازمہ یہ نہیں    ہے کہ ہم اس سے تمسک نہیں رکھ سکتے۔

ج:قرآن سے تمسک رکھنے کا مطلب اس کے تمام پہلوؤں  سے تمسک رکھنا ہے جن کا ذکر قرآن نے کیاہے اور تمسک کے خصوصی معنی جیسے کہ ''آیات احکام''نہیں    ہےں ۔دوسرے الفاظ میں قرآن صرف واجبات و محرمات بیان کرنے کے لئے نہیں    آیاہے بلکہ قرآن اس لئے آیا ہے کہ انسان کو ظلمت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت اور نور کی طرف لے جائے ۔

د:تحریف کا مقصد یعنی حقائق کو چھپانا اور کتاب کے بعض انوار پر پردہ ڈالنا ہو تو ایسی تحریف پر مشتمل کتاب انسان کے تمام پہلوؤں سے نور اور ہادی نہیں  بن سکتی ۔جبکہ قرآن کریم کا ہدف یہ ہے کہ لوگوں  کو ہر ظلمت اور تاریکی سے نکال کر ہدایت اور نور کی طرف لے جائے تا کہ انسان مادی و معنوی امور میں  انسان کامل کے مرحلہ پر فائز ہو جائے ۔یہ مقصد اور ہدف ایسی ہی کتاب کے ساتھ تمسک سے حاصل ہوتا ہے ۔

ہ:قرآن کریم سے استدلال اور تمسک رکھنا بر خلاف تمسک عترت اسی صورت میں  ممکن ہے کہ ہم قرآن تک پہنچیں  وہ بھی وہی قرآن جو لوگو ں کے پاس موجود ہے نہ وہ قرآن جو اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے پاس محفوظ ہے ،دوسرے

انسانوں کی رسائی سے دور ہے ۔

۵۲

حدیث شریف سے استفادہ ہوتا ہے کہ کتاب سے تمسک رکھنا صرف یہ نہیں    کہ تمسک ممکن ہے بلکہ واجب ہے اور انشاء کے مقام پر جملہ خبریہ حکم تکلیفی کا حامل ہے علم اصول کے مباحث میں یہ واضح ہے کہ تکلیف شرعی میں  لازم ہے کہ مکلفین کی قدرت میں  ہو ۔اس لئے اگر قرآن تحریف کا شکار ہو چکا ہے تو اس سے تمسک نہیں    رکھ سکتے ۔

دوسرا طریقہ

اس حدیث سے استفادہ ہوتا ہے کہ ان دوگراں بہا چیزوں  میں سے ہر ایک دوسری دلیل کے ساتھ مستقل دلیل اور حجت ہے یعنی کتاب الٰہی عترت اور اہلبیت سے قطع نظر مستقل طور پر واجب العمل اور حجت ہے ،نیز عترت بھی کتاب سے قطع نظرمستقل دلیل اور حجت ہے ۔البتہ اس کا مطلب یہ نہیں    ہے کہ ہر ایک اکیلا مطلوب کے حصول اور گمراہی و ظلمت سے نجات پانے کے لئے کافی ہو ،یعنی قرآن اہلبیت کے بغیر یا اہل بیت قرآن کے بغیر ہماری نجات کا ذریعہ بنے، بلکہ گمراہی اور ظلمت سے نکال کر ہدایت اور نور کی طرف لے جانے میں دونوں  کی ضرورت ہے ۔لہٰذا گر قرآن کی تحریف ہوئی ہوتو اس کے ظواہر واجب العمل اور حجت ہونے سے ساقط ہو جاتے ،اور جو لوگ تحریف کے معتقد ہیں    ان کے لئے کتاب کی طرف رجوع کرنے میں تصدیق معصومین اور تائید کی ضرورت ہے ۔جو حدیـث ثقلین کے ظاہر ی معنیٰ کے مخالف ہے ۔کیونکہ حدیث ثقلین کے ظاہری معنیٰ یہ ہیں    کہ کتاب و عترت میں سے ہر ایک مستقل یعنی ایک دوسرے سے ضمیمہ کئے بغیر واجب العمل اور حجت ہیں  ۔لہٰذا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو چیز ثقل اکبر ہو اس کی حجیت اس چیز پر موقوف ہو جو ثقل اصغر ہے ۔پس ان دو طریقوں  سے درج ذیل نتائج روشن ہو جاتے ہیں    :

1۔قرآن سے تمسک اور استدلال کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ اس سے تمسک کرنا ضروری ہے ۔

2۔قرآن کو ایک مستقل دلیل اور حجت کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے لہٰذا بدیہی ہے اگر کوئی تحریف کا قائل ہو تو اس کا یہ نظریہ مذکورہ مطلب سے میل نہیں    کھاتا ۔

۵۳

پندرہواں  مطلب

تلاوت کا مٹ جانا اور باطل قرار پانا

سنی علماء کی عبارات میں نسخ تلاوت او رانساء کی دو اصطلاحیں نظر آتی ہیں    اور جواز نسخ تلاوت کو بطور اجمال ذکر کر کے اس پر انہوں  ( 1 ) نے عقلی اور نقلی دلیل ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔اس کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم غور کریں کہ کیا یہ دو اصطلاح اور لفظ تحریف دو الگ الگ چیزیں  ہیں  یا ان دو اصطلاحوں کے قائل ہونے کا لازمہ تحریف ہے ؟احادیث اور روایات کی کتابوں میں کچھ ایسی احادیث پائی جاتی ہیں  جس کی توجیہ کے نتیجہ میں اہل تسنن کے بزرگ علماء نے ان میں  نسخ تلاوت کو قرار دیا ہے ،انہیں    روایات میں سے ایک وہ ہے جو مسئلہ رجم سے مربوط ہے ۔چنانچہ ابن عباس نے عمر سے روایت کی ہے کہ عمر نے کہا :پیغمبر اکرم (ص) پر نازل شدہ آیات میں سے ایک آیت رجم ہے ،''الشیخ و الشیخۃ اذا زنیا فارجموھما...'' اگر کوئی عمر رسیدہ مرد اور عورت آپس میں زنا کریں تو ان کو سنگسار کریں اور پیغمبر اکرم (ص)نے اپنے دور میں  اس پر عمل کیا ہے،ان کے بعد ہم بھی

اس پر عمل کرتے رہیں    ہیں  ۔ ( 2 )

.........................

1۔الاحکام فی اصول الاحکام جزء سوم ص154

2۔مسند احمد ابن حنبل 1/47

۵۴

زید بن ثابت فرماتے ہیں  :میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سنا کہ ''اگر کوئی شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو ان کو سنگسار کرنا چاہیئے ۔اس بحث میں  غور کی بات یہ ہے کہ زید بن ثابت نے نہیں    کہا پیغمبر کا یہ کلام وحی اور آیات قرآنی میں  سے ایک ہے لیکن عمر نے خیال کیا کہ یہ وحی منزل اور آیات قرآنی میں سے ایک ہے جبکہ عمرنے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھا کیا اس کو کتاب میں لکھوں ،تو پیغمبر اکرم (ص) نے کوئی جواب نہیں    دیا ( 1 )

اہل تسنن بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے خیال کرنے لگے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا یہ کلام اور حکم قرآن کی ایک آیت تھی لیکن اس کی تلاوت اور قرائت نسخ اور ختم ہو چکی ہے ،اگرچہ اس کا حکم اب بھی باقی ہے ۔

اس نظریے پر کئی اہم اعتراضات ہوئے ہیں  جو یوں  ہیں  :

1۔پہلا اعتراض یہ ہے کہ نسخ جس طرح کا ہو وہ ناسخ کے بغیر نہیں  ہو سکتا ،لیکن یہاں  کوئی ناسخ نظر نہیں  آتا ۔

2۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ بحث نسخ میں یہ ثابت ہے کہ نسخ صرف احکام شرعی کے حدود میں  واقع ہوا ہے لیکن تلاوت کا عنوان شرعی احکام سے مربوط نہیں    اگرچہ اس اعتراض کا جواب اہل سنت کے علماء میں سے بعض نے اس طرح دیا ہے ( 2 )

...............................

1۔محلی ابن حزم ج1ص235

2۔الاحکام آمدی 3/155

۵۵

کہ تلاوت قرآن سے اس کا وجود خارجی مراد نہیں    ہے بلکہ تلاوت قرآن کا جواز

مراد ہے جو احکام شرعیہ میں سے ایک ہے ۔

3۔تیسرا عتراض یہ ہے کہ اس جیسے نسخ کا کیا فائدہ ؟یعنی یوں کہا جائے کہ آیت کی تلاوت نسخ ہو چکی ہے لیکن اس کا اصل حکم باقی رہے جو اس آیت کا مدلول ہے باقی رہے ۔

4۔چوتھا اعتراض :اہم ترین اعتراض ہے جسے مرحوم محقق خوئی نے کہا ہے انہوں  نے فرمایا کہ اگر نسخ تلاوت کی یہ صورت حضور اکرم (ص) کے زمانے میں آپ کے حکم سے واقع ہوئی ہے چاہے اس کا لازمہ تحریف نہ بھی ہو ،لیکن ایسی روایتیں  جو مطلب پر دلالت کرتی ہیں  یا اس نظریے پر محمول ہو خبر واحد کی حیثیت سے ہیں  اس لئے اعتماد کے لئے کافی نہیں  اس پر اضافہ یہ کہنا کہ اس قسم کا نسخ پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے کے بعد واقع ہواہے اور اگر اس قسم کا نسخ حضور اکرم (ص) کے زمانے کے بعد علماء اور حکمرانوں  کے ذریعے واقع ہوا ہے تو یہ قول عین تحریف کو قبول کرنا ہے ۔ ( 1 ) لیکن جو کچھ مسئلہ رجم کے متعلق بیان ہوا ہے اس کا بطلان بہت واضح ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے قرآن کریم کے آیات کو تحریر کرنے میں بڑی باریکی کے ساتھ نگرانی فرمائی

ہے اور بڑے اہتمام کے ساتھ کاتبوں کو اس امر پر مامور فرمایا تھا اس صورت

.............................

1۔البیان ص 206

۵۶

میں  کہ آیت رجم اگر آیات قرآن میں سے ہوئی تو آپ نے اسے قرآن میں لکھنے کا حکم کیوں نہیں  دیا اور عمر کے سوال کا جواب کیوں  نہیں    دیا ۔

لہٰذا نسخ تلاوت ایک ایسا مطلب ہے جس کا باطل ہونا بدیہی طور پر واضح ہے یہاں تک کہ بعض اہلسنت ( 1 ) کے معاصرین نے کہا ہے کہ عقلاً تو ایسا ہونا جائز ہے مگر اللہ کی کتاب میں ایسا کوئی نسخ واقع نہیں  ہوا ہے ۔ابن حزم اندلسی نے پہلے نسخ تلاوت کو قبول کرنے کے بعد اپنے کلام کے آخر میں ایسی توجیہ کی جیسے نسخ

تلاوت وحی الٰہی سے مربوط ہی نہیں  ہے۔

.........................

1۔فتح المنان فی نسخ القرآن ص224

۵۷

سولہواں  مطلب

شیعہ امامیہ تحریف قرآن کے قائل نہیں  ہوسکتے

شیعہ امامیہ نہ صرف تحریف قرآن کے معتقد نہیں  ہیں  بلکہ اصولاً ایسے عقیدے اور نظریے کے قائل نہیں  ہو سکتے ۔کیونکہ شیعہ امامیہ کے اصول اور اعتقادی مسائل کو تشکیل دینے والی اہم ترین دلیلوں  میں سے ایک آیت تطہیر ہے:

''انما یرید الله لیذهب عنکم الرّجس اهل البیت و یطهّر کم تطهیراً'' ( 1 )

''بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت ! کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے ،اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''۔

اعتقادی مسائل سے مربوط کتابوں میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ آیت شریفہ اہلبیت علیہم السلام کی عصمت پر واضح ترین دلیل ہے اور وہ بھی ایسی عصمت جو مسلمانوں کے پیشوا اور خلیفہ ئوقت کے منصب پر فائز ہونے کے لئے ضروری ہے ،یعنی اس عصمت کو بیان کرنے والی آیات میں سے واضح اور روشن

آیت ،آیت تطہیر ہے ۔لہٰذا جو لوگ قرآن میں تحریف کے قائل ہیں  وہ اس آیت سے عصمت پر استدلال نہیں  کر سکتے ،یعنی جب ہم قرآن کو ایک منظم کتاب سمجھیں

...........................

1۔احزاب/33

۵۸

کہ جس کا آغاز سورہ مبارکہ حمد اور اختتام سورہ والنّاس ہے ،جس کی تدوین اور جمع آوری خود پیغمبر اکرم (ص) کے زما نہ میں مکمل ہوئی تھی آنحضرت ؐ کے بعد کسی قسم کی کمی بیشی نہیں  ہوئی اور اس کی ہر آیت کو اپنی مخصوص مناسبت کے ساتھ اس طرح رکھا گیا ہے اگر کوئی ایک آیت کو اس کی مخصوص جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرے تو اس کا الٰہی مقصد حاصل نہیں  ہوتا ۔کیونکہ اس آیت کو اس مخصوص جگہ میں ترتیب دینے کا ہدف مقصد یہ ہے کہ اللہ پیغمبر اکرم (ص) کی ازواج کی ذمے داریوں  کو بیان کرتے وقت اہلِ بیت (ع) عصمت کی چند خاص ذمے داریوں کو بیان کرے اگر اس جیسی آیات میں

تحریف کا احتمال دیا جائے تو شیعہ امامیہ کے اعتقادات کے لئے کوئی پناہ باقی نہیں رہے گی ۔ ( 1 )

......................

1۔مزید توضیح کے لیے رجوع کریں کتاب'' اہل البیت یا چہرہ ہای درخشان''

۵۹

سترہواں مطلب

تحریف کی روایات کا اجمالی جائزہ

تحریف کے قائلین کے پاس اہم ترین دلیل وہ روایات ہیں    جو سنی اور شیعہ کتابوں  میں  ذکر ہوئی ہیں  ،ان روایات کی تعداد بعض محققین نے ایک ہزار ایک سو بائیس ( 1122 ) بتائی ہے ،بعض بزرگ علماء نے ان روایات کے تواتر اجمالی کو قبول کر لیا ہے اگرچہ مذکورہ روایات میں سے اکثر کی سند ضعیف ہے لیکن اس کثرت سے وارد ہوئی ہیں    کہ جن میں سے بعض کا معصوم علیہ السلام سے صادر ہونے پر ہمیں  یقین حاصل ہو جاتا ہے ۔لہٰذا ان تمام کے جھوٹ ہونے کا احتمال نہیں  ہے اس لئے جو لو گ تحریف کے قائل ہیں  وہ ان روایات سے تحریف قرآن پر استدلال کرتے ہیں    ۔

لیکن ہمارے علماء میں  سے بعض نے ان روایات پر دو اعتراضات کر کے جواب دیا ہے ۔

پہلا طریقہ :جن کتابوں میں ان روایات کو جمع کیا ہے وہ معتبر نہیں  ہیں  ۔

دوسرا طریقہ :ان روایات کے مضمون قابل اعتراض ہیں  ان دونوں  جہتوں کی

وضاحت اور تفصیل کی ضرورت ہے ۔

۶۰

61

62

63

64

65

66

67

68

69

70

71

72

73

74

75

76

77

78

79

80

81

82

83

84

85

86

87

88

89

90

91

92

93

94

95

96

97

98

99

100

101

102

103

104

105

106

107

108

109

110

111

112

113

114

115

116

117

118

119

120

121

122

123

124

125

126

127

128

129

130

131

132

133

134

135

136

137

138

139

140

141

142

143

144

145

146

147

148

149

150

151

152

153

154

155

156

157

158

159

160

161

162

163

164

165

166

167

168

169

170

171

172

173

174

175

176

177

178

179

180