احیاء ا لمیت بفضائل اہل البیت(ع)

احیاء ا لمیت بفضائل اہل البیت(ع)42%

احیاء ا لمیت بفضائل اہل البیت(ع) مؤلف:
زمرہ جات: متن احادیث

احیاء ا لمیت بفضائل اہل البیت(ع)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 59 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 12731 / ڈاؤنلوڈ: 4037
سائز سائز سائز

کی بیٹی تھیں انھیں سے عمر نے شادی کی درخواست کی تھی تاکہ عمر کا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سببی رشتہ ہوجائے ، لیکن تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی ـکی ایک دوسری لڑکی ام کلثوم نام کی تھی ، جو شہزادی فاطمہ کے بطن سے نہیں تھی ، اسی طرح بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ حضرت علی ـکی اور دولڑکیاں زینب صغری اور ام کلثوم صغری نام کی تھیں اور وہ دونوں ام ولد تھیں ۔(١)

ابن قتیبہ نے بھی ام کلثوم کو صرف امام علی ـ کی لڑکی جانا ہے جو حضرت فاطمہ کے بطن سے نہیں تھی ، کہتے ہیں : اس کی ماں ام ولد اور کنیز تھی ۔(٢)

نیزعلامہ طریحی کہتے ہیں : ام کلثوم زینب صغری حضرت علی کی لڑکی تھی( فاطمہ کی نہیں ) جو اپنے بھائی امام حسین ـ کے ساتھ کربلا میں تھیں، اصحاب کے درمیان مشہور ہے کہ عمر نے ان سے جبراً شادی کی تھی، جیسا کہ سید مرتضی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ حضرت فاطمہ کی بیٹی نہیں تھیں بلکہ حضرت امیر المومنین ـ کی تھیں ان ہی سے جبراً شادی کرنے کیلئے عمر نے بات کی،اور یہی قول صحیح ہے۔(٣)

____________________

(١)تاریخ موالید الائمة ص ١٦۔ نور الابصار ص ١٠٣۔ نہایة الارب ج ٢، ص ٢٢٣۔

(٢)ابن قتیبة ؛ المعارف ص ١٨٥۔

(٣)اعیان الشیعة ج ١٣ ، ص ص١٢ ۔

نتیجہ:

اگر ہم نفسیاتی اور عقلی طور پر اس واقعہ کے منفی ہونے پر نظر ڈالیں توحسب ذیل باتوں سے اس کی تائید ہوتی ہے:

١) ام کلثوم اسی فاطمہ بنت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بطن سے تھیں جن سے عقد کرنے کی خواہش پر عمر کو دربار رسالت سے جواب مل چکا تھا ، لہٰذا جس فعل کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فاطمہ کیلئے مناسب نہ سمجھا علی اس کی بیٹی کیلئے کس طرح اسے مناسب سمجھیں گے؟

٢) ام کلثوم اسی ماں کی بیٹی تھیں جو جیتے جی عمر سے ناراض رہیں اور مرتے دم بھی وصیت کر گئیں

کہ وہ ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں ، کیا حضرت علی ـ اس بات سے غافل تھے کہ اگر ام کلثوم کی شادی عمر سے کردی تو فاطمہ کی روح کے لئے تازیانہ ثابت نہ ہوگی؟

٣) جیسا کہ ہم نے گزشتہ بحث میں عرض کیا کہ ام کلثوم اور عمر کے سن میں زمین وآسمان کا فرق

تھا،و نیز روایت کے مطابق ام کلثوم کی شادی چچا زاد بھائی سے پہلے ہی طے ہوچکی تھی،توپھر ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت علی ـ عمر سے شادی کر نے کے لئے کیسے راضی ہوگئے؟

٤ ) اگر ہم حضرت علی ـ اور حضرت عمر کے درمیان تعلقات پر غور کریں تو اس بات کا فیصلہ کرنا آسان ہوجاتا ہے، کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد سے ہی حضرت علی اور عمر کے درمیان تنازع شروع ہوگیا تھا یہاں تک کہ آپ کے گلے میں رسی کا پھندہ ڈالنے والے عمر تھے ، خلافت کا رخ عمر کی وجہ سے اپنے محور سے منحرف ہوا ،فاطمہ کا پہلو عمر نے شکستہ کیا ،شکم مادر میں محسن کی شہادت عمر کی وجہ سے ہوئی،ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے کیا حضرت علی ـ کے بارے میں کوئی انسان سوچ بھی سکتا ہے کہ آپ راضی و خو شی سے اپنی بیٹی عمر سے بیاہ دیں گے ؟!

٥) بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ حضرت علی ـ نے عمر سے خوف زدہ ہوکر ام کلثوم کی عمر سے شادی کردی تھی ، یہ بات وہی حضرات کہہ سکتے ہیں جو تاریخ اسلام کا مطالعہ نہیں رکھتے ، جس کی تیغ کا لوہا بدر و احد ، خبیرو خندق کے بڑے بڑے شہسوار اور سورما مان چکے ہوں وہ ان للو پنجو سے ڈر کر اپنا سارا عز ووقار خاک میں ملاکر بیٹی سے شادی کردے گا ! حیرتم برین عقل و دانش !

البتہ مسئلہ خلافت پر صبر کرتے ہوئے تلوار کا نہ اٹھاناایک دیگر مسئلہ ہے ، کیونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وصیت تھی کہ علی اس سلسلہ میں تم صبر کرنا ،اگر علی اس موقع پر صبر نہ کرتے اور تلوار اٹھا لیتے تو بہت سے وہ لوگ جو تازے تازے مسلمان ہوئے تھے اسلام سے پلٹ جاتے ،اور مسلمان اپنی خانہ جنگی کے شکار ہو جاتے ، جس کے نتیجہ میں خارجی طاقتیں اسلام پر غالب ہوجاتیں اور اسلام کا شیرازہ بکھر جاتا، لیکن جہاں تک ام کلثوم کی شادی کا مسئلہ ہے تو اس میں آپ کیوں کسی سے خوف کھاتے ؟یہ کوئی دین اسلام کی نابودی کا مسئلہ تو تھا نہیں کہ اگر آپ ام کلثوم کی شادی عمر سے نہ کرتے تو عمر جنگ پرآجاتے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے درمیان تمام نہ ہونے والی جنگ شروع ہو جاتی !اور جب اس جنگ کے کوئی اسباب دریافت کرتا تو یہ کہا جاتا کہ یہ جنگ عمر کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی !!اور پھر کیا حضرت عمر بھی اس بات کو سوچ رہے ہوں گے کہ اگر شادی نہ ہوئی تو جنگ کریں گے، ہم اس بات کو بعید از عقل سمجھتے ہیں کہ حضرت عمر ایک بچی سے شادی کرنے کیلئے اتنا ہلڑ ہنگامہ پسند کرتے !!لہٰذا جو لوگ حضرت عمر سے محبت کا دعوی کرتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ اس قضیہ کو طول دے کر برائے خدا ان کی مزید توہین نہ کریں،علامہ سبط ابن جوزی بڑے سمجھدار نکلے کہ انھوں نے اپنے دادا کی بات کو رد کرتے ہوئے فوراً لکھ دیا کہ اس واقعہ سے حضرت عمر کی فضیلت نہیں بلکہ ان کی منقصت ہوتی ہے ۔

٦) کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ اس شادی میں حضرت عمر نے چالیس ہزار درہم مہر رکھا تھا، یہ پہلو بھی حضرت عمر کی تنقیص پر دلالت کرتا ہے،کیونکہ اہل سنت کا ہر فرد اس بات کو جانتا ہے کہ حضرت عمرنے فقیرانہ زندگی میں خلافت کی چکی چلائی ہے ، آپ کی تنخواہ ایک معمولی انسان کے برابر تھی ، چنانچہ تاریخ ابن خلدون میں آیا ہے:حضرت عمر کے کپڑوں میں ہمیشہ پیوند لگے ہوئے ہوتے تھے، آپ کی قمیص میں ستر پیوند تھے ، اسی طرح ایک مرتبہ آپ نماز عید پڑھانے نکلے تو جوتوں میں کئی پیوند لگے ہوئے تھے، ایک مرتبہ گھر سے باہر نہیں نکلے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ان کے پاس کپڑے نہیں تھے ، اور آپکے تہہ بند میں ١٢ پیوند لگے ہوئے تھے۔

ان تمام باتوں پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ روایت من گھڑت اور جعلی ہے، اس کا حقیقت سے کوئی سرو کا رنہیں ہے ، ممکن ہے یہ روایت دشمنان اسلام کی جانب سے اسلامی راہنمائوں کی توہین کی خاطر سوچے سمجھے پروپیگنڈے کی ایک کڑی ہو۔

٧) حضرت عمر کی جس فضیلت کو بیان کرنے کے لئے یہ روایت گڑھی گئی ہے و ہ تو موصوف کو پہلے ہی سے حاصل تھی ، کیونکہ اگر اس شادی کو تسلیم کرلیا جائے تو حد اکثر، عمر کا رشتہ رسول سے سببی قرار پا ئیگا ،حالانکہ آپ کی بیٹی حفصہ، زوجہ ٔ رسول پہلے ہی ہو چکی تھیں،لہٰذا سببی رشتہ تو پہلے ہی سے تھا پھر عمر کیوں کہہ رہے تھے کہ یہ شادی میں رسول سے سببی رشتہ برقرار ہونے کی بنا پر کرنا چاہتا ہوں ؟

٣۔مؤلف کا مختصر تعارف

علامہ جلال الدین سیوطی کی شخصیت اہل علم کے لئے محتاج تعارف نہیں ہے لیکن عوام الناس کے فائدہ کومد نظر رکھتے ہوئے آپ کے حالات زندگی کو اختصار کے طور پر یہاں تحریر کیا جاتا ہے :

علامہ جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان سیوطی شافعی ،یکم رجب المرجب بروز یکشنبہ ٨٤٩ ہجری، شہر اسیوط مصر میں پیدا ہوئے ، ابھی آپ کا سن پانچ سال بھی نہیں ہوا تھا کہ باپ کا انتقال ہوگیا ، آپ پچپن سے ہی علم دین پڑھنے میں مشغول ہوگئے، اور آٹھ سال ہونے تک قرآن کریم اور دیگر درسی رائج متون کو حفظ کرلیا، اور ٨٦٤ ہجری کے ابتداء تک قانونی حیثیت سے اچھے اور مایہ ناز طالب علم کی حیثیت سے شمار کیا جانے لگا ، آپ نے فقہ ، نحو ، اصول اور دیگر اسلامی علوم پر کافی دست رسی حاصل کی،اور اس وقت کے پچاس سے زیادہ بزرگ علماء سے کسب فیض کیا ،اور ٨٦٦ ہجری میں آپ نے اپنے علم کا کتابی شکل میں مظاہرہ کیا ،اور ٨٧١ ہجری میںمقام افتاء پر قدم رکھا ، اور ٨٧٢ ہجری سے املاء حدیث کی مجلس ترتیب دی ،آپ نے تلاش علم میں شام ، حجاز ، یمن ، ہند وستان اور مغرب متعدد سفر کئے ، اور یہاں کے علماء سے علمی مذاکرہ کیا ، علامہ موصوف نے تفسیر ، حدیث ، فقہ ، نحو، معانی ، بیان ، بدیع ، اصول فقہ، قرائت ، تاریخ ، اور طب جیسے موضوعات سے متعلق مختلف کتابیں تحریر کیں ،جوآج بھی مرجع خاص و عام ہیں،لہٰذا اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بہت ہی زحمت کش اور قوی حافظہ کے مالک تھے چنانچہ آپ کہا کرتے تھے کہ میں نے دو لاکھ حدیثیں حفظ کیں ہیںاور اگر اس سے زیادہ میسور ہوتیں تو ان کو بھی حفظ کر لیتا ،آپ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ حدیثیں اس وقت روئے زمین پر موصوف کی اطلاع میں نہ تھیں،آپ کی چھوٹی اور بڑی کتابوں کو ملا کر تقریباً ٥٠٠ کتابیں ہوتی ہیں ، آپ نہایت برد بار ، پاکیزہ نفس اور پرہیزگارانسان سے تھے، ہمیشہ حکام وقت سے ملنے سے کتراتے اور ان کے تحائف اکثر ردکردیا کرتے تھے ، عمر کے آخری حصہ میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ ترک کرکے پروردگار کی عبادت کیلئے گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی،آخر کار بروز پنجشنبہ ٩١١ ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا ،اور شہر خوش قوصون کے اطراف میں دفن کردیا گیا۔(١)

علامہ جلال الدین سیوطی کو جن وجوہات کی بنا پر آج تک یاد کیا جاتا ہے وہ ان کی وسعت تالیف و تصنیف ہے، علامہ ابن حماد حنبلی لکھتے ہیں : علامہ سیوطی کی تصانیف و تالیفات خود ان کے زمانہ میں شرق و غرب میں پھیل چکی تھیں ۔(٢) چنانچہ علامہ سیوطی کے وفادرارشاگرد دائودی لکھتے ہیں : ان کی تالیفات کی تعداد پانچ سو تک پہنچتی ہے ۔

علامہ سیوطی نہ صرف یہ کہ وسعت تالیف کے مالک تھے بلکہ آپ کی تالیفات میں دقت نظر بھی پائی جاتی ہے،بہر کیف یہاں پر ہم علامہ کی ان کتابوں کی ایک فہرست نقل کرتے ہیں جو ہماری دست رس میں تھیں :

١- الاتقان فی علوم القرآن ٢- مسالک الحنفاء فی اسلام والدی المصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ٣- نشر العالمین فی اخبار الابوین الشریفین ٤-العرف الوردی فی اخبار المہدی ٥- احیاء المیت بفضائل اہل البیت ٦- تفسیر الدرالمنثور

٧-تفسیرالجلالین ٨- تلخیص البیان فی علامات المہدی صاحب الزمان

_____________________

(١) شذرات الذہب فی اخبار من ذہب ؛ ابن حماد حنبلی۔معجم المصنفین ؛ عمر رضا کحالہ

(٢)شذرات الذہب.

٩-الثغور الباسمہ فی مناقب فاطمہ ( س) ١٠- تاریخ الخلفاء ١١- اللئالی المصنوعة فی احادیث الموضوعة ١٢- المرقاة العلیة فی شرح الاسماء النبویة ١٣- الفوائد الکامنة فی ایمان السیدة (یسمی ایضاً التعظیم فی ان ابویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فی الجنة) ١٤- العجاجة الزرنبیة فی السلالة الزینبیة(س) ١٥- الخصائص والمعجزات النبویة ١٦- قطف ثمر فی موافقات عمر ١٧- ابواب السعادة فی اسباب الشہادة ١٨- الآیة الکبری فی شرح قصة الاسراء ١٩- بلوغ المامول فی خدمة الرسول ٢٠-تدریب الراوی فی شرح تقریب النووی ٢١- اتمام النعمة فی اختصاص الاسلام بہٰذہ الامة ٢٢-القول الجلی فی حدیث الولی٢٣ - الاحادیث المنیفة ٢٤- احاسن الاقتباس فی محاسن الاقتباس ٢٥- الاحتفال بالاطفال ٢٦- الاخبار الماثورة فی الاطلاء بالنورة ٢٧- اخبار الملائکة ٢٨- الاخبار المرویة فی سبب وضع العربیة ٢٩-آداب الملوک ٣٠- ادب الفتیاء ٣١- اذکار الاذکار ٣٢ -الاذکار فی ماعقدہ الشعراء من الآثار ٣٣- اربعون حدیثاً فی فضل الجہاد ٣٤ -اربعون حدیثاً فی ورقة ٣٥-اربعون حدیثاً من روایة مالک عن نافع عن ابن عمر ٣٦-الارج فی الفرج ٣٧ -الارج المسکی ٣٨- ازالة الوہن عن مسئلة الرہن ٣٩ -ازہار الاکام فی اخبار الاحکام ٤٠- الازہار الغضة فی حواشی الروضة ٤١- الازہار الفائحة علی الفاتحة ٤٢- الازہار المتناثرة فی الاخبار المتواترة ٤٣- الاساس فی مناقب بنی عباس ٤٤- الاسئلة المائة ٤٥- الاسئلة الوزیریة و اجوبتہا ٤٦ - اسعاف المبطاء برجال الموطاء ٤٧- الاشباہ والنظائر الفقہیة ٤٨-الاشباہ والنظائر النحویة ٤٩- اطراف الاشراف بالاشراف علی الاطراف ٥٠- اعذب المناہل فی حدیث من قال انا عالم فہو جاہل ٥١- اعمال الفکر فی فضل الذکر ٥٢- الافصاح ٥٣ -الاقتراح فی اصول النحوو جدلہ ٥٤- الاقتناص فی مسئلة النماص ٥٥- اکام المرجان فی احکام الجان ٥٦- الاکلیل فی استنباط التنزیل ٥٧ -الالفاظ المعرّبة ٥٨- الالفیة فی القرائت العشر ٥٩ -الالفیة فی مصطلح الحدیث ٦٠- القام الحجر لمن ذکی ساب ابی بکر و عمر ٦١- انباء الاذکیاء بحیاة الانبیاء ٦٢- الانصاف فی تمییز الاوقاف ٦٣- انموذج اللبیب فی خصائص الحبیب ٦٤- الویة النصر فی خصیصی بالقصر ٦٥- الاوج فی خبر عوج ٦٦- اتحاف الفرقہ برفوالخرقہ ٦٧ -البارع فی اقطاع الشارع ٦٨- بدائع الزہور فی وقائع الدہور ٦٩- البدر الّذی انجلی فی مسئلة الولا ٧٠- البدور السافرة عن امور الاخرة ٧١- البدیعة ٧٢- بذل الہمة فی طلب برائة الذمة ٧٣- البرق الوامض فی شرح تائیة ابن الفارض ٧٤- بزوغ الہلال فی الخصال الموجبة الظلال ٧٥- بسط الکف فی اتمام الصف ٧٦ - بشری الکئیب فی لقاء الحبیب ٧٧ -بغیة الرائد فی الذیل علی مجمع الزوائد ٧٨- بغیة الوعاة فی طبقات اللغویین والنحاة ٧٩- بلغة المحتاج فی مناسک الحاج ٨٠- اتحاف النبلاء فی اخبارالفضلاء ٨١ -البہجة المرضیة فی شرح الالفیة ٨٢ -التاج فی اعراب مشکل المنہاج ٨٣ -تاریخ سیوط ٨٤- تاریخ العمر ٨٥- تارخ مصر ٨٦- تایید الحقیقة العلیة و تشیید الطریقة الشاذلیة ٨٧- تبییض الصحیفة ٨٨- تجرید العنایة فی تخریج احادیث الکفایة ٨٩ -تجزیل المواہب فی اختلاف المذاہب ٩٠- التحبیر لعلم التفسیر ٩١- التحدث بنعمة اﷲ ٩٢- تحذیر الخواص من اکاذیب القصاص ٩٣- تحفة الانجاب بمسئلة السنجاب ٩٤- تحفة الجلساء برؤیة اﷲ للنساء ٩٥ -تحفة الحبیب ٩٦- تحفة الظرفاء باسماء الخلفاء ٩٧ -تحفة الکرام باخبار الاہرام ٩٨ -تحفة المجالس و نزہة المجالس ٩٩- تحفة المذاکر فی المنتہی من تاریخ ابن عساکر ١٠٠-تحفة النابة بتلخیص المتشابة ١٠١-تحفة الناسک ١٠٢-التخبیر فی علم التفسیر ١٠٣ -تخریج احادیث الدرة الفاخرة ١٠٤ -تخریج احادیث شرح العقائد ١٠٥- تذکرة المؤتسی بمن حدث و نسی ١٠٦ -اتمام الدرایہ لقراء النقایہ ١٠٧ - التذنیب فی الروایة علی التقریب ١٠٨- ترجمان القرآن ١٠٩- ترجمة البلقینی ١١٠- ترجمة النووی ١١١ -تزیین الارائک فی ارسال النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الی الملائک ١١٢- تشنیف الاسماع بمسائل الاجماع ١١٣ -تشیید الارکان من لیس فی الامکان ابدع مما کان ١١٤ -تعریف الاعجم بحروف المعجم ١١٥ -التعریف باداب التالیف ١١٦ -تعریف الفئة اجوبة الاسئلة المائة ١١٧ -التعقیبات ١١٨ -التفسیر المأثور ١١٩-تقریب الغریب ٠ ١٢ -تقریر الاستناد فی تیسیر الاجتہاد ١٢١ -تمہید الفرش فی الخصال الموجبة لظل العرش ١٢٢- تناسق الدرر فی تناسب السو ر ٣ ١٢- تنبیہ الواقف علی شرط الواقف ١٢٤ -تنزیہ الاعتقاد عن الحلول والاتحاد ١٢٥- تنزیہ الانبیاء عن تسفیہ الاغبیاء ١٢٦ -التنفیس فی الاعتذار عن الفتیا ء والتدریس ١٢٧ -تنویر الحلک فی امکان رؤیة النبی والملک ١٢٨ -تنویر الحوالک فی شرح موطاء الامام مالک ١٢٩ -التوشیح علی التوضیح ١٣٠- التوشیح علی الجامع الصحیح ١٣١- توضیح المدرک فی تصحیح المستدرک ١٣٢ -ثلج الفؤاد فی احادیث لبس السواد ١٣٤ -الجامع الصغیر من احادیث البشیر النذیر ١٣٥ -الجامع الکبیر ١٣٦ -الجامع فی الفرائض ١٣٧- جزء فی اسماء المدلسین ١٣٨- جزء فی الصلاة ١٣٩- جزء فی صلاة الضحی ١٤٠- الجمانة ١٤١ - الجمع والتفریق فی الانواع البدیعة ١٤٢ -جمع الجوامع ١٤٣ -الجواب الجزم عن حدیث التکبیر جزم ١٤٤- الجواب الحاتم عن سؤال الخاتم ١٤٥ -الجواہر فی علم التفسیر ١٤٦-الجہر بمنع البروز علی شاطیٔ النہر ١٤٧- حاطب اللیل و حارف سیل ١٤٨ -حاشیة علی شرح الشذور ١٤٩ -حاشیة علی القطیعة للا سنوی ١٥٠ -حاشیة علی المختصر ١٥١- الحاوی للفتاوی ١٥٢- الحجج المبینة فی التفضیل بین مکة والمدینة ١٥٣ -حسن التعریف فی عدم التحلیف ١٥٤ -حسن التسلیک فی عدم التشبیک ١٥٥ -حسن المحاضرة فی اخبار مصر والقاہرة ١٥٦ -حسن المقصد فی عمل المولد ١٥٧-لحصر والاشاعة فی اشراط الساعة ١٥٨- الحظ الوافر من المغنم فی استدراک الکافر اذا اسلم ١٥٩ - حلبة الاولیاء ١٦٠- حمائل الزہر فی فضائل السور ١٦١ -الحواشی الصغری ١٦٢- الخبر الدال علی وجود القطب والاوتاد والنجباء والابدال ١٦٣-الخلاصة فی نظم الروضة ١٦٤۔خصائص یوم الجمعة ١٦٥ -الدراری فی ابناء السراری ١٦٦ -در التاج فی اعراب مشکل المنہاج ١٦٧-در السحابة فیمن دخل مصر من الصحابة ١٦٨ -الدرر المنتشرة فی الاحادیث المشتہرة ١٦٩- الدر المنثور فی التفسیر المأثور ١٧٠ -الدر المنظم فی الاسم الاعظم ١٧١- الدر النثیر فی تلخیص نہایة ابن الاثیر ١٧٢- درج المعالی فی نصرة الغزالی علی المنکر المتعالی ١٧٣- الدرج المنیفة ١٧٤ درر البحار فی احادیث القصار ١٧٥ -درر الحکم و غررالکلم ١٧٦ -الدرة التاجیة علی الاسئلة الناجیة ١٧٧ -دفع التعسف عن اخوة یوسف ١٧٨ -دقائق الملحة ١٧٩- الدیباج علی صحیح مسلم بن الحجاج ١٨٠- دیوان الحیوان ١٨١ -دیوان خطب ١٨٢- دیوان شعر ١٨٣-ذکر التشنیع فی مسئلة التسمیع ١٨٤- ذم زیارة الامراء ١٨٥- ذم القضاء ١٨٦ -ذم المکس ١٨٧-الذیل الممہد علی القول المسدد ١٨٨- الرحلة الدمیاطیة ١٨٩- الرحلة الفیومیة ١٩٠- الرحلةالمکیة ١٩١-رسالة فی النعال الشریفة ١٩٢-رشف الزلال ١٩٣- رفع الباس عن بنی العباس ١٩٤ -رفع الخدر عن قطع السدر ١٩٥ -رفع الخصاصة فی شرح الخلاصة ١٩٦ -رفع السنة فی نصب الزنة ١٩٧ -رفع شان الحبشان ١٩٨-رفع الصوت بذبح الموت ١٩٩ -رفع اللباس و کشف الالتباس فی ضرب المثل من القرآن والالتماس ٢٠٠-رفع منار الدین و ہدم بناء المفسدین ٢٠١- رفع الید فی الدعا ٢٠٢- الروض الاریض فی طہر المحیض ٢٠٣- الروض المکلل والورد المعلل فی المصطلح ٢٠٤ -الریاض الانیفة فی شرح اسماء خیر الخلیقة ٢٠٥-الزجاجة فی شرح سنن ابن ماجة ٢٠٦- الزند الوری فی الجواب عن السئوال الاسکندریہ ٢٠٧- الزہر الباسم فیما یزوج فیہ الحاکم ٢٠٨- زہر الربی فی شرح المجتبی ٢٠٩- زوائد الرجال علی تہذیب الکمال ٢١٠ -زوائد شعب الایمان للبیہقی ٢١١ -زوائد نوادر الاصول للحکیم الترمذی ٢١٢ -زیادات الجامع الصغیر ٢١٣ -السبل الجلیة ٢١٤- السلاف فی التفضیل بین الصلاة والطواف ٢١٥ -السلالة فی تحقیق المقر والاستحالة ٢١٦- السماح فی اخبار الرماح ٢١٧ -السیف الصیقل فی حواشی ابن عقیل ٢١٨- السیف النطار فی الفرق بین الثبوت والتکرار ٢١٩-شد الاثواب فی سد الابواب ٢٢٠- شد الرحال فی ضبط الرجال ٢٢١ -شذ العرف فی اثبات المعنی للحرف ٢٢٢- شرح ابیات تلخیص المفتاح ٢٢٣ -شرح الاستعاذة والبسملة ٢٢٤ -شرح البدیعة ٢٢٥ -شرح التدریب ٢٢٦- شرح التنبیہ ٢٢٧- شرح الرجبیة فی الفرائض ٢٢٨- شرح الروض ٢٢٩ -شرح الشاطبیة ٢٣٠ -شرح شواہد المغنی ٢٣١- شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور ٢٣٢ -شرح ضروری التصریف ٢٣٣- شرح عقود الجمان ٢٣٤ -شرح الکافیة فی التصریف ٢٣٥- شرح الکوکب الساطع ٢٣٦- شرح الکوکب الوقاد فی الاعتقاد ٢٣٧- شرح لغة الاشراف فی الاسعاف ٢٣٨- شرح الملحة ٢٣٩ -شرح النقایة ٢٤٠ -شرح بانت سعاد ٢٤١ -شرح تصریف العزی ٢٤٢- الشماریخ فی علم التاریخ ٢٤٣ -الشمعة المضیئة ٢٤٤- شوارد الفوائد ٢٤٥- الشہد ٢٤٦ -صون المنطق والکلام عن فنی المنطق والکلام ٢٤٧- ضوء الشمعة فی عدد الجمعة ٢٤٨ -ضوء الصباح فی لغات النکاح ٢٤٩ -الطب النبوی ٢٥٠ -طبقات الاصولیین ٢٥١- طبقات الحفاظ ٢٥٢- طبقات شعراء العرب ٢٥٣- طبقات الکتاب ٢٥٤ -طبقات المفسرین ٢٥٥ -طبقات النحاة الصغری ٢٥٦- طبقات النحاة الوسطی ٢٥٧ -طلوع الثریا باظہار ماکان خفیا ٢٥٨ طی اللسان عن ذم الطیلسان ٢٥٩ الظفر بقلم الظفر ٢٦٠ -العاذب السلسل فی تصحیح الخلاف المرسل ٢٦١- العشاریات ٢٦٢- عقود الجمان فی المعانی والبیان ٢٦٣ -عقود الزبرجد علی مسند الامام احمد ٢٦٤- عین الاصابة فی معرفة الصحابة ٢٦٥ -غایة الاحسان فی خلق الانسان ٢٦٦ -الغنیة فی مختصر الروضة ٢٦٧- فتح الجلیل للعبد الذلیل فی الانواع البدیعیة المستخرجة من قولہ تعالی: ''ولی الذین آمنوا'' ٦٨ ٢- الفتح القریب علی مغنی اللبیب ٢٦٩- فتح المطلب المبرور و برد الکبد المحرور فی الجواب عن الاسئلة الواردة من التکرور ٢٧٠ - فتح المغالق من انت تالق ٢٧١-فجر الثمد فی اعراب اکمل الحمد ٢٧٢ -فصل الحدة ٢٧٣ -فصل الخطاب فی قتل الکلاب ٢٧٤ -فصل الشتاء ٢٧٦ -فصل الکلام فی حکم السلام ٢٧٧- فصل الکلام فی ذم الکلام ٢٧٨ -فضل موت الاولاد ٢٧٩ -فلق الصباح فی تخریج احادیث الصحاح (یعنی صحاح اللغة للجوہری) ٢٨٠ -الفوائد المتکاثرة فی الاخبار المتواترة ٢٨١ -فہرست المرویات ٢٨٢ -قدح الزند فی السلم فی القند ٢٨٣ -القذاذة فی تحقیق محل الاستعاذة ٢٨٤ -قصیدة رائیة ٢٨٥-قطر النداء فی ورود الہمزة للنداء ٢٨٦ -قطع المجادلة عند تغییر المعاملة ٢٨٧ -قطف الازہار فی کشف الاسرار ٢٨٨- قلائد الفوائد ٢٨٩- القول الاشبہ فی حدیث من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ٢٩٠ -الجوبة الزکیہ عن الالغاز السبکیة ٢٩١- القول الحسن فی الذب عن السنن ٢٩٢ -القول الفصیح فی تعیین الذبیح ٢٩٣ -القول المجمل فی الرد علی المہمل ٢٩٤ -القول المشرق فی تحریم الاشتغال بالمنطق ٢٩٥- القول المشید فی الوقف المؤبد ٢٩٦-القول المضی فی الحنث فی المضی ٢٩٧ -الکافی فی زوائد المہذب علی الوافی ٢٩٨- الکاوی علی السخاوی ٢٩٩- کتاب الاعلام بحکم عیسی علیہ السلام ٣٠٠- کشف التلبیس عن قلب اہل التدلیس ٣٠١ -کشف الریب عن الجیب ٣٠٢ -کشف الصلصلة عن وصف الزلزلة ٣٠٣ -کشف الضبابہ فی مسألة الاستنابة ٣٠٤ -کشف المغطاء فی شرح الموطا ء ٣٠٥- کشف النقاب عن الالقاب ٣٠٦ -الکشف عن مجاوزة ہٰذہ الامة ٧ ٣٠ -الکوکب الساطع فی نظم جمع الجوامع ٣٠٨-الکلام علی اول الفتح ٣٠٩- الکلام علی حدیث ابن عباس احفظ اﷲ یحفظک ٣١٠- الکلم الطیب والقول المختار فی المأثورة من الدعوات والاذکار ٣١١- لباب النقول فی اسباب النزول ٣١٢- لب اللباب فی تحریر الانساب ٣١٣- لبس الیلب فی الجواب عن ایراد الحلب ٣١٤ -لم الاطراف و ضم الاتراف ٣١٥ -اللمع فی اسماء من وضع الاربعون المتباینة ٣١٦ -اللمعة فی تحریر الرکعة لادراک الجمعة ٣١٧ -اللوامع والبوارق فی الجوامع والفوارق ٣١٨ -ما رواہ الواعون فی اخبار الطاعون ٣١٩ -المباحث الزکیة فی المسألة الدورکیة ٣٢٠ -مجمع البحرین و مطلع البدرین فی التفسیر ٣٢١ -مختصر الاحکام السلطانیة للماوردی ٣٢٢ -مختصر الاحیاء ٣٢٣- مختصر الالفیة ٣٢٤ -مختصر تہذیب الاحکام ٣٢٥ -مختصر تہذیب الاسماء ٣٢٦- مختصر شرح ابیات تلخیص المفتاح ٣٢٧- مختصر شفاء الغلیل فی الذم الصاحب والخلیل ٣٢٨- مختصر معجم البلدان ٣٢٩ -مختصر الملحة ٣٣٠ -المدرج الی المدرج ٣٣١- مذل العسجد لسوال المسجد ٣٣٢- مراصد المطالع فی تناسب المقاطع والمطالع ٣٣٣ مرقاة الصعود الی سنن ابی داؤد ٣٣٤ -مسألة ضربی زیداً قائما ٣٣٥ -المستظرفة فی احکام دخول الحشفة ٣٣٦- المسلسلات الکبری ٣٣٧ -المصاعد العلیة فی قواعد النحویة ٣٣٨- المصابیح فی صلاة التراویح ٣٣٩-مطلع البدرین فیمن یوتی اجرین ٣٤٠- المعانی الدقیقة فی ادراک الحقیقة ٣٤١ -معترک الاقران فی مشترک القرآن ٣٤٢ -مفاتح الغیب فی التفسیر ٣٤٣- مفتاح الجنة فی الاعتصام بالکتاب والسنة ٣٤٤ مفحمات الاقران فی مبہمات القرآن ٣٤٥ -المقامات ٣٤٦ -مقاطع الحجاز ٣٤٧- الملتقط من الدرر الکامنة ٣٤٨- مناہل الصفا فی تخریج احادیث الشفا ٣٤٩ -المنتقی ٣٥٠- منتہی الامال فی شرح حدیث '' انما الاعمال '' ٣٥١- المنجلی فی تطور الولی ٣٥٢- المنحة فی السبحة ٣٥٣- من عاش من الصحابة مأة و عشرین ٣٥٤ من وافقت کنیتہ زوجتہ من الصحابة ٣٥٥ -منہاج السنة و مفتاح الجنة ٣٥٦ -المنی فی الکنی ٣٥٧ -المہذب فی ما وقع فی القرآن من المعرب ٣٥٨- میزان المعدلة فی شرح البسملة ٣٥٩ -نتیجة الفکر فی الجہر بالذکر ٣٦٠- نشر العبیرفی تخریج احادیث الشرح الکبیر ٣٦١ -نظم التذکرة ٣٦٢ -نظم الدرر فی علوم الاثر ٣٦٣ -النفحة المسکیة والتحفة المکیة ٣٦٤-النقایة فی اربعة عشر علماً ٣٦٥- النقول المشرقة فی مسألة الفقة ٣٦٦- النکت البدیعات ٣٦٧- النکت علی الالفیة والکافیة والشافیة والشذور والنزہة ٣٦٨-نکت علی حاشیة المطول لابن العقری ٣٦٩- نکت علی شرح الشواہد للعینی ٣٧٠ -نور الحدیقة ٣٧١ -الوافی فی مختصر التنبیہ ٣٧٢- الورقات المقدمة ٣٧٣- الوسائل الی معرفة الاوائل ٣٧٤ وصول الامانی باصول التہانی ٣٧٥- ہدم الجانی علی البانی ٣٧٦- ہمع الہوامع فی شرح جمع الجوامع ٣٧٧ -الہیّة السنیة فی الہیة السنیة ٣٧٨- الید البسطی فی الصلاة الوسطی - ٣٧٩ الینبوع فیما زاد علی الروضة من الفروع ۔

٤۔ رواةِ احادیث اور علمائے اہل سنت کے اسمائے گرامی

علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنے اس رسالہ میں جن جلیل القدر اور عظیم الشان راو یوں اور علمائے اہل سنت سے روایتیں نقل کی ہیں اگرچہ ان کے مختصر حالات کتاب کے حاشیہ میں نقل کردئے گئے ہیں لیکن یہاں قارئین کی آسانی کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے اسمائے گرامی ذیل میں یکجا نقل کئے جارہے ہیں:

راویوں کے اسمائ:

١۔سعید بن جبیر ٢۔ حضرت ابن عباس ٣۔ مطلب بن ربیعہ ٤۔ زید بن ارقم ٥۔ زید بن ثابت ٦۔ ابو سعید خدری ٧۔ حضرت ابو بکر صدیق ٨۔ حضرت امام حسن ـ ٩۔ حضرت علی ـ ١٠۔ عبد اﷲ ابن عمر ١١۔ جابر بن عبد اﷲ انصاری ١٢۔ عبد اﷲ ابن جعفر ١٣۔ سلمہ بن الاکوع ١٤۔ ابو ہریرہ ١٥۔ عبد اﷲ ابن زبیر ١٦۔حضرت ابوذر ١٧۔ حضرت فاطمہ الزہرا ١٨۔ حضرت عمر فاروق ١٩۔ انس بن مالک ٢٠۔ ابن مسعود ٢١۔ مطلب بن عبد اﷲ ٢٢۔ حکیم ٢٣۔ حضرت عثمان غنی ٢٤۔ زوجہ ٔ رسول حضرت عائشہ

علمائے اہل سنت کے نام:

١۔ سعید بن منصور ٢۔ ابن المنذر ٣۔ ابی حاتم ٤۔ ابن مردویہ ٥۔ طبرانی ٦۔ ترمذی ٧۔ امام احمد بن حنبل ٨۔ نسائی ٩۔ حاکم ١٠۔ مسلم ١١۔ عبد بن حمید ١٢۔ ابو احمد ١٣۔ ابو یعلی ١٤۔ امام بخاری ١٥۔ ابن جریر ١٦۔ عقیلی ١٧۔ ابن شاہین ١٨۔ خطیب ١٩۔ دیلمی ٢٠۔ حافظ ابو نعیم ٢١۔ باوردی ٢٢۔ ابن عدی ٢٣۔ ابن حبان ٢٤ ۔ امام بیہقی ٢٥۔ ابن ابی شیبہ ٢٦۔ مسدد ٢٧۔ بزار ٢٨۔ ابن عساکر.

٥۔حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ کی مختصر توثیق

حدیث ثقلین:

حددیث ثقلین کی ٣٤ صحابہ و صحابیات نے جناب رسولخداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے، اور دور تالیف سے آج تک ہر عہد کے علماء ،انہیں حدیث و سیرت و مناقب و تاریخ کی کتابوں میں درج کرتے چلے آئے ہیں:

١۔ حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلا م سے بزار، محب الدین طبری ،دولالی، سخاوی،سمہودی وغیرہ نے اپنی تالیفات میں حدیث ثقلین کو درج کیا ہے۔

٢۔ امام حسن ـسے،ابن قندوزی نے '' ینابیع المودة'' میں حدیث ثقلین کی روایت کی ہے ۔

٣۔سلمان فار سی سے بھی قندوزی نے حدیث ثقلین کی روایت کی ہے ۔

٤۔ حضرت ابوذرغفاری سے ( صحیح ترمذی )

٥۔ ابن عباس سے ( قندوزی)

٦۔ ابوسعیدی خدری (مسعود ی،طبری،ترمذی و غیرہ )

٧۔ جابر بن عبد اللہ انصاری (ترمذی ،ابن اثیر و غیرہ)

٨۔ ابوالہیثم تیہان(سخاوی وقندوزی)

٩۔ ابورافع(سخاوی وقندوزی )

١٠۔ حذیفہ یمان(، محب الدین طبری ،مودةالقربی)

١١۔ حذیفہ بن اسید غفاری(ترمذی،ابونعیم اصفہانی،ابن اثیر ،سخاوی و غیرہ)

١٢ ۔ خزیمہ بن ثابت (سخاوی ،سہمودی،قندوزی )

١٣۔ ابوہریرہ (بزار ، سخاوی،سہمودی)

١٤ ۔ زیدبن ثابت (احمدبن حنبل، محب الدین طبری، ابن اثیر و غیرہ)

١٥ ۔ عبد اللہ بن حنطب(طبرانی،ابن اثیر وغیرہ)

١٦۔ جبیربن مطعم(ابونعیم اصفہانی و غیرہ)

١٧ ۔ براا بن عازب ( ابو نعیم اصفہانی)

١٨۔ انس بن مالک ( ابو نعیم اصفہانی )

١٩ ۔ طلحہ بن عبید اﷲ بن تمیمی( قندوزی )

٢٠۔ عبد الرحمن بن عوف( قندوزی )

٢١۔ سعد بن وقاص( قندوزی )

٢٢۔ عمرو بن عاص ( خوارزمی )

٢٣۔ سہل بن سعد انصاری (سخاوی ، سمہودی )

٢٤ ۔ عدی بن حاتم( سخاوی ،سمہودی و غیرہ)

٢٥۔ عقبہ بن عامر (سخاوی وغیرہ )

٢٦۔ ابو ایوب انصاری ( سخاوی)

٢٧۔ شریح خزاعی( سخاوی ، سمہودی و غیرہ)

٢٨۔ ابو قدامہ انصاری( سخاوی وغیرہ )

٢٩۔ ضمیرہ ٔ اسلمی( سخاوی وغیرہ)

٣٠۔ ا بو لیلی انصاری ( سخاوی ، سمہودی ، قندوزی )

٣١۔ حضرت فاطمہ الزہرا ( قندوزی )

٣٢۔ ام المومنین ام سلمہ( سخاوی س،سمہودی )

٣٣۔ ام ہانی بنت ابو طالب( سخاوی، سمہودی وغیرہ )

٣٤۔ زید بن ارقم ( صحیح مسلم ،مسند احمد بن حنبل ، کنزالعمال ۔ سیوطی؛ در منثور،ترمذی)

حدیث ثقلین پرعلامہ ابن حجر ہیثمی کی ایک نظر :

سمی رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وآله وسلم ، القرآن وعترته ،وهی الاهل والنسل والرهط الادنون، ثقلین، لان الثقل کل نفیس خطیر مصون، وهٰذان کذلک، اذ کل منهما معدن للعلوم اللُّدنیّة والاسراروالحکم العلیة والاحکام الشرعیة ، ولذا حثصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی الاقتداء والتمسک بهم

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن وعترت کو جو کہ آپ کے اہل ونسل و قریب تر لوگ ہیں ، ثقلین فرمایا ، اس لئے کہ ثقل '' ہر نفیس و گرانقدر شۓ کو کہتے ہیں" - اور یہ دونوں اسی طرح ہیں بھی- کیونکہ یہ دونوں علوم لدنی ، بلند اسرار و حکم اور احکام شرعی کے معد ن ہیں ، اسی لئے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے تمسک اور ان کی اقتداء کا حکم فرمایا ہے ۔(١)

حدیث سفینہ:

اس حدیث کوامام احمد بن حنبل ، امام مسلم ، ابن قتیبہ دینوری، بزار ، ابو یعلی موصلی ، طبری ، صولی صاحب کتاب الاوراق ، ابوالفرج اصفہانی ، طرانی، حاکم نیشاپوری ، ابن مردویہ اصفہانی ، ثعلبی ، ابو نعیم اصفہانی، ، ابن عبد البر ، خطیب بغدادی ، ابن مغازلی ، سمعانی ، فخر الدین رازی ، سبط ابن جوزی، محمد بن یوسف گنجی ، شہاب الدین حلبی ، نظام اعرج نیشاپوری، خطیب تبریزی ، طیبی شارح مشکاة، جمال الدین زرندی ، شہاب الدین قندوزی ،حموی جوینی ، ابن صباغ مالکی ، علی قاری اور عبد الرؤوف مناوی وغیرہ نے اپنی تالیفات میں درج کیا ہے ۔

___________________

(١) علامہ ابن حجر ہیثمی مکی؛الصواعق المحرقة، ص٧٥.

قارئین کرام ! مقدمۂ کتاب کے طولانی ہونے کی بنا پر آپ سے بیحد معذرت خواہ ہیں، چونکہ اس کتاب سے مربوط کچھ مطالب ایسے تھے کہ جن کی وجہ سے ضرورت اس بات کی محسوس ہورہی

کہ مقدمہ میں ان پر قدرے روشنی ڈالی جائے ،بہر حال اس کتاب کا پہلی دفعہ اردو ترجمہ دو بزرگ اساتذہ کی تحقیق و تصحیح کے ساتھ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے ، امید ہے کہ مؤمنین اس سے کما حقہ فائدہ اٹھا تے ہوئے ناچیز کو دعائوں میں یاد رکھیں گے، آخر میں ہم خدا وند متعال کی بارگاہ اقدس میں دست بہ دعا ہیں کہ تا دم آخر قرآن اور اہل بیت (ع) کا دامن ہمارے ہاتھوں سے نہ چھوٹنے پائے۔ (آمین)

والسلام

مترجم: محمد منیر خان لکھیم پوری ہندی

گرام و پوسٹ بڑھیا ّ،ضلع کھیری لکھیم پور

یوپی ۔ ہندوستان

١٨ ذی الحجہ(بروز عید سعید غدیر)

مطابق ٢٩ جنوری ٢٠٠٥ ء بروز شنبہ

مقیم حال : قم مقدس ، جمہوری اسلامی ایران

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ وسلام علی عباده الذین اصطفی

هذه ستون حدیثا اسمیتها :'' اِحْیائَُ الْمَیْتْ بِفَضَائِلِ اَهْلِ الْبَیْتْ''.

تما م تعریفیں خدا وند متعال سے مخصوص ہیں ، اور سلام ہو اس کے برگزیدہ بندوں پر۔

یہ ساٹھ عدد حدیثیں ہیں جن کے مجموعہ کا نام میں نے''احیاء ا لمیت بفضائل اہل البیت(ع)''(فضائل ِاہل بیت سے احیاء میت)رکھا ہے ۔

پهلی فصل

{صلوات کے بعض فوائد}

۱. صدائے خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لبیک هے صلوات

پروردفار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا هے:( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۱) بیشک الله اور اس کے ملائکه رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجتے هیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی صلوات بھیجتے رهو اور سلام کرتے رهو محمد و آل محمد علیهم السلام پر۔

سب سے پهلے اس چیز کو طے کرتے هیں که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے معنی کیا هیں:

روایات میں اس امر کی تاکید ملتی هے که اگر خدا صلوات بھیجے تو اس کا مطلب رحمت هے، ملائکه بھجیں تو تذکیه هے، مومنین بھیجیں تو اس کا مطلب دعا هے۔

پس اگر خدا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجے تو اسکے معنی هیں که: خدایا همارے لئے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے حقائق کو ظاهر کر اور انکے مراتب کو واضح کر۔

اور اگر ملائکه علیه السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں: محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے مراتب کی تقدیس و تذکیه؛ اور مومنین محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں:هم اپنی جگه سے بلند هو جائیں اور ان سے ملحق هو جائیں یعنی گویا یه کهتے هیں که خدایا میں محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هوں تاکه میں ان کے ساتھ هو سکوں، انکی پیروی کر سکوں، انکے اخلاق و صفات سے مزین هو سکوں تاکه ظلمات و گمراهی سے باهر نکل سکوں؛ اس لئے که گمرای سے نجات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے ممکن هے۔

اگر هم قرآن مجید پر غور کریں تو پته چلے گا که خداوند عالم نے فرمایا هے:( یا ایها الذین آمنوا ) اے ایمان والو!؛ تو ه ان لوگوں کے لئے دعوت هے جو صفت ایمان سے متصف هو چکے هیں که وه اگر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق کو ادا کرنا چاهتے هیں تو صلوات پڑھیں۔

لهذأ اب اگر کوئی انسان نماز میں یا نماز کے علاوه کسی اور مقام پر صلوات بھیجتا هے تو گویا وه صدائے پروردگار پر لبیک کهتا هے؛ اور اسی طرح سے خود نبی اور ملائکه اور ائمه معصومین علیهم السلام نے بھی صلوات کے سلسله میں مومنین کو کافی تاکید کی هے چونکه آخرت میں شرف و عزت اور مقام بلند و بالا صلوات کے ذریعه سے حاصل هوگا۔

بعض مومنین ایسے هیں که جو صلوات کے ذریعه سے آخرت میں ثواب کے متمنی هیں یا دنیا میں یه چاهتے هیں که انکی حاجتیں پوری هوجائیں اور انھیں رزق حاصل هو اور ان میں سے بعض وه هیں که جو اس غرض سے صلوات پڑھتے هیں که اس کے ذریعه سے حکم پروردگار عالم کا امتثال(انجام دهی) کیا جا سکے اور وه کسی بھی قسم کی جزا کے متمنی نهیں هیں۔

پس وه دعوت جو پروردگار عالم نے صلوات کے ذریعه سے دی هے، یا جو حکم پروردگار نے اس کے سلسله سے دیا هے جب وه پورا هوجائے اور اسے انجام دے دیا جائے تو پروردگار عالم بھی اپنے بندوں کو جزائے خیر سے نوازتا هے اور انکی حاجتوں کو پورا کرتا هے۔

جو آیت اوپر گذری هے اس میں بهت سے اسرار هیں اگر ان میں سے کچھ کو جاننا چاهیں تو احادیث و روایات ائمه معصومین علیهم السلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ ایک روایت میں هے که ایک شخص امام صأدق علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور آپ سے کها که قرآن مجید کهه رها هے که( ’’یسبحون اللیل والنهار لا یفترون ) (۲) ؛ دن رات اسکے تسبیح کرتے هیں اورسستی کا بھی شکار نهیں هوتے هیں اور دوسری آیت میں هے:’’( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۳) پس یه دونوں چیزیں کیسے ممکن هیں که فرشتے صبح و مساء تسبیح بھی کرتے رهتے هیں، ایک لمحه کے لئے تسبیح پروردگار سے غافل بھی نهیں هوتے، تسبیح ترک بھی نهیں کرتے اور محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھی بھیجتے هیں؟؟؟!!

تو امام صادق علیه السلام جواب دیتے هیں:’’جب پروردگار عالم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خلق فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا که جتنا وقت صلوات بھیجنے میں لگتا هے اتنا میرے ذکر میں سے کم کرو ؛ پس اگر کوئی انسان نماز میں یه کهے که صل الله علی

محمد؛ تو گویا یه ایسا هے که اس نے کها هو ’’سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر ‘‘(۴)

ایک روایت یه بھی کی گئی هے که سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کسی نے پوچھا که اس آیت( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) کا کیا مطلب هے۔؟؟؟

تو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’یه شئ علم مکنون(مخفی علم) میں سے هے اور اگر تم اس کے بارے میں سوال نه کرتے تو میں بتاتا بھی نهیں، پروردگار عالم نے میرے لئے دو فرشتوں کو مقرر کیا هے که جب بھی مجھے کوئی مسلم یاد کرکے میرے اوپر صلوات بھیجتا هے تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که پروردگار تیری مغفرت کرے تو پروردگار اور اس کے دیگر فرشتے آمین کهتے هیں اور جب کسی مقام پر میرا تذکره هوتا هے اور کوئی میرے اوپر صلوات نهیں بھیجتا تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که خدا تیری مغفرت نه کرے تو خدا اور اسکے فرشتے آمین کهتے هیں۔(۵)

اور اسی طرح سے ایک روایت جناب علامه مجلسیؒ نے اپنی کتاب بحار میں امام صادق علیه السلام سے نقل فرمائی هے که امام علیه السلام اپنے آباء و اجدادسے اور وه امیرالمومنین علیه السلام سے نقل فرماتے هیں که مولائے کائنات علیه السلام نے اس یهودی کے جواب میں فرمایا جس نے آپ سے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فضیلت تمام انبیاء پر دریافت کی؛ یهودی کهتا هے که پروردگار عالم نے جناب آدم علیه السلام کے لئے فرشتوں سے سجده کرایا تو مولائے کائنات علیه السلام نےفرمایاکه پروردگار نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بھی بهتر شئ عطاکی هے وه یه هے که پروردگار رب العزت نے خود سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجی هے اور فرشتوں کو حکم دیا هے که ان پر صلوات بھیجیں اور تمامی مخلوقات کو اس بات کا حکم دیا هے که ان کی ذات مقدسه پر قیامت تک صلوات بھیجیں ؛ پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) پس اگر کوئی بھی سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات طیبه میں یا بعد وفات صلوات بھیجتا هے تو پروردگار عالم اس کے اوپر دس مرتبه صلوات بھیجتا هے اور هر صلوات کے بدله میں دس نیکیاں عطا کرتا هے اور اگر کوئی سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ان پر صلوات بھیجتا هے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی خبر هوتی هے اور وه اس کو ویسی هی اس کے سلام کا جواب بھی

دیتے هیں اس لئے که پروردگار عالم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت کی دعا کو اس وقت تک قبول نهیں فرماتا جب تک که وه آپ پر صلوات نه بھیجیں لهذأ یه فضیلت تو اس سے بھی افضل و اعظم هے جو که جناب آدم علیه السلام کو دی گئی هے۔(۶)

۲. صلوات حسنات و درجات میں اضافه کا سبب هے

سوال یه هے که صلوات کے ذریعه سے حسنات و درجات میں اضافه کیسے هوتا هے؟

اس کے جواب میں هم یه کهه سکتے هیں که والله العالم هر ذکر کی یه خاصیت هوتی هے که جب بھی انسان اس ذکر کو بجالاتا هےتو اس کے درجات بلند هوتے هیں، حسنات میں اضافه هوتا هے اور اس طرح سے همارا محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا گویا ایسا هے جیسے هم خدا کی عباست کررهے هوں، اسکا ذکر کیا هو، اور حکم پروردگار عالم کو انجام دیا هو۔

ایک حدیث سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں نقل هوئی هےکه آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر میرا امتی مجھ پر ایک مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے لئے دس( ۱۰) نیکیاں لکھی جاتی هیں اور دس گناه محو(مٹا) کر دیئے جاتےهیں۔‘‘

اسی طرح حضرت سے یه بھی روایت نقل کی گئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’جب میں شب معراج آسمان پر پهنچا تو میں نے ایک فرشته کو دیکھا که جس کے هزار هاتھ تھے اور هر هاتھ میں هزار انگلیاں تھیں جو که حساب و کتاب میں مشغول تھا تو میں نےجبرئیلؑ سے سوال کیا که یه فرشته کون هے؟ اور یه کیا شمار کر رها هے؟ تو جبرئیل نے جواب دیا که اس فرشته کو اس امر په مقرر کیا گیا هے که وه بارش کے قطرات کو شمار کرے که آسمان سے بارش کے کتنے قطرے زمین پر گرتے هیں۔پھر میں نے اس فرشته سے کها که: کیا تم جانتے هو که جب پروردگار رب العزت نے اس دنیا کو خلق فرمایا هے تب سے لیکر آج تک کتنے قطرے زمین پر گرے ؟ تو اس فرشته نے جواب دیا که یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس خدائے وحده لا شریک کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس دنیا میں بھیجا هے آپ نے جو کها میں اس کو بھی جانتا هوں اور یه بھی جانتا هوں که کتنے قطرے آبادی میں گرے اور کتنے صحراء میں اور کتنے باغات میں گرے اور کتنے بنجر زمین پر اور کتنے قطرے قبروں (قبرستانوں) پر گرے هیں؛ تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: که مجھے اس فرشته کے حساب وکتاب اور اس کے حافظه پر تعجب هوا، فرشته کهتا هے یا رسول

اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یه حق هے که مجھے یه سب یاد هے اور میرے اتنے هاتھ اور اتنی انگلیاں هیں لیکن اس کے باوجود ایک چیز ایسی هے جس کے حساب سے میں عاجز هوں که میں اس کا حساب نهیں لگا سکتا، تو میں نے کها: وه کون سی چیز هے ؟ تو فرشه نے جواب دیا که جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے امتی کسی مقام پر جمع هوتے هیں اور(وهاں پر) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تذکره کرتے هیں اور جیسے هی انکے سامنے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نام آتا هے تو وه (سب مل کر) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی پر صلوات بھیجتے تو میں انکے ثوابکو شمار نهیں کر پاتا۔!‘‘(۷)

۳. صلوات تکمیل نماز کی باعث هے

یعنی جب تک نماز میں صلوات نه بھیجی جائے نماز مکمل نهیں هوتی۔

روایت میں اس طرح وارد هوا که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کی تکمیل کا باعث(یعنی بغیر صلوات نماز نامکمل هے)؛ جس طرح سے روزه بغیر زکات(فطره) کے نامکمل هے اور اگر کوئی عمداً زکات فطره ادا نه کرے اس کا روزه قابل قبول نهیں هے اسی طرح سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کا اهم جزء هے که جسکی ادائگی کے بغیر نماز نامکمل هے، اس لئے که اگر کسی شخص نے نماز تو ادا کی لیکن عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجی تو گویا اس کی نماز هی نهیں هوئی؛ اور ایسی صورت میں نماز قابل قبول نهیں هے اور اس کی(صلوات) تاکید امام صادق علیه السلام کی اس روایت سے هوتی هے که آپ علیه السلام نے فرمایا:’’روزه زکات فطره کی ادائگی سے مکمل هوتا هے جس طرح نماز محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات سے مکمل هوتی هے، پس اگر کوئی شخص روزه رکھے اور عمداً زکات فطره ادا نه کرے تو اس کا روزه قابل قبول هی نهیں هے اسی طرح سے اگر کوئی نماز پڑھے اور عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجے تو اس کی نماز قابل قبول نهیں هے۔!‘‘(۸)

اور ایک روایت یوں بھی هے که امام زین العابدین علیه السلام سے کسی نے سوال که نماز کیسے مکمل هوتی هے تو آپ علیه السلام نے فرمایا: ’’محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه۔‘‘(۹)

۴. صلوات سنگینی میزان کا باعث هے

روایات میں وارد هوا که میزان اعمال میں سب سے سنگین شئ جو هوگی وه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی۔

ایک حدیث میں هے که: قیامت کے دن ایک شخص کو جهنم میں جانے کا حکم دیا جائگا تووه کهے گا که میری شفاعت کریں تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کهیں گے که اس کو دوباره میزان کی طرف لے جاؤ اور جب وه میزان کی طرف پلٹایا جائےگا تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میزان پر چونٹی جیسی کوئی شئ رکھیں گے اور وه شئ محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی اور اس کا میزان اس کی نیکیوں (محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات) کی بنا پر سنگین هو جائے گااور ایک آواز آئے گی فلاں شخص کامیاب هو گیا۔

اسی طرح سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایکی روایت نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میں روز قیامت میزان کے پاس هوں گا تاکه اگر کسی کے گناه اس کی نیکوں پر غالب آجائیں (یعنی گناه زیاده هوئے) تو میں اس کی نیکیوں میں صلوات کا اضافه کر دوں گا که جس سے اس کی نیکیاں اور حسنات زیاده هو جائیں گی اور اس صلوات کی وجه سے اسکے حسنات کا پلڑا وزنی هو جائے گا۔‘‘

ایک اور روایت میں سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےماه رمضان المبارک کے استقبال میں خطبه ارشاد فرمایا اور اس میں بیان کیا که:’’اگر کوئی شخص ماه رمضان میں میرے اوپر صلوات بھیجے گا تو جس دن(روز قیامت) تمام افراد کے میزان هلکے هوں گے ا دن اس کا میزان وزنی هوگا۔(یعنی جس دن لوگوں کے گناه انکے میزان میں زیاده هوں گے اس دن اس شخص کے میزان اعمال میں نیکیاں زیاده هوں گی اور اس کا نیکیوں والا پلڑا گنا ه والے پلڑے سے وزنی هوگا۔‘‘

۵. صلوات سب سے اٖفضل عمل هے

مستحب اعمال و اذکار کی فهرست بهت طولانی هے اور انھیں اذکار میں سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا بھی هے؛یهاں تک که روایات میں وارد هوا هے که هر جگه اور هر وقت صلوات بھیجا مستحب هے، یهاں تک که جب انسان گھر سے نکل رها هو یا داخل هو رها هو تو اس وقت بھی صلوات بھیجنا مستحب هے۔ اس لئے که جو امتیاز اور خصوصیت صلوات میں هے وه کسی ذکر میں نهیں هے۔

ایک روایت میں هے که ایک شخص طواف کر رها تھا اور اپنے طواف کو مکمل کرنے کے بعد امام علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میں نے ذکر صلوات کے علاوه کوئی بھی ذکر ادا نهیں کیا تو امام علیه السلام نے فرمایا که کیا ذکر صلوات سے بھی افضل کوئی ذکر هے۔!

عبد السلام بن نعیم روایت نقل کرتے هیں که میں نے امام صادق علیه السلام سے کها که میں خانه خدا میں طواف کے لئے داخل هوا تو اس وقت سوائے ذکر صلوات کے مجھے کچھ اور یاد نهیں تھا تو امام علیه السلام نے فرمایا که تو سب سے افضل ذکر بجالایا هے۔

ایک عظیم مجتهد و مرجع جب فقهی بحث کے دوران اس حدیث سے گذرتے هیں تو کهتے هیں که اس حدیث کے سبب سے میں یه فتوی دیتا هوں که سب سے افضل عمل اور سب سے افضل ذکر اور سب سے افضل مستحب عمل، محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے اور یه ذکر اکسیر اعظم هے۔(۱۰)

اسی طرح ایک روایت سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سےنقل هوئی هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میں نے خواب میں دیکھا که میں اپنے چچا جناب حمزه بن عبد المطلبؑ اور اپنے بھائی جعفر بن ابی طالبؑ کے ساتھ هوں اور انکے سامنے ایک ظرف میں بیر رکھی تھی، کچھ دیر اس کو کھاتے رهے پھر وه بیر انگور میں تبدیل هو گئی اور اسے بھی کچھ دیر کھاتے رهے پھر هر انگور انکے لئے کھجور میں تبدیل هو گیا اور اسے بھی کچھ دیر تک کھاتے رهے تو میں انکے قریب گیا اور ن سے کها که آپ کو میرے بابا کا واسطه یه بتائیں که آپ نے کس عمل کو سب سے افضل پایا؟ تو انھوں نے کها که همارے آباء و اجداد آپ پر فدا هوں سب سے افضل عمل آپ پر صلوات بھیجنا هے، اور پانی پلانا اور محبت علی بن ابی طالب علیهما السلام۔‘‘(۱۱)

سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک روایت نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مولائے کائنات علیه السلام سے فرمایا که:

’’اے علیؑ کیا آپ کو معلوم هے که جس رات میں آسمان پر گیا تو آپ کے بارے میں ملأ اعلی میں کیا سنا؟! اے علیؑ میں نے سنا که اهل آسمان خدا کو آپ کی قسم دے رهے تھے اور آپ کے واسطه اور وسیله سے اپنی حاجتوں کو طلب کر رهے تھے اور آپ کی محبت کے ذریعه سے تقرب الهی کے خواهاں تھے اور سب سے بهتر چیز جس کے ذریعه سے وه خدا کی عبادت کر رهے تھے وه همارے اور آپ کے اوپر صلوات تھی۔‘‘(۱۲)

اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں یه حدیث کتنی عظیم هے اور اس کے ذریعه سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مولائے کائنات علیه السلام کی عظمت واضح هوتی هے، پس همارے لئے ضروری هے که هم مولائے کائنات علیه السلام کے ذریعه سے پروردگار رب العزت سے سوال کریں که پروردگار همیں مولاؑ کے شیعه اور موالی میں قرار دے۔

ایک اور روایت میں هے که ایک شخص نے امام صادق علیه السلام سے پوچھا که سب سے افضل عمل کیا هے؟ تو آپ نے فرمایا:’’محمدؐ و آل محمد علیهم السلامپر سو مرتبه نماز عصر کے بعد صلوات بھیجنا سب سے افضل عمل هے؛ اور جتنا زیاده صلوات پڑھ سکتے هو اتنا بهتر هے۔‘‘

هو سکتا هے کوئی یهاں پر یه کهے که افضل اعمال کو کیسے معین کیا جائے؛ اس لئے که ایسی روایتیں بهت سی هیں جس میں الگ الگ چیزوں کو افضل عمل بتایا گیا هے۔

مثلاً ایک حدیث میں رسول اسلام سے اس طرح منقول هے که سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میری امت کا سب سے افضل عمل امام عصر علیه السلام کا انتظار هے۔‘‘(۱۳)

دوسری روایت میں سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس طرح سے نقل کیا گیا هے که ’’افضل عمل ورعحرام سے اجتناب) هے۔‘‘(۱۴) اور بعض روایتوں میں اس طرح سے نقل هے که ابن عباس نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا که افضل عمل کیا هے؟ تو سرکار نے جواب دیا جس میں سختی اور مشقت زیاده هو۔(۱۵) اسی طرح امام صادق علیه السلام سے روایت هے که جس میں آپ علیه السلام نے فرمایا:’’سب سے افضل عمل امام حسین علیه السلام کی زیارت هے۔‘‘(۱۶)

اور ایک روایت امام محمد تقی علیه السلام سے هے که جس میں آپ سے سوال کیا گیا که امام رضا علیه السلام کی زیارت افضل هے یا امام حسین علیه السلام کی؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا کی زیارت زیاده با فضیلت هے اور وه اس لئے که ابو عبد الله الحسین علیه السلام کی زیارت تمامی لوگ کرتے هیں، لیکن میرے بابا کی زیارت فقط مخلص شیعه هی کرتے هیں(یا فقط خاص شیعه هی کرتے هیں)۔‘‘(۱۷)

تو اس کا جواب یه هے که یه سارے اختلافات جو حدیث میں موجود هیں ان سب کاتعلق خودِ اس عمل هے اور اس عمل سے هے جو اس شئ سے متعلق هے۔

مثلاً انتظار فرج که جسے افضل عمل بتایا گیا وه اس زمانه غیبت اما م علیه السلام میں عملی لحاظ سے (یعنی غیبت کے زمانه میں سب سے افضل عمل انتظار فرج هے) اور ورع کو سب سے افضل قرر دیا گیا هے اعمال کے نتائج کے لحاظ سے ، اس لئے که برے اعمال کا نتیجه بهت سخت هوگا۔

اور یه جوذکر هوا که جس عمل میں زیاده مشقت و دشواری هو وه زیاده با فضیلت هے تو وه اس لئے هے که انسانی اعمال کو مد نظر رکھتے هوئے کها گیا هے انسانی اعمال کی به نسبت جن اعمال میں مشقت زیاده هو وه افضل هے۔

اور امام حسین علیه السلام کی زیارت ان سب سے زیاده افضل هے کیوں که آپ اور آپکے اهلبیت کو بے دردی کے ساتھ شهید کیا گیا۔

اور زیارت امام رضا علیه السلام سید الشهداء کی زیارت سے اس وجه سے افضل هے چونکه امام حسین علیه السلام کی زیارت کرنے والے بهت لوگ هیں لیکن امام رضا علیه السلام کے زوّار کی تعداد کم هے تو ائمه معصومین علیهم السلام نے یه سوچا که لوگوں کو زیارت امام رضا علیه السلام کی طرف متوجه کریں۔

اور اس تحریر و بیان کے بعد یه بات واضح هو جاتی هے که کیا سبب هے که محمد ؐو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات سب سے افضل و با فضیلت عمل هے اور وه سبب یه هے که صلوات سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اور انکے اهلبیت علیهم السلام سے رابطه هے، اس لئے که صلوات عبد و معبود کے درمیان ایک طرح کا رابطه هے، چونکه صلوات دعا و مناجات هے، هم صلوات میں کهتے هیں: اللهم، اوراس کی اصل هے ’’یا الله‘‘، اور اس کے معنی یه هوئے که پروردگار محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر رحمت نازل کر اور انکے ذکر کو بلند کر....

اور اس کے بعد محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اس رابطه و محبت و ولاء کو ظاهر کرتی هے جو انسان اور محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے درمیان هے ، یعنی صلوات انسان کی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام سے محبت و ولاء کی دلیل هے۔

۶. صلوات گناهوں کا کفاره هے

انسان چونکه معصوم نهیں هے لهذ گناه کرتا هے، پروردگار قهار کی معصیت کرتا رهتا هے لهذأ اس کے نامه اعمال میں گناه بهت هیں۔ اور هو سکتا هے که اتنے زیاده گناه هوں که جنکی تلافی انسان کے لئے ممکن نه هو، لیکن سب سے آسان و بهتر طریقه گناهوں کی معافی کا اور گناهوں کا کفاره محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات هے۔

اور اس سلسله میں امام رضا علیه السلام سے روایت بھی موجود هے که اگر کوئی انسان گناهوں کے کفاره کے قدرت نه رکھتا هو تو زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجے، کیونکه صلوات گناهوں کو منهدم کر دیتی هے۔(۱۸)

اور اسی ضمن میں ایک روایت مولائے کائنات علیه السلام سے بھی هے که جس میں آپ نے فرمایا:’’که جتنی جلدی پانی آگ کو خاموش کردیتا هے اس سے بھی تیز صلوات گناهوں کو محو کردیتی هے۔‘‘(۱۹)

اور ایک روایت سرکار دو عالم سے بھی هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپرایک مرتبه بھی صلوات بھیجتا هے تو اس کے گناه ختم هو جاتے هیں(یعنی ذره برابر بھی اس کے گناه باقی نهیں ره جاتے۔)‘‘(۲۰)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که’’اگر کوئی انسان مجھ پر صبح میں دس مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے چالیس سال کے گناه معاف هو جاتے هیں۔‘‘(۲۱)

اور ایک دوسری روایت میں کچھ اس طرح سے ذکر هے که:’’اگر کسی شخص نے میری محبت میں دن میں تین مرتبه مجھ پر صلوات بھیجاتو پروردگار عالم کے اوپر اس کا حق یه هے که اس کے اس دن و رات کے گناهوں کو معاف کر دے۔‘‘(۲۲)

جناب محمد نوریؒ فرماتے هیں که بلاواسطه جناب شیخ زین الدین نے نقل کیا هے که میں نے خواب میں امام زین العابدین علیه السلام کو دیکھا تو زاد آخرت کے سلسله میں شکوه کیا که اس کا انتظام کیسے کیا جائے؟ توبه و استغفار کی توفیق کیسے حاصل هو ؟ اعمال صالحه کیسے بجا لائے جائیں؟ تو امام سجاد علیه السلام نے جواب دیا که تمهاری ذمه داری هے که تم زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اور هم اس کا عوض قیامت کے دن تم کو عطا کریں گے۔(۲۳)

ایک بهترین واقعه

ایک خاتون کا انتقال هوا اور وه گنهگار تھی اور اس کی قبر میں اس پر عذاب هوتا هے، لیکن بعض اولیاء اور صلوات پڑھنے والے لوگ قبرستان میں داخل هوئے اور اس کی قبر تک پهنچے اور صلوات بھیجا’’اللهم صل محمد و علی آل محمد ‘‘،تو انھوں نے خواب میں اس خاتون کو دیکھا که وه یه خوش خبری دے رهی تھی که ولو یه که عذاب بهت هی سخت تھا لیکن جیسے هی محمدو آل محمد علیهم السلام کا ذکر هواتو نداء آئی که اب اس پر عذأب نه کرو؛ کیا محمد و آل محمد علیهم السلام کا ذکر نهیں هوا!؟(۲۴)

پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکے اهلبیت علیهم السلام تمام عالمین اور ساری بشریت کے لئے رحمت بن کر آئے هیں؛پس هم اپنی ولایت اور طاعت اهلبیت علیهم السلام سے اور انکے دشمنوں کی برأت کے ذریعه سے دنیا و آخرت میں کامیاب هوکر بارگاه رب العزت سے قریب هو سکتے هیں اور فقط اتنا هی نهیں هے بلکه وه صلوات که جسے هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر بھجتے هیں پروردگار عالم نے اسے همارے گناهوں کا کفاره قراردیا هے اور اسے هماری طهارت کی دلیل بنائی هے جیسا که زیارت جامعه میں ذکر هے جو که امام علی نقی علیه السلام سے نقل هوئی هے...

پس همارے لئے ضروری هے که هم هر وقت اور هر جگه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں۔

۷. صلوات محبت و قرب پروردگار اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کیئے هوئے سلام کے جواب کا ذریعه هے

صلوات انسان کی روحی طهارت کا سبب بھی هے، اور وه لوگ جو که پاک هیں وهی بارگاه خداوندی سے نزدیک هیں که پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ يُحِبُّ اَلتَّوّابِينَ وَ يُحِبُّ اَلْمُتَطَهِّرِينَ ) (۲۵) خداوند توبه کرنے اور پاکیزه رهنے والوں کو دوست رکھتاهے۔

اور کتاب وسائل الشیعه میں امام علی نقی علیه السلام سے ایک روایت هے که آپ نے فرمایا:’’پروردگار عالم نے جناب ابراهیم علیه السلام کو خلیل اس لئے بنایا که وه محمد و آل محمد علیهم السلام پر بهت صلوات پڑھتے تھے۔‘‘(۲۶)

اور جناب عمار یاسر نقل فرماتے هیں که میں نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرماتے سنا هے که ایک فرشته کو ان تمام مخلوقات کے اسماء دے دئے گئے هیں اور جب میں اس دنیا سے رخصت هو جاؤں گا تووه فرشته قیامت تک میری قبر پر هوگا، اور جب بھی کوئی مجھ پر صلوات پڑھے گا تو وه فرشته مجھے خبر دے گا که فلاں بن فلاں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایسے ایسے صلوات پڑھی هے ؛ اور میرے خدا نے اس بات کی ذمه داری لی هے که وه اس عبد پر هر صلوات کے بدلے دس مرتبه صلوات بھیجے(یعنی رحمت نازل کرے)؛(۲۷) اور جب بھی کوئی انسان سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کرتا هے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کا جواب دیتے هیں اور سرکار ختمی مرتبت کے سلام سے افضل کس کا سلام هوگا اوروه پروردگار کے سفیروں میں سب سے نزدیک ترین سفیر هیں۔

جیسا که ایک روایت محمد بن مروان سے نقل هوئی هے که امام صادق علیه السلام نے فرمایا:’’پروردگا ر عالم نے ظهیللنامی ایک فرشته قبر سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرمقرر کیا هے که جس کا کام یه هے که جب بھی تم میں سے کوئی انسان سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام بھیجتا هے تو وه فرشته سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کهتا هے که یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فلاں شخص نے آپ پر صلوات پڑھی هے اور سلام بھیجا هے تو امام علیه السلام کهتے هیں که نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کا جواب بھی دیتے هیں۔‘‘(۲۸)

۸. صلوات تاریکوں سے نکل کر نور کی طرف جانے کا ذریعه هے

بهت سی تاریکیاں ایسی هیں که جن میں انسان مبتلاء هے،گرفتار هے اور جس سے نجات بهت مشکل هے؛ مثلاً شیطانی افکار، برے اخلاق کی تاریکی،گناه کی تاریکی، اس لئے که انسان سے جب بھی کوئی گناه سرزد هوتا هے تو وه اس کے نامه اعمال کو سیاه کر دیتا هے اور اس کے دل کو بھی سیاه و تاریک کر دیتا هے؛ گویا انسان کا قلب ایک ورق کی مانند هے که انسان جتنا زیاده سےزیاده گناه کرتا هے وه ورق بھی اتنا هی سیاه هوتا جاتا هے۔

اور پروردگار عالم نے اپنے لطف و کرم و احسان سے همارے لئے ایک راسته ایسا بنایا هے که جس سے هم تاریکوں سے نکل سکتے هیں اور وه وسیله و راسته محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے۔

جیسا که ایک روایت وارد هوئی هے که جناب اسحاق بن فروغ سے امام صادق علیه السلام فرماتے هیں که’’سے اسحاق بن فروغ اگرکوئی شخص دس مرتبه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هے تو خدا اور اسکے فرشتے اس کے اوپر هزار مرتبه صلوات بھیجتے هیں که تم نے پروردگار عالم کا یه فرمان نهیں سنا( هُوَ اَلَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ اَلظُّلُماتِ إِلَى اَلنُّورِ وَ كانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً ) (۲۹) وہی وہ ہے جو تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی منزل تک لے آئے اور وہ صاحبان ایمان پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

تو اس حدیث کا مطلب یه هے که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے والے کی شان عظیم هے اور وه یه هے که خود خدا اور ملائکه صلوات بھیجتے هیں اور جس کے اوپر خدا صلوات بھیجے قطعاً اسے تاریکیوں سے باهر نکال دے گا۔

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میرے اوپر زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اس لئے که میرے اوپر صلوات قبر و صراط و جنت کا نور هے۔‘‘(۳۰)

اور ایک روایت میں هے که سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپر صلوات پڑھتا هے تو پروردگار اس

کے سر پر دائیں جانب، بائیں جانب اور اوپر، نیچے نور خلق فرماتا هے بلکه اس کے هر عضو کے لئے نور خلق کر دیتاهے۔‘‘(۳۱)

۹. صلوات نفاق کے خاتمه کی باعث هے

محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کی ایک خصوصیت یه بھی هے که وه نفاق کو ختم کر دیتی هے، اس لئے که صلوات یعنی سرکاردوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اهلبیت علیهم السلام سے اعلان محبت و ولاء هے چونکه منافق یا صلوات نه پڑھے گا یا ایسی صلوات پڑھے گا جو فائده بخش نه هوگی (یعنی ایسی صلوات ناقص هوگی) اس لئے که وه یه نهیں چاهتا که نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل نبی علیهم السلام کا ذکر عام هو، لهذأ وه ان عظیم هستیوں پر صلوات نهیں بھیج سکتا اور اس سلسله میں سرکار ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت بھی نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اپنی آوازوں کو صلوات کے وقت بلندکرو(یعنی بلند آواز سے صلوات پڑھو) چونکه یه عمل نفاق کو ختم کرتا هے۔‘‘(۳۲)

۱۰. صلوات شیطان سے دوری کی باعث هے

هر وه شئ شریر و قبیح که جس کا تعلق جن و انس سےهو وه شیطان هے اور قرآن و حدیث اهلبیت علیهم السلام میں زیاده تر اس لفظ کا استعمال ابلیس واعوان و انصار و ذریت ابلیس کے لئے هوا هے جو که انسان کے بدن میں خون کی طرح سے دوڑتا هے اور بهترین طریقه شیطان کو دور کرنے کا محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

جیسا که سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که ’’شیطان دو طرح کے هیں : ایک جن کا تعلق صنف جن سے هے جو که ذکر(لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم ) کے ذریعه سے دور هوتاهے اور دوسرا وه هے که جس کا تعلق صنف انسان سے هے که جو محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کے ذریعه سے دور هوتا هے۔‘‘(۳۳)

اسی طرح ایک اور روایت سرکار ختمی مرتبت سے هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’واما نفثاته(یعنی شیطان)‘‘ کیا تم جانتے هو که قرآن مجید کے بعد همارے ذکر کے علاوه (یعنی هم پر صلوات کے علاوه )که جو زیاده شفاء بخش هو پروردگار عالم نے هم اهلبیت علیهم السلام کے ذکر کو شفاء بنایا هے اور هم پر صلوات کو گناهوں کے مٹانے کا ذریعه قرار دیا هے اور عیوب سے پاکیزگی اور حسنات میں اضافه کا سبب قرار دیا هے۔(۳۴)

۱۱. قیامت کے هول ناک مناظر سے نجات کا راسته هے صلوات

سرکاردوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که’’اگر کسی شخص نے مجھ پر ایک هزار مرتبه صلوات پڑھا تو اس کے مرنے سے پهلے اسے جنت کی بشارت هوگی۔‘‘(۳۵)

ایک اور حدیث میں هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’روز قیامت حوض کوثر پر ایسی قوم بھی وارد هوگی که جسے میں فقط و فقط کثرت صلوات کے ذریعه سے جانوں گا۔‘‘(۳۶)

اور ایک حدیث میں اس طرح سے هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که ’’جو شخص مجھ پر هزار مرتبه صلوات پڑھے گا پروردگار عالم جهنم کو اس پر حرام کر دے گا اور دنیا و آخرت میں قول حق پر ثابت قدم رکھے گا، اور اسی طرح سوال و جواب کی پریشانی سے بھی نجات دےگا، اور پروردگار عالم اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس نے جو صلوات پڑھی هے وه پانچ سو سال کے فاصله پر پل صراط پر نور بنکر آئے گی اور اس نے جتنی بھی صلوات پڑھی هوگی پروردگار عالم هر صلوات کے عوض میں اسے جنت میں ایک محل عطا فرمائےگا، خواه صلوات کم پڑھی هو یا زیاده۔(۳۷)

۱۲. صلوات سے انسان دنیا و آخرت میں ایمان پر باقی ره سکتا هے

چونکه انسان کسی بھی وقت اضطراب و تردید و کج فکری کا شکار هو سکتا هے جو که اسے راه حق سے منحرف کر دے گی، اس لئے که صفت اطمینان بهت هی مشقتوں کے بعد حاصل هوتی هے اور پھر سب سے بڑا مسئله اس پر ثابت قدم رهنا هے، اس

لئے که تاریخ میں ایسی بهت سی شخصیات گذری هیں که جن کی ابتدا تو ایمان پر تھی اور زندگی کے ابتدائی مراحل میں راه حق پر تھے لیکن ان کی زندگی کا خاتمه کفرو نفاق پر هوا، جیسا که طلحه و زبیر و سامری وغیره۔

تو اگر هم یه چاهتے هیں که همارے دل ایمان پر ثابت رهیں اور هم اس دنیا سے مومن اٹھیں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھیں تاکه اس کے ذریعه سے دنیاو آخرت میں خوشبخت هو سکیں۔

۱۳. صلوات باعث شفاعت هے

یعنی محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات روز قیامت شفاعت کا ذریعه هے۔

جیسا که امام محمد باقر علیه السلام سے روایت هے که جسے آپ نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی که سرکارختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که میں قیامت میں اس کی شفاعت کروں اور وه مجھ سے توسل کرنا چاهتا هے تو اس کے لئے ضروری هے که میرے اهلبیت پر صوالت پڑھے اور انھیں خوش رکھے۔‘‘(۳۸)

اور چونکه سب سے پهلے اور سب سے افضل شافع روز جزاء سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی هے، چونکه پروردگار عالم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مقام شفاعت عطا کیا هے( ولسوف یعطیک ربک فترضی ) (۳۹) اور عنقریب تمهارا پروردگار تمهیں اس قدر عطا کرے گا که تم خوش هو جاؤ۔

اور ایسی بهت سی روایات هیں که جن سے یه معلو م هوتا هے که اهلبیت علیهم السلام روز قیامت گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے۔

جیسا که امام صادق علیه السلام سے ایک روایت هے که جس میں آپؑ نے فرمایا:’’خدا کی قسم هم قیامت کے دن اپنے گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے یهاں تک که دشمن یه دیکھ کر کهے گا( فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم ) ‘‘(۴۰)

ایسی هی ایک حدیث سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے:’’عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ کے ضمن میں فرمایا که یه وه مقام هے که جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا(یعنی مراد شفاعت هے)۔

جس طرح سے حق شفاعت سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حاصل هے اسی طرح حق شفاعت اهلبیت عصمت و طهاعت علیهم السلام کو بھی حاصل هے جو که روز قیامت مخلوقات پر گواه هوں گے اس لئے که یه سب ایک هی نفس هیں اور سب کے نور کو پروردگار عالم نے اپنے نور سےخلق فرمایا هے۔

اور ان میں صدیقه طاهره حضرت فاطمة الزهراء سلام الله علیها کی ذات گرامی بھی هے۔

ممکن هے که یه سوال کیا جائے که کیسے صلوات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر موجب شفاعت هے!

تو اس کا جواب یه هوگا که ذکر صلوات سب سے افضل و بهتر هدیه هے که جو هم اهلبیت عصمت و طهارت علیهم السلام کی خدمت میں پیش کر سکتے هیں اور یه وه ذوات مقدسه هیں که جو معدن(کان) کرم هیں اور صلوات پڑھنے والے کو جس وقت سخت ضرورت هوگی (قیامت کے دن) اس وقت یه حضرات اسکی مدد کریں گے۔

۱۴. صلوات باعث قبولیت دعا هے

اگر هم یه چاهتے هیں که هماری دعائیں قبول هوں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اور ان کے واسطه سے گذشته قوموں کی دعائیں قبول هوئی هیں اور انشاء الله اس کی تفصیل آنے والے مباحث میں ذکر کئے جائیں گے۔

موالائے کائنات علی بن ابی طالب علیهما السلام سے ایک روایت هے که آپؑ نے فرمایا:’’اگر بارگاه خداوندی میں تمهاری کوئی حاجت هے تو پهلے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات پڑھو پراپنی حاجت طلب کرو، اس لئے که پروردگار عالم سے بعید هے که ایک حاجت کو پورا کرد ے لیکن دوسری حاجت کو پورا نه کرے۔‘‘(۴۱)

اسی طرح ایک اور روایت مولائے متقیان حضرت علی علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’کوئی بھی دعا آسمان تک نهیں پهنچ سکتی مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے۔‘‘(۴۲) (یعنی بغیر صلوات کے دعا قبول نهیں هوسکتی)۔

ایک اور روایت اسی باب میں سرکار ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’کوئی دعا ایسی نهیں هے جس دعا میں اور آسمان کے درمیان حجاب و مانع نه هو مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے، جیسے هی صلوات پڑھی جائے گی وه حجاب اور مانع برطرف هو جائے گا اور اگر دعا کرنے والا صلوات نهیں پڑھتا تو اس کی دعا واپس هو جاتی هے(یعنی قبول نهیں هوگی۔)‘‘(۴۳)

ایک اور روایت صادق آل محمدؐ امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’ایک شخص سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که یا رسول الله میری ایک تهائی دعا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےفرمایا که:خیر! پھر اس شخص نے کها که یا رسول الله میری نصف دعا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا میں فرمایا که یه تو اور اچھا هے(افضل هے)، پھر اس نے کها میری ساری دعا آپ کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: پس پروردگار عالم تمهارے دنیوی و اخروی امور و حاجات کو پورا کرے گا، پھر راوی نے کها که یه بتائیں که کیسے اس نے اپنی دعا کو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام کردیا؟ تو امامؑ نے جواب دیا که جب تک وه صلوات نهیں پڑھ لیتا تھا کوئی دعا مانگتا هی نهیں تھا۔‘‘(۴۴)

ایک روایت اور امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’مجھے سوار کے پیاله کے مانند قرار نه دو اس لئے که سوار(مسافر) اپنے کوزے کو بھرتاهے اور جب چاهتاهے پی لیتا هے، بلکه مجھے اول دعا،وسط دعااورآخر دعا میں یاد رکھو۔‘‘(۴۵) (یعنی جب ضرورت پڑے فقط تب یاد نه کرو بلکه همیشه یاد رکھو۔)

اور بهت سے علماء اهلسنت نے بھی ایسی روایتیں نقل کی هیں جنکا مفهوم یه هے که دعا بغیر محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پرصلوات کے قبول نهیں هو سکتی۔

جیسا که ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقه میں صفحه نمر ۸۸ پر ؛

متقی هندی اپنی کتاب کنز العمال ج ۱ ، ص ۲۱۴ پر؛

قندوزی نے ینابیع المودة میں صفحه ۲۹۵ پر؛

اسی طرح اگر کوئی مراجعه کرنا چاهتا هے تو کتاب احقاق الحق جلد ۹ ، صفحه ۶۶۵ کی طرف رجوع کر سکتا هے۔

۱۵. صلوات سے حاجتیں پوری هوتی هیں

روایات میں هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے حاجتیں پوری هوتی هیں ۔

ایک حدیث میں سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که اگر کوئی محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر ایک مرتبه صلوات پڑھے گا تو اس کی سو( ۱۰۰) حاجتیں پوری هوں گی۔(۴۶)

اور ایک روایت هے که جس میں سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کسی کی کوئی ایسی حاجت هو که جوپوری نه هو رهی هو تو اس کے لئے ضروری هے که زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے، اس لئے که صلوات سے هم و غم برطرف هوتے هیں، رزق میں اضافه هوتا هے اور حاجتیں پوری هوتی هیں۔‘‘(۴۷)

اور طلب حاجت کے سلسله سے امام زین العابدین علیه السلام سے ایک دعا صحیفه سجادیه میں هے که آپؑ نے فرمایا:’’اللهم صل علی محمد وآل محمد صلاة دائمة نامیة لا انقطاع لأبدها ولا منتهی لأمدها، واجعل ذلک عوناً لي و سبباً لنجاح طلبتي انّک واسع کریم .‘‘

اور کتاب تحفةالرضویه میں یوں ذکر هے هوا هے که:دعا(اللهم صل علی فاطمة و ابیها و بعلها وبنیها بعدد ما احاط به علمک و احصاه ) مجربات میں سے هے که اسے اگر روزانه ستر مرتبه پڑھا جائے تو حاجتیں پوری هوتی هیں اور مریضوں کی شفا کا باعث هے۔(۴۸)

اور اسی طرح علماء کے نزدیک یه بھی مجرب هے که وه اپنی حاجتوں کے لئے صلوات کی نذر مانتے هیں۔

۱۶. صلوات صحت و سلامتی کی باعث هے

اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که روحی امراض جیسے که کفر و شرک و نفاق و حسد و فسادروحانی امراض جسمانی امراض سے زیاده نقصان ده و ضرر رساں هیں چونکه یه امراض انسان کو سعادت سے محروم کردیتے هیں) وغیره اور جسمانی امراض سے محفوظ رهے تو اسے چاهئے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص ایک مرتبه صلوات پڑھتا هے تو پروردگار عالم اس پر عافیت و سلامتی کا دروازه کھول دیتا هے۔‘‘(۴۹)

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک اور روایت هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’پروردگار عالم کے نزدیک سوال عافیت سے زیاده محبوب کوئی سوال نهیں هے۔‘‘(۵۰)

ایک اور حدیث میں آیا هے که کسی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دریافت کیا که لیلة القدر میں کس شئ کے لئے دعا کریں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که پهلے عافیت کے لئے پھر قناعت کے لئے ۔(۵۱)

پس هر انسان کے لئے ضروری هے که پروردگار عالم سے دین و دنیا میں صحت و سلامتی کے لئے دعا کرے، اور اسی سبب سے صلوات ان اذکار میں سے هے جو که موجب عافیت و سلامتی هیں، اس لئے که مریض کا اهل بیت عصمت و طهارت علیهم السلام کا ذکر کرنا گویا جسمانی و روحانی طبیب سے رابطه کرنا هے اور بارگاه پروردگار میں توسل کرنا هے تاکه خدائے وحده لاشریک شفا عطار فرمائے اور اگر کوئی شخص خود معدن رحمت تک پهنچ جائے تو پروردگار اس کے لئے باب عافیت کو کھول دیتا هے۔

هم سب کی دعا بارگاه خداوندی میں هے که (یا ولی العافیة نسألک العافیة عافیة الدین و الدنیا والآخرة بحق محمد و عترته الطاهرة

۱۷. صلوات کے ذریعه سے بھولی هوئی چیزوں کو یاد کیا جاسکتا هے

گناهوں کا ارتکاب انسان کے قلب و دماغ پر منفی اثر ڈالتا هے؛ گناه انسان کے دل کو فاسد کردیتا هے اور جو که باعث جهالت و نسیان هے اور اس کے علاج کا بهترین طریقه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنا هے۔

امام حسن مجتبی علیه السلام سے ایک روایت هے که جسے آپؑ نے ایک شخص کے اس سوال(که انسان کیسے چیزوں کو بھول جاتا هے، اور کیسے چیزیں یاد آتی هیں؟!) کے جواب میں فرمایا:’’انسان کا دل ایک ظرف میں هے اور اس پر پرده پڑا هوا هے پس اگر کوئی انسان محمد و آل محمد علیهم السلام پر کامل و تام صلوات پڑھتاهے تو اس سے وه پرده هٹ جاتا هے اور انسان کا دل منور هو جاتا هے تو انسان بھولی هوئی چیزوں کو یاد کرلیتا؛ یا بھولی هوئی چیزیں انسان کو یاد آجاتی هیں اور اگر اس نے صلوات نهیں پڑھی یا ناقص صلوات پڑھی تو وه پرده اس ظرف سے نهیں هٹتا اور دل تاریک هوجاتا هے جو که اس شئ کا سبب هے که انسان کو جو چیزیں یاد بھی هوتی هیں وه اسے بھی بھول جاتا هے۔‘‘(۵۲)

۱۸. صلوات فقر سے نجات کی باعث هے

انسان کی زندگی میں فقر و تنگدستی سے بهت هی سخت امتحان هوتا هے جس سے انسان گذرتا هے اور حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: (لو کان الفقر رجلا لقتلته ) که اگر فقر انسانی شکل میں هوتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔

اور اس سے نجات کا راسته و طریقه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

ایک روایت سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے ایک شخص نے آپ سے فقر کا گلا و شکوه کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که اگر تو چاهتاهے که پروردگار عالم تجھے غنی بنا دے تو تیرے لئے ضروری هے که تو مجھ پر اور میرے آل علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔(۵۳)

اور چونکه بات فقر و تنگدستی کی هو رهی هے تو مناسب سمجھتا هوں که ایک دعا فقر سے نجات اور قرض کی ادائگی کے لئے بیان کردوں اور وه دعا بهت هی مجرب هے اور اس دعا کے سلسله سے علماء و فضلاء کا تجربه بھی هے روایت یه هے:

امام محمد باقر علیه السلام نے اپنے اباو اجداد سے انھوں نے مولائے کائنات علیه السلام سے نقل فرمایا که آپؑ نے فرمایا:’’میرے اوپر قرض تھا اور میں نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کا تذکره کیا تو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که یه کهو:(اللهم اغنني بحلالک عن حرامک و بفضلک عمن سواک )‘‘ که اگر مانند صبیر بھی قرض هوگا تو پروردگار عالم اسے ادا کر دیگا۔(۵۴) صبر یمن میں ایک پهاڑ کانام هے که جس سے بڑا اور عظیم کوئی پهاڑ نهیں هے۔

جناب شیخ بهائی ؒ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے هیں که ایک مرتبه میرے اوپر قرض بهت هو گیا تھا جو ڈیڑ هزار مثقال سونے سے بھی زیاده تھا اور جن لوگوں سے میں نے قرض لیا تھا وه بهت زیاده تقاضا کر رهے تھے یهاں تک که میں اسکی وجه سے اپنا دوسرا کام بھی نهیں کر پایا رها تھا، اور اداء دین کے سلسله سے میرے پاس کوئی راسته بھی نهیں تھا تو میں روز نماز صبح کے بعد اس دعا کو پڑھتا تھا اور بعض اوقات دوسری نمازوں کے بعد بھی پڑھتا تھا پھر کچھ هی وقت گذرا تھا که نه جانے کیسے وه قرض ادا هوگیا میں سوچ هی نهیں سکتا تھا۔

اور اس دعا کے سلسله سے جناب سید محسن امین قدس سره فرماتے هیں که جیسے مجھے اس دعا کے سلسله سے خبر هوئی تو میں نے اس کو نمازوں میں پڑھنا شروع کردیا تو بجز بعض اوقات کے خدا کے شکر سے مجھے کبھی بھی تنگی رزق کی شکایت نهیں هوئی۔

اور بعض علماء کهتے هیں یه دعا قرض کی ادائگی کے لئے بهت هی موثر هے، جب بھی اس دعا کو پڑھا میرا قرض ایک هفته سے پهلے پهلے ادا هوگیا، اور بعض علماء کا کهنا هے که میرا سوچنا یه هے که یه سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معجزات میں سے هے۔

۱۹. صلوات باعث رحمت الهی هے

جو بھی محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھے گا رحمت خداوندی دنیا و آخرت میں اس کے شامل حال هوگی۔

جیسا که مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام نے خطبه میں فرمایا که:’’شهادتین(اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد اً رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )‘‘ کے ذریعه سے جنت میں جاؤ گے اور رحمت خداوندی شامل حال هوگی پس زیاده سے زیاده محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھو۔(۵۵)

۲۰. صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، امام علیه السلام یا مرده کی زیارت هوگی

یعنی صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور کسی امام علیه السلام کی یا کسی میت کی زیارت کی جاسکتی هے۔جناب سید محمد باقر اصفهانی نقل کرتے هیں که عالم و فاضل جناب محمد بن سعید فرماتے هیں که میں نے یه عهد کیا که میں هر شب سونے سے پهلے محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھوں گا تو میں نے ایک شب خواب میں دیکھا که رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے کمره میں داخل هوئے تو پورا کمره حضرت کے نور سے منور هوگیا۔ اور سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کهنے لگے که وه هونٹ کهاں هے جس سے مجھ پر اور میری آل علیهم السلام پر صلوات پڑھی جاتی هے میں اس کا بوسه لینا چاهیتا هوں؛ او ر سرکار نے بوسه لیا اور چلے گئے اور جب میں بیدار هوا تو دیکھا که کمره خوشبو سے معطر هے تو میں بهت خوش هوا اور تقریباً یه خوشبو آٹھ دن تک میرے کمره میں رهی اور لوگ تعجب کے ساتھ اسے محسوس کرتے تھے۔

اسی طرح سے اگر کوئی چاهتا هے که کسی میت سے خواب میں ملاقات کرے تو اس کا راسته بھی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

جیسا که ایک روایت جناب ابو هشام سے هے که نقل کرتے هیں که ایک شخص امام محمد تقی علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میرے والد کا انتقال هو گیا هے اور وه کچھ مال(ترکه) چھوڑ کر گئے هیں لیکن هم کو پته نهیں هے که وه مال کهاں هے اور مولاؑ میں آپ کے شیعوں میں سے هوں اور میرا خانواده بڑا هے میری مدد کریں تو امام علیه السلام نے فرمایا: نماز عشاء کےبعد تین مرتبه محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھنا تو تمهارے بابا خواب میں آکر تمهیں بتائیں گے که مال کهاں هے۔ تو شخص نے ویسا که کیا جیسا امامؑ نے فرمایا تھا اور اس نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا که اس سے کهه رهے هیں که اے بیٹا مال فلاں جگه پر رکھا هے اسے لے لو اور امام علیه السلام کو جاکر بتا دو که میں نے تمهیں بتا دیا، تو اس شخص نے مال لیا اور اور امام علیه السلام کو جاکر بتا بھی دیا اور کها:’’الحمد لله الذی اکرمک و اصطفاک ‘‘ یعنی ساری تعریفیں اس خدا کے لئے هیں که جس نے آپ کو منتخب کیا۔(۵۶)

اسی طرح یه حکایت کی گئی هے که اگر کوئی شخص برابر اس صلوات(اللهم صل علی محمد و آله وسلم کما تحب و ترضی ) کو پڑھے گا تو اس کے ذریعه سے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کرسکتا هے۔(۵۷)

صلوات کے فوائد بطور خلاصه

۱) پروردگار عالم صلوات پڑھنے والے کی احتیاج کو پورا کر دیتا هے۔

۲) غریبوں کے لئے صلوات بمقام صدقه هے۔

۳) صلوات سبب طهارت و تذکیه نفس هے۔

۴) صلوات مجلس کی برکت کی باعث هے ورنه وه مجلس و نشست قیامت کے دن اهل مجلس کے لئے بلاء و وبال هوگی جس میں صلوات نه پڑھی جائے۔

۵) اگر انسان سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذکر کے بعد صلوات پڑھے گا تو صفت بخل اس سے دور هوگی۔

۶) صلوات پڑھنے والے راه جنت پر گامزن هیں اور نه پڑھنے والے جنت کے راسته سے منحرف هیں۔

۷) صلوات پل صراط پر نور کا باعث هے۔

۸) صلوات پرھنے والا جفاکار نهیں هے، اور جو صلوات نهیں پڑھتا گویا اس نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جفا کیا۔

۹) صلوات پڑھنے والے کی تعریف پروردگار عالم زمین و آسمان والوں کے سامنے کرتا هے۔

۱۰) صلوات جنت میں باعث کثرت ازواج هے اور جنت میں اعلیٰ مقام کا باعث بھی هے۔

۱۱) صلوات عطش(پیاس) کو رفع کرنے والی هے۔

۱۲) ذکر صلوات بیس غزوات کے برابر هے، بلکه اس سے بھی کهیں زیاده بهتر هے۔

۱۳) صلوات علامت هے که صلوات پڑھنے والا سنت نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عمل کرنے والا هے۔

۱۴) ثواب صلوات خود صلوات پڑھنے والے کو اور اس کی اولاد کو اور جس کے لئے صلوات ایصال کی جائے سب کو پهنچے گا۔

۱۵) بعض علماء کا کهنا هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پرصلوات سے دس کرامتیں حاصل هوتی هیں:

۱) خود پروردگار صلوات بھیجتا هے؛

۲) سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی شفاعت کریں گے؛

۳) صلوات عمل ملائکه کی پیروی هے؛

۴) صلوات منافقین و کفار کی مخالفت هے؛

۵) صلوات سے گناه مٹا دیئے جاتے هیں؛

۶) صلوات کے ذریعه حاجتیں پوری هوتی هیں؛

۷) انسان کا ظاهر و باطن منور هوتا هے؛

۸) قیامت کے هولناک مناظرسے نجات حاصل هوگی؛

۹) جنت میں داخله کا باعث هے؛

۱۰) موجب سلام پروردگار هے۔

____________________

۱ سوره احزاب، آیه ۵۶

۲ سوره انبیاء آیه ۲۰

۳ سوره احزاب، آیه ۵۶

۴ جمال الاسبوع، ۲۳۶؛ البحار ۹۴؛ ۷۲؛۶۶؛ موالی الالی۲، ۳۶؛ ۹۷

۵ ؟؟؟؟؟ ورقه میں نهیں هے۔۔۔

۶ ارشاد القلوب، ج۲، ص۳۰۲

۷ منازل الآخرة، ص۱۱۶

۸ مناقب آل ابھی طالب(ع)۳، ۱۴۳

۹ وسائل باب۱۰، من ابواب اشهداء، حدیث۲

۱۰ جیسا که بعض لوگوں کا ماننا هے که اکسیر ایسا شربت هے که جس سے حیات طولانی هوتی هے۔(معجم)

۱۱ منازل الآخرة، ص۱۱۵

۱۲ آثار و برکات امیرالمومنین(ع)، ۲۳۸

۱۳ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۱

۱۴ عیوان اخبار الرضا(ع)، ۲، ۲۶۶

۱۵ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۰

۱۶ کامل الزیارات،ص ۱۵۹

۱۷ کامل الزیارت، ص۳۲۲

۱۸ ثواب الاعمال و عقاب، الاعمال، ۲۴۴

۱۹ مذکوره حواله،۴۶

۲۰ جامع الاخبار، ۶۹،ج۵،۶،۷

۲۱ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۵

۲۲ منازل الآخرة،۱۱۴

۲۳ دار السلام،۲، ۱۲

۲۴ القطرة، ج۱، باب الصلاة علی النبی واآله

۲۵ البقرة۲۲۲

۲۶ وسائل الشیعه باب۹،من ابواب الذکر، حدیث۳

۲۷ مستدر الوسائل باب۱۱، من ابواب الذکر، حدیث۵

۲۸ جمال الاسبوع، ۱۶۰

۲۹ احزاب۴۳

۳۰ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷

۳۱ المستدرک، باب۳۲، من ابواب الذکر، حدیث۲۰

۳۲ الوسائل، باب۳۹، من ابواب الصلاة علی محمد و آل محمد علیهم السلام، حدیث۱

۳۳ المستدرک، باب۳۱، نب ابواب الذکر، حدیث۴۱

۳۴ المسدترک، باب۲۳، من ابواب فعل لمصروف، حدیث۱

۳۵ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷

۳۶ مذکور حواله،ص۴۵

۳۷ ثواب اعمال و عقاب الاعمال، ص۴۵

۳۸ وسائل الشیعه، باب۴۳، من ابواب الذکر، حدیث۵

۳۹ سوره ضحی،۵

۴۰ میزان الحکمة،۵،۱۲۲

۴۱ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعا، حدیث۱۸

۴۲ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۴۶

۴۳ مذکوره حواله،۴۷

۴۴ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعاء، حدیث۴

۴۵ مذکوره حواله، حدیث۷

۴۶ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۵۰

۴۷ مذکوره حواله،ص۵۰

۴۸ التحفة الرضویة، ص۲۰۲

۴۹ المستدرک، باب۳۱، من ابواب الذکر، حدیث۱۱

۵۰ میزان الاعمال،ج۶، ص۳۸۳

۵۱ منتهی الاعمال، ج۲، ص۴۸۰

۵۲ الوسائل،۳۷، باب من ابواب الصلوات علی محمدؐ وآل محمد، حدیث۱

۵۳ لالی الدنیا،۳ ص۴۳۶

۵۴ التحفة الرضویة،۳۰

۵۵ بحارالانوار، ج۹۴، ص۴۸

۵۶ دارالسلام، ج۱، ص۳۳۸

۵۷ مذکور حواله،ج۳، ص۱۱۶

پهلی فصل

{صلوات کے بعض فوائد}

۱. صدائے خدا و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر لبیک هے صلوات

پروردفار عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا هے:( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۱) بیشک الله اور اس کے ملائکه رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجتے هیں تو اے صاحبان ایمان تم بھی صلوات بھیجتے رهو اور سلام کرتے رهو محمد و آل محمد علیهم السلام پر۔

سب سے پهلے اس چیز کو طے کرتے هیں که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے معنی کیا هیں:

روایات میں اس امر کی تاکید ملتی هے که اگر خدا صلوات بھیجے تو اس کا مطلب رحمت هے، ملائکه بھجیں تو تذکیه هے، مومنین بھیجیں تو اس کا مطلب دعا هے۔

پس اگر خدا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجے تو اسکے معنی هیں که: خدایا همارے لئے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے حقائق کو ظاهر کر اور انکے مراتب کو واضح کر۔

اور اگر ملائکه علیه السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں: محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے مراتب کی تقدیس و تذکیه؛ اور مومنین محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں تو اس کے معنی هیں:هم اپنی جگه سے بلند هو جائیں اور ان سے ملحق هو جائیں یعنی گویا یه کهتے هیں که خدایا میں محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هوں تاکه میں ان کے ساتھ هو سکوں، انکی پیروی کر سکوں، انکے اخلاق و صفات سے مزین هو سکوں تاکه ظلمات و گمراهی سے باهر نکل سکوں؛ اس لئے که گمرای سے نجات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے ممکن هے۔

اگر هم قرآن مجید پر غور کریں تو پته چلے گا که خداوند عالم نے فرمایا هے:( یا ایها الذین آمنوا ) اے ایمان والو!؛ تو ه ان لوگوں کے لئے دعوت هے جو صفت ایمان سے متصف هو چکے هیں که وه اگر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق کو ادا کرنا چاهتے هیں تو صلوات پڑھیں۔

لهذأ اب اگر کوئی انسان نماز میں یا نماز کے علاوه کسی اور مقام پر صلوات بھیجتا هے تو گویا وه صدائے پروردگار پر لبیک کهتا هے؛ اور اسی طرح سے خود نبی اور ملائکه اور ائمه معصومین علیهم السلام نے بھی صلوات کے سلسله میں مومنین کو کافی تاکید کی هے چونکه آخرت میں شرف و عزت اور مقام بلند و بالا صلوات کے ذریعه سے حاصل هوگا۔

بعض مومنین ایسے هیں که جو صلوات کے ذریعه سے آخرت میں ثواب کے متمنی هیں یا دنیا میں یه چاهتے هیں که انکی حاجتیں پوری هوجائیں اور انھیں رزق حاصل هو اور ان میں سے بعض وه هیں که جو اس غرض سے صلوات پڑھتے هیں که اس کے ذریعه سے حکم پروردگار عالم کا امتثال(انجام دهی) کیا جا سکے اور وه کسی بھی قسم کی جزا کے متمنی نهیں هیں۔

پس وه دعوت جو پروردگار عالم نے صلوات کے ذریعه سے دی هے، یا جو حکم پروردگار نے اس کے سلسله سے دیا هے جب وه پورا هوجائے اور اسے انجام دے دیا جائے تو پروردگار عالم بھی اپنے بندوں کو جزائے خیر سے نوازتا هے اور انکی حاجتوں کو پورا کرتا هے۔

جو آیت اوپر گذری هے اس میں بهت سے اسرار هیں اگر ان میں سے کچھ کو جاننا چاهیں تو احادیث و روایات ائمه معصومین علیهم السلام کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ ایک روایت میں هے که ایک شخص امام صأدق علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور آپ سے کها که قرآن مجید کهه رها هے که( ’’یسبحون اللیل والنهار لا یفترون ) (۲) ؛ دن رات اسکے تسبیح کرتے هیں اورسستی کا بھی شکار نهیں هوتے هیں اور دوسری آیت میں هے:’’( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) (۳) پس یه دونوں چیزیں کیسے ممکن هیں که فرشتے صبح و مساء تسبیح بھی کرتے رهتے هیں، ایک لمحه کے لئے تسبیح پروردگار سے غافل بھی نهیں هوتے، تسبیح ترک بھی نهیں کرتے اور محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھی بھیجتے هیں؟؟؟!!

تو امام صادق علیه السلام جواب دیتے هیں:’’جب پروردگار عالم نے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خلق فرمایا تو فرشتوں کو حکم دیا که جتنا وقت صلوات بھیجنے میں لگتا هے اتنا میرے ذکر میں سے کم کرو ؛ پس اگر کوئی انسان نماز میں یه کهے که صل الله علی

محمد؛ تو گویا یه ایسا هے که اس نے کها هو ’’سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر ‘‘(۴)

ایک روایت یه بھی کی گئی هے که سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کسی نے پوچھا که اس آیت( ’’إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) کا کیا مطلب هے۔؟؟؟

تو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’یه شئ علم مکنون(مخفی علم) میں سے هے اور اگر تم اس کے بارے میں سوال نه کرتے تو میں بتاتا بھی نهیں، پروردگار عالم نے میرے لئے دو فرشتوں کو مقرر کیا هے که جب بھی مجھے کوئی مسلم یاد کرکے میرے اوپر صلوات بھیجتا هے تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که پروردگار تیری مغفرت کرے تو پروردگار اور اس کے دیگر فرشتے آمین کهتے هیں اور جب کسی مقام پر میرا تذکره هوتا هے اور کوئی میرے اوپر صلوات نهیں بھیجتا تو وه دونوں فرشتے کهتے هیں که خدا تیری مغفرت نه کرے تو خدا اور اسکے فرشتے آمین کهتے هیں۔(۵)

اور اسی طرح سے ایک روایت جناب علامه مجلسیؒ نے اپنی کتاب بحار میں امام صادق علیه السلام سے نقل فرمائی هے که امام علیه السلام اپنے آباء و اجدادسے اور وه امیرالمومنین علیه السلام سے نقل فرماتے هیں که مولائے کائنات علیه السلام نے اس یهودی کے جواب میں فرمایا جس نے آپ سے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی فضیلت تمام انبیاء پر دریافت کی؛ یهودی کهتا هے که پروردگار عالم نے جناب آدم علیه السلام کے لئے فرشتوں سے سجده کرایا تو مولائے کائنات علیه السلام نےفرمایاکه پروردگار نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بھی بهتر شئ عطاکی هے وه یه هے که پروردگار رب العزت نے خود سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات بھیجی هے اور فرشتوں کو حکم دیا هے که ان پر صلوات بھیجیں اور تمامی مخلوقات کو اس بات کا حکم دیا هے که ان کی ذات مقدسه پر قیامت تک صلوات بھیجیں ؛ پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى اَلنَّبِيِّ يا أَيُّهَا اَلَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيماً ) پس اگر کوئی بھی سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات طیبه میں یا بعد وفات صلوات بھیجتا هے تو پروردگار عالم اس کے اوپر دس مرتبه صلوات بھیجتا هے اور هر صلوات کے بدله میں دس نیکیاں عطا کرتا هے اور اگر کوئی سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے بعد ان پر صلوات بھیجتا هے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس کی خبر هوتی هے اور وه اس کو ویسی هی اس کے سلام کا جواب بھی

دیتے هیں اس لئے که پروردگار عالم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت کی دعا کو اس وقت تک قبول نهیں فرماتا جب تک که وه آپ پر صلوات نه بھیجیں لهذأ یه فضیلت تو اس سے بھی افضل و اعظم هے جو که جناب آدم علیه السلام کو دی گئی هے۔(۶)

۲. صلوات حسنات و درجات میں اضافه کا سبب هے

سوال یه هے که صلوات کے ذریعه سے حسنات و درجات میں اضافه کیسے هوتا هے؟

اس کے جواب میں هم یه کهه سکتے هیں که والله العالم هر ذکر کی یه خاصیت هوتی هے که جب بھی انسان اس ذکر کو بجالاتا هےتو اس کے درجات بلند هوتے هیں، حسنات میں اضافه هوتا هے اور اس طرح سے همارا محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا گویا ایسا هے جیسے هم خدا کی عباست کررهے هوں، اسکا ذکر کیا هو، اور حکم پروردگار عالم کو انجام دیا هو۔

ایک حدیث سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں نقل هوئی هےکه آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر میرا امتی مجھ پر ایک مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے لئے دس( ۱۰) نیکیاں لکھی جاتی هیں اور دس گناه محو(مٹا) کر دیئے جاتےهیں۔‘‘

اسی طرح حضرت سے یه بھی روایت نقل کی گئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’جب میں شب معراج آسمان پر پهنچا تو میں نے ایک فرشته کو دیکھا که جس کے هزار هاتھ تھے اور هر هاتھ میں هزار انگلیاں تھیں جو که حساب و کتاب میں مشغول تھا تو میں نےجبرئیلؑ سے سوال کیا که یه فرشته کون هے؟ اور یه کیا شمار کر رها هے؟ تو جبرئیل نے جواب دیا که اس فرشته کو اس امر په مقرر کیا گیا هے که وه بارش کے قطرات کو شمار کرے که آسمان سے بارش کے کتنے قطرے زمین پر گرتے هیں۔پھر میں نے اس فرشته سے کها که: کیا تم جانتے هو که جب پروردگار رب العزت نے اس دنیا کو خلق فرمایا هے تب سے لیکر آج تک کتنے قطرے زمین پر گرے ؟ تو اس فرشته نے جواب دیا که یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس خدائے وحده لا شریک کی قسم جس نے حق کے ساتھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس دنیا میں بھیجا هے آپ نے جو کها میں اس کو بھی جانتا هوں اور یه بھی جانتا هوں که کتنے قطرے آبادی میں گرے اور کتنے صحراء میں اور کتنے باغات میں گرے اور کتنے بنجر زمین پر اور کتنے قطرے قبروں (قبرستانوں) پر گرے هیں؛ تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: که مجھے اس فرشته کے حساب وکتاب اور اس کے حافظه پر تعجب هوا، فرشته کهتا هے یا رسول

اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یه حق هے که مجھے یه سب یاد هے اور میرے اتنے هاتھ اور اتنی انگلیاں هیں لیکن اس کے باوجود ایک چیز ایسی هے جس کے حساب سے میں عاجز هوں که میں اس کا حساب نهیں لگا سکتا، تو میں نے کها: وه کون سی چیز هے ؟ تو فرشه نے جواب دیا که جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے امتی کسی مقام پر جمع هوتے هیں اور(وهاں پر) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تذکره کرتے هیں اور جیسے هی انکے سامنے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نام آتا هے تو وه (سب مل کر) آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی پر صلوات بھیجتے تو میں انکے ثوابکو شمار نهیں کر پاتا۔!‘‘(۷)

۳. صلوات تکمیل نماز کی باعث هے

یعنی جب تک نماز میں صلوات نه بھیجی جائے نماز مکمل نهیں هوتی۔

روایت میں اس طرح وارد هوا که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کی تکمیل کا باعث(یعنی بغیر صلوات نماز نامکمل هے)؛ جس طرح سے روزه بغیر زکات(فطره) کے نامکمل هے اور اگر کوئی عمداً زکات فطره ادا نه کرے اس کا روزه قابل قبول نهیں هے اسی طرح سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نماز کا اهم جزء هے که جسکی ادائگی کے بغیر نماز نامکمل هے، اس لئے که اگر کسی شخص نے نماز تو ادا کی لیکن عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجی تو گویا اس کی نماز هی نهیں هوئی؛ اور ایسی صورت میں نماز قابل قبول نهیں هے اور اس کی(صلوات) تاکید امام صادق علیه السلام کی اس روایت سے هوتی هے که آپ علیه السلام نے فرمایا:’’روزه زکات فطره کی ادائگی سے مکمل هوتا هے جس طرح نماز محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات سے مکمل هوتی هے، پس اگر کوئی شخص روزه رکھے اور عمداً زکات فطره ادا نه کرے تو اس کا روزه قابل قبول هی نهیں هے اسی طرح سے اگر کوئی نماز پڑھے اور عمداً محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات نه بھیجے تو اس کی نماز قابل قبول نهیں هے۔!‘‘(۸)

اور ایک روایت یوں بھی هے که امام زین العابدین علیه السلام سے کسی نے سوال که نماز کیسے مکمل هوتی هے تو آپ علیه السلام نے فرمایا: ’’محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه۔‘‘(۹)

۴. صلوات سنگینی میزان کا باعث هے

روایات میں وارد هوا که میزان اعمال میں سب سے سنگین شئ جو هوگی وه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی۔

ایک حدیث میں هے که: قیامت کے دن ایک شخص کو جهنم میں جانے کا حکم دیا جائگا تووه کهے گا که میری شفاعت کریں تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کهیں گے که اس کو دوباره میزان کی طرف لے جاؤ اور جب وه میزان کی طرف پلٹایا جائےگا تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میزان پر چونٹی جیسی کوئی شئ رکھیں گے اور وه شئ محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هوگی اور اس کا میزان اس کی نیکیوں (محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات) کی بنا پر سنگین هو جائے گااور ایک آواز آئے گی فلاں شخص کامیاب هو گیا۔

اسی طرح سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایکی روایت نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میں روز قیامت میزان کے پاس هوں گا تاکه اگر کسی کے گناه اس کی نیکوں پر غالب آجائیں (یعنی گناه زیاده هوئے) تو میں اس کی نیکیوں میں صلوات کا اضافه کر دوں گا که جس سے اس کی نیکیاں اور حسنات زیاده هو جائیں گی اور اس صلوات کی وجه سے اسکے حسنات کا پلڑا وزنی هو جائے گا۔‘‘

ایک اور روایت میں سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےماه رمضان المبارک کے استقبال میں خطبه ارشاد فرمایا اور اس میں بیان کیا که:’’اگر کوئی شخص ماه رمضان میں میرے اوپر صلوات بھیجے گا تو جس دن(روز قیامت) تمام افراد کے میزان هلکے هوں گے ا دن اس کا میزان وزنی هوگا۔(یعنی جس دن لوگوں کے گناه انکے میزان میں زیاده هوں گے اس دن اس شخص کے میزان اعمال میں نیکیاں زیاده هوں گی اور اس کا نیکیوں والا پلڑا گنا ه والے پلڑے سے وزنی هوگا۔‘‘

۵. صلوات سب سے اٖفضل عمل هے

مستحب اعمال و اذکار کی فهرست بهت طولانی هے اور انھیں اذکار میں سے محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا بھی هے؛یهاں تک که روایات میں وارد هوا هے که هر جگه اور هر وقت صلوات بھیجا مستحب هے، یهاں تک که جب انسان گھر سے نکل رها هو یا داخل هو رها هو تو اس وقت بھی صلوات بھیجنا مستحب هے۔ اس لئے که جو امتیاز اور خصوصیت صلوات میں هے وه کسی ذکر میں نهیں هے۔

ایک روایت میں هے که ایک شخص طواف کر رها تھا اور اپنے طواف کو مکمل کرنے کے بعد امام علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میں نے ذکر صلوات کے علاوه کوئی بھی ذکر ادا نهیں کیا تو امام علیه السلام نے فرمایا که کیا ذکر صلوات سے بھی افضل کوئی ذکر هے۔!

عبد السلام بن نعیم روایت نقل کرتے هیں که میں نے امام صادق علیه السلام سے کها که میں خانه خدا میں طواف کے لئے داخل هوا تو اس وقت سوائے ذکر صلوات کے مجھے کچھ اور یاد نهیں تھا تو امام علیه السلام نے فرمایا که تو سب سے افضل ذکر بجالایا هے۔

ایک عظیم مجتهد و مرجع جب فقهی بحث کے دوران اس حدیث سے گذرتے هیں تو کهتے هیں که اس حدیث کے سبب سے میں یه فتوی دیتا هوں که سب سے افضل عمل اور سب سے افضل ذکر اور سب سے افضل مستحب عمل، محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے اور یه ذکر اکسیر اعظم هے۔(۱۰)

اسی طرح ایک روایت سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سےنقل هوئی هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میں نے خواب میں دیکھا که میں اپنے چچا جناب حمزه بن عبد المطلبؑ اور اپنے بھائی جعفر بن ابی طالبؑ کے ساتھ هوں اور انکے سامنے ایک ظرف میں بیر رکھی تھی، کچھ دیر اس کو کھاتے رهے پھر وه بیر انگور میں تبدیل هو گئی اور اسے بھی کچھ دیر کھاتے رهے پھر هر انگور انکے لئے کھجور میں تبدیل هو گیا اور اسے بھی کچھ دیر تک کھاتے رهے تو میں انکے قریب گیا اور ن سے کها که آپ کو میرے بابا کا واسطه یه بتائیں که آپ نے کس عمل کو سب سے افضل پایا؟ تو انھوں نے کها که همارے آباء و اجداد آپ پر فدا هوں سب سے افضل عمل آپ پر صلوات بھیجنا هے، اور پانی پلانا اور محبت علی بن ابی طالب علیهما السلام۔‘‘(۱۱)

سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک روایت نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مولائے کائنات علیه السلام سے فرمایا که:

’’اے علیؑ کیا آپ کو معلوم هے که جس رات میں آسمان پر گیا تو آپ کے بارے میں ملأ اعلی میں کیا سنا؟! اے علیؑ میں نے سنا که اهل آسمان خدا کو آپ کی قسم دے رهے تھے اور آپ کے واسطه اور وسیله سے اپنی حاجتوں کو طلب کر رهے تھے اور آپ کی محبت کے ذریعه سے تقرب الهی کے خواهاں تھے اور سب سے بهتر چیز جس کے ذریعه سے وه خدا کی عبادت کر رهے تھے وه همارے اور آپ کے اوپر صلوات تھی۔‘‘(۱۲)

اگر دیکھا جائے تو حقیقت میں یه حدیث کتنی عظیم هے اور اس کے ذریعه سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور مولائے کائنات علیه السلام کی عظمت واضح هوتی هے، پس همارے لئے ضروری هے که هم مولائے کائنات علیه السلام کے ذریعه سے پروردگار رب العزت سے سوال کریں که پروردگار همیں مولاؑ کے شیعه اور موالی میں قرار دے۔

ایک اور روایت میں هے که ایک شخص نے امام صادق علیه السلام سے پوچھا که سب سے افضل عمل کیا هے؟ تو آپ نے فرمایا:’’محمدؐ و آل محمد علیهم السلامپر سو مرتبه نماز عصر کے بعد صلوات بھیجنا سب سے افضل عمل هے؛ اور جتنا زیاده صلوات پڑھ سکتے هو اتنا بهتر هے۔‘‘

هو سکتا هے کوئی یهاں پر یه کهے که افضل اعمال کو کیسے معین کیا جائے؛ اس لئے که ایسی روایتیں بهت سی هیں جس میں الگ الگ چیزوں کو افضل عمل بتایا گیا هے۔

مثلاً ایک حدیث میں رسول اسلام سے اس طرح منقول هے که سرکار دو عالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میری امت کا سب سے افضل عمل امام عصر علیه السلام کا انتظار هے۔‘‘(۱۳)

دوسری روایت میں سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس طرح سے نقل کیا گیا هے که ’’افضل عمل ورعحرام سے اجتناب) هے۔‘‘(۱۴) اور بعض روایتوں میں اس طرح سے نقل هے که ابن عباس نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کیا که افضل عمل کیا هے؟ تو سرکار نے جواب دیا جس میں سختی اور مشقت زیاده هو۔(۱۵) اسی طرح امام صادق علیه السلام سے روایت هے که جس میں آپ علیه السلام نے فرمایا:’’سب سے افضل عمل امام حسین علیه السلام کی زیارت هے۔‘‘(۱۶)

اور ایک روایت امام محمد تقی علیه السلام سے هے که جس میں آپ سے سوال کیا گیا که امام رضا علیه السلام کی زیارت افضل هے یا امام حسین علیه السلام کی؟ تو آپ نے فرمایا: میرے بابا کی زیارت زیاده با فضیلت هے اور وه اس لئے که ابو عبد الله الحسین علیه السلام کی زیارت تمامی لوگ کرتے هیں، لیکن میرے بابا کی زیارت فقط مخلص شیعه هی کرتے هیں(یا فقط خاص شیعه هی کرتے هیں)۔‘‘(۱۷)

تو اس کا جواب یه هے که یه سارے اختلافات جو حدیث میں موجود هیں ان سب کاتعلق خودِ اس عمل هے اور اس عمل سے هے جو اس شئ سے متعلق هے۔

مثلاً انتظار فرج که جسے افضل عمل بتایا گیا وه اس زمانه غیبت اما م علیه السلام میں عملی لحاظ سے (یعنی غیبت کے زمانه میں سب سے افضل عمل انتظار فرج هے) اور ورع کو سب سے افضل قرر دیا گیا هے اعمال کے نتائج کے لحاظ سے ، اس لئے که برے اعمال کا نتیجه بهت سخت هوگا۔

اور یه جوذکر هوا که جس عمل میں زیاده مشقت و دشواری هو وه زیاده با فضیلت هے تو وه اس لئے هے که انسانی اعمال کو مد نظر رکھتے هوئے کها گیا هے انسانی اعمال کی به نسبت جن اعمال میں مشقت زیاده هو وه افضل هے۔

اور امام حسین علیه السلام کی زیارت ان سب سے زیاده افضل هے کیوں که آپ اور آپکے اهلبیت کو بے دردی کے ساتھ شهید کیا گیا۔

اور زیارت امام رضا علیه السلام سید الشهداء کی زیارت سے اس وجه سے افضل هے چونکه امام حسین علیه السلام کی زیارت کرنے والے بهت لوگ هیں لیکن امام رضا علیه السلام کے زوّار کی تعداد کم هے تو ائمه معصومین علیهم السلام نے یه سوچا که لوگوں کو زیارت امام رضا علیه السلام کی طرف متوجه کریں۔

اور اس تحریر و بیان کے بعد یه بات واضح هو جاتی هے که کیا سبب هے که محمد ؐو آل محمدعلیهم السلام پر صلوات سب سے افضل و با فضیلت عمل هے اور وه سبب یه هے که صلوات سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اور انکے اهلبیت علیهم السلام سے رابطه هے، اس لئے که صلوات عبد و معبود کے درمیان ایک طرح کا رابطه هے، چونکه صلوات دعا و مناجات هے، هم صلوات میں کهتے هیں: اللهم، اوراس کی اصل هے ’’یا الله‘‘، اور اس کے معنی یه هوئے که پروردگار محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر رحمت نازل کر اور انکے ذکر کو بلند کر....

اور اس کے بعد محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اس رابطه و محبت و ولاء کو ظاهر کرتی هے جو انسان اور محمدؐ و آل محمد علیهم السلام کے درمیان هے ، یعنی صلوات انسان کی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام سے محبت و ولاء کی دلیل هے۔

۶. صلوات گناهوں کا کفاره هے

انسان چونکه معصوم نهیں هے لهذ گناه کرتا هے، پروردگار قهار کی معصیت کرتا رهتا هے لهذأ اس کے نامه اعمال میں گناه بهت هیں۔ اور هو سکتا هے که اتنے زیاده گناه هوں که جنکی تلافی انسان کے لئے ممکن نه هو، لیکن سب سے آسان و بهتر طریقه گناهوں کی معافی کا اور گناهوں کا کفاره محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات هے۔

اور اس سلسله میں امام رضا علیه السلام سے روایت بھی موجود هے که اگر کوئی انسان گناهوں کے کفاره کے قدرت نه رکھتا هو تو زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجے، کیونکه صلوات گناهوں کو منهدم کر دیتی هے۔(۱۸)

اور اسی ضمن میں ایک روایت مولائے کائنات علیه السلام سے بھی هے که جس میں آپ نے فرمایا:’’که جتنی جلدی پانی آگ کو خاموش کردیتا هے اس سے بھی تیز صلوات گناهوں کو محو کردیتی هے۔‘‘(۱۹)

اور ایک روایت سرکار دو عالم سے بھی هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپرایک مرتبه بھی صلوات بھیجتا هے تو اس کے گناه ختم هو جاتے هیں(یعنی ذره برابر بھی اس کے گناه باقی نهیں ره جاتے۔)‘‘(۲۰)

اسی طرح ایک دوسری روایت میں سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که’’اگر کوئی انسان مجھ پر صبح میں دس مرتبه صلوات بھیجتا هے تو اس کے چالیس سال کے گناه معاف هو جاتے هیں۔‘‘(۲۱)

اور ایک دوسری روایت میں کچھ اس طرح سے ذکر هے که:’’اگر کسی شخص نے میری محبت میں دن میں تین مرتبه مجھ پر صلوات بھیجاتو پروردگار عالم کے اوپر اس کا حق یه هے که اس کے اس دن و رات کے گناهوں کو معاف کر دے۔‘‘(۲۲)

جناب محمد نوریؒ فرماتے هیں که بلاواسطه جناب شیخ زین الدین نے نقل کیا هے که میں نے خواب میں امام زین العابدین علیه السلام کو دیکھا تو زاد آخرت کے سلسله میں شکوه کیا که اس کا انتظام کیسے کیا جائے؟ توبه و استغفار کی توفیق کیسے حاصل هو ؟ اعمال صالحه کیسے بجا لائے جائیں؟ تو امام سجاد علیه السلام نے جواب دیا که تمهاری ذمه داری هے که تم زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اور هم اس کا عوض قیامت کے دن تم کو عطا کریں گے۔(۲۳)

ایک بهترین واقعه

ایک خاتون کا انتقال هوا اور وه گنهگار تھی اور اس کی قبر میں اس پر عذاب هوتا هے، لیکن بعض اولیاء اور صلوات پڑھنے والے لوگ قبرستان میں داخل هوئے اور اس کی قبر تک پهنچے اور صلوات بھیجا’’اللهم صل محمد و علی آل محمد ‘‘،تو انھوں نے خواب میں اس خاتون کو دیکھا که وه یه خوش خبری دے رهی تھی که ولو یه که عذاب بهت هی سخت تھا لیکن جیسے هی محمدو آل محمد علیهم السلام کا ذکر هواتو نداء آئی که اب اس پر عذأب نه کرو؛ کیا محمد و آل محمد علیهم السلام کا ذکر نهیں هوا!؟(۲۴)

پس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور انکے اهلبیت علیهم السلام تمام عالمین اور ساری بشریت کے لئے رحمت بن کر آئے هیں؛پس هم اپنی ولایت اور طاعت اهلبیت علیهم السلام سے اور انکے دشمنوں کی برأت کے ذریعه سے دنیا و آخرت میں کامیاب هوکر بارگاه رب العزت سے قریب هو سکتے هیں اور فقط اتنا هی نهیں هے بلکه وه صلوات که جسے هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر بھجتے هیں پروردگار عالم نے اسے همارے گناهوں کا کفاره قراردیا هے اور اسے هماری طهارت کی دلیل بنائی هے جیسا که زیارت جامعه میں ذکر هے جو که امام علی نقی علیه السلام سے نقل هوئی هے...

پس همارے لئے ضروری هے که هم هر وقت اور هر جگه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں۔

۷. صلوات محبت و قرب پروردگار اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کیئے هوئے سلام کے جواب کا ذریعه هے

صلوات انسان کی روحی طهارت کا سبب بھی هے، اور وه لوگ جو که پاک هیں وهی بارگاه خداوندی سے نزدیک هیں که پروردگار عالم نے فرمایا:( إِنَّ اَللّهَ يُحِبُّ اَلتَّوّابِينَ وَ يُحِبُّ اَلْمُتَطَهِّرِينَ ) (۲۵) خداوند توبه کرنے اور پاکیزه رهنے والوں کو دوست رکھتاهے۔

اور کتاب وسائل الشیعه میں امام علی نقی علیه السلام سے ایک روایت هے که آپ نے فرمایا:’’پروردگار عالم نے جناب ابراهیم علیه السلام کو خلیل اس لئے بنایا که وه محمد و آل محمد علیهم السلام پر بهت صلوات پڑھتے تھے۔‘‘(۲۶)

اور جناب عمار یاسر نقل فرماتے هیں که میں نے سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فرماتے سنا هے که ایک فرشته کو ان تمام مخلوقات کے اسماء دے دئے گئے هیں اور جب میں اس دنیا سے رخصت هو جاؤں گا تووه فرشته قیامت تک میری قبر پر هوگا، اور جب بھی کوئی مجھ پر صلوات پڑھے گا تو وه فرشته مجھے خبر دے گا که فلاں بن فلاں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایسے ایسے صلوات پڑھی هے ؛ اور میرے خدا نے اس بات کی ذمه داری لی هے که وه اس عبد پر هر صلوات کے بدلے دس مرتبه صلوات بھیجے(یعنی رحمت نازل کرے)؛(۲۷) اور جب بھی کوئی انسان سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر سلام کرتا هے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کا جواب دیتے هیں اور سرکار ختمی مرتبت کے سلام سے افضل کس کا سلام هوگا اوروه پروردگار کے سفیروں میں سب سے نزدیک ترین سفیر هیں۔

جیسا که ایک روایت محمد بن مروان سے نقل هوئی هے که امام صادق علیه السلام نے فرمایا:’’پروردگا ر عالم نے ظهیللنامی ایک فرشته قبر سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرمقرر کیا هے که جس کا کام یه هے که جب بھی تم میں سے کوئی انسان سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود و سلام بھیجتا هے تو وه فرشته سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کهتا هے که یا رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فلاں شخص نے آپ پر صلوات پڑھی هے اور سلام بھیجا هے تو امام علیه السلام کهتے هیں که نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کا جواب بھی دیتے هیں۔‘‘(۲۸)

۸. صلوات تاریکوں سے نکل کر نور کی طرف جانے کا ذریعه هے

بهت سی تاریکیاں ایسی هیں که جن میں انسان مبتلاء هے،گرفتار هے اور جس سے نجات بهت مشکل هے؛ مثلاً شیطانی افکار، برے اخلاق کی تاریکی،گناه کی تاریکی، اس لئے که انسان سے جب بھی کوئی گناه سرزد هوتا هے تو وه اس کے نامه اعمال کو سیاه کر دیتا هے اور اس کے دل کو بھی سیاه و تاریک کر دیتا هے؛ گویا انسان کا قلب ایک ورق کی مانند هے که انسان جتنا زیاده سےزیاده گناه کرتا هے وه ورق بھی اتنا هی سیاه هوتا جاتا هے۔

اور پروردگار عالم نے اپنے لطف و کرم و احسان سے همارے لئے ایک راسته ایسا بنایا هے که جس سے هم تاریکوں سے نکل سکتے هیں اور وه وسیله و راسته محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنا هے۔

جیسا که ایک روایت وارد هوئی هے که جناب اسحاق بن فروغ سے امام صادق علیه السلام فرماتے هیں که’’سے اسحاق بن فروغ اگرکوئی شخص دس مرتبه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجتا هے تو خدا اور اسکے فرشتے اس کے اوپر هزار مرتبه صلوات بھیجتے هیں که تم نے پروردگار عالم کا یه فرمان نهیں سنا( هُوَ اَلَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَ مَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ اَلظُّلُماتِ إِلَى اَلنُّورِ وَ كانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيماً ) (۲۹) وہی وہ ہے جو تم پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی منزل تک لے آئے اور وہ صاحبان ایمان پر بہت زیادہ مہربان ہے۔

تو اس حدیث کا مطلب یه هے که محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے والے کی شان عظیم هے اور وه یه هے که خود خدا اور ملائکه صلوات بھیجتے هیں اور جس کے اوپر خدا صلوات بھیجے قطعاً اسے تاریکیوں سے باهر نکال دے گا۔

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’میرے اوپر زیاده سے زیاده صلوات پڑھو اس لئے که میرے اوپر صلوات قبر و صراط و جنت کا نور هے۔‘‘(۳۰)

اور ایک روایت میں هے که سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص میرے اوپر صلوات پڑھتا هے تو پروردگار اس

کے سر پر دائیں جانب، بائیں جانب اور اوپر، نیچے نور خلق فرماتا هے بلکه اس کے هر عضو کے لئے نور خلق کر دیتاهے۔‘‘(۳۱)

۹. صلوات نفاق کے خاتمه کی باعث هے

محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کی ایک خصوصیت یه بھی هے که وه نفاق کو ختم کر دیتی هے، اس لئے که صلوات یعنی سرکاردوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے اهلبیت علیهم السلام سے اعلان محبت و ولاء هے چونکه منافق یا صلوات نه پڑھے گا یا ایسی صلوات پڑھے گا جو فائده بخش نه هوگی (یعنی ایسی صلوات ناقص هوگی) اس لئے که وه یه نهیں چاهتا که نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و آل نبی علیهم السلام کا ذکر عام هو، لهذأ وه ان عظیم هستیوں پر صلوات نهیں بھیج سکتا اور اس سلسله میں سرکار ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت بھی نقل هوئی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اپنی آوازوں کو صلوات کے وقت بلندکرو(یعنی بلند آواز سے صلوات پڑھو) چونکه یه عمل نفاق کو ختم کرتا هے۔‘‘(۳۲)

۱۰. صلوات شیطان سے دوری کی باعث هے

هر وه شئ شریر و قبیح که جس کا تعلق جن و انس سےهو وه شیطان هے اور قرآن و حدیث اهلبیت علیهم السلام میں زیاده تر اس لفظ کا استعمال ابلیس واعوان و انصار و ذریت ابلیس کے لئے هوا هے جو که انسان کے بدن میں خون کی طرح سے دوڑتا هے اور بهترین طریقه شیطان کو دور کرنے کا محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

جیسا که سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که ’’شیطان دو طرح کے هیں : ایک جن کا تعلق صنف جن سے هے جو که ذکر(لا حول ولا قوة الا بالله العلی العظیم ) کے ذریعه سے دور هوتاهے اور دوسرا وه هے که جس کا تعلق صنف انسان سے هے که جو محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجنے کے ذریعه سے دور هوتا هے۔‘‘(۳۳)

اسی طرح ایک اور روایت سرکار ختمی مرتبت سے هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’واما نفثاته(یعنی شیطان)‘‘ کیا تم جانتے هو که قرآن مجید کے بعد همارے ذکر کے علاوه (یعنی هم پر صلوات کے علاوه )که جو زیاده شفاء بخش هو پروردگار عالم نے هم اهلبیت علیهم السلام کے ذکر کو شفاء بنایا هے اور هم پر صلوات کو گناهوں کے مٹانے کا ذریعه قرار دیا هے اور عیوب سے پاکیزگی اور حسنات میں اضافه کا سبب قرار دیا هے۔(۳۴)

۱۱. قیامت کے هول ناک مناظر سے نجات کا راسته هے صلوات

سرکاردوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت هے که’’اگر کسی شخص نے مجھ پر ایک هزار مرتبه صلوات پڑھا تو اس کے مرنے سے پهلے اسے جنت کی بشارت هوگی۔‘‘(۳۵)

ایک اور حدیث میں هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’روز قیامت حوض کوثر پر ایسی قوم بھی وارد هوگی که جسے میں فقط و فقط کثرت صلوات کے ذریعه سے جانوں گا۔‘‘(۳۶)

اور ایک حدیث میں اس طرح سے هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که ’’جو شخص مجھ پر هزار مرتبه صلوات پڑھے گا پروردگار عالم جهنم کو اس پر حرام کر دے گا اور دنیا و آخرت میں قول حق پر ثابت قدم رکھے گا، اور اسی طرح سوال و جواب کی پریشانی سے بھی نجات دےگا، اور پروردگار عالم اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس نے جو صلوات پڑھی هے وه پانچ سو سال کے فاصله پر پل صراط پر نور بنکر آئے گی اور اس نے جتنی بھی صلوات پڑھی هوگی پروردگار عالم هر صلوات کے عوض میں اسے جنت میں ایک محل عطا فرمائےگا، خواه صلوات کم پڑھی هو یا زیاده۔(۳۷)

۱۲. صلوات سے انسان دنیا و آخرت میں ایمان پر باقی ره سکتا هے

چونکه انسان کسی بھی وقت اضطراب و تردید و کج فکری کا شکار هو سکتا هے جو که اسے راه حق سے منحرف کر دے گی، اس لئے که صفت اطمینان بهت هی مشقتوں کے بعد حاصل هوتی هے اور پھر سب سے بڑا مسئله اس پر ثابت قدم رهنا هے، اس

لئے که تاریخ میں ایسی بهت سی شخصیات گذری هیں که جن کی ابتدا تو ایمان پر تھی اور زندگی کے ابتدائی مراحل میں راه حق پر تھے لیکن ان کی زندگی کا خاتمه کفرو نفاق پر هوا، جیسا که طلحه و زبیر و سامری وغیره۔

تو اگر هم یه چاهتے هیں که همارے دل ایمان پر ثابت رهیں اور هم اس دنیا سے مومن اٹھیں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھیں تاکه اس کے ذریعه سے دنیاو آخرت میں خوشبخت هو سکیں۔

۱۳. صلوات باعث شفاعت هے

یعنی محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات روز قیامت شفاعت کا ذریعه هے۔

جیسا که امام محمد باقر علیه السلام سے روایت هے که جسے آپ نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی که سرکارختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که میں قیامت میں اس کی شفاعت کروں اور وه مجھ سے توسل کرنا چاهتا هے تو اس کے لئے ضروری هے که میرے اهلبیت پر صوالت پڑھے اور انھیں خوش رکھے۔‘‘(۳۸)

اور چونکه سب سے پهلے اور سب سے افضل شافع روز جزاء سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ذات گرامی هے، چونکه پروردگار عالم نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو مقام شفاعت عطا کیا هے( ولسوف یعطیک ربک فترضی ) (۳۹) اور عنقریب تمهارا پروردگار تمهیں اس قدر عطا کرے گا که تم خوش هو جاؤ۔

اور ایسی بهت سی روایات هیں که جن سے یه معلو م هوتا هے که اهلبیت علیهم السلام روز قیامت گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے۔

جیسا که امام صادق علیه السلام سے ایک روایت هے که جس میں آپؑ نے فرمایا:’’خدا کی قسم هم قیامت کے دن اپنے گناهگار شیعوں کی شفاعت کریں گے یهاں تک که دشمن یه دیکھ کر کهے گا( فما لنا من شافعین ولا صدیق حمیم ) ‘‘(۴۰)

ایسی هی ایک حدیث سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے که جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے:’’عسی أن یبعثک ربک مقاما محمودا‘‘ کے ضمن میں فرمایا که یه وه مقام هے که جس میں میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا(یعنی مراد شفاعت هے)۔

جس طرح سے حق شفاعت سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حاصل هے اسی طرح حق شفاعت اهلبیت عصمت و طهاعت علیهم السلام کو بھی حاصل هے جو که روز قیامت مخلوقات پر گواه هوں گے اس لئے که یه سب ایک هی نفس هیں اور سب کے نور کو پروردگار عالم نے اپنے نور سےخلق فرمایا هے۔

اور ان میں صدیقه طاهره حضرت فاطمة الزهراء سلام الله علیها کی ذات گرامی بھی هے۔

ممکن هے که یه سوال کیا جائے که کیسے صلوات محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر موجب شفاعت هے!

تو اس کا جواب یه هوگا که ذکر صلوات سب سے افضل و بهتر هدیه هے که جو هم اهلبیت عصمت و طهارت علیهم السلام کی خدمت میں پیش کر سکتے هیں اور یه وه ذوات مقدسه هیں که جو معدن(کان) کرم هیں اور صلوات پڑھنے والے کو جس وقت سخت ضرورت هوگی (قیامت کے دن) اس وقت یه حضرات اسکی مدد کریں گے۔

۱۴. صلوات باعث قبولیت دعا هے

اگر هم یه چاهتے هیں که هماری دعائیں قبول هوں تو همارے لئے ضروری هے که هم محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات بھیجیں که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات اور ان کے واسطه سے گذشته قوموں کی دعائیں قبول هوئی هیں اور انشاء الله اس کی تفصیل آنے والے مباحث میں ذکر کئے جائیں گے۔

موالائے کائنات علی بن ابی طالب علیهما السلام سے ایک روایت هے که آپؑ نے فرمایا:’’اگر بارگاه خداوندی میں تمهاری کوئی حاجت هے تو پهلے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر صلوات پڑھو پراپنی حاجت طلب کرو، اس لئے که پروردگار عالم سے بعید هے که ایک حاجت کو پورا کرد ے لیکن دوسری حاجت کو پورا نه کرے۔‘‘(۴۱)

اسی طرح ایک اور روایت مولائے متقیان حضرت علی علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’کوئی بھی دعا آسمان تک نهیں پهنچ سکتی مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے۔‘‘(۴۲) (یعنی بغیر صلوات کے دعا قبول نهیں هوسکتی)۔

ایک اور روایت اسی باب میں سرکار ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’کوئی دعا ایسی نهیں هے جس دعا میں اور آسمان کے درمیان حجاب و مانع نه هو مگر یه که محمدؐ و آل محمدعلیهم السلام پر صلوات پڑھی جائے، جیسے هی صلوات پڑھی جائے گی وه حجاب اور مانع برطرف هو جائے گا اور اگر دعا کرنے والا صلوات نهیں پڑھتا تو اس کی دعا واپس هو جاتی هے(یعنی قبول نهیں هوگی۔)‘‘(۴۳)

ایک اور روایت صادق آل محمدؐ امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا:’’ایک شخص سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که یا رسول الله میری ایک تهائی دعا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نےفرمایا که:خیر! پھر اس شخص نے کها که یا رسول الله میری نصف دعا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا میں فرمایا که یه تو اور اچھا هے(افضل هے)، پھر اس نے کها میری ساری دعا آپ کے لئے تو سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: پس پروردگار عالم تمهارے دنیوی و اخروی امور و حاجات کو پورا کرے گا، پھر راوی نے کها که یه بتائیں که کیسے اس نے اپنی دعا کو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام کردیا؟ تو امامؑ نے جواب دیا که جب تک وه صلوات نهیں پڑھ لیتا تھا کوئی دعا مانگتا هی نهیں تھا۔‘‘(۴۴)

ایک روایت اور امام صادق علیه السلام سے هے که آپؑ نے فرمایا رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’مجھے سوار کے پیاله کے مانند قرار نه دو اس لئے که سوار(مسافر) اپنے کوزے کو بھرتاهے اور جب چاهتاهے پی لیتا هے، بلکه مجھے اول دعا،وسط دعااورآخر دعا میں یاد رکھو۔‘‘(۴۵) (یعنی جب ضرورت پڑے فقط تب یاد نه کرو بلکه همیشه یاد رکھو۔)

اور بهت سے علماء اهلسنت نے بھی ایسی روایتیں نقل کی هیں جنکا مفهوم یه هے که دعا بغیر محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پرصلوات کے قبول نهیں هو سکتی۔

جیسا که ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقه میں صفحه نمر ۸۸ پر ؛

متقی هندی اپنی کتاب کنز العمال ج ۱ ، ص ۲۱۴ پر؛

قندوزی نے ینابیع المودة میں صفحه ۲۹۵ پر؛

اسی طرح اگر کوئی مراجعه کرنا چاهتا هے تو کتاب احقاق الحق جلد ۹ ، صفحه ۶۶۵ کی طرف رجوع کر سکتا هے۔

۱۵. صلوات سے حاجتیں پوری هوتی هیں

روایات میں هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات کے ذریعه سے حاجتیں پوری هوتی هیں ۔

ایک حدیث میں سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که اگر کوئی محمد ؐ و آل محمد علیهم السلام پر ایک مرتبه صلوات پڑھے گا تو اس کی سو( ۱۰۰) حاجتیں پوری هوں گی۔(۴۶)

اور ایک روایت هے که جس میں سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کسی کی کوئی ایسی حاجت هو که جوپوری نه هو رهی هو تو اس کے لئے ضروری هے که زیاده سے زیاده محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے، اس لئے که صلوات سے هم و غم برطرف هوتے هیں، رزق میں اضافه هوتا هے اور حاجتیں پوری هوتی هیں۔‘‘(۴۷)

اور طلب حاجت کے سلسله سے امام زین العابدین علیه السلام سے ایک دعا صحیفه سجادیه میں هے که آپؑ نے فرمایا:’’اللهم صل علی محمد وآل محمد صلاة دائمة نامیة لا انقطاع لأبدها ولا منتهی لأمدها، واجعل ذلک عوناً لي و سبباً لنجاح طلبتي انّک واسع کریم .‘‘

اور کتاب تحفةالرضویه میں یوں ذکر هے هوا هے که:دعا(اللهم صل علی فاطمة و ابیها و بعلها وبنیها بعدد ما احاط به علمک و احصاه ) مجربات میں سے هے که اسے اگر روزانه ستر مرتبه پڑھا جائے تو حاجتیں پوری هوتی هیں اور مریضوں کی شفا کا باعث هے۔(۴۸)

اور اسی طرح علماء کے نزدیک یه بھی مجرب هے که وه اپنی حاجتوں کے لئے صلوات کی نذر مانتے هیں۔

۱۶. صلوات صحت و سلامتی کی باعث هے

اگر کوئی شخص یه چاهتا هے که روحی امراض جیسے که کفر و شرک و نفاق و حسد و فسادروحانی امراض جسمانی امراض سے زیاده نقصان ده و ضرر رساں هیں چونکه یه امراض انسان کو سعادت سے محروم کردیتے هیں) وغیره اور جسمانی امراض سے محفوظ رهے تو اسے چاهئے که محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مروی هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص ایک مرتبه صلوات پڑھتا هے تو پروردگار عالم اس پر عافیت و سلامتی کا دروازه کھول دیتا هے۔‘‘(۴۹)

سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک اور روایت هے که آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:’’پروردگار عالم کے نزدیک سوال عافیت سے زیاده محبوب کوئی سوال نهیں هے۔‘‘(۵۰)

ایک اور حدیث میں آیا هے که کسی نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے دریافت کیا که لیلة القدر میں کس شئ کے لئے دعا کریں تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که پهلے عافیت کے لئے پھر قناعت کے لئے ۔(۵۱)

پس هر انسان کے لئے ضروری هے که پروردگار عالم سے دین و دنیا میں صحت و سلامتی کے لئے دعا کرے، اور اسی سبب سے صلوات ان اذکار میں سے هے جو که موجب عافیت و سلامتی هیں، اس لئے که مریض کا اهل بیت عصمت و طهارت علیهم السلام کا ذکر کرنا گویا جسمانی و روحانی طبیب سے رابطه کرنا هے اور بارگاه پروردگار میں توسل کرنا هے تاکه خدائے وحده لاشریک شفا عطار فرمائے اور اگر کوئی شخص خود معدن رحمت تک پهنچ جائے تو پروردگار اس کے لئے باب عافیت کو کھول دیتا هے۔

هم سب کی دعا بارگاه خداوندی میں هے که (یا ولی العافیة نسألک العافیة عافیة الدین و الدنیا والآخرة بحق محمد و عترته الطاهرة

۱۷. صلوات کے ذریعه سے بھولی هوئی چیزوں کو یاد کیا جاسکتا هے

گناهوں کا ارتکاب انسان کے قلب و دماغ پر منفی اثر ڈالتا هے؛ گناه انسان کے دل کو فاسد کردیتا هے اور جو که باعث جهالت و نسیان هے اور اس کے علاج کا بهترین طریقه محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھنا هے۔

امام حسن مجتبی علیه السلام سے ایک روایت هے که جسے آپؑ نے ایک شخص کے اس سوال(که انسان کیسے چیزوں کو بھول جاتا هے، اور کیسے چیزیں یاد آتی هیں؟!) کے جواب میں فرمایا:’’انسان کا دل ایک ظرف میں هے اور اس پر پرده پڑا هوا هے پس اگر کوئی انسان محمد و آل محمد علیهم السلام پر کامل و تام صلوات پڑھتاهے تو اس سے وه پرده هٹ جاتا هے اور انسان کا دل منور هو جاتا هے تو انسان بھولی هوئی چیزوں کو یاد کرلیتا؛ یا بھولی هوئی چیزیں انسان کو یاد آجاتی هیں اور اگر اس نے صلوات نهیں پڑھی یا ناقص صلوات پڑھی تو وه پرده اس ظرف سے نهیں هٹتا اور دل تاریک هوجاتا هے جو که اس شئ کا سبب هے که انسان کو جو چیزیں یاد بھی هوتی هیں وه اسے بھی بھول جاتا هے۔‘‘(۵۲)

۱۸. صلوات فقر سے نجات کی باعث هے

انسان کی زندگی میں فقر و تنگدستی سے بهت هی سخت امتحان هوتا هے جس سے انسان گذرتا هے اور حضرت علی علیه السلام نے فرمایا: (لو کان الفقر رجلا لقتلته ) که اگر فقر انسانی شکل میں هوتا تو میں اسے قتل کر دیتا۔

اور اس سے نجات کا راسته و طریقه محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

ایک روایت سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے هے ایک شخص نے آپ سے فقر کا گلا و شکوه کیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که اگر تو چاهتاهے که پروردگار عالم تجھے غنی بنا دے تو تیرے لئے ضروری هے که تو مجھ پر اور میرے آل علیهم السلام پر صلوات پڑھے۔(۵۳)

اور چونکه بات فقر و تنگدستی کی هو رهی هے تو مناسب سمجھتا هوں که ایک دعا فقر سے نجات اور قرض کی ادائگی کے لئے بیان کردوں اور وه دعا بهت هی مجرب هے اور اس دعا کے سلسله سے علماء و فضلاء کا تجربه بھی هے روایت یه هے:

امام محمد باقر علیه السلام نے اپنے اباو اجداد سے انھوں نے مولائے کائنات علیه السلام سے نقل فرمایا که آپؑ نے فرمایا:’’میرے اوپر قرض تھا اور میں نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اس کا تذکره کیا تو سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا که یه کهو:(اللهم اغنني بحلالک عن حرامک و بفضلک عمن سواک )‘‘ که اگر مانند صبیر بھی قرض هوگا تو پروردگار عالم اسے ادا کر دیگا۔(۵۴) صبر یمن میں ایک پهاڑ کانام هے که جس سے بڑا اور عظیم کوئی پهاڑ نهیں هے۔

جناب شیخ بهائی ؒ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے هیں که ایک مرتبه میرے اوپر قرض بهت هو گیا تھا جو ڈیڑ هزار مثقال سونے سے بھی زیاده تھا اور جن لوگوں سے میں نے قرض لیا تھا وه بهت زیاده تقاضا کر رهے تھے یهاں تک که میں اسکی وجه سے اپنا دوسرا کام بھی نهیں کر پایا رها تھا، اور اداء دین کے سلسله سے میرے پاس کوئی راسته بھی نهیں تھا تو میں روز نماز صبح کے بعد اس دعا کو پڑھتا تھا اور بعض اوقات دوسری نمازوں کے بعد بھی پڑھتا تھا پھر کچھ هی وقت گذرا تھا که نه جانے کیسے وه قرض ادا هوگیا میں سوچ هی نهیں سکتا تھا۔

اور اس دعا کے سلسله سے جناب سید محسن امین قدس سره فرماتے هیں که جیسے مجھے اس دعا کے سلسله سے خبر هوئی تو میں نے اس کو نمازوں میں پڑھنا شروع کردیا تو بجز بعض اوقات کے خدا کے شکر سے مجھے کبھی بھی تنگی رزق کی شکایت نهیں هوئی۔

اور بعض علماء کهتے هیں یه دعا قرض کی ادائگی کے لئے بهت هی موثر هے، جب بھی اس دعا کو پڑھا میرا قرض ایک هفته سے پهلے پهلے ادا هوگیا، اور بعض علماء کا کهنا هے که میرا سوچنا یه هے که یه سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے معجزات میں سے هے۔

۱۹. صلوات باعث رحمت الهی هے

جو بھی محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھے گا رحمت خداوندی دنیا و آخرت میں اس کے شامل حال هوگی۔

جیسا که مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام نے خطبه میں فرمایا که:’’شهادتین(اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد اً رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )‘‘ کے ذریعه سے جنت میں جاؤ گے اور رحمت خداوندی شامل حال هوگی پس زیاده سے زیاده محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھو۔(۵۵)

۲۰. صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، امام علیه السلام یا مرده کی زیارت هوگی

یعنی صلوات کے ذریعه خواب میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور کسی امام علیه السلام کی یا کسی میت کی زیارت کی جاسکتی هے۔جناب سید محمد باقر اصفهانی نقل کرتے هیں که عالم و فاضل جناب محمد بن سعید فرماتے هیں که میں نے یه عهد کیا که میں هر شب سونے سے پهلے محمد و آل محمد علیهم السلام پر صلوات پڑھوں گا تو میں نے ایک شب خواب میں دیکھا که رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے کمره میں داخل هوئے تو پورا کمره حضرت کے نور سے منور هوگیا۔ اور سرکارصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کهنے لگے که وه هونٹ کهاں هے جس سے مجھ پر اور میری آل علیهم السلام پر صلوات پڑھی جاتی هے میں اس کا بوسه لینا چاهیتا هوں؛ او ر سرکار نے بوسه لیا اور چلے گئے اور جب میں بیدار هوا تو دیکھا که کمره خوشبو سے معطر هے تو میں بهت خوش هوا اور تقریباً یه خوشبو آٹھ دن تک میرے کمره میں رهی اور لوگ تعجب کے ساتھ اسے محسوس کرتے تھے۔

اسی طرح سے اگر کوئی چاهتا هے که کسی میت سے خواب میں ملاقات کرے تو اس کا راسته بھی محمدؐ و آل محمد علیهم السلام پر صلوات هے۔

جیسا که ایک روایت جناب ابو هشام سے هے که نقل کرتے هیں که ایک شخص امام محمد تقی علیه السلام کی خدمت میں حاضر هوا اور کهنے لگا که میرے والد کا انتقال هو گیا هے اور وه کچھ مال(ترکه) چھوڑ کر گئے هیں لیکن هم کو پته نهیں هے که وه مال کهاں هے اور مولاؑ میں آپ کے شیعوں میں سے هوں اور میرا خانواده بڑا هے میری مدد کریں تو امام علیه السلام نے فرمایا: نماز عشاء کےبعد تین مرتبه محمدؐ و آل محمد علیه السلام پر صلوات پڑھنا تو تمهارے بابا خواب میں آکر تمهیں بتائیں گے که مال کهاں هے۔ تو شخص نے ویسا که کیا جیسا امامؑ نے فرمایا تھا اور اس نے خواب میں اپنے باپ کو دیکھا که اس سے کهه رهے هیں که اے بیٹا مال فلاں جگه پر رکھا هے اسے لے لو اور امام علیه السلام کو جاکر بتا دو که میں نے تمهیں بتا دیا، تو اس شخص نے مال لیا اور اور امام علیه السلام کو جاکر بتا بھی دیا اور کها:’’الحمد لله الذی اکرمک و اصطفاک ‘‘ یعنی ساری تعریفیں اس خدا کے لئے هیں که جس نے آپ کو منتخب کیا۔(۵۶)

اسی طرح یه حکایت کی گئی هے که اگر کوئی شخص برابر اس صلوات(اللهم صل علی محمد و آله وسلم کما تحب و ترضی ) کو پڑھے گا تو اس کے ذریعه سے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی زیارت کرسکتا هے۔(۵۷)

صلوات کے فوائد بطور خلاصه

۱) پروردگار عالم صلوات پڑھنے والے کی احتیاج کو پورا کر دیتا هے۔

۲) غریبوں کے لئے صلوات بمقام صدقه هے۔

۳) صلوات سبب طهارت و تذکیه نفس هے۔

۴) صلوات مجلس کی برکت کی باعث هے ورنه وه مجلس و نشست قیامت کے دن اهل مجلس کے لئے بلاء و وبال هوگی جس میں صلوات نه پڑھی جائے۔

۵) اگر انسان سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذکر کے بعد صلوات پڑھے گا تو صفت بخل اس سے دور هوگی۔

۶) صلوات پڑھنے والے راه جنت پر گامزن هیں اور نه پڑھنے والے جنت کے راسته سے منحرف هیں۔

۷) صلوات پل صراط پر نور کا باعث هے۔

۸) صلوات پرھنے والا جفاکار نهیں هے، اور جو صلوات نهیں پڑھتا گویا اس نے سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جفا کیا۔

۹) صلوات پڑھنے والے کی تعریف پروردگار عالم زمین و آسمان والوں کے سامنے کرتا هے۔

۱۰) صلوات جنت میں باعث کثرت ازواج هے اور جنت میں اعلیٰ مقام کا باعث بھی هے۔

۱۱) صلوات عطش(پیاس) کو رفع کرنے والی هے۔

۱۲) ذکر صلوات بیس غزوات کے برابر هے، بلکه اس سے بھی کهیں زیاده بهتر هے۔

۱۳) صلوات علامت هے که صلوات پڑھنے والا سنت نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر عمل کرنے والا هے۔

۱۴) ثواب صلوات خود صلوات پڑھنے والے کو اور اس کی اولاد کو اور جس کے لئے صلوات ایصال کی جائے سب کو پهنچے گا۔

۱۵) بعض علماء کا کهنا هے که محمد و آل محمد علیهم السلام پرصلوات سے دس کرامتیں حاصل هوتی هیں:

۱) خود پروردگار صلوات بھیجتا هے؛

۲) سرکار دوعالمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس کی شفاعت کریں گے؛

۳) صلوات عمل ملائکه کی پیروی هے؛

۴) صلوات منافقین و کفار کی مخالفت هے؛

۵) صلوات سے گناه مٹا دیئے جاتے هیں؛

۶) صلوات کے ذریعه حاجتیں پوری هوتی هیں؛

۷) انسان کا ظاهر و باطن منور هوتا هے؛

۸) قیامت کے هولناک مناظرسے نجات حاصل هوگی؛

۹) جنت میں داخله کا باعث هے؛

۱۰) موجب سلام پروردگار هے۔

____________________

۱ سوره احزاب، آیه ۵۶

۲ سوره انبیاء آیه ۲۰

۳ سوره احزاب، آیه ۵۶

۴ جمال الاسبوع، ۲۳۶؛ البحار ۹۴؛ ۷۲؛۶۶؛ موالی الالی۲، ۳۶؛ ۹۷

۵ ؟؟؟؟؟ ورقه میں نهیں هے۔۔۔

۶ ارشاد القلوب، ج۲، ص۳۰۲

۷ منازل الآخرة، ص۱۱۶

۸ مناقب آل ابھی طالب(ع)۳، ۱۴۳

۹ وسائل باب۱۰، من ابواب اشهداء، حدیث۲

۱۰ جیسا که بعض لوگوں کا ماننا هے که اکسیر ایسا شربت هے که جس سے حیات طولانی هوتی هے۔(معجم)

۱۱ منازل الآخرة، ص۱۱۵

۱۲ آثار و برکات امیرالمومنین(ع)، ۲۳۸

۱۳ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۱

۱۴ عیوان اخبار الرضا(ع)، ۲، ۲۶۶

۱۵ الامتثال النبویة، ج۱، ۱۴۰

۱۶ کامل الزیارات،ص ۱۵۹

۱۷ کامل الزیارت، ص۳۲۲

۱۸ ثواب الاعمال و عقاب، الاعمال، ۲۴۴

۱۹ مذکوره حواله،۴۶

۲۰ جامع الاخبار، ۶۹،ج۵،۶،۷

۲۱ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۵

۲۲ منازل الآخرة،۱۱۴

۲۳ دار السلام،۲، ۱۲

۲۴ القطرة، ج۱، باب الصلاة علی النبی واآله

۲۵ البقرة۲۲۲

۲۶ وسائل الشیعه باب۹،من ابواب الذکر، حدیث۳

۲۷ مستدر الوسائل باب۱۱، من ابواب الذکر، حدیث۵

۲۸ جمال الاسبوع، ۱۶۰

۲۹ احزاب۴۳

۳۰ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷

۳۱ المستدرک، باب۳۲، من ابواب الذکر، حدیث۲۰

۳۲ الوسائل، باب۳۹، من ابواب الصلاة علی محمد و آل محمد علیهم السلام، حدیث۱

۳۳ المستدرک، باب۳۱، نب ابواب الذکر، حدیث۴۱

۳۴ المسدترک، باب۲۳، من ابواب فعل لمصروف، حدیث۱

۳۵ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال،۴۷

۳۶ مذکور حواله،ص۴۵

۳۷ ثواب اعمال و عقاب الاعمال، ص۴۵

۳۸ وسائل الشیعه، باب۴۳، من ابواب الذکر، حدیث۵

۳۹ سوره ضحی،۵

۴۰ میزان الحکمة،۵،۱۲۲

۴۱ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعا، حدیث۱۸

۴۲ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۴۶

۴۳ مذکوره حواله،۴۷

۴۴ الوسائل، باب۳۶، من ابواب الدعاء، حدیث۴

۴۵ مذکوره حواله، حدیث۷

۴۶ ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص۵۰

۴۷ مذکوره حواله،ص۵۰

۴۸ التحفة الرضویة، ص۲۰۲

۴۹ المستدرک، باب۳۱، من ابواب الذکر، حدیث۱۱

۵۰ میزان الاعمال،ج۶، ص۳۸۳

۵۱ منتهی الاعمال، ج۲، ص۴۸۰

۵۲ الوسائل،۳۷، باب من ابواب الصلوات علی محمدؐ وآل محمد، حدیث۱

۵۳ لالی الدنیا،۳ ص۴۳۶

۵۴ التحفة الرضویة،۳۰

۵۵ بحارالانوار، ج۹۴، ص۴۸

۵۶ دارالسلام، ج۱، ص۳۳۸

۵۷ مذکور حواله،ج۳، ص۱۱۶


4

5

6

7