فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)0%

فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ) مؤلف:
قسم: امیر المومنین(علیہ السلام)
صفحے: 809

فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیة اللہ جعفر سبحانی
قسم: صفحے: 809
مشاہدے: 6295
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 751

تبصرے:

فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 809 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 6295 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 751
سائز سائز سائز
فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

فروغِ ولایت(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب: فروغِ ولایت

(سیرت امیر المومنین علی علیہ السلام کا مکمل جائزہ)

تالیف: آیة اللہ جعفر سبحانی

ترجمہ: سید حسین اختر رضوی اعظمی

تطبیق اورتصحیح : مسعود اختر رضوی اعظمی

نظر ثانی: سیدشجاعت حسین رضوی

پیشکش: معاونت فرہنگی ،مجمع جہانی اہل بیت،ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

طبع اول : ۱۴۲۹ھ ۲۰۰۸ ء

تعداد : ۳۰۰۰

مطبع : لیلا

۳

قال رسول اﷲ :

''انی تارک فیکم الثقلین، کتاب اﷲ، وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلّوا ابدا وانهما لن یفترقا حتّیٰ یردا علیّ الحوض'' ۔

حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں:(ایک) کتاب خدا اور (دوسری) میری عترت اہل بیت (علیہم السلام)، اگر تم انھیں اختیار کئے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں''۔

اس حدیث شریف کومتواتر اور اس سے مشابہ دوسری حدیثوں کو مختلف تعبیروں کے ساتھ شیعہ اور اہل سنت کے مختلف کتابوں میں ذکرکی گئی ہیں۔

(صحیح مسلم: ۱۲۲۷، سنن دارمی: ۴۳۲۲، مسند احمد: ج۳، ۱۴، ۱۷، ۲۶. ۳۶۶۴ و ۳۷۱. ۱۸۲۵اور ۱۸۹، مستدرک حاکم: ۱۰۹۳، ۱۴۸، ۵۳۳. و غیرہ.)

۴

پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

( اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْراً )

(سورۂ احزاب : آیت ۳۳)

شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میںرسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بہت سی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ آیۂ مبارکہ پنجتن پاک کی شان میں نازل ہوئی ہے اور '' اہل بیت'' سے مرادیہی اصحاب کساء ہیں اور وہ : محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علی ، فاطمہ، حسن و حسین علیہم السلام ہیں۔نمونہ کے طور پر ان کتابوں کی طرف رجوع کریں: مسند احمد بن حنبل(وفات ۲۴۱ھ): ج۱، ص۳۳۱،ج۴،ص۱۰۷، ج۶،ص۲۹۲ و ۴؛ صحیح مسلم (وفات۲۶۱ ھ) ج۷،ص۱۳۰؛ سنن ترمذی (وفات ۲۷۹ھ ):ج۵،ص۳۶۱ و...؛ الذریة الطاہرة النبویة دولابی (وفات: ۳۱۰ ھ ص۱۰۸؛ السنن الکبریٰ نسائی(وفات ۳۰۳ ھ ): ج۵ ،ص۱۰۸ و ۱۱۳؛ المستدرک علی الصحیحین حاکم نیشاپوری(وفات: ۴۰۵ ھ): ج۲، ص ۴۱۶، ج۳،ص۱۳۳و ۱۴۷ و ۱۱۳؛ البرہان زرکشی(وفات ۷۹۴ ھ ) ص۱۹۷؛ فتح الباری شرح صحیح البخاری ابن حجر عسقلانی(وفات ۸۵۲ ھ):ج۷،ص۱۰۴؛ اصول الکافی کلینی(وفات ۳۲۸ ھ ): ج۱،ص ۲۸۷ ؛ الامامة و التبصرة ابن بابویہ (وفات ۳۲۹ ھ): ص۴۷، ح۲۹؛ دعائم الاسلام مغربی(وفات ۳۶۳ ھ):ص۳۵ و ۳۷؛ الخصال شیخ صدوق(وفات ۳۸۱ ھ):ص۴۰۳ و ۵۵۰؛ الامالی شیخ طوسی(وفات ۴۶۰ ھ):ح ۴۳۸،۴۸۲ و ۷۸۳ نیز مندرجہ ذیل کتابوں میں اس آیت کی تفسیر کی طر ف مراجعہ کریں: جامع البیان طبری(وفات۳۱۰ھ) ؛ احکام القرآن جصاص(وفات ۳۷۰ ھ )؛ اسباب النزول واحدی(وفات ۴۶۸ ھ)؛ زاد المسیرابن جوزی(وفات۵۹۷ ھ)؛ الجامع لاحکام القرآن قرطبی(وفات ۶۷۱ ھ)؛ تفسیر ابن کثیر (وفات ۷۷۴ ھ)؛ تفسیر ثعالبی (وفات۸۲۵ ھ)؛ الدر المنثور سیوطی(وفات ۹۱۱ ھ)؛ فتح القدیر شوکانی(وفات ۱۲۵۰ ھ)؛ تفسیر عیاشی(وفات ۳۲۰ ھ)؛ تفسیر قمی(وفات:۳۲۹ ھ)؛ تفسیر فرات کوفی (وفات ۳۵۲ ھ) آیۂ اولوا الامر کے ذیل میں؛ مجمع البیان طبرسی(وفات ۵۶۰ ھ)ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری کتابیں ہیں۔

۵

بسم الله الرحمٰن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے منھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پر نور ہو جاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا ،دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و مؤسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمئہ حق و حقیقت سے سیراب کر دیا ،آپ کے تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا ،اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑ گئیں ،وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ،ولولہ اورشعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کر لیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت (ع) اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے ،وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہو کر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کر دئی گئی تھی ،پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیرمکتب اہل بیت (ع) نے اپنا چشمئہ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنہوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہرقسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے ،خاص طور پر عصر حاضر میں

۶

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام وقرآن اور مکتب اہل بیت ٪ کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ،دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بے تاب ہیں ،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھا کر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا ،وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت (ع) کونسل)مجمع جہانی اہل بیت (ع) نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت (ع) و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہو سکے ،ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت٪ عصمت وطہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدوخال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن ،انانیت کے شکار ،سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن ونجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے لئے استقبال کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے ۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کومؤلفین ومترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ،زیر نظر کتاب ،مکتب اہل بیت (ع) کی ترویج و اشاعت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ، آیةاللہ جعفر سبحانی دام ظلہ کی گرانقدر کتاب فروغ ولایت کو فاضل جلیل مولانا سید حسین اختر رضوی اعظمی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے ،خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت ،مجمع جہانی اہل بیت (ع)

۷

بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم

مقدمہ

انسانی معاشرہ، تحقیق وجستجو کرنے والوں کی نظر میں ایک ایسے دریا کے مانند ہے جو خاموش اور بغیرآواز کے ہے اور زمانہ گزرنے کی وجہ سے اس کے بعض حصّے خشک ہوگئے ہیں اور اب جبکہ بہت زیادہ عرصہ گزر گیاہے تو ممکن ہے نابود وختم ہوجائے جس چیز نے اس کوخاموش اور بغیر آواز کا دریا باقی رکھا ہے وہ صرف ہوا کے تند اور تیز جھونکے اور تند وضعیف طوفان ہیں طوفان اورہوا کے جھونکے اٹھتے ہیں اور موج بنا کر کشتیوں کی قسمت وتقدیریں معین کرتے ہیں اور اس میں سے بعض موجیں ایسی بھی ہیں جو کشتی کو غرقاب کرکے لوگوں کو موت کی وادی تک پہونچا دیتی ہیں اور بعض موجیں ایسی ہیں جو نجات اور زندگی عطا کرتی ہیں ۔

جی ہاں، عظیم تاریخی شخصیتیں انسانی معاشرے کے لئے وہی بہترین موجیں ہیں جو کبھی کبھی لوگوں کو ہلاکت وبدبختی میں گرفتار کردیتی ہیں اور کبھی کبھی زندگی وسعادت کے لئے ہمیشہ راہنمائی کرتی ہیں ، حقیقتاً خدا وندعالم کی طرف سے معین کئے ہوئے الٰہی نمائندے اور پیغمبر اور پاک وپاکیزہ راہنما وہی بہترین موجیں ہیں جو اپنی بے مثال موج ہدایت کے ذریعے معاشرہ کی کشتی کو اپنی عاقلانہ اورمنطقی تربیت اور لوگوں کو آخرت کی طرف رغبت دلانے یا نجات تک پہونچانے اور ہمیشہ عمدہ زندگی کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے انسانی اور الٰہی قوانین کی طرف راغب کرتی ہیں ۔

یہ صاحبان عظمت وشرافت برائیوں اور پلیدگیوں سے خدا کی دی ہوئی طاقت و ہدایت کے ذریعہ ہمیشہ جنگ کرتے رہے اور انسانی معاشرے کو عزت وکرامت جیسی نعمتوں سے نوازتے رہے تاریخ شاہد ہے کہ جہاں پر بھی وحی کا نور چمکا ہے وہاں کے افراد کی فکریں اور عقلیں کھل گئیں ہیں اور انسانیت اور معاشرے میں ترقی کا سبب بنا ہے ۔

۸

پیغمبر اسلام (ص) ایک نور تھے جو انسانوں کے تاریک قلب ودماغ میں چمکے اور اس زمانے کے بدبخت وخبیث معاشرے کو انسانی فرشتوں سے روشناس کرایا اور تہذیب وتمدن کا ایسا تحفہ پیش کیا جو آج تک تمام انسانی قوانین میں سب سے عمدہ اور قیمتی ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کرتاہے، اوراگر صرف اور صرف تمام مسلمان اس راستے پرچلتے جو پیغمبر نے اسلامی معاشرے کے لئے معین کیا تھا اور اختلاف وتفرقہ ، تعصب اور خود غرضی سے پرہیز کرتے تو یقین کامل ہے کہ چودہ سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی اس تہذیب وتمدن کے مبارک درخت سے بہترین بہترین میوے تناول کرتے ، اور ایسی ظلم و ستم سے دنیا میں اپنی عظمت وبزرگی کے محافظ ہوتے لیکن افسوس اور ہزار افسوس کہ پیغمبر ختمی مرتبتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دردناک رحلت کے بعد جنگ وجدال، خود غرضی اور مقام طلبی نے بعض مسلمانوں پر قبضہ جمالیا تھا جس کی وجہ سے اسلامی اور الٰہی راستے میں زبردست اور خطرناک انحراف پیدا ہوگیا اور اسلام کے سیدھے راستے کو بہت زیادہ نقصان پہونچایا۔

حقیقتاً ، معاشرہ اُن دنوںکس چیز سے راضی نہ تھا ؟ اور کس وجہ سے لوگ ناشکری اور سرکشی اختیار کئے ہوئے تھے؟

جی ہاں ، ان لوگوں کی ناشکری اور ناراضگی ایسے امام کی مخالفت کی وجہ سے تھی کہ جنہیں پیغمبر اسلام (ص) نے مختلف طریقوں اور زاویوں اور مناسبتوں سے پہچنوایا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ درد ناک اور غم انگیز مخالفتیں اور ناشکری جو تمام مومنوں، پرہیز گاروں ، عالموں ، دانشمندوں ، سیاستدانوں اور فکر وآگہی رکھنے والوں خلاصہ یہ کہ پیغمبر اسلام (ص) کے بعد سب سے بزرگ الٰہی نمائندے نے ۲۵ سال تک گوشہ نشینی اختیار کرلیا اور تنہا آپ ہی نے ان دنوں اسلامی معاشرے کو منتشر ہونے سے بچایا اور یہ بات یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے کو لوگوں نے نہ یہ کہ صرف علی ـ کو نہیں پہچانا بلکہ اس امام برحق وعظیم الشان کے فضائل وکمالات کو ذرہ برابر بھی درک نہیں کیا۔

۹

لیکن اس ۲۵ سال کی گوشہ نشینی کے بعد جسے حضرت نے یوں تعبیر کیا ہے کہ جیسے میری آنکھ میں کانٹا اور گلے میں ہڈی ہو ، جس وقت اسلامی معاشرہ پیغمبر اسلام (ص) کے بتائے ہوئے سیدھے راستے سے بالکل منحرف ہوگیا اور مسلمانوں نے چاہا کہ پھر سے اسی راستے کو اپنائیں تو حقیقی رہنما اور عظیم وبزرگ الٰہی شخصیت اور اپنے بڑے مربی کو تلاش کرنے لگے ، تاکہ وہ معاشرے کو صحیح راستے پر لائیں اور جس طرح سے پیغمبر (ص)چاہتے تھے اسی طرح عدل وانصاف سے آراستہ حکومت قائم کریں، اور ان لوگوں نے اس مقدس مقصد کے لئے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں پر بیعت کی اور آپ نے بھی خداوند عالم کے حکم کے مطابق '' جب عدل وانصاف کی حکومت قائم کرنے کے لئے زمینہ فراہم ہوجائے تو فوراً حکومت قائم کرو'' ان کی بیعت کو قبول کرلیا، لیکن معاشرے میں اس قدر اختلاف وانحراف پھیل چکا تھا کہ جس کے خاتمہ کے لئے سرکشوں اور مخالفوں سے جنگ وجدال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

یہی وجہ ہے کہ اس عظیم وکریم ، سخی اور بہادر اور کامل الایمان شخص کی خلافت کے زمانے میں صرف داخلی جنگیں ہوئیں، ناکثین (معاہدہ توڑنے والے) کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی اور مارقین ( دین سے خارج ہونے والے) کو جڑ سے ختم کرنے کے بعد جنگ کا خاتمہ ہوا ،اور بالآخر کچھ اندرونی دشمنوں ( خوارج نہروان) کے بچ جانے کی وجہ سے تاریخ میں ہمیشہ باقی رہنے والے ظالم و بدبخت شخص کے ہاتھوں خدا کے گھر میں جام شہادت نوش فرمایا ، جس طرح سے خدا کے گھر میں آنکھیں کھولی تھیں ۔

اور اپنی بابرکت وباعظمت زندگی کو دو مقدس عبادت گاہوں ( کعبہ اور محراب کوفہ) کے درمیان بسر کیا۔

۱۰

اس کتاب کے بارے میں :

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی پوری زندگی کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔

۱۔ ولادت سے بعثت تک،

۲۔ بعثت سے ہجرت تک،

۳۔ ہجرت سے پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت تک،

۴۔ رحلت پیغمبر (ص)سے خلافت تک،

۵۔ خلافت سے شہادت تک،

کتاب کی تقسیم بندی اسی طریقہ پر ہوگی ان پانچ حصوں میں امام علیہ السلام کی عام زندگی ، مستند اور آسان طریقے سے بیان ہوئی ہے ہماری یہ کوشش ہے کہ اس کتاب میں مبالغہ گوئی اور بے جا ظن وگمان سے دور رہیں اور شروع سے ہی یہی کوشش تھی کہ اصل منابع کی طرف رجوع کریں نہ اتنا طولانی فاصلہ ہو کہ آدمی تھک جائے اور نہ اتنا زیادہ ہی مختصر ہو کہ مقصد ختم ہوجائے بلکہ اس کے منابع ومآخذ کو اس مقدار تک بیان کردیںکہ پڑھنے والوں کی زبان پر شکوہ نہ آئے اور ان کے لئے یہ کافی ہو۔

جب مؤلف ''فروغ ابدیت '' ( پیغمبر اسلام (ص) کی مکمل سوانح حیات)کی طباعت ونشر سے فارغ ہوا تو اس وقت ارادہ کیا کہ شیعوں کے پہلے رہبر وپیشوا حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی قابل افتخار زندگی کو اسی کتاب کے طرزپر تحریر کروں اور خداوند عالم کا شکرکہ اس نے اس کام کے لئے توفیق بھی دیدی اور حضرت کی زندگی کا چار حصہ کتاب کی شکل میں منظر عام پر آگیا، لیکن انقلاب اسلامی کی سیاسی فضا میں چند مذہبوں کے ایجاد نے مؤلف کی فکر کو اس آفت کے دفاع کی طرف متوجہ کردیا خصوصاً مارکسیزم سے دفاع کی طرف ،اور ان ہی چیزوں نے مؤلف کو متقیوں اور پرہیز گاروں کے رہبر علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں کچھ لکھنے سے روک دیا لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد دوبارہ خدانے توفیق دی کہ امام علیہ السلام کی زندگی کے پانچویں اور چھٹے حصے کو تحریر کروں جو آپ کی زندگی کا سب سے زیادہ حساس اور پر آشوب دور تھا اور اس طرح سے مؤلف نے امام علیہ السلام کی پوری زندگی کو تحلیلی اور مستند اور بہترین اور اس زمانے کے طریقوں کے اعتبار سے مکمل کرکے حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔

۱۱

دوباتیں :

یہاں پر دو باتوں کا تذکرہ ضروری ہے،

یہ کتاب، جیسا کہ بیان ہوا ہے امام علیہ السلام کی عام اور ذاتی زندگی کا مجموعہ ہے اور آپ کی زندگی کے دوسرے حصّے مثلاً علم وفضل، تقویٰ وپرہیز گاری، فضائل ومناقب ، خطبے اور تقریریں ، خطوط ونصیحتیں اور کلمات قصار (موعظہ) ، احتجاجات اور مناظرے ، آپ کے اصحاب اور ساتھی اور ان کے حالات ، معجزے اور کرامتیں ، فیصلے اور تعجب خیز قضاوتیں وغیرہ جیسی بحثوں کو اس کتاب میں ذکر نہیں کیا ہے کیونکہ یہ تمام عنوانات خود ایک الگ موضوع ہیں جس پر الگ الگ کتابیں درکار ہیں ۔

مؤلف کتاب '' فروغ ولایت '' اپنی تمام تر عاجزی کے ساتھ معترف ہے کہ وہ امام علیہ السلام کی نورانی زندگی کا ایک ادنیٰ سا پہلو بھی پیش کرنے سے قاصر رہا ہے لیکن اس بات پر مفتخر ہے کہ وہ حضرت یوسف کے خریداروں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے اگرچہ اس مختصر سے بہانے ، کہ اس زمانے کے یوسف کی نظر رحمت کا بھی حقدار نہ ہوسکے ، لیکن کیا کرے :

ماکل مایتمنیٰ المرء یدرکه

تجری الریاح بما لا تشتهی السّفن

جعفر سبحانی

قم، مؤسئسہ امام صادق ـ

۱۵ رجب ۱۴۱۰ ھ

۲۲ بہمن ۱۳۶۸ ش

۱۲

پہلا باب

بعثت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے حضرت علی ـ کی زندگی

عظیم افراد اوران کے دوست اور دشمن

کائنات کی اہم اور بزرگ شخصیتوں کے سلسلے میں کئی طرح کے پہلو نظر آتے ہیں کبھی بالکل مختلف اور کبھی بالکل برعکس، کبھی ان کے دوست ایسے ہوتے ہیں کہ دوستی کے آگے وہ کچھ نہیں دیکھتے اور پروانہ کے مانند اپنی ساری زندگی ان پر نثار و قربان کردیتے ہیں اور اس دوستی کی وجہ سے بدترین مصیبت اور مشکلات، سختی اور شکنجے کو بھی برداشت کرتے ہیں اور اسی کے برعکس ان کے دشمن بھی ایسے ہوتے ہیں جو شیطان صفت، کینہ و بغض اور حسد میں ہمیشہ جلتے رہتے ہیں اور کبھی بھی عداوت و دشمنی سے باز نہیں آتے کہ صلح و آشتی کی راہ ہموار ہوسکے، ان افراد کی دوستی اوردشمنی کبھی کبھی اس قدر حد سے تجاوز کرجاتی ہے جس کی انتہا نہیں ہوتی اور وقت اور مقام کا بھی خیال نہیں رکھتی اور پھر بہت دنوں تک اور مختلف جگہوں پر یہ سلسلہ قائم رہتا ہے اور یہ عداوت و دشمنی انسان کے باعظمت اور محترم و باکمال ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

کائنات کی عظیم اور بزرگ شخصیتوں کے درمیان مولائے کائنات حضرت علی ـ کے علاوہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں نظرئیے قائم ہوئے ہوں۔

آپ سے محبت اور دشمنی کرنے میں بھی آپ جیسا کوئی نہیں ہے ، آپ کے چاہنے والوں کی بھی تعداد بہت ہے اور آپ کے دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، عظیم شخصیتوں اور انسانوں کے درمیان فقط جناب حضرت عیسیٰ مسیح ـکی طرح ہیں جو مولائے کائنات حضرت علی ـ کی طرح ہیں. کیونکہ حضرت عیسیٰـ سے دوستی اور دشمنی کرنے والے دو متضاد دھڑے نظر آتے ہیں ، اس طرح دونوں آسمانوی پیشواؤوں میں مشابہت پائی جاتی ہے ۔

حضرت عیسیٰـ دنیا کے تمام عیسائیوں کے گمان وخیال میں وہی خدا ئے مجسم ہیں جس نے اپنے بندوں اور چاہنے والوں کو اپنے باپ حضرت آدم سے ورثہ میں ملے ہوئے گناہوں سے نجات دلانے کے لئے زمین پر آئے اور آخرکار سولی پر چڑھا دیئے گئے وہ عامعیسائیوں کی نگاہ میں الوہیت کے علاوہ کوئی اور شخصیت کے مالک نہ تھے۔

۱۳

ان کے مقابلے میں یہودی ان کے بالکل برخلاف ہیں انھوں نے حضرت پر الزام و اتہام لگایاہے اور جھوٹ کی نسبت دی ہے اور ایسی ناروا تہمتیں لگائیں کہ جس کا تذکرہ باعث شرم ہے اور آپ کی مقدس و پاکیزہ ماں کی طرف غلط نسبتیں دی ہیں۔

بالکل ایسے ہی اور بھی کچھ افراد ہیں جو مولائے کائنات حضرت علی ـ کے بارے میں متضاد فکر رکھتے ہیں ایک گروہ کم ظرف اور تنگ نظرہے اور دوسرا کچھ زیادہ ہی الفت و محبت کی وجہ سے خدا کے مطیع و فرماںبردار کو مقام الوہیت تک پہونچا دیا ہے اور جو کرامتیں اور معجزات حضرت کی پوری زندگی میں ظاہر ہوئے اس کی وجہ سے وہ خدا مان بیٹھے ہیں افسوس کہ اس گروہ نے اپنے کو اس مقدس نام ''علوی'' سے منسوب کر رکھا ہے اور آج بھی اس نظریہ پر چلنے والے اور ان کی پیروی کرنے والے افراد کثرت سے موجود ہیں. لیکن افسوس کا مقام ہے کہ شیعیت کی تبلیغ کرنے والوں نے آج تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تاکہ حضرت علی ـ کے حقیقی چہرے کو ان کے سامنے ظاہر کریں اور ان لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کریں جس راستے پر خود حضرت علی ـ افتخار کر رہے ہیں اس گروہ کے مقابلے میں، ایک اور گروہ جس نے خلافت ظاہری کے ابتدائی دنوں سے ہی امام ـ سے بغض و عداوت اپنے دل میں بٹھا رکھی اور پھر کچھ مدت کے بعد خوارج اور نواصب نامی گروہ کے شکل میں ابھر کر سامنے آگئے، پیغمبر اسلام(ص) حضرت علی ـ

۱۴

کے زمانہ حکومت میں ان دونوں گروہوں کے ظہور کے سلسلے میں بخوبی آگاہ تھے اسی وجہ سے آپ نے حضرت علی ـ سے ایک موقع پر فرمایا تھا:

''هَلَکَ فِیْکَ اِثْنٰانِ مُحِبّ غَالٍ وَ مُبْغِض قَالٍ'' (۱)

تمہارے ماننے والوں میں سے دوگروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ گروہ جو تمہارے بارے میں غلو کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو تم سے دشمنی و عداوت رکھے گا۔

حضرت علی ـ اور حضرت عیسیٰ ـ کے درمیان ایک اور بھی مشابہت پائی جاتی ہے اوریہ وہ مقام ہے جہاں پران دو شخصیتوں کی ولادت ہوئی ہے۔

حضرت عیسیٰ ـ کی ولادت مقدس ،سرزمین بیت اللحم (بیت المقدس کے علاوہ ہے) پر ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام پیغمبروں سے آپ ایک جہت سے برتر وافضل ہیں، اور مولائے کائنات حضرت علی ـ کی ولادت مکہء مکرمہ کی مقدس سرزمین خانہ کعبہ کے اندر معجزاتی طور پر ہوئی، اور آپ نے خدا کے گھر (مسجد کوفہ) میں جام شہادت نوش کیا اور حسن مطلع کے مقابلے میں حسن ختام سے بہرہ مند ہوئے جو حقیقت میں بے مثال ہے اور کتنی عمدہ بات ہے کہ آپ کے متعلق کہا جائے ''نازم بہ حسن مطلع و حسن ختام او'' (یعنی ہم اس حسن مطلع اور حسن ختام پر افتخار کرتے ہیں اور نازاں ہیں)

______________________________

(۱) نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۱۷۷، فیک کے بجائے فیّ ہے۔

۱۵

حضرت علی ـ کی شخصیت کے تین پہلو:

ماہرین نفسیات کی نظر میں ہر انسان کی شخصیت کے نکھار میں تین اہم عوامل ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک شخصیت سازی میں مؤثر ہوتا ہے گویا انسان کی روح اور صفات اور فکر کرنے کا طریقہ مثلث کی طرح ہے اور یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے ملنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور وہ تینوں عامل یہ ہیں۔

۱۔ وراثت ۔

۲۔ تعلیم و تربیت۔

۳۔ محیط زندگی۔

انسان کے اچھے اور برے صفات اور اس کی عظیم و پست خصلتیں ان تینوں عامل کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں اور رشد و نمو کرتی ہیں۔

وراثت کے عوامل کے سلسلے میں مختصروضاحت: ہماری اولادیں ہم سے صرف ظاہری صفات مثلاً شکل و صورت ہی بطور میراث نہیں لیتیں بلکہ ماں باپ کے باطنی صفات اور روحانی کیفیت بھی بطور میراث اولاد میں منتقل ہوتی ہیں۔

تعلیم و تربیت اور اور محیط زندگی، جو انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں، بہترین تربیت جسے خداوند عالم نے انسان کے ہاتھوں میں دیا ہے یا مثالی تربیت جسے بچہ ماں باپ سے بطور میراث حاصل کرتا ہے اس کی بہت عظمت و منزلت ہے، ایک استاد بچے کی تقدیر یا اس کے درسی رجحان کو بدل سکتا ہے اور اسی طرح گناہوں سے آلودہ انسانوں کو پاک و پاکیزہ ،اور پاک و پاکیزہ افراد کو گناہوں کے دلدل میں ڈال سکتا ہے یہ دونوں صورتیں انسان کی شخصیت کو اتنا واضح و روشن کرتی ہیں کہ جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔البتہ یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ان تینوں امور پر انسان کاارادہ غالب ہے ۔

۱۶

حضرت علی ـ کی خاندانی شخصیت :

حضرت علی ـ کی ولادت جناب ابوطالب کے صلب سے ہوئی... حضرت ابوطالب ـ بطحاء (مکہ) کے بزرگ اور بنی ہاشم کے رئیس تھے. آپ کا پورا وجود مہربانی و عطوفت، جانبازی اور فداکاری اور جود و سخا میں آئین توحیدکا آئینہ دار تھا .جس دن پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب کا انتقال ہوا اس وقت آپ صرف آٹھ سال کے تھے اور اس دن سے ۴۲ سال تک آپ نے پیغمبر اسلام(ص) کی حفاظت، سفر ہو یا حضر، کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی تھی اور بے مثال عشق و محبت سے پیغمبر اسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کے مقدس ہدف، جو کہ وحدانیت پروردگار تھا ،میں جم کر فداکاری کی اور یہ حقیقت آپ کے بہت سے اشعار ''دیوان ابوطالب'' سے واضح ہوتی ہیں مثلاً:

''لِیَعْلَمُ خِیَارُ النَّاسِ اَنّ محمداً نَبِی کَمُوْسیٰ وَ الْمَسِیْحِ بنِ مَرْیَمِ'' (۱)

پاک و پاکیزہ اور نیک طینت والے یہ جان لیں کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، موسیٰ اور عیسیٰ ٪ کی طرح پیغمبر ہیںاور دوسری جگہ فرماتے ہیں:

''اَلَمْ تَعْلَمُوْا أَنَّا وَجَدْنَا مُحمداً رَسُولْاً کَمُوْسیٰ خُطَّ فِی اَوَّلِ الْکُتُبِ'' (۲)

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم موسیٰ ـکی طرح آسمانی رہبر اور رسول ہیں، اور ان کی پیغمبری کا تذکرہ آسمانی کتابوں میں درج ہے۔ایک ایسی قربانی ، کہ جس میں تمام بنی ہاشم ایک سوکھی اور تپتی ہوئی غار میں قید ہوگئے اور یہ چیز مقصدسے عشق ومحبت کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ اتنا گہرا معنویت سے تعلق ہو، رشتہ کی الفت ومحبت اور تمام مادی عوامل اس طرح کی ایثار وقربانی کے روح انسان کے اندر پیدا نہیں کرسکتیں۔حضرت ابو طالب کے ایمان کی دلیل اپنے بھتیجے کے آئین وقوانین پر اس قدر زیادہ ہے جس نےمحققین کی نظروں کواپنی طرف جذب کر لیا ہے مگر افسوس کہ ایک گروہ نے تعصب کی بنیاد پر ابوطالب پرشک کیااور دوسرے گروہ نے تو بہت ہی زیادہ جسارت کی ہے اور آپ کوغیرمومن تک کہہ ڈالاہے .حالا نکہ وہ دلیلیں جوحضرت ابو طالب کے لئے تاریخ وحدیث کی کتابوں میں موجود ہیں اگراس میں سے تھوڑا بہت کسی اور کے متعلق تحریر ہوتا تو اس کے ایمان واسلام کے متعلق ذرہ برابر بھی شک و تردیدنہ کرتے۔مگر انسان نہیں جانتا کہ اتنی دلیلوں کے باوجود بعض انسانوں کا دل روشن نہ ہوسکا (اور وہ گمراہی کے دلدل میں پھنسے ہیں )

________________________

(۱)،(۲) مجمع البیان، ج۴، ص۳۷۔

۱۷

حضرت علی ـ کی ماں کی شخصیت :

آپ کی مادر گرامی فاطمہ بنت اسد،جناب ہاشم کی بیٹی ہیں .آپ وہ پہلی خاتون ہیں جو پیغمبر پر ایمان سے پہلے آئین ابراہیمی پر عمل پیرا ہوئیں وہ وہی پاکیزہ ومقدس خاتون ہیںجو دردزہ کی شدت کے وقت مسجداالحرام کی طرف آئیں اور دیوار کعبہ کے قریب جاکر کہا :

پروردگارا: ہم تجھ پر اورپیغمبروں پر اور آسما نی کتابوں پرجو تیری طرف سے نازل ہوئی ہیں اور اپنے جد ا براہیم کے آئین پر جنھوں نے اس گھر کو بنا یا ہے ایمان کامل رکھتی ہوں.

پرور دگارا: جس نے اس گھر کو تعمیر کیا اس کی عظمت اور اس مولود کے حق کا واسطہ جومیرے رحم میں ہے اس بچہ کی ولادت کو مجھ پر آسان کردے۔

ابھی کچھ دیر بھی نہ گزری تھی کہ فاطمہ بنت اسد معجزاتی طریقہ سے خدا کے گھر میں داخل ہوگئیں اور مولائے کائنات کی ولادت ہوئی۔(۱)

اس عظیم فضیلت کو مذہب شیعہ کے معتبرمحدثین اور مورخین اور علم انساب کے معتبر دانشوروںنے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے .اہلسنت کے اکثر دانشوروں نے اس حقیقت کو صراحت سے بیان کیاہے اور اس کو ایک بے مثال فضیلت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔(۲)

حاکم نیشاپوری کہتے ہیں :

خا نہ کعبہ میں علی ـکی ولادت کی خبر حدیث تواترکے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے ۔(۳)

______________________

(۱) کشف الغمہ ، ج۱ ص ۹۰

(۲)جیسے مروج الذہب، ج۲ ص۳۴۹،بشرح الشفاء ، ج۱ ص ۱۵۱

(۳) مستدرک حاکم ، ج۳ ص ۴۸۳

۱۸

مشہور مفسرآلوسی بغدادی لکھتے ہیں :

کعبہ میں علی ـکی ولادت کی خبر دنیا کے تمام مذہبوں کے درمیان مشہور ومعروف ہے اور آج تک کسی کو بھی یہ فضیلت حاصل نہیں ہوئی ہے۔(۱)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آغوش میں:

اگر امام علیہ السلام کی عمر کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو آپ کی زندگی کا ابتدائی دور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بعثت سے پہلے کا دور ہوگا .اس وقت امام علیہ السلام کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں تھی. کیونکہ جب علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو پیغمبر اسلام کی عمر۳۰ سال سے زیادہ نہ تھی .اور پیغمبر اسلام چالیس سال کی عمر میں رسالت کے لئے مبعوث ہوئے۔(۲)

امام علیہ السلام کی زندگی کے حساس ترین واقعات اسی دور میںرونما ہو ئے یعنی حضرت علی ـ کی شخصیت پیغمبر کے توسط سے ابھری، عمر کایہ حصہ ہر انسان کے لئے اس کی زندگی کا سب سے حساس اور کامیاب واہم حصہ ہوتاہے ایک بچے کی شخصیت اس عمر میں ایک سفید کاغذ کے مانند ہوتی ہے اور وہ ہر شکل کو قبول کرنے اور اس پر نقش ہونے کے لئے آمادہ ہوتاہے. اس کی عمر کا یہ حصہ پرورش کرنے والوںاور تربیت کرنے والوں کے لئے سنہرا موقع ہوتا ہے تا کہ بچے کی روح کو فضائل اخلاقی سے مزین کریں کہ جس کی ذمہ داری خدا نے ان کے ہاتھوں میں دی ہے تاکہ ان کی بہترین تربیت کریں اور اسے انسانی اور اخلاقی اصولوں سے روشناس کرائیں اور بہترین اور کامیاب زندگی گذارنے کا طورطریقہ اسے سکھائیں۔پیغمبر عظیم الشان نے اسی عظیم مقصد کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی ولا دت کے بعد ان کی تربیت کی ذمہ داری خود لے رکھی تھی، جس وقت حضرت علی ـ کی والدہ نو مولود بچے کولے کر پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئیںتوپیغمبر اسلام نے والہانہ عشق ومحبت کے ساتھ اس بچے کودیکھا اور کہا اے چچی علی کیجھولے کو میرے بستر کے قریب رکھ دیجیئے ،اس جہت سے امام علی علیہ السلام کی زندگی کا آ غاز

___________________________

(۱) شرح قصیدہ عبدالباقی آفندی ص ۱۵

(۲) بعض لوگوں نے مثلاابن خشاب نے اپنی کتاب موالید الائمہ میں علی ـ کی کل عمر ۶۵ سال اور بعثت پیغمبر سے پہلے ۱۲

۱۹

سال لکھی ہے. تفصیل کے لئے کتاب کشف الغمہ تالیف مشہور مورخ علی بن عیسیٰ اربلی (متوفی ۶۹۳ھ) ص ۶۵ پر دیکھ سکتے ہیں۔

پیغمبر اکرم کے لطف خاص سے ہوا، پیغمبر صرف سوتے وقت حضرت علی ـ کے گہوارہ کو جھولا تے ہی نہیں تھے بلکہ آپ کے بدن کو دھوتے بھی تھے اور انھیں دودھ بھی پلاتے تھے ، اور جب علی علیہ السلام بیدار ہوتے تو خلوص والفت کے ساتھ ان سے بات کرتے تھے اور کبھی کبھی انھیں سینے سے لگا کر کہتے تھے ''یہ میرا بھائی ہے اور مستقبل میں میرا ولی وناصر اور میرا وصی اور میراداماد ہوگا''

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت علی کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ کبھی بھی ان سے جدا نہیں ہوتے تھے اور جب بھی مکہ سے باہر عبا دت خدا کے لئے جاتے تھے توحضرت علی علیہ السلام کو چھوٹے بھائی یا عزیز ترین فرزند کی طرح اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔(۱)

اس حفاظت و مراقبت کا مقصد یہ تھا کہ حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت کا دوسرا پہلو جوکہ تربیت ہے آپ کے ذریعے ہو اور پیغمبر کے علاوہ کوئی شخص بھی ان کی تربیت میں شامل نہ ہو ۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنے خطبے میں پیغمبر اسلام کی خدمات کو سراہتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

وَقَدْعَلِمْتُمْ مَوْضِعِیْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ ۖ بِالْقَرَا بَةِ الْقَرِ یْبَةِ وَالْمَنْزِلَةِ الْخَصِیْصَةِ وَضعْنِیْ فِیْ حجْرِهِ وَاَنَا وَلَدیَضُمُّنِي اِلَی صَدْرِهِ وَ یَکْنُفُنِي فِیْ فِرَاشِهِ وَ یَمَسَّنِیْ جَسَدَه وَ یُشِمُّنِي عَرْفَهُ وَ کَانَ یَمضُغُ الشَّیَٔ ثُمَّ یُلقمُنِیْهِ .(۲)

_________________________

(۱) کشف الغمہ، ج۱، ص ۹۰۔

(۲) نہج البلاغہ عبدہ، ج۲ ص ۱۸۲، خطبۂ قاصعۂ ۔

۲۰