واقعۂ کربلا

واقعۂ کربلا0%

واقعۂ کربلا مؤلف:
زمرہ جات: تاریخ شیعہ
صفحے: 438

واقعۂ کربلا

مؤلف: لوط بن یحییٰ بن سعید ( ابومخنف)
زمرہ جات:

صفحے: 438
مشاہدے: 46150
ڈاؤنلوڈ: 1689

تبصرے:

واقعۂ کربلا
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 438 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 46150 / ڈاؤنلوڈ: 1689
سائز سائز سائز
واقعۂ کربلا

واقعۂ کربلا

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام کتاب : واقعۂ کربلا

تالیف : لوط بن یحییٰ بن سعید (ابومخنف)

تحقیق: شیخ محمد ہادی یوسفی غروی

ترجمہ : سید مراد رضا رضوی

تصحیح: مرغوب عالم

نظر ثانی: اختر عباس جون

پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ

ناشر: مجمع جہانی اہل البیت

طبع اول : ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ئ

تعداد : ٣٠٠٠

۳

حرف آغاز

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے، حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے ہیں اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں ، تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں ، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے اپنی استعداد و قابلیت کے اعتبار سے اس کی کرنوں سے فیض حاصل کیا۔

اسلام کے مبلغ و موسّس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا۔ آپ کے تمام الٰہی پیغامات نظریات اوراعمال فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھے، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں ۔وہ تہذیبی اصنام جو ممکن ہے کج فکر افراد کو دیکھنے میں اچھے لگتے ہوں لیکن اگروہ حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

۴

اگرچہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ گراں بہا میراث کہ جس کی حفاظت و پاسپانی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر کی ہے، خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکروقت کے ہاتھوں اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں اسلامی دنیا کو خدمت میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشورپیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظریاتی موجوں کے مقابلے میں اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں کے ذریعے مکتب اسلام کی پشت پناہی کی اور ہرزمان و مکان میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام ، قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم ا لسلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں ۔ اسلامی دشمن اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوست اس مذہبی وثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں ۔یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

۵

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام (عالمی اہل بیت کونسل)نے بھی مسلمانوں خاص طور پراہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر عقل و خرد پر استوار اہل بیت عصمت و طہارت کی تعلیمات و ثقافت کوماہرانہ انداز میں عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکارسامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کتاب ''وقعة الطف''(جس کو جناب حجة الاسلام والمسلمین محمد ہادی یوسفی غروی زید عزہ نے طبری کی روایت کے مطابق ابو مخنف کی تاریخ کربلا کوتحقیق فرما کر یکجا کیا ہے) کو فاضل جلیل جناب مولانا سید مراد رضا رضوی نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے ،جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ۔اسی مقام پر ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے۔خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔ والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

۶

گفتار مترجم

کربلا کی تاریخ وہ انقلاب آفرین تاریخ ہے جو اپنے بعدکے تمام حرّیت پسند انقلابوں کے لئے میر کارواں کا مقام رکھتی ہے۔وہ انقلاب قومی وملی ہوں یا ذ ہنی و فکری، ہر انقلاب کے سنگ میل اور رہنما کا نام کربلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرست طاقتوں نے ہمیشہ اس کے انمٹ نقوش مٹانے کی بھر پور کوشش کی؛ کبھی خود کربلا اور اس کے آثار کو مٹانے کی کوشش کی تو کبھی اس حماسہ آفرین واقعہ پر لکھی جانے والی تاریخوں میں تحریف ایجاد کر کے اس زندگی ساز حسینی انقلاب کے رنگ کو ہلکا کرنا چاہا لیکن

فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے

وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

بنی امیہ اور بنی عباس نے اپنی پوری طاقت صرف کردی؛ کبھی حسینی زائروں کو تہہ تیغ کیاتوکبھی کربلا کو ویران کیا لیکن اللہ رے آتش عشق حسین جو مزید شعلہ وری ہوتی گئی اور باطل کی آرزوئوں کے خرمن کو خاکستر کرتی گئی۔حکومتوں کے زر خریدغلاموں اور ان کی چشم و ابرو کی حرکت پر کام کرنے والے کارندوں نے بھی ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن حق کو کبھی کوئی مٹا نہیں سکتا۔

کربلا کی تاریخ پر سب سے پہلے قلم اٹھا نے والے مورخ کا نام ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی غامدی کوفی ہے ؛ جنہوں نے بلا واسطہ یابالواسطہ (ایک یا دو واسطے سے) واقعہ کربلا کوزیور تحریر سے آراستہ کیااور اس کا کا نام مقتل الحسین رکھا ، لیکن یہ کتاب حکومت کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی کیوں کہ اس کتاب سے حکومت کی کارستانیاں اور اس کی ظلم وستم کی پالسیاں کھل کر سامنے آرہی تھیں لہٰذا اس کتاب کا اپنی اصلی حالت پر باقی رہنا ایک مسئلہ ہو گیا تھا۔آخر کار ہوا بھی یہی کہ آج اصل کتاب ہماری دوسری میراثوں کی طرح ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہے بلکہ ایک تحریف شدہ کتاب لوگوں کے درمیان موجود ہے جس کے بارے میں وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وہی کتاب ہے جس کی تد وین ابو مخنف نے کی تھی۔

۷

اس کتاب کی قدیم ترین سند وہی ہے جسے طبری نے مختلف تاریخی مناسبتوں کے اعتبار سے اپنی تاریخ میں لکھا ہے ۔

خدا وند عالم، محقق محترم جناب حجة الاسلام والمسلمین محمد ہادی یوسفی غروی زید عزہ پر رحمتوں کی بارش کرے، جنہوں نے طبری کی روایت کے مطابق ابو مخنف کی تاریخ کربلا کو یکجا کیا اور اس پر تحقیق فرماکر اس کتاب کو ایک تحقیقی درجہ عطا کردیا ۔محترم محقق نے اس کتاب کا نام '' وقعة الطف '' رکھا، جس کا تر جمہ '' واقعۂ کربلا '' آپ کے سامنے موجود ہے ۔

واضح رہے کہ طبری شیعہ مورخ نہیں ہے لہٰذا قاتلان اور دشمنان امام حسین علیہ السلام کے لئے جو الفاظ استعمال کرنے چاہیئے وہ کہیں نہیں ملتے۔ اس کے علاوہ مجالس کے صدقہ میں جو باتیں محبّان اہل بیت کے ذہن میں موجود ہیں اس کتاب میں بہت سارے موارد ایسے ہیں جو ان افکار کے مخالف ہیں ۔اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ وہ باتیں غلط ہیں اورجو کچھ اس کتاب میں ذکر ہواوہی صحیح ہے، بلکہ مصائب کا تذکرہ کرنے والے افراد مثاب ہونے کے لئے مختلف مقاتل کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ عزاداروں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، لہٰذا قارئین سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو تحقیق کی نگاہ سے دیکھیں ، تاکہ واقعۂ کربلا کے تجزیہ میں انھیں آسانی ہو اور آنسو کے مقولہ سے ہٹ کرکہ جو واقعۂ کربلا کا ایک اساسی اور بنیادی رکن ہے، امام حسین علیہ السلام کی امن دوستی اور باطل ستیزی کا بغور مطالعہ کرکے مدعی امن وامان کے سامنے پیش کرسکیں ،تاکہ امن و امان کے نعرہ میں دھشت گردی پھیلا نے والوں کا چہرہ کھل کر سامنے آجائے اور کربلا کی آفا قیت کا آفتاب، امن وامان کی روشنی کے ذریعے دنیا کو خوف و ہراس اور دھشت گردی کی تاریکی سے نجات دے ۔

۸

یہاں پر یہ کہنا ضروری ہے کہ قلمی خدمت کرنے والے افراد تو بہت ہیں لیکن ان کی قلمی خدمات کی قدر نہیں ہوتی اور ان کو کوئی چھپوانے والا نہیں ملتا ۔

انقلاب اسلامی ایران جو حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ کی رہبری میں برپا ہوا اور جس نے کربلا کے انقلاب کو پھر ایک نیا رخ دیا اور ساری انسانیت با لخصوص شیعیت کو افق کائنات کا آفتاب بنادیا؛ اسی انقلاب کا صدقہ ہے جو آج رہبر انقلاب حضرت آےة العظمی خامنہ ای مد ظلہ العالی کی رہبری میں شیعیت کا پیغام ساری دنیا تک پہنچ رہا ہے اور مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے دنیا کی تمام زبانوں میں پیغام اسلام با لخصوص پیغام تشیع کو پہنچانے کی بھر پور کوشش کی ہے جس میں وہ کامیاب ہیں اور قابل تبریک و تحسین ہیں ۔

یہ کتاب بھی اسی ادارہ سے شائع ہو کر آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے ۔

خدا وند متعال اس ادارہ کے مسئولین اور دیگر مخلصین کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور حضرت آےة اللہ العظمیٰ خامنہ ای ، دیگر مراجع عظام اور نظام اسلامی کا سایہ تا ظہور حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے۔آمین

والسلام

سید مراد رضا رضوی

١٥ رجب١٤٢٦

۹

مقد مۂ مو لف

جب انسان نے لکھنا سیکھا تو اپنے اور دوسروں کے کارناموں کو زیو ر تحر یر سے آراستہ کیااوراس طرح آہستہ آ ہستہ تا ریخ وجود میں آئی ۔

ظہور اسلام کے وقت عرب میں تاریخ چند ایسے لو گوں پر منحصر تھی جو انساب عرب سے آگاہ اور انکے اہم دنوں سے واقف تھے۔ عرب ان کو کو علا مہ(١) کہا کر تے تھے۔ انہیں میں سے ایک نضر بن حارث بن کلدہ تھاجو ایران وروم کا سفر کیا کر تا تھا اور وہاں سے ایسی کتا بیں خریدکر لا تا تھا جس میں اہل فارس کی داستا نیں ہوا کر تی تھیں ؛ جیسے رستم واسفندیار وغیرہ کی کہا نیاں ۔یہ شخص انہیں کہا نیوں کے ذریعے لوگوں کو لہو ولعب میں مشغول رکھتا تھا تا کہ لو گ قرآن مجید نہ سن سکیں ۔ خدا وندعالم کی طرف سے اسکی مذمت میں آیت نازل ہو ئی :''( وَمِنَ النَّاسِ مَن يَّشْتَرِیْ لَهْوَالْحَدِ یْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّهِ بِغَيْرِعِلْمٍٍِ ويَتَّخِذَهَا هُزُواًاُوْلٰئِکَ لَهْمْ عَذَا ب مُّهِيْن وَاِذَاتُتْلَٰی عَلَيْهِ آيَا تُنَا وَلَّیٰ مُسْتَکْبِرًا کَأَ ن لَّمْ يَسْمَعْهَاکَاَنَّ فِی اُذْنَيْهِ وَقْرًا فَبَشِّرْهُ بِعَذَاْبٍ اَلِيْمٍ ) ''(٢)

____________________

١ ۔کلینی علیہ الر حمہ نے کا فی میں اپنی سند سے امام مو سی کا ظم علیہ اسلام سے روایت بیان فرمائی ہے کہ آپ نے فرمایا :ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ ایک آدمی کے چارو ں طرف بیٹھے ہوئے ہیں ۔ آپ نے سوال کیا : یہ کون ہے ؟جواب دیا گیا :علامہ، آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سوال کیا : علامہ سے مرادکیا ہے؟ لوگو ں نے جواب دیا : یہ عرب کا سب سے بڑا نسب شناس ، اہم واقعات اور تاریخو ں سے آگا ہ اور اشعار عرب کا بڑاواقف کار ہے ؛ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرما یا:یہ ایسا علم ہے کہ نہ تو اس سے جاہل رہنا ضرر رسا ں ہے اورنہ ہی اس کا جاننا مفید ہے۔ .پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: علم تین چیزو ں پر مشتمل ہے،آےة محکمہ، فریضةعادلہ اورسنة قائمہ،اس کے علاوہ سب بیکار ہے ۔(کافی، ج١،ص٣٢)

٢۔سور ہ ٔلقما ن آیہ٦۔٧۔تفسیر قمی، ج ٢ ،ص١٦١ ،مطبوعہ نجف وتفسیر ابن عباس ،ص٣٤٤ مطبوعہ مصر

۱۰

مد ینہ میں بھی اسی طرح کاایک شخص تھا جس کا نام سوید بن صامت تھا وہ انبیائے ما سلف کے قصّے کوجو یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں موجود تھے لوگوں کو جمع کر کے سنایا کرتا تھا اور اس طرح سے لوگوں کو بیہودہ باتوں میں مصروف رکھتا تھا۔ جب اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو مدینہ سے حج یا عمرہ کی غرض سے مکہ روانہ ہوا۔مکہ پہنچ کر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی ۔سوید نے آپ سے کہا: ہمارے پاس لقمان کے حکمت آمیز کلمات موجود ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :ذرا مجھے بھی دکھاؤ ! اس نے ایک نوشتہ آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :''ان هٰذا لکلا م حسن والذ مع احسن منه ،قرآن انزله اللّه علّ هد ی و نوراً ''(١)

بیشک یہ کلام اچھا ہے لیکن میرے پاس اس سے بھی بہتر کلام قرآن ہے جسے اللہ نے مجھ پر نازل کیا ہے جو ہدایت اور نور ہے ۔

تاریخی دستاویزمیں گذشتہ انبیاء اور ان کی امتوں کی داستانیں بھی شمار ہو تی ہیں ، جسے طبری اور محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے۔یہ وہی تاریخی شواہد ہیں جو اسلام سے قبل بعض اہل کتاب دانشوروں کے ذریعے سے ہم تک پہنچے ہیں ؛لہٰذاٰ ظہور اسلام اور قلب پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل ہونے سے پہلے کی تاریخ کے سلسلے میں ہماری معلو مات اسی حد تک محدود ہے۔ ایسے بد تر ین ما حول میں اسلام، قرآن مجیدکے ہمراہ آیا اور صبح وشام اس کی تلاوت ہو نے لگی۔ ا یسی صورت میں حفا ظ کرام کے حفظ کے باوجود ضرورت پیش آئی کہ اس مبارک کتا ب کوقلمبندکیا جا ئے۔ اسی ضرورت کے پیش نظرقرآن مجیدپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے دور میں صفحۂ دل پر نقش ہو نے کے ساتھ ساتھ صفحۂ قرطاس پر بھی محفوظ ہو نے لگا ،لیکن قرآن کی تفسیر ،گذشتہ شر یعتوں اورادیان کی خبر یں ، مسائل وا حکام شرعیہ کی تفصیلات کے سلسلے میں پیغمبراسلاصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم م کی احادیث ،آپ کی سیرت وسنت اور جنگ و غزوات کے حالات کی تفصیلات غیر مدوّن رہ

____________________

١۔طبری، ج٢، ص٣٥٣، مطبوعہ دارالمعارف ویعقو بی ،ج٢، ص٣٠ ،مطبوعہ نجف

۱۱

گئیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عالم فنا سے ملک بقا کی طرف کو چ کر گئے؛ اب آپ کے پیرومسلمان ان لوگوں سے حد یثیں کسب کر نے لگے جنہوں نے احادیث کو حفظ کر لیا تھا اورخود پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ان حدیثوں کو سناتھا یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عملی زندگی میں اس کو دیکھاتھا۔

ادھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ان لوگوں نے سراٹھا نا شروع کیا جو آپ کی حیات میں مسلمان ہونے کا دم بھر تے تھے ایسے لوگوں کے خلاف اصحاب رسول جنگوں میں شرکت کے لئے میدان میں اترآئے تو فقط یمامہ کی جنگ میں جو مدعی نبوت مسیلمہ کذ اب اور اس کے ساتھیوں کے خلاف لڑی گئی تھی تقریباً تین سو (٣٠٠)افراد سے زیادہ شہید ہو ئے(١) ایسی صورت حال میں اصحاب کواحادیث رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی تدوین کی فکر لاحق ہو ئی،لیکن صحابہ اس پر متفق نہ ہو سکے؛ بعض نے اجازت دی تو بعض نے منع کیا لیکن افسوس اس کا ہے کہ ترجیح تدوین سے روکنے ہی والوں کو دی گئی کیوں کہ ادھر خلیفئہ اول(٢) و دوم(٣) و سوم(٤) تھے۔ منع حدیث کایہ سلسلہ دوسری صدی ہجری تک ان کے پیر ؤں کے درمیان باقی رہا آخر کار مسلمانوں نے مل جل کر خود کو اس مصیبت سے نجات دلائی اور تاریخ نویسی کا سلسلہ شروع کیا ۔

اسلام کا پہلا تاریخ نگار

١میر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تجہیز و تکفین کے بعد تدوین و تحریر کے کام کو لازم و ضروری سمجھتے ہوئے قلم سنبھالا اورخودیہ عہد کیا کہ نماز کے علاو ہ اس وقت تک دوش پرردا نہیں ڈالوں گاجب تک کہ قرآن مجید کوترتیب نزولی کے مطابق مرتب نہ کر لوں ۔اس تدوین میں آپ نے عام و خاص، مطلق و مقید ،مجمل و مبین ، محکم و متشابہ ، ناسخ و منسوخ، رخصت وعزائم اور آداب وسنن کی طرف اشارہ کیا، اسی طرح آیات میں اسباب نزول کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی اور جہاں بعض پہلوئوں میں مشکل دکھائی دیتی تھی اس کو بھی واضح کیا ۔

____________________

١۔ طبری،ج ٣ ،ص٢٦٩،طبع دارالمعارف

٢۔تذکرةالحفاظ، ج١،ص٣و٥

٣۔گذشتہ حوالہ، ج١، ص٣،٤،٧؛بخاری ،ج٦،باب الاستیذان ؛طبقات بن سعد ،ج٢،ص٢٠٦

٤۔مسند احمد، ج١،ص٣٦٣ ، کتاب '' السنة قبل التد وین ''ملاحظہ ہو۔

۱۲

کتاب عزیزکی جمع بندی کے بعد آپ نے دیّات کے موضوع پربھی ایک کتاب تالیف فرمائی جسے اس زمانے میں ''صحیفہ''کہاجاتاتھا۔ابن سعید نے اپنی کتاب کے آخر میں جو''الجامع''کے نام سے معروف ہے ا س کاذکرکیا ہے اور بخاری نے بھی اپنی صحیح میں متعدد مقامات پر اس کا تذکرہ کیا ہے مثلاً جلد اول کی'' کتاب العلم'' ہی میں اس کاتذکرہ موجود ہے۔

اسی زمانے میں آپ کے چاہنے والوں کی ایک جماعت نے آپ کی اس رو ش کی بھر پور پیروی کی جن میں ابو رافع ابراہیم القبطی اور ا س کے فرزند علی بن ابی رافع اور عبید اللہ بن ابی رافع قابل ذکر ہیں ۔

عبید اللہ بن ابی رافع نے جمل ،صفین اور نہروان میں شرکت کرنے والے اصحاب کے سلسلہ میں ایک کتاب لکھی(١) جو تاریخ تشیع میں ، تاریخ کی سب سے پہلی کتاب مانی جاتی ہے۔ تاریخ نویسی میں شیعہ تمام مسلمانوں کے درمیان میر کارواں کی حیثیت رکھتے ہیں ۔دیگر مورخین جیسے محمد بن سائب کلبی متوفیٰ١٤٦ھ ،ابو مخنف لوط متوفیٰ١٥٨ھ اور ہشام کلبی٢٠٦ھوغیرہ کی تا ریخی کتابیں ، تاریخ اسلام کے اولین مصادر و منابع میں شمار ہوتی ہیں ۔(٢)

کربلا

دشت کربلا میں وہ غمناک اور جاں سوزواقعہ رونما ہواجسے تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ایک نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔اس سر زمین پرسبط رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سید ا لشہداء حضرت ابو عبداللہ امام حسین علیہ الصلوٰة والسلام کے اوپر وہ وہ مظالم ڈھائے گئے جس سے تاریخ کا سینہ آج بھی لہو لہان ہے۔

یہ درد ناک واقعہ جو٦١ھ میں پیش آیا، داستانوں کی صورت میں لوگوں کے درمیان سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا رہا اور ایک زبان سے دوسری زبان تک پہنچتارہا ۔یہ واقعات لوگوں نے ایسے افراد کی زبانی سنے

____________________

١۔رجال نجاشی، ج ١ ، ص٥، مطبوعہ ہند؛الفہرست،ص ١٢٢،مطبوعہ نجف

٢۔ مزید معلومات کے لئے مؤ لفوا الشیعہ فی الاسلام ، الشیعہ و فنون الاسلام ، تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام، ص٩١۔٢٨٧؛ اعیان الشیعہ، ج١ ، ص ٨ و٤٨،اور الغدیر، ج٦ ، ص٠ ٢٩۔٢٩٧ کا مطالعہ کیجئے۔

۱۳

جو وہاں موجود تھے اورجو اْن خونچکاں واقعات کے عینی شاہد تھے ،بالکل اسی طرح جس طرح دیگر اسلامی جنگوں کے واقعات سنے جاتے تھے ۔

لیکن کسی نے بھی ان واقعات کو صفحۂ قرطاس پر تحریر نہیں کیاتھا۔یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا؛یہاں تک کہ دوسری صدی ہجری کے اوائل میں ابومخنف لوط بن یحییٰ بن سعید بن مخنف بن سلیم ازدی غامدی کوفی متوفیٰ١٥٨ھ(١) نے اس واقعہ کو معتبر راویوں کی زبان سے یکجا کیا اور اس امانت کو کتابی شکل دیکر اس کا نام ''کتاب مقتل الحسین'' رکھا جیسا کہ آپ کی کتابوں کی فہرست میں یہی نام مرقوم ہے۔ یہی وہ سب سے پہلی کتاب ہے جو اس عظیم اورجانسوز واقعہ کے تاریخی حقائق کو بیان کرتی ہے ۔

دوسری تاریخ

ابو مخنف کی روشن بینی کے زیر سایہ تربیت پانے والے ان کے شاگرد نے تاریخ اسلام اور بالخصو ص کربلا کے جانسوزواقعات کاعلم اپنے استاد سے حاصل کیا۔آپ کانام ہشام بن محمد بن سائب کلبی تھا۔ نسب شناسی میں آپ کوید طولیٰ حاصل تھا۔ ٢٠٦ ھ میں آپ نے وفات پائی۔(٢) ہشام بن محمدبن سائب کلبی نے اسی سلسلہ کی دوسری کتاب تحریرفرمائی لیکن اس کی تنظیم و تالیف سے قبل وہ اسے اپنے استاد ابی مخنف کو فی کی خدمت میں لے گئے اور ان کے سامنے اس کی قرائت کی ؛پھر ان دلسوز واقعات کے تمام نشیب و فرازکواپنے استاد کے ہمراہ تکمیل کی منزلوں تک پہنچایا۔ اس کتاب میں حدثنی ابو مخنف یا عن ابی مخنف (ابو مخنف نے ہم سے بیان کیا ہے) بہت زیادہ موجود ہے۔ اپنے استاد کی کتابوں میں سے جس کتاب کو ہشام نے کتابی شکل دی اور ان کے سامنے قرا ئت کی نیز اس سے روایات کو نقل کیا، ابو مخنف کی وہی کتاب ''مقتل الحسین'' ہے جو ان کی کتابوں کی فہرست میں موجود ہے لیکن ہشام نے جو اہم کام انجام دیا وہ یہ ہے کہ انہوں نے مقتل الحسین میں فقط اپنے استاد ابو مخنف ہی کی حدیثوں پر اکتفا نہیں کیا

____________________

١۔فوات الوفیات، ج٢ ، ص١٤٠ ؛الاعلام للزرکلی ،ج٣ ،ص ٨٢١؛مروج الذہب، ج٤ ، ص٢٤ ،مطبوعہ مصر

٢۔مروج الذھب، ج٤ ، ص ٢٤، مطبوعہ مصر

۱۴

بلکہ اس میں تاریخ کے اپنے دوسرے استاد عوانةبن حکم متوفیٰ١٥٨ھ کی حدیثیں بھی بیان کیں ۔

صدر اسلام کی تاریخ پر نظر رکھنے وا لوں سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ تمام اسلامی مورخین انھیں د و عظیم علماء کی عیال شمار ہوتے ہیں اور وہ سب ابی مخنف کے دستر خوان کے نمک خوار ہیں ؛ اسکا سبب یہ ہے کہ وہ زمان واقعہ کے نزدیک ترین مورخوں میں شمار ہوتے ہیں لہٰذاوہ اپنی تمام خصوصیات کے ساتھ جزئی مسائل کی گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور واقعہ کو اسی طرح بیان کرتے ہیں جس طرح وہ واقع ہواہے ۔

اکثر مورخین نے تاریخ کے سلسلہ میں ابو مخنف کی کتابوں کو بطور خلاصہ اپنی تالیفات میں جگہ دی ہے؛ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتابیں اس وقت مورخین کے پاس موجود تھیں ۔

جن مورخین نے ابو مخنف کی تحریر سے اپنی کتابوں میں استفادہ کیا ہے ان میں سے مندرجہ ذیل افراد کے نام قابل ذکر ہے ۔

١۔محمدبن عمر واقدی متو فی ٢٠٧ھ ۔

٢۔طبری،متوفیٰ ٣١٠ھ۔

٣۔ابن قتیبہ ،متو فی ٣٢٢ھالامامة والسیاسةمیں ۔

٤۔ ابن عبدربّہ اندلسی ،متوفیٰ٣٢٨ھ نے اپنی کتاب'' العقدالفرید''میں سقیفہ کی بحث کرتے ہوئے ۔

٥۔علی بن حسین مسعودی، متوفیٰ٣٤٥ھنے عروہ بن زبیر کی عذر خواہی کا قصہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عروہ بن زبیر نے بنی ہاشم سے اپنے بھائی عبداللہ بن زبیر کے لئے بیعت کا مطالبہ کیا ۔ بنی ہاشم نے مخالفت کی ؛اس پر عروہ نے ان لوگوں کو دھمکی دی کہ تمہارے گھروں کو جلا دیں گے۔ا س کی اطلاع جب اس کے بھائی عبد اللہ کو ملی تو اس نے عروہ کی سر زنش کی اور عروہ نے اپنے بھائی سے عذرخواہی کی ۔

٦۔شیخ مفید ،متوفیٰ ٤١٣ھ نے'' الارشاد ''میں امام حسین کی شہادت کے ذیل میں اور ''النصر ہ فی حرب البصرہ'' میں ۔

٧۔شہرستانی،متوفیٰ٥٤٨ ھ نے فرقہ نظامیہ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی کتاب'' ملل و نحل'' میں ۔

۱۵

٨۔خطیب خوارزمی، متوفیٰ٥٦٨ ھ نے اپنی کتاب'' مقتل الحسین'' میں ۔

٩۔ ابن اثیر جزری،متوفیٰ٦٣٠ ھ نے اپنی کتاب'' الکامل فی التاریخ ''میں ۔

١٠۔سبط بن جوزی،متوفیٰ٦٥٤ ھ نے اپنی کتاب'' تذکرہ خواص الامة''میں ۔

١١۔ آخری شخص جسے میں نے دیکھا ہے کہ کسی واسطہ کے بغیر ابو مخنف سے روایت نقل کرتا ہے ، ابو الفدا ،متوفیٰ٧٣٢ ھ ہیں جنہوں نے اپنی تاریخ میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔

اس وقت ابو مخنف کی کتابیں بالخصوص ''مقتل الحسین ''ہماری معلومات کے مطابق دسترس میں نہیں ہے بلکہ تمام کتابیں ضائع ہو چکی ہیں ،دوسری کتابوں سے جستہ و گریختہ جو معلومات فراہم ہوئی ہیں وہی اس وقت موجود ہیں ۔

قدیم ترین سند

١۔گذشتہ سطروں میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ابو مخنف کی ساری کتابیں ضائع ہوچکی ہیں لہٰذا وہ قدیم نص اورسند جو اس کتاب سے متعلق ہمارے پاس موجود ہے تاریخ طبری ہے؛ جس میں محمدبن جریرطبری ،متوفیٰ٣١٠ ھ نے ہشام کلبی کی حدیثوں کو جو انہوں نے اپنے استاد ابو مخنف سے حاصل کی تھیں ذکر کیا ہے۔واضح رہے کہ طبری نے اس سلسلہ میں بطور مستقل کوئی کتاب نہیں لکھی ہے اورنہ ہی اپنی تاریخ میں کوئی الگ سے باب قائم کیا ہے بلکہ ٦٠ ھ اور ٦١ھکے حوادث کا ذکر کرتے ہوئے اس واقعہ کو ذکر کیا ہے۔(١)

قابل ذکر ہے کہ طبری بلا واسطہ ہشام کلبی سے ان احادیث کی روایت نہیں کرتے بلکہ ان کی کتابوں اور تحریروں سے حدیثوں کو بیان کرتے ہوئے یوں ناقل ہیں :حدثت عن ہشام بن محمد، ہشام بن محمد سے حدیث نقل کی گئی ہے ؛لیکن اس کی وضاحت نہیں کرتے کہ ان احادیث کو خود طبری سے کس نے بیان کیا ہے۔ہمارے اس قول کی دلیل کہ طبری نے ہشام کے زمانے کو درک نہیں کیا ہے اور بلا واسطہ حدیثوں کو ان سے نہیں سنا ہے، طبری کی تاریخ ولادت٢٢٤ھ اور ہشام کی تاریخ وفات٢٠٦ھ ہے ۔

____________________

١۔طبری ،ج٥،ص٣٣٨،٤٦٧ ،مطبوعہ دارالمعارف

۱۶

طبری نے سینۂ تاریخ کے ناسور،واقعۂ حرہ کا ذکر کرتے ہوئے خود اس بات کی تصریح کی ہے کہ انھوں نے ان مطالب کو ہشام کلبی کی کتابوں سے نقل کیا ہے طبری کا بیان اس طرح ہے:

ھکذاوجدتہ فی کتابی... میں نے اس واقعہ کو اسی طرح ان کی دونوں کتابوں میں دیکھا ہے۔(١)

٢۔ طبری کی نص و سند کے بعدہمارے پاس ابو مخنف سے منقول کربلا کے واقعات کی قدیم ترین سند شیخ مفید، متو فیٰ٤١٣ ھ کی کتاب ''الارشاد'' ہے جس میں انہوں نے بلا واسطہ ہشام کلبی کی کتاب سے روایتیں نقل کی ہیں کیونکہ شیخ مفید علیہ الرحمہ، اپنی کتاب میں واقعہ کربلا کو ذکر کرنے سے پہلے اس طرح بیان فرماتے ہیں :''فمن مختصرالاخبار...مارواہ ا لکلبی ...''ان خبروں کاخلاصہ ...جس کی روایت کلبی نے کی ہے ..۔(٢)

٣۔ اس کے بعد ''تذکرة الامةبخصائص الائمة'' میں سبط ابن جو زی ،متوفیٰ٦٥٤ھ بھی بہت سارے مقامات پر امام حسین علیہ السلام کی خبروں کے ذیل میں ہشام کلبی ہی سے تصریح کے ساتھ روایتیں نقل کرتے ہیں ۔

جب ہم طبری کی نقل کا شیخ مفیداورسبط ابن جوزی کی نقل سے موازنہ کرتے ہیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ ان نصوص کے درمیان کافی حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے ،البتہ شاذو نادر اختلافات بھی دکھائی دیتے ہیں ، مثلاًواو کی جگہ پر فاء ہے یا اس کے بر عکس۔اسی قسم کے دوسرے اختلافات بھی آپ کو کتاب کے مطالعہ میں واضح طور پر دکھائی دیں گے ۔

____________________

١۔طبری ،ج٥،ص٤٨٧،اس مقام پرطبری کا بعض اسماء کو مختلف طریقو ں سے لکھنا بھی دلیل ہے کہ اس نے روایت سنی نہیں بلکہ دیکھی ہے، مثلاًمسلم بن مسیب کا نام دو جگہ آیاہے ، ایک جگہ صحیح لکھا ہے لیکن دوسری جگہ سلم بن مسیب کردیا ہے جبکہ یہ ایک ہی شخص ہے ،جیسا کہ مختار کے واقعہ میں ایسا ہی ہوا ہے۔

٢۔الاشاد ، ص٢٠٠،طبع نجف

۱۷

ابو مخنف

تا ریخ نے ہما رے لئے ابو مخنف کی تا ریخ ولادت کو ذکر نہیں کیا ہے۔فقط شیخ طو سی علیہ الرحمہ نے کشّی رحمة اللہ علیہ سے نقل کر تے ہو ئے ان کو اپنی کتاب'' الر جال ''میں راویوں کے اس گروہ میں شامل کیا ہے جو حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں ،پھر شیخ طوسی فر ما تے ہیں : ''وعندی ھذا غلط لان لو ط بن یحییٰ لم یلق امیر المو منین علیہ السلام بل کا ن ابو ہ یحیٰ من اصحابہ''(١) میر ی نظر میں کشی کی یہ بات غلط ہے کیو نکہ لوط بن یحٰی ابو مخنف نے امیر المومنین علیہ السلام کو دیکھا ہی نہیں ہے۔ ہاں ان کے والد یحٰ،امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں شمار ہو تے تھے ۔لیکن شیخ کے علاوہ کسی اورنے امیر المو منین کے اصحاب میں ابو مخنف کے والد یحییٰ کا تذکرہ نہیں کیا ہے، البتہ انکے دادا مخنف بن سلیم ازدی کے بارے میں ملتا ہے کہ وہ اصحاب امیر المو منین میں شمار ہو تے تھے۔اس کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ مخنف بن سلیم ازدی عائشہ کے خالہ زاد بھائی، عر ب نژاداور کو فہ کے رہنے والے تھے۔(٢)

قابل ذکر ہے کہ شیخ طوسی نے اس بات کو شیخ کشی کی کتاب سے نقل کیا ہے،خود ان سے بلا واسطہ نقل نہیں کیا ہے، کیو نکہ کشی تیسری صدی ہجری میں تھے اور شیخ طو سی ٣٨٥ھکے متولد ہیں ، جیسا کہ ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب ''معالم العلما ئ''(٣) میں ذکر کیا ہے ۔کشی کی اس کتاب کا نام''معر فہ النا قلین عن الا ئمہ الصادقین''ہے لیکن آج یہ کتاب نایاب ہے۔ ہماری دسترس میں فقط وہی سند ہے جسے سیدا بن طاؤوس نے فرج المہموم(٤) میں ذکر کیا ہے کہ شیخ طوسی نے ٤٦٥ہجری میں اس بات کو کشی کی کتاب سے نقل کیا ہے .خود شیخ طوسی کے مختار نظریہ کے مطا بق بھی کہیں یہ دیکھنے کو نہیں ملتا کہ انہوں نے ابو مخنف کو اصحاب امیر المو منین علیہ السلام میں شمار کیا ہو۔شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب'' رجال'' میں

____________________

١۔رجال، شیخ، ص ٥٧،مطبو عہ نجف

٢۔ گذشتہ حوالہ٥٨

٣۔ معالم العلما ء ،ص ٢٠٢، ط نجف

٤۔فرج المہموم، ص ١٣٠ ،ط نجف

۱۸

ابو مخنف کو اصحاب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام میں شمار کیا ہے،(١) جیسا کہ امام حسین علیہ السلام کے اصحاب میں بھی انکا ذکر کیا ہے،(٢) پھر اسکے بعد امام زین العابدین اور امام محمد با قر علیھماالسلام کے اصحاب میں ذکر نہیں کیا ہے۔

شیخ طوسی اپنی کتاب ''الفہر ست'' میں بھی کشی کے اس نظریہ کو پیش کرنے کے بعد اظہار نظر کر تے ہوئے فر ماتے ہیں :''والصحیح ان ابا ہ کان من اصحاب امیر المومنین علیہ السلام وہولم یلقہ ''(٣) صحیح تو یہ ہے کہ ابو مخنف کے والد اصحاب امیر المو منین میں شمار ہو تے تھے لیکن خودابو مخنف نے حضرت کو نہیں دیکھا ہے۔اسکے بعد شیخ ابو مخنف تک سند کے طریق میں ہشام بن محمد بن سا ئب کلبی اور نصر بن مزاحم منقری کا ذکر کر تے ہیں ۔

شیخ نجاشی نے بھی اپنی کتاب'' رجال'' میں انکا ذکر کیا ہے۔وہ فر ما تے ہیں : ''لوط بن یحٰبن سعید بن مخنف بن سالم(٤) ازدی غامدی ابو مخنف ،کو فہ میں اصحاب اخبار وا حادیث کے درمیان بزرگ اور جانی پہچانی شخصیتوں میں شمار ہوتے تھے ۔آپ اس قدر مورد اطمینان تھے کہ آپ کی بیان کی ہوئی باتوں کو لوگ بغیرچون وچرا قبول کر لیا کر تے تھے۔ آپ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایتیں نقل کیا کر تے تھے'' لیکن یہ صحیح نہیں ہے(رجال النجاشی، ص ٢٢٤،طبع حجرہند) اس کے بعد نجاشی نے ابو مخنف کی کتابوں کے تذکرہ میں '' کتاب مقتل الحسین ''کا بھی ذکر کیا ہے۔پھر ان روایتوں کے نقل کے لئے اپنے طریق میں ہشام بن محمد بن سائب کلبی کاذکر کیا ہے جو ابو مخنف کے شاگرد تھے ۔

اب تک ہم نے علم رجال کی چار اہم کتابوں میں سے تین کتابوں سے ابو مخنف کے سلسلہ میں علمائے رجال کے نظریات آپ کی خدمت میں پیش کئے لیکن ان تینوں منابع میں کہیں بھی ابو مخنف کی تاریخ ولادت و وفات کا تذکرہ نہیں ملتا ۔

____________________

١۔رجال، شیخ طوسی، ص٧٠

٢۔سابقہ حوالہ، ص ٧٩

٣۔ الفہرست، شیخ طوسی ،ص١٥٥،ط نجف

٤۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ یہا ں پرشیخ نجاشی مخنف بن سالم کہہ رہے ہیں لیکن جب کتاب کا ذکر کر تے ہیں تو فر ما تے ہیں انکی کتاب بنام ''اخبار آل مخنف بن سلیم ''ہے ! بہتر یہی ہو گا کہ اسے نسخہ نویسو ں کی غلطی شمار کیا جائے۔

۱۹

طبری اور خاندان ابومخنف

طبری اپنی کتاب''ذیل المذیل'' میں ان صحابہ کا تذکرہ کرتے ہوئے جو ٨٠ ھ میں اس دنیا سے گذر گئے ، بیان کرتے ہیں :''مخنف بن سلیم بن حارث...بن غامدبن ازد'' ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ۔آپ کوفہ میں خاندان ازد سے تعلق رکھتے تھے اورآپ کے تین بھائی تھے۔

١ ۔ ''عبدشمس ''جنہوں نے جنگ نخیلہ میں جام شہاد ت نو ش فرمایا ۔

٢۔ ''الصقعب ''آپ جنگ جمل میں درجہ شہادت پرفائزہوئے۔

٣۔ ''عبداللہ'' آ پ بھی جنگ جمل ہی میں شہید ہوئے ۔

مخنف ہی کی اولاد اور نسل میں ابو مخنف لوط بن یحٰبن سعید بن مخنف ہیں جو تاریخ داں اور تاریخ نگار دونوں تھے۔ لوگوں کے تاریخی واقعات آپ ہی سے نقل کئے جاتے ہیں ۔''(١) پھر طبری بصرہ کے واقعات و احوال کے سلسلہ میں دوسرے مورخین کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امیر المومنین نے ان ٧گروہوں بجیلہ ،انمار، خثعم ،ازد... مخنف بن سلیم بن ازدی کو سردار لشکر قراردیا ۔(٢) ان دونوں عبارتوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ ابو مخنف جنگ جمل میں شہید ہوئے ہیں ، لیکن طبری جنگ جمل کے سلسلہ میں ابو مخنف سے ایک دوسری روایت نقل کرتے ہیں کہ ابو مخنف نے اپنے چچا محمد بن مخنف سے اس طرح نقل کیا ہے :''کوفہ کے کچھ بزرگوں نے جو جنگ جمل میں موجود تھے، مجھ سے بیا ن کیا ہے کہ اہل کوفہ میں خاندان ازد کا پرچم مخنف بن سلیم کے ہاتھوں میں تھا۔ مخنف بن سلیم اسی جنگ میں جاں بحق ہوگئے ۔ان کے بعد ان کے دو بھائیوں صقعب اور عبداللہ کے ہاتھوں یہ پرچم لہرایا گیا اور وہ دونوں بھی اسی جنگ میں شہید ہوگئے ''۔

طبری کی یہ عبارت'' ذیل المذیل ''کی عبارت سے مشترک ہے جس میں مخنف کے دو بھائی

____________________

١۔المطبوع مع التاریخ،مطبو عہ دارالقاموس، ج ١٣،ص٣٦۔ اورمطبوعہ دار سویدان، ج١١، ص٥٤٧

٢۔طبری ،ج ٤،ص٥٠٠،مطبوعہ دارالمعارف

۲۰