تفسیر نمونہ جلد ۴

تفسیر نمونہ 0%

تفسیر نمونہ مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن

تفسیر نمونہ

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 15589
ڈاؤنلوڈ: 1984


تبصرے:

جلد 1 جلد 4 جلد 5 جلد 7 جلد 8 جلد 9 جلد 10 جلد 11 جلد 12 جلد 15
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 148 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 15589 / ڈاؤنلوڈ: 1984
سائز سائز سائز
تفسیر نمونہ

تفسیر نمونہ جلد 4

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

کتاب : تفسیرنمونه جلد چہارم

مصنف : آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

قطع: وزيرى

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری

بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس

”حذر“ بروزن ” خضر“بیداری تیار رہنے اور خطرے کے مقابلے میں چوکس اور مستعد رہنے کے معنی میں ہے ” بعض اوقات یہ لفظ اس وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں بھی آتا ہے جس کی مدد سے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے ۔ ”ثبات“ ثبہ( بروزن گنہ ) کی جمع ہے ۔ غیر منظم اور منتشر دستوں کے میں لیا گیا ہے ۔ قرآن مجید مندرجہ بالا آیت میں تمام مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے انھیں اجتماع اور وجود کے تحفظ کے لئے دو احکام اور ہدایات دیتا ہے

پہلے کہتا ہے اے وہ لوگو! جو ایمان لاچکے ہو، بڑی باریک بینی سے دشمنوں اور ان کے جاسوسوں پر نظر رکھے رہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان کی طرف سے غافل ہو کر کسی خطرے سے دو چار ہو جاو( یا ایھا الذین امنوا خذو اخذرکم ) اس کے بعد حکم دیتا ہے کہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے مختلف طریقوں اور تکنیکوں ( TECHNIQUES )سے استفادہ کرو اور متعدد دستوں کی صورت میں یا اکھٹے ہو کر دشمن کو زیر کرکے نکل پڑو

( فَانفِرُوا ثُبَاتٍ اٴَوْ انفِرُوا جَمِیعًا ) جہاں مختلف دستوں اور بکھری ہوئی ٹولیوں کی صورت میں حرکت کرنا ضروری ہو وہاں اس طریقے سے آگے بڑھو اور جہاں یہ امر لازمی ہو کہ سب ایک متحد لشکر کی صورت میں دشمن کے مقابلے پر نکلیں ، وہاں اجتماعیت سے غفلت نہ ہو تو ۔۔۔بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیت میں ” حذر“ کی تفسیر صرف اسلحہ کی معنی میں کی ہے حالانکہ حذر کے وسیع معنی ہیں اور اس کا مفہوم اسلحہ تک محدود نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں خود اسی سورہ کی آیہ ۱۰۲ میں واضح دلیل موجود ہے جہاں حذر اسلحہ سے مختلف معنی میں استعمال ہوا ہے جہاں خدا فرماتا ہے :

( ان تضعوا اسلحتکم و خذو حذرکم )

کوئی حرج نہیں کہ ضرورت کے وقت نماز کے موقع پر میدان جنگ میں اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دو ۔ لیکن حذر یعنی نگرانی اور آمادگی پر مستعد رہو ۔

یہ آیت جامع ہے اور اپنے اندر تمام پہلو لئے ہوئے ہے ۔ تمام مسلمانوں کے لئے اس میں ہر عہد اور ہر دور کے مطابق حکم موجود ہے ۔

کہ اپنی امنیت کی حفاظت اور اپنی سر حدوں کے دفاع کے لئے ہمیشہ مستعد رہو ۔ اور ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی ہمیشہ تمہاری جمعیت پر غالب و حاکم رہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ” حذر“کا معنی اس قدر وسیع ہے کہ جو ہر قسم کے مادی روحانی اور معنوی وسیلہ اور ذریعہ کو اپنے اندر سمو ئے ہوئے ہے ۔ ان باتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ وقت اور ہر زمانے میں دشمن کی حیثیت، اس کے ہتھیاروں اور جنگی طو طریقوں سے باخبر ہوں اور اپنی تیار ی کے معیار کے ساتھ دشمن کے اسلحہ کی تعداداورکار کردگی کو جانتے ہوں ۔ کیونکہ یہ تمام مذکورہ باتیں دشمن کی طرف سے خطرہ کی پیش بندی اور ” حذر“ کے مفہوم کو سمجھنے میں موثر ہیں ۔

دوسری طرف اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کی مادی اور روحانی تیاری ناگزیر ہے ، یہ تیاری تعلیمی ، اقتصادی اور افرادی وقوت کو فراہمی کے حوالے سے بھی مکمل ہونا چاہئیے ۔ اسی طرح جدید اسلحہ کی فراہمی اور اس کے استعمال کے طور طریقوں سے آگاہی بھی ضروری ہے ۔

یہ امر مسلم ہے کہ مسلمانوں نے اگر صرف اسی ایک آیت کو اپنی زندگی پر منطبق کرلیا ہوتا تو اپنی تمام تاریخ میں کبھی شکست اور ناکامی کا منہ نہ دیکھتے ۔ جیسا کہ اوپ والی آیت میں اشارہ ہے کہ جنگ کے مختلف طور طریقوں سے استفادہ کرتے ہوئے کبھی جمود اور دقیانوسیت کا شکار نہ ہونا ، بلکہ وقت اور مقام کے تقاضوں اوردشمن کی حیثیت دیکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہئیے ۔ جہاں دشمن کی حالت اس قسم کی ہے کہ وہاں مختلف دستوں کی صورت میں اس کی طرف پیش قدمی کرنا چاہئیے تو اس طریقے سے استفادہ کرو اور دشمن کے مقابلہ میں ہر دستہ کی مخصوص حکمت عملہ ہو اور جہاں ضرورت ہو کہ سب منظم ہو کر ایک حکمت عملی کے مطابق حملہ کریں تو وہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں ۔ یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ بعض افراد جو اصرار کرتے ہیں کہ اپنی اجتماعی جنگوں میں سب مسلمان ایک ہی طریقہ کو اپنا ئیں اور ان کی تکنیکوں میں کسی قسم کا فرق نہیں ہو نا چاہئیے ، ان کا مولف درست نہیں ۔ ویسے بھی یہ بات منطبق اور تجربے کے خلاف ہے اور اسلامی تعلیمات کی روح کے منافی ہے اور شاید او پر والی آیت اس پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہو ۔ حقیقی مقاصد و اہداف کے حصول کے لئے یہ ایک اہم کلیہ ہے ۔

ضمنی طور پر ” جمیعاً“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ کے لئے تمام مسلمان بغیر کسی استثناء کے شر کت کریں

اور یہ حکم کسی معین دستہ سے مخصوص نہیں ہے ۔

آیات ۷۲،۷۳

۷۲۔( وَإِنَّ مِنْکُمْ لَمَنْ لَیُبَطِّئَنَّ فَإِنْ اٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اٴَکُنْ مَعَهُمْ شَهِیدًا ) ۔

۷۳۔( وَلَئِنْ اٴَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاٴَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَهُمْ فَاٴَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا ) ۔

ترجمہ

۷۲۔ تمہارے درمیان کچھ( منافق)لوگ ہیں کہ وہ خود بھی کاہل ہیں اور دوسروں کو بھی سست بناتے ہیں اگر کوئی مصیبت آپہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم مجاہدین کے ساتھ نہیں تھے کہ ہم (اس مصیبت) کو دیکھتے ۔

۷۳۔ اگر کوئی مالِ غنیمت تمہیں مل جائے تو ٹھیک ،حالانکہ تم میں اور ان میں کوئی مودت و دوستی نہیں ۔ پھر بھی وہ بالکل اس طرح سے کہتے ہیں : کاش ! ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے اور نجات اور عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوتے ۔

دشمن کے مقابلہ میں جہاد

دشمن کے مقابلہ میں جہاد اور تیاری کے عمومی حکم کے بعد کہ جو گذشتہ آیت میں بیان ہوا ہے ، اس آیت میں منافقین کی ایک جماعت کی حالت بتاتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : یہ دو چہروں والے افراد جو تمہارے درمیان ہیں پوری کوشش کرتے ہیں کہ حق کی راہ میں لڑنے والوں کی صفوں میں شریک ہونے سے بچ جائیں ۔

( وَإِنَّ مِنْکُمْ )

۱ یہ بات توجہ طلب ہے کہ اوپر والی آیت میں خطاب مومنین سے ہے لیکن بات منافقین سے کہی جارہی ہے ، باوجود اس کے کہ ” منکم “ کی تعبیر کےس اتھ انھیں مومنین کا جزو شمار کیا ہے ۔ یہ اس بنا پر ہے کہ منافقین ہمیشہ مومنین کے درمیان ہی رہتے تھے اور ظاہراً انہی میں شمار ہوتے تھے ۔

( لَمَنْ لَیُبَطِّئَن )

۲لیبطئن مادہ بطئو( بر وزن قطب) چلنے میں کاہلی اور سستی کے معنی میں ہے اور اہل لغت اور مفسرین کی ایک جماعت کے بقول لازم اور متعدی دونوں معنی رکھتا ہے یعنی چلنے میں بھی کاہل اور سست ہیں اور دوسروں کو بھی اس کام میں شریک کرتے ہیں شاید اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ باب تفصیل میں ہے لہٰذا صرف متعدی و الا معنی رکھتا ہے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ کبھی اپنے آپ کو اور کبھی دوسرو ں کو کاہلی اور سستی پر ابھارتا ہے ؟

لیکن جب مجاہدین میدان جنگ سے واپس آتے ہیں یا میدان جنگ کی خبریں انھیں ملتی ہیں اگر مسلمانوں کو شکست یا شہادت نصیب ہوئی ہو تو مسرت و انبساط سے کہتے ہیں کہ خدانے ہمیں کتنی بڑی نعمت دی ہے ۔ ہم یہ دلخراش منظر دیکھنے کے لئے ان کے ساتھ نہیں تھے ۔

( فَإِنْ اٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةٌ قَالَ قَدْ اٴَنْعَمَ اللهُ عَلَیَّ إِذْ لَمْ اٴَکُنْ مَعَهُمْ شَهِیدًا ) ۔

لیکن اگر انھیں یہ خبر ملے کہ حقیقی مومنین کامیاب ہوگئے ہیں اور نتیجے میں مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا ہے تو یہ منچلے بیگانوں کی طرح حسرت و یاس سے کہتے ہیں کہ کاش ہم بھی مجاہدین کے ساتھ ہوتے اور ہمیں بھی بڑا حصہ ( مال غنیمت کا)ملتا۔ جیسے مومنین سے تو ان کا کوئی ربط ہی نہ ہو ۔

( وَلَئِنْ اٴَصَابَکُمْ فَضْلٌ مِنَ اللهِ لَیَقُولَنَّ کَاٴَنْ لَمْ تَکُنْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَهُ مَوَدَّةٌ یَالَیْتَنِی کُنتُ مَعَهُمْ فَاٴَفُوزَ فَوْزًا عَظِیمًا ) ۔

اگر چہ اوپر والی آیت میں مال غنیمت کا ذکر نہیں ہوا۔ لیکن واضح ہے کہ جو راہ خدا میں شہادت کو ایک بلا اور مصیبت تصور کرتا ہے اور شہادت کا شعور نہ رکھنے کو خد اکی نعمت تصور کرتا ہے ، اس کے نزدیک صرف مادی اور جنگی غنائم کا حصول عظیم کامیابی اور فتح ہے ۔ یہ دو رخے افراد جن کے متعلق افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر معاشرے میں تھے اور ہیں ، وہ حقیقی مومنین کی کامیابیوں اور شکستوں سے اپنے قیافے فورا ً بدل لیتے ہیں ۔ غم و آلام میں کبھی ان کا ساتھ نہیں دیتے، مصیبت او رمشکل میں ان کے ہم قدم نہیں ہوتے لیکن اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کامیابیوں اور کامرانیوں کی صورت میں انھیں ( مال غنیمت) ملے اور حقیقی مومنین جیسے امتیازات انھیں حاصل ہوں ۔

آیت ۷۴

۷۴۔( فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اٴَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا ) ۔

ترجمہ

۷۴۔ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے بیچی ہے انھیں چاہئیے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص راہ ِ خدا میں جنگ کرے اورقتل ہو جائے یا غالب آجائے تو ہم اسے اجر عظیم دیں گے ۔

تفسیر

مومنین کو جہاد کے لئے آمادہ کرنا

گذشتہ آیات میں منافقین کو مومنین کی صفوں سے جدا کرکے دکھا یا گیا ہے اس آیت میں اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں صاحب ایمان افراد کو اثر انگیز دلائل کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے کہ یہ آیات ایک ایسے زمناے میں نازل ہوئی ہیں جب طرح طرح کے اندرونی او ربیرونی دشمن اہل ِ اسلام کو ڈرا دھمکا رہے تھے ایسے میں ان آیات کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے جن میں مسلمانوں کی روحِ جہاد کو ابھارا گیا ہے ۔ آیت کی ابتدامیں خدا فرماتا ہے : راہ خدا میں وہ افراد جنگ کریں جو دنیا کی پست مادی زندگی کا دوسرے جہان کی ابدی اور جاودان زندگی سے تبادلہ کرنے کو تیار ہیں ۔

( فَلْیُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یَشْرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالْآخِرَةِ )

یعنی صرف وہ لو گ حقیقی مجاہدین کہلاسکتے ہیں جو اس بات کے لئے آمادہ ہوں اور انھوں نے بجا طور پر یہ جان لیا ہو کہ مادی دنیا کی زندگی جیساکہ لفظ دنیا ( بمعنی پست تر) سے ظاہر ہوتا ہے ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لئے باعزت موت کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی لیکن جو لوگ مادی زندگی کو گراں بہا و انسانی مقدس اہداف و مقاصد سے بالاتر سمجھتے ہیں وہ کبھی اچھے مجاہد نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد آیت کے ذیل میں فرماتا ہے : ” ایسے مجاہدین کا انجام واضح ہے کیونکہ وہ شہید ہو جائیں گے یا دشمن کو تباہ کردیں گے اور ان پر غالب آجائیں گے اور دونوں صورتوں میں ہم انھیں اجر عظیم دیں گے “

( وَمَنْ یُقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیُقْتَلْ اٴَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیهِ اٴَجْرًا عَظِیمًا )

یہ مسلم ہے کہ ایسے جانبازوں کی لغت میں شکست کا وجود نہیں ہے وہ دونوں صورتوں میں اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں یہی ایک جذبہ اس امر کے لئے کافی ہے کہ دشمن ان کے لئے کامیابی کے وسائل فراہم کرے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسے دشمنوں پر تیزی سے غلبہ حاصل ہوا جو تعدا، ساز و سامان او رجنگی تیاریوں کے لحاظ سے ان کے مقابلے میں کئی گنا بالادستی رکھتے تھے ۔ اس کا محرک یہی ناقابلِ شکست جذبہ تھا۔ یہاں تک کہ غیر مسلم علماء جنھوں نے رسول اللہ کے زمانے اور آپ کے بعد اسلام او ر مسلمانوں تیز رفتار کامیابیوں پر بحث کی ہے انھوں نے بھی اس جذبے کو ان کی پیش رفت کا محرک قرار دیا ہے ۔

مغرب کا ایک مشہور مورخ رقمطراز ہے ۔(۱)

” نئے مذہب کی بر کت اور جن انعامات کا آخرت میں وعدہ کیا گیا تھا، ان کی وجہ سے وہ موت سے بالکل نہیں ڈرتے تھے اور دوسرے جہان کو چھوڑ کر اس زندگی کی نظر میں کوئی حقیقت نہ تھی ، لہٰذا وہ اس زندگی سے محبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے ۔ “

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیت میں قرآن کی دوسری بہت سی آیات کی طرح اس جہاد کو مقدس قرار دیا گیا ہے جو”فی سبیل الله “ یعنی خدا کی راہ میں ہو، بندگان خدا کی نجات کا ذریعہ ہو، اصول حق و انصاف کی خاطر ہو اور پاکیزگی و تقویٰ کے لئے ہو، نہ کہ وہ جنگیں جو توسیع پسندی م تعصب اور استعمار و سامراجی مقاصد کے لئے لڑی جائیں ۔

____________________

۱تاریخ تمدن اسلام و عرب گوستان و لبون صفحہ ۱۵۵۔

آیت ۷۵

۷۵( وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اٴَهْلُهَا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا ) ۔

ترجمہ

۷۵۔کیوں تم خدا کی راہ میں مردوں عورتوں اور بچوں کے لئے کہ ( جو ستمگروں کے ہاتھوں ) کمزور کردئیے گئے ہیں جنگ نہیں کرتے وہ ( ستم زدہ ) افراد جو کہتے ہیں کہ خدا یا ہمیں اس شہر ( مکہ) سے نکال لے جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے ایک سر پرست بھیج اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کوئی مدد گار بھیج ۔

تفسیر

انسانی جذبوں کو مظلوموں کی مدد کے لئے ابھارا گیا ہے

گذشتہ آیت میں مومنین کو جہاد کی دعوت دی گئی ہے لیکن خدا و قیامت پر ایمان اور سودوزیاں کے استدلال کا سہارالیا گیا ہے ۔ اس آیت میں انسانی جذبات و احساسات کی بنیاد پر جہاد کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے : کیوں تم راہ خدا میں اور مظلوم و بیکس مردوں ، عورتوں اور بچوں کے لئے جو ستم گروں کے چنگل میں گرفتار ہیں جنگ نہیں کرتے کیا تمہارے انسانی جذبات اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ خاموش بیٹھے رہو اور ان رقت انگیز مناظر کو دیکھتے رہو

( وَمَا لَکُمْ لاَتُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِینَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَان ) ۱)

اس کے بعد مومنین کے احساسات کو ولولہ انگیز بنانے کے لئے کہتا ہے : یہ مستضعفین وہی لوگ ہیں جو گھٹے ہوئے ماحول میں گرفتار ہو چکے ہیں اور ہر جگہ سے ناامید ہو چکے ہیں لہٰذا دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے خدا سے در خواست کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم و ستم کے ماحول سے انھیں نجات دے ۔

( الَّذِینَ یَقُولُونَ رَبَّنَا اٴَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اٴَهْلُهَا )

نیز اپنے خدا سے یہ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ وہ ایک ولی و سر پرست ان کی حمایت کے لئے بھیج دے ۔

( وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا ) اور کہتے ہیں : ہمارے لئے کوئی یاور و مدد گار بھیج( وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِیرًا )

حقیقت میں اوپر والی آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ خدا نے ان کی دعا کوقبول لیا ہے اور اس عظیم انسانی پیغام ِ رسالت کو تمہارے ذمہ قرار دیا ہے اور تم خد اکی طرف سے ” ولی و نصیر“ موجود ان کی حمایت اور نجات کے لئے معین کئے گئے ہو ۔

لہٰذا ایسانہیں ہونا چاہئیے کہ تم اس موقع اور اعلیٰ حیثیت کو اپنے ہاتھ سے گنوا بیٹھو ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ اسلامی جہاد کے دو ہدف

جہاد اسلامی جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے ، مال و متال ، مقام و مرتبہ وسائل اور دوسرے ممالک کے خام مال پر قبضہ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی منڈیاں تلاش کرنے یا عقیدہ اور سیاست ٹھونسنے کے لئے ہے بلکہ صرف اصولِ فضیلت و ایمان کی نشر و اشاعت اور محکوم ، ستم رسیدہ مردوں ، عورتوں اور محروم و مظلوم بچوں کے دفاع کے لئے ہے ۔ اس طرح جہاد کے دو جامع ہدفاور مقاصد ہیں جن کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے ایک ” خدا کی ہدف“ اور دوسرا” انسانی ہدف“ یہ دونوں حقیقت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں اور ان کی باز گشت ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

۲۔ معاشرے میں آزادیِ فکر و نظر

اسلام کی نگاہ میں وہ معاشرہ اور ماحول زندگی بسر کرنے کے قابل ہے جس میں آزادانہ اپنے صحیح عقیدے کے مطابق عمل کیا جاسکے، باقی رہا وہ ماحول یا معاشرہ جس میں گلا گھونٹ دیا جائے اور یہاں تک کہ انسان اتنا آزاد بھی نہ ہوکہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہہ سکے ، اس میں زندگی نہیں گذاری جا سکتی ، جہاں صاحبِ ایمان افراد یہ آرزو کرتے ہوں کہ وہ ایسے ماحول سے باہر چلے جائیں کیونکہ ایسے ماحول میں صرف ستمگر کی بالا دستی ہوتی ہے ۔

قابل توجہ امر یہ ے کہ ” مکہ “ نہایت مقدس شہر اور مہاجرین کا اصل وطن تھا اس کے باوجود اس کی پر آشوب اور گھٹن زدہ کیفیت اس بات کا سبب بنی کہ وہ خدا سے در خواست کریں کہ وہ وہاں سے باہر نکل جائیں ۔

۳۔ یاور سے پہلے رہبر

مندرجہ بالاآیت میں ہے کہ وہ مسلمان جو دشمن کے چنگل میں گرفتار تھے انھون نے پہلے تو اپنی نجات کے لئے خدا کی طرف سے ولی بھیجے جانے کا تقاضا کیا اور پھر ظالموں کے چنگل سے چھٹکاراحاصل کرنے کے لئے نصیر اور مدد گارکی آرزوکی ۔ کیونکہ ہر چیز سے پہلے قابل اور درد مند ” رہبر“ اور سر پرست کا وجود ضروری ہے اور اس کے بعد یار و مددگار کی اور کافی تعداد میں افراد کی ضرورت ہے لہٰذا یہ یاور و مدد گار جتنے بھی ہوں ایک صحیح رہبر کے بغیر بے سود ہیں ۔

۴۔ بار گاہ الہٰی میں دستِ نیاز

صاحبِ ایمان افراد ہرچیز خدا سے چاہتے ہیں اور وہ دستِ نیاز اس کے علاوہ کسی کے آگے نہیں دراز کرتے ، یہاں تک کہ اگر وہ ولی و مدد گار کا تقاضا کریں تب بھی اسی سے ( مدد) چاہتے ہیں ۔

____________________

۱ مستضعف اور ضعیف میں واضح فرق ہے ضعیف وہ ہے جو ناتمام ہو اور مستضعف وہ ہے جو دوسروں کے ظلم و ستم کے باعث کمزور ہو گیا ہو چاہے یہ کمزوری فکری اور ثقافتی اعتبار سے ہو یا اخلاقی نقطہ نظر سے یا اقتصادی حوالے سے یا سیاسی اور اجتماعی نقطہ نظر سے اس طرح یہ ایک جامع تعبیر ہے کہ جو ہر طرح کے استعمار زدہ اور ستم رسیدہ کے لئے استعمال ہوا ہے

آیت ۷۶

۷۶۔( الَّذِینَ آمَنُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا اٴَوْلِیَاءَ الشَّیْطَانِ إِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیفًا ) ۔

ترجمہ

جو صاحبِ ایمان ہیں وہ راہِ خدا میں جنگ کرتے ہیں اورجو کافر ہیں وہ طاغوت ( اور فسادی لوگوں ) کی راہ میں لڑتے ہیں لہٰذا تم ان شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو ( اور ان سے ڈرو نہیں ) کیونکہ شیطان کا مکرو فریب( اس کی طاقت کی طرح ) ضعیف و کمزور ہے ۔

تفسیر

پھر اس آیت میں مجاہدین کو شجاعت پر ابھارا گیا ہے اور انھیں دشمن کے ساتھ مبارزہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ مجاہدین کی صفوں اور اہداف و مقاصد کو مشخص و ممتاز کرنے کے لئے اس طرح فرماتا ہے :

” صاحبِ ایمان افراد خدا کی راہ میں اس کے لئے جو خدا کے بندوں کے لئے سود مند ہے جنگ کرتے ہیں ، لیکن بے ایمان افراد طاغوت یعنی تباہ کرنے والی طاقتوں کی راہ میں ( جنگ کرتے ہیں )“

( الَّذِینَ آمَنُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ وَالَّذِینَ کَفَرُوا یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ الطَّاغُوتِ )

یعنی بہر حال ان کی زندگی کے دن مبارزہ اور مقابلہ سے خالی نہیں ہیں ۔ زیادہ سے زیادہ ایک گروہ حق کی راہ میں اور دوسرا باطل اور شیطان کی راہ میں برسر پیکار ہے ۔ اس کے بعد کہتا ہے : شیطان کے ساتھیوں سے جنگ کرواور ان سے ڈرو نہیں( فَقَاتِلُوا اٴَوْلِیَاءَ الشَّیْطَان ) ۔

طاغوت، فسادی قووتیں اور ظالم طاقتیں ظاہراً جتنی بھی بڑی اور قوی نظر آئیں لیکن باطن میں زبوں حال اور ناتواں ہیں ۔

ان کے ظاہری سازو سامان ، تیاری اور آراستہ و پیراستہ ہونے سے نہ ڈرو ۔ کیونکہ ان کا باطن کھوکھلا ہے اور ان کے منصوبے اور سازشین ان کی طاقت اور توانائی کی طرح ناقص و کمزور ہیں ۔ کیونکہ خدا ئے لایزل کی قدرت پر ان کا تکیہ نہیں ہے بلکہ وہ شیطانی طاقتوں پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں (إِنَّ کَیْدَ الشَّیْطَانِ کَانَ ضَعِیفًا) ۔اس کمزوری اور ناتوانی کی دلیل واضح ہے کیونکہ ایک طرف سے صاحب ِ ایمان افراد اہداف اور حقائق کی راہ میں قدم آگے بڑھاتے ہیں کہ قانونِ آفرینش سے ہم آہنگ اور ہم صا ہیں اور ابدی و جاودانی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں وہ انسانوں کو آزاد کرنے اور ظلم و ستم کے مظاہر کو ختم کرنے کے لئے بر سر پیکار ہیں جبکہ طاغوت کے طرفدار استعماری اور لوٹ مار کری والی قوتیں ناپائیدار شہوت کی راہ میں چلنے والے جن کا اثر معاشرے کی تباہی اور قانونِ آفرینش کے بر خلاف ہے ، سعی و کوشش کرتے ہیں ۔ دوسری طرف سے صاحبِ ایمان افراد روحانی قوتوں پر بھروسہ کرکے مطمئن ہیں کہ وہ ان کی کامیابی کے ضامن ہیں اور وہ انھیں قوت بخشیں گے ۔ جبکہ بے ایمان لوگوں کو کوئی مستحکم سہارا نہیں ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں طاغوت کا شیطان سے مکمل ربط بیان ہواہے کہ کس طرح طاغوت شیطان صفت مختلف طاقتوں سے مدد حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ خدا کہتا ہے کہ طاغوت کے ساتھی وہی شیطان کے دوست ہیں ۔ سورہ اعراف آیہ ۲۷ میں یہی مضمون آیا ہے :

( انا جعلنا الشیاطین اولیاء للذین لایومنون )

ہم نے شیاطین کو بے ایمان افراد کا سر پرست بنا دیا ہے ۔

آیت ۷۷

۷۷۔( اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَهُمْ کُفُّوا اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاٴَخَّرْتَنَا إِلَی اٴَجَلٍ قَرِیبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا ) ۔

ترجمہ

۷۷۔ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں ( مکہ میں ) کہا گیا کہ ( وقتی طور پر) جہاد سے دستبردار ہو جاو اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو( مگر وہ اس حکم سے رنجیدہ اور غیر مطمئن تھے ) لیکن جس وقت ( مدینہ میں ) انھیں جہاد کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرتاتھا جس طرح خدا سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ وہ کہنے لگے پر وردگار! تونے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ہے کیوں یہ حکم دینے میں تاخیر نہیں کی ۔ ان سے کہہ دو زندگانیِ دنیا کاسرمایہ ناچیز اور کم تر ہے اور جو پر ہیز گار ہو اس کی آخرت بہتر ہے اور تم پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی نہیں ہوگا۔

شان ِ نزول

مفسرین کی ایک جماعت مثلاً عظیم مفسر طوسی مولف” تبیان “ او ر،ولفین ” تفسیر قرطبی“ اور ” المنار“ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت جب مکہ میں مقیم تھی اور مشرکین کی طرف سے اس پر ظلم و ستم توڑے جارہے تھے اس جماعت کے افراد پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم قبول ِ اسلام سے پہلے محترم اور معزز تھے لیکن قبول اسلام کے بعد ہماری حالت دگر گوں ہ وگئی اور ہم وہ عزت اور احترام کھو بیٹھے ہیں ہمیں دشمن نے اذیت اور مصیبت میں مبتلا کردیا ہے ۔

اگر آپ اجازت دیں تو ہم دشمنوں سے جنگ کریں تاکہ اپنا وقار اور مرتبہ دوبارہ بحال کرسکیں ۔ اس روز پیغمبر نے فرمایا ابھی مجھے جنگ کرنے کا حکم نہیں ہے لیکن جب مسلمان مدینہ میں جابسے اور مقابلے کے لئے زمین ہموارہو گئی، جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان میں سے بعض جو پہلے لڑنے کے لئے تلے بیٹھے تھے اب میدان جہاد میں کانے سے کترانے لگے اور اس دن کا جوش و ولولہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی او رمسلمانوں میں جذبہ شجاعت بیدار کرنے کے لئے اور جہاد سے گریز کرنے والے افراد کو ملامت کرتے ہوئے حقائق بیان کیے ۔

وہ جو صرف باتیں کرنا جانتے ہیں

قرآن یہاں کہتا ہے ، اس گروہ کی حالت واقعاً تعجب خیز ہے جو ایک نامناسب موقع پر بڑی گرم جوشی اور شور و غوغا سے تقاضا کرتا تھا کہ انھیں جہاد کی اجازت دی جائے انھیں حکم دیا گیا کہ ابھی اپنی حفاظت اورتعمیر کا کام کریں ، نماز پڑھیں ، اپنی تعدادبڑھائیں اور زکوٰة دیتے رہیں لیکن جب ہر لحاظ سے فضا ہموار ہو گئی اور جہاد کاحکم نازل ہوا تو ان پرخوف طاری ہو گیا اور وہ اس حکم کے سامنے زبانِ اعتراض دراز کرنے لگے ۔

( اٴَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ قِیلَ لَهُمْ کُفُّوا اٴَیْدِیَکُمْ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمْ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیقٌ مِنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً )

وہ اعتراض میں صراحت کے ساتھ کہتے تھے خدا یا تونے اتنا جلدی جہاد کا حکم نازل کر دیا کیا اچھا ہوتااگر اس حکم کو تاخیر میں ڈال دیتا یا یہ پیغام ِ رسالت آئندہ کی نسلوں کے ذمہ ڈال دیا جا تا۔(۱)

( وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ لَوْلاَاٴَخَّرْتَنَا إِلَی اٴَجَلٍ قَرِیبٍ )

قرآن اس قسم کے افراد کو دو طرح کے جواب دیتا ہے ، پہلا جواب یہ ہے کہ جو( یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَةِ اللهِ اٴَوْ اٴَشَدَّ خَشْیَةً ) کی عبارت کے دوران دیا جاچکا ہے ۔ یعنی وہ لوگ بجائے اس کے کہ خدائے قاہر سے ڈریں کمزور اور ناتواں انسانوں سے خوف زدہ ہیں بلکہ وہ ان نحیف و ناتواں لوگوں سے خدا کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں دوسرا یہ کہ ایسے افراد کہا جائے کہ فرض کروں چند دن جہاد نہ کرنے کی وجہ سے آرام و سکون حاصل کرلو گے ، پھر بھی یہ زندگی فانی اور بے قیمت ہے لیکن ابدی اور دائمی جہاں تو پرہیز گار لوگوں کے لئے زیادہ قدر و قیمت رکھتا ہے ، خصوصاً جب انھیں مکمل طور پر عوض اور اجر مل جائے گا معمولی سے معمولی ظلم بھی ان پر نہیں ہوگا..

( قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیلٌ وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ لِمَنْ اتَّقَی وَلاَتُظْلَمُونَ فَتِیلًا ) ۔(۲)

____________________

۱-بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت مہدی (علیه السلام) کے قیام کے بارے میں کچھ باتیں سن رکھی تھیں ۔ لہٰذا ان میں سے بعض اس انتظار میں تھے کہ جہاد کا معاملہ قیامِ مہدی (علیه السلام) کے زمانے سے مخصوص ہو جائے ۔ ( نور الثقلین جلد اول ص۵۱۸)

۲-فتیل ایک باریک دھاگہ ہے جو کھجور کے دانے کے درمیان شگاف میں ہوتا ہے جس طرح کہ اس کی تفصیل تیسری جلد میں گزر چکی ہے ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ صرف نماز اور زکوٰة کا تذکرہ کیوں ؟

سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ تمام احکام ِ سلام میں صرف نماز اور زکوٰة کا کیوں ذکر ہوا ہے حالانکہ احکام اسلامی انہی دو میں منحصر نہےں ہیں ۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز خدا سے وابستہ ہونے اور زکوٰة مخلوق خدا سے رشتہ استوار کرنے کی رمز ہے ۔

لہٰذا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو حکم دیا جائے کہ خدا سے محکم و ابستگی اور بند گانِ خدا سے مضبوط رشتہ استوار کرکے اپنے جسم و جان اور اجتماع و معاشرے کو جہاد کے لئے آمادہ کریں ۔ اصطلاح کے مطابق اپنی تربیت کریں ۔ یہ بات مسلم ہے کہ کسی قسم کا جہاد افراد کی روحانی اور جسمانی آمادگی مستحکم رشتوں کے بغیر شکست سے ہمکنار ہو جائے گا۔ مسلمان نماز اور عبادت خدا کے سایے میں اپنے ایمان کو محکم اور اپنے راحانی جذبہ کی پر ورش کرتا ہے اور ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے آمادہ ہوتا ہے اور زکوٰة کے ذریعے اجتماعی فاصلوں کو مٹا تا ہے ۔ زکوٰة ہی کے ذریعے آزمودہ کار افراد اور جنگی سازو سامان مہیا کرنے کے لئے ایک اقتصادی معاونت کرتا ہے اور حکم جہاد کے صادر ہونے پر دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہو جاتا ہے ۔

۲۔ مکہ میں حکم زکوٰة

ہم جانتے ہیں کہ زکوٰة کا قانون مدینہ میں نازل ہوا اور مکہ میں مسلمانوں پر زکوٰة واجب نہیں ہوئی تھی اس کے باوجود یہ کیسے ممکن ہے کہ مندروجہ بالا آیت میں مکہ کے مسلمانوں کی حالت و کیفیت بیان کی جارہی ہو ۔ شیخ طوسی مرحوم نے اس سوال کا جواب تفسیر” تبیان “ میں دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مندرجہ بالاآیت میں زکوٰة سے مراد مستحب زکوٰة تھی ۔ جوکہ مکہ میں نافذ تھی ۔ یعنی قرآن مسلمانوں کو ( حتی مکہ میں بھی ) حاجت مندوں کی مالی امداد نو مسلم افرادکے لئے ضرورات مہیا کرنے کی طرف راغب کرتا ہے ۔

۳۔ مکہ اور مدینہ میں مختلف لائحہ عمل

مندرجہ بالا آیت میں ضمنی طور پر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کا ایک لائحہ عمل تھا اور مدینہ میں دوسرا۔ مکہ کا تیرہ سالہ قیام مسلمانوں کے انسان سازی کا تھا ۔ پیغمبر اکرم نے شب و روز مسلسل کوشش کی کہ انھیں بت پرستی اور زمانہ جاہلیت کے بیہودہ عناصر سے نجات دلا کر اس قسم کے انسان بنائیں جو زندگی کے بڑے حادثات کا مقابلہ کرتے ہوئے استقامت ، پا مردی اور ایثار کا مظاہرہ کریں اگر مکہ کے قیام کے زمانے میں یہ چیز موجود نہ ہوتی تو مدینہ کے مسلمانوں کو اتنی حیران کن اور پے در پے کامیابیاں نصیب نہ ہوتیں ۔ مکہ کے قیام کا دور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور تجربہ حاصل کر نے کا دور ہے ۔ اس بنیاد پر قرآن کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے تقریباً نوّے سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں ۔ ان میں سے زیادہ تر سورتیں عقیدہ، مکتب اور نظر یات کا منبع تھیں لیکن مدینہ کا زمانہ تشکیل حکومت اور ایک مکمل معاشرے کی بنیادیں استوار کرنے کا دور تھا ۔ اس لئے نہ تو مکہ میں جہاد واجب تھا اور نہ ہی زکوٰة ۔ کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کے فرائض میں سے ہے جیساکہ بیت المال کی تشکیل بھی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔