تفسیر نمونہ جلد ۸

تفسیر نمونہ 0%

تفسیر نمونہ مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن

تفسیر نمونہ

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات:

مشاہدے: 16861
ڈاؤنلوڈ: 1542


تبصرے:

جلد 1 جلد 4 جلد 5 جلد 7 جلد 8 جلد 9 جلد 10 جلد 11 جلد 12 جلد 15
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 109 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 16861 / ڈاؤنلوڈ: 1542
سائز سائز سائز
تفسیر نمونہ

تفسیر نمونہ جلد 8

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

تفسیر نمونہ جلد ۰ہشتم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری

مصارف زکوٰة اور اس کی تفصیلات

ا س سلسلے میں تاریخ اسلام میں دو دور نمایاں دکھائی دیتے ہیں ایک مکہ کے قیام کا زمانہ جس میں رسول اکرم او رمسلمانوں کی توجہ افراد کی تعلیم و تربیت اورتبلیغ پر لگی ہوئی تھی ۔

دوسرا مدینہ منورہ کا ہے جس میں رسول الہ نے حکومت ِ اسلامی کی تشکیل اور تعلیمات اسلامی کو اس صالح حکومت کے ذریعے عملی صورت دینے اور جاری کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت کی تشکیل کے وقت ایک ابتدائی او رنہایت ضروری مسئلہ بیت المال کی تشکیل ہے تاکہ اس کے ذریعے حکومت کی اتقصادی ضروریات پوری ہوتی رہیں او ریہ وہ بنیادی ضروریات ہیں جن کا ہر ایک حکومت کو سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

البتہ جیساکہ ہم انشاء الہ اس کے بعد اشارہ کریں گے کہ زکوٰة کا حکم پہلے مکہ مکرمہ میں بھی نازل ہوا تھا ۔ لیکن اس میں زکوٰة کی رقم کا بیت المال میں جمع کرنا واجب نہ تھا ۔ بلکہ لوگ اسے خود ادا کرتے تھے ۔ لیکن مدینہ منورہ میں اسے جمع کرنے اور مرکزیت دینے کا حکم خدا وند عالم کی طرف سے سورہ توبہ کی آیت ۱۰۳ میں نازل ہوا۔

زیر بحث آیت جس کے بارے میں یہ تسلیم شدہ ہے کہ وہ زکوٰة حاصل کرنے کو واجب قرار دینے والی آیت کے بعد ہے ( اگر چہ قرآن میں اس کا ذکر پہلے بھی کیا گیا ہے ) زکوٰة کے مختلف مصارف بیان کرتی ہے ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ اس آیت کے شروع میں لفظ ” انما “ ہے وجو حصر پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض خود غرض اور جاہل یہ امید رکھتے تھے کہ وہ استحقاق کے بغیر زکوٰة میں سے کچھ حصہ وصول کرلیں مگر لفظ” انما“ نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے کی دوآیتوں سے یہی معنی نکلتے ہیں کہ بعض لوگ رسول اللہ پر اعتراض کرتے تھے کہ آپ زکوٰة کا کچھ حصہ ہمارے اختیار میں کیوں نہیں دیتے؟ یہاں تک کہ وہ محرورمی کی صورت میں آگ بگولہ ہو جاتے لیکن اس کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے ۔

بہر حال مندر جہ بالاآیت واضح طور پر زکوٰة کے واقعی او رذحقیقی مصارف بیا ن کرکے تمام بے جا توقعات کو ختم کرہی ہے اور ان مصارف کی آٹھ قسمیں مقرر کرتی ہے :

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ ) ۔

” عاملین “ زکوٰة جمع کرنے والے( وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا ) ۔

یہ جماعت اس عملہ اور کار کنان کی ہے جو زکوٰة جمع کرتے اور اسلامی بیت المال کا انتظام و انصرام کرتے ہیں ۔ جو کچھ ان کو دیا جاتا ہے وہ در حقیقت ان کی مزدوری ہے ۔

”مولفة قلوبھم “ یعنی وہ لوگ جس میں اسلام کی ترقی کے لئے کوئی مضبوط روحانی جذبہ نہیں ہے لیکن مالی تشویق کے ذریعے ان کی تالیف ِ قلوب ہوسکتی ہے ان کی محبت حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ”( وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ) “ کی مزید توضیح بعد میں آئے گی ۔( وَفِی الرِّقَابِ ) ۔

یعنی زکوٰة کا ایک حصہ ایک حصہ غلامی کے خلاف جہاد کرنے او را سکے خلاف انسانیت کام کو ختم کرنے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے ۔ نیز جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ غلاموں کے بارے میں اسلام کا پروگرام ان کی تدریجی آزادی ہے ۔ جس کا آخری نتیجہ تمام غلاموں کو آزادی دلانا ہے ۔ بغیر اس کے کہ معاشرے کی طرف سے کوئی ناپسند یدہ ردِّ عمل کیاجائے یہ بھی اسی پروگرام کا ایک حصہ ہے کہ زکوٰة کا ایک حصہ اس مقصد کے لئے مختص کیا جا تا ہے ۔( وَالْغَارِمِینَ )

( وَفِی سَبِیلِ اللهِ ) ۔

جیسا کہ ہم مذکورہ آیت کے آخر میں اشارہ کریں گے کہ اس سے مراد تمام راستے ہیں جن سے دین الہٰی کو وسعت ملتی ہو اور تقویت ملتی ہو، مثلاً جہاد اور تبلیغ وغیرہ۔

( وَاِبْنِ السَّبِیلِ ) ۔

۱ ۔ فقراء : سب سے پہلے واضح کرتی ہے ” صدقات و زکوٰة فقیروں کے لئے “ ۲ ۔ مساکین ۳ ۔ ۴ ۔ ۵ ۔ غلاموں کو آزاد کرنے والے کے لئے ۶ ۔ ایسے قرض داروں کے قرض کی ادائیگی جو کسی جرم و خطا کے بغیر قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور اسے ادا رکر نے کی طاقت نہیں رکھتے ۷ ۔ خدا کے راستے میں ۸ ۔ وہ جو سفر میں محتاج ہو جائیں

یعنی ایسے مسافر جو کسی وجہ سے راستے میں رہ جائیں اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے حسب ضرورت زاد راہ اور سواری رکھتے ہوں ۔

اگر چہ وہ فقیر اور نادار نہ ہوں ۔ مگر وہ چوری ، بیماری یامال گم ہونے یا کسی اور سبب سے اس حالت میں مبتلا ہوں ۔ اس قسم کے افراد کو زکوٰة سے اس قدر رقم دی جائے کہ وہ اطمنان سے منزل ِ مقصود تک پہنچ سکیں ۔

آیت کے آخر میں تاکید کے عنوان سے گذشتہ مصارف کے بارے میں فرمایا گیا ہے یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے( فَرِیضَةً مِنْ اللهِ ) ۔

اس میں شک نہیں کہ یہ فریضہ انتہائی جچا تلا ہے جو فر اور معاشرے دونوں کی بہتری کے لئے جامع ہے کیونکہ خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔

چند اہم نکات

۱ ۔ ”فقیر “ او ر” مسکین “ میں فرق :

مفسرین میں اس امر کے متعلق اختلاف ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ فقیر او رمسکین کا ایک ہی مفہوم ہے ۔ اس لئے تاکدی کے طور پر مذکورہ بالا آیت میں دو الفاظ آئے ہیں ۔ اس بنا پر مصارف زکوٰة سات ہیں ۔ بعض کا خیال ہے کہ دولوں الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں ۔

اکثر مفسرین اور فقہا نے دوسرے احتمال کو مانا ہے اور اس نظر یہ کے طرفداروں نے بھی ان دونوں لفظوں کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے لیکن جو زیادہ قرین نظر معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ فقیر وہ شخص ہے جو زندگی کو تنگی ترشی سے گذارتا ہو با وجود اس کے کہ کوئی کام کاج بھی کرتا ہو او رکبھی کسی سے سوال نہ کرتا ہو لیکن مسکین وہ شخص ہے جو زیادہ ضرورت مند ہو او رکوئی کام بھی نہ کرسکتا ہو اس لئے ہر ایک سے سوال کرتا ہو۔

شاید یہ بات مسکین کی بنیادی معنی سے لی گئی ہے یہ لفظ ” سکون “ کے مادہ سے ہے ۔ یعنی اس قسم کا فرد شدید ناداری کی وجہ سے زمین پر بے حس و حرکت پڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ ان دونوں لفظوں کے استعمال کو قرآن ِ مجید میں دیکھنے سے اسی معنی کی تائید ہو تی ہے چنانچہ ہم سورہ بلد کی آیت ۱۶ میں پڑھتے ہیں :۔( اَو مِسْکِیْناً ذَا مَتْرَبَة ) یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلائے۔

سورہ نساء کی آیت ۸ میں ہے :۔”( و اذا خضر القسمة اولوا القربیٰ و الیتامیٰ والمساکین فار زقوهم )

جس وقت رشتہ دار ، یتیم اور مسکین ورثے کے وقت موجود ہو تو اس میں سے کچھ نہ کچھ انھیں دے دو۔

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مساکین سے مراد سوالی ہیں جو کبھی کبھی ایسے موقع پر آنکلتے ہیں ۔

سورہ قلم کی آیت ۲۴ میں ہے :۔( ان لا ید خلنها الیوم علیکم مسکین )

آج کوئی مسکین تمہاری کھیتی باڑی کے احاطہ میں داخل نہ ہونے پائے ۔

جو سوال کرنے والوں کی طرف اشارہ ہے ۔ اسی طرح ” اطعام مسکین “ یا ” طعام مسکین “ کی تعبیر قرآن مجید کی بہت سی آیا ت میں ہے جو نشاندہی کرتی ہے کہ مساکین وہ بھوکے لوگ ہیں جوکھانے کے ایک وعدہ تک کہ محتاج ہیں ۔

جبکہ فقیر کا لفظ جن جن آیات قرآنی میں آیا ہے ان سے بخوبی یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ ان آبرو مند لوگوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو نادار تو ہیں مگر کسی کے سامنے دست ِ سوال دراز نہیں کرتے۔

مثلاً سورہ بقرہ کی آیت ۲۷۳ میں ہے :۔

( للفقرآء الذین احصروا فی سبیل الله لا یسطتیعون ضربا ً فی الارض یحسبهم الجاهل اغنیآء من التعفف ) ۔

ایسے فقیروں پر خرچ کرنا چاہئیے جو خدا کے راستے میں گرفتار ہوئے ہیں اور اپنی ظاہری حالت ایسی اچھی رکھتے ہیں کہ جاہل ان کی عزت ِ نفس کو دیکھ کر یہ سمجھتا ہے کہ وہ مالدار اور خوشحال ہیں ۔

ان تمام چیزوں سے قطع نظر کرتے ہوئے اس روایت میں جو محمد بن مسلم نے حضرت امام صادق علیہ السلام یا امام محمد باقر علیہ السلام نے نقل کی ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت- سے ” فقیر“ او ر” مسکین “ کے بارے میں سوال کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا:الفقیر الذی لایسئل و المسکین الذی هو اجهد منه الذی یسئل ۔

فقیر وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہیں کرتا ہے او رمسکین کی حالت اس سے زیادہ سخت ہوتی ہے وہ ایسا شخص ہے جو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور مانگتا ہے ۔(۱)

یہی مضمون ایک دوسری حدیث میں ابو بصیر کے ذریعے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے او رہر دو احادیث مفہوم مذکورہ بالا کی تصریح کرتی ہیں ۔

البتہ کچھ قرائن اس کے خلاف بھی گواہی دیتے ہیں لیکن اگر تمام قرائن پیش نظر رکھیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ حق وہی ہے جو اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔

۲ ۔ کیا زکوٰة آٹھ حصوں میں برابر تقسیم کی جائےگی ؟

بعض مفسرین اور فقہا کا یہ نظریہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ زکوٰة کا مال آٹھ حصوں میں مساوی مساوی تقسیم کیا جائے اور ہر ایک حصہ اپنے ہی مصرف میں خرچ کیا جائے مگر یہ کہ مالِ زکوٰة کی مقدار اتنی کم ہو کہ وہ آٹھ حصوں میں نہ باٹا جا سکے ۔ لیکن فقہاء کی بہت بڑی اکثریت اس نظر یہ کی حامی ہے کہ مندر جہ بالا آٹھ اصناف ایسی ہیں کہ جن میں زکوٰة کو صرف کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں تقسیم کرنا واجب نہیں ہے ۔

حضرت رسول اکرم ، آئمہ اطہار - او ران کے اصحاب کی سیرت قطعی بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے علاوہ ازیں چونکہ اسلامی مالیات میں سے ایک مالیہ ہے اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اسے رعا یا سے وصول کرے اور اس کے نفاذ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سے اسلامی معاشرے کی گوناگوں ضروریات پوری ہوں اس لئے فطرتاً اس کے مصرف کی کیفیت آٹھوں مصارف میں سے ایک طرف اجتماعی ضروریات سے وابستہ ہے اور دوسری طرف اسلامی حکومت کی فکرو نظر سے ۔

۳ ۔زکوٰة کس وقت وجب ہوئی تھی ؟

قرآن کی مختلف آیات مثلاً اعراف ۱۵۶ ، نمل ۳ ، لقمان ۴ ، سورہ حم السجدہ آیت ۷ سے جو سب کی سب مکی ہیں ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ وجوب زکوٰة کا حکم مکہ مکرمہ میں نازل ہوا او رمسلمان اس اسلامی فرض کی بجا آوری کے پابند تھے لیکن جب رسول اللہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے اور اسلامی حکومت کی بنیادرکھی تو فطری طور پر بیت المال کے قیام کی ضرورت پڑی چنانچہ خدا وند عالم کی طرف سے آپ کو حکم ملا کہ آپ مسلمانوں سے خود زکوٰة وصول کریں ( نہ کہ وہ خود اپنے رائے اور مرضی سے اسے صرف کریں )آیہ شریفہ :۔( خذ من اموالهم صدقه )

ان کے مال سے زکوٰة لو( توبہ ۔ ۱۰۳) اسی مو قع پر نازل ہوئی۔

اور مشہور یہ ہے کہ یہ حکم ہجرت کے دوسرے سال میں آیاتھا اس کے بعد زکوٰة کے مصارف جز یاتی تفصیل کے ساتھ اس آیت میں نازل ہوئے جس پر ہم بحث کررہے ہیں ۔ یعنی سورہ توبہ کی آیت ۶۰ او ریہ کوئی تعجب کی با ت نہیں ہے کہ زکوٰة لینے کاحکم آیت ۱۰۳ میں آیا ہے اور ا س کے مصارف کا تذکرہ ہجرت کے نویں سال آیت ۶۰ میں ہوا ہے ۔

کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آیات قرآن کو جمع ترتیب ، تاریخ نزول ِ قرآن کے مطابق نہیں ہے بلکہ حکم رسول سے ہر ایک آیت مناسب مقام پر رکھی گئی ہے ۔

۴ ۔ ”( مولفة قلبهم ) “ سے مراد کون لوگ ہیں ؟

جو کچھ ” مولفة قلوبھم “ کی تعبیر سے سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ مصارف زکوٰة میں سے کچھ روپیہ ان اشخاص پر خرچ کیا جاتا ہے کی تالیف قلب مقصود ہوتی ہے لیکن کیا ان سے مراد وہ کا فر او رغیر مسلم، ہیں جن کو جہاد میں مدد پر آمادہ کرنے کے لئے زکوٰة دی جاتی ہے ؟ یا اس میں ضعف الایمان مسلمان بھی شامل ہیں ؟

جس طرح ہم فقہی مباحث میں کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت اور اسی طرح چند ایک روایات جو اس سلسلے میں ہیں ایک وسیع مفہوم رکھتی ہیں ۔ اور یہ ان تمام لوگوں کے بارے میں ہیں جن کو مال دینے سے اسلام او راہل اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کے صرف کافروں کے لئے ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔

۵ ۔ اسلام میں زکوٰة کی اہمیت اور اثر :۔

اس امر کے پیش نظر کے اسلام صرف اخلاقی یا فلسفی اور اعتقادی مکتب ِ فکر کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا ۔ بلکہ وہ ایک ایسے جامع دستور و آئین کے طور پر ظہور میں آیا ہے جس میں تمام مادی اور روحانی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے ۔

نیز جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اسلام نے پیغمبر کے عہد سے ہی حکومت کی بنیاد رکھی، اسی طرح السام محروم لوگوں کی حمایت اور طبقاتی فاصلوں سے جنگ آزمائی پر خاص توجہ دیتا ہے تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ بیت المال او رزکوٰة کی کس قدر اہمیت ہے ۔ کیونکہ زکوٰة بیت المال کی آمدنی کا ایک سر چشمہ ہے اور یہ اس سلسلے میں اہم ترین کردار کرنے والے امور میں سے ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ ہر معاشرے میں ایسے بیکار ، بیمار، یتیم ، لاوارث اور محتاج و معذور افراد ہوتے ہیں کن کی امداد کرنا از بس ضروری ہے ۔

نیز دشمن کے حملے کے وقت سرفروش مجاہدین کی ضرورت ہے جن کے اخراجات حکومت بر داشت کرتی ہے ۔ اسی طرح اسلامی حکومت کے ملازمین عدلیہ ، نشر و اشاعت کے وسیلوں او ر دینی مراکز میں سے بھی ہر ایک کےلئے سرمایے کی ضرورت پڑتی ہے جو منظم اور اطمنان بخش مالی وسائل کے بغیر نہیں چل سکتے ۔

اسی بنا پر اسلام میں زکوٰة جو مالی وسائل کی ایک قسم ہے اور جو آمدنی ، تولید مال اور منجمد دولت پر لاگو مالیات میں شمار ہوتی ہے ، ایک خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ یہاں تک کہ یہ اہم ترین عبادت کے ہم پلہ قرار پائی ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ ہوا ہے ۔ حد یہ ہے کہ زکوٰة کو قبولیت ِ نماز کی شرط قرار دیا گیا ہے ۔ حتیٰ کہ روایات ِ اسلامی حکومت کسی شخص یا چند افراد سے زکوٰة کا مطالبہ کرے اور وہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور زکوٰة دینے سے انکار کردیں تو وہ شمار ہوں گے اور ان پر پند و نصا ئح کا کوئی اثر نہ ہو تو ان کے خلاف فوجی کارروائی کرنا بھی جائز ہے ۔

چنانچہ ایک روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

من منع قیراطاً من الرکوٰة فلیس هو بموٴمن ، ولا مسلم ، ولا کرامة

جو شخص مال زکوٰة سے ایک قیراط( جو کہ چار رتی دانوں کے برابر وزن ہے ) نہ دے تو وہ مومن ہے اور نہ مسلمان اور نہ اس کی کوئی قدر و قیمت ہے ۔(۲)

قابل توجہ امر یہ ہے کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں زکوٰة کی حدود ار اس کی مقدار ایسی حکمت کے ساتھ مقرر کی گئی ہے کہ اگر تمام مسلمان مالِ زکوٰة کی صحیح او رمکمل ادائیگی کریں تو اسلامی حکومت میں کوئی شخص فقیر او رنادار نہیں رہے گا ۔چنانچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

ولو ان الناس ادوا زکوٰة اموالهم مابقی مسلم فقیرا محتاجا و ان الناس مافتقروا، ولا احتاجوا ولاجاعوا ، ولا عروا ، الا بذنوب الاغنیآء

اگر تمام لوگ اپنے اپنے مال کی زکوٰة دیں تو کوئی مسلمان فقیر و محتاج نہ رہے گا اور لوگ مالداروں کے گناہوں کی وجہ سے ہی فقیر ، محتاج او ربھوکے ننگے ہوتے ہیں ۔(۳)

نیز روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰة کی ادائیگی اصل ملکیت کی حفاظت اور اس کی بنیادوں کی مضبوطی کا سبب ہے ۔

اسی طرح اگر لوگ اس اہم بنیادی اسلامی فریضة کو بھلادیں تو مختلف گروہوں کے درمیان اس قدر دوری ہو جائے گی کہ اہل ثروت کا مال خطرے میں پڑ جائے گا

حضرت موسی بن جعفر - فرماتے ہیں :حصنوا اموالکم بالزکوٰة اپنے مال کی زکوٰة دے کر محفوظ کرلو ۔(۴)

یہی مضمون حضرت پیغمبر اکرم اور امیر المومنین علیہ السلام سے بھی دوسری احادیث میں منقول ہے ۔ مزید معلوم مات کے لئے وسائل الشیعہ کی چھٹی جلد کے ابواب ایک ، تین ، چار، او رپانچ کی طرف رجوع فر مائیے ۔

۶ ۔ ”لام “ اور ”فی “کا فرق:۔ آخری نکتہ جس کی طرف توجہ ضروری ہے کہ آیت میں چار گروہوں کے ساتھ لفظ ”لام “ لگایا گیا ہے

____________________

۱ ۔ وسائل الشیوہ جلد ۶ ص ۱۴۴ ابواب مستحقین زکوٰة باب ۱ حدیث ۲۔

۲۔ وسائل الشیعہ ج۶ ، ص۲۰ باب ۴ حدیث ۹ ۔

۳۔ وسائل الشیعہ ج ۶ ص۴ ( باب ۱ حدیث ۶ ابواب زکوٰة )

۴۔ وسائل ج۶ ص ۶ ( باب ۱ حدیث ۱۱ ابواب زکوٰة )

( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبهُمْ ) ۔

یہ عام طور پر ملکیت کی نشانی ہے ۔

دوسرے چار گروہوں کے لئے لفظ ” فی “ آیا ہے( وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللهِ وَاِبْنِ السَّبِیلِ ) ۔یہ ” فی “ زیادہ مصرف کے بیان کے لئے ہے ۔(۱)

مفسرین میں اس اختلاف تعبیر کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے چار گروہ زکوٰة کے مالک ہیں اور دوسرے چار گروہ مالک نہیں صرف جائز ہے کہ زکوٰة ان پر صرف کی جائے ۔

بعض کا نظریہ یہ ہے کہ تعبیر کا یہ اختلاف ایک اور نکتہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ دوسرے چار گروہ زیادہ مستحق ہیں کیونکہ لفظ ” فی “ ظرفیت کے بیان کےلئے ہے ۔ یعنی یہ چار زکوٰة کے ظرف ہیں اور زکوٰة ان کی مظروف ہے جبکہ پہلے گروہ ایسے نہیں ہیں لیکن ہم نے یہاں ایک اور احتمال کو انتخاب کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ چھ گروہ فقراء، مساکین ، عاملین ، مولفہ قلوبھم ، غارمین اور ابن سبیل جن کا ذک رفی کے بغیر ہے ۔ بر ابر ہیں اور ایک دوسرے پر عطف ہیں اور دوسرے دو گرہ جو کہ ” فی الرقاب“ اور ” فی سبیل اللہ “ ہیں اور جو لفظ ” فی “ کے ساتھ ہیں وہ ایک مخصوص شکل رکھتے ہیں ۔ شاید یہ تعبیر کا فرق اس لحاظ سے وہ کہ چھ گروہ تو مالک زکوٰة ہو سکتے ہیں اور خود اور خود انھیں زکوٰة دی جا سکتی ہے ( یہاں تک کہ ایسے مقروض لوگ جو اپنا قرض ادا نہ کر سکیں البتہ اس صورت میں جبکہ یہ اطمنان ہو کہ وہ اسے اپنے قرض کی ادائیگی خرچ کریں گے ) لیکن باقی دونوں زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے ۔ اور نہ خود انھیں دی جائے گی بلکہ ان کے لئے خرچ کی جائے گی ۔ مثلاً غلاموں کو مالِ زکوٰة سے خرید کر آزاد کیا جائے ۔ واضح ہے کہاس طرح زکوٰة کے مالک نہیں ہوں گے ۔ ۔ اسی طرح وہ مواقع کہ جو” فی سبیل اللہ “کے مفہوم میں آتے ہیں ۔ مثلاجہاد کا سازو سامان اور اسلحہ مہیا کرنا یا مسجد بنانا او ردینی مراکز قام ئم ۔ اس قسم کے امور میں کوئی بھی زکوٰة کا مالک نہیں ہے بلکہ وہ اس کے مصرف ہیں ۔ غرضیکہ تعبیر کا یہ فر ق اس بات کو بخوبی واضح کرتا ہے کہ قرآنی تعبیرات کس قدر جچی تلی ہیں ۔

____________________

۱۔ خیال رہے کہ دومقامات پر ”فی “ صراحت کے ساتھ ہے اور دو جگہ مجرور” فی “ پر عطف ہے ۔ جیسے ”لام “ کا ایک جگہ پر ذکر ہے اور باقی اسی پر عطف ہے۔

آیت ۶۱

۶۱ ۔( وَمِنْهمْ الَّذِینَ یُؤْذُونَ النَّبِیَّ وَیَقُولُونَ هُوَ اٴُذُنٌ قُلْ اٴُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ یُؤْمِنُ بِاللهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ) ۔

ترجمہ

۶۱ ۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو پیغمبر کو تکلیف پہنچاتے ہیں او رکہتے ہیں کہ آپ خوش باور اور ہمہ تن گوش ہیں ۔ کہہ دو کہ اس کا خوش فہم ہونا تمہارے فائدے میں ہے ( لیکن جان لو) وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور ( صرف )مومنین کی تصدیق کرتا ہے اور تم میں سے ان لوگوں کے لئے رحمت ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔

یہ خوبی ہے عیب نہیں

آیت مذکورہ کی کئی ایک شانِ نزول بیان کی گئی ہےں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ لوگ ایک دوسرے کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت رسول اکرم کے متلعق نازیبا اور ناپسند یدہ باتیں کر رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے کہا ” ایسا کرو “ کیونکہ ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں یہ باتیں محمد کے کان تک نہ پہنچ جائیں او رکہیں وہ ہمیں بر ابھلا نہ کہے ( اور لوگوں کو ہمارے خلاف نہ ابھارے ) ان میں سے ایک نے جس کا نام”جلاس “ تھا کہا کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے ہم جو چاہیں گے اور اگر اس کے کانوں تک یہ بات پہنچ گئی تو ہم اس کے پاس جا ئیں گے اور انکا ر کردیں گے اور وہ ہماری بات قبول کرلیں گے کیونکہ محمد خوش باور اور قول کو تسلیم کرنے والا ہے او رجو شخص جو بات بھی کہے اسے قبول کرلیتا ہے ۔ اس وقت آیتِ بالا نازل ہوئی او راس کے ذریعے انھیں جواب دیا گیا ۔

تفسیر

اس آیت میں جیسا کہ اس کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ایک یا کئی افراد کے بارے میں گفتگو ہے جو پیغمبر اکرم کو اپنی باتوں سے تکلیف پہنچا تے تھے اور کہتے تھے کہ وہ خوش باور اور قول کا اعتبار کرنے والا ہے( وَمِنْهمْ الَّذِینَ یُؤْذُونَ النَّبِیَّ وَیَقُولُونَ هُوَ اٴُذُنٌ ) ۔

” اذن “ اصل میں کان کے معنی میں ہے ان لوگوں کو جو دوسروں کی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اصطلاحاً ( فارسی میں ) انھیں ” گوشی “ کہتے ہیں ان کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ۔(۱)

وہ لوگ حقیقت میں رسول اکرم کی ایک خوبی کو جس کا ایک رہبر میں ہو نا نہایت ضروری ہے ، ایک برائی کے لباس میں پیش کرتے تھے اور وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ ایک محبوب رہبر کے لئے ضروری ہے کہ انتہائی لطف و محبت کا مظاہرہ کرے اور جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو عذر اور معذرت کو قبول کرے اور ان کے عیب چھپائے ۔

مگر وہاں نہیں جہا ں اس کا برا اثر پڑے ۔ اسی لئے قرآن اس کے فوراً بعد فرمایا ہے کہ ان سے کہہ دو کہ اگر پیغمبر تمہاری باتوں کی طرف کان دھرتا ہے اور تمہارے عذر قبول کرتا ہے اور تمہارے گمان میں ہمہ تن گوش او رجلدی اعتماد کرنے والاہے ، تویہ بات تمہارے فائدے میں ہے( قُلْ اٴُذُنُ خَیْرٍ لَکُمْ ) ۔کیونکہ اس طرح وہ تمہاری عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے او رتمہارے وقار کو ٹھیس نہیں لگا تا او رتمہارے خیالات و جذبات کو مجروح نہیں کرتا اور اس طریقے سے تمہاری محبت ، اتحاد اور وحدت کے لئے کوشاں ہے ۔

کیونکہ اگر وہ فوراً پردہ اٹھا دیتا اور جھوٹوں کو ذلیل و رسوا کرتا تو تمہارے لئے بڑی کٹھن صورت حال ہوتی ۔ علاوہ ازیں اگر ایک جماعت کے عزت و آبروختم ہو جاتی تو پھر اس کے لئے توبہ اور باز گشت کا راستہ بند ہوجاتا ۔ اور و ہ گنہ گار لوگ جو ہدایت کے قابل تھے بد کاروں کی صف میں جاکھڑے ہوتے اور پیغمبر کے پاس سے دور ہوتے جاتے ۔

ایک ہمدرد اور مہر بان قائد کو جبکہ وہ پختہ کار اور دانا بھی ہے ، ان سب باتوں کو سمجھنا چاہئیے لیکن ایسی بہت سی چیزوں کو زبان پر نہیں لانا چاہئیے تاکہ وہ افراد جو تربیت کی اہلیت رکھتے ہیں انکی تربیت ہو جائے اور ا س کے مکتب سے نہ بھاگیں اور لوگوں کے اسرار بھی ظاہر نہ ہوں ۔ اس کا آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا عیب جوئی کرنے والوں کے جواب میں کہتا ہے :

” ایسا نہیں ہے کہ وہ سب کی باتوں کو قابل اعتنا سمجھتا ہے بلکہ سمجھتا ہے بلکہ وہ ایسی باتوں پر کان دھرتا ہے جو تمہارے فائدے میں ہوں یعنی خداکی وحی کو سنتا ہے ، مفید تجویز پر کان دھرتا ہے او رلوگوں کی عذر خواہی ایسے مواقع پر قبول کرتا ہے جبکہ وہ ان کے اور معاشرے کے مفاد میں ہو“(۲)

اس کے بعد اس وجہ سے کہ عیب جوئی کرنے والے کہیں اس بات سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا ئیں اور اسے سند قرار نہ دے لیں یہ اضافہ فرماتا ہے : وہ خدا او راس کے احکامات پر ایمان رکھتا ہے اور سچے مومنوں کیباتوں پر کان دھرتا ہے ، انھیں قبول کرتا او ران پر اقدام کرتاہے( یُؤْمِنُ بِاللهِ وَیُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔

یعنی حقیقت میں پیغمبر دو قسم کے پروگرام رکھتے ہیں ایک ظاہرکی مھافظت اور پر دہ دری سے اجتناب اور دوسرا عمل کا مرحلہ ۔ پہلے مرحلے میں آپ سب کی باتوں کو سنتے ہیں اور بظاہر انکار نہیں ۔ لیکن عمل کے مقام میں ان کی توجہ صرف احکاماتِ خدا اور سچے مومنین کی تجاویز او رباتوں کی طرف ہوتی ہے اور حقیقت پسند قائد کو ایسا ہی ہو نا چاہئیے ۔ کیونکہ معاشرے کے مفادات کا تحفظ اس طریقے کے بغیر ممکن نہیں اس لئے خدا وندِ عالم بلا فاصلہ فرماتاہے : وہ تم میں سے مومنین کےلئے رحمت ہے( وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ ) ۔

اس مقام پر یہ سوال ہوسکتا ہے کہ ہم چند آیات میں پڑھتے ہیں کہ پیغمبر رحمة للعالمین ہیں ( سورہ انبیاء ۱۰۷ ) لیکن مذکورہ آیت کہتی ہے کہ آپ صرف مومنین کے لئے رحمت ہیں ۔ کیا وہ عمومیت اس تخصیص کے ساتھ منا سبت رکھتی ہے ؟ مگر ایک نکتہ کی طرف توجہ دینے دے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے او روہ یہ ہے کہ رحمت کے کئی درجات او رمراتب ہیں جن میں ایک مرتبہ قابلیت اور استعداد ہے اور دوسرا مرتبہ فعلیت ہے ۔ مثلاً بارش اللہ کی رحمت ہے یعنی یہ قابلیت اور اہلیت اس کے سب قطروں میں پائی جاتی ہے کہ وہ خیر و برکت ، نشو ونما اور حیات کا سبب بنیں ۔ لیکن یہ تسلیم شدہ ہے کہ اس رحمت کے آثار کا ظہور صرف انہی زمینوں پر ہوتا ہے جو اس کے قابل ہوں اس وجہ سے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بارش کے سب قطرے” رحمت “ ہیں اور یہ کہنا بھی درست ہے کہ بارش کے یہ قطرے اہل اور قابل زمینوں کے لئے باعث رحمت ہیں ۔ پہلا جملہ اہلیت اور قابلیت کی طرف اور دوسرا جملہ وجود اور فعلیت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اسی طرح حضرت پیغمبر اکرم قابلیت اور استعداد کی رو سے تمام جہانوں کے لئے رحمت ہیں لیکن آپ عملی طور پر مومنین کے لئے مخصوص ہیں ۔

اب یہاں پر ایک چیز باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ کو اپنی باتوں سے اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں اور ان کی عیب جوئی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ سزا سے بچ جائیں گے یہ ٹھیک ہے کہ حضرت رسول اکرم ان کے بارے میں ایک ذ مہ داری رکھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بزرگانہ اور فرخدانہ بر تاو کریں اور انھیں رسوا نہ کریں ۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ اپنے اعمال کی سز انہ پائیں گے ۔لہٰذا آیت کے آخر میں قرآن فرماتاہے : وہ لوگ جو رسولِ خدا

کو اذیت و تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے( وَالَّذِینَ یُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ) ۔

____________________

۱۔ ار دو میں اسے ” ہمہ تن گوش “ بھی کہا جاتاہے ۔ ( مترجم )

۲۔ در حقیقت تفسیر اول کی بنا پر ” اذن خیر“ جوکہ مضاف مضاف الیہ ہے ، صفت موصوف کی طرف اضافت کی قسم سے ہے اور دوسری تفسیر کی بنا پر وصف کی طرف اجافت کے قبیل سے ہے ۔ پہلے احتمال کی بنا پر عبارت کے معنی اس طرح ہوں گے ” وہ تمہارے لئے بات کو قبول کرنے والا اور اچھا سخن پذیر ہے اور دوسرے احتمال کی بنا پر اس کا مفہوم یہ ہے ” وہ اچھی باتوں کو تمہارے فائدے اور نفع کے لئے سنتا ہے “۔