گفتگو کا سلیقہ

گفتگو کا سلیقہ 0%

گفتگو کا سلیقہ مؤلف:
زمرہ جات: مناظرے

گفتگو کا سلیقہ

مؤلف: ڈاکٹر عصام العماد
زمرہ جات:

مشاہدے: 3208
ڈاؤنلوڈ: 801

تبصرے:

گفتگو کا سلیقہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 68 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3208 / ڈاؤنلوڈ: 801
سائز سائز سائز
گفتگو کا سلیقہ

گفتگو کا سلیقہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

نام کتاب : گفتگو کا سلیقہ

مؤلف : ڈاکٹر عصام العماد

مترجم: مرزا محمد جواد

تصحیح: محمد کامل

نظر ثانی: سیدحمید الحسن

پیشکش: معاونت فرہنگی ،ادارۂ ترجمہ

کمپوزنگ : ابو زینب

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

طبع اول : ١٤٢٧ھ ٢٠٠٦ ء

تعداد : ٣٠٠٠

مطبع : اعتماد

انتساب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس کتاب کو اپنے پدر بزرگوار علی یحییٰ العماد کی خدمت میں پیش کرتاہوں جن کے علم و دانش اور طریقۂ کار سے میں مالا مال ہوا. وہ پدر کہ جو خیالی نہیں بلکہ ایک حقیقی مسلمان تھے جن کا طریقۂ کار قرآنی اصولوں پر استوار تھا جنھوں نے مسلمانوں کی مشکلات کو حل کرنے اورالٰہی آیات کے سایہ میں بچوں کی تربیت میں بے حد کوششیں کیں۔

عصام العماد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ٢٣ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔

اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، فاضل علّام آقای ڈاکٹر عصام العماد کی گرانقدر کتاب گفتگوی بی ستیز کو فاضل جلیل مولانا مرزا محمد جواد نے اردو زبان میں اپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام

عرض ناشر

حقیقت میں عشق ایک ایساراستہ ہے جو عاشقان نور کواپنی طرف جذب کرکے انھیں حقیقت کی آغوش تک پہنچاتا ہے اور پروردگار عالم کی خوشنودی کا سبب بنتاہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ راستہ سختیوں اور حساس پیچ و خم سے مملو ہے. اس راستہ پر چلنے والے صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے صبر کا پیمانہ وسیع اور فکر میں استقامت ہو. اس سخت و خوفناک سفر کو طے کرنے کے لئے ایک ایسے مرکب کا ہونا ضروری ہے جو حقیقت کا سفر کرنے والوں اور عاشقان نور کو مشکلات اور طوفان میں گرفتار ہونے سے بچائے۔

بے شک حقیقت جوئی کے اس پر خطر سفر میں (بالخصوص جہاں مذہب حق کی بات درپیش ہو) جذبات و احساسات کے بجائے عقل و خرد سے کام لینا ضروری ہے اورا س مقام پر گنجائش نہیں کہ ہم حق و حقیقت کے بارے میں کچھ کہہ سکیں چونکہ یہ کتاب خود حق و حقیقت کو پہچنوانے کے لئے ایک مفید نمونہ اور زندہ مثال ہے جس میں حقیقت جوئی کے پر پیچ و خم سفر کو پیش کیا گیا ہے۔ لہٰذا الگ سے اس موضوع پر بحث کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

کسی بھی کتاب کے علمی معیار کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کے مصنف کی موضوع پر مہارت اور تجربہ کا اندازہ لگائیں، تو اس کتاب کی اہمیت دوچندان ہو جاتی ہے اور یہ دو خصوصیتیں (موضوع پر مہارت، تجربہ) اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر سید عصام میں بخوبی پائی جاتی ہیں۔

شیعہ اور اہل سنت کے لئے ڈاکٹر عصام ایک ایسے دانشور ہیں جوسالہا سال دینی علوم سے وابستہ تھے اور آپ نے حقیقت کی تلاش میں کافی تجربات بھی حاصل کئے۔

یہ وہی متعصب وہابی ہیں کہ جنھوں نے خود کو وہابیت کی ظلمتوں سے نجات دلا کر اپنے عقیدہ و فکر کو اہل بیت ٪ کے نورانی کارواں سے منسلک کرلیا ،گرچہ پہلے بھی سیادت کی بنا پر اس نورانی کارواں سے منسلک تھے۔

انھوں نے حقیقت جوئی کے اس سفر میں بے شمار تجربات حاصل کئے جن کی طرف قارئین محترم مطالعہ کے دوران متوجہ ہوں گے، ڈاکٹر عصام کا یہ طویل تجربہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔

یمن کا سنی معاشرہ آپ کو شہر صنعا کی مسجد میں امام جماعت اور ایک مدرس کی حیثیت سے جانتا تھا یہ وہی طالب علم تھے کہ جنھوں نے قاضی احمد سلامہ محمد بن اسماعیل عمرانی اور ڈاکٹر الوہاب دیلمی جیسے یمن کے بزرگ وہابی علماء کے سامنے زانوے ادب تہہ کیا اور اس کے بعد فن حدیث میں ریاض کی ابن سعود ریاض کی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور آہستہ آہستہ سعودی عرب کے بزرگ مفتی ابن باز کے نزدیک حاضر ہونے کی اجازت حاصل کی جن سے متاثر ہوکر آپ نے شیعیت کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور آپ کا شمار شیعیت کے سخت ترین دشمنوںمیں ہونے لگا۔

لیکن پروردگار عالم مومنین کا سرپرست ہے اور انھیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف ہدایت کرتا ہے.(۱) اور خدا جس چیز کا ارادہ کرلے اسے انجام دیتا ہے.(۲) خدا کی طرف سے ہدایت و توفیق کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ ان کا کٹر وھابی دل نرم ہونے لگا اور وہ چشمۂ حقیقت سے سیراب ہوئے. سب سے پہلے ڈاکٹر عصام عماد اہل سنت کے ان ضعیف اقوال کی طرف متوجہ ہوئے جو علم رجال میں جرح و تعدیل کی بحث سے مربوط ہیں اور اسی مقام پر آپ نے سنی علماء کے فکری انحراف کو بہت ہی قریب سے محسوس کیا. یہی وہ پہلا قدم تھا جسے ڈاکٹر عصام نے حق و حقیقت کی تلاش میں اٹھایا۔

اس مقام پر مصنف کے متعلق مزید گفتگو کی گنجائش نہیں چونکہ خود مصنف نے اس کتاب میں اپنے متعلق واقعات کو بیان کیا ہے مصنف کی اس کتاب اور دوسری کتابوں اور مناظروں کا مقصد مذہب امامیہ کے اعتقادات کو صحیح اور مناسب طور پر سنی حضرات سامنے پیش کرنا ہے تاکہ وہ بھی مذہب اہل بیت سے منسلک ہو کر تمام مسلمانوں میں اتحاد اورگفتگو کی راہ پیدا کریں، انشاء اللہ ہم یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک دن مسلمانوں کا یہ آپسی اختلاف ختم ہو جائے گا (الہٰی آمین)

اب سوال یہ ہے کہ اس کتاب کو لکھنے میں جس روش کو مصنف نے انتخاب کیا ہے وہ کس حد تک قارئین کے لئے مؤثر واقع ہوگی؛ ہم معتقد ہیں کہ ڈاکٹر عصام العماد اس روش میں موفق اور کامیاب رہیہیں لہٰذاا قارئین سے گذارش ہے کہ وہ اپنی نیک آراء سے ہم کو مستفیض فرمائیں۔

مؤسسہ معارف اسلامی کوثر

قم

____________________

(١) سورۂ بقرہ، آیت ٢٥٧

(٢) سورۂ حج، آیت ١٤

نوٹ: یہ عرض ناشر فارسی ترجمہ سے مربوط ہے۔

عرض مترجم(نسخۂ عربی)

بلاشک و شبہ ، امت اسلامی میں اتحاد ایک مطلوب امر ہے ابتدا ئے اسلام ہی سے، بلکہ دین اسلام کے اصلی متون، یعنی قرآن و احادیث میں بھی اتحاد کے لئے تاکید کی گئی ہے۔

لیکن زمانہ کے گذرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کلمات کی طرح، کلمۂ وحدت کے مفہوم میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ،یہاں تک کہ دور حاضر اس کے جو مفہوم مراد لیا جارہا ہے وہ اس کے ماضی کے معنی سے بالکل الگ اور بے گانہ ہے۔

جیسا کہ علم، امامت، خلافت، حکمت، زہد، جیسے کلمات میں بھی اس قسم کی تحریفات واقع ہوئی ہیں اور دور حاضر میں کلمۂ وحدت کو مندرجہ ذیل معانی میں استعمال کیا جاتا ہے:

١۔ وحدت یعنی مخالفین کے مقابلہ میں سکوت اختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ کسی بھی قسم کاعلمی مناظرہ نہ کیا جائے ۔

٢۔ وحدت یعنی تمام مذاہب حق پر ہیں۔

٣۔ وحدت یعنی اس بات پر عقیدہ ہو کہ روز قیامت نجات صرف اور صرف امامیہ مذہب سے مخصوص نہیں ۔

٤۔ وحدت یعنی بعض شیعی عقائد اور مذہبی متون میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

٥۔ وحدت یعنی مسلمانوں کے اختلاف کو اجتہادی سمجھا جائے۔

٦۔ وحدت یعنی تمام صحابہ کی تائید کی جائے۔

وحدت کے متعلق اہل تسنن کا نظریہ یہ ہے:

حق کسی مخصوص گروہ میں منحصر نہیں بلکہ تمام اسلامی فرقوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے ۔

اسی طرح روز قیامت، نجات بھی کسی خاص فرقہ سے مخصوص نہیں ،اور مسلمانوں میں تمام فکری اختلافات دینی نصوص میں مطلوب اور مورد تائید اجتہاد کا نتیجہ ہیں لہٰذا ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ ہم دیگر فرقوں کے آراء و عقائد باطل سمجھیں اور انھیں حقیقت سے بے خبر جانیں بلکہ جہاں جہاں اختلاف ہو وہاں سکوت اختیار کیا جائے۔

شیعوں کو بھی حق دیا جائے، انھیں فتنہ پرور نہ کہا جائے، اور نہ ہی ان سے نفرت و بیزاری کو دل نکال دیا جائے، کیونکہ یہ عمل شائستہ نہیں ،