تفسير راہنما جلد ۷

تفسير راہنما 0%

تفسير راہنما مؤلف:
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 746

تفسير راہنما

مؤلف: آيت الله ہاشمى رفسنجاني
زمرہ جات:

صفحے: 746
مشاہدے: 9163
ڈاؤنلوڈ: 472


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5 جلد 6 جلد 7 جلد 8 جلد 9 جلد 10 جلد 11
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 746 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9163 / ڈاؤنلوڈ: 472
سائز سائز سائز
تفسير راہنما

تفسير راہنما جلد 7

مؤلف:
اردو

۳_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے بے ايمان ، سرگردان اور شك وترديد ميں گرفتار تھے_

و ارتابت قلوبهم فهم فى ريبهم يترددون

۴_ بے ايماني، زندگى ميں سرگردانى اور اضطراب و پريشانى كا سبب ہے _

انما يستا ذنك الذين لا يؤمنون فهم فى ريبهم يترددون

۵_ شرعى ذمہ داريوں ;جيسے جان و مال كے ساتھ جہاد كى انجام دہى ميں شك، بے ايمانى اور نفا ق كى علامت ہے _

انما يستا ذنك الذين لا يؤمنون بالله و ارتابت قلوبهم

اسلام :صدر اسلام كى تاريخ ۱

اضطراب :اس كے عوامل ۴

ايمان :اسكے ظہور كا پيش خيمہ۲; بے ايمانى كى علامتيں ۵بے ايمانى كے آثار ۱،۴; بے ايمانى كے ظہور كا ذريعہ ۲

جہاد:اسكے آثار ۲; اسكے ترك كرنے كى اجازت ۱; اس ميں شك ۵

سرگرداني:اسكے عوامل ۴

شرعى ذمہ داري:اس پر عمل كرنے ميں شك ۵

غزوہ تبوك:اس ميں شركت نہ كرنے والوں كى سرگردانى ۳; اس ميں شركت نہ كرنے والے ۳

منافقين :ان كا ضطراب ۳; انكى جہاد ميں عدم شركت ۱;انكى خصوصيات ۱ ; انكى سرگردانى ۳

نفاق :اسكى علامتيں ۵

۱۲۱

آیت ۴۶

( وَلَوْ أَرَادُواْ الْخُرُوجَ لأَعَدُّواْ لَهُ عُدَّةً وَلَـكِن كَرِهَ اللّهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُواْ مَعَ الْقَاعِدِينَ )

يہ اگر نكلنا چاہتے تو اس كے لئے سامان تيار كرتے ليكن خدا ہى كو ان كا نكلنا پسند نہيں ہے اس لئے اس نے ان كے ارادوں كو كمزور رہنے ديا اور ان سے كہا گيا كہ اب تم بيٹھنے والوں كے ساتھ بيٹھے رہو_

۱_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے (منافقين ) اس ميں شركت كيلئے ضرورى و سائل ركھتے تھے_

و لو ارادوا الخروج لاعدوا لَه عدة

۲_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والوں كاترك جہاد كا پكا عزم_و لو اردوا الخروج لاعدوا له عدةً

۳_ جہاد كى تيارى نہ كرنا ، جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والوں كے جھوٹ اور ان كے عدم شركت كے پكے ارادے كى دليل ہے _و لو ارادوا الخروج لاعدوا له عدةً

۴_ اللہ تعالى كيلئے ، جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والوں (منافقين) كو اس ميں شركت كيلئے برانگيختہ كرنا اور انھيں اسكى توفيق ديناناپسند ہے_و لكن كره الله انبعاثهم فثبطهم و قيل اقعدوا مع القاعدين

۵_ بے ايمانى اور كمزور اعتقاد جہاد ميں شركت كيلئے توفيق الہى سے محروم ہونے كا سبب ہے _

و لكن كره الله انبعاثهم فثبطهم و قيل اقعدوا مع القاعدين

۶_ جہاد الہى اقدار ميں سے ہے اوربے ايمان اور كمزور اعتقاد والے لوگ اسكے اہل نہيں ہيں _

و لكن كره الله انبعاثهم فثبطهم و قيل اقعدوا مع القاعدين

اسلام :

۱۲۲

صدر اسلام كى تاريخ ۱

ايمان :بے ايمانى كے آثار ۵

توفيق:اس سے محرومى ۵

جہاد :اس سے محروميت كے عوامل ۵;اسكى قدر و قيمت ۶

خدا تعالى :اس كى توفيقات ۵; اسكى ناپسنديدگى ۴

غزوہ تبوك :اس كا قصہ ۱،۲،۳،۴;اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا جھوٹ بولنا ۳; اس ميں شركت نہ كرنے والے ۱،۲،۴

منافقين :منافقين اور غزوہ تبوك ۴

آیت ۴۷

( لَوْ خَرَجُواْ فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلاَّ خَبَالاً ولأَوْضَعُواْ خِلاَلَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ )

اگر يہ تمھارے در ميان نكل بھى پڑ تے تو تمھارى وحشت ميں اضافہ ہى كرديتے اور تمھارے در ميان فتہ كى تلاش ميں گھوڑ ے دوڑاتے پھر تے اور تم ميں ايسے لوگ بھى تھے جو ان كى سننے والے بھى تھے اور اللہ تو ظالمين كو خوب جاننے والاہے_

۱_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے (منافقين ) اگر شركت كرتے تو صرف تباہى اور خرابى كا باعث بنتے_

لو خرجوا فيكم مازادوكم الّاخبال

''خبال'' كامعنى ہے فساد اورتباہى يعنى اگر منافقين جنگ كيلئے نكلتے تو صرف تمہارى تباہى اور بربادى كا سبب بنتے_

۲_ بے ايمان اور كمزور ايمان لوگوں ( منافقين ) كے جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے ميں مومنين كى بھلائي اور فائدہ تھا نہ نقصان _لو خرجوا فيكم ما زادوكم الاخبال

۳_ فوجى قوت كى صرف كميت كو نہيں ديكھنا چاہے بلكہ اسكى كيفيت كى طرف توجہ كرنابھى ضرورى ہے _

۱۲۳

لو خرجوا فيكم ما زادوكم الا خبال

۴_ بے ايمان اور كمزور ايمان لوگوں كى جنگ و جہاد ميں شركت كا نتيجہ صرف فتنہ و فساد اور دوسروں پرمنفى اثر ڈالنا ہے_

لو خرجوا فيكم ما زادوكم الا خبالا و لأوضعوا خلالكم يبغونكم الفتنة

جملہ'' يبغونكم الفتنة''، ''اوضعوا'' كى ضمير فاعل سے حال ہے يعنى اگر منافقين جنگ كيلئے نكلتے تو يقينا تمہارے درميان فتنہ انگيز ى كرتے_

۵_جنگ ميں كمزورپہلوؤں اور بدنظمى سے استفادہ كرنا بے ايمان منافقين كا شيوہ ہے _

و لأوضعوا خلالكم يبغونكم الفتنة

۶_جنگ تبوك سے پيچھے رہنے والے اگر اس ميں شركت كرتے تو ان كا كام صرف يہ ہوتا كہ يہ لشكر اسلام كى صفوں ميں گھس كرفتنہ انگيزى كرتے_لوخرجوا فيكم ما زادوكم الاخبالا و لأوضعوا خلالكم يبغونكم الفتنة

۷_صدر اسلام كے بعض مومنين كا فتنہ انگيزمنافقين سے متاثر ہونا_يبغونكم الفتنة و فيكم سمّاعون لهم

''سمّاع'' اسے كہتے ہيں جو دوسرے كے زير اثر ہو اور اسكى بات پر بہت كان دھر تا ہو _

قابل ذكر ہے كہ مندرجہ بالا نكتہ اس بنا پر ہے كہ ''سمّاعون'' سے مراد وہ لوگ ہوں جو خود منافق نہيں تھے ليكن ان كے زير اثر تھے اور ان كى باتوں پر بہت كان دھرتے تھے _

۸_ جنگ تبوك كے مجاہدين كے در ميان منافقين كے جاسوسوں كا وجود _وفيكم سماعون لهم

ہو سكتا ہے '' سماع'' جاسوس سے كنايہ ہو يعنى تمہارے در ميان ايسے لوگ موجود ہيں جو منافقين كيلئے جاسوسى كرتے ہيں _

۹_ مجاہدين اسلام كے درميان جاسوسى اور فتنہ انگيزى كى خاطر نفوذ ، منافقين كا ايك ہتھكنڈا ہے_

لوخرجوا فيكم مازادوكم الاخبالا ...و فيكم سماعون لهم

۱۰_ خداتعالى نے منافقين كى نفسيات اور ان كے حال سے اپنے مكمل طور پر عالم ہونے كو بيان كركے انہيں تنبيہ كى ہے _ولا وضعوا خلالكم يبغونكم الفتنة ...والله عليم بالظالمين

۱۱_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے ستم پيشہ لوگ ہيں _لو خرجوا ...والله عليم بالظلمين

۱۲_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والوں كى فتنہ انگيز اور مفسدانہ فطرت كى وجہ سے الله تعالى كو انكى شركت پسند نہيں تھى _ولكن كره الله انبعاثهم ...لو خرجوا فيكم

۱۲۴

مازادوكم الا خبالاً ...يبغونكم الفتنة

۱۳_ سپاہ اسلام كے درميان رخنہ اندازى اور فتنہ انگيزى ظلم پيشہ ہونے كى نشانى ہے _

لو خرجوا فيكم مازادوكم الاخبالا يبغونكم الفتنة و الله عليم بالظلمين

۱۴_ جنگ تبوك ميں بعض لوگوں كے شركت نہ كرنے كى وجہ سے مومنين كو لا حق ہونے والى پريشانى كو دور كرنے كيلئے الله تعالى كا انہيں تسلى دينا _انما يستأذنك الذين لايؤمنون ...لو خرجوا فيكم مازادو كم الاخبالا و الله عليم بالظالمين

اسلام :صدر اسلام كى تاريخ ۷،۸

اسماو صفات :عليم ۱۰

جنگ:جنگ ميں اچھى افواج ۳;جنگى حالات۳

جہاد :اس ميں حوصلہ افزائي ۱۴; اس ميں شكست كے عوامل ۴; اس ميں كمزور ايمان لوگ ۴

خدا تعالى :اس كا تنبيہ كرنا ۱۰; اس كا علم غيب ۱۰; اس كا ناپسند كرنا ۱۲

رخنہ اندازى :اسكے آثار ۱۳

ظلم :اسكى نشانياں ۱۳

ظالم لوگ:۱۱

غزوہ تبوك :اس كا قصہ ۶، ۸،۱۲،۱۴; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا ظلم ۱۱; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا فساد پھيلا نا ۱،۶،۱۲; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا كردار ۶; اس ميں شركت نہ كرنے والے ۲،۱۴; اس ميں منافقين كے جاسوس ۸

كفار :كفار جہاد ميں ۴

كمزورى :اس سے سوء استفادہ ۵

مجاہدين :انكى صفوں ميں گھسنا ۶،۹ ; ان ميں رخنہ اندازى ۱۳

منافقين :انكا جہاد ميں شركت نہ كرنا ۲; انكا سوء استفادہ كرنا ۵; انكا فساد پھيلانا ۱ ;انكو تنبيہ ۱۰; انكى سازش ۹،۱۰; ان كے جاسوس۹;ان كے ساتھ نمٹنا ۵; صدر اسلام كے منافقين اور مومنين ۷; منافقين اور غزوہ تبوك ۱،۲

مؤمنين :انكو تسلى دينا۱۴; انكے مفادات ۲; صدر اسلام كے مومنين كا اثر قبول كرنا ۷

۱۲۵

آیت ۴۸

( لَقَدِ ابْتَغَوُاْ الْفِتْنَةَ مِن قَبْلُ وَقَلَّبُواْ لَكَ الأُمُورَ حَتَّى جَاء الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ )

بيشك انھوں نے اس سے پہلے بھى فتنہ كوشش كى تھى اور تمھارے امور كو الٹ پلٹ دينا چاہاتھا يہا نتك كہ حق آگيا اور امر خدا واضح ہوگيا اگر چہ يہ لوگ اسے ناپسند كر رہے تھے_

۱_ جنگوں ميں منافقين كى ہميشہ پيغمبراكرم (ص) اور اسلام كے خلاف فتنہ انگيزى اور بدرفتاري_

لقد ابتغوا الفتنة من قبل

۲_ منافقين كى يہ كوشش كہ امور كو پيغمبر (ص) كے سامنے مسخ كركے پيش كيا جائے _و قلبوا لك الامور

۳_ اسلامى راہنماؤں كى منافقين كے ہتھكنڈوں اور فتنہ انگيزيوں ( امور كو برعكس كر كے پيش كرنا ) كے مقابلے ميں ہوشيارى كى ضرورت _و قلبوا لك الامور

۴_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والوں (منافقيں ) كي، لشكر اسلام كو شكست سے دوچار كرنے سے ناتوانى _

لقد ابتغوا الفتنة من قبل ...حتى جآء الحق و ظهر امر الله و هم كارهون

۵_ منافقين اس وقت تك تخريب كار ى جارى ركھيں گے جب تك حق كا غلبہ نہيں ہو جاتا اور لشكر اسلام كو يقينى كاميابى حاصل نہيں ہوجاتي_لقد ابتغوا الفتنة من قبل ...حتى جآء الحق و ظهر امر الله

۶_ اسلام اور مسلمانوں كى كاميابى ، ارادہ الہى كا مظہر اور حق كى كاميابى ہے _حتى جآء الحق و ظهر امر الله

۷_ معاشرتى حقائق كومسخ كركے پيش كرنا فتنہ انگيزى كى علامت ہے _لقد ابتغوا الفتنة من قبل و قلبوا لك الامور

۱۲۶

۸_ اسلام اور مسلمانوں كى كاميابى منافقين كيلئے ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے _

حتى جآء الحق و ظهر امر الله و هم كارهون

۹_ منافقيں كى خواہش كے برخلاف حق كاميابى كى راہ پر گا مزن ہے _حتى جآء الحق و ظهر امر الله و هم كارهون

اسلام :دشمنان اسلام ۵;صدر اسلام كى تاريخ ۱،۵،۸

حق :اسكى كاميابى ۵،۶،۹

حقائق :حقائق كو مسخ كركے پيش كرنا ۷

خداتعالى :اسكے ارادہ كے عملى ہونے كى نشانياں ۶

رہبر :اس كى ذمہ دارى ۳; اس كى ہوشيارى كى اہميت ۳

غزوہ تبوك :اس كا قصد ۴; اس ميں شركت نہ كرنے والے۴

فساد پھيلانا :اسكے موارد ۷

مسلمان :انكى كاميابى ۶

منافقين :ان كا غلط اطلاعات پہنچانا ۲،۳; انكى خصوصيات ۱; انكى خواہشات ۹; انكى رخنہ اندازي۱،۵; انكى سازش ۱،۳،۵;انكى عاجزى ۴; انكى كارشكنى ۱; ان كے جرائم ۱،۵ ; صدر اسلام كے منافقين كى سازش ۲; يہ اور اسلام ۱،۵; يہ اور حضرت محمد(ص) ۱ ، ۲ ; يہ اور غزوہ تبوك ۴; يہ اور مسلمانوں كى كاميابى ۸

آیت ۴۹

( وَمِنْهُم مَّن يَقُولُ ائْذَن لِّي وَلاَ تَفْتِنِّي أَلاَ فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُواْ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ )

ان ميں وہ لوگ بھى ہيں جو كہتے ہيں كہ ہم كو اجازت ديجئے اور فتنہ تھميں نہ ڈالئے تو آگا ہو جاؤ كہ يہ واقعاً فتنہ ميں گر چكے ہيں اور جہنم تو كافر ين كو ہر طرف سے احاطہ كئے ہوئے ہے _

۱_ بعض منافقيں آزمائش اور گناہ ميں مبتلا ہونے كا بہانہ بناكر جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے كى اجازت طلب

۱۲۷

كرتے ہيں _و منهم من يقول ائذن لى ولا تفتني

اس آيت كے شان نزول ميں آيا ہے كہ ايك منافق نے پيغمبر (ص) سے كہا يا رسو ل الله مجھے اجازت دے ديجئے كہ جنگ ميں شركت نہ كروں ...كيونكہ مجھے ڈرہے كہ رومى لڑكيوں كے فتنے ميں مبتلا ہو كر گناہ ميں پڑچاؤں ( مجمع البيان اس آيت كے ذيل ميں )_

۲_ منافقين كى پيغمبر اكرم(ص) كے ساتھ بات كرنے ميں بے ادبى اور بے باكى _و منهم من يقول ائذن لى ولا تفتني

منافقين كا پيغمبر(ص) كو اپنے گناہ كا سبب قراردينا (ولا تفتنى ) انكى پيغمبر (ص) كے سامنے انتہائي بے ادبى كا مظہر ہے _

۳_ بھارى ذمہ داريوں سے فرار كرنے كيلئے بعض منافقين كا فريب آور اور ظاہراً شرعى حيلوں كا سہارا لينا _

و منهم من يقول ائذن لى ولا تفتني

شأن نزول بتاتا ہے كہ بعض منافقين نے رومى عورتوں كے فتنے ميں مبتلا ہو جانے كو جنگ ميں شركت نہ كرنے كا بہانہ بنايا _اس سے مندرجہ بالانكتہ حاصل ہوتا ہے_

۴_ جنگ اور لڑنے والى افواج كى كمان پيغمبراكرم (ص) كى ذمہ دارى ہے _و منهم من يقو ل ائذن لي

۵_ منافقين كى يہ سوچ كہ راہ خدا ميں جہاد بلا اور مصيبت ہے_ائذن لى و لا تفتني

لغت ميں '' فتنہ '' كا ايك معنى بلا اور مصيبت ہے يعنى مجھے ٹھہرنے كى اجازت دے ديجئے اور جنگ كى مصيبتوں ميں مبتلا نہ كيجئے_

۶_ سب قوى اور طاقتوں كى كمان اسلامى معاشرے كے رہبر كى ذمہ دارى ہے _و منهم من يقول ائذن لي

۷_ گناہ اور آزمائش سے محفوظ رہنے كا بہانہ بناكر جنگ ميں شركت نہ كرنے والے خود فتنہ اور گناہ ميں گھرے ہوئے تھے_

ائذن لى ولا تفتنى الا فى الفتنة سقطو

۸_ جہاد ميں شركت نہ كرنے كا نقصان ، شركت كرنے كى صورت ميں لا حق ہونے والے خطرات سے كہيں زيادہ ہے _

و منهم من يقول ائذن لى ولا تفتنى الا فى الفنتة سقطو

۹_ آتش دوزخ كا ہر طرف سے كفار كا گھيراؤ كرنا _و ان جهنم لمحيطةبالكفرين

۱۰_ كفار اس دنيا ميں ايك طرح سے آتش جہنم كے گھيرے ميں ہيں _

۱۲۸

و ان جهنم لمحيطة بالكفرين

مندرجہ بالا نكتہ اس بنا پر ہے كہ ''محيطة '' ميں احاطہ سے مراد احاطہ فعلى ہو _

۱۱_ دوزخ اس وقت بھى موجود ہے _و ان جهنم لمحيطة بالكفرين

مندرجہ بالا نكتہ اس بنا پر ہے كہ گھيراؤ سے مراد فعلى گھيراؤ ہو اور اس كا لازمہ جہنم كا وجود فعلى ہے _

۱۲_ منافقين كافروں كا ٹولہ ہے _و منهم من يقول ائذن لى ...الا فى الفتنة سقطوا و ان جهنم لمحيطة بالكفرين

۱۳_ منافقين دوزخى ہيں _الا فى الفتنة سقطوا و ان جهنم لمحيطة بالكافرين

آنحضرت(ص) :آپ(ص) كى كمان ۴;آپ(ص) كے اختيارات ۴

اسلام :صدر اسلام كى تاريخ ۱

جنگ :اسكى كمان ۶

جہاد :اس كو ترك كرنے والوں كا گناہ ۷ ; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا بہانہ تلاش كرنا ۷;ترك جہاد كا نقصان۸ ;ترك جہاد كى اجازت ۱

جہنم :آتش جہنم كا گھيراڈالنا ۹; جہنم كا اس وقت ہونا ۱۰،۱۱

جہنمى لوگ:۹،۱۳

دينى راہنما :ان كے اختيارات۶

ذمہ دارى :اس سے فرار ۳

غزوہ تبوك:اس كا قصہ ۱

كفار:۱۲كفار جہنم ميں ۹،۱۰

منافقين :انكا بہانہ تلاش كرنا ۱; انكا تظاہر ۳;ان كا حضرت محمد(ص) سے اجازت طلب كرنا ۱; انكا سلوك ۲; انكا كفر ۱۲;انكى بے ادبى ۲; انكى سوچ ۵; انكے شرعى بہانے ۳ ; يہ اور جہاد ۵;يہ اور حضرت محمد(ص) ۲;يہ اور غزوہ تبوك ۱; يہ جہنم ميں ۱۳

۱۲۹

آیت ۵۰

( إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُواْ قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّواْ وَّهُمْ فَرِحُونَ )

ان كا حال يہ ہے كہ آپ تك نيكى آتى ہے تو انھيں برى لگتى ہے اور كوئي مصيبت آجاتى ہے تو كہتے ہيں كہ ہم نے اپنا كام پہلے ہى ٹھيك كرلياتھا اور خوش و خرم واپس جلے جاتے ہيں _

۱_ پيغمبر(ص) اور اسلام كى كاميابى ، جنگ ميں شركت نہ كرنے والوں ( منافقين ) كيلئے تكليف دہ تھى _

ان تصبك حسنة تسؤهم

۲_ بہانہ بنا كر جنگ ميں شركت نہ كرنے والے ، سپاہ اسلام كى ناكامى كے خواہشمند اورانكى كاميابى سے پريشان _

ان تصبك حسنة تسؤهم

۳_ پيغمبر (ص) اور مسلمانوں كو كفر كے خلاف جنگوں ميں فراز و نشيب اور كاميابى و ناكامى كا سامنا _

ان تصبك مصيبة

۴_ مسلمانوں كے جنگ ميں شكست اور مشكلات سے دوچار ہونے كى صورت ميں منافقين كا اس ميں شركت نہ كرنے پر فخر و مباہات كرنا اور خوشى و مسرت كا اظہار كرنا_ان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امر نا من قبل و يتولوا و هم فرحون

۵_منافقين، فرصت طلب گروہ ہيں _ان تصبك حسنة تسؤهم وان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ويتولوا وهم فرحون

۶_ معاشرتى ذمہ داريوں اور مشكلات سے اپنے آپ كو دور ركھنا منافقين كى نظر ميں ہوشيارى اور چالاكى ہے_

و ان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل و يتولوا و هم فرحون

۱۳۰

۷_ مسلمانوں كى كاميابى اور ناكامى كے بارے ميں منافقين كا غلط فيصلہ كرنا _

و ان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل و يتولوا و هم فرحون

۸_ امام محمد باقر سے اللہ تعالى كے فرمان ( ان تصبك حسنة ...) كے بارے ميں روايت كى گئي ہے :اما الحسنة فالغنيمة و العافية وامّا المصيبة فالبلاء والشدة حسنة سے مراد غنيمت اور سلامتى ہے اور مصيبت سے مراد بلا اور سختى ہے_(۱)

آنحضرت (ص) :آ پ كى كاميابى كے آثار۱; آ پ كے غزوات ۳

اسلام :صدر اسلام كى تاريخ ۱،۳

جہاد:اسكو ترك كرنے والوں كا بہانہ تلاش كرنا۲; اسكو ترك كرنے والوں كى آرزو۲; اسكو ترك كرنے والوں كے غم و اندوہ كے عوامل ۱; اسكو ترك كرنے والے ۴; جہاد و اسلام سے پشت پھيرنے والے۲

حسنة:اس سے مراد۸

روايت :۸

موقع تلاش كرنے والے لوگ :۵

مصيبت :اس سے مراد ۸

منافقين :انكا جہاد سے منہ پھيرنا ۴; انكا فيصلہ ۷; ان كا موقع تلاش كرنا۵;انكى سوچ ۶; انكى صفات ۵; ان كے غم و اندوہ كے عوامل ۱; يہ اور چالاكى ۶; يہ اور مسلمانوں كى شكست ۴،۷; يہ اور مسلمانوں كى كاميابى ۷; يہ اور مشكلات ۶

____________________

۱)تفسير قمى ج ۱ ص ۲۹۲ _ نور الثقلين ج ۲ ص ۲۲۵ ح ۱۷۷_

۱۳۱

آیت ۵۱

( قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلاَّ مَا كَتَبَ اللّهُ لَنَا هُوَ مَوْلاَنَا وَعَلَى اللّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ )

آپ كہہ ديجئے كہ ہم تك دى حالات آتے ہيں جو خدا نے ہمارے حق ميں لكھ دئے ہيں وہى ہمارا مولا ہے اور صاحبان ايمان اسى پر توكل اور اعتماد ركھتے ہيں _

۱_ سچے مومنين كا يہ عقيدہ كہ خدا تعالى كى تقدير كے بغير انہيں كوئي خوشى اور غم نہيں پہنچ سكتا_

قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا

۲_ اللہ تعالى پہلے سے ہى انسان كى ہر قسم كى تقدير لكھ چكا ہے_قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا

۳_ سپاہ اسلام كى كاميابى اور ناكامى كى بنياد صرف خدا تعالى كى مشيت اور اسكى تقدير ہے_

قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا

۴_ جہاد اور شرعى ذمہ داريوں كو ادا كرنے ميں سچے مومنين كا خدا تعالى كى حمايت اور سرپرستى پر بھروسہ_

قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا هومولانا

۵_ خدا تعالى انسانوں كا سرپرست اور انكى قسمت كا مالك ہے_هو مولانا

۶_ سچے مومنين خدا تعالى كى ہر قسم كى تقدير كو ،حتى كہ سختيوں كو بھي، اپنے فائدے ميں سمجھتے ہيں _

قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا هو مولانا

پيش آنے والى سب ( خوشيوں اور غموں ) كيلئے لام انتفاع (لنا) كا استعمال كرنا مندرجہ بالا نكتے پر دلالت كرتا ہے_

۷_ سچے مومنين اپنے فريضے كو انجام دينے ، مشيت الہى كے سامنے سر تسليم خم كرنے اور اسكى راہ ميں ہر قسم كى كاميابى اور شكست كو قبول كرنے كى فكر ميں _ان تصبك حسنة تسؤهم قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا هو مولانا

۱۳۲

۸_ مومنين كا صرف خدا پر توكل ہونا چاہئے_ہومولانا و على الله فليتوكل المو منون

۹_ خدا تعالى اور انسانوں پر اسكى ولايت اور سر پرستى پر ايمان، اس پر توكل اور اس كے غير سے روگردانى كا تقاضا كرتا ہے_هو مولانا و على الله فليتوكل المؤمنون

۱۰_ اس بات پر ايمان كہ ہر قسم كى خوشى و غم اور كاميابى و ناكامى كى بنياد خدا تعالى كى تقدير ہے، كا تقاضا يہ ہے كہ توكل صرف اس پر ہو اور اس كے غير سے روگردانى ہو _قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا و على الله فليتوكل المؤمنون

اسما و صفات :مولى ۵

اللہ تعالي:اسكى تقدير ۳; اسكى مشيت ۳; اسكى ولايت ۴،۵; اسكے افعال ۲

انسان:ا س كى تقدير۲; اس كا مولى ۵

ايمان:تقدير پر ايمان كے اثرات ۱۰; خدا تعالى پر ايمان كے آثار ۹; خدا تعالى كى ولايت پر ايمان ۹

توحيد:توحيد افعالى ۱

توكل :خدا پر توكل ۸;خدا پر توكل كا پيش خيمہ۹،۱۰

جہاد:اس ميں توكل ۴

سر تسليم خم كرنا :خدا تعالى كى مشيت كے سامنے سر تسليم خم كرنا ۷

شكست:اس كا سرچشمہ ۳،۱۰

عقيدہ:تقدير كا عقيدہ ۱

كاميابى :اس كا سر چشمہ ۳،۱۰

مومنين :ان كا توكل ۴،۸; انكا جہاد ۴; انكا عقيدہ ۱،۶; انكا مطيع ہونا۷;انكى ذمہ دارى ۸; انكے مفادات ۶; يہ اور تقدير الہى ۶،۷;يہ اور سختى ۶; يہ اور شرعى ذمہ دارى ادا كرنا ۷

نظريہ كائنات :توحيد ى نظريہ كائنات ۵; نظريہ كائنات اور آئيڈيالوجى ۹،۱۰

۱۳۳

آیت ۵۲

( قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنَا إِلاَّ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ أَن يُصِيبَكُمُ اللّهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِهِ أَوْ بِأَيْدِينَا فَتَرَبَّصُواْ إِنَّا مَعَكُم مُّتَرَبِّصُونَ )

آپ كہہ ديجئے كہ تم ہمارے بارے ميں جس بات كا بھى انتظار كرہے ہو وہ دوميں سے ايك نيكى ہے اور ہم مبتلا بارے ميں اس بات كا انتظار كررہے ہيں كہ خدا اپنى طرف سے يا ہمارے باتھوں سے تمھيں عذاب ميں مبتلا كردے لہذا اب عذاب كا انتظار كو ہم بھى تمھارے ساتھ انتظار كررہے ہيں _

۱_ سچے مومنين كاميابى يا شہادت جو بھى انہيں جنگ ميں نصيب ہو اسے خير اور بھلائي شمار كرتے ہيں _

قل هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين

۲_ اقدار اور ان كے معيار مومنين اور منافقين كى نظر ميں مختلف ہيں _

ان تصبك مصيبة يقولوا قد اخذنا امرنا من قبل قل لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا قل هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين

۳_ صدر اسلام كے مومنين، خدا تعالى كے ذريعے ياخود اہل ايمان كے ہاتھوں منافقيں كى ہلاكت كے منتظر تھے_

و نحن نتربص بكم ان يصيبكم الله بعذاب من عنده او بايدينا

۴_ صدر اسلام كے مومنين ، منافقين كے ساتھ جنگ كرنے اور اپنے در ميان سے نفاق كو اكھاڑ پھينكنے كيلئے حكم الہى كے انتظار ميں _و نحن نتربص بكم بعذاب من عنده او بأيدينا

۵_ مومنين كى قدرت و طاقت، منافقين كى نابودى اور انہيں عذاب دينے كيلئے خدا تعالى كے ارادے كے عملى ہونے كا ذريعہ _ان يصيبكم الله بعذاب من عنده او بأيدينا

۶_ منافقين عذاب الہى ميں گرفتار ہونے كے قريب _ونحن نتربص بكم ان يصيبكم الله بعذاب من عنده

۷_ مومنين كى سوچ يہ ہے كہ تمام امور خدا تعالى كى مشيت اور ارادے كے تابع ہيں _

نحن نتربص بكم ان يصيبكم الله بعذاب من عنده او بأيدينا

۱۳۴

۸_ جنگ سے روگردانى كرنے والے منافقين موت كے مستحق ہيں _نحن نتربص بكم بعذاب من عنده او بأيدينا

۹_ صدر اسلام كے مومنين اپنے نيك انجام اور منافقين كى تباہى اور بردبارى كے بارے ميں مطمئن _

نحن نتربص بكم بعذاب من عنده او بأيدينا فتر بَّصوا انا معكم متربصون

۱۰_''عن ابى جعفر ع''(فى قوله عزوجل): ''هل تربصون بنا الا احدى الحسنيين'' قال : اما موت فى طاعة الله او ادراك ظهور امام ...; امام محمد باقر (ع) سے روايت ہے كہ آپ نے اللہ تعالى كے فرمان( احدى الحسنيين )كے متعلق فرمايا :يا راہ خدا ميں موت يا ظہور اما م كا درك كرنا_(۱)

احدى الحسنين :اس سے مراد ۱۰

اقدار:انكا معيار ۲

توحيد:توحيد افعالي۷

جنگ :منافقين كے ساتھ جنگ ۴

جہاد:اس سے روگردانى كرنے والوں كى سزا ۸

خدا تعالى :اس كا ارادہ۷; اس كا عذاب ۳،۶; اسكى مشيت ۷; اسكے ارادہ كے عملى ہونے كا پيش خيمہ ۵

روايت:۱۰

شہادت :اسكى اہميت ۱۰

خدا كے كارندے: ۵

قيمت گذارى :اس كا معيار ۲

كاميابى :اسكى اہميت ۱۰

منافقين:

____________________

۱)كافى ج ۸ ص ۲۸۶ ح ۴۳۱ _ نور الثقلين ج ۳ ص ۲۲۵ ح ۱۷۸_

۱۳۵

انكا انجام ۹; ان كا عذاب ۶; انكى سوچ ۲; انكى ہلاكت ۳،۹انكى ہلاكت كا ذريعہ ۵; انكے عذاب كا پيش خيمہ۵; تخلف كرنے والے منافقين كى سزا ۸; قدر و قيمت لگانے ميں انكا معيار ۲

موت:اسكے مستحقين ۸

مومنين :انكا عقيدہ ۱،۲،۷; انكى طاقت ۵; صدر اسلام كے مومنين كا اطمينان ۹; صدر اسلام كے مومنين كا انتظار ۳،۴; صدر اسلام كے مومنين كا انجام ۹; يہ اور ارادہ خدا ۷;يہ اور شہادت ۱; يہ اور صدرا سلام كے منافقين۴; يہ اور كاميابى ۱; يہ اور مشيت خدا ۷;يہ اور منافقين ۳

نظريہ كائنات :توحيد ى نظريہ كائنات۷

آیت ۵۳

( قُلْ أَنفِقُواْ طَوْعاً أَوْ كَرْهاً لَّن يُتَقَبَّلَ مِنكُمْ إِنَّكُمْ كُنتُمْ قَوْماً فَاسِقِينَ )

كہہ ديجئے كہ م بخشى خرچ كرو يا جبراً تمھار اعمل قبول ہو نے والا نہيں ہے كہ تم ايك قاسق قوم ہو_

۱_ جنگ تبوك ميں بعض شركت نہ كرنے والوں كا جہاد ميں جانے كى بجائے راہ خدا ميں مال خرچ كرنے كا ارادہ _

قل انفقوا طوعا

اس آيت كے شان نزول ميں آيا ہے كہ ايك منافق نے جہاد پر جانے كى بجائے پيسے دينے كى پيشكش كى تھى _

۲_ منافقين كا انفاق چاہے ان كى پسنديدگى اوررغبت كے ساتھ ہو يا ناپسنديدگى اور بے رغبتى كے ساتھ بارگاہ خدا ميں اسكى كوئي قدر و قيمت نہيں اور خدا تعالى كے يہاں قابل قبول نہيں ہے_قل انفقوا طوعا او كرها لن يتقبل منكم

۳_ جنگ ميں شركت كى بجائے مال خرچ كرنا قابل قبول نہيں ہے اور خدا تعالى كى بارگاہ ميں اسكى كوئي قدر و قيمت نہيں ہے_و منهم من يقول ائذن و لا تفتنى قل انفقوا طوعا او كرها لن يتقبل منكم

۴_ جنگ سے روگردانى كرنے والے فاسق ہيں اور خدا تعالى كے نزديك ان كے اعمال كى كوئي قدر و قيمت نہيں ہے_

۱۳۶

انكم كنتم قوما فاسقين

آيات كے اس حصے ميں بات ان منافقين سے ہو رہى ہے جنہوں نے جنگ تبوك ميں شركت كرنے سے گريز كيا تھا _

۵_ منافقين ، فاسق اور تجاوز كرنے والے لوگ ہيں _انكم كنتم قوما فاسقين

۶_ فسق اور حق سے انحراف ، اعمال كے بارگاہ الہى ميں بے قدر و قيمت ہونے كا سبب ہے_

انفقوا لن يتقبل منكم انكم كنتم قوما فاسقين

۷_ وہ نيك اعمال جن كى بنياد اور محرك خدا ئي نہ ہو بارگاہ الہى ميں قبول نہيں ہيں _

انفقوا لن يتقبل منكم انكم كنتم قوما فاسقين

۸_ خدا تعالى كى طرف سے پيغمبر(ص) كو منافقين كا انفاق قبول نہ كرنے كى ہدايت _لن يتقبل منكم

مندرجہ بالا نكتہ اس بنا پر ہے كہ جملہ ( لن يتقبل) خبر ہو ليكن انشاء كے معنى ميں _يعنى پيغمبر منافقين كا انفاق قبول نہ كريں _

آنحضرت(ص) :آپكى ذمہ دارى ۸

انفاق :اس كا بے قيمت ہونا ۲،۳

جہاد :اس سے روگردانى كرنے والوں كا فسق ۴;اسكى اہميت ۳; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا عمل ۴

خدا تعالى :اسكى نصيحتيں ۸

عمل:اس كا بے قيمت ہو جانا ۴; اسكے بے قيمت ہونے كے عوامل ۶; اس كے قبول ہونے كے معيار ۷

غزوہ تبوك :اس كا قصہ ۱; اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا انفاق ۱

فاسق لوگ ۴،۵

فسق :اس كے اثرات ۶

قدر وقيمت:انكا معيار ۷

منافقين :انكا فسق ۵; ان كے انفاق كا بے قيمت ہونا ۲،۸

۱۳۷

آیت ۵۴

( وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ أَنَّهُمْ كَفَرُواْ بِاللّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلاَ يَأْتُونَ الصَّلاَةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلاَ يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَارِهُونَ )

اور ان كے نفقات كو قبول ہو نے سے صرف اس بات نے روك ديا ہے كہ انھوں نے خدا اور روسول كا انكار كيا ہے اور يہ نماز بھى سستى اور كسلمندى كے ساتھ بجالاتے ہيں اور راہ خدا ميں كراہت اور ناگوارى كے ساتھ خرچ كرتے ہيں _

۱_ منافقين كا خدا كے بارے ميں كفر اور پيغمبر(ص) كى رسالت كا انكار ان كے انفاق كے بے قدر و قيمت ہونے اور اسكے بارگاہ الہى ميں قبول نہ ہونے كا عامل ہے_و مامنعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله و برسوله

۲_ منافقين ، كافر اور پيغمبر(ص) كى رسالت كے منكر تھے_و ما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله و برسوله

۳_ جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے بظاہر مسلمان تھے ليكن باطناً خدا و رسول كے منكر تھے_

و ما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله و برسوله

آيات كے اس حصے ميں بات ان لوگوں سے ہو رہى ہے جنہوں نے جنگ تبوك ميں شركت كرنے سے گريز كيا تھا_

۴_ بارگاہ خدا تعالى ميں اعمال كى قدر و قيمت كى شرط خدا اور اسكے پيغمبر(ص) كى رسالت پر ايمان لا نا ہے_

و ما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا انهم كفروا بالله و برسوله

۵_ نماز ميں كاہلى اور سستى ، منافقت اور خدا و رسول پر واقعى ايمان نہ ہونے كى نشانى ہے_

كفروا بالله و برسوله و لا يأتون الصلوة الا و هم كسالى

۶_ ديگر عبادات كى نسبت نماز كى اہميت اور ان كے قبول

۱۳۸

ہونے ميں نماز كا كردار_و ما منعهم ان تقبل منهم نفقتهم الا لا يأتون الصلوة الا و هم كسالى

۷_ ناپسنديدگى اور بے رغبتى كے ساتھ انفاق ، منافقت اور خدا و رسول پر واقعى ايمان نہ ہونے كى نشانى ہے_

كفروا بالله و برسوله و لا ينفقون الا و هم كارهون

۸_ رغبت و ميلان ، قبول انفاق كى شرط ہے اور بے رغبتى اور ناپسنديدگى اسكے بارگاہ الہى ميں بے قدر و قيمت ہوجانے كا سبب ہے_و ما منعهم ان تقبل منهم نفقاتهم الا و لا ينفقون الا و هم كارهون

۹_ خدا تعالى كى طرف سے نماز ميں سستى اور ميلان و رغبت كے بغير انفاق كرنے كى مذمت _

لا يأتون الصلاة الا و هم كسالى و لا ينفقون الا و هم كارهون

آنحضرت(ص) :آنحضرت(ص) كو جھٹلانے كے آثار ۱، آنحضرت(ص) (ص) كو جھٹلانے والے۲

اقدار:انكا معيار ۴

انفاق :اس كے قبول ہونے كے شرائط ۸;اس ميں بے رغبتى ۷; اس ميں بے رغبتى كى مذمت ۹; اس ميں بے رغبتى كے آثار ۸

ايمان:بے ايمان كى علامتيں ۵،۷; خدا تعالى پر ايمان كے اثرات ۴; محمد (ص) پر ايمان كے اثرات ۴

خدا تعالي:اسكى طرف سے مذمت ۹

عبادت:اہم ترين عبادت ۶

عمل :اسكى قدر و قيمت ۴; اسكے بے قدرو قيمت ہونے كے عوامل ۸; اس كے قبول ہونے كا معيار ۶

غزوہ تبوك:اس سے روگردانى كرنے والوں كا نفاق۳;اس ميں شركت نہ كرنے والوں كا كفر ۳

كفار :۲

كفر :خدا كے بارے ميں كفر۳; حضرت محمد(ص) كے بارے ميں كفر۳

منافقين :

۱۳۹

انكا كفر ۲;انكے انفاق كا بے قدر و قيمت ہونا ۱; ان كے عمل كے بے قدر و قيمت ہونے كے عوامل ۱; ان كے كفر كے آثار ۱

نفاق:اسكى نشانياں ۵،۷

نماز:اسكى اہميت ۶;اسكے آثار ۶; اس ميں سستى ۵; اس ميں سستى كى مذمت ۹

آیت ۵۵

( فَلاَ تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلاَ أَوْلاَدُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ )

تمھيں ان كے اموال اور اولاد حيرت ميں نہ ڈال ديں بس اللہ كاارادہ يہى ہے كہ انھيں كے ذريعہ ان پر زندگانى دنيا ميں عذاب كرے اور حالت كفر ہى ميں انكى جان نكل جائے _

۱_ انسان كے پاس كثير مال و اولاد كا ہونا اسكے خدا كا محبوب اور سعادتمند ہونے كى علامت نہيں ہے_

فلاتعجبك اموالهم و لا اولادهم

۲_ منافقين كى پست حقيقت اور برے انجام كى طرف توجہ ، ان كے كثير اموال اور اولاد كے اہل ايمان كى نظروں كو نہ بھانے كا اہم سبب ہے_فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم

''فلا تعجبك'' ميں فاء تفريع ، اعجاب سے نہى كو ان مطالب پر متفرع كر رہى ہے جو گذشتہ آيات ميں منافقين كى منفى حقيقت اور ان كے برے انجام كے بارے ميں بيان كئے گئے ہيں _

۳_ پيغمبر(ص) كے زمانے كے منافقين كے پاس فراوان مال و اولاد اور مادى وسائل تھے_

فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم

۴_ خدا تعالى كى طرف سے منافقين كى دنيوى آسائش كے بارے ميں رشك كرنے سے ممانعت _

فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم

۵_دوسروں كے فراوان مادى وسائل كے سامنے انسانوں بلكہ مومنين كے جذب ہونے كا امكان _

فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم

۶_ مال و اولاد دنياوى زندگى كے دو پر كشش عنصر_ فلا تعجبك اموالهم و لا اولادهم

۱۴۰